Ayah 18:66شاگرد پر استاد کا اتباع لازم ہے
(آیت) هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓي اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا اس میں حضرت موسیٰ ؑ نے باوجود نبی و رسول اور اولو العزم پیغمبر ہونے کے حضرت خضر ؑ سے تعظیم و تکریم کے ساتھ درخواست کی کہ میں آپ سے آپ کا علم سیکھنے کے لئے ساتھ چلنا چاہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ تحصیل علم کا ادب یہی ہے کہ شاگرد اپنے استاذ کی تعظیم و تکریم اور اتباع کرے اگرچہ شاگرد اپنے استاذ سے افضل واعلیٰ بھی ہو (قرطبی مظہری)
Ayahs 18:67–70عالم شریعت کیلئے جائز نہیں کہ خلاف شرع امر پر صبر کرے
(آیت) اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلٰي مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا حضرت خضر ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے اور کیسے صبر کریں گے جب کہ آپ کو حقیقت امر کی اطلاع نہ ہو مطلب یہ تھا کہ مجھے جو علم عطا ہوا ہے اس کی نوعیت آپ کے علم سے مختلف ہے اس لئے آپ کو میرے معاملات قابل اعتراض نظر آئیں گے جب تک کہ میں ان کی حقیقت سے آپ کو مطلع نہ کر دوں آپ اپنے فرض منصبی کی بناء پر اس پر اعتراض کریں گے۔
حضرت موسیٰ ؑ کو چونکہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس جانے اور ان سے علم سیکھنے کا حکم ہوا تھا اس لئے یہ اطمینان تھا کہ ان کا کوئی فعل درحقیقت خلاف شرع نہیں ہوگا گو ظاہر میں سمجھ میں نہ آئے اس لئے صبر کرنے کا وعدہ کرلیا ورنہ ایسا وعدہ کرنا بھی کسی عالم دین کے لئے جائز نہیں لیکن پھر شریعت کے بارے میں دینی غیرت کے جذبہ سے مغلوب ہو کر اس وعدہ کو بھول گئے۔
پہلا واقعہ تو زیادہ سنگین بھی نہ تھا صرف کشتی والوں کا مالی نقصان یا غرق ہونے کا صرف خطرہ ہی تھا جو بعد میں رفع ہوگیا لیکن بعد کے واقعات میں موسیٰ ؑ نے یہ وعدہ بھی نہیں کیا کہ میں اعتراض نہیں کروں گا اور جب لڑکے کے قتل کا واقعہ دیکھا تو شدت کے ساتھ اعتراض کیا اور اپنے اعتراض پر کوئی عذر بھی پیش نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ اگر آئندہ اعتراض کروں تو آپ کو حق ہوگا کہ مجھے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ کسی نبی اور پیغمبر سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا کہ خلاف شرع کام ہوتا دیکھ کر صبر کرے البتہ چونکہ دوسری طرف بھی پیغمبر ہی تھے اس لئے بالآخر حقیقت کا انکشاف اس طرح ہوا کہ یہ واقعات جزئیہ خضر ؑ کے لئے عام قواعد شرعیہ سے مستثنی کردیئے گئے تھے انہوں نے جو کچھ کیا وحی الہی کے مطابق کیا (مظہری)
علم موسوی اور علم خضری میں ایک بنیادی فرق اور دونوں میں ظاہری تضاد کا حل
یہاں طبعی طور پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خضر ؑ کی تصریح کے مطابق ان کو جو علم عطا ہوا تھا اس کی نوعیت حضرت موسیٰ ؑ کے علم سے مختلف تھی مگر جب کہ یہ دونوں علم حق تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا ہوئے تھے تو ان دونوں کے احکام میں تضاد و اختلاف کیوں ہوا اس کی تحقیق تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے جو لکھی ہے وہ اقرب الی الصواب اور دل کو لگنے والی ہے ان کی تقریر کا مطلب جو میں سمجھا ہوں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
حق تعالیٰ جن حضرات کو اپنی وحی اور نبوت سے سرفراز فرماتے ہیں اور عموماً تو وہی حضرات ہوتے ہیں جن کے سپرد اصلاح خلق کی خدمت ہوتی ہے ان پر کتاب اور شریعت نازل کی جاتی ہے جن میں خلق خدا کی ہدایت اور اصلاح کے اصول و قواعد ہوتے ہیں جتنے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر قرآن کریم میں بتصریح نبوت و رسالت آیا ہے وہ سب کے سب ایسے ہی تھے جن کے سپرد و تشریعی اور اصلاحی خدمات تھیں ان پر جو وحی آتی تھی وہ بھی سب اسی سے متعلق تھی مگر دوسری طرف کچھ تکوینی خدمات بھی ہیں جن کے لئے عام طور سے ملائکۃ اللہ مقرر ہیں مگر زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں بھی حق تعالیٰ نے بعض کو اسی قسم کی تکوینی خدمات کے لئے مخصوص کرلیا ہے حضرت خضر ؑ اسی زمرہ میں سے ہیں تکوینی خدمات واقعات جزئیہ سے متعلق ہوتی ہیں کہ فلاں شخص ڈوبنے والے کو بچا لیا جائے یا فلاں کو ہلاک کردیا جائے فلاں کو ترقی دی جائے فلاں کو زیر کیا جائے ان معاملات کا نہ عام لوگوں سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ ان کے احکام عوام سے متعلق ہوتے ہیں ایسے واقعات جزئیہ میں بعض وہ صورتیں بھی پیش آتی ہیں کہ ایک شخص کو ہلاک کرنا تشریعی قانون کے خلاف ہے مگر تکوینی قانون میں اس خاص واقعہ کو عام تشریعی قانون سے مستثنی کرکے اس شخص کے لئے جائز کردیا گیا جس کو اس تکوینی خدمت پر مامور فرمایا گیا ہے ایسے حالات میں شرعی قوانین کے علماء اس استثنائی حکم سے واقف نہیں ہوتے اور وہ اس کو حرام کہنے پر مجبور ہوتے ہیں اور جو شخص تکوینی طور پر اس قانون سے مستثنی کردیا گیا ہے وہ اپنی جگہ حق پر ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جہاں یہ تضاد نظر آتا ہے وہ درحقیقت تضاد نہیں ہوتا بعض واقعات جزئیہ کا عام قانون شریعت سے استثناء ہوتا ہے ابوحیان نے بحرمحیط میں فرمایا الجمھور علی ان الخضر نبی وکان علمہ معرفۃ بواطن قد اوحیت الیہ وعلم موسیٰ الاحکام والفتیا بالظاہر (بحرمحیط ص 147 ج 6) اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ یہ استثناء بذریعہ وحی نبوت ہو کسی ولی کا کشف والہام ایسا استثناء کرنے کے لئے ہرگز کافی نہیں۔
اسی لئے حضرت خضر ؑ کا لڑکے کو بظاہر ناحق قتل کرنا ظاہر شریعت میں حرام تھا لیکن حضرت خضر تکوینی طور پر اس قانون سے مستثنی کرکے مامور کئے گئے تھے ان پر کسی غیر نبی کے کشف والہام کو قیاس کرکے کسی حرام کو حلال سمجھنا جیسے بعض جاہل صوفیوں میں مشہور ہے بالکل بےدینی اور اسلام سے بغاوت ہے۔
ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ نجدہ حروری (خارجی) نے ابن عباس کو خط لکھا کہ خضر ؑ نے لڑکے نابالغ کو کیسے قتل کردیا جب کہ نبی کریم ﷺ نے نابالغ کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے جواب میں لکھا کہ اگر کسی بچے کے متعلق تمہیں وہ علم حاصل ہوجائے جو موسیٰ ؑ کے عالم (یعنی خضر علیہ السلام) کو حاصل ہوا تھا تو تمہارے لئے بھی نابالغ کا قتل جائز ہوجائے گا مطلب یہ تھا کہ خضر ؑ کو تو بذریعہ وحی نبوت اس کا علم ہوا تھا وہ اب کسی کو ہو نہیں سکتا کیونکہ نبوت ختم ہوچکی ہے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا جس کو بذریعہ وحی اس قسم کے واقعات کے متعلق کسی حکم خداوندی سے کسی خاص شخص کو مستثنی کرنے کا علم ہو سکے (مظہری) اس واقعہ سے بھی یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ کسی شخص کو کسی حکم شرعی سے مستثنی قرار دینے کا نبی صاحب وحی کے سوا کسی کو حق نہیں۔
Ayahs 18:71–73خلاصہ تفسیر
(غرض باہم قول وقرار ہوگیا) پھر دونوں (کسی طرف) چلے (غالباً ان کے ساتھ یوشع ؑ بھی ہوں گے مگر وہ حضرت موسیٰ ؑ کے تابع تھے اس لئے ذکر دو کا کیا گیا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے کسی ایسے مقام پر پہنچنے جہاں کشتی پر سوار ہونے کی ضرورت ہوئی) جب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو ان بزرگ نے اس کشتی (کا ایک تختہ نکال کر اس) میں سوراخ کردیا موسیٰ ؑ نے فرمایا کیا آپ نے اس کشتی میں اس لئے سوراخ کیا ہے کہ اس کے بیٹھنے والوں کو غرق کردیں آپ نے بڑی بھاری (خطرہ کی) بات کی ان بزرگ نے کہ کہا کیا میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا (آخر وہی ہوا آپ اپنے قول پر نہ رہے) موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ (میں بھول گیا تھا) کہ بھول چوک پر گرفت نہ کیجئے اور میرے اس معاملہ (متابعت) میں مجھ پر زیادہ تنگی نہ ڈالئے (کہ بھول چوک بھی معاف نہ ہو بات گئی گذری ہوگئی) پھر دونوں (کشتی سے اتر کر آگے) چلے یہاں تک کہ جب ایک (کم سن) لڑکے سے ملے تو ان بزرگ نے اس کو مار ڈالا موسیٰ (علیہ السلام گھبرا کر) کہنے لگے آپ نے ایک بےگناہ جان کو ہلاک کردیا (اور وہ بھی) بغیر بدلے کسی جان کے بیشک آپ نے بڑی بےجا حرکت کی (کہ اول تو یہ نابالغ کا قتل ہے جس کو قصاص میں بھی قتل کرنا جائز نہیں پھر اس نے تو کسی کو قتل بھی نہیں کیا یہ فعل پہلے فعل سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ اس میں یقینی نقصان تو صرف مال کا تھا بیٹھنے والوں کے غرق کا اگرچہ خطرہ تھا مگر اس کا انسداد کردیا گیا پھر لڑکا نابالغ ہر گناہ سے بری) ان بزرگ نے فرمایا کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا موسیٰ ؑ نے فرمایا (کہ خیر اس مرتبہ اور درگذر کیجئے لیکن) اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی امر کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھئے بیشک آپ میری طرف سے عذر (کی انتہا) کو پہنچ چکے ہیں (اس مرتبہ موسیٰ ؑ نے نسیان کا عذر پیش نہیں کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال انہوں نے قصداً اپنی پیغمبرانہ حیثیت کے مطابق کیا تھا) پھر دونوں (آگے) چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گذر ہوا تو گاؤں والوں سے کھانے کو مانگا (کہ ہم مہمان ہیں) تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا اتنے میں ان کو وہاں ایک دیوار ملی جو گرا ہی چاہتی تھی تو ان بزرگ نے اس کو (ہاتھ کے اشارے سے بطور خرق عادت کے) سیدھا کردیا موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اگر آپ چاہتے تو اس (کام) پر اجرت ہی لے لیتے (کہ اس وقت کام بھی چلتا اور ان کی بدخلقی کی اصلاح بھی ہوتی) ان بزرگ نے کہا یہ وقت ہماری اور آپ کی علیحدگی کا ہے (جیسا کہ آپ نے خود شرط کی تھی) اب میں ان چیزوں کی حقیقت بتلائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (جیسا کہ آیات آئندہ میں اس کا بیان آتا ہے)
معارف و مسائل
(آیت) اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ خضر ؑ نے کلہاڑی کے ذریعہ کشتی کا ایک تختہ نکال دیا تھا جس کی وجہ سے کشتی میں پانی بھر کر غرق ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا اسی لیے حضرت موسیٰ ؑ نے اس پر اعتراض کیا مگر تاریخی روایات میں ہے کہ پانی اس کشتی میں داخل نہیں ہوا خواہ اس لئے کہ خضر ؑ نے ہی پھر اس کی کچھ مرمت کردی جیسے بغوی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ اس تختہ کی جگہ خضر ؑ ایک شیشہ لگا دیا تھا یا بطور معجزہ پانی کشتی میں نہ آیا اتنی بات خود قرآن کریم کے سیاق سے معلوم ہو رہی ہے کہ اس کشتی کو غرقابی کا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا جس سے ان روایات کی تائید ہوتی ہے۔
Ayahs 18:74–76(آیت) حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا لفظ غلام عربی زبان کے اعتبار سے نابالغ لڑکے کو کہا جاتا ہے یہ لڑکا جس کو خضر ؑ نے قتل کیا اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا اور آگے جو اس کے متلعق آیا نَفْسًا زَكِيَّةًۢ اس سے بھی اس کے نابالغ ہونے کی تائید ہوتی ہے کیونکہ زکیہ کے معنی ہیں گناہوں سے پاک اور یہ صفت یا پیغمبر کی ہو سکتی ہے یا نابالغ بچے کی جس کے افعال و اعمال پر مواخذہ نہیں اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔
Ayahs 18:77–78(آیت) اَهْلَ قَرْيَـةِ بستی جس میں حضرت موسیٰ ؑ اور خضر ؑ کا گذر ہوا اور اس کے لوگوں نے ان کی مہمانی سے انکار کیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں انطاکیہ اور ابن سیرین کی روایت میں ایکہ تھی اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ وہ اندلس کی کوئی بستی تھی (مظہری) واللہ اعلم
Ayah 18:79خلاصہ تفسیر
اور وہ جو کشتی تھی سو چند غریب آدمیوں کی تھی (جو اس کے ذریعہ) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے (اسی پر ان کی گذر اوقات تھی) سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور (وجہ اس کی یہ تھی کہ) ان لوگوں سے آگے سے آگے کی طرف ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا (اگر میں کشتی میں عیب ڈال کر بظاہر بیکار نہ کردیتا تو یہ کشتی بھی چھین لی جاتی اور ان غریبوں کی مزدوری کا سہارا بھی ختم ہوجاتا اس لئے توڑنے میں یہ مصلحت تھی) اور رہا وہ لڑکا سو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے (اور اگر وہ بڑا ہوتا تو کافر ظالم ہوتا اور ماں کو اس سے محبت بہت تھی) سو ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان دونوں پر سرکشی اور کفر کا اثر نہ ڈال دے (یعنی بیٹے کی محبت کے سبب وہ بھی بےدینی میں اس کا ساتھ نہ دینے لگیں) پس ہم کو یہ منظور ہوا (اس کا تو قصہ تمام کردیا جائے پھر) اس کے بدلے ان کا پروردگار ان کو ایسی اولاد دے (خواہ لڑکا ہو یا لڑکی) جو کہ پاکیزگی (یعنی دین) میں اس سے بہتر ہو اور (ماں باپ کے ساتھ) محبت کرنے میں اس سے بڑھ کر ہو اور رہی دیوار سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں (رہتے) ہیں اور اس دیوار کے نیچے ان کا کچھ مال مدفون تھا (جو ان کے باپ سے میراث میں پہنچا ہے) اور ان کا باپ (جو مرگیا ہے وہ) ایک نیک آدمی تھا (اس کے نیک ہونے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کے مال کو محفوظ کرنا چاہا اگر دیوار ابھی گر جاتی تو لوگ یہ مال لوٹ لے جاتے اور غالباً جو شخص ان یتیم لڑکوں کا سرپرست تھا اس کو اس خزانے کا علم ہوگا وہ یہاں موجود نہ ہوگا جو انتظام کرلیتا) اس لئے آپ کے رب نے اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ نکال لیں اور (یہ سارے کام میں نے اللہ کے حکم سے کئے ہیں ان میں سے) کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا (جس کو میں حسب وعدہ بتلا چکا ہوں چناچہ حضرت موسیٰ ؑ خضر ؑ سے رخصت ہوگئے)
معارف و مسائل
(آیت) اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ یہ کشتی جن مسکینوں کی تھی ان کے متعلق کعب احبار سے منقول ہے کہ وہ دس بھائی تھے جن میں پانچ اپاہج معذور تھے پانچ محنت مزدوری کرکے سب کے لئے معاش کا انتظام کرتے تھے اور مزدوری ان کی یہ تھی کہ دریا میں ایک کشتی چلاتے اور اس کا کرایہ حاصل کرتے تھے۔
مسکین کی تعریف
بعض لوگوں نے یہ کی ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو مگر اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسکین کی صحیح تعریف یہ ہے کہ جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ اس کی حاجات اصلیہ ضروریہ سے زائد بقدر نصاب ہوجائے اس سے کم مال ہو تو وہ بھی مسکین کی تعریف میں داخل ہے کیونکہ جن لوگوں کو اس آیت میں مساکین کہا گیا ہے ان کے پاس کم از کم ایک کشتی تو تھی جس کی قیمت مقدار نصاب سے کم نہیں ہوتی مگر چونکہ وہ حاجات اصلیہ ضروریہ میں مشغول تھی اس لئے ان کو مساکین ہی کہا گیا (مظہری)
(آیت) مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَةٍ غَصْبًا بغوی نے بروایت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ یہ کشتی جس طرف جارہی تھی وہاں ایک ظالم بادشاہ تھا جو ادھر سے گذرنے والوں کی کشتیاں زبردستی چھین لیتا تھا حضرت خضر ؑ نے اس مصلحت سے کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا کہ وہ ظالم بادشاہ اس کشتی کو شکستہ دیکھ کر چھوڑ دے اور یہ مساکین اس مصیبت سے بچ جائیں دانائے روم نے خوب فرمایا۔
گر خضر در بحر کشتی را شکست صد درستی در شکست خضر ہست
Ayah 18:80(آیت) وَاَمَّا الْغُلٰمُ یہ لڑکا جس کو حضرت خضر ؑ نے قتل کیا اس کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ اس لڑکے کی طبیعت میں کفر اور والدین کے خلاف سرکشی تھی والدین اس کے نیک اور صالح تھے حضرت خضر ؑ نے فرمایا کہ ہمیں خطرہ تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر ان صالح ماں باپ کو ستائے گا اور تکلیف پہنچائے گا اور کفر میں مبتلا ہو کر ماں باپ کے لئے بھی ایک فتنہ بنے گا اس کی محبت میں ماں باپ کا ایمان بھی خطرے میں پڑجائے گا۔
Ayah 18:81(آیت) فَاَرَدْنَآ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا یعنی اس لئے ہم نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان صالح ماں باپ کو اس لڑکے کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد دیدے جو اعمال و اخلاق میں پاکیزہ بھی ہو اور ماں باپ کے حقوق کو بھی پورا کرے
اس واقعہ میں خَشِيْنَآ اور اَرَدْنَآ میں جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ارادہ اور خشیت خضر ؑ نے اپنی اور اللہ تعالیٰ دونوں کی طرف منسوب کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اپنی ہی طرف منسوب کیا ہو تو پھر اردنا کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے اللہ سے دعا کی کیونکہ کسی لڑکے کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد دینے کا معاملہ خالص حق تعالیٰ کا فعل ہے اس میں خضر ؑ یا کوئی دوسرا انسان شریک نہیں ہو سکتا۔
اور یہاں یہ شبہ کرنا درست نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ لڑکا کافر ہوگا اور ماں باپ کو بھی گمراہ کرے گا تو پھر یہ واقعہ علم الہی کے مطابق ایسا ہی واقع ہونا ضروری تھا کیونکہ علم الہی کے خلاف کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔
جواب یہ ہے کہ علم الہی میں اس تعلیق و شرط کے ساتھ تھا کہ یہ بالغ ہوگا تو کافر ہوگا اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی خطرہ بنے گا پھر چونکہ وہ عمر بلوغ سے پہلے ہی قتل کردیا گیا تو جو واقعہ پیش آیا وہ اس علم الہی کے منافی نہیں (مظہری)
ابن ابی شیبہ ابن المنذر ابن ابی حاتم نے بروایت عطیہ نقل کیا ہے کہ مقتول لڑکے کے والدین کو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں ایک لڑکی عطا فرمائی جس کے بطن سے ایک نبی پیدا ہوا اور ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ اس کے بطن سے دو نبی پیدا ہوئے بعض روایات میں ہے کہ اس کے بطن سے پیدا ہونے والے نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی امت کو ہدایت فرمائی۔
Ayah 18:82(آیت) تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا یہ خزانہ جو یتیم بچوں کے لئے زیر دیوار دفن تھا اس کے متعلق حضرت ابو الدرداء ؓ نے رسول کریم ﷺ سے یہ روایت کیا ہے کہ وہ سونے اور چاندی کا ذخیرہ تھا (رواہ الترمذی والحاکم وصححہ از مظہری)
ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس پر نصیحت کے مندرجہ ذیل کلمات لکھے ہوئے تھے یہ روایت حضرت عثمان بن عفان ؓ نے مرفوعاً رسول کریم ﷺ سے بھی نقل فرمائی (قرطبی)
1 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
2 تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر غمگین کیونکر ہوتا ہے۔
3 تعجب ہے اس شخص پر جو اس پر ایمان رکھتا ہے کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے پھر ضرورت سے زیادہ مشقت اور فضول قسم کی کوشش میں کیوں لگتا ہے۔
4 تعجب ہے اس شخص پر جو موت پر ایمان رکھتا ہے پھر خوش و خرم کیسے رہتا ہے۔
5 تعجب ہے اس شخص پر جو حساب آخرت پر ایمان رکھتا ہے پھر غفلت کیسے برتتا ہے۔
6 تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو اور اس کے انقلابات کو جانتا ہے پھر کیسے اس پر مطمئن ہو کر بیٹھتا ہے۔
7 لا الہ اللہ محمد رسول اللہ۔
والدین کی نیکی کا فائدہ اولاد در اولاد کو بھی پہنچتا ہے
وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا اس میں اشارہ ہے کہ یتیم بچوں کے لئے مدفون خزانے کی حفاظت کا سامان بذریعہ خضر ؑ اس لئے کرایا گیا تھا کہ ان یتیم بچوں کا باپ کوئی مرد صالح اللہ کے نزدیک مقبول تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی مراد پوری کرنے اور اس کی اولاد کو فائدہ پہنچانے کا یہ انتظام فرمایا محمد بن منکدر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کی نیکی اور صلاحیت کی وجہ سے اس کی اولاد اور اولاد اور اس کے خاندان کی اور اس کے آس پاس کے مکانات کی حفاظت فرماتے ہیں (مظہری)
قرطبی میں ہے کہ حضرت شبلی فرمایا کرتے تھے کہ میں اس شہر اور پورے علاقہ کے لئے امان ہوں جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے دفن ہوتے ہی کفار دیلم نے دریائے دجلہ کو عبور کرکے بغداد پر قبضہ کرلیا اس وقت لوگوں کی زبان پر یہ تھا کہ ہم پر دوہری مصیبت ہے یعنی شبلی کی وفات اور دیلم کا قبضہ (قرطبی ص 29 ج 11)
تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ لوگوں کو بھی علماء وصلحاء کی اولاد کی رعایت اور ان پر شفقت کرنی چاہئے جب تک کہ وہ بالکل ہی کفر و فسق و فجور میں مبتلا نہ ہوجائیں۔
(آیت) اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّهُمَا لفظ اشد شدۃ کی جمع ہے مراد قوت ہے اور وہ عمر جس میں انسان اپنی پوری قوت اور بھلے برے کی پہچان پر قادر ہوجاتا ہے ابوحنیفہ کے نزدیک یہ پچیس سال کی عمر ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ چالیس سال عمر ہے کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ (آیت) حَتّىٰٓ اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَبَلَـغَ اَرْبَعِيْنَ سَـنَةً (مظہری)
پیغمبرانہ بلاغت اور رعایت ادب کی ایک مثال
اس مثال کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ دنیا میں کوئی اچھا یا برا کام اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا خیر و شر سب اس کی مخلوق اور اس کے ارادے اور مشیت کے تابع ہیں جن امور کو شر یا برا سمجھا اور کہا جاتا ہے وہ خاص افراد اور خاص حالات کے اعتبار سے ضرور شر اور برا کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں مگر مجموعہ عالم اور عالم دنیا کے مزاج کے لئے سب ضروری اور تخلیق الہی کے اعتبار سے سب خیر ہی ہوتے ہیں اور سب حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو آفت یا حادثہ دنیا میں پیش آتا ہے خدا تعالیٰ کی مشیت و ارادے کے بغیر نہیں ہوسکتا اس لحاظ سے ہر خیر و شر کی نسبت بھی حق تعالیٰ کی طرف ہوسکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی تخلیق کے اعتبار سے کوئی شر شر نہیں ہوتا اس لئے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ شر کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف نہ کی جائے حضرت ابراہیم ؑ کے کلمات جو قرآن کریم میں مذکور ہیں (آیت) وَالَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَيَسْقِيْنِ وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ اسی تعلیم کا سبق دیتے ہیں کہ کھلانے پلانے کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف فرمائی پھر بیماری کے وقت شفاء دینے کی نسبت بھی اسی کی طرف کی۔ درمیان میں بیمار ہونے کو اپنی طرف منسوب کرکے کہا (آیت) وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ یعنی جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے شفاء عطا فرما دیتے ہیں یوں نہیں کہا کہ جب وہ مجھے بیمار کرتے ہیں تو شفاء بھی دیتے ہیں۔
اب حضرت خضر ؑ کے کلام پر غور کیجئے انہوں نے جب کشتی توڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کیونکہ ظاہر میں ایک عیب اور برائی ہے اس کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف کرکے فرمایا اَرَدْتَّ پھر لڑکے کو قتل کرنے اور اس کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد دینے کا ذکر کیا تو اس میں قتل تو برائی تھی اور بدلہ میں بہتر اولاد دینا ایک بھلائی تھی امر مشترک ہونے کی وجہ سے یہاں بصیغہ جمع متکلم فرمایا فَاَرَدْنَآ یعنی ہم نے ارادہ کیا تاکہ اس میں جتنا ظاہری شر ہے وہ اپنی طرف اور جو خیر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تیسرے واقعہ میں دیوار کھڑی کرکے یتیموں کا مال محفوظ کردینا سراسر خیر ہی خیر ہے اس کی نسبت پوری حق تعالیٰ کی طرف کرکے فرمایا فَاَرَادَ رَبُّكَ یعنی آپ کے رب نے ارادہ کیا۔
خضر ؑ زندہ ہیں یا ان کی وفات ہوچکی
قرآن کریم میں جو واقعہ حضرت خضر ؑ کا مذکور ہے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ خضر ؑ اس واقعے کے بعد وفات پاگئے یا زندہ رہ گئے اسی لئے قرآن و سنت میں اس کے متعلق کوئی صریح بات مذکور نہیں بعض روایات و آثار سے ان کا اب تک زندہ ہونا معلوم ہوتا ہے بعض روایات سے اس کے خلاف مستفاد ہوتا ہے اس لئے اس معاملے میں ہمیشہ سے علماء کی راہیں مختلف رہی ہے جو حضرات ان کی حیات کے قائل ہیں ان کا استدلال ایک تو اس روایت سے ہے جس کو حاکم نے مستدرک میں حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو ایک شخص سیاہ سفید داڑھی والے داخل ہوئے اور لوگوں کے مجمع کو چیرتے پھاڑتے اندر پہنچے اور رونے لگے پھر صحابہ کرام ؓ اجمعین کی طرف متوجہ ہو کر یہ کلمات کہے۔
ان فی اللہ عزآء من کل مصیبۃ وعوضا من کل فآئت وخلفا من کل ھالک فالی اللہ فانیبوا والیہ فارغبوا ونظرہ الیکم فی البلاء فانظروا فانما المصاب من لم یجیر۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صبر ہے ہر مصیبت سے اور بدلہ ہے ہر فوت ہونے والی چیز کا اور وہی قائم مقام ہے ہر ہلاک ہونے والے کا اس لئے اسی کی طرف رجوع کرو اسی کو طرف رغبت کرو اور اس بات کو دیکھو کہ وہ تمہیں مصیبت میں مبتلا کر کے تم کو آزماتا ہے اصل مصیبت زدہ وہ ہے جس کی مصیبت کی تلافی نہ ہو۔
یہ آنے والے کلمات مذکورہ کہہ کر رخصت ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق اور علی المرتضی ؓ نے فرمایا کہ یہ خضر ؑ تھے اس روایت کو جزری ؒ نے حصن حصین میں بھی نقل کیا ہے۔ جن کی شرط یہ ہے کہ صرف صحیح السند روایات اس میں درج کرتے ہیں۔
اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ دجال مدینہ طیبہ کے قریب ایک جگہ تک پہنچے گا تو مدینہ سے ایک شخص اس کے مقابلہ کے لئے نکلے گا جو اس زمانے کے سب انسانوں میں بہتر ہوگا یا بہتر لوگوں میں سے ہوگا ابو الحق نے فرمایا کہ یہ شخص حضرت خضر ؑ ہوں گے (قرطی)
اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الہواتف میں سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت خضر ؑ سے ملاقات کی تو خضر ؑ نے ان کو ایک دعا بتلائی جو کہ اس کو ہر نماز کے بعد پڑھا کرے اس کے لئے ثواب عظیم اور مغفرت و رحمت ہے وہ دعا یہ ہے۔
یامن لا یشغلہ سمع عن سمع ویامن لا تغلطہ المسآئل ویامن لایبرم من الحاح الملحین اذقنی برد عفوک وحلاوۃ مغفرتک۔ (قرطبی)
اے وہ ذات جس کو ایک کلام کا سننا دوسرے کلام کے سننے سے مانع نہیں ہوتا اور اے وہ ذات جس کو بیک وقت ہونے والے (لاکھوں کروڑوں) سوالات میں کوئی مغالطہ نہیں لگتا اور وہ ذات جو دعا میں الحاح و اسرار کرنے اور بار بار کہنے سے ملول نہیں ہوتا مجھے اپنے عفو و کرم کا ذائقہ چکھا دیجئے اور اپنی مغفرت کی حلاوت نصیب فرمائیے
اور پھر اسی کتاب میں بعینہ یہی واقعہ اور یہی دعا اور خضر ؑ سے ملاقات کا واقعہ حضرت فاروق اعظم ؓ سے بھی نقل کیا ہے (قرطبی)
اس طرح اولیاء امت میں حضرت خضر ؑ کے بیشمار واقعات منقول ہیں اور جو حضرات خضر ؑ کی حیات کو تسلیم نہیں کرتے ان کا بڑا استدلال اس حدیث سے ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول کریم ﷺ نے ہمیں عشاء کی نماز میں اپنی آخر حیات میں پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور یہ کلمات ارشاد فرمائے۔
ارءیتکم لیلتکم ہذہ فان علی راس مائۃ سنۃ منھا لایبقی ممن ھو علی ظہر الارض احد۔
کیا تم اپنی آج کی رات کو دیکھ رہے ہو اس رات سے سو سال گذرنے پر کوئی شخص ان میں سے زندہ نہ رہے گا جو آج زمین کے اوپر ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے یہ روایت نقل کرکے فرمایا کہ اس روایت کے بارے میں لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ سو سال پر یہ قرآن ختم ہوجائے گا یہ روایت مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی تقریبا انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے لیکن علامہ قرطبی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لئے کوئی حجت نہیں جو حیات خضر ؑ کو باطل کہتے ہیں کیونکہ اس روایت میں اگرچہ تمام بنی آدم کے لئے عموم کے الفاظ ہیں اور عموم بھی مؤ کد کرکے لایا گیا ہے مگر پھر بھی اس میں نص نہیں کہ یہ عموم تمام اولاد آدم ؑ کو شامل ہی ہو کیونکہ اولاد آدم میں تو حضرت عیسیٰ ؑ بھی ہیں جن کی نہ وفات ہوئی اور نہ قتل کئے گئے اس لئے ظاہر یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ عَلَی الاَرض میں الف لام عہد کا ہے اور مراد ارض سے ارض عرب ہے پوری زمین جس میں ارض یاجوج و ماجوج اور بلاد شرق اور جزائر جن کا نام بھی عربوں نے نہیں سنا اس میں شامل نہیں یہ علامہ قرطبی کی تحقیق ہے۔
اسی طرح بعض حضرات نے مسئلہ ختم نبوت کو حیات خضر کے منافی سمجھا ہے اس کا جواب بھی ظاہر ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات ختم نبوت کے منافی نہیں حضرت خضر ؑ کی حیات بھی ایسی ہی ہوسکتی ہے۔
بعض حضرات نے حیات خضر پر یہ شبہ کیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں موجود ہوتے تو ان پر لازم تھا کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کے تابع ہو کر اسلامی خدمات میں مشغول ہوتے کیونکہ حدیث میں ارشاد ہے لَو كَانَ مُوسٰی حَیًّا لَّما وَسِعَہ اِلَّااتِّبَاعِی یعنی اگر موسیٰ ؑ آج زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرا ہی اتباع کرنا پڑتا (کیونکہ میرے آنے سے دین موسوی منسوخ ہوچکا ہے) لیکن یہ کچھ بعید نہیں کہ حضرت خضر ؑ کی زندگی اور ان کی نبوت عام انبیاء (علیہم السلام) شریعت سے مختلف ہو ان کو چونکہ تکوینی خدمات منجانب اللہ سپرد ہیں وہ ان کے لئے مخلوق سے الگ تھلگ اپنے کام پر مامور ہیں رہا اتباع شریعت محمدیہ تو اس میں کوئی بعد نہیں کہ حضور ﷺ کی نبوت کے بعد سے انہوں نے اپنا عمل شریعت محمدیہ پر شروع کردیا ہو واللہ اعلم
ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں متعدد بزرگوں کے واقعات حضرت خضر ؑ سے ملاقات کے بھی نقل کئے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ۔
والجمہور علی انہ مات (بحر ص 147 ج 2)
جمہور علماء اس پر ہیں کہ خضر ؑ کی وفات ہوگئی۔
تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے فرمایا کہ تمام اشکالات کا حل اس میں ہے جو حضرت سید احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے اپنے مکاشفہ سے فرمایا وہ یہ کہ میں نے خود حضرت خضر ؑ سے اس معاملہ کو عالم کشف میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ میں اور الیاس ؑ ہم دونوں زندہ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ قدرت بخشی ہے کہ ہم زندہ آدمیوں کی شکل میں متشکل ہو کر لوگوں کی امداد مختلف صورتوں میں کرتے ہیں واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
یہ بات میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ حضرت خضر ؑ کی موت وحیات سے ہمارا کوئی اعتقادی یا عملی مسئلہ متعلق نہیں اسی لئے قرآن و سنت میں اس کے متعلق کوئی صراحت و وضاحت نہیں کی گئی اس لئے اس میں زیادہ بحث و تمحیص کی بھی ضرورت نہیں نہ کسی ایک جانب کا یقین رکھنا ہمارے لئے ضروری نہیں ہے لیکن چونکہ مسئلہ عوام میں چلا ہوا ہے اس لئے مذکورہ صدر تفصیلات نقل کردی گئی ہیں۔
Ayah 18:83خلاصہ تفسیر
ذوالقرنین کا پہلا سفر
اور یہ لوگ آپ سے ذو القرنین کا حال پوچھتے ہیں (اس پوچھنے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ان کی تاریخ قریب قریب گم تھی اور اسی لئے اس قصبہ کے جو امور قرآن میں مذکور نہیں کہ وہ اصل قصہ سے زائد تھے ان امور کے متعلق آج تک اہل تاریخ میں اختلافات شدید پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے قریش مکہ نے بمشورہ یہود مدینہ اس قصہ کا سوال کے لئے انتخاب کیا تھا اس لئے اس قصہ کی تفصیلات جو قرآن میں مذکور ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل ہے) آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں (آگے حق تعالیٰ کی طرف سے اس کی حکایت شروع ہوئی کہ ذوالقرنین ایک ایسے جلیل القدر بادشاہ ہو گذرے ہیں کہ) ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو ہر قسم کا سامان (کافی) دیا تھا (جس سے وہ اپنے شاہی منصوبوں کو پورا کرسکیں) چناچہ وہ (بارادہ فتوحات ملک مغرب) ایک راہ پر ہو لئے (اور سفر کرنا شروع کیا) یہاں تک کہ جب (سفر کرتے کرتے درمیانی شہروں کو فتح کرتے ہوئے) غروب آفتاب کے موقع (یعنی جانب مغرب میں انتہائی آبادی) پر پہنچے تو آفتاب ان کو ایک سیاہ پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا (مراد اس سے غالباً سمندر ہے کہ اس کا پانی اکثر جگہ سیاہ نظر آتا ہے اور اگرچہ آفتاب حقیقۃ سمندر میں غروب نہیں ہوتا مگر سمندر سے آگے نگاہ نہ جاتی ہو تو سمندر ہی میں ڈوبتا ہوا معلوم ہوگا) اور اس موقع پر انہوں نے ایک قوم دیکھی (جن کے کافر ہونے پر اگلی آیت اما من ظلم دلالت کرتی ہے) ہم نے (بصورت الہام یا اس زمانے کے پیغمبر کے واسطے سے) یہ کہا کہ اے ذوالقرنین (اس قوم کے بارے میں دو اختیار ہیں) خواہ (ان کو ابتداء ہی سے قتل وغیرہ کے ذریعہ) سزا دو اور خواہ ان کے بارے میں نرمی کا معاملہ اختیار کرو (یعنی ان کو ایمان کی دعوت دو پھر نہ مانیں تو قتل کردو بغیر تبلیغ و دعوت کے ابتداء ہی قتل کرنے کا اختیار شاید اس لئے دیا گیا ہو کہ ان کو اس سے پہلے کسی ذریعہ سے دعوت ایمان پہنچ چکی ہوگی لیکن دوسری صورت یعنی پہلے دعوت پھر قتل کا بہتر ہونا اشارہ سے بیان کردیا کہ اس دوسری صورت کو اتخاذ حسن سے تعبیر فرمایا) ذوالقرنین نے عرض کیا کہ (میں دوسری ہی صورت اختیار کرکے پہلے ان کو دعوت ایمان دوں گا) لیکن (دعوت ایمان کے بعد) جو ظالم (یعنی کافر) رہے گا سو اس کو تو ہم لوگ (قتل وغیرہ کی) سزا دیں گے (اور یہ سزا تو دنیا میں ہوگی) پھر وہ (مرنے کے بعد) اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچا دیا جائے گا پھر وہ اس کو (دوزخ کی) سخت سزا دے گا اور جو شخص (دعوت ایمان کے بعد) ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لئے (آخرت میں بھی) بدلے میں بھلائی ملے گی اور ہم بھی (دنیا میں) اپنے برتاؤ میں اس کو آسان (اور نرم) بات کہیں گے (یعنی ان پر کوئی عملی سختی تو کیا کی جاتی زبانی اور قولی بھی کوئی سختی نہیں کی جائے گی)
معارف و مسائل
يَسْـــَٔـلُوْنَكَ (یعنی وہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں) یہ لوگ سوال کرنے والے کون ہیں روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قریش مکہ تھے جن کو یہودیوں نے رسول کریم ﷺ کی نبوت اور حقانیت کا امتحان کرنے کے لئے تین سوال بتلائے تھے روح کے متعلق اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں ان میں دو کا جواب آچکا ہے اصحاب کہف ابھی گذرا ہے اور روح کا سوال پچھلی سورة کے آخر میں گذر چکا ہے یہ تیسرا سوال ہے کہ ذوالقرنین کون تھا اور اس کو کیا حالات پیش آئے (بحر محیط)
ذوالقرنین کون تھے ؟ کس زمانے اور کس ملک میں تھے ؟ اور ان کو ذوالقرنین کہنے کی وجہ
ذوالقرنین کا نام ذوالقرنین کیوں ہوا اس کی وجہ میں بیشمار اقوال اور سخت اختلافات ہیں بعض نے کہا کہ ان کی دو زلفیں تھیں اس لئے ذوالقرنین کہلائے بعض نے کہا کہ مشرق و مغرب کے ممالک پر حکمران ہوئے اس لئے ذوالقرنین نام رکھا گیا کسی نے یہ بھی کہا کہ ان کے سر پر کچھ ایسے نشانات تھے جیسے سینگ کے ہوتے ہیں بعض روایات میں ہے کہ ان کے سر پر دونوں جانب چوٹ کے نشانات تھے اس لئے ذوالقرنین کہا گیا واللہ اعلم مگر اتنی بات متعین ہے کہ قرآن نے خود ان کا نام ذوالقرنین نہیں رکھا بلکہ یہ نام یہود نے بتلایا ان کے یہاں اس نام کی شہرت ہوگی واقعہ ذوالقرنین کا جتنا حصہ قرآن کریم نے بتلایا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ۔
وہ ایک صالح عادل بادشاہ تھے جو مشرق و مغرب میں پہنچنے اور ان کے ممالک کو فتح کیا اور ان میں عدل و انصاف کی حکمرانی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ہر طرح کے سامان اپنے مقاصد پورا کرنے کے لئے عطاء کردیئے گئے تھے انہوں نے فتوحات کرتے ہوئے تین اطراف میں سفر کئے مغرب اقصی تک اور مشرق اقصی تک پھر جانب شمال میں کوہستانی سلسلے تک اسی جگہ انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیانی درے کو ایک عظیم الشان آہنی دیوار کے ذریعہ بند کردیا جس سے یاجوج ماجوج کی تاخت و تاراج سے اس علاقہ کے لوگ محفوظ ہوگئے۔
یہود نے جو سوال رسول کریم ﷺ کی حقانیت اور نبوت کا امتحان کرنے کے امتحان کرنے کے لئے پیش کیا تھا وہ اس جواب سے مطمئن ہوگئے انہوں نے مزید یہ سوالات نہیں کئے کہ ان کا نام ذوالقرنین کیوں تھا یہ کس ملک میں اور کس زمانے میں تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سوالات کو خود یہود نے بھی غیر ضروری اور فضول سمجھا اور یہ ظاہر ہے کہ قرآن کریم تاریخ و قصص کا صرف اتنا حصہ ذکر کرتا ہے جس سے کوئی فائدہ دین یا دینا کا متعلق ہو یا جس پر کسی ضروری چیز کا سمجھنا موقوف ہو اس لئے نہ قرآن کریم نے ان چیزوں کو بتلایا اور نہ کسی صحیح حدیث میں اس کی یہ تفصیلات بیان کی گئیں اور نہ قرآن کریم کی کسی آیت کا سمجھنا ان چیزوں کے علم پر موقوف ہے اسی لئے سلف صالحین صحابہ وتابعین نے بھی اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی
اب معاملہ صرف تاریخی روایات کا یا موجودہ تورات و انجیل کا رہ گیا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ موجودہ تورات و انجیل کو بھی مسلسل تحریفات نے آسمانی کتاب کی حیثیت میں نہیں چھوڑا ان کا مقام بھی اب زیادہ سے زیادہ ایک تاریخ ہی کا ہوسکتا ہے اور زمانہ قدیم کی تاریخ روایات زیادہ تر اسرائیلی قصوں کہانیوں سے ہی پُر ہیں جن کی نہ کوئی سند ہے نہ وہ کسی زمانے کے عقلاء وحکماء کے نزدیک قابل اعتماد پائی گئی ہیں حضرات مفسرین نے اس بھی اس معاملہ میں جو کچھ لکھا وہ سب انہی تاریخی روایات کا مجموعہ ہے اسی لئے ان میں اختلافات بیشمار ہیں اہل یورپ نے اس زمانے میں تاریخ کو بڑی اہمیت دی اس پر تحقیق و تفتیش میں بلاشبہ بڑی محنت و کاوش سے کام لیا آثار قدیمہ کی کھدائی اور وہاں کے کتبات وغیرہ کو جمع کرکے ان کے ذریعہ قدیم واقعات کی حقیقت تک پہنچنے میں وہ کام انجام دیئے جو اس سے پہلے زمانہ میں نظر نہیں آتے لیکن آثار قدیمہ اور ان کے کتبات سے کسی واقعہ کی تائید میں مدد تو مل سکتی ہے مگر خود ان سے کوئی واقعہ پورا نہیں پڑھا جاسکتا اس کے لئے تو تاریخی روایات ہی بنیاد بن گئی ہیں اور ان معاملات میں زمانہ قدیم کی تاریخی روایات کا حال ابھی معلوم ہوچکا ہے کہ ایک کہانی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ قدیم و جدید علماء تفسیر نے بھی اپنی کتابوں میں یہ روایات ایک تاریخی حیثیت ہی سے نقل کی ہیں جن کی صحت پر کوئی قرآنی مقصد موقوف نہیں یہاں بھی اسی حیثیت سے بقدر ضرورت لکھا جاتا ہے اس واقعہ کی پوری تفتیش و تحقیق مولانا حفظ الرحمن صاحب ؒ نے اپنی کتاب قصص القرآن میں لکھی ہے تاریخی ذوق رکھنے والے حضرات اس کو دیکھ سکتے ہیں۔
بعض روایات میں ہے کہ پوری دنیا پر سلطنت و حکومت کرنے والے چار بادشاہ ہوئے ہیں دو مومن اور دو کافر مومن بادشاہ حضرت سلیمان ؑ اور ذوالقرنین ہیں اور کافر نمرود اور بخت نصر ہیں
ذوالقرنین کے معاملہ میں یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس نام سے دنیا میں متعدد آدمی مشہور ہوئے ہیں اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہر زمانے کے ذی القرنین کے ساتھ لقب سکندر بھی شامل ہے۔
حضرت مسیح ؑ سے تقریباً تین سو سال پہلے ایک بادشاہ سکندر کے نام سے معروف و مشہور ہے جس کو سکندر یونانی مقدونی رومی وغیرہ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے جس کا وزیر ارسطو تھا اور جس کی جنگ دارا سے ہوئی اور اسے قتل کرکے اس کا ملک فتح کیا سکندر کے نام سے دنیا میں معروف ہونے والا آخری شخص یہی تھا اسی کے قصے دنیا میں زیادہ مشہور ہیں بعض لوگوں نے اس کو بھی قرآن میں مذکور ذوالقرنین کہہ دیا یہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ شخص آتش پرست مشرک تھا قرآن کریم نے جس ذوالقرنین کا ذکر کیا ہے ان کے نبی ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے مگر مومن صالح ہونے پر سب کا اتفاق ہے اور خود قرآن کی نصوص اس پر شاہد ہیں۔
حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں بحوالہ ابن عساکر اس کا پورا نسب نامہ لکھا ہے جو اوپر جا کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ سے ملتا ہے اور فرمایا کہ یہی وہ سکندر ہے جو یونانی مصری مقدونی کے ناموں سے معروف ہے جس نے اپنے نام پر شہر اسکندریہ آباد کیا اور روم کی تاریخ اسی کے زمانے سے چلتی ہے اور یہ سکندر ذی القرنین اول سے ایک طویل زمانے کے بعد ہوا ہے جو دو ہزار سال سے زائد بتلایا جاتا ہے اسی نے دارا کو قتل کیا اور شاہان فارس کو مغلوب کرکے ان کا ملک فتح کیا مگر یہ شخص مشرک تھا اس کو قرآن میں مذکور ذوالقرنین قرار دینا سراسر غلطی ہے ابن کثیر کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔
فاماذالقرنین الثانی فھو اسکندر بن فیلبس بن مصریح بن برس بن مبطون بن رومی بن نعطی بن یونان بن یافث بن بونہ بن شرخون بن رومہ بن شرخط بن توفیل بن رومی بن الاصفر بن یقز بن العیص بن اسحاق بن ابراہیم الخلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کذا انسبہ الحافظ ابن عساکر فی تاریخہ المقدونی الیونانی المصری بانی الاسکندریۃ الذی یؤ رخ بایامہ الروم وکان متأخرا عن الاول بدھر طویل وکان ھذا قبل المسیح بنحو من ثلثمائۃ سنۃ وکان ارطا طالیس الفیلسوف وزیرہ و ھوالذی قتل دارا واذل ملوک الفرس واوطأ ارضہم وانما نبھنا علیہ لان کثیرا من الناس یعتقد انھما واحد وان المذکور فی القرآن ھوالذی کان ارطا طالیس وزیرہ فیقع بسبب ذلک خطاء کبیر و فساد عریض طویل فان الاول کان عبدا مؤ منا صالحا وملکا عادلا وکان وزیرہ الخضر وقد کان نبیا علی ماقررناہ قبل ھذا واما الثانی فکان مشرکا کان وزیرہ میلسوفا وقد کان بین زمانیھما ازید من الفے سنۃ فاین ھذا من ہذا لایستویان ولا یشتبھان الاعلی غبی لایعرف حقائق الامور البدایۃ والنھایۃ ص 106 ج 2)
حدیث و تاریخ کے امام ابن کثیر کی اس تحقیق سے ایک تو یہ مغالطہ رفع ہوا کہ یہ اسکندر جو حضرت مسیح ؑ سے تین سو سال پہلے گذرا ہے اور جس کی جنگ دارا اور ملوک فارس سے ہوئی اور ربانی اسکندریہ ہے یہ وہ ذوالقرنین نہیں جس کا قرآن کریم میں ذکر آیا ہے یہ مغالطہ بعض اکابر مفسرین کو بھی لگا ہے ابوحیان نے بحر محیط میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اسی کو ذوالقرنین مذکور فی القرآن کہہ دیا ہے۔
دوسری بات وانہ کان نبیا کے جملے سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابن کثیر کے نزدیک ان کا نبی ہونا راجح ہے اگرچہ جمہور کے نزدیک راجح وہ قول ہے جو خود ابن کثیر نے بروایت ابی الطفیل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیا ہے کہ نہ وہ نبی تھے نہ فرشتہ بلکہ ایک نیک صالح مسلمان تھے اسی لئے بعض علماء نے یہ توجیہ کی کہ انہ کان کی ضمیر ذوالقرنین کی طرف نہیں خضر ؑ کی طرف راجع ہے وہوالاقرب۔
اب مسئلہ یہ رہتا ہے کہ پھر وہ ذوالقرنین جس کا قرآن میں ہے کون ہیں اور کس زمانے میں ہوئے ہیں اس کے متعلق بھی علماء کے اقوال بہت مختلف ہیں ابن کثیر کے نزدیک ان کا زمانہ اسکندر یونانی مقدونی سے دوہزار سال پہلے حضرت الخلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کا زمانہ ہے اور ان کے وزیر حضرت خضر ؑ تھے ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں سلف صالحین سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ذوالقرنین پیادہ پا حج کے لئے پہنچے جب حضرت ابراہیم ؑ کو ان کے آنے کا علم ہوا تو مکہ سے باہر نکل کر استقبال کیا اور حضرت خلیل ؑ نے ان کے لئے دعاء بھی کی اور کچھ وصیتیں اور نصیحتیں بھی ان کو فرمائیں (البدایہ ص 108 ج 2) اور تفسیر ابن کثیر میں بحوالہ ازرقی نقل کیا ہے کہ اس نے حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ طواف کیا پھر قربانی دی۔
اور ابوریحان بیرونی نے اپنی کتاب الآثار الباقیہ عن القرون الخالیۃ میں کہا ہے کہ یہ ذوالقرنین جن کا ذکر قرآن میں ہے ابوبکر بن سمی بن عمر بن افریقیس حمیری ہے جس نے زمین کے مشارق و مغارب کو فتح کیا اور تبع حمیری یمنی نے اپنے اشعار میں اس پر فخر کیا ہے کہ میرے دادا ذوالقرنین مسلمان تھے ان کے اشعار یہ ہیں۔
قد کان ذوالقرنین جدی مسلما ملکا علافی الارض غیر مبعد
بلغ المشارق والمغارب یبتغی اسباب ملک من کریم سید
یہ روایت بحر محیط میں ابو حیان نے نقل کی ہے ابن کثیر نے بھی البدایہ والنہایہ میں اس کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ یہ ذوالقرنین تبابعہ یمن میں سب سے پہلا تبع ہے اور یہی وہ شخص ہے جس نے بیر سبع کے بارے میں حضرت ابراہیم ؑ کے حق میں فیصلہ دیا تھا (البدایہ ص 105 ج 2) ان تمام روایات میں ان کی شخصیت اور نام و نسب کے بارے میں اختلاف ہونے کے باوجود ان کا زمانہ حضرت ابراہیم ؑ کا زمانہ بتلایا گیا ہے۔
اور مولانا حفظ الرحمن صاحب نے اپنی کتاب قصص القرآن میں جو ذوالقرنین کے متعلق بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین مذکور فی القرآن فارس کا وہ بادشاہ ہے جس کو یہودی خورس یونانی سائرس فارسی گورش اور عرب کے خسرو کہتے ہیں جس کا زمانہ حضرت ابراہیم ؑ سے بہت بعد انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل میں سے دانیال کا زمانہ بتلایا جاتا ہے جو سکندر مقدونی قاتل دارا کے زمانے کے قریب قریب ہوجاتا ہے مگر مولانا موصوف نے بھی ابن کثیر وغیرہ کی طرح اس کا شدت سے انکار کیا ہے کہ ذوالقرنین وہ سکندر مقدونی جس کا وزیر ارسطو تھا وہ نہیں ہوسکتا وہ مشرک آتش پرست تھا یہ مومن صالح تھے۔
مولانا موصوف کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی سورة بنی اسرائیل میں جو دو مرتبہ بنی اسرائیل کے شر و فساد میں مبتلا ہونے اور دونوں مرتبہ کی سزا کا ذکر تفصیل سے آیا ہے اس میں بنی اسرائیل کے پہلے فساد کے موقع پر جو قرآن کریم نے فرمایا ہے اولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ (یعنی تمہارے فساد کی سزا میں ہم مسلط کردیں گے تم پر اپنے کچھ ایسے بندے جو بڑی قوت و شوکت والے ہوں گے وہ تمہارے گھروں میں گھس پڑیں گے) اس میں یہ قوت و شوکت والے لوگ بخت نصر اور اس کے اعوان ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں چالیس ہزار اور بعض روایات میں ستر ہزار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور ایک لاکھ سے زیادہ بنی اسرائیل کو قید کرکے بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکا کر بابل لے گیا اور اس کے بعد جو قرآن کریم نے فرمایا ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ (یعنی ہم نے پھر لوٹا دیا تمہارے غلبہ کو ان پر) یہ واقعہ اسی کیخسرو خورس بادشاہ کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوا یہ مومن صالح تھا اس نے بخت نصر کا مقابلہ کرکے اس کے قیدی بنی اسرائیل کو اس کے قبضہ سے نکالا اور دوبارہ فلسطین میں آباد کیا بیت المقدس کو جو ویران کردیا تھا اس کو بھی دوبارہ آباد کیا اور بیت المقدس کے خزائن اور اہم سامان جو بخت نصر یہاں سے لے گیا تھا وہ سب واپس بنی اسرائیل کے قبضہ میں دیئے اس لئے یہ شخص بنی اسرائیل (یہود) کا نجات دہندہ ثابت ہوا۔
یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہود مدینہ نے جو امتحان نبوت کے لئے قریش مکہ کے واسطے سوالات متعین کئے ان میں ذوالقرنین کے سوال کو یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ یہود اس کو اپنا نجات دہندہ مان کر اس کی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔
مولانا حفظ الرحمن صاحب نے اپنی اس تحقیق پر موجودہ تورات کے حوالہ سے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں سے پھر تاریخی روایات سے اس پر کافی شواہد پیش کئے ہیں جو صاحب مزید تحقیق کے درپے ہوں وہ اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں میرا مقصد ان تمام روایات کے نقل کرنے سے صرف اتنا تھا کہ ذوالقرنین کی شخصیت اور ان کے زمانے کے بارے میں علماء امت اور ائمہ تاریخ و تفسیر کے اقوال سامنے آجائیں ان میں سے راجح کس کا قول ہے یہ میرے مقصد کا جزء نہیں کیونکہ جن امور کا نہ قرآن نے دعوی کیا نہ حدیث نے ان کو بیان کیا ان کے معین ومبین کرنے کی ذمہ داری بھی ہم پر نہیں اور ان میں جو قول بھی راجح اور صحیح قرار پائے مقصد قرآنی ہر حال میں حاصل ہے واللہ سبحانہ وتعالی اعلم آگے آیات کی تفسیر دیکھئے۔
قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا اس میں یہ قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے اس جگہ ذکرہ کا مختصر لفظ چھوڑ کر ذِكْرًا کے دو کلمے کیوں اختیار کئے غور کیجئے تو ان دو کلموں میں اشارہ اس طرف کیا گیا ہے کہ قرآن نے ذوالقرنین کا پورا قصہ اور اس کی تاریخ ذکر کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک حصہ بیان کرنے کے لئے فرمایا جس پر حرف من اور ذکرا کی تنوین بقواعد عربیت شاہد ہے اوپر جو تاریخی بحث ذوالقرنین کے نام و نسب اور زمانے وغیرہ کی لکھی گئی ہے قرآن کریم نے اس کو غیر ضروری سمجھ چھوڑ دینے کا پہلے ہی اظہار فرما دیا ہے۔
Ayah 18:84(آیت) وَاٰتَيْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا لفظ سبب عربی لغت میں ہر اس چیز کیلئے بولا جاتا ہے جس سے اپنے مقصد حاصل کرنے میں کرنے میں مددلی جاتی ہے جس میں آلات و وسائل مادیہ بھی شامل ہیں اور علم و بصیرت و تجربہ وغیرہ بھی (بحرمحیط) اور مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سے مراد وہ تمام امور ہیں جن کو ضرورت نظام سلطنت کے لئے ایک بادشاہ اور حکمران کو پیش آتی ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو اپنی عدل گستری اور امن عالم کے قیام اور فتوحات ممالک کے لئے جس جس سامان کی ضرورت اس زمانے میں تھی وہ سب کے سب ان کو عطا کردیئے گئے تھے۔
Ayah 18:85فَاَتْبَعَ سَبَبًا مراد یہ ہے کہ سامان تو ہر قسم کے اور دنیا کے ہر خطہ میں پہنچنے کے ان کو دیدئیے گئے تھے انہوں نے سب سے پہلے جانب مغرب سفر کے سامان سے کام لیا۔
Ayahs 18:86–88(آیت) اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ مراد یہ ہے کہ جانب مغرب میں اس حد تک پہنچ گئے جس سے آگے کوئی آبادی نہیں تھی۔
فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ لفظ حمئۃ کے لغوی معنی سیاہ دلدل یا کیچڑ کے ہیں مراد اس سے وہ پانی ہے جس کے نیچے سیاہ کیچڑ ہو جس سے پانی کا رنگ بھی سیاہ دکھائی دیتا ہو اور آفتاب کو ایسے چشمے میں ڈدبتے ہوئے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب اس چشمے میں ڈوب رہا ہے کیونکہ آگے آبادی یا کوئی خشکی سامنے نہیں تھی جیسے آپ کسی ایسے میدان میں غروب کے وقت ہوں جہاں دور تک جانب مغرب میں کوئی پہاڑ درخت عمارت نہ ہو تو دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آفتاب زمین کے اندر گھس رہا ہے۔
وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا یعنی اس سیاہ چشمے کے پاس ذوالقرنین نے ایک قوم کو پایا آیت کے اگلے حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم کافر تھی اس لئے اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اخیتار دے دیا کہ آپ چاہیں تو ان سب کو پہلے ان کے کفر کی سزا دیدیں اور چاہیں تو ان سے احسان کا معاملہ کریں کہ پہلے دعوت و تبلیغ اور وعظ و پند سے ان کو اسلام و ایمان قبول کرنے پر آمادہ کریں پھر ماننے والوں کو اس کی جزاء اور نہ ماننے والوں کو سزا دیں جس کے جواب میں ذوالقرنین نے دوسری ہی صورت کو تجویز کیا کہ اول ان کو وعظ و نصیحت سے صراط مستقیم پر لانے کی کوشش کریں گے پھر جو کفر پر قائم رہے ان کو سزا دیں گے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اس کو اچھا بدلہ دیں گے۔
قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کو حق تعالیٰ نے خود خطاب کرکے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر ذوالقرنین کو نبی قرار دیا جائے تب تو اس میں کوئی اشکال ہی نہیں کہ بذریعہ وحی ان سے کہہ دیا گیا اور اگر ان کی نبوت تسلیم نہ کی جائے تو پھر اس قُلْنَا اور يٰذَا الْقَرْنَيْنِ کے خطاب کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کسی پیغمبر کے واسطہ سے یہ خطاب ذوالقرنین کو کیا گیا ہے جیسا کہ روایات میں حضرت خضر ؑ کا ان کے ساتھ ہونا مذکور ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وحی نبوت و رسالت نہ ہو ایسی لغوی وحی ہو جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کے لئے قرآن میں "" واوحینا " کے الفاظ آئے ہیں حالانکہ ان کے نبی یا رسول ہونے کا کوئی احتمال نہیں مگر ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ ذوالقرنین کو جو یہاں حکم دیا گیا ہے وہ اس قوم کے قتل و سزا کا حکم ہے اس طرح کا کوئی حکم بغیر وحی نبوت کے نہیں دیا جاسکتا یہ کام نہ کشف والہام سے ہوسکتا ہے نہ بغیر وحی نبوت کے کسی اور ذریعہ سے اس لئے اس کے سوا کوئی احتمال صحیح نہیں کہ یا تو ذوالقرنین کو خود نبی مانا جائے یا پھر کوئی نبی ان کے زمانے میں موجود ہوں ان کے ذریعہ ان کو خطاب ہوتا ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 18:89–91خلاصہ تفسیر
پھر (ممالک مغربیہ فتح کرکے مشرقی ممالک فتح کرنے کے ارادہ سے مشرق کی طرف) ایک راہ پر ہو لئے یہاں تک کہ جب طلوع آفتاب کے موقع پر (یعنی جانب مشرق میں منتہائی آبادی پر) پہنچے تو آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا جن کے لئے ہم نے آفتاب کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی (یعنی اس جگہ ایک ایسی قوم آباد تھی جو دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی مکان یا خیمہ وغیرہ بنانے کے عادی نہ تھے بلکہ شاید لباس بھی نہ پہنتے ہوں جانوروں کی طرح کھلے میدان میں رہتے تھے) یہ قصہ اسی طرح ہے اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ (سامان وغیرہ) تھا ہم کو اس کی پوری خبر ہے (اس میں امتحان نبوت کے لئے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرنے والوں کو اس پر تنبیہ ہے کہ ہم جو کچھ بتلا رہے ہیں وہ علم وخبر کی بنیاد پر ہے عام تاریخی کہانیوں کی طرح نہیں تاکہ نبوت محمدی کی حقانیت واضح ہوجائے)
معارف و مسائل
ذوالقرنین نے مشرق کی جانب میں جو قوم آباد پائی اس کا یہ حال تو قرآن کریم نے ذکر فرمایا کہ وہ دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی سامان مکان خیمہ لباس وغیرہ کے ذریعہ نہ کرتے تھے لیکن ان کے مذہب و اعمال کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اور نہ یہ کہ ذوالقرنین نے ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ بھی کافر ہی تھے اور ذوالقرنین نے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جو مغربی قوم کے ساتھ اوپر مذکور ہوچکا ہے مگر اس کے بیان کرنے کی یہاں اس لئے ضرورت نہیں سمجھی کہ پچھلے واقعہ پر قیاس کرکے اس کا بھی علم ہوسکتا ہے (کذا فی بحر المحیط عن ابن عطیہ)