Ayah 13:1خلاصہ تفسیر
الۗمّۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (جو آپ سن رہے ہیں) آیتیں ہیں ایک بڑی کتاب (یعنی قرآن) کی اور جو کچھ آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے یہ بالکل سچ ہے اور (اس کا مقتضا یہ تھا کہ سب ایمان لاتے) لیکن بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے (ربط، اوپر حقیقت قرآن کا مضمون تھا آگے توحید کا مضمون ہے جو کہ اعظم مقاصد قرآن سے ہے) اللہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمانوں کو بدون ستون کے اونچا کھڑا کردیا چناچہ تم ان (آسمانوں) کو (اسی طرح) دیکھ رہے ہو پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو کہ اس کی شان کے لائق ہے) اور آفتاب و ماہتاب کو کام میں لگا دیا (ان دونوں میں سے) ہر ایک (اپنے مدار پر) ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے (چنانچہ سورج اپنے مدار کو سال بھر میں قطع کرلیتا ہے اور چاند مہینہ بھر میں) وہی (اللہ) ہر کام کی (جو کچھ عالم میں واقع ہوتا ہے) تدبیر کرتا ہے (اور) دلائل (تکوینیہ و تشریعیہ) کو صاف صاف بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے پاس جانے کا (یعنی قیامت کا) یقین کرلو (اس کے امکان کا تو اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ ایسی عظیم چیزوں کی تخلیق پر قادر ہے تو مردوں کو زندہ کرنے پر کیوں نہیں قادر ہوگا اور اس کے وقوع کا یقین اس طرح کہ مخبر صادق نے ایک امر ممکن کے وقوع کی خبر دی لامحالہ وہ سچی اور صحیح ہے) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے زمین کو پھیلا دیا اور اس (زمین) میں پہاڑ اور نہریں پیدا کیں اور اس میں ہر قسم کے پھلوں سے دو دو قسم کے پیدا کئے (مثلا کھٹے اور میٹھے یاچھوٹے اور بڑے کوئی کسی رنگ کا اور کوئی کسی رنگ کا اور) شب (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو چھپا دیتا ہے (یعنی شب کی تاریکی سے دن کی روشنی پوشیدہ اور زائل ہوجاتی ہے) ان امور (مذکورہ) میں سوچنے والوں کے (سمجھنے کے) واسطے (توحیدپر) دلائل (موجود) ہیں (جس کی تقریر پارہ دوم کے رکوع چہارم کے شروع میں گذری ہے) اور (اسی طرح اور بھی دلائل ہیں توحید کے چنانچہ) زمین میں پاس پاس (اور پھر) مختلف قطعے ہیں (جن کا باوجود متصل ہونے کے مختلف الاثر ہونا عجیب بات ہے) اور انگوروں کے باغ ہیں اور (مختلف) کھیتیاں ہیں اور کھجور (کے درخت) ہیں جن میں بعضے تو ایسے ہیں کہ ایک تنہ اوپر جا کردو تنے ہوجاتے ہیں اور بعضوں میں دو تنے نہیں ہوتے (بلکہ جڑ سے شاخوں تک ایک ہی چلا جاتا ہے اور) سب کو ایک ہی طرح کا پانی دیا جاتا ہے اور) سب کو ایک ہی طرح کا پانی دیا جاتا ہے اور (باوجود اس کے پھر بھی) ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فوقیت دیتے ہیں ان امور (مذکورہ) میں (بھی) سمجھداروں کے (سمجھنے کے) واسطے (توحید کے) دلائل (موجود) ہیں
معارف و مسائل
یہ سورة مکی ہے اور اس کی کل آیتیں تینتالیس ہیں اس سورة میں بھی قرآن مجید کا کلام حق ہونا اور توحید و رسالت کا بیان اور شبہات کے جوابات مذکور ہیں
الۗمّۗرٰ یہ حروف مقطعہ ہیں جن کے معنی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں امت کو اس کے معنی نہیں بتلائے گئے عام امت کو اس کی تحقیق میں پڑنا بھی مناسب نہیں۔
حدیث رسول بھی قرآن کی طرح وحی الہی ہے
پہلی آیت میں قرآن کریم کے کلام الہی اور حق ہونے کا بیان ہے کتاب سے مراد قرآن ہے اور ۭ وَالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ سے بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن ہی مراد ہو لیکن واؤ حرف عطف بظاہر یہ چاہتا ہے کہ کتاب اور اَلَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ دوچیزیں الگ الگ ہوں اس صورت میں کتاب سے مراد قرآن اور اَلَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْكَ سے مراد وہ وحی ہوگی جو علاوہ قرآن کے رسول کریم ﷺ پر آئی ہے کیونکہ اس میں تو کوئی کلام نہیں ہوسکتا کہ رسول کریم ﷺ پر آنے والی وحی صرف قرآن میں منحصر نہیں خود قرآن کریم میں وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى یعنی رسول کریم ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ کسی اپنی غرض سے نہیں کہتے بلکہ ایک وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بھیجی جاتی ہے اس سے ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ جو قرآن کے علاوہ دوسرے احکام دیتے ہیں وہ بھی منزل من اللہ ہی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور اس کی تلاوت نہیں ہوتی اور اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے معانی اور الفاظ دونوں اللہ جل شانہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور قرآن کے علاوہ حدیث میں جو احکام آپ دیتے ہیں ان کے بھی معانی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی نازل ہوتے ہیں مگر الفاظ منزل من اللہ نہیں ہوتے اسی لئے نماز میں ان کی تلاوت نہیں کی جاسکتی۔
معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ یہ قرآن اور جو کچھ احکام آپ ﷺ پر نازل کئے جاتے ہیں وہ سب حق ہیں جن میں کسی شک وشبہ کی گنچائش نہیں لیکن اکثر لوگ غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے اس پر ایمان نہیں لاتے۔
دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کے دلائل مذکور ہیں کہ اس کی مخلوقات اور مصنوعات کو ذرا غور سے دیکھو تو یہ یقین کرنا پڑے گا کہ ان کی بنانے والی کوئی ایسی ہستی ہے جو قادر مطلق ہے اور تمام مخلوقات و کائنات اس کے قبضہ میں ہیں۔
Ayah 13:2ارشاد فرمایااَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا یعنی اللہ ایسا ہے جس نے آسمانوں کے اتنے بڑے وسیع اور بلند رقبہ کو بغیر کسی ستون کے اونچا کھڑا کردیا جیسا کہ تم ان آسمانوں کو اسی حالت میں دیکھ رہے ہو
کیا آسمان کا جرم آنکھوں سے نظر آتا ہے
عام طور سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نیلا رنگ جو ہمیں اوپر نظر آتا ہے آسمان کا رنگ ہے مگر فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ رنگ روشنی اور اندہیری کی آمیزش سے محسوس ہوتا ہے کیونکہ نیچے ستاروں کی روشنی اور اس کی اوپر اندھیرہ ہے تو باہر سے رنگ نیلا محسوس ہوتا ہے جیسے گہرے پانی پر روشنی پڑتی ہے تو وہ نیلا نظر آتا ہے قرآن کریم کی چند آیات ایسی ہیں جن میں آسمان کے دیکھنے کا ذکر ہے جیسے اسی آیت مذکورہ میں تَرَوْنَهَا کے الفاظ ہیں اور دوسری آیت میں وَاِلَى السَّمَاۗءِ كَيْفَ رُفِعَتْ کے الفاظ ہیں فلاسفہ کی یہ تحقیق اول تو اس کے منافی نہیں کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ آسمان کا رنگ بھی نیلگوں ہو یا کوئی دوسرا رنگ ہو مگر درمیانی روشنی اور اندھیری کے امتزاج سے نیلا نظر آتا ہو اس سے انکار کی کوئی دلیل نہیں کہ اس فضاء کے رنگ میں آسمان کا رنگ بھی شامل ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ قرآن کریم میں جہان آسمان کے دیکھنے کا ذکر ہے وہ حکمی اور مجازی ہو کہ آسمان کا وجود ایسے یقینی دلائل سے ثابت ہے کہ گویا دیکھ ہی لیا (روح المعانی)
اس کے بعد فرمایا (آیت) ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ یعنی پھر عرش پر جو تخت سلطنت کے مشابہ ہے قائم اور اس طرح جلوہ فرما ہوا جو اس کی شان کے لائق ہے اس جلوہ فرمانے کی کیفیت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اتنا اعتقاد رکھنا کافی ہے کہ جس طرح کا استواء شان الہی کے شایان ہے وہ مراد ہے۔
وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۭ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند مسخر اور تابع حکم کیا ہوا ہے ان میں سے ایک معین رفتار سے چلتا ہے۔
مسخر کرنے سے مراد یہ ہے کہ دونوں کو جس جس کام پر لگادیا ہے برابر لگے ہوئے ہیں ہزاروں سال گذر گئے ہیں لیکن نہ کبھی ان کی رفتار میں کمی بیشی ہوتی ہے نہ تھکتے ہیں نہ کبھی اپنے مقررہ کام کے خلاف کسی دوسرے کام میں لگتے ہیں اور معین مدت کی طرف چلنے کے معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پورے عالم دنیا کے لئے جو آخری مدت قیامت متعین ہے سب اسی کی طرف چل رہے ہیں اس منزل پر پہنچ کر ان کا یہ سارا نظام ختم ہوجائے گا۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر ایک سیارے کے لئے ایک خاص رفتار اور خاص مدار مقرر کردیا ہے وہ ہمیشہ اپنے مدار پر اپنے مدار پر اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ چلتا رہتا ہے چاند اپنے مدار کو ایک ماہ میں پورا کرلیتا ہے اور آفتاب سال بھر میں پورا کرتا ہے۔
ان سیاروں کا عظیم الشان وجود پھر ایک خاص مدار پر خاص رفتار کے ساتھ ہزاروں سال سے یکساں انداز میں اسی طرح چلتے رہنا کہ نہ کبھی ان کی مشین گھستی ہے نہ ٹوٹتی ہے نہ اس کو گریسنگ کی ضرورت ہوتی ہے انسانی مصنوعات میں سائنس کی اس انتہائی ترقی کے بعد بھی اس کی نظیر تو کیا اس کا ہزارواں حصہ ملنا بھی ناممکن ہے یہ نظام قدرت بآواز بلند پکار رہا ہے کہ اس کو بنانے اور چلانے والی کوئی ایسی ہستی ضرور ہے جو انسان کے ادراک و شعور سے بالاتر ہے
ہر چیز کی تدبیر درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے انسانی تدبیر برائے نام ہے
يُدَبِّرُ الْاَمْرَ یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے انسان جو اپنی تدبیروں پر نازاں ہے ذرا آنکھ کھول کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ اس کی تدبیر کسی چیز کو نہ پیدا کرسکتی ہے نہ بنا سکتی ہے اس کی ساری تدبیروں کا حاصل اس سے زیادہ نہیں کہ خداوند سبحانہ وتعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کا صحیح استعمال سمجھ لے تمام اشیاء عالم کے استعمال کا نظام بھی اس کی قدرت سے خارج ہے کیونکہ انسان اپنے ہر کام میں دوسرے ہزاروں انسانوں، جانوروں، اور دوسری مخلوقات کا محتاج ہے جن کو اپنی تدبیر سے اپنے کام میں نہیں لگا سکتا قدرت خداوندی ہی نے ہر چیز کی کڑی دوسری چیز سے اس طرح جوڑی ہے کہ ہر چیز کھینچی چلی آتی ہے آپ کو مکان بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو نقشہ بنانے والے آرکٹیکٹ سے لے رنگ و روغن کرنے والوں تک سینکڑوں انسان اپنی جان اور اپنا ہنر لئے ہوئے آپ کی خدمت کو تیار نظر آتے ہیں سامان تعمیر جو بہت سی دکانوں میں بکھرا ہوا ہے سب آپ کو تیار مل جاتا ہے کیا آپ کی قدرت میں تھا کہ اپنے مال یا تدبیر کے زور سے یہ ساری چیزیں مہیا اور سارے انسانوں کو اپنی خدمت کے لئے حاضر کرلیتے آپ تو کیا کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی قانون کے زور سے یہ نظام قائم نہیں کرسکتی بلاشبہ یہ تدبیر اور نظام عالم کا قیام صرف حی وقیوم ہی کا کام ہے انسان اگر اس کو اپنی تدبیر قرار دے تو جہالت کے سوا کیا ہے
يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ یعنی وہ اپنی آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے اس سے مراد آیات قرآنی بھی ہو سکتی ہیں جن کو حق تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ نازل فرمایا پھر نبی کریم ﷺ کے ذریعہ مزید ان کا بیان اور تفسیر فرمائی۔
اور آیات سے مراد آیات قدرت یعنی اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں جو آسمان زمین اور خود انسان کے وجود میں موجود ہیں وہ بھی ہو سکتی ہیں جو بڑی تفصیل کے ساتھ ہر وقت ہر جگہ انسان کی نظر کے سامنے ہیں
لَعَلَّكُمْ بِلِقَاۗءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ یعنی یہ سب کائنات اور ان کا عجیب و غریب نظام و تدبیر اللہ تعالیٰ نے اس لئے قائم فرمائے ہیں کہ تم اس میں غور کرو تو تمہیں آخرت اور قیامت کا یقین ہوجائے کیونکہ اس نظام عجیب اور پیدائش عالم پر نظر کرنے کے بعد یہ اشکال تو رہ نہیں سکتا کہ آخرت میں انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج سمجھیں اور جب داخل قدرت اور ممکن ہونا معلوم ہوگیا اور ایسی ہستی نے اس کی خبر دی جس کی زبان پوری عمر میں کبھی جھوٹ پر نہیں چلی تو اس کے واقع اور ثابت ہونے میں کیا شک رہ سکتا ہے۔
Ayah 13:3(آیت) وَهُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَجَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَاَنْهٰرًا اور وہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں بوجھل پہاڑ اور نہریں بنائیں
زمین کا پھیلانا اس کے کرہ اور گول ہونے کے منافی نہیں کیونکہ گول چیز جب بہت بڑی ہو تو اس کا ہر ایک حصہ الگ الگ ایک پھیلی ہوئی سطح ہی نظر آتا ہے اور قرآن کریم کا خطاب عام لوگوں سے انہی کی نظروں کے مطابق ہوتا ہے ظاہر دیکھنے والا اس کو ایک پھیلی ہوئی سطح دیکھتا ہے اس لئے اس کو پھیلانے سے تعبیر کردیا گیا پھر اس کا توازن قائم رکھنے کے لئے نیز اور بہت سے دوسرے فوائد کے لئے اس پر اونچے اونچے بھاری پہاڑ قائم فرما دئیے جو ایک طرف زمین کا توازن قائم رکھتے ہیں دوسری طرف ساری مخلوق کو پانی پہونچانے کا انتظام کرتے ہیں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ان کی چوٹیوں پر بحر منجمد (برف) کی شکل میں رکھ دیا جاتا ہے جس کے لئے نہ کوئی حوض ہے اور نہ ٹنکی بنانے کی ضرورت ہے نہ ناپاک ہونے کا احتمال نہ سڑنے کا امکان پھر اس کو ایک زیر زمین قدرتی پائپ لائن کے ذریعہ ساری دنیا میں پھیلا دیا جاتا ہے اسی سے کہیں تو کھلی ہوئی ندیاں اور نہریں نکلتی ہیں اور کہیں زیر زمین مستور رہ کر کنوؤں کے ذریعہ اس پائپ لائن کا سراغ لگایا اور پانی حاصل کیا جاتا ہے،
(آیت) وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ یعنی پھر اس زمین سے طرح طرح کے پھل نکالے اور ہر ایک پھل دو دو قسم کے پیدا کئے چھوٹے بڑے سرخ سفید کھٹے میٹھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ زوجین سے مراد دو نہ ہوں بلکہ متعدد انواع و اقسام مراد ہوں جن کی تعداد کم سے کم دو ہوتی ہے اس لئے زمین اثنین سے تعبیر کردیا گیا اور کچھ بعید نہیں کہ زوجین سے مراد نر و مادہ ہوں جیسے بہت سے درختوں کے متعلق تو تجربہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ ان میں نر مادہ ہوتے ہیں جیسے کھجور، پپیتہ وغیرہ دوسرے درختوں میں بھی اس کا امکان ہے اگرچہ ابھی تک تحقیقات وہاں تک نہ پہنچی ہوں۔
يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَار یعنی اللہ تعالیٰ ہی ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر مراد یہ ہے کہ دن کی روشنی کے بعد رات لے آتا ہے جیسے کسی روشن چیز کو کسی پردہ میں ڈھانپ دیا جائے۔
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ بلاشبہ اس تمام کائنات کی تخلیق اور اس کی تدبیر ونظام میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں
Ayah 13:4وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ یعنی پھر زمین میں بہت سے قطعے آپس میں ملے ہوئے ہونے کے باوجود مزاج اور خاصیت میں مختلف ہیں کوئی اچھی زمین میں مختلف ہیں کوئی اچھی زمین ہے کوئی کھاری کوئی نرم کوئی سخت کوئی کھیتی کے قابل کوئی باغ کے قابل اور ان قطعات میں باغات ہیں انگور کے اور کھیتی ہے اور کھجور کے درخت ہیں جن میں بعض ایسے ہیں کہ ایک تنے سے اوپر جا کردو تنے ہوجاتے ہیں اور بعض میں ایک ہی تنہ رہتا ہے۔
اور یہ سارے پھل اگرچہ ایک ہی زمین سے پیدا ہوتے ہیں ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے اور آفتاب وماہتاب کی شعاعیں اور مختلف قسم کی ہوائیں بھی ان سب کو یکساں پہونچتی ہیں مگر پھر بھی ان کے رنگ اور ذائقے مختلف اور چھوٹے بڑے کا نمایاں فرق ہوتا ہے۔
باوجود اتصال کے پھر یہ طرح طرح کے اختلافات اس بات کی قوی اور واضح دلیل ہے کہ یہ سب کاروبار کسی حکیم و مدبر کے فرمان کے تابع چل رہا ہے محض مادے کے تطورات نہیں جیسا کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں کیونکہ مادے کے تطورات ہوتے تو سب مواد کے مشترک ہونے کے باوجود یہ اختلاف کیسے ہوتا ایک ہی زمین سے ایک پھل ایک موسم میں نکلتا ہے دوسرا دوسرے موسم میں ایک ہی درخت کی ایک ہی شاخ پر مختلف قسم کے چھوٹے بڑے اور مختلف ذائقہ کے پھل پیدا ہوتے ہیں
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ اس میں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت اور اس کی وحدت پر دلالت کرنے والی بہت سی نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے اس میں اشارہ ہے کہ جو لوگ ان چیزوں میں غور نہیں کرتے وہ عقل والے نہیں گو دنیا میں ان کو کیسا ہی عقلمند سمجھا اور کہا جاتا ہو
Ayah 13:5خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ اگر آپ کو (ان لوگوں کے انکار قیامت سے) تعجب ہو تو (واقعی) ان کا یہ قول تعجب کے لائق ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہوگئے کیا (خاک ہو کر) ہم پھر (قیامت کو) از سر نو پیدا ہوں گے (تعجب کے لائق اس لئے کی جو ذات ایسی اشیاء مذکورہ کے خلق پر ابتداء قادر ہے اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اور اسی سے جواب ہوگیا استبعاد بعث کا اور انکار نبوت کا بھی جس کا مبنی وہ استبعاد تھا ایک کے جواب سے دوسرے کا جواب ہوگیا آگے ان کے لئے وعید ہے کہ) یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا (کیونکہ انکار بعث سے اس کی قدرت کا انکار کیا اور انکار قیامت سے انکار نبوت لازم آتا ہے) اور ایسے لوگوں کی گردنوں میں (دوزخ میں) طوق ڈالے جائیں گے اور ایسے لوگ دوزخی ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ لوگ عافیت (کہ اگر آپ نبی ہیں تو جائیے عذاب منگا دیجئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہیں) حالانکہ ان سے پہلے (اور کفار پر) واقعات عقوبت گذر چکے ہیں (تو ان پر آجانا کیا مستبعد ہے) اور (اللہ تعالیٰ کے غفور اور رحیم ہونے کو سن کر یہ لوگ مغرور نہ ہوجاویں کہ اب ہم کو عذاب نہ ہوگا کیونکہ وہ صرف غفور و رحیم ہی نہیں ہے اور پھر سب کے لئے غفور و رحیم نہیں ہیں بلکہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر ظاہر ہوتی ہیں یعنی) یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب لوگوں کی خطائیں باوجود ان کی (ایک خاص درجہ کی) بیجا حرکتوں کے معاف کردیتا ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپ کا رب سخت سزا دیتا ہے (یعنی اس میں دونوں صفتیں ہیں اور ہر ایک کے ظہور کی شرطیں اور اسباب ہیں پس انہوں نے بلا سبب اپنے کو مستحق رحمت و مغفرت کیسے سمجھ لیا بلکہ کفر کی وجہ سے ان کے لئے تو اللہ تعالیٰ شدید العقاب ہے) کیوں نہیں نازل کیا گیا (اور یہ اعتراض محض حماقت ہے کیونکہ آپ مالک معجزات نہیں بلکہ) آپ صرف (عذاب خدا سے کافروں کو) ڈرانے والے (یعنی نبی) ہیں (اور نبی کے لئے مطلق معجزہ کی ضرورت ہے جو کہ ظاہر ہوچکا ہے نہ کسی خاص معجزہ کی) اور (کوئی آپ انوکھے نبی نہیں ہوئے بلکہ) ہر قوم کیلئے (امم ماضیہ میں) ہادی ہوتے چلے آئے ہیں (ان میں بھی یہی قاعدہ چلا آیا ہے کہ دعوی نبوت کے لئے مطلق دلیل کو کافی قرار دیا گیا خاص دلیل کا التزام نہیں ہوا) اللہ تعالیٰ کو سب خبر رہتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے اور جو کچھ رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے اور ہر چیز اللہ کے نزدیک ایک خاص انداز سے ہے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ کی پہلی تین آیتوں میں کفار کے شبہات کا جواب ہے جو نبوت کے متعلق تھی اور اس کے ساتھ منکرین کے لئے عذاب کی وعید مذکور ہے۔
ان کے شبہات تین تھے ایک یہ کہ یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور محشر کے حساب و کتاب کو محال و خلاف عقل سمجھتے تھے اسی بنا پر آخرت کی خبر دینے والے انبیاء کی تکذیب اور ان کی نبوت کا انکار کرتے تھے جیسا کہ قرآن کریم نے ان کے اس شبہ کا بیان اس آیت میں فرمایا ہے هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰي رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّكُمْ لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ اس میں انبیاء (علیہم السلام) کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہیں ایک ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں یہ بتلاتا ہے کہ جب تم مرنے کے بعد ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے اور تمہاری مٹی کے ذرات بھی سارے جہان میں پھیل جائیں گے تم اس وقت پھر دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت
آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں ان کے اس شبہ کا جواب دیا گیا وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْد اس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ اگر آپ کو اس پر تعجب ہے کہ یہ کفار آپ کے لئے کھلے ہوئے معجزات اور آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ تو ایسے بےجان پتھروں کو مانتے ہیں جن میں نہ حس ہے نہ شعور، خود اپنے نفع و نقصان پر بھی قادر نہیں دوسروں کو کیا نفع پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا قرآن نے وجہ اس تعجب کی بالتصریح بیان نہیں کی کیونکہ پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے عجیب عجیب مظاہر بیان کر کے یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ وہ ایسا قادر مطلق ہے جو ساری مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا اور پھر ہر چیز کے وجود میں کیسی کیسی حکمتیں رکھیں کہ انسان ان کا ادراک و احاطہ بھی نہیں کرسکتا اور یہ ظاہر ہے کہ جو ذات پہلی مرتبہ بالکل عدم سے ایک چیز کو موجود کرسکتی ہے اس کو دوبارہ موجود کردینا کیا مشکل ہے انسان بھی جب کوئی نئی چیز بنانا چاہتا ہے تو پہلی مرتبہ اس کو مشکل پیش آتی ہے اور اسی کو دوبارہ بنانا چاہے تو آسان ہوجا تا ہے،
تو تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اس کے تو قائل ہیں کہ پہلی مرتبہ تمام کائنات کو بیشمار حکمتوں کے ساتھ اسی نے پیدا فرمایا ہے پھر دوبارہ پیدا کرنے کو کیسے محال اور خلاف عقل سمجھتے ہیں شاید ان منکرین کے نزدیک بڑا اشکال یہ ہے کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد انسان کے اجزا اور ذرات دنیا بھر میں منتشر ہوجاتے ہیں ہوائیں ان کو کہیں سے کہیں لیجاتی ہیں اور دوسرے اسباب و ذرائع سے بھی یہ ذرات سارے جہان میں پھیل جاتے ہیں پھر قیامت کے روز ان تمام ذرات کو جمع کس طرح کیا جائے گا اور پھر ان کو جمع کر کے دوبارہ زندہ کیسے کیا جائے گا ؟
مگر وہ نہیں دیکھتے کہ اس وقت جو وجود ان کو حاصل ہے اس میں کیا سارے جہان کے ذرات جمع نہیں دنیا کے مشرق ومغرب کی چیزیں پانی ہوا اور ان کے لائے ہوئے ذرات انسان کی غذا میں شامل ہو کر اس کے بدن کا جزو بنتے ہیں اس مسکین کو بسا اوقات خبر بھی نہیں ہوتی کہ ایک لقمہ جو منہ تک لے جارہا ہے اس میں کتنے ذرات افریقہ کے کتنے امریکہ کے اور کتنے مشرقی ممالک کے ہیں تو جس ذات نے اپنی حکمت بالغہ اور تدبیر امور کے ذریعہ اس وقت ایک ایک انسان اور جانور کے وجود کو سارے جہان کے منتشر ذرات جمع کر کے کھڑا کردیا ہے کل اس کے لئے یہ کیوں مشکل ہوجائے گا کہ ان سب ذرات کو جمع کر ڈالے جبکہ دنیا کی ساری طاقتیں ہوا اور پانی اور دوسری قوتیں سب اس کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں اس کے اشاروں پر ہوا اپنے اندر کے اور پانی اپنے اندر کے اور فضاء اپنے اندر کے سب ذرات کو جمع کردیں اس پر کیا اشکال ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قدر کو پہچانا ہی نہیں اس کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں حالانکہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزیں اپنی اپنی حیثیت کا ادراک و شعور رکھتے ہیں اور حکم حق کے تابع چلتے ہیں
خاک وبادو آب و آتش زندہ اند
بامن وتو مردہ باحق زندہ اند
خلاصہ یہ ہے کہ کھلی ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے باوجود جس طرح ان کا نبوت سے انکار قابل تعجب ہے اس سے زیادہ قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور حشر کے دن سے انکار تعجب کی چیز ہے،
اس کے بعد ان معاند منکرین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ﷺ ہی کا انکار نہیں کرتے بلکہ درحقیقت اپنے رب کا انکار کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہوگی کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے،
دوسرا شبہ منکرین کا یہ تھا کہ اگر فی الواقع آپ ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں تو نبی کی مخالفت پر جو عذاب کی وعیدیں آپ ﷺ سناتے ہیں وہ عذاب آتا کیوں نہیں اس کا جواب دوسری آیت میں یہ دیا گیا
Ayah 13:6(آیت) وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ ۭ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ
یعنی یہ لوگ ہمیشہ عافیت کی میعاد ختم ہونے سے پہلے آپ ﷺ سے مصیبت کے نازل ہونے کا تقاضا کرتے ہیں (کہ اگر آپ نبی ہیں تو فوری عذاب منگوا دیجئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ عذاب کے آنے کو بہت ہی بعید یا ناممکن سمجھتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے دوسرے کافروں پر بہت سے واقعات عذاب کے گذر چکے ہیں جن کا سب لوگوں نے مشاہدہ کیا ہے تو ان پر عذاب آجانا کیا مستبعد ہے یہاں لفظ مثلت مثلہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایسی سزا جو انسان کو سب کے سامنے رسول کریم ﷺ کر دے اور دوسروں کے لئے عبرت کا ذریعہ بنے۔
پھر فرمایا کہ بیشک آپ ﷺ کا رب لوگوں کے گناہوں اور نافرمانیوں کے باوجود بڑی مغفرت و رحمت والا بھی ہے اور جو لوگ اس مغفرت و رحمت سے فائدہ نہ اٹھائیں اپنی سرکشی و نافرمانی پر جمے رہیں ان کے لئے سخت عذاب دینے والا بھی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے غفور و رحیم ہونے سے کسی غلط فہمی میں نہ پڑیں کہ ہم پر عذاب آ ہی نہیں سکتا
تیسرا شبہ ان کفار کا یہ تھا کہ اگرچہ رسول کریم ﷺ کے بہت سے معجزات ہم دیکھ چکے ہیں لیکن جن خاص خاص قسم کے معجزات کا ہم نے مطالبہ کیا ہے وہ کیوں ظاہر نہیں کرتے ؟ اس کا جواب تیسری آیت میں یہ دیا گیا ہے
Ayah 13:7(آیت) وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
یعنی یہ کفار آپ ﷺ نبوت پر اعتراض کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ ان پر خاص معجزہ جس کو طلب کرتے ہیں وہ کیوں نازل نہیں کیا گیا سو اس کا جواب واضح ہے کہ معجزہ ظاہر کرنا پیغمبر اور نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ براہ راست وہ حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔
وہ اپنی حکمت سے جس وقت جس طرح کا معجزہ ظاہر کرنا پسند فرماتے ہیں اس کو ظاہر کردیتے ہیں وہ کسی کے مطالبہ اور خواہش کے پابند نہیں اسی لئے فرمایا (آیت) اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ یعنی آپ ﷺ کافروں کو خدا کے عذاب سے صرف ڈرانے والے ہیں معجزہ ظاہر کرنا آپ کا کام نہیں
وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ یعنی ہر قوم کے لئے پچھلی امتوں میں ہادی ہوتے چلے آئے ہیں آپ ﷺ کوئی انوکھے نبی نہیں سب ہی انبیاء (علیہم السلام) کا وظیفہ یہ تھا کہ وہ قوم کو ہدایت کریں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں معجزات کا ظاہر کرنا کسی کے اختیار میں نہیں دیا گیا اللہ تعالیٰ جب اور جس طرح کا معجزہ ظاہر کرنا پسند فرماتے ہیں ظاہر کردیتے ہیں۔
کیا ہر قوم اور ہر ملک میں نبی آنا ضروری ہے ؟
اس آیت میں جو یہ ارشاد ہے کہ ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے اس سے ثابت ہوا کہ کوئی قوم اور کوئی خطہ ملک اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور ہدایت کرنے والوں سے خالی نہیں ہوسکتا خواہ وہ کوئی نبی ہو یا اس کے قائم مقام نبی کی دعوت کو پھیلانے والا ہو جیسا سورة یسین میں نبی کی طرف سے کسی قوم کی طرف پہلے دو شخصوں کو دعوت و ہدایت کے لئے بھیجنے کا ہے جو خود نبی نہیں تھے اور پھر تیسرے آدمی کو ان کی تائید ونصرت کے لئے بھیجنا مذکور ہے۔
اس لئے اس آیت میں یہ لازم نہیں آتا کہ ہندوستان میں بھی کوئی نبی و رسول پیدا ہوا ہو البتہ دعوت رسول کے پہونچانے اور پھیلانے والے علماء کا کثرت سے یہاں آنا بھی ثابت ہے اور پھر یہاں بیشمار ایسے ہادیوں کا پیدا ہونا بھی ہر شخص کو معلوم ہے،
یہاں تک تین آیتوں میں نبوت کا انکار کرنے والوں کے شبہات کا جواب تھا چوتھی آیت میں پھر وہی اصل مضمون توحید کا مذکور ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتداء سے آرہا ہے۔
Ayah 13:8ارشاد ہے (آیت) اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَمَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۭ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ
یعنی اللہ تعالیٰ کو سب خبر رہتی ہے جو کچھ کسی عورت کو حمل رہتا ہے لڑکا ہے یا لڑکی حسین ہے یا بد شکل نیک ہے یا بد اور جو کچھ ان عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی ہے کہ کبھی ایک بچہ پیدا ہوتا ہے کبھی زیادہ اور کبھی جلدی پیدا ہوتا ہے کبھی دیر میں۔
اس آیت میں حق تعالیٰ کی ایک مخصوص صفت کا بیان ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں تمام کائنات و مخلوقات کے ذرہ ذرہ سے واقف اور ہر ذرہ کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر ہیں اس کے ساتھ ہی تخلیق انسانی کے ہر دور اور ہر تغیر اور ہر صفت سے پوری طرح واقف ہونے کا ذکر ہے کہ حمل کا یقینی اور صحیح علم صرف اسی کو ہوتا ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی یا دونوں یا کچھ بھی نہیں صرف پانی یا ہوا ہے قرائن اور تخمینہ سے کوئی حکیم یا ڈاکٹر جو کچھ اس معاملہ میں رائے دیتا ہے اس کی حیثت ایک گمان اور اندازہ سے زیادہ نہیں ہوتی بسا اوقات واقعہ اس کے خلاف نکلتا ہے ایکسرے کا جدید آلہ بھی اس حقیقت کو کھولنے سے قاصر ہے اس کا حقیقی اور یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوسکتا ہے اسی کا بیان ایک دوسری آیت میں ہے (آیت) وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے
لفظ تغیض عربی زبان میں کم ہونے اور خشک ہونے کے معنی میں آتا ہے آیت مذکورہ میں اس کے بالمقابل تزدادُ کے لفظ نے متعین کردیا کہ اس جگہ معنی کم ہونے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ رحم مادر میں جو کچھ کمی یا بیشی ہوتی ہے اس کا علم صحیح بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس کمی اور بیشی سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی تعداد میں کمی بیشی ہو کہ حمل میں صرف ایک بچہ ہے یا زیادہ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمانہ پیدائش کی کمی بیشی مراد ہو کہ یہ حمل کتنے مہینے کتنے دن اور کتنے گھنٹوں میں پیدا ہو کر ایک انسان کو ظاہری وجود دے گا اس کا یقینی علم بھی بجز اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہوسکتا۔
امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ زمانہ حمل میں جو خون عورت کو آجاتا ہے وہ حمل کی جسامت وصحت میں کمی کا باعث ہوتا ہے تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ سے مراد یہ کمی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جتنے اقسام کمی کے ہیں آیت کے الفاظ سب پر حاوی ہیں اس لئے کوئی اختلاف نہیں۔
كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر چیز کا ایک خاص انداز اور پیمانہ مقرر ہے نہ اس سے کم ہو سکتی ہے نہ زیادہ بچے کے تمام حالات بھی اس میں داخل ہیں کہ اس کی ہر چیز اللہ کے نزدیک متعین ہے کہ کتنے دن حمل میں رہے گا پھر کتنے زمانہ تک دنیا میں زندہ رہے گا کتنا رزق اس کو حاصل ہوگا اللہ جل شانہ کا یہ بےمثال علم اس کی توحید کی واضح دلیل ہے،
Ayah 13:9خلاصہ تفسیر
وہ تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے سب سے بڑا (اور) عالی شان ہے تم میں سے جو شخص کوئی بات چپکے سے کہے اور جو پکار کر کہے اور جو شخص رات میں کہیں چھپ جائے اور جو دن میں چلے پھرے یہ سب (خدا کے علم میں) برابر ہیں (یعنی سب کو یکساں جانتا ہے اور جیسا تم میں سے ہر شخص کو جانتا ہے اسی طرح ہر ایک کی حفاظت بھی کرتا ہے چناچہ تم میں سے) ہر شخص (کی حفاظت) کے لئے فرشتے (مقرر) ہیں جن کی بدلی ہوتی رہتی ہے کچھ اس کے آگے اور کچھ اس کے پیچھے کہ وہ بحکم خدا (بہت بلاؤں سے) اس کی حفاظت کرتے ہیں (اور اس سے کوئی یوں نہ سمجھ جائے کہ جب فرشتے ہمارے محافظ ہیں پھر جو چاہو کرو معصیت خواہ کفر کسی طرح عذاب نازل ہی نہ ہوگا یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ (ابتدا تو کسی کو عذاب دیتا نہیں چناچہ اس کی عادت ہے کہ وہ) کسی قوم کی (اچھی) حالت میں تغیر نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی (صلاحیت کی) حالت کو نہیں بدل دیتے) مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جب وہ اپنی صلاحیت میں خلل ڈالنے لگتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر مصیبت و عقوبت تجویز کی جاتی ہے) اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر مصیبت ڈالنا تجویز کرلیتا ہے تو پھر اس کے ہٹنے کی کوئی صورت ہی نہیں (وہ واقع ہوجاتی ہے) اور (ایسے وقت میں) کوئی خدا کے سوا (جن کی حفاظت کا ان کو زعم ہے) ان کا مددگار نہیں رہتا ہے (حتی کہ فرشتے بھی ان کی حفاظت نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی تو حفاظت ان کے کام نہ آسکتی) وہ ایسا (عظیم الشان) ہے کہ تم کو (بارش کے وقت) بجلی (چمکتی ہوئی) دکھلاتا ہے جس سے (اس کے گرنے کا) ڈر بھی ہوتا ہے اور (اس سے بارش کی) امید بھی ہوتی ہے اور وہ بادلوں کو (بھی) بلند کرتا ہے جو پانی سے بھرے ہوتے ہیں اور رعد (فرشتہ) اس کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور (دوسرے) فرشتے بھی اس کے خوف سے (اس کی تحمید و تسبیح کرتے ہیں) اور وہ (زمین کی طرف) بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں (یعنی اس کی توحید میں باوجود اس کے ایسے عظیم الشان ہونے کے) جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوت ہے (جس سے ڈرنا چاہئے مگر یہ لوگ ڈرتے نہیں اور اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں اور وہ ایسا مجیب الدعوات ہے) کہ سچا پکارنا اسی کے لئے خاص ہے (کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے) اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ (اپنے حوائج و مصائب میں) پکارتے ہیں وہ (بوجہ عدم قدرت کے) ان کی درخواست کو اس سے زیادہ منظور نہیں کرسکتے جتنا پانی اس شخص کی درخواست کو منظور کرتا ہے جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوتا ہو (اور اس کو اشارہ سے اپنی طرف بلا رہا ہو) تاکہ وہ (پانی) اس کے منہ تک (اڑ کر) آجاوے اور وہ (از خود) اس کے منہ تک (کسی طرح) آنیوالا نہیں (پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اسی طرح ان کے معبود عاجز ہیں اس لئے) کافروں کی (ان سے) درخواست کرنا محض بےاثر ہے اور اللہ ہی (ایسا قادر مطلق ہے کہ اسی) کے سامنے سب سرخم کئے ہوئے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (بعضے) خوشی سے اور (بعضے) مجبوری سے (خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا) اور ان (زمین والوں) کے سائے بھی (سرخم کئے ہیں) صبح اور شام کے وقتوں میں (یعنی سایہ کو جتنا چاہیں بڑھائیں جتنا چاہیں گھٹائیں اور صبح وشام کے وقت چونکہ دراز ہونے اور گھٹنے کا زیادہ ظہور ہوتا ہے اس لئے تخصیص کی گئی ورنہ سایہ بھی بایں معنی ہر طرح مطیع ہے)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ سے پہلے اللہ جل شانہ کی مخصوص صفات کمال کا سلسلہ چل رہا ہے جو در حقیقت توحید کے دلائل ہیں اس آیت میں فرمایا،
عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال غیب سے مراد وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھوں سے اس کو دیکھا جاسکے نہ کانوں سے سنا جاسکے نہ ناک سے سونگھا جاسکے نہ زبان سے چکھا جاسکے نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کیا جاسکے
شہادت اس کے بالمقابل وہ چیزیں ہیں جن کو انسانی حواس مذکورہ کے ذریعہ معلوم کیا جاسکے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی خاص صفت کمال یہ ہے کہ وہ ہر غیب کو اس طرح جانتا ہے جس طرح حاضر و موجود کو جانتا ہے
الکبیر کے معنی بڑا اور متعال کے معنی بالا و بلند مراد ان دونوں لفظوں سے یہ ہے وہ مخلوقات کی صفات سے بالا وبلند اور اکبر ہے کفار و مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے اجمالی طور بڑائی اور کبریائی کا تو اقرار کرتے تھے مگر اپنے قصور فہم سے اللہ تعالیٰ کو بھی عام انسانوں پر قیاس کر کے اللہ کے لئے ایسی صفات ثابت کرتے تھے جو اس کی شان سے بہت بعید ہیں جیسے یہود و نصارٰی نے اللہ کے لئے بیٹا ثابت کیا کسی نے اللہ کے لئے انسان کی طرح جسم اور اعضاء ثابت کئے کسی نے جہت اور سمت کو ثابت کیا حالانکہ وہ ان تمام حالات وصفات سے بالا و بلند اور منزہ ہے قرآن کریم نے ان کی بیان کردہ صفات سے برات کے لئے بار بار فرمایا سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْن یعنی پاک ہے اللہ ان صفات سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں
پہلے جملہ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ میں نیز اس سے پہلی آیت اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ میں اللہ جل شانہ کے کمال علمی کا بیان تھا اس دوسرے جملے الْكَبِيْرُ الْمُتَعَال میں کمال قدرت و عظمت کا ذکر ہے کہ ان کی طاقت وقدرت انسانی تصورات سے بالاتر ہے اس کے بعد کی آیت میں بھی اسی کمال علمی اور کمال قدرت کو ایک خاص انداز سے بیان فرمایا ہے
Ayah 13:10(آیت) سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ
اَسَرَّ الْقَوْلَ
اسرار سے بنا ہے جس کے معنی خفیہ کلام اور جہر کے معنی علانیہ کلام کے ہیں جو کلام انسان کسی دوسرے کو سنانے کے لئے کرتا ہے اسے جہر کہتے ہیں اور جو خود اپنے آپ کو سنانے کے لئے کرتا ہے اس کو سر کہا جاتا ہے مستخف کے معنی چھپنے والا سارب کے معنی آزادی اور بےفکری سے راستہ پر چلنے والا
معنی آٰیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی وجہ سے اس کے نزدیک خفیہ کلام کرنے والا اور بلند آواز سے کلام کرنے والا دونوں برابر ہیں وہ دونوں کے کلام کو یکساں طور پر سنتا اور جانتا ہے اسی طرح جو شخص رات کی اندھیری میں چھپا ہوا ہے اور جو دن کے اجالے میں کھلے راستے پر چل رہا ہے یہ دونوں اس کے علم اور قدرت کے اعتبار سے برابر ہیں کہ دونوں پر اس کی قدرت یکساں حاوی ہے کوئی اس کے دست قدرت سے باہر نہیں اسی کا مزید بیان اگلی آیت میں اس طرح ہے۔
Ayah 13:11(آیت) لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ مُعَقِّبٰتٌ
معقبۃ کی جمع ہے اس جماعت کو جو دوسری جماعت کے پیچھے متصل آئے اس کو معقبہ یا متعقبہ کہا جاتا ہے مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھ کے درمیان مراد انسان کے سامنے کی جہت اور سمت ہے وَمِنْ خَلْفِهٖ پیچھے کی جانب مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ میں من بمعنی باء سببیت کے لئے ہے بامر اللہ کے معنی میں آیا ہے بعض قراءتوں میں یہ لفظ بامر اللہ منقول بھی ہے (روح)
معنی آیت کے ہیں کہ ہر شخص خواہ اپنے کلام کو چھپاتا ہے یا ظاہر کرنا چاہتا ہے اسی طرح اپنے چلنے پھرنے کو رات کی تاریکیوں کے ذریعہ مخفی رکھنا چاہے یا کھلے بندوں سڑکوں پر پھرے ان سب انسانوں کے لئے اللہ کی طرف سے فرشتوں کی جماعتیں مقرر ہیں جو ان کے آگے اور پیچھے سے احاطہ کئے رہتے ہیں جن کی خدمت اور ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے اور یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ان کے ذمہ یہ کام سپرد ہے کہ وہ بحکم خداوندی انسانوں کی حفاظت کریں۔
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ فرشتوں کی دو جماعتیں حفاظت کے لئے مقرر ہیں ایک رات کے لئے دوسری دن کے لئے اور یہ دونوں جماعتیں صبح اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتی ہیں صبح کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں دن کے محافظ کام سنبھال لیتے ہیں اور عصر کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں رات کے فرشتے ڈیوٹی پر آجاتے ہیں
ابوداؤد کی ایک حدیث میں بروایت علی مرتضی ؓ مذکور ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ کچھ حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی دیوار وغیرہ نہ گر جائے یا کسی گڑھے اور غار میں نہ گر جائے یا کوئی جانور یا انسان اس کو تکلیف نہ پہونچائے البتہ جب حکم الہی کسی انسان کو بلا و مصیبت میں مبتلا کرنے کے لئے نافذ ہوجاتا ہے تو محافظ فرشتے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں (روح المعانی)
ابن جریر کی ایک حدیث سے بروایت عثمان غنی ؓ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان محافظ فرشتوں کا کام صرف دنیاوی مصائب اور تکلیفوں ہی سے حفاظت نہیں بلکہ وہ انسان کو گناہوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں انسان کے دل میں نیکی اور خوف خدا کے الہام سے غفلت برت کر گناہ میں مبتلا ہی ہوجائے تو وہ اس کی دعاء اور کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلد توبہ کر کے گناہ سے پاک ہوجائے پھر اگر وہ کسی طرح متنبہ نہیں ہوتا تب وہ اس کے نامہ اعمال میں گناہ کا کام لکھ دیتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ محافظ فرشتے دین و دنیا دونوں کی مصیبتوں اور آفتوں سے انسان کی سوتے جاگتے حفاظت کرتے رہتے ہیں حضرت کعب احبار ؓ فرماتے ہیں کہ اگر انسان سے یہ حفاظت خداوندی کا پہرہ ہٹا دیا جائے تو جنات ان کی زندگی وبال کردیں لیکن یہ سب حفاظتی پہرے اسی وقت تک کام کرتے ہیں جب تک تقدیر الہی ان کی حفاظت کی اجازت دیتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ ہی کسی بندہ کو مبتلا کرنا چاہیں تو یہ حفاظتی پہرا ہٹ جاتا ہے۔
اسی کا بیان اگلی آیت میں اس طرح کیا گیا ہے
(آیت) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ
یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت امن و عافیت کو آفت و مصیبت میں اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم خود ہی اپنے اعمال و احوال کو برائی اور فساد میں تبدیل نہ کرلے اور جب جب وہ اپنے حالات کو سرکشی اور نافرمانی سے بدلتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا طرز بدل دیتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی کسی کا برا چاہیں اور عذاب دینا چاہیں تو نہ پھر کوئی اس کو ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی حکم ربانی کے خلاف ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے،
حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی حفاظت کے لئے فرشتوں کا پہرہ لگا رہتا ہے لیکن جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اس کی اطاعت چھوڑ کر بدعملی بدکرداری اور سرکشی ہی اختیار کرلے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا حفاظتی پہرہ اٹھا لیتے ہیں پھر خدا تعالیٰ کا قہر و عذاب ان پر آتا ہے جس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔
اس تشریح سے معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ میں تغیر احوال سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی قوم اطاعت اور شکر گذاری چھوڑ کر اپنے حالات میں بری تبدیلی پیدا کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا طرز رحمت و حفاظت کا بدل دیتے ہیں
اس آیت کا جو عام طور پر یہ مفہوم بیان کیا جاتا ہے کہ کسی قوم میں اچھا انقلاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک وہ خود اس اچھے انقلاب کے لئے اپنے حالات کو درست نہ کرے اسی مفہوم میں یہ شعر مشہور ہے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
یہ بات اگرچہ ایک حد تک صحیح مگر آیت مذکورہ کا یہ مفہوم نہیں اور اس کا صحیح ہونا بھی ایک عام قانون کی حیثیت سے ہے کہ جو شخص خود اپنے حالات کی اصلاح کا ارادہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اس کی امداد ونصرت کا وعدہ نہیں بلکہ یہ وعدہ اسی حالت میں ہے جب کوئی خود بھی اصلاح کی فکر کرے جیسا کہ آیت کریمہ والَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہدایت کے راستے جب ہی کھلتے ہیں جب خود ہدایت کی طلب موجود ہو لیکن انعامات الہیہ اس قانون کے پابند نہیں بسا اوقات اس کے بغیر بھی عطا ہوجاتے ہیں
داد حق را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرط قابلیت داد ہست
خود ہمارا وجود اور اس میں بیشمار نعمتیں نہ ہماری کوشش کا نتجیہ ہیں نہ ہم نے کبھی اس کے لئے دعا مانگی تھی کہ ہمیں ایسا وجود عطا کیا جائے جس کی آنکھ ناک کان اور سب قوی واعضا درست ہوں یہ سب نعمتیں بےمانگے ہی ملی ہیں
مانبودیم و تقاضا مانبود
لطف تو ناگفتہ مامی شنود
البتہ انعامات کا استحقاق اور وعدہ بغیر اپنی سعی کے حاصل نہیں ہوتا اور کسی قوم کو بغیر سعی وعمل کے انعامات کا انتظار کرتے رہنا خود فریبی کے مرادف ہے۔
Ayah 13:12(آیت) هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَاب الثِّقَالَ
یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے جو تمہیں برق و بجلی دکھلاتا ہے جو انسان کے لئے خوف بھی بن سکتی ہے کہ جس جگہ پڑجائے سب کچھ خاک کر ڈالے اور طمع بھی ہوتی ہے کہ بجلی کی چمک کے بعد بارش آئے گی جو انسان اور حیوانات کی زندگی کا سہارا اور وہی ذات پاک ہے جو بڑے بڑے بھاری بادل سمندر سے مان سون بنا کر اٹھاتا ہے اور پھر ان پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو فضا میں بڑی سرعت کے ساتھ کہیں سے کہیں لے جاتا ہے اور اپنے حکم قضا وقدر کے مطابق جس زمین پر چاہتا ہے برساتا ہے
Ayahs 13:13–15(آیت) وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ
یعنی تسبیح پڑھتا ہے رعد اللہ تعالیٰ کے حمد وشکر کی اور تسبیح پڑھتے ہیں فرشتے اس کے خوف سے رعد، عرف ومحاورہ میں بادل کی آواز کو کہا جاتا ہے جو بادلوں کے باہمی ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے اس کے تسبیح پڑھنے سے مراد وہی تسبیح ہے جس کے متعلق قرآن کریم ایک دوسری آیت میں آیا ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن یہ تسبیح عام لوگ سن نہیں سکتے۔
اور بعض روایات و حدیث میں ہے کہ رعد اس فرشتہ کا نام ہے جو بارش برسانے پر مسلط ہے اور مامور ہے اس معنی کے اعتبار سے تسبیح پڑھنا ظاہر ہے،
(آیت) وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاۗءُ۔ صواعق، صاعقہ کی جمع ہے زمین پر گرنے والی بجلی کو صاعقہ کہا جاتا ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی یہ بجلیاں زمین پر بھیجتا ہے جن کے ذریعہ جسکو چاہتا ہے جلا دیتا ہے،
(آیت) وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ ۚ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ۔ لفظ محال، بکسر میم حیلہ و تدبیر کے معنی میں ہے اور عذاب و عقاب کے معنی میں بھی اور قدرت کے معنی میں بھی معنی آیت کے یہ ہیں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کے معاملہ میں باہمی جھگڑے اور مجادلہ میں مبتلا ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑی قوی تدبیر کرنے والے ہیں جس کے سامنے کسی کی چال نہیں چلتی ،
Ayahs 13:16–17خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار (یعنی موجد و مبقی یعنی خالق وحافظ) کون ہے (اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے اس لئے جواب بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہے کہ اللہ ہے (پھر) آپ ﷺ یہ کہئے کہ کیا (یہ دلائل توحید سن کر) پھر بھی تم نے خدا کے سوا دوسرے مددگار (یعنی معبودین) قرار دے رکھے ہیں جو (بوجہ غایت عجز کے) خود اپنی ذات کے نفع نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (اور پھر شرک کے ابطال اور توحید کے احقاق کے بعد اہل توحید واہل شرک اور خود توحید و شرک کے درمیان اظہار فرق کے لئے) آپ ﷺ یہ (بھی) کہئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے (یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی) یا کہیں تاریکی اور روشنی برابر ہو سکتی ہے (یہ مثال ہے شرک اور توحید کی) یا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی (کسی چیز کو) پیدا کیا ہو جیسا خدا (ان کے اعتراف کے موافق بھی) پیدا کرتا ہے پھر (اس وجہ سے) ان کو (دونوں کا) پیدا کرنا ایک سا معلوم ہواہو (اور اس سے استدلال کیا ہو کہ جب دونوں یکساں خالق ہیں تو دونوں یکساں معبود بھی ہوں گے اس کے متعلق بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی (اپنی ذات وصفات کمال میں) واحد ہے (اور سب مخلوقات پر) غالب ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر (اس پانی سے) نالے (بھر کر) اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے (یعنی چھوٹے نالے میں تھوڑا پانی اور بڑے نالے میں زیادہ پانی) پھر وہ سیلاب (کا پانی) خس و خاشاک کو بہا لایا جو اس (پانی) کی (سطح کے) اوپر (آرہا) ہے (ایک کوڑا کرکٹ تو یہ ہے) اور جن چیزوں کو آگ کے اندر (رکھ کر) زیور یا اور اسباب (ظروف وغیرہ) بنانے کی غرض سے تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی میل کچیل (اوپر آجاتا) ہے (پس ان دو مثالوں میں دو چیزیں ہیں ایک کار آمد چیز کہ اصل پانی اور اصل مال ہے اور ایک ناکارہ چیز کہ کوڑا کرکٹ میل کچیل ہی غرض) اللہ تعالیٰ حق (یعنی توحید و ایمان وغیرہ) اور باطل (یعنی کفر و شرک وغیرہ) کی اسی طرح کی مثال بیان کر رہا ہے (جس کی تکمیل اگلے مضمون سے ہوتی ہے) سو (ان دونوں مذکورہ مثالوں میں) جو میل کچیل تھا وہ تو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے کارآمد ہے وہ دنیا میں (نفع رسانی کے ساتھ) رہتی ہے (اور جس طرح حق و باطل کی مثال بیان کی گئی) اللہ تعالیٰ اسی طرح (ہر ضروری مضمون میں) مثالیں بیان کیا کرتے ہیں،
معارف و مسائل
حاصل دونوں مثالوں کا یہ ہے کہ جیسا کہ ان مثالوں میں میل کچیل برائے چندے اصلی چیز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن انجام کار وہ پھینک دیا جاتا ہے اور اصلی چیز رہ جاتی ہے،
اسی طرح گو چند روز حق کے اوپر غالب نظر آئے لیکن آخر کار باطل محو اور مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی اور ثابت رہتا ہے کذا فی الجلالین۔
Ayah 13:18خلاصہ تفسیر
جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا (اور توحید اور اطاعت کو اختیار کرلیا) ان کے واسطے اچھا بدلہ (یعنی جنت مقرر) ہے اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا (اور کفر و معصیت پر قائم رہے) ان کے پاس (قیامت کے دن) اگر تمام دنیا بھر کی چیزیں (موجود) ہوں اور (بلکہ) اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی (مال و دولت) ہو تو سب اپنی رہائی کے لئے دے ڈالیں ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا (جس کو دوسری آیت میں حساب عسیر فرمایا ہے) اور ان کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے اور وہ بری قرار گاہ ہے جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب حق ہے کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ (اس علم سے محض) اندھا ہے (یعنی کافر ومؤ من برابر نہیں) پس نصیحت تو سمجھدار ہی لوگ قبول کرتے ہیں (اور) یہ (سمجھدار) لوگ ایسے ہیں کہ اللہ سے جو کچھ انہوں نے عہد کیا ہے اس کو پورا کرتے ہیں اور (اس) عہد کو توڑتے نہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اللہ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں (جو کفار کے ساتھ خاص ہوگا اس لئے کفر سے بچتے ہیں) اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے رب کی رضا مندی کے جو یہاں رہ کر (دین حق پر) مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے چپکے بھی اور ظاہر کر کے بھی (جیسا موقع ہوتا ہے) خرچ کرتے ہیں اور (لوگوں کی) بدسلوکی (جو ان کے ساتھ کی جاوے) حسن سلوک سے ٹال دیتے ہیں (یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں) اس جہان میں (یعنی آخرت میں) نیک انجام ان لوگوں کے واسطے ہے یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتیں جن میں وہ لوگ بھی داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولاد میں جو (جنت کے) لائق (یعنی مؤ من) ہوں گے (گو ان موصوفین کے درجہ کے نہ ہوں) وہ بھی (جنت میں انکی برکت سے انہی کے درجوں میں) داخل ہوں گے اور فرشتے ان کے پاس ہر (سمت کے) دروازہ سے آتے ہوں گے (اور یہ کہتے ہوں گے) کہ تم (ہر آفت اور خطرہ سے) صحیح سلامت رہو گے بدولت اس کے کہ تم (دین حق پر) مضبوط رہے تھے سو اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے۔
Ayah 13:19معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں حق و باطل کو مثالوں کے ذریعہ واضح کیا گیا تھا مذکورہ آیات میں اہل حق اور اہل باطل کی علامات وصفات اور ان کے اچھے اور برے اعمال اور ان کے جزاء سزا کا بیان ہے۔
پہلی آیت میں احکام ربانی کی تعمیل و اطاعت کرنے والوں کے لئے اچھے بدلے کا اور نافرمانی کرنے والوں کے لئے عذاب شدید کا ذکر ہے
دوسری آیت میں ان دونوں کی مثال بینا اور نابینا سے دی گئی ہے اور اس کے آخر میں فرمایا اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَاب یعنی اگرچہ بات واضح ہے مگر اس کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو عقل والے ہیں جن کی عقلیں غفلت و معصیت نے بیکار کر رکھی ہیں وہ اتنے بڑے عظیم فرق کو بھی نہیں سمجھتے