Ayah 17:18خلاصہ تفسیر
جو شخص (اپنے نیک اعمال سے صرف) دنیا (کے نفع) کی نیت رکھے گا (خواہ اس لئے کہ وہ آخرت کا منکر ہے یا اس لئے کہ آخرت سے غافل ہے) ہم ایسے شخص کو دنیا ہی میں جتنا چاہیں گے (پھر یہ بھی سب کے لیے نہیں) بلکہ جس کے واسطے چاہیں گے فی الحال ہی دیدیں گے (یعنی دنیا ہی میں کچھ جزاء مل جاوے گی) پھر (آخرت میں خاک نہ ملے گا بلکہ وہاں) ہم اس کے لئے جہنم تجویز کردیں گے وہ اس میں بدحال راندہ (درگاہ) ہو کر داخل ہوگا اور جو شخص (اپنے اعمال میں) آخرت (کے ثواب) کی نیت رکھے گا اور اس کے لئے جیسی کوشش کرنی چاہئے ویسی ہی کوشش بھی کرے گا (مطلب یہ ہے کہ ہر کوشش بھی مفید نہیں بلکہ کوشش صرف وہی مفید ہے جو شریعت اور سنت کے موافق ہو کیونکہ حکم ایسی ہی کوشش کا دیا گیا ہے جو عمل اور سعی شریعت و سنت کے خلاف ہو وہ مقبول نہیں) بشرطیکہ وہ شخص مومن بھی ہو سو ایسے لوگوں کی یہ سعی مقبول ہوگی (غرض اللہ کے یہاں کامیابی کی شرطیں چار ہوئیں اول تصحیح نیت یعنی خالص ثواب آخرت کی نیت ہونا جس میں اغراض نفسانی شامل نہ ہوں دوسرے اس نیت کے لئے عمل اور کوشش کرنا صرف نیت و ارادہ سے کوئی کام نہیں ہوتا جب تک اس کے لئے عمل نہ کرے تیسرے تصحیح عمل یعنی سعی وعمل کا شریعت اور سنت کے مطابق ہونا کیونکہ مقصد کے خلاف سمت میں دوڑنا اور کوشش کرنا بجائے مفید ہونے کے مقصد سے اور دور کردیتا ہے چوتھی شرط جو سب سے اہم اور سب کا مدار ہے وہ تصحیح عقیدہ یعنی ایمان ہے ان شرائط کے بغیر کوئی عمل اللہ کے نزدیک مقبول نہیں اور کفار کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہونا ان کے اعمال کی مقبولیت کی علامت نہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں بارگارہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ) آپ کے رب کی عطاء (دنیوی) میں سے تو ہم ان (مقبولین) کی بھی امداد کرتے ہیں اور ان (غیرمقبولین) کی بھی (امداد کرتے ہیں) اور آپ کے رب کی عطاء (دنیوی کسی پر) بند نہیں آپ دیکھ لیجئے کہ ہم نے (اس دنیوی عطاء میں بلا شرط ایمان و کفر کے) ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دی ہے (یہاں تک کہ اکثر کفار اکثر مومنین سے زیادہ نعمت و دولت رکھتے ہیں کیونکہ یہ چیزیں قابل وقعت نہیں) اور البتہ آخرت (جو مقبولین بارگاہ کے ساتھ خاص ہے وہ) درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی (اس لئے اہتمام اسی کا کرنا چاہئے)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں اپنے عمل سے صرف دنیا کا ارادہ کرنے والوں کا اور ان کی سزاء کا جو بیان فرمایا ہے اس کے لئے تو الفاظ مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ استعمال فرمائے جو استمرار و دوام پر دلالت کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سزاء جہنم صرف اس صورت میں ہے کہ اس کے ہر عمل میں ہر وقت صرف دنیا ہی کی غرض چھائی ہوئی ہو آخرت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ ہو اور ارادہ آخرت کرنے اور اس کی جزاء کے بیان میں لفظ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ کا استعمال فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن جس وقت بھی جس عمل میں آخرت کا ارادہ اور نیت کرے گا اس کا وہ عمل مقبول ہوجائے گا خواہ کسی دوسرے عمل کی نیت میں کوئی فساد بھی شامل ہوگیا ہو۔
پہلا حال صرف کافر منکر آخرت کا ہوسکتا ہے اس لئے اس کا کوئی بھی عمل مقبول نہیں اور دوسرا حال مومن کا ہے اس کا وہ عمل جو اخلاص نیت کے ساتھ آخرت کے لئے ہو اور باقی شرائط بھی موجود ہوں وہ مقبول ہوجائے گا اور اس کے بھی جس عمل میں اخلاص نہ ہو یا دوسری شرطیں مفقود ہوں وہ مقبول نہیں ہوگا۔
Ayahs 17:19–21بدعت اور خود رائی کا عمل کتنا ہی اچھا نظر آئے مقبول نہیں
اس آیت میں سعی وعمل کے ساتھ لفظ سَعْيَهَا بڑھا کر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ ہر عمل اور ہر کوشش نہ مفید ہوتی ہے نہ عند اللہ مقبول بلکہ عمل وسعی وہی معتبر ہے جو مقصد (آخرت) کے مناسب ہو اور مناسب ہونا یا نہ ہونا یہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے بیان سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اس لئے جو نیک اعمال خود رائی اور من گھڑت طریقوں سے کئے جاتے ہیں جنمیں بدعات کی عام رسوم شامل ہیں وہ دیکھنے میں کتنے ہی بھلے اور مفید نظر آئیں مگر آخرت کے لئے سعی مناسب نہیں اس لئے نہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہیں اور نہ آخرت میں کار آمد۔
اور تفسیر روح المعانی نے سَعْيَهَا کی تشریح میں سعی کے مطابق سنت ہونے کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ اس عمل میں استقامت بھی ہو یعنی عمل مفید مطابق سنت بھی ہو اور اس پر استقامت اور مداومت بھی ہو بد نظمی کے ساتھ کبھی کرلیا کبھی نہ کیا اس سے پورا فائدہ نہیں ہوتا۔
Ayah 17:22ربط آیات
سابقہ آیات میں قبول اعمال کے لئے چند شرائط کا بیان آیا ہے جن میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ عمل مقبول وہی ہوسکتا ہے جو ایمان کے ساتھ ہو اور شریعت وسنت کے مطابق ہو ان آیات میں ایسے ہی خاص خاص اعمال کی ہدایت کی گئی ہے جو شریعت کے بتلائے ہوئے احکام ہیں ان کے تعمیل آخرت کی فلاح اور ان کی خلاف ورزی آخرت کی ہلاکت کا سبب ہے اور چونکہ شرائط مذکورہ میں سب سے اہم شرط ایمان کی ہے اس لئے سب سے پہلا حکم بھی توحید کا بیان فرمایا اس کے بعد حقوق العباد سے متعلقہ احکام ہیں۔
خلاصہ تفسیر
حکم اول توحید لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ (اے مخاطب) اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کر (یعنی شرک نہ کر) ورنہ تو بد حال بےیارومددگار ہو کر بیٹھ رہے گا (آگے پھر اس کی تاکید ہے) تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس (معبود برحق) کے کسی کی عبادت مت کر (یہ سعی آخرت کے طریقہ کی تفصیل ہے)
حکم دوماداء حقوق والدین وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو اگر (وہ) تیرے پاس (ہوں اور) ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے (کی عمر) کو پہنچ جائیں (جس کی وجہ سے محتاج خدمت ہوجائیں اور جبکہ طبعا ان کی خدمت کرنا بھاری معلوم ہو) سو (اس وقت بھی اتنا ادب کرو کہ) ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں بھی مت کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور (ان کے لئے حق تعالیٰ سے) یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن (کی عمر) میں پالا پرورش کیا ہے (اور صرف اس ظاہری توقیر و تعظیم پر اکتفاء مت کرنا دل میں بھی ان ادب اور قصد اطاعت رکھنا کیونکہ) تمہارا رب تمہارے دلوں کی بات کو خوب جانتا ہے (اور اسی وجہ سے تمہارے لئے اس کی تعمیل آسمان کرنے کے واسطے ایک تخفیف کا حکم بھی سناتے ہیں کہ) اگر تم (حقیقت میں دل ہی سے) سعادت مند ہو (اور غلطی یا تنک مزاجی یا دل تنگی سے کوئی ظاہری کوتاہی ہوجائے اور پھر نادم ہو کر معذرت کرلو) تو وہ توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کردیتا ہے۔
Ayah 17:23معارف و مسائل
والدین کے ادب و احترام اور اطاعت کی بڑی اہمیت
امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو اپنی عبادت کے ساتھ ملا کر واجب فرمایا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں اپنے لشکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کر لازم فرمایا ہے اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ (یعنی میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے شکر کی طرح والدین کا شکر گذار ہونا واجب ہے صحیح بخاری کی یہ حدیث بھی اسی پر شاہد ہے جس میں ہے کہ رسول کریم ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ نماز اپنے وقت (مستحب) میں اس نے پھر دریافت کیا کہ اس کے بعد کونسا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو آپ نے فرمایا والدین کے ساتھ اچھا سلوک (قرطبی)
والدین کی اطاعت و خدمت کے فضائل روایات حدیث میں
(1) مسند احمد ترمذی ابن ماجہ مستدرک حاکم میں بسند صحیح حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے اب تمہیں اختیار ہے کہ اس کی حفاظت کرو یا ضائع کردو (مظہری)
(2) اور جامع ترمذی ومستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی روایت ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی رضاء باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں۔
(3) ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابو امامہ ؓ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اولاد پر ماں باپ کا کیا حق ہے آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں ہی تیری جنت یا دوزخ ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کی اطاعت و خدمت جنت میں لی جاتی ہے اور ان کی بےادبی اور ناراضی دوزخ میں۔
(4) بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن عساکر نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے ماں باپ کا فرمانبردار رہا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور جو ان کا نافرمان ہو اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھلے رہیں گے اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک ہی تھا تو ایک دروازہ (جنت یا دوزخ کا کھلا رہے گا) اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ (یہ جہنم کی وعید) کیا اس صورت میں بھی ہے کہ ماں باپ نے اس شخص پر ظلم کیا ہو تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا وان ظلما وان ظلما وان ظلما (یعنی ماں باپ کی نافرمانی اور ان کو ایذا رسانی پر جہنم کی وعید ہے خواہ ماں باپ نے ہی لڑکے پر ظلم کیا ہو جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے انتقام لینے کا حق نہیں کہ انہوں نے ظلم کیا تو یہ بھی ان کی خدمت و اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیں)
(5) بیقہی نے بروایت حضرت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو خدمت گذار بیٹا اپنے والدین پر رحمت و شفقت سے نظر ڈالتا ہے تو ہر نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول کا ثواب پاتا ہے لوگوں نے عرض کیا کہ اگر وہ دن میں سو مرتبہ اس طرح نظر کرلے آپ نے فرمایا کہ ہاں سو مرتبہ بھی (ہر نظر پر یہی ثواب ملتا رہے گا) اللہ تعالیٰ بڑا ہے (اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آتی)۔
والدین کی حق تلفی کی سزاء آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملتی ہے
(6) بہیقی نے شعب الایمان میں بروایت ابی بکرہ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ سب گناہوں کی سزاء تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں قیامت تک مؤ خر کردیتے ہیں بجز والدین کی حق تلفی اور نافرمانی کے کہ اس کی سزاء آخرت سے پہلے دنیا میں بھی دی جاتی ہے (یہ سب روایات تفسیر مظہری سے نقل کی گئی ہیں)
والدین کی اطاعت کن چیزوں میں واجب ہے اور کہاں مخالفت کی گنجائش ہے
اس پر علماء وفقہاء کا اتفاق ہے کہ والدین کی اطاعت صرف جائز کاموں میں واجب ہے ناجائز یا گناہ کے کام میں اطاعت واجب تو کیا جائز بھی نہیں حدیث میں ہے کہ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق (یعنی خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں)
والدین کی خدمت اور اچھے سلوک کے لئے ان کا مسلمان ہونا ضروری نہیں
امام قرطبی نے اس مسئلہ کی شہادت میں حضرت اسماء ؓ کا یہ واقعہ صحیح بخاری سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے آنحضرت محمد ﷺ سے استفتار کیا کہ میری والدہ جو مشرک ہے مجھ سے ملنے کے لئے آتی ہے کیا میرے لئے جائز ہے کہ میں اس کی خاطر مدارت کروں آپ نے فرمایا صلی امک (یعنی اپنی ماں کی صلہ رحمی اور خاطر مدارات کرو) اور کافر ماں باپ کے بارے میں خود قرآن کریم کا یہ ارشاد موجود ہے۔ (آیت) وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا یعنی ماں باپ کافر ہوں اور اس کو بھی کافر ہونے کا حکم دیں تو ان کا اس معاملے میں حکم ماننا تو جائز نہیں مگر دنیا میں ان کے ساتھ معروف طریقہ کا برتاؤ کیا جائے ظاہر ہے کہ معروف طریقہ سے یہی مراد ہے کہ ان کے ساتھ مدارات کا معاملہ کریں۔
مسئلہجب تک جہاد فرض عین نہ ہوجائے فرض کفایہ کے درجے میں رہے اس وقت تک کسی لڑکے کے لئے بغیر ان کی اجازت کے جہاد میں شریک ہوجانا جائز نہیں صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں شریک جہاد ہونے اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا آپ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے والدین زندہ ہیں اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا ففیھما فجاہد یعنی بس تو اب ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو مطلب یہ ہے کہ ان کی خدمت ہی میں تمہیں جہاد کا ثواب مل جائے گا دوسری روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے کہ اس شخص نے یہ بیان کیا کہ میں اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں اس پر آپ نے فرمایا کہ جاؤ ان کو ہنساؤ جیسا کہ ان کو رلایا ہے یعنی ان سے جا کر کہہ دو کہ میں آپ کی مرضی کے خلاف جہاد میں نہیں جاؤں گا (قرطبی)
مسئلہاس روایت سے معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز فرض عین یا واجب علی العین نہ ہو کفایہ کے درجہ میں ہو تو اولاد کے لئے وہ کام بغیر ماں باپ کی اجازت کے جائز نہیں اس میں مکمل علم دین حاصل کرنا اور تبلیغ دین کے لئے سفر کرنے کا حکم بھی شامل ہے کہ بقدر فرض علم دین جس کو حاصل ہو وہ عالم بننے کے لئے سفر کرے یا لوگوں کو تبلیغ و دعوت کے لئے سفر کرے تو بغیر اجازت والدین کے جائز نہیں۔
مسئلہوالدین کے ساتھ جو حسن سلوک کا حکم قرآن و حدیث میں آیا ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں سے والدین کی قرابت یا دوستی تھی ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا معاملہ کرے خصوصا ان کی وفات کے بعد صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ باپ کے ساتھ بڑا سلوک یہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور حضرت ابو اسید بدری ؓ نے نقل کیا ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا ایک انصاری شخص آیا اور سوال کیا یارسول اللہ ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کا کوئی حق میرے ذمہ باقی ہے آپ نے فرمایا ہاں ان کے لئے دعاء اور استغفار کرنا اور جو عہد انہوں نے کسی سے کیا تھا اس کو پورا کرنا اور ان کے دوستوں کا اکرام و احترام کرنا اور ان کے ایسے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرنا جن کا رشتہ قرابت صرف انھیں کے واسطے سے ہے والدین کے یہ حقوق ہیں جو ان کے بعد بھی تمہارے ذمہ باقی ہیں۔
آنحضرت محمد ﷺ کی عادت تھی کہ حضرت خدیجہ ام المؤ منین کی وفات کے بعد ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ بھیجا کرتے تھے جس سے حضرت خدیجہ کا حق ادا کرنا مقصود تھا۔
والدین کے ادب کی رعایت خصوصا بڑھاپے میں
والدین کی خدمت و اطاعت والدین ہونے کی حیثیت سے کسی زمانے اور کسی عمر کے ساتھ مقید نہیں ہر حال اور ہر عمر میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک واجب ہے لیکن واجبات و فرائض کی ادائیگی میں جو حالات عادۃ رکاوٹ بنا کرتے ہیں ان حالات میں قرآن حکیم کا عام اسلوب یہ ہے کہ احکام پر عمل کو آسان کرنے کے لئے مختلف پہلوؤں سے ذہنوں کی تربیت بھی کرتا اور ایسے حالات میں تعمیل احکام کی پابندی کی مزید تاکید بھی۔
والدین کے بڑھاپے کا زمانہ جبکہ وہ اولاد کی خدمت کے محتاج ہوجائیں ان کی زندگی اولاد کے رحم وکرم پر رہ جائے اس وقت اگر اولاد کی طرف سے ذرا سی بےرخی بھی محسوس ہو تو وہ ان کے دل کا زخم بن جاتی دوسری طرف بڑھاپے کے عوارض طبعی طور پر انسان کو چڑچڑا بنا دیتے ہیں تیسرے بڑھاپے کے آخری دور میں جب عقل وفہم بھی جواب دینے لگتے ہیں تو ان کی خواہشات ومطالبات کچھ ایسے بھی ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوتا ہے قرآن حکیم نے ان حالات میں والدین کی دل جوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت یاد دلایا کہ کسی وقت تم اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بےعقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے اس سابق احسان کا بدلہ اداء کرو آیت میں (آیت) كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا سے اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور آیات مذکورہ میں والدین کے بڑھاپے کی حالت کو پہنچنے کے وقت چند تاکیدی احکام دیئے گئے ہیں۔
اول یہ کہ ان کو اف بھی نہ کہے لفظ اف سے مراد ہر ایسا کلمہ ہے جس سے اپنی ناگواری کا اظہار ہو یہاں تک کہ ان کی بات سن اس طرح لمبا سانس لینا جس سے ان پر ناگواری کا اظہار ہو وہ بھی اسی کلمہ اف میں داخل ہے ایک حدیث میں بروایت حضرت علی ؓ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایذا رسانی میں اف کہنے سے بھی کم کوئی درجہ ہوتا تو یقینا وہ بھی ذکر کیا جاتا (حاصل یہ ہے کہ جس چیز سے ماں باپ کو کم سے کم بھی اذیت پہنچے وہ بھی ممنوع ہے)
دوسراحکم ہے وَلَا تَنْهَرْهُمَا لفظ لفظ لہم کے معنی جھڑکنے ڈانٹنے کے ہیں اس کا سبب ایذاء ہونا ظاہر ہے تیسرا حکم (آیت) وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا ہے پہلے دو حکم منفی پہلو سے متعلق تھے جن میں والدین کی ادنی سے ادنی بار خاطر کو روکا گیا ہے اس تیسرے حکم میں مثبت انداز سے والدین کے ساتھ گفتگو کا ادب سکھلایا گیا ہے کہ ان سے محبت و شفقت کے نرم لہجہ میں بات کی جائے حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا جس طرح کوئی غلام اپنے سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے۔
Ayah 17:24چوتھا حکم (آیت) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کے سامنے اپنے آپ کو عاجز و ذلیل آدمی کی صورت میں پیش کرے جیسے غلام آقا کے سامنے جناح کے معنی بازو کے ہیں لفظی معنی یہ ہیں کہ والدین کے لئے اپنے بازو عاجزی اور ذلت کے ساتھ جھکائے آخر میں من الرحمۃ کے لفظ سے ایک تو اس پر متنبہ کیا کہ والدین کے ساتھ یہ معاملہ محض دکھاوے کا نہ ہو بلکہ قلبی رحمت وعزت کی بنیاد پر ہو دوسرے شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ والدین کے سامنے ذلت کے ساتھ پیش آنا حقیقی عزت کا مقدمہ ہے کیونکہ یہ واقعی ذلت نہیں بلکہ اس کا سبب شفقت و رحمت ہے۔
پانچواں حکم وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ والدین کی پوری راحت رسانی تو انسان کے بس کی بات نہیں اپنی مقدور بھر راحت رسانی کی فکر کے ساتھ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی سب مشکلات کو آسان اور تکلیفوں کو دور فرمائے یہ آخری حکم ایسا وسیع اور عام ہے کہ والدین کی وفات کے بعد بھی جاری ہے جس کے ذریعہ وہ ہمیشہ والدین کی خدمت کرسکتا ہے۔
مسئلہوالدین اگر مسلمان ہوں تو ان کے لئے رحمت کی دعاء ظاہر ہے لیکن اگر وہ مسلمان نہ ہوں تو ان کی زندگی میں یہ دعا اس نیت سے جائز ہوگی کہ ان کو دنیوی تکلیف سے نجات ہو اور ایمان کی توفیق ہو مرنے کے بعد ان کے لئے دعاء رحمت جائز نہیں (قرطبی ملخصا)
ایک واقعہ عجیبہقرطبی نے اپنی اسناد متصل کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے باپ نے میرا مال لے لیا ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ اسی وقت جبرائیل امین تشریف لائے اور رسول کریم ﷺ سے کہا کہ جب اس کا باپ آجائے تو آپ اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں خود اس کے کانوں نے بھی اس کو نہیں سنا جب یہ شخص اپنے والد کو لے کر پہنچا تو آپ نے والد سے کہا کہ کیا بات ہے ؟ آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں والد نے عرض کیا کہ آپ اسی سے یہ سوال فرمائیں کہ میں اس کی پھوپھی خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہاں خرچ کرتا ہوں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایہ (جس کا مطلب یہ تھا کہ جب حقیقت معلوم ہوگئی اب اور کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں) اس کے بعد اس کے والد سے دریافت کیا کہ وہ کلمات کیا ہیں جن کو ابھی تک خود تمہارے کانوں نے بھی نہیں سنا اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمیں ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ آپ پر ہمارا ایمان اور یقین بڑھا دیتے ہیں (جو بات کسی نے نہیں سنی اس کی آپ کو اطلاع ہوگئی جو ایک معجزہ ہے) پھر اس نے عرض کیا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے چند اشعار دل میں کہے تھے جن کو میرے کانوں نے بھی نہیں سنا آپ نے فرمایا کہ وہ ہمیں سناؤ اس وقت اس نے یہ اشعار ذیل سنائے۔
غذوتک مولودا ومنتک یافعا، تعل بما اجنی علیک وتنھل۔
میں نے تجھے بچپن میں غذا دی اور جوان ہونے کے بعد تمہاری ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔
اذا لیلۃ ضافتک بالسقم لم ابت، لسقک الا ساھرا اتململ۔
جب کسی رات میں تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے تمام رات تمہاری بیماری کے سبب بیداری اور بیقراری میں گذاری۔
کأنی انا المطروق دونک بالذی، طرقت بہ دونی فعینی تھمل۔
گویا کہ تمہاری بیماری مجھے ہی لگی ہے تمہیں نہیں جس کی وجہ سے میں تمام شب روتا رہا۔
تخاف الردی نفسی علیک وانھا، لتعلم ان الموت وقت مؤ جل۔
میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا حالانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے پہلے پیچھے نہیں ہوسکتی۔
فلما بلغت السن والغایۃ التی، الیہا مدی ماکنت فیک اؤ مل۔
پھر جب تم اس عمر اور اس حد تک پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا۔
جعلت جزائی غلظۃ و فظاظۃ، کانک انت المنعم المتفضل۔
تو تم نے میرا بدلہ سختی اور سخت کلامی بنادیا گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان و انعام کر رہے ہو۔
فلیتک اذلم ترع حق ابوتی، فعلت کما الجار المصاقب یفعل۔
کاش اگر تم سے میرے باپ ہونے کا حق ادا نہیں ہوسکتا تو کم از کم ایسا ہی کرلیتے جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔
فاولیتنی حق الجرار ولم تکن، علی بمال دون مالک تبخل۔
تو کم از کم مجھے پڑوسی کا حق تو دیا ہوتا اور خود میرے ہی مال میں میرے حق میں بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔
رسول کریم ﷺ نے یہ اشعار سننے کے بعد بیٹے کا گریبان پکڑ لیا اور فرمایا انت ومالک لابیک یعنی جا تو بھی اور تیرا مال بھی سب باپ کا ہے (تفسیر قرطبی ص 246 ج 1) یہ اشعار عربی ادب کی مشہور کتاب حماسہ میں بھی نقل کئے گئے مگر ان کو امیہ بن ابی الصلت شاعر کی طرف منسوب کیا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ عبدالاعلی کے اشعار ہیں بعض نے ان کی نسبت ابوالعباس اعمی کی طرف کی ہے (حاشیہ قرطبی)
Ayah 17:25مذکورہ آیات میں سے آخری آیت رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ میں اس دل تنگی کو رفع فرما دیا گیا ہے جو والدین کے ادب و تعظیم کے متعلقہ احکام مذکورہ سے اولاد کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے کہ والدین کے ساتھ ہر وقت رہنا ہے ان کے اور اپنے حالات بھی ہر وقت یکساں نہیں ہوتے کسی وقت زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکل گیا جو مذکور الصدر آداب کے خلاف ہو تو اس پر جہنم کی وعید ہے اس طرح گناہ سے بچنا سخت مشکل ہوگا اس آیت میں اس شبہ اور اس سے دل تنگی کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ بغیر ارادہ بےادبی کے کبھی کسی پریشانی یا غفلت سے کوئی کلمہ صادر ہوجائے اور پھر اس سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے واقف ہیں کہ وہ کلمہ بےادبی یا ایذاء کے لئے نہیں کہا تھا وہ معاف فرمانے والے ہیں لفظ اوابین بمعنے توابین ہے حدیث میں بعد مغرب کی چھ رکعات اور اشراق کی نوافل کو صلوۃ الاوابین کہا گیا ہے جس میں اشارہ ہے کہ ان نمازوں کی توفیق انہیں لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اوابین اور توابین ہیں
Ayah 17:26خلاصہ تفسیر
(ان دونوں آیتوں میں حقوق العباد کے متعلق دو مزید حکم مذکور ہیں اول والدین کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں اور عام مسلمانوں کے حقوق دوسرے خرچ کرنے میں فضول خرچی کی ممانعت مختصر تفسیر یہ ہے) اور قرابت دار کو اس کا حق (مالی و غیر مالی) دیتے رہنا اور محتاج و مسافر کو بھی (ان کے حقوق) دیتے رہنا اور (مال کو) بےموقع مت اڑانا بیشک بےموقع مال اڑانے والے شیطان کے بھائی بند ہیں (یعنی اس کے مشابہ ہوتے ہیں) اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے (کہ حق تعالیٰ نے اس کو دولت عقل کی دی اس نے اس دولت عقل کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کیا اس طرح فضول خرچی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دولت مال کی دی مگر وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کرتے ہیں)
معارف و مسائل
عام رشتے داروں کے حقوق کا اہتمام
پچھلی آیتوں میں والدین اور ان کے اداب و احترام کی تعلیم تھی اس آیت میں عام رشتہ داروں کے حقوق کا بیان ہے کہ ہر رشتے کا حق ادا کیا جائے جو کم سے کم ان کے ساتھ حسن معاشرت اور عمدہ سلوک ہے اور وہ اگر حاجت مند ہوں تو ان کی مالی امداد بھی اپنی وسعت کے مطابق اس میں داخل ہے اس آیت سے اتنی بات تو ثابت ہوگئی کہ ہر شخص پر اس کے عام رشتے دار عزیزوں کا بھی حق ہے وہ کیا اور کتنا ہے اس کی تفصیل مذکور نہیں مگر عام صلہ رحمی اور حسن معاشرت کا اس میں داخل ہونا واضح ہے امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک اسی فرمان کے تحت جو رشتہ دار ذی رحم محرم ہو اگر وہ عورت یا بچہ ہے جن کے پاس اپنے گذارہ کا سامان نہیں اور کمانے پر بھی قدرت نہیں اسی طرح جو رشتہ دار ذی رحم محرم اپاہج یا اندھا ہو اور اس کی ملک میں اتنا مال نہیں جس سے اس کا گذارہ ہو سکے تو ان کے جن رشتہ داروں میں اتنی وسعت ہے کہ وہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ان پر ان سب کا نفقہ فرض ہے اگر ایک ہی درجہ کے کئی رشتہ دار صاحب وسعت ہوں تو ان سب پر تقسیم کر کے ان کا گذارہ نفقہ دیا جائے گا سورة بقرہ کی آیت وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ سے بھی یہ حکم ثابت ہے (تفسیر مظہری)
اس آیت میں اہل قرابت اور مسکین و مسافر کو مالی مدد دینے اور صلہ رحمی کرنے کو ان کو حق فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ دینے والے کو ان پر احسان جتانے کا کوئی موقع نہیں کیونکہ ان کا حق اس کے ذمہ فرض ہے دینے والا اپنا فرض ادا کر رہا ہے کسی پر احسان نہیں کر رہا۔
Ayah 17:27تبذیر یعنی فضول خرچی کی ممانعت
فضول خرچی کے معنی کو قرآن حکیم نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے ایک تبذیز اور دوسرے اسراف تبذیر کی ممانعت تو اسی آیت مذکورہ میں واضح ہے اسراف کی ممانعت آیت وَلَا تُسْرِفُوْا سے ثابت ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں کسی معصیت میں یا بےموقع بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع تو ہو مگر ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے اس کو اسراف کہتے ہیں اس لئے تبذیر بہ نسبت اسراف کے اشد ہے مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔
امام تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنا سارا مال حق کے لئے خرچ کردے تو وہ تبذیر نہیں اور اور اگر باطل کے لئے ایک مد (آدھ سیر) بھی خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ غیر حق میں بےموقع خرچ کرنے کا نام تبذیر ہے (مظہری) امام مالک نے فرمایا کہ تبذیر یہ ہے کہ انسان مال کو حاصل تو حق کے مطابق کرے مگر خلاف حق خرچ کر ڈالے اور اس کا نام اسراف بھی ہے اور یہ حرام ہے (قرطبی)
امام قرطبی نے فرمایا کہ حرام و ناجائز کام میں تو ایک درہم خرچ کرنا بھی تبذیر ہے اور جائز و مباح خواہشات میں حد سے زیادہ خرچ کرنا جس سے آئندہ محتاج فقیر ہوجانے کا خطرہ ہوجائے یہ بھی تبذیر میں داخل ہے ہاں اگر کوئی شخص اصل راس المال کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کے منافع کو اپنی جائز خواہشات میں وسعت کے ساتھ خرچ کرتا ہے تو وہ تبذیر میں داخل نہیں (قرطبی ج 10 ص 248)
Ayah 17:28خلاصہ تفسیر
اس آیت میں حقوق العباد سے متعلق پانچواں حکم یہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت حاجت مندوں کو ان کی ضرورت کے مطابق دینے کا انتظام نہ ہو سکے تو اس وقت بھی ان کو روکھا جواب نہ دیا جائے بلکہ ہمدردی کے ساتھ آئندہ سہولت کی امید دلائی جائے آیت کی تفسیر یہ ہے۔
اور اگر (کسی وقت تمہارے پاس ان لوگوں کو دینے کے لئے مال نہ ہو اور اس لئے) تم کو اس رزق کے انتظار میں جس کی اپنے پروردگار سے توقع ہو (اس کے نہ آنے تک) ان سے پہلوتہی کرنا پڑے تو (اتنا خیال رکھنا ان سے نرمی کی بات کہہ دینا (یعنی دل جوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ کہیں سے آئے گا تو دیں گے دل آزار جواب مت دینا)
معارف و مسائل
اس آیت میں رسول کریم ﷺ اور ان کے واسطے سے پوری امت کی عجیب اخلاقی تربیت ہے کہ اگر کسی وقت ضرورت مند لوگ سوال کریں اور آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو اس لئے ان لوگوں سے اعراض کرنے پر مجبور ہو تو بھی آپ کا یہ اعراض مستغنیانہ یا مخاطب کے لئے توہین آمیز نہ ہونا چاہئے بلکہ یہ پہلوتہی کرنا اپنے عجز و مجبوری کے اظہار کے ساتھ ہونا چاہئے
اس آیت کے شان نزول میں ابن زید کی روایت یہ ہے کہ کچھ لوگ رسول کریم ﷺ سے مال کا سوال کیا کرتے تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ ان کو دیا جائے گا تو یہ فساد میں خرچ کریں گے اس لئے آپ ان کو دینے سے انکار کردیتے تھے کہ یہ انکار ان کو فساد سے روکنے کا ذریعہ ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی)
مسند سعید بن منصور میں بروایت سباء بن حکم مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس کچھ کپڑا آیا تھا آپ نے اس کو مستحقین میں تقسیم فرما دیا اس کے بعد کچھ اور لوگ آئے جبکہ آپ فارغ ہوچکے تھے اور کپڑا ختم ہوچکا تھا ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 17:29خلاصہ تفسیر
اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کہ انتہائی بخل سے بالکل ہاتھ خرچ کرنے سے روک لو) اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہئے (کہ ضرورت سے زیادہ خرچ کر کے اسراف کیا جائے) ورنہ الزام خوردہ (اور) تہیدست ہو کر بیٹھ رہو گے (اور کسی کے فقر و احتیاج پر اتنا اثر لینا کہ اپنے کو پریشانی میں ڈال لو کوئی معقول بات نہیں کیونکہ) بلاشبہ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی (جس پر چاہئے) تنگی کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں (کی حالت اور ان کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے دیکھتا ہے (سارے عالم کی حاجات پورا کرنا تو رب العالمین ہی کا کام ہے تم اس فکر میں کیوں پڑے کہ اپنے سے ہو سکے یا نہ ہو سکے اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال کر سب کی حاجتیں پوری ہی کرو یہ صورت اس لئے بیکار ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی سب کی حاجتیں پوری کردینا تمہارے بس کی بات نہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے اس کے لئے تدبیر نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب کی حاجتیں پوری کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں خواہ وہ اپنے اوپر کتنی ہی مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار بھی ہو کہ یہ کام تو صرف مالک کائنات ہی کا ہے کہ سب کی حاجتوں کو جانتا بھی ہے اور سب کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے کہ کس وقت کس شخص کی کس حاجت کو کس مقدار میں پورا کرنا چاہئے اس لئے انسان کا کام تو صرف اتنا ہی ہے کہ میانہ روی سے کام لے نہ خرچ کرنے کے موقع میں بخل کرے اور نہ اتنا خرچ کرے کہ کل کو خود ہی فقیر ہوجائے اور اہل و عیال جن کے حقوق اس کے ذمہ ہیں ان کے حقوق ادا نہ ہو سکیں اور بعد میں پچھتانا پڑے)
معارف و مسائل
خرچ کرنے میں اعتدال کی ہدایت
اس آیت میں بلاواسطہ مخاطب خود نبی کریم ﷺ ہیں اور آپ کے واسطے سے پوری امت مخاطب ہے اور مقصود اقتصاد کی ایسی تعلیم ہے جو دوسروں کی امداد میں حائل بھی نہ ہو اور خود اپنے لئے بھی مصیبت نہ بنے اس آیت کے شان نزول میں ابن مردویہ نے بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود اور بغوی نے بروایت حضرت جابر ؓ ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک لڑکا حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ آپ سے ایک کرتے کا سوال کرتی ہیں اس وقت رسول کریم ﷺ کے پاس کوئی کرتا اس کے سوا نہیں تھا جو آپ کے بدن مبارک پر تھا آپ نے لڑکے کو کہا کہ پھر کسی وقت آؤ جبکہ ہمارے پاس اتنی وسعت ہو کہ تمہاری والدہ کا سوال پورا کرسکیں لڑکا گھر گیا اور واپس آیا اور کہا کہ میری والدہ کہتی ہیں کہ آپ کے بدن مبارک پر جو کرتا ہے وہی عنایت فرما دیں یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے اپنے بدن مبارک سے کرتہ اتار کر اس کے حوالے کردیا آپ ننگے بدن رہ گئے نماز کا وقت آیا حضرت بلال ؓ نے اذان دی مگر آپ حسب عادت باہر تشریف نہ لائے تو لوگوں کو فکر ہوئی بعض لوگ اندر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ کرتے کے بغیر ننگے بدن بیٹھے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 17:30اللہ کی راہ میں اتنا خرچ کرنا کہ خود پریشانی میں پڑجائے اس کا درجہ
اس آیت سے بظاہر اس طرح خرچ کرنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے جس کے بعد خود فقیر و محتاج ہوجائے اور پریشانی میں پڑجائے امام تفسیر قرطبی نے فرمایا کہ یہ حکم مسلمانوں کے عام حالات کے لئے ہے جو خرچ کرنے کے بعد تکلیفوں سے پریشان ہو کر پچھلے خرچ کئے ہوئے پر پچھتائیں اور افسوس کریں قرآن کریم کے لفظ مَّحْسُوْرًا میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے (کما قال المظہری) اور جو لوگ اتنے بلند حوصلہ ہوں کہ بعد کی پریشانی سے نہ گھبرائیں اور اہل حقوق کے حقوق بھی ادا کرسکیں ان کے لئے یہ پابندی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی عادت یہ تھی کہ کل کے لئے کچھ ذخیرہ نہ کرتے تھے جو کچھ آیا آج ہی خرچ فرما دیتے تھے اور بسا اوقات بھوک اور فاقہ کی تکلیف بھی پیش آتی پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت بھی آجاتی تھی اور صحابہ کرام ؓ اجمعین میں بھی بہت سے ایسے حضرات ہیں جنہوں نے آنحضرت محمد ﷺ کے عہد مبارک میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا آنحضرت محمد ﷺ نے نہ اس کو منع فرمایا نہ ان کو ملامت کی اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت کی ممانعت ان لوگوں کے لئے ہے جو فقر و فاقہ کی تکلیف برداشت نہ کرسکیں اور خرچ کرنے بعد ان کو حسرت ہو کہ کاش ہم خرچ نہ کرتے یہ صورت ان کے پچھلے عمل کو فاسد کر دے گی اس لئے اس سے منع فرمایا گیا۔
خرچ میں بدنظمی ممنوع ہے
اور اصل بات یہ ہے کہ اس آیت نے بدنظمی کے ساتھ خرچ کرنے کو منع کیا ہے کہ آگے آنے والے حالات سے قطع نظر کر کے جو کچھ پاس ہے اسے اسی وقت خرچ کر ڈالے کل کو دوسرے صاحب حاجت لوگ آئیں اور کوئی دینی ضرورت اہم پیش آجائے تو اب اس کے لئے قدرت نہ رہے (قرطبی) یا اہل و عیال جن کے حقوق اس کے ذمہ واجب ہیں ان کے حق ادا کرنے سے عاجز ہوجائے (مظہری) مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا کے الفاظ کے متعلق تفسیر مظہری میں ہے کہ مَلُوْم کا تعلق پہلی حالت یعنی بخل سے ہے کہ اگر ہاتھ کو بخل سے بالکل روک لے گا تو لوگ ملامت کریں گے اور محسورا کا تعلق کسی دوسری حالت سے ہے کہ خرچ کرنے میں اتنی زیادتی کرے کہ خود فقیر ہوجائے تو یہ محسورا یعنی تھکا ماندہ عاجز یا حسرت زدہ ہوجائے گا۔
Ayah 17:31خلاصہ تفسیر
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے قتل نہ کرو (کیونکہ سب کے رازق ہم ہیں) ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی (اگر رازق تم ہوتے تو ایسی باتیں سوچتے) بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں انسانی حقوق کے متعلق ہدایات کا ایک سلسلہ ہے یہ چھٹا حکم اہل جاہلیت کی ایک ظالمانہ عادت کی اصلاح کے لئے ہے زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ ابتداء ولادت کے وقت اپنی اولاد خصوصا بیٹیوں کو اس خوف سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کے مصارف کا بار ہم پر پڑے گا آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے ان کی جہالت کو واضح کیا ہے کہ رزق دینے والے تم کون یہ تو خالص اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تمہیں بھی تو وہی رزق دیتا ہے جو تمہیں دیتا ہے وہی ان کو بھی دے گا تم کیوں اس فکر میں قتل اولاد کے مجرم بنتے ہو بلکہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے رزق دینے میں اولاد کا ذکر مقدم کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا ہے ہم پہلے ان کو پھر تمہیں دیں گے جس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس بندہ کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے اہل و عیال کا تکفل یا دوسرے غریبوں ضعیفوں کی امداد کرتا ہے تو اس کو اسی حساب سے دیتے ہیں کہ وہ ضروریات بھی پوری کرسکے اور دوسروں کی امداد بھی کرسکے ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے انما تنصرون وترزقون بضعفائکم یعنی تمہارے ضعیف و کمزور طبقہ ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری امداد ہوتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اہل و عیال کے متکفل والدین کو جو کچھ ملتا ہے وہ کمزور عورتوں بچوں کی خاطر ہی ملتا ہے۔
مسئلہقرآن کریم کے اس ارشاد سے اس معاملے پر بھی روشنی پڑتی ہے جس میں آج کی دنیا گرفتار ہے کہ کثرت آبادی کے خوف سے ضبط تولید اور منصوبہ بندی کو رواج دے رہی ہے اس کی بنیاد بھی اسی جاہلانہ فلسفہ پر ہے کہ رزق کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھ لیا گیا ہے یہ معاملہ قتل اولاد کی برابر گناہ نہ سہی مگر اس کے مذموم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
Ayah 17:32خلاصہ تفسیر
اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو (یعنی اس کے مبادی اور مقدمات سے بھی بچو) بلاشبہ وہ (خود بھی) بڑی بےحیائی کی بات ہے اور (دوسرے مفاسد کے اعتبار سے بھی) بری راہ ہے (کیونکہ اس پر عداوتیں اور فتنے اور تضبیع نسب مرتب ہوتے ہیں)
معارف و مسائل
یہ ساتواں حکم زنا کی حرمت کے متعلق ہے جس کے حرام ہونے کی دو وجہ بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ وہ بےحیائی ہے اور انسان میں حیا نہ رہی تو وہ انسانیت ہی سے محروم ہوجاتا ہے پھر اس کے لئے کسی بھلے برے کام کا امتیاز نہیں رہتا اسی معنی کے لئے حدیث میں ارشاد ہے اذا فاتک الحیاء فافعل ماشئت۔ یعنی جب تیری حیا ہی جاتی رہی تو کسی برائی سے رکاوٹ کا کوئی پردہ نہ رہا تو جو چاہو گے کرو گے اور اسی لئے رسول کریم ﷺ نے حیاء کو ایمان کا ایک اہم شعبہ قرار دیا ہے والحیاء شعبۃ من الایمان (بخاری) دوسری وجہ معاشرتی فساد ہے جو زنا کی وجہ سے اتنا پھیلتا ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں رہتی اور اس کے نتائج بد بعض اوقات پورے قبیلوں اور قوموں کو برباد کردیتے ہیں فتنے چوری ڈاکہ قتل کی جتنی کثرت آج دنیا میں بڑھ گئی ہے اس کے حالات کی تحقیق کی جائے تو آدھے سے زیادہ واقعات کا سبب کوئی عورت و مرد نکلتے ہیں جو اس جرم کے مرتکب ہوئے اس جرم کا تعلق اگرچہ بلاواسطہ حقوق العباد سے نہیں مگر اس جگہ حقوق العباد سے متعلقہ احکام کے ضمن میں اس کا ذکر کرنا شاید اسی بناء پر ہو کہ یہ جرم بہت سے ایسے جرائم ساتھ لاتا ہے جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہیں اور قتل و غارت گری کے ہنگامے برپا ہوتے ہیں اسی لئے اسلام نے اس جرم کو تمام جرائم سے اشد قرار دیا ہے اس کی سزاء بھی سارے جرائم کی سزاؤں سے زیادہ سخت رکھی ہے کیونکہ یہ ایک جرم دوسرے سینکڑوں جرائم کو اپنے میں سموئے ہوئے ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں شادی شدہ زنا کار پر لعنت کرتی ہیں اور جہنم میں ایسے لوگوں کی شرمگاہوں سے ایسی سخت بدبو پھیلے گی کہ اہل جہنم بھی اس سے پریشان ہوں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ ان کی رسوائی جہنم میں بھی ہوتی رہے گی (رواہ البزار عن بریدہ مظہری) ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ زنا کرنے والا زنا کرنے کے وقت مومن نہیں ہوتا چوری کرنے والا چوری کرنے کے وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا شراب پینے کے وقت مومن نہیں ہوتا یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے اس کی شرح ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ ان جرائم کے کرنے والے جس وقت مبتلائے جرم ہوتے ہیں تو ایمان ان کے قلب سے نکل کر باہر آجاتا ہے اور پھر جب اس سے لوٹ جاتے ہیں تو ایمان واپس آجاتا ہے (مظہری)
Ayah 17:33خلاصہ تفسیر
اور جس شخص (کے قتل کرنے کو) اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر (قتل کرنا درست ہے یعنی جب کسی شرعی حکم سے قتل کرنا واجب یا جائز ہوجائے تو وہ حرم اللہ میں داخل نہیں) اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث (حقیقی یا حکمی) کو اختیار دیا ہے (قصاص لینے کا) سو اس کو قتل کے بارے میں حد (شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہئے (یعنی قاتل پر قتل کا یقینی ثبوت ملے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور قاتل کو بھی صرف قتل کرے ناک کان یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ کر مثلہ نہ کرے کیونکہ) وہ شخص (قصاص میں حد سے تجاوز نہ کرنے کی صورت میں تو شرعا) مدد کے قابل ہے (اور اس نے زیادتی کی تو پھر فریق ثانی مظلوم ہو کر اللہ کی مدد کا مستحق ہوجائے گا اس لئے ولی مقتول کو چاہئے کہ وہ اپنے منصور حق ہونے کی قدر کرے حد سے بڑھ کر اس نعمت حق کو ضائع نہ کرے)
معارف و مسائل
یہ آٹھواں حکم قتل ناحق کی حرمت کے بیان میں ہے جس کا جرم عظیم ہونا دنیا کی ساری ہی جماعتوں اور مذہبوں اور فرقوں میں مسلم ہے حدیث میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ساری دنیا کی تباہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے اہوں (ہلکی) ہے کہ کسی مومن کو ناحق قتل کیا جائے (اور بعض روایات میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کے ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے باشندے کسی مومن کے قتل ناحق میں شریک ہوجائیں تو ان سب کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کردیں گے (ابن ماجہ بسند حسن والبیہقی از مظہری)
اور ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں قاتل کی امداد ایک کلمہ سے بھی کی تو میدان حشر میں جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا (ائس من رحمۃ اللہ) (یعنی یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیا گیا ہے) (مظہری از ابن ماجہ واصبہانی)
اور بیہقی نے بروایت حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ و حضرت معاویہ ؓ روایت کیا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک گناہ کو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے مگر وہ آدمی جو حالت کفر میں مر گیا یا جس نے جان بوجھ کر قصدا کسی مسلمان کو ناحق قتل کیا۔
قتل ناحق کی تفسیر
امام بخاری ومسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں جو اللہ کے ایک ہونے اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو بجز تین صورتوں کے ایک یہ کہ اس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو (کہ اس کی شرعی سزا یہ ہے کہ پتھراؤ کر کے اس کو مار دیا جائے) دوسرے وہ جس نے کسی انسان کو ناحق قتل کیا ہو (کہ اس کی سزاء یہ ہے کہ ولی مقتول اس کو قصاص میں قتل کرسکتا ہے) تیسرے وہ شخص جو دین اسلام سے مرتد ہوگیا ہو (کہ اس کی سزاء بھی قتل ہے)
قصاص لینے کا حق کس کو ہے
آیت مذکور میں بتلایا گیا ہے کہ یہ حق مقتول کے ولی کا ہے اگر نسبی ولی کوئی موجود نہیں تو اسلامی حکومت کے سربراہ کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ بھی ایک حیثیت سے سب مسلمانوں کا ولی ہے اسی لئے خلاصہ تفسیر میں ولی حقیقی یا حکمی لکھا گیا ہے۔
ظلم کا جواب ظلم نہیں انصاف ہے مجرم کی سزا میں بھی انصاف کی رعایت
فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ اسلامی قانون کی ایک خاص ہدایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم کا بدلہ ظلم سے لینا جائز نہیں بدلہ میں بھی انصاف کی رعایت لازمی ہے جب تک ولی مقتول انصاف کے ساتھ اپنے مقتول کا انتقام شرعی قصاص کے ساتھ لینا چاہئے تو قانون شریعت اس کے حق میں ہے یہ منصور حق ہے اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور اگر اس نے جوش انتقام میں شرعی قصاص سے تجاوز کیا تو اب یہ مظلوم کے بجائے ظالم ہوگیا اور ظالم اس کا مظلوم بن گیا اب معاملہ برعکس ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اور اس کا قانون اب اس کی مدد کرنے کے بجائے دوسرے فریق کی مدد کرے گا کہ اس کو ظلم سے بچائے گا۔
جاہلیت عرب میں یہ بات عام تھی کہ ایک شخص قتل ہوا تو اس کے بدلہ میں قاتل کے خاندان یا ساتھیوں میں جو بھی ہاتھ لگے اس کو قتل کردیتے تھے بعض جگہ یہ صورت ہوتی کہ جس کو قتل کیا گیا وہ قوم کا کوئی بڑا آدمی ہے تو اس کے بدلہ میں صرف ایک قاتل کو قصاصا قتل کرنا کافی نہ سمجھا جاتا تھا بلکہ ایک خون کے بدلہ دو تین یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں کی جان لی جاتی تھی بعض لوگ جوش انتقام میں قاتل کے صرف قتل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی ناک کان وغیرہ کاٹ کر مثلہ کردیتے تھے یہ سب چیزیں اسلامی قصاص کی حد سے زائد اور حرام ہیں اس لئے آیت فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ میں ان کو روکا گیا ہے۔
یاد رکھنے کے قابل ایک حکایت
بعض ائمہ مجتہدین کے سامنے کسی شخص نے حجاج بن یوسف پر کوئی الزام لگایا حجاج بن یوسف اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا ظالم اور انتہائی بدنام شخص ہے جس نے ہزاروں صحابہ وتابعین کو ناحق قتل کیا ہے اس لئے عام طور پر اس کو برا کہنے کی برائی لوگوں کے ذہن میں نہیں رہتی جس بزرگ کے سامنے یہ الزام حجاج بن یوسف پر لگایا گیا انہوں نے الزام لگانے والے سے پوچھا کہ تمہارے پاس اس الزام کی کوئی سند یا شہادت موجود ہے انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ حجاج بن یوسف سے ہزاروں مقتولین بےگناہ کا انتقام لے گا تو یاد رکھو کہ جو شخص حجاج پر کوئی ظلم کرتا ہے اس کو بھی انتقام سے نہیں چھوڑا جائے گا حجاج کا بدلہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی لیں گے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کوئی جنبہ داری نہیں ہے کہ برے اور گناہگار بندوں پر دوسروں کو آزاد چھوڑ دیں اور وہ جو چاہیں الزام و اتہام لگا دیا کریں۔
Ayah 17:34خلاصہ تفسیر
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (یعنی اس پر تصرف نہ کرو) مگر ایسے طریقہ سے جو کہ (شرعا) مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے اور عہد (جائز) کو پورا کیا کرو بیشک عہد کی قیامت میں باز پرس ہونے والی ہے (عہد میں وہ تمام عہد بھی داخل ہیں جو بندہ نے اپنے اللہ سے کئے ہیں اور وہ بھی جو کسی انسان سے کئے ہیں) اور (ناپنے کی چیزوں کو) جب ناپ کردو تو پورا ناپو اور (تولنے کی چیزوں کو) صحیح ترازو سے تول کردو یہ (فی نفسہ بھی) اچھی بات ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے (آخرت میں تو ثواب اور دنیا میں نیک نامی کی شہرت جو ترقی تجارت کا ذریعہ ہے)
معارف و مسائل
ان دو آیتوں میں تین حکم نواں، دسواں، گیا رہواں مالی حقوق کے متعلق مذکور ہیں سابقہ آیات میں مدنی اور جسمانی حقوق کا ذکر تھا یہ مالی حقوق کا بیان ہے۔
یتیموں کے مال میں احتیاط
ان میں پہلی آیت میں نواں حکم یتیموں کے اموال کی حفاظت اور ان میں احتیاط کا ہے جس میں بڑی تاکید سے یہ فرمایا کہ یتیموں کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ یعنی ان میں خلاف شرع یا بچوں کی مصلحت کے خلاف کوئی تصرف نہ ہونے پاوے یتیموں کے مال کی حفاظت اور انتظام جن کے ذمہ ہے ان پر لازم ہے کہ ان میں بڑی احتیاط سے کام لیں صرف یتیموں کی مصلحت کو دیکھ کر خرچ کریں اپنی خواہش یا بےفکری سے خرچ نہ کریں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ یتیم بچے جوان ہو کر اپنے مال کی حفاظت خود نہ کرسکیں جس کا ادنیٰ درجہ پندرہ سال کی عمر کو پہنچنا اور زیادہ اٹھارہ سال تک ہے۔
ناجائز طریقے پر کسی کا مال بھی خرچ کرنا جائز نہیں
یہاں یتیموں کا خصوصیت سے ذکر اس لئے کیا کہ وہ تو خود کوئی حساب لینے کے قابل نہیں دوسروں کو اس کی خبر نہیں ہو سکتی جس جگہ کوئی انسان اپنے حق کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو وہاں حق تعالیٰ کا مطالبہ اشد ہوجاتا ہے اس میں کوتاہی عام لوگوں کے حقوق کی نسبت سے زیادہ گناہ ہوجاتی ہے۔
معاہدات کی تکمیل و تعمیل کا حکم
دسواں حکم عہد پورا کرنے کی تاکید ہے عہد دو طرح کے ہیں ایک وہ جو بندہ اور اللہ کے درمیان ہیں جیسے ازل میں بندہ کا یہ عہد کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اس عہد کا لازمی اثر اس کے احکام کی اطاعت اور اس کی رضا جوئی ہوتا ہے یہ عہد تو ہر انسان نے ازل میں کیا ہے خواہ دنیا میں وہ مومن ہو یا کافر دوسرا عہد مومن کا ہے جو شہادت ان لا الہ الا اللہ کے ذریعہ کیا گیا ہے جس کا حاصل احکام الہیہ کا مکمل اتباع اور اس کی رضا جوئی ہے۔
دوسری قسم عہد کی وہ ہے جو انسان کسی انسان سے کرتا ہے جس میں تمام معاہدات سیاسی تجارتی معاملاتی شامل ہیں جو افراد یا جماعتوں کے درمیان دنیا میں ہوتے ہیں۔
پہلی قسم کے تمام معاہدات کا پورا کرنا انسان پر واجب ہے اور دوسری قسم میں جو معاہدات خلاف شرع نہ ہوں ان کا پورا کرنا واجب اور جو خلاف شرع ہوں ان کا فریق ثانی کو اطلاع کر کے ختم کردینا واجب ہے جس کا پورا کرنا واجب ہے اگر کوئی پورا نہ کرے تو دوسرے کو حق ہے کہ عدالت میں مرافعہ کر کے اس کو پورا کرنے پر مجبور کرے معاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ دو فریق کے درمیان کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد ہو اور جو کوئی شخص کسی سے یک طرفہ وعدہ کرلیتا ہے کہ میں آپ کو فلاں چیز دوں گا یا فلاں وقت آپ سے ملوں گا یا آپ کا فلاں کام کر دوں گا اس کا پورا کرنا بھی واجب ہے اور بعض حضرات نے اس کو بھی عہد کے اس مفہوم میں داخل کیا ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ کہ معاہدہ فریقین کی صورت میں اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو دوسرا فریق اس کو بذریعہ عدالت تکمیل معاہدہ پر مجبور کرسکتا ہے مگر یک طرفہ وعدہ کو عدالت کے ذریعہ جبرا پورا نہیں کرا سکتا ہاں بلاعذر شرعی کے کسی سے وعدہ کرکے جو خلاف ورزی کرے گا وہ شرعا گناہگار ہوگا حدیث میں اس کو عملی نفاق قرار دیا گیا ہے۔
اس آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا یعنی قیامت میں جیسے اور فرائض و واجبات اور احکام الہیہ کے پورا کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہوگا ایسا ہی باہمی معاہدات کے متعلق بھی سوال ہوگا یہاں صرف اتنا کہہ کر چھوڑ دیا گیا کہ اس کا ہوگا آگے سوال کے بعد کیا ہونا ہے اس کو مبہم رکھنے میں خطرہ کے عظیم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
گیارھواں حکم لین دین کے معاملات میں ناپ تول پورا کرنے کی ہدایت اور اس میں کمی کرنے کی ممانعت کا ہے جس کی پوری تفصیل سورة المطففین میں مذکور ہے۔
مسئلہحضرات فقہاء نے فرمایا کہ آیت میں ناپ تول میں کمی کا جو حکم ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس کا جتنا حق ہے اس سے کم دینا حرام ہے اس لئے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی ملازم اپنے مفوضہ اور مقررہ کام میں کمی کرے یا جتنا وقت دینا ہے اس سے کم دے یا مزدور اپنی مزدوری میں کام چوری کرے۔
Ayah 17:35ناپ تول میں کمی کی ممانعت
مسئلہ(آیت) وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے فرمایا کہ اس آیت میں ناپ تول پورا کرنے کی ذمہ داری بائع (بیچنے والے) پر ڈالی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ناپنے تولنے اور اس کو پورا کرنے کا ذمہ دار بائع ہے۔
آخر آیت میں ناپ تول پورا کرنے کے متعلق فرمایا (آیت) ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا اس میں ناپ تول صحیح اور برابر کرنے کے متعلق دو باتیں فرمائیں ایک اس کا خیر (بہتر) ہونا اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسا کرنا اپنی ذات میں اچھا اور بہتر ہے شرعی کے علاوہ عقلی اور طبعی طور پر بھی کوئی شریف انسان ناپ تول کی کمی کو اچھا نہیں سمجھ سکتا دوسری بات یہ فرمائی کہ مآل اور انجام اس کا بہتر ہے جس میں آخرت کا انجام اور حصول ثواب و جنت تو داخل ہے ہی اس کے ساتھ دنیا کے انجام کی بہتری کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کسی تجارت کو اس وقت تک فروغ نہیں ہوسکتا جب تک بازار میں اس کی ساکھ اور اعتبار قائم نہ ہو اور وہ اس تجارتی دیانت کے بغیر نہیں ہو سکتا