17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 17:66–69

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے واسطے کشتی دریا میں تاکہ تلاش کرو اس کا فضل وہی ہے تم پر مہربان

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

، اور جب آتی ہے تم پر آفت دریا میں بھول جاتے ہو جن کو تم پکارا کرتے تھے اللہ کے سوائے پھر جب بچا لایا تم کو خشکی میں پھرجاتے ہو اور ہے انسان بڑا ناشکرا

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

سو کیا تم بےڈر ہوگئے اس سے کہ دھنسا دے تم کو جنگل کے کنارے یا بھیج دے تم پر آندھی پتھر برسانے والی پھر نہ پاؤ اپنا کوئی نگہبان

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا بےڈر ہوگئے ہو اس سے کہ پھر لے جائے تم کو دریا میں دوسری بار پھر بھیجے تم پر ایک سخت جھونکا ہوا کا پھر ڈباوے تم کو بدلے میں اس ناشکری کے پھر نہ پاؤ اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا

خلاصہ تفسیر سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو (اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے اور جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہونچتی ہے (مثلا دریا کی موج اور ہوا کے طوفان سے غرق ہونے کا خطرہ) تو بجز خدا کے اور جس جس کی تم عبادت کرتے تھے سب غائب ہوجاتے ہیں (کہ نہ تمہیں خود ہی اس وقت ان کا خیال آتا ہے نہ ان کو پکارتے ہو اور پکارو بھی تو ان سے کسی امداد کی ذرہ برابر توقع نہیں یہ خود عملی طور پر تمہاری طرف توحید کا اقرار اور شرک کا ابطلال ہے) پھر جب تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم پھر اس سے رخ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے بڑا ناشکر (کہ اتنی جلدی اللہ کے انعام اور اپنی الحاح وزاری کو بھول جاتا ہے اور تم جو خشکی میں پہنچ کر اس سے اپنا رخ پھیر لیتے ہو) تو کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو خشکی میں لا کر ہی زمین میں دھنسا دے (مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دریا اور خشکی میں کوئی فرق نہیں وہ جیسے دریا میں غرق کرسکتا ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین میں دھنسا کر غرق کرسکتا ہے) یا تم پر کوئی ایسی سخت ہوا بھیج دے جو کنکر پتھر برسانے لگے (جیسا کہ قوم عاد ایسے ہی ہوا کے طوفان سے ہلاک کی گئی تھی) پھر تم کسی کو اپنا کار ساز خدا کے سوا نہ پاؤ یا تم اس سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو دریا ہی میں دربارہ لیجاوے پھر تم پر ہوا کا طوفان بھیج دے پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر اس بات پر (یعنی غرق کردینے پر) کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا بھی تم کو نہ ملے (جو ہم سے تمہارا بدلہ لے سکے) اور ہم نے اولاد آدم کو (مخصوص صفات دے کر) عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں (جانوروں اور کشتیوں پر) سوار کیا اور پاکیزہ نفیس چیزیں ان کو عطا فرمائیں اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر۔

معارف و مسائل بنی آدم کی فضیلت اکثر مخلوقات پر کس وجہ سے ہے آخری آیت میں اولاد آدم کی اکثر مخلوقات پر فوقیت اور افضیلت کا ذکر ہے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں اول یہ کہ یہ افضلیت کن صفات اور کن وجوہ کی بناء پر ہے دوسرے یہ کہ اس میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم کو مختلف حیثیات سے ایسی خصوصیات عطا فرمائی ہیں جو دوسری مخلوقات میں نہیں مثلا حسن صورت اعتدال جسم اعتدال مزاج اعتدال قد و قامت جو انسان کو عطا ہوا ہے کسی دوسرے حیوان میں نہیں اس کے علاوہ عقل و شعور میں اس کو خاص امتیاز بخشا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ تمام کائنات علویہ اور سفلیہ سے اپنے کام نکالتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت بخشی ہے کہ مخلوقات الہیہ سے ایسے مرکبات اور مصنوعات تیار کرے جو اس کے رہنے سہنے اور نقل و حرکت اور طعام و لباس میں اس کے مختلف کام آئیں۔ نطق و گویائی اور افہام و تفہیم کا جو ملکہ اس کو عطا ہوا ہے وہ کسی دوسرے حیوان میں نہیں اشارات کے ذریعہ اپنے دل کی بات دوسروں کو بتلا دینا تحریر اور خط کے ذریعہ دل کی بات دوسروں تک پہنچانا یہ سب انسان ہی کی امتیازات ہیں بعض علماء نے فرمایا کہ ہاتھ کی انگلیوں سے کھانا بھی انسان ہی کی صفت مخصوصہ ہے اس کے سوا تمام جانور اپنے منہ سے کھاتے ہیں اپنے کھانے کی چیزوں کو مختلف اشیاء سے مرکب کر کے لذیذ اور مفید بنانے کا کام بھی انسان ہی کرتا ہے باقی سب مفردات کھاتے ہیں انسان ہی اپنی غذا کے لئے ان سب چیزوں کے مرکبات تیار کرتا ہے اور سب سے بڑی فضیلت عقل و شعور کی ہے جس سے وہ اپنے خالق اور مالک کو پہچانے اور اس کی مرضی اور نامرضی کو معلوم کر کے مرضیات کا اتباع کرے نامرضیات سے پرہیز کرے اور عقل و شعور کے اعتبار سے مخلوقات کی تقسیم اس طرح ہے کہ عام جانوروں میں شہوات اور خواہشات ہیں عقل و شعور نہیں فرشتوں میں عقل و شعور ہے شہوات و خواہشات نہیں انسان میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں عقل و شعور بھی شہوات و خواہشات بھی ہیں اسی وجہ سے جب وہ شہوات و خواہشات کو عقل و شعور کے ذریعہ مغلوب کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیزوں سے اپنے آپ کو لیتا ہے تو اس کا مقام بہت سے فرشتوں سے بھی اونچا ہوجاتا ہے۔ دوسری بات کہ اولاد آدم کو اکثر مخلوقات پر فضیلت دینے کا کیا مطلب ہے اس میں تو کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں کہ دنیا کی تمام مخلوقات علویہ اور سفلیہ اور تمام جانوروں پر اولاد آدم کو فضیلت حاصل ہے اسی طرح جنات جو عقل و شعور میں انسان ہی کی طرح ہیں ان پر بھی انسان کا افضل ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے اب صرف معاملہ فرشتوں کا رہ جاتا ہے کہ انسان اور فرشتہ میں کون افضل ہے اس میں تحقیقی بات یہ ہے کہ انسان میں عام مومنین صالحین جیسے اولیاء اللہ وہ عام فرشتوں سے افضل ہیں مگر خواص ملائکہ جیسے جبرئیل میکائیل وغیرہ ان عام صالحین سے افضل ہیں اور خواص مومنین جیسے انبیاء (علیہم السلام) وہ خواص ملائکہ سے بھی افضل ہیں باقی رہے کفار و فجار انسان وہ ظاہر ہے کہ فرشتوں سے تو کیا افضل ہوتے وہ تو جانوروں سے بھی اصل مقصد فلاح و نجاح میں افضل نہیں ان کے متعلق تو قرآن کا فیصلہ یہ ہے (آیت) اُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ یعنی یہ تو چوپایہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں (تفسیر مظہری) واللہ اعلم۔
Ayahs 17:71–72

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ سو جس کو ملا اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں سو وہ لوگ پڑھیں گے اپنا لکھا اور ظلم نہ ہوگا ان پر ایک تاگے کا

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی رہا اس جہان میں اندھا سو وہ پچھلے جہان میں بھی اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہوا راہ سے۔

خلاصہ تفسیر (اس دن کو یاد کرنا چاہئے) جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامہ اعمال سمیت (میدان حشر میں) بلاویں (اور نامہ اعمال اڑا دیئے جاویں گے پھر کسی کے داہنے ہاتھ اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آجاویں گے) پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا (اور یہ اہل ایمان ہوں گے) تو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال (خوش ہو کر) پڑھیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ان کے ایمان اور اعمال کا ثواب پورا پورا ملے گا ذرا کم نہ ہوگا خواہ زیادہ مل جائے اور عذاب سے نجات بھی ہوگی خواہ اول ہی یا گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد) اور جو شخص دنیا میں (راہ نجات دیکھنے سے) اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی (منزل نجات تک پہنچنے سے) اندھا رہے گا اور (بلکہ وہاں دنیا سے بھی) زیادہ گم کردہ راہ ہوگا (کیونکہ دنیا میں تو گمراہی کا علاج ممکن تھا وہاں یہ بھی نہ ہو سکے گا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا) معارف و مسائل (آیت) يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ اس آیت میں لفظ امام بمعنی کتاب ہے جیسا کہ سورة یسین میں ہے (آیت) وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ اس میں امام مبین سے مراد واضح کتاب ہے اور کتاب کو امام اس لئے کہا جاتا ہے کہ بھول چوک اور اختلاف کے وقت کتاب ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جیسے کسی امام مقتدا کی طرف رجوع کیا جاتا ہے (قرطبی) اور ترمذی کی حدیث بروایت ابوہریرہ ؓ (جس کو ترمذی نے حسن غریب کہا ہے) اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ امام سے مراد اس آیت میں کتاب ہے الفاظ حدیث کے یہ ہیں يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ قال یدعی احدہم فیعطی کتابہ بیمینہ (الحدیث بطولہ) آیت يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ کی تفسیر میں خود رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک شخص کو بلایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ اس حدیث سے یہ بھی متعین ہوگیا کہ امام بمعنے کتاب ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے اسی لئے خلاصہ تفسیر از بیان القرآن میں اس کا ترجمہ نامہ اعمال سے کردیا گیا ہے اور حضرت علی مرتضی ؓ اور مجاہد وغیرہ مفسرین سے یہاں لفظ امام کے معنی مقتدا اور پیشوا کے بھی منقول ہیں کہ ہر شخص کو اس کے مقتدا و پیشوا کا نام لے کر پکارا جائے خواہ وہ مقتدا و پیشوا انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب مشائخ و علماء ہوں یا گمراہی اور معصیت کی طرف دعوت دینے والے پیشوا (قرطبی) اس معنے کے لحاظ سے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ میدان حشر میں ہر شخص کو اس کے مقتدا اور پیشوا کے نام سے پکارا جائے گا اور سب کو ایک جگہ جمع کردیا جائے گا مثلا متبعین ابراہیم ؑ متبعین موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) و متبعین محمد مصطفے ﷺ پھر ان کے ذیل میں ممکن ہے کہ ان متبعین کے بلاواسطہ مقتداؤں کا نام بھی لیا جائے۔ نامہ اعمال قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال صرف کفار کو دیا جائے گا جیسا کہ ایک آیت میں ہے (آیت) اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤ ْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِ اور ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ پہلی آیت میں صراحۃ ایمان کی نفی کی گئی ہے اور دوسری آیت میں انکار آخرت مذکور ہے وہ بھی کفر ہی ہے اس تقابل سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال اہل ایمان کو دیا جائے گا خواہ متقی ہوں یا گناہ گار مومن اپنے نامہ اعمال کو خوشی کے ساتھ لے گا بلکہ دوسروں کو بھی پڑھوائے گا یہ خوشی ایمان کی اور عذاب ابدی سے نجات کی ہوگی گو بعض اعمال پر سزا بھی ہوگی۔ اور قرآن کریم میں نامہ اعمال داہنے یا بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کی کیفیت مذکور نہیں لیکن بعض احادیث میں تطایرالکتب کا لفظ آیا ہے (رواہ احمد عن عائشہ ؓ مرفوعا) اور بعض روایات حدیث میں ہے کہ سب نامہ اعمال عرش کے نیچے جمع ہوں گے پھر ایک ہوا چلے گی جو سب کو اڑا کر لوگوں کے ہاتھ میں پہنچا دے گی کسی کے داہنے ہاتھ میں (اخرجہ العقیلی عن انس مرفوعا) بیان القرآن از روح المعانی)
Ayahs 17:73–74

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ تو چاہتے تھے کہ تجھ کو بجلا دیں اس چیز سے کہ جو وحی بھیجی ہم نے تیری طرف، تاکہ جھوٹ بنا لائے تو ہم پر وحی کے سوا اور تب تو بنا لیتے تجھ کو دوست

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھ کو سنبھالے رکھا تو لگ جاتا جھکنے ان کی طرف تھوڑا سا

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر لوگ (اپنی قوی تدبیروں کے ذریعہ) آپ کو اس چیز سے بچلانے (اور ہٹانے) ہی لگے تھے جو ہم نے آپ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے (یعنی اس کوشش میں لگے تھے کہ آپ سے حکم خداوندی کے خلاف عمل کرا دیں اور) تاکہ آپ اس (حکم الہی) کے سوا ہماری طرف (عملا) غلط بات کی نسبت کردیں (کیونکہ نبی کا فعل خلاف شرع ہوتا نہیں اس لئے اگر نعوذ باللہ آپ سے کوئی عمل خلاف شرع ہوجاتا تو یہ لازم آتا کہ اس خلاف شرع عمل کو گویا اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں) اور ایسی حالت میں آپ کو خالص دوست بنا لیتے اور (ان کی یہ شرارت ایسی سخت تھی کہ) اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا (یعنی معصوم نہ کیا ہوتا) تو آپ ان کی طرف کچھ کچھ جھکنے کے قریب جا پہونچتے (اور) اگر ایسا ہوجاتا (کہ آپ کا کچھ میلان ان کی طرف ہوتا) تو ہم آپ کو (اس وجہ سے کہ مقربان بارگاہ کا مقام بہت بلند ہے) حالت حیات میں بھی اور بعد موت کے بھی دوہرا عذاب چکھاتے پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار بھی نہ پاتے (مگر چونکہ آپ کو ہم نے معصوم اور ثابت قدم بنایا ہے اس لئے ان کی طرف ذرا بھی میلان نہ ہوا اور اس عذاب سے بچ گئے) اور یہ (کافر) لوگ اس سر زمین (مکہ یا مدینہ) سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوجاتا تو آپ کے بعد یہ بھی بہت کم (یہاں) ٹھہرنے پاتے جیسا ان انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں (ہمارا) قاعدہ رہا ہے جن کو آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا تھا (کہ جب ان کی قوم نے ان کو وطن سے نکالا تو پھر اس قوم کو بھی یہاں رہنا نصیب نہیں ہوا) اور آپ ہمارے قاعدے میں تغیر تبدل نہ پائیں گے۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی تین آیتیں ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں تفسیر مظہری میں اس واقعہ کی تعیین کے متعلق چند روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے اقرب اور مؤ ید باشارات القرآن یہ واقعہ ہے جو بتخریج ابن ابی حاتم بروایت جبیر ابن نفیر ؓ نقل کیا ہے کہ قریش مکہ کے چند سردار آنحضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ واقعی ہماری طرف بھیجے گئے ہیں تو پھر اپنی مجلس سے ان غریب شکستہ حال لوگوں کو ہٹا دیجئے جن کے ساتھ بیٹھنا ہمارے لئے توہین ہے تو پھر ہم آپ کے اصحاب اور دوست ہوجائیں گے ان کی اس بات پر رسول کریم ﷺ کو کچھ خیال پیدا ہوا کہ ان کی بات پوری کردیں شاید یہ مسلمان ہوجائیں جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں آنحضرت محمد ﷺ کو باخبر کردیا گیا کہ ان کی بات فتنہ ہے ان کی دوستی بھی فتنہ ہے آپ کو ان کی بات نہیں ماننی چاہئے اور پھر ارشاد فرمایا کہ اگر ہماری طرف سے آپ کی تربیت اور ثابت قدم رکھنے کا اہتمام نہ ہوتا تو کچھ بعید نہیں تھا کہ آپ ان کی بات کی طرف میلان کے تھوڑے سے قریب ہوجاتے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر سمجھی جاتی ہے کہ کفار قریش کی لغویات کی طرف رسول کریم ﷺ کے میلان کا تو کوئی احتمال ہی نہ تھا ہاں میلان کے قریب ہوجانے کا وہ بھی بہت قدر قلیل حد میں امکان تھا مگر اللہ تعالیٰ نے معصوم بنا کر اس سے بھی بچا لیا غور کیا جائے تو یہ آیت انبیاء (علیہم السلام) کی اعلیٰ ترین پاکیزہ خلقت و طبیعت پر بڑی دلیل ہے کہ اگر پیغمبرانہ عصمت بھی نہ ہوتی تب بھی نبی کی فطرت ایسی تھی کہ کفار کی لغو بات کی طرف میلان ہوجانا اس سے ممکن نہ تھا ہاں میلان کے کچھ قریب بقدر قلیل کا احتمال تھا جو پیغمبرانہ عصمت نے ختم کردیا۔
Ayah 17:75

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دونا مزہ زندگی میں اور دونا مرنے میں پھر نہ پاتا تو اپنے واسطے ہم پر مدد کرنے والا

(آیت) اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَات یعنی اگر بفرض محال آپ ان کی غلط روش کی طرف میلان کے قریب ہوجاتے تو آپ کا عذاب دنیا میں بھی دوہرا ہوتا اور موت کے بعد قبر یا آخرت میں بھی دوہرا ہوتا کیونکہ مقربان بارگاہ کی معمولی سی غلطی بھی بہت بڑی سمجھی جاتی ہے اور یہ مضمون تقریبا وہی ہے جو ازواج مطہرات کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے (آیت) يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ یعنی اے نبی کی عورتوں اگر تم میں سے کسی نے کھلی بےحیائی کا کام کیا تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور وہ تو چاہتے تھے کہ گھبراویں تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں تجھ کو یہاں سے اور اس وقت نہ ٹھہریں گے وہ بھی تیرے پیچھے مگر تھوڑا،

(آیت) وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ۔ استفزاز کے لفظی معنی قطع کرنے کے ہیں یہاں مراد نبی کریم ﷺ کو اپنے مستقر مکہ یا مدینہ سے نکال دینا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ قریب تھا کہ یہ کفار آپ کو اپنی زمین سے نکال دیں اور اگر وہ ایسا کرلیتے تو اس کی سزاء ان کو یہ ملتی کہ وہ بھی آپ کے بعد زیادہ دیر اس شہر میں نہ رہ پاتے یہ ایک دوسرے واقعہ کا بیان ہے اور اس کی تعیین میں بھی دو روایتیں منقول ہیں ایک واقعہ مدینہ طبیہ کا ہے کہ یہود مدینہ ایک روز رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے ابو القاسم ﷺ اگر آپ اپنی نبوت کے دعوے میں سچے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ ملک شام میں جا کر رہیں کیونکہ ملک شام ہی محشر کی زمین ہے اور وہی انبیاء (علیہم السلام) کی زمین ہے رسول کریم ﷺ پر ان کے کلام کا کچھ اثر ہوا اور غزوہ تبوک کے وقت جو ملک شام کا سفر ہوا تو آپ کا قصد یہ تھا کہ ملک شام کو اپنا ایک مستقر بنائیں مگر یہ آیت نازل ہوئی وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ جس میں آپ کو اس ارادہ سے روک دیا گیا مگر ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے ناقابل اطمینان قرار دیا ہے۔ اور اس آیت کا مصداق ایک دوسرا واقعہ بتلایا ہے جو مکہ مکرمہ میں پیش آیا اور اس سورت کا مکی ہونا اس کے لئے قوی قرینہ ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ کفار قریش نے رسول کریم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کا ارادہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ اور اس میں کفار مکہ کو اس پر تنبیہ فرمائی کہ اگر وہ رسول کریم ﷺ کو مکہ سے نکال دیں گے تو پھر خود بھی مکہ میں دیر تک چین سے نہ بیٹھ سکیں گے ابن کثیر نے اسی واقعہ کا مصداق آیت ہونا راجح قرار دیا ہے اور پھر بتلایا کہ قرآن کریم کی یہ وعید بھی کفار مکہ نے کھلی آنکھیں دیکھ لی کہ جب رسول کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی تو مکہ والے ایک دن بھی مکہ میں چین سے نہیں بیٹھ سکے صرف ڈیڑھ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو میدان بدر میں جمع کردیا جہاں ان کے ستر سردار مارے گئے اور ان کی قوت ٹوٹ گئی پھر غزوہ احد کے آخری نتیجہ میں ان پر مزید ہیبت طاری ہوگئی اور غزوہ احزاب کے آخری معرکہ نے تو ان کی کمر ہی توڑ دی اور ہجرت کے آٹھویں سال رسول کریم ﷺ نے پورا مکہ مکرمہ فتح کرلیا۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

دستور چلا آتا ہے ان رسولوں کا جو تجھ سے پہلے بھیجے ہم نے اپنے پیغمبر اور نہ پائے گا تو ہمارے دستور میں تفاوت۔

(آیت) سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا اس آیت میں بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عام سنت اور قاعدہ پہلے سے یہی چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو اس کے وطن سے نکالتی یا نکالنے پر مجبور کرتی ہے تو پھر وہ قوم بھی وہاں باقی نہیں رکھی جاتی اس پر خدا تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

قائم رکھ نماز کو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور قرآن پڑھنا فجر کا بیشک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو

خلاصہ تفسیر آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک نمازیں ادا کیجئے (اس میں ظہر عصر مغرب عشاء چار نمازیں آگئیں جیسا کہ حدیث میں اس اجمال کی تفصیل بیان کردی گئی ہے) اور صبح کی نماز بھی (اداکریں) بیشک صبح کی نماز (فرشتوں کے) حاضر ہونے کا وقت ہے (صبح کا وقت چونکہ نیند سے بیدار ہونے کا وقت ہے جس میں سستی کا خطرہ تھا اس لئے اس کو الگ کر کے اہتمام کے ساتھ بیان فرمایا اور اس کی ایک مزید فضیلت بھی یہ بیان کردی کہ اس وقت میں فرشتے جمع ہوتے ہیں اس کی تفصیل حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی حفاظت اور اس کے اعمال کو لکھنے والے فرشتے دن کے الگ اور رات کے الگ ہیں صبح کی نماز میں دونوں جماعتیں فرشتوں کی جمع ہوتی ہیں رات کے فرشتے اپنا کام ختم کر کے اور دن کے فرشتے اپنا کام سنبھالنے کے لئے مجتمع ہوجاتے ہیں اسی طرح شام کو عصر کی نماز میں دونوں جماعتیں جمع ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ فرشتوں کا اجتماع باعث برکات ہے اور کسی قدر رات کے حصے میں بھی (نماز ادا کریں) یعنی اس میں نماز تہجد پڑھا کریں جو کہ آپ کے لئے (پانچ نمازوں کے علاوہ) ایک زائد چیز ہے (اس زائد سے مراد بعض کے نزدیک ایک زائد فرض ہے جو خاص رسول کریم ﷺ پر فرض کیا گیا اور بعض نے مراد زائد سے نفل لی ہے) امید (یعنی وعدہ) ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں جگہ دے گا (مقام محمود سے مراد شفاعت کبری کا مقام ہے جو محشر میں تمام بنی آدم کے لئے رسول اللہ ﷺ کو عطا ہوگا) اور آپ یہ دعا کیجے کہ اے میرے رب (مکہ سے جانے کے بعد) مجھ کو (جہاں لے جانا ہو) خوبی (یعنی راحت) کے ساتھ پہنچائیو اور (جب) مکہ سے لے جانا ہو تو) مجھ کو خوبی (یعنی راحت) کے ساتھ لے جائیو اور مجھ کو اپنے پاس سے (ان کفارپر) ایسا غلبہ دیجئو جس کے ساتھ (آپ کی) نصرت (اور مدد) ہو (جس سے وہ غلبہ پائدار اور ترقی پذیر ہو ورنہ عارضی غلبہ تو کبھی کفار کو بھی ہوجاتا ہے مگر اس کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی اس لئے پائدار نہیں ہوتا) اور کہہ دیجئے کہ (بس اب دین) حق (غالب ہونے کو) آیا اور باطل گیا گذرا ہوا واقعی باطل چیز تو یوں ہی آتی جاتی رہتی ہے (ہجرت کے بعد مکہ فتح ہوا تو یہ سب وعدے پورے ہوگئے) اور ہم ایسی چیز یعنی قرآن نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفا اور رحمت ہے (کیونکہ وہ اس کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں جس سے ان پر رحمت ہوتی اور عقائد باطلہ اور خیالات فاسدہ سے شفا ہوتی ہے) اور ظالموں کو اس سے اور الٹا نقصان بڑھتا ہے (کہ جب وہ اس کو نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ کے قہر و عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں) معارف و مسائل دشمنوں کے مکر و کید سے بچنے کا بہترین علاج نماز ہے سابقہ آیات میں اعداء اسلام کی مخالفت اور نبی کریم ﷺ کو مختلف قسم کی تکلیفوں میں مبتلا کرنے کی تدبیریں اور اس کا جواب مذکور تھا اس کے بعد آیات صدر میں رسول کریم ﷺ کو اقامت صلوۃ کا حکم دینے میں اس طرف اشارہ ہے کہ دشمنوں کے مکر و کید اور ایذاؤں سے بچنے کا بہترین علاج نماز کی اقامت ہے جیسا کہ سورة حجر کی آیت میں اس سے زیادہ واضح الفاظ میں یہ ارشاد ہے (آیت) وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ (یعنی ہم جانتے ہیں کہ کفار کے دل آزار اقوال سے آپ دل تنگ ہوتے ہیں تو آپ اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں (قرطبی) اس آیت میں دشمنوں کی ایذاؤں کا علاج اللہ کے ذکر حمد و تسبیح اور نماز میں مشغول ہوجانے کو قرار دیا ہے ذکر اللہ اور نماز بالخاصہ ان سے بچنے کا علاج ہے اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ دشمنوں کی ایذاؤں سے بچنا اللہ تعالیٰ کی مدد پر موقوف ہے اور اللہ کی مدد حاصل کرنے کا سب سے افضل ذریعہ نماز ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ (یعنی مدد حاصل کرو صبر اور نماز کے ذریعہ) نماز پنجگانہ کا حکم جمہور ائمہ تفسیر نے اس آیت کو پانچوں نمازوں کے لئے جامع حکم قرار دیا ہے کیونکہ لوگ کا لفظ اگرچہ اصل میں میلان کے معنی میں آتا ہے اور میلان آفتاب زوال کے وقت شروع ہوتا ہے اور غروب کو بھی کہہ سکتے ہیں لیکن جمہور صحابہ وتابعین نے اس جگہ لفظ ولوک کے معنی زوال آفتاب ہی کے لئے ہیں (کما فصلہ القرطبی و المظہری و ابن کثیر) اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ۔ لفظ غسق کے معنی رات کی تاریکی مکمل ہوجانے کے ہیں امام مالک نے حضرت ابن عباس ؓ سے غسق کی یہی تفسیر نقل فرمائی ہے۔ اس طرح (آیت) لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ۔ میں چار نمازیں آگئیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور ان میں سے دو نمازوں کا ابتدائی وقت بھی بتلا دیا گیا کہ ظہر کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور عشاء کا وقت غَسَقِ الَّيْل سے یعنی جس وقت رات کی تاریکی مکمل ہوجائے اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے وقت عشاء کی ابتدا اس وقت سے قرار دی ہے جبکہ شفق احمر کے بعد شفق ابیض بھی غروب ہوجائے یہ سب جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے متصل افق مغرب پر ایک سرخی نمودار ہوتی ہے اور اس سرخی کے بعد ایک قسم کی سفیدی افق پر پھیلی ہوئی نظر آتی ہے پھر وہ سفیدی بھی غروب ہوجاتی ہے یہ ظاہر ہے کہ رات کی تاریکی مکمل اس وقت ہوگئی جبکہ افق کی سفیدی بھی ختم ہوجائے اس لئے اس لفظ میں امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے مسلک کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے دوسرے ائمہ نے شفق احمر کے غروب ہونے پر وقت عشاء کی ابتدا قرار دی ہے اور اسی کو غَسَقِ الَّيْل کی تفسیر قرار دیا ہے۔ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ اس جگہ لفظ قرآن بول کر نماز مراد لی گئی ہے کیونکہ قرآن نماز کا جز اہم ہے اکثر ائمہ تفسیر ابن کثیر قرطبی مظہری وغیرہ نے یہی معنے لکھے ہیں اس لئے مطلب آیت کا یہ ہوگیا کہ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ کے الفاظ میں چار نمازوں کا بیان تھا یہ پانچویں نماز فجر کا بیان ہے اس کو الگ کر کے بیان کرنے میں اس نماز کی خاص اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ كَانَ مَشْهُوْدًا یہ لفظ شہادت سے مشتق ہے جس کے معنے میں حاضر ہونا اس وقت میں حسب نصریح احادیث صحیحہ رات اور دن کے دونوں فرشتوں کی جماعتیں حاضر نماز ہوتی ہیں اس لئے اس کو مشہود کہا گیا ہے اس آیت میں پانچ نمازوں کا حکم اجمال کے ساتھ آیا ہے جس کی مکمل تفسیر و تشریح نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و فعل سے بتلائی ہیں اور جب تک اس تشریح پر عمل نہ کیا جائے کوئی شخص نماز ادا ہی نہیں کرسکتا معلوم نہیں کہ جو لوگ قرآن کو بغیر حدیث اور بیان رسول کے سمجھنے کا دعوی کرتے ہیں وہ نماز کیسے پڑھتے ہیں اس طرح اس آیت میں نماز کے اندر قراءت قرآن کا ذکر بھی اجمالا آیا ہے اس کی تفصیلی رسول کریم ﷺ کے قول و عمل سے یہ ثابت ہوئی کہ نماز فجر میں قراءت طویل کی جائے بقدر استطاعت اور ظہر و جمعہ میں اس سے کم اور عصر و عشاء میں متوسط اور مغرب میں بہت مختصر۔ مغرب میں طول قراءت اور فجر میں اختصار جو بعض روایات میں آیا ہے وہ عملا متروک ہے امام قرطبی نے صحیح مسلم کی وہ روایت جس میں مغرب کی نماز میں سورة اعراف اور مرسلات وغیرہ طویل سورتوں کا پڑھنا یا صبح کی نماز میں صرف معوذتین پر اکتفا کرنا منقول ہے اس کو نقل کر کے فرمایا فمتروک بالعمل ولا نکارہ علی معاذا لتطویل وبامرہ الائمۃ بالتخفیف یعنی یہ اتفاقی واقعات مغرب میں طول قراءت اور فجر میں اختصار کے آنحضرت محمد ﷺ کے دائمی عمل سے نیز زبانی ارشادات کی وجہ سے متروک ہیں (قرطبی)
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کچھ رات جاگتا رہ قرآن کے ساتھ یہ زیادتی ہے تیرے لئے قریب ہے کہ کھڑا کر دے تجھ کو تیرا رب مقام محمود میں

نماز تہجد کا وقت اور اسکے احکام و مسائل (آیت) وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے اور یہ لفظ دو متضاد معنے کیلئے استعمال ہوتا ہے اس کے معنے سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی اس جگہ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ کے معنی یہ ہیں کہ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہا کرو کیونکہ بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے (مظہری) قرآن کے ساتھ بیدار رہنے کا مطلب نماز ادا کرنا ہے اسی رات کی نماز کو اصطلاح شرع میں نماز تہجد کہا جاتا ہے اور عموما اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نماز تہجد ہے لیکن تفسیر مظہری میں ہے کہ مفہوم اس آیت کا اتنا ہے کہ رات کے کچھ حصے میں نماز کے لئے سونے کو ترک کردو اور یہ مفہوم جس طرح کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نماز پڑھنے پر صادق ہے اسی طرح شروع ہی میں نماز کے لیے نیند کو موخر کرکے نماز پڑھنے پر صادق آتا ہے اس لئے نماز تہجد کے لئے پہلے نیند ہونے کی شرط قرآن کا مدلول نہیں پھر بعض روایات حدیث سے بھی تہجد کے اس عام معنے پر استدلال کیا ہے۔ فیصل اور امام ابن کثیر نے حضرت حسن بصری سے نماز تہجد کی جو تعریف نقل کی ہے وہ بھی اسی عموم پر شاہد ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ قال الحسن البصری ھو ماکان بعد العشاء ویحمل علیٰ ماکان بعد النوم (ابن کثیر) حسن بصری فرماتے ہیں کہ نماز تہجد ہر اس نماز پر صادق ہے جو عشاء کے بعد پڑھی جائے البتہ تعامل کی وجہ سے اس کو کچھ نیند کے بعد پر محمول کیا جائے گا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ نماز تہجد کے اصل مفہوم میں بعد النوم ہونا شرط نہیں اور الفاظ قرآن میں بھی یہ شرط موجود نہیں لیکن عموما تعامل رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ اجمعین کا یہی رہا ہے کہ نماز آخر رات میں بیدار ہو کر پڑھتے تھے اس لئے اس کی فضیلت اس کی افضل صورت یہی ہوگی۔ نماز تہجد فرض ہے یانفل نَافِلَةً لَّكَ لفظ نفل اور نافلہ کے لغوی معنے زائد کے ہیں اسی لئے اس نماز اور صدقہ خیرات وغیرہ کو نفل کہتے ہیں جو شرعا واجب اور ضروری نہ ہو جس کے کرنے میں ثواب ہے اور نہ کرنے میں نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کسی قسم کی برائی اس آیت میں نماز تہجد کے ساتھ نافِلَةً لَّكَ کے الفاظ سے ظاہرا یہ سمجھا جاتا ہے کہ نماز تہجد خصوصیت کے ساتھ آنحضرت محمد ﷺ کے لئے نفل ہے حالانکہ اس کے نفل ہونے میں آنحضرت محمد ﷺ اور پوری امت سب ہی شریک ہیں اسی لئے بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ نافلہ کو فریضہ کی صفت قرار دے کر معنی یہ قرار دیئے ہیں کہ عام امت پر تو صرف پانچ وقت کی نماز فرض ہے مگر رسول کریم ﷺ پر تہجد بھی ایک زائد فرض ہے تو یہاں لفظ نافلہ بمعنے فرض زائد کے ہے نفل کے عام معنی میں نہیں۔ اور تحقیق صحیح اس معاملہ کی یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں جب سورة مزمل نازل ہوئی تو اس وقت پانچ نمازیں تو فرض ہوئی نہ تھیں صرف تہجد کی نماز سب پر فرض تھی اسی فرض کا ذکر سورة مزمل میں ہے پھر شب معراج میں پانچ نمازیں فرض کر دیگئیں تو تہجد کی فرضیت عام امت سے تو باتفاق منسوخ ہوگئی اور اس میں اختلاف رہا کہ آنحضرت محمد ﷺ سے بھی فرضیت منسوخ ہوئی یا یہ خصوصی طور پر آپ کے ذمہ فرض رہا اور اس آیت میں نافِلَةً لَّكَ کے یہی معنی ہیں کہ نماز تہجد آپ کے ذمہ ایک زائد فرض ہے مگر تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ کئی وجہ سے صحیح نہیں اول یہ کہ فرض کو نفل سے تعبیر کرنے کہ کوئی وجہ نہیں اگر کہا جائے کہ مجاز ہے تو یہ ایک ایسا مجاز ہوگا جس کی کوئی حقیقت نہیں دوسرے احادیث صحیحہ میں صرف پانچ نمازوں کی تیعین کے ساتھ فرض ہونے کا ذکر ہے اور ایک حدیث میں اس کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے کہ شب معراج میں جو اول پچاس نمازیں فرض کی گئی تھیں پھر تخفیف کرکے پانچ کر دیگئیں تو اگرچہ عدد گھٹا دیا گیا مگر ثواب پچاس ہی کا ملے گا اور پھر فرمایا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ یعنی میرا قول بدلا نہیں کرتا جب پچاس کا حکم دیا تھا تو ثواب پچاس ہی کا دیا جائے گا اگرچہ عمل میں کمی کردی گئی۔ ان روایات کا حاصل یہی ہے کہ عام امت اور خود رسول کریم ﷺ پر پانچ نمازوں کے سوا کوئی اور نماز فرض نہیں ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نافِلَةً لَّكَ کا لفظ اگر اس جگہ فریضہ زائد کے معنی میں ہوتا تو اس کے بعد لفظ لَّكَ کے بجائے عَلَیک ہونا چاہئے تھا جو وجوب پر دلالت کرتا ہے لفظ لَّكَ تو صرف جواز اور اجازت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح تفسیر مظہری میں صحیح اس کو قرار دیا ہے کہ جب تہجد کی فرضیت امت سے منسوخ ہوئی تو رسول کریم ﷺ سے بھی منسوخ ہوگئی اور سب کے لئے نفل رہ گیا مگر اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس میں آنحضرت محمد ﷺ کی خصوصیت کیا ہے نفل ہونا تو سب ہی کے لئے ثابت ہے پھر نافِلَةً لَّكَ فرمانے کا کیا حاصل ہوگا جواب یہ ہے کہ حسب تصریح احادیث تمام امت کی نوافل اور تمام نفلی عبادات ان کے گناہوں کا کفارہ اور فرض نمازوں میں جو کوتاہی کمی رہ جائے اس کی تکمیل کا کام دیتی ہیں مگر رسول کریم ﷺ گناہوں سے بھی معصوم ہیں اور نماز کے آداب میں کوتاہی سے بھی اس لئے آپ کے حق میں نفلی عبادت بالکل زائد ہی ہے جو کسی کوتاہی کا تدارک نہیں بلکہ محض زیادت تقرب کا ذریعہ ہے (قرطبی ومظہری)۔ نماز تہجد نفل ہے یا سنت مؤ کدہ سنت موکدہ کے لئے جو عام ضابطہ فقہاء کا ہے کہ جس کام پر رسول کریم ﷺ نے عملا مداومت فرمائی ہو اور بلا مجبوری کے نہ چھوڑا ہو وہ سنت موکدہ ہے بجز اس کے کہ کسی دلیل شرعی سے یہ ثابت ہوجائے کہ یہ کام آنحضرت محمد ﷺ کے لئے مخصوص تھا عام امت کے لئے نہیں تھا اس ضابطہ کا تقاضا بظاہر یہی ہے کہ نماز تہجد بھی سب کیلئے سنت مؤ کدہ قرار پائے نہ کہ صرف نفل کیونکہ اس نماز پر رسول کریم ﷺ کی مداومت سنت متواترہ سے ثابت ہے اور خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں اس لئے عام امت کے لئے بھی سنت مؤ کدہ ہونا چاہئے تفسیر مظہری میں اس کو مختار اور راجح قرار دیا ہے اور اس کے موکدہ ہونے پر حضرت ابن مسعود ؓ کی اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے جس میں آنحضرت محمد ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو پہلے تہجد پڑھا کرتا تھا پھر چھوڑدیا یہ ارشاد فرمایا کہ اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے اس طرح کی وعید اور تنبیہ صرف نفل میں نہیں ہو سکتی اس سے معلوم ہوا کہ یہ سنت موکدہ ہے۔ اور جن حضرات نے تہجد کو صرف نفل قرار دیا ہے وہ اس مواظبت اور مداومت کو آنحضرت محمد ﷺ کی خصوصیت قرار دیتے ہیں اور تہجد پڑھنے والے کے ترک تہجد پر جو زجر کے الفاظ ارشاد فرمائے وہ دراصل مطلقا ترک پر نہیں بلکہ اول عادت ڈالنے کے بعد ترک کرنے پر ہیں کیونکہ آدمی جس نفل کی عادت ڈال لے باتفاق امت اس کو چاہئے کہ اس پر مداومت کرے اگر عادت ڈالنے کے بعد چھوڑ یگا تو قابل ملامت ہوگا کیونکہ عادت کے بعد بلاعذر ترک ایک قسم کے اعراض کی علامت ہے اور جو شروع سے عادی نہ ہو تو اس پر کوئی ملامت نہیں واللہ اعلم۔ تہجد کی تعداد رکعات صحیح بخاری ومسلم میں حضرت صدیقہ عائشہ ؓ کی روایت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعات سے زیادہ نہ پڑھتے تھے ان گیارہ رکعات میں حنفیہ کے نزدیک تین رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں باقی آٹھ تہجد کی۔ اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں صدیقہ عائشہ ؓ کے یہ الفاظ منقول ہیں کہ رسول کریم ﷺ رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی شامل ہیں اور دو رکعتیں سنت فجر کی بھی (مظہری) سنت فجر کو رات کی نماز میں بوجہ رمضان کے شمار کرلیا ہے) ان روایات سے معلوم ہوا کہ عام عادت رسول کریم ﷺ کی یہ تھی کہ تہجد کی نماز میں آٹھ رکعات ادا فرماتے تھے۔ لیکن صدیقہ عائشہ ؓ ہی کی ایک روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ کبھی کبھی اس تعداد سے کم چار یا چھ رکعات پر بھی اکتفاء فرمایا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں آپ سے یہ منقول ہے کہ حضرت مسروق نے صدیقہ ؓ سے تہجد کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ سات نو اور گیارہ رکعات ہوتی تھیں علاوہ سنت فجر کے (مظہری عن البخاری) حنفیہ کے قاعدہ کے مطابق تین رکعت وتر کی ہوئی تو سات میں چار نو میں سے چھ گیارہ میں سے آٹھ تہجد کی رکعتیں رہ جاتی ہیں۔ نماز تہجد کی کیفیت جو عام روایات حدیث سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ابتدا میں دو رکعت ہلکی مختصر قراءت کے ساتھ پھر باقی رکعات میں قراءت بھی طویل اور رکوع سجدہ بھی طویل ہوتا اور یہ طول بسا اوقات بہت زیادہ ہوجاتا تھا کبھی کچھ کم (یہ خلاصہ ان روایات حدیث کا ہے جو اس جگہ تفیسر مظہری میں نقل کی گئی ہیں) مقام محمود رسول کریم ﷺ سے اس آیت میں مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ مقام تمام انبیاء (علیہم السلام) میں سے آنحضرت محمد ﷺ کے لئے مخصوص ہے اس کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں مگر صحیح وہ ہے جو احادیث صحیحہ میں خود رسول کریم ﷺ سے منقول ہے یہ مقام شفاعت کبری کا ہے کہ میدان حشر میں جس وقت تمام بنی آدم جمع ہوں گے اور ہر نبی و پیغمبر سے شفاعت کی درخواست کریں گے تو انبیاء (علیہم السلام) عذر کردیں گے صرف رسول کریم ﷺ کو یہ شرف عطا ہوگا کہ تمام بنی آدم کی شفاعت فرما دینگے تفصیل اس کی روایات حدیث میں طویل ہے جو اس جگہ ابن کثیر اور تفسیر مظہری میں لکھی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) اور صلحاء امت کی شفاعت مقبول ہوگی اسلامی فرقوں میں سے خوارج اور معتزلہ شفاعت انبیاء (علیہم السلام) کے منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ کسی کی شفاعت سے معاف نہیں ہوگا مگر احادیث متواترہ اس پر شاہد ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی بلکہ صلحاء امت کی بھی شفاعت گناہگاروں کے حق میں مقبول ہوگی بہت سے لوگوں کے گناہ شفاعت سے معاف کردیئے جاویں گے۔ ابن ماجہ اور بیہقی میں بروایت عثمان ؓ منقول ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز اول انبیاء (علیہم السلام) گناہگاروں کی شفاعت کرینگے پھر علماء پھر شہداء اور دہلمی نے بروایت ابن عمر ؓ نقل کیا ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ عالم سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے شاگردوں کی شفاعت کرسکتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد آسمان کے ستاروں کی برابر ہو۔ اور ابو داؤد اور ابن حبان نے بروایت ابی الدرداء ؓ مرفوعا نقل کیا ہے کہ شہید کی شفاعت اس کے خاندان کے ستر آدمیوں کے متعلق قبول کی جائے گی۔ مسند احمد طبرانی اور بیہقی نے بسند صحیح حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت پر قبیلہ ربیعہ اور مضر کے تمام لوگوں سے زیادہ آدمی جنت میں داخل کئے جاویں گے۔ ایک سوال و جواب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خود رسول کریم ﷺ شفاعت فرماویں گے اور آپ کی شفاعت سے کوئی مومن دوزخ میں نہ رہ جاوے گا تو پھر امت کے علماء و صلحا کی شفاعت کس لئے اور کیونکر ہوگی تفسیر مظہری میں ہے کہ غالبا صورت یہ ہوگی کہ علماء اور صلحاء امت جن لوگوں کی شفاعت کرنا چاہیں گے وہ اپنی شفاعت آنحضرت محمد ﷺ کی خدمت میں پیش کریں گے پھر رسول کریم ﷺ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت فرماویں گے۔ فائدہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شفاعتی لاھل الکبائر من امتی یعنی میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہوگی جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے تھے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کبائر کی شفاعت آنحضرت محمد ﷺ کے ساتھ مخصوص ہوگی کوئی فرشتہ یا امت کا فرد اہل کبائر کی شفاعت نہ کرسکے گا بلکہ صلحاء امت کی شفاعت صغیرہ گناہ والوں کے لئے ہوگی۔ نماز تہجد کو مقام شفاعت حاصل ہونے میں خاص دخل ہے حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ اس آیت میں آنحضرت محمد ﷺ کو اول نماز تہجد کا حکم دیا گیا پھر مقام محمود یعنی شفاعت کبری کا وعدہ کیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز تہجد کو مقام شفاعت حاصل ہونے میں خاص دخل ہے۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہہ اے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کی مدد

(آیت) وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ الآیہ سابقہ آیات میں اول کفار مکہ کی ایذاؤں اور ان تدبیروں کا ذکر تھا جو وہ رسول کریم ﷺ کو تکلیف پہونچانے کے لئے کرتے تھے اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہوا کہ ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہوں گی اور ان کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو اصل تدبیر کے درجہ میں تو صرف پنجگانہ نماز قائم کرنے اور تہجد گذاری کی تلقین فرمائی اس کے بعد آخرت میں آپ کو سب انبیاء سے اعلیٰ مقام یعنی مقام محمود عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا جو آخرت میں پورا ہوگا مذکورہ آیت وَقُلْ رَّبِّ میں حق تعالیٰ نے اسی دنیا میں اول آپ کو کفار کے مکائد اور ایذاؤں سے نجات دینے کی تدبیر بصورت ہجرت مدینہ ارشاد فرمائی اور اس کے بعد فتح مکہ کی بشارت وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ میں ارشاد فرمائی گئی۔ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ معظمہ میں تھے پھر آپ کو ہجرت مدینہ کا حکم دیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ اس میں لفظ مُدْخَلَ اور مُخْــرَجَ داخل ہونے اور خاج ہونے کی جگہ میں اسم ظرف ہے اور ان کے ساتھ صفت صدق بڑھانے سے مراد یہ ہے کہ یہ نکلنا اور داخل ہونا سب اللہ کی مرضی کے مطابق خیر و خوبی کے ساتھ ہو کیونکہ لفظ صدق عربی زبان میں ہر ایسے فعل کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو ظاہرا اور باطنا درست اور بہتر ہو قرآن کریم میں قدم صدق اور لسان صدق اور مقعد صدق کے الفاظ اسی معنی میں استعمال ہوئے ہیں داخل ہونے کی جگہ سے مراد مدینہ اور خارج ہونے کی جگہ سے مراد مکہ ہے مطلب یہ ہے کہ یا اللہ مدینہ میں میرا داخلہ خیر و خوبی کے ساتھ ہوجائے وہاں کوئی خلاف طبع اور ناگوار صورت پیش نہ آئے اور مکہ مکرمہ سے میرا نکلنا خیر و خوبی کے ساتھ ہوجائے کہ وطن اور گھر بار کی محبت میں دل الجھا نہ رہے اس آیت کی تفسیر میں کچھ اور اقوال بھی آئے ہیں مگر یہ تفسیر حضرت حسن بصری اور قتادہ سے منقول ہے ابن کثیر نے اسی کو اصح الاقوال کہا ہے ابن جریر نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ترتیب کا تقاضہ یہ تھا کہ پہلے مخرج پھر مدخل کا ذکر ہوتا مگر یہاں مدخل کو مقدم اور مخرج کو مؤ خر کرنے میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ مکہ مکرمہ سے نکلنا خود کوئی مقصد نہ تھا بلکہ بیت اللہ کو چھوڑنا انتہائی صدمہ کی چیز تھی البتہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے مامن تلاش کرنا مقصد تھا جو داخلہ مدینہ کی ذریعہ حاصل ہونے کی امید تھی اس لئے جو مقصد تھا اس کو مقدم رکھا گیا۔ فائدہ مہم مقاصد کے لئے مقبول دعا ہجرت مدینہ کے وقت حق تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو اس دعاء کی تلقین فرمائی کہ مکہ سے نکلنا اور پھر مدینہ پہنچنا دونوں خیر و خوبی اور عافیت کے ساتھ ہوں اسی دعاء کا ثمرہ تھا کہ ہجرت کے وقت تعاقب کرنے والے کفار کی زد سے اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر بچایا اور مدینہ طیبہ کو ظاہرا و باطنا آپ کے اور سب مسلمانوں کے لئے سازگار بنایا اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ یہ دعاء ہر مسلمان کو اپنے تمام مقاصد کے شروع میں یاد رکھنا چاہئے اور ہر مقصد کے لئے یہ دعاء مفید ہے اسی دعا کا تکملہ بعد کا جملہ ہے واجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو یہ معلوم تھا کہ منصب رسالت کے فرائض کی ادائیگی اور دشمنوں کے نرغے میں کام کرنا اپنے بس کا نہیں اس لئے حق تعالیٰ سے غلبہ اور نصرت کی ادائیگی اور دشمنوں کے نرغے میں کام کرنا اپنے بس کا نہیں اس لئے حق تعالیٰ سے غلبہ اور نصرت کی دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور اس کے آثار سب کے سامنے آگئے۔
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور کہہ آیا سچ اور نکل بھاگا جھوٹ بیشک جھوٹ ہے نکل بھاگنے والا

وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ یہ آیت ہجرت کے بعد فتح مکہ کے بارے میں نازل ہوئی حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بتوں کے مجسمے کھڑے ہوئے ہوئے تھے بعض علماء نے اس خاص تعداد کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ مشرکین مکہ سال بھر کے دنوں میں ہر دن کا بت الگ رکھتے تھے اس دن میں اس کی پرستش کرتے تھے (قرطبی) آپ جب وہاں پہنچنے تو یہ آیت آپ کی زبان مبارک پر تھی وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اور اپنی لکڑی ایک ایک بت کے سینے میں مارتے جاتے تھے (بخاری ومسلم) بعض روایات میں ہے کہ اس چھڑی کے نیچے رانگ یا لوہے کی شام لگی ہوئی تھی جب آنحضرت محمد ﷺ کس بت کے سینہ میں اس کو مارتے تو وہ الٹا گر جاتا تھا یہاں تک کہ یہ سب بت گر گئے اور پھر آپ نے ان کے توڑنے کا حکم دے دیا (قرطبی بحوالہ قاضی عیاض و قشیری) شرک و کفر اور باطل کی رسوم و نشانات کا مٹانا واجب ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ اس آیت میں اس کی دلیل ہے کہ مشرکین کے بت اور دوسرے مشرکانہ نشانات کو مٹانا واجب ہے اور تمام وہ آلات باطلہ جن کا مصرف صرف معصیت ہو ان کا مٹانا بھی اسی حکم میں ہے ابن منذر نے فرمایا کہ تصویریں اور مجسمے جو لکڑی پیتل وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں وہ بھی بتوں ہی کے حکم میں ہیں رسول کریم ﷺ نے اس پردے کو پھاڑ ڈالا جس پر تصوریں نقش و رنگ سے بنائی گئی تھیں اس سے عام تصاویر کا حکم معلوم ہوگیا حضرت عیسیٰ ؑ آخر زمانے میں تشریف لاویں گے تو صحیح حدیث کے مطابق صلیبوں کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے یہ سب امور اس کی دلیل ہیں کہ شرک و کفر اور باطل کے آلات کو توڑنا اور ضائع کردینا واجب ہے۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم اتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ دفع ہوں اور رحمت ایمان والوں کے واسطے اور گنہگاروں کو تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ قرآن کریم کا قلوب کے لئے شفاء ہونا شرک و کفر اور اخلاق رذیلہ اور امراض باطنہ سے نفوس کی نجات کا ذریعہ ہونا تو کھلا ہوا معاملہ ہے اور تمام امت اس پر متفق ہے اور بعض علماء کے نزدیک قرآن جس طرح امراض باطنہ کی شفاء ہے امراض ظاہرہ کی بھی شفاء ہے کہ آیات قرآن پڑھ کر مریض پر دم کرنا اور تعویذ لکھ کر گلے میں ڈالنا امراض ظاہرہ کے لئے بھی شفاء ہوتا ہے روایات حدیث اس پر شاہد ہیں تمام کتب حدیث میں ابوسعید خدری کی یہ حدیث موجود ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کی ایک جماعت سفر میں تھی کسی گاؤں کے رئیس کو بچھو نے کاٹ لیا تھا لوگوں نے حضرات صحابہ سے پوچھا کہ آپ کچھ اس کا علاج کرسکتے ہیں انہوں نے سات مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا مریض اچھا ہوگیا پھر رسول کریم ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ آیا تو آپ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے اس عمل کو جائز قرار دیا۔ اسی طرح دوسری متعدد روایات حدیث سے خود رسول کریم ﷺ کا معوذات پڑھ کر دم کرنا ثابت ہے اور صحابہ وتابعین سے معوذات اور دوسری آیات قرآن کے ذریعہ مریضوں کا علاج کرنا لکھ کر گلے میں ڈالنا ثابت ہے جس کو اس آیت کے تحت قرطبی نے تفصیل سے لکھا ہے۔ (آیت) وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو جب اعتقاد و احترام کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا شفا ہونا جس طرح ظاہر اور ثابت ہے اسی طرح قرآن کا انکار یا بےادبی خسارہ اور آفات کا ذریعہ بھی ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم آرام بھیجیں انسان پر تو ٹال جائے اور بچائے اپنا پہلو اور جب پہنچے اس کو برائی تو رہ جائے مایوس ہو کر

خلاصہ تفسیر اور (بعض) آدمی (یعنی کافر ایسا ہوتا ہے کہ اس) کو جب ہم نعمت عطاء کرتے ہیں تو (ہم سے اور ہمارے احکام سے) منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ پھیر لیتا ہے اور جب اس کو کوئی تکلیف پہونچتی ہے تو (بالکل رحمت سے) ناامید ہوجاتا ہے (اور یہ دونوں حالتیں دلیل ہیں اللہ تعالیٰ سے بےتعلقی کی اور وہی بنیاد ہے ہر کفر و گمراہی کی) آپ فرما دیجئے کہ (مومنین اور کفار اور اخیار واشرار میں سے) ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کر رہا ہے (یعنی اپنی اپنی عقل صحیح پر مقیم اور علم یا جہل کی بنیاد پر مختلف طرح کے کام کر رہے ہیں) تو آپ کا رب خوب جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق جزاء یا سزادے گا یہ نہیں کہ جس کا دل چاہے بلا کسی دلیل کے اپنے کو ٹھیک راستہ پر سمجھنے لگے)
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

تو کہہ ہر ایک کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر سو تیرا رب خوب جانتا ہے کس نے خوب پا لیا راستہ۔

معارف و مسائل كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ لفظ شَاكِلَتِهٖ کی تفسیر میں ائمہ سلف سے مختلف اقوال منقول ہیں طبیعت عادت جبلت نیت طریقہ وغیرہ اور حاصل سب کا یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنے ماحول اور عادات اور رسم و رواج کے اعتبار سے ایک عادت اور طبعیت ثانیہ بن جاتی ہے اس کا عمل اسی کے تابع رہتا ہے (قرطبی) اس میں انسان کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ برے ماحول بری صحبت اور بری عادتوں سے پرہیز کرے نیک لوگوں کی صحبت اور اچھی عادات کا خوگر بنے (جصاص) کیونکہ اپنے ماحول اور صحبت اور رسم و رواج سے انسان کی ایک طبیعت بن جاتی ہے اس کا ہر عمل اسی کے تابع چلتا ہے۔ امام جصاص نے اس جگہ شاکلہ کے ایک معنی ہم شکل کے بھی کئے ہیں اس معنی کے لحاظ سے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ہر شخص اپنے مزاج کے مطابق آدمی سے مانوس ہوتا ہے نیک آدمی نیک سے اور شریر شریر سے مانوس ہوتا ہے اسی کے طریقہ پر چلتا ہے اور اس کی تطیر حق تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ (آیت) اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ اور والطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ یعنی خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں مراد یہ ہے کہ ہر ایک اپنے مزاج کے مطابق مرد و عورت سے مانوس ہوتا ہے اور حاصل مطلب اس کا بھی اس بات پر تنبیہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ خراب صحبت اور خراب عادت سے پرہیز کا اہتمام کرے۔