Ayah 16:41خلاصہ تفسیر
اور جن لوگوں نے اللہ کے واسطے اپنا وطن (مکہ) چھوڑ دیا (اور حبشہ چلے گئے) بعد اس کے کہ ان پر (کفار کی طرف سے) ظلم کیا گیا (کیونکہ ایسی مجبوری میں وطن چھوڑنا بڑا شاق گذرتا ہے ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے (یعنی ان کو مدینہ پہنچا کر خوب امن و راحت دیں گے چناچہ بعد چندے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے پہنچا دیا اور اس کو وطن اصلی قرار دیا گیا اس لئے اس کو ٹھکانا کہا اور ہر طرح کی وہاں ترقی ہوئی اس لئے حسنہ کہا گیا اور حبشہ کا قیام عارضی تھا اس لئے اس کا ٹھکانا نہیں فرمایا) اور آخرت کا ثواب (اس سے) بدرجہا بڑا ہے (کہ خیر بھی ہے اور ابقیٰ بھی) کاش (اس اجر آخرت کی) ان (بےخبر کافروں) کو (بھی) خبر ہوتی (اور اس کے حاصل کرنے کی رغبت سے مسلمان ہوجاتے) وہ (مہاجرین ان وعدوں کے اس لئے مستحق ہیں کہ وہ) ایسے ہیں جو (ناگوار واقعات پر) صبر کرتے ہیں (چنانچہ وطن کا چھوڑنا گو ان کو ناگوار ہے لیکن بدون اس کے دین پر عمل نہیں کرسکتے تھے دین کے لئے وطن چھوڑا اور صبر کیا) اور (وہ ہر حال میں) اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں (وطن چھوڑنے کے وقت یہ خیال نہیں کرتے کہ کھائیں پئیں گے کہاں سے)
معارف و مسائل
تشریح و تفسیر
(آیت) اَلَّذِيْنَ هَاجَرُوْا ہجرت سے مشتق ہے ہجرت کے لغوی معنی ترک وطن کے ہیں ترک وطن جو اللہ کے لئے کیا جائے وہ اسلام میں بڑی اطاعت و عبادت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا الہجرۃ تھدم ماکان قبلہا یعنی ہجرت ان تمام گناہوں کو ختم کردیتی ہے جو انسان نے ہجرت سے پہلے کئے ہوں۔
یہ ہجرت بعض صورتوں میں فرض و واجب اور بعض صورتوں میں مستحب و افضل ہوتی ہے اس کے مفصل احکام تو سورة نساء کی آیت نمبر 97 اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُھَاجِرُوْا فِيْھَا کے تحت میں بیان ہوچکے ہیں اس جگہ صرف ان وعدوں کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین سے کئے ہیں ،
کیا ہجرت دنیا میں بھی فراخی عیش کا سبب ہوتی ہے ؟:
آیات مذکورہ میں چند شرائط کے ساتھ مہاجرین کے لئے دو عظیم الشان وعدے کئے گئے ہیں اول تو دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دینے کا دوسرے آخرت کے بےحساب ثواب عظیم کا دنیا میں اچھا ٹھکانا ایک نہایت جامع لفظ ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ مہاجر کو سکونت کے لئے مکان اور پڑوسی اچھے ملیں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو رزق اچھا ملے دشمنوں پر فتح و غلبہ نصیب ہو عام لوگوں کی زبان پر ان کی تعریف اور بھلائی ہو عزت وشرف ملے جو ان کے خاندان اور اولاد تک چلے (قرطبی)
آیت کا شان نزول اصالۃ وہ پہلی ہجرت ہے جو صحابہ کرام ؓ اجمعین نے حبشہ کی طرف کی اور یہ بھی احتمال ہے کی ہجرت حبشہ اور اس کے بعد کی ہجرت مدینہ منورہ دونوں اس میں داخل ہوں آیت میں یہاں انہی مہاجرین حبشہ یا مہاجرین مدینہ کا ذکر ہے اس لئے بعض علماء نے فرمایا کہ یہ وعدہ انہی حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین کے لئے تھا جنہوں نے حبشہ کی طرف یا پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ دنیا میں پورا ہوچکا جس کا سب نے مشاہدہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو ان کا کیسا اچھا ٹھکانا بنادیا ایذاء دینے والے پڑوسیوں کے بجاے غمخوار ہمدرد وجاں نثار پڑوسی ملے دشمنوں پر فتح و غلبہ نصیب ہوا ہجرت کے تھوڑے ہی عرصہ گذرنے کے بعد ان پر رزق کے دروازے کھول دیئے گئے فقراء و مساکین مال دار ہوگئے دنیا کے ممالک فتح ہوئے ان کے حسن اخلاق حسن عمل کے کارنامے رہتی دنیا تک ہر موافق و مخالف کی زبان پر ہیں ان کو اور ان کی نسلوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت وشرف بخشا یہ تو دنیا میں ہونے والی چیزیں تھیں جو ہو چکیں اور آخرت کا وعدہ پورا ہونا بھی یقینی ہے لیکن تفسیر بحر محیط میں ابو حیان کہتے ہیں۔
والذین ھاجروا عام فی المھاجرین کائنا ماکانوا فیشمل اولہم واخرہم (ص 492 ج 5) الذین ہاجروا کا لفظ تمام مہاجرین عالم کے لئے عام اور شامل ہے کسی بھی خطے اور زمانہ کے مہاجر ہوں اس لئے یہ لفظ مہاجرین اولین کو بھی شامل ہے اور قیامت تک اللہ کے لئے ہر ہجرت کرنے والا اس میں داخل ہے۔
عام تفسیری ضابطہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آیت کا شان نزول اگرچہ کوئی خاص واقعہ اور خاص جماعت ہو مگر اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے اس لئے وعدہ میں تمام دنیا کے اور ہر زمانہ کے مہاجرین بھی شامل ہیں اور یہ دونوں وعدے تمام مہاجرین کے لئے پورا ہونا امر یقینی ہے۔
اسی طرح کا ایک وعدہ مہاجرین کے لئے سورة نساء کی اس آیت میں کیا گیا ہے وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَةً جس میں وسعت مکانی اور فراخی عیش خاص طور سے موعود ہیں مگر قرآن کریم نے ان وعدوں کے ساتھ مہاجرین کے کچھ اوصاف اور ہجرت کی کچھ شرائط بھی بیان فرمائی ہیں اس لئے ان وعدوں کے مستحق وہی مہاجرین ہو سکتے ہیں جو ان اوصاف کے حامل ہوں اور جنہوں نے مطلوبہ شرائط پوری کردی ہوں ،
ان میں سب سے پہلی شرط تو فی اللہ کی ہے یعنی ہجرت کرنے کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو اور میں دنیاوی منافع تجارت، ملازمت وغیرہ اور نفسانی فوائد پیش نظر نہ ہوں دوسری شرط ان مہاجرین کا مظلوم ہونا ہے مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا تیسرا وصف ابتدائی تکالیف و مصائب پر صبر اور ثابت قدم رہنا ہے
Ayah 16:42الَّذِيْنَ صَبَرُوْا چوتھا وصف تمام مادی تدبیروں کا اہتمام کرتے ہوئے بھی بھروسہ صرف اللہ پر رکھنا ہے کہ فتح ونصرت اور ہر کامیابی صرف اسی کے ہاتھ میں ہے وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ
اس سے معلوم ہوا کہ ابتدائی مشکلات و تکالیف تو ہر کام میں ہوا ہی کرتی ہیں ان کو عبور کرنے کے بعد بھی اگر مہاجر کو اچھا ٹھکانا اور اچھے حالات نہیں ملے تو قرآن کے وعدے میں شبہ کرنے کے بجائے اپنی نیت و اخلاص اور اس حسن عمل کا جائزہ لے جس پر یہ وعدے کئے گئے ہیں تو اس کو معلوم ہوگا کہ قصور اپنا ہی کہیں نیت میں کھوٹ ہوتا ہے کہیں صبر وثبات اور توکل کی کمی ہوتی ہے۔
ترک وطن اور ہجرت کی مختلف قسمیں اور ان کے احکام
امام قرطبی نے اس جگہ ہجرت اور ترک وطن کی قسمیں اور ان کے کچھ احکام پر ایک مفید مضمون تحریر فرمایا ہے اتمام فائدہ کے لئے اس کو نقل کرتا ہوں قرطبی نے بحوالہ ابن عربی لکھا ہے کہ وطن سے نکلنا اور زمین میں سفر کرنا کبھی تو کسی چیز سے بھاگنے اور بچنے کے لئے ہوتا ہے اور کبھی کسی چیز کی طلب و جستجو کے لئے پہلی قسم کا سفر جو کسی چیز سے بھاگنے اور بچنے کے لئے ہو اس کو ہجرت کہتے ہیں اور اس کی چھ قسمیں ہیں۔
اول یعنی دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف جانا یہ قسم سفر عہد رسالت میں بھی فرض تھی اور قیامت تک بشرط استطاعت وقدرت فرض ہے (جبکہ دارالکفر میں اپنے جان ومال اور آبرو کا امن نہ ہو یادینی فرائض کی ادائیگی ممکن نہ ہو) اس کے باوجود دارالحرب میں مقیم رہا تو گناہگار ہوگا ،
دوسرا دارالبدعت سے نکل جانا ابن قاسم کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک سے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے اس مقام میں قیام کرنا حلال نہیں جس میں سلف صالحین پر سب وشتم کیا جاتا ہو ابن عربی یہ قول نقل کرکے لکھتے ہیں کہ یہ بالکل صحیح ہے کیونکہ اگر تم کسی منکر کا ازالہ نہیں کرسکتے تو تم پر لازم ہے کہ خود وہاں سے زائل یعنی علیحدہ ہوجاؤ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ تیسرا سفر وہ ہے کہ جس جگہ پر حرام کا غلبہ ہو وہاں سے نکل جانا کیونکہ طلب حلال ہر مسلمان پر فرض ہے۔
چوتھا جسمانی اذیتوں سے بچنے کے لئے سفر یہ سفر جائز اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے کہ انسان جس جگہ دشمنوں سے جسمانی آیت کا خطرہ محسوس کرے وہاں سے نکل جائے تاکہ اس خطرہ سے نجات ہو یہ چوتھی قسم کا سفر سب سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ نے کہا جبکہ قوم کی ایذاؤں سے نجات حاصل کرنے کے لئے عراق سے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے اور فرمایا انی مہاجر الی ربی۔ ان کے بعد حضرت موسیٰ ؑ نے ایسا ہی ایک سفر مصر سے مدین کی طرف کیا فَخَـــرَجَ مِنْهَا خَاۗىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ
پانچواں سفر آب وہوا کی خرابی اور امراض کے خطرہ سے بچنے کے لئے ہے شریعت اسلام نے اس کی بھی اجازت دی ہے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے کچھ چرواہوں کو مدینہ سے باہر جنگل میں قیام کرنے کا ارشاد فرمایا کیونکہ شہری آب وہوا ان کو موافق نہ تھی اسی طرح حضرت فاروق اعظم ؓ نے ابو عبیدہ ؓ کو حکم بھیجا تھا کہ دارالخلافہ اردن سے منتقل کر کے کسی سطح مرتفع پر لے جائیں جہاں آب وہوا خراب نہ ہو۔
لیکن یہ اس وقت میں ہے جب کسی مقام پر طاعون یا وبائی امراض پھیلے ہوئے نہ ہوں اور جس جگہ کوئی وبا پھیل جائے اس کے لئے حکم یہ ہے کہ جو لوگ اس جگہ پہلے سے موجود ہیں وہ تو وہاں سے بھاگیں نہیں اور جو باہر ہیں وہ اس کے اندر نہ جائیں جیسا کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کو سفر شام کے وقت پیش آیا کہ سرحد شام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ملک شام میں طاعون پھیلا ہوا ہے تو آپ کو اس ملک میں داخل ہونے میں تردد پیش آیا صحابہ کرام ؓ اجمعین سے مسلسل مشوروں کے بعد آخر میں جب حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ان کو یہ حدیث سنائی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
اذا وقع بارض وانتم بہا فلا تخرجوا منہا واذا وقع بارض ولستم بہا فلا تھبطوا علیہا (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن صحیح) جب کسی خطہ میں طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور جہاں تم پہلے سے موجود نہیں وہاں طاعون پھیلنے کی خبر سنو تو اس میں داخل نہ ہو،
اس وقت فاروق اعظم ؓ نے حکم حدیث کی تعمیل کرتے ہوئے پورے قافلہ کو لے کر واپسی کا اعلان کردیا ،
بعض علماء نے فرمایا کہ حدیث شریف کے اس حکم میں ایک خاص حکمت یہ بھی ہے کہ جو لوگ اس جگہ مقیم ہیں جہاں کوئی وبا پھیل چکی ہے یہاں کے لوگوں میں وبائی جراثیم کا موجود ہونا ظن غالب ہے وہ اگر یہاں سے بھاگیں گے تو جس میں یہ مادہ وبائی سرایت کرچکا ہے وہ تو بچے گا نہیں اور جہاں یہ جائے گا وہاں کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے اس لئے یہ حکیمانہ فیصلہ فرمایا۔
چھٹا سفر اپنے مال کی حفاظت کے لئے ہے جب کوئی شخص کسی مقام میں چوروں ڈاکوؤں کا خطرہ محسوس کرے تو وہاں سے منتقل ہوجائے شریعت اسلام نے اس کی بھی اجازت دی ہے کیونکہ مسلمان کے مال کا بھی ایسا ہی احترام ہے جیسا اس کی جان کا ہے۔
یہ چھ قسمیں تو اس ترک وطن کی ہیں جو کسی چیز سے بھاگنے اور بچنے کے لئے کیا گیا ہو اور جو سفر کسی چیز کی طلب و جستجو کے لئے کیا جائے اس کی نو قسمیں ہیں۔
1 سفر عبرتیعنی دنیا کی سیاحت وسفر اس کام کے لئے کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات اور قدرت کاملہ کا اور اقوام سابقہ کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کرے قرآن کریم نے ایسے سفر کی ترغیب دی ہے اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ حضرت ذی القرنین کے سفر کو بھی علماء نے اسی قسم کا سفر قرار دیا ہے اور بعض نے فرمایا کہ ان کا سفر زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرنے کے لئے تھا۔
2 سفر حجاس کا چند شرائط کے ساتھ فرض اسلامی ہونا سب کو معلوم ہے۔
3 سفر جہاداس کا فرض یا واجب یا مستحب ہونا بھی سب مسلمانوں کو معلوم ہے۔
4 سفر معاشجب کسی شخص کو اپنے وطن میں ضرورت کے مطابق معاشی سامان حاصل نہ ہو سکے تو اس پر لازم ہے کہ یہاں سے سفر کرکے دوسری جگہ تلاش روز گار کرے۔
5 سفر تجارتیعنی قدر ضرورت سے زائد مال حاصل کرنے کے لئے سفر کرنا یہ بھی شرعا جائز ہے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ابتغاء فضل سے مراد اس آیت میں تجارت ہے اللہ تعالیٰ نے سفر حج میں بھی تجارت کی اجازت دے دی ہے تو تجارت کے لئے ہی سفر کرنا بدرجہ اولی جائز ہوا۔
6 طلب علم کے لئے سفراس کا بقدر ضرورت دین فرض عین ہونا اور زائد از ضرورت کا فرض کفایہ ہونا معلوم و معروف ہے۔
7 کسی مقام کو مقدس اور متبرک سمجھ کر اس کی طرف سفر کرنایہ بجز تین مسجدوں کے درست نہیں مسجد حرام (مکہ مکرمہ) مسجد نبوی (مدینہ طیبہ) مسجد اقصی (بیت المقدس) (یہ قرطبی اور ابن عربی کی رائے ہے دوسرے اکابر علماء سلف وخلف نے عام مقامات متبرکہ کی طرف سفر کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے محمد شفیع)
8 اسلامی سرحدوں کی حفاظت کے لئے سفرجس کو رباط کہا جاتا ہے احادیث کثیرہ میں اس کی بڑی فضیلت مذکور ہے۔
9 عزیزوں اور دوستوں سے ملاقات کے لئے سفرحدیث میں اس کو بھی باعث اجر وثواب قرار دیا گیا ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں اقرباء و احباب کی ملاقات کے لئے سفر کرنے والے کے لئے فرشتوں کی دعاء کا ذکر فرمایا گیا ہے (یہ جب ہی کہ ان کی ملاقات سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو کوئی مادی غرض نہ ہو واللہ اعلم (قرطبی، ص 349 تا 351 ج 5 سورة نساء)
Ayah 16:43خلاصہ تفسیر
اور (یہ منکر لوگ جو آپ کی رسالت ونبوت کا اس بناء پر انکار کر رہے ہیں کہ آپ بشر اور انسان ہیں اور نبی و رسول ان کے نزدیک کوئی انسان و بشر نہ ہونا چاہئے یہ ان کا جاہلانہ خیال ہے کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمی ہی رسول بنا کر معجزات اور کتابیں دے کر بھیجے ہیں کہ ان پر وحی بھیجا کرتے تھے (تو اے مکہ والو منکرین) اگر تم کو علم نہیں تو دوسرے اہل علم سے پوچھ دیکھو (جن کو انبیاء سابقین کے حالات کا علم ہو اور وہ تمہارے خیال میں بھی مسلمانون کی طرفداری نہ کریں اور اسی طرح آپ کو بھی رسول بنا کر) آپ پر بھی یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جو ہدایات آپ کے واسطے سے) لوگوں کے پاس بھیجی گئی ہیں وہ ہدایات آپ ان کو واضح کر کے سمجھا دیں اور تاکہ وہ ان میں غور وفکر کیا کریں۔
معارف و مسائل
روح المعانی میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مشرکین مکہ نے اپنے قاصد مدینہ طیبہ کے یہود کے پاس دریافت حال کے لئے بھیجے کہ کیا یہ بات واقعی ہے کہ پہلے بھی سب انبیاء (علیہم السلام) جنس بشر و انسان سے ہوتے آئے ہیں۔
اگرچہ لفظ اہل الذکر میں اہل کتاب اور مؤمنین سب داخل تھے مگر یہ ظاہر ہے کہ مشرکین کا اطمینان غیر مسلموں ہی کے بیان سے ہوسکتا تھا کیونکہ وہ خود رسول کریم ﷺ کی بات پر مطمئن نہیں تھے تو دوسرے مسلمانوں کی بات کیسے مان سکتے تھے۔
اَهْلَ الذِّكْر لفظ ذکر چند معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی علم کے بھی ہیں اسی مناسبت سے قرآن کریم میں تورات کو بھی ذکر فرمایا ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اور قرآن کریم کو بھی ذکر کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت میں اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ میں قرآن مراد ہے اس لئے اہل الذکر کے لفظی معنی اہل علم کے ہوئے اور یہاں اہل علم سے کون لوگ مراد ہیں اس میں ظاہر یہ ہے کہ علمائے اہل کتاب یہود و نصاری مراد ہیں یہ قول ابن عباس حسن السدی وغیرہ کا ہے اور بعض حضرات نے اس جگہ بھی ذکر سے قرآن مراد لے کر اہل الذکر کی تفسیر اہل قرآن سے کی ہے اس میں زیادہ واضح بات رمانی، زجاج، ازہری کی ہے وہ کہتے ہیں المراد باہل الذکر علماء اخبار الامم السالفتہ کائنا من کان فالذکر بمعنی الحفظ کانہ قیل اسالوا المطلعین علی اخبار الامم یعلموکم بذلک اس تحقیق کی بناء پر اس میں اہل کتاب بھی داخل ہیں اور اہل قرآن بھی۔
بینات کے معنی معروف ہیں اور مراد اس سے یہاں معجزات ہیں، زبر دراصل زبرہ کی جمع ہے جو لوہے کے بڑے ٹکڑوں کے لئے بولا جاتا ہے اٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ ٹکڑوں کو جوڑنے کی مناست سے لکھنے کو زبر کہا جاتا ہے اور لکھی ہوئی کتاب کو زبر اور زبور بولتے ہیں یہاں مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس میں تورات انجیل زبور قرآن سب داخل ہیں ،
ائمہ مجتہدین کی تقلید غیر مجتہد پر واجب ہے
آیت مذکورہ کا یہ جملہ (آیت) فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ اس جگہ اگرچہ ایک خاص مضمون کے بارے میں آیا ہے مگر الفاظ عام ہیں جو تمام معاملات کو شامل ہیں اس لئے قرآنی اسلوب کے اعتبار سے درحقیقت یہ اہم ضابطہ ہے جو عقلی بھی ہے نقلی بھی کہ جو لوگ احکام کو نہیں جانتے وہ جاننے والوں سے پوچھ کر عمل کریں اور نہ جاننے والوں پر فرض ہے کہ جاننے والوں کے بتلانے پر عمل کریں اسی کا نام تقلید ہے یہ قرآن کا واضح حکم بھی ہے اور عقلا بھی اس کے سوا عمل کو عام کرنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی امت میں عہد صحابہ سے لے کر آج تک بلا اختلاف اسی ضابطہ پر عمل ہوتا آیا ہے جو تقلید کے منکر ہیں وہ بھی اس تقلید کا انکار نہیں کرتے کہ جو لوگ عالم نہیں وہ علماء سے فتوی لے کر عمل کریں اور یہ ظاہر ہے کہ ناواقف عوام کو علماء اگر قرآن و حدیث کے دلائل بتلا بھی دیں تو وہ ان دلائل کو بھی انہی علماء کے اعتماد پر قبول کریں گے ان میں خود دلائل کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت تو ہے نہیں اور تقلید اسی کا نام ہے کہ نہ جاننے والا کسی جاننے والے کے اعتماد پر کسی حکم کو شریعت کا حکم قرار دے کر عمل کرے یہ تقلید وہ ہے جس کے جواز بلکہ وجوب میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں البتہ وہ علماء جو خود قرآن و حدیث کو اور مواقع اجماع کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو ایسے احکام میں جو قرآن و حدیث میں صریح اور واضح طور پر مذکور ہیں اور علماء صحابہ وتابعین کے درمیان ان مسائل میں کوئی اختلاف بھی نہیں ان احکام میں وہ علماء براہ راست قرآن و حدیث اور اجماع پر عمل کریں ان میں علماء کو کسی مجتہد کی تقلید کی ضرورت نہیں لیکن وہ احکام و مسائل جو قرآن وسنت میں صراحۃ مذکور نہیں یا جن میں آیات قرآن اور روایات حدیث میں بظاہر کوئی تعارض نظر آتا ہے یا جن میں صحابہ وتابعین کے درمیان قرآن وسنت کے معنی متعین کرنے میں اختلاف پیش آیا ہے یہ مسائل و احکام محل اجتہاد ہوتے ہیں ان کو اصطلاح میں مجتہد فیہ مسائل کہا جاتا ہے ان کا حکم یہ ہے کہ جس عالم کو درجہ اجتہاد حاصل نہیں اس کو بھی ان مسائل میں کسی امام مجتہد کی تقلید ضروری ہے محض اپنی ذاتی رائے کے بھروسہ پر ایک آیت یا روایت کو ترجیح دے کر اختیار کرنا اور دوسری آیت یا روایت کو مرجوع قرار دے کر چھوڑ دینا اس کے لئے جائز نہیں۔
اسی طرح جو احکام قرآن وسنت میں صراحۃ مذکور نہیں ان کو قرآن وسنت کے بیان کردہ اصول سے نکالنا اور ان کا حکم شرعی متعین کرنا یہ بھی انہی مجتہدین امت کا کام ہے جن کو عربی زبان عربی لغت اور محاورات اور طریق استعمال کا نیز قرآن وسنت سے متعلقہ تمام علوم کا معیاری علم اور ورع وتقوی کا اونچا مقام حاصل ہو جیسے امام اعظم ابوحنیفہ ؒ شافعی، مالک احمد بن حنبل یا اوزاعی فقیہ ابواللیث وغیرہ جن میں اللہ تعالیٰ نے قرب زمانہ نبوت اور صحبت صحابہ وتابعین کی برکت سے شریعت کے اصول و مقاصد سمجھنے کا خاص ذوق اور منصوص احکام سے غیر منصوص کو قیاس کر کے حکم نکالنے کا خاص سلیقہ عطا فرمایا تھا ایسے مجتہد فیہ مسائل میں عام علماء کو بھی ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید لازم ہے ائمہ مجتہدین کے خلاف کوئی نئی رائے اختیار کرنا خطاء ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت کے اکابر علماء محدثین وفقہا امام غزالی، رازی، ترمذی، طحاوی مزنی ابن ہمام ابن قدامہ اور اسی معیار کے لاکھوں علماء سلف وخلف باوجود علوم عربیت وعلوم شریعت کی اعلیٰ مہارت حاصل ہونے کے ایسے اجتہادی مسائل میں ہمیشہ ائمہ مجتہدین کی تقلید ہی کے پابند رہے ہیں سب مجتہدین کے خلاف اپنی رائے سے کوئی فتوی دینا جائز نہیں سمجھا البتہ ان حضرات کو علم وتقوی کا وہ معیاری درجہ حاصل تھا کہ مجتہدین کے اقوال وآراء کو قرآن وسنت کے دلائل سے جانچتے اور پرکھتے تھے پھر ائمہ مجتہدین میں جس امام کے قول کو وہ کتاب وسنت کے ساتھ اقرب پاتے اس کو اختیار کرلیتے تھے مگر ائمہ مجتہدین کے مسلک سے خروج اور ان سب کے خلاف کوئی رائے قائم کرنا ہرگز جائز نہ جانتے تھے تقلید کی اصل حقیقت اتنی ہی ہے۔
اس کے بعد روز بروز علم کا معیار گھٹتا گیا اور تقوی و خدا ترسی کے بجائے اغراض نفسانی غالب آنے لگیں ایسی حالت میں اگر یہ آزادی دی جائے کہ جس مسئلہ میں چاہیں کسی ایک امام کا قول اختیار کرلیں اور جس میں چاہیں کسی دوسرے کا قول لے لیں تو اس کا لازمی اثر یہ ہونا تھا کہ لوگ اتباع شریعت کا نام لے کر اتباع ہوی میں مبتلا ہوجائیں کہ جس امام کے قول میں اپنی غرض نفسانی پوری ہوتی نظر آئے اس کو اختیار کرلیں اور یہ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا کوئی دین و شریعت کا اتباع نہیں ہوگا بلکہ اپنی اغراض واہوا کا اتباع ہوگا جو باجماع امت حرام ہے علامہ شاطبی نے موافقات میں اس پر بڑی تفصیل سے کام کیا ہے اور ابن تیمیہ نے بھی عام تقلید کی مخالفت کے باوجود اس طرح کے اتباع کو اپنے فتاوی میں باجماع امت حرام کہا ہے اس لئے متاخرین فقہا نے یہ ضروری سمجھا کہ عمل کرنے والوں کو کسی ایک ہی امام مجتہد کی تقلید کا پابند کرنا چاہئے یہیں سے تقلید شخصی کا آغاز ہوا جو درحقیقت ایک انتظامی حکم ہے جس سے دین کا انتظام قائم رہے اور لوگ دین کی آڑ میں اتباع ہوی کے شکار نہ ہوجائیں اس کی مثال بعینہ وہ ہے جو حضرت عثمان غنی نے باجماع صحابہ قرآن کے سبعۃ احرف (یعنی سات لغات) میں سے صرف ایک لغت کو مخصوص کردینے میں کیا کہ اگرچہ ساتوں لغات قرآن ہی کے لغات تھے جبرئیل امین کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق نازل ہوئے مگر جب قرآن کریم عجم میں پھیلا اور مختلف لغات میں پڑھنے سے تحریف قرآن کا خطرہ محسوس کیا گیا تو باجماع صحابہ مسلمانوں پر لازم کردیا گیا کہ صرف ایک ہی لغت میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے حضرت عثمان غنی ؓ نے اسی ایک لغت کے مطابق تمام مصاحف لکھوا کر اطراف عالم میں بھجوائے اور آج تک پوری امت اسی کی پابند ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسرے لغات حق نہیں تھے بلکہ انتظام دین اور حفاظت قرآن از تحریف کی بناء پر صرف ایک لغت اختیار کرلیا گیا اسی طرح ائمہ مجتہدین سب حق ہیں ان میں سے کسی نے اختیار کی ہے اس کے نزدیک دوسرے ائمہ قابل تقلید نہیں بلکہ اپنی صواب دید اور اپنی سہولت جس امام کی تقلید میں دیکھی اس کو اختیار کرلیا اور دوسرے ائمہ کو بھی اسی طرح واجب الاحترام سمجھا۔
اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیمار آدمی کو شہر کے حکیم اور ڈاکٹروں میں سے کسی ایک ہی کو اپنے علاج کے لئے متعین کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیمار اپنی رائے سے کبھی کسی ڈاکٹر سے پوچھ کر دوا استعمال کرے کبھی کسی دوسرے سے پوچھ کر یہ اس کی ہلاکت کا سبب ہوتا ہے وہ جب کسی ڈاکٹر کا انتخاب اپنے علاج کے لئے کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ دوسرے ڈاکٹر ماہر نہیں یا ان میں علاج کی صلاحیت نہیں ،
حنفی، شافعی، مالکی حنبلی کی جو تقسیم امت میں قائم ہوئی اس کی حقیقت اس سے زائد کچھ نہ تھی اس میں فرقہ بندی اور گروی بندی کا رنگ اور باہمی جدال وشقاق کی گرم بازاری نہ کوئی دین کا کام ہے نہ کبھی اہل بصیرت علماء نے اسے اچھا سمجھا ہے بعض علماء کے کلام میں علمی بحث و تحقیق نے مناظرانہ رنگ اختیار کرلیا اور بعد میں طعن وطنز تک نوبت آگئی پھر جاہلانہ جنگ وجدال نے وہ نوبت پہنچا دی جو آج عموما دینداری اور مذہب پسندی کا نشان بن گیا فالی اللہ المشتکی ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
تنبیہ
مسئلہ تقلید و اجتہاد پر کچھ یہاں لکھا گیا وہ اس مسئلہ کا بہت مختصر خلاصہ ہے جو عام مسلمانوں کے سمجھنے کے لئے کافی ہے عالمانہ تحقیقات وتفصیلات اصول فقہ کی کتابوں میں مفصل موجود ہیں خصوصا کتاب الموافقات علامہ شاطبی جلد رابع باب الاجتہاد اور علامہ سیف الدین آمدی کی کتاب احکام الاحکام جلد ثالث القاعدۃ الثالثۃ فی المجتہدین، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی کتابیں حجۃ اللہ البالغہ اور رسالہ عقد الجید اور آخر میں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد اس مسئلے میں خاص طور سے قابل دید ہیں اہل علم ان کی طرف مراجعت فرمائیں
Ayah 16:44قرآں فہمی کے لئے حدیث رسول کریم ﷺ ضروری ہے حدیث کا انکار درحقیقت قرآن کا انکار ہے
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ اس آیت میں ذکر سے مراد باتفاق قرآن کریم ہے اور رسول کریم ﷺ کو اس آیت میں مامور فرمایا ہے کہ آپ قرآن کی نازل شدہ آیات کا بیان اور وضاحت لوگوں کے سامنے کردیں اس میں اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف اور احکام کا صحیح سمجھنا رسول کریم ﷺ کے بیان پر موقوف ہے اگر ہر انسان صرف عربی زبان اور عربی ادب سے واقف ہو کر قرآن کے احکام کو حسب منشاء خداوندی سمجھنے پر قادر ہوتا تو رسول کریم ﷺ کو بیان و توضیح کی خدمت سپرد کرنے کے کوئی معنی نہیں رہتے۔
علامہ شاطبی نے موافقات میں پوری تفصیل سے ثابت کیا ہے کہ سنت رسول کریم ﷺ کے متعلق فرمایا ہے (آیت) وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ اور حضرت صدیقہ عائشہ ؓ نے اس خلق عظٰیم کی تفسیر یہ فرمائی کان خلقہ القرآن اس کا حاصل یہ ہوا کہ رسول کریم ﷺ سے جو بھی کوئی قول وفعل ثابت ہے وہ سب قرآن ہی کے ارشادات ہیں بعض تو ظاہری طور پر کسی آیت کی تفیسر و توضیح ہوتے ہیں جن کو عام اہل علم جانتے ہیں اور بعض جگہ بظاہر قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا مگر رسول کریم ﷺ کے قلب مبارک میں بطور وحی اس کا القاع کیا جاتا ہے اور وہ بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی کے حکم میں ہوتا ہے کیونکہ حسب تصریح قرآنی آپ کی کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں ہوتی بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی ہے (آیت) وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کی تمام عبادات معاملات اخلاق عادات سب کی سب بوحی خداوندی اور بحکم قرآن ہیں اور جہاں کہیں آپ نے اپنے اجتہاد سے کوئی کام نہیں ہے تو بالاخر وحی الہی سے اس پر کوئی نکیر نہ کرنے سے اس کی تصحیح اور پھر تائید کردی جاتی ہے اس لئے وہ بھی بحکم وحی ہوجاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت نے رسول کریم ﷺ کا مقصد بعثت قرآن کریم کی تفسیر وبیان کو قرار دیا ہے جیسا کہ سورة جمعہ وغیرہ کی متعدد آیات میں تعلیم کتاب کے الفاظ سے اس مقصد بعثت کو ذکر کیا گیا ہے اب وہ ذخیرہ حدیث جس کو صحابہ وتابعین سے لے کر متاخرین محدثین تک امت کے باکمال افراد نے اپنی جانوں سے زیادہ حفاظت کر کے امت تک پہونچایا ہے اور اس کی چھان بین میں عمریں صرف کر کے روایات حدیث کے درجے قائم کر دئیے ہیں اور جس روایت کو بحیثیت سند اس درجہ کا نہیں پایا کہ اس پر احکام شرعیہ کی بنیاد رکھی جائے اس کو ذخیرہ حدیث سے الگ کر کے صرف ان روایات پر مستقل کتابیں لکھ دی ہیں جو عمر بھر کی تنقیدوں اور تحقیقات کے بعد صحیح اور قابل اعتماد ثابت ہوئی ہیں۔
اگر آج کوئی شخص اس ذخیرہ حدیث کو کسی حیلے بہانے سے ناقابل اعتماد کہتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اس حکم قرآنی کی خلاف ورزی کی کہ مضامین قرآن کو بیان نہیں کیا یا یہ کہ آپ نے تو بیان کیا تھا مگر وہ قائم و محفوظ نہیں رہا بہر دو صورت قرآن بحیثیت معنے کے محفوظ نہ رہا جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہے وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ اس کا یہ دعوی اس نص قرآن کے خلاف ہے اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص سنت رسول کو اسلام کی حجت ماننے سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت قرآن ہی کا منکر ہے نعوذباللہ۔
Ayahs 16:45–46خلاصہ تفسیر
جو لوگ (دین حق کے باطل کرنے کو) بری بری تدبیریں کرتے ہیں (کہ کہیں اس میں شبہات و اعتراض نکالتے ہیں اور حق کا انکار کرتے ہیں کہ ضلال ہے کہیں دوسروں کو روکتے ہیں کہ اضلال ہے) کیا ایسے لوگ (یہ کارروائیاں کفر کی کر کے) پھر بھی اس بات سے بےفکر (بیٹھے ہوئے) ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو (ان کے کفر کے وبال میں) زمین میں غرق کر دے یا ان پر ایسے موقع سے عذاب آ پڑے جہاں ان کو گمان بھی نہ ہو (جیسے جنگ بدر میں ایسے بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کو سزا ملی کہ کبھی ان کو اس کا احتمال عقلی بھی نہ ہوتا کہ یہ ہم پر غالب آسکیں گے) یا ان کو چلتے پھرتے (کسی آفت میں) پکڑ لے (جیسے کوئی مرض ہی دفعۃ آکھڑا ہو) سو (اگر ان امور میں سے کوئی امر ہوجائے تو) یہ لوگ خدا کو ہرا (بھی) نہیں سکتے یا ان کو گھٹاتے گھٹاتے پکڑے (جیسے قحط و وباء پڑے اور تدریجا خاتمہ ہوجائے یعنی نڈر ہونا نہیں چاہئے خدا کو سب قدرت ہے مگر مہلت جو دی رکھی ہے) سو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) تمہارا رب شفیق مہربان بڑا ہے (اس لئے مہلت دی ہے کہ اب بھی سمجھ جاؤ اور فلاح اور نجات کا طریق اختیار کرلو)
معارف و مسائل
اس سے پہلی آیات میں کفار کو عذاب آخرت سے ڈرایا گیا تھا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُخْــزِيْهِمْ ان آیات میں ان کو اس سے ڈرایا گیا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں بھی اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ جس زمین پر بیٹھے ہو اسی کے اندر دھنسا دئیے جاؤ یا اور کسی بےگمان راستہ سے اللہ کے عذاب میں پکڑے جاؤ جیسے غزوہ بدر میں ایک ہزار بہادر مسلح نوجوانوں کو چند بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھ سے ایسی سزا ملی جس کا ان کو کبھی وہم و گمان بھی نہ ہوسکتا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چلتے پھرتے کسی عذاب الہی میں پکڑے جاؤ کہ کوئی بیماری جان لیوا آکھڑی ہو یا کسی اونچی جگہ سے گر کر یا کسی سخت چیز سے ٹکرا کر ہلاک ہوجاؤ اور عذاب کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دفعۃ عذاب نہ آئے مگر مال اور صحت اور تندرستی اور اسباب راحت و سکون گھٹتے چلے جائیں اسی طرح گھٹاتے گھٹاتے اس قوم کا خاتمہ ہوجائے۔
لفظ تخوف جو اس آیت میں آیا ہے بظاہر خوف سے مشتق ہے اور بعض حضرات مفسرین نے اسی معنی کے اعتبار سے یہ تفسیر کی ہے کہ ایک جماعت کو عذاب میں پکڑا جائے تاکہ دوسری جماعت ڈر جائے اسی طرح دوسری جماعت کو عذاب میں پکڑا جائے جس سے تیسری جماعت ڈر جائے یوں ہی ڈراتے ڈراتے سب کا خاتمہ ہوجائے۔
مگر مفسر القرآن حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے یہاں لفظ تخوف کو تنقص کے معنی میں لیا ہے اور اسی معنی کے اعتبار سے ترجمہ گھٹاتے گھٹاتے کیا گیا ہے۔
حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کو بھی اس لفظ کے معنی میں تردد پیش آیا تو آپ نے برسر منبر صحابہ کو خطاب کرکے فرمایا کہ لفظ تخوف کے آپ کیا معنی سمجھتے ہیں ؟ عام مجمع خاموش رہا مگر قبیلہ ہذیل کے ایک شخص نے عرض کیا کہ امیر المؤ منین یہ ہمارے قبیلہ کا خاص لغت ہے ہمارے یہاں یہ لفظ تنقص کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی بتدریج گھٹانا فاروق اعظم نے سوال کیا کہ کیا عرب اپنے اشعار میں یہ لفظ تنقص کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ ہاں اور اپنے قبیلہ کے شاعر ابو کبیر ہذلی کا ایک شعر پیش کیا جس میں یہ لفظ بتدریج گھٹانے کے معنی میں لیا گیا تھا اس پر حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ لوگو تم اشعار جاہلیت کا علم حاصل کرو کیونکہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور تمہارے کلام کے معانی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
قرآن فہمی کے لئے معمولی عربی دانی کافی نہیں
اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ معمولی طور پر عربی زبان بولنے لکھنے کی قابلیت قرآن فہمی کے لئے کافی نہیں بلکہ اس میں اتنی مہارت اور واقفیت ضروری ہے جس سے قدیم عرب جاہلیت کے کلام کو پورا سمجھا جاسکے کیونکہ قرآن کریم اسی زبان اور انہی محاروات میں نازل ہوا ہے اس درجہ کا ادب عربی سیکھنا مسلمانوں پر لازم ہے۔
عربی ادب سیکھنے کے لئے شعراء جاہلیت کا کلام پڑھنا جائز ہے اگرچہ وہ خرافات پر مشتمل ہو
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے زمانہ جاہلیت کی عربی زبان اور اس کا لغت ومح اور ات سمجھنے کے لئے شعراء جاہلیت کا کلام پر ہنا پڑھاناجائز ہے اگرچہ یہ ظاہر ہے کہ شعراء جاہلیت کا کلام جاہلانہ رسموں اور خلاف اسلام جاہلانہ افعال و اعمال پر مشتمل ہوگا مگر قرآن فہمی کی ضرورت سے اس کا پڑھنا پڑھانا ناجائز قرار دیا گیا۔
Ayah 16:47دنیا کا عذاب بھی ایک طرح کی رحمت
آیات مذکورہ میں دنیا کے مختلف اقسام عذاب کا ذکر کرنے کے بعد خاتمہ آیات پر فرمایا فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ اس میں اول تو لفظ رب سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کی دنیا کے عذاب انسان کو متنبہ کرنے کے لئے شان ربوبیت کے تقاضے سے ہیں پھر لام تاکید کے ساتھ حق تعالیٰ کا مشفق و مہربان ہونا بتلا کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ دنیا کی تنبیہات درحقیقت شفقت و رحمت ہی کے داعیہ سے ہیں تاکہ غافل انسان متنبہ ہو کر اپنے اعمال کی اصلاح کرلے۔
Ayahs 16:48–57خلاصہ تفسیر
کیا (ان) لوگوں نے اللہ کی ان پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھا (اور دیکھ کر توحید پر استدلال نہیں کیا) جن کے سائے کبھی ایک طرف کو کبھی دوسری طرف کو اس طور پر جھکتے جاتے ہیں کہ (بالکل) خدا کے (حکم کے) تابع ہیں (یعنی سائے کے اسباب کہ آفتاب کی حرکت ہے پھر سایہ کے خواص یہ سب بحکم الہی ہے) اور وہ (سایہ دار) چیزیں بھی (اللہ کے رو برو) عاجز (اور تابع حکم) ہیں اور (جس طرح یہ اشیاء مذکورہ جن میں حرکت ارادیہ نہیں جیسا کہ یتفیئوا کی اسناد ظلال کی طرف اس کا قرینہ ہے کیونکہ متحرک بالارادہ میں سایہ کی حرکت خود اس متحرک بالا رادہ کی حرکت سے ہوتی ہے حکم خدا کے تابع ہیں اسی طرح) اللہ ہی کے مطیع (حکم ہیں) جتنی چیزیں (بالارادہ) چلنے والی آسمانوں میں (جیسے فرشتے) اور زمین میں (جیسے حیوانات) موجود ہیں اور (بالخصوص) فرشتے (بھی) اور وہ (فرشتے باوجود علو مکان و رفعت شان کے اطاعت خداوندی سے) تکبر نہیں کرتے (اور اسی لئے بالخصوص ان کا ذکر کیا گیا باوجودے کہ مافی السموت میں داخل تھے) وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ ان پر بالا دست ہے اور ان کو جو کچھ (خدا کی طرف سے) حکم کیا جاتا ہے وہ اس کو کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے (تمام مکلفین کو بواسطہ رسل کے) فرمایا ہے کہ دو (یا زیادہ) معبود مت بناؤ پس ایک معبود ہی ہے (اور جب یہ بات ہے) تو تم لوگ خاص مجھ ہی سے ڈرا کرو (کیونکہ جب الوہیت میرے ساتھ خاص ہے تو جو جو اس کے لوازم ہیں کمال قدرت وغیرہ وہ بھی میرے ہی ساتھ خاص ہوں گے تو انتقام وغیرہ کا خوف مجھ ہی سے چاہئے اور شرک انتقام کو مستدعی ہے پس شرک نہ کرنا چاہئے) اور اسی کی (ملک) ہیں سب چیزیں جو کچھ کہ آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور لازمی طور پر اطاعت بجا لانا اسی کا حق ہے (یعنی وہی اس امر کا مستحق ہے کہ سب اس کی اطاعت بجا لاویں جب یہ بات ثابت ہے) تو کیا پھر بھی اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو (اور ان سے ڈر کر ان کو پوجتے ہو) اور (جیسا ڈرنے کے قابل سوائے پاس جو کچھ (کسی قسم کی) بھی نعمت ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تم کو (ذرا) تکلیف پہنچتی ہے تو (اس کے رفع ہونے کے لئے) اسی (اللہ) سے فریاد کرتے ہو (اور کوئی بت وغیرہ اس وقت یاد نہیں آتا جس سے توحید کا حق ہونا اس وقت تمہارے اقرار حال سے بھی معلوم ہوجاتا ہے لیکن) پھر جب (اللہ تعالیٰ) تم سے اس تکلیف کو ہٹا دیتا ہے تو تم میں ایک جماعت (اور وہی بڑی جماعت ہے) اپنے رب کی ساتھ (بدستور سابق) شرک کرنے لگتی ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہماری دی ہوئی نعمت کی (کہ وہ تکلیف کا رفع کرنا ہے) ناشکری کرتے ہیں (جو کہ عقلا بھی قبیح ہے) خیر چند روزہ عیش اڑا لو (دیکھو) اب جلدی (مرتے ہی) تم کو خبر ہوئی جاتی ہے (اور ایک جماعت اس لئے کہا گیا کہ بعضے اس حالت کو یاد رکھ کر توحید و ایمان پر قائم ہوجاتے ہیں کقولہ تعالیٰ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ) اور (منجملہ ان کے شرک کے ایک یہ ہے کہ) یہ لوگ ہماری دی ہوئی چیزوں میں ان (معبودوں) کا حصہ لگاتے ہیں جن کے (معبود ہونے کے) متعلق ان کو کچھ علم (اور ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل وسند) نہیں (جیسا اس کی تفصیل پارہ ہشتم کے رکوع سوم آیت وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ الخ میں گذری ہے) قسم ہے خدا کی تم سے تمہاری ان افتراء پردازیوں کی (قیامت میں) ضرور باز پرس ہوگی (اور ایک شرک ان کا یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں سبحان اللہ (کیسی مہمل بات ہے) اور (اس پر یہ طرہ کہ) اپنے لئے چاہتی چیز (یعنی بیٹے پسند کرتے ہیں)
Ayah 16:58خلاصہ تفسیر
اور جب ان میں کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خبر دی جائے (جس کو اللہ کے لئے تجویز کرتے ہیں) تو (اس قدر ناراض ہو کہ) سارے دن اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے (اور) جس چیز کی اس کو خبر دی گئی ہے (یعنی تولد دختر) اس کی عار سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرے (اور دل میں اتار چڑھاؤ کرے کہ) آیا اس (مولود و جدید) کو ذلت (کی حالت) پر لئے رہے یا اس کو (زندہ یا مار کر) مٹی میں گاڑ دے خوب سن لو ان کی یہ تجویز بہت بری ہے (کہ اول تو خدا کے لئے ثابت کرنا یہی کس قدر بری بات ہے پھر اولاد بھی وہ جس کو خود اس قدر ذلیل وموجب عار سمجھیں پس) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری حالت ہے (دنیا میں بھی کہ ایسے جہل میں مبتلا ہیں اور آخرت میں بھی کہ مبتلائے عقوبت وذلت ہوں گے) اور اللہ تعالیٰ کے لئے تو بڑے اعلیٰ درجہ کے صفات ثابت ہیں (نہ وہ جو کہ یہ مشرکین بکتے ہیں) اور وہ بڑے زبردست ہیں (اگر ان کو دنیا میں شرک کی سزا دینا چاہیں تو کچھ مشکل نہیں لیکن ساتھ ہی) بڑی حکمت والے (بھی ہیں بمقتضائے حکمت بعد موت تک سزا کو مؤ خر فرما دیا ہے۔)
معارف و مسائل
ان آیتوں میں کفار عرب کی دو خصلتوں پر مذمت کی گئی ہے کہ اول تو وہ اپنے گھر میں لڑکی پیدا ہونے کو اتنا برا سمجھتے ہیں کہ شرمندگی کے سبب لوگوں سے چھپتے پھریں اور اس سوچ میں پڑجائیں کہ لڑکی پیدا ہونے سے جو میری ذلت ہوچکی ہے اس پر صبر کروں یا اس کو زندہ درگور کر کے پیچھا چھڑاؤں اور اس پر مزید جہالت یہ ہے کہ جس اولاد کو اپنے لئے پسند نہ کریں اللہ جل شانہ کی طرف اسی کو منسوب کریں کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیں
Ayah 16:59دوسری آیت کے آخر میں اَلَا سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ کا مفہوم تفسیر بحرمحیط میں بحوالہ ابن عطیہ یہی دونوں خصلتیں قرار دی ہیں کہ اول تو ان کو یہ فیصلہ ہی برا فیصلہ ہے کہ لڑکیوں کو ایک عذاب اور ذلت سمجھیں دوسرے پھر جس کو اپنے لئے ذلت سمجھیں اسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کریں۔
Ayah 16:60تیسری آیت کے آخیر میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ لڑکی پیدا ہونے کو مصیبت وذلت سمجھنا اور چھپتے پھرنا حکمت خداوندی کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ مخلوق میں نرو مادہ کی تخلیق عین قانون حکمت ہے (روح البیان)
مسئلہان آیتوں میں واضح اشارہ پایا گیا کہ گھر میں لڑکی پیدا ہونے کو مصیبت وذلت سمجھنا جائز نہیں یہ کفار کا فعل ہے تفسیر روح البیان میں بحوالہ شرعہ لکھا ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ لڑکی پیدا ہونے سے زیادہ خوشی کا اظہار کرے تاکہ اہل جاہلیت کے فعل پر رد ہوجائے اور ایک حدیث میں ہے وہ عورت مبارک ہوتی ہے جس کے پہلے پیٹ سے لڑکی پیدا ہو قرآن کریم کی آیت يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ الذُّكُوْرَ میں بھی اناث کو مقدم کرنے سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ پہلے پیٹ سے لڑکی پیدا ہونا افضل ہے۔
اور ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جس کو ان لڑکیوں میں سے کسی کے ساتھ سابقہ پڑے اور پھر وہ ان کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم کے درمیان پردہ بن کر حائل ہوجائیں گی (روح البیان)
خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کو برا سمجھنا بری رسم ہے مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے اور اس کے بالمقابل جو اللہ کا وعدہ ہے اس پر مطمئن اور مسرور ہونا چاہئے واللہ اعلم۔
Ayahs 16:61–65خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ (ظالم) لوگوں پر ان کے ظلم (یعنی شرک وکفر) کے سبب (فی الفور دنیا میں پوری) دارو گیر فرماتے تو سطح زمین پر کوئی (حس) و حرکت کرنے والا نہ چھوڑتے (بلکہ سب کو ہلاک کردیتے لیکن (فی الفور داروگیر نہیں فرماتے بلکہ) ایک میعاد معین تک مہلت دے رہے ہیں (تاکہ اگر کوئی توبہ کرنا چاہے تو گنجائش ہو) پھر جب ان کا (وہ) وقت معین (نزدیک) آپہنچے گا اس وقت ایک ساعت نہ (اس سے) پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے (بلکہ فورا سزا ہو جائیگی) اور اللہ تعالیٰ کے لئے وہ امور تجویز کرتے ہیں جن کو خود (اپنے لئے) ناپسند کرتے ہیں (جیسا اوپر آیا ہے (آیت) وَيَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ) اور (پھر) اس پر اپنی زبان سے جھوٹے دعوے کرتے جاتے ہیں کہ ان کے (یعنی ہمارے) لئے (برتقدیر وقوع قیامت) ہر طرح کی بھلائی ہے (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ بھلائی کہاں سے آئی تھی بلکہ) لازمی بات ہے کہ ان کے لئے (قیامت کے دن) دوزخ ہے اور بیشک وہ لوگ (دوزخ میں) سب سے پہلے بھیجے جائیں گے (اے محمد ﷺ آپ ان کے کفر و جہالت پر کچھ غم نہ کیجئے کیونکہ) بخدا آپ (کے زمانہ) سے پہلے جو امتیں ہو گذری ہیں ان کے پاس بھی ہم نے رسولوں کو بھیجا تھا (جیسا کہ آپ کو ان کے پاس بھیجا ہے) سو (جس طرح یہ لوگ اپنی کفریات کو پسند کرتے ہیں اور اس پر قائم ہیں اسی طرح) ان کو شیطان نے ان کے اعمال (کفریہ) مستحسن کر کے دکھلائے پس وہ (شیطان) آج (یعنی دنیا میں) ان کا رفیق ہے (یعنی رفیق تھا کہ ان کو بہکاتا سکھاتا تھا پس دنیا میں تو ان کو یہ خسارہ ہوا) اور (پھر قیامت میں) ان کے واسطے دردناک سزا (مقرر) ہے (غرض یہ لاحقین بھی ان سابقین کی طرح کفر کر رہے ہیں اور انہی کی طرح ان کو سزا بھی ہوگی آپ کیوں غم میں پڑے) اور ہم نے آپ پر یہ کتاب (جس کا نام قرآن ہے اس واسطے نازل نہیں کی کہ سب کا ہدایت پر لانا آپ کے ذمہ ہوتا کہ بعض کے ہدایت پر نہ آنے سے آپ مغموم ہوں بلکہ) صرف اس واسطے نازل کی ہے کہ جن امور (دین) میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں (مثل توحید ومعاد و احکام حلال و حرام) آپ (عام) لوگوں پر اس کو ظاہر فرما دیں (یہ فائدہ تو قرآن کا عام ہے) اور ایمان والوں کی ہدایت (خاصہ) اور رحمت کی غرض سے (نازل فرمایا ہے سو یہ امور بفضلہ تعالیٰ حاصل ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا (یعنی اس کی قوت نامیہ کو بعد اس کے خشک ہوجانے سے کمزور ہوگئی تھی تقویت دی) اس (امر مذکور) میں ایسے لوگوں کے لئے (توحید کی اور منعم ہونے کی) بڑی دلیل ہے جو (جی سے ان باتوں کو) سنتے ہیں
Ayah 16:66خلاصہ تفسیر
اور (نیز) تمہارے لئے مواشی میں بھی غور درکار ہے (دیکھو) ان کے پیٹ میں جو گوبر اور خون (کا مادہ) ہے اس کے درمیان میں سے (دودھ کا مادہ کہ ایک حصہ خون کا ہے بعد ہضم کے جدا کر کے تھن کے مزاج سے ان کا رنگ بدل کر اس کو) صاف اور گلے میں آسانی سے اترنے والا دودھ (بنا کر) ہم تم کو پینے کو دیتے ہیں ،
معارف و مسائل
بطونہ کی ضمیر انعام کی طرف راجع ہے لفظ انعام جمع مونث ہونے کا تقاضا یہ تھا کہ بطونہا کہا جاتا جیسا کہ سورة مؤمنین میں اسی طرح نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا فرمایا گیا ہے
قرطبی نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ سورة مؤ منون میں معنی جمع کی رعایت کر کے ضمیر مؤ نث لائی گئی اور سورة نحل میں لفظ جمع کی رعایت سے ضمیر مذکر استعمال ہوئی اور محاورات عرب میں اس کی نظیریں بیشمار ہیں کہ لفظ جمع کی طرف ضمیر مفرد راجع کی جاتی ہے۔
گوبر اور خون کے درمیان سے صاف دودھ نکالنے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ جانور جو گھاس کھاتا ہے جب وہ اس کے معدہ میں جمع ہوجاتا ہے تو معدہ اس کو پکاتا ہے معدہ کے اس عمل سے غذا کا فضلہ نیچے بیٹھ جاتا ہے اوپر دودھ ہوجاتا ہے اور اس کے اوپر خون پھر قدرت نے یہ کام جگر کے سپرد کیا ہے کہ ان تینوں قسموں کو الگ الگ ان کے مقامات میں تقسیم کردیتا ہے خون کو الگ کر کے رگوں میں منتقل کردیتا ہے اور دودھ کو الگ کر کے جانور کے تھنوں میں پہنچا دیتا ہے اور اب معدہ میں صرف فضلہ باقی رہ جاتا ہے جو گوبر کی صورت میں نکلتا ہے۔
مسئلہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ لذیذ اور شیرین کھانے کا استعمال زہد کے خلاف نہیں ہے جبکہ اس کو حلال طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ کی گئی ہو حضرت حسن بصری نے ایسا ہی فرمایا ہے (قرطبی
مسئلہرسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کوئی کھانا کھاؤ تو یہ کہو اللہم بارک لنا فیہ واطعمنا خیرا منہ (یعنی یا اللہ اس میں ہمارے لئے برکت عطا فرما اور آئندہ اس سے اچھا کھانا نصیب فرما) اور فرمایا کہ جب دودھ پیو تو یہ کہو اللہم بارک لنا فیہ وزدنا منہ (یعنی یا اللہ ہمارے لئے اس میں برکت دیجئے اور زیادہ عطا فرمائیے) اس سے بہتر سوال اس لئے نہیں کیا کہ انسانی غذا میں دودھ سے بہتر کوئی دوسری غذا نہیں ہے اسی لئے قدرت نے ہر انسان وحیوان کی پہلی غذا دودھ ہی بنائی ہے جو ماں کی چھاتیوں سے اسے ملتی ہے (قرطبی)
Ayah 16:67خلاصہ تفسیر
اور (نیز) کھجور اور انگوروں (کی حالت میں غور کرنا چاہئے کہ ان) کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز اور عمدہ کھانے کی چیزیں (جیسے خرمائے خشک وکشمش اور شربت اور سرکہ) بناتے ہو بیشک اس میں (بھی توحید اور منعم ہونے کی) ان لوگوں کے لئے بڑی دلیل ہے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں حق تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر تھا جو انسانی غذائیں پیدا کرنے میں عجیب و غریب صنعت وقدرت کا مظہر ہیں اس میں پہلے دودھ کا ذکر کیا جس کو قدرت نے حیوان کے پیٹ میں خون اور فضلہ کی آلائشوں سے الگ کر کے صاف ستہری غذاء انسان کے لئے عطاء کردی جس میں انسان کو کسی مزید صنعت کی ضرورت نہیں اسی لئے یہاں لفظ نُسْقِيْكُمْ استعمال فرمایا کہ ہم نے پلایا دودھ۔
اس کے بعد فرمایا کہ کھجور اور انگور کے کچھ پھلوں میں سے بھی انسان اپنی غذا اور نفع کی چیزیں بناتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کھجور اور انگور کے پھلوں سے اپنی غذاء اور منفعت کی چیزیں بنائی گئیں ایک نشہ آور چیز جس کو خمر یا شراب کہا جاتا ہے دوسری رزق حسن یعنی عمدہ رزق کہ کھجور اور انگور کو تروتازہ کھانے میں استعمال کریں یا خشک کر کے ذخیرہ کرلیں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے کھجور اور انگور کے پھل انسان کو دیدئیے اور اس سے اپنی غذا وغیرہ بنانے کا اختیار بھی دے دیا اب یہ اس کا انتخاب ہے کہ اس سے کیا بنائے نشہ آور چیز بنا کر عقل کو خراب کرے یا غذا بنا کر قوت حاصل کرے۔
اس تفسیر کے مطابق اس آیت سے نشہ آور چیز یعنی شراب کے حلال ہونے پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں مقصود قدرت کے عطیات اور ان کے استعمال کی مختلف صورتوں کا بیان ہے جو ہر حال میں نعمت خداوندی ہے جیسے تمام غذائیں اور انسانی منفعت کی چیزیں کہ ان کو بہت سے لوگ ناجائز طریقوں پر بھی استعمال کرتے ہیں مگر کسی کے غلط استعمال سے اصل نعمت تو نعمت ہونے سے نہیں نکل جاتی اس لئے یہاں یہ تفصیل بتلانے کی ضرورت نہیں کہ ان میں کون سا استعمال حلال ہے کون سا حرام تاہم ایک لطیف اشارہ اس میں بھی اس طرف کردیا گیا کہ سکر کے مقابل رزق حسن رکھا جس سے معلوم ہوا کہ سکر اچھا رزق نہیں ہے سکر کے معنی جمہور مفسرین کے نزدیک نشہ آور چیز کے ہیں (روح المعانی قرطبی جصاص)
یہ آیات باتفاق امت مکی ہیں اور شراب کی حرمت اس کے بعد مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی نزول آیت کے وقت اگرچہ شراب حلال تھی اور مسلمان عام طور پر پیتے تھے مگر اس وقت بھی اس آیت میں اشارہ اس طرف کردیا گیا کہ اس کا پینا اچھا نہیں بعد میں صراحۃ شراب کو شدت کے ساتھ حرام کرنے کے لئے قرآنی احکام نازل ہوگئے (ہذا ملخص مافی الجصاص والقرطبی)