12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور الٹا پھر ان کے پاس سے اور بولا اے افسوس یوسف پر اور سفید ہوگئیں آنکھیں اس کی غم سے، سو وہ آپ کو گھونٹ رہا تھا

وَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَقَالَ يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ یعنی حضرت یعقوب ؑ نے اس دوسرے صدمے کے بعد صاحبزادوں سے اس معاملہ میں گفتگو کو چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے فریاد شروع کی اور فرمایا کہ مجھے سخت رنج وغم ہے یوسف پر اور اس رنج و غم میں روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں یعنی بینائی جاتی رہی یا بہت ضعیف ہوگئی مقاتل امام تفسیر نے فرمایا کہ یہ کیفیت یعقوب ؑ کی چھ سال رہی کہ بینائی تقریباً جاتی رہی تھی فَهُوَ كَظِيْمٌ یعنی پھر وہ خاموش ہوگئے کسی سے اپنا دکھ نہ کہتے تھے کظیم کظم سے بنا ہے جس کے معنی بند ہوجانے اور بھر جانے کے ہیں مراد یہ ہے کہ غم واندوہ سے ان کا دل بھر گیا اور زبان بند ہوگئی کہ کسی سے اپنا رنج وغم بیان نہ کرتے تھے، اسی لئے کظم کے معنی غصہ کو پی جانے کے آتے ہیں کہ غصہ دل میں بھرے ہوئے ہونے کے باوجود زبان یا ہاتھ سے کوئی چیز غصہ کے مقتضیٰ کے مطابق سرزد نہ ہو حدیث میں ہے وَمَن یکظم الغیظ یاجرُہ ُ اللہ یعنی جو شخص اپنے غصہ کو پی جائے اور اس کے تقاضے پر باوجود قدرت کے عمل نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو بڑا اجر دیں گے، ایک حدیث میں ہے کہ حشر کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مجمع عام کے سامنے لاکر جنت کی نعمتوں میں اختیار دیں گے کہ جو چاہیں لے لیں۔ امام ابن جریر ؒ نے اس جگہ ایک حدیث نقل کی ہے کہ مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ پڑھنے کی تلقین اس امت کی خصوصیات میں سے ہیں اور یہ کلمہ انسان کو رنج وغم کی تکلیف سے نجات دینے میں بڑا مؤ ثر ہے خصوصیت امت محمدیہ ﷺ کی اس سے معلوم ہوئی کہ اس شدید غم و صدمہ کے وقت حضرت یعقوب ؑ نے اس کلمہ کے بجائے يٰٓاَسَفٰى عَلٰي يُوْسُفَ فرمایا بیہقی نے شعب الایمان میں بھی یہ حدیث ابن عباس ؓ کی روایت سے نقل کی ہے، حضرت یعقوب ؑ کا شغف محبت یوسف ؑ کے ساتھ کیوں تھا اس مقام پر حضرت یعقوب ؑ کی یوسف ؑ کے ساتھ غیر معمولی محبت اور ان کے گم ہونے پر اتنا اثر کہ اس مفارقت کی ساری مدت میں جو بعض روایات کی بناء پر چالیس سال اور بعض کی بناء پر اسی سال بتلائی جاتی ہے مسلسل روتے رہنا یہاں تک کہ بنیائی جاتی رہی بظاہر ان کی پیغمبرانہ شان کے شایان نہیں کہ اولاد سے اتنی محبت کریں جب کہ قرآن کریم نے اولاد کو فتنہ قرار دیا ہے ارشاد ہے اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ یعنی تمہارے مال اور اولاد فتنہ اور آزمائش ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کی شان قرآن کریم نے یہ بتلائی ہے کہ اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّار یعنی ہم نے انبیاء (علیہم السلام) کو ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص کردیا ہے وہ صفت ہی دار آخرت کی یاد۔ مالک بن دینار ؒ نے اس کے معنی یہ بیان فرمائے ہیں کہ ہم نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دی اور صرف آخرت کی محبت سے ان کے قلوب کو معمور کردیا ان کا مطمح نظر کسی چیز کے لینے یا چھوڑ نے میں صرف آخرت ہوتی ہے، اس مجموعہ سے یہ اشکال قوی ہو کر سامنے آتا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کا اولاد کی محبت میں ایسا مشغول ہونا کس طرح صحیح ہوا ؟ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے تفسیر مظہری میں اس اشکال کو ذکر کر کے حضرت مجدد الف ثانی کی ایک خاص تحقیق نقل فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بلاشبہ دنیا اور متاع دنیا کی محبت مذموم ہے قرآن و حدیث کی نصوص بیشمار اس پر شاہد ہیں مگر دنیا میں جو چیزیں آخرت سے متعلق ہیں ان کی محبت درحقیقت آخرت ہی کی محبت میں داخل ہے یوسف ؑ کے کمالات صرف حسن صورت ہی نہیں بلکہ پیغمبرانہ عفت اور حسن سیرت بھی ہیں اس مجموعہ کی وجہ سے ان کی محبت کسی دنیاوی سامان کی محبت نہ تھی بلکہ درحقیقت آخرت ہی کی محبت تھی انتہیٰ۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ یہ محبت اگرچہ درحقیقت دنیا کی محبت نہ تھی مگر بہرحال اس میں ایک حیثیت دنیوی بھی تھی اسی وجہ سے یہ محبت حضرت یعقوب ؑ کے ابتلاء اور امتحان کا ذریعہ بنی اور چالیس سال کی مفارقت کا ناقابل برداشت صدمہ برداشت کرنا پڑا اور اس واقعہ کے اجزاء اول سے آخر تک اس پر شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے کچھ ایسی صورتیں بنتی چلی گئیں کہ یہ صدمہ طویل سے طویل ہوتا چلا گیا ورنہ واقعہ کے شروع میں اتنی شدید محبت والے باپ سے یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ بیٹوں کی بات سن کر گھر میں بیٹھ رہتے، بلکہ موقع پر پہنچ کر تفتیش و تلاش کرتے تو اسی وقت پتہ چل جاتا مگر اللہ ہی کی طرف سے ایسی صورتیں بن گئیں کہ اس وقت یہ دھیان نہ آیا پھر یوسف ؑ کو بذریعہ وحی اس سے روک دیا گیا کہ وہ اپنے حال کی اپنے والد کو خبر بھیجیں یہاں تک کہ مصر کی حکومت و اقتدار ملنے کے بعد بھی انہوں نے کوئی ایسا اقدام نہیں فرمایا اور اس سے بھی زیادہ صبر آزما وہ واقعات تھے جو باربار ان کے بھائیوں کے مصر جانے کے متعلق پیش آتے رہے اس وقت بھی نہ بھائیوں پر اظہار فرمایا نہ والد کو خبر بھیجنے کی کوشش فرمائی بلکہ دوسرے بھائی کو بھی اپنے پاس ایک تدبیر کے ذریعہ روک کر والد کے صدمہ کو دوہرا کردیا یہ سب چیزیں یوسف ؑ جیسے برگزیدہ پیغمبر سے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کو بذریعہ وحی اس سے نہ روک دیا گیا ہو اسی لئے قرطبی وغیرہ مفسرین نے یوسف ؑ کے اس سارے عمل کو وحی خداوندی کی تلقین قرار دیا ہے اور كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ کے قرآنی ارشاد میں بھی اس طرف اشارہ موجود ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

کہنے لگے قسم ہے اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یوسف کی یاد کو جب تک کہ گھل جائے یا ہوجائے مردہ

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤ ُ ا تَذْكُرُ يُوْسُفَ یعنی صاحبزادے والد کے اس شدید غم واندوہ اور اس پر صبر جمیل کو دیکھ کر کہنے لگے کہ بخدا آپ تو یوسف ؑ کو ہمیشہ یاد ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ بیمار پڑجائیں اور ہلاک ہونے والوں میں داخل ہوجائیں (آخر ہر صدمہ اور غم کی کوئی انتہا ہوتی ہے مرور ایام سے انسان اس کو بھول جاتا ہے مگر آپ اتنا طویل عرصہ گذرنے کے بعد بھی اسی روز اول میں ہیں اور آپ کا غم اسی طرح تازہ ہے)
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

بولا میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب اور غم اللہ کے سامنے اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

حضرت یعقوب ؑ نے صاحبزادوں کی بات سن کر فرمایا (آیت) اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللّٰهِ یعنی میں تو اپنی فریاد اور رنج وغم کا اظہار تم سے یا کسی دوسرے سے نہیں کرتا بلکہ اللہ جل شانہ کی ذات سے کرتا ہوں اس لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر فرمایا کہ میرا یہ یاد کرنا خالی نہ جائے گا میں اپنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ چیز جانتا ہوں جس کی تم کو خبر نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہوا ہے کہ وہ پھر مجھے ان سب سے ملائیں گے
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اس کے بھائی کی اور ناامید مت ہو اللہ کے فیض سے بیشک ناامید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں

يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ یعنی اے میرے بیٹو جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوتا، حضرت یعقوب ؑ نے اتنے عرصہ کے بعد صاحبزادوں کو یہ حکم دیا کہ جاؤ یوسف اور ان کے بھائی کو تلاش کرو اور ان کے ملنے سے مایوس نہ ہو اس سے پہلے کبھی اس طرح کا حکم نہ دیا یہ سب چیزیں تقدیر الہی کے تابع تھیں اس سے پہلے ملنا مقدر نہ تھا اس لئے ایسا کوئی کام بھی نہیں کیا گیا اور اب ملاقات کا وقت آ چکا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب تدبیر دل میں ڈالی، اور دونوں کی تلاش کا رخ مصر ہی کی طرف قرار دیا جو بنیامین کے حق میں تو معلوم اور متعین تھا مگر یوسف ؑ کو مصر میں تلاش کرنے کی ظاہر حال کے اعتبار سے کوئی وجہ نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے مناسب اسباب جمع فرما دیتے ہیں اس لئے اس مرتبہ تلاش وتفتیش کے لئے پھر صاحبزادوں کو مصر جانے کی ہدایت فرمائی، بعض حضرات نے فرمایا کہ یعقوب ؑ کو پہلی مرتبہ عزیز مصر کے اس معاملہ سے کہ انکی پونجی بھی ان کے سامان میں واپس کردی اس طرف خیال ہوگیا تھا کہ یہ عزیز کوئی بہت ہی شریف و کریم ہے شاید یوسف ؑ ہی ہوں، احکام و مسائل امام قرطبی ؒ نے فرمایا کہ واقعہ یعقوب ؑ سے ثابت ہوا کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت اور تکلیف اپنی جان یا اولاد یا مال کے بارے میں پیش آئے تو اس کا علاج صبر جمیل اور اللہ تعالیٰ کی قضاء پر راضی ہونے سے کرے اور یعقوب ؑ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی اقتداء کرے، حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان جس قدر گھونٹ پیتا ہے ان سب میں دو گھونٹ زیادہ محبوب ہیں ایک مصیبت پر صبر اور دوسرے غصہ کو پی جانا، اور حدیث میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے من بَثَّ لم یصبر یعنی جو شخص اپنی مصیبت سب کے سامنے بیان کرتا پھرے اس نے صبر نہیں کیا، اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب ؑ کو اس صبر پر شہیدوں کا ثواب عطا فرمایا اور اس امت میں بھی جو شخص مصیبت پر صبر کرے گا اس کو ایسا ہی اجر ملے گا، امام قرطبی نے حضرت یعقوب ؑ کے اس شدید ابتلاء و امتحان کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ ایک روز حضرت یعقوب ؑ نماز تہجد پڑھ رہے تھے اور یوسف ؑ ان کے سامنے سو رہے تھے اچانک یوسف ؑ سے خراٹے کی آواز نکلی تو ان کی توجہ یوسف ؑ کی طرف چلی گئی پھر دوسری اور تیسری مرتبہ ایسا ہی ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا دیکھو یہ میرا دوست اور مقبول بندہ مجھ سے خطاب اور عرض معروض کرنے کے درمیان میرے غیر کی طرف توجہ کرتا ہے قسم ہے میری عزت و جلال کی میں ان کی یہ دونوں آنکھیں نکال لوں گا جن سے میرے غیر کی طرف توجہ کی ہے اور جس کی طرف توجہ کی ہے اس کو ان سے مدت دراز کے لئے جدا کر دوں گا، اسی لئے بخاری کی حدیث میں بروایت عائشہ ؓ وارد ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ نماز میں کسی دوسری طرف دیکھنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ شیطان بندہ کی نماز کو اچک لیتا ہے والعیاذ باللہ سبحانہ وتعالیٰ۔
Ayahs 12:88–89

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے اس کے پاس بولے اے عزیز پڑی ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص سو پوری دے ہم کو بھرتی اور خیرات کر ہم پر

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

اللہ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو، کہا کچھ تم کو خبر ہے کہ کیا کیا تم نے یوسف سے اور اس کے بھائی سے جب تم کو سمجھ نہ تھی

خلاصہ تفسیر پھر (حضرت یعقوب ؑ کے حکم کے موافق کہ انہوں نے فرمایا تھا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَاَخِيْهِ مصر کو چلے کیونکہ بنیامین کو مصر ہی میں چھوڑا تھا یہ خیال ہواہو گا کہ جس کا نشان معلوم ہے پہلے اس کے لانے کی تدبیر کرنا چاہئے کہ بادشاہ سے مانگیں پھر یوسف ؑ کے نشان کو ڈھونڈیں گے غرض مصر پہنچ کر) جب یوسف ؑ کے پاس (جس کو عزیز سمجھ رہے تھے) پہنچے (اور غلہ کی بھی حاجت تھی پس یہ خیال ہوا کہ غلہ کے بہانے سے عزیز کے پاس چلیں اور اس کی خرید کے ضمن میں خوشامد کی باتیں کریں جب اس کی طبیعت میں نرمی دیکھیں اور مزاج خوش پائیں تو بنیامین کی درخواست کریں اس لئے اول غلہ لینے کے متعلق گفتگو شروع کی اور) کہنے لگے اے عزیز ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو (قحط کی وجہ سے) بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے اور (چونکہ ہم کو ناداری نے گھیر رکھا ہے اس لئے خرید غلہ کے واسطے کھرے دام بھی میسر نہیں ہوئے) ہم کچھ یہ نکمی چیز لائے ہیں سو آپ (اس کے نکمے ہونے سے قطع نظر کر کے) پورا غلہ دیدیجئے (اور اس نکمے ہونے سے غلہ کی مقدار میں کمی نہ کیجئے) اور (ہمارا کچھ استحقاق نہیں) ہم کو خیرات (سمجھ کر) دیدیجئے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو (خواہ حقیقۃ خیرات دیں خواہ سہولت و رعایت کریں کہ وہ بھی مثل خیرات کے ہیں) جزائے خیر) دیتا ہے (اگر مومن ہے تو آخرت میں بھی ورنہ دنیا ہی میں) یوسف ؑ نے (جو ان کے یہ مسکنت آمیز الفاظ سنے تو رہا نہ گیا اور بےاختیار چاہا کہ اب ان سے کھل جاؤں اور عجب نہیں کہ نور قلب سے معلوم ہوگیا ہو کہ اب کی باران کی تجسس بھی مقصود ہے اور یہ بھی منکشف ہوگیا ہو کہ اب زمانہ مفارقت کا ختم ہوچکا پس تمہید تعارف کے طور پر) فرمایا (کہو) وہ بھی تم کو یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ (برتاؤ) کیا تھا جب کہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا (اور برے بھلے کی سوچ نہ تھی یہ سن کر پہلے تو چکرائے کہ عزیز مصر کو یوسف ؑ کے قصہ سے کیا واسطہ ادھر اس شروع زمانہ کے خواب سے غالب احتمال تھا ہی کہ شاید یوسف ؑ کسی بڑے رتبہ کو پہنچیں کہ ہم سب کو ان کے سامنے گردن جھکانا پڑے اس لئے اس کلام سے شبہ ہوا اور غور کیا تو کچھ کچھ پہچانا اور مزید تحقیق کیلئے کہنے لگے کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہوا انہوں نے فرمایا (ہاں) میں یوسف ہوں اور یہ (بنیامین) میرا (حقیقی) بھائی ہے (یہ اس لئے بڑھا دیا کہ اپنے یوسف ؑ ہونے کی اور تاکید ہوجاوے یا انکے تجسس کی کامیابی کی بشارت ہے کی جن کو تم ڈھونڈنے نکلے ہو ہم دونوں ایک جگہ جمع ہیں) ہم پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا (کہ ہم دونوں کو اول توفیق صبر وتقویٰ کی عطا فرمائی پھر اس کی برکت سے ہماری تکلیف کو راحت سے اور افتراق کو اجتماع سے اور قلت مال وجاہ کو کثرت مال وجاہ سے مبدل فرما دیا) واقعی جو شخص گناہوں سے بچتا ہے اور (مصائب پر) صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتا وہ (تمام گذشتہ قصہ کو یاد کر کے نادم ہوئے اور معذرت کے طور پر) کہنے لگے کہ بخدا کچھ شک نہیں تم کو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت عطا فرمائی (اور تم اسی لائق تھے) اور (ہم نے جو کچھ کیا) بیشک ہم (اس میں) خطا وار تھے (للہ معاف کردو) یوسف ؑ نے فرمایا کہ نہیں تم پر آج (میری طرف سے) کوئی الزام نہیں (بےفکر رہو میرا دل صاف ہوگیا) اللہ تعالیٰ تمہارا قصور معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (تائب کا قصور معاف کر ہی دیتا ہے اسی دعاء سے یہ بھی مفہوم ہوگیا کہ میں نے بھی میں معاف کردیا) معارف و مسائل آیات مذکورہ میں یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کا باقی قصہ مذکور ہے کہ ان کے والد حضرت یعقوب ؑ نے ان کو یہ حکم دیا کہ جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو تو انہوں نے تیسری مرتبہ مصر کا سفر کیا کیونکہ بنیامین کا تو وہاں ہونا معلوم تھا پہلی کوشش اس کی خلاصی کے لئے کرنا تھی اور یوسف ؑ کا وجود اگرچہ مصر میں معلوم نہ تھا مگر جب کسی کام کا وقت آجاتا ہے تو انسان کی تدبیریں غیر شعوری طور پر بھی درست ہوتی چلی جاتی ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اس کے اسباب خود بخود جمع کردیتے ہیں اس لئے تلاش یوسف کے لئے بھی غیر شعوری طور پر مصر ہی کا سفر مناسب تھا اور غلہ کی ضرورت بھی تھی اور یہ بات بھی تھی کہ غلہ طلب کرنے کے بہانے سے عزیز مصر سے ملاقات ہوگی اور ان سے اپنے بھائی بنیامین کی خلاصی کے متعلق عرض معروض کرسکیں گے، فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا یعنی جب برادران یوسف والد کے حکم کے مطابق مصر سے ملاقات ہوگی اور عزیز مصر سے ملے تو خوشامد کی گفتگو شروع کی اپنی محتاجی اور بیکسی کا اظہار کیا کہ اے عزیز ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو قحط کی وجہ سے سخت تکلیف پہنچ رہی ہے یہاں تک کہ اب ہمارے پاس غلہ خریدنے کے لئے بھی کوئی مناسب قیمت موجود نہیں ہم مجبور ہو کر کچھ نکمی چیزیں غلہ خریدنے کے لئے لے آئے ہیں آپ اپنے کریمانہ اخلاق سے انہی نکمی چیزوں کو قبول کرلیں اور ان کے بدلے میں غلہ پورا اتنا ہی دیدیں جتنا اچھی قیمتی چیزوں کے بالمقابل دیا جاتا ہے یہ ظاہر ہے کہ ہمارا کوئی استحقاق نہیں آپ ہم کو خیرات سمجھ کر دیدیجئے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے، یہ نکمی چیزیں کیا تھیں ؟ قرآن و حدیث میں انکی کوئی تصریح نہیں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض نے کہا کہ کھوٹے دراہم تھے جو بازار میں نہ چل سکتے تھے بعض نے کہا کہ کچھ گھریلو سامان تھا یہ لفظ مزاجۃ کا ترجمہ ہے اس کے اصل معنی ایسی چیز کے ہیں جو خود نہ چلے بلکہ اس کو زبردستی چلایا جائے، یوسف ؑ نے جب بھائیوں کے یہ مسکنت آمیز الفاظ سنے اور شکستہ حالت دیکھی تو طبعی طور پر اب حقیقت حال ظاہر کردینے پر مجبور ہو رہے تھے اور واقعات کی رفتار کا انداز یہ ہے کہ یوسف ؑ پر جو اظہارحال کی پابندی منجانب اللہ تھی اب اس کے خاتمہ کا وقت بھی آ چکا تھا اور تفسیر قرطبی ومظہری میں بروایت ابن عباس ؓ نقل کیا ہے کہ اس موقع پر یعقوب ؑ نے عزیز مصر کے نام ایک خط لکھ کردیا تھا جس کا مضمون یہ تھا، من جانب یعقوب صفی اللہ، ابن اسحاق ذبیح اللہ ابن ابراہیم خلیل اللہ، بخدمت عزیز مصر، اما بعد، ہمارا پورا خاندان بلاؤں اور آزمائشوں میں معروف ہے میرے دادا ابراہیم خلیل اللہ کا نمرود کی آگ سے امتحان لیا گیا پھر میرے ایک لڑکے کے ذریعے میرا امتحان لیا گیا جو مجھ کو سب سے زیادہ محبوب تھا یہاں تک کہ اس کی مفارقت میں میری بینائی جاتی رہی اس کے بعد اس کا ایک چھوٹا بھائی مجھ غم زدہ کی تسلی کا سامان تھا جس کو آپ نے چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا اور میں بتلاتا ہوں کی ہم اولاد انبیاء ہیں نہ ہم نے کبھی چوری کی ہے نہ ہماری اولاد میں کوئی چور پیدا ہوا والسلام یوسف ؑ نے جب یہ خط پڑھا تو کانپ گئے اور بےاختیار رونے لگے اور اپنے راز کو ظاہر کردیا اور تعارف کی تمہید کے طور پر بھائیوں سے یہ سوال کیا کہ تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے یوسف ؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا جبکہ تمہاری جہالت کا زمانہ تھا کہ بھلے برے کی سوچ اور انجام بینی کی فکر سے غافل تھے برادران یوسف نے جب یہ سوال سنا تو چکرا گئے کہ عزیز مصر کو یوسف کے قصہ سے کیا واسطہ پھر ادھر بھی دھیان گیا کہ یوسف ؑ نے جو بچپن میں خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر یہی تھی کہ ان کو کوئی بلند مرتبہ حاصل ہوگا کہ ہم سب کو اس کے سامنے جھکنا پڑے گا کہیں یہ عزیز مصر خود یوسف ہی نہ ہوں پھر جب اور غور و تأمل کیا تو کچھ علامات سے پہچان لیا اور مزید تحقیق کیلئے ان سے کہا
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

بولے کیا سچ تو ہی ہے یوسف، کہا میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی اللہ نے احسان کیا ہم پر البتہ جو کوئی ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا

ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ کیا سچ مچ تم ہی یوسف ہو ؟ تو یوسف ؑ نے فرمایا کہ ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ بنیامین میرا حقیقی بھائی ہے بھائی کا ذکر اس لئے بڑھا دیا کہ ان کو اچھی طرح یقین آجائے نیز اس لئے بھی کہ ان پر اس وقت اپنے مقصد کی مکمل کامیابی واضح ہوجائے کہ جن دو کی تلاش میں تم نکلے تھے وہ دونوں بیک جا تمہیں مل گئے پھر فرمایا (آیت) قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا ۭ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان و کرم فرمایا کہ اول ہم دونوں کو صبر وتقویٰ کی دو صفتیں عطا فرمائیں جو کلید کامیابی اور ہر مصیبت سے امان ہیں پھر ہماری تکلیف کو راحت سے، افتراق کو اجتماع سے مال وجاہ کی قلت کو ان سب کی کثرت سے تبدیل فرما دیا بیشک جو شخص گناہوں سے بچتا اور مصائب پر صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے ہیں
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی البتہ پسند کرلیا تجھ کو اللہ نے ہم سے اور ہم تھے چوکنے والے

اب تو برادران یوسف کے پاس بجز جرم وخطا کے اعتراف اور یوسف ؑ کے فضل و کمال کے اقراء کے چارہ نہ تھا سب نے یک زبان ہو کر کہا (آیت) تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ بخدا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم سب پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی اور آپ اسی کے مستحق تھے اور ہم نے جو کچھ کیا بیشک ہم اس میں خطا وار تھے للہ معاف کر دیجئے یوسف ؑ نے جواب میں اپنی پیغمبرانہ شان کے مطابق فرمایا،
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج، بخشے اللہ تم کو اور وہ ہے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔

لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ یعنی میں تم سے تمہارے مظالم کا انتقام تو کیا لیتا، آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں کرتا، یہ تو اپنی طرف سے معافی کی خوشخبری سنا دی، پھر اللہ تعالیٰ سے سے دعاء کی يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ " یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو معاف فرما دیں، وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں " اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرً آ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی میں تم سے تمہارے مظالم کا انتقام تو کیا لیتا آج تم پر کوئی ملامت بھی نہیں کرتا یہ تو اپنی طرف سے معافی کی خوش خبری سنا دی پھر اللہ تعالیٰ سے دعاء کی يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ ۡ وَهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو معاف فرما دیں وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہیں پھر فرمایا اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرً آ وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی میرا یہ کرتہ لے جاؤ اور اس کو میرے والد کے چہرے پر ڈال دو اس سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی جس سے وہ یہاں تشریف لا سکیں گے اور اپنے باقی گھر والوں کو بھی سب کو میرے پاس لے آؤ (تاکہ سب ملیں اور خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور شکر گذار ہوں) احکام و ہدایات آیات مذکورہ سے بہت سے احکام و مسائل اور انسانی زندگی کے لئے اہم ہدایات حاصل ہوئیں اوللفظ تَصَدَّقْ عَلَيْنَا سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ برادران یوسف ؑ اولاد انبیاء ہیں ان کے لئے صدقہ و خیرات کیسے حلال تھا ؟ دوسرے اگر صدقہ حلال بھی ہو تو سوال کرنا کیسے جائز تھا برادران یوسف اگر انبیاء بھی نہ ہوں تو بھی یوسف ؑ تو پیغمبر تھے انہوں نے اس غلطی پر کیوں متنبہ نہیں فرمایا ؟ اس کا ایک واضح جواب تو یہ ہے کہ یہاں لفظ صدقہ سے حقیقی صدقہ مراد نہیں بلکہ معاملے میں رعایت کرنے کو صدقہ و خیرات کرنے سے تعبیر کردیا ہے کیونکہ بالکل مفت غلہ کا سوال تو انہوں نے کیا ہی نہ تھا بلکہ کچھ نکمی چیزیں پیش کی تھیں اور درخواست کا حاصل یہ تھا کہ ان کم قیمت چیزوں کو رعایت کر کے قبول فرما لیں اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولاد انبیاء کے لئے صدقہ و خیرات کی حرمت صرف امت محمدیہ کے ساتھ مخصوص ہو جیسا کہ ائمہ تفسیر میں سے مجاہد ؒ کا یہی قول ہے (بیان القرآن) اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ صدقہ و خیرات کرنے والوں کو جزائے خیر دیتے ہیں مگر اس میں تفصیل یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کی ایک جزاء تو عام ہے جو ہر مومن کافر کو دنیا میں ملتی ہے وہ ہے رَدّبلا اور دفع مصائب اور ایک جزاء آخرت کے ساتھ مخصوص ہے یعنی جنت وہ صرف اہل ایمان کا حصہ ہے یہاں چونکہ مخاطب عزیز مصر ہے اور برادران یوسف ؑ کو ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ مومن ہے یا نہیں اس لئے ایسا عام جملہ اختیار کیا جس میں دنیا و آخرت دونوں کی جزاء شامل ہے (بیان القرآن) اس کے علاوہ یہ معلوم بظاہر موقع تو اس جگہ اس کا تھا کہ چونکہ عزیز مصر سے خطاب تھا اس لئے اس جملہ میں بھی خطاب ہی کے صیغہ سے یہ کہا جاتا کہ تم کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دیں گے لیکن چونکہ ان کا تو مومن ہونا معلوم نہ تھا اس لئے عام عنوان اختیار کیا اور خصوصی طور پر ان کو جزا ملنے کا ذکر نہیں کیا (قرطبی) قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا سے ثابت ہوا کہ جب انسان کسی تکلیف و مصیبت میں گرفتار ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اس سے نجات عطا فرما کر اپنی نعمت سے نوازیں تو اب اس کو گذشتہ مصائب کا ذکر کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اس انعام و احسان ہی کا ذکر کرنا چاہئے جو اب حاصل ہوا ہے مصیبت سے انعام الہی کے حصول کے بعد بھی پچھلی تکلیف و مصیبت کو روتے رہنا ناشکری ہے ایسے ہی ناشکرے کو قرآن عزیز میں كَنُوْدٌ کہا گیا ہے اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ، کنود کہتے ہیں اس شخص کو جو احسانات کو یاد نہ رکھے صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کو یاد رکھے، اسی لئے یوسف ؑ کو بھائیوں کے عمل سے عرصہ دراز تک جن مصیبتوں سے سابقہ پڑا تھا ان کا اس وقت کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات ہی کا ذکر فرمایا۔ صبر وتقویٰ ہر مصیبت کا علاج ہے اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرْ سے معلوم ہوا کہ تقوٰی یعنی گناہوں سے بچنا اور تکلیفوں پر صبر و اثبات قدم، یہ دو صفتیں ایسی ہیں جو انسان کو ہر بلاء و مصیبت سے نکال دیتی ہیں قرآن کریم نے بہت سے مواقع میں انہی دو صفتوں پر انسان کی فلاح و کامیابی کا مدار رکھا ہے ارشاد ہے وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُھُمْ شَـيْـــًٔـا یعنی اگر تم نے صبر وتقویٰ اختیار کرلیا تو دشمنوں کی مخالفانہ تدبیریں تمہیں کوئی گزند اور نقصان نہ پہنچا سکیں گی، یہاں بظاہر یہ دعویٰ معلوم ہوتا ہے کہ یوسف ؑ اپنے متقی اور صابر ہونے کا ادعاء کر رہے ہیں کہ ہمارے صبر وتقویٰ کی وجہ سے ہمیں مشکلات سے نجات اور درجات عالیہ نصیب ہوئے مگر کسی کو خود اپنے تقوے کا دعویٰ کرنا بنص قرآن ممنوع ہے فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى یعنی اپنی پاکی نہ جتلاؤ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ کون متقی ہے مگر یہاں درحقیقت دعویٰ نہیں بلکہ تحدیث بالنعمۃ اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے کہ اس نے اول ہم کو صبر وتقویٰ کی توفیق عطا فرمائی پھر اس کے ذریعہ تمام نعمتیں عطا فرمائیں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یعنی آج تم پر کوئی ملامت نہیں یہ اخلاق کریمانہ کا اعلیٰ مقام ہے کہ ظالم کو صرف معاف ہی نہیں کردیا بلکہ یہ بھی واضح کردیا کہ اب تم پر کوئی ملامت بھی نہیں ،
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

لے جاؤ یہ کرتا میرا اور ڈالو اس کو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا ہوا اور لے آؤ میرے پاس گھر اپنا سارا

خلاصہ تفسیر اب تم (میرے باپ کو جا کر بشارت دو اور بشارت کے ساتھ) میرا یہ کرتہ (بھی) لیتے جاؤ اور اس کو میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو (اس سے) ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گے (اور یہاں تشریف لے آئیں گے) اور اپنے (باقی) گھر والوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ (کہ سب ملیں اور خوش ہوں کیونکہ حالت موجودہ میں میرا جانا مشکل ہے اس لئے گھر والے ہی چلے آئیں) اور جب (یوسف ؑ سے بات چیت ہوچکی اور آپ کے فرمانے کے موافق کرتہ لے کر چلنے کی تیاری کی اور) قافلہ (شہر مصر سے) چلا (جس میں یہ لوگ بھی تھے) تو انکے باپ نے (پاس والوں سے) کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بڑھاپے میں بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو تو ایک بات کہوں کہ مجھ کو تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے (معجزہ اختیاری نہیں ہوتا اس لئے اس سے پہلے یہ ادراک نہ ہوا) وہ (پاس والے) کہنے لگے کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں (کہ یوسف ؑ زندہ ہیں اور ملیں گے اسی خیال کے غلبہ سے اب خوشبو کا وہم ہوگیا اور واقع میں نہ خوشبو ہے کہ کچھ اور ہے یعقوب ؑ خاموش ہو رہے) پس جب (یوسف ؑ کے صحیح سلامت ہونے کی) خوش خبری لانے والا (مع کرتہ کے یہاں) آپہنچا تو (آتے ہی) اس نے وہ کرتہ ان کے منہ پر لاکر ڈال دیا پس (آنکھوں کو لگنا تھا اور دماغ میں خوشبو پہنچنا کہ فوراً ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں (اور انہوں نے سارا ماجرا آپ سے بیان کیا) آپ نے (بیٹوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (اور اس لئے میں نے تم کو یوسف ؑ کے تجسس کے لئے بھیجا تھا دیکھو آخر اللہ تعالیٰ میری امید راست لایا ان کا یہ قول اس سے اوپر کے رکوع میں آچکا ہے اس وقت) سب بیٹوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ ہمارے لئے (خدا سے) ہمارے گناہوں کی دعاء مغفرت کیجئے (ہم نے جو کچھ آپ کو یوسف ؑ کے معاملہ میں تکلیف دی) ہم بیشک خطا وار تھے (مطلب یہ ہے کہ آپ بھی معاف کر دیجئے کیونکہ عادۃ کسی کے لئے استغفار وہی کرتا ہے جو خود بھی مواخذہ کرنا نہیں چاہتا) یعقوب ؑ نے فرمایا عنقریب تمہارے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا بیشک وہ غفور رحیم ہے (اور اسی سے ان کا معاف کر دنیا بھی معلوم ہوگیا اور عنقریب کا مطلب یہ ہے کہ تہجد کا وقت آنے دو جو کہ قبولیت کی ساعت ہے کذا فی الدر المنثور مرفوعاً غرض سب مصر کو تیار ہو کر چل دیئے اور یوسف ؑ خبر سن کر استقبال کے لئے مصر سے باہر تشریف لائے اور باہر ہی ملاقات کا سامان کیا گیا) پھر جب سب کے سب یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے (سب سے مل کر ملا کر) اپنے والدین کو اپنے پاس (تعظیماً) جگہ دی اور (بات چیت سے فارغ ہو کر) کہا سب مصر میں چلیے (اور) انشاء اللہ تعالیٰ (وہاں) امن چین سے رہیے (مفارقت کا غم اور قحط کا الم سب کافور ہوگئے غرض سب مصر میں پہنچے) اور (وہاں پہنچ کر تعظیماً) اپنے والدین کو تخت (شاہی) پر اونچا بٹھایا اور (اس وقت سب کے قلوب پر یوسف ؑ کی ایسی عظمت غالب ہوئی کہ) سب کے سب ان کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور (یہ حالت دیکھ کر) وہ کہنے لگے کہ اے ابا یہ ہے میرے خواب کی تعبیر جو پہلے زمانہ میں دیکھا تھا (کہ شمس و قمر اور گیارہ ستارے مجھ کو سجدہ کرتے ہیں) میرے رب نے مجھ پر اور انعامات بھی فرمائے چنانچہ) میرے ساتھ (ایک) اس وقت احسان فرمایا جس وقت مجھ کو قید سے نکالا (اور اس مرتبہ سلطنت تک پہنچایا) اور (دوسرا یہ انعام فرمایا کہ) بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان میں فساد ڈلوا دیا تھا (جس کا مقتضاء یہ تھا کہ عمر بھر میں مجتمع و متفق نہ ہوتے مگر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ وہ) تم سب کو (جن میں میرے بھائی بھی ہیں) باہر سے (یہاں) لے آیا (اور سب کو ملادیا) بلاشبہ میرا رب جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے بلاشبہ وہ بڑا علم اور حکمت والا ہے (اپنے علم و حکمت سے سب امور کی تدبیر درست کردیتا) معارف و مسائل حضرت یوسف ؑ کے قصہ سے متعلق سابقہ آیات میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جب باذن خداوندی اس کا وقت آ گیا کہ یوسف ؑ اپنا راز بھائیوں پر ظاہر کردیں تو انہوں نے حقیقت ظاہر کردی بھائیوں نے معافی مانگی انہوں نے نہ صرف یہ کہ معاف کردیا بلکہ گذشتہ واقعات پر کوئی ملامت کرنا بھی پسند نہ کیا ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اور اب والد سے ملاقات کی فکر ہوئی حالات کے لحاظ سے مناسب یہ سمجھا کہ والد صاحب ہی مع خاندان کے یہاں تشریف لائیں مگر معلوم ہوچکا تھا کہ ان کی بینائی اس مفارقت میں جاتی رہی اس لئے سب سے پہلے اس کی فکر ہوئی اور بھائیوں سے کہا، اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰي وَجْهِ اَبِيْ يَاْتِ بَصِيْرًا یعنی تم میرا یہ کرتا لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو تو ان کی بینائی عود کر آئے گی یہ ظاہر ہے کہ کسی کے کرتے کا چہرہ پر ڈال دینا بینائی کے عود کرنے کا کوئی مادی سبب نہیں ہوسکتا بلکہ یہ ایک معجزہ تھا حضرت یوسف ؑ کا کہ ان کو باذن خداوندی معلوم ہوگیا کہ جب انکا کرتہ والد کے چہرے پر ڈالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بینائی بحال فرمادیں گے، اور ضحاک اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہ اس کرتے کی خصوصیت تھی کیونکہ یہ عام کپڑوں کی طرح نہ تھا بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لئے جنت سے اس وقت لایا گیا تھا جب ان کو برہنہ کر کے نمرود نے آگ میں ڈالا تھا پھر یہ جنت کا لباس ہمیشہ حضرت ابراہیم ؑ کے پاس محفوظ رہا اور ان کی وفات کے بعد حضرت اسحاق ؑ کے پاس رہا ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوب ؑ کو ملا آپ نے اس کو ایک بڑی متبرک شے کی حیثیت سے ایک نلکی میں بند کر کے یوسف ؑ کے گلے میں بطور تعویذ کے ڈال دیا تھا تاکہ نظر بد سے محفوظ رہیں برادران یوسف نے جب ان کا کرتہ والد کو دھوکہ دینے کے لئے اتار لیا اور وہ برہنہ کر کے کنویں میں ڈال دیئے گئے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور گلے میں پڑی ہوئی نلکی کھول کر اس سے یہ کرتہ برآمد کیا اور یوسف ؑ کو پہنا دیا اور یہ ان کے پاس برابر محفوظ چلا آیا اس وقت بھی جبرئیل امین ہی نے یوسف ؑ کو یہ مشورہ دیا کہ یہ جنت کا لباس ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ نابینا کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ اس کو اپنے والد کے پاس بھیج دیجئے تو وہ بینا ہوجائیں گے، حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کا حسن و جمال اور ان کا وجود خود جنت ہی کی ایک چیز تھی اس لئے ان کے جسم سے متصل ہونیوالے ہر کرتے میں یہ خاصیت ہو سکتی ہے (مظہری) وَاْتُوْنِيْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ یعنی تم سب بھائی اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس مصر لے آؤ اصل مقصد تو والد محترم کو بلانے کا تھا مگر یہاں بالتصریح والد کے بجائے خاندان کو لانے کا ذکر کیا شاید اس لئے کہ والد کو یہاں لانے کے لئے کہنا ادب کے خلاف سمجھا اور یہ یقین تھا ہی کہ جب والد کی بینائی عود کر آئے گی اور یہاں آنے سے کوئی عذر مانع نہیں رہے گا تو وہ خود ہی ضرور تشریف لائیں گے قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ برادران یوسف میں سے یہودا نے کہا کہ یہ کرتہ میں لے جاؤں گا کیونکہ ان کے کرتے پر جھوٹاخون لگا کر بھی میں ہی لے گیا تھا جس سے والد کو صدمات پہنچے اب اس کی مکافات بھی میرے ہی ہاتھ سے ہونا چاہئے،
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب جدا ہوا قافلہ کہا ان کے باپ نے میں پاتا ہوں بو یوسف کی اگر نہ کہو مجھ کو کہ بوڑھا بہک گیا

وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ یعنی جب قافلہ شہر سے باہر نکلا ہی تھا تو یعقوب ؑ نے اپنے پاس والوں سے کہا کہ اگر تم مجھے بیوقوف نہ کہو تو میں تمہیں بتلاؤں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے شہر مصر سے کنعان تک ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق آٹھ دن کی مسافت کا راستہ تھا اور حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ اسی 80 فرسخ یعنی تقریبا ڈھائی سو میل کا فاصلہ تھا اللہ تعالیٰ نے اتنی دور سے قمیص یوسف ؑ کے ذریعہ حضرت یوسف ؑ کی خوشبو یعقوب ؑ کے دماغ تک پہنچا دی اور یہ عجائب میں سے ہے کہ جب حضرت یوسف ؑ اپنے وطن کنعان ہی کے ایک کنویں میں تین روز تک پڑے رہی تو اس وقت یہ خوشبو محسوس نہیں ہوئی یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ در حقیقت معجزہ پیغمبر کا اپنا فعل و عمل بھی نہیں ہوتا یہ براہ راست فعل اللہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ ارادہ فرماتے ہیں تو معجزہ ظاہر کردیتے ہیں اور جب اذن خداوندی نہیں ہوتا تو قریب سے قریب بھی بعید ہوجاتا ہے،
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

لوگ بولے قسم اللہ کی تو تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے

(آیت) قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيْ ضَلٰلِكَ الْقَدِيْمِ یعنی حاضرین مجلس نے یعقوب ؑ کی بات سن کر کہا کہ بخدا آپ تو اپنے اسی پرانے غلط خیال میں مبتلا ہیں کہ یوسف زندہ ہیں اور وہ پھر ملیں گے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب پہنچا خوش خبری والا ڈالا اس نے وہ کرتا اس کے منہ پر پھر لوٹ کر ہوگیا دیکھنے والا بولا میں نے نہ کہا تھا تم کو کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

(آیت) فَلَمَّآ اَنْ جَاۗءَ الْبَشِيْرُ یعنی جب یہ بشارت دینے والا کنعان پہنچا اور قمیص یوسف ؑ کو یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈال دیا تو فورا ان کی بنیائی عود کر آئی بشارت دینے والا وہی حضرت یوسف ؑ کا بھائی یہودا تھا جو ان کا کرتہ مصر سے لایا تھا، قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ ڌ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی کیا میں نہ کہہ رہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ علم حاصل ہے جس کی آپ لوگوں کو خبر نہیں کہ یوسف ؑ زندہ ہیں اور وہ پھر ملیں گے
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بولے اے باپ بخشوا ہمارے گناہوں کو بیشک ہم تھے چوکنے والے

(آیت) قَالُوْا يٰٓاَبَانَا اسْـتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَآ اِنَّا كُنَّا خٰطِـــِٕـيْنَ اب جبکہ حقیقت حال واضح ہو کر سامنے آگئی تو برادران یوسف نے والد سے اپنی خطاؤں کی معافی اس شان سے مانگی کہ والد سے درخواست کی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعاء کریں اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ان کی خطا معاف کرنے کی دعا کرے گا وہ خود بھی انکی خطا معاف کر دے گا
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

کہا دم لو بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے وہی ہے بخشنے والا مہربان

(آیت) قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ یعنی یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میں عنقریب تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء کروں گا یہاں حضرت یعقوب ؑ نے فوراً ہی دعاء کرنے کے بجائے وعدہ کیا کہ عن قریب دعاء کروں گا اس کی وجہ عام مفسرین نے یہ لکھی ہے کہ مقصود اس سے یہ تھا کہ اہتمام کے ساتھ آخر شب کے وقت میں دعاء کریں کیونکہ اس وقت کی دعاء خصوصیت سے قبول کی جاتی ہے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں زمین سے قریب تر آسمان پر نزول اجلال فرماتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کو قبول کرلوں کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اس کی مغفرت کر دوں
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیہ بعض روایات میں ہے کہ یوسف ؑ نے اس مرتبہ اپنے بھائیوں کے ساتھ دو سو اونٹوں پر لدا ہوا بہت سا سامان کپڑوں اور دوسری ضروریات کا بھیجا تھا تاکہ پورا خاندان مصر آنے کے لئے عمدہ تیاری کرسکے اس کے مطابق یعقوب ؑ اور ان کی اولاد اور تمام متعلقین مصر کے لئے تیار ہو کر نکلے تو ایک روایت میں ان کی تعداد بہتر اور دوسری میں ترانوے 93 نفوس مرد و عورت پر مشتمل تھی دوسری طرف جب مصر پہنچنے کا وقت قریب آیا تو حضرت یوسف ؑ اور ملک مصر کے لوگ استقبال کے لئے شہر سے باہر تشریف لائے اور چار ہزار سپاہی ان کے ساتھ سلامی دینے کے لئے نکلے جب یہ حضرات مصر میں یوسف ؑ کے مکان میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنے والدین کو اپنے پاس ٹھہرایا، یہاں ذکر والدین کا ہے حالانکہ یوسف ؑ کی والدہ کا انتقال بچپن میں ہوچکا تھا مگر ان کے بعد یعقوب ؑ نے مرحومہ کی بہن لیّا سے نکاح کرلیا تھا جو یوسف ؑ کی خالہ ہونے کی حیثیت سے بھی مثل والدہ کے تھیں اور والد کے نکاح میں ہونے کی حیثیت سے بھی والدہ ہی کہلانے کی مستحق تھیں۔ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ یوسف ؑ نے سب خاندان کے لوگوں سے کہا کہ آپ سب باذن خداوندی مصر میں بےخوف و خطر بغیر کسی پابندی کے داخل ہوجائیں مطلب یہ تھا کہ دوسرے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں پر جو پابندیاں عادۃ ہوا کرتی ہیں آپ ان سب پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدے میں اور کہا اے باپ یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا اس کو میرے رب نے سچ کردیا اور اس نے انعام کیا مجھ پر جب مجھ کو نکالا قید خانہ سے اور تم کو لے آیا گاؤں سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال چکا تھا شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بیشک وہی ہے خبردار حکمت والا۔

وَرَفَعَ اَبَوَيْهِ عَلَي الْعَرْشِ یعنی یوسف ؑ نے اپنے والدین کو اپنے تخت شاہی پر بٹھایا، وَخَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا یعنی والدین اور سب بھائیوں نے یوسف ؑ کے سامنے سجدہ کیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ سجدہ شکر اللہ تعالیٰ کے لئے کیا گیا تھا یوسف ؑ کو نہیں تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سجدہ عبادت تو ہر پیغمبر کی شریعت میں غیر اللہ کے لئے حرام تھا لیکن تعظیم انبیاء (علیہم السلام) سابقین کی شریعتوں میں جائز تھا جو شریعت اسلام میں ذریعہ شرک ہونے کی بناء پر ممنوع ہوگیا ہے جیسا کہ حدیث صحیحین میں مذکور ہے کہ کسی غیر اللہ کے لئے سجدہ حلال نہیں وَقَالَ يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ یوسف ؑ کے سامنے جب دونوں ماں باپ اور گیارہ بھائیوں نے بیک وقت سجدہ کیا تو ان کو اپنا بچپن کا خواب یاد آ گیا اور فرمایا کہ ابا جان یہ میرے اس کی تعبیر ہے جو بچپن میں دیکھا تھا کہ آفتاب وماہتاب اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اس خواب کی سچائی کو آنکھوں سے دکھلا دیا، احکام و مسائل 1۔ حضرت یعقوب ؑ نے صاحبزادوں کی درخواست معافی و دعائے مغفرت پر جو یہ فرمایا کہ عنقریب تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا اور فوراً دعاء نہیں کی، اس تاخیر کی ایک وجہ بعض حضرات نے یہ بھی بیان کی ہے کہ منظور یہ تھا کہ یوسف ؑ سے مل کر پہلے یہ تحقیق ہوجائے کہ انہوں نے ان کی خطا معاف کردی ہے یا نہیں کیونکہ جب تک مظلوم معافی نہ دے عنداللہ بھی معافی نہیں ہوتی ایسی حالت میں دعائے مغفرت بھی مناسب نہ تھی یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح اور اصولی ہے کہ حقوق العباد کی توبہ بغیر اس کے نہیں ہوتی کہ صاحب حق اپنا حق وصول کرلے یا معاف کر دے محض زبانی توبہ و استغفار کافی نہیں 2۔ حضرت سفیان ثوری ؒ کی روایت ہے کہ جب یہودا قمیض یوسف لے کر آئے اور یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈالا تو پوچھا کہ یوسف کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتلایا کہ وہ مصر کے بادشاہ ہیں یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میں اس کو نہیں پوچھتا کہ وہ بادشاہ ہیں یا فقیر پوچھنا یہ ہے کہ ایمان اور عمل کے اعتبار سے کیا حال ہے تب انہوں نے ان کے تقوٰی و طہارت کے حالات بتلائے یہ ہے انبیاء (علیہم السلام) کی محبت اور تعلق کہ اولاد کی جسمانی راحت سے زیادہ ان کی روحانی حالت کی فکر کرتے ہیں ہر مسلمان کو اسی کا اتباع کرنا چاہئے، 3۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ جب بشارت دینے والا قمیص یوسف لے کر پہنچا تو یعقوب ؑ چاہتے تھے کہ اس کا کچھ انعام دیں مگر حالات سازگار نہ تھے اس لئے عذر کیا کہ سات روز سے ہمارے گھر میں روٹی نہیں پکی اس لئے میں کچھ مادی انعام تو نہیں دے سکتا مگر یہ دعاء دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تم پر سکرات موت کو آسان کردیں قرطبی ؒ نے فرمایا کہ یہ دعاء ان کے لئے سب سے بہتر انعام تھا، 4۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خوشخبری دینے والے کو انعام دینا سنت انبیاء (علیہم السلام) ہے صحابہ کرام میں حضرت بن کعب بن مالک ؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے پر جب ان پر عتاب ہوا اور بعد میں توبہ قبول کی گئی تو شخص قبول توبہ کی بشارت لایا تھا اپنا جوڑا کپڑوں کا اتار کر اس کو پہنا دیا، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ خوشی کے موقع پر اظہار مسرت کے لئے دوستوں وغیرہ کو کھانے کی دعوت دینا بھی سنت ہے حضرت فاروق اعظم ؓ نے جب سورة بقرہ پڑھ کر ختم کی تو خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھلایا، 5۔ حضرت یعقوب ؑ کے صاحبزادوں نے حقیقت واقعہ ظاہر ہوجانے کے بعد اپنے والد اور بھائی سے معافی مانگی اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ہاتھ یا زبان سے کسی شخص کو ایذاء پہنچی یا اس کا کوئی حق اس کے ذمہ رہا اس پر لازم ہے کہ فوراً اس حق کو ادا کر دے یا اس سے معاف کرا لے، صحیح بخاری میں بروایت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے ذمہ کسی دوسرے کا کوئی حق مالی واجب ہو یا اس کو کوئی ایذاء ہاتھ یا زبان سے پہونچائی ہو اس کو چاہئے کہ آج اس کو ادا کر دے یا معافی مانگ کر اس سے سبکدوشی حاصل کرلے قبل اس کے کہ قیامت کا وہ دن آجائے جہاں کسی کے پاس کوئی مال حق ادا کرنے کے لئے نہ ہوگا اس لئے اس کے اعمال صالحہ مظلوم کو دے دیے جائیں گے یہ خالی رہ جائے گا اور اگر اس کے اعمال بھی صالح نہیں تو دوسرے کے جو گناہ ہیں اس کے سر پر ڈال دیئے جائیں گے والعیاذ باللہ تعالیٰ ، یوسف ؑ کا مقام صبروشکر اس کے بعد حضرت یوسف ؑ نے والدین کے سامنے کچھ اپنی سرگذشت بیان کرنا شروع کی یہاں ایک منٹ ٹھہر کر غور کیجئے کہ آج اگر کسی کو اتنے مصائب کا سامنے کرنا پڑے جتنے یوسف ؑ پر گذرے اور والدین سے اتنی طویل مفارقت اور مایوسی کے بعد ملنے کا اتفاق ہو تو وہ والدین کے سامنے اپنی سر گذشت کیا بیان کرے گا کتنا روئے گا اور رلائے گا اور کتنے دن رات مصائب کی داستان سنانے میں صرف کرے گا مگر یہاں طرفین میں اللہ کے رسول اور پیغمبر ہیں ان کا طرز عمل ملاحظہ فرمائیے یعقوب ؑ کے بچھڑے ہوئے محبوب فرزند ہزاروں مصائب کے دور سے گذرنے کے بعد جب والد سے ملتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں (آیت) وَقَدْ اَحْسَنَ بِيْٓ اِذْ اَخْرَجَنِيْ مِنَ السِّجْنِ وَجَاۗءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّيْطٰنُ بَيْنِيْ وَبَيْنَ اِخْوَتِيْ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا جبکہ مجھے قیدخانہ سے نکال دیا اور آپ کو باہر سے یہاں لے آیا بعد اس کے شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا، حضرت یوسف ؑ کی مصائب ترتیب تین بابوں میں تقسیم ہوتی ہیں، اول بھائیوں کا ظلم وجور، دوسرے والدین سے طویل جدائی تیسرے قید خانے کی تکالیف خدا تعالیٰ کے اس برگزیدہ پیغمبر نے اپنے بیان میں پہلے تو واقعات کی ترتیب کو بدل کر قید خانے سے بات شروع کی اور اس میں قید خانے میں داخل ہونے اور وہاں کی تکالیف کا نام نہیں لیا بلکہ قید خانے سے نکلنے کا ذکر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ بیان کیا قیدخانہ سے نجات اور اس پر شکر الہی کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ میں کسی وقت قید خانہ میں بھی رہا ہوں، یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ یوسف ؑ نے جیل خانے سے نکلنے کا ذکر کیا بھائیوں نے جس کنویں میں ڈالا تھا اس کا اس حیثیت سے بھی ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کنویں سے نکالا وجہ یہ ہے کہ بھائیوں کی خطا پہلے معاف کرچکے تھے اور فرما چکے تھے لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اس لئے مناسبب نہ سمجھا کہ اب اس کنویں کا کسی طرح سے بھی ذکر آئے تاکہ بھائی شرمندہ نہ ہوں (قرطبی) اس کے بعد والدین کی طویل اور صبر آزما مفارقت اور اس کے تاثرات کا ذکر کرنا تھا تو ان سب باتوں کو چھوڑ کر اس کے آخری انجام اور والدین سے ملاقات کا ذکر اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ کیا کہ آپ کو بدو یعنی دیہات سے شہر مصر میں پہنچا دیا اس میں اس نعمت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ یعقوب ؑ کا وطن دیہات میں تھا جہاں معیشت کی آسانیاں کم ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ نے شہر میں شاہی اعزازات کے ساتھ اندر پہنچادیا، اب پہلی بات رہ گئی بھائیوں کا ظلم وجور، سو اس کو بھی شیطان کے حوالہ کر کے اس طرح بیباق کردیا کہ میرے بھائی تو ایسے نہ تھے جو یہ کام کرتے شیطان نے ان کو دھوکہ میں ڈال کر یہ فساد کرا دیا، یہ ہے شان نبوت کہ مصائب اور تکالیف پر صرف صبر ہی نہیں بلکہ ہر جگہ شکر کا پہلو نکال لیتے ہیں اسی لئے ان کا کوئی حال ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گذار نہ ہوں بخلاف عام انسانوں کے کہ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہزاروں نعمتیں برستی رہیں تو بھی کسی کا ذکر نہ کریں اور کسی وقت کو مصیبت پڑجائے تو اس کو عمر بھر گاتے رہیں قرآن میں اسی کی شکایت کی گئی ہے اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ یعنی انسان اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے، یوسف ؑ نے داستان مصائب کو تین لفظوں میں مختصر کرنے کے بعد فرمایا اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ یعنی میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی تدبیر لطیف کردیتا ہے بلاشبہ وہ بڑا علم والا حکمت والا ہے