Ayahs 18:1–6سورة کہف کی خصوصیات اور فضائل
مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد میں حضرت ابو الدردا ؓ سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے سورة کہف کی پہلی دس آیتیں حفظ کرلیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا، اور کتب مذکورہ میں حضرت ابوالدردا ؓ ہی سے ایک دوسری روایت میں یہی مضمون سورة کہف کی آخری دس آیتیں یاد کرنے کے متعلق منقول ہے اور مسند احمد میں بروایت حضرت سہل بن معاذ ؓ یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة کہف کی پہلی اور آخری آیتیں پڑھ لے تو اس کے لئے اس کے قدم سے سر تک ایک نور ہوجاتا ہے اور جو پوری سورت پڑھ لے جو اس کے لئے زمین سے آسمان تک نور ہوجاتا ہے۔
اور حافظ ضیاء مقدسی نے اپنی کتاب مختارہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سورة کہف پڑھ لے وہ آٹھ روز تک ہر فتنہ سے معصوم رہے گا، اور اگر دجال نکل آئے تو یہ اس کے فتنہ سے بھی معصوم رہے گا۔ { یہ سب روایات تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہیں }
روح المعانی میں دیلمی سے بروایت حضرت انس ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورة کہف پوری کی پوری ایک وقت میں نازل ہوئی، اور ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ آئے، جس سے اس کی عظمت شان ظاہر ہوتی ہے۔
شان نزول
امام ابن جریر طبری نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ (مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا اور قریش مکہ اس سے پریشان ہوئے تو) انہوں نے اپنے دو آدمی نضر بن حارث اور عقبہ ابن ابی معیط کو مدینہ طیبہ کے علماء یہود کے پاس بھیجا کہ وہ لوگ کتب سابقہ تورات و انجیل کے عالم ہیں وہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ علماء یہود نے ان کو بتلایا کہ تم لوگ ان سے تین سوالات کرو، اگر انہوں نے ان کا جواب صحیح دے دیاتو سمجھ لو کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، اور یہ نہ کرسکے تو یہ سمجھ لو کہ یہ بات بنانے والے ہیں رسول نہیں۔ ایک تو ان سے ان نوجوانوں کا حال دریافت کرو جو قدیم زمانے میں اپنے شہر سے نکل گئے تھے ان کا کیا واقعہ ہے، کیونکہ یہ واقعہ عجیبہ ہے، دوسرے ان سے اس شخص کا حال پوچھو جس نے دنیا کی مشرق و مغرب اور تمام زمین کا سفر کیا اس کا کیا واقعہ ہے، تیسرے ان سے روح کے متعلق سوال کرو کہ وہ کیا چیز ہے ؟
یہ دونوں قریشی مکہ مکرمہ واپس آئے اور اپنی برادری کے لوگوں سے کہا کہ ہم ایک فیصلہ کن صورت حال لے کر آئے ہیں، علماء یہود کا پورا قصہ سنا دیا، پھر یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ سوالات لے کر حاضر ہوئے، آپ نے سن کر فرمایا کہ میں اس کا جواب کل دوں گا، مگر آپ اس وقت انشاء اللہ کہنا بھول گئے یہ لوگ لوٹ گئے، اور رسول اللہ ﷺ وحی الہی کے انتطار میں رہے کہ ان سوالات کا جواب وحی سے بتلا دیا جائے گا، مگر وعدے کے مطابق اگلے دن تک کوئی وحی نہ آئی، بلکہ پندرہ دن اسی حال پر گذر گئے کہ نہ جبرائیل امین آئے نہ کوئی وحی نازل ہوئی، قریش مکہ نے مذاق اڑانا شروع کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو اس سے سخت رنج و غم پہونچا۔
پندرہ دن کے بعد جبرائیل امین سورة کہف لے کر نازل ہوئے (جس میں تاخیر وحی کا سبب بھی بیان کردیا گیا ہے کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے کا وعدہ کیا جائے تو انشاء اللہ کہنا چاہیے، اس واقعہ میں چونکہ ایسا نہ ہوا اس پر تنبیہ کرنے کے لئے وحی میں تاخیر ہوئی، اس سورة میں اس معاملہ کے متعلق یہ آیتیں آگے آئیں گی (آیت) (وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ) اور اس سورة میں نوجوانوں کا واقعہ بھی پورا بتلا دیا گیا، جن کو اصحاب کہف کہا جاتا ہے، اور مشرق و مغرب کے سفر کرنے والے ذوالقرنین کے واقعہ کا بھی مفصل بیان آ گیا، اور روح کے سوال کا جواب بھی، (قرطبی و مظہری بحوالہ ابن جریر) (مگر روح کے سوال کا جواب اجمال کے ساتھ دینا مقتضائے حکمت تھا، اس کو سورة بنی اسرائیل کے آخر میں علیحدہ کر کے بیان کردیا گیا، اور اسی سبب سے سورة کہف کو سورة بنی اسرائیل کے بعد رکھا گیا ہے، کذا اذکرہ السیوطی)۔
خلاصہ تفسیر
تمام خوبیاں اس اللہ کے لئے ثابت ہیں جس نے اپنے (خاص) بندے (محمد ﷺ پر یہ کتاب نازل فرمائی، اور اس (کتاب) میں (کسی قسم کی) ذرا بھی کجی نہیں رکھی (نہ لفظی کہ فصاحت و بلاغت کے خلاف ہو، اور نہ معنوی کہ اس کا کوئی حکم حکمت کے خلاف ہو بلکہ اس کو) بالکل استقامت کے سانھ موصوف بنایا (اور نازل اس لئے کیا کہ) تاکہ وہ (کتاب کافروں کو عموما) ایک سخت عذاب سے جو من جانب اللہ (ان کو آخرت میں ہوگا) ڈرائے اور اہل ایمان کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دے کہ ان کو (آخرت میں) اچھا اجر ملے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ (کفار میں سے بالخصوص) ان لوگوں کو (عذاب سے) ڈرائے جو یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے (اور اولاد کا عقیدہ رکھنے والے کافروں کا عام کافروں سے الگ کر کے اس لئے بیان کیا گیا کہ اس باطل عقیدہ میں عرب کے عام لوگ مشرکین، یہود، نصاری سب ہی مبتلا تھے) نہ تو اس کی کوئی دلیل ان کے پاس ہے، اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی، بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، (اور) وہ لوگ بالکل (ہی) جھوٹ بکتے ہیں (جو عقلا بھی ناممکن ہے، کوئی ادنی عقل والا بھی اس کا قائل نہیں ہو سکتا، اور آپ جو ان لوگوں کے کفر و انکار پر اتنا غم کرتے ہیں کہ) سو شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ اس مضمون (قرآنی) پر ایمان نہ لائے تو غم سے اپنی جان دیدیں گے (یعنی اتنا غم نہ کیجئے کہ ہلاکت کے قریب کر دے، وجہ یہ ہے کہ دنیا عالم امتحان ہے، اس میں ایمان و کفر اور خیر وشر دونوں کا مجموعہ ہی رہے گا، سبھی مومن ہوجائیں گے ایسا نہ ہوگا، اسی امتحان کے لئے) ہم نے زمین پر کئی چیزوں کو اس (زمین) کے لئے باعث رونق بنایا، تاکہ ہم (اس کے ذریعہ) لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں سے زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے (یہ امتحان کرنا ہے کہ کون اس دنیا کی زنیت اور رونق پر مفتون ہو کر اللہ سے آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور کون نہیں، غرض یہ کہ یہ عالم ابتلا ہے، اور ان کے کفر کا نتیجہ دنیا ہی میں ظاہر ہوجانے کا انتظار نہ کیجئے کیونکہ وہ ہمارا کام ہے، ایک مقررہ وقت پر ہوگا، چناچہ ایک روز وہ آئے گا کہ) ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان کردیں گے (نہ اس پر کوئی بسنے والا رہے گا نہ کوئی درخت اور پہاڑ اور نہ کوئی مکان و تعمیر، خلاصہ یہ ہے کہ آپ اپنا کام تبلیغ کا کرتے رہئے، منکرین کے انجام بد کا اتنا غم نہ کیجئے)۔
معارف و مسائل
(آیت) وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاقَـيِّمًا لفظ عوج کے معنی کسی قسم کی کجی اور ایک طرف جھکاؤ کے ہیں قرآن کریم اپنے لفظی اور معنوی کلام میں اس سے پاک ہے، نہ فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے کسی جگہ ذرہ برابر کمی یا کجی ہو سکتی ہے نہ علم و حکمت کے لحاظ سے، جو مفہوم لفظ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا سے ایک منفی صورت میں بتلایا گیا ہے، پھر تاکید کے لئے اسی مضمون کو مثبت طور پر لفظ قیما سے واضح کردیا ہے، کیونکہ قیما کے معنے ہیں مستقیما اور مستقیم وہی ہے جس میں کوئی ادنی کجی اور میلان کسی جانب نہ ہو، اور یہاں قیم کے ایک دوسرے معنی بھی ہو سکتے ہیں، یعنی نگران اور محافظ، اس معنی کے لحاظ سے اس لفظ کا مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن کریم جیسا اپنی ذات میں کامل مکمل ہر قسم کی کجی اور افراط وتفریط سے پاک ہے، اسی طرح یہ دوسروں کو بھی استقامت پر رکھنے والا اور بندوں کی تمام مصالح کی حفاظت کرنے والا ہے، اب خلاصہ ان دونوں کا یہ ہوجائے گا کہ قرآن کریم خود بھی کامل و مکمل ہے اور مخلوق خدا کو بھی کامل و مکمل بنانے والا ہے (مظہری)
Ayahs 18:7–8اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا، یعنی زمین پر جو مخلوقات حیوانات، نباتات، جمادات اور زمین کے اندر مختلف چیزوں کی کانیں موجود ہیں وہ سب زمین کے لئے زینت اور رونق بنائی گئی ہیں، اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ مخلوقات ارضیہ میں تو سانپ، بچھو، درندے جانور، اور بہت سی مضر اور مہلک چیزیں بھی ہیں ان کو زمین کی زینت اور رونق کیسے کہا جاسکتا ہے، کیونکہ جتنی چیزیں دنیا میں مضر اور مہلک اور خراب سمجھی جاتی ہیں وہ ایک اعتبار سے بیشک خراب ہیں مگر مجموعہ عالم کے لحاظ سے کوئی چیز خراب نہیں، کیونکہ ہر بری سے بری چیز میں دوسری حیثیات سے بہت سے فوائد بھی اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائے ہیں، کیا زہریلے جانوروں اور درندون سے ہزاروں انسانی ضروریات معالجات وغیرہ میں پوری نہیں کی جاتیں، اس لئے جو چیزیں کسی ایک حیثیت سے بری بھی ہیں، لیکن مجموعہ عالم کے کارخانے کے لحاظ سے وہ بھی بری نہیں، کسی نے خوب کہا ہے
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں، کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
Ayahs 18:9–10تشریح اللغات
کہف، پہاڑی غار جو وسیع ہو اس کو کہف کہتے ہیں، جو وسیع نہ ہو اس کو غار کہا جاتا ہے، رقیم، لفظی اعتبار سے بمعنے المرقوم ہے، یعنی لکھی ہوئی چیز اس مقام پر اس سے کیا مراد ہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، ضحاک اور سدی اور ابن جبیر ؓ بروایت ابن عباس ؓ اس کے معنی ایک لکھی ہوئی تختی کے قرار دیتے ہیں، جس پر بادشاہ وقت نے اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے غار کے دروازہ پر لگا دیا تھا، اسی وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے، قتادہ، عطیہ، عوفی، مجاہد کا قول یہ ہے کہ رقیم اس پہاڑ کے نیچے کی وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا، بعض نے خود اس پہاڑ کو رقیم کہا ہے، حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ رقیم کسی لکھی ہوئی تختی کا نام ہے یا کسی بستی کا، کعب احبار، وہب بن منبہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ رقیم، ایلہ یعنی عقبہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے جو بلاد روم میں واقع ہے۔
فتیۃ، فتی کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نوجوان۔
(آیت) فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ کے لفظی معنی کانوں کو بند کردینے کے ہیں، غفلت کی نیند کو ان الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ نیند کے وقت سب سے پہلے آنکھ بند ہوتی ہے، مگر کان اپنا کام کرتے رہتے ہیں، آواز سنائی دیتی ہے، جب نیند مکمل اور غالب ہوجاتی ہے تو کان بھی اپنا کام چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر بیداری میں سب سے پہلے کان اپنا کام شروع کرتے ہیں کہ آواز سے سونے والا چونکتا ہے پھر بیدار ہوتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور پہاڑ والے (یہ دونوں ایک ہی جماعت کے لقب ہیں) ہماری عجائبات (قدرت) میں سے کپھ تعجب کی چیز تھے (جیسا کہ یہود نے کہا تھا کہ ان کا واقعہ عجیب ہے، یا خود ہی سوال کرنے والے کفار قریش نے اس کو عجیب سمجھ کو سوال کیا تھا، اس میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب بنا کر دوسروں کو سنانا مقصود ہے کی یہ واقعہ بھی اگرچہ عجیب ضرور ہے مگر اللہ تعالیٰ کی دوسری عجائبات قدرت کے مقابلہ میں ایسا قابل تعجب نہیں جیسا ان لوگوں نے سمجھا ہے، کیونکہ زمین و آسمان اور چاند و سورج اور تمام کائنات زمین و آسمان کو عدم سے وجود میں لانا اصل عجائب نہیں، اس تمہید کے بعد اصحاب کہف کا قصہ اس طرح بیان فرمایا اور) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ان نوجوانوں کے (ایک بےدین بادشاہ کی گرفت سے بھاگ کر) اس غار میں (جس کا قصہ آگے آتا ہے) جا کر پناہ لی پھر (اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا مانگی) کہا کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اپنے پاس سے رحمت کا سامان عطا فرمائیے اور ہمارے (اس) کام میں درستی کا سامان مہیا کر دیجئے (غالبا رحمت سے مراد حصول مقصود ہے اور درستی کے سامان سے مراد وہ اسباب و مقدمات ہیں جو حصول مقصد کے لئے عادۃ ضروری ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا، اور ان کی حفاظت اور تمام پریشانیوں سے نجات دینے کی صورت اس طرح بیان فرمائی کہ) سو ہم نے اس غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک نیند کا پردہ ڈال دیا پھر ہم نے ان کو (نیند سے) اٹھایا تاکہ ہم (ظاہری طور پر بھی) معلوم کرلیں کہ (غار میں رہنے کی مدت میں بحث و اختلاف کرنے والوں میں سے) کونسا گروہ ان کے رہنے کی مدت سے زیادہ واقف تھا (نیند سے بیدار ہونے کے بعد ان میں ایک گروہ کا قول تو یہ تھا کہ ہم پورا دن یا کچھ حصہ ایک دن کا سوئے ہیں، دوسرے گروہ نے کہا کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ تم کتنے دن سوتے رہے، آیت میں اشارہ اسی طرف ہے کہ یہ دوسرا گروہ ہی زیادہ حقیقت شناس تھا، جس نے مدت کی تعیین کو اللہ کے حوالہ کیا، کیونکہ اس کی کوئی دلیل نہ تھی)
معارف و مسائل
قصہ اصحاب کہف و رقیم
اس قصہ میں چند مباحث ہیں، اول یہ کہ اصحاب کہف و اصحاب رقیم ایک ہی جماعت کے دو نام ہیں، یا یہ الگ الگ دو جماعتیں ہیں، اگرچہ کسی صحیح حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں، مگر امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح میں اصحاب الکہف اور اصحاب الرقیم دو عنوان الگ الگ دئیے، پھر اصحاب الرقیم کے تحت وہ مشہور قصہ تین شخصوں کے غار میں بند ہوجانے پھر دعاؤں کے ذریعہ راستہ کھل جانے کا ذکر کیا ہے، جو تمام کتب حدیث میں مفصل موجود ہے، امام بخاری کی اس صنیع سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک اصحاب کہف ایک جماعت ہے، اور اصحاب رقیم ان تین شخصوں کو کہا گیا ہے جو کسی زمانے میں چھپے تھے، پھر پہاڑ سے ایک بڑا پتھر اس غار کے دہانے پر آ گرا جس سے غار بالکل بند ہوگیا، ان کے نکلنے کا راستہ نہیں رہا، ان تینوں سے اپنے اپنے خاص نیک اعمال کا واسطہ کر کے اللہ سے دعا کی کہ یہ کام اگر ہم نے خالص آپ کی رضا کے لئے کیا تھا تو اپنے فضل سے ہمارا راستہ کھول دے، پہلے شخص کی دعا سے پتھر کچھ سرک گیا، روشنی آنے لگی، دوسرے کی دعا سے اور زیادہ سرکا، پھر تیسرے کی دعا سے راستہ بالکل کھل گیا۔
لیکن حافظ ابن حجر نے شرح بخاری میں یہ واضح کیا کہ ازروئے روایت حدیث اس کی کوئی صریح دلیل نہیں ہے کہ اصحاب رقیم مذکورہ تین شخصوں کا نام ہے، بات صرف اتنی ہے کہ واقعہ غار کے ایک راوی حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت میں بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رقیم کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ غار میں بند رہ جانے والے تین آدمیوں کا واقعہ سنا رہے تھے، یہ اضافہ فتح الباری میں بزار اور طبرانی کی روایت سے نقل کیا ہے، مگر اول تو اس حدیث کے عام راویوں کی روایات جو صحاح ستہ اور حدیث کی دوسری کتابوں میں مفصل موجود ہیں، ان میں کسی نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کا یہ جملہ نقل نہیں کیا، خود بخاری کی روایت بھی اس جملے سے خالی ہے، پھر اس جملے میں بھی اس کی تصریح نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غار میں بند ہونے والے ان تین شخصوں کو اصحاب الرقیم فرمایا تھا، بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ آپ رقیم کا ذکر فرما رہے تھے، اس ضمن میں ان تین شخصوں کا ذکر فرمایا، لفظ رقیم کی مراد کے متعلق صحابہ وتابعین اور عام مفسرین میں جو اختلاف اقوال اوپر نقل کیا گیا ہے وہ خود اس کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رقیم کی کوئی مراد متعین کرنے کے بارے میں کوئی روایت حدیث نہیں تھی، ورنہ کیسے ممکن تھا کہ آنحضرت ﷺ ایک لفظ کی مراد خود متعین فرما دیں، پھر صحابہ وتابعین اور دوسرے مفسرین اس کے خلاف کوئی قول اختیار کریں، اسی لئے حافظ ابن حجر شارح بخاری نے اصحاب کہف و رقیم کے دو الگ الگ جماعتیں ہونے سے انکار فرمایا، اور صحیح یہ قرار دیا کہ یہ دونوں ایک ہی جماعت کے نام ہیں، غار میں بند ہوجانے والے تین شخصوں کا ذکر رقیم کے ذکر کے ساتھ آ گیا ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہی تین شخص اصحاب الرقیم تھے۔
حافظ ابن حجر نے اس جگہ یہ بھی واضح کردیا کہ قرآن نے جو قصہ اصحاب کہف کا بیان کیا ہے اس کا سیاق خود یہ بتلا رہا ہے کہ اصحاب کہف و رقیم ایک ہی جماعت ہے، یہی وجہ ہے کہ جمہور مفسرین اور محدثین ان دونوں کے ایک ہی ہونے پر متفق ہیں۔
دوسرا مسئلہ اس جگہ خود اس قصے کی تفصیلات کا ہے جس کے دو حصے ہیں ایک وہ جو اس قصہ کی روح اور اصل مقصود ہے، جس سے یہود کے سوال کا جواب بھی ملتا ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایات و نصائح بھی، دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق اس قصہ کی صرف تاریخی اور جغرافیائی حیثیت سے ہے، بیان مقصود میں اس کا کوئی خاص دخل نہیں، مثلا یہ قصہ کس زمانے میں اور کس شہر اور بستی میں پیش آیا، جس کافر بادشاہ سے بھاگ کر ان لوگوں نے غار میں پناہ لی تھی وہ کون تھا، اس کے کیا عقائد و خیالات تھے، اور اس نے ان لوگون کے ساتھ کیا معاملہ کیا جس سے یہ بھاگنے اور غار میں چھپنے پر مجبور ہوگئے، پھر یہ کہ ان لوگوں کی تعداد کیا تھی، اور زمانہ دراز تک سونے رہنے کا کل زمانہ کتنا تھا، اور پھر یہ لوگ اب تک زندہ ہیں یا مر گئے۔
قرآن حکیم نے اپنے حکیمانہ اصول اور اسلوب خاص کے تحت سارے قرآن میں ایک قصہ یوسف ؑ کے سوا کسی قصے کو پوری تفصیل اور ترتیب سے بیان نہیں کیا، جو عام تاریخی کتابوں کا طریقہ ہے، بلکہ ہر قصے کے صرف وہ اجزا موقع بموقع بیان فرمائے ہیں جن سے انسانی ہدایات اور تعلیمات کا تعلق تھا۔ (قصہ یوسف ؑ کو اس اسلوب سے مستثنی کرنے کی وجہ سورة یوسف کی تفسیر میں گزر چکی ہے)۔
قصہ اصحاب کہف میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ قرآن میں اس کے صرف وہ اجزاء بیان کئے گئے جو مقصود اصلی سے متعلق تھے، باقی اجزا جو خالص تاریخی یا جغرافیائی تھے ان کا کوئی ذکر نہیں فرمایا، اصحاب کہف کی تعداد اور سونے کے زمانے کی مدت کے سوالات کا ذکر تو فرمایا اور جواب کی طرف اشارہ بھی فرمایا مگر ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کردی کہ ایسے مسائل میں زیادہ غور و فکر اور بحث و تکرار مناسب نہیں ان کو حوالہ بخدا تعالیٰ کرنا چاہئے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن کا فرض منصبی معانی قرآن کو بیان کرنا ہے آپ نے بھی کسی حدیث میں ان اجزاء قصہ کو بیان نہیں فرمایا، اور اکابر صحابہ وتابعین نے اسی قرآنی اسلوب کی بنا پر ایسے معاملات میں ضابطہ کار یہ قرار دیا کہ
اَبْھِمُوْا مَآ اَبْھَمَہ اللّٰہ (اتقان، سیوطی) " یعنی جس غیر ضروری چیز کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا تم بھی اسے مبہم رہنے دو (کہ اس میں بحث و تحقیق کچھ مفید نہیں ")
اکابر صحابہ وتابعین کے اس طرز عمل کا مقتضی یہ تھا کہ اس تفسیر میں بھی ان اجزاء قصہ کو نظر انداز کردیا جائے جن کو قرآن اور حدیث نے نظر انداز کیا ہے، لیکن یہ زمانہ وہ ہے جس میں تاریخی اور جغرافیائی انکشافات ہی کو سب سے بڑا کمال سمجھ لیا گیا ہے، اور متاخرین علمائے تفسیر نے اسی لیے کم و بیش ان اجزا کو بھی بیان فرما دیا ہے، اس لئے زیر نظر تفسیر میں قصے کے وہ اجزا جو خود قرآن میں مذکور ہیں ان کا بیان تو آیات قرآن کی تفسیر کے تحت آجائے گا، باقی تاریخی اور جغرافیائی اجزائے قصہ کو یہاں بقدر ضرورت بیان کیا جاتا ہے، اور بیان کرنے کے بعد بھی آخری نتیجہ وہی رہے گا کہ ان معاملات میں کوئی قطعی فیصلہ ناممکن ہے، کیونکہ اسلامی اور پھر مسیحی تاریخوں میں اس کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ خود اس قدر مختلف اور متضاد ہے کہ ایک مصنف اپنی تحقیق و رائے کے پیش نظر مقدمات و قرائن کی مدد سے کسی ایک چیز کو متعین کرتا ہے تو دوسرا اسی طرح دوسری صورت کو ترجیح دیتا ہے۔
دین کی حفاظت کے لئے غاروں میں پناہ لینے والوں کے واقعات مختلف شہروں اور خطوں میں متعدد ہوئے ہیں
مورخین کے اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دین مسیح ؑ میں چونکہ رہبانیت کو دین کا سب سے بڑا کام سمجھ لیا گیا تھا تو ہر خطے اور ہر ملک میں ایسے واقعات متعدد پیش آئے ہیں کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے غاروں میں پناہ گزین ہوگئے وہیں عمریں گذار دیں، اب جہاں جہاں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے اس پر مورخ کو اصحاب کہف کا گمان ہوجانا کچھ بعید نہیں تھا۔
Ayahs 18:11–12اصحاب کہف کی جگہ اور ان کا زمانہ
امام تفسیر قرطبی اندلسی نے اپنی تفسیر میں اس جگہ چند واقعات کچھ سماعی کچھ چشم دید نقل کئے ہیں، جو مختلف شہروں سے متعلق ہیں، قرطبی نے سب سے پہلے تو ضحاک کی روایت سے یہ نقل کیا ہے کہ رقیم روم کے ایک شہر کا نام ہے، جس کے ایک غار میں اکیس آدمی لیٹے ہوئے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سو رہے ہیں، پھر امام تفسیر ابن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ شام میں ایک غار ہے جس میں کچھ مردہ لاشیں ہیں، وہاں کے مجاورین یہ کہتے ہیں کہ یہی لوگ اصحاب کہف ہیں، اور اس غار کے پاس ایک مسجد اور مکان کی تعمیر ہے جس کو رقیم کہا جاتا ہے، اور ان مردہ لاشوں کے ساتھ ایک مردہ کتے کا ڈھانچہ بھی موجود ہے۔
اور دوسرا واقعہ اندلس غرناطہ کا نقل کیا ہے، ابن عطیہ کہتے ہیں کی غرناطہ میں ایک لوشہ نامی گاؤں کے قریب ایک غار ہے جس میں کچھ مردہ لاشیں ہیں اور ان کے ساتھ ایک مردہ کتے کا ڈھانچہ بھی موجود ہے، ان میں سے اکثر لاشوں پر گوشت باقی نہیں رہا، صرف ہڈیوں کے ڈھانچے ہیں، اور بعض پر اب تک گوشت پوست بھی موجود ہے، صدیاں گزر گیئں، مگر صحیح سند سے ان کا کچھ حال معلوم نہیں، کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہی اصحاب کہف ہیں، ابن عطیہ کہتے ہیں کہ یہ خبر سن کر میں خود سنہ 504 ھ میں وہاں پہنچا تو واقعی یہ لاشیں اسی حالت پر پائیں اور ان کے قریب ہی ایک مسجد بھی ہے، اور ایک رومی زمانے کی تعمیر بھی ہے جس کو رقیم کہا جاتا ہے، ایسا معلوم یوتا ہے کہ قدیم زمانے میں کوئی عالیشان محل ہوگا اس وقت تک بھی اس کی بعض دیواریں موجود ہیں، اور یہ ایک غیر آباد جنگل میں ہے، اور فرمایا کہ غرناطہ کے بالائی حصہ میں ایک قدیم شہر کے آثار و نشانات پائے جاتے ہیں، جو رومیوں کے طرز کے ہیں، اس شہر کا نام دقیوس بتلایا جاتا ہے، ہم نے اس کے کھنڈروں میں بہت سے عجائبات اور قبریں دیکھی ہیں، قرطبی جو اندلس ہی کے رہنے والے ہیں ان تمام واقعات کو نقل کرنے کے بعد بھی کسی کو متعین طور پر اصحاب کہف کہنے سے گریز کرتے ہیں، اور خود ابن عطیہ نے بھی اپنے مشاہدے کے باوجود یہ جزم نہیں کیا کہ یہی لوگ اصحاب کہف ہیں، محض عام شہرت نقل کی ہے، مگر دوسرے اندلسی مفسر ابو حیان جو ساتویں صدی سنہ 654 ھ میں خاص غرناطہ میں پیدا ہوئے وہیں رہے، بسے ہیں وہ بھی اپنی تفسیر بحر محیط میں غرناطہ کے اس غار کا اسی طرح ذکر کرتے ہیں جس طرح قرطبی نے کیا ہے، اور ابن عطیہ کے اپنے مشاہدہ کا ذکر لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ہم جب اندلس میں تھے، اور یہ کہتے تھے کہ اگرچہ وہ لاشیں اب تک وہاں موجود ہیں، اور زیارت کرنے والے ان کو شمار بھی کرتے ہیں مگر ہمیشہ ان کی تعداد بتانے میں غلطی کرتے ہیں، پھر فرمایا کہ ابن عطیہ نے جس شہر دقیوس کا ذکر کیا ہے جو غرناطہ کی جانب قبلہ میں واقع ہے تو اس شہر سے میں خود بیشمار مرتبہ گزرا ہوں، اور اس میں بڑے بڑے غیر معمولی پتھر دیکھے ہیں، اس کے بعد کہتے ہیں ویترجح کون اھل الکھف بالاندلس لکثرۃ دین النصاری بھا حتی ھی بلاد مملکتھم العظمی (تفسیر بحر محیط ص 102 ج 6) یعنی اصحاب کہف کے اندلس میں ہونے کی ترجیح کے لئے یہ بھی قرینہ ہے کہ وہاں نصرانیت کا غلبہ ہے، یہاں تک کہ یہی خطہ ان کی سب سے بڑی مذہبی مملکت ہے اس میں یہ بات واضح ہے کہ ابو حیان کے نزدیک اصحاب کہف کا اندلس میں ہونا راجح ہے۔ { تفسیر قرطبی، 356، 357 ج 9}
امام تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رقیم ایک وادی کا نام ہے جو فلسطین سے نیچے ایلہ (عقبہ) کے قریب ہے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور چند دوسرے محدثین نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رقیم کیا ہے، لیکن میں نے کعب احبار سے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ رقیم اس بستی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف غار میں جانے سے پہلے مقیم تھے (روح المعانی)
ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ رومیوں کے مقابلے میں ایک جہاد کیا جس کو غزوۃ المضیق کہتے ہیں، اس موقع پر ہمارا گزر اس غار پر ہوا جس میں اصحاب کہف ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے حضرت معاویہ ؓ نے ارادہ کیا کہ غار کے اندر جائیں اور اصحاب کہف کی لاشوں کا مشاہدہ کریں، مگر ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا مشاہدہ کرنے سے اس ہستی کو بھی منع کردیا ہے جو آپ سے بہتر تھی، یعنی نبی کریم ﷺ ، کیونکہ حق تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا (آیت) لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا (یعنی اگر آپ ان کو دیکھیں تو آپ ان سے بھاگیں گے اور رعب وہیبت سے مغلوب ہوجائیں گے) مگر حضرت معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ کی اس بات کو شاید اس لئے قبول نہیں کیا کہ قرآن کریم نے ان کی جو حالت بیان کی ہے یہ وہ ہے جو ان کی زندگی کے وقت تھی یہ کیا ضروری ہے کی اب بھی وہی حالت ہو، اس لئے کچھ آدمیوں کو دیکھنے کے لئے بھیجا، وہ غار پر پہونچے، مگر جب غار میں داخل ہونا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سخت ہوا بھیج دی جس نے ان سب کو غار سے نکال دیا (روح المعانی، صفحہ 227 ج 15)
مذکور الصدر روایات و حکایات سے اتنی بات ثابت ہوئی کہ حضرات مفسرین میں سے جن حضرات نے اصحاب کہف کے غار کی جگہ کا پتہ دیا ہے ان کے اقوال تین مقامات کا پتہ دیتے ہیں، ایک خلیج فارس کے ساحل عقبہ (ایلہ) کے قریب، حضرت ابن عباس ؓ کی بیشتر روایات اسی کی تائید میں ہیں، جیسا کہ مذکورہ روایات میں گزر چکا ہے۔
ابن عطیہ کے مشاہدے اور ابوحیان کی تائید سے یہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ یہ غار غرناطہ اندلس میں ہے، ان دونوں جگہوں میں سے عقبہ میں ایک شہر یا کسی خاص عمارت کا نام رقیم ہونا بھی بتلایا گیا ہے، اسی طرح غرناطہ میں غار کے متصل عظیم الشان شکستہ عمارت کا نام رقیم ہونا بھی بتلایا گیا ہے، اور دونوں قسم کی روایات میں کسی نے بھی اس کا مدار مقامی شہرت اور سماعی روایات پر ہے اور تقریبا تمام تفاسیر قرطبی، ابوحیان، ابن جریر وغیرہ کی روایات میں اصحاب کہف جس شہر میں رہتے تھے اس کا قدیم نام افسوس اور اسلامی نام طرسوس بتلایا گیا ہے، اس شہر کا ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل پر ہونا اہل تاریخ کے نزدیک مسلم ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ غار بھی ایشائے کوچک میں ہے، اس لئے کسی ایک کو قطعی طور پر صحیح اور باقی کو غلط کہنے کی دلیل نہیں، احتمال تینوں جگہ کا ہوسکتا ہے، بلکہ اس احتمال کی بھی کوئی نفی نہیں کرسکتا کہ ان غاروں کے واقعات صحیح ہونے کے باوجود بھی یہ ان اصحاب کہف کے غار نہ ہوں جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے، وہ اور کسی جگہ ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ رقیم اس جگہ کسی شہر یا عمارت ہی کا نام ہو بلکہ اس احتمال کی بھی نفی نہیں کی جاسکتی کہ رقیم سے مراد وہ کتبہ ہو جس پر اصحاب کہف کے نام کنندہ کر کے غار کے دہانے پر کسی بادشاہ نے لگا دیا تھا۔
جدید مورخین کی تحقیق
عصر حاضر کے بعض مورخین اور علماء نے مسیحی تاریخوں اور اہل یورپ کی تواریخ کی مدد سے غار اصحاب کہف کی جگہ اور زمانہ متعین کرنے کے لیے کافی بحث و تحقیق کی ہے۔
ابو الکلام صاحب آزاد نے ایلہ (عقبہ) کے قریب موجود شہر ٹپرا جس کو عرب مورخین بطرا لکھتے ہیں، اس کو قدیم شہر رقیم قرار دیا ہے، اور موجودہ تاریخوں سے اس کے قریب پہاڑ میں ایک غار کے آثار بھی بتلائے ہیں، جس کے ساتھ کسی مسجد کی تعمیر کے آثار بھی بتلائے جاتے ہیں، اس کی شہادت میں لکھا ہے کہ بائبل کی کتاب یشوع (باب 18، آیت 27) میں جس جگہ کو رقیم یا راقم کہا ہے یہ وہی مقام ہے جس کو اب ٹپرا کہا جاتا ہے، مگر اس پر یہ شبہ کیا گیا ہے کہ کتاب یشوع میں جو رقم یا راقم کا ذکر بنی بن یمین کی میراث کے سلسلے میں آیا ہے، اور یہ علاقہ دریائے اردن کے اور بحر لوط کے مغرب میں واقع تھا جس میں شہر ٹپرا کے ہونے کا کوئی امکان نہیں، اس لئے اس زمانے کے محققین آثار قدیمہ نے اس بات کے ماننے میں سخت تامل کیا ہے کہ ٹپرا اور راقم ایک چیز ہیں۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، طبع سن 1946 جلد 17، ص 1658)
اور عام مفسرین نے اصحاب کہف کی جگہ شہر افسوس کو قرار دیا ہے جو ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل پر رومیوں کا سب سے بڑا شہر تھا، جس کے کھنڈرات بھی موجودہ ٹرکی کے شہر ازمیر (سمرنا) سے 20، 25 میل بجانب جنوب پائے جاتے ہیں۔
حضرت مولانا سید سیلمان صاحب ندوی نے بھی ارض القرآن میں شہر ٹپرا کا ذکر کرتے ہوئے بین القوسین (رقیم) لکھا ہے، مگر اس کی کوئی شہادت پیش نہیں کی کہ شہر ٹپرا کا پرانا نام رقیم تھا، مولانا حفظ الرحمن سہواردی نے اپنی کتاب قصص القرآن میں اسی کو اختیار فرمایا اور اس کی شہادت میں تورات سفر عدد اور صحیفہ سعیا کے حوالہ سے شہر ٹپرا کا نام راقمہ بیان کیا ہے (ماخوذ از دائر المعارف عرب)
مملکت اردن میں عمان کے قریب ایک سنسان جنگل میں ایک غار کا پتہ لگا تو حکومت کے محکمہ اثار قدیمہ نے 1963 میں اس جگہ کھدائی کا کام جاری کیا تو اس میں مٹی اور پتھروں کے ہٹانے کے بعد ہڈیوں اور پتھروں سے بھرئے ہوئے چھ تابوت اور دو قبریں برآمد ہوئیں، غار کی جنوبی سمت میں پتھروں پر کندہ کچھ نقوش بھی دریافت ہوئے جو بزنطی زبان میں ہیں، یہاں کے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہی جگہ رقیم ہے، جس کے پاس اصحاب کہف کا یہ غار ہے۔ واللہ اعلم
حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے بیان القرآن میں تفسیر حقانی کے حوالہ سے اصحاب کہف کی جگہ اور مقام کی تاریخی تحقیق یہ نقل کی ہے کہ ظالم بادشاہ جس کے خوف سے بھاگ کر اصحاب کہف نے غار میں پناہ لی تھی، اس کا زمانہ 250 تھا، پھر تین سو سال تک یہ لوگ سوئے رہے، جو مجموعہ 550 ہوگیا، اور رسول اللہ ﷺ کی ولادت 570 میں ہوئی، اس لئے حضور ﷺ کی ولادت سے بیس سال پہلے یہ واقعہ ان کے بیدار ہونے کا پیش آیا، اور تفسیر حقانی میں بھی ان کا مقام شہر افسوس یا طرسوس کو قرار دیا ہے، جو ایشیائے کوچک میں تھا، اب اس کے کھنڈرات موجود ہیں، واللہ اعلم بحقیقۃ الحال
یہ تمام تاریخی اور جغرافیائی تفصیلات ہیں جو قدمائے مفسرین کی روایات سے پھر جدید مورخین کے بیانات سے پیش کی گئی ہیں احقر نے پہلے ہی یہ عرض کردیا تھا کہ نہ قرآن کسی آیت نہ اس مقصد کا کوئی ضروری حصہ ان سے متعلق ہے جس کے لئے قرآن کریم نے یہ قصد بیان کیا ہے، پھر روایات و حکایات اور ان کے آثار و قرائن اس درجہ مختلف ہیں کی ساری تحقیق و کاوش کے بعد بھی اس کا کوئی قطعی فیصلہ ممکن نہیں، صرف ترجیحات اور رجحانات ہی ہو سکتے ہیں، لیکن آج کل تعلیم یافتہ طبقہ میں تاریخی تحقیقات کا ذوق بہت بڑھا ہوا ہے، اس کی تسکین کے لئے یہ تفصیلات نقل کردی گئی ہیں، جن سے تقریبی اور تخمینی طور پر اتنا معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح ؑ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے قریب پیش آیا، اور بیشتر روایات اس کے شہر افسوس یا طرسوس کے قریب ہونے پر متفق نظر آتی ہیں، واللہ اعلم، اور حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تحقیقات کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے کہ مقام متعین کرنے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے کی جاسکتی ہے، امام تفسیر و حدیث ابن کثیر نے اس کے متعلق یہی فرمایا ہے کہ
قد اخبرنا اللہ تعالیٰ بذلک واراد منا فھمہ وتدبرہ ولم یخبرنا بمکان ھذا الکہف فی ای البلاد من الارض اذ لا فائدۃ لنا فیہ ولا قصد شرعی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصحاب کہف کے ان حالات کی خبر دی جن کا ذکر قرآن میں ہے تاکہ ہم ان کو سمجھیں اور ان میں تدبر کریں اور اس کی خبر نہیں دی کہ یہ کہف کس زمین اور کس شہر میں ہے کیونکہ اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں اور نہ کوئی شرعی مقصد اس سے متعلق ہے۔ (ابن کثیر ج 3 ص 75)
اصحاب کہف کا واقعہ کس زمانے میں پیش آیا ؟ اور غار میں پناہ لینے کے اسباب کیا تھے ؟
قصہ کا یہ ٹکڑا بھی وہی ہے جس پر نہ کسی آیت قرآن کا سمجھنا موقوف ہے، نہ مقصد قصہ پر اس کا کوئی خاص اثر ہے، اور نہ قرآن و سنت میں اس کا بیان ہے، صرف تاریخی حکایات ہیں، اسی لئے ابو حیان نے تفسیر بحر المیط میں فرمایا۔
والرواۃ مختلفون فی قصصہم وکیف کان اجتماعھم وخروجھم ولم یات فی الحدیث الصحیح کیفیۃ ذلک ولا فی القرآن (بحرمیط ص 101 ج 6)
تاہم موجودہ طبائع کی دلچسپی کے لئے جیسے اوپر اصحاب کہف کے مقام سے متعلق کچھ معلومات لکھی گئی ہیں، اس واقعہ کے زمانہ وقوع اور اسباب وقوع کے متعلق بھی مختصر معلومات تفسیری اور تاریخی روایات سے نقل کی جاتی ہیں، اس قصہ کو پوری تفصیل اور استیعاب کے ساتھ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں مختلف روایات سے نقل فرمایا ہے، مگر یہاں صرف وہ مختصر واقعہ لکھا جاتا ہے جس کو ابن کثیر نے سلف وخلف کے بہت سے مفسرین کے حوالہ سے پیش کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
٫٫ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد اور اپنی قوم کے سردار تھے، قوم بت پرست تھی، ایک روز ان کی قوم اپنے کسی مذہبی میلے کے لیے شہر سے باہر نکلی، جہاں ان کا سالانہ اجتماع ہوتا تھا، وہاں جا کر یہ لوگ اپنے بتوں کی پوجا پاٹ کرنے، اور ان کے لئے جانوروں کی قربانی دیتے تھے، ان کا بادشاہ ایک جبار ظالم دقیانوس نامی تھا، جو قوم کو اس بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، اس سال جب کہ پوری قوم اس میلے میں جمع ہوئی، تو یہ اصحاب کہف نوجوان بھی پہونچے، اور وہاں اپنی قوم کی یہ حرکتیں دیکھیں کہ اپنے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھروں کو خدا سمجھتے، اور ان کی عبادت کرتے اور ان کے لئے قربانی کرتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عقل سلیم عطا فرما دی کہ قوم کی اس احمقانہ حرکت سے ان کو نفرت ہوئی، اور عقل سے کام لیا تو ان کی سمجھ میں آ گیا کہ یہ عبادت تو صرف اس ذات کی ہونی چاہئے جس نے زمین و آسمان اور ساری مخلوقات پیدا فرمائی ہیں، یہ خیال بیک وقت ان چند نوجوانوں کے دل میں آیا، اور ان میں سے ہر ایک نے قوم کی اس احمقانہ عبادت سے بچنے کے لئے اس جگہ سے ہٹنا شروع کیا، ان میں سب سے پہلے ایک نوجوان مجمع سے دور ایک درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا، اس کے بعد ایک دوسرا شخص آیا اور وہ بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھ گیا، اسی طرح پھر تیسرا اور چوتھا آدمی آتا گیا، اور درخت کے نیچے بیٹھتا رہا، مگر ان میں سے کوئی دوسرے کو نہ پہچانتا تھا اور نہ ہی یہ کہ یہاں کیوں آیا ہے، مگر ان کو در حقیقت اس قدرت نے یہاں جمع کیا تھا جس نے ان کے دلوں میں ایمان پیدا فرمایا۔
قومیت اور اجتماعیت کی اصل بنیاد
ابن کثیر نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ لوگ تو باہمی اجتماع کا سبب قومیت اور جنسیت کو سمجھتے ہیں، مگر حقیقت وہ ہے جو صییح بخاری کی حدیث میں ہے کہ درحقیقت اتفاق و افتراق اول ارواح میں ہوتا ہے، اس کا اثر اس عالم کے ابدان میں پڑتا ہے، جن روحوں کے درمیان ازل میں مناسبت اور باہمی توافق نہ ہوا وہ یہاں بھی باہم مربوط اور ایک جماعت کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور جن میں یہ مناسبت اور باہمی اتفاق نہ ہوا بلکہ وہاں علیحدگی رہی ان میں یہاں بھی علیحدگی رہے گی، اسی واقعہ کی مثال کو دیکھو کہ کس طرح الگ الگ ہر شخص کے دل میں ایک ہی خیال پیدا ہوا اس خیال نے ان سب کو غیر شعوری طور پر ایک جگہ جمع کردیا۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک جگہ جمع تو ہوگئے، مگر ہر ایک اپنے عقیدہ کو دوسرے سے اس لئے چھپاتا تھا کہ یہ کہیں جا کر بادشاہ کے پاس مخبری نہ کر دے، اور میں گرفتار ہوجاؤ ں، کچھ دیر سکوت کے عالم میں جمع رہنے کے بعد ان میں سے ایک شخص بولا کہ بھائی ہم سب کے سب قوم سے علیحدہ ہو کر یہاں پہنچنے کا کوئی سبب تو ضرور ہے، مناسب یہ ہے کہ ہم سب باہم ایک دوسرے کے خیال سے واقف ہوجائیں، اس پر ایک شخص بول اٹھا، کہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی قوم کو جس دین، مذہب اور جس عبادت میں مبتلا پایا مجھے یقین ہوگیا کہ یہ باطل ہے، عبادت جو صرف اللہ جل شانہ کہ ہونی چاہئے، جس کا تخلیق کائنات میں کوئی شریک اور ساجھی نہیں، اب تو دوسروں کو بھی موقع مل گیا، اور ان میں سے ہر ایک نے اقرار کیا کہ یہی عقیدہ اور خیال ہے جس نے مجھے قوم سے علیحدہ کر کے یہاں پہونچایا۔
اب یہ ایک متحد الخیال جماعت ایک دوسرے کی رفیق اور دوست ہوگئی، اور انہوں نے الگ اپنی ایک عبادت گاہ بنا لی، جس میں جمع ہو کر یہ لوگ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرنے لگے۔ مگر شدہ شدہ ان کی خبر شہر میں پھیل گئی، اور چغل خوروں نے بادشاہ تک ان کی خبر پہنچا دی بادشاہ نے ان سب کو حاضر ہونے کا حکم دیا، یہ لوگ دربار میں حاضر ہوئے تو بادشاہ نے ان کے عقیدے اور طریقے کے متعلق سوال کیا، اللہ نے ان کو ہمت بخشی، انہوں نے بغیر کسی خوف و خطر کے اپنا عقیدہ توحید بیان کردیا، اور خود بادشاہ کو بھی اس کی طرف دعوت دی، اسی کا بیان قرآن کریم کی آیات میں اس طرح آیا ہے(آیت) وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا (الی قولہ) کَذِبا
جب ان لوگوں نے بادشاہ کو بےباک ہو کر دعوت ایمان دی تو بادشاہ نے اس سے انکار کیا اور ان کو ڈرایا دھمکایا، اور ان کے بدن سے وہ عمدہ پوشاک جو ان شہزادوں کے بدن پر تھی اتروا دی، تاکہ یہ لوگ اپنے معاملہ میں غور کریں، اور غور کرنے کے لئے چند روز کی مہلت یہ کہہ کر دے دی کہ تم نوجوان ہو میں تمہارے قتل میں اس لئے جلدی نہیں کرتا کہ تم کو غور کرنے کا موقع مل جاتا ہے اب بھی اگر تم اپنی قوم کے دین و مذہب پر آجاتے ہو تو تم اپنے حال پر رہو گے ورنہ قتل کردیئے جاؤ گے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اپنے مومن بندوں پر تھا، کہ اس مہلت نے ان لوگوں کے لئے راہ فرار کھول دی، اور یہ لوگ یہاں سے بھاگ کر ایک غار میں روپوش ہوگئے۔
عام روایات مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ لوگ دین مسیح ؑ پر تھے، ابن کثیر اور دوسرے تمام مفسرین نے یہ ذکر کیا ہے اگرچہ ابن کثیر نے اس کو قبول اس لئے نہیں کیا کہ اگر یہ لوگ مسیحی دین پر ہوتے تو یہود مدینہ ان سے عداوت کی بنا پر ان کے واقعہ کا سوال نہ کراتے اور ان کو اہمیت نہ دیتے مگر یہ کوئی ایسی بنیاد نہیں جس کی وجہ سے تمام روایات کو رد کردیا جائے، یہود مدینہ نے تو محض ایک واقعہ عجیبہ ہونے کی حیثیت سے اس کا سوال کرایا، جیسے ذوالقرنین کا سوال بھی اسی بنا پر ہے، اس طرح کے سوالات میں یہودیت اور نصرانیت کا تعصب درمیان میں نہ آنا ہی ظاہر ہے۔
تفسیر مظہری میں بروایت ابن اسحاق ان لوگوں کو ان موحدین میں شمار کیا ہے جو مسیحی دین کے مٹ جانے کے بعد ان کے حق پرست لوگ خال خال رہ گئے تھے، جو صحیح دین مسیح اور توحید پر قائم تھے، ابن اسحاق کی روایت میں بھی اس ظالم بادشاہ کا نام دقیانوس بتلایا ہے، اور جس شہر میں یہ نوجوان غار میں چھپنے سے پہلے رہتے تھے اس کا نام افسوس بتلایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں بھی واقعہ اسی طرح بیان کیا ہے، اور بادشاہ کا نام دقیانوس بتلایا ہے، ابن اسحاق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اصحاب کہف کے بیدار ہونے کے وقت ملک پر دین مسیح ؑ کے پابند جن لوگوں کا قبضہ ہوگیا تھا ان کے بادشاہ کا نام بیدوسیس تھا۔
مجموعہ روایات سے یہ بات تو بظن غالب ثابت ہوجاتی ہے کہ اصحاب کہف صحیح دین مسیح ؑ پر تھے اور ان کا زمانہ بعد المسیح ہے، اور جس بادشاہ مشرک سے بھاگے تھے اس کا نام دقیانوس تھا، تین سو نو سال کے بعد بیدار ہونے کے وقت جس نیک مومن بادشاہ کی حکومت تھی ابن اسحاق کی روایت میں اس کا نام بیدوسیس بتلایا ہے، اس کے ساتھ موجودہ زمانے کی تاریخوں کو ملا کر دیکھا جائے تو تخمینی اور تقریبی طور پر ان کا زمانہ متعین ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ تعین کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس کے علم کے اسباب موجود ہیں۔
کیا اصحاب کہف اب بھی زندہ ہیں
اس معاملے میں صحیح اور ظاہر یہی ہے کہ ان کی وفات ہوچکی ہے، تفسیر مظہری میں ابن اسحاق کی مفصل روایت میں ہے کہ اصحاب کہف کی بیداری اور شہر میں ان کے واقعہ عجیبہ کی شہرت ہوجانے اور اس وقت کے بادشاہ بیدوسیس کے پاس پہنچ کر ملاقات کرنے کے بعد اصحاب کہف نے ملک بیدوسیس سے رخصت چاہی، اور رخصتی سلام کے ساتھ اس کے لئے دعا کی، اور ابھی بادشاہ اسی جگہ موجود تھا کہ یہ لوگ اپنے لیٹنے کی جگہوں پر جا کر لیٹ گئے، اور اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دیدی۔
اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ مفسرین نے نقل کی ہے کہ
قال قتادۃ غزا ابن عباس مع حبیب بن مسلمۃ فمروا بکہف فی بلاد الروم فرأوا فیہ عظاما فقال قآئل ھذہ عظام اھل الکہف فقال ابن عباس لقد بلیت عظامھم من اکثر من ثلث مائۃ سنۃ (ابن کثیر)
قتادہ کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے حبیب ابن مسلمہ کے ساتھ ایک جہاد کیا تو بلاد روم میں ان کا گذر ایک غار پر ہوا جس میں مردہ لاشوں کی ہڈیاں تھیں کسی نے کہا کہ یہ اصحاب کہف کی ہڈیاں ہیں تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کی ہڈیاں تو اب سے تین سو برس پہلے خاک ہوچکی ہیں۔
یہ سب اس تاریخی قصے کے وہ اجزاء تھے جن کو نہ قرآن نے بیان کیا نہ حدیث رسول اللہ ﷺ نے اور نہ اس واقعہ کا کوئی خاص مقصد یا قرآن کی کسی آیت کا سمجھنا اس پر موقوف ہے، اور نہ تاریخی روایات سے ان چیزوں کا کوئی قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، باقی رہے قصے کے وہ اجزا جن کا خود قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے ان کی تفصیل انہی آیات کے تحت آتی ہے۔
یہاں تک قرآن کریم نے اس قصے کا اجمالی ذکر فرمایا تھا، آگے تفصیلی ذکر آتا ہے۔
Ayah 18:13خلاصہ تفسیر
ہم ان کا واقعہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں (اس میں اشارہ کردیا کہ اس کے خلاف جو کچھ دنیا میں مشہور ہے وہ درست نہیں) وہ لوگ (اصحاب کہف) چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر (اس زمانے کے دین عیسوی کے مطابق) ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی کردی (کہ صفات ایمان ثابت قدمی اور بلاؤں پر صبر دنیا سے اعراض، آخرت کی فکر وغیرہ بھی عطا کردیں، انہی صفات ایمان و ہدایت میں ایک بات یہ تھی کہ) ہم نے ان کے دل مضبوط کر دئیے جبکہ وہ پختہ ہو کر (آپس میں یا مخالف بادشاہ کے رو برو) کہنے لگے کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم تو اس کو چھوڑ کر کسی معبود کی عبادت نہ کریں گے (کیونکہ اگر خدا نخواستہ ہم نے ایسا کیا) تو اس صورت میں ہم نے یقینا بڑی بےجا بات کہی، اور یہ جو ہماری قوم ہے انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود قرار دے رکھے ہیں، (کیونکہ ان کی قوم اور بادشاہ وقت سب بت پرست تھے، سو) یہ لوگ اپنے معبودوں (کے معبود ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے (جیسا کہ موحدین توحید پر واضح اور یقینی دلیل رکھتے ہیں) تو اس سے زیادہ کون غضب ڈھانے والا ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت لگا دے (کہ اس کے کچھ ساجھی اور شریک بھی ہیں) اور پھر (آپس میں کہا کہ) جب تم ان لوگوں سے عقیدہ ہی میں الگ ہوگئے اور ان کے معبودوں (کی عبادت) سے بھی (الگ ہوگئے ہو) مگر اللہ سے (الگ نہیں ہوئے، بلکہ اسی کی وجہ سے سب کو چھوڑا ہے) تو اب (مصلحت یہ ہے کہ) تم (فلاں) غار میں (جو مشورے سے طے ہوا ہوگا) چل کر پناہ لو (تا کہ امن اور بےفکری کے ساتھ اللہ کی عبادت کرسکو) تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے تمہارے اس کام میں کامیابی کے سامان درست کر دے گا (اللہ تعالیٰ سے اسی امید اور توقع پر غار میں جانے کے وقت) انہوں نے سب سے پہلے یہ دعا کی کہ (آیت) رَبَّنَا اٰتِنَامن لدنک رحمۃ وھیء لنا من امرنا رشدا)
معارف و مسائل
اِنَّهُمْ فِتْيَةٌ، فتی کی جمع ہے، نوجوان کے معنی میں آتا ہے، علما تفسیر نے فرمایا کہ اس لفظ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اصلاح اعمال و اخلاق اور رشد و ہدایت کا زمانہ جوانی ہی کی عمر ہے، بڑھاپے میں پچھلے اعمال و اخلاق ایسے پختہ ہوجاتے ہیں کہ کتنا ہی اس کے خلاف حق واضح ہوجائے ان سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، صحابہ کرام میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر ایمان لانے والے بیشتر نوجوان ہی لوگ تھے (ابن کثیر، ابو حیان)
Ayahs 18:14–15وَرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ ابن کثیر کے حوالے سے جو واقعہ کی صورت اوپر بیان کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان کے دلوں کو مضبوط کردینے کا واقعہ اس وقت ہوا جب کہ بت پرست ظالم بادشاہ نے ان نوجوانوں کو اپنے دربار میں حاضر کر کے سوالات کئے اس موت وحیات کی کش مکش اور قتل کے خوف کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اپنی محبت اور ہیبت و عظمت ایسی مسلط کردی کہ اس کے مقابلے میں قتل و موت اور ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو کر اپنے عقیدے کا صاف صاف اظہار کردیا، کہ وہ اللہ کے سوا کسی معبود کی عبادت نہیں کرتے اور آئندہ بھی نہ کریں گیں، جو لوگ اللہ کے لئے کسی کام کا عزم پختہ کرلیتے ہیں تو حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی ایسی ہی امداد ہوا کرتی ہے۔
Ayah 18:16فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ ابن کثیر نے فرمایا کہ اصحاب کہف نے جو صورت اختیار کی کہ جس شہر میں رہ کر اللہ کی عبادت نہ ہو سکتی تھی اس کو چھوڑ کر غار میں پناہ لی، یہی سنت ہے تمام انبیاء کی کہ ایسے مقامات سے ہجرت کر کے وہ جگہ اختیار کرتے ہیں جہاں عبادت کی جاسکے۔
Ayah 18:17خلاصہ تفسیر
اور اے مخاطب (وہ غار ایسی وضع پر واقع ہوا ہے کہ) جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اس کو دیکھے گا کہ وہ غار سے داہنی جانب کو بچی رہتی ہے (یعنی غار کے دروازے سے داہنی طرف الگ ہو کر رہتی ہے) اور جب وہ چھپتی ہے تو (غار کے) بائیں طرف ہٹی رہتی ہے (یعنی اس وقت بھی غار کے اندر دھوپ نہیں جاتی کہ جا کہ ان کو دھوپ کی تپش سے تکلیف نہ پہونچے) اور وہ لوگ اس غار کے ایک فراخ موقع میں تھے (یعنی ایسے غاروں میں جو عادۃ کہیں تنگ کہیں کشادہ ہوتے ہیں، تو وہ اس غار کے ایسے موقع پر تھے جو کشادہ تھا تاکہ ہوا بھی پہنچنے اور جگہ کی تنگی سے جی بھی نہ گھبرائے) یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے (کہ اسباب ظاہری کے خلاف ان کے لئے آرام کا سامان مہیا کردیا پس معلوم ہوا کہ) جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پاتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردیں تو آپ اس کے لئے کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پائیں گے۔ (غار کی جو ہیئت بتلائی گئی ہے کہ اس میں نہ طلوع کے وقت صبح کو دھوپ اندر جاتی نہ شام کو غروب کے وقت، یہ اس صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ غار شمال رویہ یا جنوب رویہ ہو، کیونکہ داہنی بائیں غار میں داخل ہونے والے کی مراد ہوں تو غار شمال رویہ ہوگا، اور داہنی بائیں جانب غار سے نکلنے والے کی مراد ہوں تو غار جنوب رویہ ہوگا)
اور اے مخاطب (تو اگر اس وقت جبکہ وہ غار میں گئے اور ہم نے ان پر نیند مسلط کردی ان کو دیکھتا تو) ان کو جاگتا ہوا خیال کرتا حالانکہ وہ سوتے تھے (کیونکہ اللہ کی قدرت نے ان کو نیند کے آثار و علامات سے محفوظ رکھا تھا، جیسے سانس کا تغیر، بدن کا ڈھیلا پن، آنکھیں اگر بند بھی ہوں تو سونے کی یقینی علامت نہیں) اور (اس نیند کے زمانہ دراز میں) ہم ان کو (کبھی) داہنی طرف اور (کبھی) با ہیں طرف کروٹ دیدیتے تھے اور (اس حالت میں) ہم ان کا کتا (جو کسی وجہ سے ان کے ساتھ آ گیا تھا غار کی) دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا (اور ان کے رعب و جلال خدا داد کی یہ حالت تھی کہ) اگر (اے مخاطب) تو ان کو جھانک کر دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر ان کی دہشت سما جاتی (اس آیت میں خطاب عام مخاطبین کو ہے، اس سے آنحضرت ﷺ کا مرعوب ہونا لازم نہیں آتا، اور یہ تمام سامان حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی حفاظت کے لئے جمع کردیئے تھے، کیونکہ جاگتے ہوئے آدمی پر حملہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور نیند کے طویل زمانے میں کروٹیں نہ بدلی جائیں تو مٹی ایک کروٹ کو کھا لیتی، اور غار کے دروازے پر کتے کا بیٹھنا بھی سامان حفاظت ہونا ظاہر ہے۔
معارف و مسائل
ان آیتوں میں حق تعالیٰ نے اصحاب کہف کے تین حال بتائے ہیں، اور تینوں عجیب ہیں جو ان حضرات کی کرامت سے بطور خرق عادت ظاہر ہوئے۔
اول زمانہ دراز تک مسلسل نیند کا مسلط ہونا اور اس میں بغیر کسی غذا وغیرہ کے زندہ رہنا سب سے بڑی کرامت اور خرق عادت ہے، اس کی تفصیل تو اگلی آیات میں آئے گی، یہاں اس طویل نیند کی حالت میں ان کا ایک حال تو یہ بتلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غار کے اندر اس طرح محفوظ رکھا تھا کہ صبح شام دھوپ ان کے قریب سے گذرتی مگر غار کے اندر ان کے جسموں پر نہ پڑتی تھی، قریب سے گزرنے کے فوائد زندگی کے آثار کا قیام، ہوا اور سردی، گرمی کا اعتدال وغیرہ تھے، اور ان کے جسموں پر دھوپ نہ پڑنے سے جسموں کی اور ان کے لباس کی حفاظت بھی تھی۔
دھوپ کے ان کے اوپر نہ پڑنے کع یہ صورت غار کی کسی خاص وضع کی بنا پر بھی ہو سکتی ہے کہ اس کا دروازہ جنوب یا شمال میں ایسی وضع پر ہو کہ دھوپ طبعی اور عادی طور پر اس کے اندر نہ پہونچے، ابن قتیبہ نے اس کی وضع خاص متعین کرنے کیلئے یہ تکلف کیا کہ ریاضی کے اصول و قواعد کی رو سے اس جگہ کا طول بلد عرض بلد اور غار کا رخ متعین کیا،{ مظہری } اور اس کے بالمقابل زجاج نے کہا کہ دھوپ کا ان سے الگ رہنا کسی وضع اور ہیئت کی بنا پر نہیں بلکہ ان کی کرامت سے بطور خرق عادت تھا، اور اس آیت کے آخر میں جو یہ ارشاد ہے ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ یہ بھی بظاہر اسی پر دلالت کرتا ہے کہ دھوپ سے حفاظت کا یہ سامان غار کی کسی خاص وضع و ہیئت کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک نشانی تھی (قرطبی)
اور صاف بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسا سامان مہیا فرما دیا تھا کہ دھوپ ان کے جسموں پر نہ پڑے، خواہ یہ سامان غار کی خاص ہیئت اور وضع کے ذریعے ہو یا کوئی بادل وغیرہ دھوپ کے وقت حائل کردیا جاتا ہو یا براہ راست آفتاب کی شعاعوں کو ان سے بطور خرق عادت کے ہٹا دیا جاتا ہو، آیت میں یہ سب احتمالات ہیں، کسی ایک کو متعین کرنے پر زور دینے کی ضرورت نہیں۔