16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 16:110–111

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر کہ انہوں نے وطن چھوڑا ہے بعد اس کے کہ مصیبت اٹھائی پھر جہاد کرتے رہے اور قائم رہے بیشک تیرا رب ان باتوں کے بعد بخشنے والا مہربان ہے

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن آئے گا ہر جی جواب سوال کرتا اپنی طرف سے اور پورا ملے گا ہر کسی کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہوگا

خلاصہ تفسیر پچھلی آیت میں کفر پر وعید کا ذکر تھا خواہ کفر اصلی ہو یا ارتداد کا کفر اس کے بعد کی مذکورہ تین آیتوں میں سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان ایسی دولت ہے کہ جو کافر یا مرتد سچا ایمان لے آئے اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ دوسری آیت میں قیامت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ یہ جزا و سزا سب قیامت کے دن ہی ہونے والی ہے۔ تیسری آیت میں یہ بتلایا گیا کہ کفر و معاصی کی اصلی سزا تو قیامت کے بعد ہی ملے گی مگر بعض گناہوں کی سزا دنیا میں بھی کچھ مل جاتی ہے، تینوں آیتوں کی مختصر تفسیر یہ ہے، پھر (اگر کفر کے بعد یہ لوگ ایمان لے آویں تو) بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے کہ جنہوں نے مبتلاء کفر ہونے کے بعد (ایمان لا کر) ہجرت کی پھر جہاد کیا اور (ایمان پر) قائم رہے تو آپ کا رب (ایسے لوگوں کے لئے) ان (اعمال) کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے (یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی برکت سے سب پچھلے گناہ معاف ہوجاویں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ان کو جنت میں بڑے بڑے درجے ملے گیں کفر سے پہلے کے گناہ صرف ایمان سے معاف ہوجاتے ہیں جہاد وغیرہ اعمال صالحہ شرط معافی نہیں لیکن اعمال صالحہ درجات جنت ملنے کے اسباب ہیں اس لئے اس کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے اور جزا و سزا مذکور اس روز واقع ہوگی) جس روز ہر شخص اپنی اپنی طرف داری میں گفتگو کرے گا (اور دوسروں کو نہ پوچھے گا) اور ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملے گا (یعنی نیکی کے بدلے میں کمی نہ ہوگی گو اللہ کی رحمت سے زیادتی ہوجانے کا امکان ہے اور بدی کے بدلے میں زیادتی نہ ہوگی ہاں یہ ممکن ہے کہ رحمت سے اس میں کچھ کمی ہوجائے یہی مطلب ہے اس کا کہ) ان پر ظلم نہ کیا جائے گا (اس کے بعد یہ بتلایا گیا ہے کہ اگرچہ کفر و معصیت کی پوری سزا حشر کے بعد ہوگی مگر کبھی دنیا میں بھی اس کا وبال عذاب کی صورت میں آجاتا ہے) اور اللہ تعالیٰ ایک بستی والوں کی حالت عجیبہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ (بڑے) امن و اطمینان میں رہتے (اور) ان کے کھانے پینے پہننے کی چیزیں بڑی فراغت سے ہر چار طرف سے ان کے پاس پہنچا کرتی تھیں (ان لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا بلکہ) انہوں نے خدا کی نعمتوں کی بےقدری کی (یعنی کفر و شرک اور معصیت میں مبتلا ہوگئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی حرکتوں کے سبب سے ایک محیط قحط اور خوف کا مزہ چکھایا (کہ مال و دولت کی فراوانی سلب ہو کر قحط اور بھوک میں مبتلا ہوگئے اور دشمنوں کا خوف مسلط ہو کر کے ان کی بستیوں کا امن و اطمینان بھی سلب کرلیا) اور (اس سزا میں حق تعالیٰ کی طرف سے کچھ جلدی نہیں کی گئی اول اس کی تنبیہ و اصلاح کے واسطے (ان کے پاس انہی میں کا ایک رسول بھی (منجانب اللہ) آیا (جس کے صدق و دیانت کا حال خود اپنی قوم میں ہونے کی وجہ سے ان کو پوری طرح معلوم تھا سو اس (رسول) کو (بھی) انہوں نے جھوٹا بتلایا تب ان کو عذاب نے آپکڑا جب کہ وہ بالکل ہی ظلم پر کمر باندھنے لگے
Ayahs 16:112–113

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور بتلائی اللہ نے ایک مثال ایک بستی تھی چین امن سے چلی آتی تھی اس کو روزی فراغت کی ہر جگہ سے پھر ناشکری کی اللہ کے احسانوں کی پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ ان کے تن کے کپڑے ہوگئے بھوک اور ڈر بدلہ اس کا جو وہ کرتے تھے

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس پہنچ چکا رسول انہی میں کا پھر اس کو جھٹلایا پھر آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ گنہگار تھے۔

آخری آیت میں بھوک اور خوف کا مزہ چکھانے کے لئے لفظ لباس استعمال فرمایا کہ لباس بھوک اور خوف کا ان کو چکھایا گیا حالانکہ لباس چھکنے کی چیز نہیں مگر یہاں لباس کا لفظ محیط اور ہمہ گیر ہونے کے لئے تشبیہا استعمال ہوا ہے کہ یہ بھوک اور خوف ان سب کے سب پر ایسا چھا گیا کہ جس طرح لباس بدن کے ساتھ لازم ملزوم ہوجاتا ہے یہ بھوک اور خوف بھی ان پر اسی طرح مسلط کر دئیے گئے۔ یہ مثال جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے بعض ائمہ تفسیر کے نزدیک تو عام مثال ہے کسی خاص بستی سے اس کا تعلق نہیں اور اکثر حضرات نے اس کو مکہ مکرمہ کا واقعہ قرار دیا کہ وہ سات سال تک شدید قحط میں مبتلا رہے کہ مردار جانور اور کتے اور غلاظتیں کھانے پر مجبور ہوگئے اور مسلمانوں کا خوف ان پر مسلط ہوگیا پھر مکہ کے سرداروں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ کفر و نافرمانی کے قصور وار تو مرد ہیں عورتیں بچے تو بےقصور ہیں اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کے لئے مدینہ طیبہ سے کھانے وغیرہ کا سامان بھجوادیا (مظہری) اور ابوسفیان نے بحالت کفر رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ تو صلہ رحمی اور عفو و درگذر کی تعلیم دیتے ہیں یہ آپ کی قوم ہلاک ہوئی جاتی ہے اللہ تعالیٰ سے دعاء کیجئے کہ یہ قحط ہم سے دور ہوجائے اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کے لئے دعاء فرمائی اور قحط ختم ہوا (قرطبی)
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

سو کھاؤ جو روزی دی تم کو اللہ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کو پوجتے ہو ،

خلاصہ تفسیر پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر کفار کی ناشکری اور اس کے عذاب کا ذکر تھا مذکورہ آیات میں اول تو مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی کہ وہ ناشکری نہ کریں اللہ تعالیٰ نے جو حلال نعمتیں ان کو دی ہیں ان کو شکر کے ساتھ استعمال کریں اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ کفار و مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی ایک خاص صورت یہ بھی اختیار کر رکھی تھی کہ بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کیا تھا اپنی طرف سے ان کو حرام کہنے لگے اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ نے حرام کہا تھا ان کو حلال کہنے لگے مسلمانوں کو اس پر تنبیہ فرمائی کہ وہ ایسا نہ کریں کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا صرف اس ذات کا حق ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اپنی طرف سے ایسا کرنا خدائی اختیارات میں دخل دینا اور اللہ تعالیٰ پر افترا کرنا ہے۔ آخر میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے جہالت سے اس طرح کے جرائم کئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اگر وہ توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دیں گے مختصر تفسیر آیات کی یہ ہے۔ سو جو چیزیں تم کو اللہ نے حلال اور پاک دی ہیں ان کو (حرام نہ سمجھو کہ یہ مشرکین کی جاہلانہ رسم ہے بلکہ) ان کو کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم (اپنے دعوے کے مطابق) اسی کی عبادت کرتے ہو تم پر تو (منجملہ ان چیزوں کے جن کو تم حرام کہتے ہو اللہ تعالیٰ نے) صرف مردار کو حرام کیا ہے اور خون کو اور خنزیر کے گوشت (وغیرہ) کو اور جس چیز کو غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو پھر جو شخص کہ (مارے فاقہ کے) بالکل بےقرار ہوجائے بشرطیکہ طالب لذت نہ ہو اور نہ حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا ہو تو اللہ تعالیٰ (اس کے لئے اگر وہ ان چیزوں کو کھالے) بخش دینے والا مہربانی کرنے والا ہے اور جن چیزوں کے متعلق محض تمہارا جھوٹا زبانی دعوی ہے (اور اس پر کوئی دلیل صحیح قائم نہیں) ان کے متعلق یوں نہ کہہ دیا کرو کہ فلاں چیز حلال اور فلاں حرام ہے (جیسا کہ پارہ ہشتم کے ربع کے قریب آیات وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ میں ان کے ایسے جھوٹے دعوے آچکے ہیں) جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ گے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ایسا نہیں کہا بلکہ اس کے خلاف فرمایا ہے) بلاشبہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہ پائیں گے۔ (خواہ دنیا وآخرت دونوں میں یا صرف آخرت میں) یہ (دنیا میں) چند روزہ عیش ہے (اور آگے مرنے کے بعد) ان کے لئے درد ناک سزا ہے اور (یہ مشرکین ملت ابراہیمی کے متبع ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ ان کی شریعت میں تو یہ چیزیں حرام نہ تھیں جن کو انہوں نے حرام قرار دے دیا ہے البتہ بہت زمانے کے بعد ان اشیاء میں سے) صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردی تھیں جن کا بیان ہم اس کے قبل (سورة انعام میں) آپ سے کرچکے ہیں (اور ان کی تحریم میں بھی) ہم نے ان پر (صورۃ بھی) کوئی زیادتی نہیں کی لیکن وہ خود ہی اپنے اوپر (انبیاء کی مخالفت کرکے) زیادتی کیا کرتے تھے (تو معلوم ہوا کہ اشیاء طیبہ کو بالقصد تو کبھی حرام نہیں کیا گیا اور شریعت ابراہیمی میں کسی وقتی ضرورت کی وجہ سے بھی نہیں ہوئی پھر یہ تم نے کہاں سے گھڑ لیا) پھر آپ کا رب ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت سے برا کام (خواہ کچھ بھی ہو) کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور (آئندہ کے لئے) اپنے اعمال درست کر لئے تو آپ کا رب اس کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
Ayahs 16:115–118

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اللہ نے تو یہی حرام کیا ہے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کسی اور کا، پھر جو کوئی ناچار ہوجائے نہ زور کرتا ہو نہ زیادتی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور مت کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر بہتان باندھوں، بیشک جو بہتان باندھتے ہیں اللہ پر ان کا بھلا نہ ہوگا

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں اور ان کے واسطے عذاب درد ناک ہے

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو لوگ یہودی ہیں ان پر حرام کیا تھا جو تجھ کو پہلے سنا چکے، اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا پر وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے

معارف و مسائل محرمات مذکورہ میں حصر اضافی ہے حقیقی نہیں اس آیت میں لفظ انما سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیزیں صرف یہی چار ہیں جو آیت میں مذکور ہیں اور اس سے زیادہ صریح طور پر (آیت) قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا الایۃ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کے سوا کوئی چیز حرام نہیں حالانکہ قرآن وسنت کی تصریحات کے مطابق باجماع امت اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں اس اشکال کا جواب خود انہی آیات کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جگہ عام حرام و حلال کا بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مشرکین جاہلیت نے جو بہت سی چیزوں کو اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرمت کا حکم نہیں دیا تھا ان کا بیان کرنا مقصود ہے کہ تمہاری حرام کردہ اشیاء میں سے اللہ کے نزدیک صرف یہی چیزیں حرام ہیں اس آیت کی مکمل تفسیر اور ان چاروں محرمات کے احکام کا مفصل بیان سورة بقرہ کی آیت نمبر 173 میں معارف القرآن جلد اول صفحہ 358 سے صفحہ 370 تک آچکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر جنہوں نے برائی کی نادانی سے پھر توبہ کی اس کے پیچھے اور سنوارا اپنے آپ کو، سو تیرا رب ان باتوں کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے۔

توبہ سے گناہ کی معافی عام ہے خواہ بےسمجھی سے کرے یا جان بوجھ کر آیت ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيْنَ عَمِلُوا السُّوْۗءَ بِجَــهَالَةٍ میں لفظ جہل نہیں بلکہ جہالت استعمال فرمایا ہے جہل تو علم کے بالمقابل آتا ہے اور بےعلمی بےسمجھی کے معنی میں ہے اور جہالت کا لفظ جاہلانہ حرکت کے لئے بولا جاتا ہے اگرچہ جان بوجھ کر کرے اس سے معلوم ہوگیا کہ توبہ سے گناہ کی معافی بےسمجھی یا بےاختیاری کے ساتھ مقید نہیں۔
Ayahs 16:120–122

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

اصل میں ابراہیم تھا راہ ڈالنے والا فرمانبردار اللہ کا سب سے ایک طرف ہو کر، اور نہ تھا شرک کرنے والوں میں

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

حق ماننے والا اس کے احسانوں کا، اس کو اللہ نے چن لیا اور چلایا سیدھی راہ پر ،

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور دی ہم نے دنیا میں اس کو خوبی اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں ہے ،

خلاصہ تفسیر ربط آیات پچھلی آیات میں اصول شرک و کفر یعنی انکار توحید و انکار رسالت پر رد اور کفر و شرک کے بعض فروع یعنی تحلیل حرام اور تحریم حلال پر رد وابطال کی تفصیل تھی اور مشرکین مکہ مکرمہ جو قرآن کریم کے پہلے اور بلاواسطہ مخاطب تھے اپنے کفر وبت پرستی کے باوجود دعوی یہ کرتے تھے کہ ہم ملت ابراہیمی کے پابند ہیں اور ہم جو کچھ کرتے ہیں یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیمات ہیں اس لئے مذکورہ چار آیتوں میں ان کے اس دعوے کی تردید اور انہی کے مسلمات سے ان کے جاہلانہ خیالات کا ابطال اس طرح کیا گیا کہ مذکورہ پانچ آیتوں میں سے پہلی آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کا تمام اقوام عالم کا مسلم مقتدا ہونا بیان فرمایا جو نبوت و رسالت کا اعلی مقام ہے اس سے ان کا عظیم الشان نبی و رسول ہونا ثابت ہوا اس کے ساتھ ہی مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ سے ان کا کامل توحید پر ہونا بیان فرمایا۔ اور دوسری آیت میں ان کا شکرگزار اور صراط مستقیم پر ہونا بیان فرما کر ان کو تنبیہ کی کہ تم اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہوئے اپنے کو ان کا متبع کس زبان سے کہتے ہو ؟ تیسری آیت میں ان کا دنیا وآخرت میں کامیاب و بامراد ہونا اور چوتھی آیت میں رسول کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کے اثبات کے ساتھ آپ کا صحیح ملت ابراہیم ؑ کا پابند ہونا بیان فرما کر یہ ہدایت کی گئی کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو رسول کریم ﷺ پر ایمان اور آپ کی اطاعت کے بغیر یہ دعوی صحیح نہیں ہوسکتا۔ پانچویں آیت اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ میں اشارہ یہ بیان فرمایا کہ ملت ابراہیمی میں اشیاء طیبہ حرام نہیں تھیں جن کو تم نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا ہے مختصر تفسیر آیات مذکورہ کی یہ ہے۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام جن کو تم بھی مانتے ہو) بڑے مقتدا (یعنی نبی اولو العزم اور امت عظیمہ کے متبوع ومقتدا) اللہ تعالیٰ کے (پورے) فرمانبردار تھے (ان کا کوئی عقیدہ یا عمل اپنی خواہش نفسانی سے نہ تھا پھر تم اس کے خلاف محض اپنے نفس کی پیروی سے اللہ کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیوں ٹھہراتے ہو اور وہ) بالکل ایک (خدا) کی طرف ہو رہے تھے (اور مطلب ایک طرف ہونے کا یہ ہے کہ) وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے (تو پھر تم شرک کیسے کرتے ہو اور وہ) اللہ کی نعمتوں کے (بڑے) شکر گذار تھے (پھر تم شرک و کفر میں مبتلا ہو کر ناشکری کیوں کرتے ہو غرض ابراہیم ؑ کی یہ شان اور طریقہ تھا اور وہ ایسے مقبول تھے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کو منتخب کرلیا تھا اور ان کو سیدھے راہ پر ڈال دیا تھا اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبیاں (مثل نبوت و رسالت میں منتخب ہونا اور ہدایت پر ہونا وغیرہ) دی تھیں اور وہ آخرت میں بھی (اعلی درجہ کے) اچھے لوگوں میں ہوں گے (اس لئے تم سب کو انہی کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور وہ طریقہ اب منحصر ہے طریقہ محمدیہ ہیں جس کا بیان یہ ہے کہ) پھر ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی کہ آپ ابراہیم ؑ کے طریقہ پر جو کہ بالکل ایک (خدا) کی طرف ہو رہے تھے چلئے (اور چونکہ اس زمانہ کے وہ لوگ جو ملت ابراہیمی کے اتباع کے مدعی تھے کچھ نہ کچھ شرک میں مبتلا تھے۔ اس لئے مکرر فرمایا کہ) وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے (تاکہ بت پرستوں کے ساتھ یہود و نصاریٰ کے موجودہ طریقہ پر بھی رد ہوجائے جو شرک سے خالی نہ تھے اور چونکہ یہ لوگ تحریم طیبات کی جاہلانہ و مشرکانہ رسوم میں مبتلا تھے اس لئے فرمایا کہ) پس ہفتہ کی تعظیم (یعنی ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت جو تحریم طیبات کی ایک فرد ہے وہ تو) صرف انہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی جنہوں نے اس میں (عملا) خلاف کیا تھا (کہ کسی نے مانا اور عمل کیا کسی نے اس کے خلاف کیا مراد اس سے یہود ہیں کہ تحریم طیبات کی یہ صورت مثل دوسری صورتوں کے صرف یہود کے ساتھ مخصوص تھی ملت ابراہیمی میں یہ چیزیں حرام نہیں تھیں آگے احکام الہیہ میں اختلاف کرنے کے متعلق فرماتے ہیں کہ) بیشک آپ کا رب قیامت کے دن ان میں باہم (عملا) فیصلہ کر دے گا جس بات میں یہ (دنیا میں) اختلاف کیا کرتے تھے۔ معارف و مسائل لفظ امت چند معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے مشہور معنی جماعت اور قوم کے ہیں حضرت ابن عباس ؓ سے اس جگہ یہی معنی منقول ہیں اور مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ تنہا ایک فرد ایک امت اور قوم کے کمالات و فضائل کے جامع ہیں اور ایک معنی لفظ امت کے مقتدائے قوم اور جامع کمالات کے بھی آتے ہیں بعض مفسرین نے اس جگہ یہی معنی لئے ہیں اور قانت کے معنی تابع فرمان کے ہیں حضرت ابراہیم ؑ ان دونوں وصفوں میں خاص امتیاز رکھتے ہیں مقتدا ہونے کا تو یہ عالم ہے کہ پوری دنیا کے تمام مشہور مذاہب کے لوگ سب آپ پر اعتقاد رکھتے ہیں اور آپ کی ملت کے اتباع کو عزت وفخر جانتے ہیں یہود نصاری مسلمان تو ان کی تعظیم و تکریم کرتے ہی ہیں مشرکین عرب بت پرستی کے باوجود اس بت شکن کے معتقد اور ان کی ملت پر چلنے کو اپنا فخر جانتے ہیں اور قانت ومطیع ہونے کا خاص امتیاز ان امتحانات سے واضح ہوجاتا ہے جن سے اللہ کے یہ خلیل گذرے ہیں آتش نمرود اہل و عیال کو لق ودق جنگل میں چھوڑ کر چلے جانے کا حکم پھر آرزؤں سے حاصل ہونے والے بیٹے کی قربانی پر آمادگی یہ سب وہ امتیازات ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان القاب سے معزز فرمایا ہے۔
Ayahs 16:123–124

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر حکم بھیجا تجھ کو ہم نے کہ چل دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا اور نہ تھا وہ شرک کرنے والوں میں ،

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتہ کا دن جو مقرر کیا سو انہی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے، اور تیرا رب حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے

نبی کریم ﷺ کے لئے ملت ابراہیمی کا اتباع حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم ؑ کو عطا فرمائے تھے خاتم الانبیاء ﷺ کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئ اور اگرچہ رسول کریم ﷺ تمام انبیاء ورسل (علیہم السلام) سے افضل ہیں مگر یہاں افضل کو مفضول کے اتباع کا حکم دینے میں دو حکمتیں ہیں۔ اول تو یہ کہ وہ شریعت پہلے دنیا میں آ چکی ہے اور معلوم و معروف ہوچکی ہے آخری شریعت بھی چونکہ اس کے مطابق ہونے والی تھی اس لئے اس کو اتباع کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے دوسرے بقول علامہ زمخشری یہ حکم اتباع بھی منجملہ اکرام و اعزاز خلیل اللہ کے ایک خاص اعزاز ہے اور اس کی خصوصیت کی طرف لفظ ثم سے اشارہ کردیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ کے تمام فضائل و کمالات ایک طرف اور ان سب پر فائق یہ کمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے افضل رسول وحبیب کو ان کی ملت کے اتباع کا حکم فرمایا۔
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

بلا اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی طرح اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے ان کو جو بھول گیا اس کی راہ سے اور وہی بہتر جانتا ہے ان کو جو راہ پر ہیں

خلاصہ تفسیر ربط آیات سابقہ آیات میں رسول کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کے اثبات سے مقصود یہ تھا کہ امت آپ کے احکام کی تعمیل کر کے رسالت کے حقوق ادا کریں مذکورہ آیات میں خود رسول کریم ﷺ کو ادائے رسالت کے حقوق اور آداب کی تعلیم ہے جس کے غموم میں تمام مؤمنین شریک ہیں مختصر تفسیر یہ ہے آپ اپنے رب کی راہ (یعنی دین اسلام) کی طرف (لوگوں کو) حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلائیے (حکمت سے وہ طریقہ دعوت مراد ہے جس میں مخاطب کے احوال کی رعایت سے ایسی تدبیر اختیار کی گئی ہو جو مخاطب کے دل پر اثر انداز ہو سکے اور نصیحت سے مراد یہ ہے کہ خیرخواہی و ہمدردی کے جذبہ سے بات کہی جائے اور اچھی نصیحت سے مراد یہ ہے کہ عنوان بھی نرم ہو دل خراش توہین آمیز نہ ہو) اور ان کے ساتھ اچھے طریقہ سے بحث کیجئے (یعنی اگر بحث مباحثے کی نوبت آجائے تو وہ بھی شدت اور خشونت سے اور مخاطب پر الزام تراشی اور بےانصافی سے خالی ہونا چاہئے بس اتنا کام آپ کا ہے پھر اس تحقیق میں نہ پڑیئے کہ کس نے مانا کس نے نہیں مانا یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے پس) آپ کا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو بھی جو اس کے راستہ سے گم ہوگیا اور وہی راہ پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے اور (اگر کبھی مخاطب علمی بحث و مباحثہ کی حد سے آگے بڑھ کر عملی جدال اور ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہنچانے لگیں تو اس میں آپ کو اور آپ کے متبین کو بدلہ لینا بھی جائز ہے اور صبر کرنا بھی پس) اگر (پہلی صورت اختیار کرو یعنی) بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے (اس سے زیادتی نہ کرو) اور اگر (دوسری صورت یعنی ایذاؤں پر) صبر کرو تو وہ (صبر کرنا) صبر کرنے والوں کے حق میں بہت ہی اچھی بات ہے (کہ مخالف پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور دیکھنے والوں پر بھی اور آخرت میں موجب اجر عظیم ہے) اور (صبر کرنا اگرچہ سبھی کے لئے بہتر ہے مگر آپ کی عظمت شان کے لحاظ سے آپ کو خصوصیت کے ساتھ حکم ہے کہ آپ انتقام کی صورت اختیار نہ کریں بلکہ) آپ صبر کیجئے اور آپ کا صبر کرنا خدا ہی کی توفیق خاص سے ہے ّیعنی ان کے ایمان نہ لانے پر یا مسلمانوں کو ستانے) پر غم نہ کیجئے اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو جئے (ان کی مخالف تدبیروں سے آپ کا کوئی ضرر نہ ہوگا کیونکہ آپ کا احسان اور تقوی کی صفات حاصل ہیں اور) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے (یعنی ان کا مددگار ہوتا ہے) جو پرہیزگار ہوتے ہیں اور نیک کردار ہوتے ہیں۔ معارف و مسائل دعوت و تبلیغ کے اصول اور مکمل نصاب اس آیت میں دعوت و تبلیغ کا مکمل نصاب اس کے اصول اور آداب کی پوری تفصیل چند کلمات میں سموئی ہوئی ہے تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت ہرم ابن حیان کی موت کا وقت آیا تو عزیزوں نے درخواست کی کہ ہمیں کچھ وصیت فرمائیے تو فرمایا کہ وصیت تو لوگ اموال کی کیا کرتے ہیں وہ میرے پاس ہے نہیں لیکن میں تم کو اللہ کی آیات خصوصا سورة نحل کی آخری آیتوں کی وصیت کرتا ہوں کہ ان پر مضبوطی سے قائم رہو۔ وہ آیات یہی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ دعوۃ کے لفظی معنی بلانے کے ہیں انبیاء (علیہم السلام) کا پہلا فرض منصبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے پھر تمام تعلیمات نبوت و رسالت اسی دعوت کی تشریحات ہیں قرآن میں رسول کریم ﷺ کی خاص صفت الی اللہ ہونا ہے، (آیت) وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا (احزاب 46) يٰقَوْمَنَآ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ (احقاف 31) امت پر بھی آپ کے نقش قدم پر دعوت الی اللہ کو فرض کیا گیا ہے سورة آل عمران میں ارشاد ہے۔ (آیت) وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (آل عمران 104) تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیں (یعنی) نیک کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں) اور ایک آیت میں ارشاد ہے (آیت) وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ۔ گفتار کے اعتبار سے اس شخص سے اچھا کون ہوسکتا ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا تعبیر میں کبھی اس لفظ کو دعوت الی اللہ کا عنوان دیا جاتا ہے اور کبھی دعوت الی الخیر کا اور کبھی دعوت الی سبیل اللہ کا حاصل سب کا ایک ہے کیونکہ اللہ کی طرف بلانے سے اس کے دین اور صراط مستقیم ہی کی طرف بلانا مقصود ہے۔ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی خاص صفت رب اور پھر اس کی نبی کریم ﷺ کی طرف اضافت میں اشارہ ہے کہ دعوت کا کام صفت ربوبیت اور تربیت سے تعلق رکھتا ہے جس طرح حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کی تربیت فرمائی آپ کو بھی تربیت کے انداز سے دعوت دینا چاہئے جس میں مخاطب کے حالات کی رعایت کر کے وہ طرز اختیار کیا جائے کہ مخاطب پر بار نہ ہو اور اس کی تاثیر زیادہ سے زیادہ ہو خود لفظ دعوت بھی اس مفہوم کو ادا کرتا ہے کہ پیغمبر کا کام صرف اللہ کے احکام پہنچا دینا اور سنا دینا نہیں بلکہ لوگوں کو ان کی تعمیل کی طرف دعوت دینا ہے اور ظاہر ہے کہ کسی کو دعوت دینے والا اس کے ساتھ ایسا خطاب نہیں کیا کرتا جس سے مخاطب کو وحشت ونفرت ہو یا جس میں اس کے ساتھ استہزاء و تمسخر کیا گیا ہو۔ بِالْحِكْمَةِ لفظ حکمت قرآن کریم میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوا ہے اس جگہ بعض ائمہ تفسیر نے حکمت سے مراد قرآن کریم بعض نے قرآن وسنت بعض نے حجت قطیعہ کو قرار دیا ہے اور روح المعانی نے نے بحوالہ بحرمحیط حکمت کی تفسیر یہ کی ہے۔ انھا الکلام الصواب الواقع من اجمل موقع (روح) یعنی حکمت اس درست کلام کا نام ہے جو انسان کے دل میں۔ اس تفسیر میں تمام اقوال جمع ہوجاتے ہیں اور صاحب روح البیان نے بھی تقریبا یہی مطلب ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ حکمت سے مراد وہ بصیرت ہے جس کے ذریعہ انسان مقتضیات احوال کو معلوم کر کے اس کے مناسب کلام کرے وقت اور موقعہ ایسا تلاش کرے کہ مخاطب پر بار نہ ہو نرمی کی جگہ نرمی اور سختی کی جگہ سختی اختیار کرے اور جہاں یہ سمجھے کہ صراحۃ کہنے میں مخاطب کو شرمندگی ہوگی وہاں اشارات سے کلام کرے یا کوئی ایسا عنوان اختیار کرے کہ مخاطب کو نہ شرمندگی ہو اور نہ اس کے دل میں اپنے خیال پر جمنے کا تعصب پیدا ہو۔ وَالْمَوْعِظَةِ موعظۃ اور وعظ کے لغوی معنی یہ ہے کہ کسی خیر خواہی کی بات کو ایسی طرح کہا جائے کہ اس سے مخاطب کا دل قبولیت کے لئے نرم ہوجائے مثلا اس کے ساتھ قبول کرنے کے ثواب و فوائد اور نہ کرنے کے عذاب ومفاسد ذکر کئے جائیں (قاموس ومفردات راغب) الْحَسَنَةِ کے معنی یہ ہیں کہ بیان اور عنوان بھی ایسا ہو جس سے مخاطب کا قلب مطمئن ہو اس کے شکوک و شبہات دور ہوں اور مخاطب یہ محسوس کرے کہ آپ کی اس میں کوئی غرض نہیں صرف اس کی خیرخواہی کے لئے کہہ رہے ہیں، مَوْعِظَةِ کے لفظ سے خیر خواہی کی بات مؤ ثر انداز میں کہنا تو واضح ہوگیا تھا مگر خیر خواہی کی بات بعض اوقات دل خراش عنوان سے یا اس طرح بھی کہی جاتی ہے جس سے مخاطب اپنی اہانت محسوس کرے (روح المعانی اس طریقہ کو چھوڑنے کے لئے حسنہ کا اضافہ کردیا گیا۔ (آیت) وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ لفظ جادل، مجادلہ سے مشتق ہے اس جگہ مجادلہ سے مراد بحث ومناظرہ ہے اور بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ سے مراد یہ ہے کہ اگر دعوت میں کہیں بحث ومناظرہ کی ضرورت پیش آجائے تو وہ مباحثۃ بھی اچھے طریقہ سے ہونا چاہئے روح المعانی میں ہے کہ اچھے طریقہ سے یہ مراد ہے کہ گفتگو میں لطف اور نرمی اختیار کی جائے دلائل ایسے پیش کئے جائیں جو مخاطب آسانی سے سمجھ سے دلیل میں یہ مقدمات پیش کئے جائیں جو مشہور و معروف ہوں تاکہ مخاطب کے شکوک دور ہوں اور وہ ہٹ دھرمی کے راستہ پر نہ جائے اور قرآن کریم کی دوسری آیات اس پر شاہد ہیں کہ یہ احسان فی المجادلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں اہل کتاب کے بارے میں تو خصوصیت کے ساتھ قرآن کا ارشاد ہے (آیت) وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ اور دوسری آیت میں حضرت موسیٰ وھارون (علیہما السلام) کو (آیت) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا۔ کی ہدایت دے کر یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون جیسے سرکش کافر کے ساتھ بھی یہی معاملہ کرنا ہے۔ دعوت کے اصول وآداب آیت مذکورہ میں دعوت کے تین چیزوں کا ذکر ہے۔ اول حکمت۔ دوسرے موعظۃ حسنہ تیسرے مجادلہ بالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بنا پر ہیں دعوت بالحکمۃ اہل علم وفہم کے لئے دعوت بالموعظہ عوام کے لئے مجادلہ ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں شکوک و شبہات ہوں یا جو عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب بات ماننے سے منکر ہوں۔ سیدی حضرت حکیم الامۃ تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ ان تین چیزوں کے مخاطب الگ الگ تین قسم کی جماعتیں ہونا سیاق آیت کے لحاظ سے بعید معلوم ہوتا ہے انتہی۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ آداب دعوت ہر ایک کے لئے استعمال کرنے ہیں کہ دعوت میں سب سے پہلے حکمت سے مخاطب کے حالات کا جائزہ لے کر اس کے مناسب کلام تجویز کرنا ہے پھر اس کلام میں خیر خواہی و ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ ایسے شواہد اور دلائل سامنے لانا ہے جن سے مخاطب مطمئن ہو سکے اور طرز بیان و کلام ایسا مشفقانہ اور نرم رکھنا ہے کہ مخاطب کو اس کا یقین ہوجائے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں میری ہی مصلحت اور خیرخواہی کے لئے کہہ رہے ہیں مجھے شرمندہ کرنا یا میری حیثیت کو مجروح کرنا ان کا مقصد نہیں۔ البتہ صاحب روح المعانی نے اس جگہ ایک نہایت لطیف نکتہ یہ بیان فرمایا کہ آیت کے نسق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصول دعوت اصل میں دو ہی چیزیں ہیں حکمت اور موعظت تیسری چیز مجادلہ، اصول دعوت میں داخل نہیں ہاں طریق دعوت میں کبھی اس کی بھی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ صاحب روح المعانی کا استدلال اس پر یہ ہے کہ اگر یہ تینوں چیزیں اصول دعوت ہوتیں تو مقتضائے مقام یہ تھا کہ تینوں چیزوں کو عطف کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ والجدال الاحسن مگر قرآن حکیم نے حکمت وموعظت کو تو عطف کے ساتھ ایک ہی نسق میں بیان فرمایا اور مجادلہ کے لئے الگ جملہ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭاختیار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجادلہ فی العلم دراصل دعوت الی اللہ کا رکن یا شرط نہیں بلکہ طریق دعوت میں پیش آنے والے معاملات کے متعلق ایک ہدایت ہے جیسا کہ اس کے بعد کی آیت میں صبر کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ طریق دعوت میں لوگوں کی ایذاؤں پر صبر کرنا ناگزیر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصول دعوت دو چیزیں ہیں حکمت اور موعظت جن سے کوئی دعوت خالی نہ ہونا چاہئے خواہ علماء و خواص کو ہو یا عوام الناس کو البتہ دعوت میں کسی وقت ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑجاتا ہے جو شکوک واوہام میں مبتلا اور داعی کے ساتھ بحث مباحثہ پر آمادہ ہیں تو ایسی حالت میں مجادلہ کی تعلیم دی گئی مگر اس کے ساتھ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭکی قید لگا کر بتلا دیا کہ جو مجادلہ اس شرط سے خالی ہو اس کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ آداب دعوت الی اللہ دراصل انبیاء (علیہم السلام) کا منصب ہے امت کے علماء اس منصب کو ان کا نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں تو لازم یہ ہے کہ اس کے آداب اور طریقے بھی انہی سے سیکھیں جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہے وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ وجدال کا موجب ہوجاتی ہے۔ دعوت پیغمبرانہ کے اصول میں جو ہدایت قرآن کریم میں حضرت موسیٰ و ہارون کے لئے نقل کی گئی ہے کہ (آیت) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى یعنی فرعون سے نرم بات کرو شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے یہ ہر داعی حق کو ہر وقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ فرعون جیسا سرکش کافر جس کی موت بھی علم الہی میں کفر ہی پر ہونے والی تھی اس کی طرف بھی جب اللہ تعالیٰ اپنے داعی کو بھیجتے ہیں تو نرم گفتار کی ہدایت کے ساتھ بھیجتے ہیں آج ہم جن لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ فرعون سے زیادہ گمراہ نہیں اور ہم میں سے کوئی موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے برابر ہادی وداعی نہیں تو جو حق تعالیٰ نے اپنے دونوں پیغمبروں کو نہیں دیا کہ مخاطب سے سخت کلامی کریں اس پر فقرے کسیں اس کی توہین کریں وہ حق تعالیٰ ہمیں کہاں سے حاصل ہوگیا۔ قرآن کریم انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت و تبلیغ اور کفار کے مجادلات سے بھرا ہوا ہے اس میں کہیں نظر نہیں آتا کہ کسی اللہ کے رسول نے حق کے خلاف ان پر طعنہ زنی کرنیوالوں کے جواب میں کوئی ثقیل کلمہ بھی بولا ہو اس کی چند مثالیں دیکھئے۔ سورة اعراف کے ساتویں رکوع میں آیات 59 سے 67 تک دو پیغمبر حضرت نوح اور حضرت ہود (علیہما السلام) کے ساتھ ان کی قوم کے مجادلے اور سخت سست الزامات کے جواب میں ان بزرگوں کے کلمات قابل ملاحظہ ہیں۔ حضرت نوح ؑ اللہ تعالیٰ کے وہ الوالعزم پیغمبر ہیں جن کی طویل عمر دنیا میں مشہور ہے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کی دعوت و تبلیغ اصلاح و ارشاد میں دن رات مشغول رہے مگر اس بدبخت قوم میں سے معدودے چند کے علاوہ کسی نے ان کی بات نہ مانی اور تو اور خود ان کا ایک لڑکا اور بیوی کافروں کے ساتھ لگے رہے ان کی جگہ آج کا کوئی مدعی دعوت و اصلاح ہوتا تو اس قوم کے ساتھ اس کا لب و لہجہ کیسا ہوتا اندازہ لگائیے پھر دیکھئے کہ ان کی تمام ہمدردی وخیر خواہی کی دعوت کے جواب میں قوم نے کیا کہا۔ (آیت) اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (اعراف) ہم تو آپ کو کھلی ہوئی گمراہی میں پاتے ہیں۔ ادھر سے اللہ کے پیغمبر بجائے اس کے کہ اس سرکش قوم کی گمراہیوں، بدکاریوں کا پردہ چاک کرتے جواب میں کیا فرماتے ہیں۔ (آیت) يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ میرے بھائیو ! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں میں تو رب العلمین کا رسول اور قاصد ہوں (تمہارے فائدہ کی باتیں بتلاتا ہوں) ان کے بعد آنے والے دوسرے اللہ کے رسول حضرت ہود ؑ کو ان کی قوم نے معجزات دیکھنے کے باوجود از راہ عناد کہا کہ آپ نے اپنے دعوے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی اور ہم آپ کے کہنے سے اپنے معبودوں (بتوں) کو چھوڑنے والے نہیں ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے معبودوں کی شان میں بےادبی کی ہے اس کی وجہ سے تم جنون میں مبتلا ہوگئے ہو حضرت ہود ؑ نے یہ سب کچھ سن کر جواب دیا۔ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ یعنی میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں سے بری اور بیزار ہوں جن کو تو اللہ کا شریک مانتے ہو (سورة ہود) اور سورة اعراف میں ہے کہ ان کی قوم نے ان کو کہا اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ (اعراف) ہم تو آپ کو بیوقوفی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ قوم کے اس دل آزار خطاب کے جواب میں اللہ کے رسول ہود ؑ نہ ان پر کوئی فقرہ کستے ہیں نہ ان کی بےراہی اور کذب وافترا علی اللہ کی کوئی بات کہتے ہیں جواب کیا ہے صرف یہ کہ (آیت) يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ سَفَاهَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ (اعراف) اے میری برادری کے لوگو مجھ میں بےوقوفی یا کم عقلی نہیں میں تو رب العلمین کا رسول ہوں۔ حضرت شعیب ؑ نے قوم کو حسب دستور انبیاء اللہ کی طرف دعوت دی اور ان میں جو بڑا عیب ناپ تول میں کمی کرنے کا تھا اس سے باز آنے کی ہدایت فرمائی تو ان کی قوم نے تمسخر کیا اور توہین آمیز خطاب کیا) (آیت) يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور یہ کہ جن اموال کے ہم مالک ہیں ان میں اپنی مرضی کے موافق جو چاہیں نہ کریں واقعی آپ ہیں بڑے عقلمند دین پر چلنے والے۔ انہوں نے ایک تو یہ طعنہ دیا کہ تم جو نماز پڑھتے ہو یہی تمہیں بےوقوفی کے کام سکھاتی ہے دوسرے یہ کہ مال ہمارے ہیں ان کی خریدو فروخت کے معاملات میں تمہارا یا خدا کا کیا دخل ہے ہم جس طرح چاہیں ان میں تصرف کا حق رکھتے ہیں تیسرا جملہ تمسخر و استہزاء کا یہ کہا کہ آپ ہیں بڑی عقلمند بہت دین پر چلنے والے۔ معلوم ہوا کہ یہ لا دینی معاشیات کے پجاری صرف آج نہیں پیدا ہوئے ان کے بھی کچھ اسلاف ہیں جن کا نظریہ وہی تھا جو آج کے بعض نام کے مسلمان کہہ رہے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اسلام مانتے ہیں مگر معاشیات میں ہم سوشل ازم کو اختیار کرتے ہیں اس میں اسلام کا کیا دخل ہے بہرحال اس ظالم قوم کے اس مسخرے پن اور دل آزار گتفگو کا جواب اللہ کا رسول کیا دیتا ہے دیکھئے (آیت) قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا ۭ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ۭ اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ (سورة ھود آیت 88) اے میری قوم ! بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے عمدہ دولت یعنی نبوت دی ہو تو پھر میں کیسے اس کی تبلیغ نہ کروں اور میں خود بھی تو اس کے خلاف کوئی عمل نہیں کرتا جو تمہیں بتلاتا ہوں میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میری قدرت میں ہے اور مجھ کو جو کچھ اصلاح اور عمل کی توفیق ہوجاتی ہے وہ صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور تمام امور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کی طرف بھیجنے کے وقت جو نرم گفتار کی ہدایت منجانب اللہ دی گئی تھی اس کی پوری تعمیل کرنے کے باوجود فرعون کا خطاب حضرت موسیٰ ؑ سے یہ تھا۔ (آیت) قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ (سورة شعراء) فرعون کہنے لگا (اہا تم ہو) کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم اس عمر میں برسوں ہمارے پاس رہا سہا کئے اور تم نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی (یعنی قبطی کو قتل کیا تھا) اور تم بڑی ناشکرے ہو۔ اس میں حضرت موسیٰ ؑ پر اپنا یہ احسان بھی جتلایا کہ بچپن میں ہم نے تجھے پالا ہے پھر یہ احسان بھی جتلایا کہ بڑے ہونے کے بعد بھی کافی مدت تک تم ہمارے پاس رہے پھر یہ عتاب کیا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھ سے جو ایک قبطی بغیر ارادہ قتل کے مارا گیا تھا اس پر غصہ وناراضی کا اظہار کر کے یہ بھی کہا کہ تم کافروں میں سے ہوگئے۔ یہاں کافروں میں سے ہونے کے لغوی معنی بھی ہو سکتے ہیں یعنی ناشکری کرنے والا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے تم پر احسانات کئے اور تم نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا جو احسان کی ناشکری تھی اور اصطلاحی معنی بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ فرعون خود خدائی کا دعویدار تھا تو جو اس کی خدائی کا منکر ہوا وہ کافر ہوا۔ اب اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ کا جواب سنئے جو پیغمبرانہ آداب دعوت اور پیغمبرانہ اخلاق کا شاہکار ہے کہ اس میں سب سے پہلے تو اس کمزوری اور کوتاہی کا اعتراف کرلیا جو ان سے سرزد ہوگئی تھی یعنی اسرائیلی آدمی سے لڑنے والے قبطی کو ہٹانے کے لئے ایک مکا اس کے مارا تھا جس سے وہ مرگیا تو گو یہ قتل عمدا ارادۃ نہیں تھا مگر کوئی دینی تقاضا بھی نہیں تھا بلکہ شریعت موسوی کے لحاظ سے بھی وہ شخص قتل کا مستحق نہیں تھا اس لئے پہلے یہ اعتراف فرمایا۔ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ (سورة شعراء) یعنی میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ مراد یہ ہے کہ یہ فعل عطاء نبوت سے پہلے سرزد ہوگیا تھا جب کہ مجھے اس بارے میں اللہ کا کوئی حکم معلوم نہیں تھا اس کے بعد فرمایا۔ فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا وَّجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (سورة شعراء) پھر مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے یہاں سے مفرور ہوگیا پھر مجھ کو میرے رب نے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھ کو اپنی پیغمبروں میں شامل کردیا۔ پھر اس کے احسان جتلانے کا جواب یہ دیا کہ تمہارا یہ احسان جتانا صحیح نہیں کیونکہ میری پرورش کا معاملہ تمہارے ہی ظلم وعدوان کا نتیجہ تھا کہ تم نے اسرائیلی بچوں کے قتل کا حکم دے رکھا تھا اس لئے والدہ نے مجبور ہو کر مجھے دریا میں ڈالا اور تمہارے گھر تک پہنچنے کی نوبت آئی فرمایا۔ وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ (سورة شعراء) (رہا احسان جتلانا پرورش کا) وہ نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت میں ڈال رکھا تھا۔ اس کے بعد فرعون نے جب سوال کیا وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی رب العالمین کون ہے اور کیا ہے ؟ تو جواب میں فرمایا کہ وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا اس پر فرعون نے بطور استہزاء کے حاضرین سے کہا اَلَا تَسْمَعُوْنَ یعنی تم سن رہے ہو کہ یہ کیسی بےعقلی کی باتیں کہہ رہے ہیں اس پر موسیٰ ؑ نے فرمایا۔ (آیت) رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ (یعنی تمہارا اور تمہارے باپ دادوں کا بھی وہی رب پروردگار ہے۔ اس پر فرعون نے جھنجھلا کر کہا (آیت) اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ یعنی یہ جو تمہاری طرف اللہ کے رسول ہونے کا مدعی ہے وہ دیوانہ ہے۔ مجنون دیوانہ کا خطاب دینے پر بھی موسیٰ ؑ بجائے اس کے کہ ان کا دیوانہ ہونا اور اپنا عاقل ہونا ثابت کرتے اس طرف کوئی التفات ہی نہیں کیا بلکہ اللہ رب العلمین کی ایک اور صفت بیان فرما دی۔ (آیت) رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭاِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ (سورة شعراء) وہ رب ہے مشرق و مغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تم کو کچھ عقل ہو۔ یہ ایک طویل مکالمہ ہے جو فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کے درمیان ہو رہا ہے جو سورة شعراء کے تین رکوع میں بیان ہوا ہے اللہ کے مقبول رسول حضرت موسیٰ ؑ کے اس مکالمہ کو اول سے آخر تک دیکھئے نہ کہیں جذبات کا اظہار ہے نہ اس کی بدگوئی کا جواب ہے نہ اس کی سخت کلامی کے جواب میں کوئی سخت کلمہ ہے بلکہ مسلسل اللہ جل شانہ کی صفات کمال کا بیان ہے اور تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مختصر سا نمونہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کے مجادلات کا جو اپنے معاند اور ضدی قوم کے مقابلہ میں کئے گئے ہیں اور مجادلہ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ جو قرآن کی تعلیم ہے اس کی عملی تشریح ہے۔ مجادلات کے علاوہ دعوت و تبلیغ میں ہر مخاطب اور ہر موقع کے مناسب کلام کرنے میں حکیمانہ اصول اور عنوان و تعبیر میں حکمت و مصلحت کی رعایتیں بھی جو انبیاء (علیہم السلام) نے اختیار فرمائی ہیں اور دعوت الی اللہ کو مقبول ومؤ ثر اور پائیدار بنانے کے لئے جو طرز عمل اختیار فرمایا ہے وہی دراصل دعوت کی روح ہے اس کی تفصیلات تو تمام تعلیمات نبوی ؑ میں پھیلی ہوئی ہیں نمونے کے طور پر چند چیزیں دیکھئے۔ رسول کریم ﷺ کو دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت میں اس کا بڑا لحاظ رہتا تھا کہ مخاطب پر بار نہونے پائے صحابہ کرام ؓ اجمعین جیسے عشاق رسول جن سے کسی وقت بھی اس کا احتمال نہ تھا کہ وہ آپ کی باتیں سننے سے اکتا جائیں گے ان کے لئے بھی آپ کی عادت یہ تھی کہ وعظ و نصیحت روزانہ نہیں بلکہ ہفتہ کے بعض دنوں میں فرماتے تھے تاکہ لوگوں کے کاروبار کا حرج اور ان کی طبیعت پر بار نہ ہو۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ ہفتہ کے بعض ایام ہی میں وعظ فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں اور دوسروں کو بھی آپ کی طرف سے یہی ہدایت تھی حضرت انس ؓ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یسروا ولا تعسروا وبشروا ولا تنفروا (صحیح بخاری کتاب العلم) لوگوں پر آسانی کرو دشواری نہ پیدا کرو اور ان کو اللہ کی رحمت کی خوشخبری سناؤ مایوس یا متنفر نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں تمہیں چاہئے کہ ربانی حکماء علماء اور فقہاء بنو۔ صحیح بخاری میں یہ قول نقل کر کے لفظ ربانی کی یہ تفسیر فرمائی کہ جو شخص دعوت و تبلیغ اور تعلیم میں تربیت کے اصول کو ملحوظ رکھ کر پہلے احکام بتلائے جو ابتدائی مرحلے میں مشکل ہوتے وہ عالم ربانی ہے آج کل جو وعظ و تبلیغ کا اثر بہت کم ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عموما اس کام کرنے والے ان اصول و اداب کی رعایت نہیں کرتے لمبی تقریریں وقت بےوقت نصحیت مخاطب کے حالات کو معلوم کئے بغیر اس کو کسی کام پر مجبور کرنا ان کی عادت بن گئی ہے۔ رسول کریم ﷺ کو دعوت و اصلاح کے کام میں اس کا بھی بڑا اہتمام تھا کہ مخاطب کی سبکی یا رسوائی نہ ہو اسی لئے جب کسی شخص کو دیکھتے کہ کسی غلط اور برے کام میں مبتلا ہے تو اس کو براہ راست خطاب کرنے کے بجائے مجمع عام کو مخاطب کر کے فرماتے تھے۔ مابال اقوام یفعلون کذالوگوں کو کیا ہوگیا کہ فلاں کام کرتے ہیں۔ اس عام خطاب میں جس کو سنانا اصل مقصود ہوتا وہ بھی سن لیتا اور دل میں شرمندہ ہو کر اس کے چھوڑنے کی فکر میں لگ جاتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی عام عادت یہی تھی کہ مخاطب کو شرمندگی سے بچاتے تھے اسی لئے بعض اوقات جو کام مخاطب سے سرزد ہوا ہے اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اصلاح کی کوشش فرماتے۔ سورة یسین میں ہے وَمَالِيَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِيْ فَطَرَنِيْ یعنی مجھے کیا ہوگیا کہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت نہ کروں ظاہر ہے کہ یہ قاصد رسول تو ہر وقت عبادت میں مشغول تھے سنانا اس مخاطب کو تھا جو مشغول عبادت نہیں ہے مگر اس کام کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اور دعوت کے معنی دوسرے کو اپنے پاس بلانا ہے محض اس کے عیب بیان کرنا نہیں اور یہ بلانا اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ متکلم اور مخاطب میں کوئی اشتراک ہو اسی لئے قرآن عزیز میں انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا عنوان اکثر یا قوم سے شروع ہوتا ہے جس میں برادرانہ رشتہ کا اشتراک پہلے جتلا کر اگے اصلاحی کلام کیا جاتا ہے کہ ہم تم تو ایک ہی برادری کے آدمی ہیں کوئی منافرت نہیں ہونی چاہئے یہ کہہ کر ان کی اصلاح کا کام شروع فرماتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے جو دعوت کا خط ہرقل شاہ روم کے نام بھیجا اس میں اول تو شاہ روم کو عظیم الروم کے لقب سے یاد فرمایا جس میں اس کا جائز اکرام ہے کیونکہ اس میں اس کے عظیم ہونے کا اقرار بھی ہے مگر رومیوں کے لئے اپنے لئے نہیں اس کے بعد ایمان کی دعوت اس عنوان سے دی گئی۔ (آیت) تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاۗءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ (سورة آل عمران) جس میں پہلے آپس کا ایک مشترک نقطہ و حدت ذکر کیا کہ توحید کا عقیدہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اس کے بعد عیسائیوں کی غلطی پر متنبہ فرمایا۔ تعلیمات رسول کریم ﷺ پر دھیان دیا جائے تو ہر تعلیم دعوت میں اسی طرح کہ آداب و اصول ملیں گے آج کل اول تو دعوت و اصلاح اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی طرف دھیان ہی نہ رہا اور جو اس میں مشغول بھی ہیں انہوں نے صرف بحث و مباحثہ اور مخالف پر الزام تراشی فقرے کسنے اور اس کی تحقیر و توہین کرنے کو دعوت و تبلیغ سمجھ لیا ہے جو خلاف سنت ہونے کی وجہ سے کبھی مؤ ثر ومفید نہیں ہوتا وہ سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی بڑی خدمت کی اور حقیقت میں وہ لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ مروجہ مجادلات کی دینی اور دنیوی مضرتیں آیت مذکورہ کی تفسیر میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اصل مقصود شرع دعوت الی اللہ ہے۔ جس کے دو اصول ہیں حکمت موعظت حسنہ مجادلہ کی صورت کبھی سر آپڑے تو اس کے لئے بھی احسن کی قید لگا کر اجازت دے دیگئی ہے مگر وہ حقیقۃ دعوت کا کوئی شعبہ نہیں بلکہ اس کے منفی پہلو کی ایک تدبیر ہے جس میں قرآن کریم میں بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ کی قید لگا کر جس طرح یہ بتلا دیا ہے کہ وہ نرمی خیر خواہی اور ہمدری کے جذبے سے ہونا چاہئے اور اس میں دلائل واضحہ مخاطب کے مناسب حال بیان کرنا چاہئے مخاطب کی توہین و تحقیر سے کلی اجتناب کرنا چاہئے اسی طرح اس کے احسن ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود متکلم کے لئے مضر نہ ہوجائے کہ اس میں اخلاق رذیلہ حسد بغض تکبر جاہ پسندی وغیرہ پیدا نہ ہوجائے جو باطنی گناہ کبیرہ ہیں اور آج کل کے بحث و مباحثہ مناضرہ مجادلہ میں شاذو نادر ہی کوئی اللہ کا بندہ ان سے نجات پائے تو ممکن ہے ورنہ عادۃ ان سے بچنا سخت دشوار ہے۔ امام غزالی نے فرمایا کہ جس طرح شراب ام الخبائث ہے کہ خود بھی بڑا گناہ ہے اور دوسرے بڑے بڑے جسمانی گناہوں کا ذریعہ بھی ہے اسی طرح بحث و مباحثہ میں جب مقصود مخاطب پر غلبہ پانا اور اپنا علمی تفوق لوگوں پر ظاہر کرنا ہوجائے تو وہ بھی باطن کے لئے ام الخبائث ہے جس کے نتیجہ میں بہت سی روحانی جرائم پیدا ہوتے ہیں مثلا حسد بغض تکبر غیبت دوسرے کے عیوب کا تجسس اس کی برائی سے خوش اور بھلائی سے رنجیدہ ہونا قبول حق سے استکبار دوسرے کے قول پر انصاف اعتدال کے ساتھ غور کرنے کے بجائے جواب دہی کی فکر خواہ اس میں قرآن وسنت میں کیسی ہی تاویلات کرنا پڑیں یہ تو وہ مہلکات ہیں جن میں باوقار علماء ہی مبتلاء ہوتے ہیں اور معاملہ جب ان کے متبعین میں پہنچتا ہے تو دست و گریبان اور جنگ وجدال کے معرکے گرم ہوجاتے ہیں انا للہ حضرت امام شافعی نے فرمایا علم تو اہل علم وفضل کے مابین ایک رحم متصل (رشتہ اخوت و برادری) ہے تو وہ لوگ جنہوں نے علم ہی کو عداوت بنا لیا ہے وہ دوسروں کو اپنے مذہب کی اقتداء کی دعوت کس طرح دیتے ہیں ان کے پیش نظر دوسرے پر غلبہ پانا ہی ہے تو پھر ان سے باہمی انس ومودت اور مروت کا تصور کیسے کیا جاسکتا ہے اور ایک انسان کے لئے اس سے بڑھ کر شر اور برائی اور کیا ہوگی کہ وہ اس کو منافقین کے اخلاق میں مبتلا کردے اور مؤمنین ومتقین کے اخلاق سے محروم کر دے۔ امام عزالی نے فرمایا کہ علم دین اور دعوت حق میں اشتغال رکھنے والا یا تو اصول صحیحہ کے تابع اور مہلک خطرات سے متجنب رہ کر سعادت ابدی حاصل کرلیتا ہے یا پھر اس مقام سے گرتا ہے تو شقاوت ابدی کی طرف جاتا ہے اس کا درمیان میں رہنا بہت مستبعد ہے کیونکہ جو علم نافع نہ ہو وہ عذاب ہی ہے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ اشد الناس عذابا یوم القیمۃ عالم لم ینفعہ اللہ بعلمہ۔ سب سے سخت عذاب میں قیامت کے دن وہ عالم ہوگا جس کے علم سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع نہ بخشا ہو۔ ایک دوسری حدیث صحیح میں ہے لاتتعلموا العلم لتباھوا بہ العلمآء ولتماروابہ السفھآء ولتصرفوا بہ وجوہ الناس الیکم فمن فعل ذلک فھو فی النار (ابن حدیث جابر باسناد صحیح کذا فی تخریج العراقی علی الاحیاء) علم دین کو اس غرض سے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعہ دوسرے علماء کے مقابلہ میں فخر و عزت حاصل کرو یا کم علم لوگوں سے جھگڑے کرو یا اس کے ذریعہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرلو اور جو ایسا کرے گا وہ آگ میں ہے۔ اسی لئے ائمہ فقہاء اور اہل حق کا مسلک اس معاملے میں یہ تھا کہ علمی مسائل میں جھگڑا اور جدال ہرگز جائز نہیں سمجھتے تھے دعوت حق کے لئے اتنا کافی ہے کہ جس کو خطاء پر سمجھے اس کو نرمی اور خیر خواہی کے عنوان سے دلائل کے ساتھ اس کی خطاء پر متنبہ کر دے پھر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ سکوت اختیار کرے جھگڑے اور بدگوئی سے کلی احتراز کرے حضرت امام مالک کا ارشاد ہے۔ کان مالک یقول المرآء و الجدال فی العلم یذھب بنور العلم عن قلب العبد وقیل لہ رجل لہ علم بالسنۃ فہل یجادل عنہا قال لا ولکن یخبر بالسنۃ فان قبل منہ والا سکت (او جزالمسالک شرح مؤ طا ص 15 ج 1) امام مالک نے فرمایا کہ علم میں جھگڑا اور جدال نور علم کو انسان کے قلب سے نکال دیتا ہے کسی نے عرض کیا کہ ایک شخص جس کو سنت کا علم ہو کیا وہ حفاظت سنت کیلئے جدال کرسکتا ہے فرمایا نہیں بلکہ اس کو چاہئے کہ مخاطب کو صحیح بات سے آگاہ کر دے پھر وہ قبول کرلے تو بہتر ورنہ سکوت اختیار کرے اس زمانے میں دعوت و اصلاح کا کام پوری طرح مؤ ثر نہ ہونے کے دو سبب ہیں۔ ایک تو یہ کہ فساد زمانہ اور حرام چیزوں کی کثرت کے سبب عام طور پر لوگوں کے قلوب سخت اور آخرت سے غافل ہوگئے ہیں اور قبول حق کی توفیق کم ہوگئی ہے اور بعض تو اس قہر میں مبتلا ہیں جس کی خبر رسول کریم ﷺ نے دی تھی کہ آخر زمانے میں بہت سے لوگوں کے قلوب اوندھے ہوجائیں گے بھلے برے کی پہچان اور جائز و ناجائز کا امتیاز ان کے دل سے اٹھ جائے گا۔ اور دوسرے سبب یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دعوت حق کے فرائض سے غفلت عام ہوگئی ہے عوام کا تو کیا ذکر خواص علماء وصلحاء میں اس ضرورت کا احساس بہت کم ہے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ اپنے اعمال درست کر لئے جائیں تو یہ کافی ہے خواہ ان کی اولاد بیوی بھائی دوست احباب کیسے ہی گناہوں میں مبتلا رہیں ان کی اصلاح کی فکر گویا ان کے ذمہ ہی نہیں حالانکہ قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ ہر شخص کے ذمہ اپنے اہل و عیال اور متعلقین کی اصلاح کو فرض قرار دے رہی ہیں قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا اور پھر اگر کچھ لوگ دعوت و اصلاح کے فریضہ کی طرف توجہ دیتے بھی ہیں تو وہ قرآنی تعلیمات اور دعوت پیغمبرانہ کے اصول وآداب سے ناآشنا ہیں بےسوچے سمجھے جس کو جس وقت جو چاہا کہہ ڈالا اور یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کردیا ہے حالانکہ یہ طرز عمل سنت انبیاء کے خلاف ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دین اور احکام دین پر عمل کرنے سے اور زیادہ دور پھینک دیتا ہے۔ خصوصا جہاں کسی دوسرے پر تنقید کا نام لے کر تنقیص اور استہزاء و تمسخر تک پہنچ جاتے ہیں حضرت امام شافعی نے فرمایا جس شخص کو کسی غلطی پر متنبہ کرنا ہے اگر تم نے اس کو تنہائی میں نرمی کے ساتھ سمجھایا تو یہ نصیحت ہے اور اگر علانیہ لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کیا تو یہ فضیحت ہے۔ آج کل تو ایک دوسرے کے عیوب کو اخباروں اشتہاروں کے ذریعے منظر عام پر لانے کو دین کی خدمت سمجھ لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین اور اس کی دعوت کی صحیح بصیرت اور آداب کے مطابق اس کی توفیق عطا فرمائیں۔ یہاں تک دعوت کے اصول اور آداب کا بیان ہوا اس کے بعد فرمایا (آیت) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَّضِلُّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ یہ جملہ داعیان دین کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا ہے کیونکہ مذکور الصدر آداب دعوت کو استعمال کرنے باوجود جب مخاطب حق بات کو قبول نہ کرے تو طبعی طور پر انسان کو سخت صدمہ پہنچتا ہے اور بعض اوقات اس کا یہ اثر بھی ہوسکتا ہے کے کہ دعوت کا فائدہ نہ دیکھ کر آدمی پر مایوسی طاری ہوجائے اور کام ہی چھوڑ بیٹھے اس لئے اس جملے میں یہ فرمایا کہ آپ کا کام صرف دعوت حق کو اصول صحیحہ کے مطابق ادا کردینا ہے آگے اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا اس میں نہ آپ کا کوئی دخل ہے نہ آپ کی ذمہ داری وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے وہی جانتا ہے کہ کون گمراہ رہے گا اور کون ہدایت پائے گا آپ اس فکر میں نہ پڑیں اپنا کام کرتے رہیں اس میں ہمت نہ ہاریں مایوس نہ ہوں اس سے معلوم ہوا کہ یہ جملہ بھی آداب دعوت ہی کا تکملہ ہے۔