Ayahs 16:1–2خلاصہ تفسیر
اس سورة کا نام سورة نحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صنعت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے اس کا دوسرا نام سورة نعم بھی ہے (قرطبی) نعم بکسر نون نعمت کی جمع ہے اس لئے کہ اس سورة میں خاص طور پر اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر ہے۔
خدا تعالیٰ کا حکم (یعنی سزائے کفر کا وقت قریب) آپہنچا سو تم اس میں (منکرانہ) جلدی مت مچاؤ (بلکہ توحید اختیار کرو اور اس کی حقیقت سنو کہ) وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے وہ اللہ تعالیٰ فرشتوں (کی جنس یعنی جبرئیل) کو وحی یعنی اپنا حکم دے کر اپنے بندوں میں جس پر چاہیں (یعنی انبیاء (علیہم السلام) پر) نازل فرماتے ہیں (اور وہ حکم) یہ (ہے) کہ لوگوں کو خبردار کردو کہ میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو مجھ سے ہی ڈرتے رہو (یعنی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ورنہ سزا ہوگی)
معارف و مسائل
اس سورة کو بغیر کسی خاص تمہید کے ایک شدید وعید اور ہیبت ناک عنوان سے شروع کیا گیا جس کی وجہ مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد (مصطفے ﷺ ہمیں قیامت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب کرنے اور مخالفوں کو سزا دینے کا وعدہ کیا ہے ہمیں تو یہ کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ آپہنچا حکم اللہ کا تم جلد بازی نہ کرو۔
حکم اللہ سے اس جگہ مراد وہ وعدہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول سے کیا ہے کہ ان کے دشمنوں کو زیر و مغلوب کیا جاوے گا اور مسلمانوں کو فتح ونصرت اور عزت و شوکت حاصل ہوگی اس آیت میں حق تعالیٰ نے ہیبت ناک لہجہ میں ارشاد فرمایا کہ حکم اللہ کا آپہنچا یعنی پہنچنے ہی والا ہے جس کو تم عنقریب دیکھ لو گے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں حکم اللہ سے مراد قیامت ہے اس کے آ پہنچنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا وقوع قریب ہے اور پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قیامت کا قریب ہونا یا آ پہنچنا بھی کچھ بعید نہیں رہتا (بحر محیط)
اس کے بعد کے جملے میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو حق تعالیٰ کے وعدہ کو غلط قرار دے رہے ہیں یہ کفر و شرک ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہیں (بحر)
اس آیت کا خلاصہ ایک وعید شدید کے ذریعہ توحید کی دعوت دینا ہے دوسری آیت میں دلیل نقلی سے توحید کا اثبات ہے کہ آدم ؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک دنیا کے مختلف خطوں مختلف زمانوں میں جو بھی رسول آیا ہے اس نے یہی عقیدہ توحید پیش کیا ہے حالانکہ ایک کو دوسرے کے حال اور تعلیم کی بظاہر اسباب کوئی اطلاع بھی نہ تھی غور کرو کہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار حضرات عقلاء جو مختلف اوقات میں مختلف ملکوں مختلف خطوں میں پیدا ہوں اور وہ سب ایک ہی بات کے قائل ہوں تو فطرۃ انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں ہو سکتی ایمان لانے کے لئے تنہا یہ دلیل بھی کافی ہے۔
لفظ روح سے مراد اس آیت میں بقول ابن عباس اور بقول بعض مفسرین ہدایت ہے (بحر) اس آیت میں توحید کا روایتی اور نقلی ثبوت پیش کرنیکے بعد اگلی آیتوں میں اسی عقیدہ توحید کو عقلی طور سے حق تعالیٰ کی نعمتیں پیش نظر کر کے ثابت کیا جاتا ہے۔
Ayah 16:3لغات کی تشریح
خصیم خصومت سے مشتق ہے بمعنی جھگڑا لو انعام، نعم (بفتح نون) کی جمع ہے چوپایوں میں سے اونٹ، بکری گائے کو کہا جاتا ہے (مفردات راغب)
دف گرمی اور گرمائی حاصل کرنے کی چیز مراد اون ہے جس کے گرم کپڑے بنائے جاتے ہیں تریحون رواح سے اور تسرحون سراح سے مشتق ہے چوپائے جانوروں کے صبح کے وقت چراگاہ کی طرف جانے کو سراح اور شام کو گھر میں واپس آنے کو رواح کہا جاتا ہے شق الانفس جان کی محنت ومشقت۔
خلاصہ تفسیر
(اللہ تعالیٰ نے) آسمانوں کو اور زمین کو حکمت سے بنایا وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور) انسان کو نطفہ سے بنایا پھر وہ اچانک کھلم کھلا (خدا ہی کی ذات وصفات میں) جھگڑنے لگا (یعنی بعض ایسے بھی ہوئے مطلب یہ ہے کہ ہماری یہ نعمتیں اور انسان کی طرف سے ناشکری) اور اسی نے چوپایوں کو بنایا ان میں تمہارے جاڑے کا بھی سامان ہے (جانوروں کی بال اور کھال سے انسان کے پوستین اور کپڑے بنتے ہیں) اور بھی بہت سے فائدے ہیں (دودھ سواری باربرداری وغیرہ) اور ان میں (جو کھانے کے قابل ہیں ان کو) کھاتے بھی ہو اور ان کی وجہ سے تمہاری رونق بھی ہے جب کہ شام کے وقت (جنگل سے گھر) لاتے ہو اور جب کہ صبح کے وقت (گھر سے جنگل کو) چھوڑ دیتے ہو اور وہ تمہارے بوجھ بھی (لاد کر) ایسے شہر کو لے جاتے ہیں جہاں تم بدون جان کو محنت میں ڈالے ہوئے نہیں پہنچ سکتے واقعی تمہارا رب بڑی شفقت و رحمت والا ہے (کہ تمہارے آرام کے لئے کیا کیا سامان پیدا کئے) اور گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی پیدا کئے تاکہ ان پر سوار ہو اور نیز زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی ایسی چیزیں (تمہاری سواری وغیرہ کے لئے) بناتا ہے جن کی تم کو خبر بھی نہیں۔
Ayah 16:4معارف و مسائل
ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسان کا ذکر فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا ہے انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفے سے ہونا بیان کر کے فرمایا (آیت) فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ یعنی جب اس ضعیف الخلقت انسان کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑے نکالنے لگا۔
Ayahs 16:5–7انسان کی بعد ان اشیاء کی تخیلق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشت کا بڑا مدار پالتو چوپاؤں اونٹ گائے بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کو ذکر فرمایا والْاَنْعَامَ خَلَقَهَا پھر انعام سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے ایک۔ ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کے اون سے انسان اپنے کپڑے اور کھال سے پوستین اور ٹوپیاں وغیرہ تیار کرکے جاڑے کے موسم میں گرمائی حاصل کرتا ہے۔
دوسرا فائدہ وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ یعنی انسان ان جانوروں کو ذبح کر کے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے اور جب تک زندہ ہے ان کے دودھ سے اپنی بہترین غذا پیدا کرتا ہے دودھ دہی مکھن گھی اور ان سے بننے والی تمام اشیاء اس میں داخل ہیں۔
اور باقی عام فوائد کے لئے فرما دیا وَمَنَافِعُ یعنی بیشمار منافع اور فوائد انسان کے جانوروں کے گوشت چمڑے، ہڈی اور بالوں سے وابستہ ہیں اس ابہام و اجمال میں ان سب نئی سے نئی ایجادات کی طرف بھی اشارہ ہے جو حیوانی اجزاء سے انسان کی غذاء لباس دواء استعمالی اشیاء کے لئے اب تک ایجاد ہوچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گی
اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ایک اور فائدہ عرب کے مذاق کے مطابق یہ بیان کیا گیا کہ وہ تمہارے لئے جمال اور رونق کا ذریعہ ہیں خصوصا جب وہ شام کو چراگاہوں سے تمہارے مویشی خانوں کی طرف آتے ہیں یا صبح کو گھروں سے چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں کیونکہ اس وقت مویشی سے ان کے مالکان کی خاص شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
آخر میں ان جانوروں کا ایک اور اہم فائدہ یہ بیان کیا کہ یہ جانور تمہارے بوجھل سامان دور دراز شہروں تک پہنچا دیتے ہیں جہاں تمہاری اور تمہارے سامان کی رسائی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر ممکن نہ تھی اونٹ اور بیل خاص طور سے انسان کی یہ خدمت بڑے پیمانے پر انجام دیتے ہیں آج ریل گاڑیوں ٹرکوں ہوائی جہازوں کے زمانے میں بھی انسان ان جانوروں سے مستغنی نہیں کتنے مقامات دنیا میں ایسے ہیں جہاں یہ تمام نو ایجاد سواریاں بار برداری کا کام نہیں دے سکتیں وہاں پھر انہی کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
وَالْاَنْعَام یعنی اونٹ اور بیل وغیرہ کی بار برداری کا ذکر آیا تو اس کے بعد ان چوپایہ جانوروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوا جن کی تخلیق ہی سواری اور بار برداری کے لئے ہے ان کے دودھ یا گوشت سے انسان کا فائدہ متعلق نہیں کیونکہ از روئے شرع وہ اخلاقی بیماریوں کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں
Ayah 16:8(آیت) وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً یعنی ہم نے گھوڑے خچر گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو سکو اس میں بار برداری بھی ضمنا آگئی اور ان کو اس لئے بھی پیدا کیا کہ یہ تمہارے لئے زینت بنیں زینت سے وہی شان و شوکت مراد ہے جو عرفا ان جانوروں کے مالکان کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے۔
قرآن میں ریل موٹر ہوائی جہاز کا ذکر
آخر میں سواری کے تین جانور گھوڑے خچر گدھے کا خاص طور سے بیان کرنے کے بعد دوسری قسم کی سواریوں کے متعلق بصیغہ استقبال فرمایا۔
(آیت) وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا وہ چیزیں جن کو تم نہیں جانتے اس میں وہ تمام نو ایجاد سواری گاڑیاں بھی داخل ہیں جن کا زمانہ قدیم میں نہ وجود تھا نہ کوئی تصور مثلا ریل، موٹر، ہوائی جہاز وغیرہ جو اب تک ایجاد ہوچکے ہیں وہ تمام چیزیں بھی اس میں داخل ہیں جو آئندہ زمانے میں ایجاد ہوں گی کیونکہ تخلیق ان سب چیزوں کی درحقیقت خالق مطلق ہی کا فعل ہے سائنس قدیم وجدید کا اس میں صرف اتنا ہی کام ہے کہ مختلف کل پرزے بنا لے اور پھر اس میں قدرت الہیہ کی بخشی ہوئی ہوا پانی آگ وغیرہ سے برقی رو پیدا کرلے یا قدرت ہی کے دیئے ہوئے خزانوں میں سے پیڑول نکال کر ان سواریوں میں استعمال کرے سائنس قدیم وجدید مل کر بھی نہ کوئی لوہا پیتل پیدا کرسکتی ہے نہ ایلومونیم قسم کی ہلکی دھاتیں بنا سکتی ہے نہ لکڑی پیدا کرسکتی ہے نہ ہوا اور پانی پیدا کرنا اس کے بس میں ہے اس کا کام اس سے زائد نہیں کہ قدرت الہیہ کی پیدا کی ہوئی قوتوں کا استعمال سیکھ لے دنیا کی ساری ایجادات صرف اسی استعمال کی تفصیل ہیں اس لئے جب ذرا بھی کوئی غور وفکر سے کام لے تو ان سے نئی ایجادات کو تخلیق خالق مطلق کہنے اور تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں
یہاں یہ بات خاص طور سے قابل نظر ہے کہ پچھلی تمام اشیاء کی تخلیق میں لفظ ماضی خلق استعمال فرمایا گیا ہے اور معروف سواریوں کا ذکر کرنے کے بعد بصیغہ مستقبل یخلق ارشاد ہوا ہے اس تعبیر عنوان سے واضح ہوگیا کہ یہ لفظ ان سواریوں اور دوسری اشیاء کے متعلق ہے جو ابھی معرض وجود میں نہیں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اگلے زمانے میں کیا کیا سواریاں اور دوسری اشیاء پیدا کرنا ہیں ان کا اظہار اس مختصر جملے میں فرما دیا۔
حق جل شانہ یہ بھی کرسکتے تھے کہ آئندہ وجود میں آنے والی تمام نئی ایجادات کا نام لے کر ذکر فرما دیتے مگر اس زمانے میں اگر ریل، موٹر طیارہ وغیرہ کے الفاظ ذکر بھی کردیئے جاتے تو اس سے بجز تشویش ذہن کے کوئی فائدہ نہ ہوتا کیونکہ ان اشیاء کا اس وقت تصور کرنا بھی لوگوں کے لئے آسان نہ تھا اور نہ یہ الفاظ ان چیزوں کے لئے اس وقت کہیں مستعمل ہوتے تھے کہ اس سے کچھ مفہوم سمجھا جاسکے۔
میرے والد ماجد حضرت مولانا محمد یسین صاحب نے فرمایا کہ ہمارے استاذ استاذ الکل حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کریم میں ریل کا ذکر موجود ہے اور اسی آیت سے استدلال فرمایا اس وقت تک موٹریں عام نہ ہوئی تھیں اور ہوائی جہاز ایجاد نہ ہوئے تھے اس لئے ریل کے ذکر پر اکتفاء فرمایا۔
مسئلہقرآن کریم نے اول انعام یعنی اونٹ گائے، بکری کا ذکر فرمایا اور ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا بھی قرار دیا پھر اس سے الگ کر کے فرمایا۔
وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ ان کے فوائد میں سواری لینے اور ان سے اپنی زینت حاصل کرنے کا تو ذکر کیا مگر گوشت کھانے کا یہاں ذکر نہیں کیا اس میں یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ گھوڑے، خچر، گدھے کا گوشت حلال نہیں خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہونے پر تو جمہور فقہاء کا اتفاق ہے اور ایک مستقل حدیث میں ان کی حرمت کا صراحۃ بھی ذکر آیا ہے مگر گھوڑے کے معاملہ میں حدیث کی دو روایتیں متعارض آئی ہیں ایک سے حلال اور دوسری سے حرام ہونا معلوم ہوتا ہے اسی لئے فقہائے امت کے اقوال اس مسئلے میں مختلف ہوگئے بعض نے حلال قرار دیا بعض نے حرام امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے اسی تعارض دلائل کی وجہ سے گھوڑے کے گوشت کو گدھے اور خچر کی طرح حرام تو نہیں کہا مگر مکروہ قرار دیا (احکام القرآن جصاص)
مسئلہاس آیت سے جمال اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے اگرچہ تفاخر وتکبر حرام ہیں فرق یہ ہے کہ جمال اور زینت کا حاصل اپنے دل کی خوشی یا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہوتا ہے نہ دل میں اپنے کو اس نعمت کا مستحق سمجھتا ہے اور نہ دوسروں کو حقیر جانتا ہے بلکہ حق تعالیٰ کا عطیہ اور انعام ہونا اس کے پیش نظر ہوتا ہے اور تکبر و تفاخر میں اپنے آپ کو اس نعمت کا مستحق سمجھنا دوسروں کو حقیر سمجھنا پایا جاتا ہے وہ حرام ہے (بیان القرآن)
Ayah 16:9خلاصہ تفسیر
اور (دلائل مذکورہ سابقہ ولاحقہ سے جو) سیدھا راستہ (دین کا ثابت ہوتا ہے وہ خاص) اللہ تک پہنچتا ہے اور بعض رستے (جو کہ دین کے خلاف ہیں) ٹیڑھے بھی ہیں (کہ ان سے اللہ تک رسائی ممکن نہیں پس بعض تو سیدھے رستہ پر چلتے ہیں اور بعض ٹیڑھے پر) اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو (منزل) مقصود تک پہنچا دیتا (مگر وہ اسی کو پہنچاتے ہیں جو صراط مستقیم کا طالب بھی ہو (آیت) وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا اس لئے تم کو چاہئے کہ دلائل میں غور کرو اور ان سے حق کو طلب کرو کہ تم کو منزل مقصود تک رسائی عطا ہو)
معارف و مسائل
ان آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر فرما کر توحید کے عقلی دلائل جمع کئے گئے آگے بھی ان نعمتوں کا ذکر ہے درمیان میں یہ آیت بطور جملہ معترضہ کے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ قدیمہ کی بناء پر اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ لوگوں کے کئے وہ صراط مستقیم واضح کر دے جو اللہ تک پہنچانے والا ہے اسی لئے نعماء الہیہ کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اور توحید کے دلائل جمع کئے جا رہے ہیں۔
لیکن اس کے برخلاف کچھ لوگوں نے دوسرے ٹیڑھے راستہ پر مجبور کر کے ڈال دیں تو ان کے اختیار میں تھا مگر حکمت و مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ جبر نہ کیا جائے دونوں راستے سامنے کردیئے جائیں چلنے والا جس راستہ پر چلنا چاہئے چلا جائے صراط مستقیم اللہ تعالیٰ اور جنت تک پہونچائے گا اور ٹیڑھے راستے پر جہنم پر پہونچائیں گے انسان کو اختیار دے دیا کہ جس کو چاہے انتخاب کرلے۔
Ayah 16:10خلاصہ تفسیر
وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) واسطے آسمان سے پانی برسایا جس سے تم کو پینے کو ملتا ہے اور جس (کے سبب) سے درخت (پیدا ہوتے) ہیں جن میں تم (اپنے مواشی کو) چرنے دیتے ہو (اور) اس (پانی) سے تمہارے (فائدے کے) لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (زمین سے) اگاتا ہے بیشک اس (مذکور) میں سوچنے والوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور اس (اللہ) نے تمہارے (فائدہ کے) لئے رات اور دن اور سورج اور چاند کو (اپنا) مسخر (قدرت) بنایا اور (اسی طرح اور) ستارے (بھی) اس کے حکم سے مسخر (قدرت) ہیں بیشک اس (مذکور) میں (بھی) عقلمند لوگوں کے لئے (توحید کی) چند دلیلیں (موجود) ہیں اور (اسی طرح) ان چیزوں کو بھی مسخر (قدرت) بنایا جن کو تمہارے (فائدہ کیلئے) اس طور پر پیدا کیا ہے کہ ان کے اقسام (یعنی اجناس و انواع واصناف) مختلف ہیں (اس میں تمام حیوانات و نباتات و جمادات مفردات ومرکبات داخل ہوگئے) بیشک اس (مذکور) میں (بھی) سمجھدار لوگوں کے لئے (توحید کی) دلیل (موجود) ہے اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ اس نے دریا کو (بھی) مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس میں سے تازہ تازہ گوشت (یعنی مچھلی نکال نکال کر) کھاؤ اور (تاکہ) اس میں سے (موتیوں کا) گہنا نکالو جس کو تم (مرد و عورت سب) پہنتے ہو اور (اے مخاطب اس دریا کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ) تو کشتیوں کو (خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی جیسے بڑے جہاز تو ان کو) دیکھتا ہے کہ اس (دریا) میں (اس کا) پانی چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں اور (نیز اس لئے دریا کو مسخر قدرت بنایا) تاکہ تم (اس میں مال تجارت لے کر سفر کرو اور اس کے ذریعہ سے) خدا کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (ان سب فائدوں کو دیکھ کر اس کا) شکر (ادا) کرو اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ وہ (زمین) تم کو لے کر ڈگمگانے (اور ہلنے) نہ لگے اور اس نے (چھوٹی چھوٹی) نہریں اور رستے بنائے تاکہ (ان رستوں کے ذریعہ سے اپنی) منزل مقصود تک پہنچ سکو اور (ان رستوں کی پہچان کے لئے) بہت سی نشانیاں بنائیں (جیسے پہاڑ درخت تعمیرات وغیرہ جن سے رستہ پہچانا جاتا ہے ورنہ اگر تمام زمین کی سطح یکساں حالت پر ہوتی تو رستہ ہرگز نہ پہچانا جاتا) اور ستاروں سے بھی لوگ رستہ معلوم کرتے ہیں (چنانچہ ظاہر و معلوم ہے)
معارف و مسائل
مِنْهُ شَجَـرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ لفظ شجر اکثر درخت کے لئے بولا جاتا ہے جو ساق یعنی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور کبھی مطلق زمین سے اگنے والی ہر چیز کو بھی شجر کہتے ہیں گھاس اور بیل وغیرہ بھی اس میں داخل ہوتی ہیں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں کیونکہ آگے جانوروں کے چرانے کا ذکر ہے اس کا تعلق زیادہ تر گھاس ہی سے ہے۔
تُسِيْمُوْنَ اسامت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں جانور کو چراگاہ میں چرنے کیلئے چھوڑنا
Ayah 16:11اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ان تمام آیات میں نعمائے الہیہ اور عجیب و غریب حکمت کے ساتھ تخلیق کائنات کا ذکر ہے جس میں غور وفکر کرنے والوں کو ایسے دلائل اور شواہد ملتے ہیں کہ ان سے حق تعالیٰ کی توحید کا گویا مشاہدہ ہونے لگتا ہے اسی لئے ان نعمتوں کا ذکر کرتے کرتے باربار اس پر متنبہ کیا گیا ہے اس آیت کے آخیر میں فرمایا کہ اس میں سوچنے والوں کے لئے دلیل ہے کیونکہ کھیتی اور درخت اور ان کے پھل پھول وغیرہ کا تعلق اللہ جل شانہ کی صنعت و حکمت کے ساتھ کسی قدر غور وفکر چاہتا ہے کہ آدمی یہ سوچے کہ دانہ یا گٹھلی زمین کے اندر ڈالنے اور پانی دینے سے تو خود بہ خود یہ نہیں ہوسکتا کہ اس میں سے ایک عظیم الشان درخت نکل آئے اور اس پر رنگا رنگ کے پھول لگنے لگیں اس میں کسی کا شتکار زمیندار کے عمل کا کوئی دخل نہیں یہ سب قادر مطلق کی صنعت و حکمت سے وابستہ ہے اور اس کے بعد لیل ونہار اور ستاروں کا اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع چلنے کا ذکر آیا تو آگے ارشاد فرمایا۔
Ayah 16:12(آیت) وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔ رات اور دن کو مسخر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو انسان کے کام میں لگانے کے لئے اپنی قدرت کا مسخر بنادیا کہ رات انسان کو آرام کے سامان مہیا کرتی ہے اور دن اس کے کام کے راستے ہموار کرتا ہے ان کو مسخر کرنے کے یہ معنی نہیں کہ رات اور دن انسان کے حکم کے تابع چلیں۔
(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۔ یعنی ان چیزوں میں چند دلائل ہیں عقل والوں کے لئے اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ ان چیزوں کا حکم الہی کا مسخر ہونا ایسا ظاہر کہ اس میں بہت کچھ غور و فکر کی ضرورت نہیں جس کو ذرا بھی عقل ہوگی وہ سمجھ لے گا کیونکہ نباتات اور درختوں کے اگانے میں تو بظاہر کچھ نہ کچھ انسانی عمل کا دخل تھا بھی یہاں وہ بھی نہیں۔
Ayah 16:13(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ کہ اس میں دلیل ہے ان لوگوں کے لئے جو نصیحت پکڑتے ہیں مراد یہ ہے کہ یہاں بھی بہت گہرے فکر ونظر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کی دلالت بالکل کھلی ہوئی ہے مگر شرط یہ ہے کہ کوئی اس کی طرف توجہ سے دیکھے اور نصیحت حاصل کرے ورنہ بیوقوف بےفکر آدمی جو ادھر دھیان ہی نہ دے اس کو اس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 16:14(آیت) هُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا۔ آسمان و زمین کی مخلوقات اور ان میں انسان کے منافع اور فوائد بیان کرنے کے بعد بحر محیط (سمندر) کے اندر حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ سے انسان کے لئے کیا کیا فوائد ہیں ان کا بیان ہے کہ دریا میں انسان کی خوراک کا کیسا اچھا انتظام کیا گیا ہے کہ مچھلی کا تازہ گوشت اس کو ملتا ہے۔
لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا کے الفاظ میں مچھلی کو تازہ گوشت قرار دینے سے اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ دوسرے جانوروں کی طرح اس میں ذبح کرنے کی شرط نہیں وہ گویا بنا بنایا گوشت ہے۔
(آیت) وَتَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا یہ دریا کا دوسرا فائدہ بتلایا گیا ہے کہ اس میں غوطہ لگا کر انسان اپنے لئے حلیہ نکال لیتا ہے حلیہ کے لفظی معنی زینت کے ہیں مراد وہ موتی مونگا اور جواہرات ہیں جو سمندر سے نکلتے ہیں اور عورتیں ان کے پار بنا کر گلے میں یا دوسرے طریقوں سے کانوں میں پہنتی ہیں یہ زیور اگرچہ عورتیں پہنتی ہیں لیکن قرآن نے لفظ مذکر استعمال فرمایا تَلْبَسُوْنَهَا یعنی تم لوگ پہنتے ہو اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عورتوں کا زیور پہننا درحقیقت مردوں ہی کے مفاد کے لئے ہیں عورت کی زینت درحقیقت مرد کا حق ہے وہ اپنی بیوی کو زینت کا لباس اور زیور پہننے پر مجبور بھی کرسکتا ہے اس کے علاوہ جواہرات کا استعمال مرد بھی انگوٹھی وغیرہ میں کرسکتے ہیں
(آیت) وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ یہ تیسرا فائدہ دریا کا بتلایا گیا ہے فلک کے معنی کشتی اور مواخر ماخرہ کی جمع ہے مخر کے معنی پانی کو چیرنے کے ہیں مراد وہ کشتیاں اور بحری جہاز ہیں جو پانی کی موجوں کو چیرتے ہوئے مسافت طے کرتے ہیں۔
مطلب آیت کا یہ ہے کہ دریا کو اللہ تعالیٰ نے بلاد بعیدہ کے سفر کا راستہ بنایا ہے دور دراز کے ملکوں میں دریا ہی کے ذریعہ سفر کرنا اور تجارتی مال کی درآمد وبرآمد کرنا آسان فرما دیا ہے اور اس کو حصول رزق کا عمدہ ذریعہ قرار دیا کیونکہ دریا کے راستہ سے تجارت سب سے زیادہ نفع بخش ہوتی ہے۔
Ayah 16:15(آیت) وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُم۔ رواسی راسیہ کی جمع ہے بھاری پہاڑ کو کہا جاتا ہے تمید مید مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی ڈگمگانا یا مضطربانہ قسم کی حرکت کرنا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ زمین کے کرہ کو حق تعالیٰ نے بہت سی حکمتوں کے ماتحت ٹھوس اور متوازن اجزاء سے نہیں بنایا اس لئے وہ کسی جانب سے بھاری کسی جانب سے ہلکی واقع ہوئی ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ زمین کو عام فلاسفروں کی طرح ساکن مانا جائے یا کچھ قدیم و جدید فلاسفروں کی طرح حرکت ہوتی جس کو اردو میں کانپنے یا ڈگمگانے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس اضطرابی حرکت کو روکنے اور اجزاء زمین کو متوازن کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے زمین پر پہاڑوں کا وزن رکھ دیا تاکہ وہ اضطرابی حرکت نہ کرسکے باقی رہا مسئلہ حرکت مستدیرہ کا جیسے تمام سیارات کرتے ہیں اور قدیم فلاسفہ میں سے فیثا غورث کی یہی تحقیق تھی اور جدید فلاسفر سب اس پر متفق ہیں اور نئے تجربات نے اس کو اور بھی زیادہ واضح کردیا ہے تو قرآن کریم میں نہ کہیں اس کا اثبات ہے نہ اس کی نفی بلکہ یہ اضطرابی حرکت جس کو پہاڑوں کے ذریعہ بند کیا گیا ہے اس حرکت مستدیرہ کے لئے اور زیادہ معین ہوگی جو سیارات کی طرح زمین کے لئے ثابت کی جاتی ہے واللہ اعلم۔
Ayah 16:16(آیت) وَعَلٰمٰتٍ ۭ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ اوپر چونکہ تجارتی سفر کا ذکر آیا ہے تو مناسب ہوا کہ ان آسانیوں کا بھی ذکر کیا جائے جو حق تعالیٰ نے مسافروں کی قطع مسافت اور منزل مقصود تک پہونچانے کے لئے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس لئے فرمایا وَعَلٰمٰتٍ یعنی ہم نے زمین میں راستہ پہچاننے کے لئے بہت سی علامات پہاڑوں دریاؤں درختوں مکانوں وغیرہ کے ذریعہ قائم کردی ہیں ظاہر ہے کہ اگر زمین ایک سپاٹ کرہ ہوتا تو انسان کسی منزل تک پہنچنے کے لئے کس طرح راستے میں بھٹکتا۔
وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ یعنی سفر کرنے والے جیسے زمینی علامات سے راستہ پہچانتے ہیں اسی طرح ستاروں کے ذریعے بھی سمت معلوم کرکے راستہ پہچان لیتے ہیں اس عنوان میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ستاروں کی تخلیق کا اصل مقصد تو کچھ اور ہے اس کے ساتھ ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ ان سے راستے بھی پہچانے جاتے ہیں
Ayahs 16:17–23خلاصہ تفسیر
سو (جب اللہ تعالیٰ کا خالق اشیاء مذکورہ ہونا اور اس میں اس کا منفرد ہونا ثابت ہوچکا تو) کیا جو شخص پیدا کرتا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ) وہ اس جیسا ہوجاوے گا جو پیدا نہیں کرسکتا (کہ تو دونوں کو معبود سمجھنے لگے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی اہانت ہے اس کو بتوں کے برابر کردیا) پھر کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے اور (اللہ تعالیٰ نے جو اوپر دلائل توحید میں اپنی نعمتیں بتلائی ہیں ان پر کیا حصر ہے وہ تو اس کثرت سے ہیں کہ) اگر تم اللہ تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو گننے لگو تو (کبھی) نہ گن سکو (مگر مشرکین شکر اور قدر نہیں کرتے اور یہ جرم اتنا عظیم تھا کہ نہ معاف کرانے سے معاف ہوتا اور نہ اصرار پر آگے کو یہ نعمتیں ملتیں لیکن) واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ کوئی شرک سے توبہ کرے تو مغفرت ہوجاتی ہے اور نہ کرے جب بھی تمام نعمتیں حیات تک منقطع نہیں ہوتیں) اور (ہاں نعمتوں کے فائض ہونے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ کبھی سزا نہ ہوگی بلکہ آخرت میں سزا دیں گے یہ تو حق تعالیٰ کے خالق اور منعم ہونے کا بیان تھا) اور جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں (اور جن کی یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود ہی مخلوق ہیں (اور اوپر قاعدہ کلیہ ثابت ہوچکا ہے کہ غیر خالق اور خالق مساوی نہیں پس یہ معبودین کیسے مستحق عبادت ہو سکتے ہیں اور) وہ (معبودین) مردے (بےجان) ہیں (خواہ دواما جیسے بت یا فی الحال جیسے وہ لوگ جو مر چکے ہیں یا فی المال جو مریں گے مثلا جن اور عیسیٰ ؑ وغیرہم) زندہ (رہنے والے) نہیں (پس خالق تو کیا ہوتے) اور ان (معبودین) کو (اتنی بھی) خبر نہیں کہ (قیامت میں) مر دے کب اٹھائے جائیں گے (یعنی بعض کو تو علم ہی نہیں اور بعض کو تعیین معلوم نہیں اور معبود کے لئے علم تو محیط چاہئے۔
خصوصا قیامت کا کہ اس پر جزا ہوگی عبادت وعدم عبادت کی تو اس کا علم تو معبود کے لئے بہت ہی مناسب ہے پس خدا کے برابر تو علم میں کیا ہوں گے اس تقریر سے ثابت ہوا کہ) تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے تو (اس ایضاح حق پر بھی) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے (اور اسی لئے ان کو ڈر نہیں کہ توحید کو قبول کریں معلوم ہوا کہ) ان کے دل (ہی ایسے ناقابل ہیں کہ معقول بات کے) منکر ہو رہے ہیں اور (معلوم ہوا کہ) وہ قبول حق سے تکبر کرتے ہیں (اور) ضروری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کے حوال پوشیدہ وظاہر جانتے ہیں (اور یہ بھی) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے (پس جب ان کا تکبر معلوم ہے تو ان کو بھی ناپسند کرینگے اور سزا دیں گے)
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں اللہ جل شانہ کی نعمتوں کا اور تخلیق کائنات کا مفصل ذکر کرنے کے بعد اس بات پر تنبیہ فرمائی جس کے لئے ان سب نعمتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور وہ ہے توحید حق تعالیٰ کی کہ ان سے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اس لئے فرمایا کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تنہا زمین و آسمان بنائے کوہ ودریا بنائے نباتات وحیوانات بنائے درخت اور ان کے پھول پھل بنائے تو کیا وہ ذات پاک جو ان سب چیزوں کی خالق ہے ان بتوں کی مانند ہوجائے گی جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔
Ayahs 16:24–29خلاصہ تفسیر
اور جب ان سے کیا جاتا ہے (یعنی کوئی ناواقف شخص تحقیق کے لئے یا کوئی واقف شخص امتحان کے لئے ان سے پوچھتا ہے) کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے (یعنی قرآن جس کو رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا فرماتے ہیں آیا یہ صحیح ہے) تو کہتے ہیں کہ (صاحب وہ رب کا نازل کیا ہوا کہاں ہے) وہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو پہلوں سے (منقول) چلی آ رہی ہیں (یعنی اہل ملل پہلے سے توحید ونبوت ومعاد کے مدعی ہوتے آئے ہیں ان ہی سے یہ بھی نقل کرنے لگے باقی یہ دعوے اللہ تعالیٰ کے تعلیم دیئے ہوئے نہیں) نتیجہ اس (کہنے) کا یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن اپنے گناہوں کا پورا بوجھ اور جن کو یہ لوگ بےعلمی سے گمراہ کر رہے تھے ان کے گناہوں کا بھی کچھ بوجھ اپنے اوپر اٹھانا پڑے گا (گمراہ کرنے سے مراد یہی کہنا ہے اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ کا کیونکہ اس سے دوسرے آدمی کا اعتقاد خراب ہوتا ہے اور جو شخص کسی کو گمراہ کیا کرتا ہے اس گمراہ کو تو گمراہی کا گناہ ہوتا ہے اور اس گمراہ کرنے والے کو اس کی گمراہی کے سبب بن جانے کا اس حصہ تسبب کو کچھ بوجھ فرمایا گیا اور اپنے گناہ کا کامل طور پر اٹھانا ظاہر ہے) خوب یاد رکھو کہ جس گناہ کو یہ اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ برا بوجھ ہے (اور انہوں نے جو گمراہ کرنے کی یہ تدبیر نکالی ہے کہ دوسروں کو ایسی باتیں کر کے بہکاتے ہیں سو یہ تدبیریں حق کے مقابلہ میں نہ چلیں گی بلکہ خود انہی پر ان کا وبال ونکال عود کرے گا چنانچہ) جو لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ہیں انہوں نے (انبیاء (علیہم السلام) کے مقابلہ اور مخالفت میں) بڑی بڑی تدبیریں کیں سو اللہ تعالیٰ نے ان (کی تدبیروں) کا بنا بنایا گھر جڑ بنیاد سے ڈھا دیا پھر (وہ ایسے ناکام ہوئے جیسے گویا) اوپر سے ان پر (اس گھر کی) چھت آ پڑی (ہو یعنی جس طرح چھت آ پڑنے سے سب دب کر رہ جاتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بالکل خائب و خاسر ہوئے) اور (علاوہ ناکامی کے) ان پر (خدا کا) عذاب ایسی طرح آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا (کیونکہ توقع تو اس تدبیر میں کامیابی کی تھی خلاف توقع ان پر ناکامی سے بڑھ کر عذاب آ گیا جو کوسوں بھی ان کے ذہن میں نہ تھا کفار سابقین پر عذابوں کا آنا معلوم و معروف ہے یہ حالت تو ان کی دنیا میں ہوئی) پھر قیامت کے دن (ان کے واسطے یہ ہوگا کہ) اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور (اس میں سے ایک رسوائی یہ ہوگی کہ ان سے) یہ کہے گا کہ (تم نے جو) میرے شریک (بنا رکھے تھے) جن کے بارے میں تم (انبیاء (علیہم السلام) اور اہل ایمان سے) لڑائی جھگڑا کرتے تھے (وہ اب) کہاں ہیں (اس حالت کو دیکھ کر حق کے) جاننے والے کہیں گے کہ آج پوری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے جن کی جان فرشتوں نے حالت کفر پر قبض کی تھی (یعنی آخر وقت تک کافر رہے شاید ان اہل علم کا قول بیچ میں اس لیے بیان فرمایا ہو کہ کفار کی رسوائی کا عام اور علانیہ ہونا معلوم ہوجائے) پھر کافر لوگ (اپنے شرکاء کے جواب میں) صلح کا پیغام ڈالیں گے (اور کہیں گے) کہ (شرک جو اعلیٰ درجہ کی برائی اور مخالفت حق تعالیٰ کی ہے ہماری کیا مجال تھی کہ ہم اس کے مرتکب ہوتے) ہم تو کوئی برا کام (جس میں ادنیٰ مخالفت بھی حق تعالیٰ کی ہو) نہ کرتے تھے (اس کو صلح کا مضمون اس لئے کہا گیا کہ دنیا میں شرک کا جو کہ مخالفت یقینیہ ہے بڑے جوش و خروش سے اقرار تھا کقولہ تعالیٰ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكنَا اور شرک کا اقرار مخالفت کا اقرار تھا خصوصا انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ تو خود صریح مخالفت کے مدعی تھے وہاں اس شرک کے انکار سے مخالفت کا انکار کریں گے اس لئے اس کو صلح فرمایا اور یہ انکار ایسا ہے جسا دوسری آیت میں ہے (آیت) وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ حق تعالیٰ ان کے اس قول کو رد فرمائیں گے کہ) کیوں نہیں (بلکہ واقعی تم نے بڑے کام مخالفت کے کئے) بیشک اللہ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے سو (اچھا) جہنم کے دروازوں میں (سے جہنم میں) داخل ہوجاؤ (اور) اس میں ہمیشہ ہمیشہ کو رہو غرض (حق سے) تکبر (اور مخالفت اور مقابلہ) کرنے والوں کا وہ برا ٹھکانا ہے (یہ عذاب آخرت کا ذکر ہوگیا پس حاصل آیات کا یہ ہوا کہ تم نے اپنے سے پہلے کافروں کا حال خسارہ و عذاب دنیا وآخرت کا سن لیا اسی طرح جو تدبیر ومکر دین حق کے مقابلہ میں تم کر رہے ہو اور خلق کو گمراہ کرنا چاہتے ہو یہی انجام تمہارا ہوگا۔
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور تخلیق عالم میں یکتا ہونے کا ذکر کرکے مشرکین کی اپنی گمراہی کا بیان تھا ان آیات میں دوسروں کو گمراہ کرنے اور اس کے عذاب کا بیان ہے اور اس سے پہلے ایک سوال قرآن کے متعلق اور اس سوال کے مخاطب یہاں تو مشرکین ہیں اور انہی کا جاہلانہ جواب یہاں ذکر کرکے ان پر وعید بیان کی گی ہے اور پانچ آیتوں کے بعد یہی سوال مؤمنین متقین کو خطاب کرکے کیا گیا اور ان کا جواب اور اس پر وعدہ انعامات کا ذکر ہے۔
قرآن کریم نے یہ نہیں کھولا کہ سوال کرنے والا کون تھا اس لئے مفسرین کے اس میں اقوال مختلف ہیں کسی نے کافروں کو سوال کرنے والا قرار دیا کسی نے مسلمانوں کو کسی ایک سوال مشرکین کا اور دوسرا مؤمنین کا قرار دیا لیکن قرآن کریم نے اس کو مبہم رکھ کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ اس بحث میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ سوال کس کی طرف سے تھا دیکھنا تو جواب اور اس کے نتیجہ کا ہے جن کا قرآن نے خود بیان کردیا ہے۔
مشرکین کی طرف سے خلاصہ جواب یہ ہے کہ انہوں نے ا سی کو تسلیم نہیں کیا کہ کوئی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا بھی ہے بلکہ قرآن کو پھچلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیا قرآن کریم نے اس پر یہ وعید سنائی کہ یہ ظالم قرآن کو کہانیاں بتلا کر دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس کا یہ نتیجہ ان کو بھگتنا پڑے گا کہ قیامت کے روز اپنے گناہوں کا پورا وبال تو ان پر پڑنا ہی ہے جن کو یہ گمراہ کر رہے ہیں ان کا بھی کچھ وبال ان پر پڑے گا اور پھر فرمایا کہ گناہوں کے جس بوجھ کو یہ لوگ اپنے اوپر لاد رہے ہیں وہ بہت برا بوجھ ہے۔
Ayahs 16:30–34خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ شرک سے بچتے ہیں ان سے (جو قرآن کے بارے میں) کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز نازل فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی خیر (اور برکت کی چیز) نازل فرمائی ہے جن لوگوں نے نیک کام کئے ہیں (جس میں یہ قول مذکور اور تمام اعمال صالحہ آگئے) ان کے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے (وہ بھلائی ثواب کا وعدہ و بشارت ہے) اور عالم آخرت تو (بوجہ اس کے کہ وہاں اس وعدہ کا تحقق و ظہور ہوجائے گا) اور زیادہ بہتر (اور موجب سرور) ہے اور واقعی وہ شرک سے بچنے والوں کا اچھا گھر ہے وہ گھر (کیا ہے) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے ان باغوں کے (اشجار وعمارات کے) نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہاں ان کو ملے گی (اور خاص انہی کی کیا تخصیص ہے جن کا قول اس مقام پر مذکور ہے بلکہ) اسی طرح کا عوض اللہ تعالیٰ سب شرک سے بچنے والوں کو دے گا جن کی روح فرشتے اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ (شرک سے) پاک (صاف) ہوتے ہیں (مطلب یہ کہ مرتے دم تک توحید پر قائم رہتے ہیں اور) وہ (فرشتے) کہتے جاتے ہیں السلام علیکم تم (قبض روح کے بعد) جنت میں چلے جانا اپنے اعمال کے سبب یہ لوگ (جو اپنے کفر وعناد و جہالت پر اصرار کر رہے ہیں اور باوجود وضوح دلائل حق کے ایمان نہیں لاتے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف) اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس (موت کے) فرشتے آجائیں یا آپ کے پروردگار کا حکم (یعنی قیامت) آجائے (یعنی کیا موت کے وقت یا قیامت میں ایمان لائیں گے جبکہ ایمان قبول نہ ہوگا گو اس وقت تمام کفار بوجہ انکشاف حقیقت کے توبہ کریں گے جیسا اصرار کفر پر یہ لوگ کر رہے ہیں) ایسا ہی ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے بھی (کفر پر اصرار) کیا تھا اور (اصرار کی بدولت سزا یاب ہوئے سو) ان پر اللہ تعالیٰ نے ذرا ظلم نہیں کیا لیکن وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے (کہ سزا کے کام جان جان کے کرتے تھے) آخر ان کے اعمال بد کی ان کو سزائیں ملیں اور جس عذاب (کی خبر پانے) پر وہ ہنستے تھے ان کو اسی (عذاب نے) آگھیرا (پس ایسا ہی تمہارا حال ہوگا۔
Ayah 16:35خلاصہ تفسیر
اور مشرک لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو (بطور رضا کے یہ امر) منظور ہوتا (کہ ہم غیر اللہ کی عبادت نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے اصول میں سے ہے اور بعض اشیاء کی تحریم نہ کریں جو ہمارے طریقہ کے فروغ میں سے ہے مطلب یہ کہ اگر اللہ ہمارے موجودہ اصول و فروع کو ناپسند کرتے) تو خدا کے سوا کسی چیز کی نہ ہم عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے بدون (حکم کے) کسی چیز کو حرام کہہ سکتے (اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارا طریقہ پسند ہے ورنہ ہم کو کیوں کرنے دیتے اے محمد ﷺ آپ ان سے مغموم نہ ہوں کیونکہ یہ بیہودہ مجادلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ) جو (کافر) ان سے پہلے ہوئے ہیں ایسی ہی حرکت انہوں نے بھی کی تھی (یعنی بیہودہ مجادلات اپنے پیغمبروں سے کئے تھے) سو پیغمبروں (کا اس سے کیا بگڑا اور وہ جس طریق کی طرف بلاتے ہیں اس کو کیا ضرر پہنچا ان) کے ذمہ تو (احکام کا) صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے (صاف صاف یہ کہ دعوی واضح ہو اور دلیل صحیح اس پر قائم ہو اسی طرح آپ کے ذمہ بھی یہی کام تھا جو آپ کر رہے ہیں پھر اگر براہ عناد دعوی اور دلیل میں غور نہ کریں تو آپ کی بلا سے) اور (جس طرح ان کا معاملہ آپ کے ساتھ یعنی مجادلہ کوئی نئی بات نہیں اسی طرح آپ کا معاملہ ان کے ساتھ یعنی توحید ودین حق کی طرف بلانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی تعلیم بھی قدیم سے چلی آئی ہے چنانچہ) ہم ہر امت میں (امم سابقہ سے) کوئی نہ کوئی پیغمبر (اس بات کی تعلیم کے لئے) بھیجتے رہے ہیں کہ تم (خاص) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان (کے رستہ) سے (کہ وہ شرک و کفر ہے) بچتے رہو (اس میں اشیاء کی وہ تحریم بھی آگئی جو مشرکین اپنی رائے سے کیا کرتے تھے کیونکہ وہ شعبہ شرک و کفر کا تھا) سو ان میں بعضے وہ ہوئے جن کو اللہ نے ہدایت دی (کہ انہوں نے حق کو قبول کرلیا) اور بعضے ان میں وہ ہوئے جن پر گمراہی کا ثبوت ہوگیا۔
(مطلب یہ کہ کفار اور انبیاء (علیہم السلام) میں یہ معاملہ اسی طرح چلا آ رہا ہے اور ہدایت واضلال کے متعلق اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ مجادلہ کفار کا بھی قدیم اور تعلیم انبیاء (علیہم السلام) کی بھی قدیم اور سب کا ہدایت نہ پانا بھی قدیم پھر آپ کو غم کیوں ہو ؟ یہاں تک تسلی فرمائی گئی جس میں اخیر کے مضمون میں ان کے شبہ کا اجمالی جواب بھی ہوگیا کہ ایسی باتیں کرنا گمراہی ہے جس کے گمراہی ہونے کی آگے تائید اور جواب کی زیادہ توضیح ہے یعنی اگر مجادلہ مع الرسل کا گمراہی ہونا تم کو معلوم نہ ہو) تو (اچھا) زمین میں چلو پھرو پھر (آثار سے) دیکھو کہ (پیغمبروں کے) جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا (پس اگر وہ گمراہ نہ تھے تو ان پر عذاب کیوں نازل ہوا اور واقعات اتفاقیہ ان کو اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ خلاف عادت ہوئی اور انبیاء (علیہم السلام) کی پیشین گوئی کے بعد ہوئے اور مؤمنین اس سے بچے رہے پھر اس کے عذاب ہونے میں کیا شک ہے اور چونکہ رسول کریم ﷺ کو امت کے کسی فرد کی گمراہی سے بھی سخت صدمہ پہنچتا تھا اس لئے آگے پھر آپ کو خطاب ہے کہ جیسے پہلے بعضے لوگ ہوئے ہیں جن پر گمراہی قائم ہوچکی تھی اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں سو) ان کے راہ راست پر آنے کی اگر آپ کو تمنا ہو تو (کچھ نتیجہ نہیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت نہیں کیا کرتا جس کو (اس شخص کے عناد کو چھوڑیں گے نہیں اس لئے ان کو ہدایت بھی نہ ہوگی) اور (ضلالت و عذاب کے بارے میں اگر ان کا یہ گمان ہو کہ ہمارے معبود اس حالت میں بھی عذاب سے بچالیں گے تو وہ سمجھ رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں) ان کا کوئی حمایتی نہ ہوگا (یہاں تک ان کے پہلے شبہ کے جواب کی تقریر تھی آگے دوسرے شبہ کے متعلق کلام ہے) اور یہ لوگ بڑے زور لگا لگا کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا (اور قیامت نہ آئے گی آگے جواب ہے) کیوں نہیں زندہ کرے گا (یعنی ضرور زندہ کرے گا) اس وعدہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لازم کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ (باوجود قیام و لیل صحیح کے اس پر) یقین نہیں لاتے (اور یہ دوبارہ زندہ کرنا اس لئے ہوگا) تاکہ (دین کے متعلق) جس چیز میں یہ لوگ (دنیا میں) اختلاف کیا کرتے تھے (اور انبیاء (علیہم السلام) کے فیصلہ سے راستہ پر نہ آتے تھے) ان کے روبرو اس (کی حقیقت) کا (بطور معائنہ کے) اظہار کردے اور تاکہ (اس اظہار حقیقت کے وقت) کافر لوگ (پورا) یقین کرلیں کہ واقعی وہی جھوٹے تھے (اور انبیاء (علیہم السلام) مؤمنین سچے تھے پس قیامت کا آنا یقینی اور عذاب سے فیصلہ ہونا ضروری ہے یہ جواب ہوگیا لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ کا اور چونکہ وہ لوگ قیامت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ مر کر زندہ ہونا ان کے خیال میں کسی کے بس میں نہ تھا اس لئے آگے اپنی قدرت کاملہ کے اثبات سے ان کے اس شبہ کو دفع فرماتے ہیں کہ ہماری قدرت ایسی عظیم ہے کہ) ہم جس چیز کو (پیدا کرنا) چاہتے ہیں (ہمیں اس میں کچھ محنت مشقت کرنا نہیں پڑتی) بس اس سے ہمارا اتنا ہی کہنا (کافی ہوتا ہے کہ تو (پیدا) ہوجا بس وہ (موجود) ہوجاتی ہے (تو اتنی بڑی قدرت کاملہ کے روبرو بےجان چیزوں میں دوبارہ جان کا پڑجانا کونسا دشوار ہے جیسے پہلی بار ان میں جان ڈال چکے ہیں اب دونوں شبہوں کا پورا جواب ہوچکا وللہ الحمد)
معارف و مسائل
ان کفار کا پہلا شبہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اگر ہمارا کفر و شرک اور ناجائز کام پسند نہیں تو وہ ہمیں زبردستی اس سے روک کیوں نہیں دیتے۔
اس شبہ کی بہیودگی واضح تھی اس لئے اس کا جواب دینے کے بجائے صرف رسول کریم ﷺ کی تسلی پر اکتفاء کیا گیا کہ ایسے بیہودہ سوالات سے آپ غمگین نہ ہو اور شبہ کی بہیودگی کی وجہ ظاہر ہے کہ اللہ نے اس عالم دنیا کا نظام ہی اس بنیاد پر قائم فرمایا ہے کہ انسان کو بالکل مجبور نہیں رکھا گیا ایک قسم کا اختیار اس کو دیا گیا اسی اختیار کو وہ اللہ کی اطاعت میں استعمال کرے تو ثواب اور نافرمانی میں استعمال کرے تو عذاب کے وعدے اور وعید فرمائے اسی کے نتیجہ میں قیامت اور حشر ونشر کے سارے ہنگامے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتے کہ سب کو مجبور کر کے اپنی اطاعت کرائیں تو کس کی مجال تھی کہ اطاعت سے باہر جاتا مگر بتقاضائے حکمت مجبور کردینا درست نہ تھا اس لئے انسان کو اختیار دیا گیا تو اب کافروں کا یہ کہنا کہ اگر اللہ کو ہمارا طریقہ پسند نہ ہوتا تو ہمیں مجبور کیوں نہ کردیتے ایک احمقانہ اور معاندانہ سوال ہے۔
Ayahs 16:36–40کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟
(آیت) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا۔ اس آیت سے نیز دوسری (آیت) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان وپاکستان کے علاقوں میں بھی اللہ کے پیغمبر ضرور آئے ہوں گے۔ خواہ وہ یہیں کے باشندے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں ہوں اور ان کے نائب اور مبلغ یہاں پہنچنے ہوں اور آیت لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ سے جو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ جس امت کی طرف بھیجے گئے ہیں ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بظاہر وہ قوم عرب ہے جو آپ کی بعثت ونبوت کی سب سے پہلے مخاطب ہوئی کہ ان میں حضرت اسماعیل ؑ کے بعد سے کوئی رسول نہیں آیا تھا اسی لئے ان لوگوں کا لقب قرآن کریم میں امین رکھا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی دنیا میں بھی آپ سے پہلے کوئی رسول نہ آیا ہو واللہ اعلم۔