Ayahs 15:1–2خلاصہ تفسیر
الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب کی اور قرآن واضح کی (یعنی اس کی دونوں صفتیں ہیں کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی ان کلمات سے قرآن کا کلام حق ہونا واضح کرنے کے بعد ان لوگوں کو حسرت اور عذاب کا بیان ہے جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے یا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے فرمایا رُبَمَا يَوَدُّ یعنی جب قیامت نے حشر ونشر کے میدان میں کافروں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا تو) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے (بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت و مصیبت دیکھیں گے تو ہر مرتبہ اپنے اسلام نہ لانے پر حسرت تازہ ہوتی رہے گی) آپ (دنیا میں ان کے کفر پر غم نہ کیجئے اور) ان کو ان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ (خوب) کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی (مرنے کے ساتھ ہی) حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے (اور دنیا میں جو ان کو ان کے کفر اور بدعملی کی فورا سزا نہیں ملتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سزا کا وقت مقرر کر رکھا ہے ابھی وہ وقت نہیں آیا) اور ہم نے جتنی بستیاں (کفر کی وجہ سے) ہلاک کی ہیں ان سب کے لئے ایک معین وقت لکھا ہوا ہوتا رہا ہے اور (ہمارا اصول ہے کہ) کوئی امت اپنی میعاد مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ پیچھے رہی ہے (بلکہ وقت مقرر پر ہلاک ہوئی ہے اسی طرح جب ان کا وقت آجائے گا ان کو بھی سزا دی جائے گی)
Ayahs 15:3–7معارف و مسائل
ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی اپنے گناہوں، غفلتوں پر نادم ہو کر نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل اور دنیا کی حرص (قرطبی عن مسند البزار عن انس)
اور طول امل کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی محبت اور حرص میں انہماک اور موت و آخرت سے بےفکری کے ساتھ دور دراز کے منصوبے بنائے جائیں (قرطبی) جو منصوبے دینی مقاصد کے لئے یا کسی قوم و ملک کے آئندہ مفاد کے لئے بنائے جاتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ وہ فکر آخرت ہی کی ایک صورت ہے۔
اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کے پہلے طبقہ کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اعراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے
اور حضرت ابو الدرداء ؓ سے منقول ہے کہ وہ جامع مسجد دمشق کے منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل دمشق کیا تم اپنے ایک ہمدرد خیر خواہ بھائی کی بات سنو گے سن لو کہ تم سے پہلے بہت بڑے بڑے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے مال و متاع بہت جمع کیا اور بڑے بڑے شان دار محلات تعمیر کئے اور دور دراز کے طویل منصوبے بنائے آج وہ سب ہلاک ہوچکے ہیں ان کے مکانات ان کی قبریں ہیں اور ان کی طویل امیدیں سب دھوکہ اور فریب ثابت ہوئیں قوم عاد تمہارے قریب تھی جس نے اپنے آدمیوں سے اور ہر طرح کے مال و متاع سے اور اسحلہ اور گھوڑوں سے ملک کو بھر دیا تھا آج کوئی ہے جو ان کی وراثت مجھ سے دو درہم میں خریدنے کو تیار ہوجائے۔
حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ جو شخص اپنی زندگی میں طویل امیدیں باندہتا ہے اس کا عمل ضرور خراب ہوجاتا ہے (قرطبی)
Ayah 15:8خلاصہ تفسیر
(الا بالحق۔ میں لفظ حق سے مراد فیصلہ عذاب ہے اور بعض مفسرین نے قرآن یا رسالت کو مراد قرار دیا ہے بیان القرآن میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے یہ معنی حضرت حسن بصری سے منقول ہیں تفسیر آیات یہ ہے)
اور ان کفار (مکہ) نے (رسول کریم ﷺ سے) یوں کہا اے وہ شخص جس پر (اس کے دعوے کے مطابق) قرآن نازل کیا گیا ہے تم (نعوذ باللہ) مجنون ہو (اور نبوت کا غلط دعوی کرتے ہو ورنہ) اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے (جو ہمارے سامنے تمہارے صدق کی گواہی دیں کقولہ تعالیٰ (آیت) لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) ہم فرشتوں کو (جس طریق پر وہ درخواست کرتے ہیں) صرف فیصلہ ہی کے لئے نازل کیا کرتے ہیں اور (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی (ہم فرشتوں کو (جس طریق پر وہ درخواست کرتے ہیں) صرف فیصلہ ہی کے لئے نازل کیا کرتے ہیں اور (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی (بلکہ جب ان کے آنے پر بھی ایمان نہ لاتے جیسا کہ ان کے حالات سے ہی متیقن ہے تو فورا ہلاک کردئیے جاتے جیسا کہ سورة انعام کے اول رکوع کی اخیر آیتوں میں اس کی وجہ مذکور ہوچکی ہے)
Ayah 15:9خلاصہ تفسیر
ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور (یہ دعوی بلا دلیل نہیں بلکہ اس کا معجزہ ہونا اس پر دلیل ہے اور قرآن کے ایک اعجاز کا بیان تو دوسری سورتوں میں مذکور ہے کہ کوئی انسان اس کی ایک سورة کی مثل نہیں بنا سکتا دوسرا اعجاز یہ ہے کہ) ہم اس (قرآن) کے محافظ (اور نگہبان) ہیں (اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے یہ ایسا صریح معجزہ ہے جس کو ہر عام و خاص سمجھ سکتا ہے پہلا معجزہ کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور جامعیت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اس کو تو اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں مگر کمی بیشی نہ ہونے کو تو ایک ان پڑھ جاہل بھی دیکھ سکتا ہے)
معارف و مسائل
مامون کے دربار کا ایک واقعہ
امام قرطبی نے اس جگہ سند متصل کے ساتھ ایک واقعہ امیر المؤ منین مامون کے دربار کا نقل کیا ہے کہ مامون کی عادت تھی کہ کبھی کبھی اس کے دربار میں مسائل پر بحث ومباحثے اور مذاکرے ہوا کرتے تھے جس میں ہر اہل علم کو آنے کی اجازت تھی ایسے ہی ایک مذاکرہ میں ایک یہودی بھی آگیا جو صورت شکل اور لباس وغیرہ کے اعتبار سے بھی ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتا تھا پھر گفتگو کی تو اس نے بھی فصیح وبلیغ اور عاقلانہ گفتگو کی تھی جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلا کر پوچھا کہ تم اسرائیلی ہو ؟ اس نے اقرار کیا مامون نے (امتحان لینے کے لئے) کہا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو ہم تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں گے۔
اس نے جواب دیا کہ میں تو اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے دین کو نہیں چھوڑتا بات ختم ہوگئی یہ شخص چلا گیا پھر ایک سال کے بعد یہی شخص مسلمان ہو کر آیا اور مجلس مذاکرہ میں فقہ اسلامی کے موضوع پر بہترین تقریر اور عمدہ تحقیقات پیش کیں مجلس ختم ہونے کے بعد مامون نے اس کو بلا کر کہا کہ تم وہی شخص ہو جو سال گذشتہ آئے تھے ؟ جواب دیا ہاں وہی ہوں مامون نے پوچھا کہ اس وقت تو تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا پھر اب مسلمان ہونے کا سبب کیا ہوا ؟
اس نے کہا میں یہاں سے لوٹا تو میں نے موجودہ مذاہب کی تحقیق کرنے کا ارادہ کیا میں ایک خطاط اور خوشنویس آدمی ہوں کتابیں لکھ کر فروخت کرتا ہوں تو اچھی قیمت سے فروخت ہوجاتی ہیں میں نے امتحان کرنے کے لئے تورات کے تین نسخے کتابت کئے جن میں بہت جگہ اپنی طرف سے کمی بیشی کردی اور یہ نسخے لے کر میں کینسی میں پہنچا یہودیوں نے بڑی رغبت سے ان کو خرید لیا پھر اسی طرح انجیل کے تین نسخے کمی بیشی کے ساتھ کتابت کر کے نصارے کے عبادت خانہ میں لے گیا وہاں بھی عیسائیوں نے بڑی قدرو منزلت کے ساتھ یہ نسخے مجھ سے خرید لئے پھر یہی کام میں نے قرآن کے ساتھ کیا اس کے بھی تین نسخے عمدہ کتابت کئے جن میں اپنی طرف سے کمی بیشی کی تھی ان کو لے کر جب میں فروخت کرنے کے لئے نکلا تو جس کے پاس لے گیا اس نے دیکھا کہ صحیح بھی ہے یا نہیں جب کمی بیشی نظر آئی تو اس نے مجھے واپس کردیا۔
اس واقعہ سے میں نے یہ سبق لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی حفاظت کی ہوئی ہے اس لئے مسلمان ہوگیا قاضی یحییٰ بن اکثم اس واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ اتفاقا اسی سال مجھے حج کی توفیق ہوئی وہاں سفیان بن عیینہ سے ملاقات ہوئی تو یہ قصہ ان کو سنایا انہوں نے فرمایا بیشک ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ اس کی تصدیق قرآن میں موجود ہے۔
یحیی ابن اکتم نے پوچھا قرآن کی کونسی آیت میں ؟ تو فرمایا کہ قرآن عظیم نے جہاں تورات و انجیل کا ذکر کیا ہے اس میں تو فرمایا بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ یعنی یہود و نصاری کو کتاب اللہ تورات و انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے یہی وجہ ہوئی کہ جب یہود و نصاری نے فریضہ حفاظت ادا نہ کیا تو یہ کتابیں مسخ و محرف ہو کر ضائع ہوگئیں بخلاف قرآن کریم کے کہ اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ یعنی ہم ہی اس کے محافظ ہیں اس لئے اس کی حفاظت حق تعالیٰ نے خود فرمائی تو دشمنوں کی ہزاروں کوششوں کے باوجود اس کے ایک نقطہ اور ایک زیر وزبر میں فرق نہ آسکا آج عہد رسالت کو بھی تقریبا چودہ سو برس ہوچکے ہیں تمام دینی اور اسلامی امور میں مسلمانوں کی کوتاہی اور غفلت کے باوجود قرآن کریم کے حفظ کرنے کا سلسلہ تمام دنیا کے مشرق ومغرب میں اسی طرح قائم ہے ہر زمانہ میں لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمان جوان بوڑھے لڑکے اور لڑکیاں ایسے موجود رہتے ہیں جن کے سینوں میں پورا قرآن محفوظ ہے کسی بڑے سے بڑے عالم کی بھی مجال نہیں کہ ایک حرف غلط پڑھ دے اسی وقت بہت سے بڑے اور بچے اس کی غلطی پکڑ لیں گے۔
حفاظت قرآن کے وعدے میں حفاظت حدیث بھی داخل ہے
تمام اہل علم اس پر متفق ہیں کہ قرآن نہ صرف الفاظ قرآنی کا نام ہے نہ صرف معانی قرآن کا بلکہ دونوں کے مجموعے کو قرآن کہا جاتا ہے وجہ یہ ہے کہ معانی اور مضامین قرآنیہ تو دوسری کتابوں میں بھی موجود ہیں اور اسلامی تصانیف میں تو عموما مضامین قرآنیہ ہی ہوتے ہیں مگر ان کو قرآن نہیں کہا جاتا کیونکہ الفاظ قرآن کے نہیں ہیں اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کے متفرق الفاظ اور جملے لے کر ایک مقالہ یا رسالہ لکھدے تو اس کو بھی کوئی قرآن نہیں کہے گا اگرچہ اس میں ایک لفظ بھی قرآن سے باہر کا نہ ہو اس سے معلوم ہوا کہ قرآن صرف اس مصحف ربانی کا نام ہے جس کے الفاظ اور معانی ساتھ ساتھ محفوظ ہیں۔
اسی سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوگیا کہ کسی زبان اردو یا انگریزی وغیرہ میں جو صرف ترجمہ قرآن کا شائع کر کے لوگ اس کو اردو یا انگریزی قرآن کا نام دیتے ہیں یہ ہرگز جائز نہیں کیونکہ وہ قرآن نہیں اور جب یہ معلوم ہوا کہ قرآن صرف الفاظ قرآن کا نام نہیں بلکہ معانی بھی اس کا ایک جزو ہیں تو حفاظت قرآن کی جو ذمہ داری اس آیت میں حق تعالیٰ نے خود اپنے ذمے قرار دی ہے اس میں جس طرح الفاظ قرآنی کی حفاظت کا وعدہ اور ذمہ داری ہے اسی طرح معانی اور مضامین قرآن کی حفاظت اور معنوی تحریف سے اس کے محفوظ رہنے کی بھی ذمہ داری اللہ تعالیٰ ہی نے لے لی ہے۔
اور یہ ظاہر ہے کہ معانی قرآنی وہی ہیں جن کے تعلیم دینے لے لئے رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا (آیت) لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ۔ یعنی آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ آپ بتلادیں لوگوں کو مفہوم اس کلام کا جو ان کے لئے نازل کیا گیا ہے اور یہی معنی اس آیت کے ہیں۔
يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ اور اسی لئے آپ نے فرمایا انما بعثت معلما یعنی میں تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور جب رسول کریم ﷺ کو معانی قرآن کے بیان اور تعلیم کے لئے بھیجا گیا تو آپ نے امت کو جن اقوال و افعال کے ذریعہ تعلیم دی انہی اقوال و افعال کا نام حدیث ہے۔
مطلقا احادیث رسول کو غیر محفوظ کہنے والا درحقیقت قرآن کو غیر محفوظ کہتا ہے
جو لوگ آج کل دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالنا چاہتے ہیں کہ احادیث کا ذخیرہ جو مستند کتب میں موجود ہے وہ اس لئے قابل اعتبار نہیں کہ وہ زمانہ رسول کریم ﷺ سے بہت بعد میں مدون کیا گیا ہے اول تو ان کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں کیونکہ حدیث کی حفاظت و کتابت خود عہد رسالت میں شروع ہوچکی تھی بعد میں اس کی تکمیل ہوئی اس کے علاوہ حدیث رسول درحقیقت تفسیر قرآن اور معانی قرآن ہیں ان کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قرآن کے صرف الفاظ محفوظ رہ جائیں معانی (یعنی احادیث رسول) ضائع ہوجائیں ؟
Ayahs 15:10–15اللغات
الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔
خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کو اگلے لوگوں کے بہت سے گروہوں میں بھیجا تھا (اور ان کی یہ حالت تھی کہ) کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا (جو کہ تکذیب کی بدترین قسم ہے پس جس طرح ان لوگوں کے دلوں میں یہ استہزاء پیدا ہوا تھا) اسی طرح ہم یہ استہزا ان مجرمین (یعنی کفار مکہ) کے قلوب میں ڈال دیتے ہیں (جس کی وجہ سے) یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ دستور پہلوں سے ہی ہوتا آیا ہے (کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرتے رہے ہیں پس آپ مغموم نہ ہوں) اور (ان کے عناد کی یہ کیفیت ہے کہ فرشتوں کا آسمان سے آنا تو درکنار اس سے بڑھ کر) اگر (خود ان کو آسمان پر بھیج دیا جائے اس طرح سے کہ) ہم ان کے لئے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں پھر یہ دن کے وقت (جس میں نیند اور اونگھ وغیرہ کا بھی شبہ نہ ہو) اس (دروازہ) میں (سے آسمان کو) چڑھ جاویں تب بھی یوں کہہ دیں کہ ہماری نظر بند کردی گئی تھی (جس سے ہم اپنے کو آسمان پر چڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور واقع میں نہیں چڑھ رہے اور نظر بندی میں کچھ اسی واقعہ کی تخصیص نہیں) بلکہ ہم لوگوں پر تو بالکل جادو کر رکھا ہے (اگر ہم کو اس سے بڑھ کر بھی کوئی معجزہ دکھلایا جائے گا وہ بھی واقع میں معجزہ نہ ہوگا)
Ayah 15:16پچھلی آیات میں منکرین کی ہٹ دھرمی اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں جو آگے آ رہی ہیں اللہ جل شانہ کے وجود، توحید، علم، قدرت کے واضح دلائل، آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مخلوقات کے حالات ومشاہدات سے بیان کئے گئے ہیں جن میں ذرا بھی غور کیا جائے تو کسی عاقل کو انکار کی مجال نہیں رہتی ارشاد فرمایا۔
اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے اور دیکھنے والوں کیلئے آسمان کو (ستاروں سے) آراستہ کیا۔
معارف و مسائل
بُرُوْجًا برج کی جمع ہے جو بڑے محل اور قلعہ وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے ائمہ تفسیر مجاہد، قتادہ، ابو صالح وغیرہ نے اس جگہ بروج کی تفسیر بڑے ستاروں سے کی ہے اور اس آیت میں جو ان بڑے ستاروں کا آسمان میں پیدا کرنا ارشاد ہے یہاں آسمان سے مراد فضاء آسمانی ہے جس کو آجکل کی اصطلاح میں خلا کہا جاتا ہے اور لفظ سماء کا دونوں معنی میں اطلاق عام و معروف ہے جرم آسمان کو بھی سما کہا جاتا ہے اور سیارات اور ستاروں کا آسمانوں کے اندر نہیں بلکہ فضاء آسمانی میں ہونا اس کی مکمل تحقیق قرآن کریم کی آیات سے نیز قدیم وجدید علم فلکیات کی تحقیق سے انشاء اللہ سورة فرقان کی آیت نمر 61 تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayah 15:17خلاصہ تفسیر
آسمان کو (ستاروں کے ذریعہ) ہر شیطان مردود سے محفوظ فرما دیا (کہ وہاں تک ان کی رسائی نہیں ہونے پاتی) ہاں مگر کوئی بات (فرشتوں کی) چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہوتا ہے (اور اس کے اثر سے وہ شیطان ہلاک یا بدحواس ہوجاتا ہے)
Ayah 15:18معارف و مسائل
شہاب ثاقب
ان آیات میں سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ شیاطین کی رسائی آسمانوں تک نہیں ہو سکتی ابلیس لعین کا تخلیق آدم ؑ کے وقت آسمانوں میں ہونا اور آدم وحوا (علیہا السلام) کو دھوکہ میں مبتلا کرنا وغیرہ یہ سب آدم ؑ کے زمین پر نزول سے پہلے کے واقعات ہیں اس وقت تک جنات و شیاطین کا داخلہ آسمانوں میں ممنوع نہیں تھا نزول آدم ؑ اور اخراج شیطان کے بعد سے یہ داخلہ ممنوع ہوا سورة جن کی آیات میں جو یہ مذکور ہے وّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمانوں کی خبریں فرشتوں کی باہمی گفتگو سے سن لیا کرتے تھے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شیاطین آسمانوں میں داخل ہو کر سنتے تھے نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ کے الفاظ سے بھی یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چوروں کی طرح آسمانی فضاء میں جہاں بادل ہوتے ہیں چھپ کر بیٹھ جاتے اور سن لیا کرتے تھے ان الفاظ سے خود بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ قبل بعثت نبی کریم ﷺ بھی جنات و شیاطین کا داخلہ آسمانوں میں ممنوع ہی تھا مگر فضاء آسمانی تک پہنچ کر چوری سے کچھ سن لیا کرتے تھے بعثت نبوی کے بعد حفاظت وحی کا یہ مزید سامان ہوا کہ شیاطین کو اس چوری سے بھی بذریعہ شہاب ثاقب روک دیا گیا۔
رہا یہ سوال کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں کی گفتگو کو آسمانوں سے باہر شیاطین کس طرح سن سکتے تھے سو یہ کوئی ناممکن چیز نہیں کہ فرشتے کسی وقت آسمانوں سے نیچے اتر کر باہم ایسی گفتگو کرتے ہوں جس کو شیاطین سن بھاگتے تھے صحیح بخاری میں حضرت صدیقہ عائشہ ؓ کی حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے کہ فرشتے آسمان سے نیچے جہاں بادل ہوتے ہیں کبھی کسی وقت یہاں تک اترتے ہیں اور آسمانی خبروں کا باہمی تذکرہ کرتے ہیں شیاطین اسی فضاء آسمانی میں چھپ کر یہ خبریں سنتے تھے جن کو شہاب ثاقب کے ذریعہ بند کیا گیا اس کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورة جن میں (آیت) وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ کی تفسیر میں آئے گی
دوسرا مسئلہان آیات میں شہاب ثاقب کا ہے قرآن کریم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہاب حفاظت وحی کے لئے شیاطین کو مارنے کے واسطے پیدا ہوتے ہیں ان کے ذریعہ شیاطین کو دفع کیا جاتا ہے تاکہ وہ فرشتوں کی باتیں نہ سن سکیں۔
اس میں ایک اشکال قوی یہ ہے کہ فضائے آسمانی میں شہابوں کا وجود کوئی نئی چیز نہیں رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی ستارے ٹوٹنے کا مشاہدہ کیا جاتا تھا اور بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ شہاب ثاقب شیاطین کو دفع کرنے لے لئے پیدا ہوتے ہیں جو کہ عہد نبوی کی خصوصیات ہے اس سے تو بظاہر اسی بات کی تقویت ہوتی ہے جو فلاسفہ کا خیال ہے کہ شہاب ثاقب کی حقیقت اتنی ہی ہے کہ آفتاب کی تمازت سے جو بخارات زمین سے اٹھتے ہیں ان میں کچھ آتش گیر مادے بھی ہوتے ہیں اوپر جا کر جب ان کو آفتاب یا کسی دوسری وجہ سے مزید گرمی پہونچتی ہے تو وہ سلگ اٹھتے ہیں اور دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ستارا ٹوٹا ہے اسی لئے محاورات میں اس کو ستارا ٹوٹنے ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے عربی زبان میں بھی اس کے لئے انقضاض کو کب کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو اسی کا ہم معنی ہے۔
جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض واختلاف نہیں زمین سے اٹھنے والے بخارات مشتعل ہوجائیں یہ بھی ممکن ہے اور یہ بھی کوئی بعید نہیں کہ کسی ستارے یا سیارے سے کوئی شعلہ نکل کر گرے اور ایسا ہونا عام عادات کے مطابق ہمیشہ سے جاری ہو مگر بعثت نبوی سے پہلے ان شعلوں سے کوئی خاص کام نہیں لیا جاتا تھا آنحضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد ان شہابی شعلوں سے یہ کام لے لیا گیا کہ شیاطین جو فرشتوں کی باتیں چوری سے سننا چاہئیں ان کو اس شعلے سے مارا جائے۔
علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یہی توجیہ بیان فرمائی ہے اور نقل کیا ہے کہ امام حدیث زہری سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا رسول کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی ستارے ٹوٹتے تھے ؟ فرمایا کہ ہاں اس پر اس نے سورة جن کی مذکورہ آیت معارضہ کے لئے پیش کی تو فرمایا کہ شہاب ثاقب تو پہلے بھی تھے مگر بعثت نبوی کے بعد جب شیاطین پر تشدد کیا گیا تو ان شیاطین کے دفع کرنے کا کام لے لیا گیا۔
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں بروایت ابن عباس ؓ خود آنحضرت محمد ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ آپ صحابہ کے ایک مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ستارہ ٹوٹا آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ تم زمانہ جاہلیت میں یعنی اسلام سے پہلے اس ستارہ ٹوٹنے کو کیا سمجھا کرتے تھے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی بڑا حادثہ پیدا ہونے والا ہے یا کوئی بڑا آدمی مرے گا یا پیدا ہوگا آپ نے فرمایا کہ یہ لغو خیال ہے اس کا کسی کے مرنے جینے سے کوئی تعلق نہیں یہ شعلے تو شیاطین کو دفع کرنے کے لئے پھینکے جاتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شہاب ثاقب کے متعلق جو کچھ فلاسفہ نے کہا ہے وہ بھی قرآن کے منافی نہیں اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ یہ شعلے براہ راست بعض ستاروں سے ٹوٹ کر گرائے جاتے ہوں مقصد قرآن دونوں صورتوں میں ثابت اور واضح ہے۔
Ayahs 15:19–21خلاصہ تفسیر
اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین) میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی پیداوار) ایک معین مقدار سے اگائی اور ہم نے تمہارے واسطے اس (زمین) میں معاش کے سامان بنائے (جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں داخل ہیں جو کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے سے متعلق ہیں) اور (یہ سامان معاش اور ضروریات زندگی صرف تم کو ہی نہیں دیا بلکہ) ان کو بھی دیا جن کو تم روزی نہیں دیتے (یعنی وہ تمام مخلوقات جو ظاہر میں بھی تمہارے ہاتھ سے خوردو نوش اور زندگی گذارنے کا سامان نہیں پاتے ظاہر اس لئے کہا کہ گھر کے پالتو جانور بکری، گائے، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے اپنی روزی اور ضروریات معاش حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے پاتے ہیں مگر ظاہری طور پر ان کے خوردو نوش اور رہائش کا انتظام انسانوں کے ہاتھوں ہوتا ہے ان کے علاوہ تمام دنیا کے بری اور بحری جانور، پرندے اور درندے ایسے ہیں جن کے سامان معاش میں کسی انسانی ارادے اور عمل کا کوئی دخل اور شائبہ بھی نہیں پایا جاتا اور یہ جانور اتنے بےحد و بیشمار ہیں کہ انسان نہ ان سب کو پہچان سکتا ہے نہ شمار کرسکتا ہے) اور جتنی چیزیں (ضروریات زندگی سے متعلق ہیں ہمارے پاس سب کے خزانے کے خزانے (بھرے پڑے) ہیں اور ہم (اپنی خاص حکمت کے مطابق) اس (چیز) کو ایک معین مقدار سے اتارتے رہتے ہیں اور ہم ہی ہواؤں کو بھیجتے رہتے ہیں جو بادل کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں پھر وہ پانی تم کو پینے کو دیتے ہیں اور تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھنے والے نہ تھے (کہ اگلی بارش تک اس ذخیرہ کو استعمال کرتے رہتے) اور ہم ہی ہیں کہ زندہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں اور (سب کے مرنے کے بعد) ہم ہی باقی رہ جاویں گے اور ہم ہی جانتے ہیں تم میں سے آگے بڑھ جانے والوں کو اور ہم جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو اور بیشک آپ کا رب ہی ان سب کو (قیامت میں) محشور فرماوے گا (یہ اس لے فرمایا کہ اوپر توحید ثابت ہوئی ہے اس میں منکر توحید کی سزاء کی طرف اشارہ کردیا) بیشک وہ حکمت والا ہے (ہر شخص کو اس کے مناسب بدلہ دے گا اور) علم والا ہے (سب کے اعمال کی اس کو پوری خبر ہے)
معارف و مسائل
حکمت الہیہ ضروریات معاش میں تناسب وموزونیت
مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو ترجمہ میں لیا گیا ہے کی بتقاضائے حکمت ہر اگنے والی چیز کی ایک مقدار معین اگائی جس سے کم ہوجاتی تو زندگی میں دشواریاں پیدا ہوجاتیں اور زیادہ ہوجاتی تو بھی مشکلات پیدا کرتی انسانی ضرورت کے گندم اور چاول وغیرہ اور بہتر سے بہتر عمدہ پھل اگر اتنے زیادہ پیدا ہوجائیں جو انسانوں اور جانوروں کے کھانے پینے کے بعد بھی بہت بچ رہیں تو ظاہر ہے کہ وہ سڑیں گے ان کا رکھنا بھی مشکل ہوگا اور پھینکنے کے لئے جگہ نہ رہے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ جن دانوں اور پھلوں پر انسان کی زندگی موقوف ہے ان کو اتنا زیادہ پیدا کردیتے کہ ہر شخص کو ہر جگہ مفت مل جایا کرتے اور بےفکری سے استعمال کرنے کے بعد بھی ان کے بڑے ذخیرے پڑے رہتے لیکن یہ انسان کے لئے عذاب ہوجاتا اس لئے ایک خاص مقدار میں نازل کئے گئے کہ ان کی قدر و قیمت بھی باقی رہے اور بیکار بھی نہ بچیں۔
اور مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام اگنے والی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تناسب اور موزونیت کے ساتھ پیدا کیا ہے جس سے اس میں حسن اور دل کشی پیدا ہوتی، مختلف رنگ اور ذائقے کے پیدا کئے گئے جس کے تناسب اور حسین منظر سے تو انسان فائدہ اٹھاتا ہے مگر ان کی تفصیلی حکمتوں کا ادراک کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔
Ayahs 15:22–23تمام مخلوق کے لئے آب رسانی اور آب پاشی کا عجیب و غریب نظام الہی
(آیت) وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ سے وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ تک قدرت الہیہ کے اس حکیمانہ نظام کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اور جانور، چرندوں، پرندوں، درندوں کے لئے ضرورت کے مطابق پینے، نہانے، دھونے اور کھیتوں درختوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی بلا کسی قیمت کے مل جاتا ہے اور جو کچھ کسی کنواں بنانے یا پائپ لگانے پر خرچ کرنا پڑتا ہے وہ اپنی سہولتیں حاصل کرنے کی قیمت ہے پانی کے ایک قطرہ کی قیمت بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا نہ کسی سے مانگی جاتی ہے۔
اس آیت میں پہلے تو اس کا ذکر کیا گیا کہ کس طرح قدرت الہیہ نے سمندر کے پانی کو پوری زمین پر پہنچانے کا عجیب و غریب نظام بنایا ہے کہ سمندر میں بخارات پیدا فرمائے جن سے بارش کا مواد (مان سون) پیدا ہوا اوپر سے ہوائیں چلائیں جو اس کو بادل کی شکل میں تبدیل کر کے پانی سے بھرے ہوئے پہاڑوں جیسے جہاز بنادیں پھر پانی سے لبریز ان ہوائی جہازوں کو دنیا کے ہر گوشہ میں جہاں جہاں پہونچانا ہے پہنچا دیں پھر فرمان الہی کے تابع جس زمین پر جتنا پانی ڈالنے کا حکم ہے اس کے مطابق یہ خود کار ہوائی جہاز وہاں پانی برسا دیں۔
اس طرح یہ سمندر کا پانی زمین کے ہر گوشے میں بسنے والے انسانوں اور جانوروں کو گھر بیٹھے مل جائے اسی نظام میں ایک عجیب و غریب تبدیلی پانی کے ذائقے اور دوسری کیفیات میں پیدا کردی جاتی ہے کیونکہ سمندر کے پانی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انتہائی کھارا اور ایسا نمکین بنایا ہے کہ ہزاروں ٹن نمک اس سے نکالا اور استعمال کیا جاتا ہے حکمت اس میں یہ ہے کہ یہ عظیم الشان پانی کا کرہ جس میں کروڑوں قسم کے جانور رہتے۔ اور اسی میں مرتے اور سڑتے ہیں اور ساری زمین کا گندہ پانی بالآخر اسی میں جاکر پڑتا ہے اگر یہ پانی میٹھا ہوتا تو ایک دن میں سڑ جاتا اور اس کی بدبو اتنی شدید ہوتی کہ خشکی میں رہنے والوں کی تندرستی اور زندگی بھی مشکل ہوجاتی اس لئے قدرت نے اس کو ایسا تیزابی کھارا بنادیا کہ دنیا بھر کی غلاظتیں اس میں پہنچ کر بھسم ہوجاتی ہیں غرض اس حکمت کی بناء پر سمندر کا پانی کھارا بلکہ تلخ بنایا گیا جو نہ پیاجا سکتا ہے اور نہ اس سے پیاس بجھ سکتی ہے نظام قدرت نے جو پانی کے ہوائی جہاز بادلوں کی شکل میں تیار کئے ان کو صرف سمندری پانی کا خزانہ ہی نہیں بنایا بلکہ مون سون اٹھنے سے لے کر زمین پر برسنے تک اس میں ایسے انقلابات بغیر کسی ظاہری مشین کے پیدا کردیئے کہ اس پانی کا نمک علیحدہ ہو کر میٹھا پانی بن گیا سورة مرسلت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
(آیت) وَاَسْقَيْنٰكُمْ مَّاۗءً فُرَاتًا اس میں لفظ فرات کے معنی ہیں ایسا میٹھا پانی جس سے پیاس بجھے معنی یہ ہیں کہ ہم نے بادلوں کی قدرتی مشینوں سے گذار کر سمندر کے کھارے اور تلخ پانی کو تمہارے پینے کے لئے شیریں بنادیا۔
سورة واقعہ میں اسی مضمون کو ارشاد فرمایا ہے (آیت) اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ۔ بھلا دیکھو تو پانی کو جو تم پیتے ہو کیا تم نے اتارا (اس کو بادل سے یا ہم ہیں اتارنے والے اگر ہم چاہیں کردیں اس کو کھارا پھر کیوں نہیں احسان مانتے۔
یہاں تک تو قدرت الہیہ کی یہ کرشمہ سازی دیکھی کہ سمندر کے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر کے پورے روئے زمین پر بادلوں کے ذریعے کس حسن نظام کیساتھ پہونچایا کہ ہر خطہ کے نہ صرف انسانوں کو بلکہ جانوروں کو بھی جو انسانوں کی دریافت سے باہر ہیں گھر بیٹھے پانی پہنچا دیا اور بالکل مفت بلکہ جبری طور پر پہونچا۔
لیکن انسان اور جانوروں کا مسئلہ صرف اتنی بات سے حل نہیں ہوجاتا کیونکہ پانی ان کی ایسی ضرورت ہے جس کی احتیاج ہر روز بلکہ ہر آن ہے اس لئے ان کی ضرورت روز مرہ کو پورا کرنے کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ ہر جگہ سال کے بارہ مہینے ہر ورز بارش ہوا کرتی لیکن اس صورت میں ان کی پانی کی ضرورت تو رفع ہوجاتی مگر دوسری معاشی ضرورت میں کتنا خلل آتا اس کا اندازہ کسی اہل تجربہ کے لئے مشکل نہیں سال بھر کے ہر دن کی بارش تندرستی پر کیا اثر ڈالتی اور کاروبار اور نقل و حرکت میں کیا تعطل پیدا کرتی۔
دوسرا طریقہ یہ تھا کہ سال بھر کے خاص خاص مہینوں میں اتنی بارش ہوجائے کہ اس کا پانی باقی مہینوں کے لئے کافی ہوجائے مگر اس کے لئے ضرورت ہوتی کہ ہر شخص کا ایک کوٹہ مقرر کرکے اس کے سپرد کیا جائے کہ وہ اپنے کوٹہ اور حصہ کا پانی خود اپنی حفاظت میں رکھے۔
اندازہ لگائیے کہ اگر ایسا کیا جاتا تو ہر انسان اتنی ٹینکیاں یا برتن وغیرہ کہاں سے لاتا جن میں تین یا چھ مہینہ کی ضرورت کا پانی جمع کرکے رکھ لے اور اگر وہ کسی طرح ایسا کر بھی لیتا تو ظاہر ہے کہ چند روز کے بعد یہ پانی سڑ جاتا اور پینے بلکہ استعمال کرنے کے بھی قابل نہ رہتا اس لئے قدرت الہیہ نے اس کے باقی رکھنے اور بوقت ضرورت ہر جگہ مل جانے کا ایک دوسرا عجیب و غریب نظام بنایا کہ جو پانی برسایا جاتا ہے اس کا کچھ حصہ تو فوری طور پر درختوں کھیتوں اور انسانوں اور جانوروں کو سیراب کرنے میں کام آ ہی جاتا ہے کچھ کھلے تالابوں جھیلوں میں محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کے بہت بڑے حصہ کو برف کی شکل میں بحر منجمد بنا کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر لاد دیا جاتا ہے جہاں تک نہ گرد و غبار کی رسائی ہے نہ کسی غلاظت کی پھر اگر وہ پانی سیال صورت میں رہتا تو ہوا کے ذریعہ کچھ گرد و غبار یا دوسری خراب چیزیں اس میں پہنچ جانے کا خطرہ رہتا پرندے جانوروں کے اس میں گرنے مرنے کا اندیشہ رہتا جس سے وہ پانی خراب ہوجاتا مگر قدرت نے اس پانی کے عظیم خزانے کو بحر منجمد (برف) بنا کر پہاڑوں پر لاد دیا جہاں سے تھوڑا تھوڑا رس کر وہ پہاڑوں کی رگوں میں پیوست ہوجاتا ہے اور پھر چشموں کی صورت میں ہر جگہ پہنچ جاتا ہے اور جہاں یہ چشمے بھی نہیں ہیں تو وہاں زمین کی تہہ میں یہ پانی انسانی رگوں کی طرح زمین کے ہر خطہ پر بہتا ہے اور کنواں کھودنے سے برآمد ہونے لگتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آب رسانی کا یہ نظام الہی ہزاروں نعمتیں اپنے اندر لئے ہوئے ہے اول تو پانی کو پیدا کرنا ایک بڑی نعمت ہے پھر بادلوں کے ذریعہ اس کو زمین کے ہر خطہ پر پہونچانا دوسری نعمت ہے پھر اس کو انسان کے پینے کے قابل بنادینا تیسری نعمت ہے پھر انسان کو اس کے پینے کا موقع دینا چوتھی نعمت ہے پھر اس پانی کو ضرورت کے مطابق جمع اور محفوظ رکھنے کا نظام محکم پانچویں نعمت ہے پھر انسان کو اس سے پینے اور سیراب ہونے کا موقع دینا چھٹی نعمت ہے کیونکہ پانی کے موجود ہوتے ہوئے بھی ایسی آفتیں ہو سکتی ہیں کہ ان کی وجہ سے آدمی پینے پر قادر نہ ہو قرآن کریم کی أیت فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ ۚ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ میں انہی نعماء الہیہ کی طرف اشارہ اور تنبیہ کی گئی ہے فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
Ayahs 15:24–25نیک کاموں میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے میں درجات کا فرق
وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ میں مستقدمین اور مستاخرین کی چند تفسیریں ائمہ صحابہ وتابعین سے مختلف منقول ہیں مستقدمین وہ لوگ وہ جواب تک پیدا ہوچکے ہیں اور مستاخرین وہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے (قتادہ و عکرمہ) مستقدمین سے مراد اموات ہیں اور مستاخرین سے وہ لوگ جو اب زندہ ہیں (ابن عباس وضحاک) مستقدمین سے مراد امت محمدیہ سے پہلے حضرات ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ (مجاہد) مستقدمین سے مراد اہل اطاعت وخیر ہیں اور مستاخرین سے اہل معصیت و غفلت (حسن و قتادہ) مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز کی صفوف یا جہاد کی صفوف اور دوسرے نیک کاموں میں آگے رہنے والے ہیں اور مستاخرین وہ جو ان چیزوں میں پچھلی صفوں میں رہنے والے اور دیر کرنے والے ہیں حسن بصری، سعید بن مسیب، قرطبی، شعبی وغیرہ ائمہ تفسیر کی یہ تفسیر ہے اور یہ ظاہر ہے کہ درحقیقت ان اقوال میں کوئی خاص اختلاف نہیں سب جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ کا علم محیط ان تمام اقسام کے مستقدمین ومستاخرین پر حاوی ہے۔
قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ اسی آیۃ سے نماز میں صف اول اور شروع وقت میں نماز ادا کرنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اذان کہنے اور نماز کی صف اول میں کھڑے ہونے کی کتنی بڑی فضیلت ہے تو تمام آدمی اس کی کوشش میں لگ جاتے کہ پہلی ہی صف میں کھڑے ہوں اور سب کے لئے جگہ نہ ہوتی تو قرعہ اندازی کرنا پڑتی۔
قرطبی نے اس کے ساتھ حضرت کعب کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اس امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جب وہ سجدے میں جاتے ہیں تو جتنے آدمی اس کے پیچھے ہیں سب کی مغفرت ہوجاتی ہے اسی لئے حضرت کعب آخری صف میں رہنا پسند کرتے تھے کہ شاید اگلی صفوف میں اللہ کا کوئی بندہ اس شان کا ہو تو اس کی برکت سے میری مغفرت ہوجائے انتہی کلامہ۔
اور ظاہر یہ ہے کہ اصل فضیلت تو صف اول ہی میں ہے جیسا کہ آیت قرآن اور حدیث کی تصریحات سے ثابت ہوا لیکن جس شخص کو کسی وجہ سے صف اول میں جگہ نہ ملی تو اس کو بھی ایک گونہ فضیلت یہ حاصل رہے گی کہ شاید اگلی صفوف کے کسی نیک بندے کی بدولت اس کی بھی مغفرت ہوجائے اور آیت مذکورہ میں جیسے نماز کی صف اول کی فضیلت ثابت ہوئی اسی طرح جہاد کی صف اول کی افضلیت بھی ثابت ہوگئی۔
Ayahs 15:26–28خلاصہ تفسیر
اور ہم نے انسان کو (یعنی اس نوع کی اصل اول آدم ؑ کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوئی تھی پیدا کیا (یعنی اول گاڑے کو خوب خمیر کیا کہ اس میں بو آنے لگی پھر وہ خشک ہوگیا کہ وہ خشک ہونے سے کھن کھن بولنے لگا جیسا مٹی کے برتن چٹکی مارنے سے بجا کرتے ہیں پھر اس خشک گارے سے آدم کا پتلا بنایا جو بڑی قدرت کی علامت ہے) اور جن کو (یعنی اس نوع کی اصل ابو الجان کو) اس کے قبل (یعنی آدم ؑ کے قبل) آگ سے کہ وہ (غایت لطافت کی وجہ سے) ایک گرم ہوا تھی پیدا کرچکے تھے مطلب یہ کہ چونکہ اس آگ میں اجزائے دخانیہ نہ تھے اس لئے وہ مثل ہوا کے نظر نہ آتی تھی کیونکہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کے اختلاط سے ہوتا ہے اس کو دوسری آیت میں اس طرح فرمایا ہے وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) اور وہ وقت یاد کرنے قابل ہے جب آپ کے رب نے ملائکہ سے (ارشاد) فرمایا کہ میں ایک بشر کو (یعنی اس کے پتلے کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوگی پیدا کرنے والا ہوں سو میں جب اس کو (یعنی اس کے اعضائے جسمانیہ کو) پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) جان ڈال دوں تو تم سب اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا سو (جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا لیا تو) سارے کے سارے فرشتوں نے (آدم ؑ کو) سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ اس نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل کرنے ہو (یعنی سجدہ نہ کیا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھ کو کون سا امر باعث ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا کہنے لگا کہ میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہے پیدا کیا ہے (یعنی ایسے حقیر و ذلیل مادہ سے بنایا گیا ہے کیونکہ میں نورانی مادہ آتش سے پیدا ہوا ہوں تو نورانی ہو کر ظلمانی کو کیسے سجدہ کروں) ارشاد ہوا تو (اچھا پھر) آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو (اس حرکت سے) مردود ہوگیا اور بیشک تجھ پر میری) لعنت قیامت تک رہے گی (جیسا دوسری آیت میں ہے عَلَيْكَ اللَّعْنَتِی یعنی قیامت تک جو محل رحمت نہ ہو تو پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں پس جس وقت تک احتمال تھا اس کی نفی کردی اور اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس میں تو مہلت مانگنے سے پہلے ہی مہلت دینے کا وعدہ ہوگیا بات یہ ہے کہ مقصود قیامت تک عمر دینا نہیں ہے کہ یہ شبہ ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ حیات دنیویہ میں تو ملعون ہے گو وہ قیامت تک ممتد کیوں نہ ہو) کہنے لگا (کہ اگر مجھ کو آدم کی وجہ سے مردود کیا ہے) تو پھر مجھ کو (مرنے سے) مہلت دیجئے قیامت کے دن تک (تاکہ ان سے اور ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں) ارشاد ہوا (جب تو مہلت مانگتا ہے) تو (جا) تجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گئی کہنے لگا اے میرے رب بسبب اس کے کہ آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں (یعنی آپ نے ان کو میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے) ارشاد ہوا کہ (ہاں) یہ (منتخب ہوجانا جس کا طریقہ اعمال صالحہ و اطاعت کاملہ ہے) ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے (یعنی اس پر چل کر ہمارے مقرب ہوجاتا ہے) واقعی میرے ان (مذکور) بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیری راہ پر چلنے لگے (تو چلے) اور (جو لوگ تیری راہ پر چلیں گے) ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ (میں سے جانے) کیلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں (کہ کوئی کسی دروازے سے جائے گا کوئی کسی دروازے سے)
Ayahs 15:29–30معارف و مسائل
بدن انسانی میں نفخ روح اور اس کو مسجود ملائکہ بنانے کی مختصر تحقیق
روح کوئی جسم ہے یا جوہر مجرد اس میں علماء وحکماء کا اختلاف قدیم زمانے سے چلا آتا ہے شیخ عبد الرءوف منادی نے فرمایا کہ اس میں حکماء کے اقوال ایک ہزار تک پہنچنے ہیں مگر سب قیاسات اور تخمینے ہی ہیں کسی کو یقینی نہیں کہا جاسکتا امام غزالی، امام رازی اور عموما صوفیہ اور فلاسفہ کا قول یہ ہے کہ وہ جسم نہیں بلکہ جوہر مجرد ہے امام رازی نے اس کے بارہ دلائل پیش کئے ہیں
مگر جمہور علماء امت روح کو ایک جسم لطیف قرار دیتے ہیں نفخ کے معنی پھونک مارنے کے ہیں اگر بقول جمہور روح کو جسم لطیف قرار دیا جائے تو اس کو پھونکنا ظاہر ہے اور جوہر مجرد مان لیا جائے تو پھونکنے کے معنی اس کا بدن سے تعلق پیدا کردینا ہوگا (بیان القرآن)
روح اور نفس کے متعلق حضرت قاضی ثناء اللہ کی تحقیق
یہاں اس طویل الذیل بحث کو چھوڑ کر ایک خاص تحقیق پر اکتفاء کیا جاتا ہے جو تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تحریر فرمائی ہے حضرت قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ روح کی دو قسم ہیں، علوی اور سفلی، روح علوی مادہ سے مجرد اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جس کی حقیقت کا ادراک مشکل ہے اہل کشف کو اس کا اصل مقام عرش کے اوپر دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ عرش سے زیادہ لطیف ہے اور روح علوی بنظر کشفی اوپر نیچے پانچ درجات میں محسوس کی جاتی ہے وہ پانچ یہ ہیں قلب، روح، سر، خفی، اخفی، اور یہ سب عالم امر کے لطائف میں سے ہیں جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے (آیت) قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ اور روح سفلی وہ بخار لطیف ہے جو بدن انسانی کے عناصر اربعہ آگ پانی مٹی ہوا سے پیدا ہوتا ہے اور اسی روح سفلی کو نفس کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس روح سفلی کو جسے نفس کہا جاتا ہے ارواح علویہ مذکورہ کا آئینہ بنادیا ہے جس طرح آئینہ جس آفتاب کے مقابل کیا جائے تو آفتاب کے بہت بعید ہونے کے باوجود اس میں آفتاب کا عکس آجاتا ہے اور روشنی کی وجہ سے وہ بھی آفتاب کی طرح چمک اٹھتا ہے اور آفتاب کی حرارت بھی اس میں آجاتی ہے جو کپڑے کو جلا سکتی ہے اسی طرح ارواح علویہ اگرچہ اپنے تجرد کی وجہ سے بہت اعلیٰ وارفع اور بہت مسافت بعیدہ پر ہیں مگر ان کا عکس اس روح سفلی کے آئینہ میں آ کر ارواح علویہ کی کیفیات وآثار اس میں منتقل کردیتا ہے اور یہی آثار جو نفوس میں پیدا ہوجاتے ہیں ہر ہر فرد کے لئے ارواح جزئیہ کہلاتے ہیں
پھر یہ روح سفلی جس کو نفس کہتے ہیں اپنی ان کیفیات وآثار کے ساتھ جن کو ارواح علویہ سے حاصل کیا ہے اس کا تعلق بدن انسانی میں سب سے پہلے مضغہ قلبیہ سے ہوتا ہے اور اس تعلق ہی کا نام حیات اور زندگی ہے روح سفلی کے تعلق سے سب سے پہلے انسان کے قلب میں حیات اور وہ ادراکات پیدا ہوتے ہیں جن کو نفس نے ارواح علویہ سے حاصل کیا ہے یہ روح سفلی پورے بدن میں پھیلی ہوئی باریک رگوں میں سرایت کرتی ہے جن کو شرائین کہا جاتا ہے اور اس طرح وہ تمام بدن انسانی کے ہر حصہ میں پہنچ جاتی ہے۔
روح سفلی کے بدن انسانی میں سرایت کرنے ہی کو نفخ روح سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ کسی چیز میں پھونک بھرنے سے بہت مشابہ ہے۔
اور آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے روح کو اپنی طرف منسوب کر کے من روحی اسی لئے فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں روح انسانی کا اشرف واعلیٰ ہونا واضح ہوجائے کیونکہ وہ بغیر مادے کے محض امر الہی سے پیدا ہوئی ہے نیز اس میں تجلیات رحمانیہ کے قبول کرنے کی ایسی استعداد ہے جو انسان کے علاوہ کسی دوسرے جاندار کی روح میں نہیں ہے۔
اور انسان کی پیدائش میں اگرچہ عنصر غالب مٹی کا ہے اور اسی لئے قرآن عزیز میں انسان کی پیدائش کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن درحقیقت وہ دس چیزوں کا جامع ہے جن میں پانچ عالم خلق کی ہیں اور پانچ عالم امر کی عالم خلق کے چار عنصر آگ پانی مٹی ہوا اور پانچواں ان چاروں سے پیدا ہونے والا بخار لطیف جس کو روح سفلی یا نفس کہا جاتا ہے اور عالم امر کی پانچ چیزیں وہ ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یعنی قلب، روح، سر، خفی، اخفی، اسی جامعیت کے سبب انسان خلافت الہیہ کا مستحق بنا اور نور معرفت اور نار عشق و محبت کا متحمل ہوا جس کا نتیجہ بےکیف معیت الہیہ کا حصول ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے (المرء مع من احب) یعنی ہر انسان اس فرد کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے۔
اور انسان میں تجلیات الہیہ کی قابلیت اور معیت الہیہ کا جو درجہ اس کو حاصل ہے اسی کی وجہ سے حکمت الہیہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اس کو مسجود ملائکہ بنایا جائے ارشاد ہوا (آیت) فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ