12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی

خلاصہ تفسیر الرٰ اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک واضح کتاب کی (جس کے الفاظ اور معانی اولیہ بہت صاف ہیں) ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (اہل زبان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے پہلے) سمجھو (پھر تمہارے واسطے سے دوسرے لوگ سمجھیں) ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ (اس قصہ سے) بالکل بیخبر تھے (کیونکہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی معلم سے کچھ سیکھا تھا اور قصہ کی شہرت بھی ایسی نہیں تھی کہ عوام جانتے ہوں آغاز قصہ) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ یوسف ؑ نے اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں ان کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ بیٹا اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا (کیونکہ وہ خاندان نبوت میں سے ہونے کی وجہ سے اس خواب کی تعبیر جانتے ہیں کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی اور سورج والد اور چاند ماں ہے اور سجدہ کرنے سے مراد ان سب کا تمہارے لئے مطیع و فرمانبردار ہونا ہے) تو وہ تمہارے (ایذاء رسانی کے) لئے کوئی خاص تدبیر کریں گے (یعنی بھائیوں میں سے اکثر کیونکہ دس بھائی علاتی تھے ان سے خطرہ تھا صرف ایک بھائی حقیقی بنیامین تھے جن سے کسی خلاف کا تو اندیشہ نہ تھا مگر یہ احتمال تھا کہ انکے منہ سے بات نکل جائے) بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (اس لئے بھائیوں کے دل میں وسوسے ڈالے گا) اور (جس طرح اللہ تعالیٰ تم کو یہ عزت دے گا کہ سب تمہارے تابع ومطیع ہوں گے) اس طرح تمہارا رب تم کو (دوسری عزت نبوت کیلئے بھی) منتخب کرے گا اور تم کو خوابوں کی تعبیر دے گا اور (دوسری نعمتیں دے کر بھی) تم پر اور اولاد یعقوب پر اپنا انعام کامل کرے گا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا ابراہیم واسحاق (علیہما السلام) پر اپنا انعام کامل کرچکا ہے واقعی تمہارا رب بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے معارف و مسائل سورة یوسف چار آیتوں کے سوا پوری مکی سورة ہے اس سورة میں حضرت یوسف ؑ کا قصہ تسلسل اور ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے اور یہ قصہ صرف اسی سورة میں آیا ہے پورے قرآن میں دوبارہ اس کا کہیں ذکر نہیں یہ خصوصیت صرف قصہ یوسف ؑ ہی کی ہی ورنہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصص و واقعات پورے قرآن میں خاص حکمت کے تحت اجزاء اجزاء کر کے لائے گئے ہیں اور بار بار لائے گئے، حقیقت یہ ہے کہ تاریخ عالم اور ماضی کے تجربات میں انسان کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے سبق ہوتے ہیں جن کی قدرتی تاثیر کا رنگ انسان کے قلب و دماغ پر عام تعلیمات سے بہت زیادہ گہرا اور بےمحنت ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم جو تمام اقوام عالم کے لئے آخری ہدایت نامہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اس میں پوری اقوام عالم کی تاریخ کا وہ منتخب حصہ لے لیا گیا ہے جو انسان کے حال اور مال کی اصلاح کے لئے نسخہ کیمیا ہے مگر قرآن کریم نے تاریخ عالم کے اس حصہ کو بھی اپنے مخصوص وبے مثال انداز میں اس طرح لیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ کہ کوئی تاریخ کی کتاب ہے بلکہ ہر مقام پر جس قصہ کا کوئی ٹکڑا عبرت وموعظت کیلئے ضروری سمجھا گیا صرف اتنا ہی حصہ وہاں بیان کیا گیا اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس حصہ کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر اس کا اعادہ کردیا گیا اسی لئے ان قصوں کے بیان میں واقعاتی ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی بعض جگہ قصہ کا ابتدائی حصہ بعد میں اور آخری حصہ پہلے ذکر کردیا گیا ہے اس خاص اسلوب قرآنی میں یہ مستقل ہدایت ہے کہ دنیا کی تاریخ اور اس کے گذشتہ واقعات کا پڑھنا یادرکھنا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ انسان کا مقصد ہر قصہ وخبر سے کوئی عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہونا چاہئے، اسی لئے بعض اہل تحقیق نے فرمایا کہ انسان کے کلام کی جو دو قسمیں خبر اور انشاء مشہور ہیں ان دونوں قسموں میں سے مقصود اصلی انشاء ہی ہے خبر بحیثیت خبر کبھی مقصود نہیں ہوتی بلکہ دانشمند انسان کا مقصد ہر خبر اور واقعہ کو سننے اور دیکھنے سے صرف اپنے حال اور عمل کی اصلاح ہونی چاہئے، حضرت یوسف ؑ کے قصہ کو ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کی ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تاریخ نگاری بھی ایک مستقل فن ہے اس میں اس فن والوں کے لئے خاص ہدایات ہیں کہ بیان میں نہ اتنا اختصار ہونا چاہئے جس سے بات ہی پوری نہ سمجھی جاسکے اور نہ اتنا طول ہونا چاہئے کہ اس کا پڑھنا اور یاد رکھنا مشکل ہوجائے جیسا کہ اس قصہ کے قرآنی بیان سے واضح ہوتا ہے، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ یہود نے آزمائش کیلئے آنحضرت محمد ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہمیں بتلائیے کہ آل یعقوب ملک شام سے مصر کیوں منتقل ہوئے اور حضرت یوسف ؑ کا واقعہ کیا تھا ؟ ان کے جواب میں بذریعہ وحی یہ پورا قصہ نازل کیا گیا جو رسول کریم ﷺ کا معجزہ اور آپ کی نبوت کا بڑا شاہد تھا کہ آپ امی محض تھے اور عمر بھر مکہ میں مقیم رہے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ کوئی کتاب پڑھی پھر وہ تمام واقعات جو تورات میں مذکور تھے صحیح صحیح بتلا دیئے بلکہ بعض وہ چیزیں بھی بتلا دیں جن کا ذکر تورات میں نہ تھا اور اس کے ضمن میں بہت سے احکام و ہدایات ہیں جو آگے بیان ہوں گی سب سے پہلی آیت میں حروف الٰر ٰمقطعات قرآنیہ میں سے ہیں جن کے متعلق جمہور سلف صحابہ وتابعین کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ متکلم اور مخاطب یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک راز ہے جس کو کوئی تیسرا آدمی نہیں سمجھ سکتا اور نہ اس کے لئے مناسب ہے کہ اس کی تحقیق کے درپے ہو۔ (آیت) تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ یعنی یہ ہیں آیتیں اس کتاب کی جو احکام حلال و حرام اور ہر کام کی حدود وقیود بتلا کر انسان کو ہر شعبہ زندگی میں ایک معتدل سیدھا نظام حیات بخشی ہیں جن کے نازل کرنے کا وعدہ تورات میں پایا جاتا ہے اور یہود اس سے واقف ہیں
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو

(آیت) اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی ہم نے نازل کیا اس کو قرآن عربی بنا کر شاید تم سمجھ بوجھ حاصل کرلو، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ قصہ یوسف ؑ کا سوال کرنے والے عرب کے یہودی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کی زبان میں یہ قصہ نازل فرما دیا تاکہ وہ غور کریں اور رسول کریم ﷺ کے صدق و حقانیت پر ایمان لائیں اور اس قصہ میں جو احکام و ہدایات ہیں ان کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں اسی لئے اس جگہ لفظ لعل بمعنے شاید لایا گیا ہے کیونکہ ان مخاطبوں کا حال معلوم تھا کہ ایسی واضح آیات بینات سامنے آنے کے بعد بھی ان سے قبول حق کی توقع مشکوک تھی،
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس بہت اچھا بیان اس واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف یہ قرآن، اور تو تھا اس سے پہلے البتہ بیخبر وں میں

(آیت) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ یعنی ہم بیان کرتے ہیں آپ کے لئے بہترین قصہ اس قرآن کو بذریعہ وحی آپ پر نازل کر کے بیشک آپ اس سے پہلے ان تمام واقعات سے ناواقف تھے، اس میں یہود کو تنبیہ ہے کہ تم نے جس طرح ہمارے رسول ﷺ کی آزمائش کرنا چاہی اس میں بھی رسول کا کمال واضح ہوگیا کیونکہ وہ پہلے سے امی اور تاریخ عالم سے ناواقف تھے اب اس واقفیت کا کوئی ذریعہ بجز تعلیم الہی اور وحی نبوت کے نہیں ہو سکتا
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے اے باپ میں نے دیکھا خواب میں گیارہ ستاروں کو اور سورج کو اور چاند کو

(آیت) اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ یعنی یوسف ؑ نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں، یہ حضرت یوسف ؑ کا خواب تھا جس کی تعبیر کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف ؑ کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد ماں باپ تھے قرطبی میں ہے کہ حضرت یوسف ؑ کی والدہ اگرچہ اس واقعہ سے پہلے وفات پاچکی تھیں مگر ان کی خالہ والد ماجد کے نکاح میں آگئی تھیں خالہ خود بھی ماں کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے خصوصا جبکہ وہ والد کی زوجیت میں آجائے تو عرفاً اس کو ماں ہی کہا جائے گا،
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے کہا اے بیٹے مت بیان کرنا خواب اپنا اپنے بھائیوں کے آگے، پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب البتہ شیطان ہے انسان کا صریح دشمن

(آیت) قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ یعنی بیٹا تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا ایسا نہ ہو کہ وہ یہ خواب سن کر تمہاری عظمت شان معلوم کر کے تمہیں ہلاک کرنے کی کوئی تدبیر کریں کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ دنیا کے جاہ ومال کی خاطر انسان کو ایسے کاموں میں مبتلاکر دیتا ہے ان آیات میں چند مسائل قابل ذکر ہیں، خواب کی حقیقت اور درجہ اور اس کی قسمیں سب سے اول خواب کی حقیقت اور اس سے معلوم ہونے والے واقعات واخبار کا درجہ اور مقام ہے تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ نے فرمایا کہ حقیقت خواب کی یہ ہے کہ نفس انسان جس وقت نیند یا بیہوشی کے سبب ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قوت خیالیہ کی راہ سے کچھ صورتیں دکھائی دیتی ہیں جن کی کوئی حقیقت اور اصلیت نہیں ہوتی اور ایک اپنی ذات کے اعتبار سے صحیح وصادق ہے مگر اس صحیح قسم میں بھی کبھی کچھ عوراض شامل ہو کر اس کو فاسدو ناقابل اعتبار کردیتے ہیں ، تفصیل اس کی یہ ہے کہ خواب میں جو انسان مختلف صورتیں اور واقعات دیکھتا ہے کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ بیداری کی حالت میں جو صورتیں انسان دیکھتا رہتا ہے وہی خواب میں متشکل ہو کر نظر آجاتی ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شیطان کچھ صورتیں اور واقعات اس کے ذہن میں ڈالتا ہے کبھی خوش کرنے والے اور کبھی ڈرانے والے یہ دونوں قسمیں باطل ہیں جن کی نہ کوئی حقیقت واصلیت ہے نہ اس کی کوئی واقعی تعبیر ہوسکتی ہے ان میں پہلی قسم کو حدیث النفس اور دوسری کو تسویل شیطانی کہا جاتا ہے، تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ اللہ تعالیٰکی طرف سے ایک قسم کا الہام ہے جو اپنے بندہ کو متنبہ کرنے یا خوش خبری دینے کے لئے کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے بعض چیزیں اس کے قلب و دماغ میں ڈال دیتے ہیں ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مومن کا خواب ایک کلام ہے جس میں وہ اپنے رب سے شرف گفتگو حاصل کرتا ہے یہ حدیث طبرانی نے بسند صحیح روایت کی ہے (مظہری) اس کی تحقیق صوفیائے کرام کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ عالم میں جتنی چیزیں وجود میں آنے والی ہیں اس وجود سے پہلے ہر چیز کی ایک خاص شکل عالم مثال میں ہوتی ہے اور اس عالم مثال میں جس طرح جواہر اور حقائق ثابتہ کی صورتیں اور شکلیں ہوتی ہیں اسی طرح معانی اور اعراض کی بھی خاص شکلیں ہوتی ہیں خواب میں جب نفس انسانی ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوتا ہے، تو بعض اوقات اس کا تعلق عالم مثال سے ہوجاتا ہے وہاں جو کائنات کی شکلیں ہیں وہ اس کو نظر آجاتی ہیں پھر یہ صورتیں عالم غیب سے دکھائی جاتی ہیں بعض اوقات ان میں بھی کچھ عوارض ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ اصل حقیقت کے ساتھ کچھ تخیلات باطلہ شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اہل تعبیر کو بھی اس کی تعبیر سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ تمام عوارض سے پاک صاف رہتی ہیں تو وہ اصل حقیقت ہوتی ہیں مگر ان میں بھی بعض خواب محتاج تعبیر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں حقیقت واقعہ واضح نہیں ہوتی ایسی صورت میں بھی اگر تعبیر غلط ہوجائے تو واقعہ مختلف ہوجاتا ہے اس لئے صرف وہ خواب صحیح طور پر الہام من اللہ اور حقیقت ثابتہ ہوں گے جو اللہ کی طرف سے ہو اور اس میں کچھ عوارض بھی شامل نہ ہوئے ہوں اور تعبیر بھی صحیح دی گئی ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) کے سب خواب ایسے ہی ہوتے ہیں اسی لئے ان کے خواب بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں عام مسلمانوں کے خواب میں ہر طرح کے احتمال رہتے ہیں اس لئے وہ کسی کے لئے حجت اور دلیل نہیں ہوتے ان کے خوابوں میں بعض اوقات طبعی اور نفسانی صورتوں کی آمیزش ہوجاتی ہے اور بعض اوقات گناہوں کی ظلمت و کدورت صحیح خواب پر چھا کر اس کو ناقابل اعتماد بنا دیتی ہے بعض اوقات تعبیر صحیح سمجھ میں نہیں آتی ، خواب کی یہ تین قسمیں ہیں ایک شیطانی ہے جس میں شیطان کی طرف سے کچھ صورتیں ذہن میں آتی ہیں دوسری وہ جو آدمی اپنی بیداری میں دیکھتا رہتا ہے وہی صورتیں خواب میں سامنے آجاتی ہیں تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ نبوت کے اجزء میں سے چھیالیسواں جز ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہے، خواب میں جزء نبوت ہونے کے معنی اور اس کی تشریح یہ قسم جو حق اور صحیح ہے اور صحیح احادیث نبویہ میں نبوت کا ایک جزء قرار دی گئی ہے اس میں روایات حدیث مختلف ہیں بعض میں چالیسواں جزء اور بعض چھیالیسواں جزء بتلایا اور بعض روایات میں اننچاس (49) اور پچاس (50) اور سترواں (70) جزء ہونا بھی منقول ہے یہ سب روایتیں تفسیر قرطبی میں جمع کرکے ابن عبد البر کی تحقیق یہ نقل کی ہے کہ ان میں کوئی تضاد وتخالف نہیں بلکہ ہر ایک روایت اپنی جگہ صحیح و درست ہے اور تعداد اجزاء کا یہ اختلاف خواب دیکھنے والوں کے مختلف حالات کی بناء پر ہے جو شخص سچائی، امانت، دیانت، اور کمال ایمان کے ساتھ متصف ہے اس کا خواب نبوت کا چالیسواں جزء ہوگا اور جو ان اوصاف میں کچھ کم ہے اس کا چھیالیسواں یا پچاسواں جزء ہوگا اور جو اور کم ہے اس کا خواب نبوت کا سترواں جزء ہوگا، یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ سچے خواب کے جزء نبوت ہونے سے کیا مراد ہے تفسیر مظہری میں اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ رسول کریم ﷺ پر وحی نبوت کا سلسلہ تیئیس سال جاری رہا ان میں سے پہلی ششماہی میں یہ وحی الہی خوابوں کی صورت میں آتی رہی باقی پنیتالیس ششماہیوں میں جبرئیل امین ؑ کی پیغام کی صورت میں آئی، اس حساب سے سچی خوابیں وحی نبوت کا چھالیسواں جز ہوا اور جن روایات میں کم وبیش عدد مذکور ہیں ان میں یا تقریبی کلام کیا گیا یا وہ سند کے اعتبار سے ساقط ہیں امام قرطبی ؒ نے فرمایا کہ اس کے جزء نبوت ہونے سے مراد یہ ہے کہ خواب میں بعض اوقات انسان ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کی قدرت میں نہیں مثلاً یہ دیکھے کہ وہ آسمان پر اڑ رہا ہے یا غیب کی ایسی دیکھے جن کا علم حاصل کرنا اس کی قدرت میں نہ تھا تو اس کا ذریعہ بجز امداد والہام خداوندی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا جو اصل میں خاصہ نبوت ہے اس لئے اس کو ایک جزء نبوت قرار دیا گیا، قادیانی دجال کے ایک مغالطہ کی تردید یہاں کچھ لوگوں کو ایک عجیب مغالطہ لگا ہے کہ اس جزء نبوت کے دنیا میں باقی اور جاری رہنے سے نبوت کا باقی اور جاری رہنا سمجھ بیٹھے جو قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور بیشمار احادیث صحیحہ کے خلاف اور پوری امت کے اجماعی عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے اور یہ نہ سمجھے کہ کسی چیز کا ایک جزء موجود ہونے سے اس چیز کا موجود ہونا لازم نہیں آتا اگر کسی شخص کا ایک ناخن یا ایک بال کہیں موجود ہو تو کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہاں وہ شخص موجود ہے مشین کے بہت سے کل پرزوں میں سے اگر کسی کے پاس ایک پرزہ یا ایک اسکرد موجود ہو اور وہ کہنے لگے کہ میرے پاس فلاں مشین موجود ہے تو دنیا بھر کے انسان اس کو یا جھوٹا سمجھیں گے یا بیوقوف، سچے خواب حسب تصریح حدیث بلاشبہ جزء نبوت ہیں مگر نبوت نہیں نبوت تو خاتم الانبیاء ﷺ پر ختم ہوچکی ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لم یبق من النبوۃ الا المبشرات، یعنی آئندہ نبوت کا کوئی جزء بجز مبشرات کے باقی نہ رہے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ تو فرمایا کہ سچے خواب جس میں ثابت ہوا کہ نبوت کسی قسم یا کسی صورت سے باقی نہیں صرف اس کا چھوٹا ساجز باقی ہے جس کو مبشرات یا سچے خواب کہا جاتا ہے کبھی کافر فاسق آدمی کا خواب بھی سچا ہوسکتا ہے اور یہ بات بھی قرآن و حدیث سے ثابت اور تجربات سے معلوم ہے کہ سچے خواب بعض اوقات فاسق فاجر بلکہ کافر کو بھی آسکتے ہیں سورة یوسف ہی میں حضرت یوسف ؑ کے جیل کے دوساتھیوں کے خواب اور ان کا سچا ہونا اسی طرح بادشاہ مصر کا خواب اور اس کا سچاہونا قرآن میں مذکور ہے حالانکہ یہ تینوں مسلمان نہ تھے حدیث میں کسریٰ کا خواب مذکور ہے جو اس نے رسول کریم ﷺ کی بعثت کے متعلق دیکھا تھا وہ خواب صحیح ہوا حالانکہ کسریٰ مسلمان نہ تھا رسول کریم ﷺ کی پھوپی عاتکہ نے بحالت کفر آپ ﷺ کے بارے میں سچاخواب دیکھا تھا نیز کافر بادشاہ بخت نصر کے جس خواب کی تعبیر حضرت دانیال ؑ نے دی وہ خواب سچا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ محض اتنی بات کہ کسی کو کوئی سچاخواب نظر آجائے اور واقعہ اس کے مطابق ہوجائے اس کے نیک صالح بلکہ مسلمان ہونے کی بھی دلیل نہیں ہوسکتی ہاں یہ صحیح ہے کہ عام عادۃ اللہ یہی ہے کہ سچے اور نیک لوگوں کے خواب عموماً سچے ہوتے ہیں فساق و فجار کے عموماً حدیث النفس یا تسویل شیطانی کی قسم باطل سے ہوا کرتے ہیں مگر کبھی اس کے خلاف بھی ہوجاتا ہے، بہرحال سچے خواب عام امت کے لئے حسب تصریح حدیث ایک بشارت یا تنبیہ سے زائد کوئی مقام نہیں رکھتے نہ خود اس کے لئے کسی معاملہ میں حجت ہیں نہ دوسروں کے لئے بعض ناواقف لوگ ایسے خواب دیکھ کر طرح طرح کے وساوس میں مبتلا ہوجاتے ہیں کوئی ان کو اپنی ولایت کی علامت سمجھنے لگتا ہے کوئی ان سے حاصل ہونے والی باتوں کو شرعی احکام کا درجہ دینے لگتا ہے یہ سب چیزیں بےبنیاد ہیں خصوصاً جب کہ یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ سچی خوابوں میں بھی بکثرت نفسانی یا شیطانی یا دونوں قسم کے تصورات کی آمیزش کا احتمال ہے، خواب ہر شخص سے بیان کرنا درست نہیں مسئلہآیت قالَ يٰبُنَيَّ الخ۔ میں حضرت یعقوب ؑ نے یوسف ؑ کو اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان کرنے سے منع فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ خواب ایسے شخص کے سامنے بیان نہ کرنا چاہئے جو اس کا خیر خواہ اور ہمدرد نہ ہو اور نہ ایسے شخص کے سامنے جو تعبیر خواب میں ماہر نہ ہو جامع ترمذی میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سچاخواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے اور خواب معلق رہتا ہے جب تک کسی سے بیان نہ کیا جائے جب بیان کردیا گیا اور سننے والے نے کوئی تعبیر دے دیتو تعبیر کے مطابق واقع ہوجاتا ہے اس لئے چاہئے کہ خواب کسی سے بیان نہ کرے بجز اس شخص کے کہ جو عالم وعاقل ہو یا کم ازکم اس کا دوست اور خیرخواہ ہو، نیز ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خواب تین قسم کا ہوتا ہے ایک اللہ کی طرف سے بشارت، دوسرے نفسانی خیالات، تیسرے شیطانی تصورات، اس لئے جو شخص کوئی خواب دیکھے اور اسے بھلا معلوم ہو تو اس کو اگر چاہے لوگوں سے بیان کر دے اور اگر اس میں کوئی بری بات نظر آئے تو کسی سے نہ کہے بلکہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور صحیح مسلم کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ برا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور اللہ سے اس کی برائی سے پناہ مانگے اور کسی سے ذکر نہ کرے تو یہ خواب اس کو کوئی نقصان نہ دے گا وجہ یہ ہے کہ بعض خواب تو شیطانی تصورات ہوتے ہیں وہ اس عمل سے دفع ہوجائیں گے اور اگر سچا خواب ہے تو اس عمل کے ذریعہ اس کی برائی دور ہوجانے کی بھی امید ہے، مسئلہخواب کی تعبیر خواب پر موقوف رہنے کا مطلب تفسیر مظہری میں یہ بیان فرمایا ہے کہ بعض تقدیری امور مبرم یعنی قطعی نہیں ہوتے بلکہ معلق ہوتے ہیں کہ فلاں کام ہوگیا تو یہ مصیبت ٹل جائے گی اور نہ ہوا تو پڑجائے گی جس کو قضائے معلق کہا جاتا ہے ایسی صورت میں بری تعبیر دینے سے معاملہ برا اور اچھی تعبیر سے اچھا ہوجاتا ہے اسی لئے ترمذی کی حدیث مذکور میں ایسے شخص سے خواب بیان کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جو عقلمند نہ ہو یا اس کا خیر خواہ و ہمدرد نہ ہو اور یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ خواب کی کوئی بری تعبیر سن کر انسان کے دل میں یہی خیال جمتا ہے کہ اب مجھ پر مصیبت آنے والی ہے اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انا عند ظن عبدی بی۔ یعنی بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے میں اس کے حق میں ویسا ہی ہوجاتا ہوں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصیبت آنے پر یقین کر بیٹھا تو اس تو اس عادۃ اللہ کے مطابق اس پر مصیبت آنا ضروری ہوگیا، مسئلہاس آیت سے جو یہ معلوم ہوا کہ جس خواب میں کوئی بات تکلیف و مصیبت کی نظر آئے وہ کسی سے بیان نہ کرے روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت محض شفقت اور ہمدردی کی بناء پر ہے شرعی حرام نہیں اس لئے اگر کسی سے بیان کر دے تو کوئی گناہ نہیں کیونکہ احادیث صحیحہ میں ہے کہ غزوہ احد کے وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی اور دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح ہو رہی ہیں جس کی تعبیر حضرت حمزہ کی شہادت اور بہت سے مسلمانوں کی شہادت تھی جو بڑا حادثہ ہے مگر آپ ﷺ نے اس خواب کو صحابہ سے بیان فرما دیا تھا (قرطبی) مسئلہاس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کو دوسرے کے شر سے بچانے کے لئے اس کی کسی بری خصلت یا نیت کا اظہار کردینا جائز ہے یہ غیبت میں داخل نہیں مثلاً کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ فلاں آدمی کسی دوسرے آدمی کے گھر میں چوری کرنے یا اس کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو اس کو چاہئے کہ اس شخص کو باخبر کر دے یہ غیبت حرام میں داخل نہیں جیسا کہ یعقوب ؑ نے یوسف ؑ سے اس کا ا ظہار کردیا کہ بھائیوں سے ان کی جان کا خطرہ ہے، مسئلہاسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس شخص کے متعلق یہ احتمال ہو کہ ہماری خوش حالی اور نعمت کا ذکر سنے گا تو اس کو حسد ہوگا اور نقصان پہنچانے کی فکر کرے گا تو اس کے سامنے اپنی نعمت دولت وعزت وغیرہ کا ذکر نہ کرے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے مقاصد کو کامیاب بنانے کے لئے ان کو راز میں رکھنے سے مدد حاصل کرو کیونکہ دنیا میں ہر صاحب نعمت سے حسد کیا جاتا ہے، مسئلہاس آیت اور بعد کی آیات سے جن میں حضرت یوسف ؑ کو قتل کرنے یا کنویں میں ڈالنے کا مشورہ اور اس پر عمل مذکور ہے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یوسف ؑ کے بھائی اللہ کے نبی اور پیغمبر نہ تھے ورنہ قتل یوسف کا مشورہ اور پھر ان کو ضائع کرنے کی تدبیر اور باپ کی نافرمانی کا عمل ان سے نہ ہوتا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا سب گناہوں سے پاک ہونا اور معصوم ہونا ضروری ہے کتاب طبری میں جو ان کو انبیاء کہا گیا ہے وہ صحیح نہیں (قرطبی)
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھ کو تیرا رب اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا اور پورا کرے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھر پر جیسا پورا کیا ہے تیرے دو باپ دادوں پر اس سے پہلے ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر البتہ تیرا رب خبردار ہے حکمت والا۔

چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ یوسف ؑ سے چند انعامات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اول كَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات و احسانات کے لئے آپ کا انتخاب فرما لیں گے جس کا ظہور ملک مصر میں حکومت اور عزت و دولت ملنے سے ہوا دوسرے وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ اس میں احادیث سے مراد لوگوں کے خواب ہیں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تعبیر خواب کا علم سکھا دیں گے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعبیر خواب ایک مستقل فن ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کسی کو عطا فرما دیتے ہیں ہر شخص اس کا اہل نہیں۔ مسئلہتفسیر قرطبی میں ہے کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد نے فرمایا کہ یوسف ؑ کے اس خواب کی تعبیر چالیس سال بعد ظاہر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ تعبیر کا فوراً ظاہر ہونا کوئی ضروری نہیں تیسرا وعدہ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ یعنی اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی نعمت پوری فرمادیں گے اس میں عطاء نبوت کی طرف اشارہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ بعد کے جملوں میں ہے كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ یعنی جس طرح ہم اپنی نعمت نبوت تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام) پر آپ سے پہلے پوری کرچکے ہیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ تعبیر خواب کا فن جیسا کہ یوسف ؑ کو دیا گیا اسی طرح ابراہیم واسحاق (علیہم السلام) کو بھی سکھایا گیا تھا ، آخر میں فرمای آ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ یعنی تمہارا پروردگار بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے نہ اس کے لئے کسی کو کوئی فن سکھانا مشکل ہے اور نہ ازرؤے حکمت وہ یہ فن ہر شخص کو سکھاتا ہے بلکہ اپنی حکمت کے ماتحت انتخاب کر کے کسی کو یہ ہنر دیدیتا ہے
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

البتہ ہیں یوسف کے قصہ میں اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں پوچھنے والوں کیلئے

خلاصہ تفسیر یوسف ؑ کے اور ان کے (علاتی) بھائیوں کے قصہ میں (خدا کی قدرت اور آپ کی نبوت کے) دلائل موجود ہیں ان لوگوں کے لئے جو (آپ سے ان کو قصہ) پوچھتے ہیں (کیونکہ یوسف ؑ کو ایسی بےکسی اور بےبسی سے سلطنت و حکومت تک پہنچا دینا یہ خدا ہی کا کام تھا جس سے مسلمانوں کے لئے عبرت اور قوت ایمان حاصل ہوگی اور یہود جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لئے یہ قصہ پوچھا تھا ان کے لئے اس میں دلیل نبوت مل سکتی) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ان (علاتی) بھائیوں نے (باہمی مشورہ کے طور پر) یہ گفتگو کی کہ (یہ کیا بات ہے کہ یوسف اور ان کا (حقیقی) بھائی (بنیامین) ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ (وہ دونوں کم عمری کی وجہ سے ان کی خدمت کے قابل بھی نہیں اور) ہم ایک جماعت ہیں (کہ اپنی قوت و کثرت کی وجہ سے ان کی ہر طرح کی خدمت بھی کرتے ہیں) واقعی ہمارے باپ کھلی غلطی میں ہیں (اس لئے تدبیر یہ کرنی چاہئے کہ ان دونوں میں بھی زیادہ پیار یوسف سے ہے اس کو کسی طرح ان کے پاس سے ہٹانا چاہئے جس کی صورت یہ ہے کہ) یا تو یوسف کو قتل کر ڈالو یا اس کو کسی (دوردراز) سر زمین میں ڈال آؤ تو (پھر) تمہارے باپ کا رخ خالص تمہاری طرف ہوجاوے گا اور تمہارے سب کام بن جاویں گے انہی میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو (کہ وہ بڑا جرم ہے) اور ان کو کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دو (جس میں اتنا پانی نہ ہو جس میں ڈوبنے کا خطرہ ہو کیونکہ وہ تو قتل ہی کی ایک صورت ہے البتہ بستی اور راہ گذر سے بہت دور بھی نہ ہو) تاکہ انکو کوئی راہ چلتا مسافر نکال لے جائے اگر تم کو (یہ کام) کرنا ہی ہے (تو اس طرح کرو اس پر سب کی رائے متفق ہوگئی اور) سب نے (مل کر باپ سے) کہا کہ ابا اس کی کیا وجہ ہے کہ یوسف کے بارے میں آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے (کہ کبھی کہیں ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے) حالانکہ ہم اس کے (دل وجان سے) خیرخواہ ہیں (ایسا نہ چاہئے بلکہ) آپ اس کو کل ہمارے ساتھ (جنگل) بھیجئے کہ ذرا وہ کھاویں کھیلیں اور ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے، یعقوب ؑ نے فرمایا کہ (مجھے ساتھ بھیجنے سے دو چیزیں مانع ہیں ایک حزن اور ایک خوف، حزن تو یہ کہ) مجھ کو یہ بات غم میں ڈالتی ہے کہ اس کو تم (میری نظروں کے سامنے سے) لے جاؤ اور (خوف یہ کہ) میں یہ اندیشہ کرتا ہوں کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جاوے اور تم (اپنے مشاغل میں) اس سے بیخبر رہو (کیونکہ اس جنگل میں بھیڑئیے بہت تھے) وہ بولے اگر اس کو بھیڑیا کھالے اور ہم ایک جماعت کی جماعت (موجود) ہوں تو ہم بالکل ہی گئے گذرے ہوے (غرض کہہ سن کر یعقوب ؑ سے یہ ان کو لے کر چلے) تو جب ان کو (اپنے ساتھ جنگل) لے گئے اور (قرار داد سابق کے مطابق) سب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان کو کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دیں (پھر اپنی تجویز پر عمل بھی کرلیا) اور (اس وقت یوسف ؑ کی تسلی کے لئے) ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ (تم مغموم نہ ہو ہم تم کو یہاں سے خلاصی دے کر بڑے رتبہ پر پہنچادیں گے اور ایک دن وہ ہوگا کہ) تم ان لوگوں کو یہ باتے جتلاؤ گے اور وہ تم کو (اس وجہ سے کہ غیر متوقع طور پر شاہانہ صورت میں دیکھیں گے) پہچانیں گے بھی نہیں (چنانچہ واقعہ اسی طرح پیش آیا کہ بھائی مصر پہنچنے اور آخرکار یوسف ؑ نے ان کو جتلایا هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ یوسف ؑ کا تو یہ قصہ ہوا) اور (ادھر) وہ لوگ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے پہنچے (اور جب باپ نے رونے کا سبب پوچھا تو) کہنے لگے ابا ہم سب تو آپس میں دوڑ لگانے میں (کہ کون آگے نکلے) لگ گئے اور یوسف کو ہم نے (ایسی جگہ جہاں بھیڑیا آنے کا گمان نہ تھا) اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا بس (اتفاقا) ایک بھیڑیا (آیا اور) ان کو کھا گیا اور آپ تو ہمارا کا ہے کو یقین کرنے لگے گو ہم کیسے ہی سچے ہوں اور (جب یعقوب ؑ کے پاس آنے لگے تھے تو) یوسف ؑ کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے تھے (کہ کسی جانور کا خون ان کی قمیص پر ڈال کر اپنے قول کی سند کے لئے پیش کیا) یعقوب ؑ نے (دیکھا تو کرتا کہیں سے پھٹا نہیں تھا (کمارواہ الطبری عن ابن عباس تو) فرمایا (یوسف کو بھیڑیئے نے ہرگز نہیں کھایا) بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے سو میں صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (صبرجمیل کی یہ تفسیر کہ اس کے ساتھ کوئی حرف شکایت نہ ہو طبری نے مرفوع حدیث کے حوالہ سے بیان کی ہے) اور جو باتیں تم بتاتے ہو ان میں اللہ ہی مدد کرے (کہ اس وقت مجھے ان پر صبر آجائے اور آئندہ تمہارا جھوٹ کھل جائے بہرحال حضرت یعقوب ؑ صبر کر کے بیٹھ رہے) اور (یوسف ؑ کا یہ قصہ ہوا کہ اتفاق سے ادھر) ایک قافلہ آ نکلا (جو مصر کو جا رہا تھا) اور انہوں نے اپنا آدمی پانی لانے کے واسطے (یہاں کنویں پر) بھیجا اور اس نے اپنا ڈول ڈالا (یوسف ؑ نے ڈول کو پکڑ لیا جب ڈول باہر آیا اور یوسف ؑ کو دیکھا تو خوش ہو کر) کہنے لگا بڑی خوشی کی بات ہے یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا (قافلہ والوں کو خبر ہوئی تو وہ بھی خوش ہوئے) اور ان کو مال (تجارت) قرار دے کر (اس خیال سے) چھپالیا (کہ کوئی دعویدار نہ کھڑا ہوجائے تو پھر اس کو مصر لے جا کر بڑی قیمت پر فروخت کریں گے) اور اللہ کو ان سب کی کارگزاریاں معلوم تھیں (ادھر وہ بھائی بھی آس پاس لگے رہتے اور کنویں میں یوسف کی خبرگیری کرتے کچھ کھانا بھی پہنچاتے جس سے مقصد یہ تھا کہ یہ ہلاک بھی نہ ہوں اور کوئی آ کر انھیں کسی دوسرے ملک میں لے جائے اور یعقوب ؑ کو خبر نہ ہو اس روز جب یوسف ؑ کو کنویں میں نہ دیکھا اور پاس ایک قافلہ پڑا دیکھا تو تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچنے یوسف ؑ کا پتہ لگ گیا تو قافلہ والوں سے کہا کہ ہمارا غلام ہے بھاگ کر آگیا تھا اور اب ہم اس کو رکھنا نہیں چاہتے) اور (یہ بات بنا کر) ان کو بہت ہی کم قیمت پر (قافلہ والوں کے ہاتھ) بیچ ڈالا یعنی گنتی کے چند درہم کے بدلے میں اور (وجہ یہ تھی کہ) یہ لوگ کچھ ان کے قدر دان تو تھے ہی نہیں (کہ ان کو عمدہ مال سمجھ کر بڑی قیمت سے بیچتے بلکہ ان کا مقصد تو ان کو یہاں سے ٹالنا تھا) معارف و مسائل سورة یوسف کی مذکور بالا آیتوں میں سے پہلی آیت میں اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اس سورة میں آنے والے قصہ یوسف ؑ کو محض ایک قصہ نہ سمجھو بلکہ اس میں سوال کرنے والوں اور تحقیق کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں اور ہدایتیں ہیں اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کی آزمائش کے لئے یہ قصہ آپ ﷺ سے پوچھا تھا ان کے لئے اس میں بڑی نشانیاں ہیں روایت یہ ہے کہ جب آنحضرت محمد ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کی خبر مدینہ طیبہ میں پہنچی تو یہاں کے یہودیوں نے اپنے چند آدمی اس کام کے لئے مکہ معظمہ بھیجے کہ وہ جاکر آپ ﷺ کی آزمائش کریں اسی لئے یہ سوال ایک مبہم انداز میں اس طرح کیا کہ اگر آپ ﷺ خدا کے سچے نبی ہیں تو یہ بتلائیے کہ وہ کونسا پیغمبر ہے جس کا ایک بیٹا ملک شام سے مصر لے جایا گیا اور باپ اس کے غم میں روتے روتے نابینا ہوگئے، یہ واقعہ یہودیوں نے اس لئے انتخاب کیا تھا کہ نہ اس کی کوئی عام شہرت تھی نہ مکہ میں کوئی اس واقعہ سے واقف تھا اور اس وقت مکہ میں اہل کتاب میں سے بھی کوئی نہ تھا جس سے بحوالہ تورات و انجیل اس قصہ کا کوئی جزء معلوم ہوسکتا ان کے اس سوال پر ہی پوری سورة یوسف نازل ہوئی جس میں حضرت یعقوب ؑ اور یوسف ؑ کا پورا قصہ مذکور ہے اور اتنی تفصیل سے مذکور ہے کہ تورات و انجیل میں بھی اتنی تفصیل نہیں اس لئے اس کا بیان کرنا آنحضرت محمد ﷺ کا کھلا ہوا معجزہ تھا، اور اس آیت کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قطع سوال یہود کے خود یہ واقعہ ایسے امور پر مشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں اور تحقیق کرنے والوں کے لئے بڑی ہدایتیں اور احکام و مسائل موجود ہیں کہ جس بچہ کو بھائیوں نے ہلاکت کے غار میں ڈال دیا تھا اللہ تعالیٰ کی قدرت نے اس کو کہاں سے کہاں پہنچایا اور کس طرح اس کی حفاظت کی اور اپنے خاص بندوں کو اپنے احکام کی پابندی کا کس قدر گہرا رنگ عطا فرمایا کہ نوجوانی کے زمانے میں تعیش کا بہترین موقع ملتا ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے خوف سے نفس کی خواہشات پر کیسا قابو پاتے ہیں کہ صاف اس بلا سے نکل جاتے ہیں اور یہ کہ جو شخص نیکی اور تقویٰ اختیار کرے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے مخالفین کے مقابلہ میں کیسی عزت دیتے ہیں اور مخالفین کو اس کے قدموں میں لا ڈالتے ہیں یہ سب عبرتیں اور نصحیتیں اور قدرت الہیہ کی عظیم نشانیاں ہیں جو ہر تحقیق کرنے والے اور غور کرنے والے کو معلوم ہو سکتی ہیں (قرطبی ومظہری) اس آیت میں یوسف ؑ کے بھائیوں کا ذکر ہے ان کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے یوسف ؑ سمیت بارہ لڑکے تھے ان میں سے ہر لڑکا صاحب اولاد ہوا سب کے خاندان پھیلے چونکہ یعقوب ؑ کا لقب اسرائیل تھا اس لئے یہ سب بارہ خاندان بنی اسرائیل کہلائے، ان بارہ لڑکوں میں دس بڑے لڑکے حضرت یعقوب ؑ کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت لیا بنت لیان کے بطن سے تھے ان کی وفات کے بعد یعقوب ؑ نے لیّا کی بہن راحیل سے نکال کرلیا ان کے بطن سے دو لڑکے یوسف ؑ اور بنیامین پیدا ہوئے اس لئے یوسف ؑ کے حقیقی بھائی بنیامین تھے باقی دس علاتی یعنی باپ شریک تھے یوسف ؑ کی والدہ راحیل کا انتقال بھی ان کے بچپن ہی میں بنیامین کی ولادت کے ساتھ ہوگیا تھا (قرطبی)
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب کہنے لگے البتہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے اور ہم ان سے زیادہ قوت والے لوگ ہیں، البتہ ہمارا باپ صریح خطا پر ہے

دوسری آیت میں یوسف ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے اپنے والد یعقوب ؑ کو دیکھا کہ وہ یوسف ؑ سے غیر معمولی محبت رکھتے ہیں جو ان کے بڑے بھائیوں کو حاصل نہیں اس لئے ان پر حسد ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی طرح ان کو یوسف ؑ کا خواب بھی معلوم ہوگیا جس سے انہوں نے یہ محسوس کیا ہو کہ ان کی بڑی شان ہونے والی ہے اس سے حسد پیدا ہوا اور آپس میں گفتگو کی کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے والد کو بہ نسبت ہمارے یوسف اور اس کے حقیقی بھائی بنیامین سے زیادہ محبت ہے حالانکہ ہم دس ہیں اور ان سے بڑے ہیں گھر کے کام کاج سنبھالنے کی قوت رکھتے ہیں اور یہ دونوں چھوٹے بچے ہیں جو کچھ کام نہیں کرسکتے ہمارے والد کو اس کا خیال کرنا اور ہم سے زیادہ محبت کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے کھلی ہوئی بےانصافی کر رکھی ہے اس لئے یا تو تم یوسف ؑ کو قتل ڈالو یا پھر کسی دور زمین میں پھینک آؤ جہاں سے واپس نہ آسکے۔ اس آیت میں ان بھائیوں نے اپنے متعلق لفظ (آیت) اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ استعمال کیا ہے یہ لفظ عربی زبان میں پانچ سے لے کر دس تک کی جماعت کے لئے بولا جاتا ہے اور اپنے والد کے بارے میں جو یہ کہا کہ (آیت) وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ اس میں لفظ۔۔ کے لغوی معنی گمراہی کے ہیں مگر یہاں گمراہی سے مراد دینی گمراہی نہیں ورنہ ایسا خیال کرنے سے یہ سب کے سب کافر ہوجاتے کیونکہ یعقوب ؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبرا ور نبی ہیں ان کی شان میں ایساخیال قطعی کفر ہے، اور یوسف ؑ کے بھائیوں کے متعلق خود قرآن کریم میں مذکور ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر کے والد سے دعاء مغفرت کی درخواست کی جس کو ان کے والد نے قبول کیا جس سے ظاہریہ ہے کہ ان سب کی خطامعاف ہوئی یہ سب اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ یہ سب مسلمان ہوں ورنہ کافر کے حق میں دعاء مغفرت جائز نہیں اسی لئے ان بھائیوں کے انبیاء ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے مگر مسلمان ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ضلال اس جگہ صرف اس معنی میں بولا گیا ہے کہ بھائیوں کے حقوق میں برابری نہیں کرتے،
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

مار ڈالو یوسف کو یا پھینک دو کسی ملک میں کہ خالص رہے تم پر توجہ تمہارے باپ کی اور ہو رہنا اس کے بعد نیک لوگ

تیسری آیت میں یہ بیان ہے کہ ان بھائیوں میں مشورہ ہوا بعض نے یہ رائے دی کہ یوسف ؑ کو قتل کر ڈالو، بعض نے کہا کہ کسی غیرآباد کنویں کی گہرائی میں ڈال دو تاکہ یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے اور تمہارے باپ کی پوری توجہ تمہارے ہی طرف ہوجائے رہا یہ گناہ جو اس کے قتل یا کنویں میں ڈالنے سے ہوگا سو بعد میں توبہ کر کے تم نیک ہو سکتے ہو آیت کے جملہ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ کے یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف کے قتل کے بعد تمہارے حالات درست ہوجائیں گے کیونکہ باپ کی توجہ کا یہ مرکز ختم ہوجائے گا یا یہ کہ قتل کے بعد باپ سے عذر معذرت کر کے تم پھر ویسے ہوجاؤ گے، یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یوسف ؑ کے یہ بھائی انبیاء نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اس واقعہ میں بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ایک بےگناہ کے قتل کا ارادہ باپ کی نافرمانی اور ایذاء رسانی، معاہدہ کی خلاف ورزی، پھر جھوٹی سازش وغیرہ، انبیاء (علیہم السلام) سے قبل نبوت بھی جمہور کے عقیدہ کے مطابق ایسے گناہ سرزد نہیں ہو سکتے،
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

بولا ایک بولنے والا ان میں مت مار ڈالو یوسف کو اور ڈال دو اس کو گمنام کنویں میں کہ اٹھا لے جائے اس کو کوئی مسافر اگر تم کو کرنا ہے

چوتھی آیت میں ہے کہ انہی بھائیوں میں سے ایک نے یہ ساری گفتگو سن کر کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر کچھ کرنا ہی ہے تو کنویں کی گہرائی میں ایسی جگہ ڈال دو جہاں یہ زندہ رہے اور راہ مسافر جب اس کنویں پر آئیں تو وہ اس کو اٹھا کرلے جائیں اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور اس کو لے کر تمہیں خود کسی دور مقام پر جانا بھی نہ پڑے گا کوئی قافلہ آئے گا وہ خود اس کو اپنے ساتھ کسی دور مقام پر پہنچا دے گا، یہ رائے دینے والا ان کا سب سے بڑا بھائی یہودا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ روبیل سب سے بڑا تھا اسی نے یہ رائے دی اور یہ وہ شخص ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ جب مصر میں یوسف ؑ کے چھوٹے بھائی بنیامین کو روک لیا گیا تو اس نے کہا کہ میں جا کر باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا اس لئے میں واپس کنعان نہیں جاتا اس آیت میں لفظ غَيٰبَتِ الْجُبِّ فرمایا ہے غَیَابہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو چھپا لے اور غائب کر دے اسی لئے قبر کو بھی غیابہ کہا جاتا ہے اور جُبّ ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس کی مَن بنی ہوئی نہ ہو، يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ لفظ التقاط لقطہ سے بنا ہے لقطہ اس گری پڑی چیز کو کہتے ہیں جو کسی کو بغیر طلب مل جائے غیر جان دار چیز ہو تو اس کو لقطہ اور جان دار کو فقہاء کی اصطلاح میں لقیط کہا جاتا ہے انسان کو لقیط اسی وقت کہا جائے گا جبکہ وہ بچہ ہو عاقل بالغ نہ ہو قرطبی نے اسی لفظ سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالا گیا تھا اس وقت وہ نابالغ بچے تھے نیز یعقوب ؑ کا یہ فرمانا بھی ان کے بچہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے کیونکہ بھیڑئیے کا کھاجانا بچوں ہی کے معاملہ میں متصور ہے ابن جریر ابن المنذرا بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس وقت یوسف ؑ کی عمر سات سال تھی (مظہری) امام قرطبی ؒ نے اس جگہ لقطہ اور لقیط کے شرعی احکام کی تفصیل دی ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں البتہ اس کے متعلق ایک اصولی بات یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلامی حکومت کے محکوموں کی ذمہ داری نہیں بنایا بلکہ ہر شخص کو اس کا مکلف بنایا ہے راستوں اور سڑکوں میں کھڑے ہو کر یا اپنا کوئی سامان ڈال کر چلنے والوں کے لئے تنگی پیدا کرنے پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔ فرمایا کہ جو شخص مسلمانوں کا راستہ تنگ کر دے اس کا جہاد مقبول نہیں اسی طرح اگر راستہ میں کوئی ایسی چیز پڑی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ جانے کا خطرہ ہے جیسے کانٹے یا کانچ کے ٹکڑے یا پتھر وغیرہ ان کو راستہ سے ہٹانا صرف میونسپل بورڈ کی ذمہ داری نہیں بنایا بلکہ ہر مسلمان کو ترغیبی انداز میں اس کا ذمہ دار بنایا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لئے بڑے اجرو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے ، اسی اصول پر کسی شخص کا گم شدہ مال کسی کو مل جائے تو اس کی شرعی ذمہ داری صرف اتنی ہی نہیں کہ اس کو چرائے نہیں بلکہ یہ بھی اس کے ذمہ ہے کہ اس کو حفاظت سے اٹھا کر رکھے اور اعلان کر کے مالک کی تلاش کرے وہ مل جائے اور علامات وغیرہ بیان کرنے سے یہ اطمینان ہوجائے کہ یہ مال اسی کا ہے تو اس کو دیدے اور اعلان و تلاش کے باوجود مالک کا پتہ نہ چلے اور مال کی حیثیت کے مطابق یہ اندازہ ہوجائے کہ اب مالک اس کو تلاش نہ کرے گا اس وقت اگر خود غریب مفلس ہے تو اپنے صرف میں لے آئے ورنہ مساکین پر صدقہ کر دے اور بہر دو صورت یہ مالک کی طرف سے صدقہ قرار دیا جائے گا اس کا ثواب اس کو ملے گا گویا آسمانی بیت المال میں اس کے نام پر جمع کردیا گیا، یہ ہیں خدمت عامہ اور امداد باہمی کے وہ اصول جن کی ذمہ داری اسلامی معاشرہ کے ہر فرد پر عائد کی گئی ہے کاش مسلمان اپنے دین کو سمجھیں اور اس پر عمل کرنے لگیں تو دنیا کی آنکھیں کھل جائیں کہ حکومت کے بڑے بڑے محکمے کروڑوں روپیہ کے خرچ سے جو کام انجام نہیں دے سکتے وہ اس آسانی کے ساتھ کس شان سے پورا ہوجاتا ہے،
Ayah 12:11

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

بولے اے باپ کیا بات ہے کہ تو اعتبار نہیں کرتا ہمارا یوسف پر اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

پانچویں اور چھٹی آیت میں ہے کہ ان بھائیوں نے والد کے سامنے درخواست ان لفظوں میں پیش کردی کہ اباجان یہ کیا بات ہے کہ آپ کو یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان نہیں حالانکہ ہم اس کے پورے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں کل اس کو آپ ہمارے ساتھ (سیر و تفریح کے لئے) بھیج دیجئے کہ وہ بھی آزادی کے ساتھ کھائے پیئے اور کھیلے اور ہم سب اس کی پوری حفاظت کریں گے، بھائیوں کی اس درخواست سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کبھی اس سے پہلے بھی ایسی درخواست کرچکے تھے جس کو والد بزرگوار نے قبول نہ کیا تھا اس لئے اس مرتبہ ذرا تاکید اور اصرار کے ساتھ والد کو اطمینان دلانے کی کوشش کی گئی ہے،
Ayah 12:12

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

بھیج اس کو ہمارے ساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے اور ہم تو اس کے نگہبان ہیں

اس آیت میں حضرت یعقوب ؑ سے سیر و تفریح اور آزادی سے کھانے پینے کھیلنے کودنے کی اجازت مانگی گئی حضرت یعقوب ؑ نے ان کو اس کی کوئی ممانعت نہیں فرمائی صرف یوسف ؑ کو ساتھ بھیجنے میں تردد کا اظہار کیا جو اگلی آیت میں آئیگا اس سے معلوم ہوا کہ سیر و تفریح کھیل کود جائز حدود کے اندر جائز ومباح ہیں احادیث صحیحہ سے بھی اس کا جواز معلوم ہوتا ہے مگر یہ شرط ہے کہ اس کھیل کود میں شرعی حدود سے تجاوز نہ ہو اور کسی ناجائز فعل کی اس میں آمیزش نہ ہو (قرطبی وغیرہ)
Ayah 12:13

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

بولا مجھ کو غم ہوتا ہے اس سے کہ تم اس کو لے جاؤ اور ڈرتا ہوں اس سے کہ کھا جائے اس کو بھیڑیا اور تم اس سے بیخبر رہو

یوسف ؑ کے بھائیوں نے جب والد سے یہ درخواست کی کہ یوسف کو کل ہمارے ساتھ تفریح کے لئے بھیج دیجئے تو حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ ان کو بھیجنا دو وجہ سے پسند نہیں کرتا اول تو مجھے اس نور نظر کے بغیر چین نہیں آتا دوسرے یہ خطرہ ہے کہ جنگل میں کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کے وقت اس کو بھیڑیا کھا جائے یعقوب ؑ کو بھیڑیئے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے ہوا کہ کنعان میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور یا اس وجہ سے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ کسی پہاڑی کے اوپر ہیں اور یوسف ؑ اس کے دامن میں نیچے ہیں اچانک دس بھیڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کرنا چاہا مگر ایک بھیڑئیے ہی نے مدافعت کر کے چھڑا دیا پھر یوسف ؑ زمین کے اندرچھپ گئے، جس کی تعبیر بعد میں اس طرح ظاہر ہوئی کہ دس بھیڑئیے یہ دس بھائی تھے اور جس بھیڑئیے نے مدافعت کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا وہ بڑے بھائی یہوداہ تھے اور زمین میں چھپ جانا کنویں کی گہرائی سے تعبیر تھی، حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت میں منقول ہے کہ یعقوب ؑ کو اس خواب کی بناء پر خودان بھائیوں سے خطرہ تھا انہی کو بھیڑیا کہا تھا مگر بمصلحت پوری بات ظاہر نہیں فرمائی (قرطبی)
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

بولے اگر کھا گیا اس کو بھیڑیا اور ہم ایک جماعت ہیں قوت ور تو تو ہم نے سب کچھ گنوا دیا،

بھائیوں نے یعقوب ؑ کی یہ بات سن کر کہا کہ آپ کا یہ خوف و خطرہ عجیب ہے ہم دس آدمیوں کی قوی جماعت اس کی حفاظت کے لئے موجود ہے اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہمارا تو وجود ہی بےکار ہوگیا اور پھر ہم سے کسی کام کی کیا امید کی جاسکتی ہے، حضرت یعقوب ؑ نے اپنی پیغمبرانہ شان سے اولاد کے سامنے اس بات کو نہیں کھولا کہ مجھے خطرہ خود تم ہی سے ہے کہ اول تو اس سے سب اولاد کی دل شکنی تھی دوسرے باپ کے ایسا کہنے کے بعد خطرہ یہ تھا کہ بھائیوں کی دشمنی اور بڑھ جائے گی اور اس وقت چھوڑ بھی دیا تو دوسرے کسی وقت کسی بہانہ سے قتل کردیں گے اس لئے اجازت دے دی مگر بھائیوں سے مکمل عہد و پیمان لیا کہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہونچنے دیں گے اور بڑے بھائی روبیل یا یہودا کو خصوصیت سے سپرد کیا کہ تم ان کی بھوک پیاس اور دوسری ضرورتوں کی پوری طرح خبرگیری کرنا اور جلد واپس لانا بھائیوں نے والد کے سامنے یوسف ؑ کو اپنے مونڈھوں پر اٹھا لیا اور باری باری سب اٹھاتے رہے کچھ دور تک حضرت یعقوب ؑ بھی ان کو رخصت کرنے کے لئے باہر گئے، قرطبی نے تاریخی روایات کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ جب یہ لوگ حضرت یعقوب ؑ کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو اس وقت یوسف ؑ جس بھائی کے مونڈھے پر تھے اس نے ان کو زمین پر پٹک دیا یوسف ؑ پیدل چلنے لگے مگر کم عمر تھے ان کے ساتھ دوڑنے سے عاجز ہوئے تو دوسرے بھائی کی پناہ لی اس نے بھی کوئی ہمدردی نہ کی تو تیسرے چوتھے ہر بھائی سے امداد کو کہا مگر سب نے یہ جواب دیا کہ تو نے جو گیارہ ستارے اور چاند سورج اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھے تھے ان کو پکار وہی تیری مدد کریں گے، قرطبی نے اسی وجہ سے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ بھائیوں کو کسی طرح حضرت یوسف ؑ کا خواب معلوم ہوگیا تھا وہ خواب ہی ان کی شدت غیظ وغضب کا سبب بنا آخر میں یوسف ؑ نے یہودا سے کہا کہ آپ بڑے ہیں آپ میری کمزوری اور صغر سنی اور اپنے والد ضعیف کے حال پر رحم کریں اور اس عہد کو یاد کریں جو والد سے آپ نے کئے ہیں آپ نے کتنی جلدی اس عہد و پیمان کو بھلا دیا یہ سن کر یہودا کو رحم آیا اور ان سے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں یہ بھائی تجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے، یہودا کے دل میں اللہ تعالیٰ نے رحمت اور صحیح عمل کی توفیق ڈال دی تو یہودا نے اپنے دوسرے بھائیوں کو خطاب کیا کہ بےگناہ کا قتل انتہائی جرم عظیم ہے خدا سے ڈرو اور اس بچہ کو اس کے والد کے پاس پہنچا دو البتہ اس سے یہ عہد لے لو کہ باپ سے تمہاری کوئی شکایت نہ کرے، بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم جانتے ہیں تمہارا کیا مطلب ہے تم یہ چاہتے ہو کہ باپ کے دل میں اپنا مرتبہ سب سے زیادہ کرلو اس لئے سن لو کہ اگر تم نے ہمارے ارادہ میں مزاحمت کی تو ہم تمہیں بھی قتل کردیں گے، یہودا نے دیکھا کہ نو بھائیوں کے مقابلہ میں تنہا کچھ نہیں کرسکتے تو کہا کہ اچھا اگر تم یہی طے کرچکے ہو کہ اس بچہ کو ضائع کرو تو میری بات سنو یہاں قریب ہی ایک پرانا کنواں ہے جس میں بہت سے جھاڑ نکل آئے ہیں، سانپ، بچھو اور طرح طرح کے موذی جانور اس میں رہتے ہیں تم اس کو کنویں میں ڈال دو اگر اس کو کسی سانپ وغیرہ نے ڈس کر ختم کردیا تو تمہاری مراد حاصل ہے اور تم اپنے ہاتھ سے اس کا خون بہانے سے بری رہے اور اگر یہ زندہ رہا تو کوئی قافلہ شاید یہاں آئے اور پانی کے لئے کنویں میں ڈول ڈالے اور یہ نکل آئے تو وہ اس کو اپنے ساتھ کسی دوسرے ملک میں پہنچادے گا اس صورت میں تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا،
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب لیکر چلے اس کو اور متفق ہوئے کہ ڈالیں اس کو گمنام کنویں میں، اور ہم نے اشارہ کردیا اس کو کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے،

اس بات پر سب بھائیوں کا اتفاق ہوگیا جس کا بیان آیات مذکورہ میں سے تیسری آیت میں اس طرح آیا ہے (آیت) فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ يَّجْعَلُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ ۚ وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ یعنی جب یہ بھائی یوسف ؑ کو جنگل میں لے گئے اور اس پر سب متفق ہوگئے کہ اس کو کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں تو اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو بذریعہ وحی اطلاع دی کہ ایک دن ایسا آئے گا جب تم اپنے بھائیوں کو ان کے اس کرتوت پر تنبیہ کرو گے اور وہ کچھ نہ جانتے ہوں گے، یہاں لفظ وَاَوْحَيْنَآ فَلَمَّا ذَهَبُوْا کی جزاء اور جواب ہے حرف واؤ اس جگہ زائد ہے (قرطبی) مطلب یہ ہے کہ بھائیوں نے مل کر کنویں میں ڈالنے کا عزم کر ہی لیا تو اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کی تسلی کے لئے وحی بھیج دی جس میں کسی آئندہ زمانے میں بھائیوں سے ملاقات کی اور اس کی خوش خبری دی گئی ہے کہ اس وقت آپ ان بھائیوں سے مستغنی اور بالادست ہوں گے، جس کی وجہ سے ان کے اس ظلم و ستم پر مواخذہ کریں گے اور وہ اس سارے معاملہ سے بیخبر ہوں گے امام قرطبی نے فرمایا کہ اس کی دو صورتوں ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ یہ وحی ان کو کنویں میں ڈالنے کے بعدان کی تسلی اور یہاں سے نجات کی خوش خبری دینے کے لئے آئی ہو دوسرے یہ کہ کنویں میں ڈالنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو پیش آنے والے حالات و واقعات سے بذریعہ وحی باخبر کردیا جس میں یہ بھی بتلا دیا کہ آپ اس ہلاکت سے سلامت رہیں گے، اور ایسے حالات پیش آئیں گے کہ آپ کو ان بھائیوں پر سرزنش کرنے کا موقع ملے گا جب کہ وہ آپ کو پہچانیں گے بھی نہیں کہ ان کے بھائی یوسف ؑ ہیں یہ وحی حضرت یوسف ؑ پر زمانہ طفولیت میں نازل ہوئی تفسیر مظہری میں ہے کہ یہ وحی نبوت نہ تھی کیونکہ وہ چالیس سال کی عمر میں عطا ہوتی ہے بلکہ یہ وحی ایسی ہی تھی جیسے موسیٰ ؑ کی والدہ کو بذریعہ وحی مطلع کیا گیا یوسف ؑ پر وحی نبوت کا سلسلہ مصر پہونچنے اور جوان ہونے کے بعد شروع ہواجیسا کہ ارشاد ہے (آیت) وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا اور ابن جریر، ابن ابی حاتم وغیرہ نے اس کو استثنائی طور پر وحی نبوت ہی قرار دیا ہے، جیسا کہ عیسیٰ ؑ کو بچپن میں نبوت عطاکی گئی (مظہری) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ مصر پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو بذریعہ وحی اس بات سے منع کردیا تھا کہ وہ اپنے حال کی خبر اپنے گھر بھیجیں (قرطبی) یہی وجہ تھی کہ یوسف ؑ جیسے پیغمبر خدا نے جیل سے رہائی اور ملک مصر کی حکومت ملنے کے بعد بھی کوئی ایسی صورت نہیں نکالی جس کے ذریعہ والد ضعیف کو اپنی سلامتی کی خبر دے کر مطمئن کردیتے، اللہ جل شانہ کی حکمتوں کو کون جان سکتا ہے جو اس طرز میں مخفی تھیں شاید یہ بھی منظور ہو کہ یعقوب ؑ کو غیر اللہ کے ساتھ اتنی محبت کے ناپسند ہونے پر متنبہ کیا جائے اور یہ کہ بھائیوں کا حاجت مند بن کر یوسف ؑ کے سامنے پیش کر کے ان کے عمل کی کچھ سزا تو ان کو بھی دینا مقصود ہو، امام قرطبی وغیرہ مفسرین نے اس جگہ یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالنے کا واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ جب ان کو ڈالنے لگے تو وہ کنویں کی من سے چمٹ گئے بھائیوں نے ان کا کرتہ نکال کر اس سے ہاتھ باندھے، اس وقت پھر یوسف ؑ نے بھائیوں سے رحم کی درخواست کی مگر وہی جواب ملا کہ گیارہ ستارے جو تجھے سجدہ کرتے ہیں ان کو بلا وہی تیری مدد کریں گے پھر ایک ڈول میں رکھ کر کنویں میں لٹکایا جب نصف تک پہنچنے تو اس کی رسی کاٹ دی اللہ تعالیٰ نے اپنے یوسف کی حفاظت فرمائی پانی میں گرنے کی وجہ سے کوئی چوٹ نہ آئی اور قریب ہی ایک پتھر کی چٹان نکلی ہوئی آئی صحیح سالم اس پر بیٹھ گئے بعض روایات میں ہے کہ جبرئیل ؑ کو حکم ہوا انہوں نے چٹان پر بٹھا دیا، یوسف ؑ تین روز اس کنویں میں رہے ان کا بھائی یہودا دوسرے بھائیوں سے چھپ کر روزانہ ان کے لئے کھانا پانی لاتا اور ڈول کے ذریعہ ان تک پہنچا دیتا تھا
Ayah 12:16

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور آئے اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے

(آیت) وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ یعنی عشاء کے وقت یہ بھائی روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس پہونچے حضرت یعقوب ؑ ان کے رونے کی آواز سن کر باہر آئے پوچھا کیا حادثہ ہے کیا تمہاری بکریوں کے گلہ پر کسی نے حملہ کیا ہے ؟ اور یوسف کہاں ہے ؟
Ayah 12:17

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے ابے باپ ہم لگے دوڑنے آگے نکلنے کو اور چھوڑا یوسف کو، اپنے اسباب کے پاس پھر اس کو کھا گیا بھیڑیا، اور تو باور نہ کرے گا ہمارا کہنا اور اگرچہ ہم سچے ہوں

تو بھائیوں نے کہا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤ ْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ یعنی ہم نے آپس میں ڈورلگائی اور یوسف ؑ کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا اس درمیان میں یوسف ؑ کو بھیڑیاکھا گیا اور ہم کتنے ہی سچے ہوں آپ کو ہمارا یقین تو آئے گا نہیں ابن عربی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ باہمی مسابقت (دوڑ) شریعت میں مشروع اور اچھی خصلت ہے جو جنگ و جہاد میں کام آتی ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ سے بنفس نفیس خودبھی مسابقت کرنا احادیث صحیہ میں ثابت ہے اور گھوڑوں کی مسابقت کرانا (یعنی گھوڑ دوڑ) بھی ثابت ہے صحابہ کرام میں سے سلمہ بن اکوع نے ایک شخص کے ساتھ دوڑ میں مسافقت کی توسلمہ غالب آگئے، آیت مذکورہ اور ان روایات سے اصل گھوڑ دوڑ کا جائز ہونا ثابت ہے اور گھوڑ دوڑ کے علاوہ دوڑ میں تیزی تیر اندازی کے نشانے وغیرہ میں بھی باہمی مقابلہ اور مسابقت جائز ہے اور اس مسابقت میں غالب آنے والے فریق کو کسی تیسرے کی طرف سے انعام دیدینا بھی جائز ہے لیکن آپس میں ہارجیت کی کوئی رقم بطور شرط ٹھرانا جوا اور قمار ہے جس کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے آج کل جتنی صورتیں گھوڑ دوڑ کی رائج ہیں وہ کوئی بھی جوئے اور قمار سے خالی نہیں اس لئے سب حرام و ناجائز ہیں ، پچھلی آیتوں میں مذکور تھا کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے آپس میں گفت و شنید کے بعد بالآخر ان کو ایک غیر آباد کنویں میں ڈال دیا اور والد کو آ کر یہ بتایا کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا ہے مذکور الصدر آیات میں اگلا قصہ اس طرح ذکر کیا گیا ہے