Ayah 18:18اصحاب کہف طویل نیند کے زمانے میں اس حالت پر تھے کہ دیکھنے والا ان کو بیدار سمجھے
دوسرا حال یہ بتلایا ہے کہ اصحاب کہف پر اتنے زمانہ دراز تک نیند مسلط کردینے کے باوجود ان کے اجسام پر نیند کے آثار نہ تھے، بلکہ ایسی حالت تھی کہ ان کو دیکھنے والا یہ محسوس کرے کہ وہ جاگ رہے ہیں، عام مفسرین نے فرمایا کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، بدن میں ڈھیلا پن جو نیند سے ہوتا ہے وہ نہیں تھا، سانس میں تغیر جو سونے والوں کے ہوجاتا ہے وہ نہیں تھا، ظاہر یہ ہے کہ یہ حالت بھی غیر معمولی اور ایک قسم کی کرامت ہی تھی، جس میں بظاہر حکمت ان کی حفاظت تھی، کہ کوئی ان کو سوتا ہوا سمجھ کر ان پر حملہ نہ کرے، یا جو سامان ان کے ساتھ تھا وہ نہ چرا لے، اور مختلف کروٹیں بدلنے سے بھی دیکھنے والے کو بیداری کا خیال ہوسکتا ہے، اور کروٹیں بدلنے میں یہ مصلحت بھی تھی کہ مٹی ایک کروٹ کو نہ کھالے۔
اصحاب کہف کا کتا
یہاں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، اور صحیح بخاری کی ایک حدیث میں بروایت ابن عمر ؓ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شکاری کتے یا جانوروں کے محافظ کتے کے علاوہ کتا پالتا ہے تو ہر روز اس کے اجر میں سے دو قیراط گھٹ جاتے ہیں، (قیراط ایک چھوٹے سے وزن کا نام ہے) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ایک تیسری قسم کے کتے کا بھی استثنا آیا ہے، یعنی جو کھیتی کی حفاظت کے لئے پالا گیا ہو۔
ان روایات حدیث کی بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بزرگ اللہ والوں نے کتا کیوں ساتھ لیا ؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ یہ حکم کتا پالنے کی ممانعت شریعت محمدیہ کا حکم ہے ممکن ہے کہ دین مسیح ؑ میں ممنوع نہ ہو، دوسرے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ لوگ صاحب جائداد صاحب مویشی تھے ان کی حفاظت کے لئے کتا پالا ہو، اور جیسے کتے کی وفا شعاری مشہور ہے یہ جب شہر سے چلے تو وہ بھی ساتھ لگ لیا۔
نیک صحبت کے برکات کہ اس نے کتے کا بھی اعزاز بڑھا دیا
ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد نے بتلایا کہ میں نے ابوالفضل جوہری کا ایک وعظ 469 یجری میں جامع مصر کے اندر سنا وہ بر سر منبر یہ فرما رہے تھے کہ جو شخص نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ان کی نیکی کا حصہ اس کو بھی ملتا ہے، دیکھو اصحاب کہف کے کتے نے ان سے محبت کی اور ساتھ لگ لیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر فرمایا۔
قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عطیہ کی روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ جب ایک کتا صلحا اور اولیاء کی صحبت سے یہ مقام پاسکتا ہے تو آپ قیاس کرلیں کہ مومینن موحدین جو اولیا اللہ اور صالحین سے محبت رکھیں ان کا مقام کتنا بلند ہوگا، بلکہ اس واقعہ میں ان مسلمانوں کے لئے تسلی اور بشارت ہے جو اپنے اعمال میں کوتاہی کرتے ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ سے محبت پوری رکھتے ہیں۔
صحیح بخاری میں بروایت انس ؓ مذکور ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک روز مسجد سے نکل رہے تھے، مسجد کے دروازے پر ایک شخص ملا، اور یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا کہ تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے (جو اس کے آنے کی جلدی کر رہے ہو) یہ بات سن کر یہ شخص دل میں کچھ شرمندہ ہوا اور پھر عرض کیا کہ میں نے قیامت کے لئے بہت نماز، روزے اور صدقات تو جمع نہیں کئے، مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہے تو (سن لو کہ) تم (قیامت میں) اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم یہ جملہ مبارکہ حضور ﷺ سے سن کر اتنے خوش ہوئے کہ اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ خوشی کبھی نہ ہوئی تھی، اور اس کے بعد حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ (الحمد للہ) میں اللہ سے اس کے رسول اللہ ﷺ سے ابوبکر و عمر سے محبت رکھتا ہوں، اس لئے اس کا امیدوار ہوں کہ ان کے ساتھ ہوں گا (قرطبی)
اصحاب کہف کو اللہ تعالیٰ نے ایسا رعب و جلال عطا فرما دیا تھا کہ جو دیکھے ہیبت کھا کر بھاگ جائے
لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ ظاہر یہ ہے کہ اس میں خطاب عام لوگوں کو ہے اس لئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصحاب کہف کا رعب رسول اللہ ﷺ پر بھی چھا سکتا تھا، عام مخاطبین کو فرمایا گیا ہے، اگر تم ان کو جھانک کر دیکھو تو ہیبت کھا کر بھاگ جاؤ اور ان کا رعب وہیبت تم پر طاری ہوجائے۔
یہ رعب وہیبت کس بنا اور کن اسباب کی وجہ سے تھا، اس میں بحث فضول ہے، اور اس لئے قرآن و حدیث نے اس کو بیان نہیں کیا، حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لئے ایسے حالات پیدا فرما دئیے تھے کہ ان کے بدن پر دھوپ نہ پڑے اور دیکھنے والا ان کو بیدار سمجھے اور دیکھنے والے پر ان کی ہیبت طاری ہوجائے کہ پوری طرح دیکھ نہ سکے، یہ حالات خاص اسباب طبیعہ کے راستہ سے ہونا بھی ممکن ہے، اور بطور کرامت خرق عادت کے طریق سے بھی جب قرآن و حدیث نے اس کی کوئی خاص وجہ متیعن نہیں فرمائی، جو خالی قیاسات اور تخمینوں سے اس میں بحث کرنا بیکار ہے، تفسیر مظہری میں اسی کو ترجیح دی ہے، اور تائید میں ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم کی سند سے حضرت ابن عباس ؓ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ہم نے روم کے مقابلہ میں حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ جہاد کیا، جو غزوۃ المضیق کے نام سے معروف ہے، اس سفر میں ہمارا گزر اس غار پر ہوا، جس میں اصحاب کہف ہیں، حضرت معاویہ ؓ نے ارادہ کیا کہ اصحاب کہف کی تحقیق اور مشاہدہ کے لئے غار میں جائیں، حضرت ابن عباس ؓ نے منع کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بڑی اور بہتر ہستی (یعنی رسول اللہ ﷺ کو ان کے مشاہدہ سے منع کردیا ہے، اور یہی آیت پڑھی لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ (اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک لَوِ اطَّلَعْتَ کا خطاب نبی کریم ﷺ کو تھا، مگر حضرت معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ کی رائے کو قبول نہیں کیا (غالبا وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے آیت کا مخاطب آنحضرت ﷺ کے بجائے عام مخاطبین کو قرار دیا ہوگا، یا یہ کہ یہ حالت قرآن نے اس وقت کی بیان کی ہے جس وقت اصحاب کہف زندہ تھے اور سو رہے تھے، اب ان کی وفات کو عرصہ ہوچکا ہے، ضروری نہیں کہ اب بھی وہی رعب وہیبت کی کیفیت موجود ہو بہر حال) حضرت معاویہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کی بات قبول کی اور چند آدمی تحقیق و مشاہدہ کے لئے بھیج دئیے، جب یہ لوگ غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سخت گرم ہوا بھیج دی، جس کی وجہ سے یہ کچھ نہ دیکھ سکے (مظہری)
Ayah 18:19خلاصہ تفسیر
اور (جس طرح ہم نے اپنی قدرت کاملہ سے ان کو اتنے زمانہ دراز تک سلایا) اسی طرح (اس طویل نیند کے بعد) ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ وہ آپس میں پوچھ پاچھ کریں (تا کہ باہمی سوال و جواب کے بعد ان کو حق تعالیٰ کی قدرت اور حکمت منکشف ہو چنانچہ) ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ (اس نیند کی حالت میں) تم کس قدر رہے ہو گے (جواب میں) بعض نے کہا کہ (غالبا) ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم رہے ہوں گے، دوسرے بعض نے کہا کہ (اس کی تفتیش کی کیا ضرورت ہے) یہ تو (ٹھیک ٹھیک (تمہارے رب ہی کو خبر ہے کہ تم کس قدر (سوتے) رہے اب (اس فضول بحث کو چھوڑ کر ضروری کام کرنا چاہئے وہ یہ کہ) اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ (جو کہنے والے کے پاس ہوگا، کیونکہ یہ لوگ کچھ خرچ کے لئے رقم بھی لے کر چلے تھے، غرض کہ کسی کو یہ روپیہ) دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر (وہ وہاں پہنچ کر) تحقیق کرے کہ کونسا کھانا حلال ہے (اس جگہ لفظ ازکی کی تفسیر بروایت ابن جریر حضرت سعید بن جبیر ؓ سے یہی منقول ہے کہ مراد اس سے حلال کھانا ہے، اور اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ان کی قوم بت پرست بکثرت اپنے بتوں کے نام ذبح کیا کرتی تھی اور بازار میں بکثرت یہی حرام گوشت بکتا تھا) تو وہ اس میں سے تمہارے پاس کچھ کھانا لے آوئے اور کام خوش تدبیری سے کرے (کہ ایسی وضع ہیئت سے جاوے کہ کوئی اس کو پہچانے نہیں اور کھانے کی تحقیق کرنے میں بھی یہ ظاہر نہ ہونے دے کہ بت کے نام کے ذبیحہ کو حرام سمجھتا ہے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے (کیونکہ) اگر وہ لوگ (یعنی اہل شہر جن کو اپنے خیال میں اپنے زمانے کے مشرکین سمجھے ہوئے تھے) کہیں تمہاری خبر پاجائیں گے تو تم کو یا پتھراؤ کر کے مار ڈالیں گے یا (جبرا) تم کو اپنے مذہب میں پھر داخل کرلیں گے اور ایسا ہوا تو تم کو کبھی فلاح نہ ہوگئی۔
معارف و مسائل
كَذٰلِكَ یہ لفظ تشبیہ، تمثیل کے لئے ہے، مراد اس جگہ دو واقعوں کی باہم تشبیہ بیان کرنا ہے ایک واقعہ اصحاب کہف کی نوم طویل اور زمانہ دراز تک سونے رہنے کا ہے، جس کا ذکر شروع قصے میں آیا ہے (آیت) فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًا۔ دوسرا واقعہ اس زمانہ دراز کی نیند کے بعد صحیح سالم اور باوجود غذا نہ پہنچنے کے قوی اور تندرست اٹھنے اور بیدار ہونے کا ہے، یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی آیات قدرت ہونے میں متماثل ہیں، اسی لئے اس آیت میں جو ان کے بیدار کرنے کا ذکر فرمایا تو لفظ كَذٰلِكَ اشارہ کردیا کہ جس طرح ان کی نیند عام انسانوں کی عادی نیند کی طرح نہیں تھی، اسی طرح ان کی بیداری بھی عام عادت طبعی سے ممتاز تھی، اور اس کے بعد جو لِيَتَسَاۗءَلُوْا فرمایا جس کے معنی ہیں تاکہ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں کہ نیند کتنے زمانے رہی یہ ان کے بیدار کرنے کی علت نہیں، بلکہ عادی طور پر پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر ہے، اسی لئے اس کے لام کو حضرات مفسرین نے لام عاقبت یا لام صیرورت کا نام دیا ہے (ابوحیان، قرطبی)
خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ان کی نوم طویل ایک نشانی قدرت کی تھی، اسی طرح سینکڑوں سال کے بعد بغیر کسی غذا کے قوی، تندرست بیدار ہو کر بیٹھ جانا بھی قدرت کاملہ کی نشانی تھی، اور چونکہ قدرت کو یہ بھی منظور تھا کہ خود ان لوگوں پر بھی یہ حقیقت منکشف ہوجائے کہ سینکڑوں برس سوتے رہے تو اس کی ابتداء باہمی سوالات سے ہوئی، اور انتہا اس واقعہ سے ہوئی جس کا ذکر اگلی آیت میں وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا میں آیا ہے کہ شہر کے لوگوں پر ان کا راز کھل گیا، اور تعیین مدت میں اختلاف کے باوجود زمانہ دراز تک غار میں سوتے رہنے کا سب کو یقین ہوگیا۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ شروع قصہ میں جو بات اجمالا کہی گئی تھی کہ غار میں رہنے کی مدت کے متعلق باہم اختلاف رائے ہوا ان میں سے ایک جماعت کا قول صحیح تھا یہ اس کی تفصیل ہے کہ اصحاب کہف میں سے ایک شخص نے سوال اٹھایا کہ تم کتنا سوئے ہو، تو بعض نے جواب دیا کہ ایک دن یا دن کا ایک حصہ، کیونکہ یہ لوگ صبح کے وقت غار میں داخل ہوئے تھے، اور بیدار ہونے کا وقت شام کا وقت تھا، اس لئے خیال یہ ہوا کہ یہ وہی دن ہے جس میں ہم غار میں داخل ہوئے تھے، اور سونے کی مدت تقریبا ایک دن ہے، مگر انہی میں سے دوسرے لوگوں کو کچھ احساس ہوا کہ شاید یہ وہ دن نہیں جس میں داخل ہوئے تھے، پھر معلوم نہیں کتنے دن ہوگئے، اس لئے اس کے علم کو حوالہ بخدا کیا، قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ اور اس بحث کو غیر ضروری سمجھ کر اصل کام کی طرف توجہ دلائی کہ شہر سے کچھ لانے کے لئے ایک آدمی کو بھیج دیا جائے۔
اِلَى الْمَدِيْنَةِ اس لفظ سے اتنا تو ثابت ہوا کہ قریب بڑا شہر تھا، جہاں یہ لوگ رہتے تھے اس شہر کے نام کے متعلق ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں فرمایا کہ جس زمانے میں اصحاب کہف یہاں سے نکلے تھے، اس وقت اس شہر کا نام افسوس تھا، اور اب اس کا نام طرسوس ہے، قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ بت پرستوں کے اس شہر پر غلبہ اور جاہلیت کے زمانے میں اس کا نام افسوس تھا، جب اس زمانے کے مسلمان یعنی مسیحی اس پر غالب آئے تو اس کا نام طرسوس رکھ دیا۔
بِوَرِقِكُمْ سے معلوم ہوا کہ یہ حضرات غار میں آنے کے وقت اپنے ساتھ کچھ رقم روپیہ پیسہ بھی ساتھ لائے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ ضروری نفقہ کا اہتمام کرنا زہد و توکل کے خلاف نہیں (بحر محیط)
اَيُّهَآ اَزْكٰى طَعَامًا لفظ ازکی کے لفظی معنی پاک صاف کے ہیں، مراد اس سے حسب تفسیر ابن جبیر حلال کھانا ہے، اور اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی کہ جس زمانے میں یہ لوگ شہر سے نکلے تھے وہاں بتوں کے نام کا ذبیحہ ہوتا، اور وہی بازاروں میں فروخت ہوتا تھا، اس لئے جانے والے کو یہ تاکید کی کہ اس کی تحقیق کر کے کھانا لائے کہ یہ کھانا حلال بھی ہے یا نہیں۔
مسئلہاس سے معلوم ہوا کہ جس شہر یا جس بازار، ہوٹل میں اکثریت حرام کھانے کی ہو وہاں کا کھانا بغیر تحقیق کے کھانا جائز نہیں۔
Ayah 18:20اَوْ يَرْجُمُوْكُمْ رجم کے معنی سنگسار کرنے کے ہیں، بادشاہ نے غار میں جانے سے پہلے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر اپنا یہ دین نہ چھوڑو گے تو قتل کر دئیے جاؤ گے، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان کے یہاں ان کے دین سے پھرجانے والے کی سزائے قتل بصورت سنگساری دی جاتی تھی تاکہ سب لوگ اس میں شریک ہوں، اور ساری قوم اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر کے قتل کر ے۔
شاید شریعت اسلام میں شادی شدہ مرد و عورت کے زنا کی سزا بھی جو سنگسار کر کے قتل کرنا تجویز کیا گیا ہے اس کا بھی منشا یہ ہو کہ جس شخص نے حیا کے سارے پردوں کو توڑ کر اس فعل قبیح کا ارتکاب کیا ہے اس کا قتل منظر عام پر سب لوگوں کی شرکت کے ساتھ ہونا چاہئے تاکہ اس کی رسوائی بھی پوری ہو، اور سب مسلمان عملا اپنے غیظ و غضب کا اظہار کریں، تاکہ آئندہ قوم میں اس حرکت کا اعادہ نہ ہو سکے۔
فَابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ اس واقعہ میں جماعت اصحاب کہف نے اپنے میں سے ایک آدمی کو شہر بھیجنے کے لئے منتخب کیا، اور رقم اس کے حوالہ کی کہ وہ کھانا خرید کر لائے، قرطبی نے بحوالہ ابن خویز مندا فرمایا کہ اس سے چند فقہی مسائل حاصل ہوئے۔
چند مسائل
اول یہ کہ مال میں شرکت جائز ہے، کیونکہ یہ رقم سب کی مشترک تھی، دوسری یہ کہ مال میں وکالت جائز ہے، کہ مشترک مال میں کوئی ایک شخص بحیثیت وکیل دوسروں کی اجازت سے تصرفات کرے، تیسرے یہ کہ چند رفیق اگر کھانے میں شرکت رکھیں یہ جائز ہے، اگرچہ کھانے کی مقداریں عادۃ مختلف ہوتی ہیں، کوئی کم کھاتا ہے کوئی زیادہ۔
Ayah 18:21خلاصہ تفسیر
اور (ہم نے جس طرح اپنی قدرت سے ان کو سلایا اور جگایا) اسی طرح ہم نے (اپنی قدرت و حکمت سے اس زمانے کے) لوگوں کو ان (کے حال) پر مطلع کردیا تاکہ (منجملہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہو کہ) وہ لوگ (اس واقعہ سے استدلال کر کے) اس بات کا یقین (یا زیادہ یقین) کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں (یہ لوگ اگر پہلے سے قیامت میں زندہ ہونے پر ایمان رکھتے تھے تو زیادہ یقین اس واقعہ سے ہوگیا، اور اگر قیامت کے منکر تھے تو اب یقین حاصل ہوگیا یہ واقعہ تو اصحاب کہف کی زندگی میں پیش آیا، پھر ان صاحبوں نے وہیں غار میں وفات پائی، تو ان کے متعلق اہل عصر میں اختلاف ہوا جس کو آگے بیان فرمایا ہے کہ) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اس زمانے کے لوگ ان کے معاملے میں باہم جھگڑ رہے تھے، (اور وہ معاملہ اس غار کا منہ بند کرنا تھا، تاکہ ان کی لاشیں محفوظ رہیں، یا ان کی یادگار قائم کرنا مقصود تھا) سو ان لوگوں نے کہا کہ ان کے (غار کے) پاس کوئی عمارت بنوا دو (پھر اختلاف ہوا کہ وہ عمارت کیا ہو، اس میں رائیں مختلف ہوئیں، تو اختلاف کے وقت) ان کا رب ان (کے احوال مختلفہ) کو خوب جانتا تھا (بالآخر) جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے (یعنی اہل حکومت جو اس وقت دین حق پر قائم تھے) انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنادیں گے (تاکہ مسجد اس بات کی بھی علامت رہے کہ یہ لوگ خود عابد تھے معبود نہ تھے اور دوسری عمارتوں میں یہ احتمال تھا کہ آگے آنے والے انہی کو معبود بنالیں)
معارف و مسائل
وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ اس آیت میں اصحاب کہف کے راز کا اہل شہر پر منکشف ہوجانا اور اس کی حکمت عقیدہ آخرت و قیامت کہ سب مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اس پر ایمان و یقین حاصل ہونا بیان فرمایا ہے، تفسیر قرطبی میں اس کا مختصر قصہ اس طرح مذکور ہے کہ۔
اصحاب کہف کا حال اہل شہر پر کھل جانا
اصحاب کہف کے نکلنے کے وقت جو ظالم اور مشرک بادشاہ دقیانوس اس شہر پر مسلط تھا وہ مر گیا، اور اس پر صدیاں گذر گئیں، یہاں تک اس مملکت پر قبضہ اہل حق کا ہوگیا جو توحید پر یقین رکھتے تھے ان کا بادشاہ ایک نیک صالح آدمی تھا (جس کا نام تفسیر مظہری میں تاریخی روایات سے بیدوسیس لکھا ہے) اس کے زمانے میں اتفاقا قیامت اور اس میں سب مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے مسئلے میں کچھ اختلافات پھیل گئے، ایک فرقہ اس کا منکر ہوگیا کہ یہ بدن گلنے سڑنے، پھر ریزہ ریزہ ہو کر ساری دنیا میں پھیل جانے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے، بادشاہ وقت بیدوسیس کو اس کی فکر ہوئی کہ کس طرح ان کے شکوک و شبہات دور کئے جائیں، جب کوئی تدبیر نہ بنی تو اس نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور راکھ کے ڈھیر پر بیٹھ کر اللہ سے دعا کی اور الحاح وزاری شروع کی، کہ یا اللہ آپ ہی کوئی ایسی صورت پیدا فرما دیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ صحیح ہوجائے اور یہ راہ پر آجائیں، اس طرف یہ بادشاہ گریہ وزاری اور دعا میں مصروف تھا، دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کی قبولیت کا یہ سامان کردیا کہ اصحاب کہف بیدار ہوئے اور انہوں نے اپنے ایک آدمی کو (جس کا نام تملیخا بتلایا جاتا ہے ان کے بازار میں بھیج دیا وہ کھانا خریدنے کے لئے دکان پر پہنچا اور تین سو برس پہلے بادشاہ دقیانوس کے زمانے کا سکہ کھانے کی قیمت میں پیش کیا تو دکاندار حیران رہ گیا، کہ یہ سکہ کہاں سے آیا، کس زمانے کا ہے، بازار کے دوسرے دکان داروں کو دکھلایا، سب نے یہ کہا کہ اس شخص کو کہیں پرانا خزانہ ہاتھ آگیا ہے اس میں سے یہ سکہ نکال کر لایا ہے، اس نے انکار کیا کہ نہ مجھے کوئی خزانہ ملا، نہ کہیں سے لایا یہ میرا اپنا روپیہ ہے۔
بازار والوں نے اس کو گرفتار کر کے بادشاہ کے سامنے پیش کردیا، یہ بادشاہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، ایک نیک صالح اللہ والا تھا، اور اس نے سلطنت کے پرانے خزانے کے آثار قدیمہ میں کہیں وہ تختی بھی دیکھی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے فرار ہوجانے کا واقعہ بھی لکھا ہوا تھا، بعض کے نزدیک خود ظالم بادشاہ دقیانوس نے یہ تختی لکھوائی تھی، کہ یہ اشتہاری مجرم ہیں، ان کے نام اور پتے محفوظ رہیں، جب کہیں ملیں گرفتار کر لئے جائیں، اور بعض روایات میں ہے کہ شاہی دفتر میں بعض ایسے مومن بھی تھے جو دل سے بت پرستی کو برا سمجھتے اور اصحاب کہف کو حق پر سمجھتے تھے، مگر ظاہر کرنے کی ہمت نہیں تھی، انہوں نے یہ تختی بطور یادگار کے لکھ لی تھی، اس تختی کا نام رقیم ہے جس کی وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب رقیم بھی کہا گیا۔
الغرض اس بادشاہ کو اس واقعہ کا کچھ علم تھا، اور اس وقت وہ اس دعا میں مشغول تھا کہ کسی طرح لوگوں کو اس بات کا یقین آجائے کہ مردہ اجسام کو دوبارہ زندہ کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے کچھ بعید نہیں۔
اس لئے تملیخا سے اس کے حالات کی تحقیق کی تو اس کو اطمینان ہوگیا کہ یہ انہی لوگوں میں سے ہے اور اس نے کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے ملا دے جو دقیانوس کے زمانے میں اپنا ایمان بچا کر بھاگے تھے ؟ بادشاہ اس پر مسرور ہوا اور کہا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، اس میں لوگوں کے لئے شاید کوئی ایسی حجت ہو جس سے ان کو حشر اجساد کا یقین آجائے، یہ کہہ کر اس شخص سے کہا کہ مجھے اس غار پر لے چلو جہاں سے تم آئے ہو۔
بادشاہ بہت سے اہل شہر کے مجمع کے ساتھ غار پہنچا، جب غار قریب آیا تو تملیخا نے کہا کہ آپ ذرا ٹھہریں میں جا کر اپنے ساتھیوں کو حقیقت معاملہ سے باخبر کر دوں کہ اب بادشاہ مسلمان موحد ہے اور قوم بھی مسلمان ہے، وہ ملنے کے لئے آئے ہیں، ایسا نہ ہو کہ اطلاع سے پہلے آپ پہونچیں، تو وہ سمجھیں کہ ہمارا دشمن بادشاہ چڑھ آیا ہے، اس کے مطابق تملیخا نے پہلے جا کر ساتھیوں کو تمام حالات سنائے تو وہ لوگ اس سے بہت خوش ہوئے، بادشاہ کا استقبال تعظیم کے ساتھ کیا، پھر وہ اپنے غار کی طرف لوٹ گئے، اور اکثر روایات میں یہ ہے کہ جس وقت تملیخا نے ساتھیوں کو یہ سارا قصہ سنایا، اسی وقت سب کی وفات ہوگئی، بادشاہ سے ملاقات نہیں ہوسکی، بحر محیط میں ابو حیان نے اس جگہ یہ روایت نقل کی ہے کہ ملاقات کے بعد اہل غار نے بادشاہ اور اہل شہر سے کہا کہ اب ہم آپ سے رخصت چاہتے ہیں اور غار کے اندر چلے گئے، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان سب کو وفات دیدی، واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
بہر حال اب اہل شہر کے سامنے یہ واقعہ عجیبہ قدرت آلہیہ کا واشگاف ہو کر آ گیا تو سب کو یقین
ہوگیا کہ جس ذات کی قدرت میں یہ داخل ہے کہ تین سو برس تک زندہ انسانوں کو بغیر کسی غذا اور
سامان زندگی کے زندہ رکھے اور اس طویل عرصہ تک ان کو نیند میں رکھنے کے بعد پھر صحیح سالم،
قوی، تندرست اٹھاوے اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مرنے کے بعد بھی پھر ان اجسام کو زندہ
کر دے، اس واقعہ سے ان کے انکار کا سبب دور ہوگیا کہ حشر اجساد کو مستبعد اور خارج از قدرت سمجھتے تھے، اب معلوم ہوا کہ مالک الملکوت کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کرنا خود جہالت ہے۔
اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا (آیت) لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا یعنی ہم نے اصحاب کہف کو زمانہ دراز تک سلانے کے بعد جگا کر بٹھا دیا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ اللہ کا وعدہ یعنی قیامت میں سب مردوں کے اجسام کو زندہ کرنے کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔
اصحاب کہف کی وفات کے بعد لوگوں میں اختلاف رائے۔
اصحاب کہف کی بزرگی اور تقدس کے تو سب ہی قائل ہوچکے تھے، ان کی وفات کے بعد سب کا خیال ہوا کہ غار کے پاس کوئی عمارت بطور یادگار کے بنائی جائے، عمارت کے بارے میں اختلاف رائے ہوا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل شہر میں اب بھی کچھ بت پرست لوگ موجود تھے وہ بھی اصحاب کہف کی زیارت کو آتے تھے ان لوگوں نے عمارت بنانے میں یہ رائے دی کہ کوئی رفاہ عام کی عمارت بنادی جائے مگر ارباب حکومت اور بادشاہ مسلمان تھے، اور انہی کا غلبہ تھا، ان کی رائے یہ ہوئی کہ یہاں مسجد بنادی جائے جو یادگار بھی رہے اور آئندہ بت پرستی سے بچانے کا سبب بھی بنے یہاں اختلاف رائے کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں قرآن کا یہ جملہ ہے رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ ، یعنی ان کا رب ان کے حالات کو پوری طرح جانتا ہے۔
تفسیر بحر محیط میں اس جملے کے معنی میں دو احتمال ذکر کئے ہیں ایک یہ کہ یہ قول انہی حاضرین اہل شہر کا ہو، کیونکہ ان کی وفات کے بعد جب ان کی یادگار بنانے کی رائے ہوئی جو جیسا عموما یادگاری تعمیرات میں ان لوگوں کے نام اور خاص حالات کا کتبہ لگایا جاتا ہے جن کی یادگار میں تعمیر کی گئی ہے تو ان کے نسب اور حالات کے بارے میں مختلف گفتگو ہونے لگیں، جب کسی حقیقت پر نہ پہنچنے تو خود انہوں نے ہی آخر میں عاجز ہو کر کہہ دیا رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ اور یہ کہہ کر اصل کام یعنی یادگار بنانے کی طرف متوجہ ہوگئے، جو لوگ غالب تھے ان کی رائے مسجد بنانے کی ہوگئ۔
دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ کلام حق تعالیٰ کی طرف سے ہے، جس میں اس زمانے کے باہم جھگڑا اور اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جب تمہیں حقیقت کا علم نہیں، اور اس کے علم کے ذرائع بھی تمہارے پاس نہیں تو کیوں اس بحث میں وقت ضائع کرتے ہو، اور ممکن ہے کے زمانہ رسول اللہ ﷺ میں یہود وغیرہ جو اس واقعہ میں اسی طرح کی بےاصل باتیں اور بحثیں کیا کرتے تھے، ان کو تنبیہ مقصود ہو، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مسئلہاس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ اولیاء صلحاء کی قبور کے پاس نماز کے لئے مسجد بنادینا کوئی گناہ نہیں، اور جس حدیث میں قبور انبیاء کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کے الفاظ آئے ہیں، اس سے مراد خود قبور کو سجدہ گاہ بنادینا ہے، جو باتفاق شرک و حرام ہے (مظہری)
Ayah 18:22خلاصہ تفسیر۔
(جس وقت اصحاب کہف کا قصہ بیان کریں گے تو) بعضے لوگ تو کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعضے کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے (اور) یہ لوگ بےتحقیق بات کو ہانک رہے ہیں اور بعضے کہیں گے کہ وہ سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے، آپ (ان اختلاف کرنے والوں سے) کہہ دیجئے کہ میرا رب ان کی تعداد خوب (صحیح صحیح) جانتا ہے (کہ ان مختلف اقوال میں کوئی قول صحیح بھی ہے یا سب غلط ہیں) ان (کی تعداد) کو (صحیح صحیح) جانتا ہے (کہ ان مختلف اقوال میں کوئی قول صحیح بھی ہے یا سب غلط ہیں) ان (کی تعداد) کو صحیح صحیح) بہت کم لوگ جاتنے ہیں (اور چونکہ تعداد متعین کرنے میں کوئی خاص فائدہ نہیں تھا، اس لئے آیت میں کوئی صریح فیصلہ نہیں فرمایا، لیکن روایات میں حضرت ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ سے یہ منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا انا من القلیل کانوا سبعۃ یعنی میں بھی ان قلیل لوگوں میں داخل ہوں جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا کہ کم لوگ جانتے ہیں وہ سات تھے، کذا فی الدرالمنثور عن ابی حاتم وغیرہ، اور آیت میں بھی اس قول کی صحت کا اشارہ پایا جاتا ہے، کیونکہ اس قول کو نقل کر کے اس کو رد نہیں فرمایا، بخلاف پہلے دونوں قول کے کہ ان کے تردید میں رجما بالغیب فرمایا گیا ہے، (واللہ اعلم) سو (اس پر بھی اگر وہ لوگ اختلاف سے باز نہ آویں تو) آپ اس معاملہ میں بجز سرسری بحث کے زیادہ بحث نہ کیجئے (یعنی مختصر طور پر تو ان کے خیالات کا رد قرآن کی آیات میں آ ہی چکا ہے جو رجما بالغیب، قل ربی اعلم سے بیان کردیا گیا ہے، پس سرسری بحث یہی ہے کہ اس پر اکتفا کریں، ان کے اعتراض کے جواب میں اس سے زیادہ مشغول ہونا اور اپنے دعوے کے اثبات میں زیادہ کاوش کرنا مناسب نہیں کہ یہ بحث ہی کوئی خاص فائدہ نہیں رکھتی) اور آپ ان (اصحاب کہف) کے بارے میں ان لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ نہ پوچھئے (جس طرح آپ کو ان کے اعتراض و جواب میں زیادہ کاوش سے منع کیا گیا، اسی طرح اس کی بھی ممانعت فرما دی کہ اب اس معاملہ کے متعلق کسی سے سوال یا تحقیق کرنے، کیونکہ جتنی بات ضروری تھی وہ وحی میں آگئی غیر ضروری سوالات اور تحقیقات شان انبیاء کے خلاف ہے)۔
معارف و مسائل۔
اختلافی بحثوں میں گفتگو کے آداب
سَيَقُوْلُوْنَ یعنی وہ لوگ کہیں گے، وہ کہنے والے کون لوگ ہیں، اس میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ مراد ان سے وہی لوگ ہوں جن کا باہم اختلاف اصحاب کہف کے زمانے میں ان کے نام و نسب وغیرہ کے متعلق ہوا تھا جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آیا ہے انہی لوگوں میں سے بعض نے عدد کے متعلق پہلا بعض نے دوسرا، بعض نے تیسرا قول اختیار کیا تھا۔ (ذکرہ فی البحر عن الماوردی)
اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ سَيَقُوْلُوْنَ کی ضمیر نصاری نجران کی طرف عائد ہو، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی تعداد کے بارے میں مناظرہ کیا تھا، ان کے تین فرقے تھے ایک فرقہ ملکانیہ کے نام سے موسوم تھا، اس نے تعداد کے متعلق پہلا قول کہا، یعنی تین کا عدد بتلایا، دوسرا فرقہ یعقوبیہ تھا، اس نے دوسرا یعنی پانچ ہونا اختیار کیا، تیسرا فرقہ نسطوریہ تھا اس نے تیسرا قول کہا کہ سات تھے، اور بعض نے کہا کہ یہ تیسرا قول مسلمانوں کا تھا، اور بالاخر رسول اللہ ﷺ کی خبر اور قرآن کے اشارے سے تیسرے قول کا صحیح ہونا معلوم ہوا (بحر محیط) یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اس جگہ اصحاب کہف کی تعداد میں تین قول نقل کئے گئے ہیں، تین، پانچ، سات، اور ہر ایک کے بعد ان کے کتے کو شمار کیا گیا ہے، لیکن پہلے دو قول میں ان کی تعداد اور کتے کے شمار میں واؤ عاطفہ نہیں لایا گیا، ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ اور خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ بلا واو عاطفہ کے آیا، اور تیسرے قول میں سبعۃ کے بعد واو عاطفہ کے ساتھ وَّثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ فرمایا۔
اس کی وجہ حضرات مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ عرب کے لوگوں میں عدد کی پہلی گرہ سات ہی ہوتی تھی، سات کے بعد جو عدد آئے وہ الگ سا شمار ہوتا تھا، جیسا کہ آجکل نو کا عدد اس کے قائم مقام ہے کہ نو تک اکائی ہے، دس سے دہائی شروع ہوتی ہے، ایک الگ سا عدد ہوتا ہے اسی لئے تین سے لے کر سات تک جو تعداد شمار کرتے تو اس میں واؤ عطف نہیں لاتے تھے سات کے بعد کوئی عدد بتلانا ہوتا تو واؤ عاطفہ کے ساتھ الگ کر کے بتلاتے تھے، اور اسی لئے اس واؤ کو واؤ ثمان کا لقب دیا جاتا تھا (مظہری وغیرہ)
اسماء اصحاب کہف
اصل بات تو یہ ہے کہ کسی صحیح حدیث سے اصحاب کہف کے نام صحیح صحیح ثابت نہیں تفسیری اور تاریخی روایات میں نام مختلف بیان کئے گئے ہیں، ان میں اقرب وہ روایت ہے جس کو طبرانی نے معجم اوسط میں بسند صحیح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان کے نام یہ تھے۔
مکسلمینا، تملیخا، مرطونس، سنونس، سارینونس، ذونواس، کعسططیونس
(آیت) فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۗءً ظَاهِرًا ۠ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا یعنی آپ اصحاب کہف کی تعداد وغیرہ کے متعلق ان کے ساتھ بحث و مباحثہ میں کاوش نہ کریں، بلکہ سرسری بحث فرما دیں، اور ان لوگوں سے آپ خود بھی کوئی سوال اس کے متعلق نہ کریں۔
اختلافی معاملات میں طویل بحثوں سے اجتناب کیا جائےان دونوں جملوں میں رسول اللہ ﷺ کو جو تعلیم دی گئی ہے وہ درحقیقت علماء امت کے لئے اہم رہنما اصول ہیں، کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف پیش آئے تو جس قدر ضروری بات ہے اس کو واضح کر کے بیان کردیا جائے اس کے بعد بھی لوگ غیر ضروری بحث میں الجھیں تو ان کے ساتھ سرسری گفتگو کر کے بحث ختم کردی جائے، اپنے دعوے کے اثبات میں کاوش اور ان کی بات کی تردید میں بہت زور لگانے سے گریز کیا جائے کہ اس کا کوئی خاص فائدہ تو ہے نہیں، مزید بحث و تکرار میں وقت کی اضاعت بھی ہے اور باہم تلخی پیدا ہونے کا خطرہ بھی۔
دوسری ہدایت دوسرے جملے میں یہ دی گئی ہے کہ وحی آلہی کے ذریعہ سے قصہ اصحاب کہف کی جتنی معلومات آپ کو دے دیگئی ہیں ان پر قناعت فرما دیں کہ وہ بالکل کافی ہیں، زائد کی تحقیقات اور لوگوں سے سوال وغیرہ میں نہ پڑیں، اور دوسروں سے سوالات کا ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی جہالت یا ناواقفیت ظاہر کرنے اور ان کو رسوا کرنے کے لئے سوال کیا جائے یہ بھی اخلاق انبیاء کے خلاف ہے، اس لئے دوسرے لوگوں سے دونوں طرح کے سوال کرنا ممنوع کردیا گیا، یعنی تحقیق مزید کے لئے ہو یا مخاطب کی تجہیل و رسوائی کے لئے ہو۔
Ayah 18:23خلاصہ تفسیر۔
(اور اگر لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ ضرور ملا لیا کریں، بلکہ وعدہ کی بھی تخصیص نہیں، ہر ہر کام میں اس کا لحاظ رکھیں کہ) آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو (مثلا) کل کر دوں گا مگر خدا کے چاہنے کو (اس کے ساتھ) ملا دیا کیجئے (یعنی انشاء اللہ وغیرہ بھی ساتھ کہہ دیا کیجئے، اور آئندہ ایسا نہ ہو جیسا اس واقعہ میں پیش آیا کہ آپ سے لوگوں نے روح اور اصحاب کہف اور ذو القرنین کے متعلق سوالات کئے، آپ نے بغیر انشاء اللہ کہے ان سے کل جواب دینے کا وعدہ کرلیا، پھر پندرہ روز تک وحی نازل نہ ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس ہدایت کے ساتھ ان لوگوں کے سوال کا جواب بھی نازل ہوا (کذا فی اللباب عن ابن عباس) اور جب آپ (اتفاقا انشاء اللہ کہنا) بھول جاویں (اور پھر کبھی یاد آوے) تو (اسی وقت انشاء اللہ کہہ کر) اپنے رب کا ذکر کرلیا کیجئے اور (ان لوگوں سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ مجھ کو امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (نبوت کی دلیل بننے کے اعتبار سے) اس (قصہ) سے بھی نزدیک تر بات بتلاوے (مطلب یہ ہے کہ تم نے میری نبوت کا امتحان لینے کے لئے اصحاب کہف وغیرہ کے قصے دریافت کئے، جو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے بتلا کر تمہارا اطمینان کردیا، مگر اصل بات یہ ہے کہ ان قصوں کے سوال و جواب اثبات نبوت کے لئے کوئی بہت بڑی دلیل نہیں ہو سکتی، یہ کام تو کوئی غیر نبی بھی جو تاریخ عالم سے زیادہ واقف ہو وہ بھی کرسکتا ہے، مگر مجھے تو اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کے اثبات کے لئے اس بھی بڑے قطعی دلائل اور معجزات عطا فرمائے ہیں، جن میں سب سے بڑی دلیل تو خود قرآن ہے، جس کی ایک آیت کی بھی ساری دنیا مل کر نقل نہیں اتار سکی۔
اس کے علاوہ حضرت آدم ؑ سے لے کر قیامت تک کے وہ واقعات بذریعہ وحی مجھے بتلا دئیے گئے ہیں جو زمانے کے اعتبار سے بھی بہ نسبت واقعہ اصحاب کہف و ذو القرنین کے زیادہ بعید ہیں، اور ان کا علم بھی کسی کے لئے بجز وحی کے ممکن نہیں ہو سکتا، خلاصہ یہ ہے کہ تم نے تو اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات کو سب سے زیادہ عجیب سمجھ کر اسی کو امتحان نبوت کے سوال میں پیش کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بھی زیادہ عجیب عجیب چیزوں کے علوم عطا فرمائے ہیں) اور (جیسا اختلاف ان لوگوں کا اصحاب کہف کے عدد میں ہے ایسا ہی ان کے سوتے رہنے کی مدت میں بھی بہت اختلاف ہے، ہم اس میں صحیح بات بتلاتے ہیں کہ) وہ لوگ اپنے غار میں (نیند کی حالت میں) تین سو برس تک رہے اور نو برس اوپر اور رہے (اور اگر اس صحیح بات کو سن کر بھی وہ اختلاف کرتے رہے تو) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے (سوتے) رہنے کی مدت کو (تو تم سے) زیادہ جانتا ہے (اس لئے جو اس نے بتلا دیا وہی صحیح ہے اور اس واقعہ کی کیا تخصیص ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ) تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے وہ کیسا کچھ دیکھنے والا کیسا کچھ سننے والا ہے، ان کا خدا کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ اللہ کسی کو اپنے حکم میں شریک (کیا) کرتا ہے (خلاصہ یہ ہے کہ نہ اس کا کوئی مزاحم ہے نہ شریک، ایسی ذات عظیم کی مخالفت سے بہت ڈرنا چاہئے)۔
معارف و مسائل۔
مذکور الصدر چار آیتوں پر قصہ اصحاب کہف ختم ہو رہا ہے، ان میں سے پہلی دو آیتوں میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے کا وعدہ یا اقرار کرنا ہو تو اس کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ کا کلمہ ملا لیا کرو، کیونکہ آئندہ کا حال کس کو معلوم ہے کہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں، اور زندہ بھی رہا تو یہ کام کرسکے گا یا نہیں، اس لئے مومن کو چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ دل میں بھی کرے اور زبان سے اس کا اقرار کرے کہ اگلے دن میں کسی کام کے کرنے کو کہے تو یوں کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں یہ کام کل کروں گا، یہی معنی ہیں کلمہ انشاء اللہ کے۔
تیسری آیت میں اس اختلافی بحث کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں زمانہ اصحاب کہف کے لوگوں کی رائیں بھی مختلف تھیں، اور موجودہ زمانے کے یہود و نصاری کے اقوال بھی مختلف تھے یعنی غار میں سوتے رہنے کی مدت، اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ وہ تین سو نو سال تھے، گویا یہ اس اجمال کا بیان ہے جو شروع قصہ میں بیان ہوا تھا، (آیت) فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًا۔
اس کے بعد چوتھی آیت میں پھر اس سے اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ حقیقت حال کی تم کو خبر نہیں، اس کا جاننے والا وہی اللہ تعالیٰ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سب غائبات کو جاننے والا سمیع وبصیر ہے، اس نے جو مدت تین سو نو سال کی بتلا دی اس پر مطمئن ہوجانا چاہئے۔
Ayah 18:24آئندہ کام کرنے پر انشاء اللہ کہنا
لباب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے پہلی دو آیتوں کے شان نزول کے متعلق یہ نقل کیا ہے کہ جب اہل مکہ نے یہود کی تعلیم کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے قصہ اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان سے کل جواب دینے کا وعدہ بغیر انشاء اللہ کہے ہوئے کرلیا تھا، مقربین بارگاہ کی ادنی سی کوتاہی پر تنبیہ ہوا کرتی ہے، اس لئے پندرہ روز تک وحی نہ آئی، اور آنحضرت ﷺ کو بڑا غم ہوا، اور مشرکین مکہ کو ہنسنے اور مذاق اڑانے کا موقع ملا، پندرہ روز کے اس وقفہ کے بعد جب اس سورة میں سوالات کا جواب نازل ہوا تو اس کے ساتھ ہی یہ دو آیتیں ہدایت دینے کے لئے نازل ہوئیں کہ آئندہ کسی کام کے کرنے کو کہنا ہو تو انشاء اللہ کہہ کر اس کا اقرار کرلیا کریں کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کے ارادے اور مشیت پر موقوت ہے، ان دونوں آیتوں کو قصہ اصحاب کہف کے ختم پر لایا گیا ہے۔
مسئلہاس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں انشاء اللہ کہنا مستحب ہے، دوسرے یہ معلوم ہوا کہ اگر بھولے سے یہ کلمہ کہنے سے رہ جائے تو جب یاد آئے اسی وقت کہہ لے یہ حکم اس مخصوس معاملہ کے لئے ہے جس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں، یعنی محض تبرک اور اقرار عبدیت کے لئے یہ کلمہ کہنا مقصود ہوتا ہے، کوئی تعلیق اور شرط لگانا مقصود نہیں ہوتا اس لئے اس سے لازم نہیں آتا کہ معاملات بیع و شرا اور معاہدات میں جہاں شرطیں لگائی جاتی ہیں، اور شرط لگانا طرفین کے لئے معاہدہ کا مدار ہوتا ہے وہاں بھی اگر معاہدہ کے وقت کوئی شرط لگانا بھول جائے تو پھر کبھی جب یاد آجائے جو چاہے شرط لگا لے، اس مسئلے میں بعض فقہا کا اختلاف بھی ہے، جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔
Ayah 18:25ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصحاب کہف کے معاملے میں خود ان کے زمانے میں، پھر عہد نبوی کے اندر یہود و نصاری میں دو باتیں زیر اختلاف تھیں ایک اصحاب کہف کی تعداد دوسری غار میں ان کے سوتے رہنے کی مدت، قرآن نے ان دونوں کو بیان تو کردیا، مگر اس فرق کے ساتھ ان کی تعداد کا بیان صریح الفاظ میں نہیں آیا، اشارے کے طور پر آیا، کہ جو قول صحیح تھا اس کی تردید نہیں کی اور مدت کی تعیین کو صاف وصریح الفاظ میں بتلایا وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا وجہ یہ ہے کہ قرآن نے اپنے اس اسلوب سے اس طرف اشارہ فرمایا کہ تعداد کی بحث تو بالکل ہی فضول ہے، اس سے کسی دینوی دینی مسئلہ کا تعلق نہیں البتہ مدت دراز تک خلاف عادت انسانی سوتے رہنا اور بغیر غذا کے صحیح تندرست رہنا پھر اتنے عرصہ کے بعد صحت مند اور قوی اٹھ کر بیٹھ جانا ایک نظیر حشر ونشر کی ہے اس سے مسئلہ قیامت و آخرت پر استدلال ہوسکتا ہے، اس لئے اس کو بصراحت بیان کردیا۔
جو لوگ معجزات اور خوارق عادات کے منکر ہیں یا کم از کم آج کل کے مستشرقین یہود و نصاری کے اعتراضات سے مرعوب ہو کر ان میں تاویلیں کرنے کے خوگر ہوگئے ہیں انہوں نے اس آیت میں بھی حضرت قتادہ کی تفسیر کا سہارا لے کر تین سے نو سال کی مدت انہی لوگوں کا قول قرار دے کر رد کرنا چاہا ہے، مگر اس پر غور نہیں کیا کہ قرآن کے ابتدائی جملے میں جو لفظ سِنِيْنَ عَدَدًا کا آیا ہے اس کو تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کا قول نہیں کہا جاسکتا، خرق عادت اور کرامت کے ثبوت کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ سالہا سال کوئی سوتا رہے اور پھر صحیح، تندرست زندہ اٹھ کر بیٹھ جائے۔ واللہ اعلم
Ayah 18:26تیسری آیت میں جو غار میں سونے کی مدت تین سو نو سال بتلائے ہیں، ظاہر نسق قرآن سے یہی ہے کہ یہ بیان مدت حق تعالیٰ کی طرف سے ہے ابن کثیر نے اسی کو جمہور مفسرین سلف، خلف کا قول قرار دیا ہے، ابوحیان اور قرطبی وغیرہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، مگر حضرت قتادہ وغیرہ سے اس میں ایک دوسرا قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہ تین سو نو سال کا قول بھی انہی اختلاف کرنے والوں میں سے بعض کا قول ہے، اور اللہ تعالیٰ کا قول صرف وہ ہے جو بعد میں فرمایا یعنی اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کیونکہ پہلا قول تین سو نو کے متعین کرنے کا اگر اللہ کا کلام ہوتا تو اس کے بعد اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کہنے کا موقع نہ تھا، مگر جمہور مفسرین نے فرمایا کہ یہ دونوں جملے حق تعالیٰ کا کلام ہیں پہلے میں حقیقت واقیہ کا بیان ہے اور دوسرے میں اس سے اختلاف کرنے والوں کو تنبیہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدت کا بیان آ گیا تو اب اس کو تسلیم کرنا لازم ہے، وہی جاننے والا ہے، محض تخمینوں اور رایوں سے اس کی مخالفت بےعقلی ہے۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بیان مدت میں پہلے تین سو سال بیان کئے اس کے بعد فرمایا کہ ان تین سو پر نو اور زیادہ ہوگئے، پہلے ہی تین سو نو نہیں فرمایا اس کا سبب حضرات مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ یہود و نصاری میں چونکہ شمسی سال کا رواج تھا اس کے حساب سے تین سو سال یہ ہونے ہیں، اور اسلام میں رواج قمری سال کا ہے اور قمری حساب میں ہر سو سال پر تین سال بڑھ جاتے ہیں، اس لئے تین سو سال شمسی پر قمری حساب سے نو سال مزید ہوگئے، ان دونوں سالوں کا امتیاز بتانے کے لئے عنوان تعبیر یہ اختیار کیا گیا۔
Ayah 18:27خلاصہ تفسیر
اور (آپ کا کام صرف اس قدر ہے کہ) آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے وہ (لوگوں کے سامنے) پڑھ دیا کیجئے (اس سے زیادہ اس کی فکر میں نہ پڑیں کہ دنیا کے بڑے لوگ اگر اسلام کی مخالفت کرتے رہے تو دین کو ترقی کس طرح ہوگی، کیونکہ اس کا اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرما لیا ہے اور) اس کی باتوں کو (یعنی وعدوں کو) کوئی نہیں بدل سکتا (یعنی ساری دنیا کے مخالف بھی مل کر اللہ کو وعدہ پورا کرنے سے نہیں روک سکتے اور اللہ تعالیٰ خود اگرچہ تبدیلی پر قدرت رکھتے ہیں مگر وہ تبدیل نہیں کریں گے) اور (اگر آپ نے ان بڑے لوگوں کی دل جوئی اس طرح کی جس سے احکام الہی ترک ہوجاویں تو پھر) آپ خدا کے سوا کوئی پناہ نہ پاویں گے (اگرچہ احکام آلہیہ کا ترک رسول اللہ ﷺ سے بدلائل شرعیہ محال ہے، یہاں مبالغہ اور تاکید کے لئے بفرض محال یہ کہا گیا ہے) اور (جیسا کہ کفار کے امیروں اور رئیسوں سے آپ کو مستغنی رہنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح فقراء مسلمین کے حال پر مزید توجہ کا آپ کو حکم ہے پس) آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ (بیٹھنے میں) مقید رکھا کیجئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لئے کرتے ہیں (کوئی غرض دنیوی نہیں) اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے پاویں (رونق دنیا کے خیال سے مراد یہ ہے کہ رئیس لوگ مسلمان ہوجاویں تو اسلام کی رونق بڑھے گی، اس آیت میں بتلا دیا گیا کہ اسلام کی رونق مال و متاع سے نہیں بلکہ اخلاص و اطاعت سے ہے وہ غریب فقیر لوگوں میں ہو تو بھی رونق اسلام کی بڑھے گی) اور ایسے شخص کا کہنا (غریبوں کو مجلس سے ہٹا دینے کے متعلق) نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے (اس کے عناد کی سزا میں) اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے، اور اس کا یہ حال (یعنی اتباع ہوی) حد سے گزر گیا ہے اور آپ (ان رؤ سا کفار سے صاف) کہہ دیجئے کہ (یہ دین) حق تمہارے رب کی طرف سے (آیا) ہے، سو جس کا جی چاہے ایمان لاوے اور جس کا جی چاہے کافر رہے (ہمارا کوئی نفع نقصان نہیں، بلکہ نفع نقصان خود اس کا ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) بیشک ہم نے ایسے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس آگ کی قناتیں ان کو گھیرے ہوں گی (یعنی وہ قناتیں بھی آگ ہی کی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ یہ لوگ اس گھیرے سے نہ نکل سکیں گے) اور اگر (پیاس سے) فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جاوے گی جو (مکروہ صورت ہونے میں تو) تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا (اور تیز گرم ایسا ہوگا کہ پاس لاتے ہی) مونہوں کو بھون ڈالے گا (یہاں تک کہ چہرے کی کھال اتر کر گر پڑے گی جیسا کہ حدیث میں ہے) کیا یہی برا پانی ہوگا اور وہ دوزخ بھی کیا ہی بری جگہ ہوگی (یہ تو ایمان نہ لانے کا ضرر ہوا، اور ایمان لانے کا نفع یہ ہے کہ) بیشک جو اچھی طرح کام کو کرے، ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں ان کے (مساکن کے نیچے) نہریں بہتی ہوں گی ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور دبیز ریشم کے پہنیں گے (اور) وہاں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، کیا ہی اچھا صلہ ہے اور (جنت) کیا ہی اچھی جگہ ہے۔
Ayahs 18:28–30معارف و مسائل
دعوت و تبلیغ کے خاص آدابوَاصْبِرْ نَفْسَكَ اس آیت کے شان نزول میں چند واقعات مذکور رہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ سب ہی اس ارشاد کا سبب بنے ہوں بغوی نے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری مکہ کا رئیس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی ؓ بیٹھے ہوئے تھے جو فقرا صحابہ میں سے تھے، ان کا لباس خستہ اور ہئیت فقیرانہ تھی، اور بھی اسی طرح کے کچھ فقراہ غربا مجمع میں تھے، عیینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں، ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں، یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس بنادیں اور ان کے لئے الگ۔
ابن مردویہ نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ امیہ بن خلف حمجحی نے رسول اللہ ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ غریب فقیر شکستہ حال مسلمانوں کو آپ اپنے قریب نہ رکھیں، بلکہ مکہ اور قریش کے سرداروں کو ساتھ لگائیں، یہ لوگ آپ کا دین قبول کرلیں گے تو دین کو ترقی ہوگی۔
اس طرح کے واقعات پر یہ ارشاد ربانی نازل ہوا، جس میں ان کا مشورہ قبول کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا، اور صرف یہی نہیں کہ ان کو اپنی مجلس سے ہٹائیں نہیں، بلکہ حکم یہ دیا گیا کہ واصْبِرْ نَفْسَكَ ، یعنی آپ اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ باندھ کر رکھیں، اس کا یہ مفہوم نہیں کہ کسی وقت جدا نہ ہوں، بلکہ مراد یہ ہے کے تعلقات اور توجہات سب ان لوگوں کے ساتھ وابستہ رہیں، معاملات میں انہی سے مشورہ لیں، انہی کی امدا و اعانت سے کام کریں، اور اس کی وجہ اور حکمت ان الفاظ سے بتلا دی گئی کہ یہ لوگ صبح شام یعنی ہر حال میں اللہ کو پکارتے اور اسی کا ذکر کرتے ہیں، ان کا جو عمل ہے وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہے، اور یہ سب حالات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کو کھینچتے ہیں، اللہ کی مدد ایسے ہی لوگوں کے لئے آیا کرتی ہے، چند روز کی کس مپرسی سے گھبرائیں نہیں، انجام کار فتح و نصرت انہی کو حاصل ہوگی۔
اور روسا قریش کا مشورہ قبول کرنے کی ممانعت کی وجہ بھی آخرت میں یہ بتلائی کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہیں اور ان کے سب کام اپنی تفسانی خواہشات کے تابع ہیں، اور یہ حالات اللہ تعالیٰ کی رحمت و نصرت سے ان کو دور کرنے والے ہیں۔
Ayah 18:31یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ مشورہ تو قابل عمل تھا کہ ان کے لئے ایک مجلس علیحدہ کردی جاتی، تاکہ ان کو اسلام کی دعوت پہونچانے میں اور ان لوگوں کو قبول کرنے میں سہولت ہوتی، مگر اس طرح کی تقسیم میں سرکش مالداروں کا ایک خاص اعزاز تھا، جس سے غریب مسلمانوں کی دل شکنی یا حوصلہ شکنی ہو سکتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو گوارا نہ فرمایا، اور اصول دعوت و تبلیغ یہی قرار دے دیا کہ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہ ہونا چاہیے، واللہ اعلم
اہل جنت کے لئے زیور
يُحَلَّوْنَ فِيْهَا اس آیت میں اہل جنت مردوں کو بھی سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر ہے، اس پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ زیور پہننا تو مردوں کے لئے نازیبا ہے، نہ کوئی جمال اور زینت، جنت میں اگر ان کو کنگن پہنائے گئے تو وہ ان کو بدہیئت کردیں گے۔
جواب یہ ہے کہ زینت و جمال عرف و رواج کے تابع ہے، ایک ملک اور خطے میں جو چیز زینت و جمال سمجھی جاتی ہے دوسرے ملکوں اور خطوں میں بسا اوقات وہ قابل نفرت قرار دی جاتی ہے، اور ایسا ہی اس کے برعکس بھی ہے، اسی طرح ایک زمانہ میں ایک خاص چیز زینت ہوتی ہے دوسرے زمانے میں وہ عیب ہوجاتا ہے، جنت میں مردوں کے لئے بھی زیور اور ریشمی کپڑے زینت و جمال قرار دئے جائیں گے تو وہاں اس سے کسی کو اجنبیت کا احساس نہ ہوگا، یہ صرف دنیا کا قانون ہے، کہ یہاں مردوں کو سونے کا کوئی زیور یہاں تک کہ انگوٹھی اور گھڑی کی چین بھی سونے کی استعمال کرنا جائز نہیں، اسی طرح ریشمی کپڑے مردوں کے لئے جائز نہیں، جنت کا یہ قانون نہ ہوگا وہ اس سارے جہان سے الگ ایک عالم ہے اس کو اس بنا پر کسی چیز میں بھی قیاس نہیں کیا جاسکتا۔