14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 14:18–22

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

حال ان لوگوں کا جو منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے عمل ہیں جیسے وہ راکھ کہ زور کی چلے اس پر ہوا آندھی کے دن، کچھ ان کے ہاتھ میں نہ ہوگا اپنی کمائی میں سے یہی ہے بہک کر دور جا پڑنا

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

تو نے کیا نہیں دیکھا کہ اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسی چاہئے، اگر چاہے تم کو لیجئے اور لائے کوئی پیدائش نئی

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور سامنے کھڑے ہوں گے اللہ کے سارے پھر کہیں گے کمزور بڑائی والوں کو ہم تو تمہارے تابع تھے، سو کیا بچاؤ گے ہم کو اللہ کے کسی عذاب سے کچھ، وہ کہیں گے اگر ہدایت کرتا ہم کو اللہ تو البتہ ہم تم کو ہدایت کرتے، اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بیقراری کریں یا صبر کریں ہم کو نہیں خلاصی،

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور بولا شیطان جب فیصل ہوچکا سب کام بیشک اللہ نے تم کو دیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر جھوٹا کیا، اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو سوالزام نہ دو مجھ کو اور الزام دو اپنے آپ کو، نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچو ! میں منکر ہوں جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے، البتہ جو ظالم ہیں ان کے لئے ہے عذاب درد ناک۔

خلاصہ تفسیر (ان کافروں کو اگر اپنی نجات کے متعلق یہ زعم ہو کر ہمارے اعمال ہم کو نافع ہوں گے تو اس کا قاعدہ کلیہ تو یہ سن لو کہ) جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کی حالت باعتبار عمل کے یہ ہے (یعنی ان کے اعمال کی ایسی مثال ہے) جیسے کچھ راکھ ہو (جو اڑنے میں بہت خفیف ہوتی ہے) جس کو تیز آندھی کے دن میں تیزی کے ساتھ ہوا اڑا لے جائے (کہ اس صورت میں اس راکھ کا نام و نشان بھی نہ رہے گا اسی طرح) ان لوگوں نے جو کچھ عمل کئے تھے اس کا کوئی حصہ (یعنی اثر و نفع کے قبیل سے) ان کو حاصل نہ ہوگا (اس راکھ کی طرح ضائع و برباد ہوجائے گا) یہ بھی بڑی دور دراز کی گمراہی ہے) کہ گمان تو ہو کہ ہمارے عمل نیک اور نافع ہیں اور پھر ظاہر ہوں بد اور مضر جیسے عبادات اصنام یا غیر نافع جیسے اعتاق وصلہ رحمی اور چونکہ حق سے اس کو بہت بعد ہے اس لئے کہا گیا پس اس طریق سے تو نجات کا احتمال نہ رہا اور اگر ان کو یہ زعم ہو کہ قیامت ہی کا وجود محال ہے اور اس صورت میں عذاب کا احتمال نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ) کیا (اے مخاطب) تجھ کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو بالکل ٹھیک ٹھیک (یعنی مشتمل بر منافع ومصالح) پیدا کیا ہے (اور اس سے قادر ہونا اس کا ظاہر ہے پس جب وہ قادر مطلق ہے تو) اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور ایک دوسری نئی مخلوق پیدا کر دے اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں (پس جب نئی مخلوق پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کردینا کیا مشکل ہے) اور (اگر یہ وسوسہ ہو کہ ہمارے اکابر ہم کو بچا لیں گے تو اس کی حقیقت سن لو کہ قیامت کے دن) خدا کے سامنے سب پیش ہوں گے پھر چھوٹے درجہ کے لوگ (یعنی عوام وتابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی خواص و متبوعین سے بطور ملامت و عتاب) کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے (حتی کہ دین کی جو راہ تم نے ہم کو بتلائی ہم اسی پر ہو لئے اور آج ہم پر مصیبت ہے) تو کیا تم خدا کے عذاب کا کچھ جزو ہم سے مٹا سکتے ہو (یعنی اگر بالکل نہ بچا سکو تو کسی قدر بھی بچا سکتے ہو) وہ (جواب میں) کہیں گے کہ (ہم تم کو کیا بچاتے خود ہی نہیں بچ سکتے ہیں البتہ) اگر اللہ ہم کو (کوئی) راہ (بچنے کی) بتلاتا تو ہم تم کو بھی (وہ) راہ بتلا دیتے (اور اب تو) ہم سب کے حق میں دونوں صورتیں برابر ہیں خواہ ہم پریشان ہوں (جیسا کہ تمہاری پریشانی فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّاسے ظاہر ہے اور ہماری پریشانی تو لو ہدانا اللہ سے ظاہر ہی ہے) خواہ ضبط کریں (دونوں حالتوں میں) ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں (پس اس سوال و جواب سے یہ معلوم ہوگیا کہ طریق کفر کے اکابر بھی اپنے متبعین کے کچھ کام نہ آئیں گے یہ طریق بھی نجات کا محتمل نہ رہا) اور (اگر اس کا بھروسہ ہو کر یہ معبودین غیر اللہ کام آویں گے اس کا حال اس حکایت سے معلوم ہوجائے گا کہ) جب (قیامت میں) تمام مقدمات فیصل ہو چکیں گے (یعنی اہل ایمان جنت میں اور کفار دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے) تو (اہل دوزخ سب شیطان کے پاس کہ وہ بھی وہاں ہوگا جا کر ملامت کریں گے کہ کم بخت تو تو ڈوبا ہی تھا ہم کو بھی اپنے ساتھ ڈبو یا اس وقت) شیطان (جواب میں) کہے گا کہ (مجھ پر تمہاری ملامت ناحق ہے کیونکہ) (اللہ تعالیٰ نے تم سے (جتنے وعدے کئے تھے سب) سچے وعدے کئے تھے (کہ قیامت ہوگی اور کفر سے ہلاکت ہوگی اور ایمان سے نجات ہوگی) اور میں نے بھی وعدے تم سے کئے تھے (کہ قیامت نہ ہوگی اور تمہارا طریقہ کفر بھی طریقہ نجات ہے) سو میں نے وہ وعدے تم سے خلاف کئے تھے (اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے حق ہونے پر اور میرے وعدوں کے باطل ہونے پر دلائل قطعیہ قائم تھے سو باوجود اس کے تم نے میرے وعدوں کو صحیح اور خدا تعالیٰ کے وعدوں کو غلط سمجھا تو اپنے ہاتھوں تم ڈوبے) اور (اگر تم یوں کہو کہ آخر سچے وعدوں کو جھوٹا سمجھنے اور جھوٹے وعدوں کا سچا سمجھنے کا سبب بھی تو میں ہی ہوا تو بات یہ ہے کہ واقعی میں اغواء کے مرتبہ میں سبب ضرور ہوا لیکن یہ دیکھو کہ میرے اغواء کے بعد تم مختار تھے یا مضطر و مجبور سو ظاہر ہے کہ) میرا تم پر اور تو کچھ زور چلتا نہ تھا بجز اس کے کہ میں نے تم کو (گمراہی کی طرف) بلایا تھا سو تم نے (باختیار خود) میرا کہنا مان لیا (اگر نہ مانتے تو میں بزور تم کو گمراہ نہ کرسکتا تھا جب یہ بات ثابت ہے) تو مجھ پر (ساری) ملامت مت کرو (اس طرح سے کہ اپنے کو بالکل بری سمجھنے لگو) اور (زیادہ) ملامت اپنے آپ کو کرو (کیونکہ اصل علت عذاب کی تمہارا ہی فعل ہے اور میرا فعل تو محض سبب ہے جو بعید اور غیر مستلزم ہے پس ملامت کا تو یہ جواب ہے اور اگر مقصود اس قول سے استعانت واستمداد ہے تو میں کسی کی کیا مدد کروں گا ورنہ میں بھی تم سے اپنے لئے مدد چاہتا کیونکہ زیادہ مناسبت تم سے ہے پس اب تو) نہ میں تمہارا مددگار (ہو سکتا) ہوں اور نہ تم میرے مددگار (ہو سکتے) ہو (البتہ اگر میں تمہارے طریقہ شرک کو حق سمجھتا تو بھی اس تعلق کی وجہ سے نصرت کا مطالبہ کرنے کی گنجائش تھی لیکن) میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں (اور اس کو باطل سمجھتا ہوں) کہ تم اس کے قبل (دنیا میں) مجھ کو (خدا کا) شریک قرار دیتے تھے (یعنی دربارہ عبادت اصنام وغیرھا میری ایسی اطاعت کرتے تھے جو اطاعت کہ خاصہ حق تعالیٰ ہے پس اصنام کو شریک ٹھہرانا بایں معنی شیطان کو شریک ٹھرانا ہے پس مجھ سے تمہارا کوئی تعلق نہ تم کو استمداد کا کوئی حق ہے پس) یقینا ظالموں کے لئے درد ناک عذاب (مقرر) ہے (پس عذاب میں پڑے رہو نہ مجھ پر ملامت کرنے سے نفع کی امید رکھو اور نہ مدد چاہنے سے جو تم نے ظلم کیا تھا تم بھگتو جو میں نے کیا تھا میں بھگتوں گا پس گفتگو قطع کرو یہ حاصل ہوا ابلیس کے جواب کا پس اس سے معبودین غیر اللہ کا بھروسہ بھی قطع ہوا کیونکہ جو ان معبودین کی عبادت کا اصل بانی و محرک ہے اور درحقیقت عبادت غیر اللہ سے زیادہ راضی وہی ہوتا ہے چناچہ اسی بنا پر قیامت کے دن دوزخ میں اہل نار اسی سے کہیں سنیں گے اور کسی معبود غیر اللہ سے کچھ بھی نہ کہیں گے جب اس نے صاف جواب دے دیاتو اوروں سے کیا امید ہو سکتی ہے پس نجات کفار کے سب طریقے مسدود ہوگئے اور یہی مضمون مقصود تھا) معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلے ایک آیت میں حق تعالیٰ نے کفار کے اعمال کی یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ وہ راکھ کی مانند ہیں جس پر تیز اور سخت ہوا چل جائے تو اس کا ذرہ ذرہ ہوا میں منتشر ہو کر بےنشان ہوجائے پھر کوئی اس کو جمع کر کے اس سے کوئی کام لینا چاہئے تو ناممکن ہوجائے۔ (آیت) مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ مطلب یہ ہے کہ کافر کے اعمال جو بظاہر اچھے بھی ہوں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں اس لئے سب ضائع اور بیکار ہیں ، اس کے بعد مذکورہ آیات میں پہلے مومن اور اس کے اعمال کی ایک مثال دی گئی ہے پھر کفار و منافقین کے اعمال کی پہلی آیت میں مومن اور اس کے اعمال کی مثال ایک ایسے درخت سے دی گئی ہے جس کا تنہ مضبوط اور بلند ہو اور اس کی جڑیں زمین میں گہری گئی ہوئی ہوں اور زیر زمین پانی کے چشموں سے سیراب ہوتی ہوں گہری جڑوں کی وجہ سے اس درخت کو استحکام اور مضبوطی بھی حاصل ہو کہ ہوا کے جھونکے سے گر نہ جائے اور سطح زمین سے دور ہونے کی وجہ سے اس کا پھل گندگی سے پاک صاف رہے دوسری صفت اس درخت کی یہ ہے کہ اس کی شاخیں بلندی پر آسمان کی طرف ہوں تیسری صفت اس درخت کی یہ ہے کہ اس کا پھل ہر وقت ہر حال میں کھایا جاتا ہو ، یہ درخت کون سا اور کہاں ہے ؟ اس کے متعلق مفسرین کے اقوال مختلف ہیں مگر زیادہ اقرب یہ ہے کہ وہ کھجور کا درخت ہے اس کی تائید تجربہ اور مشاہدہ سے بھی ہوتی ہے اور روایات حدیث سے بھی کھجور کے درخت کے تنہ کا بلند اور مضبوط ہونا تو مشاہدہ کی چیز ہے سب ہی جانتے ہیں اس کی جڑوں کا زمین کی دور گہرائی تک پہنچنا بھی معروف و معلوم ہے اور اس کا پھل بھی ہر وقت اور ہر حال میں کھایا جاتا ہے جس وقت سے اس کا پھل درخت پر ظاہر ہوتا ہے اس وقت سے پکنے کے زمانہ تک ہر حال اور ہر صورت میں اس کا پھل مختلف طریقوں سے چٹنی واچار کے طریقہ سے یا دوسرے طریقہ سے کھایا جاتا ہے پھر پھل پک جانے کے بعد اس کا ذخیرہ بھی پورے سال باقی رہتا ہے صبح وشام دن اور رات، گرامی اور سردی، غرض ہر موسم اور ہر وقت میں کام دیتا ہے اس درخت کا گودا بھی کھایا جاتا ہے اس سے میٹھا رس بھی نکالا جاتا ہے اس کے پتوں سے بہت سی مفید چیزیں چٹائیاں وغیرہ بنتی ہیں اس کی گٹھلی جانوروں کا چارہ ہے بخلاف دوسری درختوں کے پھلوں کے کہ وہ خاص موسم میں آتے ہیں اور ختم ہوجاتے ہیں ان کا ذخیرہ نہیں رکھا جاتا ہے اور نہ ان کی ہر چیز سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اور ترمذی، نسائی، ابن حبان اور حاکم نے بروایت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ شجرۃ طیبۃ (جس کا ذکر قرآن میں ہے) کھجور کا درخت ہے اور شجرۃ خبیثہ حنظل کا درخت (مظہری) اور مسند احمد میں بروایت مجاہد مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک روز ہم رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کوئی صاحب آپ کے پاس کھجور کے درخت کا گودہ لائے اس وقت آپ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے ایک سوال کیا کہ درختوں میں سے ایک ایسا درخت بھی ہے جو مرد مومن کی مثال ہے (اور بخاری کی روایت میں اس جگہ یہ بھی مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس درخت کے پتے کسی موسم میں جھڑتے ہیں) بتلاؤ وہ درخت کون سا ہے ؟ عمر ؓ اور دوسرے اکابر صحابہ موجود تھے ان کو خاموش دیکھ کر مجھے بولنے کی ہمت نہ ہوئی پھر خود رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مؤ من کی مثال اس درخت سے دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ کلمہ طیبہ میں ایمان اس کی جڑ ہے جو بہت مستحکم اور مضبوط ہے دنیا کے حوادث اس کو ہلا نہیں سکتے مؤمنین کاملین صحابہ وتابعین بلکہ ہر زمانہ کے پکے مسلمانوں کی ایسی مثالیں کچھ کم نہیں کہ ایمان کے مقابلہ میں نہ جان کی پروا کی نہ مال کی اور نہ کسی دوسری چیز کی دوسری وجہ ان کی طہارت ونظافت ہے کہ دنیا کی گندگیوں سے متاثر نہیں ہوتے جیسے بڑے درخت پر سطح زمین کی گندگی کا کوئی اثر نہیں ہوتا یہ دو وصف تو اصلہا ثابت کی مثال ہیں تیسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح کھجور کی شاخیں بلند آسمان کی طرف ہوتی ہیں مومن کے ایمان کے ثمرات یعنی اعمال بھی آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں قرآن کریم میں ہے اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں پاکیزہ کلمات مطلب یہ ہے کہ مومن جو اللہ تعالیٰ کا ذکر تسبیح، تہلیل، قراءۃ قرآن وغیرہ کرتا ہے یہ صبح شام اللہ تعالیٰ کے پاس پہونچتے رہتے ہیں، چوتھی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کھجور کا پھل ہر وقت ہر حال، ہر موسم میں لیل ونہار کھایا جاتا ہے مومن کے اعمال صالحہ بھی ہر وقت، ہر موسم، اور ہر حال میں صبح شام جاری ہیں اور جس طرح کھجور کے درخت کی ہر چیز کارآمد ہے مومن کا ہر قول وفعل اور حرکت و سکون اور اس سے پیدا ہونے والے آثار پوری دنیا کے نافع ومفید ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ مومن کامل اور تعلیمات خدا و رسول کا پابند ہو، مذکورہ تقریر سے معلوم ہوا کہ تُؤ ْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍ میں اکل سے مراد پھل اور کھانے کے لائق چیزیں ہیں اور حین سے مراد ہر وقت ہر حال ہے اکثر مفسرین نے اسی کو ترجیح دی ہے بعض حضرات کے دوسرے اقوال بھی ہیں۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور داخل کئے گئے جو لوگ ایمان لائے تھے اور کام کئے تھے نیک باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اپنے رب کے حکم سے ان کی ملاقات ہے وہاں سلام۔

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) وہ ان میں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) وہاں ان کو سلام اس لفظ سے کیا جائے گا السلام علیکم (یعنی باہم بھی اور فرشتوں کی طرف سے بھی لقولہ تعالیٰ) (آیت) اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ولقولہ تعالیٰ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّار الآیۃ)
Ayahs 14:24–25

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال بات ستھری جیسے ایک درخت ستھرا اس کی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنی ہے آسمان میں

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

لاتا ہے پھل اپنا ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ فکر کریں

خلاصہ تفسیر کیا آپ کو معلوم نہیں (اب معلوم ہوگیا) کہ اللہ تعالیٰ نے کیسی (اچھی اور موقع کی) مثال بیان فرمائی ہے کلمہ طیبہ کی کی (یعنی کلمہ توحید و ایمان کی) کہ وہ مشابہ ہے ایک پاکیزہ دوخت کے (مراد کھجور کا درخت ہے) جس کی جڑ (زمین کے اندر) خوب گڑی ہوئی ہو اور اس کی شاخیں اونچائی میں جارہی ہوں (اور) وہ (یعنی خوب پھلتا ہو کوئی فصل ماری نہ جاتی ہو اسی طرح کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کی ایک جڑ ہے یعنی اعتقاد جو مومن کے قلب میں استحکام کے ساتھ جائگیر ہے اور اس کی کچھ شاخیں ہیں یعنی اعمال صالحہ جو ایمان پر مرتب ہوتے ہیں جو بارگاہ قبولیت میں آسمان کی طرف لے جائے جاتے ہیں پھر ان پر رضائے دائمی کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے) اور اللہ تعالیٰ (اس قسم کی) مثالیں لوگوں (کے بتلانے) کے واسطے اس لئے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ (لوگ معانی مقصود کو) خوب سمجھ لیں (کیونکہ مثال سے مقصود کی خوب توضیح ہوجاتی ہے)
Ayah 14:26

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور مثال گندی بات کی جیسے درخت گندا اکھاڑ لیا اس کو زمین کے اوپر سے کچھ نہیں اس کو ٹھہراؤ،

خلاصہ تفسیر اور گندہ کلمہ کی (یعنی کلمہ کفر و شرک کی) مثال ایسی ہے جیسے ایک خراب درخت ہو (مراد درخت حنظل ہے) کہ وہ زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جاوے (اور) اس کو (زمین میں) کچھ اثبات نہ ہو (خراب فرمایا باعتبار اس کی بو اور مزہ اور رنگ کے یا اس کے پھل کی بو اور مزہ اور رنگ کے یہ صفت طیبہ کے مقابل ہوئی اور اوپر سے اکھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جڑ اس کی دور تک نہیں ہوتی اوپر ہی رکھی ہوتی ہے یہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ کے مقابل فرمایا اور مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ اسی کی تاکید کے لئے فرمایا اور اس کی شاخوں کا اونچا نہ جانا اور اس کے پھل کا تفکہا مطلوب نہ ہونا ظاہر ہے یہی حال کلمہ کفر کا ہے کہ گو کافر کے دل میں اس کی جڑ ہے مگر حق کے سامنے اس کا مضمحل و مغلوب ہوجانا مشابہ اسی کے ہے جیسے اس کی جڑ ہی نہیں قال تعالیٰ حُجَّــتُهُمْ دَاحِضَةٌ اور شاید مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ کی تصریح سے کفر کا یہی اضمحلال و مغلوبیت بتلانا مقصود ہے اور چونکہ اس کے اعمال مقبول نہیں ہوتے اس لئے گویا اس درخت کی شاخیں بھی فضاء میں نہیں پھیلیں اور چونکہ اس کے اعمال پر رضائے الہی مرتب نہیں ہوتی اس لئے پھل کی نفی بھی ظاہر ہے اور چونکہ قبول و رضا کا کفر میں بالکل احتمال نہیں اسی لئے مشبہ بہ کی جانب میں شاخوں اور پھل کا ذکر قطعا متروک فرما دیا ہو، بخلاف نفس کفر کے کہ اس کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ اس کا وجود محسوس بھی ہے اور احکام جہاد وغیرہ میں معتبر بھی ہے یہ تو دونوں کی مثال ہوگئی آگے اثر کا بیان ہے کہ) اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ ثابت الاصل کی برکت) سے دنیا میں اور آخرت (دونوں جگہوں) میں (دین میں اور امتحان میں) مضبوط رکھتا ہے اور (اس کلمہ خبیثہ کی نحوست سے) ظالموں (یعنی کافروں) کو (دونوں جگہ دین میں اور امتحان میں) بچلا دیتا ہے اور (کسی کو ثابت رکھنے اور کسی کو بچلا دینے میں ہزاروں حکمتیں ہیں پس) اللہ تعالیٰ (اپنی حکمت سے) جو چاہتا ہے کرتا ہے کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی ان کا حال عجیب ہے) جنہوں نے بجائے نعمت الہی (کے شکر) کے کفر کیا (مراد اس سے کفار مکہ ہیں کذا فی الدرالمنثور عن ابن عباس) اور جنہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں پہنچایا (یعنی ان کو بھی کفر کی تعلیم کی جس سے) وہ اس (جہنم) میں داخل ہوں گے اور وہ رہنے کی بری جگہ ہے (اس میں اشارہ ہوگیا کہ ان کا داخل ہونا قرار اور دوام کے لئے ہوگا) کفار کی مثال اس کے بالمقابل دوسری مثال کفار کی شَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ سے دی گئی جس طرح كَلِمُ الطَّيِّبُ سے مراد قول لا الہ الا اللہ یعنی ایمان ہے اسی طرح كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ سے مراد کلمات کفر اور افعال کفر ہیں شجرہ خبیثہ سے مراد مذکورہ حدیث میں حنظل کو قرار دیا گیا ہے اور بعض نے لہسن وغیرہ کہا ہے۔ اس شجرہ خبیثہ کا حال قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ اس کی جڑیں زمین کے اندر زیادہ نہیں ہوتیں اس لئے جب کوئی چاہے اس درخت کے پورے جثہ کو زمین سے اکھاڑ سکتا ہے اُجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ کے یہی معنی ہیں کیونکہ اُجْتُثَّتْ کے اصل معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کے جثہ کو پورا پورا اٹھا لیا جائے، کافر کے اعمال کو اس درخت سے تشبیہ دینے کی وجہ ظاہر ہے کہ اول تو اس کے عقائد کی کوئی جڑ بنیاد نہیں ذرا دیر میں متزلزل ہوجاتے ہیں دوسرے دنیا کی گندگی سے متاثر ہوتے ہیں تیسرے ان کے درخت کے پھل پھول یعنی اعمال و افعال عند اللہ کار آمد نہیں۔ ایمان کا خاص اثر اس کے بعدمؤ من کے ایمان اور کلمہ طیبہ کا ایک خاص اثر دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے (آیت) يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ یعنی مومن کا کلمہ طیبہ مضبوط و مستحکم درخت کی طرح ایک قول ثابت ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم و برقرار رکھتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بشرطیکہ یہ کلمہ اخلاص کے ساتھ کہا جائے اور لا الہ الا اللہ کے مفہوم کو پوری طرح سمجھ کر اختیار کیا جائے، مطلب یہ ہے کہ اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھنے والے کی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک اس کلمہ پر قائم رہتا ہے خواہ اس کے خلاف کتنے ہی حوادث سے مقابلہ کرنا پڑے اور آخرت میں اس کلمہ کو قائم و برقرار رکھ کر اس کی مدد کی جاتی ہے صحیح بخاری ومسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آخرت سے مراد اس آیت میں برزخ یعنی قبر کا عالم ہے، قبر کا عذاب وثواب قرآن و حدیث سے ثابت ہے حدیث یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب قبر میں مومن سے سوال کیا جائے گا تو ایسے ہولناک مقام اور سخت حال میں بھی وہ بتائید ربانی اس کلمہ پر قائم رہے گا اور لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دے گا اور پھر فرمایا کہ ارشاد قرآنی يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ کا یہی مطلب ہے (یہ روایت حدیث حضرت براء بن عازب ؓ نے نقل فرمائی) اسی طرح تقریبا چالیس صحابہ کرام ؓ اجمعین سے معتبر اسانید کے ساتھ اسی مضمون کی حدیثیں منقول ہیں جن کو امام ابن کثیر نے اس جگہ اپنی تفسیر میں جمع کیا ہے اور شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنے منظوم رسالہ التثبیت عند التبییت میں اور شرح الصدور میں ستر احادیث کا حوالہ نقل کر کے ان روایات کو متواتر فرمایا ہے ان سب حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین نے آیت مذکورہ میں آخرت سے مراد قبر اور اس آیت کو قبر کے عذاب وثواب سے متعلق قرار دیا ہے۔ مرنے اور دفن ہونے کے بعد قبر میں انسان کا دوبارہ زندہ ہو کر فرشتوں کے سوالات کا جواب دینا پھر اس امتحان میں کامیابی اور ناکامی پر ثواب یا عذاب کا ہونا قرآن مجید کی تقریبا دس آیات میں اشارہ اور رسول کریم ﷺ کی ستر احادیث متواترہ میں بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ مذکور ہے جس میں مسلمان کو شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہے وہ عامیانہ شبہات کہ دنیا میں دیکھنے والوں کو یہ ثواب و عذاب نظر نہیں آتے سو اس کے تفصیلی جوابات کی تو یہاں گنجائش نہیں اجمالا اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ کسی چیز کا نظر نہ آنا اس کے موجود نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتی جنات اور فرشتے بھی کسی کو نظر نہیں آتے مگر موجود ہیں ہوا نظر نہیں آتی مگر موجود ہے جس کائناتی فضا کا اس زمانہ میں راکٹوں کے ذریعہ مشاہدہ ہو رہا ہے وہ اب سے پہلے کسی کو نظر نہ آتی تھی مگر موجود تھی خواب دیکھنے والا خواب میں کسی مصیبت میں گرفتار ہو کر سخت عذاب میں بےچین ہوتا ہے مگر پاس بیٹھنے والوں کو اس کی کچھ خبر نہیں ہوتی اصول کی بات یہ ہے کہ ایک عالم کو دوسرے عالم کے حالات پر قیاس کرنا خود غلط ہے جب خالق کائنات نے اپنے رسول کے ذریعہ دوسرے عالم میں پہنچنے کے بعد اس عذاب وثواب کی خبر دے دیتو اس پر ایمان و اعتقاد رکھنا لازم ہے،
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بچلا دیتا ہے اللہ بےانصافوں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے

آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ مؤمنین کو تو کلمہ طیبہ اور قول ثابت پر ثابت قدم رکھتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں قبر ہی سے ان کے لئے راحت کے سامان جمع ہوجاتے ہیں مگر ظالموں یعنی کفار و مشرکین کو یہ خداوندی نصرت و امداد نہیں ملتی منکر نکیر کے سوالات کا صحیح جواب نہیں دے سکتے اور انجام کار ابھی سے ایک قسم کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ یعنی اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہتا ہے کوئی طاقت نہیں جو اس کے ارادہ اور مشیت کو روک سکے حضرت ابی بن کعب ؓ، عبد اللہ بن مسعود، ؓ حذیفہ بن یمان، ؓ وغیرہ حضرات صحابہ نے فرمایا ہے کہ مومن کو اس کا اعتقاد لازم ہے کے کہ اس کو جو جو چیز حاصل ہوئی وہ اللہ کی مشیت اور ارادہ سے حاصل ہوئی اس کا ٹلنا ناممکن تھا اسی طرح جو چیز حاصل نہیں ہوئی اس کا حاصل ہونا ممکن نہ تھا اور فرمایا کہ اگر تمہیں اس پر یقین و اعتماد نہ ہو تو تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayahs 14:28–29

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا ان کو جنہوں نے بدلہ کیا اللہ کے احسان کا ناشکری اور اتارا اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جو دوزخ ہے داخل ہوں گے اس میں اور وہ برا ٹھکانا ہے

(آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ۔ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۭ وَبِئْسَ الْقَرَارُ۔ یعنی کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بدلہ میں کفر اختیار کرلیا اور اپنی قوم کو جو ان کے کہنے پر چلتی تھی ہلاکت و بربادی کے مقام میں اتار دیا وہ جہنم میں چلیں گے اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے ، یہاں نعمۃ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی عام نعمتیں بھی مراد ہو سکتی ہیں جو محسوس و مشاہد ہیں اور جن کا تعلق انسان کے ظاہری منافع سے ہے جیسا کھانے پینے پہننے کی اشیاء زمین اور مکان وغیرہ اور وہ مخصوص معنوی نعمتیں بھی ہو سکتی ہیں جو انسان کے رشد و ہدایت کے لئے حق تعالیٰ کی طرف سے آئی ہیں مثلا انبیاء اور آسمانی کتابیں اور جو نشانیاں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی اپنے وجود کے ہر جوڑ میں پھر زمین اور اس کی بیشمار مخلوقات میں آسمان اور اس کی ناقابل ادراک کائنات میں انسان کی ہدایات کا سامان ہیں۔ ان دونوں قسم کی نعمتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کو پہچانتا اس کی نعمتوں کا شکر گذار ہو کر اس کی فرمانبرداری میں لگ جاتا مگر کفار و مشرکین نے نعمتوں کا مقابلہ شکر کے بجائے کفران نعمت اور سرکشی و نافرمانی سے کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت و بربادی کے مقام میں ڈال دیا اور خود بھی ہلاک ہوئے، احکام و ہدایات ان تینوں آیتوں میں توحید اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی عظمت و فضیلت اور اس کی برکات وثمرات اور اس سے انکار کی نحوست اور انجام بد کا بیان ہوا ہے کہ توحید ایسی لازوال دولت ہے جس کی برکت سے دنیا میں تائید ایزدی ساتھ ہوتی ہے اور آخرت اور قبر میں بھی اور اس سے انکار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو عذاب سے بدل ڈالنے کے مرادف ہے۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ٹھہرائے اللہ کے لئے مقابل کہ بہکائیں لوگوں کو اس کی راہ سے تو کہہ مزا اڑا لو پھر تم کو لوٹنا ہے طرف آگ کی

خلاصہ تفسیر اور (اوپر جو کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے شکر نعمت کی جگہ کفر کیا اور اپنی قوم کو جہنم میں پہنچایا اس کفر اور پہنچانے کا بیان یہ ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کے ساجھی قرار دیئے تاکہ (دوسروں کو بھی) اس کے دین سے گمراہ کریں (پس ساجھی قرار دینا کفر ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا جہنم میں پہچانا ہے) آپ (ان سب سے) کہہ دیجئے کہ چندے عیش کرلو کیونکہ آخر انجام تمہارا دوزخ میں جانا ہے (عیش سے مراد حالت کفر میں رہنا ہے کیونکہ ہر شخص کو اپنے مذہب میں لذت ہوتی ہے یعنی اور چندے کفر کرلو یہ تہدید ہے اور مطلب کیونکہ کا یہ ہے کہ چونکہ جہنم میں جانا تو تمہارا ضروری ہے اس واسطے کفر سے باز آنا تمہارا مشکل ہے خیر اور چندے گذار لو پھر تو اس مصیبت کا سامنا ہوگا ہی اور) جو میرے خاص ایمان والے بندے ہیں (ان کو اس کفر نعمت کے وبال پر متنبہ کر کے اس سے محفوظ رکھنے کے لئے) ان سے کہہ دیجئے کہ وہ (نعمت الہی کے اس طرح شکر گذار رہیں کہ) نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے (حسب قواعد شرعیہ) پوشیدہ اور آشکارا (جیسا موقع ہو) خرچ کیا کریں ایسے دن کے آنے سے پہلے پہلے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوستی ہوگی (مطلب یہ کہ عبادات بدنیہ ومالیہ کو ادا کرتے رہیں کہ یہی شکر ہے نعمت کا) اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی سے پھلوں کی قسم سے تمہارے لئے رزق پیدا کیا اور تمہارے نفع کے واسطے کشتی (اور جہاز) کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا تاکہ وہ خدا کے حکم (وقدرت) سے دریا میں چلے (اور تمہاری تجارت اور سفر کی غرض حاصل ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے نہروں کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ اسی سے پانی پیو اور آب پاشی کرو اور اس میں کشتی چلاؤ) اور تمہارے نفع کے واسطے سورج اور چاند کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا جو ہمیشہ چلنے ہی میں رہتے ہیں (تاکہ تم کو روشنی اور گرمی وغیرہ کا فائدہ ہو) اور تمہارے نفع کے واسطے رات اور دن کو (اپنی قدرت کا) مسخر بنایا (تاکہ تم کو معیشت اور آسائش کا نفع حاصل ہو) اور جو جو چیز تم نے مانگی (اور وہ تمہارے مناسب حال ہوئی) تم کو ہر چیز دی اور (اشیائے مذکورہ ہی پر کیا منحصر ہے) اللہ تعالیٰ کی نعمتیں (تو اس قدر بیشمار ہیں کہ) اگر (ان کو) شمار کرنے لگو تو شمار میں نہیں لا سکتے (مگر) سچ یہ ہے کہ آدمی بہت ہی بےانصاف بڑا ہی ناشکرا ہے (اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر اور شکر نہیں کرتا بلکہ اور بالعکس کفر و معصیت کرنے لگتا ہے جیسا اوپر آیا ہے (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا معارف و مسائل سورة ابراہیم کے شروع میں رسالت ونبوت اور میعاد وآخرت کے متعلق مضامین تھے اس کے بعد توحید کی فضیلت اور کلمہ کفرو شرک کی مذمت کا بیان مثالوں کے ذریعہ کیا گیا پھر مشرکین کی مذمت اس بات پر کی گئی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں کفار و مشرکین کی مذمت اور ان کے انجام بد کا ذکر ہے دوسری آیت میں مؤمنین کی فضیلت اور ان کو ادائے شکر کے لئے کچھ احکام الہیہ کی تاکید کی گئی ہے تیسری چوتھی اور پانچویں آیات میں اللہ جل شانہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر فرما کر اس پر آمادہ کیا گیا کہ وہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں صرف نہ کریں۔ تفسیر و تشریح انداد، ند کی جمع ہے جس کے معنی مثل اور برابر کے ہیں بتوں کو انداد اس لئے کہا جاتا ہے کہ مشرکین نے ان کو اپنے عمل میں خدا کی مثل یا برابر قرار دے رکھا تھا تمتع کے معنی کس چیز سے چند روزہ عارضی فائدہ حاصل کرنے کے ہیں اس آیت میں مشرکین کے اس غلط نظریہ پر نکیر ہے کہ انہوں نے بتوں کو خدا کے مثل اور اس کا شریک ٹھہرا دیا رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں کو جتلا دیں کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے فرمایا کہ چند روزہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو مگر تمہارا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے۔ دوسری آیت میں رسول کریم ﷺ کو ارشاد ہے کہ (کفار مکہ نے تو اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اب) آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیں کہ نماز کی پابندی رکھیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کریں پوشیدہ اور علانیہ طور پر اس آیت میں مومن بندوں کے لئے بڑی بشارت اور اعزاز ہے اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ کہہ کر پکارا پھر صفت ایمان کے ساتھ موصوف کیا پھر ان کو دائمی راحت اور اعزاز دینے کی ترکیب بتلائی کہ نماز کی پابندی کریں نہ ان کے اوقات میں سستی کریں نہ آداب میں کوتاہی اور اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ اس کی راہ میں بھی کرچ کیا کریں خرچ کرنے کی دونوں صورتوں کو جائز قرار دیا کہ پوشیدہ طور پر صدقہ خیرات کریں یا اعلان و اظہار کے ساتھ کریں بعض علماء نے فرمایا کہ زکوٰۃ فرض صدقہ الفطر وغیرہ علانیہ ہونے چاہیں تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ خیرات کو پوشیدہ دنیا بہتر ہے کہ نام ونمود کا خطرہ نہ رہے اور اصل مدار نیت اور حالات پر ہے اگر اعلان و اظہار میں نام و نمود کا شائبہ آجائے تو صدقہ کی فضیلت ختم ہوجاتی ہے خواہ فرض ہو یا نفل اور اگر نیت یہ ہو کہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو تو فرض اور نفل دونوں میں اعلان و اظہار جائز ہے۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

کہہ دے میرے بندوں کو جو ایمان لائے ہیں قائم رکھیں نماز اور خرچ کریں ہماری دی ہوئی روزی میں سے پوشیدہ اور ظاہر پہلے اس سے کہ آئے وہ دن جس میں نہ سودا ہے نہ دوستی

(آیت) مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌ۔ لفظ خلال خلۃ کی جمع بھی ہو سکتی ہے جس کے معنی بےغرض دوستی کے ہیں اور اس لفظ کو باب مفاعلۃ کا مصدر بھی کہہ سکتے ہیں جیسے قتال دفاع وغیرہ اس صورت میں اس کے معنی دو شخصوں کے آپس میں دونوں طرف سے مخلصانہ دوستی کرنے کے ہوں گے اس جملہ کا تعلق اوپر کے بیان کئے ہوئے دونوں حکم یعنی نماز اور صدقہ کے ساتھ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو اللہ تعالیٰ نے طاقت فرصت عطا فرما رکھی ہے کہ نماز ادا کریں اور اگر پچھلی عمر میں غفلت سے کوئی نماز رہ گئی ہے تو اس کی قضاء کریں اسی طرح آج مال تمہاری ملک اور قبضہ میں ہے اس کو اللہ کے لئے خرچ کر کے دائمی زندگی کا کام بنا سکتے ہو لیکن وہ دن قریب آنے والا ہے جب کہ یہ دنوں قوتیں اور قدرتیں تم سے لے لی جائیں گی نہ تمہارے بدن نماز پڑھنے کے قابل رہیں گے نہ تمہاری ملک اور قبضہ میں کوئی مال رہے گا جس سے ضائع شدہ حقوق کی ادائیگی کرسکو اور اس دن میں کوئی بیع وشرا اور خریدو فروخت بھی نہ ہو سکے گی کہ آپ کوئی ایسی چیز خرید لیں جس کے ذریعہ اپنی کوتاہیوں اور گناہوں کا کفارہ کرسکیں اور اس دن میں آپس کی دوستیاں اور تعلقات بھی کام نہ آسکیں گے کوئی عزیز دوست کسی کے گناہوں کا بار نہ اٹھا سکے گا اور نہ اس کے عذاب کو کسی طرح ہٹا سکے گا اس دن سے مراد بظاہر حشر و قیامت کا دن ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ موت کا دن ہو کیونکہ یہ سب آثار موت ہی کے وقت سے ظاہر ہوجاتے ہیں نہ بدن میں کسی عمل کی صلاحیت رہتی ہے نہ مال ہی اس کی ملک میں رہتا ہے۔ احکام و ہدایات اس آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ قیامت کے روز کسی کی دوستی کسی کے کام نہ آئے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ محض دنیاوی دوستیاں اس روز کام نہ آئیں گی لیکن جن لوگوں کی دوستی اور تعلقات اللہ کے لئے اور اس کے دین کے کاموں کے لئے ہوں ان کی دوستی اس وقت بھی کام آئے گی کہ اللہ کے نیک اور مقبول بندے دوسروں کی شفاعت کریں گے جیسا کہ احادیث کیثرہ میں منقول ہے اور قرآن عزیز میں ارشاد ہے (آیت) اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ۔ یعنی وہ لوگ جو دنیا میں باہم دوست تھے اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے کہ یہ چاہیں گے کہ دوست پر اپنا گناہ ڈال کر خود بری ہوجائیں مگر وہ لوگ جو تقوی شعار ہیں کیونکہ اہل تقوی وہاں بھی ایک دوسرے کی مدد بطریق شفاعت کرسکیں گے۔ تیسری، چوتھی اور پانچویں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نعمتوں کی یاد دہانی کرا کے انسان کو اس کی عبادت و اطاعت کی طرف دعوت دی گئی ہے ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے جس پر انسانی وجود کی ابتداء اور بقاء موقوف ہے پھر آسمان سے پانی اتارا جس کے ذریعہ طرح طرح کے ثمرات پیدا کئے تاکہ وہ تمہارا رزق بن سکیں لفظ ثمرات، ثمرہ کی جمع ہے ہر چیز سے حاصل ہونے والے نتیجہ کو اس کا ثمرہ کہا جاتا ہے اس لئے لفظ ثمرات میں وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو انسان کی غذا بنتی ہیں اور وہ چیزیں بھی جو اس کا لباس بنتی ہیں اور وہ چیزیں بھی جو اس کے رہنے سہنے کا مکان بنتی ہیں کیونکہ لفظ رزق جو اس آیت میں مذکور ہے وہ ان تمام ضروریات انسانی پر حاوی اور شامل ہے (مظہری)
Ayah 14:32

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتارا آسمان سے پانی پھر اس سے نکالی روزی تمہاری، میوے، اور کہنے میں کیا تمہارے کشتی کو کہ چلے دریا میں اس کے حکم سے اور کام میں لگا دیا تمہاری ندیوں کو

پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی کشتیوں اور جہازوں کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ وہ اللہ کے حکم سے دریاؤں میں چلتے پھرتے ہیں لفظ سخر جو اس آیت میں آیا ہے اس سے مراد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا استعمال تمہارے لئے آسان کردیا ہے لکڑی لوہا اور ان سے کشتی جہاز بنانے کے اوزار وآلات اور ان سے صحیح کام لینے کی عقل و دانش یہ سب چیزیں اسی کی دی ہوئی ہیں اس لئے ان چیزوں کے موجد اس پر ناز نہ کریں کہ یہ ہم نے ایجاد کی یا بنائی ہے کیونکہ جن چیزوں سے ان میں کام لیا گیا ہے ان میں کوئی چیز بھی نہ تم نے پیدا کی ہے نہ کرسکتے ہو خالق کائنات کی بنائی ہوئی لکڑی لوہے، تانبے اور پیتل ہی میں تصرفات کر کے یہ ایجاد کا سہرا آپ نے اپنے سر لیا ہے ورنہ حقیقت دیکھو تو خود آپ کا اپنا وجود اپنے ہاتھ پاؤں، اپنا دماغ اور عقل بھی تو آپ کی بنائی ہوئی نہیں۔
Ayah 14:33

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور کام میں لگا دیا تمہارے سورج اور چاند کو ایک دستور پر برابر اور کام میں لگا دیا تمہارے رات اور دن کو

اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے سورج اور چاند کو مسخر کردیا کہ یہ دونوں ہمیشہ ایک حالت پر چلتے ہی رہتے ہیں دائبین داب سے مشتق ہے جس کے معنی عادت کے ہیں مراد یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر حال میں چلنا ان دونوں سیاروں کی عادت بنادی گئی کہ کبھی اس کے خلاف نہیں ہوتا مسخر کرنے کے یہ معنی نہیں کہ وہ تمہارے حکم اور اشاروں پر چلا کریں کیونکہ اگر شمس وقمر کو اس طرح انسان کا مسخر کردیا جاتا کہ وہ انسانی حکم کے تابع چلا کرتے تو انسانوں کے باہمی اختلاف کا یہ نتیجہ ہوتا کہ ایک انسان کہتا کہ آج آفتاب دو گھنٹے بعد نکلے کیونکہ رات میں کام زیادہ ہے دوسرا چاہتا کہ دو گھنٹے پہلے نکلے کہ دن کے کام زیادہ ہیں اس لئے رب العزت جل شانہ نے آسمان اور ستاروں کو انسان کا مسخر تو بنایا مگر اس معنی سے مسخر کیا کہ وہ ہر وقت ہر حال میں حکمت خداوندی کے ماتحت انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں یہ نہیں کہ ان کا طلوع و غروب اور رفتار انسان کی مرضی کے تابع ہوجائے، اسی طرح یہ ارشاد کہ ہم نے رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کردیا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ان دونوں کو انسان کی خدمت اور راحت کے کام میں لگا دیا
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگی، اور اگر گنو احسان اللہ کے نہ پورے کرسکو بیشک آدمی بڑا بےانصاف ہے ناشکر

(آیت) وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ یعنی اللہ تعالیٰ نے دیا تم کو ہر اس چیز میں سے جو تم نے مانگی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش کسی کے مانگنے پر موقوف نہیں ہم نے تو اپنا وجود بھی نہیں مانگا تھا اسی نے اپنے فضل سے بےمانگے عطا فرمایا۔ مانبودیم و تقاضا مانبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود اسی طرح آسمان، زمین، چاند، سورج، وغیرہ پیدا کرنے کی دعا کس نے مانگی تھی یہ سب کچھ مالک نے بےمانگے ہی دیا ہے اسی لئے قاضی بیضاوی نے اس لفظ کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ہر وہ چیز دے دیجو مانگنے کے قابل ہے اگرچہ تم نے مانگا نہ ہو لیکن اگر الفاظ کے ظاہری معنی ہی مراد ہوں تو ان میں بھی کچھ اشکال نہیں کہ عموما انسان جو کچھ مانگتا اور طلب کرتا ہے اکثر تو اس کو دے ہی دیا جاتا ہے اور جہاں کہیں اس کا سوال اپنی ظاہری صورت میں پورا نہیں کیا جاتا اس میں اس شخص کے لئے یا پورے عالم کے لئے کوئی مصلحت ہوتی ہے جس کا اس کو علم نہیں ہوتا مگر علیم وخبیر جانتے ہیں کہ اگر اس کا یہ سوال پورا کردیا گیا تو خود اس کے لئے یا اس کے خاندان کے لئے یا پورے عالم کے لئے وبال جان بن جائے گا ایسی صورت میں سوال کا پورا نہ کرنا ہی بڑی نعمت ہوتی ہے مگر انسان اپنے قصور علم کی وجہ سے اس کو نہیں جانتا اس لئے غمگین ہوتا ہے۔ (آیت) وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں انسان پر اس قدر ہیں کہ سب انسان مل کر ان کو شمار کرنا چاہیں تو شمار میں بھی نہیں آسکتیں انسان کا اپنا وجود خود ایک عالم اصغر ہے اس کی آنکھ، ناک، کان اور ہاتھ پاؤں اور بدن کے ہر جوڑ بلکہ ہر رگ وریشہ میں رب العزت کی غیر متناہی نعمتیں مستور ہیں جن سے یہ چلتی پھرتی سینکڑوں نازک مشینوں کی عجیب و غریب فیکڑی ہر وقت مشغول بکا رہے پھر آسمان و زمین اور دونوں کی مخلوقات سمندروں پہاڑوں کی مخلوقات کہ آج کی جدید تحقیقات اور اس میں عمریں کھپانے والے ہزاروں ماہرین بھی ان کا احاطہ نہیں کرسکے پھر نعمتیں صرف وہی نہیں جو مثبت صورت میں عام طور پر نعمت سمجھی جاتی ہیں بلکہ ہر مرض ہر تکلیف، ہر مصیبت ہر رنج و غم سے محفوظ رہنا الگ الگ مستقل نعمت ہے ایک انسان کو کتنی قسم کی بیماریاں اور کتنی اقسام کی بدنی اور ذہنی تکلیفیں دنیا میں پیش آسکتی ہیں انہی کا شمار ایک انسان سے نہیں ہوسکتا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پورے عطیات اور نعمتوں کا شمار کس سے ہوسکتا ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ بیشمار نعمتوں کے بدلہ میں بیشمار عبادت اور بیشمار شکر لازم ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے ضعیف البنیان انسان کی رعایت فرمائی جب وہ حقیقت پر نظر کرکے یہ اعتراف کرلے کہ شکر واجب سے سبکدوش ہونا اس کی قدرت میں نہیں تو اسی اعتراف کو ادائے شکر کے قائم مقام قرار دے دیا ہے جیسا کہ حق تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کے ایسے ہی اعتراف پر ارشاد فرمایا کہ الان قد شکرت یا داؤد یعنی یہ اعتراف کرلینا ہی ادائے شکر کے لئے کافی ہے۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ یعنی انسان بہت بےانصاف اور بڑا ناشکرا ہے یعنی مقتضی انصاف کا تو یہ تھا کہ کوئی تکلیف و مصیبت پیش آئے تو صبر و سکون سے کام لے زبان اور دل کو شکایت سے پاک رکھے اور سمجھے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے ایک حاکم حکیم کی طرف سے آیا ہے وہ بھی مقتضائے حکمت ہونے کی بناء پر ایک نعمت ہی ہے اور جب کوئی راحت و نعمت ملے تو دل اور زبان ہر عمل سے اس کا شکر گذار ہو مگر عام انسانوں کی عادت اس مختلف ہے کہ ذرا مصیبت و تکلیف پیش آجائے تو بےصبری میں مبتلا ہوجائیں اور کہتے پھریں اور ذرا نعمت و دولت مل جائے تو اس میں مست ہو کر خدا تعالیٰ کو بھلا دیں اسی لئے مؤمنین مخلصین کی صفت پچھلی آیت میں صبارا اور شکور بتلائی گئی ہے۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جس وقت کہا ابراہیم نے اے رب کر دے اس شہر کو امن والا اور دور رکھ مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم پوجیں مورتوں کو

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب کہ ابراہیم ؑ نے (حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو بحکم الہی میدان مکہ میں لا کر رکھنے کے وقت دعاء کے طور پر) کہا کہ اے میرے رب اس شہر (مکہ) کو امن والا بنا دیجئے (کہ اس کے رہنے والے مستحق امن رہیں یعنی حرم کر دیجئے) اور مجھ کو اور میرے خاص فرزندوں کو بتوں کی عبادت سے (جو کہ اس وقت جہلاء میں شائع ہے) بچائے رکھئے (جیسا اب تک بچائے رکھا) اے میرے پروردگار (میں بتوں کی عبادت سے بچنے کی دعاء اس لئے کرتا ہوں کہ) ان بتوں نے بہتیرے آدمیوں کو گمراہ کردیا، (یعنی ان کی گمراہی کا سبب ہوگئے اس لئے ڈر کر آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور میں جس طرح اولاد کے بچنے کی دعاء کرتا ہوں اسی طرح ان کو بھی کہتا سنتا رہوں گا) پھر (میرے کہنے سننے کے بعد) جو شخص میری راہ پر چلے گا وہ تو میرا ہے (اور اس کے لئے وعدہ مغفرت ہے ہی) اور جو شخص (اس باب میں) میرا کہنا نہ مانے (سو اس کو آپ ہدایت فرمائیے کیونکہ) آپ تو کثیر المغفرت (اور) کثیر الرحمۃ ہیں (ان کی مغفرت اور رحمت کا سامان بھی کرسکتے ہیں کہ ان کو ہدایت دیں مقصود اس دعاء سے شفاعت مؤمنین کے لئے اور طلب ہدایت غیر مؤمنین کے لئے ہے) اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو (یعنی اسماعیل ؑ کو اور ان کے واسطے سے ان کی نسل کو) آپ کے معظم گھر (یعنی خانہ کعبہ) کے قریب (جو کہ پہلے سے یہاں بنا ہوا تھا اور ہمیشہ سے لوگ اس کا ادب کرتے آئے تھے) ایک (چھوٹے سے) میدان میں جو (بوجہ سنگستان ہونے کے) زراعت کے قابل (بھی) نہیں آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب (بیت الحرام کے پاس اس لئے آباد کرتا ہوں) تاکہ وہ لوگ نماز کا (خاص) اہتمام رکھیں (اور چونکہ یہ اس وقت چھوٹا سا میدان ہے) تو آپ کچھ لوگوں کے قلوب ان کی طرف مائل کر دیجئے (کہ یہاں آ کر رہیں سہیں تاکہ آبادی پر رونق ہوجاوے) اور (چونکہ یہاں زراعت وغیرہ نہیں ہے اس لئے) ان کو (محض اپنی قدرت سے) پھل کھانے کو دیجئے تاکہ یہ لوگ (ان نعمتوں کا) شکر کریں اے ہمارے رب (یہ دعائیں محض اپنی بندگی اور حاجت مندی کے اظہار کے لئے ہیں آپ کو اپنی حاجت کی اطلاع کے لئے نہیں کیونکہ) آپ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو ہم اپنے دل میں رکھیں اور جو ظاہر کردیں اور (ہمارے ظاہر و باطن پر کیا حصر ہے) اللہ تعالیٰ سے (تو) کوئی چیز بھی مخفی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں (کچھ دعائیں آگے آئیں گی اور بیچ میں بعض نعم سابقہ پر حمد وشکر کیا تاکہ شکر کی برکت سے یہ دعائیں اقرب الی القبول ہوجائیں چناچہ فرمایا) تمام حمد (ثناء) خدا کے لئے (سزاوار) ہے جس نے مجھ کو بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (دو بیٹے) عطا فرمائے حقیقت میں میرا رب دعاء کا بڑا سننے والا (یعنی قبول کرنے والا) ہے (کہ عطائے اولاد کے متعلق میری یہ دعاء رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ قبول کرلی، پھر اس نعمت کا شکر ادا کر کے آگے بقیہ دعائیں پیش کرتے ہیں کہ) اے میرے رب (جو میری نیت ہے اپنی اولاد کو بیت محرم کے پاس بسانے سے کہ وہ نمازوں کا اہتمام رکھیں اس کو پورا کر دیجئے اور جیسا ان کے لئے اہتمام نماز میرا مطلوب ہے اسی طرح اپنے لئے بھی مطلوب ہے اس لئے اپنے اور ان کے دونوں کے لئے دعاء کرتا ہوں اور چونکہ مجھ کو وحی سے معلوم ہوگیا ہے کہ ان میں بعض غیر مومن بھی ہوں گے اس لئے دعاء سب کے لئے نہیں کرسکتا ہوں پس ان مضامین پر نظر کر کے یہ دعاء کرتا ہوں کہ) مجھ کو بھی نماز کا (خاص) اہتمام کرنے والا رکھئے اور میری اولاد میں بھی بعضوں کو (نماز کا اہتمام رکھنے والا کیجئے) اے ہمارے رب اور میری (یہ) دعاء قبول کیجئے (اور) اے ہمارے رب میری مغفرت کر دیجئے اور میرے ماں باپ کی بھی اور کل مؤمنین کی بھی حساب قائم ہونے کے دن (یعنی قیامت کے روز سب مذکورین کی مغفرت کردیجئے) معارف و مسائل پچھلی آیات میں عقیدہ توحید کی معقولیت اور اہمیت کا اور شرک کی جہالت اور مذمت کا بیان تھا توحید کے معاملہ میں زمرہ انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے زیادہ کامیاب جہاد حضرت خلیل اللہ ابراہیم ؑ کا جہاد تھا اسی لئے دین ابراہیمی کو خاص طور پر دین حنیف کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں حضرت ابراہیم ؑ کے قصہ کا ذکر آیات مذکور میں کیا گیا ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی ایک (آیت) الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا میں قریش مکہ کے ان لوگوں کی مذمت بیان کی گئی تھی جنہوں نے تقلید آبائی کی بناء پر ایمان کو کفر سے اور توحید کو شرک سے بدل ڈالا تھا ان آیات میں ان کو بتلایا گیا کہ تمہارے جد امجد ابراہیم ؑ کا عقیدہ اور عمل کیا تھا تاکہ تقلید آبائی کے خوگر اسی پر نظر کر کے اپنے کفر سے باز آجائیں (بحر محیط) اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور حالات کے بیان سے قرآن کریم کا مقصد صرف ان کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان میں انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ہدایتی اصول ہوتے ہیں انہی کو جاری رکھنے کے لئے یہ واقعات قرآن میں بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ اس جگہ پہلی آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی دو دعائیں مذکور ہیں اول رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا یعنی اے میرے پروردگار اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دیجئے، سورة بقرہ میں بھی یہی دعاء مذکور ہے مگر اس میں لفظ بلد بغیر لام کے بلدا فرمایا ہے جس کے معنی غیر معین شہر کے ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ دعا اس وقت کی تھی جبکہ شہر مکہ کی بستی آباد نہ تھی اس لئے عام الفاظ میں یہ دعاء کی کہ اس جگہ کو ایک شہر مامون بنا دیجئے۔ اور دوسری دعاء اس وقت کی ہے جبکہ مکہ کی بستی بس چکی تھی تو شہر مکہ کو متعین کر کے دعا فرمائی کہ اس کو جائے امن بنا دیجئے دوسری دعاء یہ فرمائی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیے۔ انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ معصوم ہوتے ہیں ان سے شرک وبت پرستی بلکہ کوئی گناہ سرزد نہیں ہوسکتا مگر یہاں حضرت خلیل ؑ نے اس دعاء میں اپنے آپ کو بھی شامل فرمایا ہے اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ طبعی خوف کے اثر سے انبیاء (علیہم السلام) بھی ہر وقت اپنے کو خطرہ میں محسوس کرتے رہتے ہیں یا یہ کہ اصل مقصود اپنی اولاد کو شرک وبت پرستی سے بچانے کی دعاء کرنا تھا اولاد کو اس کی اہمیت سمجھانے کے لئے اپنے کو بھی شامل دعاء فرما لیا۔ اللہ جل شانہ نے اپنے خلیل کی دعاء قبول فرمائی ان کی اولاد شرک وبت پرستی سے محفوظ رہی اس پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ اہل مکہ تو عموما اولاد ابراہیم ؑ ہیں ان میں تو بت پرستی موجود تھی بحر محیط میں اس کا جواب بحوالہ سفیان بن عیینہ یہ دیا ہے کہ اولاد اسماعیل ؑ میں کسی نے درحقیقت بت پرستی نہیں کہ بلکہ جس وقت مکہ پر قوم جرہم کے لوگوں نے قبضہ کر کے اولاد اسماعیل ؑ کو حرم سے نکال دیا تو یہ لوگ حرم سے انتہائی محبت و عظمت کی بناء پر یہاں کے کچھ پتھر اپنے ساتھ اٹھا لے گئے تھے ان کو حرم محترم اور بیت اللہ کی یادگار کے طور پر سامنے رکھ کر عبادت اور اس کے گرد طواف کیا کرتے تھے جس میں کسی غیر اللہ کی طرف کوئی رخ نہ تھا بلکہ جس طرح بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا یا بیت اللہ کے گرد طواف کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت ہے اسی طرح وہ اس پتھر کی طرف رخ اور اس کے گرد طواف کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے منافی نہ سمجھتے تھے اس کے بعد یہی طریقہ کار بت پرستی کا سبب بن گیا۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے رب انہوں نے گمراہ کیا بہت لوگوں کو سو جس نے پیروی کی میری سو وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہنا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے

دوسری آیت میں اپنی اس دعاء کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ بت پرستی سے ہم اس لئے پناہ مانگتے ہیں کہ ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے یہ اس لئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد اور قوم کا تجربہ کرچکے تھے کہ بت پرستی کی رسم نے ان کو ہر خیر وصلاح سے محروم کردیا۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی ان میں سے جو شخص میرا اتباع کرے یعنی ایمان اور عمل صالح کا پابند ہوجائے وہ تو میرا ہی ہے مطلب یہ ہے کہ اس پر فضل و کرم کی امید تو ظاہر ہے اور جو شخص میری نافرمانی کرے تو آپ بہت مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے ہیں اس میں نافرمانی سے اگر صرف عملی نافرمانی یعنی بدعملی مراد لی جائے تو معنی ظاہر ہیں کہ آپ کے فضل سے ان کی بھی مغفرت کی امید ہے اور اگر نافرمانی سے مراد کفر و انکار لیا جائے تو یہ ظاہر ہے کہ کافر و مشرک کی مغفرت نہ ہونے اور ان کی شفاعت نہ کرنے کا حکم حضرت ابراہیم ؑ کو پہلے ہوچکا تھا پھر ان کو مغفرت کی امید کا اظہار کرنا درست نہیں ہوسکتا اس لئے بحر محیط میں فرمایا کہ اس جگہ حضرت خلیل ؑ نے ان کی سفارش یا دعاء کے الفاظ نہیں اختیار کئے یہ نہیں فرمایا کہ آپ ان کی مغفرت کردیں البتہ پیغمبرانہ شفقت جس کے دامن میں کافر بھی رہتے ہیں اور ہر پیغمبر کی دلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کوئی کافر بھی عذاب میں مبتلا نہ ہو اپنی اس طبعی خواہش کا اظہار اس عنوان سے کردیا کہ آپ تو بڑے غفور ورحیم ہیں یوں نہیں فرمایا کہ ان کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرمائیں جیسے حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی امت کے کافروں کے بارے میں فرمایا (آیت) وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ یعنی اگر آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو آپ قوی اور حکمت والے ہیں سب کچھ کرسکتے ہیں کوئی روکنے والا نہیں ان دونوں بزرگوں نے کافروں کے معاملہ میں سفارش پر اقدام تو اس لئے نہیں کیا کہ وہ ادب حق کے خلاف تھا مگر یہ بھی نہیں فرمایا کہ ان کافروں پر آپ عذاب نازل کردیں بلکہ وہ ادب کے ساتھ ایک خاص عنوان سے ان کے بھی بخشے جانے کی طبعی خواہش کا اظہار کردیا احکام و ہدایات دعاء تو ہر انسان مانگتا ہے مگر مانگنے کا سلیقہ ہر ایک کو نہیں ہوتا انبیاء (علیہم السلام) کی دعائیں سبق آموز ہوتی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیا چیز مانگنے کی ہے اس دعائے ابراہیمی کے دو جز ہیں ایک شہر مکہ کو خوف و خطر سے آزاد جائے امن بنادینا دوسرے اپنی اولاد کو بت پرستی سے ہمیشہ کے لئے نجات دلانا غور سے کام لیا جائے تو انسان کی صلاح و فلاح کے یہی دو بنیادی اصول ہیں کیونکہ انسانوں کو اگر اپنے رہنے سہنے کی جگہ میں خوف و خطر اور دشمنوں کے حملوں سے امن و اطمینان نہ ہو تو نہ دنیوی اور مادی اعتبار سے ان کی زندگی خوشگوار ہو سکتی ہے اور نہ دینی اور روحانی اعتبار سے دنیا کے سارے کاموں اور راحتوں کا مدار تو امن و اطمینان پر ہونا ظاہر ہی ہے جو شخص دشمنوں کے نرغوں اور مختلف قسم کے خطروں میں گھرا ہوا ہو اس کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت کھانے پینے، سونے جاگنے کی بہترین آسانیاں، اعلیٰ قسم کے محلات اور بنگلے، مال و دولت کی بہتات سب تلخ ہوجاتی ہیں دینی اعتبار سے بھی ہر اطاعت و عبادت اور احکام الہیہ کی تعمیل انسان اسی وقت کرسکتا ہے جب اس کو کچھ سکون و اطمینان نصیب ہو۔ اس لئے حضرت خلیل اللہ ؑ کی پہلی دعاء میں انسانی فلاح کی تمام ضروریات معاشی واقتصادی اور دینی و اخروی سب داخل ہوگئیں اس ایک جملہ سے حضرت خلیل اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی اولاد کے لئے دنیا کی تمام اہم چیزیں مانگ لیں۔ اس دعاء سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اولاد کی ہمدردی اور ان کی معاشی راحت کا انتظام بھی حسب قدرت باپ کے فرائض میں سے ہے اس کی کوشش زہد اور ترک دنیا کے منافی نہیں۔ دوسری دعاء میں بھی بڑی جامعیت ہے کیونکہ وہ گناہ جس کی مغفرت کا امکان نہیں، وہ شرک وبت پرستی ہے اس سے محفوظ رہنے کی دعاء فرما دی اس کے بعد اگر کوئی گناہ سرزد بھی ہوجائے تو اس کا کفارہ دوسرے اعمال سے بھی ہوسکتا ہے اور کسی کی شفاعت سے بھی معاف کئے جاسکتے ہیں اور اگر عبادت اصنام کا لفظ صوفیائے کرام کے اقوال کے مطابق اپنے وسیع مفہوم میں لیا جائے کہ ہر وہ چیز جو انسان کو اللہ سے غافل کرے وہ اس کا بت ہے اور اس کی محبت سے مغلوب ہو کر خدا تعالیٰ کی نافرمانی پر اقدام کرلینا ایک طرح سے اس کی عبادت ہے تو اس دعاء یعنی عبادت اصنام سے محفوظ رہنے میں تمام گناہوں سے حفاظت کا مضمون آجاتا ہے بعض صوفیائے کرام نے اسی معنی میں اپنے نفس کو خطاب کر کے غفلت و معصیت پر ملامت کی ہے، سودہ گشت از سجدہ راہ بتاں پیشانیم چند بر خود تہمت دین مسلمانی نہم اور عارف رومی نے فرمایا ہے ہر خیال شہوتے دررہ بتے ست