16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 16:84–88

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا پھر حکم نہ ملے منکروں کو اور نہ ان سے توبہ لی جائے

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب دیکھیں گے ظالم عذاب کو پھر ہلکا نہ ہوگا ان سے اور نہ ان کو ڈھیل ملے ،

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب دیکھیں مشرک اپنے شریکوں کو بولیں اے رب یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم پکارتے تھے تیرے سوا تب وہ ان پر ڈالیں گے بات کہ تم جھوٹے ہو ،

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور آپڑیں اللہ کے آگے اس دن عاجز ہو کر اور بھول جائیں جو جھوٹ باندھتے تھے

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے ہیں اور روکتے رہے ہیں اللہ کی راہ سے ان کو ہم بڑھا دیں گے عذاب پر عذاب بدلہ اس کا جو شرارت کرتے تھے

خلاصہ تفسیر اور (وہ دن یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (کہ اس امت کا پیغمبر ہوگا) قائم کریں گے (جو ان کے اعمال سیہ کی شہادت دیں گے) پھر ان کافروں کو (عذر و معذرت کرنے کی) اجازت نہ دی جائے گی اور نہ ان سے حق تعالیٰ کے راضی کرنے کی فرمائش کی جائے گی (یعنی ان سے یوں نہ کہا جائے گا کہ تم توبہ یا کوئی عمل کر کے اللہ کو خوش کرلو، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آخرت دارالجزاء ہے دارالعمل نہیں) اور جب ظالم (یعنی کافر) لوگ عذاب کو دیکھیں گے (یعنی اس میں پڑیں گے) تو وہ عذاب نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ (اس میں) کچھ مہلت دئیے جائیں گے (کہ چند روز کے بعد وہ عذاب جاری کیا جائے) اور جب مشرک لوگ اپنے شریکوں کو (جن کو خدا کے سوا پوجتے تھے) دیکھیں گے تو (بطور اقرار جرم کے) کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار وہ ہمارے شریک یہی ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کرتے تھے سو وہ (شرکاء ڈریں گے کہ کہیں ہماری کم بختی نہ آجائے اس لئے) وہ ان کی طرف کلام کو متوجہ کریں گے کہ تم جھوٹے ہو (اصل مطلب ان کا یہ ہوگا کہ ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں جس سے مقصود اپنی حفاظت ہے اب خواہ یہ مطلب ان کا صحیح ہو جیسا اگر مقبولین مثل ملائکہ وانبیاء (علیہم السلام) کے یہ بات کہیں تو صحیح ہے کقولہ تعالیٰ (آیت) بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اور خواہ یہ غلط ہو جیسے خود شیاطین کہنے لگیں اور خواہ ان کو صحیح غلط ہونے کی خبر ہی نہ ہو جیسے اصنام واشجار وغیرہ کہنے لگیں) اور یہ مشرک اور کافر لوگ اس روز اللہ تعالیٰ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ (دنیا میں) افتراء پر دازیاں کرتے تھے (اس وقت) وہ سب گم ہوجائیں گے (اور ان میں) جو لوگ (خود بھی) کفر کرتے تھے (اور دوسروں کو بھی) اللہ کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے ان کے لئے ہم ایک سزا پر (کہ کفر کے مقابلہ میں ہوگی) دوسری سزا بمقابلہ ان کے فساد کے (کہ راہ خدا سے روکتے تھے) بڑھا دیں گے، اور (وہ دن میں بھی یاد کرنے اور لوگوں کے ڈرنے کا ہے) جس دن ہم ہر ہر امت کے ایک ایک گواہ جو انہی میں سے ہوگا ان کے مقابلہ میں قائم کریں گے (مراد اس امت کا نبی ہے اور انہی میں کا ہونا عام ہے خواہ باعتبار شرکت نسب کے ہو خواہ باعتبار شرکت سکنی کے ہو) اور ان لوگوں کے مقابلہ میں آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے (اور اس اخبار شہادت سے جو آپ کی رسالت کا اخبار مفہوم ہوتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ) ہم نے آپ پر قرآن اتارا ہے جو (علاوہ معجز ہونے کے جو کہ مدار ہے اثبات رسالت کا ان خوبیوں کا جامع ہے) کہ تمام (دین کی) باتوں کا (بواسطہ یا بلاواسطہ عامۃ الناس کے لئے) بیان کرنے والا ہے اور (خاص) مسلمانوں کے واسطے بڑی ہدایت اور بڑی رحمت اور (ایمان پر) خوشخبری سنانے والا ہے۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا ان پر انہی میں کا اور تجھ کو لائیں بتلانے کو ان لوگوں پر، اور اتاری ہم نے تجھ پر کتاب کھلا بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری حکم ماننے والوں کے لئے

معارف و مسائل (آیت) وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ اس میں کتاب یعنی قرآن کو ہر چیز کا بیان فرمایا گیا ہے مراد اس سے دین کی سب چیزیں اور باتیں ہیں کیونکہ وحی ونبوت کا مقصد انہی چیزوں سے متعلق ہے اس لئے معاشی فنون اور ان کے مسائل کو قرآن میں ڈھونڈھنا ہی غلط ہے اگر کہیں کوئی ضمنی اشارہ آجائے تو وہ اس کے منافی نہیں رہا یہ سوال کہ قرآن کریم میں دین کے بھی تو سب مسائل مذرکور نہیں تو تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ کہنا کیسے درست ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اصول تو تمام مسائل کے موجود ہیں انہی کی روشنی میں احادیث رسول کریم ﷺ ان مسائل کا بیان کرتی ہیں اور کچھ تفصیلات کو اجماع و قیاس شرعی کے سپرد کردیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ احادیث رسول کریم ﷺ اور اجماع و قیاس سے جو مسائل نکلے ہیں وہ بھی ایک حیثیت سے قرآن ہی کے بیان کئے ہوئے ہیں۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا اور منع کرتا ہے بےحیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے اور تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ (قرآن میں) اعتدال اور احسان اور اہل قرابت کو دینے کا حکم فرماتے ہیں اور کھلی برائی اور مطلق برائی اور (کسی پر) ظلم (اور زیادتی) کرنے سے منع فرماتے ہیں (اور مامورات ومنہیات مذکورہ میں تمام اعمال صالحہ اور سیہ آگئے اس جامعیت کی وجہ سے قرآن کا تبیان ہونا صاف ظاہر ہے اور) اللہ تعالیٰ تم کو (امور مذکورہ کی) اس لئے نصیحت فرماتے ہیں کہ تم نصیحت قبول کرو (اور عمل کرو کیونکہ ہدی اور رحمت اور بشری ہونا اسی پر موقوف ہے) معارف و مسائل یہ آیت قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے جس میں پوری اسلامی تعلیمات کو چند الفاظ میں سمو دیا گیا ہے اسی لئے سلف صالحین کے عہد مبارک سے آج تک دستور چلا آرہا ہے کہ جمعہ وعیدین کے خطبوں کے آخر میں یہ آیت تلاوت کی جاتی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی جامع ترین آیت سورة نحل میں یہ ہے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ الخ (ابن کثیر) اور حضرت اکثم بن صفی تو اسی آیت کی بناء پر اسلام میں داخل ہوئے امام ابن کثیر نے حافظ حدیث ابو یعلی کی کتاب معرفۃ الصحابہ میں سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ اکثم بن صیفی اپنی قوم کے سردار تھے جب ان کو رسول کریم ﷺ کے دعوائے نبوت اور اشاعت اسلام کی خبر ملی تو ارادہ کیا کہ آنحضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں مگر قوم کے لوگوں نے کہا کہ آپ ہم سب کے بڑے ہیں آپ کا خود جانا مناسب نہیں اکثم نے کہا کہ اچھا تو قبیلہ کے دو آدمی منتخب کرو جو وہاں جائیں اور حالات کا جائزہ لے کر مجھے بتلائیں یہ دونوں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم اکثم بن صیفی کی طرف سے دو باتیں دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں اکثم کے دو سوال یہ ہیں۔ من انت وماانت۔ آپ کون ہیں اور کیا ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اس کے بعد آپ نے سورة نحل کی یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان الایۃ ان دونوں قاصدوں نے درخواست کی کہ یہ جملے ہمیں پھر سنائیے آپ اس آیت کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ ان قاصدوں کو آیت یاد ہوگئی قاصد واپس اکثم بن صیفی کے پاس آئے اور بتلایا کہ ہم نے پہلے سوال میں یہ چاہا تھا کہ آپ کا نسب معلوم کریں مگر آپ نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی صرف باپ کا نام بیان کردینے پر اکتفاء کیا مگر جب ہم نے دوسروں سے آپ کے نسب کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ بڑے عالی نسب شریف ہیں اور پھر بتلایا کہ حضرت محمد ﷺ نے ہمیں کچھ کلمات بھی سنائے تھے وہ ہم بیان کرتے ہیں۔ ان قاصدوں نے آیت مذکورہ اکثم بن صیفی کو سنائی آیت سنتے ہی اکثم نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکارم اخلاق کی ہدایت کرتے ہیں اور برے اور رذیل اخلاق سے روکتے ہیں تم سب ان کے دین میں جلد داخل ہوجاؤ تاکہ تم دوسرے لوگوں سے مقدم اور آگے رہو پیچھے تابع بن کر نہ رہو (ابن کثیر) اسی طرح حضرت عثمان بن مظعون ؓ فرماتے ہیں کہ شروع میں میں نے لوگوں کے کہنے سننے سے شرما شرمی اسلام قبول کرلیا تھا مگر میرے دل میں اسلام راسخ نہیں تھا یہاں تک کہ ایک روز میں آنحضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اچانک آپ پر نزول وحی کے آثار ظاہر ہوئے اور بعض عجیب حالات کے بعد آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قاصد میرے پاس آیا اور یہ آیت مجھ پر نازل ہوئی حضرت عثمان بن مظعون فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کو دیکھ کر اور آیت سن کر میرے دل میں ایمان مظبوط اور مستحکم ہوا اور رسول کریم ﷺ کی محبت میرے دل میں گھر کرگئی (ابن کثیر نے یہ واقعہ نقل کر کے فرمایا کہ اسناد اس کی جید ہے) اور جب رسول کریم ﷺ نے یہ آیت ولید بن مغیرہ کے سامنے تلاوت فرمائی تو اس کا تاثر یہ تھا جو اس نے اپنی قوم قریش کے سامنے بیان کیا۔ واللہ ان لہ لحلاوۃ وان علیہ لطلاوۃ وان اصلہ لمورق واعلاہ لثمروما ہو بقول بشرخدا کی قسم اس میں ایک خاص حلاوت ہے اور اس کے اوپر ایک خاص رونق اور نور ہے اس کی جڑ سے شاخیں اور پتے نکلنے والے ہیں اور شاخوں پر پھل لگنے والا ہے یہ کسی انسان کا کلام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ تین چیزوں کا حکم اور تین چیزوں کی ممانعت اس آیت میں حق تعالیٰ نے تین چیزوں کا حکم دیا ہے عدل احسان اور اہل قرابت کو بخشش اور تین چیزوں سے منع فرمایا ہے فحش کام اور ہر برا کام اور ظلم وتعدی ان چھ الفاظ کی شریع مفہوم اور اس کے حدود کی تشریح یہ ہے۔ عدلاس لفظ کے اصلی اور لغوی معنی برابر کرنے ہیں اسی کی مناسبت سے حکام کا لوگوں کے نزاعی مقدمات میں انصاف کے ساتھ فیصلہ عدل کہلاتا ہے قرآن کریم میں اَنْ تَحْكُمُوْا بالْعَدْلِ اسی معنی کے لئے آیا ہے اور اسی لحاظ سے لفظ عدل افراط تفریط کے درمیان اعتدال کو بھی کہا جاتا ہے اور اسی کی مناسبت سے بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ لفظ عدل کی تفسیر ظاہر و باطن کی برابری سے کی ہے یعنی جو قول یا فعل انسان کے ظاہری اعضاء سے سرزد ہو اور باطن میں بھی اس کا وہی اعتقاد اور حال ہو اور اصل حقیقت یہی ہے کہ یہاں لفظ عدل اپنے عام معنی میں ہے جو ان سب صورتوں کو شامل ہے جو مختلف ائمہ تفسیر سے منقول ہیں ان میں کوئی تضاد یا اختلاف نہیں اور ابن عربی نے فرمایا کہ لفظ عدل کے اصلی معنی برابری کرنے ہیں پھر مختلف نسبتوں سے اس کا مفہوم مختلف ہوجاتا ہے مثلا ایک مفہوم عدل کا یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنے رب کے درمیان عدل کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے حظ نفس پر اور اس کی رضا جوئی کو اپنی خواہشات پر مقدم جانے اور اس کے احکام کی تعمیل اور اس کی ممنوعات ومحرمات سے مکمل اجتناب کرے۔ دوسرا عدل یہ ہے کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ عدل کا معاملہ کرے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے بچائے جس میں اس کی جسمانی یا روحانی ہلاکت ہو اس کی ایسی خواہشات کو پورا نہ کرے جو اس کے لئے انجام کار مضر ہوں اور قناعت وصبر سے کام لے نفس پر بلاوجہ زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ تیسرا عدل اپنے نفس اور تمام مخلوقات کے درمیان ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے ساتھ خیرخواہی اور ہمدردی کا معاملہ کرے اور کسی ادنی اعلیٰ معاملہ میں کسی سے خیانت نہ کرے سب لوگوں کے لئے اپنے نفس سے انصاف کا مطالبہ کرے کسی انسان کو اس کے کسی قول وفعل سے ظاہرا یا باطنا کوئی ایذاء اور تکلیف نہ پہونچے، اسی طرح ایک عدل یہ ہے کہ جب دو فریق اپنے کسی معاملہ کا محاکمہ اس کے پاس لائیں تو فیصلہ میں کسی کی طرف میلان کے بغیر حق کے مطابق فیصلہ کرے اور ایک عدل یہ بھی ہے کہ ہر معاملہ میں افراط وتفریط کی راہوں کو چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرے ابو عبداللہ رازی نے یہی معنی اختیار کر کے فرمایا ہے کہ عدل میں عقیدہ کا اعتدال، عمل کا اعتدال، اخلاق کا اعتدال سب شامل ہیں (بحرمحیط) امام قرطبی نے عدل کے مفہوم میں اس تفصیل کا ذکر کر کے فرمایا کہ یہ تفصیل بہت بہتر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس آیت کا صرف لفظ عدل تمام اعمال و اخلاق حسنہ کی پابندی اور برے اعمال و اخلاق سے اجتناب کو حاوی اور جامع ہے۔ الاحساناس کے اصل لغوی معنی اچھا کرنے کے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک یہ فعل یا خلق و عادت کو اپنی ذات میں اچھا اور مکمل کرے دوسرے یہ کہ کسی دوسری شخص کے ساتھ اچھا سلوک اور عمدہ معاملہ کرے اور دوسرے معنی کے لئے عربی زبان میں لفظ احسان کے ساتھ حرف الی استعمال ہوتا ہے جیسا ایک آیت میں (آیت) وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ فرمایا ہے امام قرطبی نے فرمایا کہ آیت میں یہ لفظ اپنے عام مفہوم کے لئے مستعمل ہوا ہے اس لئے احسان کی دونوں قسموں کو شامل ہے پھر پہلی قسم کا احسان یعنی کسی کام کو اپنی ذات میں اچھا کرنا یہ بھی عام ہے عبادات کو اچھا کرنا اعمال و اخلاق کو اچھا کرنا معاملات کو اچھا کرنا۔ حضرت جبرائیل کی مشہور حدیث میں خود آنحضرت محمد ﷺ نے احسان کے جو معنی بیان فرمائے ہیں وہ احسان عبادت کے لئے ہے اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اور اگر استحضار کا یہ درجہ نصیب نہ ہو تو اتنی بات کا یقین تو ہر شخص کو ہونا ہی چاہئے کہ حق تعالیٰ اس کے عمل کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ تو اسلامی عقیدہ کا اہم جز ہے کہ حق تعالیٰ کے علم وبصر سے کائنات کا کوئی ذرہ خارج نہیں رہ سکتا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرا حکم اس آیت میں احسان کا آیا ہے اس میں عبادت کا احسان حدیث کی تشریح کے مطابق بھی داخل ہے اور تمام اعمال اخلاق عادات کا احسان یعنی ان کو مطلوبہ صورت کے مطابق بالکل صحیح و درست کرنا بھی داخل ہے اور تمام مخلوقات کیساتھ اچھا سلوک کرنا بھی داخل ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر انسان ہوں یا حیوان۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ جس شخص کے گھر میں اس کی بلی کو اس کی خوراک اور ضروریات نہ ملیں اور جس کے پنجرے میں بند پرندوں کی پوری خبر گیری نہ ہوتی ہو وہ کتنی ہی عبادت کرے محسنین میں شمار نہیں ہوگا۔ اس آیت میں اول عدل کا حکم دیا گیا پھر احسان کا بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ عدل تو یہ ہے کہ دوسرے کا حق پورا پورا اس کو دیدے اور اپنا وصول کرلے نہ کم نہ زیادہ اور کوئی تکلیف تمہیں پہنچائے تو ٹھیک اتنی ہی تکلیف تم اس کو پہنچاؤ نہ کم نہ زیادہ اور احسان یہ ہے کہ دوسرے کو اس کے اصل حق سے زیادہ دو اور خود اپنے حق میں چشم پوشی سے کام لو کہ کچھ کم ہوجائے تو بخوشی قبول کرلو اسی طرح دوسرا کوئی تمہیں ہاتھ یا زبان سے ایذاء پہونچائے تو تم برابر کا انتقام لینے کے بجائے اس کو معاف کردو بلکہ برائی کا بدلہ بھلائی سے دو اسی طرح عدل کا حکم تو فرض و واجب کے درجہ میں ہوا اور احسان کا حکم نفلی اور تبرع کے طور پر ہوا۔ اِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى تیسرا حکم جو اس آیت میں دیا گیا ہے وہ اِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى ہے ایتاء کے معنی اعطاء یعنی کوئی چیز دینے کے ہیں اور لفظ قربی کے معنی قرابت اور رشتہ داری کے ہیں ذی القربی کے معنی رشتہ دار ذی رحم ایتاء ذی القربی کے معنی ہوئے رشتہ دار کو کچھ دینا یہاں اس کی تصریح نہیں فرمائی کہ کیا چیز دینا لیکن ایک دوسری آیت میں اس کا مفعول مذکور ہے وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى یعنی دو رشتہ دار کو اس کا حق ظاہر یہی ہے کہ یہاں بھی یہی مفعول مراد ہے کہ رشتہ دار کو اس کا حق دیا جائے اس حق میں رشتہ دار کو مال دے کر مالی خدمت کرنا بھی داخل ہے اور جسمانی خدمت بھی بیمار پرسی اور خبر گیری بھی زبانی تسلی و ہمدردی کا اظہار بھی اور اگرچہ لفظ احسان میں رشتہ داروں کا حق ادا کرنا بھی داخل تھا مگر اس کو اس کی زیادہ اہمیت بتلانے کے لئے علیحدہ بیان فرمایا گیا۔ یہ تین حکم ایجابی تھے آگے تین ممانعت و حرمت کے احکام ہیں۔ وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ یعنی اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے فحشاء اور منکر اور بغی سے فحشاء ہر ایسے برے فعل یا قول کو کہا جاتا ہے جس کی برائی کھلی ہوئی اور واضح ہو ہر شخص اس کو برا سمجھے اور منکر وہ قول و فعل ہے جس کے حرام و ناجائز ہونے پر اہل شرع کا اتفاق ہو اس لئے اجتہادی اختلافات میں کسی جانب کو منکر نہیں کہا جاسکتا اور لفظ منکر میں تمام گناہ ظاہری اور باطنی عملی اور اخلاقی سب داخل ہیں اور بغی کے اصل معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں مراد اس سے ظلم وعدوان ہے یہاں اگرچہ لفظ منکر کے مفہوم میں فحشاء بھی داخل ہے اور بغی بھی لیکن فحشاء کو اس کی انتہائی برائی اور شناعت کی وجہ سے الگ کرکے بیان فرمایا اور مقدم کیا اور بغی کو اس لئے الگ بیان کیا کہ اس کا اثر دوسروں تک متعدی ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ تعدی باہمی جنگ وجدل تک یا اس سے یہی آگے عالمی فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ظلم کے سوا کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا بدلہ اور عذاب جلد دیا جاتا ہو اس سے معلوم ہوا کہ ظلم پر آخرت کا عذاب شدید تو ہونا ہی ہے اس سے پہلے دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ظالم کو سزا دیدیتے ہیں اگرچہ وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ فلاں ظلم کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مظلوم کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اس آیت نے جو چھ حکم ایجابی اور تحریمی دیئے ہیں اگر غور کیا جائے تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی مکمل فلاح کا نسخہ اکسیر ہیں رزقنا اللہ تعالیٰ اتباعہ۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

خلاصہ تفسیر ایفاء عہد کا حکم اور عہد شکنی کی مذمت اور تم اللہ کے عہد کو (یعنی جس عہد کے پورا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو) پورا کرو (اس سے وہ نکل گیا جو خلاف شرع عہد ہو اور باقی سب عہود مشروعہ خواہ متعلق حقوق اللہ کے ہوں یا متعلق حقوق العباد کے ہوں اس میں داخل ہوگئے) جبکہ تم اس کو (تخصیصا یا تعمیما) اپنے ذمہ کرلو (تخصیصا یہ کہ صراحۃ کسی کام کا ذمہ لے لیا اور تعمیما یہ کہ ایمان لائے تو تمام احکام واجبہ کی ذمہ داری اس کے ضمن میں آگئی) اور (بالخصوص جن عہود میں قسم بھی کھائی ہو وہ زیادہ قابل اہتمام ہیں سو ان میں) قسموں کو بعد ان کے مستحکم کرنے کے (یعنی اللہ کا نام لے کر قسم کھانے کے) مت توڑو اور تم (ان قسموں کی وجہ سے ان عہود میں) اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنا چکے ہو (یہ قیدیں بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا اور قَدْ جَعَلْتُمُ قید واقعی ہیں وفاء عہد پر تنبیہ کے لئے تصریح کی گئی) بیشک اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے جو کچھ تم کرتے ہو (خواہ وفاء یا عہد شکنی پس اسی کے موافق تم کو جزاء وسزا دے گا) اور تم (نقض عہد کر کے) اس (مکہ میں رہنے والی پاگل) عورت کے مشابہ مت بنو جس نے اپنا سوت کا تے پیچھے بوٹی بوٹی کرکے نوچ ڈالا کہ (اس کی طرح) تم (بھی) اپنی قسموں کو (بعد درستی کے توڑ کر ان کو) آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ بنانے لگو (کیونکہ قسم وعہد توڑنے سے موافقین کو بےاعتباری اور مخالفین کو برانگیختگی پیدا ہوتی ہے اور یہ اصل ہے فساد کی اور توڑنا بھی محض اس وجہ سے کہ) ایک گروہ دوسرے گروہ سے (کثرت یا ثروت میں) بڑھ جائے (یعنی مثلا کفار کے دو گروہوں میں باہم مخالفت ہو اور تمہاری ایک سے صلح ہوجائے پھر دوسری طرف پلہ جھکتا ہوا دیکھ کر جس گروہ سے صلح کی تھی اس سے غدر کر کے دوسرے گروہ سے سازش کرلے یا مثلا کوئی مسلمان ہو کر مسلمانوں میں شامل ہو اور پھر کافروں کی طرف زور دیکھا تو عہد اسلام کو توڑ کر مرتد ہوجائے اور یہ جو ایک گروہ دوسرے سے بڑھا ہوا ہوتا ہے یا دوسری کسی جماعت کے شامل ہوجانے سے بڑھ جاتا ہے تو) بس اس (زائد ہونے) سے اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے (کہ دیکھیں وفاء عہد کرتے ہو یا جھکتا پلہ دیکھ کر ادھر ڈھل جاتے ہو) اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے رہے (اور مختلف راہیں چلتے رہے) قیامت کے دن ان سب (کی حقیقت) کو تمہارے سامنے (عملا) ظاہر کر دے گا (کہ حق والوں جزاء اور باطل والوں کو سزا ہوجائے گی آگے اس اختلاف کی حکمت بطور جملہ معترضہ کے اجمالا بیان فرماتے ہیں) اور (ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی قدرت تھی کہ اختلاف نہ ہونے دیتے چنانچہ) اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا لیکن) بمتقضائے حکمت جس کی تفصیل و تعیین یہاں ضروری نہیں) جس کو چاہتے ہیں بےراہ کردیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں راہ پر ڈال دیتے ہیں (چنانچہ منجملہ ہدایت کے وفائے عہد اور منجملہ ضلالت کے نقض عہد بھی ہے) اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جیسے دنیا میں گمراہوں کو پوری سزا نہیں ہوتی ایسے ہی آخرت میں مطلق العنان رہیں گے ہرگز نہیں بلکہ قیامت میں) تم سے تمہارے سب اعمال کی ضرور باز پرس ہوگی اور (جیسا نقض عہد و قسم سے محسوس ضرر ہوتا ہے جس کا اوپر بیان تھا اسی طرح اس سے معنوی ضرر بھی ہوتا ہے آگے اسی کا ذکر ہے یعنی) تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد ڈالنے کا ذریعہ مت بناؤ (یعنی قسموں اور عہدوں کو مت توڑو کبھی اس کو دیکھ کر کسی اور کا قدم جمنے کے بعد نہ پھسل جائے یعنی دوسرے بھی تمہاری تقلید کریں اور عہد شکنی کرنے لگیں) پھر تم کو اس سبب سے کہ تم (دوسروں کے لئے) راہ خدا سے مانع ہوئے تکلیف بھگتنا پڑے (کیونکہ وفاء عہد راہ خدا ہے تم اس کے توڑنے کے سبب بن گئے اور یہی ہے وہ معنوی ضرر کہ دوسروں کو بھی عہد شکن بنایا اور تکلیف یہ ہوگی کہ اس حالت میں) تم کو بڑا عذاب ہوگا اور (جس طرح گروہ غالب میں شامل ہو کر جاہ حاصل کرنے غرض سے نقضح عہد ممنوع ہے جس کا اوپر ذکر ہوا اسی طرح تحصیل مال کی غرض سے جو عہد توڑا ہو اس کی ممانعت فرماتے ہیں کہ) اور تم لوگ عہد خداوندی کے عوض میں (دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ مت حاصل کرو (عہد خداوندی کے معنی تو شروع آیت میں معلوم ہوئے اور ثمن قلیل سے مراد دنیا ہے کہ باوجود کثیر ہونے کے بھی قلیل ہی ہے اس کی حقیقت اس طرح بیان فرمائی کہ) پس اللہ کے پاس جو چیز ہے (یعنی ذخیرہ آخرت) وہ تمہارے لئے (متاع دنیوی سے) بدرجہا بہتر ہے اگر تم سمجھنا چاہو (پس متاع آخرت کثیر ہوئی اور متاع دنیوی خواہ کتنی بھی قلیل ہوئی) اور (علاوہ تفاوت قلیل و کثیر کے دوسرا تفاوت یہ بھی ہے کہ) جو کچھ تمہارے پاس (دنیا میں) ہے وہ (ایک روز) ختم ہوجائے گا خواہ زوال سے یا موت سے) اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ دائم رہے گا اور جو لوگ (وفائے عہد وغیرہ احکام دین پر) ثابت قدم ہیں ہم ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ان کا اجر (یعنی نعمت باقیہ مذکورہ) ان کو ضرور دیں گے (پس وفائے عہد کر کے دولت کثیرہ غیر فانیہ کو حاصل کرو اور قلیل فانی کے لئے نقض عہد مت کرو) معارف و مسائل عہد شکنی حرام ہے لفظ عہد ان تمام معاملات ومعاہدات کو شامل ہے جن کا زبان سے التزام کیا جائے یعنی اس کی ذمہ داری لی جائے خواہ اس پر قسم کھائے یا نہ کھائے خواہ وہ کسی کام کے کرنے سے متعلق ہو یا نہ کرنے سے۔ اور یہ آیات درحقیقت آیت سابقہ کی تشریح و تکمیل ہیں آیت سابقہ میں عدل و احسان کا حکم تھا لفظ عدل کے مفہوم میں ایفاء عہد بھی داخل ہے (قرطبی) کسی سے عہد معاہدہ کرنے کے بعد عہد شکنی کرنا بڑا گناہ ہے مگر اس کے توڑنے پر کوئی کفارہ مقرر نہیں بلکہ آخرت کا عذاب ہے حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے روز عہد شکنی کرنے والے کی پشت پر ایک جھنڈا نصب کردیا جائے گا جو میدان حشر میں اس کی رسوائی کا سبب بنے گا، اسی طرح جس کام کی قسم کھائی اس کے خلاف کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے آخرت میں وبال عظیم ہے اور دنیا میں بھی اس کی خاص صورتوں میں کفارہ لازم ہوتا ہے (قرطبی)
Ayahs 16:92–93

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور مت رہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا ہوا محنت کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس سے اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی فرقہ کردیتا لیکن راہ بھلاتا ہے جس کو چاہے اور سمجھاتا ہے جس کو چاہے، اور تم سے پوچھ ہوگی جو کام تم کرتے تھے ،

(آیت) اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جس جماعت سے تمہارا معاہدہ ہوجائے اس معاہدہ کو دنیوی اغراض و منافع کے لئے نہ توڑو مثلا تمہیں یہ محسوس ہو کہ جس جماعت یا پارٹی سے معاہدہ ہوا ہے یہ کمزور اور تعداد میں قلیل ہے یا مال کے اعتبار سے مفلس ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جماعت کثیر اور قوی ہے یا مال و دولت والی ہے تو صرف اس طمع سے قوی اور مالدار پارٹی میں شامل ہوجانے سے منافع زیادہ ہوں گے پہلی جماعت کا عہد توڑنا جائز نہیں بلکہ اپنے عہد پر قائم رہے اور نفع وضرر کو خدا تعالیٰ کے سپرد کرے البتہ جس جماعت یا پارٹی سے عہد کیا ہے وہ اگر خلاف شرع امور کا ارتکاب کرے اور کرائے تو اس کا عہد توڑ دینا واجب ہے بشرطیکہ واضح طور پر ان کو جتلا دیا جائے کہ ہم اب اس عہد کے پابند نہیں رہیں گے جیسا کہ آیت فانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ میں مذکور ہے۔ آخر آیت میں مذکورہ صورت حال کو مسلمان کو آزمائش کا ذریعہ بتلایا گیا ہے کہ حق تعالیٰ اس کا امتحان لیتے ہیں کہ یہ اپنے نفس کی اغراض و خواہشات کا تابع ہو کر عہد کو توڑ ڈالتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نفسانی جذبات کو قربان کرتا ہے۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور نہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دھوکا، آپس میں کہ ڈگ نہ جائے کسی کا پاؤں جمنے کے پیچھے اور تم چکھو سزا اس بات پر کہ تم نے روکا اللہ کی راہ سے اور تم کو بڑا عذاب ہو

کسی کو دھوکہ دینے کے لئے قسم کھانے میں سلب ایمان کا خطرہ ہے (آیت) وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا اس آیت میں ایک اور عظیم گناہ اور وبال سے بچانے کی ہدایت ہے وہ یہ کی قسم کھاتے وقت ہی اسے اس قسم کے خلاف کرنے کا ارادہ ہو صرف مخاطب کو فریب دینے کے لئے قسم کھائی جائے تو یہ عام قسم توڑنے سے زیادہ خطرناک گناہ ہے جس کے نتیجہ میں یہ خطرہ ہے کہ ایمان کی دولت ہی سے محروم ہوجائے (آیت) فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا کا یہی مطلب ہے (قرطبی)
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور نہ لو اللہ کے عہد پر مول تھوڑا سا بیشک جو اللہ کے یہاں ہے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں، اگر تم جانتے ہو

رشوت لینا سخت حرام اور اللہ سے عہد شکنی ہے (آیت) وَلَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۔ یعنی اللہ کے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے میں نہ توڑو یہاں تھوڑی سی قیمت سے مراد دنیا اور اس کے منافع ہیں وہ مقدار میں کتنے بھی بڑے ہوں آخرت کے منافع کے مقابلہ میں ساری دنیا اور اس کی ساری دولتیں بھی قلیل ہی ہیں جس نے آخرت کے بدلے میں دنیا لے لی اس نے انتہائی خسارہ کا سودا کیا ہے کہ ہمیشہ رہنے والی اعلیٰ ترین نعمت و دولت کو بہت جلد فنا ہونے والی گھٹیا قسم کی چیز کے عوض بیچ ڈالنا کوئی سمجھ بوجھ والا انسان گوارا نہیں کرسکتا۔ ابن عطیہ نے فرمایا کہ جس کام کا پورا کرنا کسی شخص کے ذمہ واجب ہو وہ اللہ کا عہد اس کے ذمہ ہے اس کے پورا کرنے پر کسی سے معاوضہ لینا اور بغیر لئے نہ کرنا اللہ کا عہد توڑنا ہے اسی طرح جس کا نہ کرنا کسی کے ذمہ واجب ہے کسی سے معاوضہ لے کر اس کو کردینا یہ بھی اللہ کا عہد توڑنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رشوت کی مروجہ قسمیں سب حرام ہیں جیسے کوئی سرکاری ملازم کسی کام کی تنخواہ حکومت سے پاتا ہے تو اس نے اللہ سے عہد کرلیا ہے کہ یہ تنخواہ لے کر مفوضہ خدمت پوری کروں گا اب اگر وہ اس کے کرنے پر کسی سے معاوضہ مانگے اور بغیر معاوضہ اس کو ٹلائے تو یہ عہد اللہ تو توڑ رہا ہے اسی طرح جس کام کا اس کو محکمہ کی طرف سے اختیار نہیں اس کو رشوت لے کر ڈالنا بھی اللہ سے عہد شکنی ہے (بحرمحیط) اخذ الاموال علیٰ فعل ما یجب علی الاخذ فعلہ اوفعل ما یجب علیہ ترکہ یعنی جس کام کا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا یا جس کام کا چھوڑنا اس کے ذمہ لازم ہے اس کے کرنے پر معاوضہ لینا رشوت ہے (تفسیر بحرمحیط ص 533 ج 5) اور پوری دنیا کی ساری نعمتوں کا قلیل ہونا اگلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا (آیت) مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے (مراد اس سے دنیوی منافع ہیں) وہ سب ختم اور فنا ہونے والا ہے او جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے (مراد اس سے آخرت کا ثواب و عذاب ہے) وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہوگا، اور ہم بدلہ میں دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا حق اچھے کاموں پر جو کرتے تھے۔

دنیا کی راحت وکلفت دوستی دشمنی سب فنا ہونے والے ہیں اور ان کے ثمرات و نتائج جو اللہ کے پاس ہیں وہ باقی رہنے والے ہیں مَا عِنْدَكُمْ کے لفظ سے عام طور پر ذہن صرف مال و متاع کی طرف جاتا ہے استاذ محترم مولانا سید اصغر حسین صاحب ؒ نے فرمایا کہ لفظ ما لغت کے اعتبار سے عام ہے اور عموم کے معنی مراد لینے سے کوئی امر شرعی مانع نہیں اس لئے اس میں دنیا کا مال و متاع بھی داخل ہے اور اس میں پیش آنے والے تمام حالات و معاملات خوشی اور غم رنج اور راحت بیماری اور صحت نفع اور نقصان کسی کی دوستی یا دشمنی یہ سب چیزیں شامل ہیں کہ سب کی سب فنا ہونے والی ہیں البتہ ان حالات و معاملات پر جو آثار مرتب ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان پر عذاب وثواب ہونے والا ہے وہ سب باقی رہنے والے ہیں فنا ہوجانے والے حالات و معاملات کی دھن میں لگا رہنا اور اپنی زندگی اور اس کی توانائی کو اسی کی فکر میں لگا کر دائمی عذاب وثواب سے غفلت برتنا کسی ذی عقل کا کام نہیں۔ دوران بقاء چو باد صحرا بگذشت تخلی و خوشی وزشت وزیبا بگذشت بنداشت ستمگر کہ جفا برما کرد برگردن وے بماند وبرما بگذشت
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جس نے کیا نیک کام مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان پر ہے تو اس کو ہم زندگی دیں گے ایک اچھی زندگی اور بدلے میں دیں گے ان کو حق ان کا بہتر کاموں پر جو کرتے تھے۔

خلاصہ تفسیر (اس سے پہلی آیات میں ایفاء عہد کی تاکید اور عہد شکنی کی مذمت کا بیان تھا جو ایک خاص عمل ہے اس آیت میں تمام اعمال صالحہ اور عاملین صالحین کا عمومی بیان ہے مضمون آیت کا یہ ہے کہ آخرت کا اجر وثواب اور دنیا کی برکات صرف ایفائے عہد میں منحصر نہیں اور نہ کسی عامل کی تخصیص ہے بلکہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ) جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو (کیونکہ کافر کے اعمال صالحہ مقبول نہیں) تو ہم اس شخص کو (دنیا میں تو) بالطف زندگی دیں گے اور (آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے عوض میں ان کا اجر دیں گے۔ معارف و مسائل حیات طیبہ کیا چیز ہے ؟ جمہور مفسرین کے نزدیک یہاں حیات طیبہ سے مراد دنیا کی پاکیزہ اور بالطف زندگی ہے اور بعض ائمہ تفسیر نے اس سے آخرت کی زندگی مراد لی ہے اور جمہور کی تفسیر کے مطابق بھی اس سے یہ مراد نہیں کہ اس کو کبھی فقر وفاقہ یا بیماری پیش نہ آئے گی بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو اگر کبھی معاشی تنگی یا کوئی تکلیف بھی پیش آتی ہے تو دو چیزیں اس کو پریشان نہیں ہونے دیتیں ایک قناعت اور سادہ زندگی کی عادت جو تنگدستی میں بھی چل جاتی ہے دوسرے اس کا یہ عقیدہ کہ مجھے اس تنگی اور بیماری کے بدلے میں آخرت کی عظیم الشان دائمی نعمتیں ملنے والی ہیں بخلاف کافر وفاجر کے کہ اگر اس کو تنگدستی اور بیماری پیش آتی ہے تو اس کے لئے کوئی تسلی کا سامان نہیں ہوتا عقل وہوش کھو بیٹھتا ہے بعض اوقات خود کشی کی نوبت آجاتی ہے اور اگر اس کو فراخی عیش بھی نصیب ہو تو اس کو زیادتی کی حرص کسی وقت چین سے نہیں بیٹھنے دیتی وہ کروڑ پتی ہوجاتی ہے تو ارب پتی بننے کی فکر اس کے عیش کو خراب کرتی رہتی ہے۔ ابن عطیہ نے فرمایا کہ مؤمنین صالحین کو حق تعالیٰ دنیا میں بھی وہ فرحت و انبساط اور پر لطف زندگی عطا فرماتے ہیں جو کسی حال میں متغیر نہیں ہوتی تندرستی اور فراخ دستی کے وقت تو ان کی زندگی کا پر لطف ہونا ظاہر ہے ہی خصوصا اس بنا پر کہ بلاضرورت مال کو بڑھانے کی حرص ان میں نہیں ہوتی جو انسان کو ہر حال میں پریشان رکھتی ہے اور تنگدستی یا بیماری بھی پیش آئے تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر ان کا مکمل یقین اور مشکل کے بعد آسانی کلفت کے بعد راحت ملنے کی قوی امید ان کی زندگی کو بےلطف نہیں ہونے دیتی جیسے کاشتکار کھیت بولے اور اس کی پرورش کے وقت اس کو کتنی ہی تکلیفیں پیش آجائیں سب کو اس لئے راحت محسوس کرتا ہے کہ چند روز کے بعد اس کا بڑا صلہ اس کو ملنے والا ہے تاجر اپنی تجارت میں ملازم اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں کیسی کیسی محنت ومشقت بلکہ بعض اوقات ذلت بھی برداشت کرتا ہے مگر اس لئے خوش رہتا ہے کے چند روز کے بعد اس کو تجارت کا بڑا نفع یا ملازمت کی تنخواہ ملنے کا یقین ہوتا ہے مومن کا بھی یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ مجھے ہر تکلیف پر اجر مل رہا ہے اور آخرت میں اس کا بدلہ دائمی عظیم الشان نعمتوں کی صورت میں ملے گا اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس لئے یہاں کے رنج و راحت اور سرد وگرم سب کو آسانی سے برداشت کرلیتا ہے اس کی زندگی ایسے حالات میں بھی مشوش اور بےلطف نہیں ہوتی یہی وہ حیات طیبہ ہے جو مومن کو دنیا میں نقد ملتی ہے۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

سو جب تو پڑھنے لگے قرآن تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے

ربط آیات سابقہ آیات میں اول ایفاء عہد کی تاکید اور مطلقا اعمال صالحہ کی تاکید و ترغیب کا بیان آیا ہے انسان کو ان احکام میں غفلت اغواء شیطانی سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اس آیت میں شیطان رجیم سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے جس کی ضرورت ہر نیک عمل میں ہے مگر اس آیت میں اس کو خاص طور سے قراءت قرآن کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اس تخصیص کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تلاوت قرآن ایک ایسا عمل ہے جس سے خود شیطان بھاگتا ہے۔ دیوبگر یزدازاں قوم کہ قرآن خوانند اور بعض خاص آیات اور سورتیں بالخاصہ شیطانی اثرات کو زائل کرنے کیلئے مجرب ہیں جن کا مؤ ثر ومفید ہونا نصوص شرعیہ سے ثابت ہے (بیان القرآن) اس کے باوجود جب تلاوت قرآن کے ساتھ شیطان سے تعوذ کا حکم دیا گیا تو دوسرے اعمال کے ساتھ اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا۔ اس کے علاوہ خود تلاوت قرآن میں شیطانی وساوس کا بھی خطرہ رہتا ہے کہ تلاوت کے آداب میں کمی ہوجائے تدبر و تفکر اور خشوع خضوع نہ رہے تو اس کے لئے بھی وساوس شیطانی سے پناہ مانگنا ضروری سمجھا گیا (ابن کثیر مظہری وغیرہ) خلاصہ تفسیر (اور جب عمل صالح کی فضیلت معلوم ہوئی اور کبھی کبھی شیطان اس میں خلل ڈالتا ہے کبھی وفائے عہد میں بھی خلل ڈالتا ہے اور کبھی دوسرے عمل مثل قرآت قرآن میں بھی) تو (اے محمد ﷺ آپ اور آپ کے واسطہ سے آپ کی امت سن لیں کہ) جب آپ (کیسا ہی نیک کام کرنا چاہئیں حتی کہ) قرآن پڑھنا چاہئیں تو شیطان مردود (کے شر) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں (اصلا تو دل سے خدا پر نظر رکھنا ہے اور یہی حقیقت استعاذہ کی واجب ہے اور قرآت میں پڑھ لینا زبان سے بھی مسنون ہے اور پناہ مانگنے کا حکم ہم اس لئے دیتے ہیں کہ) یقینا اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر (دل سے) بھروسہ رکھتے ہیں بس اس کا قابو تو صرف ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان لوگوں پر (چلتا ہے) جو کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ معارف و مسائل ابن کثیر نے مقدمہ تفسیر میں فرمایا کہ انسان کے دشمن دو قسم کے ہیں ایک خود نوع انسانی میں سے جیسے عام کفار دوسرے جنات میں سے جو شیطان و نافرمان ہیں پہلی قسم کے دشمن کے ساتھ اسلام نے جہاد و قتال کے ذریعہ مدافعت کا حکم دیا ہے مگر دوسری قسم کے لئے صرف اللہ سے پناہ مانگنے کا حکم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی قسم کا دشمن اپنی ہی جنس ونوع سے ہے اس کا حملہ ظاہر ہو کر ہوتا ہے اس لئے اس سے جہاد و قتال فرض کردیا گیا اور دشمن شیطانی نظر نہیں آتا اس کا حملہ بھی انسان پر آمنا سامنے نہیں ہوتا اس لئے اس کی مدافعت کے لئے ایک ایسی ذات کی پناہ لینا واجب کیا گیا جو نہ انسان کو نظر آتی ہے نہ شیطان کو اور شیطان کی مدافعت کو حوالہ بخدا تعالیٰ کرنے میں یہ بھی مصلحت ہے کہ جو اس سے مغلوب ہوجائے وہ اللہ کے نزدیک راندہ درگاہ اور مستحق عذاب ہے بخلاف عدد انسانی یعنی کفار کہ ان کے مقابلہ میں کوئی شخص مغلوب ہوجائے یا مارا جائے تو وہ شہید اور مستحق ثواب ہے اس لئے عدد انسانی کا مقابلہ اعضاء وجوارح کیساتھ ہر حال میں نفع ہی نفع ہے یا دشمن پر غالب آ کر قوت کو ختم کر دے گا پھر شہید ہو کر عند اللہ ماجور ہوگا۔ مسئلہتلاوت قرآن سے پہلے اَعُوذُبِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ کا پڑھنا اس آیت کی تعمیل کے لئے ثابت ہے اس لئے جمہور علماء امت نے اس حکم کو واجب نہیں بلکہ سنت قرار دیا ہے اور ابن جریز طبری نے اس پر اجماع امت نقل کیا ہے اس معاملے میں روایات حدیث قولی اور عملی تلاوت سے پہلے اکثر حالات میں اعوذ باللہ پڑھنے کی اور بعض حالات میں نہ پڑھنے کی یہ سب ابن کثیر نے اپنی تفسیر کے شروع میں مبسوط ذکر کی ہیں۔ مسئلہنماز میں تعوذ (یعنی اعوذ باللہ) صرف پہلی رکعت کے شروع میں پڑھا جائے یا ہر رکعت کے شروع میں ؟ اس میں ائمہ فقہاء کے اقوال مختلف ہیں امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک صرف پہلی رکعت میں پڑھنا چاہئے اور امام شافعی ہر رکعت کے شروع میں پڑھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں دنوں کے دلائل تفسیر مظہری میں مبسوط لکھے گئے ہیں (ص 49 ج 5) مسئلہتلاوت قرآن نماز میں ہو یا خارج نماز دونوں صورتوں میں تلاوت سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا سنت ہے مگر ایک دفعہ پڑھ لیا تو آگے جتنا پڑہتا رہے وہی ایک تعوذ کافی ہے، البتہ تلاوت کو درمیان میں چھوڑ کر کسی دنیوی کام میں مشغول ہوگیا اور پھر دوبارہ شروع کیا تو اس وقت دوبارہ تعوذ اور بسم اللہ پڑھنا چاہئے۔ مسئلہتلاوت قرآن کے علاوہ کسی دوسرے کلام یا کتاب پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا سنت نہیں وہاں صرف بسم اللہ پڑھنا چاہئے (درمختار شامی) البتہ مختلف اعمال اور حالات میں تعوذ کی تعلیم حدیث میں منقول ہے مثلا جب کسی کو غصہ زیادہ آئے تو حدیث میں ہے کہ (اَعُوذُبِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) پڑھنے سے شدت غضب فرو ہوجاتی ہے (ابن کثیر) نیز حدیث میں ہے کہ بیت الخلاء میں جانے سے پہلے اللہم انی اعوذ بک من الخبث والخبآئث پڑھنا مستحب ہے (شامی)
Ayahs 16:99–100

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

اس کا زور نہیں چلتا ان پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ پر ایمان و توکل شیطانی تسلط سے نجات کا راستہ ہے اس آیت میں یہ واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ایسی قوت نہیں دی کہ وہ کسی بھی انسان کو برائی پر مجبور وبے اختیار کر دے انسان خود اپنے اختیار وقدرت کو غفلت یا کسی غرض نفسانی سے استعمال نہ کرے تو یہ اس کا قصور ہے اسی لئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے احوال و اعمال میں اپنی قوت ارادی کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہی ہر خیر کی توفیق دینے والا اور ہر شر سے بچانے والا ہے ایسے لوگوں پر شیطان کا تسلط نہیں ہوتا ہاں جو اپنے اغراض نفسانی کے سبب شیطان ہی سے دوستی کرتے ہیں اسی کی باتوں کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیروں کو شریک ٹھراتے ہیں ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے کہ کسی خیر کی طرف نہیں جانے دیتا اور ہر برائی میں وہ آگے اگے ہوتے ہیں ، یہی مضمون سورة حجر کی آیت کا ہے جس میں شیطان کے دعوے کے مقابلہ میں خود حق تعالیٰ نے یہ جواب دے دیا ہے (آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِيْنَ یعنی میرے خاص بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوسکتا ہاں اس پر ہوگا جو خود ہی گمراہ ہو اور تیرا اتباع کرنے لگے۔
Ayahs 16:101–105

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے تو کہتے ہیں تو تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں، پر اکثروں کو ان میں خبر نہیں

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

تو کہہ اس کو اتارا ہے پاک فرشتے نے تیرے رب کی طرف سے بلاشبہ تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو اور ہدایت اور خوشخبری مسلمانوں کے واسطے

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اس کو سکھلاتا ہے، ایک آدمی، جس کی طرف تعریض کرتے ہیں اس کی زبان ہو عجمی اور یہ قرآن زبان عربی ہے صاف

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو اللہ کی باتوں پر یقین نہیں ان کو اللہ راہ نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب درد ناک ہے ،

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی باتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں

خلاصہ تفسیر ربط آیات اس سے پہلی آیت میں تلاوت قرآن کے وقت اعوذ باللہ پڑھنے کی ہدایت تھی جس میں اشارہ ہے کہ شیطان تلاوت کے وقت انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے مذکورہ آیات میں اسی طرح کے وساوس شیطانی کا جواب ہے ، نبوت پر کفار کے شبہات کا جواب مع تہدید اور جب ہم کسی آیت کو بجائے دوسری آیت کے بدلتے ہیں (یعنی ایک آیت کو لفظا یا معنی منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا حکم بھیجدیتے ہیں) اور حالانکہ اللہ تعالیٰ جو حکم (پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ) بھیجتا ہے (اس کی مصلحت و حکمت کو) وہی خوب جانتا ہے (کہ جن کو یہ حکم دیا گیا ہے ان کے حالات کے اعتبار سے ایک وقت میں مصلحت کچھ تھی پھر حالت بدل جانے سے مصلحت اور حکمت دوسری ہوگی) تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) آپ (خدا پر) افتراء کرنے والے ہیں (کہ اپنے کلام کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ورنہ اللہ کا حکم ہوتا تو اس کے بدلنے کی کیا ضرورت تھی کیا اللہ تعالیٰ کو پہلے علم نہ تھا اور یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ بعض اوقات سب حالات کا علم ہونے کے باوجود پہلی حالت پیش آنے پر پہلا حکم دیا جاتا ہے اور دوسری حالت پیش آنے کا اگرچہ اس وقت بھی علم ہے مگر بتقاضائے مصلحت اس دوسری حالت کا حکم اس وقت بیان نہیں کیا جاتا بلکہ جب وہ حالت پیش آجاتی ہے اس وقت بیان کیا جاتا ہے جیسے طبیب ڈاکٹر ایک دوا تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے استعمال سے حالت بدلے گی اور پھر دوا دوسری دی جائے گی مگر مریض کو ابتدا میں سب تفصیل نہیں بتلاتا یہی حقیقت نسخ احکام کی ہے جو قرآن وسنت میں ہوتا ہے جو حقیقت سے واقف نہیں وہ باغوا شیطانی نسخ کا انکار کرنے لگتے ہیں اسی لئے اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ مفتری نہیں) بلکہ انہی میں اکثر لوگ جاہل ہیں (کہ احکام میں نسخ کو بلا کسی دلیل کے کلام الہی ہونے کے خلاف سمجھتے ہیں) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے (کہ یہ کلام میرا بنایا ہوا نہیں بلکہ اس کو) روح القدس (یعنی جبرئیل علیہ السلام) آپ کے رب کی طرف سے حکمت کے موافق لائے ہیں (اس لئے یہ اللہ کا کلام ہے اور اس میں احکام کی تبدیلی بمقتضائے حکمت و مصلحت ہے اور یہ کلام اس لئے بھیجا گیا ہے) تاکہ ایمان والوں کو (ایمان پر) ثابت قدم رکھے اور ان مسلمانوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری (کا ذریعہ) ہوجائے (اس کے بعد کفار کے ایک اور لغو شبہ کا جواب ہے) اور ہم کو معلوم ہے کہ یہ لوگ (ایک دوسری غلط بات) یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو تو آدمی سکھلاتا ہے (اس سے مراد ایک عجمی روم کا باشندہ لوہار ہے جس کا نام بلعام یا مقیس تھا وہ حضور ﷺ کی باتیں جی لگا کر سنتا تو حضور ﷺ کبھی اس کے پاس جا بیٹھتے اور وہ کچھ انجیل وغیرہ کو بھی جانتا تھا اس پر کافروں نے یہ بات چلتی کی کہ یہی شخص حضور ﷺ کو قرآن کا کلام سکھاتا ہے، کذا فی الدرالمنثور، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ قرآن مجید تو مجموعہ الفاظ ومعانی کا نام ہے تم لوگ اگر قرآن کریم کے معانی اور معارف کو نہیں پہچان سکتے تو کم از کم عربی زبان کی معیاری فصاحت و بلاغت سے تو ناواقف نہیں ہو تو اتنا تو تمہیں سمجھنا چاہئے کہ اگر بالفرض قرآن کے معانی اس شخص نے سکھلا دیئے ہوں تو کلام کے الفاظ اور ان کی ایسی فصاحت و بلاغت جس کا مقابلہ کرنے سے پورا عرب عاجر ہوگیا یہ کہاں سے آگئی کیونکہ) جس شخص کی طرف اس کی نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی ہے (کوئی بیچارہ ایسی عبارت کیسے بنا سکتا ہے اور اگر کہا جائے کہ عبارت رسول کریم ﷺ نے بنائی ہوگی تو اس کا واضح جواب اس تحدی (چلینج) سے پوری طرح ہوچکا ہے جو سورة بقرہ میں آچکا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے باذن خداوندی اپنی نبوت اور قرآن کی حقانیت کا معیار اسی کو قرار دے دیا تھا کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق یہ انسان کا کلام ہے تو تم بھی انسان ہو اور بڑی فصاحت و بلاغت کے مدعی ہو تو تم اس جیسا کلام زیادہ نہیں تو ایک آیت ہی کی برابر لکھ لاؤ مگر سارا عرب باوجودیکہ آپ کے مقابلہ میں اپنا سب کچھ جان ومال قربان کرنے کو تیار تھا مگر اس چیلنج کو قبول کرنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی اس کے بعد منکرین نبوت اور قرآن پر ایسے اعتراضات کرنے والوں پر وعید وتہدید ہے کہ) جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو اللہ تعالیٰ کبھی پر نہ لائیں گے اور ان کے لئے درد ناک سزا ہوگی (اور یہ لوگ جو نعوذ باللہ آپ کو مفتری کہتے ہیں) جھوٹ افتراء کرنے والے تو یہی لوگ ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔
Ayahs 16:106–109

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو کوئی منکر ہو اللہ سے یقین لانے کے پیچھے مگر وہ نہیں جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل برقرار ہے ایمان پر لیکن جو کوئی دل کھول منکر ہوا سو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کو بڑا عذاب ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ انہوں نے عزیز رکھا دنیا کی زندگی کو آخرت سے اور اللہ راستہ نہیں دیتا منکر لوگوں کو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہ وہی ہیں کہ مہر کردی اللہ نے ان کے دل پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اور یہی ہیں بےہوش

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

خود ظاہر ہے کہ آخرت میں یہی لوگ خراب ہیں

خلاصہ تفسیر جو شخص ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے (اس میں کفر بالرسول اور انکار قیامت وغیرہ سب داخل ہیں) مگر جس شخص پر (کافروں کی طرف سے) زبردستی کی جائے (کہ اگر تو کفر کا فلاں کلام یا فلاں قول نہیں کرے گا تو ہم تجھ کو قتل کردیں گے مثلا اور حالات سے اس کا اندازہ بھی ہو کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں) بشرطیکہ اس کا قلب ایمان پر مطمئن ہو (یعنی عقیدے میں کوئی فتور نہ آئے اور اس قول وفعل کو سخت گناہ اور برا سمجھتا ہو تو وہ اس حکم سے مستثنی ہے کہ اس کا ظاہری طور پر کلمہ کفر یا فعل کفر میں مبتلا ہوجانا ایک عذر کی بناء پر ہے۔ اس لئے جو وعید ارتداد کی آ رہی ہے وہ ایسے شخص کے لئے نہیں) لیکن ہاں جو جی کھول کر (یعنی اس کفر کو صحیح اور مستحسن سمجھ کر) کفر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کو بڑی سزا ہوگی (اور) یہ (غضب و عذاب) اس سبب سے ہوگا کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز رکھا اور اس سبب سے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے کافر لوگوں کو (جو دنیا کو ہمیشہ آخرت پر ترجیح دیں) ہدایت نہیں کیا کرتا (یہ دو سبب الگ الگ نہیں بلکہ مجموعہ سبب ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ عزم فعل کے بعد عادۃ اللہ یہ ہے کہ خلق فعل ہوتا ہے جس پر صدور فعل مرتب ہوتا ہے۔ یہاں استحبوا سے عزم اور لایہدی سے خلق کی طرف اشارہ ہے اور اس مجموعی پر فعل قبیح کا صدور مرتب ہے) یہ وہ لوگ ہیں کہ (دنیا میں ان کے اصرار علی الکفر کی حالت یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ لوگ (انجام سے) بالکل غافل ہیں (اس لئے) لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہ لوگ بالکل گھاٹے میں رہیں گے۔ معارف و مسائل مسئلہاس آیت سے ثابت ہوا کہ جس شخص کو کلمہ کفر کہنے پر اس طرح مجبور کردیا گیا کہ اگر یہ کلمہ نہ کہے تو اس کو قتل کردیا جائے اور یہ بھی بظن غالب معلوم ہو کہ دھمکی دینے والے کو اس پر پوری قدرت حاصل ہے تو ایسے اکراہ کی حالت میں اگر وہ زبان سے کلمہ کفر کہہ دے مگر اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو اور اس کلمہ کو باطل اور برا جانتا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور نہ اس کی بیوی اس پر حرام ہوگی (قرطبی ومظہری) یہ آیت ان صحابہ کرام ؓ اجمعین کے بارے نازل ہوئی جن کو مشرکین نے گرفتار کرلیا تھا اور کہا تھا کہ یا وہ کفر اختیار کریں ورنہ قتل کردیئے جائیں گے۔ یہ گرفتار ہونے والے حضرات حضرت عمار اور ان کے والدین یاسر اور سمیہ اور صہیب اور بلال اور خباب ؓ تھے جن میں سے حضرت یاسر اور ان کی زوجہ سمیہ نے کلمہ کفر بولنے سے قطعی انکار کیا حضرت یاسر کو قتل کردیا گیا اور حضرت سمیہ کو دو اونٹوں کے درمیان باندھ کر ان کو دوڑایا گیا جس سے ان کو دو ٹکڑے الگ الگ ہو کر شہید ہوئیں اور یہی دو بزرگ ہیں جن کو اسلام کی خاطر سب سے پہلے شہادت نصیب ہوئی اسی طرح حضرت خباب نے کلمہ کفر بولنے سے قطعی انکار کر کے بڑے اطمینان کے ساتھ قتل کئے جانے کو قبول کیا ان میں سے حضرت عمار نے جان کر خوف سے زبانی اقرار کفر کا کرلیا مگر دل ان کا ایمان پر مطمئن اور جما ہوا تھا جب یہ دشمنوں سے رہائی پاکر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بڑے رنج وغم کے ساتھ اس واقعہ کا اظہار کیا آنحضرت محمد ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ جب تم یہ کلمہ بول رہے تھے تو تمہارے دل کا کیا حال تھا انہوں نے عرض کیا کہ دل تو ایمان پر مطمئن اور جما ہوا تھا اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کو مطمئن کیا کہ تم پر اس کا کوئی وبال نہیں آپ کے اس فیصلہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی ومظہری) اکراہ کی تعریف وتحدید اکراہ کے لفظی معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو ایسے قول یا فعل پر مجبور کیا جائے جس کے کہنے یا کرنے پر وہ راضی نہیں پھر اس کے دو درجے ہیں ایک درجہ اکراہ کا یہ ہے کہ وہ دل سے تو اس پر آمادہ نہیں مگر ایسا بےاختیار وبے قابو بھی نہیں کہ انکار نہ کرسکے یہ فقہا کی اصطلاح میں اکراہ غیر ملجی کہلاتا ہے ایسے اکراہ سے کوئی کلمہ کفر کہنا یا کسی حرام فعل کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہوتا البتہ بعض جزئی احکام میں اس پر بھی کچھ آثار مرتب ہوتے ہیں جو کتب فقہ میں مفصل مذکور ہیں دوسرا درجہ اکراہ کا یہ ہے کہ وہ مسلوب الاختیار کردیا جائے کہ اگر وہ اکراہ کرنے والوں کے کہنے پر عمل نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا یا اس کا کوئی عضو کاٹ دیا جائے گا یہ فقہا کی اصطلاح میں اکراہ ملجی کہلاتا ہے جس کے معنی ہیں ایسا اکراہ جو انسان کو مسلوب الاختیار اور مجبور محض کر دے ایسے اکراہ کی حالت میں کلمہ کفر کا زبان سے کہہ دینا بشرطیکہ قلب ایمان پر مطمئن ہو جائز ہے اسی طرح دوسرے انسان کو قتل کرنے کے علاوہ اور کوئی حرام فعل کرنے پر مجبور کردیا جائے تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ مگر دونوں قسم کے اکراہ میں شرط یہ ہے کہ اکراہ کرنے والا جس کام کی دھمکی دے رہا ہے وہ اس پر قادر بھی ہو اور جو شخص مبتلا ہے اس کو غالب گمان یہ ہو کہ اگر میں اس کی بات نہ مانوں گا تو جس چیز کی دھمکی دے رہا ہے وہ اس کو ضرور کر ڈالے گا (مظہری) مسئلہمعاملات دو قسم کے ہیں ایک وہ جن میں دل سے رضا مند ہونا ضروری ہے جیسے خریدو فروخت وہبہ وغیرہ کہ ان میں دل سے رضا مند ہونا معاملہ کے لئے شرط ہے بنص قرآن (آیت) اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُم یعنی کسی دوسرے شخص کا مال حلال نہیں ہوتا جب تک تجارت وغیرہ کا معاملہ طرفین کی رضامندی سے نہ ہو اور حدیث میں ہے۔ لایحل مال امرء مسلم الا بطیب نفس منہیعنی کسی مسلمان کا مال اس وقت تک حلال نہیں جب تک وہ خوش دلی سے اس کے دینے پر راضی نہ ہو۔ ایسے معاملات اگر اکراہ کے ساتھ کرا لئے جائیں تو شرعا ان کا کوئی اعتبار نہیں اکراہ کی حالت سے نکلنے کے بعداس کو اختیار ہوگا کہ بحالت اکراہ جو بیع یا ہبہ وغیرہ کیا تھا اس کو اپنی رضا سے باقی رکھے یا فسخ کردے۔ اور کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن میں صرف زبان سے الفاظ کہہ دینے پر مدار ہے دل کا قصد و ارادہ یا رضا و خوشی شرط معاملہ نہیں مثلا نکاح طلاق رجعت عتاق وغیرہ ایسے معاملات کے متعلق حدیث میں ارشاد ہے ثلٹ جدھن جد وھزلہن جد النکاح والطلاق والرجعۃ۔ رواہ ابو داؤد والترمذی وحسنہ (یعنی اگر دو شخص زبان سے نکاح کا ایجاب و قبول شرائط کے مطابق کرلیں یا کوئی شوہر اپنی بیوی کو زبان سے طلاق دیدے یا طلاق کے بعد زبان سے رجعت کرے خواہ وہ بطور ہنسی مذاق کے ہو دل میں ارادہ نکاح یا طلاق یا رجعت کا نہ ہو پھر محض الفاظ کے کہنے سے نکاح منعقد ہوجائے گا اور طلاق پڑجائے گی نیز رجعت صحیح ہوجائے گی (مظہری) امام اعظم ابوحنیفہ ؒ شعبی زہری نخعی اور قتادہ رحمہم اللہ کے نزدیک طلاق مکرہ کا بھی یہی حکم ہے کہ حالت اکراہ میں اگرچہ وہ طلاق دینے پر دل سے آمادہ نہیں تھا مجبور ہو کر الفاظ طلاق کہہ دیئے اور وقوع طلاق کا تعلق صرف الفاظ طلاق ادا کردینے سے ہے دل کا قصد و ارادہ شرط نہیں جیسا کہ حدیث مذکور سے ثابت ہے اس لئے یہ طلاق واقع ہوجائے گی ، مگر امام شافعی اور حضرت علی اور ابن عباس ؓ کے نزدیک حالت اکراہ کی طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے۔ رفع عن امتی الخطاء والنسیان وما استکرھوا علیہ رواہ الطبرانی عن ثوبان۔ یعنی میری امت سے خطاء اور نسیان اور جس چیز پر ان کو مضطر و مجبور کردیا جائے سب اٹھا دئیے گئے۔ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک یہ حدیث احکام آخرت کے متعلق ہے کہ خطاء یا نسیان سے یا اکراہ کی حالت میں جو کوئی قول وفعل شریعت کے خلاف کرلیا اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، باقی رہے احکام دنیا اور وہ نتائج جو اس فعل پر مرتب ہو سکتے ہیں ان کا وقوع تو محسوس ومشاہد ہے اور دنیا میں اس وقوع پر جو آثار و احکام مرتب ہوتے ہیں وہ ہو کر رہیں گے مثلا کسی نے کسی کو خطاء قتل کردیا تو اس کو قتل کا گناہ اور آخرت کی سزا تو بیشک نہ ہوگی مگر جس طرح قتل کا محسوس اثر مقتول کی جان کا چلا جانا واقع ہے اسی طرح اس کا یہ شرعی اثر بھی ثابت ہوگا کہ اس کی بیوی عدت کے بعد نکاح ثانی کرسکے گی اس کا مال وراثت میں تقسیم ہوجائے گا اسی طرح الفاظ طلاق یا نکاح یا رجعت زبان سے ادا کردی تو ان کا شرعی اثر بھی ثابت ہوجائے گا۔ (مظری قرطبی واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم)