16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعارف القرآن

Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور حکم دیا تیرے رب نے شہید کی مکھی کو کہ بنائے پہاڑوں میں گھر اور درختوں میں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں

خلاصہ تفسیر اور (یہ بات بھی غور کے قابل ہے کہ) آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے جی میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں میں گھر (یعنی چھتہ) بنا لے اور درختوں میں (بھی) اور لوگ جو عمارتیں بناتے ہیں ان میں (بھی چھتہ لگا لے چناچہ ان سب موقعوں پر وہ چھتہ لگاتی ہے) پھر ہر قسم کے (مختلف) پھلوں سے (جو تجھ کو مرغوب ہوں) چوستی پھر پھر (چوس کر چھتہ کی طرف واپس آنے کے لئے) اپنے رب کے راستوں میں چل جو (تیرے لئے باعتبار چلنے کے اور یاد رہنے کے) آسان ہیں (چنانچہ بڑی بڑی دور سے بےراستہ بھولے ہوئے اپنے چھتے کو لوٹ آتی ہے پھر جب چوس کر اپنے چھتہ کی طرف لوٹتی ہے تو) اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے (یعنی شہد) جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں اس میں لوگوں (کی بہت سی بیماریوں) کے لئے شفاء ہے اس میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (توحید کی اور منعم ہونے کی) بڑی دلیل ہے جو سوچتے ہیں) معارف و مسائل اَوْحٰى۔ وحی یہاں اپنے اصطلاحی مفہوم میں نہیں ہے بلکہ لغوی معنی میں ہے وہ یہ کہ متکلم مخاطب کو کوئی خاص بات مخفی طور پر اس طرح سمجھا دے کہ دوسرا شخص اس بات کو نہ سمجھ سکے۔ النَّحْلِ ، شہد کی مکھی اپنی عقل و فراست اور حسن تدبیر کے لحاظ سے تمام حیوانات میں ممتاز جانور ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خطاب بھی امتیازی شان کا کیا ہے باقی حیوانات کے بارے میں تو قانون کلی کے طریقہ پراَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى فرمایا لیکن اس ننھی سی مخلوق کے بارے میں خاص کرکے اَوْحٰى رَبُّكَ فرمایا جس سے اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ یہ دوسرے حیوانات سے بہ نسبت عقل و شعور اور سوجھ بوجھ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کی فہم و فراست کا اندازہ ان کے نظام حکومت سے بخوبی ہوتا ہے اس ضعیف جانور کا نظام زندگی انسانی سیاست وحکمرانی کے اصول پر چلتا ہے تمام نظم ونسق ایک بڑی مکھی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو تمام مکھیوں کی حکمرانی ہوتی ہے اس کی تنظیم اور تقسیم کار کی وجہ سے پورا نظام صحیح سالم چلتا رہتا ہے اس کے عجیب و غریب نظام اور مستحکم قوانین و ضوابط کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے خود یہ ملکہ تین ہفتوں کے عرصہ میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک انڈے دیتی ہے یہ اپنی قد وقامت اور وضع وقطع کے لحاظ سے دوسری مکھیوں سے ممتاز ہوتی ہے یہ بلکہ تقسیم کار کے اصول پر اپنی رعایا کو مختلف امور پر مامور کرتی ہے ان میں سے بعض دربانی کے فرائض انجام دیتی ہیں اور کسی نامعلوم اور خارجی فرد کو اندر داخل نہیں ہونے دیتیں بعض انڈوں کی حفاظت کرتی ہیں بعض نابالغ بچوں کی تربیت کرتی ہیں بعض معماری اور انجنیرنگ کے فرائض ادا کرتی ہیں ان کے تیار کردہ اکثر چھتوں کے خانے بیس ہزار سے تیس ہزار تک ہوتے ہیں بعض موم جمع کرکے معماروں کے پاس پہنچاتی رہتی ہیں جن سے وہ اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں یہ موم نباتات پر جمے ہوئے سفید قسم کے سفوف سے حاصل کرتی ہیں گنے پر یہ مادہ بکثرت نظر آتا ہے ان میں سے بعض مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں پر بیٹھ کر اس کو چوستی ہیں جو ان کے پیٹ میں شہد میں تبدیل ہوجاتا ہے یہ شہد ان کی اور ان کے بچوں کی غذا ہے اور یہی ہم سب کے لئے بھی لذت وغذا کا جوہر اور دوا و شفاء کا نسخہ ہے یہ مختلف پارٹیاں نہایت سرگرمی سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں اور اپنی ملکہ کے حکم کو دل وجان سے قبول کرتی ہیں ان میں سے اگر کوئی گندگی پر بیٹھ جائے تو چھتے کے دربان اسے باہر روک لیتے ہیں اور ملکہ اس کو قتل کردیتی ہے ان کے اس حیرت انگیز نظام اور حسن کارکردگی کو دیکھ کر انسان حیرت میں پڑجاتا ہے (از الجواہر) بُيُوْتًا سے جو ہدایت دی گئی ہے ان میں سے یہ پہلی ہدایت ہے جس میں گھر بنانے کا ذکر ہے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ہر جانور اپنے رہنے سہنے کے لئے گھر تو بناتا ہی ہے پھر اس اہتمام سے گھروں کی تعمیر کا حکم مکھیوں کو دینے میں کیا خصوصیت ہے پھر یہاں لفظ بھی بیوت کا استعمال فرمایا جو عموما انسانی رہائش گاہوں کے لئے بولا جاتا ہے اس سے اشارہ ایک تو اس طرف کردیا کہ مکھیوں کو چونکہ شہد تیار کرنا ہے اس کے لئے پہلے سے ایک محفوظ گھر بنالیں دوسرا اس طرف اشارہ کردیا کہ جو گھر یہ بنائیں گی وہ عام جانوروں کے گھروں کی طرح نہیں ہوں گے بلکہ ان کی ساخت و بناوٹ غیر معمولی قسم کی ہوگی چناچہ ان کے گھر عام جانوروں کے گھروں سے ممتاز ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر انسانی عقل بھی ششدر رہ جاتی ہے ان کے گھر مسدس شکل کے ہوتے ہیں پرکار اور مسطر سے بھی اگر ان کی پیمائش کی جائے تو بال برابر بھی فرق نہیں رہتا مسدس شکل کے علاوہ وہ دوسری کسی شکل مثلا مربع اور مخمس وغیرہ کو اس لئے اختیار نہیں کرتیں کہ ان کے بعض کونے بیکار رہ جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے مکھیوں کو محض گھر بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس کا محل وقوع بھی بتلا دیا کہ وہ کسی بلندی پر ہونا چاہئے کیونکہ ایسے مقامات پر شہد کو تازہ اور صاف چھنی ہوئی ہوا پہنچتی رہتی ہے وہ گندی ہوا سے بچا رہتا ہے اور توڑ پھوڑ سے بھی محفوظ رہتا ہے چناچہ فرمایا۔ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ یعنی ان گھروں کی تعمیر پہاڑوں درختوں اور بلند عمارتوں پر ہونی چاہئے تاکہ شہد بالکل محفوظ طریقہ سے تیار ہو سکے۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر کھا ہر طرح کے میوں سے پھر چل راستوں میں اپنے رب کے صاف پڑے ہیں نکلتی ہے ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے مختلف رنگ ہیں اس میں مرض اچھے ہوتے ہیں لوگوں کے، اس میں نشانی ہے ان لوگوں کیلئے جو دھیان کرتے ہیں۔

ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ یہ دوسری ہدایت ہے جس میں مکھی کو حکم دیا جارہا ہے کہ اپنی رغبت اور پسند کے مطابق پھل پھول سے رس چوسے، یہاں مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فرمایا لیکن بظاہر یہاں لفظ كُلِّ سے دنیا بھر کے پھل پھول مراد نہیں ہیں بلکہ جن تک آسانی سے اس کی رسائی ہو سکے اور مطلب حاصل ہو سکے کل کا یہ لفظ ملکہ سبا کے واقعہ میں بھی وارد ہوا ہے وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی استغراق کلی مراد نہیں ہے کہ ملکہ سباء کے پاس ہوائی جہاز اور ریل موٹر ہونا بھی لازم آئے بلکہ اس وقت کی تمام ضروریات ومناسبات مراد ہیں یہاں بھی مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ سے یہی مراد ہے یہ مکھی ایسے ایسے لطیف اور قیمتی اجزاء چوستی ہے کہ آج کے سائنسی دور میں مشینوں سے بھی وہ جوہر نہیں نکالا جاسکتا۔ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا یہ مکھی کو تیسری ہدایت دی جا رہی ہے کہ اپنے رب کے ہموار کئے ہوئے راستوں پر چل پڑ یہ جب گھر سے دور دراز مقامات پر پھل پھول کا رس چوسنے کے لئے کہیں جاتی ہے تو بظاہر اس کا اپنے گھر میں واپس آنا مشکل ہونا چاہئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے راہوں کو آسان بنادیا ہے چناچہ وہ میلوں دور جاتی ہے اور بغیر بھولے بھٹکے اپنے گھر واپس پہنچ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے فضاء میں اس کے لئے راستے بنا دیئے ہیں کیونکہ زمین کے پیچ دار راستوں میں بھٹکنے کا خطرہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے فضاء کو اس حقیر وناتواں مکھی کے لئے مسخر کردیا تاکہ وہ کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے گھر آسانی سے آ جاسکے۔ اس کے بعد وحی کے اس حکم کا جو حقیقی ثمرہ تھا اس کو بیان فرمایا يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاس کہ اس کے پیٹ میں سے مختلف رنگ کا مشروب نکلتا ہے جس میں تمہارے لئے شفاء ہے رنگ کا اختلاف غذاء اور موسم کے اختلاف کی بناء پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی خاص علاقے میں کسی خاص پھل پھول کی کثرت ہو تو اس علاقہ کے شہد میں اس کا اثر وذائقہ ضرور ہوتا ہے شہد عموما چونکہ سیال مادہ کی شکل میں ہوتا ہے اس لئے اس کو شراب (پینے کی چیز) فرمایا اس جملے میں بھی اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور قدرت کاملہ کی قاطع دلیل موجود ہے کہ ایک چھوٹے سے جانور کے پیٹ سے کیسا منفعت بخش اور لذیذ مشروب نکلتا ہے حالانکہ وہ جانور خود زہریلا ہے زہر میں سے یہ تریاق واقعی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی عجیب مثال ہے پھر قدرت کی یہ بھی عجیب صنعت گری ہے کہ دودھ دینے والے حیوانات کا دودھ موسم اور غذا کے اختلاف سے سرخ و زرد نہیں ہوتا اور مکھی کا شہد مختلف رنگوں کا ہوجاتا ہے۔ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاس شہد جہاں قوت بخش غذا اور لذت وطعم کا ذریعہ ہے وہاں امراض کے لئے نسخہ شفاء بھی ہے اور کیوں نہ ہو خالق کائنات کی یہ لطیف گشتی مشین جو ہر قسم کے پھل پھول سے مقوی عرق اور پاکیزہ جو ہر کشید کر کے اپنے محفوظ گھروں میں ذخیرہ کرتی ہے اگر جڑی بوٹیوں میں شفاء ودواء کا سامان ہے تو ان کے جوہر میں کیوں نہ ہوگا بلغمی امراض میں بلاواسطہ اور دوسری امراض میں دوسرے اجزاء کے ساتھ مل کر بطور دوا شہد کا استعمال ہوتا ہے اطباء معجونوں میں بطور خاص اس کو شامل کرتے ہیں اس کی اٰیک خاصیت یہ بھی ہے کہ خود بھی خراب نہیں ہوتا اور دوسری اشیاء کی طویل عرصہ تک حفاظت کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہزارہا سال سے اطباء اس کو الکحل کی جگہ استعمال کرتے آئے ہیں شہد مسہل ہے اور پیٹ سے فاسد مادہ نکالنے میں بہت مفید ہے رسول کریم ﷺ کے پاس ایک صحابی نے اپنے بھائی کی بیماری کا حال بیان کیا تو آپ نے اسے شہد پلانے کا مشورہ دیا دوسرے دن پھر آ کر اس نے بتلایا کہ بیماری بدستور ہے آپ نے پھر وہی مشورہ دیا تیسرے دن جب اس نے پھر کہا کہ اب بھی کوئی فرق نہیں ہے تو آپ نے فرمایا صدق اللہ وکذب بطن اخیک یعنی اللہ کا قول بلاریب سچا ہے تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے مراد یہ ہے کہ دوا کا قصور نہیں مریض کے مزاج خاص کی وجہ سے جلدی اثر ظاہر نہیں ہوا اس کے بعد پھر پلایا تو بیمار تندرست ہوگیا۔ یہاں قرآن کریم میں شفاء نکرہ تحت الاثبات ہے جس سے اس کا ہر مرض کے لئے تو شفاء ہونا معلوم نہیں ہوتا لیکن شفاء کی تنوین جو تعظیم کے لئے ہے اس بات پر ضرور دلالت کرتی ہے کہ شہد کی شفاء عظیم اور ممتاز نوعیت کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بعض اہل دل بندے وہ بھی ہیں جن کو شہد کے کسی بھی مرض کے لئے شفاء ہونے میں کوئی شبہ نہیں ان کو اپنے رب کے قول کے اس ظاہر ہی پر اس قدر مستحکم یقین اور مضبوط اعتقاد ہے کہ وہ پھوڑے اور آنکھ کا علاج بھی شہد سے کرتے ہیں اور جسم کے دوسرے امراض کا بھی حضرت ابن عمر ؓ کے متعلق روایات میں ہے کہ ان کے بدن پر اگر پھوڑا بھی نکل آتا تو اس پر شہد کا لیپ کر کے علاج کرتے بعض لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو جواب میں فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاس (قرطبی) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتے ہیں جیسا ان بندوں کا اپنے رب کے متعلق اعتقاد ہوتا ہے حدیث قدسی میں فرمایا انا عند ظن عبدی بی یعنی حق تعالیٰ نے فرمایا کہ بندہ جو کچھ مجھ سے گمان رکھتا ہے میں اس کے پاس ہوتا ہوں (یعنی اس کے مطابق کردیتا ہوں) (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی مذکورہ بالا مثالیں بیان فرمانے کے بعد انسان کو پھر غور وفکر کی دعوت دی ہے کہ قدرت کی ان مثالوں میں غور وفکر کر کے تو دیکھ لو اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو پانی برسا کر زندہ کردیتا ہے وہ غلاظت ونجاست کے درمیان سے تمہارے لئے صاف و شفاف اور خوشگوار دودھ کی نالیاں بہاتا ہے وہ انگور و کھجور کے درختوں پر شیریں پھل پیدا کرتا ہے جن سے تم لذیذ شربتیں اور مزے دار مربے بناتے ہو وہ ایک چھوٹے سے زہریلے جاندار کے ذریعہ تمہارے لئے لذت وطعم اور غذا و شفاء کا بہترین سامان مہیا کرتا ہے کی اب بھی تم دیوی دیوتاؤں کو پکارو گے ؟ کیا اب بھی تمہاری عبادت و وفاء اپنے خالق ومالک کے بجائے پتھر اور لکڑی کی بےجان مورتیوں کے لئے ہوگی ؟ اور خوب سمجھ لو کیا یہ بھی تمہاری عقل میں آسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اندھے، بہرے اور بےشعور مادے کی کرشمہ سازی ہو ؟ صنعت وکاریگری کے یہ بیشمار شاہکار حکمت و تدبیر کے یہ حیرت انگیز کارنامے اور عقل و دانش کے یہ بہترین فیصلے اپنی زبان حال سے پکار پکار کر گویا ہیں کہ ہمارا ایک خالق ہے یکتا و حکمت والا خالق وہی عبادت ووفاء کا مستحق ہے وہی مشکل کشاء ہے اور شکر وحمد اسی کو سزاوار ہے۔ فوائد (1) آیت سے معلوم ہوا کہ عقل و شعور انسانوں کے علاوہ دوسرے جانداروں میں بھی ہے وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ البتہ عقل کے درجات مختلف ہیں انسانوں کی عقل تمام ذی حیات اشیاء کی عقول سے زیادہ کامل ہے اسی وجہ سے وہ احکام شرعیہ کا مکلف ہے یہی وجہ ہے کہ اگر جنون کی وجہ سے انسان کی عقل میں فتور آجائے تو دوسری مخلوقات کی طرح وہ بھی مکلف نہیں رہتا۔ (2) شہد کی مکھی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی فضیلت میں حدیث وارد ہوئی ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ الذبان کلہا فی النار یجعلہا عذابا لاھل النار الا النحل۔ (نواد الاصول بحوالہ قرطبی) یعنی دوسری ایذاء رساں جانداروں کی طرح مکھیوں کی بھی تمام قسمیں جہنم میں جائیں گی جو وہاں جہنمیوں پر بطور عذاب مسلط کردی جائیں گی مگر شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی ، نیز ایک اور حدیث میں آپ نے اس کو مارنے سے منع فرمایا ہے (ابو داؤد) (3) اطباء کا اس میں کلام ہے کہ شہد مکھی کا فضلہ ہے یا اس کا لعاب ہے ارسطاطالیس نے شیشے کا ایک نفیس چھتہ بنا کر مکھیوں کو اس میں بند کردیا تھا وہ ان کے نظام کار کو جاننا چاہتا تھا لیکن ان مکھیوں نے سب سے پہلے برتن کے اندرونی حصہ پر موم اور کیچڑ کا پردہ چڑھا دیا اور جب تک پوری طرح پردہ پوش نہیں ہوگئیں اس وقت تک اپنا کام شروع نہیں کیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دنیا کی حقارت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا۔ اشرف لباس بنی آدم فیہ لعاب دودۃ و اشرف شرابہ رجیع نحلۃ۔ انسان کا بہترین ریشمی لباس اس کائنات کے ایک چھوٹے سے کیڑے کا لعاب ہے اور اس کا نفیس لذت بخش مشروب مکھی کا فضلہ ہے، (4) فِيْهِ شِفَاۗءٌ لِّلنَّاسِ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دواء سے مرض کا علاج کرنا جائز ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بطور انعام ذکر کیا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤ ْمِنِيْنَ ۙ حدیث میں دوا استعمال کرنے اور علاج کرنے کی ترغیب آئی ہے نبی کریم ﷺ سے بعض حضرات نے سوال کیا کہ کیا ہم دواء استعمال کریں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں علاج کرلیا کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی مرض پیدا کیا ہے اس کے لئے دواء بھی پیدا فرمائی ہے مگر ایک مرض کا علاج نہیں انہوں نے سوال کیا وہ مرض کونسا ہے آپ نے فرمایا بڑھاپا (ابو داؤد والترمذی بحوالہ قرطبی) حضرت خزیمہ ؓ سے بھی ایک روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ یہ جو ہم جھاڑ پھونک کا عمل کرتے ہیں یا دواء سے اپنا علاج کرتے ہیں اسی طرح بچاؤ اور حفاظت کے جو انتظامات کرتے ہیں کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی تو تقدیر الہی ہی کی صورتیں ہیں۔ غرض یہ کہ علاج کرنے اور دواء استعمال کرنے کے جواز پر تمام علماء متفق ہیں اور اس سلسلے میں بیشمار احادیث وآثار وارد ہوئے ہیں حضرت ابن عمر ؓ کی اولاد میں اگر کسی کو بچھو کاٹ لیتا تھا تو اسے تریاق پلاتے تھے اور جھاڑ پھونک سے اس کا علاج فرماتے آپ نے لقوہ کے مریض پر داغ لگا کر اس کا علاج کیا (قرطبی) بعض صوفیاء کے متعلق منقول ہے کہ وہ علاج کو پسند نہیں کرتے تھے اور حضرات صحابہ میں سے بھی بعض کے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے مثلا روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ بیمار ہوگئے حضرت عثمان ؓ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور ان سے پوچھا آپ کو کیا شکایت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا مجھے اپنے گناہوں کی فکر ہے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا پھر کس چیز کی خواہش ہے ؟ فرمایا میں اپنے رب کی رحمت کا طلب گار ہوں حضرت عثمان ؓ نے فرمایا آپ پسند کریں تو میں طبیب کو بلوا لیتا ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا طبیب ہی نے تو مجھے لٹایا ہے (یہاں مجازی طور پر طبیب سے مراد اللہ تعالیٰ شانہ ہیں)
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو موت دیتا ہے اور کوئی تم میں سے پہنچ جاتا ہے نکمی عمر کو تاکہ سمجھنے کے پیچھے اب کچھ نہ سمجھے، اللہ خبر دار ہے قدرت والا۔

خلاصہ تفسیر اور (اپنی حالت بھی سوچنے کے قابل ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم کو (اول) پیدا کیا پھر (عمر ختم ہونے پر) تمہاری جان قبض کرتا ہے (جن میں بعض تو ہوش و حواس میں چلتے ہاتھ پاؤں اٹھ جاتے ہیں) اور بعض تم میں وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں (جن میں نہ قوت جسمانیہ رہے نہ قوت عقلیہ رہے) جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے (جیسا کہ اکثر ایسے بوڑھوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ابھی ان کو ایک بات بتلائی اور ابھی بھول گئے اور پھر اس کو پوچھ رہے ہیں) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی قدرت والے ہیں (علم سے ہر ایک مصلحت جانتے ہیں اور قدرت سے ویسا ہی کردیتے ہیں اس لئے حیات و وفات کی حالتیں مختلف کردیں پس یہ بھی دلیل ہے توحید کی) معارف و مسائل اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے پانی نباتات چوپائے اور شہد کی مکھی کے مختلف احوال بیان فرما کر انسان کو اپنی قدرت کاملہ اور مخلوق کے لئے اپنے انعامات پر متنبہ کیا اب ان آیات سے اس کو اپنے اندرونی حالات پر غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں کہ انسان کچھ نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو وجود کی دولت سے نوازا پھر جب چاہا موت بھیج کر وہ نعمت ختم کردی اور بعضوں کو تو موت سے پہلے ہی پیرانہ سالی کے ایسے درجہ میں پہنچا دیتے ہیں کہ ان کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہتے ان کے ہاتھ پاؤں کی طاقت ختم ہوجاتی ہے نہ وہ کوئی بات سمجھ سکتے ہیں اور نہ سمجھی ہوئی یاد رکھ سکتے ہیں یہ آفاقی اور انفسی تغیر وتبدل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ علم وقدرت اسی ذات کے خزانہ میں ہے جو خالق ومالک ہے۔ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ ، مَّنْ يُّرَدُّ کے لفظ سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان پر پہلے بھی ایک ضعف اور کمزوری کا وقت گزر چکا ہے یہ اس کے بچپن کا ابتدائی دور تھا جس میں یہ کسی سوجھ بوجھ کا مالک نہ تھا اس کے قوی بالکل ضعیف وناتواں تھے یہ اپنی بھوک پیاس کو دور کرنے اور اپنے اٹھنے بیٹھنے میں غیروں کا محتاج تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو جوانی عطا کی یہ اس کی ترقی کا زمانہ ہے پھر رفتہ رفتہ اس کو بڑھاپے کے ایسے درجہ میں پہنچا دیتے ہیں جس میں یہ بالکل اسی طرح کمزوری ضعف اور اضمحلال کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جیسا کہ بچپن میں تھا۔ اَرْذَلِ الْعُمُرِ اس سے مراد پیرانہ سالی کی وہ عمر ہے جس میں انسان کے تمام جسمانی اور دماغی قوی مختل ہوجاتے ہیں نبی کریم اس عمر سے پناہ مانگتے تھے ارشاد ہے اللہم انی اعوذ بک من سوء العمر وفی روایۃ من ان ارد الی ارذل العمر۔ یعنی یا اللہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں بری عمر سے اور ایک روایت میں ہے کہ پناہ مانگتا ہوں ارذل عمر سے۔ ارذل العمر کی تعریف میں کوئی تعیین نہیں ہے البتہ مذکورہ تعریف راجح معلوم ہوتی ہے جس کی طرف قرآن نے بھی لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا سے اشارہ کیا ہے کہ وہ ایسی عمر ہے جس میں ہوش و حواس باقی نہیں رہتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام معلومات بھول جاتا ہے۔ ارذل العمر کی تعریف میں اور بھی اقوال ہیں بعض نے اسی سال کی عمر کو ارذل العمر قرار دیا ہے اور بعض نے نوے سال کو حضرت علی سے بھی پچھتر سال کا قول منقول ہے (صحیحین بحوالہ مظہری) لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا پیرانہ سال کے انتہائی درجہ میں پہنچنے کے بعد آدمی میں نہ قوت جسمانیہ رہتی ہے اور نہ ہی عقلیہ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے وہ تمام معلومات بھول کر بالکل کل کے بچے کی مانند ہوجاتا ہے جس کو نہ علم و خبر ہے اور نہ ہی فہم و فراست، حضرت عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھنے والے کی یہ حالت نہیں ہوگی۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْر بیشک اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی قدرت والے ہیں (علم سے ہر شخص کی عمر کو جانتے ہیں اور قدرت سے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اگر چاہیں تو طاقت رو نوجوان پر ارذل العمر کے آثار طاری کردیں اور چاہیں تو سو سال کا معمر انسان بھی طاقت ور جوان رہے یہ سب کچھ اسی ذات کے دست قدرت میں ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے بڑائی دی تم میں ایک کو ایک پر روزی میں، سو جن کو بڑائی دی وہ ہیں پہنچا دیتے اپنی روزی ان کو جن کے مالک ان کے ہاتھ ہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہوجائیں، کیا اللہ کی نعمت کے منکر ہیں۔

خلاصہ تفسیر اور (اثبات توحید کے ساتھ شرک کی قباحت ایک باہمی معاملہ کے ضمن میں سنو کہ) اللہ تعالیٰ نے تم میں بعضوں کو بعضوں پر رزق (کے باب) میں فضیلت دی ہے (مثلا کسی کو غنی اور غلاموں کا مالک بنایا کہ ان کے ہاتھ سے ان غلاموں کو بھی رزق پہنچتا ہے اور کسی کو غلام بنادیا کہ اس کو مالک ہی کے ہاتھ سے رزق پہنچتا ہے اور کسی کو نہ ایسا غنی بنایا کہ دوسرے غلاموں کو دے نہ غلام بنایا کہ اس کو کسی مالک کے ہاتھ سے پہنچے) سو جن لوگوں کو (رزق میں خاص) فضیلت دی گئی ہے (کہ ان کے پاس مال بھی ہے اور غلام بھی ہیں) وہ (لوگ) اپنے حصہ کا مال اپنے غلاموں کو اس طرح کبھی دینے والے نہیں کہ وہ (مالک ومملوک) سب اس میں برابر ہوجائیں (کیونکہ اگر غلام رکھ کردیا تو مال ان کی ملک ہی نہ ہوگا بلکہ بدستور یہی مالک رہیں گے اور اگر آزاد کر کے دیا تو مساوات ممکن ہے مگر وہ غلام نہ رہیں گے پس غلامی اور مساوات ممکن نہیں اسی طرح یہ بت وغیرہ جب باعتراف مشرکین خدا تعالیٰ کے مملوک ہیں تو باوجود مملوک ہونے کے معبودیت میں خدا کے مماثل کیسے ہوجائیں گے اس میں شرک کی انتہائی تقبیح ہے کہ جب تمہارے غلام تمہارے شریک رزق نہیں ہو سکتے تو اللہ تعالیٰ کے غلام اس کے شریک الوہیت کیسے ہو سکتے ہیں) کیا (یہ مضامین سن کر) پھر بھی (خدائے تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس سے عقلا یہ لازم آتا ہے کہ) خدا تعالیٰ کی نعمت کا (یعنی اس بات کا کہ خدا نے نعمت دی ہے) انکار کرتے ہیں۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیات میں حق تعالیٰ نے اپنے علم وقدرت کے اہم مظاہر اور انسان پر مبذول ہونے والی نعمتوں کا تذکرہ فرما کر اپنی توحید کے فطری دلائل بیان فرمائے ہیں جن کو دیکھ کر ادنی سمجھ بوجھ والا آدمی بھی کسی مخلوق کو حق تعالیٰ کے ساتھ اس کی صفات علم وقدرت وغیرہ میں شریک نہیں مان سکتا اس آیت میں اسی مضمون توحید کو ایک باہمی معاملہ کی مثال سے واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انسانی مصالح کے پیش نظر رزق میں سب انسانوں کو برابر نہیں کیا بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور مختلف درجات قائم فرمائے کسی کو ایسا غنی بنادیا جو ساز و سامان کا مالک ہے جشم وخدم غلام و خدمت گار رکھتا ہے وہ خود بھی اپنی منشاء کے مطابق خرچ کرتا ہے اور غلاموں، خدمت گاروں کو بھی اس کے ہاتھ سے رزق پہنچتا ہے اور کسی کو غلام و خدمت گار بنادیا کہ وہ دوسروں پر تو کیا خرچ کرتے ان کا اپنا خرچ بھی دوسروں کے ذریعہ پہنچتا ہے اور کسی کو متوسط الحال بنایا نہ اتنا غنی کہ دوسروں پر خرچ کرے نہ اتنا فقیر و محتاج کہ اپنی ضروریات میں بھی دوسروں کا دست نگر ہو۔ اس قدرتی تقسیم کا یہ اثر سب کے مشاہدہ میں ہے کہ جس کو رزق میں فضیلت دی گئی اور غنی بنایا گیا وہ کبھی اس کو گوارا نہیں کرتا کہ اپنے مال کو اپنے غلاموں، خدمت گاروں میں اس طرح تقسیم کر دے کہ وہ بھی مال میں اس کے برابر ہوجائیں۔ اس مثال سے سمجھو کہ جب مشرکین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بت اور دوسری مخلوقات جن کی وہ پرستش کرتے ہیں سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ومملوک ہیں تو یہ کیسے تجویز کرتے ہیں کہ یہ مخلوق ومملوک اپنے خالق ومالک کے برابر ہوجائیں کیا یہ لوگ یہ سب نشانیاں دیکھ کر اور یہ مضامین سن کر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک اور برابر قرار دیتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں کیونکہ اگر یہ اقرار ہوتا کہ یہ سب نعمتیں صرف اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں ان میں کسی خود تراشیدہ بت کا یا کسی انسان اور جن کا کوئی دخل نہیں ہے تو پھر ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے برابر کیسے قرار دیتے ؟ یہی مضمون سورة روم کی اس آیت میں بھی ارشاد ہوا ہے (آیت) ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۭ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَاۗءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌ (سورة روم آیت 28) تمہارے لئے تم ہی میں سے ایک مثال دی ہے جو لوگ تمہارے زیر دست ہیں کیا وہ ہمارے دیئے ہوئے رزق میں تمہارے شریک ہیں کہ تم اس میں برابر ہوگئے ہو۔ اس کا حاصل بھی یہی ہے کہ تم اپنے مملوک غلاموں اور خدمت گاروں کو اپنے برابر کرنا ناپسند نہیں کرتے تو اللہ کے لئے یہ کیسے پسند کرتے ہو کہ وہ اس کی مخلوق ومملوک چیزیں اس کے برابر ہوجائیں۔ معاش میں درجات کا اختلاف انسانوں کے لئے رحمت ہے اس آیت میں واضح طور پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فقر وغنی اور معیشت میں انسانوں کے مختلف درجات ہونا کہ کوئی غریب ہے کوئی امیر کوئی متوسط الحال یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں حق تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہے اور انسانی مصالح کا مقتضی اور انسانوں کے لئے رحمت ہے اگر یہ صورت نہ رہے اور مال و سامان میں سب انسان برابر ہوجائیں تو نظام عالم میں خلل اور فساد پیدا ہوجائے گا اسی لئے جب سے دنیا آباد ہوئی کسی دور اور کسی زمانے میں سب انسان مال و متاع کے اعتبار سے مساوی نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں اور اگر کہیں زبردستی ایسی مساوات پیدا کر بھی دی جائے تو چند ہی روز میں تمام انسانی کاروبار میں خلل اور فساد کا مشاہدہ ہوجائے گا حق تعالیٰ نے جیسے تمام انسانوں کو عقل و دماغ اور قوت و طاقت اور صلاحیت کار میں مختلف مزاجوں پر تقسیم کیا ہے اور ان میں ادنی اعلیٰ متوسط کی اقسام ہیں جس کا کوئی صاحب عقل انکار نہیں کرسکتا اسی طرح یہ بھی ناگزیر ہے کہ مال و متاع میں بھی یہ مختلف درجات قائم ہوں کہ ہر شخص اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس کا صلہ پائے اور اگر اہل صلاحیت اور نااہل کو برابر کردیا گیا تو اہل صلاحیت کی حوصلہ شکنی ہوگی جب معیشت میں اس کو نااہلوں کے برابر ہی رہنا ہے تو وہ کونسا داعیہ ہے جو اسے جدوجہد اور فکر وعمل پر مجبور کرے اس کا لازمی نتیجہ صلاحیت کار کو برباد کرنا ہوگا۔ ارتکاز دولت کے خلاف قرآنی احکام البتہ خالق کائنات نے جہاں عقلی اور جسمانی قوتوں میں بعض کو بعض پر فضیلت دی اور اس کے تابع رزق اور مال میں تفاوت قائم فرمایا وہیں معاش کا یہ نظام محکم بھی قائم فرمایا کہ ایسا نہ ہونے پائے کہ دولت کے خزانوں اور کسب معاش کے مرکزوں پر چند افراد یا کوئی خاص جماعت قبضہ کرلے دوسرے اہل صلاحیت کے کام کرنے کا میدان ہی باقی نہ رہے کہ وہ اپنی عقلی اور جسمانی صلاحیتوں سے کام لے کر معاش میں ترقی کرسکیں اس کے لئے قرآن کریم سورة حشر میں ارشاد فرمایا (آیت) كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُم یعنی ہم نے تقسیم دولت کا قانون اس لئے بنایا کہ دولت صرف سرمایہ داروں میں منحصر ہو کر نہ رہ جائے۔ آج کل دنیا کے معاشی نظاموں میں جو افراتفری پھیلی ہوئی ہے وہ اس ربانی قانون حکمت کو نظر انداز کرنے ہی کا نتیجہ ہے ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہے جس میں دولت کے مرکزوں پر سود وقمار کے راستہ سے چند افراد یا جماعتیں قابض ہو کر باقی ساری مخلوق کو اپنا معاشی غلام بنانے پر مجبور کردیتی ہیں ان کے لئے بجز غلامی اور مزدوری کے کوئی راستہ اپنی ضروریات حاصل کرنے کے لئے نہیں رہ جاتا وہ اپنی اعلی صلاحیتوں کے باوجود صنعت و تجارت کے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ سرمایہ داروں کے اس ظلم وجور کے رد عمل کے طور پر ایک متضاد نظام اشتراکیت کمیونزم یا سوسلزم کے نام سے وجود میں آتا ہے جس کا نعرہ غریب و امیر کے تفاوت کو ختم کرنا اور سب میں مساوات پیدا کرنا ہے ظالمانہ سرمایہ داری کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے عوام اس نعرہ کے پیچھے لگ جاتے ہیں مگر چند ہی روز میں وہ مشاہدہ کرلیتے ہیں کہ یہ نعرہ محض فریب تھا معاشی مساوات کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا اور غریب اپنی غربت اور فقرو فاقہ کے ساتھ بھی جو ایک انسانی احترام رکھتا تھا اپنی مرضی کا مالک تھا یہ احترام انسانیت بھی ہاتھ سے جاتا رہا نظام اشتراکیت میں انسان کی کوئی قدر قیمت مشین کے ایک پرزے سے زائد نہیں کسی جائداد کی ملکیت کا تو وہاں تصور ہی نہیں ہوسکتا اور جو معاملہ وہاں ایک مزدور کے ساتھ کیا جاتا ہے اس پر غور کریں تو وہ کسی چیز کا مالک نہیں اس کی اولاد اور بیوی بھی اس کی نہیں بلکہ سب ریاست کی مشین کے کل پرزے ہیں جن کو مشین اسٹارٹ ہوتے ہی اپنے کام پر لگ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ریاست کے مفروضہ مقاصد کے سوا نہ اس کا کوئی ضمیر ہے نہ آواز ریاست کے جبر وتشدد اور ناقابل برداشت محنت سے کراہنا ایک بغاوت شمار ہوتا ہے جس کی سزا موت ہے خدا تعالیٰ اور مذہب کی مخالفت اور خالص مادہ پرستی نظام اشتراکیت کا بنیادی اصول ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے کوئی اشتراکی انکار نہیں کرسکتا ان کے پیشواؤں کی کتابیں اور اعمال نامے اس کے شاہد ہیں کہ ان کے حوالوں کو جمع کرنا بھی ایک مستقل کتاب بنانے کے مترادف ہے۔ قرآن حکیم نے ظالمانہ سرمایہ داری اور احمقانہ اشتراکیت کی دونوں انتہاؤں کے درمیان افراط وتفریط سے پاک ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ رزق اور دولت میں فطری تفاوت کے باوجود کوئی فرد یا جماعت عام مخلوق کو اپنا غلام نہ بنا سکے اور مصنوعی گرانی اور قحط میں مبتلا نہ کرسکے سود اور جوے کو حرام قرار دے کر ناجائز سرمایہ داری کی بنیاد مہندم کردی پھر ہر مسلمان کے مال میں غریبوں کا حق متعین کر کے شریک کردیا جو غریبوں پر احسان نہیں بلکہ ادائے فرض ہے (آیت) فِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ اس پر شاہد ہے پھر مرنے کے بعد مرنے والے کی تمام ملکیت کو افراد خاندان میں تقسیم کر کے ارتکاز دولت کا خاتمہ کردیا قدرتی چشموں سمندروں اور پہاڑی جنگلوں کی خودرو پیداوار کو تمام خلق خدا کا مشترک سرمایہ قرار دے دیا جس پر کسی فرد یا جماعت کا قبضہ مالکانہ جائز نہیں جب کہ سرمایہ داری نظام میں یہ سب چیزیں صرف سرمایہ داروں کی ملکیت قرار دے دیگئی ہیں۔ چونکہ علمی عملی صلاحیتوں کا متفاوت اور مختلف ہونا ایک امر فطری ہے اور تحصیل معاش بھی انہی صلاحیتوں کے تابع ہے اس لئے مال و دولت کی ملکیت کا متفاوت ہونا بھی عین تقاضائے حکمت ہے جس کو دنیا کا کچھ بھی عقل و شعور ہے وہ اس کا انکار نہیں کرسکتا اور مساوات کے نعرے لگانے والے بھی چند قدم چلنے کے بعد اس مساوات کے دعوے کو چھوڑنے اور معیشت میں تفاوت وتفاضل پیدا کرنے پر مجبور ہوگئے۔ خرد شیف نے 5 مئی کو سپریم سویٹ کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا ہم اجرتوں میں فرق مٹانے کی تحریک کے سختی سے مخالف ہیں ہم اجرتوں میں مساوات قائم کرنے اور ان کے ایک سطح پر لانے کے کھلے بندوں مخالف ہیں یہ لینن کی تعلیم ہے اس کی تعلیم یہ تھی کہ سوشلسٹ سماج میں مادی محرکات کا پورا لحاظ رکھا جائے گا۔ (سویٹ ورلڈ ص 346) معاشی مساوات کے خواب کی یہ تعبیر عدم مساوات تو ابتداء ہی سے سامنے آگئی تھی مگر دیکھتی ہے دیکھتے یہ عدم مساوات اور امیر و غریب کا تفاوت اشتراکی مملکیت روس میں عام سرمایہ دار ملکوں سے بھی آگے بڑھ گیا۔ لیون شیڈو لکھتا ہے شاید ہی کوئی ترقی یافتہ سرمایہ دار ملک ایسا ہو جہاں مزدوروں کی اجرتوں میں اتنا تفاوف ہو جتنا روس میں ہے۔ واقعات کی ان چند مثالوں نے آیت مذکورہ (آیت) وَاللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ کی جبری تصدیق منکرین کی زبانوں سے کرادی (آیت) وَاللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ یہاں اس آیت کے تحت تو صرف اتنا ہی بیان کرنا تھا کہ رزق ومال میں تفاوت قدرتی اور فطری اور عین مصالح انسان کے مطابق ہے باقی تقسیم دولت کے اسلامی اصول اور سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں سے اس کا امتیاز تو یہ انشاء اللہ تعالیٰ سورة زخرف پارہ نمبر 25 (آیت) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ کے تحت میں آئے گا اور اس موضوع پر احقر کا ایک مستقل رسالہ اسلام کا نظام تقسیم دولت کے نام سے شائع ہوچکا ہے اس کا مطالعہ بھی کافی ہے۔
Ayahs 16:72–73

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور اللہ نے پیدا کیں تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں اور دیئے تم کو تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے اور کھانے کو دیں تم کو ستھری چیزیں سو کیا جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کے فضل کو نہیں مانتے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور پوجتے ہیں اللہ کے سوائے ایسوں کو جو مختار نہیں ان کی روزی کے آسمان اور زمین سے کچھ بھی اور نہ قدرت رکھتے ہیں

خلاصہ تفسیر اور (منجملہ دلائل قدرت و وجوہ نعمت کے ایک بڑی نعمت اور دلیل قدرت اللہ تعالیٰ کی خود تمہارا وجود وبقاء شخصی ونوعی ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے (یعنی تمہاری جنس اور نوع سے) تمہارے لئے بیبیاں بنائیں اور (پھر) ان بیبیوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے (کہ یہ بقاء نوعی ہے) اور تم کو اچھی اچھی چیزیں کھانے (پینے) کو دیں (کہ یہ بقاء شخصی ہے اور چونکہ بقاء موقوف ہے وجود پر اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوگیا) کیا (یہ سب دلائل ونعم سنکر) پھر بھی بےبنیاد چیز پر (یعنی بتوں وغیرہ پر جن کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں بلکہ خلاف دلیل ہے) ایمان رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری (بےقدری) کرتے رہیں گے اور (مطلب اس ناشکری کا یہ ہے کہ) اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہیں گے جو ان کو نہ آسمان میں سے رزق پہنچانے کا اختیار رکھتی ہیں اور نہ زمین میں سے (یعنی نہ بارش برسانے کا ان کو اختیار ہے نہ زمین سے کچھ پیدا کرنے کا) اور نہ (اختیار حاصل کرنے کی) قدرت رکھتے ہیں (اس کی نفی سے زیادہ مبالغہ ہوگیا کیونکہ بعض دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص بالفعل تو بااختیار نہیں ہے لیکن جدوجہد سے اختیارات حاصل کرلیتا ہے اس لئے اس کی بھی نفی فرما دی) سو (جب شرک کا بطلان ثابت ہوگیا تو) تم اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں مت گھڑو (کہ اللہ تعالیٰ کی مثال بادشاہان دنیا کی سی ہے کہ ہر شخص ان سے عرض حاجت نہیں کرسکتا اس لئے اس کے نائب ہوتے ہیں کہ عوام ان سے عرض حاجت کرتے ہیں پھر وہ سلاطین سے عرض کرتے ہیں کذا فی الکبیر ویؤ خد من قولہ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ هٰٓؤ ُ لَاۗءِ شُفَعَاۗؤ ُ نَا عِنْدَاللّٰهِ) اللہ تعالیٰ (خوب) جانتے ہیں (کہ ایسی مثالیں محض مہمل ہیں) اور تم (بوجہ عدم تدبر کے) نہیں جانتے (اس لئے جو چاہتے ہو بک ڈالتے ہو اور) اللہ تعالیٰ (شرک کے بطلان ظاہر کرنے کے لئے) ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ (فرض کرو) ایک (تو) غلام ہے (کسی کا) مملوک کہ (اموال وتصرفات میں سے) کسی چیز کا (بلا اجازت آقا) اختیار نہیں رکھتا اور (دوسرا) ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب روزی دے رکھی تو اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ (جس طرح چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے) خرچ کرتا ہے (اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں) کیا اس قسم کے شخص آپس میں برابر ہو سکتے ہیں (بس جب مالک مجازی ومملوک مجازی برابر نہیں ہو سکتے تو مالک حقیقی ومملوک حقیقی تو کب برابر ہو سکتے ہیں اور استحقاق عبادت موقوف ہے مساوات پر اور وہ ہے نہیں) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں (کیونکہ کامل الذات والصفات وہی ہیں پس معبود بھی وہی ہوسکتا ہے مگر پھر بھی مشرکین غیر اللہ کی عبادت نہیں چھوڑتے) بلکہ ان میں اکثر تو (بوجہ عدم تدبر کے) جانتے ہی نہیں (اور چونکہ عدم علم کا سبب خود ان کا عدم تدبر ہے اس لئے معذور نہ ہوں گے) اور اللہ تعالیٰ (اس کی توضیح کے لئے) ایک مثال بیان فرماتے ہیں کہ (فرض کرو) دو شخص ہیں جن میں ایک تو (علاوہ غلام ہونے کے) گونگا (بہرا بھی) ہے (اور بوجہ بہرے اندھے بےعقل ہونیکے) کوئی کام نہیں کرسکتا اور (اس وجہ سے) وہ اپنے مالک پر وبال جان ہے (کہ وہ مالک ہی اس کے سارے کام کرتا ہے اور) وہ (مالک) اس کو جہاں بھیجتا ہے کوئی کام درست نہیں ہوتا سو) کیا یہ شخص اور ایسا شخص باہم برابر ہو سکتے ہیں جو اچھی باتوں کی تعلیم کرتا ہو (جس سے اس کا ناطق عاقل صاحب قوت علمیہ ہونا معلوم ہوتا ہے) اور خود بھی (ہر امر میں) معتدل طریقہ پر (چلتا) ہو (جس سے قوت عملیہ منتظمہ معلوم ہوتی ہے جب مخلوق مخلوق میں اشتراک ماہیت و اشتراک اوصاف کے یہ تفاوت ہے جو کجا مخلوق و خالق اور لایقدر کے ترجمہ میں بلا اجازت آقا کی قید سے جو سابقہ آیات میں ہے فقہی شبہات مندفع ہوگئے اور کوئی وسوسہ میں نہ پڑے کہ شاید معبود غیر اللہ کو بھی اذن ہوگیا ہو جواب یہ ہے کی ربوبیت کے لئے کسی کو اذن نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے) معارف و مسائل (آیت) جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا اس آیت میں ایک اہم نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جنس اور قوم میں سے تمہاری بیبیاں بنائیں تاکہ باہمی موانست بھی پوری ہو اور نسل انسانی کی شرافت و بزرگی بھی قائم رہے دوسرا اشارہ اس طرف بھی ہوسکتا ہے کہ تمہاری بیبیاں تمہاری ہی جنس کی ہیں انکی ضروریات اور جذبات بھی تمہارے ہی جیسے ہیں ان کی رعایت تم پر لازم ہے، (آیت) وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَحَفَدَةً یعنی تمہاری بیبیوں سے ہم نے تمہارے بیٹے پوتے پیدا کئے یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اولاد تو ماں باپ دونوں ہی سے مل کر پیدا ہوتی ہے اس آیت میں اس کو صرف ماؤں سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے اس میں اشارہ ہے کہ بچہ کی تولید و تخلیق میں بہ نسبت باپ کے ماں کا دخل زیادہ ہے باپ سے تو صرف ایک قطرہ بےجان نکلتا ہے اس قطرہ پر مختلف قسم کے دور گذرتے ہوئے انسانی شکل میں تبدیل ہونا اور اس میں جان پڑنا قدرت کے ان سارے تخلیقی کارناموں کا محل تو ماں کا پیٹ ہی ہے اسی لئے حدیث میں ماں کے حق کو باپ کے حق پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس جملے میں بیٹوں کے ساتھ پوتوں کا ذکر فرمانے میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس جوڑے بنانے کا اصل مقصد نسل انسانی کی بقا ہے کہ اولاد پھر اولاد کی اولاد ہوتی رہی تو یہ انسان کی بقاء نوعی کا سامان ہوا۔ پھر وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ میں اس کی بقاء شخصی کے سامان کا ذکر فرما دیا کہ انسان پیدا ہوجائے تو پھر اس کی بقاء شخصی کے لئے غذا کی ضرورت ہے وہ بھی حق تعالیٰ نے مہیا فرما دی آیت میں لفظ حفدۃ کے اصلی معنی مددگار کے ہیں اولاد کے لئے یہ لفظ استعمال کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اولاد کو اپنے ماں باپ کا خادم ہونا چاہئے (قرطبی)
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

سومت چسپاں کرو اللہ پر مثالیں، بیشک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ،

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَال میں ایک اہم حقیقت کو واضح فرمایا ہے جس سے غفلت برتنا ہی تمام کافرانہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ حق تعالیٰ کو اپنے بنی نوع انسان پر قیاس کر کے ان میں سے اعلیٰ ترین انسان مثلا بادشاہ وفرمانروا کو اللہ تعالیٰ کی مثال قرار دیتے ہیں اور پھر اس غلط بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے نظام قدرت کو بھی انسانی بادشاہوں کے نظام پر قیاس کر کے یہ کہنے لگتے ہیں کہ جس طرح کسی سلطنت و حکومت میں اکیلا بادشاہ سارے ملک کا انتظام نہیں کرسکتا بلکہ اپنے ما تحت وزراء اور دوسرے افسروں کو اختیارات سپرد کر کے ان کے ذریعہ نظم مملکت چلایا جاتا ہے اسی طرح یہ بھی ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ماتحت کچھ اور معبود بھی ہوں جو اللہ کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائیں یہی تمام بت پرست اور مشرکین کا عام نظریہ ہے اس جملے نے ان کے شبہات کی جڑ قطع کردی کہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخلوق کی مثالیں پیش کرنا خود بےعقلی ہے وہ مثال و تمثیل اور ہمارے وہم و گمان سے بالاتر ہے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ نے بتلائی ایک مثال ایک بندہ پرایا مال نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور ایک جس کو ہم نے روزی دی اپنی طرف سے خاصی روزی سو وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے چھپا کر اور سب کے روبرو، کہیں برابر ہوتے ہیں، سب تعریف اللہ کو ہے، پر بہت لوگ نہیں جانتے

آخری دو آیتوں میں انسان کی جو دو مثالیں دی گئی ہیں ان میں سے پہلی مثال میں تو آقا اور غلام یعنی مالک اور مملوک کی مثال دے کر بتلایا کہ جب یہ دونوں ایک ہی جنس ایک ہی نوع کے ہوتے ہوئے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے تو کسی مخلوق کو خدا تعالیٰ کے ساتھ کیسے برابر ٹھراتے ہو
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور بتائی اللہ نے ایک دوسری مثال دو مرد ہیں ایک گونگا کچھ کام نہیں کرسکتا، اور وہ بھاری ہے اپنے صاحب پر جس طرف اس کو بھیجے نہ کر کے لائے کچھ بھلائی، کہیں برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو حکم کرتا ہے انصاف سے اور ہے سیدھی راہ پر۔

اور دوسری مثال میں ایک طرف ایک انسان ہے جو لوگوں کو عدل و انصاف اور اچھی باتیں سکھاتا ہے جو اس کی قوت علمیہ کا کمال ہے اور خود بھی معتدل اور سیدھے راستے پر چلتا ہے جو اس کی قوت عملیہ کا کمال اس علمی اور عملی قوت میں مکمل انسان کے بالمقابل وہ انسان ہے جو نہ خود اپنا کام کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے کا کوئی کام درست کرسکتا ہے یہ دونوں قسم کے انسان ایک ہی جنس ایک ہی نوع ایک ہی برادری کے ہونے کے باوجود آپس میں برابر نہیں ہو سکتے تو خالق ومالک کائنات جو حکیم مطلق اور قادر مطلق اور علیم وخبیر ہے اس کے ساتھ کوئی مخلوق کیسے برابر ہو سکتی ہے۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے پاس ہیں بھید آسمانوں اور زمین کے اور قیامت کا کام تو ایسا ہے جیسے لپک نگاہ کی یا اس سے بھی قریب اللہ ہر چیز پر قادر ہے

خلاصہ تفسیر اور آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتیں (جو کسی کو معلوم نہیں باعتبار علم کے اللہ ہی کے ساتھ خاص ہیں (تو صفت علم میں وہ کامل ہیں) اور (قدرت میں ایسے کامل ہیں کہ ان غیوب میں سے جو ایک امر عظیم ہے یعنی) قیامت (اس) کا معاملہ بس ایسا (جھٹ پٹ) ہوگا جیسے آنکھ جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلدی (قیامت کے معاملہ سے مراد ہے مردوں میں جان پڑنا اور اس کا بہ نسبت آنکھ جھپکنے کے جلدی ہونا ظاہر ہے کیونکہ آنکھ جھپکنا حرکت ہے اور حرکت زمانی ہوتی ہے اور جان پڑنا آنی ہے اور آنی ظاہر ہے کہ زمانی سے اسرع ہے اور اس پر تعجب نہ کیا جائے کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (اور اثبات قدرت کے لئے تخصیص قیامت کی شاید اس وجہ سے کہ ہو کہ وہ منجملہ غیوب خاصہ کے بھی ہے اس لئے وہ علم اور قدرت دونوں کی دلیل ہے قبل الوقوع تو علم اور بعد الوقوع قدرت کی) اور (منجملہ دلائل قدرت ووجوہ نعمت یہ امر ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے (اس درجہ کا نام فلاسفہ کی اصطلاح میں عقل ہیولانی ہے) اور اس نے تم کو کان دئیے اور آنکھ اور دل تاکہ تم شکر کرو (استدلال علی القدرت کے لئے) کیا لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کے (تلے) فضاء میں (قدرت کے) مسخر ہو رہے ہیں (یعنی) ان کو (اس جگہ) کوئی نہیں تھا متابجز اللہ کے (ورنہ ان کے اجسام کا ثقیل ہونا اور مادہ ہوا کا رقیق ولطیف ہونا طبعا مقتضی اس کو ہے کہ نیچے گر پڑیں اس لئے اس امر مذکور میں) ایمان والوں کے لئے (قدرت الہیہ کی) چند دلیلیں (موجود) ہیں (چند نشانیاں اس لئے فرمایا کہ پرندوں کو خاص وضع پر پیدا کرنا جس سے اڑنا ممکن ہو ایک دلیل ہے پھر فضا کو ایسے طرز پر پیدا کرنا جس میں اڑنا ممکن ہو دوسری دلیل ہے پھر بالفعل اس طیران کا وقوع تیسری دلیل ہے اور جن اسباب کو طیران میں دخل ہے وہ سب اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں پھر ان اسباب پر مسبب یعنی طیران کا مرتب ہوجانا یہ بھی مشیت الہی ہے ورنہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی چیز کے اسباب موجود ہوتے ہوئے بھی وہ وجود میں نہیں آتی اس لئے مایمسکھن الخ فرمایا گیا اور منجملہ وجوہ نعمت و دلیل قدرت یہ امر ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تمہارے واسطے (حالت حضر میں) تمہارے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی (اور حالت سفر میں) تمہارے لئے جانوروں کی کھال کے گھر (یعنی خیمے) بنائے جن کو تم اپنے کوچ کے دن اور مقام (کرنے) کے دن ہلکا (پھلکا) پاتے ہو (اور اس وجہ سے اس کا لادنا اور نصب کرنا سب سہل معلوم ہوتا ہے) اور ان (جانوروں) کے اون انکے روؤں اور ان کے بالوں سے (تمہارے) گھر کا سامان اور فائدے کی چیزیں ایک مدت تک کے لئے بنائیں (مدت تک اس لئے فرمایا کہ عادۃ یہ سامان بہ نسبت روئی کے کپڑوں کے دیرپا ہوتا ہے اور منجملہ دلائل قدرت و وجوہ نعمت کے ایک یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اپنی بعض مخلوقات کے سائے بنائے (جیسے درخت ومکانات وغیرہ) اور تمہارے لئے پہاڑوں میں پناہ کی جگہیں بنائیں (یعنی غار وغیرہ جس میں گرمی سردی بارش موذی دشمن جانور آدمی سے محفوظ رہ سکتے ہو) اور تمہارے لئے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے تمہاری حفاظت کریں اور ایسے کرتے (بھی) بنائے جو تمہاری آپس کی لڑائی (میں زخم لگنے) سے تمہاری حفاظت کریں (مراد اس سے زرہ ہیں) اللہ تعالیٰ تم پر اسی طرح کی اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے کہ تم (ان نعمتوں کے (شکریہ میں) فرمانبردار رہو (اور ہرچند مذکورہ نعمتوں میں بعض مصنوعات عباد بھی ہیں مگر ان کا مادہ اور ان کے بنانے کا سلیقہ تو اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے اس لئے منعم حقیقی وہی ہیں پھر ان نعمتوں کے بعد بھی) اگر یہ لوگ ایمان سے اعراض کریں (تو آپ غم نہ کریں آپ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ) آپ کے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے (اور ان کے اعراض کی وجہ سے یہ نہیں کہ وہ ان نعتموں کو پہچانتے نہیں بلکہ وہ لوگ) خدا کی نعمتوں کو تو پہچانتے ہیں مگر پہچان کر پھر (برتاؤ میں) اس کے منکر ہوتے ہیں (کہ جو برتاؤ منعم کے ساتھ چاہئے تھا یعنی عبادت وطاعت وہ دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں) اور زیادہ ان میں ایسے ہی ناشکرے ہیں۔
Ayahs 16:78–79

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو نکالا تمہاری ماں کے پیٹ سے نہ جانتے تھے تم کسی چیز کو اور دیئے تم کو کان اور آنکھیں اور دل، تاکہ تم احسان مانو،

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھے اڑتے پرندے حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی ہوا میں کوئی نہیں تھام رہا ان کو سوائے اللہ کے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں

معارف و مسائل قولہ تعالیٰ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا اس میں اشارہ ہے کہ علم انسان کا ذاتی ہنر نہیں پیدائش کے وقت وہ کوئی علم وہنر نہیں رکھتا پھر ضرورت انسانی کے مطابق اس کو کچھ کچھ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاواسطہ سکھایا جاتا ہے جس میں نہ ماں باپ کا دخل ہے نہ کسی معلم کا سب سے پہلے اس کو رونا سکھایا اس کی یہی صفت اس وقت اس کی تمام ضروریات مہیا کرتی ہے بھوک پیاس لگے تو وہ روتا ہے سردی گرمی لگے تو رو دیتا ہے کوئی اور تکلیف پہنچنے تو رو دیتا ہے قدرت نے اس کی ضروریات کے لئے ماں باپ کے دلوں میں خاص الفت ڈال دی کہ جب بچے کی آواز سنیں تو وہ اس کی تکلیف کے پہچاننے اور اس کے دور کرنے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں اگر بچے کو منجانب اللہ یہ رونے کی تعلیم نہ دی جاتی تو اس کو کون یہ کام سکھا سکتا کہ جب کوئی ضرورت پیش آئے تو اس طرح چلایا کرے اس کے ساتھ ہی اس کو اللہ تعالیٰ نے الہامی طور پر یہ بھی سکھا دیا کہ اپنی غذاء کو چھاتی سے حاصل کرنے کے لئے اپنے مسوڑھوں اور ہونٹوں سے کام لے اگر یہ تعلیم فطری اور بلاواسطہ نہ ہوتی تو کس معلم کی مجال تھی جو اس نومولود کو منہ چلانا اور چھاتی کو چوسنا سکھا دیتا اسی طرح جوں جوں اس کی ضروریات بڑھتی گئیں قدرت نے اس کو بلاواسطہ ماں باپ اور دوسرے آس پاس کے آدمیوں کی بات سن کر یا کچھ چیزوں کو دیکھ کر کچھ سیکھنے لگتا ہے اور پھر ان سنی ہوئی آوازوں اور دیکھی ہوئی چیزوں کو سوچنے سمجھنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی لئے آیت مذکورہ میں لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا کے بعد فرمایا (آیت) وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ یعنی اگرچہ پیدائش میں انسان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا مگر قدرت نے اس کے وجود میں علم حاصل کرنے کے عجیب و غریب قسم کے آلات نصب کردیئے کہ انسان کا سب سے پہلا علم اور سب سے زیادہ علم کانوں ہی کے راستہ سے آتا ہے شروع میں آنکھ تو بند ہوتی ہے مگر کان سنتے ہیں اور اس کے بعد بھی اگر غور کیا جائے تو انسان کو اپنی پوری عمر میں جس قدر معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں سب سے زیادہ کانوں سے سنی ہوئی ہوتی ہیں آنکھ سے دیکھی ہوئی معلومات اس کی نسبت سے بہت کم ہوتی ہیں ان دونوں کے بعد نمبر ان معلومات کا ہے جن کو انسان اپنی سنی اور دیکھی ہوئی چیزوں میں غور و فکر کر کے معلوم کرتا ہے اور یہ کام قرآنی ارشادات کے مطابق انسان کے قلب کا ہے اس لئے تیسرے نمبر میں افئدۃ فرمایا جو فواد کی جمع ہے جس کے معنی قلب کے ہیں فلاسفہ نے عام طور پر سمجھ بوبھ اور ادراک کا مرکز انسان کے دماغ کو قرار دیا ہے مگر ارشاد قرآنی سے معلوم ہوا کہ دماغ کو اگرچہ اس ادراک میں دخل ضرور ہے مگر علم و ادراک کا اصلی مرکز قلب ہے۔ اس موقع پر حق تعالیٰ نے سننے دیکھنے اور سمجھنے کی قوتوں کا ذکر فرمایا ہے گویائی اور زبان کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ نطق اور گویائی کو حصول علم میں داخل نہیں بلکہ وہ اظہار علم کا ذریعہ ہیں اس کے علاوہ امام قرطبی نے فرمایا کہ لفظ سمع کے ساتھ نطق بھی ضمنا آگیا کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ جو شخص سنتا ہے وہ بولتا بھی ہے گونگا جو بولنے پر قادر نہیں وہ کانوں سے بھی بہرا ہوتا ہے اور شاید اس کے نہ بولنے کا سبب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی آواز سنتا نہیں جس کو سن کر بولنا سیکھے واللہ اعلم۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے بنا دیئے تم کو تمہارے گھر بسنے کی جگہ اور بنا دیئے تم کو چوپاؤں کی کھال سے ڈیرے جو ہلکے رہتے ہیں تم پر جس دن سفر میں ہو اور جس دن گھر میں ہو، اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی ببریوں سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب اور استعمال کی چیزیں وقت مقرر تک

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا بیوت بیت کی جمع ہے جس مکان میں رات گذاری جاسکے اس کو بیت کہتے ہیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا۔ کل ماعلاک فاظلک فہو سقف وسمآء وکل ماقللک فہو ارض وکل ما سترک من جھاتک الاربع فھوجدار فاذا انتظمت واتصلت فہو بیت جو چیز تمہارے سر سے بلند ہو اور تم پر سایہ کرے وہ چھت یا سما کہلاتی ہے اور جو چیز تمہارے وجود کو اپنے اوپر اٹھائے وہ زمین ہے اور جو چیز چاروں طرف سے تمہارا پردہ کر دے وہ دیواریں ہیں اور جب یہ سب چیزیں جمع ہوجائیں تو وہ بیت ہے۔ گھر بنانے کا اصل مقصد قلب وجسم کا سکون ہے اس میں حق تعالیٰ نے انسان کے بیت یعنی گھر کو سکن فرما کر گھر بنانے کا فلسفہ اور حکمت واضح فرما دی کہ اس کا اصل مقصد جسم اور قلب کا سکون ہے عادۃ انسان کا کسب وعمل گھر سے باہر ہوتا ہے جو اس کی حرکت سے وجود میں آتا ہے اس کے گھر کا اصلی منشاء یہ ہے کہ جب حرکت و عمل سے تھک جائے تو اس میں جا کر آرام کرے اور سکون حاصل کرے اگرچہ بعض اوقات انسان اپنے گھر میں بھی حرکت وعمل میں مشغول رہتا ہے مگر یہ عادۃ کم ہے۔ اس کے علاوہ سکون اصل میں قلب و دماغ کا سکون ہے وہ انسان کو اپنے گھر میں ہی حاصل ہوتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انسان کے مکان کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ اس میں سکون ملے آج کی دنیا میں تعمیرات کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے اور ان میں ظاہری ٹیپ ٹاپ پر بےحد خرچ بھی کیا جاتا ہے لیکن ان میں ایسے مکانات بہت کم ہیں جن میں قلب اور جسم کا سکون حاصل ہو بعض اوقات تو مصنوعی تکلفات خود ہی آرام و سکون کو برباد کردیتے ہیں اور وہ بھی نہ ہو تو گھر میں جن لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے وہ اس سکون کو ختم کردیتے ہیں ایسے عالی شان مکانات سے وہ جگہ اور جھونپڑی اچھی ہے جس کے رہنے والے کے قلب وجسم کو سکون حاصل رہا ہو۔ قرآن کریم ہر چیز کی روح اور اصل کو بیان کرتا ہے انسان کے گھر کا اصل مقصد اور سب سے بڑی غرض وغایت سکون کو قرار دیا اسی طرح ازدواجی زندگی کا اصل مقصد بھی سکون قرار دیا ہے لِتَسْكُنُوْا اِلَیھَا جس ازدواجی زندگی سے یہ مقصد حاصل نہ ہو وہ اس کے اصل فائدے سے محروم ہے آج کی دنیا میں ان چیزوں میں رسمی اور غیر رسمی تکلفات اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کی حد نہیں رہی اور مغربی تمدن و معاشرت نے ان چیزوں میں ظاہری زیب وزینت کے سارے سامان جمع کردیئے مگر سکون قلب وجسم سے قطعا محروم کر ڈالا۔ قولہ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَام وقولہ مِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا سے ثابت ہوا کہ جانوروں کی کھال اور بال اور اون سب کا استعمال انسان کے لئے حلال ہے اس میں یہ بھی قید نہیں کہ جانور مذبوح ہو یا مردار اور نہ یہ قید ہے کہ اس کا گوشت حلال ہے یا حرام ان سب قسم کے جانوروں کی کھال دباغت دے کر استعمال کرنا حلال ہے اور بال اور اون پر تو جانور کی موت کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا وہ بغیر کسی خاص صنعت کے حلال اور جائز ہے امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے البتہ خنزیر کی کھال اور اس کے تمام اجزاء ہر حال میں نجس اور ناقابل انتفاع ہیں۔
Ayahs 16:81–83

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے بنا دیئے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے اور بنادیں تمہارے واسطے پہاڑوں میں چھپنے کی جگیں اور بنا دیئے تم کو کرتے جو بچاؤ ہیں گرمی میں اور کرتے جو بچاؤ ہیں لڑائی میں، اسی طرح پورا کرتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم حکم مانو،

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پھر اگر پھرجائیں تو تیرا کام تو یہی ہے کھول کر سنا دینا ،

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

پہچانتے ہیں اللہ کا احسان پھر منکر ہوجاتے ہیں اور بہت ان میں ناشکرے ہیں۔

(آیت) سَرَابِيْلَ تَـقِيْكُمُ الْحَـرّ۔ یہاں انسان کو کرتے کی غرض گرمی سے بچانے کو فرمایا ہے حالانکہ کرتہ انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتا ہے اس کا ایک جواب تو امام قرطبی اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ قرآن حکیم عربی زبان میں آیا ہے اس کے اولین مخاطب عرب ہیں اس لئے اس میں عرب کی عادات و ضروریات کا لحاظ رکھ کر کلام کیا گیا ہے عرب ایک گرم ملک ہے وہاں برف باری اور سردی کا تصور ہی مشکل ہے اس لئے گرمی سے بچانے کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا حضرت تھانوی نے بیان القرآن میں فرمایا کہ قرآن کریم نے اسی سورة کے شروع میں لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ فرما کر لباس کے ذریعہ سردی سے بچنے اور گرمی حاصل کرنے کا ذکر پہلے کردیا تھا اس لئے یہاں صرف گرمی دفع کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔