18. Surah Al-Kahf
الكهفThe Cave · 110 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ الکھف سورة نمبر 18 رکوع 12 آیات 110 الفاظ وکلمات 1201 حروف 6620 کہف۔ وسیع، کشادہ پہاڑی نما غار کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں دین کی سربلندی اور ایمان کی حفاظت کے لئے ان چند پر خلوص نوجوانوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جنہوں نے شہری زندگی کی ہر راحت اور آرام کے مقابلے میں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لے لی تھی اللہ نے ان پر ایک ایسی طویل نیند طاری کردی کہ وہ تین سو نو 309 سال تک اسی جگہ پڑے سوتے رہے جب وہ اٹھے تو انہیں ایسا لگا جیسے وہ ایک دن یا آدھے دن پڑے سوتے رہے ہیں۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنی اس کائنات کو اپنی مرضی سے چلا رہا ہے ۔ ہر کام کی مصلحت کیا ہے ؟ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکے۔ اسی لئے اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص کو یقین ہوجائے کہ یہاں ہر بات کے پیچھے ایک مصلحت کام کر رہی ہے۔ کفار مکہ نے یہودیوں کے کہنے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند سوالات کیے جس پر یہ سورة نازل ہوئی اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ ذوالقرنین کون تھے ؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ ایک نیک انسان تھے جو لوگوں کی خدمت کرنے کو سب سے بڑی سادت سمجھتے تھے اور اتنے بڑے بادشاہ ہونے کے باوجود ان میں غرور تکبر نہ تھا۔ کفار مکہ نے یہودیوں کے کہنے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند ایسے واقعات کے متعلق پوچھا جس سے عام طور پر عرب کے لوگ ناواقف تھے۔ کفار مکہ اور یہودی یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سوالوں کا جواب نہ دے سکیں گے لہٰذا ہمیں ان کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام سوالوں کے ایسے بھرپور جوابات دیتے کہ دشمنان اسلام حیران و پریشان رہ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کفار مکہ کے ظلم و ستم و ستم، بربریت اور معاشی بائیکاٹ کی انتہا ہوچکی تھی۔ کفار مکہ کے سوالات اور مکہ کے سنگین حالات میں سورة الکہف نازل کی گئی تاکہ کفار کے منہ بند ہوجائیں اور اہل ایمان کو تسلی اور تشقی مل جائے۔ اصحاب کہف کون تھے ؟ کیا تھے ؟ ان کی تعداد کتنی تھی ؟ اور کن حالات میں یہ واقعات پیش آئے ؟ اس کی تفصیل کو چھوڑ کر مختصر انداز میں اصحاب کہف کے جذبہ ایمانی اور ایثار و قربانی پر زور یدتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ چند ایسے مخلص نوجوان تھے جنہوں نے شہری زندگی، گھر کے راحت و آرام اور خود اپنے گھر والوں کو چھوڑکر پہاڑوں کے غاروں کو اپنا مسکن بنا لیا تھا تاکہ ان کے ایمان کی حفاظت ہو سکے اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو سکے۔ اللہ نے ان کے اس جذبے کو قبول فرماتے ہوئے انہیں عزت و سربلندی کے اس مقام تک پہنچا دیا جس پر انسانیت ناز کرسکتی ہے۔ ان کی صحبت کو اتنا عظیم قرار دیا کہ ان کے ساتھ لگ کر آنے والے کتے کو بھی شرف انسانیت سے نوازنے کا فیصلہ فرمایا گیا۔ یہی کتا جب کل قیامت میں اٹھایا جائے گا تو اس کو انسانی شرف سے نوازا جائے گا۔ قرآن کریم، احادیث اور تاریخی اعتبار سے اس واقعہ کی تفصیل جو سامنے آتی ہے وہی ہے کہ شہر افسوس میں رومی شہنشاہ دقیانوس نے اہل ایمان کو مٹانے کا طریقہ یہ اپنا رکھا تھا کہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے زبردستی سجدہ کراتا تھا اگر کوئی اس سے انکار کرتا تو اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ اسی زمانے میں چند ایسے نوجوان یا نوجوان شہزادے جذبہ ایمانی کے پیکر بھی تھے جنہوں نے نہایت جرات و ہمت سے ظالم بادشاہ کے بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے بھرے دربار میں صاف انکار کردیا۔ یہ اتنی بڑی گستاخی تھی کہ اس پر ان نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا لیکن نوجوان بچے سمجھ کر ان کو چند دنوں کی مہلت دے کر کہا گیا کہ وہ اچھی طرح غور کرلیں اور اپنے انجام کی فکر کرلیں مگر ان نوجوانوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کریں گے۔ یہ نوجوان ایک ایک کر کے پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔ ان میں سے ایک شخص کے ساتھ ایک کتا بھی تھا یہ سب نوجوان جو ایک دوسرے سے ناقواف تھے جب کچھ دیر بعد آپس میں تعارف ہوا تو انہیں یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ وہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں یعنی سب کا ایک ہی ایمانی جذبہ ہے۔ سب نے مل کر طے کرلیا کہ وہ ان پہاڑوں میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے لیکن بادشاہ کے گھڑے ہوئے بتوں اور اس کے ظلم و ستم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان سب نے اللہ کی بارگاہ میں راہ ہدایت پر قائم رہنے کی دعا بھی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے جذبہ ایمانی کی قدر کرتے ہوئے ان کی حفاظت کا انتظام فرما دیا۔ ان سب پر ایک ایسی نیند طاری فرما دی کہ وہ تین سو نو سال تک پڑے سوتے رہے۔ جب آنکھ کھلی تو وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ ہم کتنے سوئے ہوں گے ؟ سب نے کہا کہ ہم دن بھر یا آدھے دن تک سوتے رہے ہیں۔ اللہ کی عظیم قدرت کو دیکھیے کہ وہ تین سو نو سال تک پڑے سوتے رہے نہ ان کو بھوک لگی نہ پیاس، بیدار ہوتے ہی ان کو بھوک نے ستانا شروع کردیا طے پایا کہ ان میں سے کوئی ایک آدمی نہایت خاموشی اور احتیاط سے شہر چلا جائے اور کچھ کھانے پینے کا سامان لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو اس طرح جانا کہ کسی کو شبہ بھی نہ ہو ورنہ وہ ظالم لوگ ہمیں یا تو قتل کردیں گے یا اپنے راستے پر چلانے کی کوشش کریں گے۔ ادھر تین سو نو سال بعد ملک کے حالات بالکل تبدیل ہوچکے تھے دقیانوس ظالم بادشاہ کو مرے ہوئے برسوں گذر چکے تھے اور بت پرستوں کے بجائے حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں کی حکومت قائم تھی۔ چناچہ اس نوجوان نے کسی جگہ سے کھانے پینے کا سامان خریدا اور اس کے عوض چند سکے دیئے۔ دوکاندار اس نوجوان کے حلیے اور صدیوں پرانے سکھ دیکھ کر سوچنے لگا کہ یقینا اس نوجوان کو کسی جگہ سے گڑا ہوا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اس کو لے کر بازار آگیا ہے۔ اس دوکاندار نے حاکم شہر سے کہا۔ حاکم شہر نے اس نوجوان کو بادشاہ کے سامنے پیش کردیا بادشاہ نے اس کو یقین دلایا کہ وہ بالکل محفوظ ہے اور کفر و شرک کی حکومت مٹ چکی ہے بادشاہ کے جذبہ ایمانی کو دیکھ کر نوجوان نے سب کچھ بتا دیا۔ بادشاہ جو حضرت عیسیٰ کے لائے ہوئے دین پر قائم تھا اسے تاریخی اعتبار سے یہ معلوم تھا کہ برسوں پہلے کچھ نوجوان اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے غائب ہوگئے تھے اور تلاش کرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا تھا۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ یقینا یہی وہ نوجوان ہیں جن کی داستانیں پرانے زمانے کے لگو سنایا کرتے تھے۔ نیز اس زمانے میں یہ بحث بھی ہو رہی تھی کہ جب انسان مر جائے گا اس کے جسم کا ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو وہ جسم و جان کے ساتھ کس طرح دوبارہ پیدا ہوگا ۔ اصحاب کہف کے اسو اقعہ نے اس بحث کا خاتمہ بھی کردیا۔ بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ہمیں بقیہ نوجوانوں کی بھی زیارت کرنی چاہئے چناچہ بادشاہ، اس کے اہل خانہ، وزرائ، درباری اور ہزاروں عام شہری پہاڑ کے اس غار کی طرف روانہ ہوگئے جہاں اصحاب کہف ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب یہ لوگ غار کے قریب پہنچے تو اصحاب کہف یہ سمجھ کر کہ شاید بادشاہ کو معلوم ہوگیا ہے اور وہ لوگ ان کو پکڑنے آ رہے ہیں دوبارہ غاروں میں چھپ گئے۔ وہ نوجوان جو کھانا لینے گیا تھا وہ تلاش کرنے نکلا تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خود بھی کسی غار میں گم ہوگیا۔ علماء نے لکھا ہے کہ ان سب پر اللہ نے موت کو دوبارہ طاری فرما دیا ہوگا ۔ اس طرح اللہ نے اصحاب کہف پر دوبارہ نیند کا پردہ ڈال کر ایسا رعب اور دہشت طاری کردی کہ پھر کوئی شخص وہاں رک نہ سکا۔ بادشاہ وقت اور لوگوں نے مشورے کے بعد ان غاروں کے پاس علامت کے طور پر ایک مسجد بنا دی۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام کفار اور مشرکین اور خاص طور پر کفار مکہ کو اس حقیقت پر متوجہ کیا ہے کہ یہ چند نوجوان جو پہاڑی غاروں میں ہجرت کرنے کی وجہ سے ” اصحاب کہف “ کہلاتے ہیں اللہ نے ان کے تذکرے کو کس قدر عزت و عظمت کا مقام عطا فرمایا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور آخرت کی ابدی راحتیں ان کو کتنا سکون پہنچائیں گی اس کا تصور بھی مشکل ہے اگر یہ نوجوان بھی دنیا کی زیب وزینت ، راح و آرام اور دنیاوی لذتوں میں گم ہوجاتے تو آج صدیوں کے بعد ان کا ذکر خیر نہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی راہ میں جان و مال سے قربانیاں دینا، اپنے ایمان و عمل صالح پر قائم رہنا اور اللہ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ رکھنا حقیقی کامیابی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی عظمتوں کا راز پوشیدہ ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر اس کتاب کو نازل کیا ہے اور اس میں کوئی کمی یا ٹیڑہ پن نہیں ہے۔
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader
ٹھیک ٹھیک اتاری ہے تاکہ اللہ کی طرف سے ایک سخت عذاب کا ڈر سنایا جائے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے بہترین اور اچھا بدلہ ہے جو ان کو دیا جائے گا۔
مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader
اور تاکہ ان لوگوں کو بھی ڈر سنا دیا جائے جنہوں نے اللہ کا بیٹا تجویز کر رکھا ہے ۔
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader
حالانکہ ان کے پاس یا ان کے باپ دادا کے پاس اس کا کوئی عمل نہیں ہے۔ وہ اپنے منہ سے ایک بڑی بات نکالتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں جھوٹ بکتے ہیں۔
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ پھر کہیں آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان گھلا نہ ڈالیں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لائے۔
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader
جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اس کو رونق بخششی ہے تاکہ ہم آزمائیں کہ ان میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے۔
وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader
ہم زمین کے اوپر سب چیزوں کو آخر کار ایک صاف اور چٹیل میدان بنا دیں گے۔
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ غار اور کھوہ کے رہنے والے ہماری قدرتوں میں کوئی حیرت ناک چیز تھے۔
اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader
جب وہ غار کی کھوہ میں جا بیٹھے اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے ہر کام میں درستگی کا سامان عطا فرما دیجیے۔
فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader
پھر ہم نے ان کے کانوں پر برسوں نیند کا پردہ ڈالے رکھا۔
ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader
پھر ہم نے ان کو اٹھا کھڑا کیا تاکہ ہم جان لیں کہ ان گروہوں میں کس نے یاد رکھی جتنی مدت وہ رہے۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader
ہم ان اک قصہ آپ کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی تھی
وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader
اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور ہم تو اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کی عبادت و بندگی نہیں کریں گے (اور اگر ایسا کریں گے) تو ہم یقینا بڑی بےجا بات کریں گے
هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader
اور یہ ہماری قوم ہے جس نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں۔ یہ لوگ اپنے معبودوں کی حقیقت پر واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑتا ہے۔
وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader
پھر وہ (آپس میں) کہنے لگے کہ جب تم ان لوگوں سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں ان سے بےتعلق ہوگئے ہو تو تم غار میں جا کر پناہ کیوں نہیں لیتے۔ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمتیں بکھیرے گا اور تمہارے کام کو درست کر دے گا۔
وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader
جب دھوپ نکلتی ہے تم اس کو دیکھو گے کہ ان کے غار سے داہنے جانب کو بچ جاتی ہے اور جب ڈھلتی ہے تو (غار کے ) بائیں طرف کترا جاتی ہے اور وہ ایک کشادہ غار میں تھے۔ یہ اللہ یک نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہی راہ پاتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو آپ اس کے لئے کوئی مددگار یا راستہ پر لانے والا نہ پائیں گے۔
وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader
اگر آپ ان کو دکھیں تو ان کو جاگتا ہوا سمجھیں گے حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم ان کو کبھی داہنی کروٹ اور کبھی بائیں کروٹ دلاتے رہتے ہیں اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھلائے ہوئے بیٹھا ہے۔ اگر آپ ان کو جھانک کر دیکھیں تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں اور آپ کے اندر ان کی دہشت سما جائے گی۔
وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader
اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھنے لگیں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کس قدر (سوتے) رہے ہوں گے۔ کہنے لگے کہ ایک دن یا ایک دن سے کم۔ کہنے لگے کہ تمہارا رب ہی جانتا ہے کہ تم کتنی دیر تک (سوتے) رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپنے میں سے کسی ایک کو یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ کون سا کھانا حلال اور پاکیزہ ہے تاکہ وہ اس میں سے تمہارے واسطے کھانا لے آئے۔ نہایت آہستگی (احتیاط) سے جائے اور کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔
اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader
کیونکہ اگر ان (کفار) کو پتہ چل گیا تو وہ تمہیں پتھروں سے مار ڈالیں گے یا تمہیں اپنے مذہب میں لوٹانے کی کوشش کریں گے (اگر ایسا ہوا تو) پھر تمہیں کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔
وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader
اور اس طرح ہم نے ان کے حال پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس بات کو جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے میں) کوئی شک نہیں ہے۔ وہ لوگ آپس میں جھگڑتے رہے تھے کہ ان پر کوئی عمارت بنا دی جائے۔ اللہ ان کے مختلف حالات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بہرحال جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے (حکام وقت) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے۔
سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader
عنقریب کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا یہ لوگ اندازے سے باتیں کر رہے ہیں اور یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کو ان کی گنتی (معلوم ہے) وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ بہت تھوڑے لوگوں کو (اس کی حقیقت ) کا علم ہے۔ آپ اس معاملہ میں ان سے نہ جھگڑیں اور سرسری سی بحث کیجیے اور ان میں سے کسی سے بھی حال معلوم نہ کیجیے۔
وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کسی چیز کے بارے میں یہ ہرگز نہ کہا کریں کہ ” میں یہ کام کل کر دوں گا
اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader
ہاں اگر اللہ چاہے۔ “ اگر آپ بھول جائیں تو فوراً اپنے رب کو یاد کرلیا کیجیے اور یہ کہئے کہ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار اس معاملہ میں میری بہت جلد بہترین رہنمائی کرے گا۔
وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader
اور وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال اور ان کے اوپر چند سال (309) تک (تک سوتے) رہے۔
قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader
آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت وہاں رہے۔ آسمانوں اور زمین کے بھید وہی جانتا ہے۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ ان کے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا مددگار نہیں ہے ۔ وہ اپنے حکم (فیصلے) میں کسی کو شریک نہیں کیا کرتا۔
وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب میں سے جو کچھ وحی کی گئی ہے اس کو سنا دیجیے۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور آپ سے بھاگ کر پناہ کی جگہ ہرگز نہ پا سکیں گے
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader
اور اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ روکے رہئیے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور سای کی رضا اور خوشنودی چاہتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان کی طرف سے ہرگز نہ بدلیں اور ان کا کہا نہ مانئے جن کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے کام میں حد سے گزر گئے ہیں
وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader
اور آپ کہہ دیجیے کہ سچائی آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ پس جس کا دل چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ ہم نے بہرحال ایسے ظالموں کے لئے آگے تیار کر رکھی ہے جس کی لپیٹیں ان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اگر وہ پانی مانگنا چاہیں گے تو ان کی خاطر داری ایسے پانی سے کی جائے گی جو تیل کے تلچھٹ کی طرح کھولتا ہوا ہوگا جو ان کے منہ کو بھون ڈالے گا۔ بدترین پینے کی چیز اور بری آرام گاہ ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے بلاشبہ ہم ان کا اجر ضائع نہیں کریں گے جنہوں نے بہترین کام کئے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک ریشم اور دبیز ریشم کے سبز رنگ کا لباس پہنائے جائیں گے اور وہ مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یہ بہترین صلہ ہے اور اعلیٰ ترین آرام گاہ۔
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader
ان سے آدمیوں کا حال بیان کیجیے۔ ہم نے ان میں سے ایک کے لئے انگور کے دو باغ رکھے تھے ان کے چاروں طرف کھجوروں کی باڑھ اور ان کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی۔
كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader
دونوں باغ اپنا پھل خوب لا رہے تھے اور اس کی (پیداوار) میں کمی نہ تھی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان نہر بہا دی تھی
وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader
جس سے اور بھی پیداوار تھی۔ باتیں کرتے ہوئے اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور میرے لوگ بھی تجھ سے بہت زیادہ ہیں
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader
اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہوا باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا
وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader
اور میرے خیال ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر کبھی اپنے رب کے پاس پہنچا تو میں وہاں اس سے بھی بہتر حاصل کرلوں گا۔