17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی

خلاصہ تفسیر اور جس بات کی تجھ کو تحقیق نہ ہو اس پر عمل مت کیا کرو (کیونکہ) کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے ان سب کی (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی (کہ آنکھ اور کان کا استعمال کس کس کام میں کیا وہ کام اچھے تھے یا برے اور بےدلیل بات کا خیال دل میں کیوں جمایا) اور زمین پر اتراتا ہوا مت چل (کیونکہ) تو (اس زمین پر زور سے پاؤں رکھ کر) نہ زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ (اپنے بدن کو تان کر) پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے (پھر اترانا عبث) یہ سارے (مذکورہ) برے کام تیرے رب کے نزدیک (بالکل) ناپسند ہیں۔ معارف و مسائل ان آیات میں دو حکم بارھواں اور تیرھواں عام معاشرت سے متعلق ہیں بارھویں حکم میں بغیر تحقیق کے کسی بات پر عمل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ یہاں یہ بات سامنے رکھنا ضروری ہے کہ تحقیق کے درجات مختلف ہوتے ہیں ایک ایسی تحقیق کہ یقین کامل کے درجہ کو پہنچ جائے مخالف جانب کا کوئی شبہ بھی نہ رہے دوسرے یہ کہ گمان غالب کے درجہ میں آجائے اگر جانب مخالف کا احتمال بھی موجود ہو اس طرح احکام میں بھی دو قسم ہیں ایک قطعیات اور یقینیات ہیں جیسے عقائد اور اصول دین ان میں پہلے درجہ کی تحقیق مطلوب ہے اس کے بغیر عمل کرنا جائز نہیں دوسرے ظنیات جیسے فروعی اعمال سے متعلق احکام اس تفیصل کے بعد مقتضیٰ آیت مذکورہ کا یہ ہے کہ یقینی اور قطعی احکام میں تحقیق بھی درجہ اول کی ہو یعنی قطعیت اور یقیین کامل کے درجہ کو پہنچ جائے اور جب تک ایسا نہ ہو عقائد اور اصول اسلام میں اس تحقیق کا اعتبار نہیں اس کے مقتضی پر عمل جائز نہیں اور ظنی فروعی امور میں دوسرے درجہ یعنی ظن غالب کے درجہ کی تحقیق کافی ہے (بیان القرآن) کان آنکھ اور دل کے متعلق قیامت کے روز سوال (آیت) اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤ َادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا اس آیت میں بتلایا ہے کہ قیامت کے روز کان آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ کان سے سوال ہوگا کہ تو نے عمر میں کیا کیا سنا آنکھ سے سوال ہوگا کہ تمام عمر میں کیا کیا دیکھا دل سے سوال ہوگا کہ تمام عمر دل میں کیسے کیسے خیالات پکائے اور کن کن چیزوں پر یقین کیا اگر کان سے ایسی باتیں سنیں جن کا سننا شرعا جائز نہیں تھا جیسے کسی کی غیبت یا حرام گانا بجانا وغیرہ یا آنکھ سے ایسی چیزیں دیکھیں جن کا دیکھنا شرعا حلال نہ تھا جیسے غیر محرم عورت یا امرد لڑکے پر نظر بد کرنا وغیرہ یا دل میں کوئی ایسا عقیدہ جمایا جو قرآن و سنت کے خلاف ہو یا کسی کے متعلق اپنے دل میں بلا دلیل کوئی الزام قائم کرلیا تو اس سوال کے نتیجہ میں گرفتار عذاب ہوگا قیامت کے روز اللہ کی دی ہوئی ساری ہی نعمتوں کا سوال ہوگا (آیت) ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ (یعنی تم سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی سب نعمتوں کا سوال ہوگا) کان آنکھ دل ان نعمتوں میں سب سے زیادہ اہم ہیں اس لئے یہاں ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا گیا ہے۔ تفسیر قرطبی اور مظہری میں اس کا یہ مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے جملہ میں جو یہ ارشاد آیا ہے کہ (آیت) لَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ یعنی جس چیز کا تمہیں علم اور تحقیق نہیں اس پر عمل نہ کرو اس کے متصل کان آنکھ اور دل سے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے بےتحقیق مثلا کسی شخص پر کوئی الزام لگایا اور بلاتحقیق کسی بات پر عمل کیا اگر وہ ایسی چیز سے متعلق ہے جو کان سے سنی جاتی ہے تو کان سے سوال ہوگا اور آنکھ سے دیکھنے کی چیز ہے تو آنکھ اور دل سے سمجھنے کی چیز ہے دل سے سوال ہوگا کہ یہ شخص اپنے الزام اور اپنے دل میں جمائے ہوئے خیال میں سچا ہے یا جھوٹا اس پر انسان کے یہ اعضاء خود شہادت دیں گے جو حشر کے میدان میں بےتحقیق الزام لگانیوانے اور بےتحقیق باتوں پر عمل کرنے والے کے لئے بڑی رسوائی کا سبب بنے گا جیسا کہ سورة یسین میں ہے (آیت) اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ یعنی آج قیامت کے دن ہم مجرموں کے مونہوں پر مہر لگا کر بند کردیں گے اور ان کے ہاتھ بولیں گے اور پاؤں گواہی دیں گے کہ اس نے ان اعضاء سے کیا کیا کام اچھے یا برے لئے ہیں) یہاں کان آنکھ اور دل کی تخصیص شاید اس بناء پر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ جو اس اور دل کا شعور و ادراک اسی لئے بخشا ہے کہ جو خیال یا عقیدہ دل میں آئے ان حواس اور ادراک کے ذریعہ اس کو جانچ سکے کہ یہ صحیح ہے تو اس پر عمل کرے اور غلط ہے تو باز رہے جو شخص ان سے کام لئے بغیر بےتحقیق باتوں کی پیروی میں لگ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کی۔ پھر وہ حواس جن کے ذریعہ انسان مختلف چیزوں کو معلوم کرتا ہے پانچ ہیں کان آنکھ ناک زبان کی قوتیں اور پورے بدن میں وہ احساس جس سے کسی چیز کا سرد و گرم وغیرہ ہونا معلوم ہوتا ہے مگر عادۃ زیادہ معلومات انسان کو کان یا آنکھ سے ہوتی ہیں ناک سے سونگھنے اور زبان سے چکھنے ہاتھ وغیرہ سے چھونے کے ذریعہ جن چیزوں کا علم ہوتا ہے وہ سننے دیکھنے والی چیزوں کی نسبت سے بہت کم ہے اس جگہ حواس خمسہ میں سے صرف دو کے ذکر پر اکتفاء کرنا شاید اسی کی وجہ سے ہو پھر ان میں بھی کان کو آنکھ پر مقدم کیا گیا ہے اور قرآن کریم کے دوسرے مواقع میں بھی جہاں کہیں ان دونوں چیزوں کا ذکر آیا ہے ان میں کان ہی کو مقدم رکھا گیا ہے اس کا سبب بھی غالبا یہی ہے کہ انسان کی معلومات میں سب سے بڑا حصہ کان سے سنی ہوئی چیزوں کا ہوتا ہے آنکھ سے دیکھی ہوئی چیزیں ان کی نسبت سے بہت کم ہیں۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور مت چل زمین پر اتراتا ہوا تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر

مذکورہ دو آیتوں میں سے دوسری آیت میں تیرھواں حکم یہ ہے کہ زمین پر اترا کر نہ چلو یعنی ایسی چال نہ چلو جس سے تکبر اور فخر و غرور ظاہر ہوتا ہو کہ یہ احمقانہ فعل ہے گویا زمین پر چل کر وہ زمین کو پھاڑ دینا چاہتا ہے جو اس کے بس میں نہیں اور تن کر چلنے سے بہت اونچا ہونا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کے پہاڑ اس سے بہت اونچے ہیں تکبر دراصل انسان کے دل سے متعلق شدید کبیرہ گناہ ہے انسان کے چال ڈھال میں جو چیزیں تکبر پر دلالت کرنے والی ہیں وہ بھی ناجائز ہیں متکبرانہ انداز سے چلنا خواہ زمین پر زور سے نہ چلے اور تن کر اونچا نہ بنے بہرحال ناجائز ہیں تکبر کے معنی اپنے آپ کو دوسروں سے افضل واعلی سمجھنا اور دوسروں کو اپنے مقابلہ میں کمتر و حقیر سمجھنا ہے حدیث میں اس پر سخت وعیدیں مذکور ہیں۔ امام مسلم نے بروایت حضرت عیاض بن عمار نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے پاس بذریعہ وحی یہ حکم بھیجا ہے کہ تواضع اور پستی اختیار کرو کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی پر فخر اور اپنی بڑائی کا طرز اختیار نہ کرے اور کوئی کسی پر ظلم نہ کرے (مظہری) اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں داخل نہیں ہوگا وہ آدمی جس کے دل میں ذرہ کی برابر بھی تکبر ہوگا (مظہری بحوالہ صحیح مسلم) اور ایک حدیث قدسی میں بروایت ابوہریرہ ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار جو شخص مجھ سے ان کو چھیننا چاہئے تو میں اس کو جہنم میں داخل کروں گا (چادر اور ازار سے مراد لباس ہے اور اللہ تعالیٰ نہ جسم ہے نہ جسمانی جس کے لئے لباس درکار ہو اس لئے اس سے مراد اس جگہ اللہ تعالیٰ کی صفت کبریائی ہے جو شخص اس صفت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بننا چاہے وہ جہنمی ہے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تکبر کرنے والے قیامت کے دن چھوٹی چیونٹیوں کے برابر انسانوں کی شکل میں اٹھائے جاویں گے جن پر ہر طرف سے ذلت و خواری برستی ہوگی ان کو جہنم کے ایک جیل خانہ کی طرف ہانکا جائے گا جس کا نام بولس ہے ان پر سب آگوں سے بڑی تیز آگ چڑھی ہوگی اور پینے کے لئے ان کو اہل جہنم کے بدن سے نکلا ہوا پیپ لہو دیا جائے گا (ترمذی بروایت عمر بن شعیب عن ابیہ عن جدہ از مظہری) اور حضرت فاروق اعظم ؓ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سربلند فرماتے ہیں تو وہ اپنے نزدیک تو چھوٹا مگر سب لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرتے ہیں تو وہ خود اپنی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور لوگوں کی نظر میں وہ کتے اور خنزیر سے بھی بد تر ہوتا ہے (مظہری)
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ جتنی باتیں ہیں ان سب میں بری چیز ہے تیرے رب کی بیزاری۔

احکام مذکورہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد آخری آیت میں فرمایا (آیت) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا یعنی مذکورہ تمام برے کام اللہ کے نزدیک مکروہ و ناپسند ہیں۔ مذکورہ احکام میں جو محرمات ومنہیات ہیں ان کا برا اور ناپسند ہونا تو ظاہر ہے مگر ان میں کچھ احکام اوامر بھی ہیں جیسے والدین اور اقرباء کے حقوق ادا کرنا اور وفائے وغیرہ ان میں بھی چونکہ مقصود ان کی ضد سے بچنا ہے کہ والدین کی ایذاء سے رشتہ داروں کی قطع رحمی سے نقض عہد سے پرہیز کرو یہ چیزیں سب حرام و ناپسند ہیں اس لئے مجموعہ کو مکروہ فرمایا گیا ہے (بیان القرآن) تنبیہ مذکورہ پندرہ آیتوں میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ ایک حیثیت سے اس سعی وعمل کی تشریح ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوں جس کا ذکر اٹھارہ آیتوں سے پہلے آیا ہے وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہر سعی وعمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں بلکہ صرف وہی جو رسول کریم ﷺ کی سنت اور تعلیم کے مطابق ہو ان احکام میں اس مقبول سعی و عمل کے اہم ابواب کا ذکر آ گیا ہے جس میں پہلے حقوق اللہ کا پھر حقوق العباد کا بیان ہے۔ یہ پندرہ آیتیں پوری تورات کا خلاصہ ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ پوری توریت کے احکام سورة بنی اسرائیل کی پندرہ آیتوں میں جمع کردیئے گئے ہیں (مظہری)
Ayahs 17:39–41

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ ہے ان باتوں میں سے جو وحی بھیجی تیرے رب نے تیری طرف عقل کے کاموں سے اور نہ ٹھہرا اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی پھر پڑے تو دوزخ میں الزام کھا کر دھکیلا جا کر

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

کیا تم کو چن کر دے دیئے تمہارے رب نے بیٹے اور اپنے لئے کرلیا فرشتوں کو بیٹیاں تم کہتے ہو بھاری بات

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور پھیر پھیر کر سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ سوچیں اور ان کو زیادہ ہوتا ہے وہی بدکنا

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ یہ باتیں (یعنی احکام مذکورہ) اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں (اور اے مخاطب) اللہ برحق کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز نہ کرنا ورنہ تو الزام خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا (احکام مذکورہ کو شروع بھی توحید کے مضمون سے کیا گیا تھا ختم بھی اسی پر کیا گیا اور آگے بھی اسی مضمون توحید کا بیان ہے کہ جب اوپر شرک کا قبیح اور باطل ہونا سن لیا) تو کیا (پھر بھی ایسی باتوں کے قائل ہوتے ہو جو توحید کے خلاف ہیں مثلا یہ کہ) تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنائی ہیں (جیسا کہ عرب کے جاہل فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے جو دو وجہ سے باطل ہے اول تو اللہ کے لئے اولاد قرار دینا پھر اولاد بھی لڑکیاں جن کو لوگ اپنے لئے پسند نہیں کرتے ناکارہ سمجھتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ کی طرف ایک اور نقص کی نسبت ہوتی ہے) بیشک تم بڑی بات کہتے ہو اور (افسوس تو یہ ہے کہ اس مضمون توحید اور شرک کے ابطال کو) ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کردیا ہے تاکہ اچھی طرح سمجھ لیں اور مختلف طریقوں سے بار بار توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کے وجود توحید سے) ان کو نفرت ہی جاتی ہے آپ (ابطال شرک کے لئے ان سے) فرمائیے کہ اگر اس (معبود برحق) کے ساتھ اور معبود بھی (شریک) ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو اس حالت میں عرش والے (حقیقی خدا) تک انہوں نے (یعنی دوسرے معبودوں نے کبھی کا) راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا) (یعنی جن کو تم اللہ کے ساتھ خدائی کا شریک قرار دیتے ہو اگر وہ واقعی شریک ہوتے تو عرش والے خدا پر چڑھائی کردیتے اور راستہ ڈھونڈ لیتے اور جب خداؤوں میں جنگ ہوجاتی تو دنیا کا نظام کس طرح چلتا جس کا ایک خاص نظام محکم کے ساتھ چلنا ہر شخص مشاہدہ کر رہا ہے اس لئے نظام عالم کا صحیح طور پر چلتے رہنا خود اس کی دلیل ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہے اس سے ثابت ہوا کہ) یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک اور اس سے بہت زیادہ بالا و برتر ہے (وہ ایسا پاک ہے کہ) تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے (فرشتے آدمی اور جن) ان میں (موجود) ہیں (سب کے سب قالا یا حالا) اس کی پاکی بیان کر رہے ہیں اور (یہ تسبیح صرف عقل والے انسان اور جن کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ زمین و آسمان کی) کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی تسبیح (پاکی بیان کرنے کو) سمجھتے نہیں ہو بیشک وہ بڑا حلیم بڑا غفور ہے۔
Ayahs 17:42–43

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ اگر ہوتے اس کے ساتھ اور حاکم جیسا یہ بتلاتے ہیں تو نکالتے صاحب عرش کی طرف راہ

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کی باتوں سے بےنہایت

معارف و مسائل توحید کی جو دلیل آیت اِذًا لَّابْتَغَوْا میں بیان فرمائی ہے کہ اگر تمام کائنات عالم کا خالق مالک اور متصرف صرف ایک ذات اللہ کی نہ ہو بلکہ اس خدائی میں اور بھی شریک ہوں تو ضرور ہے کہ ان میں کبھی اختلاف بھی ہوگا اور اختلاف کی صورت میں سارا نظام عالم برباد ہوجائے گا کیونکہ ان سب میں دائمی صلح ہونا اور ہمیشہ باقی رہنا عادۃ ممتنع ہے یہ دلیل یہاں اگرچہ امتناعی انداز میں بیان کی گئی ہے مگر علم کلام کی کتابوں میں اس دلیل کا برہانی اور منطقی ہونا بھی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اہل علم وہاں دیکھ سکتے ہیں۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور کوئی چیز نہیں جو نہیں پڑھتی خوبیاں اس کی لیکن تم نہیں سمجھتے ان کا پڑھنا بیشک وہ ہے تحمل والا بخشنے والا۔

زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کے تسبیح کرنے کا مطلب ان چیزوں میں فرشتے سب کے سب اور انسان وجن جو مومن ہیں ان کا اللہ کی تسبیح کرنا تو بدیہی ہے سبھی جانتے ہیں کافر انسان اور جن جو بظاہر تسبیح نہیں کرتے اسی طرح عالم کی دوسری چیزیں جن کو کہا جاتا ہے کہ ان میں عقل و شعور نہیں ہے ان کے تسبیح پڑھنے کا مطلب کیا ہے بعض علماء نے فرمایا کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حال یعنی ان کے حالات کی شہادت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کا مجموعی حال بتلا رہا ہے یہی شہادت حال اس کی تسبیح ہے۔ مگر دوسرے اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتے اور مومن جن و انس کے لئے مخصوص ہے مگر تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے کائنات کے ذرہ ذرہ کو اپنا تسبیح خواں بنا رکھا ہے کافر بھی اول تو عموما خدا تعالیٰ کو مانتے اور اس کی عظمت کے قائل ہیں اور جو مادہ پرست دھریے یا آج کل کے کمیونسٹ خدا کے وجود کے بظاہر قائل نہیں مگر ان کے وجود کا ہر جز جبری طور پر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے جیسے درخت اور پتھر مٹی وغیرہ سب چیزیں تسبیح حق میں مشغول ہیں مگر ان کی یہ تسبیح جو جبری اور تکوینی ہے یہ عام لوگ سنتے نہیں قرآن کریم کا ارشاد (آیت) وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ہر ذرہ ذرہ کی تسبیح تکوینی کوئی ایسی چیز ہے جس کو عام انسان سمجھ نہیں سکتے تسبیح حالی کو تو اہل عقل وفہم جان سکتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ تسبیح صرف حالی نہیں حقیقی ہے مگر ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر ہے (ذکرہ القرطبی) حدیث میں جو آنحضرت محمد ﷺ کا یہ معجزہ مذکور ہے کہ آپ کی مٹھی میں کنکروں کا تسبیح کرنا صحابہ کرام ؓ اجمعین نے کانوں سے سنا اس کا معجزہ ہونا تو ظاہر ہے مگر خصائص کبری میں شیخ جلال الدین سیوطی نے فرمایا کہ کنکروں کا تسبیح پڑھنا حضور ﷺ کا معجزہ نہیں وہ تو جہاں کہیں بھی ہیں تسبیح پڑھتی ہیں بلکہ معجزہ آپ کا یہ ہے کہ آپ کے دست مبارک میں آنے کے بعد ان کی وہ تسبیح کانوں سے سنی جانے لگی۔ امام قرطبی نے اسی تحقیق کو راجح قرار دیا ہے اور اس پر قرآن وسنت کے بہت دلائل پیش کئے ہیں مثلا سورة ص میں حضرت داؤد ؑ کے بارے میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ (یعنی ہم نے پہاڑوں کو مسخر کردیا کہ وہ داؤد ؑ کے ساتھ صبح و شام تسبیح کرتے ہیں اور سورة بقرہ میں پہاڑوں کے پتھروں کے متعلق ارشاد ہے (آیت) اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ (یعنی پہاڑ کے بعض پتھر اللہ کے خوف سے نیچے گر جاتے ہیں) جس سے پتھروں میں شعور میں و ادراک اور خدا کا خوف ہونا ثابت ہوا اور سورة مریم میں نصاری کے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہنے کی تردید میں فرمایا (آیت) وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا یعنی یہ لوگ اللہ کے لئے بیٹا تجویز کرتے ہیں ان کے اس کلمہ کفر سے پہاڑوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے اور وہ گرنے لگتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ خوف ان کے شعور و ادراک کا پتہ دیتا ہے اور شعور و ادراک کے بعد تسبیح کرنا کوئی امر مستبعد نہیں رہتا۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے کہ اے فلاں کیا تیرے اوپر کوئی ایسا آدمی گذرا ہے جو اللہ کو یاد کرنے والا ہو اگر وہ کہتا ہے کہ ہاں تو یہ پہاڑ اس سے خوش ہوتا ہے اس پر استدلال کے لئے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے یہ آیت پڑھی قالوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا اور پھر فرمایا کہ جب اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ پہاڑ کلمات کفر سننے سے متاثر ہوتے ہیں ان پر خوف طاری ہوجاتا ہے تو کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ باطل کلمات کو سنتے ہیں حق بات اور ذکر اللہ نہیں سنتے اور اس سے متاثر نہیں ہوتے (قرطبی بحوالہ دقائق ابن مبارک) اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی جن اور انسان اور درخت اور پتھر اور ڈھیلا ایسا نہیں جو موذن کی آواز سنتا ہے اور قیامت کے روز اس کے ایمان اور نیک ہونے کی شہادت نہ دے (مؤ طا امام مالک و سنن ابن ماجہ بروایت ابی سعید خدری ؓ امام بخاری نے روایت حضرت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نقل کیا ہے کہ ہم کھانے کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے جبکہ وہ کھایا جا رہا ہو اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تو کھانے کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے اور صحیح مسلم میں بروایت حضرت جابر بن سمرہ ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں مکہ مکرمہ کے اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو بعثت ونبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد حجر اسود ہے واللہ اعلم۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ روایات حدیث اس طرح کے معاملات میں بہت ہیں اور اسطوانہ حنانہ کی حکایت تو عام مسلمانوں کی زبان زد ہے جس کے رونے کی آواز صحابہ کرام ؓ اجمعین نے سنی جبکہ رسول کریم ﷺ نے خطبہ کے وقت اس کو چھوڑ کر منبر پر خطبہ دینا شروع کیا۔ ان روایات کے بعد اس میں کیا بعد رہ جاتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز میں شعور و ادراک ہے اور ہر چیز حقیقی طور پر اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور ابراہیم نے فرمایا کہ یہ تسبیح عام ہے ذی روح چیزوں میں بھی اور غیر ذی روح چیزوں میں بھی یہاں تک کہ دروازے کے کو اڑوں کی آواز میں بھی تسبیح ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ اگر تسبیح سے مراد تسبیح حالی ہوتی تو مذکورہ آیت میں حضرت داؤد کی کیا تخصیص رہتی تسبیح حالی تو ہر انسان ذی شعور ہر چیز سے معلوم کرسکتا ہے اس لئے ظاہر یہی ہے کی یہ تسبیح قولی تھی انتہی (اور جیسا کہ بحوالہ خصائص کبری اوپر نقل کیا ہے کہ کنکروں کا تسبیح پڑھنا معجزہ نہیں وہ ہر جگہ ہر حال اور ہر وقت میں عام ہے آنحضرت محمد ﷺ کا معجزہ یہ تھا کہ آپ کے دست مبارک میں آنے کے بعد ان کی تسبیح اس طرح ہوگئی کہ عام لوگوں نے کانوں سے سنا اسی طرح پہاڑوں کی تسبیح بھی حضرت داؤد ؑ کا معجزہ اسی حیثیت سے ہے کہ ان کے معجزہ سے وہ تسبیح کانوں سے سننے کے قابل ہوگئی (واللہ اعلم)
Ayahs 17:45–46

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تو پڑھتا ہے قرآن کردیتے ہیں ہم بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے آخرت کو ایک پردہ چھپا ہوا

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم رکھتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب ذکر کرتا ہے تو قرآن میں اپنے رب کا اکیلا کر کر بھاگتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر

خلاصہ تفسیر سابقہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ توحید کا مضمون قرآن مجید میں مختلف عنوانات اور مختلف دلائل کے ساتھ بار بار ذکر ہونے کے باوجود یہ بدنصیب مشرکین اس کو نہیں مانتے ان آیات میں ان کے نہ ماننے کی وجہ بتلائی گئی ہے کہ یہ ان آیات میں غور و فکر ہی نہیں کرتے بلکہ ان سے نفرت اور تمسخر کرتے ہیں اس لئے ان کو علم حقیقت سے اندھا کردیا گیا ہے خلاصہ تفسیر یہ ہے۔ اور جب آپ (تبلیغ کے لئے) قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (اور وہ پردہ یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیتے ہیں اس سے کہ وہ اس (قرآن کے مقصود) کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ڈال دیتے ہیں (اس سے کہ وہ ان کو ہدایت حاصل کرنے کے لئے سنیں مطلب یہ ہے کہ وہ پردہ ان کی نافہمی کا اور اس کا ہے کہ وہ سمجھنے کا ارادہ ہی نہیں کرتے جس سے وہ آپ کی شان نبوت کو پہچان سکیں) اور جب آپ قرآن میں صرف اپنے رب (کے اوصاف و کمالات) کا ذکر کرتے ہیں (اور یہ لوگ جن معبودوں کی عبادت کرتے ہیں ان میں وہ اوصاف میں نہیں) تو وہ لوگ (اپنی نافہمی بلکہ کج فہمی کے سبب اس سے) نفرت کرتے ہوئے پشت پھیر کر چل دیتے ہیں (آگے ان کے اس عمل باطل پر وعید ہے کہ) جس وقت یہ لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ (قرآن کو) سنتے ہیں (کہ وہ غرض محض اعتراض اور طعن ونکتہ چینی کی ہے) اور جس وقت یہ لوگ (قرآن سننے کے بعد) آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں (ہم اس کو بھی خوب جانتے ہیں) جبکہ یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ (یعنی ان کی برادری میں سے جو لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ لگ گئے ہیں) محض ایسے شخص کا ساتھ دے رہے ہو جس پر جادو کا (خاص اثر (یعنی جنوں کا) ہوگیا ہے (یعنی یہ جو عجیب عبیب باتیں کرتے ہیں یہ سب مالیخولیا ہے اے محمد ﷺ ذرا) آپ دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں سو یہ لوگ (بالکل ہی) گمراہ ہوگئے تو (اب حق کا) راستہ نہیں پاسکتے (کیونکہ ایسی ہٹ دھرمی اور ضد اور پھر اللہ کے رسول کریم ﷺ کے ساتھ ایسا معاملہ اس سے انسان کی استعداد فہم و ہدایت سلب ہوجاتی ہے)
Ayahs 17:47–48

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے وہ سنتے ہیں جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف اور جب وہ مشورہ کرتے ہیں جبکہ کہتے ہیں یہ بےانصاف جس کے کہے پر تم چلتے ہو وہ نہیں ہے مگر ایک مرد جادو کا مارا

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھ لے کیسے جماتے ہیں تجھ پر مثلیں اور بہکتے پھرتے ہیں سو راہ نہیں پاسکتے۔

معارف و مسائل پیغمبر پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا بیماری کا اثر ہوجانا اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے بخار اور درد ہوسکتا ہے ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی خاص اسباب طبیعہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے اور حدیث میں ثابت بھی ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ پر سحر کا اثر ہوگیا تھا آخری آیت میں جو کفار نے آپ کو مسحور کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی اس کا حاصل وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی مراد درحقیقت مسحور کہنے سے مجنون کہنا تھا اسی کی تردید قرآن نے فرمائی ہے اس لئے حدیث سحر اس کے خلاف اور متعارض نہیں۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی ودوسری آیت میں جو مضمون آیا ہے اس کا ایک خاص شان نزول ہے جو قرطبی نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ جب قرآن میں سورة تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی جس میں ابولہب کی بیوی کی بھی مذمت مذکور ہے تو اس کی بیوی رسول کریم ﷺ کی مجلس میں گئی اس وقت صدیق اکبر مجلس میں موجود تھے اس کو دور سے دیکھ کر آنحضرت محمد ﷺ سے عرض کیا کہ آپ یہاں سے ہٹ جائیں تو بہتر ہے کیونکہ یہ عورت بڑی بدزبان ہے یہ ایسی باتیں کہے گی جس سے آپ کو تکلیف پہنچنے گی آپ نے فرمایا نہیں اس کے اور میرے درمیان اللہ تعالیٰ پردہ حائل کردیں گے چناچہ وہ مجلس میں پہنچی مگر رسول کریم ﷺ کو نہ دیکھ سکی تو صدیق اکبر سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ آپ کے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے صدیق اکبر نے فرمایا کہ واللہ وہ تو کوئی شعر ہی نہیں کہتے جس میں عادۃ ہجو کی جاتی ہے تو وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ تم بھی ان کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو اس کے چلے جانے کے بعد صدیق اکبر نے عرض کیا کہ کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ یہاں رہی ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان پردہ کرتا رہا۔ دشمنوں کی نظر سے مستور رہنے کا ایک عمل حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب مشرکین کی آنکھوں سے مستور ہونا چاہتے تو قرآن کی تین آیتیں پڑھ لیتے تھے اس کے اثر سے کفار آپ کو نہ دیکھ سکتے تھے وہ تین آیتیں یہ ہیں ایک آیت سورة کہف میں یعنی اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا (57) دوسری آیت سورة نحل میں ہے اولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ (108) اور تسیری آیت سورة جاثیہ میں ہے اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً (23) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا یہ معاملہ میں نے ملک شام کے ایک شخص سے بیان کیا اس کو کسی ضرورت سے رومیوں کے ملک میں جانا تھا وہاں گیا اور ایک زمانہ تک مقیم رہا پھر رومی کفار نے اس کو ستایا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلا ان لوگوں نے اس کا تعاقب کیا اس شخص کو وہ روایت یاد آگئی اور مذکورہ تین آیتیں پڑھیں قدرت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا کہ جس راستہ پر یہ چل رہے تھے اسی راستہ پر دشمن گذر رہے تھے مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ امام ثعلبی کہتے ہیں کہ حضرت کعب سے جو روایت نقل کی گئی ہے میں رئے کے رہنے والے ایک شخص کو بتلائی اتفاق سے ویلم کے کفار نے اس کو گفتار کرلیا کچھ عرصہ ان کی قید میں رہا پھر ایک روز موقع پا کر بھاگ کھڑا ہوا یہ لوگ اس کے تعاقب میں نکلے مگر اس شخص نے بھی یہ تین آیتیں پڑھ لیں اس کا یہ اثر ہوا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ اس کو نہ دیکھ سکے حالانکہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور ان کے کپڑے ان کے کپڑوں سے چھو جاتے تھے۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ ان تینوں کے ساتھ وہ آیات سورة یسین کی بھی ملالی جائیں جن کو آنحضرت محمد ﷺ نے ہجرت کے وقت پڑھا تھا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا آپ نے یہ آیات پڑھیں اور ان کے درمیان سے نکلتے ہوئے چلے گئے بلکہ ان کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے گئے ان میں سے کیسی کو خبر نہیں ہوئی وہ آیات سورة یسین کی یہ ہیں يٰسۗ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤ ُ هُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مجھے خود اپنے ملک اندلس میں قرطبہ کے قریب قلعہ منثور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ میں دشمن کے سامنے بھاگا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا دشمن نے دو گھوڑے سوار میرے تعاقب میں بھیجے اور میں بالکل کھلے میدان میں تھا کوئی چیز پردہ کرنے والی نہ تھی مگر میں سورة یسین کی یہ آیتیں پڑھ رہا تھا یہ دونوں سوار میری برابر سے گذرے پھر جہاں سے آئے تھے یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ یہ شخص کوئی شیطان ہے کیونکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکے اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے اندھا کردیا تھا (قرطبی)
Ayahs 17:49–51

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم ہوجائیں ہڈیاں اور چورا چورا پھر اٹھیں گے نئے بن کر

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

تو کہہ تم ہوجاؤ پتھر یا لوہا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی خلقت جس کو مشکل سمجھو اپنے جی میں پھر اب کہیں گے کون لوٹا کر لائے گا ہم کو کہہ جس نے پیدا کیا تم کو پہلی بار پھر اب مٹکائیں گے تیری طرف اپنے سر اور کہیں گے کب ہوگا یہ تو کہہ شاید نزدیک ہی ہوگا

خلاصہ تفسیر یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور (ہڈیوں کا بھی) چورا (یعنی ریزہ ریزہ) ہوجاویں گے تو کیا (اس کے بعد قیامت میں) ہم از سر نو پیدا اور زندہ کئے جاویں گے (یعنی اول تو مر کر زندہ ہونا ہی مشکل ہے کہ جسم میں زندگی کی صلاحیت نہیں رہی پھر جبکہ وہ جسم بھی ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء منتشر ہوجاویں تو اس کے زندہ ہونے کو کون مان سکتا ہے) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم تو ہڈیوں ہی کی حیات کو بعید سمجھتے ہو اور ہم کہتے ہیں کہ) تم پتھر یا لوہا یا اور کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں (زندگی کی صلاحیت سے) بہت ہی بعید ہو (پھر دیکھو کہ زندہ کئے جاؤ گے یا نہیں اور پتھر اور لوہے کو بعید از حیات قرار دینا اس لئے ظاہر ہے کہ ان میں کسی وقت بھی حیات حیوانی نہیں آتی بخلاف ہڈیوں کے کہ ان میں پہلے اس وقت تک حیات رہ چکی ہے تو جب پتھر لوہے کا زندہ کرنا اللہ کے لئے مشکل نہیں تو اعضائے انسانی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا مشکل ہوگا اور آیت میں لفظ کونوا جو صیغہ امر ہے اس سے مراد یہاں امر نہیں بلکہ ایک تعلیق اور شرط ہے کہ اگر تم بالفرض پتھر اور لوہا بھی ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ پھر بھی تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر ہے) اس پر وہ پوچھیں گے کہ وہ کون ہے جو دوبارہ ہم کو زندہ کرے گا آپ فرما دیجئے کہ وہ وہ ہے جس نے تم کو اول بار میں پیدا کیا تھا (اصل بات یہ ہے کہ کسی چیز کے وجود میں آنے کے لئے دو چیزیں درکار ہیں ایک مادہ اور محل میں وجود کی قابلیت دوسرے اس کو وجود میں لانے کے لئے قوت فاعلہ پہلا سوال محل کی قابلیت کے متعلق تھا کہ وہ مرنے کے بعد زندگی کے قابل نہیں رہا اس کا جواب دے کر محل کی قابلیت ثابت کردی گئی تو یہ دوسرا سوال فاعلیت کے متعلق کیا گیا کہ ایسا کون سا قوت وقدرت والا ہے جو اپنی قوت فاعلیت سے یہ عجیب کام کرسکے اس کے جواب میں فرما دیا گیا کہ جس نے پہلے تمہیں ایسے مادے سے پیدا کیا تھا جس میں قابلیت حیات کا کسی کو گمان بھی نہ تھا تو اس کو دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے اور جب قابل و فاعل دونوں کا سوال حل ہوگیا تو اب یہ لوگ زمانہ وقوع کی تحقیق کے لئے) آپ کے آگے سر ہلا ہلا کر کہیں گے کہ (اچھا یہ بتلائیے کہ) یہ (زندہ ہونا) کب ہوگا آپ فرما دیجئے کہ عجب نہیں کہ یہ قریب ہی آ پہونچا ہو (آگے ان حالات کا بیان ہے جو اس نئی زندگی کے وقت پیش آویں گے) یہ اس روز ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم کو (زندہ کرنے اور میدان حشر میں جمع کرنے کے لئے فرشتہ کے ذریعہ) پکارے گا اور تم (باضطرار) اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے (یعنی زندہ بھی ہوجاؤ گے اور میدان حشر میں جمع بھی ہوجاؤ گے) اور (اس روز کی ہول اور ہیبت دیکھ کر تمہارا یہ حال ہوجاوے گا کہ دنیا کی ساری عمر اور قبر میں رہنے کی ساری مدت کی نسبت) تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم (مدت دنیا میں) رہے تھے (کیونکہ دنیا میں اور قبر میں آج کی ہولناکی کے مقابلہ میں پھر کچھ نہ کچھ راحت تھی اور راحت کا زمانہ انسان کو مصیبت پڑنے کے وقت بہت مختصر معلوم ہوا کرتا ہے)
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن تم کو پکارے گا پھر چلے آؤ گے اس کی تعریف کرتے ہوئے اور اٹکل کرو گے کہ دیر نہیں لگی تم کو مگر تھوڑی۔

معارف و مسائل (آیت) يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ لفظ يَدْعُوْكُمْ دعاء سے مشتق ہے جس کے معنے آواز دے کر بلانے کے ہیں اور معنے یہ ہیں کہ جس روز اللہ تعالیٰ تم سب کو محشر کی طرف بلائے گا اور یہ بلانا بواسطہ فرشتہ اسرافیل کے ہوگا کہ جب وہ دوسرا صور پھونکے گے تو سب مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زندہ ہونے کے بعد سب کو میدان حشر میں جمع کرنے کے لئے آواز دی جائے (قرطبی) اور حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز تم کو تمہارے اپنے اور باپ کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے اپنے نام اچھے رکھا کرو (بیہودہ ناموں سے پرہیز کرو) (قرطبی) محشر میں کفار بھی اللہ کی حمد وثناء کرتے اٹھیں گے فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ۔ استجابت کے معنی کسی کے ہلانے پر حکم کی تعمیل کرنے اور حاضر ہوجانے کے ہیں معنے یہ ہیں کہ میدان حشر میں جب تم کو بلایا جاوے گا تو تم سب اس آواز کی اطاعت کرو گے اور جمع ہوجاؤ گے بحمدہ یہ تستجیبون کی ضمیر فاعل کا حال ہے بمعنے حامدین مراد یہ ہے کہ اس میدان میں آنے کے وقت تم سب کے سب اللہ کی حمد وثنا کرتے ہوئے حاضر ہوگے اس آیت کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مومن و کافر سب کا یہی حال ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے اٹھیں گے کیونکہ اس آیت میں اصل خطاب کفار ہی کو ہے انھیں کے متعلق یہ بیان ہو رہا ہے کہ سب حمد کرتے ہوئے اٹھیں گے ائمہ تفسری میں حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ کفار بھی اپنی قبروں سے نکلتے وقت سبحانک وبحمدک کے الفاظ کہتے ہوئے نکلیں گے مگر اس وقت کا حمد وثناء کرنا ان کو کوئی نفع نہیں دے گا (قرطبی) کیونکہ یہ لوگ جب مرنے کے بعد زندگی دیکھیں گے تو غیر اختیاری طور پر ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے الفاظ نکلیں گے وہ کوئی ایسا عمل نہیں ہوگا جس پر جزاء و مرتب ہو اور بعض حضرات مفسرین نے اس حال کو مومنیں کے لئے مخصوص بتلایا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ کفار کے متعلق تو قرآن کریم میں یہ ہے کہ جب وہ زندہ کئے جاویں گے تو یہ کہیں گے (آیت) يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا (اے افسوس ہمیں کس نے ہماری قبر سے زندہ کر اٹھایا ہے) اور دوسری آیت میں ہے کہ یہ کہیں گے (آیت) يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْبِ اللّٰهِ (یعنی اے حسرت و افسوس اس پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں بڑی کوتاہی کی ہے) لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ شروع میں سب کے سب حمد کرتے ہوئے اٹھیں بعد میں جب کافروں کو مومنین سے الگ کردیا جاوے گا جیسا کہ سورة یسین کی آیت میں ہے (آیت) وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ (اے مجرموتم آج سب الگ ممتاز ہو کر جمع ہوجاؤ) اس وقت ان کی زبانوں سے وہ کلمات بھی نکلیں گے جو آیات مذکورہ میں آئے ہیں اور یہ بات قرآن وسنت کی بیشمار تصریحات سے معلوم اور ثابت ہے کہ محشر کے مواقف مختلف ہوں گے ہر موقف میں لوگوں کے حال مختلف ہوں گے امام قرطبی نے فرمایا کہ حشر میں اٹھنے کی ابتدا بھی حمد سے ہوگی سب کے سب حمد کرتے ہوئے اٹھیں گے اور سب معاملات کا خاتمہ بھی حمد پر ہوگا جیسا کہ ارشاد ہے (آیت) وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَقِّ وَقِيْلَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (یعنی سب اہل محشر کا فیصلہ حق کے مطابق کردیا گیا ہے اور یہ کہا گیا کہ حمد و شکر ہے اللہ رب العالمین کا)۔
Ayahs 17:53–54

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور کہہ دے میرے بندوں کو کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کو اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تم کو عذاب دے اور تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر ذمہ لینے والا

خلاصہ تفسیر اور آپ میرے (مسلمان) بندوں سے کہہ دیجئے کہ (اگر کفار کو جواب دیں تو) ایسی بات کہا کریں جو (اخلاق کے اعتبار سے) بہتر ہو (یعنی اس میں سب و شتم اور تشدد اور اشتعال انگیزی نہ ہو کیونکہ) شیطان (سخت بات کہلوا کر) لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے (اور وجہ اس تعلیم کی یہ ہے کہ سختی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ہدایت و گمراہی تو مشیت ازلیہ کے تابع ہے) تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے (کہ کون کس قابل ہے بس) اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) پر (چاہے) رحمت فرما دے (یعنی ہدایت کر دے) یا اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) کو (چاہے) عذاب دینے لگے (یعنی اس کو توفیق اور ہدایت نہ دے) اور ہم نے آپ (تک) کو ان (کی ہدایت) کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا (اور جب باوجود نبی ہونے کے آپ ذمہ دار نہیں بنائے گئے تو دوسروں کی کیا مجال ہے اس لئے کسی کے درپے ہونا اور سختی کرنا بےفائدہ ہے) اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان کو (بھی) جو کہ آسمانوں میں ہیں اور (ان کو بھی جو کہ) زمین میں ہیں (آسمان والوں سے مراد فرشتے اور زمین والوں سے مراد انسان اور جنات ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم خوب واقف ہیں کہ ان میں سے کس کو نبی اور رسول بنانا مناسب ہے کس کو نہیں اس لئے اگر ہم نے آپ کو نبی بنادیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے) اور (اس طرح اگر ہم نے آپ کو دوسروں پر فضیلت دے دیتو تعجب کیا ہے کیونکہ) ہم نے (پہلے بھی) بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے (اور اسی طرح اگر ہم نے آپ کو قرآن دیا تو تعجب کی کیا بات ہے کیونکہ آپ سے پہلے) ہم داؤد کو زبور دے چکے ہیں۔ معارف و مسائل بدزبانی اور سخت کلامی کفار کے ساتھ درست نہیں پہلی آیت میں جو مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ سخت کلامی سے منع کیا گیا ہے اس کی مراد یہ ہے کہ بےضرورت سختی نہ کی جاوے اور ضرورت ہو تو قتل تک کرنے کی اجازت ہے۔ کہ بےحکم شرع آب خوردن خطاست، وگر خون بفتوی بریزی رواست قتل و قتال کے ذریعہ کفر کی شوکت اور اسلام کی مخالفت کو دبایا جاسکتا ہے اس لئے اس کی اجازت ہے گالی گلوچ اور سخت کلامی سے نہ کوئی قلعہ فتح ہوتا ہے نہ کسی کو ہدایت ہوتی ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت حضرت عمر بن خطاب ؓ کے ایک واقعہ میں نازل ہوئی جس کی صورت یہ تھی کہ کسی شخص نے حضرت فاروق اعظم ؓ کو گالی دی اس کے جواب میں انہوں نے بھی سخت جواب دیا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا اس کے نتیجہ میں خطرہ پیدا ہوگیا کہ دو قبیلوں میں جنگ چھڑ جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور قرطبی کی تحقیق یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں خطاب کرنے کے متعلق ہدایت ہے کہ باہم اختلاف کے وقت سخت کلامی نہ کیا کریں کہ اس کے ذریعہ شیطان ان کے آپس میں جنگ و فساد پیدا کرا دیتا ہے۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور تیرا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں اور ہم نے افضل کیا ہے بعضے پیغمبروں کو بعضوں سے اور دی ہم نے داؤد کو زبور۔

(آیت) وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا یہاں خاص طور پر زبور کا ذکر شاید اس لئے کیا گیا ہے کہ زبور میں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ خبر دی گئی ہے کہ آپ رسول و پیغمبر ہونے کے ساتھ صاحب ملک و سلطنت بھی ہوں گے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ اور موجوہ زبور میں بھی بعض حضرات نے اس کا مذکور ہونا ثابت کیا ہے (تفسیر حقانی) امام بغوی نے اپنی تفسیر میں اس جگہ لکھا ہے کہ زبور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی اس میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں اور تمام سورتیں صرف دعاء اور حمد وثنا پر مشتمل ہیں ان میں حلال و حرام اور فرائض و حدود کا بیان نہیں ہے۔
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہہ پکارو جن کو تم سمجھتے ہو سوائے اس کے سو وہ اختیار نہیں رکھتے کہ کھول دیں تکلیف کو تم سے اور نہ بدل دیں

خلاصہ تفسیر آپ (ان لوگوں سے) فرما دیجئے کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) قرار دے رہے ہو (جیسے فرشتے اور جنات) ذرا ان کو (اپنی تکلیف دور کرنے کے لئے) پکارو تو سہی سو وہ نہ تم سے تکلیف کو دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا (مثلا تکلیف کو بالکل دور نہ کرسکیں کچھ ہلکا ہی کردیں) یہ لوگ کہ جن کو مشرکین (اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لئے) پکار رہے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف (پہونچنے کا) ذریعہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے (یعنی وہ خود ہی اطاعت و عبادت میں مشغول ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوجائے اور چاہتے ہیں کہ تقرب کا درجہ اور بڑھ جائے) اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے (نافرمانی کی صورت میں) ڈرتے ہیں واقعی آپ کے رب کا عذاب ہے بھی ڈرنے کی چیز (مطلب یہ ہے کہ جب وہ خود عابد ہیں تو معبود کیسے ہو سکتے ہیں اور جب وہ خود ہی اپنی ضروریات میں اور تکلیف کے دور کرنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں تو وہ دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا کرسکتے ہیں) اور (کفار کی) ایسی کوئی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں (یا قیامت کے روز) اس کے رہنے والوں کو (دوزخ کا) سخت عذاب نہ دیں یہ بات کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہے (پس اگر کوئی کافر یہاں ہلاک ہونے سے بچ گیا تو قیامت کے روز کی بڑی آفت سے نہ بچے گا اور طبعی موت سے ہلاک ہونا تو کفار کے ساتھ مخصوص نہیں سبھی مرتے ہیں اس لئے بستیوں کے ہلاک ہونے سے اس جگہ مراد یہ ہے کہ کسی عذاب اور آفت کے ذریعہ ہلاک کیا جائے تو خلاصہ یہ ہوا کہ کفار پر کبھی تو دنیا میں عذاب بھیج دیا جاتا ہے اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی عذاب نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے بہرحال نجات نہیں۔
Ayahs 17:57–58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب تک وسیلہ کہ کونسا بندہ بہت نزدیک ہے اور امید رکھتے ہیں اس کی مہربانی کی اور ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی بستی نہیں جس کو ہم خراب نہ کردیں گے قیامت سے پہلے یا آفت ڈالیں گے اس پر سخت آفت، یہ ہے کتاب میں لکھا گیا

معارف و مسائل (آیت) يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ لفظ وسیلہ کے معنی ہر وہ چیز جس کو کسی دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا جائے اور اللہ کے لئے وسیلہ یہ ہے کہ علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کی ہر وقت رعایت رکھی اور احکام شرعیہ کی پابندی کرے مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات اپنے عمل صالح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کی طلب میں لگے ہوئے ہیں۔ (آیت) يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ حضرت سہل بن عبداللہ نے فرمایا کہ رجاء اور خوف یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بھی رہنا اور ڈرتے بھی رہنا یہ انسان کے دو مختلف حال ہیں جب یہ دونوں برابر درجے میں رہیں تو انسان صحیح راستہ پر چلتا رہتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک مغلوب ہوجائے تو اسی مقدار سے انسان کے احوال میں خرابی آجاتی ہے (قرطبی)
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے اس لئے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے دی ثمود کو اونٹنی ان کے سمجھانے کو پھر ظلم کیا اس پر اور نشانیاں جو ہم بھیجتے ہیں سو ڈرانے کو

خلاصہ تفسیر اور ہم کو خاص (فرمائشی) معجزات کے بھیجنے سے صرف یہی بات مانع ہے کہ پہلے لوگ ان (کے ہم جنس فرمائشی معجزات) کی تکذیب کرچکے ہیں (اور مزاج و طبائع سب کافروں کے ملتے جلتے ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی تکذیب کریں گے) اور (نمونے کے طور پر ایک قصہ بھی سن لو کہ) ہم نے قوم ثمود کو (ان کی فرمائش کے مطابق حضرت صالح ؑ کے معجزہ کے طور پر) اونٹنی دی تھی (جو عجیب طور پر پیدا ہوئی اور) جو کہ (معجزہ ہونے کے سبب فی نفسہ) بصیرت کا ذریعہ تھی سو ان لوگوں نے (اس سے بصیرت حاصل نہ کی بلکہ) اس کے ساتھ ظلم کیا (کہ اس کو قتل کر ڈالا تو ظاہر یہ ہے کہ اگر موجودہ لوگوں کے فرمائشی معجزے دکھلائے گئے تو یہ بھی ایسا ہی کریں گے) اور ہم ایسے معجزات کو صرف (اس بات سے) ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں (کہ اگر یہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لاؤ گے تو فورا ہلاک کر دئے جاؤ گے اور ہوتا یہی رہا ہے کہ جن لوگوں کو فرمائشی معجزات دکھلائے گئے وہ ایمان تو لائے نہیں یہی معاملہ ان کی ہلاکت اور عذاب عام کا سبب بن گیا اور حکمت الہیہ کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ لوگ ابھی ہلاک نہ کئے جاویں اس لئے ان کے فرمائشی معجزات نہیں دکھلائے جاتے اس کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے جو ان لوگوں کو پہلے پیش آ چکا ہے جس کا ذکر یہ ہے کہ) آپ وہ وقت یاد کرلیجئے جبکہ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا رب (اپنے علم سے) تمام لوگوں (کے احوال ظاہری و باطنہ موجودہ و مستقبلہ) کو محیط ہے (اور احوال مستقبلہ میں ان کا ایمان نہ لانا بھی اللہ کو معلوم ہے جس کی ایک دلیل انہیں کا یہ واقعہ کہ ہم نے (واقعہ معراج میں) جو تماشا (بحالت بیداری) آپ کو دکھلایا تھا اور جس درخت کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے (یعنی زقوم جو طعام کفار ہے) ہم نے ان دونوں چیزوں کو ان لوگوں کے لئے موجب گمراہی کردیا (یعنی ان لوگوں نے ان دونوں امر کو سن کر تکذیب کی۔ معراج کی تکذیب تو اس بناء پر کی کہ ایک رات کی قلیل مدت میں ملک شام جانا اور پھر آسمان پر جانا ان کے نزدیک ممکن نہ تھا اور شجرہ زقوم کی تکذیب اس بناء پر کی کہ اس کو دوزخ کے اندر بتلایا جاتا ہے آگ میں کوئی درخت کیسے رہ سکتا ہے اگر ہو بھی تو جل جائے گا حالانکہ نہ ایک رات میں اتنا طویل سفر طے کرنا عقلا محال ہے نہ آسمان پر جانا ممکن ہے اور آگ کے اندر درخت کا وجود ان کی سمجھ میں نہ آیا حالانکہ کوئی محال بات نہیں کہ کسی درخت کا مزاج ہی اللہ تعالیٰ ایسا بنادیں کہ وہ پانی کے بجائے آگ سے پرورش پائے پھر فرمایا) اور ہم ان لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی بڑی سرکشی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے (شجرہ زقوم کے انکار کے ساتھ یہ لوگ استہزاء بھی کرتے تھے جس کا بیان مع زائد تحقیق کے سورة صٰفٰت میں آوے گا)
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب کہہ دیا ہم نے تجھ سے کہ تیرے رب نے گھیر لیا ہے لوگوں کو اور وہ دکھلاوا جو تجھ کو دکھلایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے اور ایسے ہی وہ درخت جس پر پھٹکار ہے قرآن میں اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو ان کو زیادہ ہوتی ہے بڑی شرارت۔

معارف و مسائل (آیت) وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (یعنی شب معراج میں جو تماشا ہم نے آپ کو دکھلایا تھا وہ لوگوں کے لئے ایک فتنہ تھا) لفظ فتنہ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کے ایک معنی وہ ہیں جو خلاصہ تفسیر میں لئے گئے یعنی گمراہی۔ ایک معنی آزمائش کے بھی آتے ہیں ایک معنی کسی ہنگامہ و فساد کے برپا ہونے کے بھی آتے ہیں یہاں ان سب معانی کا احتمال ہے حضرت عائشہ ؓ اور معاویہ ؓ اور حسن اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جگہ فتنہ سے مراد یہی آخری معنی لئے ہیں اور فرمایا کہ یہ فتنہ ارتداد کا تھا کہ جب رسول کریم ﷺ نے شب معراج میں بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر جانے اور صبح سے پہلے واپس آنے کا ذکر کیا تو بہت سے نومسلم لوگ جن میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا اس کلام کی تکذیب کر کے مرتد ہوگئے (قرطبی) اسی واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ لفظ رءیا عربی زبان میں اگرچہ خواب کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن اس جگہ مراد خواب کا قصہ نہیں کیونکہ ایسا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہوجانے کی کوئی وجہ نہیں تھی خواب تو ہر شخص ایسے دیکھ سکتا ہے بلکہ اس جگہ مراد رءیا سے ایک واقعہ عجیبہ کا بحالت بیداری دکھلانا ہے آیت مذکورہ کی تفسیر میں بعض حضرات نے اس کو واقعہ معراج کے سوا دوسرے واقعات پر بھی محمول کیا ہے مگر مجموعی اعتبار سے یہاں منطبق نہیں ہوتے اس لئے جمہور نے واقعہ معراج ہی کو اس آیت کا محمل قرار دیا ہے (کما فصلہ القرطبی)
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس بولا کیا میں سجدہ کروں ایک شخص کو جس کو تو نے بنایا مٹی کا

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے) جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کہ کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا ہے (اس پر مردود ہوگیا اس وقت) کہنے لگا کہ اس شخص کو جو آپ نے مجھ پر فوقیت دی ہے (اسی بناء پر اس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے) تو بھلا بتلائیے تو (اس میں کیا فضیلت ہے جس کی وجہ سے میں مردود ہوا) اگر آپ نے (میری درخواست کے مطابق) مجھ کو قیامت کے زمانے تک (موت سے) مہلت دے دیتو میں (بھی) بجز قدر قلیل لوگوں کو (جو مخلصین ہوں گے باقی) اس کی تمام اولاد کو اپنے قابو میں کرلوں گا (یعنی گمراہ کر دوں گا) ارشاد ہوا جا (جو تجھ سے ہو سکے کرلے) جو شخص (ان میں سے تیرے ساتھ ہو لے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے پوری سزاء اور ان میں سے جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ پکار سے (یعنی اغوا اور وسوسہ سے) اس کا قدم (راہ راست سے) اکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا (کہ تیرا سارا لشکر مل کر گمراہ کرنے میں خوب زور لگاوے) اور ان کے مال اور اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا (یعنی مال و اولاد کو گمراہی کا ذریعہ بنادینا جیسا کہ اس کا مشاہدہ ہوا) اور ان سے (جھوٹے جھوٹے) وعدے کرنا (کہ قیامت میں گناہ پر مواخذہ نہ ہوگا اور یہ سب باتیں شیطان کو بطور زجر و تنبیہ کے کہی گئی ہیں) اور شیطان ان لوگوں سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے (یہ بطور جملہ معترضہ کے تھا آگے پھر شیطان کو خطاب ہے) میرے خاص بندوں پر تیرا قابو نہ چلے گا اور (اے محمد ﷺ اس کا قابو مخلصین پر کیونکر چلے کہ) آپ کا رب (ان کا) کار ساز کافی ہے۔
Ayahs 17:62–63

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا بھلا دیکھ لو یہ شخص جس کو تو نے مجھ سے بڑھا دیا اگر تو مجھ کو ڈھیل دیوے قیامت کے دن تک تو میں اس کی اولاد کو ڈھانٹی دے لوں مگر تھوڑے سے

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا جا پھر جو کوئی تیرے ساتھ ہوا ان میں سے سو دوزخ ہے تم سب کی سزا بدلہ پورا

معارف و مسائل لَاَحْتَنِكَنَّ احتناک کے معنی ہیں کسی چیز کا استیصال اور فنا کردینا یا پوری طرح اس پر غالب آنا (قرطبی) وَاسْتَفْزِزْ استفزاز کے اصلی معنی قطع کرنے کے ہیں مراد اس جگہ حق سے قطع کردینا ہے بِصَوْتِكَ صوت بمعنے آواز معروف ہے اور شیطان کی آواز کیا ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ گانے اور مزا میرا اور لہو و لعب کی آوازیں یہی شیطان کی آواز ہے جس سے وہ لوگوں کو حق سے قطع کرتا ہے (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مزامیر موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے (قرطبی) ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کے وقت دو باتیں کہی تھیں اول یہ کہ آدم ؑ مٹی سے پیدا کئے گئے اور میں آگ کی مخلوق ہوں آپ نے مٹی کو آگ پر کیوں فوقیت اور فضیلت دے دییہ سوال امر الہی کے مقابلہ میں حکم کی حکمت معلوم کرنے سے متعلق تھا جس کا کسی مامور کو حق نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کو تو طلب حکمت کا حق کیا ہوتا دنیا میں خود انسان اپنے نوکر کو اس کا حق نہیں دیتا کہ وہ کسی کام کو کہے تو خادم وہ کام کرنے کے بجے آقا سے پوچھے کہ اس کام میں کیا حکمت ہے اس لئے اس کا یہ سوال ناقابل جواب قرار دے کر یہاں اس کا جواب نہیں دیا گیا اس کے علاوہ جواب ظاہر یہی ہے کہ کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر فوقیت دینے کا حق اسی ذات کو ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور پالا ہے وہ جس وقت جس چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دیدے وہی افضل ہوجاوے گی۔
Ayahs 17:64–65

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور گھبرا لے ان میں جس کو تو گھبرا سکے اپنی آواز سے اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے اور ساجھا کر ان سے مال اور اولاد میں اور وعدہ دے ان کو اور کچھ نہیں وعدہ دیتا ان کو شیطان مگر دغا بازی

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

وہ جو میرے بندے ہیں ان پر نہیں ہے تیری حکومت اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے والا

دوسری بات یہ کہی تھی کہ اگر قیامت زندگی ملنے کی میری درخواست منظور کرلی گئی تو میں آدم کی ساری اولاد کو بجز قدر قلیل کے گمراہ کر ڈالوں گا آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دے دیا کہ میرے خاص بندے جو مخلص ہیں ان پر تو تیرا قابو نہ چلے گا چاہے تو اپنا سارا لاؤ لشکر لے آوے اور پورا زور خرچ کرے باقی غیر مخلص اگر وہ تیرے قابو میں آگئے تو ان کا بھی وہی حال ہوگا جو تیرا ہے کہ جہنم کے عذاب میں تم سب گرفتار ہو گے اس میں (آیت) اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ میں جو شیطانی لشکر کے سوار اور پیادوں کا ذکر ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع میں بھی شیطان کے کچھ افراد سوار ہوں کچھ پیادے بلکہ یہ محاورہ پورے لشکر اور پوری طاقت استعمال کرنے کے لئے بولا جاتا ہے اور اگر واقع میں ایسا ہو کہ کچھ شیطان سوار ہوتے ہوں کچھ پیادہ تو اس میں بھی کوئی وجہ انکار نہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جتنے افراد بھی کفر و معصیت کی حمایت کے لئے لڑنے کو چلتے ہیں وہ سوار اور پیادے سب شیطان ہی کا سوار اور پیادہ لشکر ہے رہا یہ معاملہ کہ شیطان کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ اولاد آدم کو بہکا کر گمراہ کرنے پر قادر ہوجائے گا جس کی بناء پر اس نے یہ دعوی کیا تو ممکن ہے کہ انسان کے اجزا ترکیبی کو دیکھ کر اس نے یہ سمجھ لیا ہو کہ اس کے اندر نفسانی خواہشات کا غلبہ ہوگا اس لئے بہکانے میں آجانا دشوار نہیں اور اس میں بھی کچھ بعد نہیں کہ یہ دعوی بھی محض جھوٹ ہی ہو۔ (آیت) وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ۔ لوگوں کے اموال اور اولاد میں شیطان کی شرکت کا مطلب حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بیان فرمایا کہ اموال میں جو مال ناجائز حرام طریقوں سے حاصل کیا جائے یا حرام کاموں میں خرچ کیا جائے یہی شیطان کی اس میں شرکت ہے اور اولاد میں شیطان کی شرکت اولاد حرام ہونے سے بھی ہوتی ہے اور اس سے بھی کہ اولاد کے نام مشرکانہ رکھے یا ان کی حفاظت کے لئے مشرکانہ رسوم ادا کرے یا ان کی پرورش کے لئے حرام ذرائع آمدنی اختیار کرے (قرطبی)