Ayah 17:1خلاصہ تفسیر
وہ ذات پاک ہے جو اپنے بندہ (محمد ﷺ کو شب کے وقت مسجد حرام (یعنی مسجد کعبہ) سے مسجداقصی (یعنی بیت المقدس) تک جس کے آس پاس (کہ ملک شام ہے) ہم نے (دینی اور دنیوی) برکتیں کر رکھی ہیں (دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بکثرت انبیاء (علیہم السلام) مدفون ہیں اور دنیوی برکت یہ ہے کہ وہاں باغات اور نہروں چشموں اور پیداوار کی کثرت ہے غرض اس مسجد اقصی تک عجیب طور پر اس واسطے) لے گیا تاکہ ہم ان کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھلا دیں (جن میں بعض تو خود وہاں کے متعلق ہیں مثلا اتنی بڑی مسافت کو بہت تھوڑے سے وقت میں طے کرلینا اور سب انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کرنا اور ان کی باتیں سننا وغیرہ اور بعض آگے کے متعلق ہیں مثلا آسمانوں پر جانا اور وہاں عجائبات کا مشاہدہ کرنا) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے سننے والے بڑے دیکھنے والے ہیں (چونکہ رسول کریم ﷺ کے اقوال کو سنتے اور احوال کو دیکھتے تھے اس کے مناسب ان کو یہ خاص امتیاز اور اعزاز بخشا اور اپنے قرب خاص کا وہ مقام عطا کیا جو کسی کو نہیں ملا)
معارف و مسائل
اس آیت میں واقعہ معراج کا بیان ہے جو ہمارے رسول کریم ﷺ کا ایک خصوصی اعزاز اور امتیازی معجزہ ہے لفظ اَسْرٰى اسراء سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی رات کو لے جانا ہیں اس کے بعد لَيْلًا کے لفظ سے صراحۃ بھی اس مفہوم کو واضح کردیا اور لفظ لَيْلًا کے نکرہ لانے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ اس تمام واقعہ میں پوری رات بھی صرف نہیں بلکہ رات کا ایک حصہ صرف ہوا ہے مسجد حرام سے مسجد اقصی تک کا سفر جس کا ذکر اس آیت میں ہے اس کو اسراء کہتے ہیں اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے اسراء اس آیت کی نص قطعی سے ثابت ہے اور معراج کا ذکر سورة نجم کی آیات میں ہے اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے بِعَبْدِهٖ اس مقام اعزازو اکرام میں لفظ بِعَبْدِهٖ ایک خاص محبوبیت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ حق تعالیٰ کس کو خود فرما دیں کہ یہ میرا بندہ ہے اس سے بڑھ کر کسی بشر کا بڑا اعزاز نہیں ہوسکتا حضرت حسن دہلوی نے خوب فرمایا۔
بندہ حسن بصد زبان گفت کہ بندہ توام تو بزبان خود بگوبندہ نواز کیستی
یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک دوسری آیت میں (آیت) عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ الَّذِین الخ فرما کر اپنے مقبولان بارگاہ کا اعزاز بڑھانا مقصود ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اللہ کا عبد کامل بن جائے اس لئے کہ خصوصی اعزاز کے مقام پر آپ کی بہت سی صفات کمال میں سے صفت عبدیت کو اختیار کیا گیا اور اس لفظ سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی مقصود ہے کہ اس حیرت انگیز سفر سے جس میں اول سے آخر تک سب فوق العادت معجزات ہی ہیں کسی کو خدائی کا وہم نہ ہوجائے جیسے عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے سے عیسائیوں کو دھوکہ لگا ہے اس سے لفظ عَبْد کہہ کر یہ بتلا دیا کہ ان تمام صفات و کمالات اور معجزات کے باوجود آنحضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے ہی ہیں خدا نہیں۔
معراج کے جسمانی ہونے پر قرآن وسنت کے دلائل اور اجماع
قرآن مجید کے ارشادات اور احادیث متواترہ سے جن کا ذکر آگے آتا ہے ثابت ہے کہ اسراء و معراج کا تمام سفر صرف روحانی نہیں تھا بلکہ جسمانی تھا جیسے عام انسان سفر کرتے ہیں قرآن کریم کے پہلے ہی لفظ سُبْحٰنَ میں اس طرف اشارہ موجود ہے کیونکہ یہ لفظ تعجب اور کسی عظیم الشان امر کے لئے استعمال ہوتا ہے اگر معراج صرف روحانی بطور خواب کے ہوتی تو اس میں کون سی عجیب بات ہے خواب تو ہر مسلمان بلکہ ہر انسان دیکھ سکتا ہے کہ میں آسمان پر گیا فلاں فلاں کام کئے۔
دوسرا اشارہ لفظ عَبْد سے اسی طرف ہے کیونکہ عَبْد صرف روح نہیں بلکہ جسم و روح کے مجموعہ کا نام ہے اس کے علاوہ۔
واقعہ معراج آنحضرت محمد ﷺ نے حضرت ام ہانی کو بتلایا تو انہوں نے حضور ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ آپ اس کا کسی سے ذکر نہ کریں ورنہ لوگ اور زیادہ تکذیب کریں گے اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو اس میں تکذیب کی کیا بات تھی۔
پھر جب آنحضرت محمد ﷺ نے لوگوں پر اس کا اظہار کیا تو کفار مکہ نے تکذیب کی اور مذاق اڑایا یہاں تک کہ بعض نو مسلم اس خبر کو سن کر مرتد ہوگئے اگر معاملہ خواب کا ہوتا تو ان معاملات کا کیا امکان تھا اور یہ بات اس کے منافی نہیں کہ آپ کو اس سے پہلے اور بعد میں کوئی معراج روحانی بصورت خواب بھی ہوئی ہو جمہور امت کے نزدیک آیت قرآنی (آیت) وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ۔ میں الرُّءْيَا سے مراد رویت ہے مگر اس کو بلفظ الرُّءْيَا (جو اکثر خواب دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے) تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس معاملہ کو تشبیہ کے طور پر رؤ یا کہا گیا ہو کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی خواب دیکھ لے اور اگر رؤ یا کے معنی خواب ہی کے لئے جائیں تو یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ واقعہ معراج جسمانی کے علاوہ اس سے پہلے یا پیچھے یہ معراج روحانی بطور خواب بھی ہوئی ہو اس لئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ام المؤ منین ؓ سے جو اس کا واقعہ خواب ہونا منقول ہے وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ معراج جسمانی نہ ہوئی ہو۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ احادیث اسراء کی متواتر ہیں اور نقاش میں بیس صحابہ کرام ؓ اجمعین کی روایات اس باب میں نقل کی ہیں اور قاضی عیاض نے شفاء میں اور زیادہ تفصیل دی ہے (قرطبی)
اور امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ان تمام روایات کو پوری جرح وتعدیل کے ساتھ نقل کیا ہے پھر پچیس صحابہ کرام ؓ اجمعین کے اسماء ذکر کئے ہیں جن سے یہ روایات منقول ہیں ان کے اسماء یہ ہیں 1 حضرت عمر ابن خطاب 2 علی مرتضی 3 ابن مسعود 4 ابوذرغفاری 5 مالک بن صعصیہ 6 ابوہریرہ 7 ابو سعید 8 ابن عباس 9 شداد بن اوس 10 ابی بن کعب 11 عبد الرحمن بن قرظ 12 ابوحیہ 13 ابو لیلے 14 عبداللہ بن عمر 15 جابر بن عبداللہ 16 حذیفہ بن یمان 17 بریدہ 18 ابو ایوب انصاری 19 ابو امامہ 20 سمرہ بن جندب 21 ابو الحمراء 22 صہیب الرومی 23 ام ہانی 24 عائشہ ام المؤ منین 25 اسماء بنت ابی بکر ؓ اجمعین اس کے بعد ابن کثیر نے فرمایا۔
فحدیث الاسراء اجمع علیہ المسلمون واعرض عنہ الزنادقۃ والملحدون (ابن کثیر) واقعہ اسراء کی حدیث پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے صرف ملحد وزندیق لوگوں نے اس کو نہیں مانا،۔
مختصر واقعہ معراج ابن کثیر کی روایت سے
امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں آیت مذکورہ کی تفسیر اور احادیث متعلقہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ حق بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو سفر اسراء بیداری میں پیش آیا خواب میں نہیں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک یہ سفر براق پر ہوا جب دروازہ بیت المقدس پر پہنچے تو برق کو دروازہ کے قریب باندھ دیا اور آپ مسجد بیت المقدس میں داخل ہوئے اور اس کے قبلہ کی طرف تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ادا فرمائیں اس کے بعد ایک زینہ لایا گیا جس میں نیچے سے اوپر جانے کے درجے بنے ہوئے تھے اس زینہ کے ذریعہ آپ پہلے آسمان پر تشریف لے گئے اس کے بعد باقی آسمانوں پر تشریف لے گئے (اس زینہ کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ کیا اور کیسا تھا آج کل بھی زینہ کی بہت سی قسمیں دینا میں رائج ہیں ایسے زینے بھی ہیں جو خود حرکت میں لفٹ کی صورت کے زینے بھی ہیں اس معجزانہ زینہ کے متعلق کسی شک وشبہ میں پڑنے کا کوئی مقام نہیں) ہر آسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور ہر آسمان میں ان انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات ہوئی جن کا مقام کسی معین آسمان میں ہے مثلا چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ ؑ اور ساتویں میں حضرت خلیل اللہ ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی پھر آپ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کے مقامات سے بھی آگے تشریف لے گئے اور ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں قلم تقدیر کے لکھنے کی آواز سنائی دے رہی تھی اور آپ نے سدرۃ المنتہی کو دیکھا جس پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے سونے کے پروانے اور مختلف رنگ کے پروانے گر رہے تھے اور جس کو اللہ کے فرشتوں نے گھیرا ہوا تھا اسی جگہ حضرت جبرائیل ؑ کو آنحضرت محمد ﷺ نے ان کی اصلی شکل میں دیکھا جن کے چھ سو بازو تھے اور وہیں پر ایک رفرف سبز رنگ کا دیکھا جس نے افق کو گھیرا ہوا تھا رفرف مسند سبز ہرے رنگ کی پالکی اور آپ نے بیت المعمور کو بھی دیکھا جس کے پاس بانی کعبہ حضرت ابراہیم ؑ دیوار سے کمر لگائے بیٹھے ہوئے تھے اس بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جن کی باری دوبارہ داخل ہونے کی قیامت تک نہیں آتی اور آنحضرت محمد ﷺ نے جنت اور دوزخ کا بچشم خود معائنہ فرمایا اس وقت آپ کی امت پر اول پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا حکم ملا پھر تخفیف کر کے پانچ کردی گئیں اس سے تمام عبادات کے اندر نماز کی خاص اہمیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس کے بعد آپ واپس بیت المقدس میں اترے اور جن انبیاء (علیہم السلام) کی ساتھ مختلف آسمانوں میں ملاقات ہوئی تھی وہ بھی آپ کے ساتھ اترے (گویا) آپ کو رخصت کرنے کے لئے بیت المقدس تک ساتھ آئے اس وقت آپ نے نماز کا وقت ہوجانے پر سب انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ نماز ادا فرمائی یہ بھی احتمال ہے کہ یہ نماز اسی دن صبح کی نماز ہو ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ امامت انبیاء (علیہم السلام) کا واقعہ بعض حضرات کے نزدیک آسمان پر جانے سے پہلے پیش آیا تھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ واپسی کے بعد ہوا کیونکہ آسمانوں پر انبیاء (علیہم السلام) سے ملاقات کے واقعہ میں یہ منقول ہے کہ سب انبیاء (علیہم السلام) سے جبرائیل امین نے آپ کا تعارف کرایا اگر واقعہ امامت پہلے ہوچکا ہوتا تو یہاں تعارف کی ضرورت نہ ہوتی اور یوں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس سفر کا اصل مقصد ملا اعلیٰ میں جانے کا تھا پہلے اسی کو پورا کرنا اقرب معلوم ہوتا ہے پھر جب اس اصلی کام سے فراغت ہوئی تو تمام انبیاء (علیہم السلام) آپ کے ساتھ مشایعت (رخصت) کے لئے بیت المقدس تک آئے اور آپ کو جبرئیل امین کے اشارہ سے سب کا امام بنا کر آپ کی سیادت اور سب پر فضیلت کا عملی ثبوت دیا گیا۔
اس کے بعد آپ بیت المقدس سے رخصت ہوئے اور براق پر سوار ہو کر اندھیرے وقت میں مکہ معظمہ پہنچ گئے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
واقعہ معراج کے متعلق ایک غیر مسلم کی شہادت
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حافظ ابو نعیم اصبہانی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں محمد بن عمر واقدی کی سند سے بروایت محمد بن کعب قرظی یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ۔
رسول کریم ﷺ نے شاہ روم قیصر کے پاس اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت دحیہ ابن خلیفہ کو بھیجا اس کے بعد حضرت دحیہ ؓ کے خط پہونچانے اور شاہ روم تک پہنچنے اور اس کے صاحب عقل و فراست ہونے کا تفصیلی واقعہ بیان کیا (جو صحیح بخاری اور حدیث کی سب معتبر کتب میں موجود ہے جس کے آخر میں ہے کہ شاہ روم ہرقل نے نامہ مبارک پڑھنے کے بعد آنحضرت محمد ﷺ کے حالات کی تحقیق کرنے کے لئے عرب کے ان لوگوں کو جمع کیا جو اس وقت ان کے ملک میں بغرض تجارت آئے ہوئے تھے شاہی حکم کے مطابق ابو سفیان ابن حرب اور ان کے رفقاء جو اس وقت مشہور تجارتی قافلہ لے کر شام میں آئے ہوئے تھے وہ حاضر کئے گئے شاہ ہرقل نے ان سے سوالات کئے جن کی تفصیل صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے ابوسفیان کی دلی خواہش یہ تھی کہ وہ اس موقع پر رسول کریم ﷺ کے متعلق کچھ ایسی باتیں بیان کریں جن سے آپ کی حقارت اور بےحیثیت ہونا ظاہر ہو مگر ابو سفیان کہتے ہیں کہ مجھے اپنے اس ارادہ سے کوئی چیز اس کے سوا مانع نہیں تھی کہ مبادا میری زبان سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس کا جھوٹ ہونا کھل جائے اور میں بادشاہ کی نظر سے گر جاؤں اور میرے ساتھی بھی ہمیشہ مجھے جھوٹا ہونے کا طعنہ دیا کریں البتہ مجھے اس وقت خیال آیا کہ اس کے سامنے واقعہ معراج بیان کروں جس کا جھوٹ ہونا بادشاہ خود سمجھ لے گا تو میں نے کہا کہ میں ان کا ایک معاملہ آپ سے بیان کرتا ہوں جس کے متعلق آپ خود معلوم کرلیں گے کہ وہ جھوٹ ہے ہرقل نے پوچھا وہ کیا واقعہ ہے ابوسفیان نے کہا کہ یہ مدعی نبوت یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک رات میں مکہ مکرمہ سے نکلے اور آپ کی اس مسجد بیت المقدس میں پہنچے اور پھر اسی رات میں صبح سے پہلے مکہ مکرمہ میں ہمارے پاس پہنچ گئے۔
ایلیاء (بیت المقدس) کا سب سے بڑا عالم اس وقت شاہ روم ہرقل کے سرہانے پر قریب کھڑا ہوا تھا اس نے یبان کیا کہ میں اس رات سے واقف ہوں شاہ روم اس کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ آپ کو اس کا علم کیسے اور کیونکر ہوا اس نے عرض کیا کہ میری عادت تھی کہ میں رات کو اس وقت تک سوتا نہیں تھا جب تک بیت المقدس کے تمام دروازے بند نہ کر دوں اس رات میں نے حسب عادت تمام دروازے بند کردیئے مگر ایک دروازہ مجھ سے بند نہ ہوسکا تو میں نے اپنے عملہ کے لوگوں کو بلایا انہوں نے مل کر کوشش کی مگر وہ ان سے بھی بند نہ ہوسکا دروازے کے کواڑ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرسکے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ہم کسی پہاڑ کو ہلا رہے ہیں میں نے عاجز ہو کر کاریگروں اور نجاروں کو بلوایا انہوں نے دیکھ کر کہا کہ ان کو اڑوں کے اوپر دروازہ کی عمارت کا بوجھ پڑگیا ہے اب صبح سے پہلے اس کے بند ہونے کی کوئی تدبیر نہیں صبح کو ہم دیکھیں گے کہ کس طرح کیا جاوے میں مجبور ہو کر لوٹ آیا اور دونوں کواڑ اس دروازے کے کھلے رہے صبح ہوتے ہی میں پھر اس دروازے پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دروازہ مسجد کے پاس ایک پتھر کی چٹان میں روزن کیا ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی جانور باندھ دیا گیا ہے اس وقت میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ آج اس دروازہ کو اللہ تعالیٰ نے شاید اس لئے بند ہونے سے روکا ہے کہ کوئی نبی یہاں آنے والے تھے اور پھر بیان کیا کہ اس رات آپ نے ہماری مسجد میں نماز بھی پڑھی ہے اس کے بعد اور تفصیلات بیان کی ہیں (ابن کثیر ص 24 ج 3)
اسراء و معراج کی تاریخ
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ معراج کی تاریخ میں روایات بہت مختلف ہیں موسیٰ بن عقبہ کی روایت یہ ہے کہ یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے چھ ماہ قبل پیش آیا اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کا واقعہ بعثت نبوی کے سات سال بعد ہوا ہے
بعض روایات میں ہے کہ واقعہ معراج بعثت نبوی سے پانچ سال بعد میں ہوا ہے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ واقعہ معراج اس وقت پیش آیا جبکہ اسلام عام قبائل عرب میں پھیل چکا تھا ان تمام روایات کا حاصل یہ ہے کہ واقعہ معراج ہجرت مدینہ سے کئی سال پہلے کا ہے۔
حربی کہتے ہیں کہ واقعہ اسراء و معراج ربیع الثانی کی ستائیسویں شب میں ہجرت سے ایک سال پہلے ہوا ہے اور ابن قاسم ذہبی کہتے ہیں کہ بعثت سے اٹھارہ مہینے کے بعد واقعہ پیش آیا ہے حضرات محدثین نے روایات مختلفہ ذکر کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کن چیز نہیں لکھی اور مشہور عام طور پر یہ ہے کہ ماہ رجب کی ستائیسویں شب شب معراج ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
مسجد حرام اور مسجد اقصے
حضرت ابوذر غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ دنیا کی سب سے پہلی مسجد کون سی ہے تو آپ نے فرمایا کہ مسجد حرام پھر میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سی تو آپ نے فرمایا مسجد اقصے میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے تو آپ نے فرمایا چالیس سال پھر فرمایا کہ (مسجدوں کی ترتیب تو یہ ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ساری زمین کو مسجد بنادیا ہے جس جگہ نماز کا وقت آجائے وہیں نماز ادا کرلیا کرو (رواہ مسلم)
امام تفسیر مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی جگہ کو پوری زمین سے دوہزار سال پہلے بنایا ہے اور اس کی بنیادیں ساتویں زمین کے اندر تک پہنچی ہوئی ہیں اور مسجد اقصے کو حضرت سلیمان ؑ نے بنایا ہے (رواہ النسائی باسناد صحیح عن عبداللہ بن عمر) تفسیر قرطبی ص 137 ج 4۔
اور مسجد حرام اس مسجد کا نام ہے جو بیت اللہ کے گرد بنی ہوئی ہے اور بعض اوقات پورے حرم کو بھی مسجد حرام سے تعبیر کیا جاتا ہے اس دوسرے معنی کے اعتبار سے دو روایتوں کا یہ تعارض بھی رفع ہوجاتا ہے کہ بعض روایات میں آپ کا اسراء کے لئے تشریف لیجانا حضرت ام ہانی کے مکان سے منقول ہے اور بعض میں حطیم بیت اللہ سے اگر مسجد حرام کے عام معنی لئے جائیں تو یہ کچھ مستبعد نہیں کہ پہلے آپ ام ہانی کے مکان میں ہوں وہاں سے چل کر حطیم کعبہ میں تشریف لائے پھر وہاں سے سفر اسراء کی ابتدا ہوئی واللہ اعلم۔
مسجد اقصے اور ملک شام کی برکات
آیت میں بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ میں حَوْلَ سے مراد پوری زمین شام ہے ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش سے دریائے فرات تک مبارک زمین بنائی ہے اور اس میں سے فلسطین کی زمین کو تقدس خاص عطا فرمایا ہے (روح المعانی)
اس کی برکات دینی بھی ہیں اور دنیاوی بھی دینی برکات تو یہ ہیں کہ وہ تمام انبیاء سابقین کا قبلہ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) کا مسکن و مدفن ہے اور دنیوی برکات اس کی زمین کا سرسبز ہونا اور اس میں عمدہ چشمے نہریں باغات وغیرہ کا ہونا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ملک شام تو تمام شہروں میں سے میرا منتخب خطہ ہے اور میں تیری طرف اپنے منتخب بندوں کو پہونچاؤں گا (قرطبی) اور مسند احمد میں حدیث ہے کہ دجال ساری زمین میں پھرے گا مگر چار مسجدوں تک اس کی رسائی نہ ہوگی۔ 1 مسجد مدینہ 2 مسجد مکہ مکرمہ۔ 3 مسجد اقصی 4 مسجد طور
Ayahs 17:2–3خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (یعنی توریت) دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے (آلہ) ہدایت بنایا (جس میں اور احکام کے ساتھ یہ توحید کا عظیم الشان حکم بھی تھا) کہ تم میرے سوا (اپنا) کوئی کارساز مت قرار دو اے ان لوگوں کی نسل جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (ہم تم سے خطاب کر رہے ہیں تاکہ اس نعمت کو یاد کرو کہ اگر ہم ان کو کشتی پر سوار کر کے نہ بچاتے تو آج تم ان کی نسل کہاں ہوتے اور نعمت کو یاد کر کے اس کا شکر کرو جس کی بڑی فرد توحید ہے اور) وہ نوح ؑ بڑے شکر گذار بندہ تھے (پس جب انبیاء (علیہم السلام) شکر کرتے رہے تو تم کیسے اس کے تارک ہو سکتے ہو۔)
Ayahs 17:4–7خلاصہ تفسیر
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں (خواہ توریت میں یا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) بنی اسرائیل کے صیحیفوں میں) یہ بات (بطور پیشن گوئی کے) بتلادی تھی کہ تم سر زمین (شام) میں دو مرتبہ (گناہوں کی کثرت سے) خرابی کرو گے (ایک مرتبہ شریعت موسویہ کی مخالفت اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت) اور دوسروں پر بھی بڑا زور چلانے لگو گے (یعنی ظلم و زیادتی کرو گے اس طرح لَتُفْسِدُنَّ میں حقوق اللہ کے ضائع کرنے کی طرف اور لَتَعْلُنّ میں حقوق العباد ضائع کرنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی بتلا دیا تھا کہ دونوں مرتبہ سخت سزاؤں میں بتلا کئے جاؤ گے) پھر جب ان دو مرتبہ میں پہلی مرتبہ کی میعاد آئے گی تو ہم تم پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کردیں گے جو بڑے جنگجو ہوں گے پھر وہ (تمہارے) گھروں میں گھس پڑیں گے (اور تم کو قتل و قید اور غارت کردیں گے اور یہ (وعدہ سزا) ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا پھر (جب تم اپنے کئے پر نادم وتائب ہوجاؤ گے) تو ہم پھر ان پر تمہارا غلبہ کردیں گے (گو بواسطہ سہی کہ جو قوم ان پر غالب آئے گی وہ تمہاری حامی ہوجائے گی اس طرح تمہارے دشمن اس قوم سے اور تم سے دونوں سے مغلوب ہوجائیں گے) اور مال اور بیٹوں سے (جو کہ قید اور غارت کئے گئے تھے) ہم تمہاری امداد کریں گے (یعنی یہ چیزیں تم کو واپس مل جائیں گی جن سے تمہیں قوت پہنچے گی) اور ہم تمہاری جماعت (یعنی تابعین) کو بڑھا دیں گے (پس جاہ ومال اور اولاد ومتبعین سب میں ترقی ہوگی اور اس کتاب میں بطور نصیحت یہ بھی لکھا تھا کہ) اگر (اب آئندہ) اچھے کام کرتے رہو گے تو اپنے ہی نفع کے لئے اچھے کام کرو گے (یعنی دنیا وآخرت میں اس کا نفع حاصل ہوگا) اور اگر (پھر) تم برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لئے (برائی کرو گے یعنی پھر سزا ہوگی چناچہ ایسا ہی ہوا جس کا آگے بیان ہے کہ) پھر جب (مذکورہ دو مرتبہ کے فساد میں سے) آخری مرتبہ کا وقت آئے گا (اور اس وقت تم شریعت عیسویہ کی مخالفت کرو گے) تو پھر ہم دوسروں کو تم پر مسلط کردیں گے تاکہ (وہ تمہیں مار مار کر) تمہارا چہرہ بگاڑ دیں اور جس طرح وہ (پہلے) لوگ مسجد (بیت المقدس) میں (لوٹ مار کے ساتھ) گھسے تھے یہ (پچھلے) لوگ بھی اس میں گھس پڑیں گے اور جس طرح وہ (پہلے) لوگ مسجد (بیت المقدس) میں (لوٹ مار کے ساتھ) گھسے تھے یہ (پچھلے) لوگ بھی اس میں گھس پڑیں گے اور جس جس چیز پر ان کا زور چلے سب کو (ہلاک و برباد کر ڈالیں (اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر اس دوسری مرتبہ کے بعد جب دور شریعت محمدیہ کا ہو تم مخالفت و معصیت سے باز کر شریعت محمدیہ کا اتباع کرلو تو) عجب نہیں (یعنی امید بمعنی وعدہ ہے) کہ تمہارا رب تم پر رحم فرماوے (اور تم کو ادبار وذلت سے نکال دے) اور اگر تم پھر وہی (شرارت) کرو گے تو ہم بھی وہی (سزا کا برتاؤ) کریں گے (چنانچہ آنحضرت محمد ﷺ کے عہد میں انہوں نے آپ کی مخالفت کی تو پھر قتل وقید اور ذلیل ہوئے یہ تو دنیا کی سزا ہوگئی) اور (آخرت میں) ہم نے جہنم کو (ایسے) کافروں کا جی خانہ بنا ہی رکھا ہے۔
ربط آیات
اس سے پہلی آیات (آیت) جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ میں احکام شرعیہ اور ہدایات الہیہ کے اتباع و اطاعت کی ترغیب تھی اور مذکور الصدر آیات میں ان کی مخالفت سے ترہیب وزجر کا مضمون ہے ان آیات میں بنی اسرائیل کے دو واقعے عبرت و نصیحت کے لئے ذکر کئے گئے کہ انہوں نے ایک مرتبہ معاصی اور حکم ربانی کی مخالفت میں انہماک کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کردیا جنہوں نے ان کو تباہ کیا پھر ان کو کچھ تنبہیہ ہوگئی اور شرارت کم کردی تو سنبھل گئے کچھ عرصہ کے بعد پھر وہی شرارتیں اور بداعمالیاں ان میں پھیل گئیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دشمن کے ہاتھ سے سزا دلائی قرآن کریم میں دو واقعوں کا ذکر ہے مگر تاریخ میں اس اس طرح کے چھ واقعات مذکور ہیں۔
پہلا واقعہحضرت ؑ بانی مسجد اقصی کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد پیش آیا کہ بیت المقدس کے حاکم نے بےدینی اور بدعملی اختیار کرلی تو مصر کا ایک بادشاہ اس پر چڑھ آیا اور بیت المقدس کا سامان سونے چاندی کا لوٹ کرلے گیا مگر شہر اور مسجد کو منہدم نہیں کیا۔
دوسرا واقعہاس سے تقریبا چار سو سال بعد کا ہے کہ بیت المقدس میں بسنے والے بعض یہودیوں نے بت پرستی شروع کردی اور باقیوں میں نااتفاقی اور باہمی جھگڑے ہونے لگے اس نحوست سے پھر مصر کے کسی بادشاہ نے ان پر چڑھائی کردی اور کسی قدر شہر اور مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچایا پھر ان کی حالت کچھ سنبھل گئی۔
تیسرا واقعہاسکے چند سال بعد جب بخت نصر شاہ بابل نے بیت المقدس پر چڑھائی کردی اور شہر کو فتح کر کے بہت سا مال لوٹ لیا اور بہت سے لوگوں کو قیدی بنا کرلے گیا اور پہلے بادشاہ کے خاندان کے ایک فرد کو اپنے قائمقام کی حیثیت سے اس شہر کا حاکم بنادیا۔
چوتھا واقعہاس نئے بادشاہ نے جو بت پرست اور بدعمل تھا بخت نصر سے بغاوت کی تو بخت نصر دوبارہ چڑھ آیا اور کشت وخون اور قتل و غارت کی کوئی حد نہ رہی شہر میں آگ لگا کر میدان کردیا یہ حادثہ تعمیر مسجد سے تقریبا چار سو پندرہ سال کے بعد پیش آیا اس کے بعد یہود یہاں سے جلاوطن ہو کر بابل چلے گئے جہاں نہایت ذلت و خواری سے رہتے ہوئے ستر سال گذر گئے اس کے بعد شاہ ایران نے شاہ بابل پر چڑھائی کر کے بابل فتح کرلیا پھر شاہ ایران کو ان جلاوطن یہودیوں پر رحم آیا اور ان کو واپس ملک شام میں پہنچا دیا اور ان کا لوٹا ہوا سامان بھی واپس کردیا اب یہود اپنے اعمال بد اور معاصی سے تائب ہوچکے تھے یہاں نئے سرے سے آباد ہوئے تو شاہ ایران کے تعاون سے پھر مسجد اقصی کو سابق نمونہ کے مطابق بنادیا۔
پانچواں واقعہیہ پیش آیا کہ جب یہود کو یہاں اطمینان اور آسودگی دوبارہ حاصل ہوگئی تو اپنے ماضی کو بھول گئے اور پھر بدکاری اور بد اعمالی میں منہمک ہوگئے تو حضرت مسیح ؑ کی پیدائش سے ایک سو ستر سال پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ جس بادشاہ نے انطاکیہ آباد کیا تھا اس نے چڑھائی کردی اور چالیس ہزار یہودیوں کو قتل کیا چالیس ہزار کو قیدی اور غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گیا اور مسجد کی بھی بہت بےحرمتی کی مگر عمارت مسجد کی بچ گئی مگر پھر اس بادشاہ کے جانشینوں نے شہر اور مسجد کو بالکل میدان کردیا اس کے کچھ عرصہ کے بعد بیت المقدس پر سلاطین روم کی حکومت ہوگئی انہوں نے مسجد کو پھر درست کیا اور اس کے آٹھ سال بعد حضرت عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے۔
چھٹا واقعہحضرت عیسیٰ ؑ کے صعود اور رفع جسمانی کے چالیس برس بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ یہودیوں نے اپنے حکمران سلاطین روم سے بغاوت اختیار کرلی رومیوں نے پھر شہر اور مسجد کو تباہ کر کے وہی حالت بنادی جو پہلے تھی اس وقت کے بادشاہ کا نام طیطس تھا جو نہ یہودی تھا نہ نصرانی کیونکہ اس کے بہت روز کے بعد قسطنطین اول عیسائی ہوا ہے اور اس کے بعد سے حضرت عمر بن خطاب کے زمانہ تک یہ مسجد ویران پڑی رہی یہاں تک کہ آپ نے اس کی تعمیر کرائی یہ چھ واقعات تفسیر بیان القرآن میں بحوالہ تفسیر حقانی لکھے گئے ہیں ،
اب یہ بات کہ قرآن کریم نے جن دو واقعوں کا ذکر کیا ہے وہ ان میں سے کون سے ہیں اس کی قطعی تعیین تو مشکل ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان میں جو واقعات زیادہ سنگین اور بڑے ہیں جن میں یہود کی شرارتیں بھی زیادہ ہوئیں اور سزا بھی سخت ملی ان پر محمول کیا جائے اور وہ چوتھا اور چھٹا واقعہ ہے تفسیر قرطبی میں یہاں ایک طویل حدیث مرفوع بروایت حذیفہ نقل کی ہے اس سے بھی اس کی تعیین ہوتی ہے کہ ان دو واقعوں سے مراد چوتھا اور چھٹا واقعہ ہے اس طویل حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔
حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ بیت المقدس اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظیم القدر مسجد ہے آپ نے فرمایا کہ وہ دنیا کے سب گھروں میں ایک ممتاز عظمت والا گھر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) کے لئے سونے چاندی اور جواہرات یا قوت و زمرد سے بنایا تھا اور یہ اس طرح کہ جب سیلمان ؑ نے اس کی تعمیر شروع کی تو حق تعالیٰ نے جنات کو ان کے تابع کردیا جنات نے یہ تمام جواہرات اور سونے اور چاندی جمع کر کے ان سے مسجد بنائی حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ پھر بیت المقدس سے یہ سونا چاندی اور جواہرات کہاں اور کس طرح گئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور گناہوں اور بداعمالیوں میں مبتلا ہوگئے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر بادشاہ کو مسلط کردیا جو مجوسی تھا اس نے سات سو برس بیت المقدس پر حکومت کی اور قرآن کریم میں (آیت) فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ۔ سے یہی واقعہ مراد ہے بخت نصر کا لشکر مسجد قدس میں داخل ہوا مردوں کو قتل اور عورتوں بچوں کو قید کیا اور بیت المقدس کے تمام اموال اور سونے چاندی جواہرات کو ایک لاکھ ستر ہزار گاڑیوں میں بھر کرلے گیا اور اپنے ملک بابل میں رکھ لیا اور سو برس تک ان بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا کر طرح طرح کی بامشقت خدمت ذلت کے ساتھ ان سے لیتا رہا
پھر اللہ تعالیٰ نے فارس کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ کو اس کے مقابلے کے لئے کھڑا کردیا جس نے بابل کو فتح کیا اور باقیماندہ بنی اسرائیل کو بخت نصر کی قید سے آزاد کرایا اور جتنے اموال وہ بیت المقدس سے لایا تھا وہ سب واپس بیت المقدس میں پہنچا دئیے اور پھر بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اگر تم پھر نافرمانی اور گناہوں کی طرف لوٹ جاؤ گے تو ہم بھی پھر قتل وقید کا عذاب تم پر لوٹا دیں گے آیت قرآنی (آیت) عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا سے یہی مراد ہے۔
پھر جب بنی اسرائیل بیت المقدس میں لوٹ آئے (اور سب اموال و سامان بھی قبضہ میں آگیا) تو پھر معاصی اور بداعمالیوں کی طرف لوٹ گئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر شاہ روم قیصر کو مسلط کردیا (آیت) فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ سے یہی مراد ہے شاہ روم نے ان لوگوں سے بری اور بحری دونوں راستوں پر جنگ کی اور بہت سے لوگوں کو قتل اور قید کیا اور پھر تمام ان اموال بیت المقدس کو ایک لاکھ ستر ہزار گاڑیوں پر لاد کرلے گئے اور اپنے کنیسۃ الذہب میں رکھ دیا یہ سب اموال ابھی تک وہیں ہیں اور وہیں رہیں گے یہاں تک کہ حضرت مہدی پھر ان کو بیت المقدس میں ایک لاکھ ستر ہزار کشتیوں میں واپس لائینگے اور اسی جگہ اللہ تعالیٰ تمام اولین وآخرین کو جمع کردیں گے۔ (الحدیث بطولہ رواہ القرطبی فی تفسیرہ)
بیان القرآن میں ہے کہ دو واقعے جن کا ذکر قرآن میں آیا ہے اس سے مراد دو شریعتوں کی مخالفت ہے پہلے شریعت موسوی کی مخالفت اور پھر عیسیٰ ؑ کی بعثت کے بعد شریعت عیسویہ کی مخالفت ہے اس طرح پہلی مخالفت میں وہ سب واقعات درج ہو سکتے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے ہیں واقعات کی تفصیل کے بعد آیات مذکورہ کی تفسیر دیکھئے۔
معارف و مسائل
مذکورہ الصدر واقعات کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے متعلق حق تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ وہ جب تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے دین و دنیا میں فائز المرام اور کامیاب رہیں گے اور جب کبھی دین سے انحراف کریں گے ذلیل و خوار کئے جاویں گے اور دشمنوں کافروں کے ہاتھوں ان پر مار ڈالی جائے گی اور صرف یہی نہیں کہ دشمن ان پر غالب ہو کر ان کی جان ومال کو نقصان پہنچائیں بلکہ ان کے ساتھ ان کا قبلہ جو بیت المقدس ہے وہ بھی اس دشمن کی زد سے محفوظ نہیں رہے گا ان کے کافر دشمن مسجد بیت المقدس میں گھس کر اس کی بےحرمتی اور توڑ پھوڑ کریں گے یہ بھی بنی اسرائیل کی سزا ہی کا ایک جز ہوگا قرآن کریم نے ان کے دو واقعے بیان فرمائے پہلا واقعہ شریعت موسویہ کے زمانے کا ہے دوسرا شریعت عیسویہ کے زمانہ کا ان دونوں میں بنی اسرائیل نے اپنے کی شریعت الہیہ سے انحراف کر کے سرکشی اختیار کی تو پہلے واقعہ میں ایک مجوسی کافر بادشاہ کو ان پر اور بیت المقدس پر مسلط کردیا گیا جس نے تباہی مچائی اور دوسرے واقعہ میں ایک رومی بادشاہ کو مسلط کیا جس نے ان کو قتل و غارت کیا اور بیت المقدس کو منہدم اور ویران کیا اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر کردیا گیا ہے کہ دونوں مرتبہ جب بنی اسرائیل اپنی بداعمالیوں پر نادم ہو کر تائب ہوئے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ملک و دولت اور آل واولاد کو بحال کردیا۔
Ayah 17:8ان دونوں واقعات کے ذکر کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان معاملات میں اپنا ضابطہ بیان فرما دیا وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا یعنی اگر تم پھر نافرمانی اور سرکشی کی طرف لوٹو گے تو ہم پھر اس طرح کی سزاء و عذاب تم پر لوٹا دیں گے یہ ضابطہ قیامت تک کے لئے ارشاد ہوا ہے اور اس کے مخاطب وہ بنی اسرائیل تھے جو رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھے جس میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ جس طرح پہلے شریعت موسویہ کی مخالفت سے اور دوسری مرتبہ شریعت عیسویہ کی مخالفت سے تم لوگ سزا و عذاب میں گرفتار ہوئے تھے اب تیسرا دور شریعت محمدیہ کا ہے جو قیامت تک چلے گا اس کی مخالفت کرنے کا بھی وہی انجام ہوگا چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے شریعت محمدیہ اور اسلام کی مخالفت کی تو مسلمانوں کے ہاتھوں جلا وطن اور ذلیل و خوار ہوئے اور بالآخر انکے قبلہ بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوا فرق یہ رہا کہ پیچھلے بادشاہوں نے ان کو بھی ذلیل و خوار کیا تھا اور ان کے قبلہ بیت المقدس کی بےحرمتی بھی کی تھی اب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو مسجد بیت المقدس جو صدیوں سے منہدم اور غیر آباد پڑی تھی اس کو از سر نو تعمیر کیا اور اس قبلہ انبیاء کے احترام کو بحال کیا۔
واقعات بنی اسرائیل مسلمانوں کے لئے عبرت میں موجودہ واقعہ بیت المقدس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے
بنی اسرائیل کے یہ واقعات قرآن کریم میں بیان کرنے اور مسلمانوں کو سنانے سے بظاہر مقصد یہی ہے کہ مسلمان بھی اس ضابطہ الہیہ سے مستثنی نہیں ہیں دنیا ودین میں ان کی عزت و شوکت اور مال و دولت اطاعت خداوندی کے ساتھ وابستہ ہیں جب وہ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے انحراف کریں گے تو ان کے دشمنوں اور کافروں کو ان پر غالب اور مسلط کردیا جائے گا جن کے ہاتھوں ان کے معاہدہ ومساجد کی بےحرمتی بھی ہوگی۔
آج کل جو حادثہ فاجعہ بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضہ کا اور پھر اس کو آگ لگانے کا سارے عالم اسلام کو پریشان کئے ہوئے ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ اسی قرآنی ارشاد کی تصدیق ہو رہی ہے مسلمانوں نے خدا و رسول کو بھلایا آخرت سے غافل ہو کر دنیا کی شان و شوکت میں لگ گئے اور قرآن وسنت کے احکام سے بیگانہ ہوگئے تو وہ ہی ضابطہ قدرت الہیہ سامنے آیا کہ کروڑوں عربوں پر چند لاکھ یہودی غالب آگئے انہوں نے ان کی جان ومال کو بھی نقصان پہنچایا اور شریعت اسلام کی رو سے دنیا کی تین عظیم الشان مسجدوں میں سے ایک جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا قبلہ رہا ہے وہ ان سے چھین لیا گیا اور ایک ایسی قوم غالب آگئی جو دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار سمجھی جاتی رہی ہے یعنی یہود اس پر مزید مشاہدہ ہے کہ وہ قوم نہ تعداد میں مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت رکھتی ہے اور نہ مسلمانوں کے مجموعی موجودہ سامان حرب کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ واقعہ یہود کو کوئی عزت کا مقام نہیں دیتا البتہ مسلمانوں کے لئے ان کی سرکشی کی سزا ضرور ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری بداعمالیوں کی سزاء کے طور پر ہوا اور اس کا علاج بجز اس کے کچھ نہیں کہ ہم پھر اپنی بداعمالیوں پر نادم ہو کر سچی توبہ کریں احکام الہیہ کی اطاعت میں لگ جائیں سچے مسلمان بنیں غیروں کی نقالی اور غیروں پر اعتماد کے گناہ عظیم سے باز آجائیں تو حسب وعدہ ربانی انشاء اللہ تعالیٰ بیت المقدس اور فلسطین پھر ہمارے قبضہ میں آئے گا مگر افسوس یہ ہے کہ آج کل کے عرب حکمران اور وہاں کے عام مسلمان اب تک بھی اس حقیقت پر متنبہ نہیں ہوئے وہ اب بھی غیروں کی امداد پر سہارا لگائے ہوئے بیت المقدس کی واپسی کے پلان اور نقشے بنا رہے ہیں جس کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا فالی اللہ المشتکی۔
وہ اسلحہ اور سامان جس سے بیت المقدس اور فلسطین پھر مسلمانوں کو واپس مل سکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف انابت ورجوع آخرت پر یقین احکام شرعیہ کا اتباع اپنی معاشرت اور سیاست میں غیروں پر اعتماد اور ان کی نقالی سے اجتناب اور پھر اللہ پر بھروسہ کر کے خالص اسلامی اور شرعی جہاد ہے اللہ تعالیٰ ہمارے عرب حکمرانوں اور دوسرے مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرما دیں
ایک عجیب معاملہاللہ تعالیٰ نے اس زمین میں اپنی عبادت کے لئے دو جگہوں کو عبادت کرنے والوں کا قبلہ بنایا ہے ایک بیت المقدس دوسرا بیت اللہ مگر قانون قدرت دونوں کے متعلق الگ الگ ہے بیت اللہ کی حفاظت اور کفار کا اس پر غالب نہ آنا یہ اللہ نے خود اپنی ذمہ لے لیا ہے اس کا نتیجہ وہ واقعہ فیل ہے جو قرآن کریم کی سورة فیل میں ذکر کیا گیا ہے کہ یمن کے نصرانی بادشاہ نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تو اللہ نے معہ اس کے ہاتھیوں کی فوج کے بیت اللہ کے قریب تک جانے سے پہلے ہی پرندے جانوروں کے ذریعہ ہلاک و برباد کردیا۔
لیکن بیت المقدس کے متعلق یہ قانون نہیں بلکہ آیات مذکورہ سے معلوم ہوا ہے کہ جب مسلمان گمراہی اور معاصی میں مبتلا ہوں گے تو ان کی سزا کے طور پر ان سے یہ قبلہ بھی چھین لیا جائے گا اور کفار اس پر غالب آجائیں گے۔
کافر بھی اللہ کے بندے ہیں مگر اس کے مقبول نہیں
مذکور الصدر پہلے واقعہ میں قرآن کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب اہل دین فتنہ و فساد پر اتر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنے ایسے بندوں کو مسلط کر دینگے جو ان کے گھروں میں گھس کر ان کو قتل و غارت کریں گے اس جگہ قرآن کریم نے لفظ عِبَادًا لَّنَآ فرمایا ہے عِبَادَنَا نہیں کہا حالانکہ وہ مختصر تھا حکمت یہ ہے کہ کسی بندہ کی اضافت ونسبت اللہ کی طرف ہوجانا اس کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے جیسا کہ اسی سورة کے شروع میں اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ کے تحت میں یہ بتلایا جا چکا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو جو انتہائی اعزاز اور غایت قرب شب معراج میں نصیب ہوا قرآن نے اس واقعہ کے بیان میں رسول کریم ﷺ کا اسم گرامی یا کوئی صفت بیان کرنے کے بجائے صرف بِعَبْدِهٖ کہہ کر یہ بتلا دیا کہ انسان کا آخری کمال اور انتہائی اونچا مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنا بندہ کہہ کر نوازیں آیت مذکورہ میں جن لوگوں سے بنی اسرائیل کی سزاء کا کام لیا گیا یہ خود بھی کافر تھے اس لئے حق تعالیٰ نے ان کو عِبَادَنَا کے لفظ سے تعبیر فرمانے کے بجائے اضافت ونسبت کو توڑ کر عِبَادًا لَّنَآ فرمایا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تکوینی طور پر تو سارے ہی انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر بغیر ایمان کے مقبول بندے نہیں ہوتے جن کی نسبت واضافت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاسکے۔
Ayahs 17:9–10ربط آیات
شروع سورت میں معجزہ معراج سے رسول کریم ﷺ کی شان رسالت کا بیان تھا ان آیات میں معجزہ قرآن سے اس کا اثبات ہے۔
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ یہ قرآن ایسے طریقہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے (یعنی اسلام) اور (اس طریقہ کے ماننے اور نہ ماننے والوں کی جزاء وسزا بھی بتلاتا ہے کہ) ان ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ان کو بڑا بھاری ثواب ملے گا اور یہ بھی بتلاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے ایک درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے اور (بعض) انسان (جیسے کفار ہیں) برائی (یعنی عذاب) کی ایسی دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کی دعاء (کی جاتی ہے) اور انسان کچھ (کچھ طبعاً ہی) جلد باز (ہوتا) ہے۔
معارف و مسائل
طریق اقوم
قرآن جس طریقہ کی ہدایت کرتا ہے اس کو اقوم کہا گیا ہے اقوم کی تفسیر یہ ہے کہ وہ راستہ جو منزل مقصود تک پہنچانے میں قریب بھی ہو آسان بھی ہو خطرات سے خالی بھی ہو (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم انسانی زندگی کے لئے جو احکام دیتا ہے وہ ان تینوں اوصاف کے جامع ہیں اگرچہ انسان اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے بعض اوقات اس راستہ کو دشوار یا پرخطر سمجھنے لگے لیکن رب العالمین جو کائنات کے ذرہ ذرہ کا علم رکھتا ہے اور ماضی و مستقبل اس کے سامنے یکساں ہے وہ ہی اس حقیقت کو جان سکتا ہے کہ انسان کا نفع کس کام اور کس صورت میں زیادہ ہے اور خود انسان چونکہ مجموعی حالات سے واقف نہیں وہ اپنے بھلے برے کو بھی پوری طرح نہیں پہچان سکتا۔
Ayah 17:11شاید اسی مناسبت سے مذکورہ آیات میں سے آخری آیت میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ انسان تو بعض اوقات جلد بازی میں اپنے لئے ایسی دعا مانگ لیتا ہے جو اس کے لئے تباہی و بربادی کا سبب ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی ایسی دعا کو قبول فرما لیں تو یہ برباد ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ اکثر ایسی دعاؤں کو فورا قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ خود انسان سمجھ لیتا ہے کہ میری یہ درخواست غلط اور میرے لئے سخت مضر تھی اور آیت کے آخری جملہ میں انسان کی ایک طبعی کمزوری کو بطور ضابطہ کے بھی ذکر فرمایا کہ انسان اپنی طبیعت سے ہی جلد باز واقع ہوا ہے سرسری نفع نقصان پر نظر رکھتا ہے انجام بینی اور عاقبت اندیشی میں کوتاہی کرتا ہے فوری راحت چاہے تھوڑی ہو اس کو بڑی اور دائمی راحت پر ترجیح دینے لگتا ہے اس تقریر کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں عام انسانوں کی ایک طبعی کمزوری کا بیان ہے۔
اور بعض ائمہ تفسیر نے اس آیت کو ایک خاص واقعہ کے متعلق قرار دیا ہے وہ یہ کہ نضر بن حارث نے اسلام کی مخالفت میں ایک مرتبہ یہ دعا کر ڈالی (آیت) اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ یعنی یا اللہ اگر آپ کے نزدیک یہ اسلام ہی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا کوئی اور درد ناک عذاب بھیج دے اس صورت میں انسان سے یہ خاص انسان یا جو اس کے ہم طبع ہوں مراد ہوں گے۔
Ayah 17:12خلاصہ تفسیر
ہم نے رات اور دن کو (اپنی قدرت کی) دو نشانیاں بنایا سو رات کی نشانی (یعنی خود رات) کو ہم نے دھندلا بنادیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا (کہ اس میں سب چیزیں بےتکلف دکھائی دیں) تاکہ (دن میں) اپنے رب کی روزی تلاش کرو اور (رات اور دن کی آمدو رفت اور دونوں کے رنگ میں امتیاز کہ ایک روشن دوسرا اندھیرا ہے اور دونوں کی مقداروں میں اختلاف سے) برسوں کا شمار اور (دوسرے چھوٹے چھوٹے) حساب معلوم کرلو (جیسا کہ سورة یونس کے پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے) اور ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے (لوح محفوظ میں تو تمام کائنات کی مکمل تفصیل بغیر کسی استثناء کے ہے اور قرآن کریم میں تفصیل بقدر ضرورت ہے اس لئے یہ بیان دونوں کی طرف منسوب ہوسکتا ہے) اور ہم نے ہر (عمل کرنے والے) انسان کا عمل (نیک ہو یا بد) اس کے گلے کا ہار بنا رکھا ہے (یعنی ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ لازم و ملازم ہے) اور (پھر) قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ اس کے (دیکھنے کے) واسطے نکال کر سامنے کردیں گے جس کو وہ کھلا ہوا دیکھ لے گا (اور اس سے کہا جاوے گا کہ لے) اپنا اعمال نامہ (خود) پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب جانچنے کے لئے کافی ہے (یعنی اس کی ضرورت نہیں کہ تیرے اعمال کو کوئی دوسرا آدمی گناوے بلکہ تو خود ہی اپنا نامہ اعمال پڑھتا جا اور حساب لگاتا جا کہ تجھے کتنی سزا اور کتنی جزاء ملنی چاہئے مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ابھی عذاب سامنے نہیں آیا مگر وہ ٹلنے والا نہیں ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ انسان اپنے سب اعمال کو کھلی آنکھوں دیکھ لے گا اور عذاب کی حجت اس پر قائم ہوجائے گیا اور) جو شخص (دنیا میں سیدھی) راہ پر چلتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے لئے چلتا ہے اور جو شخص بےراہی اختیار کرتا ہے وہ بھی اپنے ہی نقصان کے لئے بےراہ ہوتا ہے (وہ اس وقت اس کا خمیازہ بھگتنے کا کسی دوسرے کا کچھ نقصان نہیں کیونکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہ اٹھاوے گا (اور جس کسی کو کوئی سزا دیجاتی ہے وہ اس پر حجت تمام کرنے کے بعد دی جاتی ہے کیونکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم (کبھی) سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو (اس کی ہدایت کے لئے) نہیں بھیج لیتے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں اول رات اور دن کے اختلاف کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانی قرار دیا اور پھر بتلایا کہ رات کو تاریک اور دن کو روشن کرنے میں بڑی حکمتیں ہیں رات کے تاریک کرنے کی حکمت تو اس جگہ بیان نہیں فرمائی دوسری آیات میں مذکور ہے کہ رات کی تاریکی نیند اور آرام کے لئے مناسب ہے اور قدرت نے ایسا نظام بنادیا ہے کہ ہر انسان اور جانور کو اسی رات کی تاریکی میں نیند آتی ہے پورا عالم بیک وقت محو خواب ہوتا ہے اگر مختلف لوگوں کی نیند کے مختلف اوقات ہوتے تو جاگنے والوں کے شور وشغب اور کام کاج کی وجہ سے سونے والوں کی نیند بھی حرام ہوجاتی۔
اور دن کو روشن کرنے کی اس جگہ دو حکمتیں بیان فرمائی ہیں اول یہ کہ دن کی روشنی میں آدمی اپنی روزی تلاش کرسکتا ہے محنت مزدوری صنعت وحرفت سے متعلق ہیں اگر رات دن کا یہ اختلاف نہ ہو تو مزدور کی مزدوری ملازم کی ملازمت معاملات کی میعادیں متعین کرنا سب مشکل ہوجائے گا۔
Ayahs 17:13–14نامہ اعمال گلے کا ہار ہونے کا مطلب
یہ ہے کہ انسان کسی جگہ کسی حال میں رہے اس کا صحیفہ عمل اس کے ساتھ رہتا ہے اس کا عمل لکھا جاتا رہتا ہے جب وہ مرتا ہے تو بند کر کے رکھدیا جاتا ہے پھر قیامت کے روز یہ صحیفہ عمل ہر ایک کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا کہ خود پڑھ کر خود ہی اپنے دل میں فیصلہ کرلے کہ وہ مستحق ثواب ہے یا مستحق عذاب حضرت قتادہ سے منقول ہے کہ اس روز بےپڑھا آدمی بھی نامہ اعمال پڑھ لے گا اس موقع پر اصبہانی نے بروایت حضرت ابوامامہ ؓ یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض لوگوں کا نامہ اعمال جب ان کے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ دیکھے گا کہ اس کے بعض اعمال صالحہ اس میں لکھے ہوئے نہیں ہیں تو عرض کرے گا کہ ہم نے ان اعمال کو اس لئے مٹا دیا کہ تم لوگوں کی غبیت کیا کرتے تھے (مظہری)
Ayah 17:15بعثت رسل کے بغیر عذاب نہ ہونے کی تشریح
اس آیت کی بناء پر بعض ائمہ فقہاء کے نزدیک ان لوگوں کو کفر کے باوجود کوئی عذاب نہیں ہوگا جن کے پاس کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلا خدا کا وجود اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اسکے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی اور رسول کی دعوت نہیں پہنچی اور بعض ائمہ کے نزدیک جو اسلامی عقائد عقل سے سمجھے جاسکتے ہیں مثلا خدا کا وجود اس کی توحید وغیرہ پس جو لوگ اسکے منکر ہوں گے ان کو کفر پر عذاب ہوگا اگرچہ ان کو کسی نبی و رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو البتہ عام معاصی اور گناہوں پر سزا بغیر دعوت و تبلیغ انبیاء (علیہم السلام) کے نہیں ہوگی اور بعض حضرات نے اس جگہ رسول سے مراد عام لی ہے خواہ وہ رسول و نبی ہو خواہ انسانی عقل کہ وہ بھی ایک حیثیت سے اللہ کا رسول ہی ہے۔
اولاد مشرکین کو عذاب نہ ہوگا
(آیت) لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى کے تحت تفسیر مظہری میں لکھا ہے کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین و کفار کی اولاد جو بالغ ہونے سے پہلے مرجائیں ان کو عذاب نہ ہوگا کیونکہ ماں باپ کے کفر کے وہ سزاء کے مستحق نہیں ہوں گے، اس مسئلہ میں ائمہ فقہاء کے اقوال مختلف ہیں جن کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں۔
Ayahs 17:16–17ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اس کا بیان تھا کہ حق تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جب تک کسی قوم کے پاس انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات نہ پہنچ جائیں اور پھر بھی وہ اطاعت نہ کریں اس وقت تک ان پر عذاب نہیں بھیجتے مذکورہ آیات میں اس کے دوسرے رخ کا بیان ہے کہ جب کسی قوم کے پاس رسول اور اللہ کے پیغام پہنچ گئے اور پھر بھی انہوں نے سرکشی سے کام لیا تو اس پر عذاب عام بھیج دیا جاتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
اور جب ہم کسی بستی کو (جو اپنے کفر و نافرنی کی وجہ سے بمتقضائے حکمت الہیہ ہلاک کرنے کے قابل ہو) ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو (اسکو بعثت رسل سے پہلے ہلاک نہیں کرتے بلکہ پہلے کسی رسول کی معرفت) اس (بستی) کے خوش عیش (یعنی امیر ورئیس) لوگوں کو (خصوصا اور دوسرے عوام کو عموما ایمان و اطاعت کا) حکم دیتے ہیں پھر (جب) وہ لوگ (کہنا نہیں مانتے بلکہ) وہاں شرارت مچاتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے پھر اس بستی کو تباہ و غارت کر ڈالتے ہیں اور (اسی عادت کے موافق) ہم نے بہت سی امتوں کو نوح ؑ کے (زمانہ کے) بعد (ان کے کفر و معصیت کے سبب) ہلاک کیا ہے (جیسے عاد وثمود وغیرہ اور نوح ؑ کی قوم کا غرق ہو کر ہلاک ہونا مشہور و معروف ہے اس لئے مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ پر اکتفا کیا گیا خود قوم نوح کا ذکر نہیں کیا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شروع سورت میں آیت ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ میں لفظ حَمَلْنَا سے طوفان نوح کی طرف اشارہ موجود ہے اس کو قوم نوح کی ہلاکت کا بیان قرار دے کر یہاں مابعد نوح ؑ کا ذکر فرمایا گیا) اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے (تو جیسا کسی قوم کا گناہ ہوتا ہے کے ویسی سزا دیتا ہے)
معارف و مسائل
ایک شبہ اور اس کا جواب
الفاظ آیت اِذَآ اَرَدْنَآ اور اس کے بعد اَمَرْنَا کے ظاہر سے یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ ان لوگوں کا ہلاک کرنا ہی مقصود خداوندی تھا اس لئے ان کو اول بذریعہ انبیاء (علیہم السلام) ایمان و اطاعت کا حکم دینا پھر ان کے فسق و فجور کو عذاب کا سبب بنانا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوا تو اس صورت میں یہ بیچارے معذور و مجبور ہوئے اس کے جواب کی طرف ترجمہ اور خلاصہ تفسیر کے ضمن میں یہ اشارہ آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل واختیار دیا اور عذاب وثواب کے راستے متعین کردیئے جب کوئی اپنے اختیار سے عذاب ہی کے کام کا عزم کرے تو عادت اللہ یہ ہے کہ وہ اسی عذاب کے اسباب مہیا کردیتے ہیں تو اصلی سبب عذاب کا خود ان کو عزم اور قصد ہے کفر و معصیت کا نہ کہ محض ارادہ اس لئے وہ معذور نہیں ہو سکتے۔
آیت مذکورہ کی ایک دوسری تفسیر
لفظ اَمَرْنَا کا مشہور مفہوم وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی حکم دیا ہم نے لیکن اس آیت میں اس لفظ کی قراءتیں مختلف ہیں ایک قراءت میں جس کو ابو عثمان نہدی ابو رجاء ابوالعالیہ اور مجاہد نے اختیار کیا ہے یہ لفظ بتشدید میم آیا ہے یعنی امرنا جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم نے امیر وحاکم بنادیا خوش عیش سرمایہ دار لوگوں کو جو فسق و فجور میں مبتلا ہوگئے اور سب قوم کے لئے عذاب کا سبب بنے۔
اور حضرت علی وابن عباس کی ایک قراءت میں یہ لفظ امرنا پڑھا گیا جس کی تفسیر انہیں حضرات سے اکثرنا نقل کی گئی ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجتے ہیں تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم میں خوش عیش سرمایہ دار لوگوں کی کثرت کردی جاتی ہے اور وہ اپنے فسق و فجور کے ذریعہ پوری قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
ان میں سے پہلی قراءت کا حاصل تو یہ ہوا کہ ایسے خوش عیش سرمایہ داروں کو قوم کا حاکم بنادیا جاتا ہے اور دوسری قراءت کا حاصل یہ ہے کہ قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت کردی جاتی ہے ان دونوں سے یہ معلوم ہوا کہ عیش پسند لوگوں کی حکومت یا ایسے لوگوں کی قوم میں کثرت کچھ خوشی کی چیز نہیں عذاب الہی کی علامت ہے حق تعالیٰ جب کسی قوم پر ناراض ہوتے ہیں اور اس کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو اس کی ابتدائی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حاکم ورئیس ایسے لوگ بنا دیئے جاتے ہیں جو عیش پسند عیاش ہوں یا حاکم بھی نہ بنیں تو اس قوم کے افراد میں ایسے لوگوں کی کثرت کر دیجاتی ہے دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ شہوات ولذات میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانیاں خود بھی کرتے ہیں دوسروں کے لئے بھی اس کی راہ ہموار کرتے ہیں بالآخران پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے۔
مالداروں کا قوم پر اثر ہونا ایک طبعی امر ہے
آیت میں خوش عیش مالداروں کا خصوصیت سے ذکر کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ فطری طور پر عوام اپنے مالداروں اور حاکموں کے اخلاق و اعمال سے متاثر ہوتے ہیں جب یہ لوگ بدعمل ہوجائیں تو پوری قوم بد عمل ہوجاتی ہے اس لئے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت دیا ہے ان کو اس کی زیادہ فکر ہونا چاہئے کہ اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کرتے رہیں ایسا نہ ہو کہ یہ عیش پرستی میں پڑ کر اس سے غافل ہوجائیں اور پوری قوم ان کی وجہ سے غلط راستے پر پڑجائے تو قوم کے اعمال بد کا وبال بھی ان پر پڑے گا۔