Ayah 12:53خلاصہ تفسیر
اور میں اپنے نفس کو (بھی بالذات) بری (اور پاک) نہیں بتلاتا (کیونکہ) نفس تو (ہر ایک کا) بری ہی بات بتلاتا ہے بجز اس (نفس) کے جس پر میرا رب رحم کرے (اور اس میں برائی کا مادہ نہ رکھے جیسا انبیاء (علیہم السلام) کے نفوس ہوتے ہیں مطمئنہ جن میں یوسف ؑ کا نفس بھی داخل ہے خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ میری نزہت و عصمت میرے نفس کا ذاتی کمال نہیں، بلکہ رحمت و عنایت الہیہ کا اثر ہے، اس لئے میرا نفس برائی کا حکم نہیں کرتا ورنہ جیسے اوروں کے نفوس ہیں ویسا ہی میرا ہوتا) بلکہ میرا رب بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے (یعنی اوپر جو نفس کی دو قسمیں معلوم ہوئیں امارہ اور مطمئنہ، سو امارہ اگر توبہ کرلے تو اس کی مغفرت فرمائی جاتی ہے اور مرتبہ توبہ میں وہ لوّامہ کہلاتا ہے اور جو مطمئنہ ہے کمال اس کا لازم ذات نہیں بلکہ عنایت و رحمت کا اثر ہے، پس اماّرہ کے لوّامہ ہونے پر صفت غفور کا ظہور ہوتا ہے اور مطمئنہ میں صفت رحیم کا،
یہ تمام تر مضمون ہوا یوسف ؑ کی تقریر کا باقی یہ امر کہ یہ صورت اثبات نزاہت کی بعد رہائی کے بھی تو ممکن تھی پھر رہائی پر اس کو مقدم کیوں رکھا اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جتنا یقین اس ترتیب میں ہوسکتا ہے اس کے خلاف میں نہیں ہوسکتا کیونکہ دلائل کی دلالت تو مشترک ہے لیکن اس صورت مجوزہ میں یہ امر زائد ہے کہ بادشاہ اور عزیز سمجھ سکتے ہیں کہ جب بدون تبریہ کے یہ رہا ہونا نہیں چاہتے، حالانکہ ایسی حالت میں رہائی قیدی کی انتہائی تمنا ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اپنی نزاہت و براءت کا کامل یقین ہے اس لئے اس کے ثابت ہوجانے کا پورا اطمینان ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کامل یقین بری ہی ہوسکتا ہے نہ کہ ملوّث کو یہ ساری باتیں بادشاہ نے سنیں) اور (یہ سن کر اس) بادشاہ نے کہا کہ ان کو میرے پاس لاؤ میں ان کو خاص اپنے (کام کے) لئے رکھوں گا (اور عزیز سے ان کو لے لوں گا کہ اس کے ماتحت نہ رہیں گے، چناچہ لوگ ان کو بادشاہ کے پاس لائے) پس جب بادشاہ نے ان سے باتیں کیں (اور باتوں سے زیادہ فضل و کمال آپ کا ظاہر ہوا) تو بادشاہ نے (ان سے) کہا کہ تم ہمارے نزدیک آج (سے) بڑے معزز اور معتبر ہو (بعد اس کے اس خواب کی تعبیر کا ذکر آیا اور بادشاہ نے کہا کہ اتنے بڑے قحط کا اہتمام بڑا بھاری کام ہے یہ انتظام کس کے سپرد کیا جاوے) یوسف ؑ نے فرمایا کہ ملکی خزانوں پر مجھ کو مامور کردو میں (ان کی) حفاظت (بھی) رکھوں گا اور (آمد و خرچ) کے انتظام اور اس کے حساب کتاب کے طریقہ سے بھی) خوب واقف ہوں (چنانچہ بجائے اس کے کہ ان کو کوئی خاص منصب دیتا مثل اپنے پورے اختیارات ہر قسم کے دے دئیے، گویا حقیقت میں بادشاہ یہی ہوگئے گو برائے نام وہ بادشاہ رہا اور یہ عزیز کے عہدہ سے مشہور ہوگئے چناچہ ارشاد ہے) اور ہم نے ایسے (عجیب) طور پر یوسف ؑ کو ملک (مصر) میں با اختیار بنادیا کہ اس میں جہاں چاہیں رہیں سہیں (جیسا کہ بادشاہوں کو آزادی ہوتی یعنی یا تو وہ وقت تھا کہ کنویں میں محبوس تھے پھر عزیز کی ماتحتی میں مقید رہے اور یا آج یہ خود مختاری اور آزادی عنایت ہوئی بات یہ ہے کہ) ہم جس پر چاہیں اپنی عنایت متوجہ کردیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے (یعنی دنیا میں بھی نیکی کا اجر ملتا ہے کہ حیات طیبہ عطا فرماتے ہیں خواہ مالدار بنا کر جیسا کہ یوسف ؑ کے لئے تھا اور خواہ بغیر مالداری کے قناعت ورضا عطا کر کے جس سے عیش لذیذ میسر ہوتا ہے یہ تو آج دنیا میں ہوا) اور آخرت کا اجر کہیں زیادہ بڑھ کر ہے ایمان اور تقویٰ والوں کے لئے
معارف و مسائل
اپنی پاکبازی بیان کرنا درست نہیں مگر خاص حالات میں
اس سے پہلی آیت میں حضرت یوسف ؑ کا یہ قول مذکور تھا کہ جو الزام مجھ پر عائد کیا تھا اس کی صفائی اور معاملہ کی مکمل تحقیق سے پہلے میں قید سے رہائی کو اس لئے پسند نہیں کرتا کہ عزیز اور بادشاہ مصر کو پورا یقین ہوجائے کی میں نے خیانت نہیں کی تھی بلکہ الزام سراسر جھوٹا تھا اس میں چونکہ اپنی براءت اور پاکبازی کا ذکر ایک ناگزیر ضرورت سے ہو رہا تھا جو بظاہر اپنے نفس کے تزکیہ اور پاکی کا اظہار ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند نہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُزَكُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ یعنی کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں پاک قرار دیں اور سورة نجم میں بھی اسی مضمون کی ایک آیت ہے فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى یعنی تم اپنے نفس کی پاکی کے مدعی نہ بنوا للہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ کون واقعی پرہیزگار و متقی ہے
اس لئے آیت مذکورہ میں حضرت یوسف ؑ نے اپنی براءت کے اظہار کے ساتھ ہی اس حقیقت کا بھی اظہار کردیا کہ میرا یہ کہنا کچھ اپنے تقویٰ اور پاکبازی کا جتلانا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کا نفس جس کا خمیر چار عنصر آگ، پانی، مٹی، اور ہوا سے بنا ہے وہ تو اپنی فطرت سے ہر شخص کو برے ہی کاموں کی طرف مائل کرتا رہتا ہے بجز اس کے جس پر میرا اپنی رحمت فرما کر اس کے نفس کو برے تقاضوں سے پاک کر دے جیسے انبیاء (علیہم السلام) کے نفوس ہوتے ہیں اور ایسے ہی نفوس کو قرآن میں نفس مطمئنہ کا لقب دیا گیا ہے حاصل یہ ہے کہ ایسے ابتلاء عظیم کے وقت میرا گناہ سے بچ جانا یہ کوئی میرا ذاتی کمال نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی رحمت اور دستگیری کا نتیجہ تھا اگر وہ میرے نفس سے رذیل خواہشات کو نہ نکال دیتے تو میں بھی ایسا ہی ہوجاتا جیسے عام انسان ہوتے ہیں کہ خواہشات نفسانی سے مغلوب ہوجاتے ہیں،
بعض روایات میں ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے یہ جملہ اس لئے فرمایا کہ ایک قسم کا خیال تو بہرحال ان کے دل میں بھی پیدا ہو ہی گیا تھا گو وہ غیر اختیاری وسوسے کی حد تک تھا مگر شان نبوت کے سامنے وہ بھی ایک لغزش اور برائی ہی تھی اس لئے اس کا اظہار فرمایا کہ میں اپنے نفس کو بھی بالکل ہی بری اور پاک نہیں سمجھتا،
نفس انسانی کی تین حالتیں
اس آیت میں یہ مسئلہ غورطلب ہی کے اس میں ہر نفس انسانی کواَمَّارَۃ ٌبا لسُّوء یعنی برے کاموں کا حکم کرنے والا فرمایا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے ایک سوال فرمایا کہ ایسے رفیق کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس کا حال یہ ہو کہ اگر تم اس کا اعزازو اکرام کرو کھانا کھلاؤ، کپڑے پہناؤ تو وہ تمہیں بلاء اور مصیبت میں ڈال دے اور اگر تم اس کی توہین کرو، بھوکا ننگا رکھو تو تمہارے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے ؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سے زیادہ برا تو دنیا میں کوئی ساتھی ہو ہی نہیں سکتا، آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تمہارا نفس جو تمہارا نفس جو تمہارے پہلو میں ہے وہ ایسا ہی ساتھی ہے (قرطبی) اور ایک حدیث میں ہے کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن خود تمہارا نفس ہے جو تمہیں برے کاموں میں مبتلاکر کے ذلیل و خوار بھی کرتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں بھی گرفتار کردیتا ہے،
بہرحال آیت مذکورہ اور ان روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس انسانی برے ہی کاموں کا تقاضا کرتا ہے لیکن سورة قیامہ میں اسی نفس انسانی کو لوّامہ کا لقب دے کر اس کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ رب العزت نے اس کی قسم کھائی ہے (آیت) لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَلَآ اُقْسِمُ بالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ اور سورة والفجر میں اسی نفس انسانی کو نفس مطمئنہ کا لقب دے کر جنت کی بشارت دی ہے يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ اس طرح نفس انسانی کو ایک جگہ اَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ کہا گیا دوسری جگہ لوّامہ تیسری جگہ مطمئنہ
توضیح اس کی یہ ہے کہ ہر نفس انسانی اپنی ذات میں تو اَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ یعنی برے کاموں کا تقاضا کرنے والا ہے لیکن جب انسان خدا وآخرت کے خوف سے اس کے تقاضے کو پورا نہ کرے تو اس کا نفس لوّامہ بن جاتا ہے یعنی برے کاموں پر ملامت کرنے والا اور ان سے توبہ کرنے والا جیسے عام صلحاء امت کے نفوس ہیں اور جب کوئی انسان نفس کے خلاف مجاہدہ کرتے کرتے اپنے نفس کو اس حالت میں پہونچادے کہ برے کاموں اس میں نہ رہے تو وہ نفس مطمئنہ ہوجاتا ہے صلحاء امت کو یہ حال مجاہدہ و ریاضت سے حاصل ہوسکتا ہے اور پھر بھی اس حالت کا ہمیشہ قائم رہنا یقینی نہیں ہوتا اور انبیاء (علیہم السلام) کو خود بخود عطاء خداوندی سے ایسا ہی نفس مطمئنہ بغیر کسی سابقہ مجاہدہ کے نصیب ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی حالت پر رہتا ہے،
اس طرح نفس کی تین حالتوں کے ا عتبار سے تین طرح کے افعال اس کی طرف منسوب کئے گئے ہیں
اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ آخر آیت میں فرمایا کہ میرا رب بڑا مغفرت کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے لفظ غفور میں اس طرف اشارہ ہے کہ نفس اَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ جب اپنی خطاء پر نادم ہو کر توبہ کرے اور نفس لوامہ بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت بڑی ہے وہ معاف فرما دیں گے،
اور لفظ رحیم میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس شخص کو نفس مطمئنہ نصیب ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے۔
Ayah 12:54(آیت) وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ الخ یعنی بادشاہ مصر نے جب یوسف ؑ کے فرمانے کے مطابق عورتوں سے واقعہ کی تحقیق فرمائی اور زلیخا اور دوسری سب عورتوں نے حقیقت واقعہ کا اقرار کرلیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف ؑ کو میرے پاس لایا جائے تاکہ میں ان کو اپنا مشیر خاص بنا لوں حکم کے مطابق یوسف ؑ کو اعزاز کے ساتھ جیل خانہ سے دربار میں لایا گیا اور باہمی گفتگو سے یوسف ؑ کی صلاحیتوں کا پورا اندازہ ہوگیا تو بادشاہ نے کہا کہ آپ آج ہمارے نزدیک بڑے معزز اور معتمد ہیں
امام بغوی ؒ نے نقل کیا ہے کہ جب بادشاہ کا قاصد جیل میں یوسف ؑ کے پاس دوبارہ پہنچا اور بادشاہ کی دعوت پہنچائی تو یوسف ؑ نے سب جیل والوں کے لئے دعا کی اور غسل کر کے نئے کپڑے پہنے جب دربار شاہی پر پہنچنے تو یہ دعاء کی حسبی ربی من دنیای وحسبی ربی من خلقہ عز جارہ وجل ثناہ ولآ الٰہ غیرہ۔ یعنی میری دنیا کے لئے میرا رب مجھے کافی ہے اور ساری مخلوق کے بدلے میرا رب میرے لئے کافی ہے جو اس کی پناہ میں آ گیا وہ بالکل محفوظ ہے اور اس کی بڑی تعریف ہے اور اسکے سوا کوئی معبود نہیں
جب دربار میں پہنچنے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اسی طرح دعاء کی اور عربی زبان میں سلام کیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ اور بادشاہ کیلئے دعاء عبرانی زبان میں کی بادشاہ اگرچہ بہت سی زبانیں جانتا تھا مگر عربی زبانوں سے واقف نہ تھا یوسف ؑ نے بتلایا کہ سلام تو عربی زبان میں کیا گیا ہے اور دعا عبرانی زبان میں
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بادشاہ نے یوسف ؑ سے مختلف زبانوں میں باتیں کی یوسف ؑ نے اس کو اسی زبان میں جواب دیا اور عربی اور عبرانی کی دو زبانیں مزید سنائیں جن سے بادشاہ واقف نہ تھا اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں یوسف ؑ کی غیر معمولی وقعت قائم کر دی
پھر شاہ مصر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں آپ سے اپنے خواب کی تعبیر بلاواسطہ سن لوں یوسف ؑ نے پہلے اس کے خواب کی ایسی تفصیلات بتلائیں جو اب تک بادشاہ نے بھی کسی سے ذکر نہیں کی تھیں پھر تعبیر بتلائی
شاہ مصر نے کہا کہ مجھے تعبیر سے زیادہ اس پر حیرت ہے کہ یہ تفصیلات آپ کو کیسے معلوم ہوئیں اس کے بعد بادشاہ مصر نے مشورہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے تو یوسف ؑ نے مشورہ دیا کہ پہلے سات سال جن میں خوب بارشیں ہونے والی ہیں ان میں آپ زیادہ سے زیادہ کاشت کرا کر غلہ اگانے کا انتظام کریں اور سب لوگوں کو ہدایت کریں کہ اپنی اپنی زمینوں میں زیادہ سے زیادہ کاشت کریں اور جتنا غلہ حاصل ہوا اس میں سے پانچواں حصہ اپنے پاس ذخیرہ کرتے رہیں
اس طرح اہل مصر کے پاس قحط کے سات سال کے لئے بھی ذخیرہ جمع ہوجائے گا اور آپ ان کی طرف سے بےفکر ہوں گے حکومت کو جس قدر غلہ سرکاری محاصل سے یا سرکاری زمینوں سے حاصل ہو اس کو باہر کے لوگوں کے لئے جمع رکھیں کیونکہ یہ قحط دور دراز تک پھیلے گا باہر کے لوگ اس وقت آپ کے محتاج ہوں گے اس وقت آپ غلہ دے کر خلق خدا کی امداد کریں اور معمولی قیمت بھی رکھیں گے تو سرکاری خزانہ میں اتنا مال جمع ہوجائے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا شاہ مصر اس مشورہ سے بیحد مسرور و مطمئن ہوا مگر کہنے لگا کہ اس عظیم منصوبہ کا انتظام کیسے ہو اور کون کرے
Ayah 12:55اس پر یوسف ؑ نے فرمایا
(آیت) اِجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ یعنی ملک کے خزانے (جن میں زمین کی پیداوار بھی شامل ہے آپ میرے سپرد کردیں میں ان کی حفاظت بھی پوری کرسکتا ہوں اور خرچ کرنے کے مواقع اور مقدار خرچ کے اندازہ سے بھی پورا واقف ہوں (قرطبی ومظہری)
ان دو لفظوں میں حضرت یوسف ؑ نے ان تمام اوصاف کو جمع کردیا جو ایک وزیر میں ہونے چاہئیں کیونکہ پہلی ضرورت تو امین خزانہ کے لئے اس کی ہے کہ وہ سرکاری اموال کو ضائع نہ ہونے دے بلکہ پوری حفاظت سے جمع کرے پھر غیر لوگوں اور غلط قسم کے مصارف میں خرچ نہ ہونے دے اور دوسری ضرورت اس کی ہے کہ جہاں جس قدر خرچ کرنا ضروری ہے اس میں نہ کوتاہی کرے اور نہ مقدار ضرورت سے زائد خرچ کرے، لفظ حفیظ پہلی ضرورت کی پوری ضمانت ہی اور لفظ علیم دوسری ضرورت کی
شاہ مصر اگرچہ یوسف ؑ کے کمالات کا گرویدہ اور ان کی دیانت اور عقل کامل کا پورا معتقد ہوچکا تھا، مگر بالفعل وزارت خزانہ کا منصب ان کو سپرد نہیں کیا بلکہ ایک سال تک ایک معزز مہمان کی طرح رکھا
سال بھر پورا ہونے کے بعد نہ صرف وزارت خزانہ بلکہ پورے امور مملکت ان کے سپرد کر دئیے شاید مقصد یہ تھا کہ جب تک گھر میں رکھ کر ان کے اخلاق و عادات کا پورا تجربہ نہ ہوجائے اتنا بڑا منصب سپرد کرنا مناسب نہیں جیسا کہ سعدی شیرازی ؒ نے فرمایا ہے،
چو یوسف کسے درصلاح وتمیز بیک سال باید کہ گرددعزیز
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی زمانہ میں زلیخا کے شوہر قطفیر کا انتقال ہوگیا تو شاہ مصر نے حضرت یوسف ؑ سے ان کی شادی کردی اس وقت یوسف ؑ نے ان سے فرمایا کہ کیا یہ صورت اس سے بہتر نہیں ہے جو تم چاہتی تھیں زلیخا نے اعتراف قصورت کے ساتھ اپنا عذر بیان کیا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے بڑی عزت وشان کے ساتھ ان کی مراد پوری فرمائی اور عیش ونشاط کے ساتھ زندگی گذری تاریخی روایات کے مطابق دو لڑکے بھی پیدا ہوئے جن کا نام افرائیم اور منشا تھا
بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شادی کے بعد یوسف ؑ کے دل میں زلیخا کی محبت اس سے زیادہ پیدا کردی جتنی زلیخا کو یوسف ؑ سے تھی یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت یوسف ؑ نے ان سے شکایت کی کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ تم مجھ سے اب اتنی محبت نہیں رکھتیں جتنی پہلے تھی زلیخا نے عرض کیا کہ آپ کے وسیلہ سے مجھے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوگئی اس کے سامنے سب تعلقات اور خیالات مضمحل ہوگئے یہ واقعہ بعض دوسری تفصیلات کے ساتھ تفسیر قرطبی اور مظہری میں بیان ہوا ہے،
قصہ یوسف ؑ کے ضمن میں جو عام انسانوں کی صلاح و فلاح کے لئے بہت سی ہدایات اور تعلیمات آئی ہیں ان کا ذکر کچھ پہلے ہوچکا ہے مذکور الصدر آیات میں مزید مسائل اور ہدایات حسب ذیل ہیں
پہلامسئلہحضرت یوسف ؑ کے قول وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ میں نیک اور متقی پرہیزگار بندوں کے لئے یہ ہدایت ہے کہ جب ان کو کسی گناہ سے بچنے کی توفیق ہوجائے تو اس پر ناز نہ کریں اور اس کے بالمقابل گناہگاروں کو حقیر نہ سمجھیں بلکہ ارشاد یوسفی کے مطابق اس بات کو اپنے دل میں جمائیں کہ یہ ہمارا کوئی ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے نفس امارہ کو ہم پر غالب نہیں آنے دیا ورنہ ہر انسان کا نفس اس کو طبعی طور پر برے ہی کاموں کی طرف کھینچتا ہے
حکومت کا کوئی عہدہ خود طلب کرنا جائز نہیں مگر چند شرائط کے ساتھ اجازت ہے
دوسرامسئلہاجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ سے یہ معلوم ہوا کہ کسی سرکاری عہدہ اور منصب کو طلب کرنا خاص صورتوں میں جائز ہے جیسے یوسف ؑ نے خزائن ارض کا انتظام اور ذمہ داری طلب فرمائی ،
مگر اس میں یہ تفصیل ہے کہ جب کسی خاص عہدہ کے متعلق یہ معلوم ہو کہ کوئی دوسرا آدمی اس کا اچھا انتظام نہیں کرسکے گا اور اپنے بارے میں یہ اندازہ ہو کہ عہدہ کے کام کا خود طلب کرلینا بھی جائز ہے بشرطیکہ حُبّ جاہ ومال اس کا سبب نہ ہو بلکہ خلق اللہ تعالیٰ کی صحیح خدمت اور انصاف کے ساتھ ان کے حقوق پہنچانا مقصود ہو جیسے حضرت یوسف ؑ کے سامنے صرف یہی مقصد تھا اور جہاں یہ صورت نہ ہو تو حدیث میں رسول کریم ﷺ نے حکومت کا کوئی عہدہ خود طلب کرنے سے منع فرمایا ہے اور جس نے خود کسی عہدہ کی درخواست کی اس کو عہدہ نہیں دیا
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے فرمایا کہ کبھی کوئی امارت طلب نہ کرو کیونکہ تم نے خود سوال کر کے عہدۃ امارت حاصل بھی کرلی تو اللہ تعالیٰ کی تائید نہیں ہوگی جس کے ذریعہ تم لغزشوں اور خطاؤں سے بچ سکو اور اگر بغیر درخواست اور طلب کے تمہیں کوئی عہدہ مل گیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید واعانت ہوگی جس کی وجہ سے تم اس عہدے کے پورے حقوق ادا کرسکو گے
اسی طرح صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے کسی عہدہ کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے فرمایا انَّا لن نَّستَعملَ عَلیٰ عَملنا مَن اَرَادَہٗ یعنی ہم اپنا عہدہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیا کرتے جو خود اس کا طالب ہو،
حضرت یوسف ؑ کا طلب عہدہ خاص حکمت پر مبنی تھا
مگر حضرت یوسف ؑ کا معاملہ اس سے مختلف ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بادشاہ مصر کافر ہے اس کا عملہ بھی ایسا ہی ہے اور ملک پر ایک طوفانی قحط آنے والا ہے اس وقت خود غرض لوگ عام خلق اللہ پر رحم نہ کھائیں گے اور لاکھوں انسان بھوک سے مر جائیں گے کوئی دوسرا آدمی ایسا موجود نہ تھا جو غریبوں کے حقوق میں انصاف کرسکے اس لئے خود اس عہدہ کی درخواست کی اگرچہ اس کے ساتھ کچھ اپنے کمالات کا اظہار بھی بضرورت کرنا پڑا تاکہ بادشاہ مطمئن ہو کر عہدہ ان کو سپرد کر دے،
اگر آج بھی کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ کوئی عہدہ حکومت کا ایسا ہے جس کے فرائض کو کوئی دوسرا آدمی صحیح طور پر انجام دینے والا موجود نہیں اور خود اس کو یہ اندازا ہے کہ میں صحیح انجام دے سکتا ہوں تو اس کے لئے جائز ہے بلکہ واجب ہے کہ اس عہدہ کی خود درخواست کرے مگر اپنے جاہ ومال کے لئے نہیں بلکہ خدمت خلق کے لئے جس کا تعلق قلبی نیت اور ارادہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ پر خوب روشن ہے (قرطبی)
حضرات خلفائے راشدین کا خلافت کی ذمہ داری اٹھا لینا اسی وجہ سے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ کوئی دوسرا اس وقت اس ذمہ داری کو صحیح انجام نہ دے سکے گا صحابہ کرام ؓ حضرت علی ؓ اور معاویہ ؓ و حضرت حسین ؓ اور عبداللہ بن زبیر ؓ وغیرہم کے جو اختلافات پیش آئے وہ سب اسی پر مبنی تھے کہ ان میں سے ہر ایک یہ خیال کرتا تھا کہ اس وقت فرائض خلافت کو میں اپنے مقابل سے زیادہ حکمت و قوت کے ساتھ پورا کرسکوں گا جاہ و مال کی طلب کسی کا مقصد اصلی نہ تھا
کیا کسی کافر حکومت کا عہدہ قبول کرنا جائز ہے
تیسرا مسئلہیہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے بادشاہ مصر کی ملازمت قبول فرمائی حالانکہ وہ کافر تھا جس سے معلوم ہوا کہ کافر یا فاسق حکمران کا عہدہ قبول کرنا خاص حالات میں جائز ہے،
لیکن امام جصاص ؒ نے آیت کریمہ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِيْرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ کے تحت لکھا ہے کہ اس آیت کی رو سے ظالموں کافروں کی اعانت کرنا ہے اور ایسی اعانت کو قرآن کریم کی بہت سے آیتوں میں حرام قرار دیا گیا ہے،
حضرت یوسف ؑ نے جو اس ملازمت کو نہ صرف قبول فرمایا بلکہ درخواست کر کے حاصل کیا اس کی خاص وجہ امام تفسیر مجاہد ؒ نے یہ قرار دی ہے کہ بادشاہ مصر اس وقت مسلمان ہوچکا تھا مگر چونکہ قرآن وسنت میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں اس لئے عام مفسرین نے اس کی وجہ یہ قرار دی ہے کہ حضرت یوسف ؑ بادشاہ مصر کے معاملہ سے یہ معلوم کرچکے تھے کہ وہ ان کے کام میں دخل نہ دے گا اور کسی خلاف شرع قانون جاری کرنے پر ان کو مجبور نہ کرے گا بلکہ ان کو مکمل اختیارات دے گا جس کے ذریعہ وہ اپنی صوابدید اور قانون حق پر عمل کرسکیں گے ایسے مکمل اختیار کے ساتھ کہ کسی خلاف شرع قانون پر مجبور نہ ہو کوئی کافر یا ظالم کی ملازمت اختیاکر لے تو اگرچہ اس کافر ظالم کے ساتھ تعاون کرنے کی قباحت پھر بھی موجود ہے مگر جن حالات میں اس کو اقتدار سے ہٹانا قدرت میں نہ ہو اور اس کا عہدہ قبول نہ کرنے کی صورت میں خلق اللہ کے حقوق ضائع ہونے یا ظلم وجور کا اندیشہ قوی ہو تو بمجبوری اتنے تعاون کی گنجائش حضرت یوسف ؑ کے عمل سے ثابت ہوجاتی ہے جس میں خود کسی خلاف شرع امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے کیونکہ درحقیقت یہ اس کے گناہ میں اعانت نہیں ہوگی گو سبب بعید کے طور پر اس سے بھی اس کی اعانت کا فائدہ حاصل ہوجائے اعانت کے ایسے اسباب بعیدہ کے بارے میں بحالات مذکورہ شرعی گنجائش ہے جس کی تفصیل حضرات فقہاء نے بیان فرمائی ہے سلف صالحین صحابہ وتابعین میں بہت سے حضرات کا ایسے ہی حالات میں ظالم و جابر حکمرانوں کا عہدہ قبول کرلینا ثابت ہے (قرطبی، مظہری)
علامہ مادردی نے سیاست شرعیہ سے متعلق اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کہ بعض حضرات نے یوسف ؑ کے اس عمل کی بناء پر کافر اور ظالم حکمرانوں کا عہدہ قبول کرنا اس شرط کے ساتھ جائز رکھا ہے کہ خود اس کو کوئی کام خلاف شرع نہ کرنا پڑے اور بعض حضرات نے اس شرط کے ساتھ بھی اس کو اس لئے جائز نہیں رکھا کہ اس میں بھی اہل ظلم وجور کی تقویت اور تائید ہوتی ہے یہ حضرات یوسف ؑ کے فعل کی مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یہ عمل حضرت یوسف ؑ کی ذات یا ان کی شریعت کے ساتھ مخصوص تھا اب دوسروں کے لئے جائز نہیں مگر جمہور علماء فقہاء نے پہلے ہی قول کو اختیار فرما کر جائز قرار دیا ہے (قرطبی)
تفسیر بحر محیط میں ہے جہاں یہ معلوم ہو کہ علماء صلحاء اگر یہ عہدہ قبول نہ کریں گے تو لوگوں کے حقوق ضائع ہوجائیں گے انصاف نہ ہو سکے گا وہاں ایسا عہدہ قبول کرلینا جائز بلکہ ثواب ہے بشرطیکہ اس عہدہ میں خود اس کو خلاف شرع امور کے ارتکاب پر مجبوری پیش نہ آئے،
چوتھا مسئلہحضرت یوسف ؑ کے قول اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ سے یہ ثابت ہوا کہ ضرورت کے موقع پر اپنے کسی کمال یا فضیلت کا ذکر کردینا تزکیہ نفس یعنی پاکبازی جتلانے میں داخل نہیں جس کی قرآن کریم میں ممانعت آئی ہے بشرطیکہ اس کا ذکر کرنا کبر و غرور اور فخر و تعلی کی وجہ سے نہ ہو۔
Ayah 12:56(آیت) وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ ۭ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَاۗءُ وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ یعنی جس طرح ہم نے یوسف ؑ کو بادشاہ مصر کے دربار میں عزت و منزلت عطا کی اسی طرح ہم نے ان کو پورے ملک مصر پر اقتدار کامل عطا کردیا کہ ان کی زمین میں جس طرح چاہیں احکام جاری کریں ہم جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت و نعمت سے یوں ہی نوازا کرتے ہیں اور ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے،
تفصیل اس کی یہ ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک سال تجربہ کرنے کے بعد دربار میں ایک جشن منایا جس میں تمام عمال دولت اور معززین حکومت کو جمع کیا اور یوسف ؑ کے سر پر تاج رکھ کر اس مجلس میں لایا گیا اور صرف خزانہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے امور مملکت کو عملاً ان کے سپرد کر کے خود گوشہ نشین ہوگیا (قرطبی ومظہری وغیرہ)
حضرت یوسف ؑ نے امور سلطنت کو ایسا سنبھالا کہ کسی کو کوئی شکایت باقی نہ رہی سارا ملک آپ کا گرویدہ ہوگیا اور پورے ملک میں امن اور خوش حالی عام ہوگئی خود حضرت یوسف ؑ کو بھی حکومت کی اس تمام ذمہ داری میں کوئی دشواری یا رنج و تکلیف پیش نہیں آتی،
امام تفسیر مجاہد ؒ نے فرمایا کہ یوسف ؑ کے پیش نظر چونکہ اس سارے جاہ و جلال سے صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کا رواج اور اس کے دین کی اقامت تھی اس لئے وہ کسی وقت بھی اس سے غافل نہیں ہوئے کہ شاہ مصر کو اسلام و ایمان کی دعوت دیں یہاں تک کہ مسلسل دعوت و کوشش کا یہ نتیجہ ظاہر ہوا کہ بادشاہ مصر بھی مسلمان ہو گیا
Ayah 12:57وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ یعنی اور آخرت کا اجر وثواب اس دنیا کی دولت و سلطنت اور مثالی حکومت تو عطا ہوئی ہی تھی اس کے ساتھ آخرت کے درجات عالیہ بھی ان کے لئے تیار ہیں اس کے ساتھ یہ بھی بتلادیا کہ یہ درجات دنیا و آخرت یوسف ؑ کی خصوصیت نہیں بلکہ اصلائے عام ہے ہر اس شخص کے لئے جو ایمان اور تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرلے،
حضرت یوسف ؑ نے اپنے زمانہ حکومت میں عوام کے راحت رسانی کے وہ کام کئے جن کی نظیر ملنا مشکل ہے جب تعبیر خواب کے مطابق سات سال خوش حالی کے گذر گئے اور قحط شروع ہوا تو یوسف ؑ نے پیٹ بھر کر کھانا چھوڑ دیا لوگوں نے کہا کہ ملک مصر کے سارے خزانے آپ کے قبضہ میں ہیں اور آپ بھوکے رہتے ہیں تو فرمایا کہ میں یہ اس لئے کرتا ہوں تاکہ عام لوگوں کی بھوک کا احساس میرے دل سے غائب نہ ہو اور شاہی باورچیوں کو بھی حکم دے دیا کہ دن میں صرف ایک مرتبہ دوپہر کو کھانا پکا کرے تاکہ شاہی محل کے سب افراد بھی عوام کی بھوک میں کچھ حصہ لے سکیں
Ayah 12:58خلاصہ تفسیر
(غرض یوسف ؑ نے با اختیار ہو کر غلہ کاشت کرانا اور جمع کرانا شروع کیا اور سات برس کے بعد قحط شروع ہوا یہاں تک کہ دور دور سے یہ خبر سن کر مصر میں سلطنت کی طرف سے غلہ فروخت ہوتا ہے ذوق در ذوق لوگ آنا شروع ہوئے) اور (کنعان میں بھی قحط ہوا) یوسف ؑ کے بھائی (بھی بجز بنیامین کے غلہ لینے مصر میں) آئے پھر یوسف ؑ کے پاس پہونچے سو یوسف ؑ نے (تو) ان کو پہچان لیا اور انہوں نے یوسف ؑ کو نہیں پہچانا (کیونکہ ان میں تغیر کم ہوا تھا نیز یوسف ؑ کو ان کے آنے کا خیال اور قوی احتمال بھی تھا پھر نو وارد سے پوچھ بھی لیتے ہیں کہ آپ کون ہیں کہاں سے آئے ہیں اور شناسا لوگوں کو تھوڑے پتہ سے اکثر پہچان بھی لیتے ہیں بخلاف یوسف ؑ کے کہ ان میں (چونکہ مفارقت کے وقت بہت کم عمر تھے) تغیر بھی زیادہ ہوگیا تھا اور ان کو یوسف ؑ کے ہونے کا احتمال بھی نہ تھا پھر حکام سے کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا کہ آپ کون ہیں ؟ یوسف ؑ کو معمول تھا کہ ہر شخص کے ہاتھ غلہ بقدر حاجت فروخت کرتے تھے چناچہ ان کو بھی جب فی آدمی ایک ایک اونٹ غلہ قیمت دے کر ملنے لگا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک علاّتی بھائی اور ہے اس کو باپ نے اس وجہ سے کہ ان کا ایک بیٹاگم ہوگیا تھا اپنی تسلی کے لئے رکھ لیا ہے اس کے حصہ کا بھی ایک اونٹ غلہ زیادہ دے دیا جائے یوسف ؑ نے فرمایا کہ یہ قانون کے خلاف ہے اگر اس کا حصہ لینا ہے تو وہ خود آ کرلے جائے غرض ان کے حصہ کا غلہ ان کو دلوا دیا)
اور جب یوسف ؑ نے ان کا سامان (غلہ کا) تیار کردیا تو (چلتے وقت) فرما دیا کہ (اگر یہ غلہ خرچ کر کے اب کے آنے کا ارادہ کرو تو) اپنے علاتی بھائی کو بھی (ساتھ) لانا (تاکہ اس کا حصہ بھی دیا جاسکے) تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ناپ کردیتا ہوں اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی کرتا ہوں (پس اگر تمہارا وہ بھائی آئے گا اس کو بھی پورا حصہ دوں گا اور اس کی خوب خاطر داشت کروں گا جیسا تم نے اپنے ساتھ دیکھا غرض آنے میں تونفع ہی نفع ہے) اور اگر تم (دوبارہ آئے اور) اس کو میرے پاس نہ لائے تو (میں سمجھوں گا کہ تم مجھ کو دھوکہ دے کر غلہ زیادہ لینا چاہتے تھے تو اس کی سزا میں) نہ میرے پاس تمہارے نام کا غلہ ہوگا، اور نہ تم میرے پاس آنا (پس اس کے نہ لانے میں یہ نقصان ہوگا کہ تمہارے حصہ کا غلہ بھی سوخت ہو جاوئے گا) وہ بولے (دیکھئے) ہم (اپنی حد امکان تک تو) اس کے باپ سے اس کو مانگیں گے اور ہم اس کام کو (یعنی کوشش اور درخواست) ضرور کریں گے (آگے باپ کے اختیار میں ہے) اور جب وہاں سے بالکل چلنے لگے تو) یوسف ؑ نے اپنے نوکروں سے کہہ دیا کہ ان کی جمع پونجی (جس کے عوض انہوں نے غلہ مول لیا ہے) ان (ہی) کے اسباب میں (چھپاکر) رکھ دو تاکہ جب اپنے گھر جائیں تو اس کو (جب وہ اسباب میں سے نکلنے) پہچانیں شاید (یہ احسان وکرم دیکھ کر) پھر دوبارہ آئیں (چونکہ یوسف ؑ کو ان کا دوبارہ آنا اور ان کے بھائی کا لانا منظور تھا اس لئے کسی طرح سے اسکی تدبیر کی اول وعدہ اگر اس کو لاؤ گے تو اس کا بھی حصہ ملے گا دوسرے وعید سنا دی کہ اگر نہ لاؤ گے تو اپنا حصہ بھی نہ پاؤ گے تیسرے دام جو کہ نقد کے علاوہ کوئی اور چیز تھی واپس کردی دوخیال سے ایک یہ کہ اس سے احسان و کرم پر استدلال کر کے پھر آئیں گے دوسرے اس لئے کہ شاید ان کے پاس اور دام نہ ہوں اور اس لئے پھر نہ آسکیں اور جب یہ دام ہوں گے انہی کو لے کر پھر آسکتے ہیں)
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ کو ملک مصر کا کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوجانے کا بیان تھا مذکور الصدر آیات میں برادران یوسف ؑ کا غلہ لینے کے لئے مصر آنا بیان ہوا ہے اور ضمنا آ گیا کہ دس بھائی مصر آئے تھے یوسف ؑ کے حقیقی چھوٹے بھائی ساتھ نہ تھے،
درمیانی قصہ کی تفصیل قرآن نے اس لئے نہیں دی کہ پچھلے واقعات سے وہ خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے،
ابن کثیر ؒ نے ائمہ تفسیر میں سے سدی اور محمد ابن اسحاق وغیرہ کے حوالہ سے جو تفصیل بیان کی ہے وہ اگر تاریخی اور اسرائیلی روایات سے بھی لی گئی ہو تو اس لئے کچھ قابل قبول ہے کہ نسق قرآنی میں خود اس کی طرف اشارے موجود ہیں ،
ان حضرات نے فرمایا کہ یوسف ؑ کو ملک مصر کی وزارت حاصل ہونے کے بعد ابتدائی سات سال تعبیر خواب کے مطابق پورے ملک کیلئے بڑی خوش حالی اور رفاہیت کے آئے پیداوار خوب ہوئی اور زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے اور جمع کرنے کی کوشش کی اس کے بعد اسی خواب کا دوسرا جزء سامنے آیا کہ قحط شدید پڑا جو سات سال تک جاری رہا اس وقت یوسف ؑ چونکہ پہلے سے باخبر تھے کہ یہ قحط سات سال تک مسلسل رہے گا اس لئے قحط کے ابتدائی سال میں ملک کے موجودہ ذخیرہ کو بڑی احتیاط سے جمع کرلیا اور پوری حفاظت سے رکھا،
مصر کے باشندوں کے پاس بقدر ان کی ضرورت کے پہلے سے جمع کرا دیا گیا اب قحط عام ہوا اور اطراف واکناف سے لوگ سمٹ کر مصر آنے لگے تو یوسف ؑ نے ایک خاص انداز سے غلہ فروخت کرنا شروع کیا کہ ایک شخص کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ نہ دیتے تھے جس کی مقدار قرطبی نے ایک وسق یعنی ساٹھ صاع لکھی ہے جو ہمارے وزن کے اعتبار سے دو سو دس سیر یعنی پانچ من سے کچھ زیادہ ہوتی ہے،
اور اس کام کا اتنا اہتمام کیا کہ غلہ کی فروخت خود اپنی نگرانی میں کراتے تھے یہ قحط صرف ملک مصر میں نہ تھا بلکہ دور دور کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا ارض کنعان جو فلسطین کا ایک حصہ ہے اور حضرت یعقوب ؑ کا وطن ہے اور آج بھی اس کا شہر بنام خلیل ایک پر رونق شہر کی صورت میں موجود ہے یہیں حضرت ابراہیم واسحاق اور یعقوب و یوسف (علیہم السلام) کے مزارات معروف ہیں یہ خطہ بھی اس قحط کی زد سے نہ بچا اور یعقوب ؑ کے خاندان میں بےچینی پیدا ہوئی ساتھ ہی ساتھ مصر کی یہ شہرت عام ہوگئی تھی کہ وہاں غلہ قیمتاً مل جاتا ہے حضرت یعقوب ؑ تک بھی یہ خبر پہنچی کہ مصر کا بادشاہ کوئی صالح رحم دل آدمی ہے وہ سب خلق خدا کو غلہ دیتا ہے تو اپنے صاحبزادوں سے کہا تم بھی جاؤ مصر سے غلہ لے کر آؤ ،
اور چونکہ یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ آدمی کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ غلہ نہیں دیا جاتا اس لئے سب ہی صاحبزادوں کو بھیجنے کی تجویز ہوئی مگر سب سے چھوٹے بھائی بنیامین جو یوسف ؑ کے حقیقی بھائی تھے اور یوسف ؑ کی گم شدگی کے بعد سے حضرت یعقوب ؑ کی محبت و شفقت ان کے ساتھ زیادہ متعلق ہوگئی تھی ان کو اپنے پاس اپنی تسلی اور خبرگیری کے لئے روگ لیا،
دس بھائی کنعان سے سفر کر کے مصر پہنچنے یوسف ؑ شاہی لباس میں شاہانہ تخت وتاج کے مالک ہونے کی حیثیت میں سامنے آئے اور بھائیوں نے ان کو بچپن کی سات سالہ عمر میں قافلہ والوں کے ہاتھ بیچا تھا جس کو اس وقت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے مطابق چالیس سال ہوچکے تھے (قرطبی، مظہری)
ظاہر ہے کہ اتنے عرصہ میں انسان کا حلیہ بھی کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے اور ان کا یہ وہم و خیال بھی نہ ہوسکتا تھا کہ جس بچہ کو غلام بنا کر بیچا گیا تھا وہ کسی ملک کا وزیر یا بادشاہ ہوسکتا ہے اس لئے بھائیوں نے یوسف ؑ کو نہ پہچانا مگر یوسف ؑ نے پہچان لیا آیت مذکورہ میں فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ کے یہی معنی ہیں عربی زبان میں انکار کے اصلی معنی اجنبی سمجھنے ہی کے آتے ہیں اس لئے مُنْكِرُوْنَ کے معنی ناواقف اور انجان کے ہوگئے،
یوسف ؑ کے پہچان لینے کے متعلق ابن کثیر نے بحوالہ سدی یہ بھی بیان کیا ہے کہ جب یہ دس بھائی دربار میں پہنچنے تو یوسف ؑ نے مزید اطمینان کے لئے ان سے ایسے سوالات کئے جیسے مشتبہ لوگوں سے کئے جاتے ہیں تاکہ وہ پوری حقیقت واضح کر کے بیان کردیں اول تو ان سے پوچھا کہ آپ لوگ مصر کے رہنے والے نہیں آپ کی زبان بھی عبرانی ہے آپ یہاں کیسے پہنچنے انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے ملک میں قحط عظیم ہے اور ہم نے آپ کی تعریف سنی اس لئے غلہ حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں یوسف ؑ نے پھر کہ ہمیں یہ کیسے اطمینان ہو کہ تم سچ کہہ رہے ہو اور تم کسی دشمن کے جاسوس نہیں ہو، تو ان سب بھائیوں نے عرض کیا کہ معاذاللہ ہم سے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہم تو اللہ کے رسول یعقوب ؑ کے بیٹے ہیں جو کنعان میں رہتے ہیں
Ayah 12:59یوسف ؑ کا ان سوالات سے مقصد ہی یہ تھا کہ یہ ذرا کھل کر پورے واقعات بیان کردیں تب یوسف ؑ نے دریافت کیا کہ تمہارے والد کے اور بھی کوئی اولاد تمہارے سوا ہے تو انہوں نے بتلایا کہ ہم بارہ بھائی تھے جن میں سے ایک چھوٹا بھائی جنگل میں گم ہوگیا اور ہمارے والد کو سب سے زیادہ اسی سے محبت تھی اس کے بعد سے اس کے چھوٹے حقیقی بھائی کے ساتھ زیادہ محبت کرنے لگے اور اسی لئے اس وقت بھی اس کو سفر میں ہمارے ساتھ نہیں بھیجا تاکہ وہ اس کی تسلّی کا سبب بنے،
یوسف ؑ نے یہ سب باتیں سن کر حکم دیا کہ ان کو شاہی مہمان کی حیثیت سے ٹھرائیں اور قاعدہ کے موافق غلہ دیدیں۔
تقسیم غلہ میں یوسف ؑ نے ضابطہ کار یہ بنایا تھا کہ ایک مرتبہ میں کسی ایک شخص کو ایک اونٹ کے بار سے زیادہ نہ دیتے مگر جب حساب کے موافق وہ ختم ہوجائے تو پھر دوبارہ دیدیتے تھے۔
بھائیوں سے ساری تفصیلات معلوم کرلینے کے بعد ان کے دل میں یہ خیال آنا طبعی امر تھا کہ یہ پھر دوبارہ بھی آئیں اس کے لئے ایک انتظام تو ظاہرا یہ کیا کہ خود ان بھائیوں سے کہا اِئْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّىْٓ اُوْفِي الْكَيْلَ وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ یعنی جب تم دوبارہ آؤ تو اپنے سوتیلے بھائی باپ شریک کو بھی لے کر آنا تم دیکھ رہے ہو کہ میں کس طرح پورا پورا غلہ دیتا ہوں اور کس طرح مہمانی کرتا ہوں
Ayahs 12:60–61اور پھر ایک دھمکی بھی دے دی (آیت) فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِيْ بِهٖ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِنْدِيْ وَلَا تَقْرَبُوْنِ یعنی اگر تم اپنے اس بھائی کو ساتھ نہ لائے تو پھر میں تم میں سے کسی کو بھی غلہ نہ دوں گا (کیونکہ میں سمجھوں گا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے) اس طرح تم میرے پاس نہ آنا، دوسرا انتظام خفیہ یہ کیا کہ جو نقد یا زیور وغیرہ ان بھائیوں نے غلہ کی قیمت کے طور پر ادا کیا تھا اس کے متعلق کارندوں کو حکم دے دیا کہ اس کو چھپا کر انہی کے سامان میں اس طرح باندھ دو کہ ان کو اس وقت پتہ نہ لگے تاکہ جب یہ گھر پہنچ کر سامان کھولیں اور اپنا نقدو زیور بھی ان کو واپس ملے تو یہ پھر دوبارہ لینے کیلئے آسکیں
Ayah 12:62ابن کثیر نے یوسف ؑ کو یہ خیال آیا کہ شایدان کے پاس اس نقد وزیور وغیرہ کے سوا اور کچھ موجود ہی نہ ہو تو پھر دوبارہ غلہ لینے کے لئے نہیں آسکیں گے دوسرے یہ بھی احتمال ہے کہ اپنے والد اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینا گوارا نہ ہو اس لئے شاہی خزانہ میں اپنے پاس سے جمع کردیا ان کی رقم ان کو واپس کردی اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ جب ان کا سامان ان کے پاس پہنچ جائے گا اور والد ماجد کو علم ہوگا تو وہ اللہ کے رسول ہیں اس پر واپس شدہ سامان کو مصری خزانہ کی امانت سمجھ کر ضرور واپس بھیجیں گے اس لئے بھائیوں کا دوبارہ آنا اور یقینی ہوجائے گا، بہرحال یوسف ؑ نے یہ سب انتظامات اس لئے کئے کہ آئندہ بھی بھائیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہے اور چھوٹے حقیقی بھائی سے ملاقات بھی ہوجائے،
مسائل و فوائد
یوسف ؑ کے اس واقعہ سے اس کا جواز معلوم ہوا کہ جب کسی ملک میں اقتصادی حالات ایسے خراب ہوجائیں کہ اگر حکومت نظم قائم نہ کرے تو بہت سے لوگ اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہوجائیں تو حکومت ایسی چیزوں کو اپنے نظم اور کنڑول میں لے سکتی ہے اور غلہ کی مناسب قیمت مقرر کرسکتی ہے حضرات فقہاء امت نے اس کی تصریح فرمائی ہے
یوسف ؑ کا اپنے حالات سے والد کو اطلاع نہ دینا بامر الہی تھا
یوسف ؑ کے اس واقعہ میں ایک بات حیرت انگیز ہے کہ مفارقت سے اتنے متأثر کہ روتے روتے نابینا ہوگئے اور دوسری طرف یوسف ؑ جو خود بھی نبی و رسول ہیں باپ سے فطری اور طبعی محبت کے علاوہ ان کے حقوق سے بھی پوری طرح باخبر ہیں لیکن چالیس سال کے طویل زمانہ میں ایک مرتبہ بھی کبھی یہ خیال نہ آیا کہ میرے والد میری جدائی سے بےچین ہیں اپنی خیریت کی خبر کسی ذریعہ سے ان تک پہونچوا دیں خبرپہونچوا دینا تو اس حالت میں بھی کچھ بعید نہ تھا جب وہ غلامی کی صورت میں مصر پہنچ گئے تھے پھر عزیز مصر کے گھر میں تو ہر طرح کی آزادی اور آسائش کے سامان بھی تھے، اس وقت کسی ذریعہ سے گھر تک خط یا خبر پہونچوا دینا کچھ مشکل نہ تھا اسی طرح جیل کی زندگی میں دنیا جانتی ہے کہ سب خبریں ادھر کی ادھر پہونچتی ہی رہتی ہیں خصوصاً جب اللہ تعالیٰ نے عزت کے ساتھ جیل سے رہا فرمایا اور ملک مصر کا اقتدار ہاتھ میں آیا اس وقت تو خود چل کر والدین خدمت میں حاضر ہونا سب سے پہلا کام ہونا چاہئے تھا اور یہ کسی وجہ سے مصلحت کے خلاف ہوتا تو کم از کم قاصد بھیج کر والد کو مطمئن کر دنیا تو معمولی بات تھی
لیکن پیغمبر خدا یوسف ؑ سے کہیں منقول نہیں کہ اس کا ارادہ بھی کیا ہو اور خود کیا ارادہ کرتے جب بھائی غلہ لینے کے لئے آئے تو ان کو بھی اصل واقعہ کے اظہار کے بغیر رخصت کردیا یہ تمام حالات کسی ادنیٰ انسان سے بھی متصور نہیں ہو سکتے اللہ کے برگزیدہ رسول سے یہ صورت کیسے برداشت ہوئی اس حیرت انگیز خاموشی کا ہمیشہ یہی جواب دل میں آیا کرتا تھا کہ غالباً اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے ما تحت یوسف ؑ کو اپنے اظہار سے روک دیاہو گا تفسیر قرطبی میں اس کی تصریح مل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ حضرت یوسف ؑ کو روک دیا تھا کہ اپنے گھر اپنے متعلق کوئی خبر نہ بھیجیں ،
اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو وہی جانتے ہیں انسان ان کا کیا احاطہ کرسکتا ہے کبھی کوئی چیز کسی کے سمجھ میں بھی آجاتی ہے یہاں بظاہر اس کی اصل حکمت اس امتحان کی تکمیل تھی جو یعقوب ؑ کا لیا جا رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس واقعہ کی ابتداء ہی میں جب یعقوب ؑ کو یہ انداز ہوچکا تھا کہ یوسف کو بھیڑئیے نے نہیں کھایا بلکہ بھائیوں کی کوئی شرارت ہے تو اس کا طبعی اقتضاء یہ تھا کہ اسی وقت جگہ پر پہونچتے تحقیق کرتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو دھیان اس طرف نہ جانے دیا اور پھر مدتوں کے بعد انہوں نے بھائیوں سے یہ بھی فرمایا کہ جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے سب اسباب اسی طرح جمع فرمادیتے ہیں،
Ayah 12:63خلاصہ تفسیر
غرض جب لوٹ کر اپنے باپ (یعقوب ؑ کے پاس پہنچے کہنے لگے اے ابا (ہماری بڑی خاطر ہوئی اور غلہ بھی ملا مگر بنیامین کا حصہ نہیں ملا بلکہ بدون بنیامین کے ساتھ لے جاتے ہوئے آئندہ بھی) ہمارے لئے (مطلقا) غلہ کی بندش کردی گئی سو (اس صورت میں ضروری ہے کہ) آپ ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ (دوبارہ غلہ لانے سے جو امر مانع ہے وہ مرتفع ہوجاوے اور) ہم (پھر) غلہ لا سکیں اور (اگر ان کے بھیجنے سے آپ کو کوئی اندیشہ ہی مانع ہے تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ) ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بس (رہنے دو) میں اس کے بارے میں بھی تمہارا ویسا ہی اعتبار کرتا ہوں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف علیہ السلام) کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں (یعنی دل تو میرا گواہی دیتا نہیں مگر تم کہتے ہو کہ بدون اس کے گئے ہوئے آئندہ غلہ نہ ملے گا اور عادۃ زندگی کا مدار ہی پر ہے اور جان بچانا فرض ہے) سو (خیر اگر لے ہی جاؤ گے تو) اللہ (کے سپرد وہی) سب سے بڑھ کر نگہبان ہے (میری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے) اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (میری محبت اور شفقت سے کیا ہوتا ہے) اور (اس گفتگو کے بعد) جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو (اس میں) ان کی جمع پونجی (بھی) ملی کہ ان ہی کو واپس کردی گئی کہنے لگے کہ اے ابّا (لیجئے) اور ہم کو کیا چاہئے یہ ہماری جمع پونجی بھی تو ہم ہی کو لوٹا دی گئی (ایسا کریم بادشاہ ہے اور اس سے زیادہ کس عنایت کا انتظار کریں یہ عنایت بس ہے اس کا مقتضیٰ بھی یہی ہے کہ ایسے کریم بادشاہ کے پاس پھرجائیں گے اور وہ موقوف ہے بھائی کے ساتھ لیجانے پر اس لئے اجازت ہی دیدیجئے ان کو ساتھ لے جائیں گے) اور اپنے گھر والوں کے واسطے (اور) رسدلائیں گے اور اپنے بھائی کی خوب حفاظت رکھیں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ اور زیادہ لائیں گے (کیونکہ جس قدر اس وقت لائے ہیں) یہ تو تھوڑا سا غلہ ہے (جلد ہی ختم ہوجائے گا پھر اور ضرورت ہوگی اور اس کا ملنا موقوف ہے ان کے لیجانے پر) یعقوب ؑ نے فرمایا کہ (خیر اس حالت میں بھیجنے سے انکار نہیں لیکن) اس وقت تک ہرگز اس کو تمہارے ہمراہ نہ بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھالی) سو جب وہ قسم کھا کر اپنے باپ کو قول دے چکے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ جو بات چیت کر رہے ہیں یہ سب اللہ کے حوالے ہے (یعنی وہی ہمارے قول و اقرار کا گواہ ہے کہ سن رہا ہے اور وہی اس قول کو پورا کرسکتا ہے پس اس کہنے سے دو غرض ہوئیں اول ان کو اپنے قول کے خیال رکھنے کی ترغیب اور تنبیہ کہ اللہ کو حاضر وناضر سمجھنے سے یہ بات ہوتی ہے اور دوسرے اس تدبیر کا منتہیٰ تقدیر کو قرار دینا کہ توکل کا حاصل ہے اور اس کے بعد بنیامین کو ہمراہ جانے کی اجازت دے دیغرض دوبارہ مصر کے سفر کو مع بنیامین سب تیار ہوگئے)
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں واقعہ کا بقیہ حصہ اس طرح مذکور ہے کہ جب برادران یوسف ؑ مصر سے غلہ لے کر گھر واپس آئے تو مصر کے معاملہ کا تذکرہ والد ماجد سے کرتے ہوئے یہ بھی بتلایا کہ عزیز مصر نے آئندہ کے لئے ہمیں غلہ دینے کے لئے یہ شرط کردی ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لاؤ گے تو ملے گا ورنہ نہیں اس لئے آپ آئندہ بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہمیں آئندہ بھی غلہ مل سکے اور ہم اس بھائی کی تو پوری حفاظت کرنے والے ہیں ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی ،
والد ماجد نے فرمایا کہ کیا ان کے بارے میں تم پر ایسا ہی اطمینان کروں جیسا اس سے پہلے ان کے بھائی یوسف کے بارے میں کیا تھا مطلب ظاہر ہے کہ اب تمہاری بات کا اعتبار کیا ہے ایک مرتبہ تم پر اطمینان کر کے مصبیت اٹھا چکا ہوں تم نے یہی الفاظ حفاظت کرنے کے اس وقت بھی بولے تھے،
یہ تو ان کی بات کا جواب تھا مگر پھر خاندان کی ضرورت کے پیش نظر پیغمبرانہ توکل اور اس حقیقت کو اصل قرار دیا کہ کوئی نفع نقصان کسی بندہ کے ہاتھ میں نہیں جب تک اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت و ارادہ نہ ہو اور جب ان کا ارادہ ہوجائے تو پھر اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس لئے مخلوق پر بھروسہ بھی غلط ہے اور ان کی شکایات پر معاملہ کا مدار رکھنا بھی نامناسب ہے
Ayah 12:64اس لئے فرمایا فاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا یعنی تمہاری حفاظت کا نتیجہ تو پہلے دیکھ چکا ہوں اب تو میں اللہ تعالیٰ ہی کی حفاظت پر بھروسہ کرتا ہوں وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ اور وہ سب سے زیادہ رحمت کرنے والا ہے اسی سے امید ہے کہ وہ میری ضعیفی اور موجودہ غم واندوہ پر نظر فرما کر مجھ پر دوہرے صدمے نہ ڈالے گا
خلاصہ یہ ہے کہ یعقوب ؑ نے ظاہری حالات اور اپنی اولاد کے عہد و پیمان پر بھروسہ نہ کیا مگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر چھوٹے بیٹے کو بھی ساتھ بھیجنے کے لئے تیار ہو گئے
Ayah 12:65(آیت) وَلَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ ۭ قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَا نَبْغِيْ ۭهٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا ۚ وَنَمِيْرُ اَهْلَنَا وَنَحْفَظُ اَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ ۭ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ
یعنی اب تک تو برادران یوسف ؑ کی یہ ابتدائی گفتگو حالات سفر بیان کرنے کے دوران میں ہو رہی تھی ابھی سامان کھولا نہ تھا اس کے بعد جب سامان کھولا اور دیکھا کہ ان کی وہ پونجی جو غلہ کی قیمت میں ادا کر کے آئے تھے وہ بھی سامان کے اندر جو موجود ہے تو اس وقت انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ کام سہواً نہیں ہوا بلکہ قصدا ہماری پونجی ہمیں واپس کردی گئی ہے اسی لئے رُدَّتْ اِلَيْنَا کہا یعنی یہ پونجی ہمیں واپس کردی گئی ہے اور پھر والد محترم سے عرض کیا یعنی ہمیں اور کیا چاہئے کہ غلہ بھی آ گیا اور اس کی قیمت بھی واپس مل گئی اب تو ہمیں ضرور دوبارہ اپنے بھائی کو ساتھ لے کر اطمینان سے جانا چاہئے کیونکہ اس معاملہ سے معلوم ہوا کہ عزیز مصر ہم پر بہت مہربان ہے اس لئے کوئی اندیشہ نہیں ہم اپنے خاندان کے لئے غلہ لائیں اور بھائی کو بھی حفاظت سے رکھیں اور بھائی کے حصہ کا غلہ مزید مل جائے کیونکہ ہم جو کچھ لائے ہیں یہ تو ہمارے اخراجات کے مقابلہ میں بہت تھوڑا ہے چند روز میں ختم ہوجائے گا،
برادران یوسف ؑ نے جو یہ جملہ مانبغی کہا اس کا ایک مفہوم وہی ہے جو ابھی بتلایا گیا کہ ہمیں اور اس سے زیادہ کیا چاہئے اور اس جملہ میں حرف ما کو نفی کے معنی میں لیا جائے تو یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ اولاد یعقوب ؑ نے اپنے والد سے عرض کیا کہ اب تو ہمارے پاس غلہ لانے کے لئے قیمت موجود ہے ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے آپ صرف بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں
Ayah 12:66والد محترم نے یہ سب باتیں سن کر جواب دیا لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤ ْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖٓ یعنی میں بنیامین کو تمہارے ساتھ اس وقت تک نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اور یہ عہد و پیمان مجھے نہ دے دو کہ تم اس کو ضرور اپنے ساتھ واپس لاؤ گے مگر چونکہ حقیقت میں نظروں سے یہ بات کسی وقت غائب نہیں ہوتی کہ انسان بیچارہ ظاہری قوت وقدرت کتنی ہی رکھتا ہو پھر بھی ہر چیز میں مجبور اور قدرت حق جل شانہ کے سامنے عاجز ہے وہ کسی شخص کو حفاظت کے ساتھ واپس لانے کا عہد و پیمان ہی کیا کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس پر مکمل قدرت نہیں رکھتا اس لئے اس عہد و پیمان کے ساتھ ایک استثناء بھی لگا دیا (آیت) الا این یحاط بکم یعنی بجز اس صورت کے کہ تم سب کسی گھیرے میں آجاؤ امام تفسیر مجاہد ؒ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ تم سب ہلاک ہوجاؤ اور قتادہ ؒ نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ تم بالکل عاجز اور مغلوب ہوجاؤ۔
آیت) فَلَمَّآ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَال اللّٰهُ عَلٰي مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ یعنی جب صاحبزادوں نے مطلوبہ طریقہ پر عہد و پیمان کرلیا یعنی سب نے قسمیں کھائیں اور والد کو اطمینان دلانے کیلئے بڑی شدت سے حلف کئے تو یعقوب ؑ نے فرمایا کہ بنیامین کی حفاظت کے لئے حلف اٹھانے کا جو کام ہم کر رہے ہیں اس سب معاملہ کا بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہے اسی کی توفیق سے کوئی کسی کی حفاظت کرسکتا ہے اور اپنے عہد کو پورا کرسکتا ہے ورنہ انسان بےبس ہے اس کے ذاتی قبضہ قدرت میں کچھ نہیں
ہدایات ومسائل
مذکورہ آیات میں انسان کے لئے بہت سی ہدایات اور احکام ہیں ان کو یاد رکھئے
پہلی ہدایتبرادران یوسف ؑ سے جو خطا اس سے پہلے سرزد ہوئی وہ بہت سے کبیر اور شدید گناہوں پر مشتمل تھی، مثلا اول، جھوٹ بول کر والد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ یوسف ؑ کو ان کے ساتھ تفریح کے لئے بھیج دیں، دوسرے والد سے عہد کر کے اس کی خلاف ورزی، تیسرے چھوٹے معصوم بھائی سے بےرحمی اور شدت کا برتاؤ، چوتھے ضعیف والد کی انتہائی دل آزاری کی پروا نہ کرنا، پانچویں ایک بےگناہ انسان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانا چھٹے ایک آزاد انسان کو جبراً اور ظلماً فروخت کردینا۔
یہ ایسے انتہائی اور شدید جرائم تھے کہ جب یعقوب ؑ پر یہ واضح ہوگیا کہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے اور دیدہ و دانستہ یوسف ؑ کو ضائع کیا ہے تو اس کا مقتضیٰ بظاہر یہ تھا کہ وہ ان صاحبزادوں سے قطع تعلق کرلیتے یا ان کو نکال دیتے مگر حضرت یعقوب ؑ نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ بدستور والد کی خدمت میں رہے یہاں تک کہ انھیں مصر سے غلہ لانے کے لئے بھیجا اور اس پر مزید یہ کہ دوبارہ پھر ان کو چھوٹے بھائی کے متعلق والد سے عرض معروض کرنے کا موقع ملا اور بالآخر ان کی بات مان کر چھوٹے صاحبزادہ کو بھی ان کے حوالہ کردیا، اس سے معلوم ہوا کہ اولاد سے کوئی گناہ وخطا سرزد ہوجائے تو باپ کو چاہئے کہ تربیت کر کے ان کی اصلاح کی فکر کرے اور جب تک اصلاح کی امید ہو قطع تعلق نہ کرے جیسا کہ حضرت یعقوب ؑ نے ایسا ہی کیا اور بالآخر وہ سب اپنی خطاؤں پر نادم اور گناہوں سے تائب ہوئے ہاں اگر اصلاح سے مایوسی ہوجائے اور ان کے ساتھ تعلق قائم رکھنے میں دوسروں کے دین کا ضرر محسوس ہو تو پھر قطع تعلق کرلینا مناسب ہے،
دوسری ہدایتاس حسن معاملہ اور حسن خلق کی ہے جو یہاں حضرت یعقوب ؑ سے ظاہر ہوا کہ صاحبزادوں کے اتنے شدید جرائم کے باوجود ان کا معاملہ ایسا رہا کہ دوبارہ چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جانے کی درخواست کرنے کی جرأت کرسکے،
تیسری ہدایتیہ بھی ہے کہ ایسی صورت میں بغرض اصلاح خطا کار کو جتلا دینا بھی مناسب ہے کہ تمہارے معاملہ کا تقاضا تو یہ تھا کہ تمہاری بات نہ مانی جاتی مگر ہم اس سے در گذر کرتے ہیں تاکہ وہ آئندہ شرمندہ ہو کر اس سے کلی طور پر تائب ہوجائے جیسا کہ یعقوب ؑ نے اول جتلایا کہ کیا بنیامین کے معاملہ میں بھی تم پر ایسا ہی اطمینان کرلوں جیسا یوسف ؑ کے معاملہ میں کیا تھا مگر جتلانے کے بعد غالب احوال سے ان کا تائب ہونا معلوم کر کے اللہ پر توکل کیا اور چھوٹے صاحبزادے کو ان کے حوالہ کردیا۔
چوتھی ہدایتیہ ہے کہ کسی انسان کے وعدہ اور حفاظت پر حقیقی طور سے بھروسہ کرنا غلطی ہے اصل بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہئے وہی حقیقی کارساز اور مسبب الاسباب ہیں اسباب کو مہیا کرنا پھر ان میں تاثیر دینا سب انہی کی قدرت میں ہے اسی لئے یعقوب ؑ نے فرمایا فاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا۔ کعب احبار کا قول ہے کہ اس مرتبہ چونکہ حضرت یعقوب ؑ نے صرف اولاد کے کہنے پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ معاملہ کو اللہ کے سپرد کیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قسم ہے میری عزت و جلال کی کہ اب میں آپ کے دونوں بیٹوں کو آپ کے پاس واپس بھیجوں گا
پانچواں مسئلہاس میں یہ ہے کہ اگر دوسرے شخص کا مال یا کوئی چیز اپنے سامان میں نکلے اور قرائن قویہ اس پر شاہد ہوں کہ اس نے بالقصد ہمیں دینے ہی کے لئے ہمارے سامان میں باندھ دیا ہے تو اس کو اپنی لئے رکھنا اور اس میں تصرف کرنا جائز ہے جیسے یہ پونجی جو برادران یوسف ؑ کے سامان سے برآمد ہوئی اور قرائن قویہ اس پر شاہد تھے کہ کسی بھول یا نسیان سے ایسا نہیں ہوا بلکہ قصدا اس کو واپس دے دیا گیا ہے اس لئے حضرت یعقوب ؑ نے اس رقم کی واپسی کی ہدایت نہیں فرمائی لیکن جہاں یہ اشتباہ موجود ہو کہ شاید بھولے سے ہمارے پاس آگئی وہاں مالک سے تحقیق اور دریافت کئے بغیر اس کا استعمال کرنا جائز نہیں
چھٹامسئلہاس میں یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی قسم دینا نہیں چاہئے جس کا پورا کرنا بالکل اس کے قبضہ میں نہ ہو جیسے حضرت یعقوب ؑ نے بنیامین کو صحیح وسالم واپس لانے کی قسم دی تو اس میں سے اس حالت کو مستثنی ٰ کردیا کہ یہ بالکل عاجز و مجبور ہوجائیں یا خود بھی سب ہلاکت میں پڑجائیں، اسی لئے رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام ؓ سے اپنی اطاعت کا عہد لیا تو خود اس میں استطاعت کی قید لگا دی یعنی جہاں تک ہماری قدرت و استطاعت میں داخل ہے ہم آپ کی پوری اطاعت کریں گے،
ساتواں مسئلہاس میں یہ ہے کہ برادران یوسف سے عہد و پیمان لینا کہ وہ بنیامین کو واپس لائیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفالۃ بالنفس جائز ہے یعنی کسی مقدمہ میں ماخوذ انسان کو مقدمہ کی تاریخ پر حاضر کرنے کی ضمانت کرلینا درست ہے،
اس مسئلہ میں امام مالک ؒ کا اختلاف ہے وہ صرف مالی ضمانت کو جائز رکھتے ہیں نفس انسانی کی ضمانت کو جائز نہیں رکھتے