Ayahs 18:32–33خلاصہ تفسیر۔
اور آپ (دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی پائیداری ظاہر کرنے کے لئے) دو شخصوں کا حال (جن میں باہم دوستی یا قرابت کا تعلق تھا) بیان کیجئے (تا کہ کفار کا خیال باطل ہوجائے اور مسلمانوں کو تسلی ہو) ان دو شخصوں میں سے ایک کو (جو کہ بد دین تھا) ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور دونوں (باغوں) کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی (اور) دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے، اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی (بخلاف عام باغوں کے کہ کبھی کسی درخت میں اور کسی سال پورے باغ میں پھل کم آتا ہے) اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان نہر چلا رکھی تھی اور اس شخص کے پاس اور بھی مال داری کا سامان تھا سو (ایک دن) اپنے اس (دوسرے) ساتھی سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور مجمع بھی میرا زبردست ہے (مطلب یہ تھا کہ تو میرے طریقے کو باطل اور اللہ کے نزدیک ناپسند کہتا ہے تو اب تو دیکھ لے کہ کون اچھا ہے، اگر تیرا دعوی صحیح ہوتا تو معاملہ برعکس ہوتا، کیونکہ دشمن کو کوئی نوازا نہیں کرتا اور دوست کو کوئی نقصان نہیں پہونچاتا) اور وہ (اپنے اس ساتھی کو ساتھ لے کر) اپنے اوپر جرم (کفر) قائم کرتا ہوا اپنے باغ میں پہونچا، (اور) کہنے لگا کہ میرا تو خیال نہیں ہے کہ یہ باغ (میری زندگی میں) کبھی بھی برباد ہوگا (اس سے معلوم ہوا کہ وہ خدا کے وجود اور ہر چیز پر اس کی قدرت کا قائل نہ تھا، بس ظاہری سامان حفاظت کو دیکھ کر اس نے یہ گتفگو کی) اور (اسی طرح) میں قیامت کو نہیں خیال کرتا کہ آوے گی اور اگر (بفرض محال قیامت آ بھی گئی اور) میں اپنے رب کے پاس پہونچایا گیا (جیسا تیرا عقیدہ ہے) تو ضرور اس باغ سے بھی بہت زیادہ اچھی جگہ مجھ کو ملے گی (کیونکہ جنت کی جگہوں کا دنیا سے اچھا اور بہتر ہونے کا تو تجھے بھی اقرار ہے، اور یہ بھی تجھے تسلیم ہے کہ جنت اللہ کے مقبول بندوں کو ملے گی، میری مقبولیت کے آثار و علامات تو تو دنیا ہی میں دیکھ رہا ہے اگر میں اللہ کے نزدیک مقبول نہ ہوتا تو باغات کیوں ملتے، اس لئے تمہارے اقرار و تسلیم کے مطابق بھی مجھے وہاں یہاں سے اچھے باغ ملیں گے) اس (کی یہ باتیں سن کر اس) سے اس کے ملاقاتی نے (جو کہ دیندار مگر غریب آدمی تھا) جواب کے طور پر کہا کیا تو (توحید اور قیامت سے انکار کر کے) اس ذات (پاک) کے ساتھی کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو (اول) مٹی سے (جو کہ تیرا مادہ بعیدہ ہے بواسطہ آدم ؑ کے) پیدا کیا پھر (تجھ کو) نطفہ سے (جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں بنایا) پھر تجھ کو صحیح سالم آدمی بنایا (اس کے باوجود تو توحید اور قیامت سے انکار اور کفر کرتا ہے تو کیا کر) لیکن میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ (یعنی) اللہ تعالیٰ میرا رب (حقیقی) ہے اور میں اس کے ساتھی کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اور (جب اللہ تعالیٰ کی توحید اور قدرت مطلقہ ہر چیز پر ثابت ہے، اور اس کے نتیجہ میں یہ کچھ بعید نہیں کہ باغ کی ترقی اور حفاظت کے تیرے سارے اسباب و سامان کسی وقت بھی بیکار اور معطل ہوجائیں اور باغ برباد ہوجائے، اس لئے تجھے لازم تھا کہ مسبب الاسباب پر نظر کرتا) تو تو جس وقت اپنے باغ میں پہنچا تھا تو تو نے یوں کیوں نہ کہا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہی ہوتا ہے (اور) بدون خدا کی مدد کے (کسی میں) کوئی قوت نہیں (جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ باغ قائم رہے گا اور جب چاہے گا ویران ہوجائے گا) اگر تو مجھ کو مال و اولاد میں کمتر دیکھتا ہے (اس سے تجھ کو اپنے مقبول ہونے کا شبہ پڑگیا ہے) تو مجھ کو وہ وقت نزدیک معلوم ہوتا ہے کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دیدے (خواہ دنیا ہی میں یا آخرت میں) اور اس (تیرے باغ) پر کوئی تقدیری آفت آسمان سے (یعنی بلا واسطہ اسباب طبیعہ کے) بھیج دے جس سے وہ باغ دفعۃ ایک صاف (چٹیل) میدان ہو کر رہ جائے یا اس سے اس کا پانی (جو نہر میں جاری ہے) بالکل اندر (زمین میں) اتر (کر خشک ہو) جائے پھر تو اس (کے دوبارہ لانے اور نکالنے) کی کوشش بھی نہیں کرسکے (یہاں اس دیندار ساتھی نے اس بےدین کے باغ کا تو جواب دے دیا، مگر اولاد کے متعلق کچھ جواب نہیں دیا، شاید وجہ یہ ہے کہ اولاد کی کثرت جبھی بھلی معلوم ہوتی ہے جب اس کی پرورش کے لئے مال موجود ہو ورنہ وہ الٹا وبال جان بن جاتی ہے، حاصل اس کلام کا یہ ہوا کہ تیرے بدعقیدہ ہونے کا سبب یہ تھا کہ تجھے دنیا میں اللہ نے دولت دے دیاس کو تو نے اپنی مقبولیت کی علامت سمجھ لیا، اور میرے پاس دولت نہ ہونے سے مجھ کو غیر مقبول سمجھ لیا، تو دنیا کی دولت و ثروت کو مقبولیت عند اللہ کا مدار سمجھ لینا ہی بڑا دھوکا اور غلطی ہے، دنیا کی نعمتیں تو رب العالمین سانپوں، بچھو وں اور بھیڑوں اور بدکاروں سبھی کو دیتے ہیں، اصل مدار مقبولیت کا آخرت کی نعمتوں پر ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں اور دنیا کی نعمتیں سب زوال پذیر ہیں) اور (اس گفتگو کے بعد واقعہ یہ پیش آیا کہ) اس شخص کے سامان کو تو آفت نے آگھیرا، پس اس نے جو کچھ باغ پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا پڑا تھا، اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا (اس سے معلوم ہوا کہ باغ پر آفت آنے سے وہ یہ سمجھ گیا کہ یہ وبال کفر شرک کے سبب سے آیا ہے، اگر کفر نہ کرتا تو اول تو یہ آفت ہی شاید نہ آتی، اور آ بھی جاتی تو اس کا بدلہ آخرت میں ملتا، اب دنیا و آخرت دونوں میں خسارہ ہی خسارہ ہے، مگر صرف اتنی حسرت و افسوس سے اس کا ایمان ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ حسرت، ندامت تو دنیا کے نقصان کے وجہ سے ہوئی، آگے اللہ کی توحید اور قیامت کا اقرار جب تک ثابت نہ ہو اس کو مومن نہیں کہہ سکتے) اور اس کے پاس ایسا کوئی مجمع نہ ہوا جو خدا کے سوا اس کی مدد کرنا) اس کو اپنے مجمع اور اولاد پر ناز تھا وہ بھی ختم ہوا) اور نہ وہ خود (ہم سے) بدلہ لے سکا، ایسے موقع پر مدد کرنا تو اللہ برحق ہی کا کام ہے (اور آخرت میں بھی) اسی کا ثواب سب سے اچھا ہے اور (دنیا میں بھی) اسی کا نتیجہ سب سے اچھا ہے (یعنی مقبولین کا کوئی نقصان ہوجاتا ہے تو دونوں جہاں میں اس کا ثمرہ نیک ملتا ہے بخلاف کافر کے کہ بالکل خسارہ میں رہ گیا۔
Ayahs 18:34–39معارف و مسائل
وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر)
مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخض کوئی چیز دیکھے اور وہ اس کو پسند آئے تو اگر اس نے یہ کلمہ کہہ لیا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه تو اس کو کوئی چیز نقصان نہ پہونچائے گی (یعنی وہ پسندیدہ محبوب چیز رہے گی) اور بعض روایات میں ہے کہ جس نے کسی محبوب، پسندیدہ چیز کو دیکھ کر یہ کلمہ پڑھ لیا تو اس کو نظر بد نہ لگے گی۔
Ayahs 18:40–44حُسْـبَانًا اس لفظ کی تفسیر حضرت قتادہ ؓ نے مطلق عذاب سے کی ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ سے اور بعض نے پتھراؤ سے، اس کے بعد جو قرآن میں آیا ہے اس میں ظاہر یہ ہے کی اس کے باغ اور تمام مال وزر اور سامان عیش پر کوئی بڑی آفت آ پڑی، جس نے سب کو برباد کردیا، قرآن نے صراحۃ، جیسا کہ لفظ حسبان کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی آگے منقول ہے، واللہ اعلم
Ayah 18:45خلاصہ تفسیر
(اس سے پہلے دنیوی زندگی اور اس کے سامان کی ناپائیداری ایک شخص اور جزوی مثال سے بیان فرمائی تھی، اب یہی مضمون عام اور کلی مثال سے واضح کیا جاتا ہے) اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو پھر اس (پانی سے) زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں پھر وہ (بعد اس کے کہ سرسبز و تروتازہ تھی خشک ہو کر) ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اس کو ہوا اڑائے لئے پھرتی ہو (یہی حال دنیا کا ہے کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے کل اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (جب چاہیں ایجاد کریں ترقی دیں اور جب چاہیں فنا کردیں اور جب اس حیات دنیا کا یہ حال ہے اور) مال و اولاد حیات دنیا کی ایک رونق (اور اس کے توابع میں سے) ہے (تو خود مال و اولاد تو اور بھی زیادہ سریع الزوال ہے) اور جو اعمال صالحہ (ہمیشہ ہمیشہ کو) باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک (یعنی آخرت میں اس دنیا سے) ثواب کے اعتبار سے بھی (ہزار درجہ) بہتر ہے اور امید کے اعتبار سے بھی (ہزار درجہ) بہتر ہے (یعنی اعمال صالحہ سے جو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ آخرت میں ضرور پوری ہوں گی، اور اس کی امید سے بھی زیادہ ثواب ملے گا، بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے دنیا میں بھی انسانی امیدیں پوری نہیں ہوتیں، اور آخرت میں تو کوئی احتمال ہی نہیں) اور اس دن کو یاد کرنا چاہیے جس دن ہم پہاڑوں کو (ان کی جگہ سے) ہٹا دیں گے (یہ ابتدا میں ہوگا پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے) اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ ایک کھلا میدان پڑا ہے (کیونکہ پہاڑ درخت، مکان کچھ باقی نہ رہے گا) اور ہم ان سب کو (قبروں سے اٹھا کر میدان حساب میں) جمع کردیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے (کہ وہاں نہ لایا جائے، اور سب کے سب آپ کے رب کے روبرو (یعنی موقف حساب میں) برابر کھڑے کر کے پیش کئے جائیں گے (یہ احتمال نہ رہے گا کہ کوئی کسی کی آڑ میں چھپ جائے اور ان میں جو قیامت کا انکار کرتے تھے ان سے کہا جائے گا کہ) دیکھو آخر تم ہمارے پاس (دوبارہ پیدا ہو کر) آئے بھی جیسا ہم نے تم کو پہلی بار (یعنی دنیا میں) پیدا کیا تھا (مگر تم پہلی پیدائش کا مشاہدہ کرلینے کے باوجود اس دوسری پیدائش کے قائل نہ ہوئے) بلکہ تم یہی سمجھتے رہے کہ ہم تمہارے (دوبارہ پیدا کرنے کے) لئے کوئی وقت موعود نہ لائیں گے اور نامہ عمل (خواہ داہنے ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں دے کر اس کے سامنے کھلا ہوا) رکھ دیا جائے گا (جیسا کہ دوسری آیت میں (آیت) وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ (لکھا) ہوگا (اس کو دیکھ کر) اس سے (یعنی اس کی سزا سے) ڈرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ بےقلمبند کئے ہوئے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا اور جو کچھ انہوں نے (دنیا میں) کیا تھا وہ سب (لکھا ہوا) موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا (کہ نہ کیا ہوا گناہ لکھ لے یا کی ہوئی نیکی جو شرائط کے ساتھی کی جائے اس کو نہ لکھے)۔
Ayahs 18:46–47معارف و مسائل
وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ مسند احمد، ابن حبان اور حاکم نے بروایت حضرت ابوسعید خدری ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ باقیات صالحات کو زیادہ سے زیادہ جمع کیا کرو، عرض کیا گیا کہ وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ لا الہ الا اللہ الحمد للہ اللہ اکبر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ کہنا حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، اور عقیلی نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولآالہ الا اللہ واللہ اکبر یہی باقیات صالحات ہیں، یہی مضمون طبرانی نے بروایت حضرت سعد بن عبادہ بھی روایت کیا ہے، اور صحیح مسلم و ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کلمہ یعنی سبحان اللہ والحمد للہ ولآالہ الا اللہ واللہ اکبر میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے، یعنی سارے جہان سے۔
اور حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھا کرو کیونکہ یہ ننانوے باب بیماری اور تکلیف کے دور کردیتا ہے، جن میں سب سے کم درجہ کی تکلیف ہم یعنی فکر و غم ہے۔
اسی لئے اس آیت میں لفظ باقیات صالحات کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ ، عکرمہ، مجاہد نے یہی کی ہے کی مراد اس سے یہی کلمات پڑھنا ہے، اور سعید بن جبیر، مسروق اور ابراہیم نے فرمایا کی باقیات صالحات سے پانچ نمازیں مراد ہیں۔
اور حضرت ابن عباس ؓ سے ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آیت میں باقیات صالحات سے مراد مطلق اعمال صالحہ ہیں جن میں یہ کلمات مذکورہ بھی داخل ہیں، پانچوں نمازیں بھی اور دوسرے تمام نیک اعمال بھی، حضرت قتادہ ؓ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے (مظہری)
الفاظ قرآن کے مطابق بھی یہی ہے کیونکہ ان الفاظ کا لفظی مفہوم وہ اعمال صالحہ ہیں جو باقی رہنے والے ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ اعمال صالحہ سب ہی اللہ کے نزدیک باقی اور قائم ہیں ابن جریر طبری اور قرطبی نے اسی تفسیر کو ترجیح دی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ کھیتی دو قسم کی ہوتی ہے، دنیا کی کھیتی تو مال و اولاد ہے، اور آخرت کی کھیتی باقیات صالحات ہیں، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ باقیات صالحات انسان کی نیت اور ارادہ ہیں کی اعمال صالحہ کی قبولیت اس پر موقوف ہے۔
اور عبید ابن عمر نے فرمایا کہ باقیات صالحات نیک لڑکیاں ہیں کہ وہ اپنے والدین کے لئے سب سے بڑا ذخیرہ ثواب ہیں، اس پر حضرت صدیقہ عائشہ کی ایک روایت دلالت کرتی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کو جہنم میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا، تو اس کی نیک لڑکیاں اس کو چمٹ گئیں اور رونے اور شور کرنے لگیں، اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کی کہ اے اللہ انہوں نے دنیا میں ہم پر بڑا احسان کیا، اور ہماری تربیت میں محنت اٹھائی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما کر بخش دیا (قرطبی)
Ayah 18:48(آیت) وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ قیامت کے دن سب کو خطاب ہوگا کہ آج تم اس طرح خالی ہاتھ بغیر کسی سازو سامان کے ہمارے سامنے آئے ہو، جیسا تمہیں اول پیدائش کے وقت پیدا کیا تھا، بخاری، مسلم، ترمذی میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے لوگو تم قیامت میں اپنے رب کے سامنے ننگے پاوں ننگے بدن پیدل چلتے ہوئے آؤ گے، اور سب سے پہلے جس کو لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم ؑ ہوں گے، یہ سن کر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا سب مرد و عورت ننگے ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس روز ہر ایک کو ایسا شغل اور ایسی فکر گھیرے رہے گی کہ کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا موقع ہی نہ ملے گا، سب کی نظریں اوپر اٹھی ہوئی ہوں گی۔
قرطبی نے فرمایا کی ایک حدیث میں جو آیا ہے کی مردے برزخ میں ایک دوسرے سے اپنے کفنوں میں ملبوس ہو کر ملاقات کریں گے، وہ اس حدیث کے منافی نہیں، کیونکہ وہ معاملہ قبر اور برزخ کا ہے یہ میدان حشر میں اٹھے گا جس میں اس کو دفن کیا گیا تھا، حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا کہ اپنے مردوں کے کفن اچھے بنایا کرو کیونکہ وہ قیامت کے روز اسی کفن میں اٹھیں گے، اس کو بعض حضرات نے شہیدوں پر محمول کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ محشر میں بعض لوگ ملبوس اٹھیں اور بعض ننگے، اس طرح دونوں قسم کی روایات جمع ہوجاتی ہیں (مظہری)
Ayah 18:49جزا عین عمل ہے
(آیت) وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا یعنی سب اہل محشر اپنے کئے ہوئے اعمال کو حاضر پائیں گے اس کا مفہوم عام طور پر حضرات مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ اپنے کئے ہوئے اعمال کی جزا کو حاضر و موجود پائیں گے، ہمارے استاذ مولانا سید محمد کشمیری فرماتے تھے کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں، روایات حدیث بیشمار اس پر شاہد ہیں کہ یہی اعمال دنیا و آخرت کی جزا و سزا بن جائیں گے اور برے اعمال جہنم کی آگ اور سانپ و بچھو بن جائیں گے۔
احادیث میں ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں کا مال قبر میں ایک بڑے سانپ کی شکل میں آکر اس کو ڈسے گا اور کہے گا انا مالک (میں تیرا مال ہوں) نیک عمل ایک حسین انسان کی شکل میں انسان کو قبر کی تنہائی میں کچھ وحشت دور کرنے کے لئے انس دلاتے آئے گا، قربانی کے جانور پل صراط کی سواری بنیں گے، انسان کے گناہ محشر میں بوجھ کی شکل میں ہر ایک کے سر پر لاد دیے جائیں گے۔
قرآن میں یتیموں کے مال کو ناحق کھانے کے بارے میں ہے اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ ان تمام آیات و روایات کو عموما مجاز پر محمول کیا جاتا ہے، اور اگر اس تحقیق کو لیا جائے تو ان میں کسی جگہ مجاز کی ضرورت نہیں رہتی، سب اپنی حقیقت پر رہتی ہیں۔
قرآن نے یتیم کے ناجائز مال کو آگ فرمایا، تو حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت بھی آگ ہی ہے، مگر اس کے آثار محسوس کرنے کے لئے اس دنیا سے گذر جانا شرط ہے، جیسے کوئی دیا سلائی کے بکس کو آگ کہے تو صحیح ہے مگر اس کے آگ ہونے کے لئے رگڑ کی شرط ہے، اسی طرح کوئی پیڑوں کو آگ کہے تو صحیح سمجھا جائے گا اگرچہ اس لے لئے ذرا سی آگ سے اتصال شرط ہے۔
اس کا حاصل یہ ہوا کہ انسان جو کچھ نیک یا بد عمل دنیا میں کرتا ہے یہ عمل ہی آخرت میں جزا و سزا کی شکل اختیار کرے گا، اس وقت اس کے آثار و علامات اس دنیا سے الگ دوسرے ہوجاویں گے واللہ اعلم
Ayahs 18:50–53خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا، (کیونکہ نجات کا عنصر غالب جس سے وہ پیدا کئے گئے ہیں آگ ہے، اور عنصر نار کا مقتضا پابند نہ رہنا ہے، مگر اس اقتضائے عنصری کی وجہ سے ابلیس معذور نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس تقاضائے عنصری کو خدا کے خوف سے مغلوب کیا جاسکتا تھا) تو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کی زریت (اولاد اور توابع) کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر (یعنی میری اطاعت چھوڑ کر اس کے کہنے پر چلتے وہ) حالانکہ وہ (ابلیس اور اس کی جماعت) تمہارے دشمن ہیں (کہ ہر وقت تمہیں ضرر پہونچانے کی فکر میں رہتے ہیں) یہ (ابلیس اور اس کی زریت کی دوستی) ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے (بدل اس لئے کہا کہ دوست تو بنانا چاہئے تھا مجھے، لیکن انہوں نے میرے بدلے شیطان کو دوست بنا لیا، بلکہ دوست ہی نہیں اس کو خدائی کا شریک بھی مان لیا حالانکہ) میں نے ان کو نہ تو آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت (اپنی مدد یا مشورے کے لئے بلایا) اور میں ایسا (عاجز) نہ تھا کہ (کسی کو بالخصوص) گمراہ کرنے والوں (یعنی شیاطین کو) اپنا (دوست و) بازو بناتا (یعنی مدد کی ضرورت تو اس کو ہوتی ہے جو خود قادر نہ ہو) اور (تم یہاں ان کو شریک خدائی سمجھتے ہو، قیامت میں حقیقت معلوم ہوگی) اس دن کو یاد کرو کہ حق تعالیٰ (مشرکین سے) فرمائے گا کہ جن کو تم ہمارا شریک سمجھا کرتے تھے ان کو (اپنی امداد کے لئے) پکارو تو وہ پکاریں گے تو وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان میں ایک آڑ کردیں گے (جس سے بالکل ہی مایوسی ہوجائے ورنہ بغیر آڑ کے بھی ان کا مدد کرنا ممکن نہ تھا) اور مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں، اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے واسطے ہر قسم کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان فرمائے ہیں، اور (اس پر بھی منکر) آدمی جھگڑنے میں سب سے بڑھ کر ہے (جنات اور حیوانات میں اگرچہ شعور و ادراک ہے مگر وہ ایسا جدال اور جھگڑا نہیں کرتے) اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ہدایت پہنچ چکی، (جس کا تقاضا تھا کہ ایمان لے آتے) ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے (کفر و معصیت سے) مغفرت ماننے سے اور کوئی امر مانع نہیں بجز اس کے کہ ان کو اس کا انتظار ہو کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ (ہلاکت اور عذاب کا) ان کو بھی پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، (مطلب یہ ہے کہ ان سے حالات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ عذاب ہی کا انتظار ہے ورنہ اور سب حجتیں تو تمام ہو چکیں) اور رسولوں کو تو صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا کرتے ہیں (جس کے لئے معجزات وغیرہ کے ذریعہ کافی دلائل ان کے ساتھ کر دئیے جانے ہیں، اس سے زائد ان سے کوئی فرمائش کرنا جہالت ہے) اور کافر لوگ ناحق کی باتیں پکڑ پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں، جا کہ اس کے ذریعہ حق بات کو بچلا دیں اور انھوں نے میری آیتوں کو اور جس (عذاب) سے ان کو ڈرایا گیا تھا اس کو دل لگی بنا رکھا ہے، اور اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جاوے پھر وہ اس سے رو گردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں (گناہ) سمیٹ رہا ہے اس (کے نتیجہ) کو بھول جائے، ہم نے اس (حق بات) کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں (اور اس کے سننے سے) ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے اور (اس وجہ سے ان کا حال یہ ہے کہ) اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلائیں تو ہرگز بھی راہ پر نہ آئیں (کیونکہ کانوں سے دعوت حق سنتے نہیں، دلوں سے سمجھتے نہیں، اس لئے آپ غم نہ کریں) اور (تاخیر عذاب کی وجہ سے جو ان کو یہ خیال ہو رہا ہے کہ عذاب آئے گا ہی نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا بڑا رحمت والا ہے (اس لئے مہلت دے رکھی ہے کہ آپ ان کو ہوش آجائے اور ایمان لے آئیں تو ان کی مغفرت کردی جائے ورنہ ان کے اعمال تو ایسے ہیں کہ) اگر ان سے ان کے اعمال پر داروگیر کرنے لگتا تو ان پر فورا ہی عذاب واقع کردیتا (مگر ایسا نہیں کرتا) ان کے (عذاب کے) واسطے ایک معین وقت (ٹھہرا رکھا) ہے (یعنی روز قیامت) کہ اس سے اس طرف (یعنی پہلے) کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے (یعنی اس وقت کے آنے سے پہلے کسی پناہ کی جگہ میں جا چھپیں اور اس سے محفوظ رہیں) اور (یہی قاعدہ پہلے کفار کے ساتھ برتا گیا چنانچہ) یہ بستیاں (جن کے قصے مشہور و مذکور ہیں) جب انہوں نے (یعنی ان کے بسنے والوں نے) شرارت کی تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ہم نے ان کے ہلاک ہونے کے لئے وقت معین کیا تھا (اسی طرح ان موجودہ لوگوں کے لئے بھی وقت معین ہے)۔
معارف و مسائل
ابلیس کی اولاد اور ذریت بھی ہے
وَذُرِّيَّتَهٗٓ اس لفظ سے سمجھا جاتا ہے کہ شیطان کی اولاد وذریت ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ ذریت سے مراد معین و مددگار ہیں یہ ضروری نہیں کہ شیطان کی صلبی اولاد بھی ہو مگر ایک صحیح حدیث جس کو حمیدی نے کتاب الجمع بین الصحیحین میں حضرت سلمان فارسی سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان کو یہ نصیحت فرمائی کہ تم ان لوگوں میں سے نہ بنو جو سب سے پہلے بازار میں داخل ہوجاتے ہیں یا وہ لوگ جو سب سے آخر میں بازار سے نکلتے ہیں کیونکہ بازار ایسی جگہ ہے جہاں شیطان نے انڈے بچے دے رکھے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی ذریت اس کے انڈوں سے پھیلتی ہے قرطبی نے یہ روایت نقل کرنے بعد فرمایا کہ شیطان کے مددگار اور لشکر ہونا تو قطعی دلائل سے ثابت ہے اولاد صلبی ہونے کے متعلق بھی ایک صحیح حدیث اوپر گذر چکی ہے واللہ اوعلم۔
Ayahs 18:54–59(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی کرتے تھے وہ تیرے خلاف گواہی دیتے ہیں یہ کہے گا کہ میں ان کی شہادت کو بھی نہیں مانتا اور نہ ان کو پہچانتا ہوں نہ میں نے ان کو اپنے عمل کے وقت دیکھا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو یہ لوح محفوظ سامنے ہے اس میں بھی تیرا حال لکھا ہے وہ کہے گا کہ میرے پروردگار آپ نے مجھے ظلم سے پناہ دی ہے یا نہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بیشک ظلم سے تو ہماری پناہ میں ہے تو اب وہ کہے گا کہ میرے پروردگار میں ایسی غیبی شہادتوں کو کیسے مانوں جو میری دیکھی بھالی نہیں میں ایسی شہادت کو مان سکتا ہوں جو میرے نفس کی طرف سے ہو اس وقت اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے ہاتھ پاؤں اس کے کفر و شرک پر گواہی دیں گے اس کے بعد اس کو آزاد کردیا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا (اس روایت کا مضمون صحیح مسلم میں حضرت انس سے منقول ہے قرطبی)
Ayah 18:60خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے (جن کا نام یوشع تھا رواہ البخاری) فرمایا کہ میں (اس سفر میں) برابر چلا جاؤں گا یہاں تک کہ اس موقع پر پہنچ جاؤں جہاں دو دریا آپس میں ملے ہیں یا یوں ہی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا (اور وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا میں ! مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں اور یہ فرمانا صحیح تھا اس لئے کہ آپ نبی اولو العزم تھے آپ کے برابر دوسرے کو یہ علم نہیں تھا لیکن ظاہراً لفظ مطلق تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے غرض ارشاد ہوا کہ ہمارا بندہ مجمع البحرین میں تم سے زیادہ علم رکھتا ہے مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہ ہو جیسا عنقریب واضح ہوگا لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقاً تو اپنے کو اعلم کہنا نہ چاہئے تھا غرض موسیٰ ؑ ان کے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک بےجان مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ہے۔
اس وقت موسیٰ ؑ نے یوشع کو ساتھ لیا اور یہ بات فرمائی) پس جب (چلتے چلتے) دونوں دریاؤں کے جمع ہونے کے موقع پر پہنچنے (وہاں کسی پتھر سے لگ کر سو رہے اور وہ مچھلی باذنہ تعالیٰ زندہ ہو کر دریا میں جا پڑی یوشع ؑ نے بیدار ہو کر مچھلی کو نہ پایا ارادہ تھا کہ موسیٰ ؑ جاگیں گے تو اس کا ذکر کروں گا مگر ان کو مطلق یاد نہ رہا شاید اہل و عیال اور وطن وغیرہ کے خیالات کا ہجوم ہوا ہوگا جو ذکر کرنا بھول گئے ورنہ ایسی عجیب بات کا بھول جانا کم ہوتا ہے لیکن جو شخص ہر وقت معجزات دیکھتا رہتا ہو اس کے ذہن سے کسی ادنیٰ درجی کہ عجیب بات کا نکل جانا کسی خیال کے غلبہ سے عجب نہیں اور موسیٰ ؑ کو بھی پوچھنے کا خیال نہ رہا، اس طرح سے) اس اپنی مچھلی کو دونوں بھول گئے اور مچھلی نے (اس کے قبل زندہ ہو کر) دریا میں اپنی راہ لی اور چل دی پھر جب دونوں (وہاں سے) آگے بڑھ گئے (اور دور نکل گئے) تو موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا ناشتہ تو لاؤ ہم کو تو اس سفر (یعنی آج کی منزل) میں بڑی تکلیف پہنچی (اور اس کے قبل کی منزلوں میں نہیں تھکے تھے جس کی وجہ ظاہراً موقع مقصود سے آگے بڑھ آنا تھا) خادم نے کہا کہ لیجئے دیکھئے (عجیب بات ہوئی) جب ہم اس پتھر کے قریب ٹھہرے تھے (اور سوگئے تھے اس وقت اس مچھلی کا ایک قصہ ہوا اور میرا ارادہ آپ سے ذکر کرنے کا ہوا لیکن میں کسی دوسرے دھیان میں لگ گیا) سو میں اس مچھلی (کے تذکرہ) کو بھول گیا اور مجھ کو شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کو ذکر کرتا اور (وہ قصہ یہ ہوا کہ) اس مچھلی نے (زندہ ہونے کے بعد) دریا میں عجیب طور پر اپنی راہ لی (ایک عجیب طور پر تو خود زندہ ہوجانا ہے دوسرا عجیب طور یہ کہ وہ مچھلی دریا میں جہاں کو گذری تھی وہاں کا پانی بطور خرق عادت کے اسی طرح سرنگ کے طور پر ہوگیا تھا غالباً پھر مل گیا ہوگا) موسیٰ ؑ نے (یہ حکایت سن کر) فرمایا کہ یہ ہی وہ موقع ہے جس کی ہم کو تلاش تھی (وہاں ہی لوٹنا چاہئے) سو دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے الٹے لوٹے (غالباً وہ راستہ سڑک کا نہ ہوگا اس لئے نشان دیکھنے پڑھے) سو (وہاں پہنچ کر) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (یعنی خضر) کو پایا جن کو ہم نے اپنی خاص رحمت (یعنی مقبولیت) دی تھی (مقبولیت کے معنی میں ولایت اور نبوت دونوں کا احتمال ہے) اور ہم نے ان کو اپنے پاس سے (یعنی بلا واسطہ اسباب اکتساب) ایک خاص طور پر علم سکھلایا تھا (مراد اس سے علم اسرار کونیہ ہے جیسا واقعات آئندہ سے معلوم ہوگا اور اس علم کو حصول قرب الہی میں کچھ دخل نہیں جس علم کو قرب میں دخل ہے وہ علم اسرار الہیہ ہے جس میں موسیٰ ؑ بڑھے ہوئے تھے غرض) موسیٰ ؑ نے (ان کو سلام کیا اور ان سے) فرمایا کہ میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں (یعنی آپ مجھے اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیجئے) اس شرط سے کہ جو علم مفید آپ کو (من جانب اللہ) سکھلایا گیا ہے اس میں سے آپ مجھ کو بھی سکھلا دیں ان بزرگ نے جواب دیا آپ سے میرے ساتھ رہ کر (میرے افعال پر) صبر نہ ہو سکے گا (یعنی آپ مجھ پر روک ٹوک کریں گے اور معلم پر تعلیم کے متعلق متعلم کی روک ٹوک کرنے سے مصاحبت مشکل ہے) اور (بھلا) ایسے امور پر (روک ٹوک کرنے سے) آپ کیسے صبر کریں گے جو آپ کے احاطہ واقفیت سے باہر ہیں (یعنی ظاہر میں وہ امور بوجہ منشاء معلوم نہ ہونے کے خلاف شرع نظر آئیں گے اور آپ خلاف شرع امور پر سکوت نہ کرسکیں گے) موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ (نہیں) انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر (یعنی ضابط) پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کے خلاف حکم نہ کروں گا (یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے میں روک ٹوک نہ کروں گا اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا) ان بزرگ نے فرمایا کہ (اچھا) تو اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو (اتنا خیال رہے کہ) مجھ سے کسی بات کی نسبت کچھ پوچھنا نہیں جب تک کہ اس کے متعلق میں خود ہی ابتداً ذکر نہ کر دوں۔
معارف و مسائل
(آیت) وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىهُ اس واقعہ میں موسیٰ سے مراد مشہور پیغمبر موسیٰ بن عمران ؑ ہیں نوف بکالی نے جو دوسرے کسی موسیٰ کی طرف اس واقعہ کو منسوب کیا ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی طرف سے اس پر سخت رد منقول ہے۔
اور فتی کے لفظی معنی نوجوان کے ہیں جب یہ لفظ کسی خاص شخص کی طرف منسوب کرکے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا خادم مراد ہوتا ہے کیونکہ خدمت گار اکثر قوی جوان دیکھ کر رکھا جاتا ہے جو ہر کام انجام دے سکے اور نوکر و خادم کو جوان کے نام سے پکارنا اسلام کا حسن ادب ہے کہ نوکروں کو بھی غلام یا نوکر کہہ کر خطاب نہ کرو بلکہ اچھے لقب سے پکارو اس جگہ فتی کی نسبت موسیٰ ؑ کی طرف ہے اس لئے مراد حضرت موسیٰ ؑ کے خادم اور روایات حدیث میں ہے کہ یہ خادم یوشع بن نون ابن افرائیم بن یوسف ؑ تھے بعض روایات میں ہے کہ یہ موسیٰ ؑ کے بھانجے تھے مگر اس میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا صحیح روایات سے ان کا نام یوشع بن نون ہونا تو ثابت ہے باقی اوصاف و حالات کا ثبوت نہیں (قرطبی)
مجمع البحرین کے لفظی معنی ہر وہ جگہ ہے جہان دو دریا ملتے ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ ایسے مواقع دنیا میں بیشمار ہیں اس جگہ مجمع البحرین سے کونسی جگہ مراد ہے چونکہ قرآن و حدیث میں اس کو معین طور پر نہیں بتلایا اس لئے آثار و قرائن کے اعتبار سے مفسرین کے اقوال اس میں مختلف ہیں قتادہ نے فرمایا کہ بحر فارس و روم کے ملنے کی جگہ مراد ہے ابن عطیہ نے آذر بائیجان کے قریب ایک جگہ کو کہا ہے بعض نے بحر اردن اور بحر قلزم کے ملنے کی جگہ بتلائی ہے بعض نے کہا یہ مقام طنجہ میں واقع ہے ابی بن کعب ؓ سے منقول ہے کہ یہ افریقہ میں ہے سدی نے آرمینیہ میں بتلایا ہے بعض نے بحر اندلس جہاں بحر محیط سے ملتا ہے وہ موقع بتلایا ہے واللہ اعلم۔
بہرحال اتنی بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو یہ مقام معین کرکے بتلا دیا تھا جس کی طرف ان کا سفر واقع ہوا ہے۔ (قرطبی)
قصہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ
اس واقعہ کی تفصیل صحیح بخاری و مسلم میں بروایت حضرت ابی بن کعب اس طرح آئی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے آپ سے یہ سوال کیا کہ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے (حضرت موسیٰ ؑ کے علم میں اپنے سے زیادہ علم والا کوئی تھا نہیں اس لئے) فرمایا کہ میں سب سے زیادہ علم والا ہوں (اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بارگاہ انبیاء (علیہم السلام) کو خاص تربیت دیتے ہیں اس لئے یہ بات پسند نہ آئی بلکہ ادب کا مقتضی یہ تھا کہ اس کو اللہ کے علم کے حوالے کرتے یعنی یہ کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ ساری مخلوق میں اعلم کون ہے) حضرت موسیٰ ؑ کے اس جواب پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہوا موسیٰ ؑ پر وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ مجمع البحرین پر ہے وہ آپ سے زیادہ اعلم ہے (موسیٰ ؑ کو جب یہ معلوم ہوا تو اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ جب وہ مجھ سے زیادہ اعلم ہیں تو مجھے ان سے استفادہ کے لئے سفر کرنا چاہئے) اس لئے عرض کیا یا اللہ مجھے ان کا پتہ نشان بتلا دیا جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو اور مجمع البحرین کی طرف سفر کرو جس جگہ پہنچ کر یہ مچھلی گم ہوجائے پس وہی جگہ ہمارے اس بندے کے ملنے کی ہے موسیٰ ؑ نے حکم کے مطابق ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی اور چل دیئے۔
ان کے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون بھی تھے دوران سفر ایک پتھر کے پاس پہنچ کر اس پر سر رکھ کر لیٹ گئے یہاں اچانک یہ مچھلی حرکت میں آگئی اور زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی اور (مچھلی کے زندہ ہو کر دریا میں چلے جانے کے ساتھ ایک دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ) جس راستہ سے مچھلی دریا میں گئی اللہ تعالیٰ نے وہاں پانی کا جریان روک دیا اور اس جگہ پانی کے اندر ایک سرنگ جیسی ہوگئی (یوشع بن نون اس عجیب واقعہ کو دیکھ رہے تھے موسیٰ ؑ سو گئے تھے) جب بیدار ہوئے تو یوشع بن نون مچھلی کا یہ عجیب معاملہ حضرت موسیٰ ؑ کو بتلانا بھول گئے اور اس جگہ سے پھر روانہ ہوگئے پورے ایک دن ایک رات کا مزید سفر کیا جب دوسرے روز کی صبح ہوگئی تو موسیٰ ؑ نے اپنے رفیق سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لاؤ کیونکہ اس سفر سے کافی تھکان ہوچکا ہے آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ (بقضائے الہی) موسیٰ ؑ کو اس سے پہلے تھکان بھی محسوس نہیں ہوا یہاں تک کہ جس جگہ پہنچنا تھا اس سے آگے نکل آئے جب موسیٰ ؑ نے ناشتہ طلب کیا تو یوشع بن نون کو مچھلی کا واقعہ یاد آیا اور اپنے بھول جانے کا عذر کیا کہ شیطان نے مجھے بھلا دیا تھا کہ اس وقت آپ کو اس واقعہ کی اطلاع نہ کی اور پھر بتلایا کہ وہ مردہ مچھلی تو زندہ ہو کر دریا میں ایک عجیب طریقہ سے چلی گئی اس پر موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ وہی تو ہمارا مقصد تھا (یعنی منزل مقصود وہی تھی جہاں مچھلی زندہ ہو کر گم ہوجائے)
چنانچہ اسی وقت روانہ ہوگئے اور ٹھیک اسی راستہ سے لوٹے جس پر پہلے چلے تھے تاکہ وہ جگہ مل جائے اب جو یہاں اس پتھر کے پاس پہنچنے تو دیکھا کہ اس پتھر کے پاس ایک شخص سر سے پاؤں تک چادر تانے ہوئے لیٹا ہے موسیٰ ؑ نے (اسی حال میں) سلام کیا تو خضر ؑ نے کہا کہ اس (غیر آباد) جنگل میں سلام کہاں سے آگیا اس پر موسیٰ ؑ نے کہا کہ میں موسیٰ ہوں تو حضرت خضر ؑ نے سوال کیا کہ موسیٰ بنی اسرائیل ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں موسیٰ بنی اسرائیل ہوں اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے وہ خاص علم سکھلا دیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔
خضر ؑ نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے اے موسیٰ میرے پاس ایک علم ہے جو اللہ نے مجھے دیا ہے وہ آپ کے پاس نہیں اور ایک علم آپ کو دیا ہے جو میں نہیں جانتا موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی کام میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔
حضرت خضر ؑ نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ چلنے ہی کو تیار ہیں تو کسی معاملہ کے متعلق مجھ سے کچھ پوچھنا نہیں جب تک کہ میں خود آپ کو اس کی حقیقت نہ بتلاؤں۔
یہ کہہ کر دونوں حضرات دریا کے کنارے کنارے چلنے لگے اتفاقاً ایک کشتی آگئی تو کشتی والوں سے کشتی پر سوار ہونے کی بات چیت کی ان لوگوں نے حضرت خضر ؑ کو پہچان لیا اور ان سب لوگوں کو بغیر کسی کرایہ اور اجرت کے کشتی میں سوار کرلیا کشتی میں سوار ہوتے ہی خضر ؑ نے ایک کلہاڑی کے ذریعہ کشتی کا ایک تختہ نکال ڈالا حضرت موسیٰ ؑ (سے نہ رہا گیا) کہنے لگے کہ ان لوگوں نے بغیر کسی معاوضہ کے ہمیں کشتی میں سوار کرلیا آپ نے اس کا یہ بدلہ دیا کہ ان کی کشتی توڑ ڈالی کہ یہ سب غرق ہوجائیں یہ تو آپ نے بہت برا کام کیا۔
خضر ؑ نے کہا کہ میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے اس پر موسیٰ ؑ نے عذر کیا کہ میں اپنا وعدہ بھول گیا تھا اس بھول پر آپ سخت گیری نہ کریں
رسول کریم ﷺ نے یہ واقعہ نقل کرکے فرمایا کہ موسیٰ ؑ کا پہلا اعتراض خضر ؑ پر بھول سے ہوا تھا اور دوسرا بطور شرط کے ایک تیسرا قصداً (اسی اثناء میں) ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر اس نے دریا میں سے ایک چونچ بھر پانی لیا خضر ؑ نے موسیٰ ؑ کو خطاب کرکے کہا کہ میرا علم اور آپ کا علم دونوں مل کر بھی اللہ کے علم کے مقابلہ میں اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے جتنی اس چڑیا کی چونچ کے پانی کو اس سمندر کے ساتھ ہے۔
پھر کشتی سے اتر کر دریا کے ساحل پر چلنے لگے اچانک خضر ؑ نے ایک لڑکے کو دیکھا کہ دوسرے لڑکوں میں کھیل رہا ہے خضر ؑ نے اپنے ہاتھ سے اس لڑکے کا سر اس کے بدن سے الگ کردیا لڑکا مر گیا موسیٰ ؑ نے کہا کہ آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جرم کے قتل کردیا یہ تو آپ نے بڑا ہی گناہ کیا خضر ؑ نے کہا کہ کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کرسکیں گے موسیٰ نے دیکھا کہ یہ معاملہ پہلے معاملہ سے زیادہ سخت ہے اس لئے کہا کہ اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو آپ مجھے اپنے ساتھ سے الگ کر دیجئے آپ میری طرف سے عذر کی حد پر پہنچ چکے ہیں۔
اس کے بعد پھر چلنا شروع کیا یہاں تک کہ ایک گاؤں پر گذر ہوا انہوں نے گاؤں والوں سے درخواست کی کہ ہمیں اپنے یہاں مہمان رکھ لیجئے انہوں نے انکار کردیا اس بستی میں ان لوگوں نے ایک دیوار کو دیکھا کہ گرا چاہتی ہے حضرت خضر ؑ نے اس کو اپنے ہاتھ سے سیدھا کھڑا کردیا موسیٰ ؑ نے تعجب سے کہا کہ ہم نے ان لوگوں سے مہمانی چاہی تو انہوں نے انکار کردیا آپ نے اتنا بڑا کام کردیا اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت ان سے لے سکتے تھے خضر ؑ نے کہا کہ (آیت) ھٰذَا فِرَاقُ بَيْنِيْ وَبَيْنِكَ (یعنی اب شرط پوری ہوچکی اس لئے ہماری اور آپ کی مفارقت کا وقت آگیا ہے)
اس کے بعد خضر ؑ نے تینوں واقعات کی حقیقت حضرت موسیٰ ؑ کو بتلا کر کہا (آیت) ذٰلِكَ تَاْوِيْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا یعنی یہ ہے حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا رسول کریم ﷺ نے یہ پورا واقعہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ موسیٰ ؑ اور کچھ صبر کرلیتے تو ان دونوں کی اور کچھ خبریں معلوم ہوجاتیں (انتہی)
صحیح بخاری و مسلم میں یہ طویل حدیث اس طرح آئی ہے جس میں حضرت موسیٰ ؑ کا موسیٰ بنی اسرائیل اور نوجوان ساتھی کا نام یوشع بن نون ہونا اور جس بندے کی طرف موسیٰ ؑ کو مجمع البحرین کی طرف بھیجا گیا تھا ان کا نام خضر ہونا تصریحاً مذکور ہے آگے آیات قرآن کے ساتھ ان کے مفہوم اور تفسیر کو دیکھئے۔
سفر کے بعض آداب اور پیغمبرانہ عزم کا ایک نمونہ
(آیت) لَآ اَبْرَحُ حَتّٰى اَبْلُغَ مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا یہ جملہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے رفیق سفر یوشع بن نون سے کہا جس کا مطلب اپنے سفر کا رخ اور منزل مقصود رفیق کو بتانا تھا اس میں بھی حسن ادب ہے کہ سفر کی ضروری باتوں سے اپنے رفیق اور خادم کو بھی باخبر کردینا چاہئے متکبر لوگ اپنے خادموں اور نوکروں کو نہ قابل خطاب سمجھتے ہیں نہ اپنے سفر کے متعلق ان کو کچھ بتاتے ہیں۔
حُقُبًا۔۔ حقبہ کی جمع ہے اہل لغت نے کہا کہ حقبہ اسی سال کی مدت ہے بعض نے اس سے زیادہ کو حقبہ قرار دیا صحیح یہ ہے کہ زمانہ دراز کو کہا جاتا ہے تحدید و تعیین کچھ نہیں حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے رفیق کو یہ بتلا دیا کہ مجھے مجمع البحرین کی اس جگہ پر پہنچنا ہے جہاں کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے اور عزم یہ ہے کہ کتنا ہی زمانہ سفر میں گذر جائے جب تک اس منزل مقصود پر نہ پہنچوں سفر جاری رہے گا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں پیغمبرانہ عزم ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 18:61–64حضرت موسیٰ ؑ کا خضر ؑ سے افضل ہونا موسیٰ ؑ کی خاص تربیت اور ان کے معجزے
(آیت) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قرآن و سنت کی تصریحات سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میں بھی ایک خاص امتیاز حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا خاص شرف ان کی مخصوص فضیلت ہے اور حضرت خضر ؑ کی تو نبوت میں بھی اختلاف ہے اور نبوت کو تسلیم بھی کیا جائے تو مقام رسالت حاصل نہیں نہ ان کی کوئی کتاب ہے نہ کوئی خاص امت اس لئے بہرحال موسیٰ ؑ خضر ؑ سے بدرجہا افضل ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے مقربین کی ادنیٰ سی کمی اور کوتاہی کی اصلاح فرماتے ہیں ان کی تربیت کے لئے ادنیٰ سی کوتاہی پر بھی سخت عتاب ہوتا ہے اس کا تدراک بھی ان سے اسی پیمانے پر کرایا جاتا ہے یہ سارا قصہ اسی خاص انداز تربیت کا مظہر ہے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکل گیا تھا کہ میں سب سے زیادہ علم والا ہوں حق تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا تو ان کی تنبیہ کے لئے اپنے ایک ایسے بندے کا ان کو پتہ دیا گیا جن کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک خاص علم تھا جو موسیٰ ؑ کے پاس نہیں تھا اگرچہ موسیٰ ؑ کا علم ان کے علم سے درجہ میں بہت بڑھا ہوا تھا مگر بہرحال وہ موسیٰ ؑ کو حاصل نہ تھا ادھر موسیٰ ؑ کو حق تعالیٰ نے طلب علم کا ایسا جذبہ عطا فرمایا تھا کہ جب یہ معلوم ہوا کہ کہیں اور بھی علم ہے جو مجھے حاصل نہیں تو اس کے حاصل کرنے کے لئے طالب علمانہ سفر کے لئے تیار ہوگئے اور حق تعالیٰ ہی سے اس بندے (خضر علیہ السلام) کا پتہ پوچھا اب یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو خضر ؑ سے موسیٰ ؑ کی ملاقات یہیں آسانی سے کرا دیتے یا موسیٰ ؑ ہی کو طالب علم بنا کر سفر کرانا تھا تو پتہ صاف بتادیا جاتا جہاں پہنچنے میں پریشانی نہ ہوتی مگر ہوا یہ کہ پتہ ایسا مبہم بتلایا گیا کہ جس جگہ پہنچ کر مری ہوئی مچھلی زندہ ہو کر گم ہوجائے اس جگہ وہ ہمارا بندہ ملے گا۔
صحیح بخاری کی حدیث سے اس مچھلی کے متعلق اتنا ثابت ہوا کہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے یہ حکم ہوا تھا کہ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لیں اس سے زائد یہ کچھ معلوم نہیں کہ یہ مچھلی کھانے کے لئے ساتھ رکھنے کا حکم ہوا تھا یا کھانے سے علیحدہ دونوں احتمال ہیں اسی لئے سفر کے دونوں ساتھی دوران سفر اس میں سے کھاتے بھی رہے اس کا نصف حصہ کھایا جا چکا تھا اس کے بعد بطور معجزہ یہ بھونی ہوئی اور آدھی کھائی ہوئی مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی گئی۔
ابن عطیہ اور بعض دوسرے لوگوں نے یہ بھی بیان کیا کہ یہ مچھلی بطور معجزہ کے پھر دنیا میں باقی بھی رہی اور بہت دیکھنے والوں نے دیکھا بھی کہ اس کی صرف ایک کروٹ ہے اور دوسری کھائی ہوئی ہے ابن عطیہ نے خود بھی اپنا دیکھنا بیان کیا ہے (قرطبی)
اور بعض مفسرین نے کہا کہ ناشتہ کھانے کے علاوہ ایک علیحدہ زنبیل میں مچھلی رکھنے کا حکم ہوا تھا اس کے مطابق رکھ لی گئی تھی اس میں بھی اتنی بات تو متعین ہے کہ مچھلی مردہ تھی زندہ ہو کر دریا میں چلا جانا ایک معجزہ ہی تھا۔
بہرحال حضرت خضر ؑ کا پتہ ایسا مبہم دیا گیا کہ آسانی سے جگہ متعین نہ ہو ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی حضرت موسیٰ ؑ کا ابتلا و امتحان ہی تھا اس پر مزید امتحان کی صورت یہ پیدا کی گئی کہ جب عین موقع پر یہ لوگ پہنچ گئے تو مچھلی کو بھول گئے آیت قرآنی میں یہ بھول حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے رفیق دونوں کی طرف منسوب کی گئی ہے نَسِيَا حُوْتَهُمَا لیکن حدیث بخاری سے جو قصہ ثابت ہوا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت مچھلی کے زندہ ہو کر دریا میں جانے کا وقت آیا تو موسیٰ ؑ سوئے ہوئے تھے صرف یوشع بن نون نے یہ واقعہ عجیبہ دیکھا اور ارادہ کیا تھا کہ موسیٰ ؑ بیدار ہوجائیں تو ان کو بتلاؤں گا مگر بیداری کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر نسیان مسلط کردیا اور بھول گئے تو یہاں دونوں کی طرف بھولنے کی نسبت ایسی ہوگی جیسے قرآن میں يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤ ْلُؤ ُ وَالْمَرْجَان میں دریائے شیریں اور دریائے شور دونوں سے موتی اور مرجان نکلنے کا بیان آیا ہے حالانکہ موتی و مرجان صرف دریائے شور سے نکلتے ہیں مگر محاورات میں تغلیباً ایسا لکھنا ایک عام بات ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جگہ سے آگے سفر کرنے کے وقت تو مچھلی کو ساتھ لینا دونوں ہی بزرگ بھولے ہوئے تھے اس لئے دونوں کی طرف نسیان منسوب کیا گیا۔
بہرحال یہ ایک دوسری آزمائش تھی کہ منزل مقصود پر پہنچ کر مچھلی کے زندہ ہو کر پانی میں گم ہوجانے سے حقیقت کھل جاتی ہے اور مقام متعین ہوجاتا ہے مگر ابھی اس طالب حق کا کچھ اور بھی امتحان لینا تھا اس لئے دونوں پر بھول مسلط ہوگئی اور پورے ایک دن اور ایک رات کا مزید سفر طے کرنے کے بعد بھوک اور تھکان کا احساس ہوا یہ تیسرا امتحان تھا کیونکہ عادۃً تھکان اور بھوک کا احساس اس سے پہلے ہوجانا چاہئے تھا وہیں مچھلی یاد آجاتی تو اتنی طویل سفر کی مزید تکلیف نہ ہوتی مگر اللہ تعالیٰ کو منظور یہی تھا کہ کچھ اور مشقت اٹھائے اتنا طویل سفر کرنے کے بعد بھوک پیاس کا احساس ہوا اور وہاں مچھلی یاد آئی اور یہ معلوم ہوا کہ ہم منزل مقصود سے بہت آگے آگئے اس لئے پھر اسی نشان قدم پر واپس لوٹے۔
مچھلی کے دریا میں چلے جانے کا ذکر پہلی مرتبہ تو سَرَبًا کے لفظ سے آیا ہے سرب کے معنی سرنگ کے ہیں جو پہاڑوں میں راستہ بنانے کے لئے کھودی جاتی ہے یا شہروں میں زمین دوز راستہ بنانے کے لئے کھودی جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ مچھلی جب دریا میں گئی تو جس طرف کو جاتی پانی میں ایک سرنگ سی بنتی چلی گئی کہ اس کے جانے کا راستہ پانی سے کھلا رہا جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت سے واضح ہوا دوسری مرتبہ جب یوشع بن نون نے موسیٰ ؑ سے اس واقعہ کا ذکر سفر طویل کے بعد کیا وہاں واتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِڰ عَجَبًا کے الفاظ سے اس واقعہ کو بیان کیا ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ پانی کے اندر سرنگ بنتے چلے جانا خود ایک واقعہ عجیبہ، خرق عادت تھا۔
Ayah 18:65حضرت خضر ؑ سے ملاقات اور ان کی نبوت کا مسئلہ
قرآن کریم میں اگرچہ اس صاحب واقعہ کا نام مذکور نہیں بلکہ (آیت) عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ کہا گیا مگر صحیح بخاری کی حدیث میں ان کا نام خضر بتلایا گیا ہے خضر کے لفظی معنی ہرے بھرے کے ہیں ان کا نام خضر ہونے کی وجہ عام مفسرین نے یہ بتلائی ہے کہ یہ جس جگہ بیٹھ جاتے تو کیسی ہی زمین ہو وہاں گھاس اگ جاتی اور زمین سر سبز ہوجاتی تھی قرآن کریم نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ خضر ؑ کوئی پیغمبر تھے یا اولیاء اللہ میں سے کوئی فرد تھے لیکن جمہور علماء کے نزدیک ان کا نبی ہونا خود قرآن کریم میں ذکر کئے ہوئے واقعات سے ثابت ہے کیونکہ خضر ؑ سے اس سفر میں جتنے واقعات ثابت ہیں ان میں بعض تو قطعی طور پر خلاف شرع ہیں اور حکم شریعت سے کوئی استثناء بجز وحی الہی کے ہو نہیں سکتا جو نبی اور پیغمبر ہی کے ساتھ مخصوص ہے ولی کو بھی کشف یا الہام سے کچھ چیزیں معلوم ہو سکتی ہیں مگر وہ کوئی حجت نہیں ہوتی ان کی بناء پر ظاہر شریعت کے کسی حکم کو بدلا نہیں جاسکتا اس لئے یہ متعین ہوجاتا ہے کہ خضر ؑ اللہ کے نبی اور پیغمبر تھے ان کو بذریعہ وحی الہی بعض خاص احکام وہ دئیے گئے تھے جو ظاہر شریعت کے خلاف تھے انہوں نے جو کچھ کیا اس استثنائی حکم کے ماتحت کیا خود ان کی طرف سے اس کا اظہار بھی قرآن کے اس جملے میں ہوگیا (آیت) وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ (یعنی میں نے جو کچھ کیا اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ امر الہی سے کیا ہے)
خلاصہ یہ ہے کہ جمہور امت کے نزدیک حضرت خضر ؑ بھی ایک نبی اور پیغمبر ہیں مگر ان کے کچھ تکوینی خدمتیں من جانب اللہ سپرد کی گئی تھیں انہی کا علم دیا گیا تھا اور حضرت موسیٰ ؑ کو اس کی اطلاع نہ تھی اسی لئے اس پر اعتراض کیا تفسیر قرطبی بحر محیط ابو حیان اور اکثر تفاسیر میں یہ مضمون بعنوانات مختلفہ مذکور ہے۔
کسی ولی کو ظاہر شریعت کے حکم کے خلاف ورزی حلال نہیں
یہیں سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ بہت سے جاہل غلط کار تصوف کو بدنام کرنے والے صوفی جو کہنے لگے کہ شریعت اور چیز ہے اور طریقت اور ہے بہت سی چیزیں شریعت میں حرام ہوتی ہیں مگر طریقت میں جائز ہیں اس لئے کسی ولی کو صریح گناہ کبیرہ میں مبتلا دیکھ کر بھی اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا یہ کھلا ہوا زندقہ اور باطل ہے حضرت خضر ؑ پر کسی دنیا کے ولی کو قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ظاہر شریعت کے خلاف اس کے کسی فعل کو جائز کہا جاسکتا ہے۔