12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور کہنے لگیں عورتیں اس شہر میں عزیزی کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اس کے جی کو فریفتہ ہوگیا اس کا دل اس کی محبت میں ہم تو دیکھتے ہیں اس کو صریح خطا پر

خلاصہ تفسیر اور چند عورتوں نے جو کہ شہر میں رہتی تھیں یہ بات کہی کہ عزیز کی بی بی اپنے غلام کو اس سے اپنا (ناجائز) مطلب حاصل کرنے کے لئے پھُسلاتی ہے (کیسی کمینہ حرکت ہے کہ غلام پر گرتی ہے) اس غلام کا عشق اس کے دل میں جگہ پکڑ گیا ہے ہم تو اس کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں سو جب اس عورت نے ان عورتوں کی بدگوئی (کی خبر) سنی تو کسی کے ہاتھ ان کو بلا بھیجا (کہ تمہاری دعوت ہے) اور ان کے واسطے مسند تکیہ لگایا اور (جب وہ آئیں اور ان کے سامنے مختلف قسم کے کھانے اور پھل حاضر کئے جن میں بعض چیزیں چاقو سے تراش کر کھانے کی تھیں اس لئے) ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چاقو (بھی) دے دیا (جو ظاہر میں تو پھل تراشنے کا بہانہ تھا اور اصل مقصد وہ تھا جو آگے آتا ہے کہ یہ حواس باختہ ہو کر اپنے ہاتھوں کو زخمی کرلیں گی) اور (یہ سب سامان درست کر کے یوسف ؑ کو جو کسی دوسرے مکان میں تھے) کہا کہ ذرا ان کے سامنے تو آجاؤ (یوسف ؑ یہ سمجھ کر کہ کوئی صحیح غرض ہوگی باہر آگئے) سو عورتوں نے جب انکو دیکھا تو (ان کے جمال سے) حیران رہ گئیں اور (اس حیرت میں) اپنے ہاتھ کاٹ لئے (چاقو سے پھل تراش رہی تھیں یوسف ؑ کو دیکھ کر ایسی بدحواسی چھائی کہ چاقو ہاتھ پر چل گیا) اور کہنے لگیں حاش للہ ! یہ شخص آدمی ہرگز نہیں یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے وہ عورت بولی تو (دیکھ لو) وہ شخص یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھ کو برابھلا کہتی تھیں (کہ اپنے غلام کو چاہتی ہے) اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی مگر یہ پاک صاف رہا اور (پھر یوسف ؑ کے دھمکانے اور سنانے کو کہا کہ) اگر آئندہ میرا کہنا نہ مانے گا (جیسا کہ اب تک نہیں مانا) تو بیشک جیل خانہ بھیج دیاجاوے گا اور بےعزت بھی ہوگا (وہ عورتیں بھی یوسف ؑ سے کہنے لگیں کہ تم کو اپنی محسن عورت سے ایسی بےاعتنائی مناسب نہیں جو یہ کہے اس کو ماننا چاہئے یوسف ؑ نے (یہ باتیں سنی کہ یہ تو سب کی سب اسی کی موافقت کرنے لگیں تو حق تعالیٰ سے) دعاء کی کہ اے میرے رب جس (ناجائز) کام کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو جیل خانہ میں جانا ہی مجھ کو زیادہ پسند ہے اور اگر آپ ان کے داؤ پیچ کو مجھ سے دفع نہ کریں گے تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانی کا کام کر بیٹھوں گا سو ان کی دعاء ان کے رب نے قبول کی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ کو ان سے دور رکھا بیشک وہ (دعاؤں کا) بڑا سننے والا (اور انکے احوال کا) خوب جاننے والا ہے (پھر یوسف ؑ کی پاک دامنی کی) مختلف نشانیاں دیکھنے کے بعد (جن سے خود تو اس کا پورا یقین ہوگیا مگر عوام میں چرچاہو گیا تھا اس کو قطع کرنے کی غرض سے) ان لوگوں کو (یعنی عزیز اور اس کے متعلقین کو) یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ ان کو ایک وقت تک قید میں رکھیں
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب سنا اس نے ان کا فریب بلوا بھیجا ان کو اور تیار کی ان کے واسطے ایک مجلس اور دی ان کو ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری اور بولی یوسف نکل آ ان کے سامنے پس جب دیکھا ان کو ششدر رہ گئیں اور کاٹ ڈالے اپنے ہاتھ اور کہنے لگیں ماش اللہ ! نہیں یہ شخص آدمی یہ تو کوئی فرشتہ ہے بزرگ

معارف و مسائل (آیت) فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ یعنی جب زلیخا نے ان عورتوں کے مکر کا حال سنا تو ان کو ایک کھانے کی دعوت پر بلا بھیجا، یہاں ان عورتوں کے تذکرہ کرنے کو زلیخا نے مکر کہا ہے حالانکہ بظاہر انہوں نے کوئی مکر نہیں کیا تھا مگر چونکہ خفیہ خفیہ اس کی بدگوئی کرتی تھیں اس لئے اس کو مکر سے تعبیر کیا، وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً یعنی ان کے لئے مسند تکیوں سے مجلس آراستہ کی وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا یعنی جب یہ عورتیں آگئیں اور ان کے سامنے مختلف قسم کے کھانے اور پھل حاضر کئے جن میں بعض چیزیں چاقو سے تراش کر کھانے کی تھیں اس لئے ہر ایک کو ایک ایک تیز چاقو بھی دے دیا جس کا ظاہری مقصد تو پھل تراشنا تھا مگر دل میں وہ بات پوشیدہ تھی جو آگے آتی ہے کہ یہ عورتیں یوسف ؑ کو دیکھ کر حواس باختہ ہوجائیں گی اور چاقو سے اپنے ہاتھ زخمی کرلیں گی، وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ یعنی یہ سب سامان درست کرنے کے بعد یوسف ؑ سے جو کسی دوسرے مکان میں تھے زلیخا نے کہا کہ ذرا باہر آجاؤ یوسف ؑ کو چونکہ اس کی غرض فاسد معلوم نہ تھی اس لئے باہر اس مجلس میں تشریف لے آئے، فَلَمَّا رَاَيْنَهٗٓ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۡ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا ھٰذَا بَشَرًا ۭ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ یعنی ان عورتوں نے جب یوسف ؑ کو دیکھا تو ان کے جمال سے حیران رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے یعنی پھل تراشتے وقت جب یہ حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا چاقو ہاتھ پر چل گیا جیسا کہ دوسری طرف خیال بٹ جانے سے اکثر ایسا اتفاق ہوجاتا ہے اور کہنے لگیں کہ خدا کی پناہ یہ شخص آدمی ہرگز نہیں یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے مطلب یہ تھا کہ ایسا نورانی تو فرشتہ ہی ہوسکتا ہے،
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

بولی یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے واسطے، اور میں نے لینا چاہا تھا اس سے اس کا جی پھر اس نے تھام رکھا اور بیشک اگر نہ کرے گا جو میں اس کو کہتی ہوں تو قید میں پڑے گا اور ہوگا بےعزت

(آیت) قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ ۭ وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ وہ عورت بولی کہ دیکھ لو وہ شخص یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے برا بھلا کہتی تھیں اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خواہش کی تھی مگر یہ پاک صاف رہا اور آئندہ یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو بیشک جیل خانے بھیجا جائے اور بےعزت بھی ہوگا، اس عورت نے جب یہ دیکھا کہ میرا راز ان عورتوں پر فاش تو ہو ہی چکا ہے اس لئے ان کے سامنے ہی یوسف ؑ کو ڈرانے دھمکانے لگی بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس وقت یہ سب عورتیں بھی یوسف ؑ کو کہنے لگیں کہ یہ عورت تمہاری محسن ہے اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہئے،
Ayah 12:33

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف بولا اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف مجھ کو بلاتی ہیں اور اگر تو دفع نہ کرے گا مجھ سے ان کا فریب تو مائل ہوجاؤں گا ان کی طرف اور ہوجاؤں گا بےعقل

اور قرآن کریم کے بعض الفاظ جو آگے آتے ہیں ان سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے مثلا يَدْعُوْنَنِي اور كَيْدِكُنَّ جن میں چند عورتوں کا قول بصیغہ جمع ذکر کیا گیا ہے، حضرت یوسف ؑ نے جب یہ دیکھا کہ یہ عورتیں بھی اس کی موافقت اور تائید کر رہی ہیں اور ان کے مکر وکید سے بچنے کی ظاہری کوئی تدبیر نہ رہی تو پھر اللہ جل شانہ کی طرف ہی رجوع فرمایا اور بارگاہ رب العزت میں عرض کیا رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَيْهِ ۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ یعنی اے میرے پالنے والے یہ عورتیں مجھے جس کام کی طرف دعوت دیتی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ زیادہ پسند ہے اور اگر آپ ہی ان کے داؤ پیچ کو مجھ سے دفع نہ کریں تو ممکن ہے کہ میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں اور نادانی کا کام کر بیٹھوں یوسف ؑ کا یہ فرمانا کہ جیل خانہ مجھے پسند ہے کوئی قید و بند کی طلب یا خواہش نہیں بلکہ گناہ کے مقابلہ میں اس دنیوی مصیبت کو آسان سمجھنے کا اظہار ہے اور بعض روایات میں ہے کہ جب یوسف ؑ قید میں ڈالے گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ آپ نے قید میں اپنے آپ کو خود ڈالا ہے کیونکہ آپ نے کہا تھا السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ یعنی اس کی نسبت مجھ کو جیل خانہ زیادہ پسند ہے اور اگر آپ عافیت مانگتے تو آپ کو مکمل عافیت مل جاتی اس سے معلوم ہوا کہ کسی بڑی مصیبت سے بچنے کے لئے دعاء میں یہ کہنا کہ اس سے تو یہ بہتر ہے کہ فلاں چھوٹی مصیبت میں مجھے مبتلاکر دے مناسب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہر مصیبت اور بلاء کے وقت عافیت ہی مانگنی چاہئے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے صبر کی دعاء مانگنے سے ایک شخص کو منع فرمایا کہ صبر تو بلاء و مصیبت پر ہوتا ہے تو اللہ سے صبر کی دعاء مانگنے کے بجائے عافیت کی دعاء مانگو (ترمذی) اور رسول کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ نے عرض کیا کہ مجھے کوئی دعاء تلقین فرما دیجئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے رب سے عافیت کی دعاء مانگا کریں حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد پھر میں نے آپ ﷺ سے تلقین دعاء کا سوال کیا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی عافیت مانگا کریں (مظہری ازطبرانی) اور یہ فرمانا کہ اگر آپ ان کے مکر وکید کو دفع نہ کریں گے تو ممکن ہے کہ میں انکی طرف مائل ہوجاؤں یہ عصمت نبوت کے خلاف نہیں کیونکہ عصمت کا تو حاصل ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو گناہ سے بچانے کا تکوینی طور پر انتظام فرما کر اس کو گناہ سے بچا لیں اور گو بمقتضاء نبوت یہ مقصد پہلے ہی سے حاصل تھا مگر پھر بھی غایت خوف ادب سے اس کی دعاء کرنے پر مجبور ہوگئے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر گناہ کا کام جہالت سے ہوتا ہے علم کا تقاضا گناہوں سے اجتناب ہے (قرطبی)
Ayah 12:34

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو قبول کرلی اس کی دعا اس کے رب نے پھر دفع کیا اس سے ان کا فریب البتہ وہی ہے سننے والا خبر دار

(آیت) فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ یعنی ان کی دعاء ان کے رب نے قبول فرما لی اور ان عورتوں کے مکر و حیلہ کو ان سے دور رکھا بیشک وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے جال سے بچانے کے لئے یہ سامان فرما دیا کہ عزیز مصر اور اس کے دوستوں کو اگرچہ یوسف ؑ کی بزرگی اور تقویٰ و طہارت کی کھلی نشانیاں دیکھ کر ان کی پاکی کا یقین ہوچکا تھا مگر شہر میں اس واقعہ کا چرچا ہونے لگا اس کو ختم کرنے کے لئے ان کو مصلحت اس میں نظر آئی کہ کچھ عرصہ کے لئے یوسف ؑ کو جیل میں بند کردیا جائے تاکہ اپنے گھر میں ان شبہات کا کوئی موقع بھی باقی نہ رہے اور لوگوں کی زبانوں سے اس کا یہ چرچا بھی ختم ہو جائے
Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر یوں سمجھ میں آیا لوگوں کی ان نشانیوں کے دیکھنے پر کہ قید رکھیں اس کو ایک مدت

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْنٍ یعنی پھر عزیز اور اس کے مشیروں نے مصلحت اس میں سمجھی کہ کچھ عرصہ کے لئے یوسف ؑ کو قید میں رکھا جائے چناچہ جیل خانہ میں بھیج دئیے گئے
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور داخل ہوئے قید خانہ میں اس کے ساتھ دو جوان کہنے لگا ان میں سے ایک میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب اور دوسرے نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ اٹھا رہا ہوں اپنے سر پر روٹی کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے بتلا ہم کو اس کی تعبیر ہم دیکھتے ہیں تجھ کو نیکی والا

خلاصہ تفسیر اور یوسف ؑ کے ساتھ (یعنی اسی زمانے میں) اور بھی دو غلام (بادشاہ کے) جیل خانے میں داخل ہوئے (جن میں ایک ساقی تھا دوسرا روٹی پکانے والا باورچی اور ان کی قید کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے کھانے میں اور شراب میں زہر ملاکر بادشاہ کو دیا ہے ان کا مقدمہ زیر تحقیق تھا اس لئے قید کر دئیے گئے انہوں نے جو حضرت یوسف ؑ میں بزرگی کے آثار پائے تو) ان میں سے ایک نے (حضرت یوسف ؑ سے) کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ (جیسے) شراب (بنانے کے لئے انگور کا شیرہ) نچوڑ رہا ہوں (اور بادشاہ کو وہ شراب پلا رہا ہوں) اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ (جیسے) اپنے سر پر روٹیاں لئے جاتا ہوں (اور) اس میں سے پرندے (نوچ نوچ کر) کھاتے ہیں ہم کو اس خواب کی (جو ہم دونوں نے دیکھا ہے) تعبیر بتلائیے آپ ہم کو نیک آدمی معلوم ہوتے ہیں یوسف ؑ نے (جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ اعتقاد کے ساتھ میری طرف مائل ہوئے ہیں تو چاہا کہ ان کو سب سے پہلے ایمان کی دعوت دی جائے اس لئے اول اپنا نبی ہونا ایک معجزہ سے ثابت کرنے کے لئے) فرمایا کہ (دیکھو) جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے جو کہ تم کو کھانے کے لئے (جیل خانے میں) ملتا ہے میں اس کے آنے سے پہلے اس کی حقیقت تم بتلا دیا کرتا ہوں (کہ فلاں چیز آوے گی اور ایسی ایسی ہوگی اور) یہ بتلا دینا اس علم کی بدولت ہے جو مجھ کو میرے رب نے تعلیم فرمایا ہے (یعنی مجھ کو وحی سے معلوم ہوجاتا ہے تو یہ ایک معجزہ ہے جو دلیل نبوت ہے اور اس وقت یہ معجزہ خاص طور پر اس لئے مناسب تھا کہ جس واقعہ میں قیدیوں نے تعبیر کے لئے ان کی طرف رجوع کیا وہ واقعہ بھی کھانے ہی سے متعلق تھا اثبات نبوت کے بعد آگے اثبات توحید کا مضمون بیان فرمایا کہ) میں نے تو ان لوگوں کا مذہب (پہلے ہی سے) چھوڑ رکھا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لائے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر ہیں اور میں نے اپنے ان (بزرگوار) باپ دادوں کا مذہب اختیار کر رکھا ہے ابراہیم کا اور اسحاق کا اور یعقوب کا (علیہم السلام اور اس مذہب کارکن اعظم یہ ہے کہ) ہم کو کسی طرح زیبا نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک (عبادت) قرار دیں یہ (عقیدہ توحید) ہم پر اور (دوسرے) لوگوں پر (بھی) خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے (کہ اس کی بدولت دنیا وآخرت کی فلاح ہے) لیکن اکثر لوگ (اس نعمت کا) شکر (ادا) نہیں کرتے (یعنی توحید کو اختیار نہیں کرتے) اے قیدخانہ کے رفیقو ! (ذرا سوچ کر بتلاؤ کہ عبادت کے واسطے) متفرق معبود اچھے ہیں یا ایک معبود برحق جو سب سے زبردست ہے وہ اچھا تم لوگ تو خدا کو چھوڑ کر صرف چند بےحقیقت ناموں کی عبادت کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے (آپ ہی) ٹھرا لیا ہے خدا تعالیٰ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی دلیل (عقلی یا نقلی) بھیجی نہیں (اور) حکم خدا ہی کا ہے اس نے یہ حکم دیا ہے کہ بجز اس کے اور کسی کی عبادت مت کرو یہی (توحید اور عبادت صرف حق تعالیٰ کے لئے مخصوص کرنا) سیدھا طریقہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ایمان کی دعوت و تبلیغ کے بعد اب ان کے خواب کی تعبیر بتاتے ہیں کہ) اے قیدخانہ کے رفیقو ! تم میں ایک تو (جرم سے بری ہو کر) اپنے آقا کو (بدستور) شراب پلایا کرے گا اور دوسرا (مجرم قرار پاکر) سولی دیا جاوے گا اور اس کے سر کو پرندے (نوچ نوچ کر) کھاویں گے اور جس بارے میں تم پوچھتے تھے وہ اسی طرح مقدر ہوچکا (چنانچہ مقدمہ کی تنقیح کے بعد اسی طرح ہوا کہ ایک بری ثابت ہوا اور دوسرا مجرم، دونوں جیل خانہ سے بلائے گئے ایک رہائی کیلئے دوسرا سزا کے لئے) اور (جب وہ لوگ جیل خانہ سے جانے لگے تو) جس شخص پر رہائی کا گمان تھا اس سے یوسف ؑ نے فرمایا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا بھی تذکرہ کرنا (کہ ایک شخص بےقصور قید میں ہے اس نے وعدہ کرلیا) پھر اس کو اپنے آقا سے (یوسف ؑ کا تذکرہ کرنا شیطان نے بھلا دیا تو (اس وجہ سے) قیدخامہ میں اور بھی چند سال ان کا رہنا ہوا، معارف و مسائل مذکورہ آیات میں حضرت یوسف ؑ کے قصہ کا ایک ذیلی واقعہ مذکور ہے یہ بات آپ بار بار معلوم کرچکے ہیں کہ قرآن حکیم نہ کوئی تاریخی کتاب ہے نہ قصہ کہانی کہ اس میں جو تاریخی واقعہ یا قصہ ذکر کیا جاتا ہے اس سے مقصود صرف انسان کو عبرت وموعظت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق اہم ہدایات ہوتی ہیں پورے قرآن اور بیشمار انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات میں صرف ایک ہی قصہ یوسف ؑ ایسا ہے جس کو قرآن نے مسلسل بیان کیا ہے ورنہ ہر مقام کے مناسب تاریخی واقعہ کا کوئی ضروری جزء ذکر کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے، قصہ یوسف ؑ کو اول سے آخر تک دیکھئے تو اس میں سینکڑوں عبرت وموعظت کے مواقع اور انسانی زندگی کے مختلف ادوار کے لئے اہم ہدایتیں ہیں یہ ذیلی قصہ بھی بہت سی ہدایات اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے، واقعہ یہ ہوا کہ یوسف ؑ کی براءت اور پاکی بالکل واضح ہوجانے کے باوجود عزیز مصر اور اس کی بیوی نے بدنامی کا چرچا ختم کرنے کے لئے کچھ عرصہ کے لئے یوسف ؑ کو جیل میں بھیج دینے کا فیصلہ کرلیا جو درحقیقت یوسف ؑ کی دعاء اور خواہش کی تکمیل تھی کیونکہ عزیز مصر کے گھر میں رہ کر عصمت بچانا ایک سخت مشکل معاملہ ہوگیا تھا، یوسف ؑ جیل میں پہنچے تو ساتھ دو مجرم قیدی اور بھی داخل ہوئے ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی اور دوسرا باورچی تھا ابن کثیر نے بحوالہ ائمہ تفسیر لکھا ہے کہ یہ دونوں اس الزام میں گرفتار ہوئے تھے کہ انہوں نے بادشاہ کو کھانے وغیرہ میں زہر دینے کی کوشش کی تھی مقدمہ زیر تحقیق تھا اس لئے ان دونوں کو جیل میں رکھا گیا، یوسف ؑ جیل میں داخل ہوئے تو اپنے پیغمبرانہ اخلاق اور رحمت و شفقت کے سبب سب قیدیوں کی دلداری اور خبرگیری کرتے تھے جو بیمار ہوگیا اس کی عیادت اور خدمت کرے جس کو غمگین و پریشان پایا اس کو تسلی دیتے صبر کی تلقین اور رہائی کی امید سے اس کا دل بڑھاتے تھے خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام دینے کی فکر کرتے اور رات بھر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے ان کے یہ حالات دیکھ کر جیل کے سب قیدی آپ کی بزرگی کے متعقد ہوگئے جیل کا افسر بھی متأثرہوا اس نے کہا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کو چھوڑ دیتا اب اتنا ہی کرسکتا ہوں کہ آپ کو یہاں کوئی تکلیف نہ پہونچے، فائدہ عجیبہجیل کے افسر نے یا قیدیوں میں سے بعض نے حضرت یوسف ؑ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا کہ ہمیں آپ سے بہت محبت ہے تو یوسف ؑ نے فرمایا کہ خدا کے لئے مجھ سے محبت نہ کرو کیونکہ جب کسی نے مجھ سے محبت کی ہے تو مجھ پر آفت آئی ہے بچپن میں میری پھوپی کو مجھ سے محبت تھی اس کے نتیجہ میں مجھ پر چوری کا الزام لگا پھر میرے والد نے مجھ سے محبت کی تو بھائیوں کے ہاتھوں کنویں کی قید پھر غلامی اور جلاوطنی میں مبتلا ہوا عزیز کی بیوی نے مجھ سے محبت کی تو اس جیل میں پہنچا (ابن کثیر، مظہری) یہ دو قیدی جو یوسف ؑ کے ساتھ جیل میں گئے تھے ایک روز انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں نیک صالح بزرگ معلوم ہوتے ہیں اس لئے آپ سے ہم اپنی خواب کی تعبیر دریافت کرنا چاہتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہ خواب انہوں نے حقیقتہ دیکھے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ خواب کچھ نہ تھا محض یوسف ؑ کی بزرگی اور سچائی کی آزمائش کے لئے خواب بنایا تھا ، بہرحال ان میں سے ایک یعنی شاہی ساقی نے تو یہ کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں انگور سے شراب نکال رہا ہوں اور دوسرے یعنی باورچی نے کہا میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیوں کا کوئی ٹوکرا ہے اس میں سے جانور نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں اور درخواست کی کہ ہمیں ان دونوں خوابوں کی تعبیر بتلائیے، حضرت یوسف ؑ سے خوابوں کی تعبیر دریافت کی جاتی ہے مگر وہ پیغمبرانہ انداز پر اس سوال کے جواب سے پہلے تبلیغ و دعوت ایمان کا کام شروع فرماتے ہیں اور اصول دعوت کے ما تحت حکمت ودانشمندی سے کام لے کر سب سے پہلے ان لوگوں کے قلوب میں اپنا اعتمادپیدا کرنے کے لئے اپنے اس معجزے کا ذکر کیا کہ تمہارے لئے جو کھانا تمہارے گھروں سے یا کسی دوسری جگہ سے آتا ہے اس کے آنے سے پہلے ہی میں تمہیں بتلا دیتا ہوں کہ کس قسم کا کھانا اور کیسا اور کتنا اور کس وقت آئے گا اور وہ ٹھیک اسی طرح نکلتا ہے احکام ومسائل آیات مذکورہ سے بہت سے احکام و مسائل اور فوائد و ہدایات حاصل ہوتے ہیں ان میں غور کیجئے، پہلا مسئلہیہ ہے کہ یوسف ؑ جیل میں بھیجے گئے جو مجرموں اور بدمعاشوں کی بستی ہوتی ہے مگر یوسف ؑ نے ان کے ساتھ بھی حسن اخلاق، حُسن معاشرت کا وہ معاملہ کیا جس سے یہ سب گرویدہ ہوگئے جس سے معلوم ہوا کہ مصلحین کے لئے لازم ہے کہ مجرموں خطاکاروں سے شفقت و ہمدردی کا معاملہ کر کے ان کو اپنے سے مانوس و مربوط کریں کسی قدم پر منافرت کا اظہار نہ ہونے دیں دوسرا مسئلہآیت کے جملے اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ سے یہ معلوم ہوا کہ تعبیر خواب ایسے ہی لوگوں سے دریافت کرنا چاہئے جن کے نیک صالح اور ہمدرد ہونے پر اعتماد ہو تیسرا مسئلہیہ معلوم ہوا کہ حق کی دعوت دینے والوں اور اصلاح خلق کی خدمت کرنا چاہئے جن کے نیک، صالح اور ہمدرد ہونے پر اعتماد ہو، تیسرامسئلہیہ معلوم ہوا کہ حق کی دعوت دینے والوں اور اصلاح خلق کی خدمت کرنے والوں کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ پہلے حسن اخلاق اور علمی وعملی کمالات کے ذریعہ خلق اللہ پر اپنا اعتماد قائم کریں خواہ اس میں ان کو کچھ اپنے کمالات کا اظہار بھی کرنا پڑے جیسا یوسف ؑ نے اس موقع پر اپنا معجزہ بھی ذکر کیا اور اپنا خاندان نبوت کا ایک فردہونا بھی ظاہر کیا یہ اظہار کمال اگر اصلاح خلق کی نیت سے ہو اپنی ذاتی بڑائی ثابت کرنے کے لئے نہ ہو تو یہ وہ تزکیہ نفس نہیں جسکی ممانعت قرآن کریم میں آئی ہے فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ یعنی پاک نفسی کا اظہار نہ کرو (تفسیرمظہری) چوتھا مسئلہتبلیغ و ارشاد کا ایک اہم اصول یہ بتلایا گیا ہے کہ داعی اور مصلح کا فرض ہے کہ ہر وقت ہر حال میں اپنے وظیفہ دعوت و تبلیغ کو سب کاموں سے مقدم رکھے، کوئی اس کے پاس کسی کام کے لئے آئے وہ اپنے اصلی کام کو نہ بھولے جیسے حضرت یوسف ؑ کے پاس قیدی تعبیر خواب دریافت کرنے کے لئے آئے تو یوسف ؑ نے تعبیر خواب کے جواب سے پہلے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ ان کو رشد و ہدایت کا تحفہ عطا فرمایا یہ نہ سمجھے کہ دعوت و تبلیغ کسی جلسہ کسی منبر یا اسٹیج ہی پر ہوا کرتی ہے شخصی ملاقاتوں اور نجی مذاکروں کے ذریعہ یہ کام اس سے زیادہ مؤ ثر ہوتا ہے، پانچواں مسئلہبھی اسی ارشاد و اصلاح سے متعلق ہے کہ حکمت کے ساتھ وہ بات کہی جائے جو مخاطب کو دل نشین ہو سکے جیسا یوسف ؑ نے ان کو یہ دکھلایا کہ مجھے جو کوئی کمال حاصل ہوا وہ اس کا نتیجہ ہے کہ میں نے ملت کفر کو چھوڑ کر ملت اسلام کو اختیار کیا اور پھر کفر و شرک کی خرابیاں دل نشین انداز میں بیان فرمائیں چھٹامسئلہاس سے ثابت ہوا کہ جو معاملہ مخاطب کے لئے تکلیف دہ اور ناگوار ہو اس کا اظہار ضروری ہو تو مخاطب کے سامنے جہاں تک ممکن ہو ایسے انداز سے ذکر کیا جائے کہ اس کو تکلیف کم سے کم پہنچے جیسے تعبیر خواب میں ایک شخص کی ہلاکت متعین تھی مگر یوسف ؑ نے اس کو مبہم رکھا یہ متعین کر کے نہیں کہا کہ تم سولی چڑھائے جاؤ گے (ابن کثیر، مظہری) ساتواں مسئلہیہ ہے کہ یوسف ؑ نے جیل سے رہائی کے لئے اس قیدی سے کہا کہ جب بادشاہ کے پاس جاؤ تو میرا بھی ذکر کرنا کہ وہ بےقصور جیل میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی مصیبت سے خلاصی کے لئے کسی شخص کو کوشش کا واسطہ بنانا توکل کے خلاف نہیں۔ آٹھوں مسئلہیہ ہے کہ اللہ جل شانہ کو اپنے برگزیدہ پیغمبروں کے لئے ہر جائز کوشش بھی پسند نہیں کہ کسی انسان کو اپنی خلاصی کا ذریعہ بنائیں ان کے اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہونا ہی انبیاء (علیہم السلام) کا اصلی مقام ہے شاید اسی لئے یہ قیدی یوسف ؑ کے اس کہنے کو بھول گیا اور ان کو مزید کئی سال جیل میں رہنا پڑا ایک حدیث میں بھی رسول کریم ﷺ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

بولا نہ آنے پائے گا تم کو کھانا جو ہر روز تم کو ملتا ہے مگر بتا چکوں گا تم کو اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے، یہ علم ہے کہ مجھ کو سکھایا میرے رب نے، میں نے چھوڑا دین اس قوم کا کہ ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت سے وہ لوگ منکر ہیں

ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ اور یہ کوئی رمل، جفر کا فن یا کہانت وغیرہ کا شعبدہ نہیں، بلکہ میرا رب بذریعہ وحی مجھے بتلا دیتا ہے میں اس کی اطلاع دیدیتا ہوں اور یہ ایک کھلا معجزہ تھا جو دلیل نبوت اور اعتماد کا بہت بڑا سبب ہے
Ayahs 12:38–40

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور پکڑا میں نے دین اپنے باپ دادوں کا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ہمارا کام نہیں کہ شریک کریں اللہ کا کسی چیز کو یہ فضل ہے اللہ کا ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن بہت لوگ احسان نہیں مانتے

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے رفیقو ! قید خانہ کے بھلا کئی معبود جدا جدا بہتر یا اللہ اکیلا زبردست

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو یہی ہے راستہ سیدھا، پر بہت لوگ نہیں جانتے

اس کے بعداول کفر کی برائی اور ملت کفر سے اپنی بیزاری بیان کی اور پھر یہ بھی جتلا دیا کہ خاندان نبوت ہی کا ایک فرد اور انہی کی ملت حق کا پابند ہوں میرے آباء و اجداد ابراہیم واسحاق و یعقوب ہیں یہ خاندانی شرافت بھی عادۃ انسان کا اعتماد پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے بعد بتلایا کہ ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے سلامت فہم عطا فرما کر قبول حق ہمارے لئے آسان کردیا مگر بہت سے لوگ اس نعمت کی قدر اور شکر نہیں کرتے پھر انہی قیدیوں سے سوال کیا کہ اچھا تم ہی بتلاؤ کہ انسان بہت سے پروردگاروں کا پرستار ہو یہ بہتر ہے کہ صرف ایک اللہ کا بندہ بنے جس کا قہر وقوت سب پر غالب ہے پھر بت پرستی کی برائی ایک دوسرے طریقہ سے یہ بتلائی کہ تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے کچھ بتوں کو اپنا پروردگار سمجھا ہوا ہے یہ تو صرف نام ہی نام کے ہیں جو تم نے گھڑ لئے ہیں نہ ان میں ذاتی صفات اس قابل ہیں کہ ان کو کسی ادنیٰ قوت و طاقت کا مالک سمجھا جائے کیونکہ وہ سب بےحس و حرکت ہیں یہ بات تو آنکھوں سے مشاہدہ کی ہے دوسرا راستہ ان کے معبود حق ہونے کا یہ ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی پرستش کے لئے احکام نازل فرمائے تو اگرچہ مشاہدہ اور ظاہر عقل ان کی خدائی کو تسلیم نہ کرتے مگر حکم خداوندی کی وجہ سے ہم اپنے مشاہدہ کو چھوڑ کر اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے مگر یہاں وہ بھی نہیں کیونکہ حق تعالیٰ نے ان کی عبادت کیلئے کوئی حجت و دلیل نازل نہیں فرمائی بلکہ اس نے یہی بتلایا کہ حکم اور حکومت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کا حق نہیں اور حکم یہ دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی وہ دین قیّم ہے جو میرے آباء و اجداد کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا مگر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے،
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے رفیقو ! قید خانہ کے ایک جو ہے تم دونوں میں سو پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور دوسرا جو ہے سو سولی دیا جائے گا پھر کھائیں گے جانور اس کے سر میں سے فیصل ہوا وہ کام جس کی تحقیق تم چاہتے تھے

یوسف ؑ اپنی تبلیغ و دعوت کے بعد ان لوگوں کے خوابوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے ایک تو رہا ہوجائے گا اور پھر اپنی ملازمت پر بھی برقرار رہ کر بادشاہ کو شراب پلائے گا اور دوسرے پر جرم ثابت ہو کر اس کو سولی دی جائے گی اور جانور اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے پیغمبرانہ شفقت کی عجیب مثال ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ اگرچہ ان دونوں کے خواب الگ الگ تھے اور ہر ایک کی تعبیر متعین تھی اور یہ بھی متعین تھا کہ شاہی ساقی بری ہو کر اپنی ملازمت پر پھر فائز ہوگا اور باورچی کو سولی دی جائے گی مگر پیغمبرانہ شفقت و شرافت کی وجہ سے متعین کر کے نہیں بتلایا کہ تم میں سے فلاں کو سولی دی جائے گی تاکہ وہ ابھی سے غم میں نہ گھلے بلکہ اجمالی طور پر یوں فرمایا کہ تم میں سے ایک رہا ہوجائے گا اور دوسرے کو سولی دی جائے گی آخر میں فرمایا کہ میں نے تمہارے خوابوں کی تعبیر جو دی ہے محض اٹکل اور تخمینہ سے نہیں بلکہ یہ خدائی فیصلہ ہے جو ٹل نہیں سکتا جن حضرات مفسرین نے ان لوگوں کے خوابوں کو غلط اور بناوٹی کہا ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب یوسف ؑ نے خوابوں کی تعبیر بتلائی تو یہ دونوں بول اٹھے کہ ہم نے تو کوئی خواب دیکھا نہیں محض بات بنائی تھی اس پر حضرت یوسف ؑ نے فرمایا قُضِيَ الْاَمْرُ الَّذِيْ فِيْهِ تَسْتَفْتِيٰنِ چاہے تم نے یہ خواب دیکھا یا نہیں دیکھا اب واقعہ یوں ہی ہوگا جو بیان کیا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ جھوٹاخواب بنانے کے گناہ کا جو ارتکاب تم نے کیا تھا اب اس کی سزا یہی ہے جو تعبیر خواب میں بیان ہوئی
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور کہہ دیا یوسف نے اس کو جس کو گمان کیا تھا کہ بچے گا ان دونوں میں، میرا ذکر کرنا اپنے مالک کے پاس، سو بھلا دیا اس کو شیطان نے ذکر کرنا اپنے مالک سے پھر رہا قید میں کئی برس۔

پھر جس شخص کے متعلق یوسف ؑ تعبیر خواب کے ذریعہ یہ سمجھے تھے کہ وہ رہا ہوگا اس سے کہا کہ جب تم آزاد ہو کر جیل سے باہر جاؤ اور شاہی دربار میں رسائی ہو تو اپنے بادشاہ سے میرا بھی ذکر کردینا کہ وہ بےگناہ قید میں پڑا ہوا ہے مگر اس شخص کو آزاد ہونے کے بعد یوسف ؑ کی یہ بات یاد نہ رہی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یوسف ؑ کی آزادی کو اور دیر لگی اور اس واقعہ کے بعد چند سال مزید قید میں رہے یہاں قرآن میں لفظ بِضْعَ سِنِيْنَ آیا ہے یہ لفظ تین سے لے کر نو تک صادق آتا ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد سات سال مزید قید میں رہنے کا اتفاق ہوا
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی ان کو کھاتی ہیں سات گائیں دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی اے دربار والو ! تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر دینے والے

خلاصہ تفسیر اور بادشاہ مصر نے (بھی ایک خواب دیکھا اور ارکان دولت کو جمع کر کے ان سے) کہا کہ میں (خواب میں کیا) دیکھتا ہوں کہ سات گائیں فربہ ہیں جن کو سات لاغر گائیں کھا گئیں اور سات بالیں سبز ہیں اور ان کے علاوہ سات اور ہیں جو کہ خشک ہیں (اور خشک بالوں نے اسی طرح ان سات سبز پر لپٹ کر ان کو خشک کردیا) اے دربار والو اگر تم (خواب کی) تعبیر دے سکتے ہو تو میرے اس خواب کے بارے میں مجھ کو جواب دو وہ لوگ کہنے لگے کہ (اول تو یہ کوئی خواب ہی نہیں جس سے آپ فکر میں پڑیں) یونہی پریشان خیالات ہیں اور (دوسرے) ہم لوگ (کہ امور سلطنت میں ماہر ہیں) خوابوں کی تعبیر کا علم بھی نہیں رکھتے (دو جواب اس لئے دیئے کہ اول جواب سے بادشاہ کے قلب سے پریشانی اور وسو اس دور کرنا ہے اور دوسرے جواب سے اپنا عذر ظاہر کرنا ہے خلاصہ یہ کہ اول تو ایسی خواب قابل تعبیر نہیں دوسرے ہم اس فن سے واقف نہیں) اور ان (مذکورہ) دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوگیا تھا (وہ مجلس میں حاضر تھا) اس نے کہا اور مدت کے بعد اس کو (یوسف ؑ کی وصیت کا) خیال آیا میں اس کی تعبیر کی خبر لائے دیتا ہوں، آپ لوگ مجھ کو ذرا جانے کی اجازت دیجئے (چنانچہ دربار سے اجازت ہوئی اور وہ قیدخانہ میں یوسف ؑ کے پاس پہنچا اور جا کر کہا) اے یوسف اے صدق مجسم آپ ہم لوگوں کو اس (خواب) جواب (یعنی تعبیر) دیجئے کہ سات گائیں موٹی ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھاگئیں اور سات بالیں ہری ہیں اور اس کے علاوہ (سات) خشک بھی ہیں (کہ ان خشک کے لپٹنے سے وہ ہری بھی خشک ہوگئیں آپ تعبیر بتلائیے) تاکہ میں (جنہوں نے مجھ کو بھیجا ہے) ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤں (اور بیان کروں) تاکہ (اس کی تعبیر اور اس سے آپ کا حال) ان کو بھی معلوم ہوجائے (تعبیر کے موافق عملدرآمد کریں اور آپ کی خلاصی کی کوئی صورت نکلے) آپ نے فرمایا کہ (ان سات فربہ گایوں اور سات سبز بالوں سے مراد پیداوار اور بارش کے سال ہیں پس) تم سات سال متواتر (خوب) غلہ بونا پھر جو فصل کاٹو اس کو بالوں ہی میں رہنے دینا (تاکہ گھن نہ لگ جاوے) ہاں مگر تھوڑا سا جو تمہارے کھانے میں آوے (وہ بالوں میں سے نکالا ہی جاوے گا) پھر اس (سات برس) کے بعد سات برس ایسے سخت (اور قحط کے) آویں گے جو کہ اس (تمام تر) ذخیرہ کو کھا جاویں گے جس کو تم نے ان برسوں واسطے جمع کر کے رکھا ہوگا ہاں مگر تھوڑا سا جو (بیج کے واسطے) رکھ چھوڑو گے (وہ البتہ بچ جاوے گا اور ان خشک بالوں اور دبلی گایوں سے اشارہ ان سات سال کی طرف ہے) پھر اس (سات برس) کے بعد ایک برس ایسا آوے گا جس میں لوگوں کے لئے خوب بارش ہوگی اور اس میں (بوجہ اس کے کہ انگور کثرت سے پھلیں گے) شیرہ بھی نچوڑیں گے (اور شرابیں پئیں گے غرض وہ شخص تعبیر لے کر دربار میں پہنچا) اور (جا کر بیان کیا) بادشاہ نے (جو سنا تو آپ کے علم وفضل کا معتقدہوا اور) حکم دیا کہ ان کو میرے پاس لاؤ (چنانچہ یہاں سے قاصد چلا) پھر جب ان کے پاس قاصد پہنچا (اور پیغام دیا تو) آپ نے فرمایا کہ (جب تک میرا اس تہمت سے بری ہونا ثابت نہ ہوجائے گا میں نہ آؤں گا) تو اپنی سرکار کے پاس لوٹ جا پھر اس سے دریافت کر کہ (کچھ تم کو خبر ہے) ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے (مطلب یہ تھا کہ ان کو بلا کر اس واقعہ کی جس میں مجھ کو قید کی گئی تفتیش و تحقیق کی جاوے اور عورتوں کے حال سے مراد ان کا واقف یا ناواقف ہونا ہے حال یوسف ؑ سے اور ان عورتوں کی تخصیص شاید اس لئے کی ہو کہ ان کے سامنے زلیخا نے اقرار کیا تھا وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ میرا رب ان عورتوں کے فرقہ کے فریب کو خوب جانتا ہے (یعنی اللہ کو تو معلوم ہی ہے کہ زلیخا کا مجھ پر تہمت لگانا کید تھا مگر عند الناس بھی اس کی تنقیح ہوجانا مناسب ہے چناچہ بادشاہ نے ان عورتوں کو حاضر کیا)
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

بولے یہ خیالی خواب ہیں اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں

معارف و مسائل آیات مذکورہ میں یہ بیان ہے کہ پھر حق تعالیٰ نے یوسف کی رہائی کے لئے پردہ غیب سے ایک صورت یہ پیدا فرمائی کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب دیکھا جس سے وہ پریشان ہوا اپنی مملکت کی تعبیر دینے والے اہل علم اور کاہنوں کو جمع کر کے تعبیر خواب دریافت کی وہ خواب کسی کی سمجھ میں نہ آیا سب نے یہ جواب دے دیا کہ اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ ۚ وَمَا نَحْنُ بِتَاْوِيْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِيْنَ اضغاث، ضغث کی جمع ہے جو ایسی گٹھڑی کو کہا جاتا ہے جس میں مختلف قسم کے خس و خاشاک گھاس پھونس جمع ہوں معنی یہ تھے کہ یہ خواب کچھ ملی جلی ہے جس میں خیالات وغیرہ شامل ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے کوئی صحیح خواب ہوتا تو تعبیر بیان کردیتے
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور بولا جو بچا تھا ان دونوں میں سے اور یاد آ گیا اس کو مدت کے بعد میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر سو تم مجھ کو بھیجو

اس واقعہ کو دیکھ کر مدت مدید کے بعد اس رہا شدہ قیدی کو یوسف ؑ کی بات یاد آئی اور اس نے آگے بڑھ کر کہا کہ میں آپ کو اس خواب کی تعبیر بتلا سکوں گا اس وقت اس نے یوسف ؑ کے کمالات اور تعبیر خواب میں مہارت اور پھر مظلوم ہو کر قید میں گرفتار ہونے کا ذکر کر کے یہ چاہا کہ مجھے جیل خانہ میں ان سے ملنے کی اجازت دی جائے بادشاہ نے اس کا انتظام کیا وہ یوسف ؑ کے پاس حاضر ہوا قرآن کریم نے اس تمام واقعہ کو صرف ایک لفظ فَاَرْسِلُوْنِ فرما کر بیان کیا ہے جس کے معنی ہیں مجھے بھیج دو یوسف ؑ کا تذکرہ پھر سرکاری منظوری اور پھر جیل خانہ تک پہنچنا یہ واقعات خود ضمنی طور پر سمجھ میں آجاتے ہیں اس لئے ان کی تصریح کی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ یہ بیان شروع کیا۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

جا کر کہا اے یوسف اے سچے ! حکم دے ہم کو اس خواب میں سات گائیں موٹی ان کو کھائیں سات دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی تاکہ لیجاؤں میں لوگوں کے پاس شاید ان کو معلوم ہو

يُوْسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ یعنی اس شخص نے جیل خانہ پہنچ کر حضرت یوسف ؑ سے واقعہ کا اظہار اس طرح شروع کیا کہ پہلے یوسف ؑ کے صدیق یعنی قول و فعل میں سچا ہونے کا اقرار کیا پھر درخواست کی کہ مجھے ایک خواب کی تعبیر بتلائیے خواب یہ ہے کہ بادشاہ نے یہ دیکھا ہے کہ سات بیل فربہ تندرست ہیں جن کو دوسرے سات بیل کھا رہے ہیں اور یہ کھانے والے لاغر و کمزور ہیں نیز یہ دیکھا کہ سات خوشے گندم کے سرسبز ہرے بھرے ہیں اور سات خشک ہیں اس شخص نے خواب بیان کرنے کے بعد کہا لَّعَلِّيْٓ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَعْلَمُوْنَ یعنی آپ بتلا دیں گے تو ممکن ہے کہ میں ان لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کو تعبیر بتلاؤں اور ممکن ہے کہ وہ اس طرح آپ کے فضل و کمال سے واقف ہوجائیں تفسیر مظہری میں ہے کہ واقعات کی جو صورتیں عالم مثال میں ہوتی ہیں وہی انسان کو خواب میں نظر آتی ہیں اس عالم میں ان صورتوں کے خاص معنی ہوتے ہیں فن تعبیر خواب کا سارا مدار اس کے جاننے پر ہے کہ فلاں صورت مثالی سے اس عالم میں کیا مراد ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو یہ فن مکمل عطا فرمایا تھا آپ نے خواب سنکر سمجھ لیا کہ سات بیل فربہ اور سات خوشے ہرے بھرے سے مراد سات سال ہیں جن میں پیداوار حسب دستور خوب ہوگی کیونکہ بیل کو زمین کے ہموار کرنے اور غلہ اگھانے میں خاص دخل ہے اسی طرح سات بیل لاغر کمزور اور سات خشک خوشوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے سال کے بعد سات سال سخت قحط کے آئیں گے اور کمزور سات بیلوں فربہ بیلوں کے کھا لینے سے یہ مراد ہے کہ پچھلے سات سال میں جو ذخیرہ غلہ وغیرہ کا جمع ہوگا وہ سب ان قحط کے سالوں میں خرچ ہوجائے گا صرف بیج کے لئے کچھ غلہ بچے گا،
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

کہا تم کھیتی کرو گے سات برس جم کر سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں مگر تھوڑا سا جو تم کھاؤ

بادشاہ کے خواب میں تو بظاہر اتنا ہی معلوم ہوا تھا کہ سات سال اچھی پیداوار کے ہوں گے پھر سات سال قحط کے مگر یوسف ؑ نے اس پر ایک اضافہ یہ بھی بیان فرمایا کہ قحط کے سال کے بعد پھر ایک سال خوب بارش اور پیداوار کا ہوگا، اس کا علم یوسف ؑ کو یا تو اس سے ہوا کہ جب قحط کے سال کل سات ہی ہیں تو عادۃ اللہ کے مطابق آٹھواں سال بارش اور پیداوار کا ہوگا اور حضرت قتادہ ؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یوسف ؑ کو اس پر مطلع کردیا تاکہ تعبیر خواب سے بھی کچھ زیادہ خبر ان کو پہنچنے جس سے یوسف ؑ کا فضل و کمال ظاہر ہو کر ان کی رہائی کا سبب بنے اور اس پر مزید یہ ہوا کہ حضرت یوسف ؑ نے صرف تعبیر خواب ہی پر اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ اس کے ساتھ ایک حکیمانہ اور ہمدردانہ مشورہ بھی دیا وہ یہ کہ پہلے سات سال میں جو زیادہ پیداوار ہو اس کو گندم کے خوشوں ہی میں محفوظ رکھنا، تاکہ گندم کو پرانا ہونے کے بعد کیڑا نہ لگ جائے یہ تجربہ کی بات ہے کہ جب تک غلہ خوشہ کے اندر رہتا ہے غلہ کو کیڑا نہیں لگتا،
Ayahs 12:48–49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر آئیں گے اس کے بعد سات برس سختی کے کھا جائیں گے جو رکھا تم نے ان کے واسطے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے بیج کے واسطے

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر آئے گا اس کے پیچھے ایک برس اس میں مینہ برسے گا لوگوں پر اور اس میں رس نچوڑیں گے

ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ يَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ یعنی پہلے سات سال کے بعد پھر سات سال سخت خشک سالی اور قحط کے آئیں گے جو پچھلے جمع کئے ہوئے ذخیرہ کو کھا جائیں گے خواب میں اس کے مناسب یہی فرمایا کہ قحط کے سال پچھلے سالوں کے جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے اگرچہ سال تو کوئی کھانے والی چیز نہیں مراد یہی ہے کہ انسان اور جانور قحط کے سالوں میں پچھلے ذخیرہ کو کھا لیں گے قصہ کے سیاق سے ظاہر ہے کہ یہ شخص تعبیر خواب یوسف ؑ سے معلوم کر کے لوٹا اور بادشاہ کو خبر دی وہ اس سے مطمئن اور حضرت یوسف ؑ کے فضل و کمال کا معتقد ہوگیا مگر قرآن کریم نے ان سب چیزوں کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ یہ خود بخود مفہوم ہو سکتی ہیں اس کے بعد کا واقعہ اس طرح بیان فرمایا
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اس کو میرے پاس، پھر جب پہنچا اس کے پاس بھیجا ہوا آدمی کہا لوٹ جا اپنے خاوند کے پاس اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے تھے ہاتھ اپنے میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے۔

وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ یعنی بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف ؑ کو جیل خانہ سے نکالا جائے اور دربار میں لایا جائے چناچہ بادشاہ کا کوئی قاصد بادشاہ کا یہ پیغام لے کر جیل خانہ پہونچا، موقع بظاہر اس کا تھا کہ یوسف ؑ جیل خانہ کی طویل مدت سے عاجز آ رہے تھے، اور خلاصی چاہتے تھے جب بادشاہ کا پیغام بلانے کے لئے پہنچا تو فورا تیار ہو کر ساتھ چل دیتے مگر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو جو مقام بلند عطا فرماتے ہیں اس کو دوسرے لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں اس قاصد کو جواب یہ دیا (آیت) قَالَ ارْجِعْ اِلٰي رَبِّكَ فَسْـــَٔـلْهُ مَا بَال النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ ۭ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ یعنی یوسف ؑ نے قاصد سے کہا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا کر پہلے یہ دریافت کرو کہ آپ کے نزدیک ان عورتوں کا معاملہ کس طرح ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کیا اس واقعہ میں وہ مجھے مشتبہ سمجھتے ہیں اور میرا کوئی قصور قرار دیتی ہیں یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس وقت یوسف ؑ نے ان عورتوں کا ذکر فرمایا جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے عزیز کی بیوی کا نام نہیں لیا جو اصل سبب تھی اس میں اس حق کی رعایت تھی جو عزیز کے گھر میں پرورش پانے سے فطرۃ شریف انسان کے لئے قابل لحاظ ہوتا ہے (قرطبی) اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اصل مقصود اپنی براءت کا ثبوت تھا وہ ان عورتوں سے بھی ہوسکتا تھا اور اس میں عورتوں کی بھی کوئی زیادہ رسوائی نہ تھی اگر وہ سچی بات کا اقرار بھی کرلیتیں تو صرف مشورہ ہی کی مجرم ٹھیراتیں بخلاف عزیز کی بیوی کے کہ اس کو تحقیقات کا ہدف بنایا جاتا تو اس کی رسوائی زیادہ تھی اور اس کے ساتھ ہی یوسف ؑ نے فرمایا اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ یعنی میرا پروردگار تو ان کے جھوٹ اور مکر و فریب کو جانتا ہی ہے میں چاہتا ہوں کہ بادشاہ بھی حقیقت واقعہ سے واقف ہوجائیں جس میں ایک لطیف انداز سے اپنی براءت کا اظہار بھی ہے اس موقع پر صحیح بخاری اور جامع ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ اگر میں اتنی مدت جیل میں رہتا جتنا یوسف ؑ رہے ہیں اور پھر مجھے رہائی کے لئے بلایا جاتا تو فوراً قبول کرلیتا، اور امام طبری ؒ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ یوسف ؑ کا صبر و تحمل اور مکارم اخلاق قابل تعجب ہیں جب ان سے جیل میں بادشاہ کے خواب کی تعبیر دریافت کی گئی اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو تعبیر بتلانے میں یہ شرط لگاتا کہ پہلے جیل کے دروازے کی طرف چل دیتا (قرطبی) اس حدیث میں یہ بات قابل غور ہے کہ منشاء حدیث کا یوسف ؑ کے صبر و تحمل اور مکارم اخلاق کی تعریف و مدح کرنا ہے مگر اس کے بالمقابل جس صورت حال کو رسول کریم ﷺ نے اپنی طرف منسوب کر کے فرمایا کہ میں ہوتا تو دیر نہ کرتا اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ حضرت یوسف کے اس طرز عمل کو افضل فرما رہے ہیں اور اپنی شان میں فرماتے ہیں کہ میں ہوتا تو اس افضل پر عمل نہ کر پاتا بلکہ اس میں مفضول کو اختیار کرلیتا جو بظاہر افضل الانبیاء ﷺ کے شایان شان نہیں تو اس کے جواب میں کہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ بلاشبہ تمام انبیاء (علیہم السلام) میں افضل ہیں مگر کسی جزوی عمل میں کسی دوسرے پیغمبر کی افضلیت اس کے منافی نہیں ، اس کے علاوہ جیسا تفسیر قرطبی میں فرمایا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوسف ؑ کے طریق کار میں ان کے صبر و تحمل اور مکارم اخلاق کا عظیم الشان ثبوت ہے اور وہ اپنی جگہ قابل تعریف ہے لیکن رسول کریم ﷺ نے جس طریق کار کو اپنی طرف منسوب فرمایا تعلیم امت اور خیر خواہی عوام کے لئے مناسب اور افضل ہے کیونکہ بادشاہوں کے مزاج کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ایسے موقع پر شرطیں لگانا یا دیر کرنا عام لوگوں کے لئے مناسب نہیں ہوتا، احتمال ہے کہ بادشاہ کی رائے بدل جائے اور پھر یہ جیل کی مصبیت بدستور قائم رہے، یوسف ؑ کو تو بوجہ رسول خدا ہونے کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم بھی ہوسکتا ہے کہ اس تاخیر سے کچھ نقصان نہیں ہوگا، لیکن دوسروں کو تو یہ درجہ حاصل نہیں رحمۃ للعالمین ﷺ کے مزاج و مذاق میں عامہ خلائق کی بہبود کی اہمیت زیادہ تھی اس لئے فرمایا کہ مجھے یہ موقع ملتا تو دیر نہ کرتا، واللہ اعلم
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلایا یوسف کو اس کے نفس کی حفاظت سے بولیں ماشاء اللہ ہم کو معلوم نہیں اس پر کچھ برائی بولی عورت عزیز کی اب کھل گئی سچی بات میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے اور وہ سچا ہے

خلاصہ تفسیر کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف ؑ سے اپنے مطلب کی خواہش کی (یعنی ایک نے خواہش کی اور بقیہ نے اس کی مدد کی کہ اعانت فعل میں مثل فعل کے ہے اس وقت تم کو کیا تحقیق ہوا شاید بادشاہ نے اس طور پر اس لئے پوچھا ہو کہ مجرم سن لے کہ بادشاہ کو اتنی بات معلوم ہے کہ کسی عورت نے ان سے اپنا مطلب پورا کرنے کی بات کی تھی شاید اس کا نام بھی معلوم ہو اس حالت میں انکار نہ چل سکے گا پس اس طرح شاید خود اقرار کرلے) عورتوں نے جواب دیا کہ حاش للہ ہم کو ان میں ذرا بھی تو برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی (وہ بالکل پاک صاف ہیں شاید عورتوں نے زلیخا کا وہ اقرار اس لئے ظاہر نہ کیا ہو کہ مقصود یوسف ؑ کی پاک دامنی کا ثبوت تھا اور وہ حاصل ہوگیا یا زلیخا کے روبرو ہونے سے حیاء مانع ہوئی کہ اس کا نام لیں) عزیز کی بی بی (جو کہ حاضر تھی) کہنے لگی کہ اب تو حق بات (سب پر) ظاہر ہو ہی گئی (اب اخفاء بیکار ہے سچ یہی ہے کہ) میں نے ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی تھی (نہ کہ انہوں نے جیسا میں نے الزام لگا دیا تھا ما جزاء من الخ) اور بیشک وہی سچے ہیں (اور غالباً ایسے امر کا اقرار کرلینا مجبوری کی حالت میں زلیخا کو پیش آیا غرض تمام صورت مقدمہ اور اظہارات اور یوسف ؑ کی براءت کا ثبوت ان کے پاس کہلا کر بھیجا اس وقت) یوسف ؑ نے فرمایا کہ یہ تمام اہتمام (جو میں نے کیا) محض اس وجہ سے تھا تاکہ عزیز کو (زائد) یقین کے ساتھ معلوم ہوجاوے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی آبرو میں دست اندازی نہیں کی اور یہ (بھی معلوم ہوجائے) کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا (چنانچہ زلیخا نے عزیز کی حرمت میں خیانت کی تھی کہ دوسرے پر نگاہ کی خدا نے اس کی قلعی کھول دی پس میری غرض یہ تھی) معارف و مسائل حضرت یوسف ؑ کو شاہی قاصد رہائی کا پیغام دے کر ہلانے کے لئے آیا اور انہوں نے قاصد کو یہ جواب دیا کہ پہلے ان عورتوں سے میرے معاملہ کی تحقیق کرلو جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے اس میں بہت سی حکمتیں مضمر تھیں اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو جیسے دین کامل عطا فرماتے ہیں ایسے ہی عقل کامل اور معاملات و حالات کی پوری بصیرت بھی عطا فرماتے ہیں یوسف ؑ نے شاہی پیغام سے یہ اندازہ کرلیا کہ اب جیل سے رہائی کے بعد بادشاہ مصر مجھے کوئی اعزاز دیں گے، اس وقت دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ جس عیب کی تہمت ان پر لگائی گئی تھی اور جس کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا تھا اس کی حقیقت بادشاہ اور سب لوگوں پر پوری طرح واضح ہو اور ان کی براءت میں کسی کو شبہ نہ رہے ورنہ اس کا انجام یہ ہوگا کہ شاہی اعزاز سے لوگوں کی زبانیں تو بند ہوجائیں گی مگر ان کے دلوں میں یہ خیالات کھٹکتے رہیں گے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اپنے آقا کی بیوی پر دست درازی کی تھی اور ایسے حالات کا پیدا ہوجانا بھی شاہی درباروں میں کچھ بعید نہیں کہ کسی وقت بادشاہ بھی لوگوں کے ایسے خیالات سے متاثر ہوجائے اس لئے رہائی سے پہلے اس معاملہ کی صفائی اور تحقیق کو ضروری سمجھا اور مذکور الصدر دوآیتوں میں سے دوسری آیت میں خود یوسف ؑ نے اپنے اس عمل اور رہائی میں تاخیر کرنے کی دو حکمتیں بیان فرمائی ہیں مذکورالصدر پہلی آیت میں اس تحقیقات کا خلاصہ مذکور ہے قال مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ یعنی بادشاہ نے ان عورتوں کو جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے حاضر کر کے سوال کیا کہ کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف سے اپنے مطلب کی خواہش کی بادشاہ کے اس سوال سے معلوم ہوا کہ اس کو اپنی جگہ یہ یقین ہوگیا تھا کہ قصور یوسف ؑ کا نہیں ان عورتوں ہی کا ہے اسی لئے یہ کہا تم نے ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی اس کے بعد عورتوں کا جواب یہ مذکور ہے، قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ یعنی سب عورتوں نے کہا کہ حاش للہ ! ہمیں ان میں ذرا بھی کوئی برائی کی بات نہیں معلوم ہوئی عزیز کی بیوی کہنے لگی کہ اب تو حق بات ظاہر ہو ہی گئی میں نے ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی تھی اور بیشک وہی سچے ہیں، حضرت یوسف ؑ نے تحقیقات میں عزیز مصر کی بیوی کا نام نہ لیا تھا مگر اللہ جل شانہ جب کسی کو عزت عطا فرماتے ہیں تو خود بخودلوگوں کی زبانیں ان کے صدق و صفائی کے لئے کھل جاتی ہیں اس موقع پر عزیز کی بیوی نے ہمت کر کے اظہار حق کا اعلان خود کردیا یہاں تک جو حالات و واقعات یوسف ؑ کے آپ نے سنے ہیں ان میں بہت سے فوائد اور مسائل اور انسانی زندگی کے لئے اہم ہدایتیں پائی جاتی ہیں ، ان میں آٹھ مسائل پہلے بیان ہوچکے ہیں مذکور الصدر آیات سے متعلق مزید مسائل اور ہدایات یہ ہیں نواں مسئلہیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص اور مقبول بندوں کے مقاصد پورا کرنے کے لئے خود ہی غیبی تدابیر سے انتظام فرماتے ہیں ان کو کسی مخلوق کا ممنون احسان کرنا پسند نہیں فرماتے یہی وجہ ہوئی کہ یوسف ؑ نے جو رہا ہونے والے قیدی سے کہا تھا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا اس کو تو بھلا دیا گیا اور پھر پردہ غیب سے ایک تدبیر ایسی کی گئی جس میں یوسف ؑ کسی کے ممنون بھی نہ ہوں اور پوری عزت وشان کے ساتھ جیل کی رہائی کا مقصد بھی پورا ہوجائے، اس کا یہ سامان کیا کہ بادشاہ مصر کو ایک پریشان کن خواب دکھلایا جس کی تعبیر سے اس کے درباری اہل علم و فن عاجز ہوئے اس طرح ضرورت مند ہو کر یوسف ؑ کی طرف رجوع کرنا پڑا (ابن کثیر) دسواں مسئلہاس میں اخلاق حسنہ کی تعلیم ہے کہ رہا ہونے والے قیدی نے یوسف ؑ کا اتنا کام نہ کیا کہ بادشاہ سے ذکر کردیتا اور ان کو مزید سات سال قید کی مصیبت میں گذارنے پڑے اب سات سال کے بعد جب وہ اپنا مطلب تعبیر خواب کا لے کر حاضر ہوا تو عام انسانی عادت کا تقاضا تھا کہ اس کو ملامت کرتے اس پر خفا ہوتے کہ تجھ سے اتنا کام نہ ہوسکا مگر یوسف ؑ نے اپنے پیغمبرانہ اخلاق کا اظہار فرمایا کہ اس کو ملامت تو کیا اس قصہ کا ذکر تک بھی نہیں کیا (ابن کثیر و قرطبی) گیارہواں مسئلہاس میں یہ ہے کہ جس طرح انبیاء (علیہم السلام) اور علماء امت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ لوگوں کی آخرت درست کرنے کی فکر کریں ان کو ایسے کاموں سے بچائیں جو آخرت میں عذاب بنیں گے اسی طرح ان کو مسلمانوں کے معاشی حالات پر بھی نظر رکھنا چاہئے کہ وہ پریشان نہ ہوں جیسے یوسف ؑ نے اس موقع پر صرف تعبیر خواب بتادینے کو کافی نہیں سمجھا بلکہ یہ حکیمانہ اور خیر خواہانہ مشورہ بھی دیا کہ پیداوار کے تمام گیہوں کو خوشوں کے اندر رہنے دیں اور بقدر ضرورت صاف کر کے غلہ نکالیں تاکہ آخر سالوں تک خراب نہ ہوجائے، بارہواں مسئلہیہ ہے کہ عالم مقتدا کو اس کی بھی فکر رہنی چاہئے کہ اس کی طرف سے لوگوں میں بدگمانی پیدا نہ ہو اگرچہ وہ بدگمانی سراسر غلط ہی کیوں نہ ہو اس سے بھی بچنے کی تدبیر کرنا چاہئے کیونکہ بدگمانی خواہ کسی جہالت یا کم فہمی ہی کے سبب سے ہو بہرحال ان کی دعوت و ارشاد کے کام میں خلل انداز ہوتی ہے لوگوں میں اس بات کا وزن نہیں رہتا، (قرطبی) رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تہمت کے مواقع سے بھی بچو یعنی ایسے حالات اور مواقع سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ جن میں کسی کو آپ پر تہمت لگانے کا موقع ہاتھ آئے یہ حکم تو عام مسلمانوں کے لئے ہے خواص اور علماء کو اس میں دوہری احتیاط لازم ہے خود رسول کریم ﷺ جو تمام عیوب اور گناہوں سے معصوم ہیں آپ نے بھی اس کا اہتمام فرمایا ایک مرتبہ ازواج مطہرات ؓ میں سے ایک بی بی آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ کی ایک گلی سے گذر رہی تھیں کوئی صحابی ؓ سامنے آگئے تو آپ ﷺ نے دور ہی سے بتلا دیا کہ میرے ساتھ فلاں بی بی ہیں یہ اس لئے کیا کہ کہیں دیکھنے والے کو کسی اجنبی عورت کا شبہ نہ ہوجائے اس موقع پر حضرت یوسف ؑ نے جیل سے رہائی اور شاہی دعوت کا پیغام ملنے کے باوجود رہائی سے پہلے اس کی کوشش فرمائی کہ لوگوں کے شبہات دور ہوجائیں تیرہواں مسئلہاس میں یہ ہے کہ جس شخص کے حقوق کسی کے ذمہ ہوں اور اس حیثیت سے وہ واجب الاحترام ہو اگر ناگزیر حالات میں اس کے خلاف کوئی کاروائی کرنی بھی پڑے تو اس میں بھی مقدور بھر حقوق و احترام کی رعایت کرنا شرافت کا مقتضی ہے جیسے یوسف ؑ نے اپنی براءت کے لئے معاملہ کی تحقیقات کے واسطے عزیز یا اس کی بیوی کا نام لینے کے بجائے ان عورتوں کا ذکر کیا جنہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے (قرطبی) کیونکہ مقصد اس سے بھی حاصل ہوسکتا تھا ، چودہواں مسئلہمکارم اخلاق کی تعلیم ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں سات سال یا بارہ سال جیل خانہ کی تکلیف برداشت کرنی پڑی تھی رہائی کے وقت ان سے کوئی انتقام لینا تو کیا اس کو بھی برداشت نہ کیا کہ ان کو کوئی ادنیٰ تکلیف ان سے پہونچے جیسے آیت لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ میں اس کا اہتمام کیا گیا ہے،
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف نے کہا یہ اس واسطے کہ عزیز معلوم کر لیوے کہ میں نے اس کو چوری نہیں کی چھپ کر اور یہ کہ اللہ نہیں چلاتا فریب دغا بازوں کا۔

اول یہ کہ ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بالْغَيْبِ یعنی یہ تاخیر میں نے اس لئے کی کہ عزیز مصر کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کے حق میں کوئی خیانت نہیں کی ، عزیز مصر کی یقین دہانی کی زیادہ فکر اس لئے ہوئی کہ یہ بہت بری صورت ہوگی کہ عزیز مصر کے دل میں میری طرف سے شبہات رہیں اور پھر شاہی اعزاز کی وجہ سے وہ کچھ نہ کہہ سکیں، تو ان کو میرا اعزاز بھی سخت ناگوار ہوگا اور اس پر سکوت ان کے لئے اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا وہ چونکہ ایک زمانہ تک آقا کی حیثیت میں رہ چکا تھا اس لئے یوسف ؑ کی شرافت نفس نے اس کی اذیت کو گوارا نہ کیا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ جب عزیز مصر کو براءت کا یقین ہوجائے گا تو دوسرے لوگوں کی زبانیں خودبند ہوجائیں گی ، دوسری حکمت یہ ارشاد فرمائی وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ یعنی یہ تحقیقات اس لئے کرائی کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے قریب کو چلنے نہیں دیتا اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ تحقیقات کے ذریعہ خیانت کرنے والوں کی خیانت ظاہر ہو کہ سب لوگ متنبہ ہوجائیں کہ خیانت کرنے والوں کا انجام آخر کار رسوائی ہوتا ہے تاکہ آئندہ سب لوگ ایسے کاموں سے بچنے کا اہتمام کریں دوسرے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر اسی اشتباہ کی حالت میں یوسف ؑ کو شاہی اعزاز مل جاتا تو دیکھنے والوں کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ایسی خیانت کرنے والوں کو بڑے بڑے رتبے مل سکتے ہیں اس سے ان کے اعتقاد میں فرق آتا اور خیانت کی برائی دلوں سے نکل جاتی بہرحال مذکورہ بالاحکمتوں کے پیش نظر یوسف ؑ نے رہائی کا پیغام پاتے ہی فورا نکل جانا پسند نہیں کیا بلکہ شاہی انداز سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔