14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف، ان کے رب کے حکم سے رستہ پر اس زبردست خوبیوں والے

خلاصہ تفسیر الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپ (اس کے ذریعہ سے) تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (مرتبہ تبلیغ میں کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف یعنی ذات غالب ستودہ صفات کی راہ کی طرف لاویں (روشنی میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راہ بتلا دیں) جو ایسا خدا ہے کہ اس کی ملک ہے جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے اور (جب یہ کتاب خدا کا راستہ بتلاتی ہے تو) بڑی خرابی یعنی بڑا سخت عذاب ہے ان کافروں کو جو (اس راہ کو نہ تو خود قبول کرتے ہیں بلکہ) دنیوی زندگانی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں (اس لئے دین کی جستجو نہیں کرتے) اور (نہ دوسروں کو یہ راہ اختیار کرنے دیتے ہیں بلکہ) اللہ کی (اس) راہ (مذکور) سے روکتے ہیں اور اس میں کجی (یعنی شبہات) کے متلاشی رہتے ہیں (جن کے ذریعہ سے دوسروں کو گمراہ کرسکیں) ایسے لوگ بڑی دور کی گمراہی میں ہیں (یعنی وہ گمراہی حق سے بڑی دور ہے) معارف و مسائل سورۃ اور اس کے مضامین یہ قرآن کریم کی چودہویں سورة سورة ابراہیم شروع ہوتی ہے یہ سورة مکی ہے قبل از ہجرت نازل ہوئی بجز چند آیات کے جن کے بارے میں اختلاف ہے کہ مدنی ہیں یا مکی۔ اس سورة کے شروع میں رسالت ونبوت اور ان کی کچھ خصوصیات کا بیان ہے پھر توحید کا مضمون اور اس کے شواہد کا ذکر ہے اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ ذکر کیا گیا ہے اور اسی مناسبت سے سورة کا نام سورة ابراہیم رکھا گیا ہے۔ الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ۔ الۗرٰ ان حروف مقطعات میں سے ہیں جن کے متعلق بار بار ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس میں اسلم اور بےغبار طریقہ سلف صالحین کا ہے کہ اس میں ایمان و یقین رکھیں کہ جو کچھ اس کی مراد ہے وہ حق ہے لیکن اس کے معانی کی تحقیق وتفتیش کے درپے نہ ہوں۔ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ میں نحوی ترکیب کے لحاظ سے زیادہ واضح اور صاف بات یہ ہے کہ اس کو لفظ ھذا محذوف کی خبر قرار دی جائے اور جملہ کے معنی یہ ہوں کہ یہ وہ کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اس میں نازل کرنے کی نسبت حق تعالیٰ شانہ کی طرف اور خطاب کی نسبت رسول کریم ﷺ کی طرف کرنے میں دو چیزوں کی طرف اشارہ پایا گیا ایک یہ کہ یہ کتاب نہایت عظیم المرتبہ ہے کہ اس کو خود ذات حق تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے دوسرے رسول کریم ﷺ کے عالی مرتبہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کو اس کا پہلا مخاطب بنایا ہے لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ۔ لفظ ناس عام انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے اس سے مراد تمام عالم کے موجود اور آئندہ آنے والے انسان ہیں الظُّلُمٰتِ ظلمۃ کی جمع ہے جس کے معنی اندھیرے کے معروف و مشہور ہیں یہاں الظُّلُمٰتِ سے مراد کفر و شرک اور بداعمالیوں کی ظلمت ہے اور نور سے مراد ایمان کی روشنی ہے اسی لئے لفظ ظلمت کو بصیغہ جمع لایا گیا کیونکہ کفر و شرک کی بہت سی انواع و اقسام ہیں اسی طرح برے اعمال بھی بیشمار ہیں اور لفظ نور کو بصیغہ مفرد لایا گیا کیونکہ ایمان اور حق واحد ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ کتاب ہم نے اس لیے آپ کی طرف نازل کی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ تمام عالم کے انسانوں کو کفر و شرک اور برے کاموں کی اندھیریوں سے نجات دلا کو ایمان اور حق کی روشنی میں لے آئیں ان کے رب کی اجازت سے یہاں لفظ رب لانے میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام انسانوں پر یہ انعام کہ اپنی کتاب اور پیغمبر کے ذریعہ ان کو اندھیروں سے نجات دلائیں اس کا سبب اور منشاء بجز اس لطف و مہربانی کے اور کچھ نہیں جو تمام انسانوں کے خالق ومالک نے اپنی شان ربوبیت سے ان پر مبذول کر رکھی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ نہ کسی کا کوئی حق لازم ہے نہ کسی کا زور اس پر چلتا ہے ہدایت صرف خدا کا فعل ہے اس آیت میں اندھیری سے نجات دے کر روشنی میں لانے کو آنحضرت محمد ﷺ کا فعل قرار دیا گیا ہے حالانکہ ہدایت دنیا حقیقت میں حق تعالیٰ ہی کا فعل ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۔ یعنی آپ باختیار خوش خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہدایت دیتا ہے اسی لئے اس آیت میں بِاِذْنِ رَبِّھِمْ کا لفظ بڑھا کر یہ شبہ ختم کردیا گیا کیونکہ معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ یہ کفر و شرک کی اندھیریوں سے نکل کر ایمان وعمل صالح کی روشنی میں لانا اگرچہ اصل حقیقت کی رو سے آپ کے ہاتھ میں نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے حکم و اجازت سے آپ کرسکتے ہیں ، احکام و ہدایات اس آیت سے معلوم ہوا کہ تمام بنی آدم اور نوع انسانی کو برائیوں کی اندھیریوں سے نکالنے اور روشنی میں لانے کا واحد ذریعہ اور انسان و انسانیت کو دنیا وآخرت کی بربادی اور ہلاکت سے نجات دلانے کا واحد راستہ قرآن کریم ہے جتنا لوگ اس کے قریب آئیں گے اسی انداز سے اس دنیا میں بھی امن وامان اور عافیت و اطمینان نصیب ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح و کامیابی حاصل ہوگی اور جتنا اس سے دور ہوں گے اتنا ہی دونوں جہاں کی خرابیوں بربادیوں مصیبتوں اور پریشانیوں کے غار میں گریں گے آیت کے الفاظ میں یہ نہیں کھولا گیا کہ آنحضرت محمد ﷺ قرآن کے ذریعہ کس طرح لوگوں کو اندہیریوں سے نجات دے کر روشنی میں لائیں گے لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ کسی کتاب کے ذریعہ کسی قوم کو درست کرنے کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ اس کتاب کی تعلیمات و ہدایات کو اس قوم میں پھیلایا جائے اور ان کو اس کا پابند کیا جائے قرآن کریم کی تلاوت بھی مستقل مقصد ہے مگر قرآن کریم کی ایک مزید خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی تلاوت اور بغیر سمجھے ہوئے اس کے الفاظ کا پڑھنا بھی بالخاصہ انسان کے نفس پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کو برائیوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے کم از کم کفر و شرک کے کیسے ہی خوب صورت جال ہوں قرآن پڑھنے والا اگرچہ بےسمجھے ہی پڑھتا ہو ان کے دام میں نہیں آسکتا ہندوؤں کی تحریک شدھی سنگٹھن کے زمانے میں اس کا مشاہدہ ہوچکا ہے ان کے دام میں صرف کچھ وہ لوگ آئے جو قرآن کی تلاوت سے بھی بیگانہ تھے آج عیسائی مشنریاں مسلمانوں کے ہر خطہ میں طرح طرح کے سبز باغ اور سنہرے جال لئے پھرتی ہیں لیکن ان کا اگر کوئی اثر پڑتا ہے تو صرف ان گھرانوں پر جو قرآن کی تلاوت سے بھی غافل ہیں خواہ جاہل ہونے کی وجہ سے یا نئی تعلیم کے غلط اثر سے۔ شاید اسی معنوی اثر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن کریم میں جہاں رسول کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد بتلائے گئے ہیں وہاں تعلیم معانی سے پہلے تلاوت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ یعنی رسول کریم ﷺ کو تین کاموں کے لئے بھیجا گیا ہے پہلا کام قرآن مجید کی تلاوت ہے اور ظاہر ہے کہ تلاوت کا تعلق الفاظ سے ہے معانی سمجھے جاتے ہیں ان کی تلاوت نہیں ہوتی دوسرا کام لوگوں کو برائیوں سے پاک کرنا اور تیسرا کام قرآن کریم اور حکمت یعنی سنت رسول کی تعلیم دینا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ایسا ہدایت نامہ ہے جس کے معانی سمجھ کر اس پر عمل کرنا تو اصل مقصد ہی ہے اور اس کا انسانی زندگی کی اصلاح میں مؤ ثر ہونا بھی واضح ہے اس کے ساتھ اس کے الفاظ کی تلاوت کرنا بھی غیر شعوری طور پر انسان کے نفس کی اصلاح میں نمایاں اثر رکھتا ہے۔ اس آیت میں باذن خداوندی اندہیریوں سے نکال کر روشنی میں لانے کی نسبت رسول کریم ﷺ کی طرف کر کے یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ اگرچہ ہدایت کا پیدا کرنا حقیقۃ حق تعالیٰ کا فعل ہے مگر رسول کریم ﷺ کے واسطہ کے بغیر اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا قرآن کریم کا مفہوم اور تعبیر بھی وہی معتبر ہے جو رسول کریم ﷺ نے اپنے قول یا عمل سے بتلا دی ہے اس کے خلاف کوئی تعبیر معتبر نہیں۔ (آیت) صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ اس آیت کے شروع میں جو ظلمت ونور کا ذکر آیا ہے ظاہر ہے کہ یہ وہ اندہیری اور روشنی نہیں جو عام آنکھوں سے نظر آئے اس لئے اس کو واضح کرنے کے لئے اس جملے میں ارشاد فرمایا کہ وہ روشنی اللہ کا راستہ ہے جس پر گامزن ہونے والا نہ اندھیرے میں چلنے والے کی طرح بھٹکتا ہے نہ اس کو لغزش ہوتی ہے نہ وہ مقصد تک پہنچنے میں ناکام ہوتا ہے اللہ کے راستہ سے مراد وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان خدا تک پہنچ سکے اور اس کی رضا کا درجہ حاصل کرسکے۔ اس جگہ لفظ اللہ تو بعد میں لایا گیا اس سے پہلے اس کی دو صفتیں عزیز اور حمید ذکر کی گئی ہیں عزیز کے معنی عربی لغت کے اعتبار سے قوی اور غالب کے ہیں اور حمید کے معنی وہ ذات جو حمد کی مستحق ہو ان دو صفتوں کو اصل نام حق سے پہلے لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ راستہ جس ذات قدوس کی طرف لے جانے والا ہے وہ قوی اور غالب بھی ہے اور ہر حمد کی مستحق بھی اس لئے اس پر چلنے والا نہ کہیں ٹھوکر کھائے گا نہ اس کی کوشش رائیگاں ہوگی بلکہ اس کا منزل مقصود پر پہنچنا یقینی ہے شرط یہ ہے کہ اس راستہ کو نہ چھوڑے۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اللہ کے جس کا ہے جو کچھ کہ موجود ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور مصیبت ہے کافروں کو ایک سخت عذاب سے

اللہ تعالیٰ کی یہ دو صفتیں پہلے بیان کرنے کے بعد فرمایا اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَافِي السَّمٰوٰتِ وَمَافِي الْاَرْضِ یعنی یہ وہ ذات ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اس کا پیدا کیا ہوا اور اسی کی ملک خاص ہے جس میں کوئی شریک نہیں۔ وَوَيْلٌ لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِ لفظ ویل عذاب شدید اور ہلاکت کے معنی میں آتا ہے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اس نعمت قرآن سے منکر ہیں اور کفر و شرک کے اندھیرے ہی میں رہنے کو پسند کرتے ہیں ان کے لئے بڑی بربادی اور ہلاکت ہے اس عذاب شدید سے جو ان پر آنے والا ہے۔ خلاصہ مفہوم آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ سب انسانوں کو اندھیرے سے نکال کر اللہ کے راستہ کی روشنی میں لے آئے مگر جو بدنصیب قرآن ہی کے منکر ہوجائیں تو وہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو عذاب میں ڈال رہے ہیں جو لوگ قرآن کے کلام الہی ہونے ہی کے منکر ہیں وہ تو اس وعید کی مراد ہیں ہی مگر جو اعتقادا منکر نہیں مگر عملا قرآن کو چھوڑے ہوئے ہیں نہ تلاوت سے کوئی واسطہ ہے نہ اس کے سمجھنے اور عمل کرنے کی طرف کوئی التفات ہے وہ بدنصیب بھی مسلمان ہونے کے باوجود اس وعید سے بالکل بری نہیں۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو کہ پسند رکھتے ہیں زندگی دنیا کی آخرت سے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی، وہ راستہ بھول کر جا پڑے ہیں دور

(آیت) الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ اس آیت میں منکریں قرآن کافروں کے تین حال بتلائے گئے ہیں ایک یہ کہ وہ دنیا کی زندگی کو بہ نسبت آخرت کے زیادہ پسند کرتے ہیں اور ترجیح دیتے ہیں اسی لئے دنیا کے نفع یا آرام کی خاطر آخرت کا نقصان کرنا گوارا کرلیتے ہیں اس میں ان کے مرض کی تشخیص کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود اس سے منکر کیوں ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا کی موجودہ زندگی کی محبت نے آخرت کے معاملات سے اندھا کر رکھا ہے اس لئے ان کو اپنی اندہیری ہی پسند ہے روشنی کی طرف آنے سے کوئی رغبت نہیں۔ دوسری خصلت ان کی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ خود تو اندہیریوں میں رہنے کو پسند کرتے ہی ہیں اس پر ظلم یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو بھی روشنی کی شاہراہ یعنی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ قرآن فہمی میں بعض غلطیوں کی نشاندہی تیسری خصلت وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا میں بیان کی گئی ہے اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ یہ لوگ اپنی بدباطنی اور بدعملی کے سبب اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کے روشن اور سیدھے راستہ میں کوئی کجی اور خرابی نظر آئے تو ان کو اعتراض اور طعن کا موقع ملے ابن کثیر نے یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ اور اس جملہ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ اس فکر میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کے راستے یعنی قرآن وسنت میں کوئی چیز ان کے خیالات اور خواہشات کے موافق مل جائے تو اس کو اپنی حقانیت کے استدلال میں پیش کریں تفسیر قرطبی میں اسی معنی کو اختیار کیا گیا ہے جیسے آج کل بیشمار اہل علم اس میں مبتلا ہیں کہ اپنے دل میں ایک خیال کبھی اپنی غلطی سے کبھی کسی دوسری قوم سے متاثر ہو کر گھڑ لیتے ہیں پھر قرآن و حدیث میں اس کے مؤ یدات تلاش کرتے ہیں اور کہیں کوئی الفظ اس خیال کی موافقت میں نظر پڑگیا تو اس کو اپنے حق میں قرآنی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ کار اصولا ہی غلط ہے کیونکہ مومن کا کام یہ ہے کہ اپنے خیالات و خواہشات سے خالی الذہن ہو کر کتاب وسنت کو دیکھے جو کچھ ان سے واضح طور پر ثابت ہوجائے اسی کو اپنا مسلک قرار دے۔ (آیت) اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ اس جملہ میں ان کفار کا انجام بد بیان کیا گیا ہے جن کی تین صفتیں اوپر بیان ہوئی ہیں اور حاصل اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی گمراہی میں بڑی دور جا پہنچے ہیں کہ اب ان کا راہ پر آنا مشکل ہے۔ احکام و مسائل تفسیر قرطبی میں ہے کہ اگرچہ اس آیت میں صراحۃ یہ تین خصلتیں کفار کی بیان کی گئی ہیں اور انہی کا یہ انجام ذکر کیا گیا ہے کہ وہ گمراہی میں دور چلے گئے ہیں لیکن اصول کی رو سے جس مسلمان میں بھی یہ تین خصلتیں موجود ہوں وہ بھی اس وعید کا مستحق ہے ان تین خصلتوں کا خلاصہ یہ ہے 1 دنیا کی محبت کو آخرت پر غالب رکھیں یہاں تک کہ دین کی روشنی میں نہ آئیں۔ 2 دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک رکھنے کے لئے اللہ کے راستہ سے روکیں۔ 3 قرآن وسنت کو ہیر پھیر کر کے اپنے خیالات پر منطبق کرنے کی کوشش کریں۔ نعوذ باللہ منہ
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے، پھر راستہ بھلاتا ہے اللہ جس کو چاہے اور راستہ دکھلا دیتا ہے جس کو چاہے اور وہ ہے زبردست حکمتوں والا۔

خلاصہ تفسیر اور (اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں جو بعض کفار کو یہ شبہ ہے کہ یہ عربی کیوں ہے جس سے احتمال ہوتا ہے کہ خود پیغمبر ﷺ نے تصنیف کرلیا ہوگا عجمی زبان میں کیوں نہیں تاکہ یہ احتمال ہی نہ ہوتا اور قرآن دوسری کتب سماویہ سے عجمی ہونے میں متوافق بھی ہوتا تو یہ شبہ محض لغو ہے کیونکہ) ہم نے تمام (پہلے) پیغمبروں کو (بھی) انہی کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ (ان کی زبان میں) ان سے (احکام الہیہ کو) بیان کریں (کہ اصل مقصود واضح بیان ہے تو سب کتابوں کا ایک زبان میں ہونا کوئی مقصد نہیں) پھر (بیان کرنے کے بعد) جس کو اللہ تعالیٰ چاہے گمراہ کرتے ہیں (کہ وہ ان احکام کو قبول نہیں کرتا) اور جس کو چاہیے ہدایت کرتے ہیں (کہ وہ ان احکام کو قبول کرلیتا ہے) اور وہی (سب امور پر) غالب ہے (اور) حکمت والا ہے (پس غالب ہونے کے سبب سب کو ہدایت کرسکتا تھا مگر بہت سی حکمتیں اس کو مقتضی نہ ہوئیں) معارف و مسائل پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور سہولت کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی کوئی رسول کس قوم کی طرف بھیجا ہے تو اس قوم کا ہم زبان بھیجا ہے تاکہ وہ احکام الہیہ انہی کی زبان اور انہی کے محاورات میں بتلائے اور ان کو اس کا سمجھنا آسان ہو اگر رسول کی زبان امت کی زبان سے مختلف ہوتی تو ظاہر ہے کہ اس کے احکام سمجھنے میں امت کو ترجمہ کرنے کرانے کی مشقت بھی اٹھانا پڑتی اور پھر بھی احکام کو صحیح سمجھنا مشکوک رہتا اس لئے اگر عبرانی زبان بولنے والوں کی طرف کوئی رسول بھیجا تو رسول کی زبان بھی عبرانی ہی تھی فارسیوں کے رسول کی زبان بھی فارسی، بربریوں کے رسول کی زبان بربری رکھی گئی خواہ اس صورت سے کہ جس شخص کو رسول بنایا گیا وہ خود اسی قوم کا فرد ہو اور مادری زبان اسی قوم کی زبان ہو یا یہ کہ اس کی پیدائشی اور مادری زبان اگرچہ کچھ اور ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا فرمائے کہ اس نے اس قوم کی زبان سیکھ لی جیسے حضرت لوط ؑ اگرچہ اصل باشندے عراق کے تھے جہاں کی زبان فارسی تھی لیکن ملک شام کی طرف ہجرت کرنے کے بعد انہی لوگوں میں شادی کی اور شامیوں کی زبان ہی ان کی زبان بن گئی تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خطہ شام کا نبی بنایا۔ اور ہمارے رسول کریم ﷺ جن کی بعثت مکان و مقام کے اعتبار سے پوری دنیا کے لئے اور زمانے کے اعتبار سے قیامت تک کے لئے عام ہے دنیا کی کوئی قوم کسی ملک کی رہنے والی کسی زبان کی بولنے والی آپ کے دائرہ رسالت ونبوت سے باہر نہیں اور قیامت تک جتنی قومیں اور زبانیں نئی پیدا ہوں گی وہ سب کی سب رسول کریم ﷺ کی امت دعوت میں داخل ہوں گی جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا۔ یعنی اے لوگو ! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف اور صحیح بخاری ومسلم میں بروایت جابر ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان اپنی پانچ امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ سے پہلے ہر رسول و نبی خآص اپنی قوم و برادری کی طرف مبعوث ہوا کرتا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام اقوام بنی آدم کی طرف مبعوث فرمایا حق تعالیٰ نے اس عالم میں انسانی آبادی کو حضرت آدم ؑ سے شروع فرمایا اور انہی کو انسانوں کا سب سے پہلا نبی اور پیغمبر بنایا پھر انسانی آبادی جس طرح اپنی عمرانی اور اقتصادی حیثت سے پھیلتی اور ترقی کرتی رہی اسی کی مناسبت سے رشد و ہدایت کے انتظامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف رسولوں پیغمبروں کے ذریعہ ہوتے رہے زمانہ کے ہر دور اور ہر قوم کے مناسب حال احکام اور شریعتیں نازل ہوتی رہیں یہاں تک کہ عالم انسانی کا نشوونما سن کمال کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے سید الاولین والآخرین امام الانبیاء محمد مصطفے ﷺ کو اس پوری دنیا کا رسول بنا کر بھیجا اور جو کتاب و شریعت آپ کو دی وہ پورے عالم اور قیامت تک کے پورے زمانے کے لئے کامل ومکمل کر کے دی اور ارشاد فرمایا (آیت) اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ۔ یعنی میں نے آج تمہارے لئے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت تمہارے لئے پوری کردی۔ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتیں بھی اپنے وقت اور اپنے خطہ کے اعتبار سے کامل و مکمل تھیں ان کو بھی ناقص نہیں کہا جاسکتا لیکن شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کا کمال کسی خاص وقت اور خاص خطہ کے ساتھ مخصوص نہیں یہ کامل علی الاطلاق ہے اسی حیثیت سے تکمیل دین اس شریعت کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم کردیا گیا۔ قرآن کریم عربی زبان میں کیوں ہے یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کے رسول ان کے ہم زبان بھیجے گئے ان کو ترجمہ کرنے کی محنت کی ضرورت نہ رہی رسول کریم ﷺ صرف عرب میں عربی زبان کے ساتھ کیوں مبعوث ہوئے ؟ اور آپ کی کتاب قرآن بھی عربی زبان ہی میں کیوں نازل ہوئی لیکن غور و فکر سے کام لیا جائے تو جواب صاف ہے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ کی بعثت اور دعوت تمام اقوام دنیا کے لئے عام ہوئی جن میں سینکڑوں زبانیں رائج ہیں تو ان سب کی ہدایت کے لئے دو ہی صورتیں ممکن تھیں ایک یہ کہ قرآن ہر قوم کی زبان میں جدا جدا ہوتیں اللہ کی قدرت کاملہ کے سامنے اس کا انتظام کوئی دشوار نہ تھا لیکن تمام اقوام عالم کے لئے ایک رسول ایک کتاب ایک شریعت بھیجنے کا جو ایک عظیم مقصد ان تمام اقوام عالم میں ہزاروں طرح کے اختلافات کے باوجود دینی، اخلاقی، معاشرتی وحدت اور یک جہتی پیدا کرنا ہے وہ اس صورت سے حاصل نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ جب ہر قوم ہر ملک کا قرآن و حدیث الگ زبان میں ہوتے تو اس میں تحریف قرآن کے بیشمار راستے کھل جاتے اور قرآن کریم کے کلام کا محفوظ ہونا جو اس کی ایسی خصوصیت ہے کہ اغیار اور منکرین قرآن بھی اس کے تسلیم کرنے سے گریز نہیں کرسکتے یہ معجزانہ خصوصیت قائم نہ رہتی اور ایک ہی دین ایک ہی کتاب کے ہوتے ہوئے اس کے ماننے والوں کی اتنی مختلف راہیں ہوجاتیں کہ کوئی نقطہ وحدت ہی باقی نہ رہتا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم کے ایک عربی زبان میں نازل ہونے کے باوجود اس کی تعبیر و تفسیر میں کس قدر اختلافات جائز حدود میں پیش آئے اور ناجائز و باطل طریقوں سے اختلاف کی تو کوئی حد نہیں لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں کی قومی وحدت اور ممتاز تشخص ان سب لوگوں میں موجود ہے جو قرآن پر کسی درجہ میں بھی عامل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی رسالت و بعثت کا پوری اقوام دنیا کے لئے عام ہونے کی صورت میں ان سب کی تعلیم و ہدایت کی یہ صورت کہ قرآن ہر قوم کی زبان میں الگ الگ ہوتا اس کو تو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی درست نہیں سمجھ سکتا اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کسی ایک ہی زبان میں آئے اور رسول کی زبان بھی وہی قرآن کی زبان ہو پھر دوسری ملکی اور علاقائی زبانوں میں اس کے ترجمے پہونچائے اور پھیلائے جائیں رسول کریم ﷺ کے نائب علماء ہر قوم ہو ملک میں آپ کی دی ہوئی ہدایات کو اپنی قوم وملک کی زبان میں سمجھائیں اور شائع کریں اس کے لئے حق تعالیٰ نے تمام دنیا کی زبانوں میں سے عربی زبان کا انتخاب فرمایا جس کی بہت سی وجوہ ہیں عربی کی خصوصیات اول یہ کہ عربی زبان آسمان کی دفتری زبان ہے فرشتوں کی زبان عربی ہے لوح محفوظ کی زبان عربی ہے جیسا کہ (آیت) قرآن بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ سے معلوم ہوتا ہے اور جنت جو انسان کا وطن اصلی ہے اور جہان اس کو لوٹ کر جانا ہے اس کی زبان بھی عربی ہے طبرانی، مستدرک حاکم، شعب الایمان بہیقی میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایااحبوالعرب لثلاث لانی عربی والقران عربی و کلام اہل الجنۃ عربی، (اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں صحیح کہا ہے جامع صغیر میں بھی صحیح کی علامت بتاتی ہے بعض محدثین نے اس کو ضعیف و مجروح کہا ہے) حافظ حدیث ابن تیمیہ نے کہا ہے کہ مضمون اس حدیث کا ثابت ہے درجہ حسن سے کم نہیں (فیض القدیر شرح جامع صغیر، ص 179 ج 1) معنی حدیث کے یہ ہیں کہ تم لوگ تین وجہ سے عرب سے محبت کرو ایک یہ کہ میں عربی ہوں دوسرے یہ کہ قرآن عربی ہے تیسرے یہ کہ اہل جنت کی زبان عربی ہے۔ تفسیر قرطبی وغیرہ میں یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضرت آدم ؑ کی زبان جنت میں عربی تھی زمین پر نازل ہونے اور توبہ قبول ہونے کے بعد عربی ہی زبان میں کچھ تغیرات ہو کر سریانی زبان پیدا ہوگئی اس سے ان روایات کی بھی تائید وتقویت ہوتی ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے منقول ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں ان کی اصلی زبان عربی ہی تھی جبرئیل امین نے قومی زبان میں ترجمہ کر کے پیغمبروں کو بتلایا اور انہوں نے اپنی قومی زبان میں امتوں کو پہونچایا یہ روایات علامہ سیوطی نے اتقان میں اور آیت مذکورہ کے ذیل میں اکثر مفسرین نے نقل کی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سب آسمانی کتابوں کی اصل زبان عربی ہے مگر قرآن کریم کے سوا دوسری کتابیں ملکی اور قومی زبانوں میں ترجمہ کرکے دی گئی ہیں اس لئے ان کے معانی تو سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر الفاظ بدلے ہوئے ہیں یہ صرف قرآن کی خصوصیت ہے کہ اس کے معانی کی طرح الفاظ بھی حق تعالیٰ ہی کی طرف سے آئے ہوئے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ دعوٰی کیا کہ سارا جہان جن وانس جمع ہو کر بھی قرآن کی ایک چھوٹی سورة بلکہ ایک آیت کی مثال نہیں بنا سکتے کیونکہ وہ معنوی اور لفظی حیثیت سے کلام الہی اور ایک صفت الہی ہے جس کی کوئی نقل نہیں اتار سکتا معنوی حیثیت سے تو دوسری آسمانی کتابیں بھی کلام الہی ہیں مگر ان میں شاید اصل عربی الفاظ کے بجائے ترجمہ ہونے ہی کی وجہ سے یہ دعوٰی کسی دوسری آسمانی کتاب نے نہیں کیا ورنہ قرآن کی طرح کلام الہی ہونے کی حیثیت سے ہر کتاب کی یکتائی اور بےمثال ہونا یقینی تھا عربی زبان کے انتخاب کی ایک وجہ خود اس زبان کی ذاتی صلاحیتیں بھی ہیں کہ ایک مفہوم کی ادائیگی کے لئے اس میں بیشمار صورتیں اور طریقے ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر عربی زبان سے ایک مناسبت عطا فرمائی ہے جس کی وجہ سے ہر شخص بآسانی عربی زبان بقدر ضرورت سیکھ لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین جس ملک میں پہنچنے تھوڑے ہی عرصہ میں بغیر کسی جبر واکراہ کے پورے ملک کی زبان عربی ہوگئی، مصر، شام، عراق سب میں کسی کی زبان بھی عربی نہ تھی جو آج عربی ممالک کہلاتے ہیں۔ ایک یہ وجہ بھی ہے کہ عرب لوگ اگرچہ اسلام سے پہلے سخت بداعمالیوں کے شکار تھے مگر اس قوم کی صلاحیتیں اور ملکات اور جذبات ان حالتوں میں بھی بےنظیر تھے یہی وجہ تھی کہ حق تعالیٰ نے اپنے سب سے بڑے اور آخری رسول کو ان میں پیدا فرمایا اور ان کی زبان کو قرآن کے لئے اختیار فرمایا اور رسول کریم ﷺ کو سب سے پہلے انہی کی ہدایت وتعلیم کا حکم دیا (آیت) وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ اور سب سے پہلے اسی قوم کے ایسے افراد اپنے رسول کے گرد جمع فرما دیئے جنہوں نے رسول کریم ﷺ پر اپنی جان، مال، اولاد سب کچھ قربان کیا اور آپ کی تعلیمات کو جانوں سے زیادہ عزیز سمجھا اور اس طرح ان پر رسول کریم ﷺ کی صحبت وتعلیم کا وہ گہرا رنگ چڑھا کہ پوری دنیا میں ایک ایسا مثالی معاشرہ پیدا ہوگیا جس کی نظیر اس سے پہلے آسمان و زمین نے نہیں دیکھی تھی رسول کریم ﷺ نے اس بےمثال جماعت کو قرآنی تعلیمات کے پھیلانے اور شائع کرنے کے لئے کھڑا کردیا اور فرمایا بلغوا عنی ولوا آیۃ، یعنی مجھ سے سنی ہوئی ہر بات کو امت تک پہنچا دو جاں نثار صحابہ نے اس ہدایت کو پلے باندھا اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ کر قرآن اور اس کی تعلیمات کو جہان میں پھیلا دیا رسول کریم ﷺ کی وفات پر پچیس سال گذرنے نہ پائے تھے کہ قرآن کی آواز مشرق و مغرب میں گونجنے لگی۔ دوسری طرف حق تعالیٰ نے تقدیری اور تکوینی طور پر رسول کریم ﷺ کی امت دعوت جس میں دنیا کے مشرکین اور اہل کتاب یہود و نصاری سب داخل ہیں ان میں ایک خاص ملکہ اور جذبہ تعیلم و تعلم اور تصنیف و تالیف، تبلیغ و اشاعت کا ایسا پیدا فرما دیا کہ اس کی نظیر دنیا کی پچھلی تاریخ میں نہیں ملتی اس کے نتیجہ میں عجمی اقوام میں نہ صرف قرآن وسنت کے علوم حاصل کرنے کا قوی جذبہ پیدا ہوا بلکہ عربی زبان کو حاصل کرنے اور اس کی ترویج و اشاعت میں عجمیوں کا قدم عرب سے پیچھے نہیں رہا۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ اس وقت عربی لغت اور محاورات اور اس کے قواعد نحو و صرف (گرامر) پر جتنی کتابیں دنیا میں موجود ہیں وہ بیشتر عجمیوں کی لکھی ہوئی ہیں، قرآن وسنت کی جمع و تدوین پھر تفسیر و تشریح میں بھی ان کا حصہ عربوں سے کم نہیں رہا۔ اس طرح رسول کریم ﷺ کی زبان اور آپ کی کتاب عربی ہونے کے باوجود پورے عالم پر محیط ہوگئی اور دعوت و تبلیغ کی حد تک عرب و عجم کا فرق مٹ گیا ہر ملک وقوم اور ہر عجمی زبان کے لوگوں میں ایسے علماء پیدا ہوگئے جنہوں نے قرآن وسنت کی تعلیمات کو اپنی قومی زبانوں میں نہایت سہولت کے ساتھ پہنچا دیا اور رسول کو قوم کی زبان میں بھیجنے کی جو حکمت تھی وہ حاصل ہوگئی۔ آخر آیت میں فرمایا کہ ہم نے لوگوں کی سہولت کے لئے اپنے رسولوں کو ان کی زبان میں اس لئے بھیجا کہ وہ ہمارے احکام ان کو اچھی طرح سمجھا دیں لیکن ہدایت اور گمراہی پھر بھی کسی انسان کے بس میں نہیں اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت میں ہے وہ جس کو چاہتے ہیں گمراہی میں رکھتے ہیں جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں وہی بڑی قوت اور حکمت والے ہیں۔
Ayahs 14:5–6

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بھیجا تھا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دیکر کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور یاد دلا ان کو دن اللہ کے، البتہ اس میں نشانیاں ہیں اس کو جو صبر کرنے والا ہے شکر گزار

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب چھڑا دیا تم کو فرعون کی قوم سے وہ پہنچاتے تھے تم کو برا عذاب اور ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تمہاری عورتوں کو اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی طرف سے بڑی ،

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو (کفر و معاصی کی) تاریکیوں سے (نکال کر ایمان و اطاعت کی) روشنی کی طرف لاؤ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے معاملات (نعمت اور عذاب کے) یاد دلاؤ بلاشبہ ان معاملات میں عبرتیں ہیں ہر صابر شاکر کے لئے (کیونکہ نعمت کو یاد کر کے شکر کرے گا اور نقمت یعنی عتاب کو پھر اس کے زوال کو یاد کرکے آئندہ حوادث میں صبر کرے گا) اور اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب (ہمارے اس ارشاد بالا کے موافق) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم کو فرعون والوں سے نجات دی جو تم کو سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو (یعنی لڑکیوں کو جو کہ بڑی کر عورتیں ہوجاتی تھیں) زندہ چھوڑ دیتے تھے (تاکہ ان سے کار و خدمت لیں سو یہ بھی مثل ذبح ہی کے ایک عقوبت تھی) اور اس (مصیبت اور نجات دونوں) میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑا امتحان ہے (یعنی مصیبت میں بلاء تھی اور نجات میں نعمت تھی اور بلاء اور نعمت دونوں بندے کے لئے امتحان ہیں پس اس میں موسیٰ ؑ نے ایام اللہ یعنی نعمت ونقمت دونوں کی تذکیر فرما دی) اور موسیٰ (علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ اے میری قوم) وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے (میرے ذریعہ سے) تم کو اطلاع فرما دی کہ اگر (میری نعمتوں کو سن کر) تم شکر کرو گے تو تم کو (خواہ دنیا میں بھی یا آخرت میں تو ضرور) زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم (ان نعمتوں کو سن کر) ناشکری کرو گے تو (یہ سمجھ رکھو کہ) میرا عذاب بڑا سخت ہے (ناشکری میں اس کا احتمال ہے) اور موسیٰ ؑ نے (یہ بھی) فرمایا کہ اگر تم اور تمام دنیا بھر کے آدمی سب کے سب مل کر بھی ناشکری کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ (کا کوئی ضرر نہیں کیونکہ وہ) بالکل بےاحتیاج (اور اپنی ذات میں) ستودہ صفات ہیں (استکمال بالغیر کا وہاں احتمال نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کا ضرر محتمل ہی نہیں اور تم اپنا ضرر سن چکے ہو اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ اس لئے شکر کرنا ناشکری مت کرنا) معارف و مسائل پہلی آیت میں مذکور ہے کہ ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی آیات دے کر بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو کفر و معصیت کی تاریکیوں سے ایمان وطاعت کی روشنی میں لے آئیں لفظ آیات سے آیات تورات بھی مراد ہو سکتی ہیں کہ ان کے نازل کرنے کا مقصد ہی حق کی روشنی پھیلانا تھا اور آیات کے دوسرے معنی معجزات خاص طور سے عطا فرمائے تھے جن میں عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہوجانا کئی جگہ قرآن میں مذکور ہے آیات کو معجزات کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو ایسے کھلے ہوئے معجزات دے کر بھیجا گیا جن کو دیکھنے کے بعد کوئی شریف سمجھدار انسان اپنے انکار اور نافرمانی پر قائم نہیں رہ سکتا ایک نکتہ اس آیت میں لفظ قوم آیا ہے کہ اپنی قوم کو اندہیری سے روشنی میں لائیں لیکن یہی مضمون اسی سورة کی پہلی آیت میں جب رسول کریم ﷺ کو خطاب کرکے بیان کیا گیا گو وہاں قوم کے بجائے لفظ ناس استعمال کیا گیا (آیت) لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ اس میں اشارہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت و بعثت صرف اپنی قوم بنی اسرائیل اور مصری اقوام کی طرف تھی اور رسول کریم ﷺ کی بعثت تمام عالم کے انسانوں کے لئے ہے۔ پھر ارشاد فرمایا وَذَكِّرْهُمْ ، بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یعنی حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو ایام اللہ یاد دلاؤ۔ ایام اللہایام یوم کی جمع ہے جس کی معنی دن کے مشہور ہیں لفظ ایام اللہ دو معنی کے لئے بولا جاتا ہے اور وہ دونوں یہاں مراد ہو سکتے ہیں اول وہ خاص ایام جن میں کوئی جنگ یا انقلاب آیا ہے جیسے غزوہ بدر و احد اور احزاب و حنین وغیرہ کے واقعات یا پچھلی امتوں پر عذاب نازل ہونے کے واقعات ہیں جن میں بڑی بڑی قومیں زیر وزبر یا نیست و نابود ہوگئیں اس صورت میں ایام اللہ یاد دلانے سے ان قوموں کو کفر کے انجام بد سے ڈرانا اور متنبہ کرنا مقصود ہوگا۔ دوسرے معنی ایام اللہ کے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات کے بھی آتے ہیں تو ان کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہوگا کہ شریف انسان کو جب کسی محسن کا احسان یاد دلایا جائے تو وہ اس کی مخالفت اور نافرمانی سے شرما جاتا ہے قرآن مجید کا اسلوب اور طریق اصلاح عموما یہ کہ جب کوئی حکم دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی اس حکم پر عمل آسان کرنے کی تدبیریں بھی بتلائی جاتی ہیں یہاں پہلے جملہ میں موسیٰ ؑ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی آیات سنا کر یا معجزات دکھا کر اپنی قوم کو کفر کی اندہیری سے نکالو اور ایمان کی روشنی میں لاؤ اس کی تدبیر اس جملہ میں یہ ارشاد فرمائی کہ نافرمانوں کو راہ راست پر لانے کی دو تدبیریں ہیں ایک سزا سے ڈرانا دوسرے نعمتوں اور احسانات کو یاد دلا کر اطاعت کی طرف بلانا جملہ من وسلوی میں یہ دونوں چیزیں مراد ہو سکتی ہیں کہ پچھلی امتوں کے نافرمانوں کا انجام بد ان پر آنے والے عذاب اور جہاد میں ان کا مقتول یا ذلیل و خوار ہونا ان کو یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کرکے اس سے بچ جائیں اسی طرح اس قوم پر جو اللہ تعالیٰ کی عام نعمتیں دن رات برستی ہیں اور جو مخصوص نعمتیں ہر موقع پر ان کے لئے مبذول ہوئی ہیں مثلا وادی تیہ میں ان کے سروں پر ابر کا سایہ، خوراک کے لئے من وسلوی کا نزول پانی کی ضرورت ہوئی تو پتھر سے چشموں کا بہہ نکلنا وغیرہ ان کو یاد دلا کر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور توحید کی طرف بلایا جائے۔ (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ اس میں آیات سے مراد نشانیاں اور دلائل ہیں اور صبار صبر سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت صبر کرنے والا اور شکور شکر سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بہت شکر گذار، جملہ کے معنی یہ ہیں کہ ایام اللہ یعنی پچھلے واقعات خواہ وہ جو منکروں کی سزا اور عذاب سے متعلق ہوں یا اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات سے متعلق بہرحال ماضی کے واقعات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی بڑی نشانیاں اور دلائل موجود ہیں اس شخص کے لئے جو بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کھلی ہوئی نشانیاں اور دلائل اگرچہ ہر غور کرنے والے کی ہدایت کے لئے ہیں مگر بدنصیب کفار ان میں غور وفکر ہی نہیں کرتے ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے فائدہ صرف وہ لوگ اٹھاتے ہیں جو صبر و شکر کے جامع ہیں مراد اس سے مومن ہیں کیونکہ بیہقی نے بروایت انس نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کے دو حصے آدھا صبر اور آدھا شکر (مظہری) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ صبر نصف ایمان ہے اور صحیح مسلم اور مسند احمد میں بروایت حضرت صہیب مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا ہر حال خیر ہی خیر اور بھلا ہی بھلا ہے اور یہ بات سوائے مومن کے اور کسی کو نصیب نہیں کیونکہ مومن کو اگر کوئی راحت نعمت یا عزت ملتی ہے تو یہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہوتا ہے جو اس کے لئے دین و دنیا میں خیر اور بھلائی کا سامان ہوجاتا ہے (دنیا میں تو حسب وعدہ الہی نعمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور قائم رہتی ہے اور آخرت میں اس کے شکر کا اجر عظیم اس کو ملتا ہے) اور اگر مومن کو کوئی تکلیف یا مصیبت پیش آجائے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے اس کے صبر کی وجہ سے وہ مصیبت بھی اس کے لئے نعمت و راحت کا سامان ہوجاتی ہے (دنیا میں اس طرح کہ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت و راحت کا سامان ہوجاتی ہے (دنیا میں اس طرح کہ صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے قرآن کا ارشاد ہے ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ اور اللہ جس کے ساتھ ہو انجام کار اس کی مصیبت راحت سے تبدیل ہوجاتی ہے اور آخرت میں اس طرح کہ صبر کا اجر عظیم اللہ تعالیٰ کے نزدیک بےحساب ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَاب خلاصہ یہ ہے کہ مومن کا کوئی حال برا نہیں ہوتا اچھا ہی اچھا ہے وہ گرنے میں بھی ابھرتا ہے اور بگڑنے میں بھی بنتا ہے۔ نہ شوخی چل سکی باد صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی ایمان وہ دولت ہے جو مصیبت و تکلیف کو بھی راحت ونعمت میں تبدیل کردیتی ہے حضرت ابو الدردا ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میں آپ کے بعد ایک ایسی امت پیدا کرنے والا ہوں کہ اگر ان کی دلی مراد پوری ہو اور کام حسب منشاء ہوجائے تو وہ شکر ادا کریں گے اور اگر ان کی خواہش اور مرضی کے خلاف ناگوار اور ناپسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ اس کو ذریعہ، ثواب سمجھ کر صبر کریں گے اور یہ دانشمندی اور بردباری ان کی اپنی ذاتی عقل وحلم کا نتیجہ نہیں بلکہ ہم ان کو اپنے علم و حلم کا ایک حصہ عطا فرما دیں گے (مظہری) شکر کی حقیقت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور حرام و ناجائز کاموں میں خرچ نہ کرے اور زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اپنے افعال و اعمال کو بھی اس کی مرضی کے مطابق بنائے۔ اور صبر کا خلاصہ یہ ہے کہ خلاف طبع امور پر پریشان نہ ہو اپنے قول و عمل میں ناشکری سے بچے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دنیا میں بھی امیدوار رہے اور آخرت میں صبر کے اجر عظیم کا یقین رکھے۔ دوسری آیت میں مضمون سابق کی مزید تفصیل ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی یہ خاص نعمت یاد دلائیں کہ موسیٰ ؑ سے پہلے فرعون نے ان کو ناجائز طور پر غلام بنایا ہوا تھا اور پھر ان غلاموں کے ساتھ بھی انسانیت کا سلوک نہ تھا ان کے لڑکوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جاتا تھا اور صرف لڑکیوں کو اپنی خدمت کے لئے پالا جاتا تھا حضرت موسیٰ ؑ کی بعثت کے بعد ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس فرعونی عذاب سے نجات دیدی۔
Ayah 14:7

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب سنا دیا تمہارے رب نے اگر احسان مانو گے تو اور بھی دوں گا تم کو اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے

شکر اور ناشکری کے نتائج (آیت) وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ لفظ تاذن، اذن اور اطلاع دینے اور اعلان کرنے کے معنی میں ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان عام فرما دیا ہے کہ اگر تم نے میری نعمتوں کا شکر ادا کیا کہ انکو میری نافرمانیوں اور ناجائز کاموں میں خرچ نہ کیا اور اپنے اعمال و افعال کو میری مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کی تو میں ان نعمتوں کو اور زیادہ کر دوں گا یہ زیادتی نعمتوں کی مقدار میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی بقاء و دوام میں بھی رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق ہوگئی وہ کبھی نعمتوں میں برکت اور زیادت سے محروم نہ ہوگا (رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس مظہری) اور فرمایا کہ اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی تو میرا عذاب بھی سخت ہے ناشکری کا حاصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی اور ناجائز کاموں میں صرف کرے یا اس کے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سستی کرے اور کفران نعمت کا عذاب شدید دنیا میں بھی یہ ہوسکتا ہے کہ یہ نعمت سلب ہوجائے یا ایسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے کہ نعمت کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور آخرت میں بھی عذاب میں گرفتار ہو۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے شکر گذاروں کے لئے تو اجر وثواب اور نعمت کی زیادتی کا وعدہ اور وہ بھی بلفظ تاکید وعدہ فرمایا ہے لَاَزِيْدَنَّكُم لیکن اس کے بالمقابل ناشکری کرنے والوں کے لئے یہ نہیں فرمایا کہ لاعذبنکم یعنی میں تمہیں ضرور عذاب دوں گا بلکہ صرف اتنا فرما کر ڈرایا ہے کہ میرا عذاب بھی جس کو پہنچنے وہ بڑا سخت ہوتا ہے اس خاص تعبیر میں اشارہ ہے کہ ہر ناشکرے کا گرفتار عذاب ہونا کچھ ضروری نہیں معافی کا بھی امکان ہے۔
Ayah 14:8

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے اگر کفر کرو گے تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے تو اللہ بےپرواہ ہے سب خوبیوں والا

(آیت) وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ یعنی موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تم سب اور جتنے آدمی زمین پر آباد ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگو تو یاد رکھو کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں وہ تو سب کی حمد وثناء اور شکر و ناشکری سے بےنیاز اور بالا تر ہے اور وہ اپنی ذات میں حمید یعنی مستحق حمد ہے اس کی حمد تم نہ کرو تو اللہ کے سارے فرشتے اور کائنات کا ذرہ ذرہ کررہا ہے۔ شکر کا فائدہ جو کچھ ہے وہ تمہارے ہی لئے ہے اس لئے شکر گذاری کی تاکید اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ اپنے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ بسبب رحمت تمہیں ہی فائدہ پہونچانے کے لئے ہے۔
Ayahs 14:9–15

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جو پہلے تھے تم سے قوم نوح کی اور عاد اور ثمود اور جو ان سے پیچھے ہوئے، کسی کو ان کی خبر نہیں مگر اللہ کو آئے ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر لوٹائے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں اور بولے ہم نہیں مانتے جو تم کو دے کر بھیجا گیا اور ہم کو تو شبہ ہے اس راہ میں جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو خلجان میں ڈالنے والا

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

بولے ان کے رسول کیا اللہ میں شبہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ بخشے تم کو کچھ گناہ تمہارے اور ڈھیل دے تم کو ایک وعدہ تک جو ٹھہر چکا ہے کہنے لگے تم تو یہی آدمی ہو ہم جیسے، تم چاہتے ہو کہ روک دو ہم کو ان چیزوں سے جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادا سو لاؤ کوئی سند کھلی ہوئی

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کو کہا ان کے رسولوں نے ہم تو یہی آدمی ہیں جیسے تم لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہے، اور ہمارا کام نہیں کہ لے آئیں تمہارے پاس سند مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر بھروسہ چاہئے ایمان والوں کو

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کو کیا ہوا کہ بھروسہ نہ کریں اللہ پر اور وہ سمجھا چکا ہم کو ہماری راہیں، اور ہم صبر کریں گے ایذا پر جو تم ہم کو دیتے ہو اور اللہ پر بھروسہ چاہئے بھروسے والوں کو

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کہا کافروں نے اپنے رسولوں کو ہم نکال دیں گے تم کو اپنی زمین سے یا لوٹ آؤ ہمارے دین میں، تب حکم بھیجا ان کو ان کے رب نے ہم غارت کریں گے ان ظالموں کو

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور آباد کریں گے تم کو اس زمین میں ان کے پیچھے، یہ ملتا ہے اس کو جو ڈرتا ہے کھڑے ہونے سے میرے سامنے اور ڈرتا ہے میرے عذاب کے وعدے سے

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور فیصلہ لگے مانگنے پیغمبر اور ناراہ ہوا ہر ایک سرکش ضدی۔

خلاصہ تفسیر (اے کفار مکہ) کیا تم کو ان لوگوں (کے واقعات) کی خبر (گو اجمالا سہی) نہیں پہنچی جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں یعنی قوم نوح اور عاد (قوم ہود) اور ثمود (قوم صالح) اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے ہیں جن (کی مفصل حالت) کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، (کیونکہ ان کے حالات تفصیلات منضبط و منقول نہیں ہوئے، اور وہ واقعات یہ ہیں کہ) ان کے پیغمبر ان کے پاس دلائل لے کر آئے سو ان قوموں (میں جو کفار تھے انہوں) نے اپنے ہاتھ ان پیغمبروں کے منہ میں دیدئیے (یعنی مانتے تو کیا یہ کوشش کرتے تھے کہ ان کو بات تک نہ کرنے دیں) اور کہنے لگے کہ جو حکم دے کر تم کو (بزعم تمہارے) بھیجا گیا ہے (یعنی توحید و ایمان) ہم ان کے منکر ہیں اور جس امر کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو (یعنی وہی توحید و ایمان) ہم تو اس کی جانب سے بہت بڑے شبہ میں ہیں جو (ہم کو) تردد میں ڈالے ہوئے ہے (مقصود اس سے توحید و رسالت دونوں کا انکار ہے توحید کا تو ظاہر ہے اور رسالت کا تدعونا میں جس کا حاصل یہ ہے کہ تم خود اپنی رائے سے دعوت توحید کر رہے ہو مامور ومرسل من اللہ نہیں ہو) ان کے پیغمبروں نے (اس بات کے جواب میں) کہا کیا (تم کو) اللہ تعالیٰ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں) شک (و انکار) ہے جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (یعنی اس کا ان چیزوں کو پیدا کرنا خود دلیل اس کی ہستی اور وحدانیت کی ہے پھر اس دلیل کے ہوتے ہوئے شک کرنا بڑی تعجب کی بات ہے اور تم جو دعوت الی التوحید کو استقلالا ہماری طرف منسوب کرتے ہو یہ بھی محض غلط ہے گو توحید بوجہ حق ہونے کے اس قابل ہے کہ اگر کوئی اپنی رائے سے بھی اس کی دعوت کرے تو بھی زیبا ہے لیکن محل متنازع فیہ میں تو ہماری دعوت بحکم خداوند تعالیٰ ہے پس) وہ (ہی) تم کو (توحید کی طرف) بلارہا ہے تاکہ (اس کے قبول کرنے کی برکت سے) تمہارے (گذشتہ) گناہ معاف کردے اور (تمہاری عمر کی) معین مدت تک تم کو (خیر و خوبی کے ساتھ) حیات دے (مطلب یہ کہ توحید علاوہ اس کے کہ فی نفسہ حق ہے تمہارے لئے دونوں جہان میں نافع بھی ہے اور اس جواب میں دونوں امر کے متعلق جواب ہوگیا توحید کے متعلق بھی اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ الخ اور رسالت کے متعلق بھی يَدْعُوْكُمْ میں جیسا تقریر ترجمہ سے ظاہر ہے) پھر انہوں نے (پھر دونوں امر کے متعلق گفتگو شروع کی اور) کہا کہ تم (پیغمبر نہیں ہو بلکہ) محض ایک آدمی ہو جیسے ہم ہیں (اور بشریت منافی رسالت ہے تم جو کہتے ہو وہ من اللہ نہیں ہے بلکہ) تم (اپنی رائے ہی سے) یوں چاہتے ہو کہ ہمارے آباء و اجداد جس چیز کی عبادت کرتے تھے (یعنی بت) اس سے ہم کو روک دو سو (اگر رسالت کے مدعی ہو تو علاوہ ان دلائل وبینات مذکورہ کے اور) کوئی صاف معجزہ دکھلاؤ (جو ان سب سے واضح تر ہو اس میں نبوت پر تو کلام ظاہر ہے اور يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا میں توحید پر کلام کی طرف اشارہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شرک کے حق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے بزرگ اس کو کرتے تھے) ان کے رسولوں نے (اس کے جواب میں) کہا کہ (تمھاری تقریر کے کئی جزو ہیں انکار توحید دلیل فعل آباء انکار نبوت مطالبہ سلطان مبین علاوہ بینات سابقہ، سو امر اول کے متعلق فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں جواب ہوگیا کیونکہ دلیل عقلی کے روبرو رسم وعرف کوئی چیز نہیں امر دوم کے متعلق ہم اپنی بشریت کو تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی) ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں لیکن (بشریت اور نبوت میں تنافی نہیں کیونکہ نبوت ایک اعلی درجہ کا احسان خداوندی ہے اور) اللہ (کو اختیار ہے کہ) اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے (وہ) احسان فرما دے (اور احسان کے غیر بشر کے ساتھ مختص ہونے کی کوئی دلیل نہیں) اور (امر سوم کے متعلق یہ ہے کہ دعوی کے لئے جس میں دعوی نبوت بھی داخل ہے نفس دلیل اور مطلق بینہ جو دعوی نبوت کی صورت میں معجزہ ہوگا ضرور ہے جو کہ پیش کی جا چکی ہے رہا دلیل و معجزہ خاص جس کو سلطان مبین یعنی صاف دلیل سے تعبیر کر رہے ہو سو اولا حسب قواعد مناظرہ ضروری نہیں ثانیا) یہ بات ہمارے قبضہ کی نہیں کہ ہم تم کو کوئی معجزہ دکھلا سکیں بغیر خدا کے حکم کے (پس تمہارے تمام تر شبہات کا جواب ہوگیا پھر اگر اس پر بھی تم نہ مانو اور مخالفت کئے جاؤ تو خیر ہم تمہاری مخالفت سے نہیں ڈرتے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں) اور اللہ ہی پر سب ایمان والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے (چونکہ ہم بھی باایمان ہیں اور ایمان مقتضی ہے توکل کو اس لئے ہم بھی اس کو اختیار کرتے ہیں) اور ہم کو اللہ پر بھروسہ نہ کرنے کا کون امر باعث ہوسکتا ہے حالانکہ اس نے (ہمارے حال پر بڑا فضل کیا کہ) ہم کو ہمارے (منافع دارین کے) راستے بتلادیئے (جس کا اتنا بڑا فضل ہو اس پر تو ضرور بھروسہ کرنا چاہئے) اور (ضرر خارجی سے تو یوں بےفکر ہوگئے رہا ضرر داخلی کہ تمہاری مخالفت کا غم وحزن ہوتا ہو) تم نے (عناد و خلاف کرکے) جو کچھ ہم کو ایذا پہنچائی ہے ہم اس پر صبر کریں گے (پس اس سے بھی ہم کو ضرر رکھنا چاہئے اور (ان تمام تر اتمام حجت کے بعد بھی کفار نرم نہ ہوئے بلکہ) ان کفار نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی سر زمین سے نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاؤ (پھر آنا اس لئے کہا کہ سکوت قبل بعثت سے وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ان کا اعتقاد بھی ہم ہی جیسا ہوگا) پس ان رسولوں پر ان کے رب نے (تسلی کے لئے) وحی نازل فرمائی کہ (یہ بیچارے تم کو کیا نکالیں گے) ہم (ہی) ان ظالموں کو ضرور ہلاک کردیں گے اور ان کے (ہلاک کرنے کے) بعد تم کو اس سر زمین میں آباد رکھیں گے (اور) یہ (وعدہ آباد رکھنے کا کچھ تمہارے ساتھ خاص نہیں بلکہ) ہر اس شخص کے لئے (عام) ہے جو میرے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے (مراد یہ کہ جو مسلمان ہو جس کی علامت خوف قیامت اور خوف وعید ہے سب کیلئے یہ وعدہ عذاب سے نجات دینے کا عام ہے) اور (پیغمبروں نے جو یہ مضمون کفار کو سنایا کہ تم نے دلائل کے فیصلہ کو نہ مانا اب عذاب سے فیصلہ ہونے والا ہے یعنی عذاب آنے والا ہے تو) کفار (چونکہ جہل مرکب وعناد میں غرقاب تھے اس سے بھی نہ ڈرے بلکہ کمال بیباکی سے وہ) فیصلہ چاہنے لگے (جیسا آیت فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ وامثالھا سے معلوم ہوتا ہے) اور (جب وہ فیصلہ آیا تو) جتنے سرکش (اور) ضدی لوگ تھے وہ سب (اس فیصلہ میں) بےمراد ہوئے (یعنی ہلاک ہوگئے اور جو ان کی مراد تھی کہ اپنے کو اہل حق سمجھ کر فتح و ظفر چاہتے تھے وہ حاصل نہ ہوئی
Ayahs 14:16–17

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

پیچھے اس کے دوزخ ہے اور پلائیں گے اس کو پانی پیپ کا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اس کو اور گلے سے نہیں اتار سکتا اور چلی آتی ہے اس پر موت ہر طرف سے اور وہ نہیں مرتا، اور اس کے پیچھے عذاب ہے سخت۔

خلاصہ تفسیر (جس جبار عنید کا اوپر ذکر ہوا ہے علاوہ دنیوی عذاب کے) اس کے آگے دوزخ (کا عذاب آنے والا) ہے اور اس کو (دوزخ میں) ایسا پانی پینے کو دیا جاوے گا جو کہ پیپ لہو (کہ مشابہ) ہوگا جس کو (غایت تشنگی کی وجہ سے) گھونٹ گھونٹ کر کے پیوے گا اور (غایت حرارت و کراہت کی وجہ سے) گلے سے آسانی کے ساتھ اتارنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور ہر (چہار) طرف سے اس پر (سامان) موت کی آمد ہوگی اور وہ کسی طرح مرے گا نہیں (بلکہ یوں ہی سسکتا رہے گا) اور (پھر یہ بھی نہیں کہ یہی عذاب مذکور ایک حالت پر رہے بلکہ) اس (شخص) کو اور (زیادہ) سخت عذاب کا سامنا (برابر) ہوا (کرے) گا (جس سے عادت پڑنے کا احتمال ہی نہیں ہوسکتا کقولہ تعالیٰ (آیت) كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا)