Ayah 12:18وَجَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ یعنی یوسف ؑ کے بھائی یوسف ؑ کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے تھے تاکہ والد کو بھیڑئیے کے کھانے کا یقین دلائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لئے ان کو اس سے غافل کردیا کہ کرتے پر خون لگانے کے ساتھ اس کو پھاڑ بھی دیتے جس سے بھیڑئیے کا کھانا ثابت ہوتا انہوں نے صحیح سالم کرتے پر بکری کے بچے کا خون لگا کر باپ کو دھوکہ میں ڈالنا چاہا یعقوب ؑ نے کرتا صحیح سالم دیکھ کر فرمایا میرے بیٹو ! یہ بھیڑیا کیسا حکیم اور عقل مند تھا کہ یوسف کو اس طرح کھایا کہ کرتہ کہیں سے نہیں پھٹا، اس طرح حضرت یعقوب ؑ پر ان کی جعل سازی کا راز فاش ہوگیا اور فرمایا بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ یعنی یوسف کو بھیڑیئے نے نہیں کھایا بلکہ تمہارے ہی نفوس نے ایک بات بنائی ہے اب میرے لئے بہتر یہی ہے کہ صبر کروں اور جو کچھ تم کہتے ہو اس پر اللہ سے مدد مانگوں
مسئلہیعقوب ؑ نے کرتہ صحیح سالم ہونے سے برادران یوسف ؑ کے جھوٹ پر استدلال کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قاضی یا حاکم کو فریقین کے دعوے اور دلائل کیساتھ حالات اور قرائن پر بھی نظر کرنا چاہئے (قرطبی)
ماروردی ؒ نے فرمایا کہ پیراہن یوسف بھی عجائب روزگار میں سے ہے تین عظیم الشان وقائع اسی پیراہن یعنی کرتے سے وابستہ ہیں،
پہلاواقعہخون آلود کر کے والد کو دھوکہ دینے اور کرتے کی شہادت سے جھوٹ ثابت ہونے کا ہے،
دوسرا واقعہزلیخا کا کہ اس میں بھی یوسف ؑ کا کرتہ ہی شہادت میں پیش ہوا ہے،
تیسرا واقعہیعقوب ؑ کی بینائی واپس آنے کا اس میں بھی ان کا کرتہ ہی اعجاز کا مظہر ثابت ہوا ہے
مسئلہبعض علماء نے فرمایا کہ یعقوب ؑ نے جو بات اپنے صاحبزادوں سے اس وقت کہی تھی کہ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا یعنی تمہارے نفوس نے ایک بات بنائی ہے یہی بات اس وقت بھی کہی جبکہ مصر میں یوسف ؑ کو اس کی خبر کی تو فرمایا بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہ دونوں باتیں اپنی رائے سے کہی تھیں ان میں سے پہلی بات صحیح نکلی دوسری صحیح نہیں تھی کیونکہ اس میں بھائیوں کا قصور نہ تھا اس سے معلوم ہوا کہ رائے کی غلطی پیغمبروں سے بھی ابتداءً ہو سکتی ہے اگرچہ بعد میں ان کو بوحی الہی غلطی پر قائم رہنے نہیں دیا جاتا ،
نیز قرطبی میں ہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ رائے کی غلطی بڑے بڑوں سے ہو سکتی ہے اس لئے ہر صاحب رائے کو چاہئے کہ اپنی رائے کو متہم سمجھے اس پر ایسا جمود نہ کرے کہ دوسروں کی بات سننے ماننے کو تیار نہ ہو
Ayah 12:19وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ سیارہ کے معنی قافلہ وارد سے مراد وہ لوگ ہیں جو قافلہ سے آگے رہتے ہیں قافلہ کی ضروریات پانی وغیرہ مہیا کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے ادلاء کے معنی کنویں میں ڈول ڈالنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اتفاقا ایک قافلہ اس سر زمین پر آ نکلا تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ قافلہ ملک شام سے مصر جا رہا تھا راستہ بھول کر اس غیر آباد جنگل میں پہنچ گیا اور پانی لانے والوں کو کنویں پر بھیجا،
لوگوں کی نظر میں یہ اتفاقی واقعہ تھا کہ شامی قافلہ راستہ بھول کر یہاں پہنچا اور اس غیرآباد کنویں سے سابقہ پڑا لیکن راز کائنات کا جاننے والا جانتا ہے کہ یہ سب واقعات ایک مربوط اور مستحکم نظام کی ملی ہوئی کڑیاں ہیں یوسف ؑ کا پیدا کرنے والا اور اس کی حفاظت کرنے والا ہی قافلہ کو راستہ سے ہٹا کر یہاں لاتا ہے اور اس کے آدمیوں کو اس غیرآباد کنویں پر بھیجتا ہے یہی حال ہے ان تمام حالات و واقعات کا جن کو عام انسان اتفاقی حوادث سمجھتے ہیں اور فلسفہ والے ان کو بخت و اتفاق کہا کرتے ہیں جو درحقیقت نظام کائنات سے ناواقفیت پر مبنی ہوتا ہے ورنہ سلسلہ تکوین میں کوئی بخت و اتفاق نہیں حق سبحانہ وتعالیٰ جس کی شان فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ہے مخفی حکمتوں کے تحت ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ ظاہری وقائع سے ان کا جوڑ سمجھ میں نہیں آتا تو انسان ان کو اتفاقی حوادث قرار دیتا ہے،
بہرحال ان کا آدمی جس کا نام مالک بن دعبربتلایا جاتا ہے اس کنویں پر پہنچا، ڈول ڈالا یوسف ؑ نے قدرت کی امداد کا مشاہدہ کیا اس ڈول کی رسی پکڑ لی پانی کے بجائے ڈول کے ساتھ ایک ایسی ہستی کا چہرہ سامنے آ گیا جس کی آئندہ ہونے والی عظمت شان سے بھی قطع نظر کی جائے تو موجودہ حالت میں بھی اپنے حسن و جمال اور معنوی کمالات کے درخشاں نشانات ان کی عظمت کے لئے کچھ کم نہ تھے ایک عجیب انداز سے کنویں کی گہرائی سے برآمد ہونے والے اس کم سن حسین اور ہونہار بچہ کو دیکھ کر پکار اٹھا يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ ارے بڑی خوشی کی بات ہے یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا ہے صحیح مسلم میں شب معراج کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں یوسف ؑ سے ملا تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پورے عالم کے حسن میں سے آدھا ان کو عطا فرمایا ہے اور باقی آدھا سارے جہان میں تقسیم ہوا ہے،
وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً یعنی چھپا لیا اس کو ایک مال تجارت سمجھ کر مطلب یہ ہے کہ شروع میں تو مالک بن دعبریہ لڑکا دیکھ کر تعجب سے پکار اٹھا مگر پھر معاملہ پر غور کر کے یہ قرار دیا کہ اس کا چرچا نہ کیا جائے اس کو چھپا کر رکھے تاکہ اس کو فروخت کر کے رقم وصول کرے اگر پورے قافلہ میں اس کا چرچا ہوگیا تو سارا قافلہ اس میں شریک ہوجائے گا۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف ؑ کے بھائیوں نے حقیقت واقعہ کو چھپا کر ان کو ایک مال تجارت بنا لیا جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ یہودا روزانہ یوسف ؑ کو کنویں میں کھانا پہونچانے کے لئے جاتے تھے تیسرے روز جب ان کو کنویں میں نہ پایا تو واپس آ کر بھائیوں سے واقعہ بیان کیا یہ سب بھائی جمع ہو کر وہاں پہنچنے تحقیق کرنے پر قافلہ والوں کے پاس یوسف ؑ برآمد ہوئے تو ان سے کہا یہ لڑکا ہمارا غلام ہے بھاگ کر یہاں آ گیا ہے تم نے بہت برا کیا کہ اس کو اپنے قبضہ میں رکھا مالک بن دعبریہ اور ان کے ساتھی سہم گئے کہ ہم چور سمجھے جائیں گے اس لئے بھائیوں سے ان کے خریدنے کی بات چیت ہونے لگی
تو آیت کے معنی یہ ہوئے کہ برادران یوسف نے خود ہی یوسف کو ایک مال تجارت بنا لیا اور فروخت کردیا واللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کی سب کارگزاریاں معلوم تھیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کو سب معلوم تھا کہ برادران یوسف کیا کریں گے اور ان سے خریدنے والا قافلہ کیا کرے گا، اور وہ اس پر پوری قدرت رکھتے تھے کہ ان سب کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیں لیکن تکوینی حکمتوں کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے ان منصوبوں کو چلنے دیا،
ابن کثیر نے فرمایا کہ اس جملہ میں رسول کریم ﷺ کے لئے بھی یہ ہدایت ہے کہ آپ ﷺ کی قوم جو کچھ آپ کے ساتھ کر رہی ہے یا کرے گی وہ سب ہمارے علم وقدرت سے باہر نہیں اگر ہم چاہیں تو ایک آن میں سب کو بدل ڈالیں لیکن تقاضائے حکمت یہی ہے کہ ان لوگوں کو اس وقت اپنی قوت آزمائی کرنے دی جائے اور انجام کار آپ ﷺ کو ان پر غالب کر کے حق کو غالب کیا جائے گا، جیسا یوسف ؑ کے ساتھ کیا گیا
Ayah 12:20وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ لفظ شراء عربی زبان میں خریدنے اور فروخت کرنے دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں بھی دونوں معنی کا احتمال ہے ضمیر اگر بردران یوسف کی طرف عائد کی جائے تو فروخت کرنے کے معنی ہوں گے اور قافلہ والوں کی طرف عائد کی جائے تو خریدنے کے معنی ہوں گے مطلب یہ ہے کہ بیچ ڈالا برادران یوسف نے یا خرید لیا قافلہ والوں نے یوسف ؑ کو بہت تھوڑی قیمت یعنی گنتی کے چند دراہم کے معاوضہ میں
قرطبی نے فرمایا کہ عرب تجار کی عادت یہ تھی کہ بڑی رقموں کے معاملات وزن سے کیا کرتے تھے اور چھوٹی رقمیں جو چالیس سے زیادہ نہ ہوں ان کے معاملات گنتی سے کیا کرتے تھے اس لئے دراہم کے ساتھ معدودہ کے لفظ نے یہ بتلادیا کہ دراہم کی مقدار چالیس درہم کی بھی مختلف روایتیں منقول ہیں (ابن کثیر)
(آیت) وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ زاہدین، زاہد کی جمع ہے جو زہد سے مشتق ہے زہد کے لفظی معنی بےرغبتی اور بےتوجہی کے آتے ہیں محاورات میں دنیا کی مال و دولت سے بےرغبتی اور اعراض کو کہا جاتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ برداران یوسف اس معاملہ میں دراصل مال کے خواہش مند نہ تھے ان کا اصل مقصد تو یوسف ؑ کو باپ سے جدا کرنا تھا اس لئے تھوڑے سے دراہم میں معاملہ کرلیا۔
Ayah 12:21خلاصہ تفسیر
(قافلہ والے یوسف ؑ کو بھائیوں سے خرید کر مصر لے گئے وہاں عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کردیا) اور جس شخص نے مصر میں ان کو خریدا تھا (یعنی عزیز) اس نے (ان کو اپنے گھر لا کر اپنی بیوی کے سپرد کیا اور) اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو خاطر سے رکھنا کیا عجب ہے کہ (بڑا ہو کر) ہمارے کام آوے، یا ہم اس کو بیٹا بنالیں (مشہور یہ ہے کہ یہ اس لئے کہا کہ ان کے اولاد نہ تھی) اور ہم نے (جس طرح یوسف ؑ کو اپنی خاص عنایت سے اس اندھیرے کنویں سے نجات دی) اسی طرح یوسف کو اس سر زمین (مصر) میں خوب قوت دی (مراد اس سے سلطنت ہے) اور (یہ نجات دینا اس غرض سے بھی تھا) تاکہ ہم ان کو خوابوں کی تعبیر دینا بتلا دیں (مطلب یہ تھا کہ نجات دینے کا مقصد ان کو ظاہری اور باطنی دولت سے مالامال کرنا تھا) اللہ تعالیٰ اپنے (چاہے ہوئے) کام پر غالب (اور قادر) ہے (جو چاہے کر دے) لیکن اکثر آدمی جانتے نہیں (کیونکہ اہل ایمان و یقین کم ہی ہوتے ہیں یہ مضمون قصہ کے درمیان بطور جملہ معترضہ کے اس لئے لایا گیا ہے کہ یوسف ؑ کی موجودہ حالت یعنی غلام بن کر رہنا بظاہر کوئی اچھی حالت نہ تھی مگر حق تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ حالت چند روزہ بطور ذریعہ کے ہے اصل مقصد ان کو اونچا مقام عطا فرمانا ہے اور اس کا ذریعہ عزیز مصر کو اور اس کے گھر میں پرورش پانے کو بنایا گیا کیونکہ امراء کے گھر میں پرورش پانے سے سلیقہ و تجربہ بڑھتا ہے، امور سلطنت کا علم ہوتا ہے اسی کا بقیہ آگے یہ ہے) اور جب وہ اپنی جوانی (یعنی سن بلوغ یا کمال شباب) کو پہنچے ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا (مراد اس سے علوم نبوت کا عطا کرنا ہے اور کنویں میں ڈالنے کے وقت جو ان کی طرف وحی بھیجنے کا ذکر پہلے آچکا ہے وہ وحی نبوت نہیں تھی بلکہ ایسی وحی تھی جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو وحی بھیجی گئی تھی) اور ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں (جو قصہ یوسف ؑ پر تہمت لگانے کا آگے بیان ہوگا اس سے پہلے ان جملوں میں بتلا دیا گیا ہے کہ وہ سراسر تہمت اور جھوٹ ہوگا کیونکہ جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم و حکمت عطا ہو اس سے ایسے کام صادر ہو ہی نہیں سکتے آگے اس تہمت کے قصہ کا بیان ہے کہ یوسف ؑ عزیز مصر کے گھر میں آرام و راحت کے ساتھ رہنے لگے) اور (اسی درمیان میں یہ ابتلاء پیش آیا کہ) جس عورت کے گھر میں یوسف ؑ رہتے تھے وہ (ان پر مفتون ہوگئی اور) ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے ان کو پھسلانے لگی اور (گھر کے) سارے دروازے بند کر دئیے اور (ان سے) کہنے لگی آجاؤ تم ہی سے کہتی ہوں یوسف ؑ نے کہا (کہ اول تو یہ خود بڑا بھاری گناہ ہے) اللہ بچائے (دوسرے) وہ (یعنی تیرا شوہر) میرا مُربی (اور محسن) ہے کہ مجھ کو کیسی اچھی طرح رکھا (تو کیا میں اس کے ناموس میں خلل اندازی کروں) ایسے حق فراموشوں کو فلاح نہیں ہوا کرتی (بلکہ اکثر تو دنیا ہی میں ذلیل اور پریشان ہوتے ہیں ورنہ آخرت میں تو عذاب یقینی ہے)
معارف و مسائل
پچھلی آیتوں میں حضرت یوسف ؑ کی ابتدائی سرگذشت بیان ہوچکی ہے کہ قافلہ والوں نے جب ان کو کنویں سے نکال لیا تو برادران یوسف نے ان کو اپنا غلام گریختہ بنا کر تھوڑے سے درہموں میں ان کا سودا کرلیا اول تو اس لئے کہ ان کو بزرگ ہستی کی قدر معلوم نہ تھی دوسرے اس لئے کہ ان کا اصل مقصد ان سے پیسہ کمانا نہیں بلکہ باپ سے دور کردینا تھا اس لئے صرف فروخت کردینے پر بس نہیں کہ کیونکہ یہ خطرہ تھا کہ کہیں قافلہ والے ان کو یہیں نہ چھوڑ جائیں اور یہ پھر کسی طرح والد کے پاس پہنچ کر ہماری سازش کا راز فاش کردے اس لئے امام تفسیر مجاھدرحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے مطابق یہ لوگ اس انتظار میں رہے کہ یہ قافلہ ان کو لے کر مصر کے لئے روانہ ہوجائے اور جب قافلہ روانہ ہوا تو کچھ دور تک قافلہ کے ساتھ چلے اور ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو اس کو بھاگ جانے کی عادت ہے کھلانہ چھوڑو بلکہ باندھ کر رکھو، اس در شہوار کی قدرو قیمت سے ناواقف قافلہ والے ان کو اسی طرح مصر تک لے گئے (تفسیر ابن کثیر)
آیات مذکورہ میں اس کے بعد کا قصہ اس طرح مذکور ہے اور قرآنی اعجاز کے ساتھ قصہ کے جتنے اجزاء خود بخود سمجھ میں آسکتے ہیں ان کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی مثلاً قافلہ کا مختلف منزلوں سے گذر کر مصر تک پہنچنا اور وہاں جا کر یوسف ؑ کو فروخت کرنا وغیرہ سب کو چھوڑ کر یہاں سے بیان ہوتا ہے،
(آیت) وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ یعنی کہا اس شخص نے جس نے یوسف ؑ کو مصر میں خریدا اپنی بیوی سے کہ یوسف ؑ کے ٹھرانے کا اچھا انتظام کرو۔
مطلب یہ ہے کہ قافلہ والوں نے ان کو مصر لے جا کر فروخت کرنے کا اعلان کیا تو تفسیر قرطبی میں ہے کہ لوگوں نے بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانا شروع کیں یہاں تک کہ یوسف ؑ کے وزن کے برابر مشک اور اسی وزن کے ریشمی کپڑے قیمت لگ گئی
یہ دولت اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کے لئے مقدر کی تھی اس نے یہ سب چیزیں قیمت میں ادا کر کے یوسف ؑ کو خرید لیا،
جیسا کہ پہلے ارشاد قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ سب کچھ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ رب العزت کی بنائی ہوئی مستحکم تدبیر کے اجزاء ہیں مصر میں یوسف ؑ کی خریداری کے لئے اس ملک کے سب سے بڑے عزت والے شخص کو مقدر فرمایا ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ شخص جس نے مصر میں یوسف ؑ کو خریدا وہ ملک مصر کا وزیر خزانہ تھا جس کا نام قطفیر یا اطفیریر بتلایا جاتا ہے اور بادشاہ مصر اس زمانہ میں قوم عمالقہ کا ایک شخص ریان بن اسید تھا، (جو بعد میں حضرت یوسف ؑ کے ہاتھ پر اسلام لایا اور مسلمان ہو کر یوسف ؑ کی زندگی میں انتقال کر گیا (مظہری) اور عزیز مصر جس نے خریدا تھا اس کی بیوی کا نام راعیل یا زلیخا بتلایا گیا ہے عزیز مصر قطفیر نے یوسف ؑ کے متعلق اپنی بیوی کو یہ ہدایت کی کہ ان کو اچھا ٹھکانا دے عام غلاموں کی طرح نہ رکھے ان کی ضروریات کا اچھا انتظام کرے،
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ دنیا میں تین آدمی بڑے عقلمند اور قیافہ شناس ثابت ہوئے اول عزیز مصر جس نے ان کے کمالات کو اپنے قیافہ سے معلوم کر کے بیوی کو یہ ہدایت دی دوسرے شعیب ؑ کی وہ صاحبزادی جس نے موسیٰ ؑ کے بارے میں اپنے والد سے کہا (آیت) يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ یعنی اباجان ان کو ملازم رکھ لیجئے اس لئے کہ بہترین ملازم وہ شخص ہے جو قوی بھی ہو اور امانت دار بھی تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں جنہوں نے اپنے بعد فاروق اعظم ؓ کو خلافت کے لئے منتخب فرمایا (ابن کثیر)
(آیت) وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡیعنی اس طرح حکومت دے دیہم نے یوسف ؑ کو زمین کی اس میں آئندہ آنے والے واقعہ کی بشارت یہ ہے کہ یوسف ؑ جو عزیز مصر کے گھر میں اس وقت بحیثیت غلام داخل ہوئے ہیں عنقریب یہ ملک مصر کے سب سے بڑے آدمی ہوں گے اور حکومت کا اقتدار ان کو ملے گا،
وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ یہاں شروع میں حرف واؤ کو اگر عطف کیلئے مانا جائے تو ایک جملہ اس معنی کا محذوف مانا جائے گا کہ ہم نے یوسف ؑ کو زمین کی حکومت اس لئے دی کہ وہ دنیا میں عدل و انصاف کے ذریعہ امن وامان قائم کریں اور باشندگان ملک کی راحت کا انتظام کریں اور اس لے کہ ہم ان کو باتوں کا ٹھکانے لگانا سکھا دیں باتوں کا ٹھکانے لگانا ایک ایسا عام مفہوم ہے جس میں وحی الہی کا سمجھنا اور اس کو برروئے کار لانا بھی داخل ہے اور تمام ضروری علوم کا حاصل ہونا بھی اور خوابوں کی تعبیر صحیح بھی
وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِه ٖ یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور قادر ہے اپنے کام پر جو اس کا ارادہ ہوتا ہے تمام عالم کے اسباب ظاہرہ اس کے مطابق ہوتے چلے جاتے ہیں جیسا ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ فرماتے ہیں تو دنیا کے سارے اسباب اسکے لئے تیار کردیتے ہیں وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اسباب ظاہرہ ہی کو کچھ سمجھ کر انہی کی فکر میں لگے رہتے ہیں مسبب الاسباب اور قادر مطلق کی طرف دھیان نہیں دیتے
Ayah 12:22(آیت) وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا یعنی جب پہنچ گئے یوسف ؑ اپنی پوری قوت اور جوانی پر تو دے دیہم نے ان کو حکمت اور علم یہ قوت اور جوانی کسی عمر میں حاصل ہوئی اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد ؒ قتادہ ؒ نے فرمایا کہ 33 سال عمر تھی ضحاک ؒ نے بیس سال اور حسن بصری ؒ نے چالیس سال بتلائی ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حکمت اور علم عطا کرنے سے مراد اس جگہ عطاء نبوت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یوسف ؑ کو نبوت مصر پہنچنے کے بھی کافی عرصہ بعد ملی ہے اور کنویں کی گہرائی میں جو وحی ان کو بھیجی گئی وہ وحی نبوت نہ تھی بلکہ لغوی وحی تھی جو غیر انبیاء کو بھی بھیجی جاسکتی ہے جیسے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ اور حضرت مریم ؑ کے بارے میں وارد ہوا ہے،
(آیت) وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ اور ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیک کام کرنے والوں کو مطلب یہ ہے کہ ہلاکت سے نجات دلا کر حکومت وعزت تک پہونچانا یوسف ؑ کی نیک چلنی خدا ترسی اور اعمال صالحہ کا نتیجہ تھا یہ ان کے ساتھ مخصوص نہیں جو بھی ایسے عمل کرے گا ہمارے انعامات اسی طرح پائے گا
Ayah 12:23(آیت) وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ۔ یعنی جس عورت کے گھر میں یوسف ؑ رہتے تھے وہ ان پر مفتون ہوگئی اور ان سے اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے ان کو پھسلانے لگی اور گھر کے سارے دروازے بند کر دئیے اور ان سے کہنے لگی کہ جلد آجاؤ تمہیں سے کہتی ہوں
پہلی آیت میں معلوم ہوچکا ہے کہ یہ عورت عزیز مصر کی بیوی تھی مگر اس جگہ قرآن کریم نے زوجہ عزیز کا مختصر لفظ چھوڑ کر اَلَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا کے الفاظ اختیار کئے اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ یوسف ؑ کے گناہ سے بچنے کی مشکلات میں اس بات نے اور بھی اضافہ کردیا تھا کہ وہ اسی عورت کے گھر میں اسی کی پناہ میں رہتے تھے اس کے کہنے کو نظرانداز کرنا آسان نہ تھا
گناہ سے بچنے کا قوی ذریعہ خود اللہ سے پناہ مانگنا ہے
اور اس کا ظاہری سبب یہ ہوا کہ یوسف ؑ نے جب اپنے آپ کو سب طرف سے گھرا ہوا پایا تو پیغمبرانہ انداز پر سب سے پہلے خدا کی پناہ مانگی قال مَعَاذ اللّٰهِ محض اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہیں کیا اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو خدا کی پناہ مل جائے اس کو کون صحیح راستہ سے ہٹا سکتا ہے اس کے بعد پیغمبرانہ حکمت وموعظمت کے ساتھ خود زلیخا کو نصیحت کرنا شروع کیا کہ وہ بھی خدا سے ڈرئے اور اپنے ارادہ سے باز آجائے فرمایا
اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ وہ میرا پالنے والا ہے اس نے مجھے آرام کی جگہ دی خوب سمجھ لو کہ ظلم کرنے والوں کو فلاح نہیں ہوتی، بظاہر مراد یہ ہے کہ تیرے شوہر عزیز مصر نے میری پرورش کی اور مجھے اچھا ٹھکانا دیا، میرا محسن ہے میں اس کے حرم پر دست اندازی کروں ؟ یہ بڑا ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے اس کے ضمن میں خود زلیخا کو بھی یہ سبق دے دیا کہ جب میں اس کی چند روزہ پرورش کا اتنا حق پہچانتا ہوں تو تجھے مجھ سے زیادہ پہچاننا چاہئے،
اس جگہ حضرت یوسف ؑ نے عزیز مصر کو اپنا رب فرمایا حالانکہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں وجہ یہ کہ ایسے الفاظ موہم شرک اور مشرکین کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اسی لئے شریعت محمدیہ میں ایسے الفاظ استعمال کرنا بھی ممنوع کردیا گیا صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا کو اپنا رب نہ کہے اور کوئی آقا اپنے غلام کو اپنا بندہ نہ کہے مگر یہ خصوصیت شریعت محمدیہ ﷺ کی ہے جس میں شرک کی ممانعت کے ساتھ ایسی چیزوں کی بھی ممانعت کردی گئی ہے جن میں ذریعہ شرک بننے کا احتمال ہو انبیاء سابقین کی شریعتوں میں شرک سے تو سختی کے ساتھ روکا گیا ہے مگر اسباب و ذرائع پر کوئی پابندی نہ تھی اسی وجہ سے پچھلی شریعتوں میں تصویر سازی ممنوع نہ تھی مگر شریعت محمدی چونکہ قیامت تک کے لئے آئی ہے اس کو شرک سے پوری طرح محفوظ کرنے لئے ذرائع شرک تصویر اور ایسے الفاظ سے بھی روک دیا گیا جو موہم شرک ہو سکیں بہرحال یوسف ؑ کا اِنَّهٗ رَبِّيْٓ فرمانا اپنی جگہ درست تھا،
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو اسی کو اپنا رب فرمایا اور اچھا ٹھکانا بھی درحقیقت اسی نے دیا اس کی نافرمانی سب سے بڑا ظلم ہے اور ظلم کرنے والوں کو فلاح نہیں۔
بعض مفسرین سدی اور ابن اسحاق وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ اس خلوت میں زلیخا نے یوسف ؑ کو مائل کرنے کے لئے ان کے حسن و جمال کی تعریف شروع کی کہا کہ تمہارے بال کس قدر حسین ہیں یوسف ؑ نے فرمایا کہ یہ بال موت کے بعد سب سے پہلے میرے جسم سے علیحٰدہ ہوجائیں گے پھر کہا تمہاری آنکھیں کتنی حسین ہیں تو فرمایا موت کے بعد یہ سب پانی ہو کر میرے چہرے پر بہہ جائیں گی پھر کہا تمہارا چہرہ کتنا حسین ہے تو فرمایا کہ یہ سب مٹی کی غذا ہے اللہ تعالیٰ نے فکر آخرت آپ پر اس طرح مسلط کردی کہ نوجوانی کے عالم میں دنیا کی ساری لذتیں ان کے سامنے گرد ہوگئیں صحیح ہے کہ فکر آخرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو ہر جگہ ہر شر سے محفوظ رکھ سکتی ہے،
اللہم ارزقنا ایاہ،
Ayah 12:24خلاصہ تفسیر
اور اس عورت کے دل میں ان کا خیال (عزم کے درجہ میں) جم ہی رہا تھا اور ان کو بھی اس عورت کا کچھ کچھ خیال (امر طبعی کے درجہ میں) ہو چلا تھا (جو کہ اختیار سے باہر ہے جیسے گرمی کے روزہ میں پانی کی طرف میلان طبعی ہوتا ہے گو روزہ توڑنے کا وسوسہ تک بھی نہیں آتا، البتہ) اگر اپنے رب کی دلیل کو (یعنی اس فعل کے گناہ ہونے کی دلیل کو جو کہ حکم شرعی ہے) انہوں نے دیکھا ہوتا (یعنی ان کو شریعت کا علم مع قوت عملیہ کے حاصل نہ ہوتا) تو زیادہ خیال ہوجانا عجب نہ تھا (کیونکہ اس کے وداعی اور اسباب سب قوی جمع تھے مگر) ہم نے اسی طرح ان کو علم دیا تاکہ ہم ان سے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کو دور رکھیں (یعنی ارادہ سے بھی بچا لیا اور فعل سے بھی کیونکہ) وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے،
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں حضرت یوسف ؑ کا عظیم ابتلاء و امتحان مذکور تھا کہ عزیز مصر کی عورت نے گھر کے دروازے بند کر کے ان کو گناہ کی طرف بلانے کی کوشش کی اور اپنی طرف راغب کرنے اور مبتلا کرنے کے سارے ہی اسباب جمع کر دئیے مگر رب العزت نے اس نوجوان صالح کو ایسے شدید ابتلاء میں ثابت قدم رکھا اس کی مزید تفصیل اس آیت میں ہے کہ زلیخا تو گناہ کے خیال میں لگی ہوئی تھی ہی یوسف ؑ کے دل میں بھی انسانی فطرت کے تقاضے سے کچھ کچھ غیر اختیاری میلان پیدا ہونے لگا مگر اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت میں اپنی حجت وبرہان یوسف ؑ کے سامنے کردی جس کی وجہ سے وہ غیر اختیاری میلان آگے بڑہنے کے بجائے بالکل ختم ہوگیا اور وہ پیچھا چھڑا کر بھاگے
اس آیت میں لفظ ہم بمعنی خیال زلیخا اور حضرت یوسف ؑ دونوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا اور یہ معلوم ہے کہ زلیخا کا ہم یعنی خیال گناہ کا تھا اس سے یوسف ؑ کے متعلق بھی ایسے ہی خیال کا وہم ہوسکتا تھا اور یہ باجماع امت شان نبوت و رسالت کے خلاف ہے کیونکہ جمہور امت اس پر متفق ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) صغیرہ اور کبیرہ ہر طرح کے گناہ سے معصوم ہوتے ہیں کبیرہ گناہ تو نہ قصدا ہوسکتا ہے نہ سہوا وخطاء کی راہ سے ہوسکتا ہے البتہ صغیرہ گناہ و سہو وخطاء کے طور پر سرزد ہوجانے کا امکان ہے مگر اس پر بھی انبیاء (علیہم السلام) کو قائم نہیں رہنے دیا جاتا بلکہ متنبہ کر کے اس سے ہٹا دیا جاتا ہے (مسامرہ)
اور یہ مسئلہ عصمت قرآن وسنت سے ثابت سے ثابت ہونے کے علاوہ عقلا بھی اس لئے ضروری ہے کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) سے گناہ سرزد ہوجانے کا امکان احتمال رہے تو ان کے لائے ہوئے دین اور وحی پر اعتماد کا کوئی راستہ نہیں رہتا اور ان کی بعثت اور ان پر کتاب نازل کرنے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر پیغمبر کو ہر گناہ سے معصوم رکھا ہے
اس لئے اجمالی طور پر یہ تو متعین ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ کو جو خیال پیدا ہوا وہ گناہ کے درجہ کا خیال نہ تھا تفصیل اس کی یہ ہے کہ عربی زبان میں لفظ ہم ّدو معنی کے لئے بولا جاتا ہے ایک کسی کام کا قصد و ارادہ اور عزم کرلینا دوسرے محض دل میں وسوسہ اور غیراختیاری خیال پیدا ہوجانا پہلی صورت گناہ میں داخل اور قابل مواخذہ ہے ہاں اگر قصد و ارادہ کے بعد خالص اللہ تعالیٰ کے خوف سے کوئی شخص اس گناہ کو باختیار خود چھوڑ دے تو حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کی جگہ اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی درج فرما دیتے ہیں اور دوسری صورت کہ محض وسوسہ اور غیراختیاری خیال آجائے اور فعل کا ارادہ بالکل نہ ہو جیسے گرمی کے روزہ میں ٹھنڈے پانی کی طرف طبعی میلان غیر اختیاری سب کو ہوجاتا ہے حالانکہ روزہ میں پینے کا ارادہ بالکل نہیں ہوتا اس قسم کا خیال نہ انسان کے اختیار میں ہے نہ اس پر کوئی مواخذہ اور گناہ ہے،
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے گناہ کے وسوسہ اور خیال کو معاف کردیا ہے جبکہ وہ اس پر عمل نہ کرے (قرطبی)
اور صحیحیں میں بروایت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جب کسی نیکی کا ارادہ کرے تو صرف ارادہ کرنے سے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دو اور جب وہ یہ نیک عمل کرلے تو دس نیکیاں لکھو اور اگر بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے مگر پھر خدا کے خوف سے چھوڑ دے تو گناہ کے بجائے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دو اور اگر وہ گناہ کر گذرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھو (ابن کثیر)
تفسیرقرطبی میں لفظ ہَمّ کا ان دونوں معنی کے لئے استعمال عرب کے محاورات اور اشعار کی شہادتوں سے ثابت کیا ہے،
اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ آیت میں لفظ ہم زلیخا اور حضرت یوسف ؑ دونوں کے لئے بولا گیا مگر ان دونوں کے ہم یعنی خیال میں بڑا فرق ہے پہلا گناہ میں داخل ہے اور دوسرا غیر اختیاری وسوسہ کی حیثیت رکھتا ہے جو گناہ میں داخل نہیں قرآن کریم کا اسلوب بیان بھی خود اس پر شاہد ہے کیونکہ دونوں کا ہم و خیال اگر ایک ہی طرح کا ہوتا تو اس جگہ بصیغہ تثنیہ وَلَقَدْ هَمَّا کہہ دیا جاتا جو مختصر بھی تھا اس کو چھوڑ کر دونوں کے ہم و خیال کا بیان الگ الگ فرمایا هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا اور زلیخا کے ہم و خیال کے ساتھ تاکید کے الفاظ لقد کا اضافہ کیا یوسف ؑ کو یہ ابتلاء پیش آیا تو فرشتوں نے اللہ جل شانہ سے عرض کی کہ آپ کا یہ مخلص بندہ گناہ کے خیال میں ہے حالانکہ وہ اس کے وبال کو خوب جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انتظار کرو اگر وہ یہ گناہ کرلے تو جیسا کیا ہے وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دو اور اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو گناہ کے بجائے اس کے نامہ اعمال میں نیکی درج کرو کیونکہ اس نے صرف میرے خوف سے اپنی خواہش کو چھوڑا ہے (جو بہت بڑی نیکی ہے) (قرطبی) فیصل
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف ؑ کے دل میں جو خیال یا میلان پیدا ہوا وہ محض غیر اختیاری وسوسہ کے درجہ میں تھا جو گناہ میں داخل نہیں پھر اس وسوسہ کے خلاف عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا درجہ اور زیادہ بلند ہوگیا،
اور بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ کلام میں تقدیم و تاخیر واقع ہوئی ہے لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ جو بعد میں مذکور ہے وہ اصل میں مقدم ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ یوسف ؑ کو بھی خیال پیدا ہوجاتا اگر اللہ کی حجت وبرہان کو نہ دیکھ لیتے لیکن برہان رب کو دیکھنے کی وجہ سے وہ اس ہم اور خیال سے بھی بچ گئے مضمون یہ بھی درست ہے مگر بعض حضرات نے اس تقدیم و تاخیر کو قواعد زبان کے خلاف قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے بھی پہلی ہی تفسیر راجح ہے کہ اس میں حضرت یوسف ؑ کی شان تقویٰ و طہارت اور زیادہ بلند ہوجاتی ہے کہ طبعی اور بشری تقاضہ کے باوجود وہ گناہ سے محفوظ رہے۔
اس کے بعد جو یہ ارشاد فرمایا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ اس کی جزا محذوف ہے اور معنی یہ ہیں کہ اگر وہ اپنے رب کی برہان اور حجت کو نہ دیکھتے تو اس خیال میں مبتلا رہتے مگر برہان رب دیکھ لینے کی وجہ سے وہ غیر اختیاری خیال اور وسوسہ بھی قلب سے نکل گیا،
قرآن کریم نے یہ واضح نہیں فرمایا کہ وہ برہان ربی جو یوسف ؑ کے سامنے آئی کیا چیز تھی اسی لئے اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، مجاہد ؒ، سعید بن جبیر ؒ محمد بن سیرین ؒ، حسن بصری ؒ، وغیرہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس خلوت گاہ میں حضرت یعقوب ؑ کی صورت اس طرح ان کے سامنے کردی کہ وہ اپنی انگلی دانتوں دبائے ہوئے ان کو متنبہ کر رہے ہیں اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ عزیز مصر کی صورت ان کے سامنے دی گئی بعض نے فرمایا کہ یوسف ؑ کی نظر چھت کی طرف اٹھی تو اس میں یہ آیت قرآن لکھی ہوئی دیکھی (آیت) لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا یعنی زنا کے پاس نہ جاؤ کیونکہ وہ بڑی بےحیائی (اور قہر خداوندی کا سبب) اور (معاشرہ کے لئے) بہت برا راستہ ہے بعض مفسریں نے فرمایا کہ زلیخا کے مکان میں ایک بت تھا اس نے اس بت پر پردہ ڈالا تو یوسف ؑ نے وجہ پوچھی اس نے کہا کہ یہ میرا معبود ہے اس کے سامنے گناہ کرنے کی جرأت نہیں یوسف ؑ نے فرمایا کہ میرا معبود اس سے زیادہ حیا کا مستحق ہے اس کی نظر کو کوئی پردہ نہیں روک سکتا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یوسف ؑ کی نبوت اور معرفت آلہیہ خود ہی برہان رب تھی،
امام تفسیر ابن جریر ؒ نے ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد جو بات فرمائی ہے وہ سب اہل تحقیق کے نزدیک نہایت پسندیدہ اور بےغبار ہے وہ یہ ہے کہ جتنی بات قرآن کریم نے بتلا دی ہے صرف اسی پر اکتفاء کیا جائے یعنی یہ کہ یوسف ؑ نے کوئی ایسی چیز دیکھی جس سے وسوسہ ان کے دل سے جاتا رہا اس چیز کی تعیین میں وہ سب احتمال ہو سکتے ہیں جو حضرات مفسرین نے ذکر کئے ہیں لیکن قطعی طور پر کسی کو متعین نہیں کیا جاسکتا (ابن کثیر)
(آیت) كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ ۭ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ یعنی ہم نے یوسف ؑ کو یہ برہان اس لئے دکھائی کہ ان سے برائی اور بےحیائی کو ہٹا دیں برائی سے مراد صغیرہ گناہ اور بےحیائی سے کبیرہ گناہ ہے (مظہری)
یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ برائی اور بےحیائی کو یوسف ؑ سے ہٹا دینے کا ذکر فرمایا ہے یوسف ؑ کو برائی اور بےحیائی سے ہٹانا نہیں فرمایا جس میں اشارہ ہے کہ یوسف ؑ تو اپنی شان نبوت کی وجہ سے اس گناہ سے خود ہی ہٹے ہوئے تھے مگر برائی اور بےحیائی نے ان کو گھیر لیا تھا ہم نے اس کے جال کو توڑ دیا قرآن کریم کے یہ الفاظ بھی اس پر شاہد ہیں کہ یوسف ؑ کسی ادنی گناہ میں بھی مبتلا نہیں ہوئے اور انکے دل میں جو خیال پیدا ہوا تھا وہ گناہ میں داخل نہ تھا ورنہ یہاں تعبیر اس طرح ہوتی کہ ہم نے یوسف ؑ کو گناہ سے بچا دیا نہ یہ کہ گناہ کو ان سے ہٹا دیا،
کیونکہ یوسف ؑ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے ہیں لفظ مخلصین اس جگہ بفتح لام مخلص کی جمع ہے جس کے معنی منتخب کے ہیں مراد یہ ہے کہ یوسف ؑ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے ہیں جن کو خود حق تعالیٰ نے اپنے کار رسالت اور اصلاح خلق کے لئے انتخاب فرمایا ہے ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظتی پہرہ ہوتا ہے کہ وہ کسی برائی میں مبتلا نہ ہو سکیں خود شیطان نے بھی اپنے بیان میں اس کا اقرار کیا کہ اللہ کے منتخب بندوں پر اس کا بس نہیں چلتا اس نے کہا قال فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ یعنی قسم ہے تیری عزت وقوت کی کہ میں ان سب انسانوں کو گمراہ کروں گا بجز ان بندوں کے جن کو آپ نے منتخب فرما لیا ہے،
اور بعض قراءتوں میں یہ لفظ بکسر لام مُخْلَصِيْنَ بھی آیا ہے اور مخلص کے معنی یہ ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت و فرمانبرداری اخلاص کے ساتھ کرے اس میں کسی دنیاوی اور نفسانی غرض و شہرت وجاہ وغیرہ کا دخل نہ ہو اس صورت میں مراد اس آیت کی یہ ہوگی کہ جو شخص بھی اپنے عمل اور عبادت میں مخلص ہو اللہ تعالیٰ گناہوں سے بچنے میں اس کی امداد فرماتے ہیں ،
اس آیت میں حق تعالیٰ نے دو لفظ سوء اور فحشاء کے استعمال فرمائے ہیں سوء کے لفظی معنی برائی کے ہیں اور مراد اس سے صغیرہ گناہ ہے اور فحشاء کے معنی بےحیائی کے ہیں اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف ؑ کو کبیرہ اور صغیرہ دونوں قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھا ،
اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرت یوسف ؑ کی طرف قرآن میں جس ہمّ یعنی خیال کو منسوب کیا ہے وہ محض غیراختیاری وسوسہ کے درجہ کا ہمّ تھا جو یہ کبیرہ گناہ میں داخل ہے نہ صغیرہ میں بلکہ معاف ہے،
Ayah 12:25خلاصہ تفسیر
(اور جب اس عورت نے پھر وہی اصرار کیا تو یوسف ؑ وہاں سے جان بچا کر بھاگے اور وہ ان کو پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے چلی) اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازہ کی طرف دوڑے اور (دوڑنے میں جو ان کو پکڑنا چاہا تو) اس عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ ڈالا (یعنی اس نے کرتہ پکڑ کر کھینچنا چاہا اور یوسف ؑ آگے کی طرف دوڑے تو کرتہ پھٹ گیا مگر یوسف ؑ دروازے سے باہر نکل گئے) اور (عورت بھی ساتھ تھی تو) دونوں نے (اتفاقا) اس عورت کے شوہر کو دروازے کے پاس (کھڑا) پایا عورت (خاوند کو دیکھ کر سٹ پٹائی اور فورا بات بنا کر) بولی کہ جو شخص تیری بی بی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے اس کی سزا بجز اس کے اور کیا (ہو سکتی) ہے کہ وہ جیل خانے بھیجا جائے یا اور کوئی دردناک سزا ہو (جیسے ضرب جسمانی) یوسف ؑ نے کہا (کہ یہ جو میری طرف الزام کا اشارہ کرتی ہے بالکل جھوٹی ہے بلکہ معاملہ برعکس ہے) یہی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھ کو پھسلاتی تھی اور (اس موقع پر) اس عورت کے خاندان میں سے ایک گواہ نے (جو کہ شیرخواربچہ تھا اور یوسف ؑ کے معجزے سے بول پڑا اور آپ کی براءت پر) شہادت دی (اس بچہ کا بولنا ہی حضرت یوسف ؑ کا ایک معجزہ تھا اس پر دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ اس شیر خوار بچہ نے ایک معقول علامت بتا کر عاقلانہ فیصلہ بھی کیا اور کہا) کہ ان کا کرتہ (دیکھو کہاں سے پھٹا ہے) اگر آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹے اور اگر وہ کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے ہیں سو جب (عزیز نے) ان کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا (عورت سے) کہنے لگا کہ یہ تم عورتوں کی چالاکی ہے بیشک تمہاری چالاکیاں بھی غضب کی ہوتی ہیں (پھر یوسف ؑ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا) اے یوسف اس بات کو جانے دو (یعنی اس کا چرچا یا خیال مت کرو) اور (عورت سے کہا کہ) اے عورت تو (یوسف سے) اپنے قصور کی معافی مانگ بیشک سرا سر تو ہی قصور وار ہے،
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں یہ بیان آیا ہے کہ جس وقت عزیز مصر کی بیوی حضرت یوسف ؑ کو گناہ میں مبتلا کرنے کی کوشش میں مشغول تھی اور یوسف ؑ اس سے بچ رہے تھے مگر فطری اور غیر اختیاری خیال کی کشمکش میں مشغول بھی تھی تو حق تعالیٰ نے اپنے برگذیدہ پیغمبر کی اعانت کیلئے بطور معجزہ کے کوئی ایسی چیز سامنے کردی جس نے دل سے وہ غیراختیاری خیال بھی نکال ڈالا خواہ وہ چیز اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کی صورت ہو یا وحی الہی کی کوئی آیت،
آیت مذکورہ میں یہ بتلایا ہے کہ یوسف ؑ اس خلوت گاہ میں اس برہان ربی کا مشاہدہ کرتے ہی وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور باہر نکلنے کے لئے دروازہ کی طرف دوڑے عزیز کی بیوی ان کو پکڑنے کے لئے پیچھے دوڑی اور یوسف ؑ کا کرتہ پکڑ کر ان کو باہر جانے سے روکنا چاہا وہ عزم کے مطابق نہ رکے تو پیچھے سے پھٹ گیا مگر یوسف ؑ دروازہ سے باہر نکل آئے اور ان کے پیچھے زلیخا بھی تاریخی روایتوں میں مذکور ہے کہ دروازہ پر قفل لگا دیا تھا جب یوسف ؑ دوڑ کر دروازہ پر پہنچنے تو خود بخود یہ قفل کھل کر گرگیا ، جب یہ دونوں دروازے سے باہر آئے تو دیکھا کہ عزیز مصر سامنے کھڑے ہیں ان کی بیوی سہم گئی اور بات یوں بنائی کہ الزام اور تہمت یوسف ؑ پر ڈالنے کے لئے کہا کہ جو شخص آپ کی بیوی کے ساتھ برے کام کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ ان کو قید میں ڈالا جائے یا کوئی دوسری جسمانی سخت سزا دی جائے۔
احکام و مسائل
آیات مذکورہ سے چند اہم مسائل اور احکام نکلتے ہیں۔
اولآیت واسْتَبَقَا الْبَابَ سے یہ معلوم ہوا کہ جس جگہ گناہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہو اس جگہ ہی کو چھوڑ دینا چاہئے جیسا یوسف ؑ نے وہاں سے بھاگ کر اس کا ثبوت دیا،
دوسرامسئلہیہ کہ احکام الہیہ کی اطاعت میں انسان پر لازم ہے کہ اپنی مقدور بھر کوشش میں کمی نہ کرے خواہ اس کا نتیجہ بظاہر کچھ برآمد ہوتا نظر نہ آئے نتائج اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں انسان کا کام اپنی محنت اور مقدور کو اللہ کی راہ میں صرف کر کے اپنی بندگی کا ثبوت دینا ہے جیسا کہ حضرت یوسف ؑ نے دروازے سب بند ہونے اور تاریخی روایات کے مطابق مقفل ہونے کے باوجود دروازہ کی طرف دوڑنے میں اپنی پوری قوت خرچ فرما دی ایسی صورت میں اللہ جل شانہ کی طرف سے امداد واعانت کا بھی اکثر مشاہدہ ہوتا ہے کہ بندہ جب اپنی کوشش پوری کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کامیابی کے اسباب بھی مہیا فرما دیتے ہیں مولانارومی ؒ نے اسی مضمون پر ارشاد فرمایا ہے
گرچہ رخنہ نیست عالم را پدید۔ خیرہ یوسف وارمی بایدد دید
ایسی صورت میں اگر ظاہری کامیابی بھی حاصل نہ ہو تو بندہ کے لئے یہ ناکامی بھی کامیابی سے کم نہیں
گر مرادت را مذاق شکرست۔ نامرادی نے مراد دلبرست
ایک بزرگ عالم جیل میں تھے جمعہ کے روز اپنی قدرت کے مطابق غسل کرتے اور اپنے کپڑے دھو لیتے اور پھر جمعہ کے لئے تیار ہو کر جیل خانہ کے دروازے تک جاتے وہاں پہنچ کر عرض کرتے کہ یا اللہ میری قدرت میں اتنا ہی تھا آگے آپ کے اختیار میں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ سے کچھ بعید نہ تھا کہ ان کی کرامت سے جیل کا دروازہ کھل جاتا اور یہ نماز جمعہ ادا کرلیتے لیکن اس نے اپنی حکمت سے اس بزرگ کو وہ مقام عالی عطا فرمایا جس سے ہزاروں کرامتیں قربان ہیں کہ ان کے اس عمل کی وجہ سے جیل کا دروازہ نہ کھلا مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے کام میں ہمت نہیں ہاری ہر جمعہ کو مسلسل یہی عمل جاری رکھا یہی وہ استقامت ہے جس کو اکابر صوفیاء نے کرامت سے بالاتر فرمایا ہے،
تیسرامسئلہاس سے یہ ثابت ہوا کہ کسی شخص پر کوئی غلط تہمت باندھی تو اپنی صفائی پیش کرنا سنت انبیاء (علیہم السلام) ہے یہ کوئی توکل یا بزرگی نہیں کہ اس وقت خاموش رہ کر اپنے آپ کو مجرم قرار دیدے،
چوتھامسئلہاس میں شاہد کا ہے یہ لفظ جب عام فقہی معاملات اور مقدمات میں بولا جاتا ہے تو اس سے وہ شخص مراد ہوتا ہے جو زیر نزاع معاملہ کے متعلق اپنا چشم دید کوئی واقعہ بیان کرے اس آیت میں جس کو شاہد کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اس نے کوئی واقعہ یا اس کے متعلق اپنا کوئی مشاہدہ بیان نہیں کیا بلکہ فیصلہ کرنے کی ایک صورت کی طرف اشارہ کیا ہے اس کو اصطلاحی طور پر شاہد نہیں کہا جاسکتا۔
مگر ظاہر ہے کہ یہ اصطلاحات سب بعد کے علماء وفقہاء نے افہام و تفہیم کے لئے اختیار کرلی ہیں قرآن حکیم کی نہ یہ اصطلاحیں ہیں نہ وہ ان کو پابند ہے قرآن کریم نے یہاں اس شخص کو شاہد اس معنی کے اعتبار سے فرمایا ہے کہ جس طرح شاہد کے بیان سے معاملہ کا تصفیہ آسان ہوجاتا ہے اور کسی ایک فریق کا حق پر ہونا ثابت ہوجاتا ہے اس بچہ کے بیان سے بھی یہی فائدہ حاصل ہوگیا کہ اصل تو اس کی معجزانہ گویائی ہی حضرت یوسف ؑ کی براءت کے لئے شاہد تھی اور پھر اس نے جو علامات بتلائیں ان کا حاصل بھی انجام کار یوسف ؑ ہی کی براءت کا ثبوت ہے اس لئے یہ کہناصحیح ہوگیا کہ اس نے یوسف ؑ کے حق میں گواہی دی حالانکہ اس نے یوسف ؑ کو سچا نہیں کہا بلکہ دونوں احتمالوں کا ذکر کردیا تھا، اور ذلیخا کے سچے ہونے کا ایک ایسی صورت میں بھی فرضی طور پر تسلیم کرلیا تھا جس میں ان کا سچا ہونا یقینی نہ تھا بلکہ دوسرا بھی احتمال موجود تھا کیونکہ کرتے کا سامنے سے پھٹنا دونوں صورتوں میں ممکن ہے اور یوسف ؑ کے سچے ہونے کو صرف ایسی صورت میں تسلیم کیا تھا جس میں اس کے سوا کوئی دوسرا احتمال ہی نہیں ہوسکتا لیکن انجام کار نتیجہ اس حکمت عملی کا یہی تھا کہ یوسف ؑ کا بری ہونا ثابت ہو،
پانچواں مسئلہاس میں یہ ہے کہ مقدمات اور خصومات کے فیصلوں میں قرائن اور علامات سے کام لیا جاسکتا ہے جیسا کہ اس شاہد نے کرتے کے پیچھے سے پھٹنے کو اس کی علامت قرار دیا کہ یوسف ؑ بھاگ رہے تھے زلیخا پکڑ رہی تھی اس معاملہ میں اتنی بات پر تو سب فقہاء کا اتفاق ہے کہ معاملات کی حقیقت پہچاننے میں علامات اور قرائن سے ضرور کام لیا جائے جیسا کہ یہاں کیا گیا لیکن محض علامات و قرائن کو کافی ثبوت کا درجہ نہیں دیا جاسکتا واقعہ یوسف ؑ میں بھی در حقیقت براءت کا ثبوت تو اس بچہ کی معجزانہ انداز سے گویائی ہے علامات وقرائن جن کا ذکر کیا گیا ہے ان سے اس معاملہ کی تائید ہوگی،
بہرحال یہاں تک یہ ثابت ہوا کہ جب زلیخا نے حضرت یوسف ؑ پر تہمت و الزام لگایا تو اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹے بچہ کو خلاف عادت گویائی دے کر اس کی زبان سے یہ حکیمانہ فیصلہ صادر فرمایا کہ یوسف ؑ کے کرتے کو دیکھو اگر وہ پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ اس کی صاف علامت ہے کہ وہ بھاگ رہے تھے اور زلیخا پکڑ رہی تھی یوسف ؑ بےقصور ہیں،
Ayahs 12:26–27حضرت یوسف ؑ اپنی پیغمبرانہ شرافت کی بناء پر غالباً اس کا راز فاش نہ فرماتے مگر جب اس نے پیش قدمی کر کے یوسف ؑ پر تہمت رکھنے کا اشارہ کیا تو مجبور ہو کر انہوں نے حقیقت کا اظہار کیا کہ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ یعنی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کے لئے مجھے پھسلا رہی تھی
معاملہ بڑا نازک اور عزیز مصر کے لئے اس کا فیصلہ سخت دشوار تھا کہ ان میں سے کسے سچا سمجھے شہادت اور ثبوت کا کوئی موقع نہ تھا مگر اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے برگزیدہ بندوں کو گناہ سے بچا لیتے ہیں اور ان کو معصوم و محفوظ رکھتے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ان کو رسوائی سے بچانے کا انتظام معجزانہ انداز سے فرما دیتے ہیں اور عموماً ایسے مواقع پر ایسے چھوٹے بچوں سے کام لیا گیا ہے جو عادۃ بولنے بات کرنے کے قابل نہیں ہوتے مگر بطور معجزہ ان کو گویائی عطا فرما کر اپنے مقبول بندوں کی براءت کا اظہار فرما دیتے ہیں جیسے حضرت مریم پر جب لوگ تہمت باندھنے لگے تو صرف ایک دن (اور راجح قول کے مطابق چالیس) کے بچے حضرت عیسیٰ ٰ ؑ کو حق تعالیٰ نے گویائی عطا فرما کر ان کی زبان سے والدہ کی پاکی ظاہر فرما دی اور قدرت خداوندی کا ایک خاص مظہر سامنے کردیا، بنی اسرائیل کے ایک بزرگ جُرَیج پر اسی طرح کی ایک تہمت ایک بڑی سازش کے ساتھ باندھی گئی تو نوزائیدہ بچہ نے ان کی براءت کے لئے شہادت دی حضرت موسیٰ ؑ پر فرعون کو شبہ پیدا ہوا تو فرعون کی بیوی کے بال سنوارنے والی عورت کی چھوٹی بچی کو گویائی عطا ہوئی اس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بچپن میں فرعون کے ہاتھ سے بچایا،
ٹھیک اسی طرح یوسف ؑ کے واقعہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق ایک چھوٹے بچہ کو حق تعالیٰ نے گویائی عطا فرمادی اور وہ بھی نہایت عاقلانہ اور حکیمانہ انداز کی یہ چھوٹا بچہ اسی گھر میں گہوارہ کے اندر پڑا تھا یہ کس کو گمان ہوسکتا تھا کہ وہ ان حرکتوں کو دیکھے اور سمجھے گا اور پھر اس کو کسی انداز سے بیان بھی کر دے گا مگر قادر مطلق اپنی اطاعت میں مجاہدہ کرنے والوں کی شان ظاہر کرنے لئے دنیا کو دکھلا دیتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی خفیہ پولیس (سی آئی ڈی) ہے جو مجرم کو خوب پہچانتی اور اس کے جرائم کا ریکاڑد رکھتی ہے اور ضرورت کے وقت اس کا اظہار کردیتی ہے،
میدان حشر میں حساب کتاب میں حساب کتاب کے وقت انسان اپنی دنیا کی قدیم عادت کی بناء پر جب اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کرے گا تو اسی کے ہاتھ پاؤں اور کھال اور در و دیوار کو اس کے خلاف گواہ بنا کر کھڑے کردیا جائے گا وہ اس کی ایک ایک حرکت کو محشر کے عظیم الشان مجمع کے سامنے کھول کر رکھ دے گا اس وقت انسان کو پتہ لگے گا کہ ہاتھ پاؤں اور گھر کے در و دیوار اور حفاظتی انتظامات میں سے کوئی بھی میرا نہ تھا بلکہ یہ سب رب العزت کے خفیہ کارندے تھے،
خلاصہ یہ ہے کہ چھوٹا بچہ جو گہوارہ میں بظاہر اس دنیا کی ہر چیز سے غافل وبے خبر پڑا تھا وہ یوسف ؑ کے معجزہ کے طور پر عین اس وقت بول اٹھا جب کہ عزیز مصر اس واقعہ سے کشمکش میں مبتلا تھا،
پھر یہ بچہ اگر صرف اتنا ہی کہہ دیتا کہ یوسف ؑ بری ہیں زلیخا کا قصور ہے تو وہ بھی ایک معجزہ کی حیثیت سے حضرت یوسف ؑ کے حق میں براءت کی بڑی شہادت ہوتی مگر اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کی زبان پر ایک حکیمانہ بات کہلوائی کہ یوسف ؑ کے کرتے کو دیکھو اگر وہ آگے سے پھٹا ہے تب تو زلیخا کا کہنا سچا اور یوسف ؑ جھوٹے ہو سکتے ہیں اور اگر وہ پیچھے سے پھٹا ہے تو اس میں اس کے سوا کوئی دوسرا احتمال ہی نہیں کہ یوسف ؑ بھاگ رہے تھے اور زلیخا ان کو روکنا چاہتی تھی
یہ ایک ایسی بات تھی کہ بچہ کی گویائی کے اعجاز کے علاوہ خود بھی ہر ایک کی سمجھ میں آسکتی تھی اور جب بتلائی ہوئی علامت کے مطابق کرتہ کا پیچھے سے شق ہونا مشاہدہ کیا گیا تو یوسف ؑ کی براءت ظاہری علامات سے بھی ظاہر ہو گئی
شاہد یوسف کی جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے کہ وہ ایک چھوٹا بچہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ گویائی عطا فرما دی یہ ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے جس کو امام احمدرحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مسند میں اور ابن حبان ؒ نے اپنی کتاب صحیح میں اور حاکم ؒ نے مستدرک میں نقل کر کے حدیث صحیح قرار دیا ہے اس حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار بچوں کو گہوارہ میں گویائی عطاء فرمائی ہے یہ چاروں وہی ہیں جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں (مظہری) اور بعض روایات میں شاہد کی دوسری تفسیریں بھی نقل کی گئی ہیں مگر ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ ائمہ تفسیر نے پہلی ہی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے،
Ayah 12:28مذکورہ آیات میں سے آخری دو آیتوں میں یہ بیان ہوا کہ عزیز مصر بچہ کے اس طرح بولنے ہی سے یہ سمجھ چکا تھا کہ یوسف ؑ کی براءت ظاہر کرنے کے لئے یہ مافوق العادۃ صورت پیش آئی ہے پھر اس کے کہنے کے مطابق جب یہ دیکھا کہ یوسف ؑ کا کرتہ بھی پیچھے سے ہی پھٹا ہے تو یقین ہوگیا کہ قصور زلیخا کا ہے یوسف ؑ بری ہیں تو اس نے پہلے تو زلیخا کو خطاب کر کے کہا اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ یعنی یہ سب تمہارا مکر وحیلہ ہے کہ اپنی خطا دوسرے کے سر ڈالنا چاہتی ہو پھر کہا کہ عورتوں کا مکرو حیلہ بہت بڑا ہے کہ اس کو سمجھنا اور اس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ظاہر ان کا نرم ونازک اور ضعیف ہوتا ہے دیکھنے والے کو ان کی بات کا یقین جلد آجاتا ہے مگر عقل ودیانت کی کمی کے سبب بسا اوقات وہ فریب ہوتا ہے (مظہری)
تفسیرقرطبی میں بروایت ابوہریرہ ؓ منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کا کید اور مکر شیطان کے کید و مکر سے بڑھا ہوا ہے کیونکہ حق تعالیٰ نے شیطان کے کید کے متعلق تو یہ فرمایا ہے کہ وہ ضعیف ہے اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا اور عورتوں کے کید کے متعلق یہ فرمایا کہ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ یعنی تمہارا کید بہت بڑا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس سے مراد سب عورتیں نہیں بلکہ وہ ہی ہے جو اس طرح کے مکروحیلہ میں مبتلا ہوں
Ayah 12:29عزیز مصر نے زلیخا کو اس کی خطا بتلانے کے بعد یوسف ؑ سے کہايُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا یعنی اے یوسف تم اس واقعہ کو نظرانداز کرو اور کسی سے نہ کہو تاکہ رسوائی نہ ہو، پھر زلیخا کو خطاب کر کہا۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ یعنی خطا سراسر تمہاری ہے تم اپنی غلطی کی معافی مانگو اس سے بظاہر یہ مراد ہے کہ وہ اپنے شوہر سے معافی مانگے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف ؑ سے معافی مانگے کہ خود خطاء کی اور تہمت ان کے سر ڈالی،
فائدہیہاں یہ بات غور طلب ہے کہ شوہر کے سامنے اپنی بیوی کی ایسی خیانت اور بےحیائی ثابت ہوجانے پر اس کا مشتعل نہ ہونا اور پورے سکون و اطمینان سے باتیں کرنا انسانی فطرت سے بہت قابل تعجب ہے امام قرطبی ؒ نے فرمایا کہ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ عزیز مصر کوئی بےغیرت آدمی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ حق تعالیٰ نے جس طرح یوسف ؑ کو گناہ سے پھر رسوائی سے بچانے کو فوق العادت انتظام فرمایا اسی انتظام کا ایک جزو یہ بھی تھا کہ عزیز مصر کو غصہ سے مشتعل نہیں ہونے دیا ورنہ عام عادت کے مطابق ایسے موقع پر انسان تحقیق وتفتیش کے بغیر ہی ہاتھ چھوڑ بیٹھتا ہے اور زبان سے گالی گلوچ تو معمولی بات ہے اگر عام انسانی عادت کے مطابق عزیز مصر کو اشتعال ہوجاتا تو ممکن ہے کہ اس کے ہاتھ سے یا زبان سے یوسف ؑ کی شان کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی یہ قدرت حق کے کرشمے ہیں کہ اطاعت حق پر قائم رہنے والے کی قدم قدم پر کس طرح حفاظت کی جاتی ہے فتبارک اللہ احسن الخالقین۔
بعد کی آیتوں میں اور واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو پچھلے قصہ سے ہی وابستہ ہے، وہ یہ کہ واقعہ چھپانے کے باوجود درباری لوگوں کی عورتوں میں پھیل گیا ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو لعن طعن کرنا شروع کیا بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ پانچ عورتیں عزیز مصر کے قریبی افسروں کی بیویاں تھیں (قرطبی مظہری)
یہ عورتیں آپس میں کہنے لگیں کہ دیکھو کیسی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ عزیز مصر کی بیوی اتنے بڑے مرتبہ پر ہوتے ہوئے اپنے نوجوان غلام پر فریفتہ ہو کر اس سے اپنی مطلب برآری چاہتی ہے ہم تو اس کو بڑی گمراہی پر سمجھتے ہیں آیت میں لفظ فَتَاھا فرمایا ہے فتا کے معنی نوجوان کے ہیں، عرف میں مملوک غلام جب چھوٹا ہو تو اس کو غلام کہتے ہیں، جوان ہو تو لڑکے کو فتا اور لڑکی کو فتاۃ کہا جاتا ہے اس میں یوسف ؑ کو زلیخا کا غلام یا تو اس وجہ سے کہا گیا کہ شوہر کی چیز کو بھی عادۃ بیوی کی چیز کہا جاتا ہے، اور یا اس لئے کہ زلیخا نے یوسف ؑ کو اپنے شوہر سے بطور ہبہ اور تحفہ لے لیا تھا (قرطبی)