Ayah 17:85خلاصہ تفسیر
اور یہ لوگ آپ سے (امتحانا) روح (کی حقیقت) کو پوچھتے ہیں آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ روح (کے متعلق بس اتنا اجمالا سمجھ لو کہ وہ ایک چیز ہے جو) میرے رب کے سے بنی ہے اور (باقی اس کی مفصل حقیقت سو) تم کو بہت تھوڑا علم (بقدر تمہاری فہم اور ضرورت کے) دیا گیا ہے (اور روح کی حقیقت کا معلوم کرنا کوئی ضرورت کی چیز نہیں اور نہ اس کی حقیقت عام طور پر سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے قرآن اس کی حقیقت کو بیان نہیں کرتا)
اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر آپ پر ہم نے وحی بھیجی ہے (اور اس کے ذریعہ آپ کو علم دیا ہے) سب سلب کرلیں پھر اس (وحی) کے (واپس لانے کے لئے) آپ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی بھی نہ ملے گا مگر (یہ) آپ کے رب ہی کی رحمت ہے (کہ ایسا نہیں کیا) بیشک آپ پر اس کا بڑا فضل ہے (مطلب یہ ہے کہ انسان کو روح وغیرہ ہر چیز کی حقیقت کا تو کیا علم ہوتا اس کو جو تھوڑا سا علم بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے وہ بھی اس کی کوئی جاگیر نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو دینے کے بعد بھی سلب کرسکتا ہے مگر وہ اپنی رحمت سے ایسا کرتا نہیں وجہ یہ ہے کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے) آپ فرما دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات کے لئے جمع ہوجاویں کہ ایسا قرآن بنا لاویں تب بھی وہ ایسا نہ کرسکیں گے اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جاوے (یعنی ان میں سے ہر ایک الگ الگ کوشش کر کے تو کیا کامیاب ہوتا سب کے سب ایک دوسرے کی مدد سے کام کر کے بھی قرآن کا مثل نہیں بنا سکتے) اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضمون طرح طرح سے بیان کیے ہیں پھر بھی اکثر لوگ بےانکار کئے نہ رہے۔
معارف و مسائل
آیات صدر میں پہلی آیت میں کفار کی طرف سے روح کے متعلق ایک سوال اور حق تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب مذکور ہے لفظ روح لغات و محاورات میں نیز قرآن کریم میں متعدد معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے معروف و مشہور معنی تو وہی ہیں جو عام طور پر اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں یعنی جان جس سے حیات اور زندگی قائم ہے قرآن کریم میں یہ لفظ جبرئیل امین کے لئے بھی استعمال ہوا ہے نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے لئے بھی کئی آیات میں استعمال ہوا ہے اور خود قرآن کریم اور وحی کو بھی روح کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے (آیت) اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا روح سے مراد کیا ہے
اس لئے یہاں پہلی بات غور طلب یہ ہے کہ سوال کرنے والوں نے روح کا سوال کس معنی کے لحاظ سے کیا تھا بعض حضرات مفسرین نے سیاق وسباق کی رعایت سے یہ سوال وحی اور قرآن یا وحی لانے والے فرشتے جبرئیل کے متعلق قرار دیا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ میں قرآن کا ذکر تھا اور بعد کی آیات میں پھر قرآن ہی کا ذکر ہے اس کے مناسب اس کو سمجھا کہ اس سوال میں بھی روح سے مراد وحی و قرآن یا جبرئیل ہی ہیں اور مطلب سوال کا یہ ہوگا کہ آپ پر وحی کس طرح آتی ہے کون لاتا ہے قرآن کریم نے اس کے جواب میں اس پر اکتفا کیا کہ اللہ کے حکم سے وحی آتی ہے تفصیلات اور کیفیات جن کا سوال تھا وہ نہیں بتلائیں۔
لیکن احادیث صحیحہ مرفوعہ میں جو اس آیت کا شان نزول بتلایا گیا ہے وہ تقریبا اس میں صریح ہے کہ سوال کرنے والوں نے روح حیوانی کا سوال کیا تھا اور مقصد سوال کا روح کی حقیقت معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا چیز ہے بدن انسانی میں کس طرح آتی جاتی ہے اور کس طرح اس سے حیوان اور انسان زندہ ہوجاتا ہے صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک روز رسول کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے غیر آباد حصے میں چل رہا تھا رسول کریم ﷺ کے دست مبارک میں ایک چھڑی کھجور کی شاخ کی تھی آپ کا گذر چند یہودیوں پر ہوا یہ لوگ آپس میں کہنے لگے کہ محمد ﷺ آ رہے ہیں ان سے روح کے متعلق سوال کرو دوسروں نے منع کیا مگر سوال کرنے والوں نے سوال کر ہی ڈالا یہ سوال سن کر رسول کریم ﷺ لکڑی پر ٹیک لگا کر خاموش کھڑے ہوگئے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ پر وحی نازل ہونے والی ہے کچھ وقفہ کے بعد وحی نازل ہوئی تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر سنائی وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ یہاں ظاہر ہے کہ قرآن یا وحی کو روح کہنا یہ قرآن کی ایک خاص اصطلاح تھی ان لوگوں کے سوال کو اس پر محمول کرنا بہت بعید ہے البتہ روح حیوانی و انسانی کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کا سوال ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہی ہے اسی لئے جمہور مفسرین ابن کثیر ابن جریر قرطبی بحر محیط روح المعانی سبھی نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ سوال روح حیوانی و انسانی کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کا سوال ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے اسی لئے جمہور مفسرین ابن کثیر ابن جریر قرطبی بحر محیط روح المعانی سبھی نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ سوال روح حیوانی کی حقیقت سے تھا رہا یہ معاملہ کی سیاق وسباق میں ذکر قرآن کا چلا آیا ہے درمیان میں روح کا سوال جواب بےجوڑ ہے تو اس کا جواب واضح ہے کہ اس سے پہلی آیات میں کفار و مشرکین کی مخالفت اور معاندانہ سوالات کا ذکر آیا ہے جن سے منظور رسول کریم ﷺ کا دربارہ رسالت امتحان کرنا تھا یہ سوال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اس لئے بےجوڑ نہیں خصوصا شان نزول کے متعلق ایک دوسری حدیث صحیح منقول ہے اس میں یہ بات زیادہ وضاحت سے آگئی ہے کہ سوال کرنے والوں کا مطلب رسول کریم ﷺ کی رسالت کا امتحان لینا تھا۔
چنانچہ مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (قریش مکہ جو جا بےجا سوالات رسول کریم ﷺ سے کرتے رہتے تھے ان کو خیال پیدا ہوا کہ یہود تو علم والے ہیں ان کو پچھلی کتابوں کا بھی علم ہے ان سے کچھ سوالات حاصل کئے جاویں جن کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کا امتحان لیا جائے اس لئے قریش نے یہود سے دریافت کرنے کے لئے اپنے آدمی بھیجے انہوں نے کہا کہ تم ان سے روح کے متعلق سوال کرو (ابن کثیر) اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ہی سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہود نے رسول کریم ﷺ سے اپنے سوال میں یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں یہ بتلائیں کہ روح پر عذاب کس طرح ہوتا ہے اس وقت تک رسول کریم ﷺ پر اس بارے میں کوئی بات نازل نہ ہوئی تھی اس لئے اس وقت آپ نے فوری جواب نہیں دیا پھر جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے (آیت) قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ (ابن کثیر ملحضا)
واقعہ سوال مکہ میں پیش آیا یا مدینہ میں
اس سے پہلے ایک بات اور قابل نظر ہے کہ شان نزول کے متعلق جو دو حدیثیں ابن مسعود و ابن عباس کی اوپر نقل کی گئیں ہیں ان میں سے ابن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق یہ واقعہ سوال مدینہ میں پیش آیا اور اسی لئے بعض مفسرین نے اس آیت کو مدنی قرار دیا ہے کہ اگرچہ اکثر حصہ سورة بنی اسرائیل کا مکی ہے اور ابن عباس کی روایت کا تعلق مکہ مکرمہ کے واقعہ سے ہے اس کے مطابق یہ آیت بھی پوری سورت کی طرح مکی باقی رہتی ہے اسی لئے ابن کثیر نے اسی احتمال کو راجح قرار دیا ہے اور ابن مسعود ؓ کی روایت کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اس آیت کا نزول مدینہ میں دوسری مرتبہ ہوا ہو جیسا کہ بہت سی آیات قرآن کا نزول مکرر سب علماء کے نزدیک مسلم ہے اور تفسیر مظہری نے ابن مسعود ؓ کی روایت کو راجح قرار دے کر واقعہ مدینہ کا اور آیت کو مدنی قرار دیا ہے جس کی دو وجہ بتلائیں ایک یہ کہ یہ روایت صحیحین میں ہے اور سند اس کی روایت ابن عباس ؓ سے زیادہ قوی ہے دوسرے یہ کہ اس میں خود صاحب واقعہ ابن مسعود ؓ اپنا واقعہ بیان کر رہے بخلاف روایت ابن عباس ؓ کے کہ اس میں ظاہر یہی ہے کہ ابن عباس ؓ نے یہ بات کسی سے سنی ہوگی ،
سوال مذکور کا جواب
قرآن کریم نے یہ دیا ہے (آیت) قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ اس جواب کی تشریح میں حضرات مفسرین کے کلمات اور تعبیرات مختلف ہیں ان میں سب سے زیادہ اقرب اور واضح وہ ہے جو تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس جواب میں جتنی بات کا بتلانا ضروری تھا اور جو عام لوگوں کی سمجھ میں آنے کے قابل ہے صرف وہ بتلادی گئی اور روح کی مکمل حقیقت جس کا سوال تھا اس کو اس لئے نہیں بتلایا کہ وہ عوام کی سمجھ سے باہر بھی تھی اور ان کی کوئی ضرورت اس کے سمجھنے پر موقوف بھی نہ تھی یہاں رسول کریم ﷺ کو یہ حکم ہوا کہ آپ ان کے جواب میں یہ فرما دیجئے کہ روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے یعنی وہ عام مخلوقات کی طرح نہیں جو مادہ کے تطورات اور توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آتی ہیں بلکہ وہ بلاواسطہ حق تعالیٰ کے حکم کن سے پیدا ہونے والی چیز ہے اس جواب نے یہ تو واضح کردیا کہ روح کو عام مادیات پر قیاس کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور انسان کے لئے اتنا ہی علم روح کے متعلق کافی ہے اس سے زائد علم کے ساتھ اس کا کوئی دینی یا دینوی کام اٹکا ہوا نہیں اس لئے وہ حصہ سوال فضول اور لایعنی قرار دے کر اس کا جواب نہیں دیا گیا خصوصا جبکہ اس کی حقیقت کا سمجھنا عوام کے لئے تو کیا بڑے بڑے حکماء وعقلاء کے لئے بھی آسان نہیں۔
ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سائل کی دینی مصلحت کی رعایت لازم ہے
امام جصاص نے اس جواب سے یہ مسئلہ نکالا کہ مفتی اور عالم کے ذمہ یہ ضروری نہیں کہ سائل کے ہر سوال اور اس کی ہر شق کا جواب ضرور دے بلکہ دینی مصالح پر نظر رکھ کر جواب دینا چاہئے جو جواب مخاطب کے فہم سے بالاتر ہو یا اس کے غلط فہمی میں پڑجانے کا خطرہ ہو تو اس کا جواب نہیں دینا چاہئے اسی طرح بےضرورت یا لایعنی سوالات کا جواب بھی نہیں دینا چاہئے البتہ جس شخص کو کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس کے متعلق اس کو کچھ عمل کرنا لازم ہے اور خود وہ عالم نہیں تو مفتی اور عالم کو اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دینا ضروری ہے (جصاص) امام بخاری نے کتاب العلم میں اس مسئلے کا ایک مستقل ترجمۃ الباب رکھ کر بتلایا ہے کی جس سوال کے جواب سے مغالطہ میں پڑنے کا خطرہ ہو اس کا جواب نہیں دینا چاہئے۔
روح کی حقیقت کا علم کسی کو ہوسکتا ہے یا نہیں
قرآن کریم نے اس سوال کا جواب مخاطب کی ضرورت اور فہم کے مطابق دے دیاحقیقت روح کو بیان نہیں فرمایا مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ روح کی حقیقت کو کوئی انسان سمجھ ہی نہیں سکتا اور یہ کہ خود رسول کریم ﷺ کو بھی اس کی حقیقت معلوم نہیں تھی صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت نہ اس کی نفی کرتی ہے نہ اثبات اگر کسی نبی و رسول کو وحی کے ذریعہ یا کسی ولی کو کشف والہام کے ذریعہ اس کی حقیقت معلوم ہوجائے تو اس آیت کے خلاف نہیں بلکہ عقل و فلسفہ کی رو سے بھی اس پر کوئی بحث و تحقیق کی جائے تو اس کو فضول اور لایعنی تو کہا جائے گا مگر ناجائز نہیں کہا جاسکتا اسی لئے بہت سے علماء متقدمین و متاخرین نے روح کے متعلق مستقل کتابیں لکھی ہیں آخری دور میں ہمارے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک مختصر سے رسالے میں اس مسئلے کو بہترین انداز سے لکھا ہے اور اس میں جس قدر حقیقت سمجھنا عام انسان کے لئے ممکن ہے وہ سمجھا دی ہے جس پر ایک تعلیم یافتہ انسان قناعت کرسکتا ہے اور شبہات و اشکالات سے بچ سکتا ہے۔
فائدہ
امام بغوی نے اس جگہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک مفصل روایت اس طرح نقل فرمائی ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جبکہ مکہ کے قریشی سرداروں نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ محمد ﷺ ہمارے اندر پیدا ہوئے اور جوان ہوئے ان کی امانت و دیانت اور سچائی میں کبھی کسی کو شبہ نہیں ہوا اور کبھی ان کے متعلق جھوٹ بولنے کی تہمت بھی کسی نے نہیں لگائی اور اس کے باوجود اب جو دعویٰ نبوت کا وہ کر رہے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لئے ایسا کرو کہ اپنا ایک وفد مدینہ طیبہ کے علماء یہود کے پاس بھیج کر ان سے ان کے بارے میں تحقیقات کرو چناچہ قریش کا ایک وفد مدینہ علماء یہود کے پاس مدینہ پہنچا علماء یہود نے ان کو مشورہ دیا کہ ہم تمہیں تین چیزیں بتلاتے ہیں تم ان سے ان تینوں کا سوال کرو اگر انہوں نے تینوں کا جواب دے دیاتو وہ نبی نہیں اس طرح تینوں میں سے کسی کا جواب نہ دیا تو بھی نبی نہیں اور اگر دو کا جواب دیا تیسری چیز کا جواب نہ دیا تو سمجھ لو کہ وہ نبی ہیں وہ تین سوال یہ بتلائے کہ ایک تو ان سے ان لوگوں کا حال پوچھو جو قدیم زمانے میں شرک سے بچنے کے لئے کسی غار میں چھپ گئے تھے کیونکہ ان کا واقعہ عجیب ہے دوسرے اس شخص کا حال پوچھو جس نے زمین کے مشرق و مغرب کا سفر طے کیا کہ اس کا کیا واقعہ ہے تیسرے روح کے متعلق دریافت کرو۔
یہ وفد واپس آیا اور تینوں سوال رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کردیئے آپ نے فرمایا کہ میں اس کا جواب تمہیں کل دوں گا مگر اس پر انشاء اللہ نہیں کہا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند روز تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا بارہ پندرہ سے لے کر چالیس دن تک کی مختلف روایات ہیں جن میں سلسلہ وحی بند رہا قریش مکہ کو طعن وتشنیع کا موقع ملا کہ کل جواب دینے کو کہا تھا آج اتنے دن ہوگئے جواب نہیں ملا رسول کریم ﷺ کو بھی پریشانی ہوئی پھر حضرت جبرائیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے (آیت) وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا جس میں آپ کو یہ تلقین کی گئی کہ آئندہ کسی کام کے کرنے کا وعدہ کیا جائے تو انشاء اللہ کہہ کر کیا جائے اور اس کے بعد روح کے متعلق یہ آیت سنائی جو اوپر مذکور ہوئی اور غار میں چھپنے والوں کے متعلق اصحاب کہف کا واقعہ اور مشرق سے مغرب تک سفر کرنے والے ذوالقرنین کا واقعہ جو سورة کہف میں آنے والا ہے اس کی آیات نازل ہوئیں جن میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ جواب میں بیان فرمایا گیا اور روح کے متعلق جس حقیقت کا سوال تھا اس کا جواب نہیں دیا گیا (جس سے یہود کی بتلائی ہوئی علامت صدق نبوت کی ظاہر ہوگئی اس واقعہ کو ترمذی نے بھی مختصرا بیان کیا ہے (مظہری)
سورة حجر کی آیت نمبر 29 نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ کے تحت روح اور نفس وغیرہ کی حقیقت کے متعلق ایک تحقیق بحوالہ تفسیر مظہری پہلے گذر چکی ہے جس میں روح کی اقسام اور ہر ایک کی حقیقت کو کافی حد تک واضح کردیا ہے۔
Ayahs 17:86–87(آیت) وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ پچھلی آیت میں روح کے سوال پر بقدر ضرورت جواب دے کر روح کی حقیقت دریافت کرنے کی کوشش سے کہ کہہ کر روک دیا گیا تھا کہ انسان کا علم کتنا ہی زیادہ ہوجائے مگر حقائق الاشیاء کی ہمہ گیری کے اعتبار سے کم ہی رہتا ہے اس لئے غیر ضروری مباحث اور تحقیقات میں الجھنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے آیت وَلَىِٕنْ شِـئْنَا میں اس طرف اشارہ ہے کی انسان کو جس قدر بھی علم ملا ہے وہ بھی اس کی ذاتی جاگیر نہیں اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بھی سلب کرسکتے ہیں اس لئے اس کو چاہئے کہ موجودہ علم پر اللہ کا شکر ادا کرے اور فضول ولا یعنی تحقیقات میں وقت ضائع نہ کرے خصوصا جبکہ مقصود و تحقیق کرنا بھی نہ ہو بلکہ دوسرے کا امتحان لینا یا اس کو خفیف کرنا مقصود ہو اگر اس نے ایسا کیا تو کچھ بعید نہیں کہ اس کج روی کے نتیجہ میں جتنا علم حاصل ہے وہ سب سلب ہوجائے اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے مگر اصل سنانا امت کو مقصود ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کا علم بھی ان کے اختیار میں نہیں تو دوسروں کا کیا کہنا ہے۔
Ayah 17:88(آیت) قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ یہ مضمون قرآن مجید کی چند آیات میں آیا ہے جس میں پوری دنیائے انسان کو خطاب کر کے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اگر تم قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتے بلکہ کسی انسان کا بنایا ہوا مانتے ہو تو پھر تم بھی انسان ہو اس کی مثال بنا کر دکھلا دو اس آیت میں اس دعوی کے ساتھ یہ بھی فرما دیا گیا کہ صرف انسان نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ ملا لو اور پھر تم سب مل کر قرآن کی ایک سورت بلکہ ایک آیت کی مثال بھی نہ بنا سکو گے۔
اس مضمون کا اس جگہ پر اعادہ ممکن ہے کہ یہ بتلانے کے لئے ہو کہ تم جو ہمارے رسول سے مختلف قسم کے سوالات روح وغیرہ کے متعلق ان کی رسالت و نبوت کی آزمائش کے لئے کرتے ہو کیوں ان فضول قصوں میں پڑے ہو خود قرآن کریم کو دیکھ لو تو آپ کی نبوت و رسالت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ جب ساری دنیا کے جن و انس اس کی ادنی سی مثال بنانے سے عاجز ہیں تو اس کے کلام الہی ہونے میں کیا شبہ رہتا ہے اور جب قرآن کریم کا کلام الہی ہونا اس بداہت سے ثابت ہوگیا تو آپ کی نبوت و رسالت میں کسی شبہ کی کیا گنجائش رہتی ہے۔
Ayah 17:89آخری آیت وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا میں یہ بتلا دیا کہ اگرچہ قرآن کریم کا معجزہ اتنا کھلا ہوا ہے کہ اس کے بعد کسی سوال اور شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی مگر ہو یہ رہا ہے کہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے نعمت قرآن کی بھی قدر نہیں پہچانتے اس لئے گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
Ayahs 17:90–93خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں کفار کے چند سوالات اور ان کے جوابات ذکر کئے گئے ہیں مذکور الصدر آیات میں ان کے چند معاندانہ سوالات اور بےسروپا فرمائشوں کا ذکر اور ان کا جواب ہے (اخرجہ ابن جریر عن ابن عباس) اور یہ لوگ (باوجود اس کے کہ اعجاز قرآنی کے ذریعے آپ کی نبوت و رسالت کا کافی اور واضح ثبوت ان کو مل چکا پھر بھی از راہ عناد ایمان نہیں لاتے اور یہ بہانے کرتے ہیں کہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہ لاویں گے جب تک آپ ہمارے لئے (مکہ کی) زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں یا خاص آپ کے لئے کھجور اور انگور کا کوئی باغ نہ ہو پھر اس باغ کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں آپ جاری کردیں یا جیسا آپ کہا کرتے ہیں آپ آسمان کے ٹکڑے ہم پر نہ گراویں (جیسا کہ اس آیت قرآن میں ارشاد ہے (آیت) اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ (یعنی ہم چاہیں تو ان کو زمین کے اندر دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں) یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے نہ لاکھڑا کردیں (کہ ہم کھلم کھلا دیکھ لیں) یا آپ کے پاس کوئی سونے کا بنا ہوا گھر نہ ہو یا آپ آسمان پر (ہمارے سامنے) نہ چڑھ جاویں اور ہم تو آپ کے (آسمان پر) چڑھنے کا کبھی بھی یقین نہ کریں گے جب تک کہ (وہاں سے) آپ ہمارے پاس ایک کتاب نہ لاویں جس کو ہم پڑھ بھی لیں (اور اس میں آپ کے آسمان پر پہنچنے کی تصدیق بطور رسید لکھی ہوئی ہو) آپ (ان سب خرافات کے جواب میں) فرما دیجئے کہ سبحان اللہ میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں (مگر) پیغمبر ہوں اور کیا ہوں (کہ ان فرمائشوں کو پورا کرنا میری قدرت میں ہو یہ قدرت مطلقہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے بشریت اپنی ذات میں خود عجز و بےاختیاری کو مقتضی ہے رہا رسالت کا معاملہ تو وہ بھی اس کو متقضی نہیں ہے کہ اللہ کے رسول کو ہر چیز کا مکمل اختیار ہو بلکہ نبوت و رسالت کے لئے تو اتنی بات کافی ہے کہ رسالت کی کوئی صاف واضح دلیل آ جاوے جس پر اہل عقل کو اعتراض نہ ہو سکے اور وہ دلیل اعجاز قرآنی اور دوسرے معجزات کی صورت میں بارہا پیش کی جا چکی ہے اس لئے نبوت و رسالت کے لئے ان فرمائشوں کا مطالبہ کا حق نہیں جس چیز کو وہ حکمت کے مطابق دیکھتے ہیں ظاہر بھی کردیتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ تمہاری سب فرمائشیں پوری کریں اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت (یعنی رسالت کی صحیح دلیل مثل اعجاز قرآن کے) پہنچ چکی اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی (قابل التفات) بات مانع نہیں ہوئی کہ انہوں نے (بشریت کو رسالت کے منافی سمجھا اس لئے کہا) کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے (یعنی ایسا نہیں ہو سکتا) آپ (جواب میں ہماری طرف سے) فرما دیجئے کہ اگر زمین پر فرشتے (رہتے) ہوتے کہ اس پر چلتے بستے تو ہم البتہ ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے۔
معارف و مسائل
بے سروپا معاندانہ سوالات کا پیغمبرانہ جواب
آیات مذکورہ میں جو سوالات اور فرمائشیں رسول کریم ﷺ سے اپنے ایمان لانے کی شرط قرار دے کر کی گئیں وہ سب ایسی ہیں کہ ہر انسان ان کو سن کر ایک قسم کا تمسخر اور ایمان نہ لانے کا بیہودہ بہانے کے سوا کچھ نہیں سمجھ سکتا ایسے سوالات کے جواب میں انسان کو فطرۃ غصہ آتا ہے اور جواب بھی اسی انداز کا دیتا ہے مگر ان آیات میں ان کے بیہودہ سوالات کا جو جواب حق تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو تلقین فرمایا وہ قابل نظر اور مصلحین امت کے لئے ہمیشہ یاد رکھنے اور لائحہ عمل بنانے کی چیز ہے کہ ان سب کے جواب میں نہ ان کی بےوقوفی کا اظہار کیا گیا نہ ان کی معاندانہ شرارت کا نہ ان پر کوئی فقرہ کسا گیا بلکہ نہایت سادہ الفاظ میں اصل حقیقت کو واضح کردیا گیا کہ تم لوگ شاید یہ سمجھتے ہو کہ جو شخص خدا کا رسول ہو کر آئے اسے سارے خدائی اختیارات کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہونا چاہئے یہ تخیل غلط ہے رسول کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے اللہ تعالیٰ ان کی رسالت کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے معجزات بھی بھیجتے ہیں مگر وہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت و اختیار سے ہوتا ہے رسول کو خدائی کے اختیارات نہیں ملتے وہ ایک انسان ہوتا ہے اور انسان قوت وقدرت سے باہر نہیں ہوتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کی امداد کے لئے اپنی قوت قاہرہ کو ظاہر فرما دیں۔
Ayah 17:94اللہ کا رسول انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتے انسانوں کی طرف رسول نہیں ہو سکتے
عام کفار و مشرکین کا خیال تھا کہ بشر یعنی آدمی اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تو ہماری طرح تمام حوائج انسانی کا عادی ہوتا ہے پھر اس کو ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے کہ ہم اس کو اللہ کا رسول سمجھیں اور اپنا مقتدا بنالیں ان کے اس خیال کا جواب قرآن کریم میں کئی جگہ مختلف عنوانات سے دیا گیا ہے یہاں آیت مَا مَنَعَ النَّاس میں جو جواب دیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا رسول جن لوگوں کی طرف بھیجا جائے وہ انھیں کی جنس میں سے ہونا ضروری ہے اگر یہ آدمی ہیں تو رسول بھی آدمی ہونا چاہئے کیونکہ غیر جنس کے ساتھ باہم مناسبت نہیں ہوتی اور بلا مناسبت کے رشد و ہدایت کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا اگر آدمیوں کی طرف کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیں جو نہ بھوک کو جانتا ہے نہ پیاس کو نہ جنسی خواہشات کو نہ سردی گرمی کے احساس کو نہ اس کو کبھی محنت سے تکان لاحق ہوتا ہے تو وہ انسانوں سے بھی ایسے ہی عمل کی توقع رکھتا ہے ان کی کمزوری و مجبوری کا احساس نہ کرتا اسی طرح انسان جب یہ سمجھتے کہ یہ تو فرشتہ ہے ہم اس کے کاموں کی نقل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تو اس کا اتباع خاک کرتے یہ فائدہ اصلاح اور رشد و ہدایت کا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ کا رسول ہو تو جنس بشر سے جو تمام انسانی جذبات اور طبعی خواہشات کا خود بھی حامل ہو مگر ساتھ ہی اس کو ایک شان ملکیت کی بھی حاصل ہو کہ عام انسانوں اور فرشتوں کے درمیان واسطہ اور رابطہ کا کام کرسکے وحی لانے والے فرشتوں سے وحی حاصل کرے اور اپنے ہم جنس انسانوں کو پہونچائے۔
اس تقریر سے یہ شبہ بھی دور ہوگیا کہ جب انسان فرشتہ سے فیض حاصل نہیں کرسکتا تو پھر رسول باوجود انسان ہونے کے کس طرح ان سے فیض وحی حاصل کرسکے گا۔
رہا یہ شبہ کہ جب رسول کریم ﷺ اور امت میں مجانست شرط ہے پھر رسول کریم ﷺ کو جنات کا رسول کس طرح بنایا گیا جنات تو انسان کے ہم جنس نہیں تو جواب یہ ہے کہ رسول صرف انسان نہیں بلکہ اس میں ایک شان ملکیت کی بھی ہوتی ہے اس کی وجہ سے جنات کو بھی مناسبت ان سے ہو سکتی ہے۔
Ayah 17:95آخر آٰیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ تم انسان ہونے کے باوجود جو یہ مطالبہ کرتے ہو کہ ہمارا رسول فرشتہ ہونا چاہئے یہ مطالبہ تو نامعقول ہے البتہ اگر اس زمین پر فرشتے آباد ہوتے اور ان کی طرف رسول بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو فرشتہ ہی کو رسول بنایا جاتا اس میں جو زمین پر بسنے والے فرشتوں کا یہ وصف ذکر کیا گیا ہے کہ يَمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ یعنی وہ فرشتے زمین پر مطمئن ہو کر چلتے پھرتے اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کی طرف فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجنے کی ضرورت اسی وقت ہو سکتی تھی جبکہ زمین کے فرشتے خود آسمان پر نہ جاسکتے بلکہ زمین ہی پر چلتے پھرتے رہتے ورنہ اگر وہ خود آسمان پر جانے کی قدرت رکھتے تو زمین پر رسول بھیجنے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔
Ayahs 17:96–99خلاصہ تفسیر
جب یہ لوگ رسالت و نبوت کی دلائل واضحہ آجانے اور تمام شبہات دور ہوجانے کے بعد بھی نہیں مانتے تو) آپ (آخری بات) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے تمہارے درمیان (کے اختلاف میں) کافی گواہ ہے (یعنی خدا جانتا ہے کہ میں واقع میں اللہ کا رسول ہوں کیونکہ) وہ اپنے بندوں (کے احوال) کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے (تمہارے عناد کو بھی دیکھتا ہے) اور اللہ جس کو راہ پر لاوے وہ ہی راہ پر آتا ہے اور جس کو بےراہ کر دے تو خدا کے سوا آپ کسی کو بھی ایسوں کا مددگار نہ پاویں گے (اور بوجہ کفر کے یہ خدا کی مدد سے محروم رہے مطلب یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے دست گیری نہ ہو نہ ہدایت ہو سکتی ہے نہ عذاب سے نجات) اور ہم قیامت کے روز ان کو اندھا گونگا بہرہ کر کے منہ کے بل چلائیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے (جس کی یہ کیفیت ہوگی کہ) وہ (یعنی دوزخ کی آگ) جب ذرا دھیمی ہونے لگے گی اس وقت ہم ان کے لئے اور زیادہ بھڑکا دیں گے یہ ہے ان کی سزاء اس سبب سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا اور یوں کہا تھا کہ کیا ہم ہڈیاں اور (وہ بھی) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاویں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کر کے (قبروں سے اٹھائے جاویں گے کیا ان لوگوں کو اتنا معلوم نہیں کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کئے وہ اس بات پر (بدرجہ اولی) قادر ہے کہ وہ ان جیسے آدمی دوبارہ پیدا کر دے اور (منکرین کو شاید یہ وسوسہ ہو کہ ہزاروں لاکھوں مر گئے مگر اب تک تو یہ وعدہ دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کا پورا ہوا نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے (دوبارہ پیدا کرنے کے) لئے ایک میعاد معین کر رکھی ہے کہ اس میعاد (معین کے آنے) میں ذرا شک نہیں اس پر بھی ظالم لوگ بےانکار کئے نہ رہے آپ فرما دیجئے کہ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کے خزانوں (یعنی کمالات) کے مختار ہوتے (کہ جس کو چاہتے دیتے جس کو چاہتے نہ دیتے) تو اس صورت میں تم (اس کے) خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ہاتھ روک لیتے (کبھی کسی کو نہ دیتے حالانکہ یہ چیز کسی کو دینے سے گھٹتی بھی نہیں) اور آدمی ہے بڑا تنگدل (کہ نہ گھٹنے والی چیز کو بھی عطا کرنے سے دریغ کرتا ہے جس کی وجہ رسولوں سے عداوت اور بخل کے علاوہ شاید یہ بھی ہو کہ اگر کسی کو نبی اور رسول بنا لیا تو پھر اس کے احکام کی پابندی کرنا پڑے گی جیسے کوئی قوم باہم اتفاق کر کے کسی کو اپنا بادشاہ بنا لے تو گو بنایا انہوں نے ہے مگر جب وہ بادشاہ بن گیا تو اس کی اطاعت کرنی پڑتی ہے)
Ayah 17:100معارف و مسائل
آخری آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوجاؤ تو بخل کرو گے کسی کو نہ دو گے اس خطرہ سے کہ اگر لوگوں کو دیتے رہے تو یہ خزانہ ختم ہوجائے گا اگرچہ رحمت رب کا خزانہ ختم ہونے والا نہیں مگر انسان اپنی طبیعت سے تنگ دل کم حوصلہ ہوتا ہے اس کو فراخی کے ساتھ لوگوں کے دینے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
اس میں خزائن رحمت رب کے لفظ سے عام مفسرین نے مال و دولت کے خزائن مراد لئے ہیں اور اس کا ربط ماسبق سے یہ ہے کہ کفار مکہ نے اس کی فرمائش کی تھی کہ اگر آپ واقعی نبی حق ہیں تو آپ اس مکہ کے خشک ریگستان میں نہریں جاری کر کے اس کو سرسبز باغات میں منتقل کردیں جیسا ملک شام کا خطہ ہے جس کا جواب پہلے آ چکا ہے کہ تم نے تو گویا مجھے خدا ہی سمجھ لیا کہ خدائی کے اختیارات کا مجھے مطالبہ کر رہے ہو میں تو صرف ایک رسول ہوں خدا نہیں کہ جو چاہوں کر دوں یہ آیت بھی اگر اسی کے متعلق قرار دی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ سر زمین مکہ کو نہری زمین اور سبزہ زار بنانے کی فرمائش اگر میری نبوت و رسالت کے امتحان کے لئے ہے تو اس کے لئے اعجاز قرآن کا معجزہ کافی ہے دوسری فرمائشوں کی ضرورت نہیں اور اگر اپنی قومی اور ملکی ضرورت رفع کرنے کے لئے ہے تو یاد رکھو کہ اگر تمہاری فرمائش کے مطابق تمہیں زمین مکہ میں سب کچھ دے بھی دیا جائے اور خزائن کا مالک تمہیں بنادیا جائے تو اس کا انجام بھی قومی اور ملک کے عوام کی خوشحالی نہیں ہوگی بلکہ انسانی عادت کے مطابق جن کے قبضہ میں یہ خزائن آ جاویں گے وہ ان پر سانپ بن کر بیٹھ جاویں گے عوام پر خرچ کرتے ہوئے افلاس کا خوف ان کو مانع ہوگا ایسی صورت میں بجز اس کے کہ مکہ کے چند رئیس اور زیادہ امیر اور خوشحال ہوجائیں عوام کا کیا فائدہ ہوگا اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مفہوم قرار دیا ہے۔
سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی نے بیان القرآن میں اس جگہ رحمت رب سے مراد نبوت و رسالت اور خزائن رحمت سے مراد کمالات نبوت لئے ہیں اس تفسیر کے مطابق اس کا ربط آیات سابقہ سے یہ ہوگا کہ تم جو نبوت و رسالت کے لئے بےسروپا اور بیہودہ مطالبات کر رہے ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ میری نبوت کو ماننا نہیں چاہتے تو کیا پھر تمہاری خواہش یہ ہے کہ نبوت کا نظام تمہارے ہاتھوں میں دے دیا جائے جس کو چاہو نبی بنالو اگر ایسا کرلیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کسی کو بھی نبوت و رسالت نہ دو گے بخل کر کے بیٹھ جاؤ گے حضرت نے اس تفسیر کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ یہ تفسیر مواہب الہیہ میں سے کہ مقام کے ساتھ نہایت چسپاں ہے اس میں نبوت کو رحمت کے ساتھ تعبیر کرنا ایسا ہی ہوگا۔ جیسا (آیت) اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ میں بالاجماع رحمت سے مراد نبوت ہی ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 17:101–108خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے زبان سے اقرار نہیں کرتا) کہ یہ عجائبات خاص آسمان اور زمین کے پروردگار ہی نے بھیجے ہیں جو کہ بصیرت کے لئے (کافی) ذرائع ہیں اور میرے خیال میں ضرور تیری کمبختی کے دن آگئے ہیں (اور یا تو فرعون کی یہ حالت تھی کہ موسیٰ ؑ کی درخواست پر بھی بنی اسرائیل کو مصر سے جانے کی اجازت نہ دیتا تھا اور) پھر (یہ ہوا کہ) اس نے (اس احتمال سے کہ کہیں بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کے اثر سے قوت نہ پکڑ جاویں خود ہی) چاہا کہ بنی اسرائیل کا اس سر زمین سے قدم اکھاڑ دے (یعنی ان کو شہر بدر کردے) سو ہم نے (قبل اس کے کہ وہ کامیاب ہو خود) اس (ہی) کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا اور اس (کے غرق کرنے) کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہہ دیا کہ (اب) تم اس سر زمین (کے جہاں سے تم کو نکالنا چاہتا تھا مالک ہو تم ہی اس) میں رہو سہو (خواہ بالقوہ یا بالفعل مگر یہ مالکیت حیوۃ دنیا تک ہے) پھر جب آخرت کا وعدہ آ جاوے گا تو ہم سب کو جمع کر کے (قیامت کے میدان میں مملوکانہ محکومانہ) لاکر حاضر کریں گے (یہ ابتدا میں ہوگا پھر مومن و کافر اور نیک و بد کو الگ الگ کردیا جاوے گا) اور (جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو معجزے دیئے اسی طرح آپ کو بھی بہت سے معجزات دیئے جن میں عظیم الشان معجزہ قرآن ہے کہ) ہم نے اس قرآن کو راستی ہی کے ساتھ تو نازل کیا اور وہ راستی ہی کے ساتھ (آپ پر) نازل ہوگیا (یعنی جیسا کاتب کے پاس سے چلا تھا اسی طرح مکتوب الیہ تک پہنچ گیا اور درمیان میں کوئی تغیر و تبدل و تصرف نہیں ہوا پس سر تا سر راستی ہی راستی ہے) اور (جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کو پیغمبر بنایا تھا اور ہدایت ان کے اختیار میں نہ تھی اسی طرح) ہم نے آپ کو (بھی) صرف (ایمان پر ثواب کی) خوشی سنانے والا اور (کفر پر عذاب سے) ڈرانیوالا بنا کر بھیجا ہے (اگر کوئی ایمان نہ لاوے کچھ غم نہ کیجئے) اور قرآن (میں صفت راستی کے ساتھ بمتقضائے رحمت اور بھی ایسے صفات کی رعایت کی گئی ہے کہ اس سے ہدایت زیادہ آسان ہو چناچہ ایک تو یہ کہ اس) میں ہم نے (آیات وغیرہ کا) جا بجا فصل رکھا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں (جس میں وہ اچھی طرح سمجھ سکیں کیونکہ تقریر طویل مسلسل بعض اوقات ضبط میں نہیں آتی) اور (دوسرے یہ کہ) ہم نے اس کو اتارنے میں بھی (حسب واقعات) تدریجا اتارا (تاکہ معانی کا خوف انکشاف ہو اب ان سب امور کا مقتضا یہ تھا کہ یہ لوگ ایمان لے آتے لیکن اس پر بھی ایمان نہ لاویں تو آپ کچھ پروا نہ کیجئے بلکہ صاف) کہہ دیجئے کہ تم اس قرآن پر خواہ ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ (مجھ کو کوئی پرواہ نہیں دو وجہ سے اول تو یہ کہ میرا کیا ضرر کیا۔ دوسرے یہ کہ تم ایمان نہ لائے تو کیا ہوا دوسرے لوگ ایمان لے آئے چنانچہ) جن لوگوں کو قرآن (کے نزول) سے پہلے (دین کا) علم دیا گیا تھا (یعنی منصف علماء اہل کتاب) یہ قرآن جب ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا رب (وعدہ خلافی سے) پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا ہی ہوتا ہے (سو جس کتاب کا جس نبی پر نازل کرنے کا وعدہ کتب سابقہ میں کیا تھا اس کو پورا فرما دیا اور ٹھوڑیوں کے بل (جو) گرتے ہیں (تو) روتے ہوئے (گرتے ہیں) اور یہ قرآن (یعنی اس کا سننا) ان کا (دلی) خشوع اور بڑھا دیتا ہے (کیونکہ ظاہر و باطن کا توافق کیفیت کو قوی کردیتا ہے)
معارف و مسائل
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ اس میں حضرت موسیٰ ؑ کو نو آیات بینات عطا فرمانے کا ذکر ہے آیت کا لفظ معجزے کے معنی میں آتا ہے اور آیات قرآن یعنی احکام الہیہ کے معنی میں بھی اس جگہ دونوں معنی کا احتمال ہے اسی لئے ایک جماعت مفسرین نے اس جگہ آیات سے مراد معجزات لئے ہیں اور نو کے عدد سے یہ ضروری نہیں کہ نو سے زائد نہ ہوں مگر اس جگہ نو کا ذکر کسی خاص اہمیت کی بناء پر کیا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ نو معجزات اس طرح شمار فرمائے ہیں (1) عصاء موسیٰ جو اژدھا بن جاتی تھی (2) یدبیضا جس کو گریبان میں ڈال کر نکالنے سے چمکنے لگتا تھا (3) زبان میں لکنت تھی وہ دور کردی گئی (4) بنی اسرائیل کے دریا پار کرنے کے لئے دریا کو پھاڑ کر اس کے دو حصے الگ کردیئے اور راستہ دے دیا (5) ٹڈی دل کا عذاب غیر معمولی صورت میں بھیج دیا گیا (6) طوفان بھیج دیا گیا (7) بدن کے کپڑوں میں بیحد جوئیں پیدا کردی گئیں جن سے بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا (8) مینڈکوں کا ایک عذاب مسلط کردیا گیا کہ ہر کھانے پینے کی چیز میں مینڈک آجاتے تھے (9) خون کا عذاب بھیجا گیا کہ ہر برتن اور کھانے پینے میں خون مل جاتا تھا۔
اور ایک صحیح حدیث کے مضمون سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آیات سے مراد احکام الہیہ ہیں یہ حدیث ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ میں بسند صحیح حضرت صفوان بن عسال ؓ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ مجھے اس نبی کے پاس لے چلو ساتھی نے کہا کہ نبی نہ کہو اگر ان کو خبر ہوگئی کہ ہم بھی ان کو نبی کہتے ہیں تو ان کی چار آنکھیں ہوجاویں گی یعنی ان کو فخر و مسرت کا موقع مل جاوے گا پھر یہ دونوں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ موسیٰ ؑ کو جو نو آیات بینات دی گئی تھیں وہ کیا ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو (2) چوری نہ کرو (3) زنا نہ کرو (4) جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو (5) کسی بےگناہ پر جھوٹا الزام لگا کر قتل و سزاء کے لئے پیش نہ کرو (6) جادو نہ کرو (7) سود نہ کھاؤ (8) پاک دامن عورت پر بدکاری کا بہتان نہ باندھو (9) میدان جہاد سے جان بچا کر نہ بھاگو اور اے یہود خاص کر تمہارے لئے یہ بھی حکم ہے کہ یوم سبت (ہفتہ) کے جو خاص احکام تمہیں دیئے گئے ان کی خلاف ورزی نہ کرو۔
رسول کریم ﷺ سے یہ بات سن کر دونوں نے آنحضرت محمد ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر تمہیں میرا اتباع کرنے سے کیا چیز روکتی ہے کہنے لگے کہ حضرت داؤد ؑ نے اپنے رب سے یہ دعا کی تھی کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ نبی ہوتے رہیں اور ہمیں خطرہ ہے کہ اگر ہم آپ کا اتباع کرنے لگیں تو یہود ہمیں قتل کردیں گے چونکہ یہ تفسیر صحیح حدیث سے ثابت ہے اس لئے بہت سے مفسیرین نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 17:109(آیت) يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا تفسیر مظہری میں ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت رونا مستحب ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جہنم میں نہ جاوے گا وہ شخص جو اللہ کے خوف سے رویا جب تک کہ دوہا ہوا دودھ دوبارہ تھنوں میں واپس نہ لوٹ جائے (یعنی جیسے یہ نہیں ہوسکتا کہ تھنوں سے نکالا ہوا دودھ پھر تھنوں میں واپس ڈال دیا جائے اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اللہ کے خوف سے رونے والا جہنم میں چلا جائے اور ایک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام کردی ایک وہ جو اللہ کے خوف سے روئے دوسرے جو اسلامی سرحد کی حفاظت کے لئے رات کو بیدار رہے (بیہقی و حاکم و صحیحہ) اور حضرت نضر بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس قوم میں کوئی اللہ کے خوف سے رونے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو اس کی وجہ سے آگ سے نجات عطا فرماویں گے (روح عن الحکیم الترمذی)
آج سب سے بڑی مصیبت جو مسلمانوں پر پڑی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ ان میں خدا کے خوف سے رونے والے بہت کم رہ گئے صاحب روح المعانی اس موقع پر خدا کے خوف سے رونے کے فضائل کی احادیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں وینبغی ان یکون ذلک حال العلماء۔ یعنی علماء دین کا یہی حال ہونا چاہئے کیونکہ ابن جریر ابن منذر وغیرہ نے عبد الاعلیٰ تیمی کا یہ مقولہ نقل کیا ہے۔
جس شخص کو صرف ایسا علم ملا ہو جو اس کو رلاتا نہیں تو سمجھ لو کہ اس کو علم نافع نہیں ملا۔
Ayah 17:110خلاصہ تفسیر
آپ فرما دیجئے کہ خواہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی پکارو گے (تو بہتر ہے کیونکہ) اس کے بہت سے اچھے اچھے نام ہیں (اور اس کا شرک سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ ایک ہی ذات کے کئی نام ہونے سے اس کی توحید میں کوئی فرق نہیں آتا) اور اپنی جہری نماز میں نہ تو بہت پکار کر پڑھیے (کہ مشرکین سنیں اور خرافات بکیں اور نماز میں قلب مشوش ہو) اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھئیے (کہ مقتدی نمازیوں کو بھی سنائی نہ دے کیونکہ اس سے ان کی تعلیم و تربیت میں کمی آتی ہے) اور دونوں کے درمیان ایک (متوسط) طریقہ اختیار کرلیجئے (تاکہ مصلحت فوت نہ ہو اور مضرت پیش نہ آئے) اور (کفار پر رد کرنے کے لئے علی الا علان) کہہ دیجئے کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے (خاص) ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اس کا کوئی شریک سلطنت ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائی بیان کیا کیجئے۔
معارف و مسائل
یہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیات ہیں اس سورت کے شروع میں بھی حق تعالیٰ کی تنزیہیہ اور توحید کا بیان تھا ان آخری آیات میں بھی اسی پر ختم کیا جا رہا ہے ان آیتوں کا نزول چند واقعات کی بناء پر ہوا اول یہ کہ آنحضرت محمد ﷺ نے ایک روز دعا میں یا اللہ اور یارحمن کہہ کر پکارا تو مشرکین نے سمجھا کہ یہ دو خداؤں کو پکارتے ہیں اور کہنے لگے کہ ہمیں تو ایک کے سوا کسی اور کو پکارنے سے منع کرتے ہیں اور خود دو معبودوں کو پکارتے ہیں اس کا جواب آیت کے پہلے حصہ میں دیا گیا ہے کہ اللہ جل شانہ کے دو ہی نہیں اور بھی بہت سے اچھے اچھے نام ہیں کسی نام سے بھی پکاریں مراد ایک ہی ذات ہے تمہارا وہم غلط ہے۔
دوسرا قصہ یہ ہے کہ جب مکہ مکرمہ میں رسول کریم ﷺ نماز میں بلند آواز سے تلاوت قرآن فرماتے تو مشرکین تمسخر و استہزاء کرتے اور قرآن اور جبرائیل امین اور خود حق تعالیٰ کی شان میں گستاخانہ باتیں کہتے تھے اس کے جواب میں اسی آیت کا آخری حصہ نازل ہوا جس میں آپ کو جہر و اخفاء میں میانہ روی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی کہ ضرورت تو اس درمیانہ آواز سے پوری ہوجاتی ہے اور زیادہ بلند آواز سے جو مشرکین کو موقع ایذاء رسانی کا ملتا تھا اس سے نجات ہو۔
تیسرا قصہ یہ ہے کہ یہود و نصاری اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد قرار دیتے تھے اور عرب بتوں کو اللہ کا شریک کہتے تھے اور صابی اور مجوسی کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے مخصوص مقرب نہ ہوں تو اس کی قدر و عزت میں کمی آ جاوے ان تینوں فرقوں کے جواب میں آخری آیت نازل ہوئی جس میں تینوں چیزوں کی نفی ذکر کی گئی ہے۔
دنیا میں جس سے مخلوق کو کسی قدر قوت پہنچا کرتی ہے وہ کبھی تو اپنے سے چھوٹا ہوتا ہے جیسے اولاد اور کبھی اپنے برابر ہوتا ہے جیسے شریک اور کبھی اپنے سے بڑا ہوتا ہے جیسے حامی و مددگار حق تعالیٰ نے اس آیت میں بہ ترتیب تینوں کی نفی فرما دی۔
مسئلہآیت مذکورہ میں نماز کے اندر تلاوت کرنے کا یہ ادب بتلایا گیا ہے کہ بہت بلند آواز سے ہو نہ بہت آہستہ جس کو مقتدی نہ سن سکیں یہ حکم ظاہر ہے کہ جہری نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے ظاہر اور عصر کی نمازوں میں تو بالکل اخفاء ہونا سنت متواترہ سے ثابت ہے۔
جہری نماز میں مغرب عشاء اور فجر کے فرض بھی داخل ہیں اور نماز تہجد بھی جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نماز تہجد کے وقت سیدنا صدیق اکبر ؓ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کے پاس سے گذرے تو صدیق اکبر تلاوت آہستہ کر رہے تھے اور فاروق اعظم خوب بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے رسول ﷺ نے حضرت صدیق سے فرمایا کہ آپ ایسا آہستہ کیوں پڑھتے ہیں صدیق اکبر ؓ نے عرض کیا کہ مجھے جس کو سنانا تھا اس کو سنا دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر خفی سے خفی آواز کو بھی سنتے ہیں آپ نے فرمایا کہ کسی قدر جہر سے پڑھا کرو پھر عمر بن خطاب ؓ سے فرمایا کہ آپ اتنی بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ میں نیند اور شیطان کو دفع کرنے لئے بلند آواز سے پڑھتا ہوں آپ نے ان کو بھی یہ حکم دیا کہ کچھ پست آواز سے پڑھا کرو (ترمذی از مظہری)
نماز اور غیر نماز میں تلاوت قرآن کو جہر سے اور اخفاء سے ادا کرنے کے متعلقہ مسائل سورة اعراف میں بیان ہوچکے ہیں آخری آیت قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ کے متعلق حدیث میں ہے کہ آیت عزت یہ آیت ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ الخ (رواہ احمد و الطبرانی عن معاذ الجہنی کذا فی المظہری) اس آیت میں یہ ہدایت بھی ہے کہ کوئی انسان کتنی ہی اللہ کی عبادت اور تسبیح و تمحید کرے اپنے عمل کو اس کے حق کے مقابلہ میں کم سمجھنا اور قصور کا اعتراف کرنا اس کے لئے لازم ہے (مظہری)
Ayah 17:111اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ بنی عبد المطلب میں جب کوئی بچہ زبان کھولنے کے قابل ہوجاتا تو اس کو آپ یہ آیت سکھا دیتے تھے (آیت) وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا (مظہری)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں ایک روز میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ باہر نکلا اس طرح کہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ کا گذر ایک ایسے شخص پر ہوا جو بہت شکستہ حال اور پریشان تھا آپ نے پوچھا کہ تمہارا یہ حال کیسے ہوگیا اس شخص نے عرض کیا کہ بیماری اور تنگدستی نے یہ حال کردیا آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں چند کلمات بتلاتا ہوں وہ پڑھو گے تو تمہاری بیماری اور تنگدسی جاتی رہے گی وہ کلمات یہ تھے۔
(توکلت علی الحی الذی لا یموت الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا الآیۃ) اس کے کچھ عرصہ بعد پھر آپ اس طرف تشریف لے گئے تو اس کو اچھے حال میں پایا آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا اس نے عرض کیا کہ جب سے آپ نے مجھے یہ کلمات بتلائے تھے میں پابندی سے ان کو پڑھتا ہوں (ابویعلی و ابن سنی از مظہری) تم تفسیر سورة بنی اسرائیل بعون اللہ وحمدہ بعد العشاء لعاشر جمادی الاولی 1990 ھ فالحمد اللہ اولہ واخرہ۔
عرض حال از مؤ لف
آج 29 شعبان 1390 ھ یوم السبت میں بحمد اللہ معارف القرآن کے مسودہ پر نظر ثانی بھی مکمل ہوگئی ہے اب یہ نصف قرآن کریم کی تفسیر حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پوری کرا دی جس کی بظاہر اسباب کوئی امید نہیں تھی کیونکہ رمضان 1388 ھ کے آخر میں یہ ناکارہ ایسے مختلف امراض میں مبتلا ہوا کہ تقریبا ایک سال تو بستر ہی پر موت وحیات کی کشمکس میں گذرا اس وقت مجبوری و معذوری کے عالم میں بار بار یہ حسرت ہوتی تھی کہ بعض تصانیف کے مسودات جو قریب تکمیل تھے کاش ان کی تکمیل ہوجاتی معارف القرآن کے نام سے جو درس قرآن عرصہ دراز تک ریڈیو پاکستان سے نشر ہوتا رہا بہت سے دوستوں کے تقاضہ سے اس پر نظر ثانی اور درمیان سے باقی رہی ہوئی آیات کی تفسیر تکمیل کا جو سلسلہ چل رہا تھا کسی طرح اس کی تکمیل ہوجاتی اسی طرح سیدی حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے قرآن کریم کی دو منزلیں پانچویں اور چھٹی کے احکام القرآن بزبان عربی لکھنے کے لئے احقر کو مامور فرمایا تھا اس کا بھی آخری حصہ لکھنے سے باقی رہ گیا تھا موت وحیات کی کشمکش اٹھنے بیٹھنے سے معذوری ہی کے عالم میں شاید اس حسرت نایافت کی شنوائی بارگاہ رب العزت میں ہوگئی اور یہ خیال غالب آیا کہ جو کچھ جتنا بن پڑے وہ کام کرلیا جائے یہ فکر چھوڑ دی جائے کہ جو رہ جائے گا اس کا کیا ہوگا اس خیال نے ایک عزم کی صورت اختیار کرلی بستر پر لیٹے ہوئے ہی تفسیر پر نظر ثانی اور احکام القرآن کی تکممیل کا کام شروع کردیا۔
عجائب قدرت سے ہے کہ اس بیماری کے زمانے میں کام اتنی سرعت سے چلا کہ تندرستی میں بھی یہ رفتار نہ تھی اور پھر شاید اسی کی برکت سے حق تعالیٰ نے ان معذور و مجبور کو دینے والے امراض سے شفاء بھی فرما دی اور ایک حد تک تندرستی کی صورت حاصل ہوگئی تو اب وقت کی قدر پہچانی اور ان کاموں پر بقدر استطاعت وقت صرف کیا یہ محض حق تعالیٰ کا فضل و انعام ہی تھا کہ احکام القرآن کی دونوں منزلوں کی تکمیل بھی ہوگئی اور اسی عرصہ میں یہ دونوں جلدیں چھپ کر شائع بھی ہوگئی اور تفسیر معارف القرآن کی دو جلدیں سورة نساء تک چھپ کر شائع ہوگئی ہیں تیسری جلد سورة اعراف تک زیر طباعت ہے اور آج نصف قرآن کے مسودہ تفسیر پر نظر ثانی کی بھی تکمیل ہوگئی (فللہ الحمد اولہ وآخرہ)
اس وقت جبکہ یہ سطور زیر تحریر ہیں احقر ناکارہ کی عمر کے 75 سال پورے ہو کر 21 شعبان 1390 ھ کو عمر کی چھیترویں منزل شروع ہوگئی مختلف امراض میں ابتلاء ضعف طبعی اس پر مشاغل و افکار کا ہجوم ہے اب آگے کسی تصنیف و تالیف کی توقع رکھنا امید موہوم سے زائد کچھ نہیں ہوسکتا لیکن خدمت قرآن کے نام پر خامہ فرسائی کتنی ہی ناقص در ناقص خدمت ہو لکھنے والے کے لئے سعادت ہی سعادت ہے اس خیال نے اس پر آمادہ کردیا کہ سورة کہف کی تفسیر بھی بنام خدا تعالیٰ شروع کردی جائے اور بقیہ عمر میں جو کچھ ہو سکے اس کو غنیمت سمجھا جائے کیونکہ مقصد قرآن ختم کرنا نہیں قرآن میں اپنی عمر و توانائی ختم کرنا ہے واللہ الموفق و المعین۔
سورة بنی اسرائیل ختم شد