Ayah 12:101خلاصہ تفسیر
(اس کے بعد سب ہنسی خوشی رہتے رہے یہاں تک کہ یعقوب ؑ کی عمر اختتام پر پہنچی اور بعد وفات ان کی وصیت کے مطابق ملک شام میں لے جا کر اپنے بزرگوں کے پاس دفن کئے گئے پھر یوسف ؑ کو بھی آخرت کا اشتیاق ہوا اور دعا کی کہ) اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو (ہر طرح کی نعمتیں دیں، ظاہری بھی باطنی بھی، ظاہری یہ کہ مثلا) سلطنت کا بڑاحصہ دیا، اور (باطنی یہ کہ مثلا) مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا (جو کہ علم عظیم ہے خصوصاً جب کہ وہ یقینی ہو جو موقوف ہے وحی پر پس اس کا وجود مستلزم ہوگا عطاء نبوت کو) اے خالق آسمانوں اور زمین کے آپ میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی (پس جس طرح دنیا میں میرے سارے کام بنا دیئے کہ سلطنت دی، علم دیا، اسی طرح آخرت کے کام بھی بنا دیجئے کہ) مجھ کو فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجئے اور خاص نیک بندوں میں شامل کر دیجئے (یعنی میرے بزرگوں میں جو انبیاء عظام ہوئے ہیں ان میں مجھ کو بھی پہنچا دیجئے)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں تو والد بزرگوار سے خطاب تھا اس کے بعد جبکہ والدین اور بھائیوں کی ملاقات سے ایک اہم مقصد حاصل ہو کر سکون ملا تو براہ راست حق تعالیٰ کی حمد وثناء اور دعاء میں مشغول ہوگئے، فرمایا (آیت) رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۣاَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ یعنی اے پروردگار آپ نے ہی مجھ کو سلطنت کا بڑا حصہ دیا اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا، اے آسمان و زمین کے خالق آپ ہی دنیا وآخرت میں میرے کارساز ہیں مجھ کو پوری فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لیجئے اور مجھ کو کامل نیک بندوں میں شامل رکھئے کامل نیک بندے انبیاء (علیہم السلام) ہو سکتے ہیں جو ہر گناہ سے معصوم ہیں (مظہری)
اس دعاء میں حسن خاتمہ کی دعاء خاص طور پر قابل نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کا رنگ یہ ہوتا ہے کہ کتنے ہی درجات عالیہ دنیا و آخرت کے ان کو نصیب ہوں اور کتنے ہی جاہ و منصب ان کے قدموں میں ہوں وہ کسی وقت ان پر مغرور نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت اس کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ حالات سلب یا کم نہ ہوجائیں اس کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ظاہری اور باطنی نعمتیں موت تک برقرار رہیں بلکہ ان میں اضافہ ہوتا رہے یہاں تک حضرت یوسف ؑ کا عجیب و غریب قصہ اور اس کے ضمن میں آئی ہوئی ہدایات کا سلسلہ جو قرآن میں مذکور ہے پورا ہوگیا اس کے بعد کا قصہ قرآن کریم یا کسی حدیث مرفوع میں منقول نہیں اکثر علماء تفسیر نے تاریخی یا اسرائیلی روایات کے حوالہ سے نقل کیا ہے تفسیر ابن کثیر میں حضرت حسن ؒ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ یوسف ؑ کو جس وقت بھائیوں نے کنویں میں ڈالا تھا تو ان کی عمر سترہ سال کی تھی پھر اسی سال والد سے غائب رہے اور والدین کی ملاقات کے بعد تئیس سال زندہ رہے اور ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی
اور محمد بن اسحاق نے فرمایا کہ اہل کتاب کی روایات میں ہے کہ یوسف ؑ اور یعقوب ؑ کی مفارقت کا زمانہ چالیس سات تھا پھر یعقوب ؑ مصر میں تشریف لانے کے بعد یوسف ؑ کے ساتھ سترہ سال زندہ رہے اس کے بعد ان کی وفات ہوگئی،
تفسیر قرطبی میں اہل تاریخ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ مصر میں چوبیس سال رہنے کے بعد یعقوب ؑ کی و فات ہوئی اور وفات سے پہلے یوسف ؑ کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری لاش کو میرے وطن بھیج کر میرے والد اسحاق ؑ کے پاس دفن کیا جائے ،
سعید بن جبیر ؒ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب ؑ کو سال کی لکڑی کے تابوت میں رکھ کر بیت المقدس کی طرف منتقل کیا گیا اسی وجہ سے عام یہود میں یہ رسم چل گئی کہ اپنے مردوں کو دور دوسرے بیت المقدس میں لے جا کر دفن کرتے ہیں حضرت یعقوب ؑ کی عمر وفات کے وقت ایک سو سینتالیس سال تھی
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ یعقوب ؑ مع اپنی اولاد کے جب مصر میں داخل ہوئے تو ان کی تعداد ترانوے مرد و عورت پر مشتمل تھی اور جب یہ اولاد یعقوب یعنی بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کے ساتھ مصر سے نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی (قرطبی و ابن کثیر) یہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ سابق عزیز مصر کے انتقال کے بعد شاہ مصر نے حضرت یوسف ؑ کی شادی زلیخا کے ساتھ کرا دی تھی
تورات اور اہل کتاب کی تاریخ میں ہے کہ ان سے یوسف ؑ کے دو لڑکے افرائیم اور منشا اور ایک لڑکی رحمت بنت یوسف پیدا ہوئے رحمت کا نکاح حضرت ایوب ؑ کے ساتھ ہوا اور افرائیم کی اولاد میں یوشع بن نون پیدا ہوئے جو حضرت موسیٰ ؑ کے رفیق تھے (مظہری)
حضرت یوسف ؑ کا انتقال ایک سو بیس سال کی عمر میں ہوا اور دریائے نیل کے کنارے پر دفن کئے گئے
ابن اسحاق نے حضرت عروہ ابن زبیر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب موسیٰ ؑ حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیں تو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ یوسف ؑ کی لاش کو مصر میں نہ چھوڑیں اس کو اپنے ساتھ لے کر ملک چلے جائیں اور ان کے آباء و اجداد کے پاس دفن کریں اس کو اپنے ساتھ لے کر ملک شام چلے جائیں اور ان کے آباء و اجداد کے پاس دفن کریں اس حکم کے مطابق حضرت موسیٰ ؑ نے تفتیش کر کے ان کی قبر دریافت کی جو ایک سنگ مرمر کے تابوت میں تھی اس کو اپنے ساتھ ارض کنعان فلسطین میں لے گئے اور حضرت اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کے برابر دفن کردیا (مظہری)
حضرت یوسف ؑ کے بعد قوم عمالیق کے فراعنہ مصر پر مسلط ہوگئے اور بنواسرائیل ان کی حکومت میں رہتے ہوئے دین یوسف ؑ پر قائم رہے مگر ان کو غیر ملکی سمجھ کر طرح طرح کی ایذائیں دی جانے لگیں یہاں تک کہ حضرت موسیٰ ٰ ؑ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس عذاب سے نکالا (تفسیر مظہری)
ہدایات اور احکام
آیات مذکورہ میں ایک مسئلہ تو یہ معلوم ہوا کہ والدین کی تعظیم و تکریم واجب ہے جیسا کہ یوسف ؑ کے واقعہ سے ثابت ہوا، دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ یوسف ؑ کی شریعت میں سجدہ تعظیمی جائز تھا اسی لئے والدین اور بھائیوں نے سجدہ کیا مگر شریعت محمدیہ میں سجدہ کو خاص عبادت کی علامت قرار دے کر غیر اللہ کے لئے حرام قرار دیا گیا قرآن مجید میں فرمایا لَا تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ اور حدیث میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ جب ملک شام گئے اور وہاں دیکھا کہ نصاریٰ اپنے بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو واپس آ کر رسول کریم ﷺ کے سامنے سجدہ کرنے لگے آپ نے منع فرمایا اور فرمایا کہ اگر میں کسی کو سجدہ کرنا جائز سمجھتا تو عورت کو کہتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کیا کرے اسی طرح حضرت سلمان فارسی ؓ نے آپ کو سجدہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا لا تسجد لی یا سلمان واسجد للحی الذی لایموت یعنی اے سلمان ! مجھے سجدہ نہ کرو بلکہ سجدہ صرف اس ذات کو کرو جو حی وقیوم ہے جس کو کبھی فنا نہیں (ابن کثیر)
اس سے معلوم ہوا کہ جب رسول کریم ﷺ کے لئے تعظیمی سجدہ جائز نہیں تو اور کسی بزرگ یا پیر کے لئے کیسے جائز ہوسکتا ہے
هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ سے معلوم ہوا کہ خواب کی تعبیر بعض اوقات زمانہ دراز کے بعد ظاہر ہوتی ہے جیسے اس واقعہ میں چالیس یا اسی سال کے بعد ظہور ہوا (ابن جریر وابن کثیر)
وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْ سے ثابت ہوا کہ جو شخص کسی مرض یا مصیبت میں مبتلا ہو پھر اس سے نجات ہوجائے تو سنت پیغمبری یہ ہے کہ نجات پر شکر ادا کرے اور مرض و مصیبت کے ذکر کو بھول جائے،
اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ فرماتے ہیں اس کی ایسی لطیف اور مخفی تدبیریں اور سامان کردیتے ہیں کہ کسی کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا،
تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا میں یوسف ؑ نے ایمان واسلام پر موت کی دعاء مانگی ہے اس سے معلوم ہوا کہ خاص حالات میں موت کی دعاء کرنا ممنوع نہیں اور احادیث صحیہ میں جو موت کی تمنا کو منع فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی تکلیفوں سے گھبرا کر بےصبری سے موت مانگنے لگے یہ درست نہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے اگر کہنا ہی ہے تو یوں کہے کہ یا اللہ مجھے جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے اس وقت تک زندہ رکھ اور جب موت بہتر ہو تو مجھے موت دیدے،
Ayahs 12:102–103خلاصہ تفسیر
یہ قصہ (جو اوپر بیان کیا گیا آپ کے اعتبار سے) غیب کی خبروں میں سے ہے (کیونکہ آپ کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اس کے جاننے کا نہیں تھا صرف) ہم (ہی) وحی کے ذریعہ سے آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور (یہ ظاہر ہے کہ) آپ ان (برادران یوسف) کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنا ارادہ (یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالنے کا) پختہ کرلیا تھا اور وہ (اس کے متعلق) تدبیریں کر رہے تھے (کہ آپ سے یوں کہیں کہ ان کو یوں لے جائیں وغیر ذٰلک، اور اس طرح یہ امریقینی ہے کہ آپ نے کسی سے یہ قصہ سنا سنایا بھی نہیں پس یہ صاف دلیل ہے نبوت کی اور صاحب وحی ہونے کی) اور (باوجود نبوت پر دلائل قائم ہونے کے) اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے گو آپ کا کیسا ہی جی چاہتاہو اور (ان کے ایمان نہ لانے سے آپ کا تو کوئی نقصان ہی نہیں کیونکہ) آپ ان سے (قرآن) پر کچھ معاوضہ تو چاہتے نہیں (جس میں یہ احتمال ہو کہ اگر یہ قرآن کو قبول نہ کریں گے تو آپ کا معاوضہ فوت ہوجائے گا) یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے (جو نہ مانے گا اسی کا نقصان ہوگا) اور (جیسی یہ لوگ منکر نبوت ہیں اسی طرح باوجود دلائل کے منکر توحید بھی ہیں چنانچہ) بہت سی نشانیاں ہیں (کہ توحید پر دلالت کرنے والی) آسمانوں میں (جیسا کواکب وغیرہ) اور زمین میں (جیسے عناصر و عنصریات) جن پر ان کا گذر ہوتا رہتا ہے (یعنی ان کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں) اور وہ ان کی طرف (ذرا) توجہ نہیں کرتے (یعنی ان سے استدلال نہیں کرتے) اور اکثر لوگ جو خدا کو مانتے ہیں تو اس طرح کہ شرک بھی کرتے جاتے ہیں (پس بدون توحید خدا کا ماننا مثل نہ ماننے کے ہے پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کیساتھ بھی کفر کرتے ہیں اور نبوت کیساتھ بھی کفر کرتے ہیں) سو کیا (اللہ و رسول کے منکر ہو کر) پھر بھی اس بات سے مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہ ان پر خدا کے عذاب کی کوئی ایسی آفت آ پڑے جو ان کو محیط ہوجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور ان کو (پہلے سے) خبر بھی نہ ہو (مطلب یہ ہے کہ مقتضاء کفر کا عقوبت ہے خواہ دنیا میں نازل ہوجائے یا قیامت کے دن واقع ہو رہے ان کو ڈرنا اور کفر کو چھوڑنا دینا چاہئے) آپ فرما دیجئے کہ میں خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں (توحید کی اور اپنے داعی من اللہ ہونے کی) دلیل پر قائم ہوں میں بھی اور میرے ساتھ والے بھی (یعنی میرے پاس بھی دلیل ہے توحید و رسالت کی اور میرے ساتھ والے بھی استدلال کے ساتھ مجھ پر ایمان لائے ہیں میں بےدلیل بات کی طرف کسی کو نہیں بلاتادلیل سنو اور سمجھو پس حاصل طریق یہ ہوا کہ خدا واحد ہے اور میں داعی ہوں) اور اللہ (شرک سے) پاک ہے اور میں (اس طریق کو قبول کرتا ہوں اور) مشرکین میں سے نہیں ہوں اور (یہ جو نبوت پر شبہ کرتے ہیں کہ نبی فرشتہ ہونا چاہئے محض مہمل بات ہے کیونکہ) ہم نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں سے جتنے (رسول) بھیجے سب آدمی ہی تھے جن کے پاس ہم وحی بھیجتے تھے (کوئی بھی فرشتہ نہ تھا جنہوں نے ان کو نہ مانا اور ایسے ہی مہمل شبہات کرتے رہے ان کو سزائیں دی گئیں اسی طرح ان کو بھی سزا ہوگی خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اور یہ لوگ جو بےفکر ہیں تو کیا یہ الگ ملک میں (کہیں) چلے پھرے نہیں کہ (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا جو ان سے پہلے (کافر) ہو گذرے ہیں اور (یاد رکھو کہ جس دنیا کی محبت میں مدہوش ہو کر تم نے کفر کیا ہے یہ دنیا فانی اور ہیچ ہے) البتہ عالم آخرت ان لوگوں کے لئے نہایت بہیودگی کی چیز ہے (شرک وغیرہ سے) احتیاط رکھتے ہیں (اور توحید و اطاعت اختیار کرتے ہیں) تو کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے (کہ فانی اور بےحقیقت چیز اچھی ہے یا باقی اور پائدار)
معارف و مسائل
ان آیات میں حضرت یوسف ؑ کا قصہ پورا بیان فرمانے کے بعد پہلے نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے،
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ یعنی یہ قصہ غیب کی ان خبروں میں سے ہے جو ہم نے بذریعہ وحی آپ کو بتلایا ہے آپ برادران یوسف کے پاس نہ تھے، جبکہ وہ یوسف ؑ کو کنویں میں ڈالنا طے کرچکے تھے اور اس کے لئے تدبیریں کررہے تھے، اس اظہار کا مقصد یہ ہے کہ یوسف ؑ کے اس قصہ کو پوری تفصیل کے ساتھ صحیح صحیح بیان کردینا آپ کی نبوت اور وحی کی واضح دلیل ہے کیونکہ یہ قصہ آپ کے زمانہ سے ہزاروں سال پہلے کا ہے نہ آپ موجود تھے کہ دیکھ کر بیان فرمادیاہو اور نہ آپ نے کہیں کسی سے تعلیم حاصل کی، کہ کتب تاریخ دیکھ کر یا کسی سے سن کر بیان فرمادیا ہو اس لئے بجز وحی الہی ہونے کے اور کوئی راستہ اس کے علم کا نہیں ،
قرآن کریم نے اس جگہ صرف اتنی بات پر اکتفاء فرمایا ہے کہ آپ وہاں موجود نہ تھے کسی دوسرے شخص یا کتاب سے اس کا علم حاصل نہ ہونے کا ذکر اس لئے ضروری نہیں سمجھا کہ پورا عرب جانتا تھا کہ رسول کریم ﷺ امی ہیں آپ نے کسی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا اور یہ بھی سب کو معلوم تھا کہ آپ کی پوری عمر مکہ معظمہ میں گذری ہے ملک شام کا ایک سفر تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ کیا تھا جس میں راستے ہی سے واپس تشریف لے آئے دوسرا سفر تجارت کے لئے کیا چند ایام میں کام کرکے واپس تشریف لے آئے اس سفر میں بھی کسی عالم سے ملاقات یا کسی علمی ادارے سے تعلق کا کوئی شائبہ نہیں تھا اس لئے اس جگہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی اور قرآن کریم میں دوسری جگہ اس کا بھی ذکر فرمادیا ہے مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا یعنی نزول قرآن سے پہلے ان واقعات کو نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم،
امام بغوی ؒ نے فرمایا کہ یہود اور قریش نے مل کر آزمائش کے لئے رسول کریم ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ اگر آپ اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں تو یوسف ؑ کا واقعہ بتلائیے کہ کیا اور کس طرح ہوا جب آپ نے بوحی الہی یہ سب بتلادیا اور وہ پھر بھی اپنے کفر و انکار پر جمے رہے تو رسول اللہ ﷺ کو صدمہ پہونچا اس پر اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ آپ کی نبوت و رسالت کے دلائل واضح ہونے کے باوجودبہت سے لوگ ایمان لانے والے نہیں آپ کتنی ہی کوشش کریں مطلب یہ ہے کہ آپ کا کام تبلیغ اور اصلاح کی کوشش ہے اس کا کامیاب بنانا نہ آپ کے اختیار میں ہے نہ آپ کے ذمہ ہے نہ آپ کو اس کا کوئی رنج ہونا چاہئے اس کے بعد فرمایا،
احکام و ہدایات
اخبار غیب اور علم غیب میں فرق
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ یہ سب کچھ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ بتلاتے ہیں یہی مضمون تقریبا انہی الفاظ کے ساتھ سورة آل عمران آیت نمبر 44 میں حضرت مریم کے قصہ میں آیا ہے ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ اور سورة ہود کی آیت نمبر 49 میں نوح ؑ کے واقعہ سے متعلق آیا ہے تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ان آیتوں سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو بہت سی غیب کی خبروں پر بذریعہ وحی مطلع کردیتے ہیں خصوصا ہمارے رسول سید الرسل ﷺ کو ان غیب کی خبروں کا خاص حصہ عطا فرمایا ہے جو تمام انبیاع سابقین سے زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امت کو قیامت تک ہونے والے بہت سے واقعات کا تفصیل یا اجمال سے پتہ دیا ہے کتب حدیث میں کتاب الفتن کی تمام حدیثیں اس سے بھری ہوئی ہیں
عوام الناس چونکہ علم غیب صرف اسی کو جانتے ہیں کہ کوئی شخص غیب کی خبروں سے کسی طرح واقف ہوجائے اور یہ وصف رسول کریم ﷺ میں بدرجہ اتم موجود ہے اس لیے خیال لئے خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ عالم الغیب تھے مگر قرآن کریم نے صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّٰهُ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم الغیب سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نہیں ہوسکتا علم غیب اللہ جل شانہ کی صفت خاصہ ہے اس میں کسی رسول یافرشتہ کو شریک سمجھنا ان کو برابر بنانے کی مرادف اور عیسائیوں کا عمل ہے جو رسول کو خدا کا بیٹا اور خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں سے معاملہ کی پوری حقیقت واضح ہوگئی کہ علم غیب تو صرف اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے اور عالم الغیب صرف اللہ جل شانہ ہی ہیں البتہ غیب کی بہت سی خبریں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو بذریعہ وحی بتلا دیتے ہیں یہ قرآن کریم کی اصطلاح میں علم غیب نہیں کہلاتا اور عوام چونکہ اس باریک فرق کو نہیں سمجھتے تو غیب کہہ دیتی ہیں اور جب قرآنی اصطلاح کے مطابق غیر اللہ سے علم غیب کی نفی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اختلاف کرنے لگتے ہیں جس کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں کہ۔
اختلاف خلق ازنام اوفتاد چوں بمعنی رفت آرام اوفتاد
Ayah 12:104(آیت) وَمَا تَسْــــَٔـلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ یعنی آپ جو کچھ ان کو تبلیغ کرنے اور صحیح راستے پر لانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اس پر ان لوگوں سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگتے جس کی وجہ سے ان کو اس کے سننے یا ماننے میں کوئی دشواری ہو بلکہ آپ کا کلام تو خالص خیر خواہی اور نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے اس میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب اس کوشش سے آپ کا مقصد کوئی دنیوی منفعت نہیں بلکہ ثواب آخرت اور قوم کی خیرخواہی ہے تو وہ مقصد آپ کا حاصل ہوچکا پھر آپ کیوں غمگین ہوتے ہیں
Ayah 12:105وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ یعنی یہ لوگ صرف یہی نہیں کہ کسی ناصح کی نصیحت ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں سنتے بلکہ ان کا تو حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی جو کھلی کھلی نشانیاں آسمان و زمین میں ہر وقت سامنے رہتی ہیں ان پر بھی یہ غفلت و اعراض سے گذرے چلے جاتے ہیں ذرا دھیان نہیں دیتے کہ یہ کس کی قدرت و عظمت کی نشانیاں ہیں آسمان و زمین میں حق تعالیٰ شانہ کی خدائی و حکمت وقدرت کی نشانیاں بیشمار ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ پچھلی قوموں پر جو عذاب آئے اور ان کی الٹی ہوئی یا برباد کی ہوئی بستیاں ان کی نظروں سے گذرتی مگر ان سے بھی کوئی عبرت نہیں پکڑتے
یہ بیان تو ایسا لوگوں کا تھا جو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی حکمت وقدرت ہی کے قائل نہیں تھے آگے ان کا بیان ہے جو وجود باری تعالیٰ کے تو قائل ہیں مگر اس کی خدائی میں دوسری چیزوں کو شریک قرار دیتے ہیں
Ayahs 12:106–107فرمایا
(آیت) وَمَا يُؤ ْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ یعنی ان میں جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو وہ بھی شرک کے ساتھ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت وغیرہ اوصاف میں دوسروں کو شریک ٹھراتے ہیں جو سراسر ظلم اور جہل ہے
ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو ایمان کے باوجود مختلف قسم کے شرک میں مبتلا ہیں مسند احمد میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم پر جس چیز کا خطرہ ہے ان میں سب سے زیادہ خطرناک شرک اصغر ہے صحابہ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ریاء شرک اصغر ہے اسی طرح ایک حدیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے کو شرک فرمایا ہے (ابن کثیر عن الترمذی) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے نام کی منت اور نیاز ماننا بھی باتفاق فقہا اس میں داخل ہے،
اس کے بعد ان کی مخالفت و جہالت پر اظہار افسوس و تعجب ہے کہ یہ لوگ اپنے انکار و سرکشی کے باوجود اس بات سے کیسے بےفکر ہوگئے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حادثہ عذاب آ پڑے یا دفعۃ ان پر قیامت آجائے اور وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں
Ayah 12:108(آیت) قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْٓ اَدْعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ عَلٰي بَصِيْرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِيْ ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ یعنی آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ (تم مانو یا نہ مانو) میرا تو یہی طریقہ اور مسلک ہے کہ لوگوں کو بصیرت اور یقین کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتا رہوں میں بھی اور وہ لوگ بھی جو میرا اتباع کرنے والے ہیں
مطلب یہ ہے کہ میری یہ دعوت کسی سرسری نظر پر مبنی نہیں بلکہ پوری بصیرت اور عقل و حکمت پر کا ثمرہ ہے اس دعوت و بصیرت میں رسول کریم ﷺ نے اپنے متبعین اور پیروؤں کو بھی شامل فرمایا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں جو علوم رسالت کے خزانے اور خداوند سبحانہ وتعالیٰ کے سپاہی ہیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ اس تمام امت کے بہترین افراد ہیں جن کے قلوب پاک اور علم گہرا ہے تکلف کا ان میں نام نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے رسول کی صحبت و خدمت کے لئے منتخب فرما لیا ہے تم انہی کے اخلاق و عادات اور طریقوں کو سیکھو کیونکہ وہی سیدھے راستہ پر ہیں
اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ مَنِ اتَّبَعَنِيْ عام ہو ہر اس شخص کے لئے جو قیامت تک دعوت رسول کریم ﷺ کو امت پہنچانے کی خدمت میں مشغول ہو کلبی اور ابن زید نے فرمایا کہ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص رسول کریم ﷺ کے اتباع کا دعویٰ کرے اس پر لازم ہے کہ آپ کی دعوت کو لوگوں میں پھیلائے اور قرآن کی تعلیم کو عام کرے (مظہری)
وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ یعنی شرک سے پاک ہے اللہ اور میں شرک کرنے میں سے نہیں اوپر چونکہ یہ ذکر آیا تھا کہ اکثر لوگ جب اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک جلی یا خفی ملا دیتے ہیں اس لئے شرک سے اپنی بالکل براءت کا اعلان فرمایا خلاصہ یہ کہ میری دعوت کا یہ مطلب نہیں کہ میں لوگوں کو اپنا بندہ بناؤں بلکہ میں خود بھی اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور لوگوں کو بھی اسی کی بندگی کی طرف دعوت دیتا ہوں البتہ بحیثیت داعی مجھ پر ایمان لانا فرض ہے
اس پر جو مشرکین مکہ یہ شبہ پیش کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول اور قاصد تو انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے اس کا جواب اگلی آیت میں اس طرح فرمایا
Ayah 12:109وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى یعنی ان کا یہ خیال بےبنیاد اور لغو ہے کہ اللہ کا رسول اور پیغمبر فرشتہ ہونا چاہئے انسان نہیں ہوسکتا بلکہ معاملہ برعکس ہے کہ انسانوں کے لئے اللہ کا رسول ہمیشہ انسان ہی ہوتا چلا آیا ہے البتہ عام انسانوں سے اس کو یہ امتیاز حاصل ہوتا ہے کہ اس کی طرف براہ راست حق تعالیٰ کی وحی اور پیغام آتا ہے اور وہ کسی کی سعی و عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ خود ہی اپنے بندوں میں سے جس کو مناسب سمجھتے ہیں اس کام کے لئے انتخاب فرما لیتے ہیں اور یہ انتخاب ایسی خاص صفات کمال کی بناء پر ہوتا ہے جو عام انسانوں میں نہیں ہوتیں
آگے ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کی طرف داعی اور رسول کی ہدایات کی خلاف ورزی کر کے عذاب الہی کو دعوت دیتے ہیں فرمایا
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّـلَّذِيْنَ اتَّقَوْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ یعنی کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ ان کو پچھلی قوموں کے حالات کا مشاہدہ ہو کہ رسول کریم ﷺ کے انکار نے ان کو کس انجام بد میں مبتلا کیا مگر یہ لوگ دنیا کی ظاہری زینت و راحت میں مست ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں حالانکہ پرہیزگاروں کے لئے آخرت اس دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا ان لوگوں کو اتنی عقل نہیں کہ دنیا کی چند روزہ راحت کو آخرت کی دائمی اور مکمل نعمتوں اور راحتوں پر ترجیح دیتے ہیں
(آیت) وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے متعلق لفظ رجالا سے معلوم ہوا کہ رسول ہمیشہ مرد ہی ہوتے ہیں عورت نبی یا رسول نہیں ہوسکتی
امام ابن کثیر نے جمہور علماء کا یہی قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کو نبی یا رسول نہیں بنایا بعض علماء نے چند عورتوں کے متعلق نبی ہونے کا اقرار کیا ہے مثلا حضرت ابراہیم ؑ کی بی بی سارہ اور حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ اور حضرت مریم ام عیسیٰ ؑ کیونکہ ان تینوں خواتین کے بارے میں قرآن کریم میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن سے سمجھا جاتا ہے کہ بحکم خداوندی فرشتوں نے ان سے کلام کیا اور بشارت سنائی یا خود ان کو وحی الہی سے کوئی بات معلوم ہوئی مگر جمہور علماء کے نزدیک ان آیتوں سے ان تینوں خواتین کی بزرگی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا بڑا درجہ ہونا تو ثابت ہوتا ہے مگر وہ فرماتے ہیں کہ صرف یہ الفاظ ان کی نبوت و رسالت کے ثبوت کے لئے کافی نہیں
اور اسی آیت میں لفظ اَهْلِ الْقُرٰى سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول عموما شہروں اور قصبوں کے رہنے والوں میں سے بھیجتے ہیں دیہات اور جنگل کے باشندوں میں سے رسول نہیں ہوتے کیونکہ عموما دیہات اور جنگل کے باشندے سخت مزاج اور عقل و فہم میں کامل نہیں ہوتے (ابن کثیر و قرطبی وغیرہ)
Ayah 12:110خلاصہ تفسیر
(اگر تم کو کفار پر تاخیر عذاب سے شبہ عدم وقوع کا ہوتا ہو تو تمہاری غلطی ہے اس لئے کہ پچھلی امتوں کے کفار کو بھی بڑی بڑی مہلتیں دی گئی تھیں) یہاں تک کہ (مدت مہلت دراز ہونے کی وجہ سے) پیغمبر (بات سے) مایوس ہوگئے (کہ ہم نے اللہ کی طرف سے کفار پر عذاب آنے کے وعدہ کا جو وقت اپنے قیاس اور اندازے سے مقرر کرلیا تھا کہ اس وقت میں کفار پر عذاب آ کر ہمارا غلبہ اور حقانیت واضح ہوجائے گی) اور ان (پیغمبروں) کو گمان غالب ہوگیا کہ (وعدہ الہیہ کا وقت مقرر کرنے میں) ہمارے فہم نے غلطی کی (کی بلا تنصیص محض قرائن یا نصرت الہیہ کے جلد آنے کی خواہش سے قریب کا وقت معین کرلیا حالانکہ وعدہ مطلق ہے ایسی مایوسی کی حالت میں) ان کو ہماری مدد پہنچی (وہ مدد یہ کہ کفار پر عذاب سے) ہم نے جس کو چاہا وہ بچا لیا گیا (مراد اس سے مؤمنین ہیں) اور (اس عذاب میں کفار ہلاک کئے گئے کیونکہ) ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا (بلکہ ان پر ضرور واقع ہوتا ہے گو بدیر سہی پس یہ کفار مکہ بھی اس دھوکہ میں نہ رہیں) ان (انبیاء وامم سابقین) کے قصہ میں سمجھدار لوگوں کے لئے (بڑی) عبرت ہے (جو اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں کہ اطاعت کا یہ انجام ہے اور معصیت کا یہ انجام ہے) یہ قرآن (جس میں یہ قصے ہیں) کوئی تراشی ہوئی بات تو ہے نہیں (کہ اس سے عبرت نہ ہوتی) بلکہ اس سے پہلے جو آسمانی کتابیں (نازل) ہوچکی ہیں یہ ان کی تصدیق کرنے والے ہے اور ہر (ضروری) بات کی تفصیل کرنے والا ہے اور ایمان والوں کے لئے ذریعہ ہدایت و رحمت ہے (پس ایسی کتاب میں جو مضامین عبرت کے ہوں گے ان سے تو عبرت حاصل کرنا لازم ہی ہے)
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں انبیاء (علیہم السلام) کے بھیجنے اور دعوت حق دینے کا ذکر اور انبیاء کے متعلق کچھ شبہات کا جواب دیا گیا تھا آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس پر تنبیہ ہے کہ یہ لوگ انبیاء کی مخالفت کے انجام بد پر نظر نہیں کرتے اگر یہ ذرا بھی غور کریں اور اپنے گردو پیش کے شہروں اور مقامات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ انبیاء (علیہم السلام) مخالفت کرنے والوں کا انجام بد اس دنیا میں بھی کس قدر سخت ہوا ہے قوم لوط ؑ کی بستی الٹ دی گئی قوم عاد وثمود کو طرح طرح کے عذابوں سے نیست و نابود کردیا گیا اور آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت ہے،
دوسری آیت میں ہدایت کی گئی کہ دنیا کی تکلیف و راحت تو بہرحال چند روزہ ہے اصل فکر آخرت کی ہونی چاہئے جہاں کا قیام دائمی اور رنج یا راحت بھی دائمی ہے اور فرما دیا کہ آخرت کی درستگی تقوی پر موقوف ہے جس کے معنی تمام احکام شرعیہ کی پابندی کرنا ہیں
اس آیت میں پچھلے رسولوں اور ان کی امتوں کے حالات سے موجودہ لوگوں کو متنبہ کرنا تھا اس لئے اگلی آیت میں ان کے شبہ کو دور کیا گیا وہ یہ کہ اکثر لوگ رسول کریم ﷺ کے عذاب الہی سے ڈرانے کا ذکر عرصہ سے سن رہے تھے اور کوئی عذاب آتا نظر نہیں آتا تھا اس سے ان کی ہمتیں بڑھ رہی تھیں کہ کوئی عذاب آتا ہوتا تو ابتک آ چکا ہوتا اس لئے فرمایا کہ اللہ جل شانہ اپنی رحمت اور حکمت بالغہ سے بسا اوقات مجرم قوموں کو مہلت دیتے رہتے ہیں اور یہ مہلت بعض اوقات بڑی طویل بھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے سرکشوں کی جرأت بڑھ جاتی ہے اور پیغمبروں کو ایک گونہ پریشانی پیش آتی ہے ارشاد فرمایا۔
(آیت) حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْن یعنی پچھلی امتوں کے نافرمانوں کو بڑی بڑی مہلتیں دی گیٔں یہاں تک کہ مدت دراز تک ان پر عذاب نہ آنے سے پغمبر یہ خیال کر کے مایوس ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کے اجمالی وعدہ عذاب کا جو وقت ہم نے اپنے انداز سے اپنے ذہنوں میں مقرر کر رکھا تھا اس وقت میں کفار پر عذاب نہ آئے گا اور حق کا غلبہ ظاہر نہ ہوگا اور ان پغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ وعدہ الہیہ کا اپنے اندازہ سے وقت مقرر کرنے میں ہماری فہم نے غلطی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کوئی معین وقت بتلایا نہیں تھا ہم نے مخصوص قرائن سے ایک مدت متعین کرلی تھی اسی مایوسی کی حالت میں ان کو ہماری مدد پہنچی وہ یہ کہ وعدے کے مطابق کفار پر عذاب آیا پھر اس عذاب سے ہم نے جس کو چاہا اس کو بچا لیا گیا مراد اس سے یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے مؤمنین کو بچا لیا گیا اور کفار مکہ ہلاک ہوگئے کیونکہ ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا بلکہ ضرور آ کر رہتا ہے اس لئے کفار مکہ کو چاہئے کہ عذاب میں دیر ہونے سے دھوکہ میں نہ رہیں
اس آیت میں لفظ كُذِبُوْا مشہور قرات کے مطابق پڑھا گیا ہے اور اس کی جو تفسیر ہم نے اختیار کی ہے وہ سب سے زیادہ اسلم اور بےغبار ہے کہ لفظ كُذِبُوْا کا حاصل اپنے تخمینہ اور خیال کا غلط ہونا ہے جو ایک قسم کی اجتہادی غلطی ہے اور انبیاء (علیہم السلام) سے کوئی ایسی اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے البتہ انبیاء اور دوسرے مجتہدین میں یہ فرق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے جب کوئی اجتہادی غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اس غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتے بلکہ ان کو باخبر کر کے حقیقت کھول دیتے ہیں دوسرے مجتہدین کا یہ مقام نہیں رسول کریم ﷺ کا واقعہ صلح حدیبیہ اس مضمون کے لئے کافی شاہد ہے کیونکہ قرآن کریم میں مذکور ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد رسول کریم ﷺ کا وہ خواب ہے آپ نے دیکھا کہ آپ مع صحابہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کا خواب بھی بحکم وحی ہوتا ہے اس لئے اس واقعہ کا ہونا یقینی ہوگیا مگر خواب میں اس کا کوئی خاص وقت اور مدت نہیں بتلائی گئی تھی آنحضرت محمد ﷺ نے اپنے اندازہ سے خیال فرمایا کہ اسی سال ایسا ہوگا اس لئے صحابہ کرام ؓ اجمعین میں اعلان کر کے ان کی خاصی تعداد کو ساتھ لے کر عمرہ کے لئے مکہ معظمہ کو روانہ ہوگئے مگر قریش مکہ نے مزاحمت کی اور اس وقت طواف وعمرہ کی نوبت نہ آئی بلکہ اس کا مکمل ظہور دو سال بعد دیکھا تھا وہ حق یقینی تھا مگر اس کا وقت جو قرائن یا اندازہ سے رسول کریم ﷺ نے مقرر فرما لیا تھا مگر اس غلطی کا ازالہ اسی وقت ہوگیا،
اسی طرح آیت مذکورہ میں قَدْ كُذِبُوْا کا بھی یہی مفہوم ہے کہ کفار پر عذاب آنے میں دیر ہوئی اور جو وقت اندازہ سے انبیاء نے اپنے ذہن میں مقرر کیا تھا اس وقت عذاب نہ آیا تو ان کو یہ گمان ہوا کہ ہم نے وقت متعین کرنے میں غلطی کی ہے یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے اور علامہ طیبی نے کہا کہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ذکر کی گئی ہے (مظہری)
اور بعض قراتوں میں یہ لفظ ذال کی تشدید کے ساتھ قَدْ كُذِبُوْا بھی آیا ہے جو مصدر تکذیب سے مشتق ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے جو اندازہ سے وقت عذاب مقرر کردیا تھا اس وقت پر عذاب نہ آنے سے ان کو یہ خطرہ ہوگیا کہ اب جو مسلمان ہیں وہ بھی ہماری تکذیب نہ کرنے لگیں کہ جو کچھ ہم نے کہا تھا وہ پورا نہیں ہوا ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دکھا یا منکروں پر عذاب آ پڑا اور مؤمنین کو اس سے نجات ملی اس طرح ان کا غلبہ ظاہر ہوگیا۔
Ayah 12:111لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَاب یعنی ان حضرات کے قصوں میں عقل والوں کے لئے بڑی عبرت ہے،
اس سے مراد تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصے جو قرآن میں مذکور ہیں وہ بھی ہو سکتے ہیں اور خاص حضرت یوسف ؑ کا قصہ جو اس سورة میں بیان ہوا ہے وہ بھی کیونکہ اس واقعہ میں یہ بات پوری طرح روشن ہو کر سامنے آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی کس کس طرح سے تائید ونصرت ہوتی ہے کہ کنویں سے نکال کر ایک تخت سلطنت پر اور بدنامی سے نکال کر نیک نامی کی انتہا پر پہنچا دیئے جاتے ہیں اور مکرو فریب کرنے والوں کا انجام ذلت و رسوائی ہوتا ہے
(آیت) مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ یعنی نہیں ہے یہ قصہ کوئی گھڑی ہوئی بات بلکہ تصدیق ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں کیونکہ تورات و انجیل میں بھی یہ قصہ یوسف ؑ کا مذکور ہے اور حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ جتنی آسمانی کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے ہیں یوسف ؑ کے قصہ سے کوئی خالی نہیں (مظہری)
وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤ ْمِنُوْنَ یعنی یہ قرآن تفصیل ہے ہر چیز کی مراد یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے جس کی دین میں انسان کو ضرورت ہے عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، حکومت، سیاست وغیرہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی یا اجتماعی حال سے متعلق احکام و ہدایات اس میں موجود ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے اس میں ایمان لانے والوں کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ اس کا نفع ایمان والوں ہی کو پہنچ سکتا ہے کافروں کے لئے بھی اگرچہ قرآن رحمت اور ہدایت ہی ہے مگر ان کی اپنی بدعملی اور نافرمانی کے سبب یہ رحمت و ہدایت ان کے لئے وبال بن گئی
شیخ ابو منصور نے فرمایا کی پوری سورة یوسف اور اس میں درج شدہ قصہ یوسف کے بیان سے رسول کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے کہ آپ کو جو کچھ ایذائیں اپنی قوم کے ہاتھوں پہنچ رہی ہیں پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی پہنچتی ہیں مگر انجام کار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو غالب فرمایا آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے،