Ayah 14:37تیسری آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی ایک اور حکیمانہ دعا اس طرح مذکور ہے کہ (آیت) رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ الخ۔ الآیۃ اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ ذریت یعنی اہل و عیال کو ایک ایسے دامن کوہ میں ٹھہرا دیا ہے جس میں کوئی کھیتی وغیرہ نہیں ہو سکتی (اور بظاہر وہاں زندگی کا کوئی سامان نہیں) یہ دامن کوہ آپ کے عظمت والے گھر کے پاس ہے تاکہ یہ لوگ نماز قائم کریں اس لئے آپ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردیں کہ ان کے انس اور آبادی کا سامان ہوجائے اور ان کو ثمرات (پھل) عطا فرمائیے تاکہ یہ لوگ شکر گذار ہوں۔
حضرت خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعاء کا واقعہ یہ ہے کہ بیت اللہ شریف کی تعمیر جو طوفان نوح میں بےنشان ہوگئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے اس کی دوبارہ تعمیر کا ارادہ فرمایا تو اپنے خلیل ابراہیم ؑ کو اس کے لئے منتخب فرما کر ان کو ملک شام سے ہجرت کر کے حضرت ہاجرہ اور صاحبزادے اسماعیل ؑ کے ساتھ اس بےآب وگیاہ مقام مسکن بنانے کے لئے مامور فرمایا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ اسماعیل اس وقت شیر خوار بچے تھے حضرت ابراہیم ؑ نے حسب حکم ان کو اور ان کی والدہ ہاجرہ کو موجودہ بیت اللہ اور چاہ زمزم کے قریب ٹھہرا دیا اس وقت یہ جگہ پہاڑوں سے گھری ہوئی ایک چٹیل میدان تھی دور دور تک نہ پانی نہ آبادی، ابراہیم ؑ نے ان کے لئے ایک توشہ دان میں کچھ کھانا اور ایک مشکیزہ میں پانی رکھ دیا تھا۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کو ملک شام کی طرف واپس ہونے کا حکم ملا جس جگہ حکم ملا تھا وہیں سے تعمیل حکم کے لئے روانہ ہوگئے بیوی اور شیرخوار بچہ کو اس لق ودق جنگل میں چھوڑنے کا جو طبعی اور فطری اثر تھا اس کا اظہار تو اس دعاء سے ہوگا جو بعد میں کی گئی مگر حکم ربانی کی تعمیل میں اتنی دیر بھی گوارا نہیں فرمائی کہ حضرت ہاجرہ کو خبر دیدیں اور کچھ تسلی کے الفاظ کہہ دیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ہاجرہ نے ان کو جاتے ہوئے دیکھا تو بار بار آوازیں دیں کہ اس جنگل میں آپ ہمیں کس پر چھوڑ کر جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے نہ زندگی کا سامان مگر خلیل اللہ نے مڑ کر نہیں دیکھا تب حضرت ہاجرہ کو خیال آیا کہ اللہ کا خلیل ایسی بےوفائی نہیں کرسکتا شاید اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ملا ہے تو آواز دے کر پوچھا کہ کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے یہاں سے چلے جانے کا حکم دیا ہے تب حضرت ابراہیم ؑ نے مڑ کر جواب دیا کہ ہاں حضرت ہاجرہ نے یہ سن کر فرمایا اذا لایضیعنا یعنی اب کوئی پرواہ نہیں جس مالک نے آپ کو یہاں سے چلے جانے کا حکم دیا ہے وہ ہمیں بھی ضائع نہ کرے گا۔
حضرت ابراہیم ؑ آگے بڑہتے رہے یہاں تک کہ ایک پہاڑی کے پیچھے پہنچ گئے جہاں ہاجرہ و اسماعیل (علیہما السلام) آنکھوں سے اوجھل ہوگئے تو اس وقت بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ دعاء مانگی جو اس آیت میں مذکور ہے حضرت ابراہیم ؑ کی مذکورہ دعاء کے ضمن میں بہت سی ہدایات اور مسائل ہیں ان کا بیان یہ ہے۔
دعاء ابراہیمی کے اسرار و حکم
(1) حضرت ابراہیم ؑ نے ایک طرف تو مقام خلیل اللہ کا حق ادا کیا کہ جس وقت اور جس جگہ ان کو یہ حکم ملا کہ آپ ملک شام واپس چلے جائیں، اس بےآب وگیاہ لق ودق میدان میں اہلیہ اور شیر خوار بچے کو چھوڑ کر چلے جانے اور حکم ربانی کی تعمیل میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں فرمائی، اس کی تعمیل میں اتنی دیر لگانا بھی گوارا نہیں فرمایا کہ اہلیہ محترمہ کے پاس جا کر تسلی کردیں اور کہہ دیں کہ مجھے یہ حکم ملا ہے آپ گھبرائیں نہیں بلکہ جس وقت جس جگہ حکم ملا فورا حکم ربانی کی تعمیل کے لئے چل کھڑے ہوئے،
دوسری طرف اہل و عیال کے حقوق اور ان کی محبت کا یہ حق ادا کیا کہ پہاڑی کے پیچھے ان سے اوجھل ہوتے ہی حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی حفاظت اور امن و اطمینان کے ساتھ رہنے کی دعاء فرمائی ان کی راحت کا سامان کردیا کیونکہ وہ اپنی جگہ مطمئن تھے کہ تعمیل حکم کے ساتھ جو دعاء کی جائے گی بارگاہ کریم سے وہ ہرگز رد نہ ہوگی اور ایسا ہی ہوا کہ یہ بیکس و بےبس عورت اور بچہ نہ صرف خود آباد ہوئے بلکہ ان کے طفیل میں ایک شہر آباد ہوگیا اور نہ صرف یہ کہ ان کو ضروریات زندگی اطمینان کے ساتھ نصیب ہوئیں بلکہ ان کے طفیل میں آج تک اہل مکہ پر ہر طرح کی نعمتوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں
یہ ہے پیغمبرانہ استقامت اور حسن انتظام کہ ایک پہلو کی رعایت کے وقت دوسرا پہلو کبھی نظر انداز نہیں ہوتا وہ عام صوفیائے کرام کی طرح مغلوب الحال نہیں ہوتے اور یہی وہ تعلیم ہے جس کے ذریعہ ایک انسان انسان کامل بنتا ہے۔
(2) غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ حضرت ابراہیم ؑ کو جب حق تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ شیر خوار بچے اور اس کی والدہ کو اس خشک میدان میں چھوڑ کر ملک شام چلے جائیں تو اسی حکم سے اتنا تو یقین ہوچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ضائع نہ فرماویں گے بلکہ ان کے لئے پانی ضرور مہیا کیا جائے گا اس لئے بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ مَاءٍ نہیں کہا بلکہ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ فرما کر درخواست یہ کی کہ ان کو پھل اور ثمرات عطا ہوں خواہ کسی دوسری جگہ ہی سے لائے جائیں یہی وجہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آج تک بھی کاشت کو کوئی خاص انتظام نہیں مگر دنیا بھر کے پھل اور ہر چیز کے ثمرات وہاں اتنے پہنچتے ہیں کہ دوسرے بہت سے شہروں میں ان کا ملنا مشکل ہے (بحرمحیط)
(3) عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ سے ثابت ہوا کہ بیت اللہ شریف کی بناء حضرت ابراہیم ؑ سے پہلے ہوچکی تھی جیسا کہ امام قرطبی نے تفسیر سورة بقرہ میں متعدد روایات سے ثابت کیا ہے کہ سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر آدم ؑ نے کی ہے جب ان کو زمین پر اتارا گیا تو بطور معجزہ جبل سرا اندیپ سے اس جگہ تک ان کو پہونچایا گیا اور جبرئیل امین نے بیت اللہ کی جگہ کی نشاندہی بھی کی اس کے مطابق حضرت آدم ؑ نے اس کی تعمیر کی وہ خود اور ان کی اولاد اس کے گرد طواف کرتے تھے یہاں تک کہ طوفان نوح میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا اور اس کی بنیادیں زمین میں موجود رہیں حضرت ابراہیم ؑ کو انہی بنیادوں پر بیت اللہ کی نئی تعمیر کا حکم ملا حضرت جبریل امین نے قدیم بنیادوں کی نشان دہی کی پھر یہ بناء ابراہیمی عہد جاہلیت عرب میں منہدم ہوگئی تو قریش جاہلیت نے از سرنو تعمیر کی جس کی تعمیر میں ابو طالب کے ساتھ رسول کریم ﷺ نے بھی نبوت سے پہلے حصہ لیا
اس میں بیت اللہ کی صفت محرم ذکر کی گئی ہے محرم کے معنی معزز کے بھی ہو سکتے ہیں اور محفوظ کے بھی بیت اللہ شریف میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں کہ ہمیشہ معزز اور مکرم رہا ہے اور ہمیشہ دشمنوں سے محفوظ بھی رہا ہے،
(4) لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ حضرت خلیل نے شروع دعاء میں اپنے بچے اور اس کی والدہ کی بےبسی اور خستہ حالی ذکر کرنے بعد سب سے پہلے جو دعا کی وہ یہ کہ ان کو نماز کا پابند بنا دے کیونکہ نماز دنیا و آخرت کی تمام خیرات و برکات کے لئے جامع ہے اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کے حق میں اس سے بڑی کوئی ہمدردی اور خیر نہیں کہ ان کو نماز نہیں کہ ان کو نماز کا پابند بنادیا جائے اور اگرچہ وہاں اس وقت صرف ایک عورت اور بچہ کو چھوڑا تھا مگر دعاء میں صیغہ جمع کا استعمال فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ حضرت خلییل ؑ کو یہ معلوم ہوچکا تھا کہ یہاں شہر آباد ہوگا اور اس بچہ کی نسل چلے گی اس لئے دعاء میں ان سب کو شریک کرلیا۔
(5) اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ۔ افئدہ فواد کی مجمع ہے جس کے معنی دل کے ہیں اس جگہ لفظ افئدہ کو نکرہ اور اسکے ساتھ حرف من لایا گیا جو تبعیض اور تقلیل کے لئے آتا ہے اس لئے معنی یہ ہوئے کہ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کر دیجئے امام تفسیر حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اگر اس دعاء میں یہ حرف تبعیض و تقلیل نہ ہوتا بلکہ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاس کہہ دیا جاتا تو ساری دنیا کے مسلم وغیر مسلم یہود و نصاری اور مشرق و مغرب کے سب آدمی مکہ پر ٹوٹ پڑتے جو ان کے لئے باعث زحمت ہوجاتا اس حقیقت کے پیش نظر حضرت ابراہیم ؑ نے دعاء میں یہ الفاظ فرمائے کہ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کر دیجئے۔
(6) وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ ثمرات، ثمرۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں پھل اور عادۃ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جو کھائے جاتے ہیں اس اعتبار سے دعاء کا حاصل یہ ہوگا کہ ان لوگوں کو کھانے کے لئے ہر طرح کے پھل عطا فرمائیے۔
اور کبھی لفظ ثمرہ نتیجہ اور پیداوار کے معنی میں بھی آتا ہے جو کھانے کی چیزوں سے زیادہ عام ہے ہر نفع آور چیز کے نتیجہ اور حاصل کو اس کا ثمرہ کہا جاسکتا ہے مشینوں اور صنعتی کارخانوں کے ثمرات ان کی مصنوعات کہلائیں گی ملازمت اور مزدوری کا ثمرہ وہ اجرت اور تنخواہ کہلائیگی جو اس کے نتیجہ میں حاصل ہوئی قرآن کریم کی ایک آیت میں اس دعاء میں ثَمَرٰتِ کَلِ شَیءٍ کا لفظ بھی آیا ہے اس میں لفظ شجر کے بجائے لفظ شیء لایا گیا ہے جس سے اس طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ نے ان لوگوں کے لئے صرف کھانے کے پھلوں ہی کی دعاء نہیں فرمائی، بلکہ ہر چیز کے ثمرات اور حاصل شدہ نتائج کی دعاء مانگی ہے جس میں دنیا بھر کی مصنوعات اور ہر طرح کی قابل انتفاع چیزیں سب داخل ہیں شاید اس دعا کا یہ اثر ہے کہ مکہ مکرمہ باوجودیکہ نہ کوئی زراعتی ملک ہے نہ تجارتی یا صنتعی لیکن دنیا بھر کی ساری چیزیں مشرق ومغرب سے پہنچ کر مکہ معظمہ میں آتی ہیں جو غالبا دنیا کے کسی بڑے سے بڑے شہر کی بھی نصیب نہیں
(7) حضرت خلیل اللہ ؑ نے اپنی اولاد کے لئے یہ دعاء نہیں فرمائی کہ مکہ کی زمین کو قابل کاشت بنادیں ورنہ کچھ مشکل نہ تھا کہ مکہ کی وادی اور سارے پہاڑ سر سبز کردیئے جاتے جن میں باغات اور کھیت ہوتے مگر خلیل اللہ ؑ نے اپنی اولاد کے لئے یہ زراعت کا مشغلہ پسند نہ کیا اس لئے دعاء فرمائی کہ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کردیئے جائیں جو مشرق ومغرب اور اطراف عالم سے یہاں آیا کریں ان کا یہ اجتماع پوری دنیا کے لئے رشد و ہدایت کا اور اہل مکہ کی خوش حالی کا ذریعہ بنے اطراف عالم کی چیزیں بھی یہاں پہنچ جائیں اور اہل مکہ کو کسب مال کے ذرائع بھی ہاتھ آجائیں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور آج تک اہل مکہ زراعت اور کاشت سے بےنیاز ہو کر تمام ضروریات زندگی سے مالا مال ہیں
(8) لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ میں اشارہ کردیا کہ اولاد کے لئے معاشی راحت و سکون کی دعاء بھی اسی لئے کی گئی کہ یہ شکر گذار بن کر اس پر بھی اجر حاصل کریں اس طرح دعاء کی ابتدا نماز کی پابندی سے ہوئی اور انتہا شکر گذاری پر درمیان میں معاشی راحت و سکون کا ذکر آیا اس میں یہ تعلیم ہے کہ مسلمان کو ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اس کے اعمال و احوال خیالات و افکار پر آخرت کی فلاح کا غلبہ ہو اور دنیا کا کام بقدر ضرورت ہو۔
Ayah 14:38رَبَّنَآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِيْ وَمَا نُعْلِنُ ۭ وَمَا يَخْفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ اس آیت میں دعاء کا تکملہ اللہ جل شانہ کے علم محیط کا حوالہ دے کر کیا گیا ہے اور لفظ ربنا کو الحاح وزاری کے لئے مکرر لایا گیا ہے معنی یہ ہیں کہ آپ ہمارے ہر حال سے واقف اور ہماری قلبی باطنی کیفیات اور ظاہری عرض ومعروض سب سے باخبر ہیں۔
باطنی کیفیات سے مراد وہ رنج وغم اور فکر ہے جو شیرخوار بچے اور اس کی والدہ کو ایک کھلے میدان میں بےسروسامان فریاد کرتے ہوئے چھوڑنے اور ان کی جدائی سے فطری طور پر لاحق ہو رہا تھا اور ظاہری عرض ومعروض سے حضرت ابراہیم ؑ کی دعاء اور حضرت ہاجرہ کے وہ کلمات مراد ہیں جو انہوں نے امر الہی کی خبر سن کر کہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم کیا ہے تو وہ ہمارے لئے بھی کافی ہے وہ ہمیں بھی ضائع نہیں کرے گا آخر آیت میں علم الہی کی اسی وسعت کا مزید بیان ہے کہ ہمارا ظاہر و باطن ہی کیا تمام زمین و آسمان میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر مخفی نہیں۔
Ayah 14:39(آیت) اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ
اس آیت کا مضمون بھی اس دعاء کا تکملہ ہے کیونکہ یہ دعا کے آداب میں سے ہے کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے حضرت ابراہیم ؑ نے خصوصیت سے اس جگہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا کہ شدید بڑھاپے کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرما کر اولاد صالح حضرت اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) عطا فرمائے۔
اس حمد وثنا میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ بچہ جو بےیارومدد گار چٹیل میدان میں چھوڑا ہے آپ ہی کا عطیہ ہے آپ ہی اس کی حفاظت فرمائیں گے آخر میں حمد وثناء کا تکملہ (آیت) اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاۗءِ سے کیا گیا یعنی بلاشبہ میرا پروردگار دعاؤں کا سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 14:40اس حمد وثناء کے بعد پھر دعاء میں مشغول ہوگئے اور فرمایا(آیت) رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ڰ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاۗءِ جس میں اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے نماز کی پابندی پر قائم رہنے کی دعاء کی اور آخر میں پھر بطور الحاح کے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میری یہ دعا قبول فرمائیے۔
Ayah 14:41آخر میں ایک جامع دعاء فرمائی (آیت) رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤ ْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَاب یعنی اے ہمارے پروردگار میری اور میرے والدین کی اور تمام مؤمنین کی مغفرت فرما اس دن جب کہ محشر میں تمام زندگی کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
اس میں والدین کے لئے بھی مغفرت کی دعاء فرمائی حالانکہ والد یعنی آذر کا کافر ہونا قرآن میں مذکور ہے ہوسکتا ہے کہ یہ دعاء اس وقت کی ہو جب کہ حضرت ابراہیم ؑ کو کافروں کی سفارش اور دعائے مغفرت سے منع نہیں کیا گیا تھا جیسے دوسری جگہ قرآن کریم میں ہے (آیت) وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ۔
احکام و ہدایات
آیات مذکورہ سے دعاء کے آداب یہ معلوم ہوئے کہ بار بار الحاح وزاری کے ساتھ کی جائے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بھی کی جائے اس طرح دعاء کی قبولیت کی بڑی امید ہوجاتی ہے۔
Ayah 14:42خلاصہ تفسیر
اور اے (مخاطب) جو کچھ یہ ظالم (کافر) لوگ کر رہے ہیں اس سے خدا تعالیٰ کو (جلدی عذاب نہ دینے کی بنا پر) بیخبر مت سمجھ (کیونکہ) ان کو صرف اس روز تک مہلت دے رکھی ہے جس میں ان لوگوں کو نگاہیں (مارے حیرت اور ہیبت کے) پھٹی رہ جاویں گی (اور وہ موقف حساب کی طرف حسب الطلب) دوڑتے ہوں گے (اور فرط حیرت سے) اپنے سر اوپر اٹھا رکھے ہوں گے (اور) ان کی نظر ان کی طرف ہٹ کر نہ آویگی (یعنی ایسی ٹکٹکی بندھے گی کہ آنکھ نہ جھپکیں گے) اور ان کے دل (شدت ہول سے) بالکل بدحواسی ہوں گے اور (جب وہ دن آجاوے گا پھر مہلت نہ ہوگی پس) آپ ان لوگوں کو اس دن (کے آنے سے ڈرائیے جس دن ان پر عذاب آ پڑے گا پھر یہ ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ایک مدت قلیل تک ہم کو (اور) مہلت دیدیجئے (اور دنیا میں پھر بھیج دیجئے) ہم (اس مدت میں) آپ کا سب کہنا مان لیں گے اور پیغمبروں کا اتباع کریں گے (جواب میں ارشاد ہوگا کہ کیا ہم نے دنیا میں تم کو مہلت طویلہ نہ دی تھی اور) کیا تم نے (اس مہلت کے طول ہی کے سبب) اس کے قبل (دنیا میں) قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تم کو (دنیا سے) کہیں جانا ہی نہیں ہے (یعنی قیامت کے منکر تھے اور اس پر قسم کھاتے تھے کقولہ تعالیٰ (آیت) وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ) حالانکہ (انکار سے باز آجانے کے اسباب سب مجتمع تھے چناچہ (تم ان (پہلے) لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں رہتے تھے جنہوں نے (کفر و انکار قیامت کر کے) اپنی ذات کا نقصان کیا تھا اور تم کو (تواتر اخبار سے) یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیونکر معاملہ کیا تھا (کہ ان کے کفر و انکار پر ان کو سزائیں دیں اس سے تم کو معلوم ہوسکتا تھا کہ انکار کرنا موجب غضب ہے بس تصدیق واجب ہے اور ان کے مساکن میں رہنا ہر وقت ان کے ان حالات کی یاد دلانے کا سبب ہوسکتا تھا پس انکار کی کسی وقت گنجائش نہ تھی) اور (علاوہ ان واقعات کے سننے کے جو کہ عبرت کے لئے کافی تھے) ہم نے (بھی) تم سے مثالیں بیان کیں (یعنی کتب سماویہ میں ہم نے بھی ان واقعات کو مثال کے طور پر بیان کیا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی ایسے ہی مغضوب و مستحق عذاب ہو گے پس واقعات کا اولا اخبار سے سننا پھر ہمارا ان کو بیان کرنا پھر مماثلت پھر تنبیہ کردینا یہ سب اسباب مقتضی اس کو تھے کہ قیامت کا انکار نہ کرتے) اور (ہم نے جن پہلے لوگوں کو ان کے کفر و انکار پر سزائیں دیں) ان لوگوں نے (دین حق کے مٹانے میں) اپنی سی بہت ہی بڑی بڑی تدبیریں کیں تھیں اور ان کی (یہ سب) تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں (اس کے علم سے مخفی نہ رہ سکتی تھیں) اور واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ (عجب نہیں) ان سے پہاڑ بھی (اپنی جگہ سے) ٹل جاویں (مگر پھر بھی حق ہی غالب رہا اور ان کی ساری تدبیریں لغو و بیکار ہوگئیں اور وہ ہلاک کئے گئے اس سے بھی معلوم ہوگیا کہ حق وہی ہے جو پیغمبر فرماتے تھے اور اس کا انکار موجب غضب و عذاب ہے جب قیامت میں ان کا مغلوب ہونا معلوم ہوگیا) پس (اے مخاطب) اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا (چنانچہ قیامت کے دن ان کے منکرین کے عذاب کا وعدہ تھا سو وہ پورا ہوگا جیسا اوپر مذکور ہوا) بیشک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور) پورا بدلہ لینے والا ہے (کہ اس کو کوئی بدلہ لینے سے نہیں روک سکتا پس قدرت بھی کامل پھر مشیت کا تعلق اوپر معلوم ہوا پھر خلف وعدہ کا کیا احتمال رہا اور یہ بدلہ اس روز ہوگا) جس روز دوسری زمین بدل جاوے گی اس زمین کے علاوہ اور آسمان بھی (دوسرے بدل دیئے جاویں گے ان آسمانوں کے علاوہ کیونکہ اول بار کے نفخ صور سے سب زمین و آسمان ٹوٹ پھوٹ جاویں گے پھر دوسری بار میں از سر نو زمین و آسمان بنیں گے) اور سب کے سب ایک (اور) زبردست اللہ کے روبرو پیش ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے یعنی قیامت میں بدلہ لیاجاوے گا) اور (اس روز اے مخاطب) تو مجرموں کو (یعنی کافروں کو) زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا (اور) ان کے کرتے قطران کے ہوں گے (یعنی سارے بدن کو قطران لپٹی ہوگی کہ اس میں آگ جلدی اور تیزی کے ساتھ لگے اور قطران درخت چیڑ کا روغن ہوتا ہے کمافی کتب اللغات والطب) اور آگ ان کے چہروں پر (بھی) لپٹی ہوگی (یہ سب کچھ اس لئے ہوگا) تاکہ اللہ تعالیٰ ہر (مجرم) شخص کو اس کے کئے کی سزادے (اور گو ایسے مجرم بےانتہا ہوں گے مگر) یقینا اللہ تعالیٰ (کو ان کا حساب و کتاب کچھ دشوار نہیں کیونکہ وہ) بڑی جلد حساب لینے والا ہے (سب کا فیصلہ شروع کر کے فورا ہی ختم کردے گا) یہ (قرآن) لوگوں کے لئے احکام کا پہنچانا ہے (تاکہ مبلغ یعنی رسول کی تصدق کریں) اور تاکہ اس کے ذریعہ سے (عذاب سے) ڈرائے جائیں اور تاکہ اس بات کا یقین کرلیں کہ وہی ایک معبود برحق ہے اور تاکہ دانش مند لوگ نصیحت حاصل کرلیں۔
معارف و مسائل
سورۃ ابراہیم میں حضرت انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے کچھ حالات و معاملات کی تفصیل اور احکام الہیہ کی مخالفت کرنے والوں کے انجام بد اور آخر میں حضرت خلیل اللہ ابراہیم ؑ کا تذکرہ تھا جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی اور جن کی اولاد کے لئے اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی بستی بسائی اور اس کے بسنے والوں کو ہر طرح کا امن وامان اور غیر معمولی طور پر معاشی سہولتیں عطا فرمائیں انہی کی اولاد بنی اسماعیل قرآن عظیم اور رسول کریم ﷺ کے مخاطب اول ہیں،
سورة ابراہیم کے اس آخری رکوع میں خلاصہ کے طور پر انہی اہل مکہ کو پچھلی قوموں کی سرگذشت سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین اور اب بھی ہوش میں نہ آنے کی صورت میں قیامت کے ہولناک عذابوں سے ڈرایا گیا ہے
پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ اور ہر مظلوم کی تسلی اور ظالم کے لئے سخت عذاب کی دھمکی ہے کہ ظالم اور مجرم لوگ اللہ تعالیٰ کی ڈھیل دینے سے بےفکر نہ ہوجائیں اور یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے جرائم کی خبر نہیں اس لئے باوجود جرائم کے وہ پھل پھول رہے ہیں کوئی عذاب و مصیبت ان پر نہیں آتی بلکہ وہ جو کچھ کر رہے سب اللہ کی نظر میں ہے مگر وہ اپنی رحمت اور حکمت کے تقاضے سے ڈھیل دے رہے ہیں
(آیت) وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا یعنی نہ سمجھو اللہ تعالیٰ کو غافل یہ خطاب بظاہر ہر اس شخص کے لئے ہے جس کو اس کی غفلت اور شیطان نے اس دھوکہ میں ڈالا ہوا ہے اور اگر اس کا مخاطب رسول کریم ﷺ ہوں تو بھی مقصود اس سے امت کے غافلوں کو سنانا اور تنبیہ کرنا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ سے اس کا امکان ہی نہیں کہ وہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو حالات سے بیخبر یا غافل سمجھیں۔
دوسری آیت میں بتلایا کہ ان ظالموں پر فوری طور سے عذاب نہ آنا ان کے لئے کچھ اچھا نہیں کیونکہ اس کا انجام یہ ہے کہ یہ لوگ اچانک قیامت اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لئے جائیں گے آگے ختم سورت تک اس عذاب آخرت کی تفصیلات اور ہولناک وقائع کا بیان ہے۔
لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَار یعنی اس دن جب کہ پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں
Ayahs 14:43–44مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ یعنی خوف وحیرت کے سبب سر اوپر اٹھائے ہوئے بےتحاشا دوڑ رہے ہوں گے (آیت) لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ ان کی پلکیں نہ جھپکیں گی وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ ان کے دل خالی بدحواس ہوں گے۔
یہ حالات بیان کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ اپنی قوم کو اس دن کے عذاب سے ڈرائیے جس میں ظالم اور مجرم لوگ مجبور ہو کر پکاریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں کچھ اور مہلت دیدیجئے یعنی پھر دنیا میں چند روز کے لئے بھیج دیجئے تاکہ ہم آپ کی دعوت قبول کرلیں اور آپ کے رسولوں کا اتباع کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرسکیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی درخواست کا یہ جواب ہوگا کہ اب تم یہ کہہ رہے ہو کیا تم نے اس سے پہلے یہ قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ ہماری دولت و شوکت کو زوال نہ ہوگا ہم ہمیشہ دنیا میں یونہی عیش و عشرت میں رہیں گے اور دوبارہ زندگی اور عالم آخرت کا انکار کیا تھا۔
Ayah 14:45(آیت) وَّسَكَنْتُمْ فِيْ مَسٰكِنِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ۔ ظاہر یہ ہے کہ خطاب مشرکین عرب کو ہے جن کے لئے نبی کریم ﷺ کو حکم ہوا ہے انذِرِ النَّاس یعنی ڈراؤ ان لوگوں کو اس خطاب میں ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اقوام سابقہ کے حالات و انقلابات تمہارے لئے بہترین واعظ ہیں تعجب ہے کہ تم ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ تم انھی ہلاک شدہ قوموں کے گھروں میں بستے اور چلتے پھرتے ہو اور تمہیں کچھ حالات کے مشاہدہ سے کچھ متواتر خبروں سے یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیسا سخت عذاب نازل کیا اور ہم نے بھی تمہارے راہ پر لانے کے لئے بہت سی مثالیں بیان کیں پھر بھی تم ہوش میں نہیں آتے۔
Ayah 14:46وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ ۭ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَال یعنی ان لوگوں نے دین حق مٹانے اور دعوت حق قبول کرنے والے مسلمانوں کو ستانے اور ایذاء پہونچانے کے لئے بھر پور تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس ان کی سب کھلی اور چھپی ہوئی تدبیریں سامنے موجود ہیں وہ سب سے واقف اور ان کو ناکام بنا دینے پر قادر ہیں اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی عظیم اور سخت تھیں کہ ان کے مقابلہ پر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سامنے یہ ساری تدبیریں گرد اور ناکام ہو کر رہ گئیں۔
جن مخالفانہ تدبیروں کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد پچھلی ہلاک شدہ قوموں کی تدبیریں ہوں مثلا نمرود، فرعون، قوم عاد وثمود وغیرہ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں موجودہ مشرکین عرب کا حال بیان کیا گیا ہو کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں بڑی گہری اور دور رس سازشیں اور تدبیریں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام بنادیا۔
اور اکثر مفسرین نے وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ میں لفظ ان کو حرف نفی قرار دے کر یہ معنی کئے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے بہت سی تدبیریں کیں اور چالیں چلیں لیکن ان کی تدبیروں اور چالوں سے یہ ممکن نہ تھا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں اور پہاڑ سے مراد رسول کریم ﷺ اور ان کا عزم و استقلال ہے کہ کفار کی کوئی چال اس پر اثر انداز نہیں ہوسکی۔
Ayah 14:47اس کے بعد امت محمدیہ کو سنانے کے لئے رسول کریم ﷺ کو باہر مخاطب کو یہ تنبیہ کی گئی (آیت) فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے جو وعدے فتح ونصرت اور کامیابی کے کئی ہیں وہ ان کے خلاف کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ زبردست اور انتقام لینے والا ہے وہ ضرور اپنے پیغمبروں کے دشمنوں سے انتقام لے گا اور پیغمبروں سے جو وعدے کئے ان کو پورا کرے گا۔
Ayahs 14:48–51اس کے بعد کی آیات میں پھر قیامت کے ہولناک حالات و واقعات کا ذکر ہے ارشاد فرمایا (آیت) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّار یعنی قیامت کا دن ایسا ہوگا کہ اس میں موجودہ زمین بھی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے حاضر ہوں گے۔
زمین و آسمان کے بدل دینے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں ہے کہ پوری زمین ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں نہ کسی مکان کی آڑ ہوگی نہ درخت وغیرہ کی نہ کوئی پہاڑ اور ٹیلہ رہے گا نہ غار اور گہرائی قرآن کریم میں اسی حال کا ذکر اس طرح فرمایا ہے۔
(آیت) لَا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا یعنی تعمیرات اور پہاڑوں کی وجہ سے جو آج کل راستے اور سڑکیں مڑ کر گذرتی ہیں اور کہیں اونچائی ہے کہیں گہرائی یہ صورت نہ رہے گی بلکہ سب صاف میدان ہوجائے گا
اور تبدیل زمین و آسمان کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بالکل ہی اس زمین کے بدلے میں دوسری زمین اور اس آسمان کی جگہ دوسرے آسمان بنا دئیے جائیں روایات حدیث جو اس کے متعلق منقول ہیں ان میں بھی بعض دوسرے آسمان بنا دیئے جائیں روایات حدیث جو اس کے متعلق منقول ہیں ان میں بھی بعض سے صرف صفات کی تبدیلی معلوم ہوتی ہے بعض سے ذات کی تبدیلی امام حدیث بیہقی نے بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے اس آیت کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ محشر کی زمین بالکل نئی زمین چاندی کی طرح سفید ہوگی اور یہ زمین ایسی ہوگی جس پر کسی نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا جس پر کسی کا ناحق خون نہیں گرایا گیا اسی طرح مسند احمد اور تفسیر ابن جریر کی حدیث میں یہی مضمون بروایت حضرت انس مذکور ہے (تفسیر مظہری)
صحیحین بخاری ومسلم میں حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز لوگ ایک ایسی زمین پر اٹھائے جائیں گے جو ایسی صاف وسفید ہوگی جیسے میدے کی روٹی اس میں کسی کی کوئی علامت (مکان، باغ، درخت، پہاڑ، ٹیلہ وغیرہ کی) کچھ نہ ہوگی یہی مضمون بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔
اور حاکم نے سند قوی کے ساتھ حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز یہ زمین اس طرح کھینچی جائے جیسے چمڑے کو کھینچا جائے جس سے اس کی سلوٹیں اور شکن نکل جائیں (اس کی وجہ سے زمین کے غار اور پہاڑ سب برابر ہو کر ایک سطح مستوی بن جائے گی اور اس وقت تمام اولاد آدم اس زمین پر جمع ہوگی اس ہجوم کی وجہ سے ایک انسان کے حصہ میں صرف اتنی ہی زمین ہوگی جس پر وہ کھڑا ہو سکے پھر محشر میں سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا میں رب العزت کے سامنے سجدہ میں گر پڑوں گا پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو میں تمام مخلوق کے لئے شفاعت کروں گا کہ ان کا حساب کتاب جلد ہوجائے۔
اس آخری روایت سے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں تبدیلی صرف صفت کی ہوگی کہ غار اور پہاڑ اور عمارت اور درخت نہ رہیں گے مگر ذات زمین یہی باقی رہے گی اور پہلی سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ محشر کی زمین اس موجودہ زمین کے علاوہ کوئی اور ہوگی اور جس تبدیلی کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے ذات کی تبدیلی مراد ہے۔
بیان القرآن میں حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہوسکتا ہے کہ پہلے نفخہ صور کے وقت اسی موجودہ زمین کی صفات تبدیل کی جائیں اور پھر حساب کتاب کے لئے ان کو کسی دوسری زمین کی طرف منتقل کیا جائے۔
تفسیر مظہری میں مسند عبدابن حمید سے حضرت عکرمہ کا ایک قول نقل کیا ہے جس سے اس کی تائید ہوتی ہے اس کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ زمین سمٹ جائے گی اور اس کے پہلو میں ایک دوسری زمین ہوگی جس پر لوگوں کو حساب کتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا۔
صحیح مسلم میں بروایت حضرت ثوبان ؓ منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک یہودی عالم آیا اور یہ سوال کیا کہ جس دن یہ زمین بدلی جاوے گی تو آدمی کہاں ہوں گے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پل صراط کے پاس ایک اندہیری میں ہوں گے۔
اس بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمین سے بذریعہ پل صراط دوسری طرف منتقل کئے جائیں گے اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں متعدد صحابہ وتابعین کے یہ اقوال نقل کئے ہیں کہ اس وقت موجودہ زمین اور اس کے سب دریا آگ ہوجائیں گے گویا یہ سارا علاقہ جس میں اب دنیا آباد ہے اس وقت جہنم کا علاقہ ہوجائے گا اور حقیقت حال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے بندہ کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں۔
زبان تازہ کردن باقرار تو۔ نینگیختن علت از کار تو
آخری آیات میں اہل جہنم کا یہ حال بتلایا گیا ہے کہ مجرم لوگوں کو ایک زنجیر میں باندھ دیا جائے گا یعنی ہر جرم کے مجرم الگ الگ جمع کر کے یک جاباندھ دیئے جائیں گے اور ان کو جو لباس پہنایا جائے گا وہ قطران کا ہوگا جس کو تارکول کہا جاتا ہے اور وہ ایک آتش گیر مادہ ہے کہ آگ فورا پکڑ لیتا ہے۔
آخری آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہ سب حوال قیامت کا بیان کرنا لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لئے ہے تاکہ وہ اب بھی سمجھ لیں کہ قابل عبادت و اطاعت صرف ایک ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور تاکہ جن میں کچھ بھی عقل وہوش ہے وہ شرک سے باز آجائیں۔
سورة ابراہیم ختم شد
Ayah 14:52ایک یاد داشت اور اطلاع
احقر ناکارہ نہ اس کا اہل تھا کہ تفسیر قرآن لکھنے کی جرأت کرے نہ کبھی اس خیال کی ہمت کرتا تھا البتہ اپنے مرشد حضرت حکیم الامت تھانوی کی تفسیر بیان القرآن کو جو اس زمانہ کی بےنظیر متوسط تفسیر ہے نہ بہت مختصر کہ مضمون قرآن سمجھنا مشکل ہو نہ بہت طویل کہ پڑھنا مشکل ہو پھر خداداد علم وذکاوت اور تقوی و طہارت کی برکت سے اقوال مختلفہ میں ایک کو ترجیح دے کر لکھ دینے کا جو خاص ذوق حق تعالیٰ نے موصوف کو عطا فرمایا تھا وہ بڑی تفسیروں سے بھی حاصل ہونا مشکل تھا مگر یہ تفسیر حضرت نے اہل علم کے لئے انہی کی زبان اور علمی اصطلاحوں میں لکھی ہے عوام خصوصا اس زمانہ کے عوام جو عربی زبان اور اس کی اصطلاحات سے بہت دور ہوچکے ہیں ان کو اس تفسیر سے استفادہ مشکل تھا۔
اس لئے یہ خیال اکثر رہا کرتا تھا کہ اس کے مضامین عجیبہ کو آج کل کی آسان زبان میں لکھا جائے مگر یہ بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔
بحکم قضاء وقدر اس کی ابتداء اس طرح ہوگئی کہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر صاحب نے مجھ پر اصرار کیا کہ ریڈیو پر ایک سلسلہ قرآن کی خاص خاص آیات کا بعنوان معارف القرآن جاری کیا جائے ان کا اصرار اس کام کے آغاز کا سبب بن گیا اور ریڈیو پاکستان پر ہر جمعہ کے روز جمعہ 3 شوال 1373 ھ مطابق 2 جولائی 1954 سے شروع ہو کر 15 صفر 1384 مطابق 25 جون 1964 ء تک جاری رہا جو سورة ابراہیم کے اختتام پر منجانب محکمہ ریڈیو پاکستان ختم کردیا گیا۔
حق تعالیٰ نے اس کو میرے وہم و گمان سے زیادہ مقبولیت عطا فرمائی اور اطراف عالم سے اس کو کتابی صورت میں طبع کرنے کا تقاضا ہوا اس کا ارادہ کیا تو جتنا کام اس وقت تک ہوچکا تھا وہ بھی اس لحاظ سے ناتمام تھا کہ یہ سلسلہ منتخب آیات کا تھا درمیانی آیات کو جو خالص علمی تھیں ریڈیو پر عوام کو ان کی تفسیر سمجھانا آسان نہ تھا وہ رہ گئی تھیں کتابی شکل میں طبع کرنے کے لئے ان کا سلسلہ بھی پورا کرنا تھا جو بوجہ وقتی مشاغل کے پورا کرنا مشکل تھا۔
عجائب قدرت سے ہے کہ رمضان 1388 ھ میں احقر سخت بیمار ہو کر نقل و حرکت سے معذور صاحب فراش ہوگیا اور موت سامنے محسوس ہونے لگی تو اس کا افسوس ستانے لگا کہ یہ مسودات یوں ہی ضائع ہوجائیں گے حق تعالیٰ نے دل میں یہ داعیہ پیدا فرما دیا کہ لیٹے بیٹھے معارف القرآن کے مسودات پر نظر ثانی اور درمیانی آیات جو رہ گئی ہیں ان کی تکمیل کسی طرح اسی حالت میں کردی جائے ادھر بیماری کا سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا بیماری نے تمام دوسرے مشاغل پہلے ہی چھڑا دیئے تھے اب صرف یہی مشغلہ رہ گیا اس لئے قدرت کے عجیب و غریب انتظام نے اسی بیماری میں بحمد اللہ یہ کام 29 رجب 1390 ھ تک پورا کرا دیا۔
یہاں تک کہ سورة ابراہم کا ختم اور قرآن پاک کے تیرا پارے اسی ریڈیو کی نشری دروس کے ذریعہ پورے ہوگئے۔
اب اللہ تعالیٰ نے اگے حصہ لکھنے کی توفیق وہمت بھی عطا فرما دی نقل و حرکت سے معذوری کی تکلیف بھی رفع فرمادی اگرچہ سلسلہ مختلف امراض کا تقریبا مسلسل رہا اور ضعف بھی بڑہتا رہا مگر اللہ کے فضل وکرم اور اسی کی امداد سے 30 شعبان 1390 ھ سے قرآن کے اگلے پاروں کی تفسیر کا لکھنا شروع ہو کر اس وقت جبکہ معارف القرآن کی تین جلدیں چھپ کر شائع ہوچکی ہیں یعنی 25 صفر 1391 ھ میں اس تفسیر کا مسودہ قرآن کریم کی چوتھی منزل سورة فرقان انیسویں پارے تک بعون اللہ سبحانہ مکمل ہوچکا ہے۔
اس وقت بھی مختلف امراض اور ضعف کا سلسلہ بھی ہے اور بحمداللہ یہ کام بھی جاری ہے کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرما دیں
وما ذالک علی اللہ بعزیز۔
بندہ محمد شفیع
25 صفر 1391 ھ