18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورۃ الکھف سورة نمبر 18 رکوع 12 آیات 110 الفاظ وکلمات 1201 حروف 6620 کہف۔ وسیع، کشادہ پہاڑی نما غار کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں دین کی سربلندی اور ایمان کی حفاظت کے لئے ان چند پر خلوص نوجوانوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جنہوں نے شہری زندگی کی ہر راحت اور آرام کے مقابلے میں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لے لی تھی اللہ نے ان پر ایک ایسی طویل نیند طاری کردی کہ وہ تین سو نو 309 سال تک اسی جگہ پڑے سوتے رہے جب وہ اٹھے تو انہیں ایسا لگا جیسے وہ ایک دن یا آدھے دن پڑے سوتے رہے ہیں۔ اس سورة میں بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنی اس کائنات کو اپنی مرضی سے چلا رہا ہے ۔ ہر کام کی مصلحت کیا ہے ؟ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکے۔ اسی لئے اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص کو یقین ہوجائے کہ یہاں ہر بات کے پیچھے ایک مصلحت کام کر رہی ہے۔ کفار مکہ نے یہودیوں کے کہنے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند سوالات کیے جس پر یہ سورة نازل ہوئی اس میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ ذوالقرنین کون تھے ؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ ایک نیک انسان تھے جو لوگوں کی خدمت کرنے کو سب سے بڑی سادت سمجھتے تھے اور اتنے بڑے بادشاہ ہونے کے باوجود ان میں غرور تکبر نہ تھا۔ کفار مکہ نے یہودیوں کے کہنے پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند ایسے واقعات کے متعلق پوچھا جس سے عام طور پر عرب کے لوگ ناواقف تھے۔ کفار مکہ اور یہودی یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سوالوں کا جواب نہ دے سکیں گے لہٰذا ہمیں ان کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام سوالوں کے ایسے بھرپور جوابات دیتے کہ دشمنان اسلام حیران و پریشان رہ گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کفار مکہ کے ظلم و ستم و ستم، بربریت اور معاشی بائیکاٹ کی انتہا ہوچکی تھی۔ کفار مکہ کے سوالات اور مکہ کے سنگین حالات میں سورة الکہف نازل کی گئی تاکہ کفار کے منہ بند ہوجائیں اور اہل ایمان کو تسلی اور تشقی مل جائے۔ اصحاب کہف کون تھے ؟ کیا تھے ؟ ان کی تعداد کتنی تھی ؟ اور کن حالات میں یہ واقعات پیش آئے ؟ اس کی تفصیل کو چھوڑ کر مختصر انداز میں اصحاب کہف کے جذبہ ایمانی اور ایثار و قربانی پر زور یدتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ چند ایسے مخلص نوجوان تھے جنہوں نے شہری زندگی، گھر کے راحت و آرام اور خود اپنے گھر والوں کو چھوڑکر پہاڑوں کے غاروں کو اپنا مسکن بنا لیا تھا تاکہ ان کے ایمان کی حفاظت ہو سکے اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو سکے۔ اللہ نے ان کے اس جذبے کو قبول فرماتے ہوئے انہیں عزت و سربلندی کے اس مقام تک پہنچا دیا جس پر انسانیت ناز کرسکتی ہے۔ ان کی صحبت کو اتنا عظیم قرار دیا کہ ان کے ساتھ لگ کر آنے والے کتے کو بھی شرف انسانیت سے نوازنے کا فیصلہ فرمایا گیا۔ یہی کتا جب کل قیامت میں اٹھایا جائے گا تو اس کو انسانی شرف سے نوازا جائے گا۔ قرآن کریم، احادیث اور تاریخی اعتبار سے اس واقعہ کی تفصیل جو سامنے آتی ہے وہی ہے کہ شہر افسوس میں رومی شہنشاہ دقیانوس نے اہل ایمان کو مٹانے کا طریقہ یہ اپنا رکھا تھا کہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے زبردستی سجدہ کراتا تھا اگر کوئی اس سے انکار کرتا تو اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ اسی زمانے میں چند ایسے نوجوان یا نوجوان شہزادے جذبہ ایمانی کے پیکر بھی تھے جنہوں نے نہایت جرات و ہمت سے ظالم بادشاہ کے بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے بھرے دربار میں صاف انکار کردیا۔ یہ اتنی بڑی گستاخی تھی کہ اس پر ان نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا لیکن نوجوان بچے سمجھ کر ان کو چند دنوں کی مہلت دے کر کہا گیا کہ وہ اچھی طرح غور کرلیں اور اپنے انجام کی فکر کرلیں مگر ان نوجوانوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ غیر اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کریں گے۔ یہ نوجوان ایک ایک کر کے پہاڑوں کی طرف نکل گئے۔ ان میں سے ایک شخص کے ساتھ ایک کتا بھی تھا یہ سب نوجوان جو ایک دوسرے سے ناقواف تھے جب کچھ دیر بعد آپس میں تعارف ہوا تو انہیں یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ وہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں یعنی سب کا ایک ہی ایمانی جذبہ ہے۔ سب نے مل کر طے کرلیا کہ وہ ان پہاڑوں میں بھوکے پیاسے مر جائیں گے لیکن بادشاہ کے گھڑے ہوئے بتوں اور اس کے ظلم و ستم کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان سب نے اللہ کی بارگاہ میں راہ ہدایت پر قائم رہنے کی دعا بھی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے جذبہ ایمانی کی قدر کرتے ہوئے ان کی حفاظت کا انتظام فرما دیا۔ ان سب پر ایک ایسی نیند طاری فرما دی کہ وہ تین سو نو سال تک پڑے سوتے رہے۔ جب آنکھ کھلی تو وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ ہم کتنے سوئے ہوں گے ؟ سب نے کہا کہ ہم دن بھر یا آدھے دن تک سوتے رہے ہیں۔ اللہ کی عظیم قدرت کو دیکھیے کہ وہ تین سو نو سال تک پڑے سوتے رہے نہ ان کو بھوک لگی نہ پیاس، بیدار ہوتے ہی ان کو بھوک نے ستانا شروع کردیا طے پایا کہ ان میں سے کوئی ایک آدمی نہایت خاموشی اور احتیاط سے شہر چلا جائے اور کچھ کھانے پینے کا سامان لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو اس طرح جانا کہ کسی کو شبہ بھی نہ ہو ورنہ وہ ظالم لوگ ہمیں یا تو قتل کردیں گے یا اپنے راستے پر چلانے کی کوشش کریں گے۔ ادھر تین سو نو سال بعد ملک کے حالات بالکل تبدیل ہوچکے تھے دقیانوس ظالم بادشاہ کو مرے ہوئے برسوں گذر چکے تھے اور بت پرستوں کے بجائے حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں کی حکومت قائم تھی۔ چناچہ اس نوجوان نے کسی جگہ سے کھانے پینے کا سامان خریدا اور اس کے عوض چند سکے دیئے۔ دوکاندار اس نوجوان کے حلیے اور صدیوں پرانے سکھ دیکھ کر سوچنے لگا کہ یقینا اس نوجوان کو کسی جگہ سے گڑا ہوا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اس کو لے کر بازار آگیا ہے۔ اس دوکاندار نے حاکم شہر سے کہا۔ حاکم شہر نے اس نوجوان کو بادشاہ کے سامنے پیش کردیا بادشاہ نے اس کو یقین دلایا کہ وہ بالکل محفوظ ہے اور کفر و شرک کی حکومت مٹ چکی ہے بادشاہ کے جذبہ ایمانی کو دیکھ کر نوجوان نے سب کچھ بتا دیا۔ بادشاہ جو حضرت عیسیٰ کے لائے ہوئے دین پر قائم تھا اسے تاریخی اعتبار سے یہ معلوم تھا کہ برسوں پہلے کچھ نوجوان اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے غائب ہوگئے تھے اور تلاش کرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا تھا۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ یقینا یہی وہ نوجوان ہیں جن کی داستانیں پرانے زمانے کے لگو سنایا کرتے تھے۔ نیز اس زمانے میں یہ بحث بھی ہو رہی تھی کہ جب انسان مر جائے گا اس کے جسم کا ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو وہ جسم و جان کے ساتھ کس طرح دوبارہ پیدا ہوگا ۔ اصحاب کہف کے اسو اقعہ نے اس بحث کا خاتمہ بھی کردیا۔ بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ہمیں بقیہ نوجوانوں کی بھی زیارت کرنی چاہئے چناچہ بادشاہ، اس کے اہل خانہ، وزرائ، درباری اور ہزاروں عام شہری پہاڑ کے اس غار کی طرف روانہ ہوگئے جہاں اصحاب کہف ٹھہرے ہوئے تھے ۔ جب یہ لوگ غار کے قریب پہنچے تو اصحاب کہف یہ سمجھ کر کہ شاید بادشاہ کو معلوم ہوگیا ہے اور وہ لوگ ان کو پکڑنے آ رہے ہیں دوبارہ غاروں میں چھپ گئے۔ وہ نوجوان جو کھانا لینے گیا تھا وہ تلاش کرنے نکلا تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ خود بھی کسی غار میں گم ہوگیا۔ علماء نے لکھا ہے کہ ان سب پر اللہ نے موت کو دوبارہ طاری فرما دیا ہوگا ۔ اس طرح اللہ نے اصحاب کہف پر دوبارہ نیند کا پردہ ڈال کر ایسا رعب اور دہشت طاری کردی کہ پھر کوئی شخص وہاں رک نہ سکا۔ بادشاہ وقت اور لوگوں نے مشورے کے بعد ان غاروں کے پاس علامت کے طور پر ایک مسجد بنا دی۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے تمام کفار اور مشرکین اور خاص طور پر کفار مکہ کو اس حقیقت پر متوجہ کیا ہے کہ یہ چند نوجوان جو پہاڑی غاروں میں ہجرت کرنے کی وجہ سے ” اصحاب کہف “ کہلاتے ہیں اللہ نے ان کے تذکرے کو کس قدر عزت و عظمت کا مقام عطا فرمایا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور آخرت کی ابدی راحتیں ان کو کتنا سکون پہنچائیں گی اس کا تصور بھی مشکل ہے اگر یہ نوجوان بھی دنیا کی زیب وزینت ، راح و آرام اور دنیاوی لذتوں میں گم ہوجاتے تو آج صدیوں کے بعد ان کا ذکر خیر نہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اس کی راہ میں جان و مال سے قربانیاں دینا، اپنے ایمان و عمل صالح پر قائم رہنا اور اللہ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ رکھنا حقیقی کامیابی ہے اور اسی میں دین و دنیا کی عظمتوں کا راز پوشیدہ ہے۔

Ayahs 18:1–5

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر اس کتاب کو نازل کیا ہے اور اس میں کوئی کمی یا ٹیڑہ پن نہیں ہے۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک ٹھیک اتاری ہے تاکہ اللہ کی طرف سے ایک سخت عذاب کا ڈر سنایا جائے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے بہترین اور اچھا بدلہ ہے جو ان کو دیا جائے گا۔

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور تاکہ ان لوگوں کو بھی ڈر سنا دیا جائے جنہوں نے اللہ کا بیٹا تجویز کر رکھا ہے ۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

حالانکہ ان کے پاس یا ان کے باپ دادا کے پاس اس کا کوئی عمل نہیں ہے۔ وہ اپنے منہ سے ایک بڑی بات نکالتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں جھوٹ بکتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 5 لم یجعل نہیں بنایا۔ عوج ٹیڑہ پن۔ کجی۔ قیم بالکل درست، صحیح۔ باس شدید سخت عذاب۔ ما کثین ٹھیرنے والے، جمنے والے۔ ابداً ہمیشہ کبرثت بڑی۔ کلمۃ بات، کلمہ افواہ (فوہ) منہ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 5 سورۃ الکہف کے ابتدائی تعارف میں آپ نے ملاحظہ کرلیا ہے کہب عض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف، ذوالقرنین اور روح کے متعلق سوالات کئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ عرب والے ان باتوں سے ناواقف ہیں جب ہم سوال کریں گے اور ان کا جواب نہ مل سکے گا تو ہمیں نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑانے اور یہ کہنے کا موقع ہاتھ آجائے گا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ (نعوذ باللہ) نبی کریم ﷺ نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة الکہف کی ابتداء اس طرح فرمائی ہے کہ یہ کتاب الٰہی اللہ نے اپنے بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی ہے وہ اللہ جو اس کائنات میں ہر طرح کی خوبیوں اور قدرتوں کا مالک ہے۔ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو سیدھی راہ عطا کردی جائے تاکہ وہ دین و دنیا کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں حاصل کرسکیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس راہ مستقیم سے ہٹ کر چلنے والے ہیں ان کو بھی معلوم ہوجائے کہ ان کے لئے نہ تو دنیا کی عزتیں ہیں اور نہ آخرت کی ابدی راحتیں ہیں۔ فرمایا کہ اللہ نے ہر درو کے لوگوں کی ہدایت کے لئے اس قرآن کریم کو اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے جو راہ ہدایت بتانے اور منزل تک پہنچانے میں اس قدر واضح، صاف اور آسان ہے جس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں کوئی الجھاؤ دشواری نہیں ہے۔ یہ کتاب الٰہی چند خصوصیات رکھتی ہے۔ ۔ (1) اس کو سمجھنے اور عمل کرنے میں ذرا بھی ٹیڑہ پن، منطقی انداز فکر یا فلسفیانہ الجھاؤ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے نہایت صاف صاف اور واضح احکامات پر مشتمل ہے۔ یہ ان کتابوں کی طرح نہیں ہے جس میں فکر و تحقیق کی لاتعداد باتیں ہوتی ہیں مگر عملی زندگی میں ان کو ڈھالنا مشکل اور ناممکن ہوتا ہے چونکہ قرآن کریم دنیا اور آخرت کو سدھار نے کا ذریعہ ہے اس لئے اس کا ہر اصول آسان اور سہل ہے جس پر عمل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ (2) اس کتاب الٰہی کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ ” قیم “ ہے اس قدر درست، صحیح، کامل اور مکمل ہے کہ اس کو پڑھنے ، سمجھنے اور عمل کرنے والا ” راہ مستقیم “ پر رہتا ہے یہ اس کتاب الٰہی کی خصوصیت ہے کہ وہ انسانوں کو اپنے رنگ کے اندر رنگ لیتی ہے اور ہر شخص کو علم و عمل کا پیکر بنا دیتی ہے۔ (3) تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کتاب الٰہی کو ماننے، سمجھنے اور عمل کرنے والے لوگوں کو نہ صرف اس دنیا کی کامیابیاں عطا کی جاتی ہیں بلکہ ایمان و عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لئے ابدی راحتوں، کامیابیوں اور عزت و سربلندی کی ایسی خوش خبریاں بھی دی گئی ہیں جن راحتوں میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ (4) چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ جو لوگ بد عمل، بدنیت، اور بد عقیدہ ہیں جنہوں نے اللہ کی عبادت و بندگی کے بجائے اللہ کے نبیوں کو اللہ کا بیٹا بنا دیا ہے اور وہ ان ہی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ان کے لئے سخت سزا ہے۔ جیسے نصاری نے حضرت عیسیٰ کو اور یہودیوں نے حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ فرمایا کہ یہ ایک ایسا سفید جھوٹ اور بےتحقیق بات ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ اللہ کی بارگاہ میں بڑی سخت گستاخی اور ناقابل معافی جرم ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے لئے جہنم کی آگ تیار کی گئی ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 18:6–8

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ پھر کہیں آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان گھلا نہ ڈالیں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لائے۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اس کو رونق بخششی ہے تاکہ ہم آزمائیں کہ ان میں سے کون بہترین عمل کرتا ہے۔

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

ہم زمین کے اوپر سب چیزوں کو آخر کار ایک صاف اور چٹیل میدان بنا دیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 8 لعل شاید، توقع ہے۔ باخع ہلاک کنے والا۔ اثار پیچھے چھوڑ جانے والی نشانی۔ الحدیث بات چیت۔ اسف افسوس، کسی چیز کے نہ ہونے کا غم۔ زینۃ خوبصورتی، رونق۔ صعید صاف میدان، ریت، مٹی۔ جرز سرسبز زمین جو چٹیل میدان بن جائے۔ تشریح :- آیت نمبر 6 تا 8 اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ دن رات کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں اور آخرت کی ابدی زندگی کی راحتوں اور نہ ماننے والوں کے لئے شدید عذاب کی تبلیغ فرماتے تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کی صداقت پر ایمان لانے والوں کی طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ کفر و شرک میں زندگی گذارنے والے ایمان اور عمل صالح کو اختیار کر کے اپنی آخرت کو سنوار لیں لیکن دنیا کی ظاہری چمک دمک اور زیب وزینت کو سب کچھ سمجھنے والے آپ کی اطاعت قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان آیات میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئی فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے بنی کام کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو سچی راہ دکھا دے اور اس پر چل کر اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے ایک مثال بنا دے۔ اس کے بعد خود انسان کی اپنی عقل و سمجھ اور سعادت ہے کہ وہ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر کے اپنی دنیا اور آخرت سنوارتا ہے یا بےسمجھی اور بد نصیبی سے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کرتا ہے۔ وہ لوگ جو دنیا کی ظاہری زیب وزینت اور خوبصورتی کو دیکھ کر اس کے دیوانے ہو رہے ہیں ان میں سے ایک چیز بھی باقی رہنے والی نہیں ہے۔ یہ پہاڑ، درخت، سرسبزی و شادابی اسی وقت تک ہے جب تک قیامت برپا نہیں ہوتی لیکن جب قیامت آجائے گی تو اس زمین پر سے ہر چیز کونا کردیا جائے گا اور یہ دنیا ایک صاف چٹیل میدان کی طرح بن کر رہ جائیگی۔ انسان صرف اپنے اچھے یا برے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا ۔ پھر فیصلہ کیا جائے گا کہ کون خوش نصیب ہے اور کون بد نصیب ہے۔ اس کے بعد اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے کہ اصحاب کہف بھی اگر دنیا کی زیب وزینت اور راحت و آرام میں لگے رہتے تو ان کو یہ عزت وسعادت نصیب نہ ہوتی۔ غور کرنے کی بات ہے کہ وہ لوگ جو ان چند نوجوانوں کو مٹانا چاہتے تھے خود اس طرح سے مٹ گئے کہ ان کا وجود بھی باقی نہیں ہے یا وہ لوگ جو دنیا کی وقتی راحتوں میں لگ کر اللہ کو بھول گئے تھے آج لوگ ان کو جانتے تک نہیں لیکن وہ چند مخلص صاحب ایمان لوگ جنہوں نے دنیا کی راحت و آرام کے مقابلے میں ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا اور اپنے دین کو بچانے کے لئے اپنے گھر بار تک کو چھوڑ دیا تھا ان کا تذکرہ قیامت تک زندہ جاوید رہے گا۔ کفار مکہ کو بتایا جارہا ہے کہ ہمارے سچے نبی نے حق و صداقت کی ایک ایک بات کو پہنچا دیا ہے اب اگر وہ اصحاب کہف کی طرح اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں تو وہ آخرت کی راحتیں اور دنیا کا سکون حاصل کرسکیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے دین اسلام کی سچائیوں سے منہ پھیرا تو پھر دنیا و آخرت کی سعادت سے محروم رہ جائیں گے۔
Ayahs 18:9–12

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ غار اور کھوہ کے رہنے والے ہماری قدرتوں میں کوئی حیرت ناک چیز تھے۔

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ غار کی کھوہ میں جا بیٹھے اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے ہر کام میں درستگی کا سامان عطا فرما دیجیے۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے کانوں پر برسوں نیند کا پردہ ڈالے رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اٹھا کھڑا کیا تاکہ ہم جان لیں کہ ان گروہوں میں کس نے یاد رکھی جتنی مدت وہ رہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 12 حسبت تو نے گمان کیا۔ اصحب ساتھی۔ الکھف لمبا چوڑا غار۔ الرقیم کوہ، غار کا دوسرا نام۔ اویٰ ٹھکانہ بنا یا۔ الفتیۃ (فتی) جوان، نوجوان، نوعمر۔ ھیء بتا دے۔ مہیا کردے۔ رشد صحیح راستہ۔ نجات کا راستہ ہے۔ ضربنا ہم نے مارا۔ پردہ ڈالدیا۔ اذان (اذن) کان۔ سنین (سنۃ) سال ، کئی برس۔ عدد گنتی۔ الحزبین (حزب) دو جماعتیں۔ دو گروہ۔ احصی زیادہ واقف۔ لبثوا وہ ٹھہرے، رکے رہے۔ امد مدت۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 12 بعض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف کے واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے پوچھا تھا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے اور ہمیں ان کا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جس کو بیان نہ کیا جاسکے بلکہ اس سے بڑھ کر اللہ کی نشانیاں اس کائنات میں موجود ہیں جن پر اگر غور و فکر کیا جائے تو بہت سی حقیقتیں سامنے آتی چلی جائیں گی۔ اصحاب کہف کے واقعہ کو تفصیل سے بیان کرنے سیپ ہلے مختصر الفاظ میں بیان فرما دیا کہ یہ چند ایسے نوجوان تھے جو حضرت عیسیٰ کے پیروکار تھے۔ انہیں بت پرستی سے سخت نفرت تھی۔ ان کے زمانہ میں رومی شہنشاہ دقیانوس نے لوگوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ لوگ اس کی اور اس کے بنائے ہوئے بتوں کی عبادت و بندگی کریں۔ یہ چند نوجوان جن کو بتوں کے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور کیا یا تو انہوں نے اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ایک غار کو جو وادی رقیم میں واقع تھا اس میں پناہ لے لی تھی۔ انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی الٰہی ! ہم پر اپنا رحم و کرم نازل فرما اور ان ظالموں کے ظلم سے نجات عطا فرما۔ اللہ نے ان کی دعا کو قبول فرما کر ان پر ایک ایسی نیند کو طاری کردیا جس سے وہ برسوں پڑے سوتے رہے۔ جب تین سو نو سال کے بعد وہ سو کر اٹھے تو اس وقت ملک روم کی سلطنت اور اس کا انداز بالکل بدل چکا تھا اور بت پرستوں کا صفایا ہوچکا تھا ۔ اس واقعہ کی تفصیلات اگلی آیات میں آرہی ہیں۔ یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اصحاب کہف اللہ کی نشانیوں کی طرح ایک نشانی ہیں جس میں اللہ کی قدرت کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اصحاب کون تھے ؟ کیا تھے ؟ کتنے تھے ؟ ان بحثوں میں الجھنے کے بجائے اصحاف کہف کے اس جذبہ کو پیش نظر رکھا جائے جس نے ان کو اپنے گھر بار اور اس کی راحتیں چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا اور وہ جذبہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور ایمان کی سلامتی تھا۔ اس جذبہ نے ان کو اللہ کی ایک ایسی نشانی بنا دیا تھا جو دوسروں کے لئے قیامت تک عبرت و نصیحت بن گئی۔ فرمایا کہ جب وہ نوجوان اس غار میں پہنچے تو اللہ نے ان کے کانوں پر تھپکی دی یعنی ان کو گہری نیند سلا دیا۔ پھر وہ اللہ کی نشانی بن کر اٹھے اور پھر سو گئے۔
Ayahs 18:13–16

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان اک قصہ آپ کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی تھی

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور ہم تو اس کو چھوڑ کر کسی اور معبود کی عبادت و بندگی نہیں کریں گے (اور اگر ایسا کریں گے) تو ہم یقینا بڑی بےجا بات کریں گے

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

اور یہ ہماری قوم ہے جس نے اللہ کے سوا اور معبود قرار دے رکھے ہیں۔ یہ لوگ اپنے معبودوں کی حقیقت پر واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑتا ہے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

پھر وہ (آپس میں) کہنے لگے کہ جب تم ان لوگوں سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں ان سے بےتعلق ہوگئے ہو تو تم غار میں جا کر پناہ کیوں نہیں لیتے۔ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمتیں بکھیرے گا اور تمہارے کام کو درست کر دے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 16 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ نبا خبر، حال۔ زدنا ہم نے بڑھا دیا۔ ربطنا ہم نے باندھا، مضبوط کردیا۔ شطط عقل سے ور کوئی بات۔ سلطان مبین کھلی اور واضح دلیل۔ اعتزلتموھم تم ان سے الگ ہوگئے۔ فاو تم ٹھکانا بنا لو۔ ینشر وہ پھیلا دے گا۔ مرفق آرام ، آسائش۔ تشریح : آیت نمبر 13 تا 16 گزشتہ آیات میں اصحاب کہف کا مختصر واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ ان ایٓات میں اس واقعہ کے کچھ مزید پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ کچھ نوجوان تھے جنہوں نے بادشاہ وقت (دقیانوس) کے غلط عقیدوں، بت پرستی، غرور وتکبر کے سامنے سر جھکانے اور بت پرستی کے بجائے بےپناہ جرأت، ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بےجان بتوں کے سامنے سجدہ کرنے سے اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی کا صاف انکار کردیا تھا اور نہایت دلیری سے اللہ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا تھا اور بادشاہ وقت پر اس بات کو واضح کردیا تھا کہ انہوں نے ایمان کے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کرلیا ہے ان کو کسی جابر و ظالم کی دھمکی، ظلم و ستم اس راستے سے ہٹا نہیں سکات۔ انہوں نے بتا دیا کہ ہم نے جس پروردگار کی اطاعت کو قبول کرلیا ہے وہی ساری کائنات کا مالک، رازق اور خالق ہے، اس کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایک اللہ کا انکار کرتے اور اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا معبود سمجھتے ہیں وہ ایک ایسے راستے پر چل رہے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی واضح نشانی اور روشن دلیل نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کی دماغی کیفیت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کو کیا ہوگیا ہے جو بےسند باتوں، توہمات اور جھوٹے معبودوں کو اپنا کار ساز بنائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم تو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی انسان یا بتوں کے سامنے اپنا سرجھکائیں۔ یہ چند نوجوان جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ شہزادے یا بادشاہ کے خادم تھے ان کی ان باتوں سے بت پرستوں کے ایوانوں میں زلزلے پڑگئے۔ بادشاہ وقت نے جو مسلمانوں کا سخت دشمن اور ان کو جڑ و بنیاد سے کھود ڈالنے میں ہر طرح کے ظلم و ستم کے لئے مشہور تھا اس نے ان نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا۔ ان کو اپنے اور اپنے بتوں کے سامنے سجدہ کرنے کے لئے کہا مگر انہوں نے اس سے صاف انکار کردیا۔ بادشاہ نے نوجوانوں کی جذباتی باتیں سمجھ کر ان سے کہا کہ وہ اس انکار کے نتیجے میں سخت سزاؤں اور بدترین انجام پر اچھی طرح غور و فکر کرلیں۔ جب ان نوجوانوں نے اس بات کو اچھی طرح بھانپ لیا کہ ظالم بادشاہ سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے تو و ایک ایک کر کے پہاڑوں کی طرف نکل گئے تاکہ اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔ یہ چند نوجوان جو ایک دور سے سے ناواقف تھے حسن اتفاق کہ وہ ایک ہی پہاڑ پر جمع ہوتے گئے۔ جب تھوڑے عرصے کے بعد ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں لیکن اسلام اور ایمان کے جذبے میں یکساں نظر رکھتے ہیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ساتھی بن گئے۔ ان میں سے ایک کے ساتھ ایک کتا بھی تھا جو ان کے ساتھ ساتھ لگا رہا۔ چونکہ ایک چوڑے غار کو ” کہف “ کہا جاتا ہے اور یہ اس جگہ تھا جس کو ” رقیم “ کہا جاتا تھا اس لئے قرآن کریم نے ان کو اصحاب کہف اور اصحاب رقیم فرمایا ہے۔ ان آیات اور واقعہ سے چند باتیں سامنے آتی ہیں جو قابل غور ہیں۔ (1) اصل چیز ایمان اور اس کی طاقت ہے جو انسان کو ایک خاص جرأت ، ہمت اور ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ کیونکہ جو شخص ایک اللہ سے ڈرتا ہے پھر وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ نبی کریم ﷺ کے جان نثاروں کی ایک طویل فہرست ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انہوں نے کفر و شرک سے توبہ کر کے اپنے دلوں میں ایمان کی شمع کو روشن کرلیا تو وہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے ہر ظالم سے ٹکرا گئے اور آخر کار طوفانوں کے رخ کو موڑ کر رکھ دیا۔ ایمان ایک ایسی طاقت ہے کہ جب فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے بھرے دربار میں بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ کے ہاتھ پر ایمان قبول کرلیا تب وہ فرعون کی طاقت و قوت اور اس کے ظالمانہ حربوں سے بےنیاز ہوگئے اور انہوں نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ ہمیں کتنی ہی بڑی سے بڑی سزا دینے کا فیصلہ کرلے ہم اپنے ایمان سے نہ پھریں گے۔ چناچہ جب فرعون نے اس بات کی دھمکی دی کہ وہ ان کو پھانسی پر چڑھا دے گا۔ مخالف سمتوں سے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دے گا اور در بدر کی ٹھوکریں کھلا دے گا اس وقت ان تمام اہل ایمان نے صرف یہی ایک جواب دیا کہ اے فرعون جو تو کرسکتا ہے کرلے ہم کسی مصلحت کی وجہ سے اپنا ایمان نہ چھوڑیں گے اور ہم غیر اللہ کے سامنے سر نہ جھکائیں گے۔ اس سے یہ بات بالکل واضح طریقہ پر سامنے آجاتی ہے کہ جو لوگ ایمان رکھنے کے باوجود حکمرانوں اور طاقت وروں کے سامنے جھک جاتے ہیں اور بہت سی مصلحتوں کا سہارا لے لیتے ہیں وہ ایک کمزور ایمان کے مالک ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے نور سے ان کے دل پوری طرح روشن ومنور نہیں ہوئے ہیں۔ (2) دوسری بات یہ سمجھ میں اتٓی ہے کہ ایمان صرف جرأت و ہمت ہی کا نام نہیں ہے بلکہ دو اجنبیوں کو آپس میں جوڑنے والا اور ملانے کا ذریعہ بھی ہے بلکہ دو مختلف خاندانوں اور قبیلوں کو آپس میں شیر و شکر کرنے والی چیز ایمان ہی ہے۔ یہ ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو دو اجنبیوں کو ایک کردیتا ہے۔ (3) تیسری بات یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے توہمات، بےسند باتوں، بےبنیاد خیالات اور بےدلیل جذبات کے بجائے حق و صداقت کے پیکر ہوتے ہیں۔ (4) چوتھی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص جھوٹے معبودوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے ایمان کی دولت کو گلے لگا لتا ہے تو کائنات کی قوتیں اس کی مددگار بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح پر قائم رکھے اور اپنے سوا ہر ایک کے خوف سے بےنیاز فرما دے۔ (آمین)
Ayahs 18:17–18

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

جب دھوپ نکلتی ہے تم اس کو دیکھو گے کہ ان کے غار سے داہنے جانب کو بچ جاتی ہے اور جب ڈھلتی ہے تو (غار کے ) بائیں طرف کترا جاتی ہے اور وہ ایک کشادہ غار میں تھے۔ یہ اللہ یک نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہی راہ پاتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو آپ اس کے لئے کوئی مددگار یا راستہ پر لانے والا نہ پائیں گے۔

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اگر آپ ان کو دکھیں تو ان کو جاگتا ہوا سمجھیں گے حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم ان کو کبھی داہنی کروٹ اور کبھی بائیں کروٹ دلاتے رہتے ہیں اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھلائے ہوئے بیٹھا ہے۔ اگر آپ ان کو جھانک کر دیکھیں تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں اور آپ کے اندر ان کی دہشت سما جائے گی۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 18 طلعت نکلی ہے۔ نکلا ہے۔ تز اور بچ جاتا ہے۔ ذات الیمین دائیں جانب۔ تقرض کترا جاتی ہے۔ ذات الشمال بائیں طرف ۔ فجوۃ کشادہ۔ کھلی جگہ۔ مرشد راستہ پر لانے والا۔ ایقاظ جاگتا ہوا۔ رقود سوئے ہوئے۔ نقلب ہم بدلتے ہیں۔ کلب کتا۔ باسط پھیلانے والا۔ ذراعین دونوں بازو۔ الوصید دہلیز۔ غار کا منہ ۔ اطلعت تو نے جھانکا۔ ولیت تو مڑ جاتا ہے۔ فرار بھاگنا۔ ملئت بھر دیا گیا۔ رعب دہشت، رعب۔ تشریح آیت نمبر 17 تا 18 اصحاب کہف اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں اس لئے اللہ نے اپنی قدرت کا ملہ سے ان کے لئے ایسا نظام فرما دیا کہ جس پر جتنا بھی غور کیا جائے گا علم و عقل رکھنے والے اس کو ایک نشانی ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔ دھوپ اور تازہ ہوا انسای جسم کے لئے ضروری ہے اس لئے اللہ نے اس غار میں ایسا انتظام فرما دیا تاکہ سورج کی گرمی، تپش اور شدت انہیں محسوس نہ ہوا اور تازہ ہوا برابر انہیں پہنچتی رہے۔ فرمایا کہ وہ غار ایک کھلی جگہ پر واقع ہے جب سورج نکلتا ہے تو وہ ان کے غار سے داہنی طرف سے بچ کر نکل جاتا ہے اور جب سورج ڈھلتا ہے تو وہ بائیں طرف سے کترا کر نکل جاتا ہے۔ اس طرح وہ غار ہر طرح کی گرمی اور شدت سے محفوظ رہتا ہے۔ فرمایا کہ یہ اللہ کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یہ اس کی قدرت کاملہ کا اظہار ہے جس کو ہر آنکھ والا دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی بہت سے لوگ ہدایت حاصل کرنے کے بجائے گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو دیکھتے بھالتے راہ ہدایت سے منہ موڑ لیتے ہیں ان کو کوئی ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اللہ کے ان ظاہری انتظامات سے اصحاب کہف نہایت آرام اور سکون سے بیخبر سو رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کو دیکھے تو اسے ایسا معلوم ہوگا۔ جیسے وہ جاگ رہے ہیں۔ اللہ ان کو ایک پہلو پر نہیں لٹاتا بلکہ ان کو ادھر ادھر کروٹیں دلاتا رہتا ہے۔ فرمایا کہ وہ شکاری کتا جو ان میں سے کسی کے ساتھ لگ کر آگیا تھا وہ بھی غار کے دھانے پر اپنے دونوں پاؤں پھیلائے بیٹھا ہے۔ یعنی سارے ایسے انتظامات کردیئے ہیں جس سے دیکھنے والا یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ کچھ لوگ ہیں جو ذرا دیر کے لئے آرام کرنے لیٹ گئے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے ایک انتظام یہ بھی کردیا ہے کہ اگر کوئی ان کو دیکھے تو اس پر ایک ایسا رعب و دہشت طاری ہوجائے کہ جس سے وہ الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے گھر بار اور اس کی راحتوں کو چھوڑ کر ایمان کی سلامتی کے لئے پہاڑوں کا انتخاب کیا جہاں کسی طرح کا آرام و سکون ملنے کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں ہوتا لیکن جو لوگ اللہ کے لئے قربانیاں دیتے ہیں اللہ ان کے دلی جذبات کو قبول کر کے ان کے لئے راحت و آرام کا ہر سامان عطا فرما دیتے ہیں۔ کفار مکہ اور قیامت تک آنے والے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھی اللہ کے لئے قربانیاں دیں گے تو ان کی ہر جدوجہد کی اسی طرح قدر کی جائے گی۔ نیک لوگوں کی صحبت بھی اتنی بڑی چیز ہے کہ وہ شکاری کتا جو ان صاحبان ایمان نوجوانوں کے ساتھ لگ کر آگیا تھا اور بھوکا پیاسا رہ کر بھی کسی دوسرے در پر نہیں گیا بلکہ ان نیک لوگوں کے ساتھ بھوکا پیاسا رہ کر بھی اسی در سے چمٹا رہا۔ اللہ نے اس کی اتنی قدر فرمائی کہ یہ کتا جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تو اس کو شرف انسانیت سے نوازا جائے گا۔ شیخ سعدی نے اسی بات کو ایک شعر میں فرمایا کہ حضرت نوح جیسے جلیل القدر پیغمبر کا بیٹا کنعان کفار و مشرکین کے طریقوں پر چلا اور ایمان کی دولت سے محروم رہا تو وہ جہنم کا مستحق بن گیا لیکن اصحاب کہف کا وہ کتا جس نے نیک لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑا اس کو شرف انسانیت سے نوازا جائے گا۔ اس جگہ کتے کا ذکر کتے کی شرافت اور عزت کے لئے نہیں کیا گیا جس سے اپنے گھروں میں کتنے پالنے کے لئے دلیل لے لی جائے بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے جو کہ بیان کردیا گیا ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کتے پالنے اور تصویریں لگانے کی سخت ممانعت فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس گھر میں کتا اور تصویر ہوتی ہے اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ممکن ہے گزشتہ شریعتوں میں کتنے پالنے کی گنجائش موجود ہو۔ لیکن شریعت اسلامیہ میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ شریعت میں شکاری کتا پالنے کی تو اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے جو شرائط ہیں ان کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ کیونکہ جو کتے شوقیہ پالے جاتے ہیں شریعت میں اس کی قطعاً گنجائش اور اجازت نہیں ہے۔
Ayahs 18:19–21

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھنے لگیں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کس قدر (سوتے) رہے ہوں گے۔ کہنے لگے کہ ایک دن یا ایک دن سے کم۔ کہنے لگے کہ تمہارا رب ہی جانتا ہے کہ تم کتنی دیر تک (سوتے) رہے ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپنے میں سے کسی ایک کو یہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ کون سا کھانا حلال اور پاکیزہ ہے تاکہ وہ اس میں سے تمہارے واسطے کھانا لے آئے۔ نہایت آہستگی (احتیاط) سے جائے اور کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

کیونکہ اگر ان (کفار) کو پتہ چل گیا تو وہ تمہیں پتھروں سے مار ڈالیں گے یا تمہیں اپنے مذہب میں لوٹانے کی کوشش کریں گے (اگر ایسا ہوا تو) پھر تمہیں کبھی فلاح و کامیابی نصیب نہ ہوگی۔

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے ان کے حال پر لوگوں کو مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس بات کو جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے میں) کوئی شک نہیں ہے۔ وہ لوگ آپس میں جھگڑتے رہے تھے کہ ان پر کوئی عمارت بنا دی جائے۔ اللہ ان کے مختلف حالات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ بہرحال جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے (حکام وقت) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنائیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 21 لیتساء لوا تاکہ وہ آپ میں پوچھیں۔ ابعثوا بھیجو۔ ورق سکہ، روپیہ پیسہ۔ ازکی حلال اور عمدہ۔ ولیتلطف اور دبے پاؤں جائے۔ لایشعرن خبر نہ دینا۔ ان یظھروا یہ کہ انہوں نے خبر پائی۔ یرجمون وہ پتھر ماریں گے۔ سنگسار کردیں گے۔ یعیدون وہ لوٹائیں گے۔ لن تفلحوا تم ہرگز فلاح نہ پاؤں گے۔ ابداً ہمیشہ۔ اعثرنا ہم نے مطلع کردیا ۔ یتنازعون وہ آپس میں جھگڑتے ہیں۔ غلبوا جو غالب ہوگئے۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 21 اصحاب کہف عرصے تک پرسکون نید سوتے رہے۔ پھر اللہ نے ان کو گہری نیند سے جگا دیا۔ جب وہ سو کر اٹھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ وہ تین سو نو سال تک اتنی گہری نیند سوتے رہے ہیں کہ اس عرصہ میں ان کے ملک اور شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ یہ نوجوان جن کو اصحاب کہف فرمایا گیا ہے دقیانوس بادشاہ کے ظلم و زیادتی سے تنگ آ کر پہاڑوں کی طرف چلے گئے تھے جب وہ بیدار ہوئے اس وقت نہ صرف ان کے ملک کی حالت بدل گئی تھی بلکہ ایک مومن بادشاہ بیدوسیس کی حکومت آ چکی تھی۔ ان کا وہ شہر جس کو تاریخ میں شہر افسوس لکھا گیا ہے اس کا نام بھی طرسوس ہوگیا تھا (تفسیر قرطبی) ۔ انہوں نے جاگتے ہی آپس میں پوچھنا شروع کیا کہ ہم کتنی دیر تک سوتے رہے ہوں گے۔ کسی نے کہا دن بھریا آدھے دن تک سوتے رہے ہیں۔ پھر خود ہی کہنے لگے کہ ان بحثوں کو چھوڑو بھوک لگ رہی ہے کسی کو شہر بھیج کر کھانا منگویا جائے۔ چناچہ انہوں نے ایک شخص جس کا نام یملیخا تھا اس سے کہا کہ دیکھو پوری ہوشیاری اور احتیاط سے شہر میں داخل ہو کر کھانا لے آنا کسی کو معلوم نہ ہو کہ تم کون ہوا گر بادشاہ وقت یا اس کے لوگوں کو پتہ چل گیا تو وہ ہمیں پتھر مار کر ہلاک کردیں گے یا اپنے دین میں لوٹانے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو یقینا ہماری دنیا اور آخرت برباد ہو کر رہ جائے گیا ور ہمیں کوئی فلاح و کامیابی نصیب ہوگی۔ یملیخا چند سکے لے کر نہایت احتیاط سے شہر پہنچ گیا۔ اسے شہر اور لوگوں کی بدلی ہوئی حالت پر حیرت تو ہوئی لیکن اس کھانا لے جانے کی جلدی تھی۔ اس نے کھانا لیا جب اس نے کھانے کے بدلے میں اپنا سکہ دینا چاہا تو اس دوکاندار نے بڑی حیرت سے اس سکہ کو دیکھا کچھ اور لوگوں کو بھی جمع کرلیا وہ سب یہ سمجھے کہ اس نوجوان کو پرانے زمان کا کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہے۔ بات ہوتے ہوتے حکمرانوں اور پھر بادشاہ تک پہنچ گئی۔ بادشاہ جس کو یہ بات معلوم تھی کہ کئی سو سال پہلے کچھ نوجوان اچانک غائب ہوگئے تھے۔ جب حالات معلوم ہوئے تو اس کو یقین ہوگیا کہ یہی وہ نوجوان ہیں جوا پنے ایمان کی حفاظت کے لئے شہر کو چھوڑ کر پہاڑوں میں گم ہوگئے تھے۔ بادشاہ نے یملیخا کا بہت احترام کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بقیہ ساتھیوں سے بھی ملنا چاہتا ہے۔ بادشاہ، اس کے وزیر اور شہر کے ہزاروں آدمی جن کو اصحاب کہف کے حالات کی اطلاع ہوگئی تھی وہ سب پہاڑوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب دور سے اصحاب کہف نے دیکھا کہ یملیخا کے ساتھ بادشاہ اور ہزاروں شہری ہیں وہ یہ سمجھے کہ شاید ظالم بادشاہ اور اس کے درباریوں کو ہمارے متعلق معلوم ہوگیا ہے اور وہ ہمیں پکڑنے آ رہے ہیں وہ پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔ جب بادشاہ اور اس کے ساتھی وہاں پہنچے اور وہ نہ ملے تو یملیخا نے کہا کہ میں ان کو تلاش کرتا ہوں آپ سب لوگ یہیں ٹھہریں۔ چناچہ یملیخا چلا گیا اور اللہ نے ان سب اصحاب کہف پر پھر سے نیند کو غالب کردیا جب بادشاہ اور اس کے ساتھ آنے والے اصحاب کہف کو نہ پاسکے تب ارباب اقتدار نے فیصلہ کیا کہ یہاں یادگار کے طور پر مسجد بنا دی جائے۔ چناچہ انہوں نے اپنے گمان کے مطابق اس جگہ ایک مسجد تعمیر کردی۔ اس واقعہ کے مزید پہلوؤں کا بیان تو آئندہ آیات میں آئے گا۔ یہاں ان آیتوں کی چند باتوں کو سمجھ لیا جائے۔ 1- اصحاب کہف پر طویل نیند طاری کی گئی تو وہ تین سو نو سال تک پڑے سوتے رہے اس عرصہ میں انہوں نے کسی غذا کو اسعتمال نہیں کیا لیکن جب وہ بیدار ہوئے تو نہایت چست اور تندرست تھے اور بیدار ہوتے ہی ان کو بھوک پیاس نے ستانا شروع کردیا یہ قدرت کی اتنی بڑی نشانی ہے جس پر غور کرنے سے ایمان میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ 2 - دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ ایک طویل نیند کا نام ہے جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کی قیامت شروع ہوجاتی ہے کیونکہ اب اس کو ایک طویل نیند کے بعد اٹھ کر کھڑا ہو جا ا ہے اور حشر کے دن اس کی آنکھ کھلے گی اور اس کو اپنی زندگی میں کئے ہوئے ہر کام کا حساب پیش کرنا ہوگا ۔ ایک طویل عرصے تک قبر میں سوتے رہنے کے باوجود اس کو جاگنے کے بعد ایسا محسوس ہوگا۔ جیسے بس وہ ابھی سویا تھا اور وہ ایک نیند لے کر کھڑا ہوگیا ہے۔ البتہ کفار مشرکین اور فاسق جب بیدار ہوں گے تو ان کو یہ نیند بہت لمبی محسوس ہوگی۔ 3- جب یملیخا کھانا لینے جا رہے تھے تو بقیہ ساتھیوں نے کہا کہ ” ازکی طعاماً “ یعنی حلال اور پاکیزہ کھانا لانا۔ انہوں نے یہ احتیاط اس لئے برتی کہ اس زمانہ میں اخلاقی و مذہبی بگاڑ اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک مومن کو ہر حال میں حلال اور پاکیزہ رزق کی فکر رہنی چاہئے۔ 4- یرجموکم، یعنی اگر بادشاہ وقت کو ہمارا پتہ چل گیا تو وہ ہمیں سنگسار کر دے گا یعنی پتھر مار مار کو ہلاک کر دے گا یا وہ زبردستی ہمیں بت پرستی پر مجبور کر دیگا۔ انہوں نے کہا اگر ایسا ہوا تو ہمیں دنیا اور آخرت میں کوئی فلاح اور کامیابی نصیب نہ ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی فلاح اور کامیابی صرف ایک اللہ کی عبادت و بندگی میں ہے غیر اللہ کی عبادت و بندگی انسان کو دنیا اور آخرت میں برباد کردینے والی چیز ہے۔ 5- بیدوسس بادشاہ اور اس کے درباریوں کو جب اصحاب کہف کا کچھ بھی پتہ نہ چلا تب انہوں نے اس جگہ ایک مسجد تعمیر کردی تاکہ یہ جگہ یاد رہے لیکن اگر کچھ لوگ اس واقعہ سے مردوں کے قبے اور مقبرے بنانے کی دلیل لینا شروع کردیں تو ان کی عقلوں پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اول تو اس دور کی بات ہے جب شریعت مصطفوی نہ تھی بلکہ عیسائیت کے قوانین رائج تھے ممکن ہے اس شریعت میں اس کی گنجائش ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے ٹھیک اسی جگہ مسجد نہیں بنائی تھی جہاں اصحاب کہف غائب ہوگئے تھے بلکہ کسی پہاڑ پر یادگار کے طور پر مسجد بنا دی تھی۔ اس سے قبروں پر قبے اور مقبرے بنانے کی دلیل کیسے لی جاسکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نبی کریم ﷺ جس شریعت کو لے کر تشریف لائے ہیں ہم اس کی اطاعت کے ذمے دار ہیں اور نبی کریم ﷺ کی شریعت میں قبروں پر قبے، مقبرے بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے چناچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی یہ ہے ۔ ” ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ اگر ان میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیا کرتے تھے اور اس کی تصویریں بھی بنا دیا کرتے تھے۔ قیامت کے دن وہ بدترین مخلوق میں سے ہوں گے۔ (بخاری، مسلم، نسائی، مسند احمد) اس موقع پر مزید تفصیل کی گنجائش نہیں ہے اس کے لئے بزرگان دین کی کتابوں سے رجوع کرلیا جائے تو انشاء اللہ اس کی تفصیل بخوبی معلوم ہو سکے گی۔ اللہ ہمیں ہر طرح کی گمراہیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

عنقریب کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا یہ لوگ اندازے سے باتیں کر رہے ہیں اور یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کو ان کی گنتی (معلوم ہے) وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ بہت تھوڑے لوگوں کو (اس کی حقیقت ) کا علم ہے۔ آپ اس معاملہ میں ان سے نہ جھگڑیں اور سرسری سی بحث کیجیے اور ان میں سے کسی سے بھی حال معلوم نہ کیجیے۔

لغات القرآن آیت نمبر 22 سیقولون وہ عنقریب کہیں گے۔ ثلثۃ تین۔ رابع چوتھا۔ کلب کتا۔ خمسۃ پانچ۔ سادس چھٹا۔ رجم پتھر پھینکنا، اندازہ لگانا۔ بالغیب بن دیکھے۔ سبعۃ سات۔ ثامن آٹھواں۔ لاتمار بحث نہ کرو۔ لاتستفت مت پوچھو۔ احد کوئی ایک ۔ کسی ایک سے۔ تشریح : آیت نمبر 22 قرآن کریم میں علم و تحقیق سے منع نہیں کیا گیا بلکہ ان بےکار بحثوں اور گفتگو سے منع کیا گیا ہے جن کا حاصل سوائے زبانی جمع جوڑ بحثوں اور بےمعنی گفتگو کے اور کچھ نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری بلکہ ان کی بربادی کا بڑا سبب بےت کے سوالات اور بےکار بحثوں میں پڑنا تھا اصول کی بات یہ ہے کہ جو قوم اور اس کے افراد فضول اور بےکار کی بحثوں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں ان کو کسی حسن عمل کی توفیق نہیں ملتی۔ قرآن کریم جس کے نازل کرنے کا بنیادی مقصد ایمان اور عمل صالح میں پختگی اور دنیا و آخرت میں صحیح طرز عمل اختیار کر کے ہر طرح کی فلاح حاصل کرنا ہے اس نے فضول بحثوں اور باتوں سے بچنے کی تاکید کی ہے تاکہ انسانی صلاحیتیں صرف فضول اور بےکار باتوں کی نظر نہ ہوجائیں۔ فرمایا کہ جب آپ ان لوگوں کو اصحاب کہف کا واقعہ سنائیں گے تو بےعمل لوگ آپ سے طرح طرح کے سوالات کریں گے۔ کوئی کہے گا کہ اصحاب کہف کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا، کوئی کہے گا کہ نہیں بلکہ ان کی تعداد پانچ تھی اور چھٹا ان کا کتنا تھا کوئی کہے گا کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ اس طرح وہ باتیں اور بحثیں کرنے کے بہانے تلاش کریں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی باتوں میں نہ پڑیں اور نہ ان کے کہنے سے اپنے ذہن کو ادھر ادھر لے جائیں کیونکہ اس بات کا سب سے بہتر علم اللہ کے پاس ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ آپ پیغام حق پہنچا دیجیے بقیہ ان کی باتوں کو سرسری طور پر سن کر نظر انداز کردیجیے۔ علماء امت اور مفسرین نے بھی ان باتوں کی تحقیق میں اپنا وقت نہیں لگایا البتہ بعض صحابہ کرام نے اصحاب کہف کی تعداد کو بتایا ہے اس پر ہم ضرور غور کرسکتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اصحاب کہف کی تعداد سات تھی کیونکہ آیت کی ابتداء میں اللہ کے ارشاد کا اندازہ اور تھا اور آخر میں بغیر واؤ عاطفہ کے اور ہے۔ بیان سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی ان کا کتا اس تعداد کے علاوہ ہے۔ بہرحال اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اہل ایمان اس بات پر غور فرمائیں کہ اصحاب کہف کی تعداد جتنی بھی تھی ایک بات ان سب میں مشترک تھی اور وہ یہ تھی کہ ایمان کی حفاظت اور حسن عمل کا اتنا عظیم جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کرنے میں مصلحتوں کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے اپنے گھر بار کی راحتیں چھوڑنا گوارا کیا لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا انہوں نے حق و صداقت کے لئے دنیا کے اسباب پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ اللہ کی ذتا پر بھروسہ کیا۔ اصحاب کہف کے اس عظیم جذبے کو آگے بڑھایا جائے محض ان بحثوں سے کیا فائدہ کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ ان کے کتے کا رنگ کیا تھا وغیرہ وغیرہ صحابہ کرام نے بھی اس مسئلہ پر کوئی خاص گفتگو نہیں بلکہ سرسری طور پر کچھ اس کی تفصیل ارشاد فرمائی ہے۔ درحقیقت کفار مکہ سے اور قیامت تک آنے والے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ چند نوجوان جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے اپنی جوانی اور راحتوں کو قربان کردیا تھا لیکن جھوٹے معبودوں اور ظالم بادشاہ کے ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا تھا یہ ان کی سب سے بڑی عظمت ہے لیکن یہ کیسے لوگ ہیں جو ابراہیمی ہونے پر فخر تو کرتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم اور اصحاب کہف جیسا جذبہ پیدا نہیں کرتے اللہ تو اپنے بندوں کے معمولی سے حسن عمل کو بھی بہت پسند کرتا ہے جو لوگ اپنی جوانیوں کو اور اپنی راحتوں کو اللہ کے لئے قربان کردیتے ہیں اللہ ان کو دنیا اور آخرت میں عظیم مقام عطا فرماتے ہیں۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کسی چیز کے بارے میں یہ ہرگز نہ کہا کریں کہ ” میں یہ کام کل کر دوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

ہاں اگر اللہ چاہے۔ “ اگر آپ بھول جائیں تو فوراً اپنے رب کو یاد کرلیا کیجیے اور یہ کہئے کہ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار اس معاملہ میں میری بہت جلد بہترین رہنمائی کرے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24 لاتقولن تو ہرگز مت کہنا۔ لشائ کسی چیز کے لئے۔ فاعل کرنے والا۔ غداً کل۔ اذکر یاد کر۔ نسیت تو بھول گیا۔ عسی شاید۔ توقع۔ یھدین وہ مجھے راہ دکھائے گا۔ اقرب زیادہ قریب۔ رشد سمجھنا، رہنمائی۔ تشریح :- آیت نمبر 23 تا 24 اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو زندگی کے ہر انداز اور معاملات زندگی کو ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ عمل بنا دیا ہے جو اللہ کی رحمت کی امید، آخرت کی فکر اور خوب اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو منصب نبوت عطا فرمایا ہے وہ اس لئے ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پوری دیانت سے پہنچا دیں اور اللہ کے احکامات پر عمل کرانے کے بعد ایک ایسی سوسائٹی یا معاشرہ بنا دیں جو قیامت تک موجود اور آنے والی نسلوں کے لئے نشان منزل بن جائے اور ہر شخص کو اس کا خوگر بنا دیں کہ اس کائنات کا نظام اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو چلاتا ہے۔ وہ اس کے چلانے میں کسی طرح کسی کا محتاج نہیں ہے۔ ہر شخص کو اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے کیونکہ اس کائنات میں کیا چیز بہتر ہے اور کیا چیز بری اور بدترین ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں کام میں کرسکتا ہوں تو بیشک اللہ نے جو اس کو طاقت و قوت اور توانائی بخشی ہے اس سے وہ اس کام کو کرسکتا ہے لیکن خود انسان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس کام کو کر رہا ہے اس میں خیر ہے یا نہیں ۔ اسی لئے اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ انسان جب بھی کسی کام کا ارادہ کرنا چاہئے تو اللہ پر بھروسہ کرلیا کرے یعنی اس طرح کہہ دیا کرے کہ انشاء اللہ میں یہ کام کل کو کر دوں گا۔ اگر اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کے باوجود وہ کام نہ ہو یا اس میں تاخیر ہوجائے تو یقیناً اس میں کوئی مصلحت ضرور ہوگی۔ اسی بات کو اس آیت میں نبی کریم ﷺ اور آپ کی وساطت سے آپ کی امت کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ جب بھی آئندہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ ہو تو یہ ضرور کہہ لیا جائے انشاء اللہ یہ کام میں کل کر دوں گا۔ یعنی اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کرلیا جائے۔ سورة کہف کے نزول کے وقت جب کفار مکہ نے اصحاب کہف کے متعلق پوچھا تو آپ نے یہ سوچ کر کہ کل جبرئیل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ کر بتا دوں گا۔ آپ نے یہ کہہ دیا کہ ” میں یہ بات تمہیں کل بتا دوں گا “ چونکہ آپ ﷺ کی ذات پاک امت کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے آپ کی امت کو سکھانے کے لئے چند روز تک وحی نازل نہیں ہوئی۔ جبرئیل امین نہیں آئے۔ کفار کو مذاق اڑانے اور جملے کسنے کا موقع مل گیا جس سے آپ کو خاصی پریشانی ہوگئی۔ چند روز کے بعد یہ آیت نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کی زندگی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ہے۔ لہٰذا آئندہ جب بھی مستقبل میں کئے جانے والا کام یا کوئی بات فرمائیں تو انشاء اللہ کہہ لیا کریں تاکہ اللہ پر بھروسہ کرنے کی وجہ سے کام درست ہوجائیں اور ان کی رکاوٹیں دور ہوجائیں اور ہر شخص یہ بات جان لے کہ اس کائنات میں ہر کام اللہ کی قدرت، اس کے حکم اور کسی مصلحت سے ہوتا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔
Ayahs 18:25–26

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال اور ان کے اوپر چند سال (309) تک (تک سوتے) رہے۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت وہاں رہے۔ آسمانوں اور زمین کے بھید وہی جانتا ہے۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ ان کے لئے اس کے سوا کوئی دوسرا مددگار نہیں ہے ۔ وہ اپنے حکم (فیصلے) میں کسی کو شریک نہیں کیا کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 26 لبثوا وہ ٹھہر رہے، رکے رہے۔ ثلث مائۃ تین سو، (سال) ۔ ازدادوا انہوں نے بڑھایا۔ تسعاً (نو 9) ۔ اعلم زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ابصربہ اس کے ساتھ زیادہ دیکھنے کی طاقت۔ اسمع بہ اس کے سننے کی زیادہ طاقت۔ احد کوئی ایک، کسی کو۔ تشریح : آیت نمبر 25 تا 26 اللہ کو اس بات کا پوری طرح اور بہتر علم ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے جنہیں اصحاب کہف کہا جاتا ہے وہ تین سو نوسال تک اس غار میں سوتے رہے ہیں۔ وہ جتنی دیر بھی سوئے انہیں اٹھنے کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے وہ دن بھر یا آدھے دن تک سوتے رہے ہیں۔ انہیں اس کا اندازہ ہی نہ تھا کہ ان پر صدیاں بیت گئیں۔ جس شہر میں وہ رہتے تھے اس شہر کا انداز، رہن سہن، سلطنت کا انداز، سکہ (کرنسی) سب بدل چکے تھے۔ اصحاب کہف کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنی طویل مدت تک سوتے رہے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ تم چپکے سے پوری احتیاط کے ساتھ شہر جا کر ہم سب کے لئے کھانا لے آؤ۔ اس طرح جانا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو۔ چناچہ اصحاب کہف میں سے ایک شخص جس کا نام مفسرین نے یملیخا بتایا ہے وہ شہر گیا اور اس طرح (جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے) لوگوں پر ان کا حال کھل گیا۔ اس پوری واقعہ پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سے سامنے آتی ہے کہ اس کائنات میں ساری قدرتیں صرف اللہ کی ہیں غیب کا سارا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ وہ اس میں سے جس کو چاہے جتنا چاہے غیب کا علم فرما دیتا ہے لیکن قدرتیں اللہ کی ہیں غیب کا سارا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ وہ اس میں سے جس کو چاہے جتنا چاہے غیب کا علم فرما دیتا ہے لیکن غیب کا علم جاننے سے کوئی شخص عالم الغیب نہیں بن جاتا صرف اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ چناچہ اس واقعہ میں صاف ظاہر ہے کہ اصحاب کہف کو کچھ معلوم نہ تھا کہ صدیوں تک انپر کیا گذری ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف جو اللہ کے پیغمبر ہیں ان کا یہ حال ہے کہ جب حضرت یوسف کے حاسد بھائیوں نے ان کنوئیں میں پھینک دیا اور اس سے مطمئن ہوگئے کہ حضرت یوسف تڑپ تڑپ کر اس کنوئیں میں جان دے چکے ہوں گے تب انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب کو یہ جھوٹی خبر پہنچائی کہ حضرت یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کی بات پر صبر فرما لیا۔ اور ان کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ ان کا لخت جگر صرف کچھ فاصلے پر ایک کنوئیں میں پھینک دیا گیا ہے لیکن جب حضرت یوسف مصر کے بادشاہ بن گئیا ور انہوں نے اپنے والد کے لئے اپنا قمیص بھیجاتا کہ وہ قمیص ان کے چہرے پر ڈال دیا جائے اور ان کی بینائی دوبارہ لوٹ آئے ادھر وہ قمیص مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا ہے (وہ فلسطین جو مصر سے ایک طویل فاصلے پر ہے) تو حضرت یعقوب نے فرمایا کہ مجھے یوسف کے پیراہن کی خوشبو آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔ وہی ہر غیب کا پوری طرح علم رکھتا ہے اور علم الغیب جتنا کسی کو دینا چاہے دیدیتا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس کائنات میں ساری قوتیں صرف اللہ کے لئے ہیں اس کو ہر چیز کا علم ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے۔ وہ اس کائنات کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ یہ انسان کی سعادت ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لا کر عمل صالح اختیار کرتا ہے۔
Ayahs 18:27–29

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب میں سے جو کچھ وحی کی گئی ہے اس کو سنا دیجیے۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور آپ سے بھاگ کر پناہ کی جگہ ہرگز نہ پا سکیں گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ روکے رہئیے جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور سای کی رضا اور خوشنودی چاہتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان کی طرف سے ہرگز نہ بدلیں اور ان کا کہا نہ مانئے جن کا دل ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے کام میں حد سے گزر گئے ہیں

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ سچائی آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ پس جس کا دل چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔ ہم نے بہرحال ایسے ظالموں کے لئے آگے تیار کر رکھی ہے جس کی لپیٹیں ان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اگر وہ پانی مانگنا چاہیں گے تو ان کی خاطر داری ایسے پانی سے کی جائے گی جو تیل کے تلچھٹ کی طرح کھولتا ہوا ہوگا جو ان کے منہ کو بھون ڈالے گا۔ بدترین پینے کی چیز اور بری آرام گاہ ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29 اتل پڑھئے، سنائیے۔ ملتحد پناہ کی جگہ۔ لاتعد نہ پھریں۔ ترید تو چاہتا ہے۔ لاتطع کہنا مت مان۔ ھواہ اس کی خواہش۔ فرطاً حد سے آگے بڑھنے والے۔ احاط گھیر لیا۔ سرادق پردہ کی دیوار، قنات۔ یستغیثوا وہ مدد چاہیں گے۔ مھل وہ چیز جو طبیعت پر ناگوار ہو۔ یشوی بھون ڈالتی ہے۔ الشراب پینے کی چیز۔ مرتفق آرام کرنے کی جگہ۔ تشریح :- آیت نمبر 27 تا 29 نبی کریم ﷺ کی شدید دلی خواہش تھی کہ اگر عرب کے سردار اور با اثر لوگ ایمان لے آئیں تو سارا عرب اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے گا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ آپ اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد میں رات دن کوششیں فرماتے رہتے تھے۔ ایک طویل عرصے کی جدوجہد کے نتیجے میں اکابر صحابہ کے علاوہ اکثر ان چند لوگوں نے اسلام قبول کیا جو معاشرہ کے انتہائی غریب، بےکس اور غلام تھے۔ جب آپ کفار مکہ کو اسلام کی دعوت دیتے تو ان کا یہ عذر ہوتا تھا کہ اے محمد ﷺ ! ہم آپ کے پاس آنا تو چاہتے ہیں مگر آپ کے پاس ایسے غریب نادار اور غلام بیٹھے رہتے ہیں جن کے پاس بیٹھنا ہماری توہین ہے۔ پہلے آپ اپنی مجلس سے ایسے لوگوں کو نکالئے تب ہم آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے ان آیات کو نازل فرمایا جس میں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان کے سامنے اللہ کی آیات کی تلاوت کیجیے جس میں انسانی زندگی کی سچائیاں ہیں جو کبھی نہ تبدیل ہونے والی ہیں اور انسان کے لئے آخری پناہ گاہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیئے جو اللہ پر ایمان کے سچے جذبے کے ساتھ آپ پر ایمان لائے ہیں جیسے حضرت عمار، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت ابن مسعود وغیرہ جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت و بندگی اور اس کی رضا و خوشنودی کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ ان سے کبھی منہ نہ پھیریئے اور جو لوگ زندگی کی سچائیوں سے منہم وڑ کر چلتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں ان کی رفاقت اور قرب اختیار نہ کیجیے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کے ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے ایسے لوگ اپنی خواہشات نفس کے غلام بنے ہوئے ہیں اور وہ کسی حد پر جا کر رکنے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ فرما دیجیے کہ یہ سچائی میرے رب کی طرف سے ہے جس کا دل چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے وہ کفر کا راستہ اختیار کرلے۔ لیکن ایسے لوگ اس بات کو ضرور اپنے ذہن میں رکھ لیں کہ جس نے بھی کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا اس کے لئے ایسی جہنم تیار ہے جس کی لپٹیں ان کو گھیر لیں گی اور جب وہ اس آگ میں اپنی پیاس بجھانے کے لئے پانی مانگیں گے تو ان کو تیل کی تلچھٹ یا لہو پیپ دیا جائے گا جو ان کے منہ کو جلا کر دے گا اور اس وقت ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ جہنم کا کھانا اور ٹھکانا بدترین چیز ہے۔
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے بلاشبہ ہم ان کا اجر ضائع نہیں کریں گے جنہوں نے بہترین کام کئے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشہ رہنے کی جنتیں ہوں گی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک ریشم اور دبیز ریشم کے سبز رنگ کا لباس پہنائے جائیں گے اور وہ مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یہ بہترین صلہ ہے اور اعلیٰ ترین آرام گاہ۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 لانضیع ہم ضائع نہیں کریں گے۔ احسن زیادہ بہترین۔ یحلون پہنائے جائیں گے۔ اساور (سوار) کنگن، کلائی کا زیور۔ ذھب سونا۔ یلبسون وہ پہنیں گے ۔ ثیاب (ثوب) کپڑے۔ خضر سبز رنگ۔ سندس باریک تار والا ریشم۔ اسبترق موٹے تار سے بنا ریشم۔ متکئین تکیہ لگانے والے۔ الارائک (اریکۃ) مسہریاں، تخت ۔ نعم الثواب بہترین بدلہ۔ حسنت نہایت عمدہ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 اس سیپ ہلی آیات میں کفار و مشرکین کے برے اعمال اور برے انجام کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان اور ان کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرتے ہیں ان کی ہر نیکی چھوٹی ہو یا بڑی اس کو اللہ ضائع نہیں فرمائیں گے بلکہ اس کی قدر کرتے ہوئے اجر عظیم عطا فرمائیں گے اور انسان کی ہر نیکی اور حسن عمل اللہ کے ہاں پوری طرح محفوظ ہ۔ ایسے نیکو کاروں کو شاہانہ باغات اور حسین ترین محلات عطا کئے جائیں گے۔ ان کا لباس بھی انتہائی خوبصورت اور شاہانہ ہوگا ۔ بادشاہوں کی طرح سونے کے کنگن اور باریک ریشم اور دبیر ریشم کے لباس پہنے ہوئے بڑی شان سے مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کا بہترین انجام ہوگا۔ ۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے بادشاہ تو اپنے عیش و آرام، خوبصورت باغات، حسین محلات اور بہترین لباس کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں کبھی کبھی تو ظلم و زیادتی یا انسانی کھوپڑیوں پر اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں تب جا کر وہ سونے کے کنگن پہن کر فخر کرتے ہیں لیکن یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والوں کو جنت میں ہمیشہ کی راحتیں عطا کی جائیں گی۔ دنیا کی بادشاہتیں اور عیش و آرام تو ایک وقت تک ہیں پھر موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں لیکن اہل جنت کو جو انعامات دیئے جائیں گے وہ ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔ یہ اللہ کی قدرت ہے کہ وہ عارضی طور پر اس دنیا کی راحتیں بھی عطا فرما دے اور بادشاہوں کے تاج و تخت اہل ایمان کے قدموں کی دھول بنا دے۔ چناچہ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرام نے جب ایمان اور عمل صالح اختیار کر کے ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں تو قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت ان کے قدموں کی دھول بن گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ قیصر و کسریٰ کے شاہانہ تاج و تخت ان کے وضو خانہ کے کمروں میں استنجے کے ڈھیلوں کے ساتھ پڑیر ہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہ کرام کو قیامت میں جنت کی ابدی راحتیں عطا فرمائیں گے جس کا تصور تو اس دنیا میں کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا کیا نعمتیں دی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایمان و صالح کا پیکر بنا کر جنت کی راحتوں کا حق دار بنا دے۔ آمین۔
Ayahs 18:32–36

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

ان سے آدمیوں کا حال بیان کیجیے۔ ہم نے ان میں سے ایک کے لئے انگور کے دو باغ رکھے تھے ان کے چاروں طرف کھجوروں کی باڑھ اور ان کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی۔

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پھل خوب لا رہے تھے اور اس کی (پیداوار) میں کمی نہ تھی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان نہر بہا دی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

جس سے اور بھی پیداوار تھی۔ باتیں کرتے ہوئے اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور میرے لوگ بھی تجھ سے بہت زیادہ ہیں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہوا باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میرا خیال نہیں ہے کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میرے خیال ہے کہ قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر کبھی اپنے رب کے پاس پہنچا تو میں وہاں اس سے بھی بہتر حاصل کرلوں گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 اضرب بیان کر، مار۔ رجلین (رجل) مردوں، دو آدمی۔ اعناب (عنب) انگور۔ حففنا ہم نے گھیر لیا۔ محفوظ کرلیا۔ نخل کھجور۔ زرع کھیتی۔ کلتا دونوں۔ اکل پھل۔ لم تظلم کم نہیں کیا۔ فجرنا ہم نے بہا دیا۔ یح اور بات چیت کرتا ہے۔ اعز میں زیادہ عزت والا ہوں۔ نفر لوگ، جماعت۔ تبید اجڑ جائے گا۔ الساعۃ قیامت، گھڑی۔ رددت میں لوٹایا گیا۔ منقلب (بہترین) جگہ لوٹنے کی۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 کفار مکہ کے اس مطالبہ کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اے نبی ﷺ ہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں مگر جب ہم یہ دیھکتے ہیں کہی آپ کے پاس ہمارے معاشرہ کے وہ غریب اور بدحال لوگ بیٹھے ہیں جن کے پاس بیٹھنا ہماری توہین ہے تو ہم آپ کے پاس آنے سے رک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے مغرور اور متکبر لوگوں کو سمجھانے کے لئے بطور مثال ایک واقعہ بیان کیا ہے وہ دو آدمی تھے ان میں سے ایک تو اللہ کی بےانتہا نعمتوں کے باوجود نا شکرا پن اور تکبر کا اظہار کر کے اپنی بڑائی بیان کرتا تھا دوسرا شخص اللہ کا فرماں بردار اور عاجزی و انکساری کا پیکر تھا۔ یہ دونوں ہو سکتا ہے بنی اسرائیل کے دو آدمی ہوں یا اس واقعہ کو ایک مثال کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔ بہرحال ان آیتوں میں سردار ان مکہ اور قیامت تک آنے والے ہر متکبر اور مغرور شخص کو بتایا گیا ہے کہ اللہ کسی کا غرور اور تکبر قطعاً پسند نہیں ہے اسے عاجزی، انکساریا ور اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنے والے لوگ بےانتہا پسند ہیں۔ فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک شخص وہ تھا جسے پھولوں سے لدے ہوئے دو باغ دیئے گئے تھے جن میں انگور اور کھجوروں کی باڑھ تھی۔ سرسبز و شاداب کھیتیاں، پھل دار درخت اور بہتی ندی تھی جس سے ہر طرح کا نفع حاصل ہوتا تھا۔ مال و دولت کی ریل پیل، عزت و سربلندی، رشتہ داروں اور دوستوں کے ہجوم نے اس کو اتنا مغرور کردیا تھا کہ ایک دن اپنے کسی غریب دوست یا رشتہ دار کو پھلوں اور پھولوں سے لدے پھندے باغات میں لے جا کر کہنے لگا کہ یہ میرے باغات ہیں، لہلاتی کھیتیاں، سرسبزی و شادابی ، دنیا کا بےانتہا سامان، رشتہ داروں اور لوگوں کی بھیڑ میری عزت و سربلندی اتنی زیادہ ہے کہ اب مجھے نہ تو کوئی برباد کرسکتا ہے اور یہ آخرت ، قیامت سب کہنے کی باتیں ہیں پتہ نہیں قیامت آئے گی یا نہیں۔ میں تو اللہ کا محبوب بندہ ہوں کیونکہ اگر وہ اللہ مجھ سے ناراض ہوتا تو مجھے یہ سب کچھ کیوں دیتا۔ آخرت میں بھی میں راحت و آرام سے رہوں گا کیونکہ جب میں اللہ کا محبوب بندہ ہوں تو وہ مجھے وہاں آخرت کی نعمتوں سے کیوں محروم رکھے گا۔ اس کے یہ سب کچھ کہنے کا مقصد اس غریب آدمی کا مذاق اڑانا تھا جو اللہ اور آخرت پر ایمان و یقین رکھنے والا اور تقویٰ و پرہیز گاری کی زندگی گذارنے والا شخص تھا۔ اس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تمہیں تمہاری نیکی اور پرہیز گاری نے کیا دیا ؟ سوائے فقر و فاقہ اور غربت و افلاس کے تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس واقعہ کی تفصیل تو اس سے اگلی آیات میں آرہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح کفار مکہ ان مومنوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے جو ایمان و عمل صالح کی وجہ سے فقر و فاقہ کی زندگی گذار رہے تھے۔ حالانکہ اللہ نے انجام کے اعتبار سے صحابہ کرام کو دین و دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائی تھیں۔ مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تھی اس واقعہ کی باقی تفصیل اگلی آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔