Al-Kahf 18:109

Al-Kahf · from ayah 109

18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا ۟قُلْ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ مِدَادًا لِّـكَلِمٰتِ رَبِّىۡ لَـنَفِدَ الۡبَحۡرُ قَبۡلَ اَنۡ تَـنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّىۡ وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهٖ مَدَدًا

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "If the sea were ink for [writing] the words of my Lord, the sea would be exhausted before the words of my Lord were exhausted, even if We brought the like of it as a supplement."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:109

اے محمدؐ، کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وه بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ : اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے، تو میرے رب کی باتیں ختم نہیں ہوں گی کہ اس سے پہلے سمندر خشک ہوچکا ہوگا، چاہے اس سمندر کی کمی پوری کرنے کے لیے ہم ویسا ہی ایک اور سمندر کیوں نہ لے آئیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے، سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے روشنائی ہوجائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر یا روشنائی) مدد کے لئے لے آئیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اگر میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے گا مگر میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہوں گی خواہ اتنی ہی اور بھی سیاہی (سمندر) لائی جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو اگر میرے رب کی نشانیوں کو قلم بند کرنے کے لیے سندر روشنائی بن جائے تو میرے رب کی نشانیوں کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو ان ابنائے دنیا سے کہ میرے رب کی شان یہ ہے کہ اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر سیاہی بن جائے تو یقینا وہ ختم ہوجائے قبل اس سے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہونے کو آئیں، اگرچہ اس کی مدد کے لیے ہم ایسا ہی ایک اور سمندر لے آئیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اگر سمندر (سارے کے سارے) روشنائی ہوجائیں میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کے لئے تو سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہوسکیں گی اور اگرچہ ہم ایسا ہی جیسا (اور سمندر) اس کی مدد کے لئے لے آئیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی) آپ کہیے کہ اگر سمندر روشنائی بن جائے میرے رب (کے کلمات کو لکھنے) کے لیے تو یقیناً سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں اگرچہ اسی کی طرح اور (سمندر) بھی ہم (اس کی) مدد کے لیے لے آئیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے اگر سمندر سیاہی ہو تو وہ باتیں ختم ہونے سے پہلے ختم ہوجائے اگرچہ ویسا ہی سمندر اور بھی استعمال میں لایا جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: "If the sea were to become ink to record the Words of my Lord, indeed the sea would be all used up before the Words of my Lord are exhausted, and it would be the same even if We were to bring an equal amount of ink."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :If the ocean were to be ink for (writing) the Words of my Lord, the ocean would have been consumed before the Words of my Lord are exhausted, even though we were to bring another (ocean) like it in addition.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :If the ocean were to be ink for (writing) the Words of my Lord, the ocean would have been consumed before the Words of my Lord are exhausted, even though we were to bring another (ocean) like it in addition.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "If the sea were ink for the Words of my Lord, surely, the sea would be exhausted before the Words of my Lord would be finished, even if We brought like it for its aid."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Though the sea became ink for the Words of my Lord, verily the sea would be used up before the words of my Lord were exhausted, even though We brought the like thereof to help.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "If the sea were ink for [writing] the words of my Lord, the sea would be exhausted before the words of my Lord were exhausted, even if We brought the like of it as a supplement."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Had the seas been used as ink to write down the words of my Lord, they would have all been consumed before the words of my Lord could have been recorded, even though replenished with a like quantity of ink.

— Muhammad Sarwar

Say: If the sea were ink for the words of my Lord, the sea would surely be consumed before the words of my Lord are exhausted, though We were to bring the like of that (sea) to add

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: were the sea to become ink for the words of my Lord, the sea would surely exhaust ere the words of my Lord exhausted, even though We brought onot her like thereof for support.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "If the ocean were ink (wherewith to write out) the words of my Lord, sooner would the ocean be exhausted than would the words of my Lord, even if we added another ocean like it, for its aid."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:109

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کا شمار ناممکن۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی عظمت سمجھانے کے لئے دنیا میں اعلان کر دیجئے کہ اگر روئے زمین کے سمندروں کی سیاہی بن جائے اور پھر اللہ کے کلمات اللہ کی قدرتوں کے اظہار، اللہ کی باتیں، اللہ کی حکمتیں لکھنی شروع کی جائیں تو یہ تمام سیاہی ختم ہوجائے گی لیکن اللہ کی تعریفیں ختم نہ ہوں گی۔ گو پھر ایسے ہی دریا لائے جائیں اور پھر لائے جائیں اور پھر لائے جائیں لیکن ناممکن کہ اللہ کی قدرتیں اس کی حکمتیں اس کی دلیلیں ختم ہوجائیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کا فرمان ہے (وَلَوْ اَنَّ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ شَجَـرَةٍ اَقْلَامٌ وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْكَهْف 80 " باتوں " سے مراد اس کے کام اور کمالات اور عجائب قدرت و حکمت ہیں۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 48۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی باتیں (یعنی وہ کلمات و عبارات جو اللہ تعالیٰ کے اوصاف اور کمالات پر دلالت کرتے ہوں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے کمالات و اوصاف کو کوئی بیان کرنے لگے تو ایسے کلمات کو) لکھنے کے لئے سمندر (کا پانی) روشنائی (کی جگہ) ہو (اور اس سے لکھنا شروع کرے) تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا (اور سب باتیں احاطہ میں نہ آئیں گی) اگرچہ اس سمندر کے مثل ایک دوسرا سمندر (اس کی) مدد کے لئے ہم لے آئیں (تب بھی وہ باتیں ختم نہ ہوں اور دوسرا سمندر بھی ختم ہوجائے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات غیر متناہی ہیں اس کے سوا جن چیزوں کو کافروں نے اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا معجزہ کا مطالبہ کرنے والوں کو جواب : " کلمات " سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ ان متکبرین کو جواب ہے جو قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور پیغمبر سے کسی ظاہری اور حسی معجزے کا مطالبہ کرتے تھے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر نشانیوں کے طلب گار ہو تو یہ کائنات، اتنی نشانیوں سے بھری ہوئی ہے کہ سمندر اگر روشنائی بن جائے تو اس کی روشنائی بھی ان کو قلم بند کرنے کے لیے ناکافی ہو اگرچہ اس طرح کا ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 کَلِمَاَت سے مراد، اللہ تعالیٰ کا علم محیط، اس کی حکمتیں اور وہ دلائل وبرائین ہیں جو اس کی واحدنیت پر دال ہیں۔ انسانی عقلیں ان سب کا احا طہ نہیں کرسکتیں اور دنیا بھر کے درختوں کے قلم بن جائیں اور سارے سمندر بلکہ ان کی مثل اور بھی سمندر ہوں، وہ سب سیاہی میں بدل جائیں، قلم گھس جائیں گے اور سیاہی ختم ہوجائے گی، لیکن رب کے کلمات اور اس کی حکمتیں ضبط تحریر میں نہیں آسکیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 109–110

53: اللہ تعالیٰ کی باتوں سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا تذکرہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی حکمت اور اس کے کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو قلم بند کیا جائے تو بڑے بڑے سمندروں کو روشنائی بناکر لکھا جائے، تو سمندر کے سمندر خشک ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی صفات اور کمالات کا بیان ختم نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انسانی معلومات کی حد تک سب سے بڑا ذخیرہ آب سمندر ہے۔ انسان جو علوم لکھتے ہیں وہ سیاہی کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اپنے علم کو وہ روشنائی کی شکل میں کاغذ پر لاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کا علم بہت ہی وسیع ہے۔ قرآن مجید یہاں ان کو یہ سمجھاتا ہے کہ اگر ان وسیع اور گہرے سمندروں کو روشنائی بنا دیا جائے اور اللہ کے علم کو لکھنا شروع کیا جائے ، تو یہ سمندر تو خشک ہوجائیں گے مگر اللہ کے علوم ختم نہیں ہو سکتے۔ ذرا آگے سوچو کہ اس سمندر جتنا اور سمندر لے آئے ہم ۔ دوسرا سمندر بھی ختم ہوگیا ، مگر اللہ کے کلمات و علوم ختم نہ ہوئے۔ اس محسوس تصور ، اور اس مجسم حرکت کے ذریعے انسانی محدود و تصور اور ناپختہ شعور اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 قریش نے یہود کے اشارہ سے روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کیا تھا۔ سورة ہذا کی ابتداء میں " اصحاب کہف " کا اور آخر میں ذوالقرنین کا قصہ جہاں تک موضع قرآن سے متعلق تھا۔ بیان فرمایا۔ اور روح کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں فرما دیا۔ ( وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :85) اب خاتمہ سورت پر بتلاتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے علم و حکمت کی باتیں بےانتہا ہیں۔ جو باتیں تمہاری طرف و استعداد اور ضرورت کے لائق بتلائی گئیں۔ حق تعالیٰ کی معلومات میں سے اتنی بھی نہیں جتنا سمندر میں سے ایک قطرہ۔ فرض کرو اگر پورے سمندر کا پانی سیاہی بن جائے جس سے خدا کی باتیں لکھنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 109 قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا یہاں پر سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت سے پہلے کی آیت کو دوبارہ ذہن میں لائیں : قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ”آپ کہہ دیجیے کہ تم پکارو اللہ کہہ کر یا پکارو رحمن کہہ کر جس نام سے بھی تم پکارو اسی کے ہیں تمام نام اچھے“۔ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء کا ذکر ہے ‘ جبکہ یہاں آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ کے کلمات کا ذکر ہے۔ اللہ کے کلمات سے مراد اس کی مختلف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 اللہ کے کلمات سے کیا مراد ہے ؟ کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کے کارنامے، کمالات اور عجائبات قدرت ہیں اور یہ لامتناہی اور بےحدد حساب ہیں جن میں ہر آن مزید وسعت بھی ہوتی رہتی ہے اور سمندر یا سمندروں کا پانی خواہ کتنا ہی کثیر مقدار میں ہو بہرحال اس کی ایک حد ہے اور ایک محدود چیز کا لامحدود چیز سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے لہذا سمندروں کی سیاہی تو ختم ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

159۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوق مل کر بھی کلمات الہی کا احاطہ کرنا چاہے تو بھی ممکن نہیں۔ سارا سامان تحریر وتسوید ختم ہوجائے گا اور نامتناہی کسی طرح متناہیوں کی گرفت میں نہ آسکے گا۔ سمندر لاکھ وسیع ہو بہرحال محدودہی ہے۔ صفات نامتناہی وغیر محدود ومتناہی ہستی اپنی گرفت میں لاہی کیونکر سکتی ہے ؟ (آیت) ” البحر “۔ مراد کوئی متعین سمندر نہیں۔ جنس بحریا سارے سمندر مراد ہیں۔ والمراد بالبحر الجنس (کشاف) اے جنس البحر (روح) فاضل محقق علامہ مناظر احسن گیلانی مدظلہ تحریر فرماتے ہیں :۔ ” مطلب یہ ہے کہ فردوسی زندگی سے لوگ منتقل اسی لیے نہیں ہونا چاہیں گے کہ اس زندگی میں لامحدود کمالات رکھنے والی ذات اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–110

آیت نمبر 99 تا 110 ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا۔ آپ کہہ دیجئے کہ سمندر (کا سارا پانی) اگر میرے رب کے (علم و حکمت کے) کلمات لکھنے) کے لئے روشنائی ہو جائے (اور کلمات رب قلم سے لکھے جائیں) تو کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا (کیونکہ سمندر کا پانی متناہی ہے اس کی مقدار محدود ہے اور کلمات رب نا متناہی اور غیر محدود ہیں) خواہ ہم اس موجود سمندر کی طرح اتنی ہی اس میں زیادتی بھی کردیں۔ کیونکہ متناہی کا مجموعہ متناہی ہوتا ہے سمندر متناہی ہے اگر اتنا ہی بڑا ایک اور سمندر اس کے ساتھ ملا دیا جائے اور تمام پانی روشنائی بن جائے تو وہ مجموعہ بھی متناہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(109) اور اے محمد ﷺ آپ خصوصا یہود سے بھی فرما دیجیے کہ اگر میرے پروردگار کی باتیں اور اس کے علم و کمالات لکھنے کے لیے سمندر کا پانی روشنائی کی جگہ ہو تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے اس جیسا دوسرا سمندر بھی ختم ہوجائے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ قل لو کان البحر“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کچھ چیز بتاؤ جس کو ہم اس رسول سے پوچھیں، یہود نے کہا روح کے بارے میں سوال کرو، چناچہ قرآن نے آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت) ”ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا“ (الخ) اس پر یہود…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا۔۔ : کیونکہ سمندر مخلوق ہے جس کی حد اور انتہا ہے، جب کہ اللہ کا کلام اس کی صفت ہے، مخلوق نہیں، نہ اللہ کی ذات کی کوئی انتہا ہے نہ اس کی صفات کی۔ اگر اللہ کے کلمات لکھنے کے لیے سارے سمندر سیاہی بن جائیں اور زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں، پھر اتنی سیاہی ہم اور لے آئیں، بلکہ مزید سات سمندر سیاہی بن جائیں تو سب ختم ہوجائیں گے، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ (دیکھیے لقمان : 27) کیونکہ محدود چیز لا متناہی اور غیر محدو و کا احاطہ کبھی نہیں کرسکتی۔ 3 اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح اللہ کی ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، اسی طرح اس کی دوسری صفات کی طرح صفت کلام بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 109–110

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل لو کان البحر مداداً لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی نفد الشی کا معنی ہے جب مکمل اور فارغ ہوجائے۔ یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ ولو جئنا بمثلہ مدداً ۔ اگر ہم سمندر پر عدد یا وزن کے اعتبار سے زیادتی کردیں۔ مصحف ابی میں مداداً ہے اسی طرح مجاہد، ابن محیصن اور حمید نے پڑھا ہے۔ مدداً کی نصب تمیز یا حال کی بناء پر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی پاک ﷺ نے فرمایا : وما اوتیتم من العلم الا قلیلا۔ (الاسرائ) تو یہود نے کہا : ہمیں تورات دی گئی ہے اور جس کو تورات دی گئی تو اسے خیر کثیر دیا گیا (تو ہم افضل ہوئے پھر ہم آپ کی پیروی کیسے کریں) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل لوکان البحر مدادا الکلمت ربی “ یعنی میرے رب کا علم۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” قل لوکان البحر مدادا الکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی “ کے بارے میں فرمایا کہ سمندر کا پانی ختم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی حکمتوں کے ختم ہونے سے پہلے۔ 3:۔ احمد نے زہد میں ابوالبختری (رح) سے روایت کیا کہ سلمان ؓ سے ایک آدمی ملاتا کہ اس سے علم سیکھے سلیمان اسے دریا دجلہ کی طرف لے گئے اور وہ بھرا ہوا تھا سلمان ؓ نے اس سے فرمایا اتر جا اور پی لے اس نے پی لیا پھر اس سے فرمایا اور پیو پھر پوچھا تو نے دریا دجلہ میں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [لَوْ : اگر ] [كَان : ہوتے ] [الْبَحْرُ : سارے سمندر ] [مِدَادًا : روشنائی ] [لِكَلِمٰتِ رَبِيْ : میرے رب کی فرمان (لکھنے) کے لئے ] [لَنَفِدَ : تو ضرور ختم ہوجاتے ] [الْبَحْرُ : سارے سمندر ] [قَبْلَ ان : اس سے پہلے کہ ] [تَنْفَدَ : ختم ہوتے ] [كَلِمٰتُ رَبِيْ : میرے رب کے فرمان ] [وَلَوْ : اور اگرچہ ] [جِئْنَا : ہم لے آتے ] [بِمِثْلِهٖ : اس جیسے (اور سمندر)] [مَدَدًا : بطور مدد کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ کے اوصاف اور کمالات غیر متناہی ہیں سورت کے ختم پر توحید اور رسالت اور معاد کا اجمالی تذکرہ فرمایا اور ایسے کاموں کی ترغیب دی جو آخرت میں مفید اور کامیابی کا ذریعہ ہوں گے۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ جل شانہ کے اوصاف اور کمالات بےانتہا ہیں اگر ان کلمات کو لکھنے کے لیے سمندر کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائے تو ان اوصاف و کمالات کا بیان ختم نہ ہوگا اس سمندر کے ساتھ اگر ایک اور سمندر بھی ملالیا جائے اور اس کو بھی بطور روشنائی استعمال کیا جائے تب بھی اوصاف الٰہیہ اور کمالات غیر متناہیہ ختم نہ ہوں گے۔ حتیٰ کہ اگر ساتوں سمندروں کو بھی روشنائی کی جگہ استعمال کرلیا جائے اور دنیا میں جتنے بھی درخت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–110

تتمہ قصۂ ذوالقرنین و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔ اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

90:۔ یہ شبہہ ثالثہ کے جواب پر بالذات اور شبہہ رابعہ کے جواب پر بالتبع متفرع ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے وسعت معلومات کا ذکر کیا گیا ہے کلمات اللہ سے اللہ تعالیٰ کے معلومات اور اس کی حکمت مراد ہے۔ قالہ قتادۃ (روح) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے معلومات کو لکھنے کے لیے اگر دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو وہ بھی ختم ہوجائیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کا احاطہ نہیں ہوسکے گا۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ غیب دان صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کو صرف اتنا ہی معلوم ہے۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کو بتایا۔ اسی طرح اولیاء اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 109–110

(کلمات علم و حکمت) اس سورة کی ابتداء توحید کے بیان سے ہوئی تھی اور اب آخر میں بھی اللہ نے توحید ہی کا ذکر کیا ہے کیونکہ اکثر لوگ اسی مسئلہ میں ٹھوکر کھاتے ہیں اور پھر شرک میں مبتلا ہو کر آخرت برباد کرلیتے ہیں ابتدائے سورة میں عقیدہ ابنیت کی تردید کی گئی تھی اور آخر میں کلمات علم و حکمت کا بیان ہے اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا تذکرہ ہے گذشتہ درس کے آخر میں نیکوکاروں کے انعامات کے ضمن میں جنت الفردوس کا تذکرہ تھا کہ جنتی لوگ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور وہاں سے کسی تبدیلی کے خواہشمند نہیں ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں خدا تعالیٰ کے کلمات علم و حکمت اور اس کی صفات کمال کا ظہور ہوگا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا۝ 109 بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–109

تفسیر : ذوالقرنین کے قصہ کے خاتمے پر فرمایا تھا کہ کافر قابل جہنم وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں پر اور کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اس کے آیات قدرت دیکھ کر یاد کرتے ہیں نہ حق بات سنتے ہیں۔ اب یہاں سے ان پردوں کا اثر بیان فرماتا ہے فقال افحسب الذین الخ کہ کیا ان کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مجھے چھوڑ کر میری مخلوق کو کارساز ‘ حاجت روا بنانا ان کے لیے بس کرتا ہے حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے اوّل تو یوں کہ مالک کے مقابلہ میں اس کے بندے اور مخلوق جنہیں حاجت روا سمجھ بیٹھے ہیں ان کے کام آئیں گے وہ کیا کام آسکتے ہیں جبکہ وہ خود ہی ہمارے محتاج اور دست نگر ہیں۔ دوم بڑا کام آنا اس جہاں کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُُلْ لَّوْکَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَالْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْجِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا۔ (الکہف : 109) (اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کہ اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے تو سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔ ) نشانیاں طلب کرنے والوں کو جواب تمام گمراہ امتوں کی طرح مشرکینِ مکہ کی بھی سب سے بڑی گمراہی یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے اور نبی کریم ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کے لیے عجیب و غریب معجزات اور نشانیاں طلب کرتے تھے۔ ان کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح جنت کی نعمتوں کا تصور اور اس کا شمار کرنا محال ہے اسی طرح ہی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، نعمتوں اور اس کی تعریفات کا شمار کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ سورۃ ابراہیم آیت 34 میں ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ظاہر بات ہے کہ جب کوئی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا تو اس کی حمد وثناء اور تعریفات کا شمار اور حق کس طرح ادا کرسکتا ہے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ مومنوں کے ساتھ بالخصوص کفار کو فرمائیں کہ تم اپنے رب کی ذات، صفات اور اس کی تعریفات کرو یا نہ کرو۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ جس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علم الٰہی کی انتہاء نہیں : 109: قُلْ لَّوْکَانَ الْبَحْرُ (آپ کہہ دیجئے اگر سمندر) یعنی سمندروں کا پانی مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ (میرے رب کے کلمات کیلئے سیاہی بن جائے) ابو عبیدہ کہتے ہیں مداد ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے لکھا جائے یعنی اگر علم الٰہی کے کلمات اور اس کی حکمتیں لکھی جائیں اور لکھنے کیلئے سمندر سیاہی ہوں۔ یہاں البحر سے مراد جنس بحر ہے۔ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا (تو سمندر ختم ہوجائیں گے میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے خواہ ہم اس موجودہ سمندر کی طرح اتنے ہی زیادہ کردیں) ۔ مثلہ کی ضمیر بحر کی طرف ہے۔ کیونکہ سیاہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 107–110

جنت الفردوس کے بیان میں (107)” ان الذین آمنو ا وعملو الصالحات کانت لھم جنت الفردوس “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ حضرت کعب کا قول ہے کہ جنت میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ فردوس ربوۃ الجنتۃ کو کہتے ہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ فردوس اس باغ کا نام ہے جس میں انگور ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ باغ جو رومی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

109۔ ناقابل اعتراض سند سے مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب روح کی آیت نازل ہوئی کہ روح اللہ کا ایک حکم ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے روح کیا چیز ہے بہت سے بھید اللہ کے لوگوں کو معلوم نہیں اس آیت کو سن کر یہود کے علماء نے یہ کہا کہ ہمارا علم تھوڑا نہیں ہے ہمارے پاس توریت ہے جس میں دین ودنیا کا علم موجود ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے وہی ہیں جو الہام الٰہی سے حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ کے روبرو اس وقت بیان کیے جب کہ حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 109 یعنی انہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی لامحدود صفات کے متعلق آگاہ کر دیجئے، نیز ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ بندے ان صفات کا کچھ بھی احاطہ نہیں کرسکتے۔ (لو کان البحر) ” اگر ہوں سمندر “ یعنی اس دنیا میں موجود تمام سمندر (مدادا لکلمت ربی) ” میرے رب کے کلمات لکھنے کے لئے روشنائی “ یعنی روز اول سے لے کر آخر تک شہروں اور صحراؤں کے تمام درختوں کی قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی میں تبدیل ہوجائیں۔ (لنفد البحر) تو سمندر ختم ہوجائیں گے اور قلم (لکھتے لکھتے گھس کر) ٹوٹ جائیں گے۔ (قبل ان تنفد کلمت ربی) ” پہلے اس کے کہ ختم ہوں میرے رب کی باتیں “ اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مخلوق میں سے کوئی ہستی اس کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

153 کلمات رب سے مراد ؟ : یعنی اس کے علم، قدرت اور حکمت کی باتیں۔ (روح، ابن کثیر، جامع، مدارک، معارف وغیرہ) ۔ سو اگر سمندر کا سارا پانی سیاہی بن جائے اور زمین میں پائے جانے والے تمام درخت قلمیں بن جائیں اور میرے رب کے علم، اس کی قدرت اور اس کی حکمت کی باتیں لکھنا شروع کردیں تو یہ سب سمندر ختم ہوجائیں گے اگرچہ اسی جیسا ایک اور بلکہ سات سمندر اور لے آئیں۔ لیکن میرے رب کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوں گے کہ یہ سب کچھ محدود ہے اور میرے رب کے کلمات لامحدود ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کلمات رب سے مراد اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی قدرت و حکمت کی وہ عظیم الشان نشانیاں ہیں جو اس کی اس حکمتوں اور عبرتوں بھری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 107–110

نیک اعمال کرنیوالوں کی مہمانی تشریح : یعنی ” قیامت کے روز “ یہ ذوالقرنین کے فقرے ” قیامت کے وعدہ برحق “ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں یہی مضمون تینوں قصوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھا، یعنی توحید کفر و شرک، نیکی بدی، دنیا و آخرت، امن و فساد، نفرت و محبت، بغض و خلوص اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی جنت و دوزخ کا ذکر بڑے ہی احسن انداز سے کیا گیا ہے۔ کاش کہ آج کا مسلمان سچا اور پکا مسلمان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–110

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 109–110

ف 6 نہ کسی دوسرے کی عبادت کر کے اور نہ ریاکاری کر کے کیونکہ غیر اللہ کی عبادت اگر شرک اکبر ہے تو ریا کاری شرک صغر ہے حضرت شدہ اوبن اوس سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت سے یہ سنا ہے کہ نماز، روزہ اور صدقہ میں ریا کاری بھی شرک ہے۔ (بیہقی حاکم) چناچہ حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں ” ہم آنحضرت کے زمانے میں ریا کاری کو شرک اصغر شمار کیا کرتے تھے اور حضرت ابوہریرہ سے ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرایا گیا ہو تو میں اس سے اور اس کے کام سے بےتعلق ہوں مسلم احمد اس طرح ریاکاری کی مذمت اور اس کا شرک اصغر ہونا متعدد احادیث میں مروی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:109) مدادا۔ سیاہی۔ روشنائی۔ مد یمد مدبازووں کو پھیلانا، کسی کی عمر کو دراز کرنا حرف کو لمبا کر کے پڑھنا۔ دوات کو روشنائی ڈال کر تیز کرنا۔ اسی سے مدۃ ہے۔ لنفد۔ ل تاکید کے لئے ہے نفد ینفد (سمع) نفد۔ نفادمصدر۔ ضرور ختم ہوجائے گا۔ النفادختم ہوجانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان ھذا لرزقنا مالہ من نفاد۔ (38:54) یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لکلمت۔ کلماتجمع۔ کلمۃ واحد۔ معلومات الہٰیہ۔ عجائبات قدرت و حکمت ، باتیں۔ ان تنفد۔ کہ وہ ختم ہو۔ تمام ہو۔ ان تنفد۔ کہ وہ ختم ہو۔ تمام ہو۔ نفدمضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کا شعر ہے :۔ دفتر تمام گشت وبپایاں رسید عمر۔ ماہم چناں در…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 109–110

لغات القرآن آیت نمبر 109 تا 110 مداد روشنائی، لکھنے کی سیاہی۔ نفد ختم ہوگیا۔ یوحی وحی کی جاتی ہے۔ یرجوا امید رکھتے ہیں۔ لقآء ملاقات، ملنا۔ لاتشرک شرک نہ کرے۔ عبادۃ عبادت، بندگی۔ تشریح :- آیت نمبر 109 تا 110 کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے یہودیوں کے بہکاوے میں آ کر روح، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق پوچھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ قریش مکہ کے ہر سوال کا جواب عنایت فرما کر ثابت کردیا کہ اللہ کے علم و حکمت کی باتیں اس قدر زیادہ ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک محسوس مثال کے ذریعہ سے بتایا گیا ہے کہ اگر سارے سمندر بلکہ ان جیسے اور بہت سے سمندروں کا پانی سیاہی بن جائے اور پھر اس سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر شان نزول : اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب روح کی آیت نازل ہوئی کہ روح اللہ کا ایک حکم ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ روح کیا چیز ہے، بہت سے بھید اللہ کے بندوں کو معلوم نہیں۔ اس آیت کو سن کر یہود کے علماء نے کہا کہ ہمارا علم تھوڑا نہیں ہے۔ ہمارے پاس توریت ہے، جس میں دین ودنیا کا علم موجود ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، جس کے حاصل معنی وہی ہیں جو الہام الہیٰ سے حضرت خضر نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رو برو اس وقت بیان کئے جبکہ حضرت موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ایک چڑیا نے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 109–110

[39] اصل میں لفظ '' کلمات '' استعمال ہوا ہے جس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی وہ نشانیاں ہیں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 109–110

خدا کا علم : (ف 3) اس سورة میں اصحاب کہف ، موسیٰ (علیہ السلام) و خضر (علیہ السلام) ، اور ذوالقرنین کے قصوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے حکم ومعارف کے دریا بہائے ہیں بتایا گیا ہے کہ کیونکر حق وصداقت کے لئے ثبات ، دوام مقدرات میں سے ہے اور اللہ کا علم کس قدر وسیع و متنوع ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) وخضر (علیہ السلام) دونوں اس بحر بیکراں سے استفادہ کرتے ہیں ، فرمایا ہے کہ حکمرانی اور طاقت بخشی صرف میرے اختیار میں ہے ، میں جسے چاہوں سرفراز کروں اور جسے چاہوں چشم زدن میں فنا وذلت کے گھاٹ اتار دوں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وسعت علم اور عظمت شان کا ذکر فرمایا ہے ، یہ بتایا ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 109 اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے اگر میرے پروردگار کی باتیں لکھنے اور منضبط کرنے کے لئے سمندر کا پانی سیاہی ہو تو میرے پروردگار کی باتیں ختم ہونے سے پہلے وہ سمندر ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس سمندر کی مدد اور امداد دینے کے لئے اسی جیسا ایک سمندر لے آئیں ۔ یعنی وہ عبارات اور وہ کلمات جو صفات الہیہ پر دال ہوں۔ پس ایسے کلمات لکھنے کے لئے ایک سمندر کے پانی کو روشنائی بنا لیا جائے تو وہ سمندر اس سے پہلے کہ وہ کلمات پورے ہوں ختم ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے اوصاف سے تعبیر کرنے والے کلمات ختم نہ ہوں بلکہ اگرچہ ہم ایک سمندر اس کی مثل اور بھی لے آئیں تب بھی کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 109–110

ف 1۔ یعنی وہ کلمات و عبادات جو اوصاف و کمالات الہیہ پر دال ہوں اور ان سے ان کی تعبیر کی جاوے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا کی ہرچیز کو فنا ہے لیکن اللہ کے کلمات ابدی ہیں اور ان گنت بھی : 115۔ ذات الہی لامحدود ہے یعنی کوئی شخص خواہ نبی ورسول ہی کیوں نہ ہو اس کے احاطہ عقل میں ذات الہیہ نہیں آسکتی اور ظاہر ہے کہ جس کا احاطہ ممکن ہی نہیں اس کی باتوں کا احصاء ممکن ہے ؟ بلاشبہ اس کی باتیں شمار نہیں کی جاسکتیں اور پھر نہ ہونے والے کام آخر کوئی کرے گا کیوں ؟ اور اگر وہ کرے گا تو کیا وہ اس کا کرپائے گا ؟ اس لئے زیر نظر آیت میں اس مثال سے اس بات کو واضح کردیا کہ اس کے کلمات کو کوئی گن نہیں سکتا اگر ساری دنیا کے لوگ لکھنا شروع کردیں اور سارے درختوں کی قلمیں بنا دی جائیں اور سارے سمندر سیاہی ہوجائیں تو کلمات خداوندی ختم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 108–109

The purpose of the last sentence: لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا (and will not wish to move from there - 108) is to tell that this station of Jannah is a never-ending, ever-lasting blessing for them. The reason is that Allah Ta’ ala has promulgated His command to the effect that whoever has entered Jannah will never be expelled from there. But, there was the possibility of some doubt crossing someone's heart, for human beings naturally get fed up by living at one place. They wish to move out and go to other places. Now, if they were not allowed to go elsewhere out of Jannah, they might start…

Read the full tafseer →