12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعارف القرآن

Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور کہا اے بیٹو ! نہ داخل ہونا ایک دروازے سے اور داخل ہونا کئی دروازوں سے جدا جدا اور میں نہیں بچا سکتا تم کو اللہ کی کسی بات سے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہئے بھروسہ کرنے والوں کو

خلاصہ تفسیر اور (چلتے وقت) یعقوب (علیہ السلام نے (ان سے) فرمایا کہ اے میرے بیٹو ! (جب مصر میں پہنچو تو) سب کے سب ایک ہی دروازہ سے مت جانا بلکہ علیحٰدہ علیحٰدہ دروازوں سے جانا اور (یہ محض ایک تدبیر ظاہری ہے بعض مکروہات مثل نظر بد سے بچنے کی باقی) خدا کے حکم کو تم پر سے میں ٹال نہیں سکتا حکم تو بس اللہ تعالیٰ کا (چلتا) ہے (باوجود اس تدبیر ظاہری کے دل سے) اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی پر بھروسہ رکھنے والوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے (یعنی تم بھی اسی پر بھروسہ رکھنا تدبیر پر نظر مت کرنا، غرض سب رخصت ہو کر چلے) اور جب (مصر پہنچ کر) جس طرح ان کے باپ نے کہا تھا (اسی طرح شہر کے) اندر داخل ہوئے تو باپ کا ارمان پورا ہوگیا (باقی) ان کے باپ کو ان سے (یہ تدبیر بتلا کر) خدا کا حکم ٹالنا مقصود نہ تھا (تاکہ ان پر کسی قسم کا اعتراض یا اس تدبیر کے نافع ہونے سے ان پر شبہ لازم آئے چناچہ خود انہوں نے ہی فرما دیا تھا وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ الخ) لیکن یعقوب ؑ کے جی میں (درجہ تدبیر میں) ایک ارمان (آیا) تھا جس کو انہوں نے ظاہر کردیا اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا (وہ علم کے خلاف تدبیر کو اعتقادا مؤ ثر حقیقی کب سمجھ سکتے تھے صرف ان کے اس قول کی وجہ وہی عملا ایک تدبیر کا ارتکاب تھا جو کہ مشروع و محمود ہے) لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے (بلکہ جہل سے تدبیر حقیقی اعتقاد کرلیتے ہیں) اور جب یہ لوگ (یعنی برادران یوسف) یوسف ؑ کے پاس پہنچے (اور بنیامین کو پیش کر کے کہا کہ ہم آپ کے حکم کے موافق ان کو لائے ہیں) انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے ساتھ ملا لیا (اور تنہائی میں ان سے) کہا کہ میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں سو یہ لوگ جو کچھ (بدسلوکی) کرتے رہے ہیں اس کا رنج مت کرنا (کیونکہ اب تو اللہ نے ہم کو ملا دیا اب سب غم بھلا دینا چاہئے یوسف ؑ کے ساتھ بدسلوکی تو ظاہر اور مشہور ہے رہا بنیامین کے ساتھ، سو یا تو ان کو بھی کچھ تکلیف دی ہو ورنہ یوسف ؑ کی جدائی کیا ان کے حق میں کچھ کم تکلیف تھی پھر دونوں بھائیوں نے مشورہ کیا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ بنیامین یوسف ؑ کے پاس رہیں کیونکہ ویسے رہنے میں تو اور بھائیوں کا بوجہ عہدو سوگند کے اصرار ہوگا ناحق جھگڑا ہوگا اور پھر اگر وجہ بھی ظاہر ہوگئی تو راز کھلا اور اگر مخفی رہی تو یعقوب ؑ کا رنج بڑھے گا کہ بلاسبب کیوں گئے یا کیوں رہے یوسف ؑ نے فرمایا کہ تدبیر تو ہے مگر ذرا تمہاری بدنامی ہے بنیامین نے کہا کچھ پرواہ نہیں غرض ان میں یہ امر قرار پا گیا اور ادھر سب کو غلہ دے کر ان کی رخصت کا سامان درست کیا گیا) معارف و مسائل آیات مذکورہ میں برادران کا یوسف ؑ کے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے کر دوسری مرتبہ سفر مصر کا ذکر ہے اس وقت حضرت یعقوب ؑ نے ان کو شہر مصر میں داخل ہونے کے لئے ایک خاص وصیت یہ فرمائی کہ اب تم گیارہ بھائی وہاں جا رہے ہو تو شہر کے ایک ہی دروازہ سے سب داخل نہ ہونا بلکہ شہر پناہ کے پاس پہنچ کر متفرق ہوجانا اور شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہونا سبب اس وصیت کا یہ اندیشہ تھا کہ یہ سب نوجوان اور ماشاء اللہ صحت مند قدآور صاحب جمال وصاحب وجاہت ہیں ایسا نہ ہو کہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ یہ سب ایک ہی باپ کی اولاد اور بھائی بھائی ہیں تو کسی بدنظر کی نظر لگ جائے جس سے ان کو کوئی تکلیف پہنچنے یا اجتماعی طور سے داخل ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ حسد کرنے لگیں اور تکلیف پہنچائیں حضرت یعقوب ؑ نے ان کو یہ وصیت پہلی مرتبہ نہیں کی اس دوسرے سفر کی موقع پر فرمائی اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلی مرتبہ تو یہ لوگ مصر میں مسافرانہ اور شکستہ حالت میں داخل ہوئے تھے نہ کوئی ان کو پہچانتا تھا نہ کسی سے ان کے حال پر زیادہ توجہ دینے کا خطرہ تھا مگر پہلے ہی سفر میں ملک مصر نے ان کو غیر معمولی اکرام کیا جس سے عام ارکان دولت اور شہر کے لوگوں میں تعارف ہوگیا تو اب یہ خطرہ قوی ہوگیا کہ کسی کی نظر لگ جائے یا سب کو ایک باشوکت جماعت سمجھ کر کچھ لوگ حسد کرنے لگیں نیز اس مرتبہ بنیامین چھوٹے بیٹے کا ساتھ ہونا بھی والد کے لئے اور زیادہ توجہ دینے کا سبب ہوا نظر بد کا اثر حق ہےاس سے معلوم ہوا کہ انسان کی نظرلگ جانا اور اس سے کسی دوسرے انسان یا جانور وغیرہ کو تکلیف ہوجانا یا نقصان پہنچ جانا حق ہے محض جاہلانہ وہم و خیال نہیں اسی لئے حضرت یعقوب ؑ کو اس کی فکر ہوئی، رسول کریم ﷺ نے بھی اس کی تصدیق فرمائی ہے ایک حدیث میں ہے کہ نظر بد ایک انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں داخل کردیتی ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے جن چیزوں سے پناہ مانگی اور امت کو پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی ہے (ان میں من کل عین لامۃ) بھی مذکور ہے یعنی میں پناہ مانگتا ہوں نظر بد سے (قرطبی) صحابہ کرام ؓ میں سہل بن حنیف کا واقعہ معروف ہے کہ انہوں نے ایک موقع پر غسل کرنے کے لئے کپڑے اتارے تو ان کے سفید رنگ تندرست بدن پر عامر بن ربیعہ کی نظر پڑگئی اور ان کی زبان سے نکلا کہ میں نے تو آج تک اتنا حسین بدن کسی کا نہیں دیکھا یہ کہنا تھا کہ فوراً سہل بن حنیف کو سخت بخار چڑھ گیا رسول کریم ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ علاج تجویز کیا کہ عامربن ربیعہ کو حکم دیا کہ وہ وضو کریں اور وضو کا پانی کسی برتن میں جمع کریں یہ پانی سہل بن حنیف کے بدن پر ڈالا جائے ایسا ہی کیا گیا تو فوراً بخار اتر گیا اور وہ بالکل تندرست ہو کر جس مہم پر رسول کریم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے اس پر روانہ ہوگئے اس واقعہ میں آپ ﷺ نے عامر بن ربیعہ کو یہ تنبیہ بھی فرمائی (علام یقتل احدکم اخاہ الا برکت ان العین حقٌ) کوئی شخص اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ جب ان کا بدن تمہیں خوب نظر آیا تو برکت کی دعاء کرلیتے نظر کا اثر ہوجانا حق ہے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو کسی دوسرے کی جان ومال میں کوئی اچھی بات تعجب انگیز نظر آئے تو اس کو چاہئے کہ اس کے واسطے یہ دعاء کرے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرماویں بعض روایات میں ہے کہ ماشاء اللہ لَاقُوَ ۃ الاَّ باللہ کہے اس سے نظر بد کا اثر جاتا رہتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کی نظر بد کسی کو لگ جائے تو نظر لگانے والے ہاتھ پاؤں اور چہرہ کا غسالہ اس کے بدن پر ڈالنا نظر بد کے اثر کو زائل کردیتا ہے، قرطبی نے فرمایا کہ تمام علماء امت اہل سنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ نظر بد لگ جانا اور اس سے نقصان پہنچ جانا حق ہے، حضرت یعقوب ؑ نے ایک طرف تو نظر بد یا حسد کے اندیشہ سے اولاد کو یہ وصیت فرمائی کہ سب مل کر ایک دروازہ سے شہر میں داخل نہ ہوں دوسری طرف ایک حقیقت کا اظہار بھی ضروری سمجھا جس سے غفلت کی بناء پر ایسے معاملات میں بہت سے عوام جاہلانہ خیالات واوہام کے شکار ہوجاتے ہیں وہ یہ کہ نظر بد کی تاثیر کسی انسان کے جان ومال میں ایک قسم کا مسمریزم ہے اور وہ ایسا ہی ہے جیسے مضر دوا یا غذا انسان کو بیمار کردیتی ہے، گرمی، سردی کی شدت سے امراض پیدا ہوجاتے ہیں اسی طرح نظر بد یا مسمریزم کے تصرفات بھی انہی اسباب عادیہ میں سے ہیں کہ نظر یا خیال کی قوت سے اس کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں ان میں خود کوئی تاثیر حقیقی نہیں ہوتی بلکہ سب اسباب عالم حق جل شانہ کی قدرت کاملہ اور مشیت و ارادہ کے تابع ہیں تقدیر خداوندی کے مقابلہ میں نہ کوئی مفید تدبیر مفید ہو سکتی ہے نہ مضر تدبیر کی مضرت اثر انداز ہو سکتی ہے اس لئے ارشاد فرمایا، وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۚ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ یعنی نظر بد سے بچنے کی جو تدبیر میں نے بتلائی ہے میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ کو نہیں ٹال سکتی حکم تو صرف اللہ ہی کا چلتا ہے البتہ انسان کو ظاہری تدبیر کرنے کا حکم ہے اس لئے یہ وصیت کی گئی مگر میرا بھروسہ اس تدبیر پر نہیں بلکہ اللہ ہی پر اعتماد ہے اور ہر شخص کو یہی لازم ہے کہ اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرے ظاہری اور مادی تدبیروں پر بھروسہ نہ کرے، حضرت یعقوب ؑ نے جس حقیقت کا اظہار فرمایا اتفاقا ہوا بھی کچھ ایسا ہی کہ اس سفر میں بنیامین کو حفاظت کے ساتھ واپس لانے کی ساری تدبیریں مکمل کرلینے کے باوجود سب چیزیں ناکام ہوگئیں اور بنیامین کو مصر میں روک لیا گیا جس کے نتیجہ میں حضرت یعقوب ؑ کو ایک دوسرا شدید صدمہ پہنچا ان کی تدبیر کا ناکام ہونا جو اگلی آیت میں منصوص ہے اس کا مقصد یہی ہے کہ اصل مقصد کے لحاظ سے تدبیر ناکام ہوگئی اگرچہ نظر بد یا حسد وغیرہ کامیاب ہوئی کیونکہ اس سفر میں ایسا واقعہ پیش نہیں آیا مگر بتقدیر الہی جو حادثہ پیش آنے والا تھا اس طرف یعقوب ؑ کی نظر نہ گئی اور نہ اس کے لئے کوئی تدبیر کرسکے مگر اس ظاہری ناکامی کے باوجود ان کے توکل کی برکت سے یہ دوسرا صدمہ پہلے صدمہ کا بھی علاج ثابت ہوا اور بڑی عافیت و عزت کے ساتھ یوسف ؑ اور بنیامین دونوں سے ملاقات انجام کار نصیب ہوئی۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے کچھ نہیں بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کرچکا اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے سکھایا اس کو لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں

اسی مضمون کا بیان اس کے بعد کی آیت میں اس طرح آیا کہ صاحبزادوں نے والد کے حکم کی تعمیل کی شہر کے متفرق دروازوں سے مصر میں داخل ہوئے تو باپ کا ارمان پورا ہوگیا ان کی یہ تدبیر اللہ کے کسی حکم کو ٹال نہ سکتی تھی مگر یعقوب ؑ کی پدرانہ شفقت و محبت کا تقاضا تھا جو انہوں نے پورا کرلیا، اس آیت کے آخر میں حضرت یعقوب ؑ کی مدح ان الفاظ میں کی گئی ہے وَاِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ یعنی یعقوب ؑ بڑے علم والے تھے کیونکہ ان کو ہم نے علم دیا تھا مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں کی طرح ان کا علم کتابی اور اکتسابی نہیں بلکہ بلا واسطہ عطاء خداوندی اور وہبی علم تھا اسی لئے انہوں نے ظاہری تدبیر جو شرعا مشروع اور محمود ہے وہ تو کرلی، مگر اس پر بھروسہ نہیں کیا مگر بہت سے لوگ اس بات کی حقیقت کو نہیں جانتے اور ناواقفیت سے یعقوب ؑ کے بارے میں ایسے شبہات میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ یہ تدبیریں پیغمبر کی شان کے شایان نہ تھیں، بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ پہلے لفظ علم سے مراد علم کے مقتضیٰ پر عمل کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو علم ان کو عطا کیا وہ اس پر عامل اور اس کے پابند تھے اسی لئے ظاہری تدبیروں پر بھروسہ نہیں فرمایا بلکہ اعتماد اور بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر فرمایا۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو کہا تحقیق میں ہوں بھائی تیرا سو غمگین مت ہو ان کاموں سے

وَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّىْٓ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ یعنی جب شہر مصر پہنچنے کے بعد یہ سب بھائی یوسف ؑ کے دربار میں حاضر ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ یہ وعدہ کے مطابق ان کے حقیقی بھائی کو بھی ساتھ لے آئے ہیں تو یوسف ؑ نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو خاص اپنے ساتھ ٹھہرایا امام تفسیر قتادہ ؒ نے فرمایا کہ ان سب بھائیوں کے قیام کا یوسف ؑ نے یہ انتظام فرمایا تھا کہ دو دو کو ایک کمرہ میں ٹھرایا تو بنیامین تنہارہ گئے ان کو اپنے ساتھ ٹھہرنے کے لئے فرمایا جب تنہائی کا موقع آیا تو یوسف ؑ نے حقیقی بھائی پر راز فاش کردیا اور بتلا دیا کہ میں ہی تمہارا حقیقی بھائی یوسف ہوں اب تم کوئی فکر نہ کرو اور جو کچھ ان بھائیوں نے اب تک کیا ہے اس سے پریشان نہ ہو احکام و مسائل مذکورہ دو آیتوں سے چند مسائل اور احکام معلوم ہوئے، اولیہ کہ نظربد کا لگ جانا حق ہے اس سے بچنے کی تدبیر کرنا اسی طرح مشروع اور محمود ہے جس طرح مضر غذاؤں اور مضرافعال سے بچنے کی تدبیر کرنا، دوسرےیہ کہ لوگوں کے حسد سے بچنے کے لئے اپنی مخصوص نعمتوں اور اوصاف کا لوگوں سے چھپانا درست ہے، تیسرےیہ کہ مضر آثار سے بچنے کے لئے ظاہری اور مادی تدبیریں کرنا توکل اور شان انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف نہیں، چوتھےیہ کہ جب ایک شخص کو کسی دوسرے شخص کے بارے میں کسی تکلیف کے پہنچ جانے کا اندیشہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کو آگاہ کر دے اور اندیشہ سے بچنے کی ممکن تدبیر بتلادے جیسے یعقوب ؑ نے کیا، پانچوںیہ کہ جب کسی شخص کو دوسرے شخص کا کوئی کمال یا نعمت تعجب انگیز معلوم ہو اور خطرہ ہو کہ اس کو نظر بد لگ جائے گی تو اس پر واجب ہے کہ اس کو دیکھ کر بارک اللہ یا ماشاء اللہ کہہ لے تاکہ دوسرے کو کوئی تکلیف نہ پہونچے، چھٹے یہ کہ نظر بد سے بچنے کے لئے ہر ممکن تدبیر کرنا جائز ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی دعاء اور تعویذ وغیرہ سے علاج کیا جائے جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت جعفربن ابی طالب کے دو لڑکوں کو کمزور دیکھ کر اس کی اجازت دی کہ تعویذ وغیرہ کے ذریعہ ان کا علاج کیا جائے، ساتویںیہ کہ دانشمند مسلمان کا کام یہ ہے کہ ہر کام میں اصل بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر رکھے مگر ظاہری اور مادی اسباب کو بھی نظرانداز نہ کرے جس قدر جائز اسباب اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس کے اختیار میں ہوں ان کو بروئے کار لانے میں کوتاہی نہ کرے جیسے حضرت یعقوب ؑ نے کیا اور رسول کریم ﷺ نے بھی اس کی تعلیم فرمائی ہے دانائے روم ؒ نے فرمایا بر توکل زانوئے اشتربہ بند یہی پیغمبرانہ توکل اور سنت رسول ﷺ ہے، آٹھویں یہ کہ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوسف ؑ نے اپنے چھوٹے بھائی کو تو بلانے کے لئے بھی کوشش اور تاکید کی اور پھر جب وہ آگئے تو ان پر اپنا راز بھی ظاہر کردیا مگر والد محترم کے نہ بلانے کی فکر فرمائی اور نہ ان کو اپنی خیریت سے مطلع کرنے کا کوئی اقدام کیا اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کی گئی ہے کہ اس پورے چالیس سال کے عرصہ میں بہت سے مواقع تھے کہ والد ماجد کو اپنے حال اور خیریت کی اطلاع دیدیتے لیکن یہ جو کچھ ہوا وہ بحکم قضاء وقدر باشارات وحی ہوا ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہ ملی ہوگی کہ والد محترم کو حالات سے باخبر کیا جائے کیونکہ ابھی ان کا ایک اور امتحان بنیامین کی مفارقت کے ذریعہ بھی ہونے والا تھا اس کی تکمیل ہی کے لئے یہ سب صورتیں پیدا کی گئیں
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب تیار کردیا ان کے واسطے اسباب ان کا رکھ دیا پینے کا پیالہ اسباب میں اپنے بھائی کے، پھر پکارا پکارنے والے نے اے قافلہ والو ! تم تو البتہ چور ہو

خلاصہ تفسیر پھر جب یوسف ؑ نے ان کا سامان (غلہ اور روانگی کا) تیار کردیا تو (خود یا کسی معتمد کی معرفت) پانی پینے کا برتن (کہ وہی پیمانہ غلہ دینے کا بھی تھا) اپنے بھائی کے اسباب میں رکھ دیا پھر (جب یہ لاد پھاند کر چلے تو یوسف ؑ کے حکم سے پیچھے سے) ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو تم ضرور چور ہو وہ ان (تلاش کرنے والوں) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے (جس کی چوری کا ہم پر شبہ ہوا) انہوں نے کہا کہ ہم کو بادشاہی پیمانہ نہیں ملتا (وہ غائب ہے) اور جو شخص اس کو (لا کر) حاضر کرے اس کو ایک بار شتر غلہ (بطور انعام کے خزانہ سے) ملے گا (اور یا یہ مطلب ہو کہ اگر خود چور بھی مال دیدے تو عفو کے بعد انعام پائے گا) اور میں اس (کے دلوانے) کا ذمہ دار ہوں (غالبا یہ ندا اور یہ وعدہ انعام بحکم یوسف ؑ ہوگا) یہ لوگ کہنے لگے کہ بخدا تم کو خوب معلوم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے (جس میں چوری بھی داخل ہے) نہیں آئے اور ہم لوگ چوری کرنے والے نہیں (یعنی یہ شیوہ نہیں ہے) ان (ڈھونڈنے والے) لوگوں نے کہا اچھا اگر تم جھوٹے نکلے (اور تم میں سے کسی پر سرقہ ثابت ہوگیا) تو اس (چور) کی کیا سزا ہے انہوں نے (موافق شریعت یعقوب ؑ کے) جواب دیا کہ اس کی سزا یہ ہے وہ جس شخص کے اسباب میں ملے پس وہی اپنی سزا ہے (یعنی چوری کی عوض میں خود اس کی ذات کو صاحب مال اپنا غلام بنا لے) ہم لوگ ظالموں (یعنی چوروں) کو ایسی سزا دیا کرتے ہیں (یعنی ہماری شریعت میں یہی مسئلہ اور عمل ہے غرض یہ امور باہم ٹھہرنے کے بعد اسباب اتروایا گیا) پھر (تلاشی کے وقت) یوسف ؑ نے (خود یا کسی معتمد کی معرفت) اپنے بھائی کے (اسباب کے) تھیلے سے قبل تلاشی کی ابتداء اول دوسرے بھائیوں کے (اسباب کے) تھیلوں سے کی پھر (اخیر میں) اس (برتن) کو اپنے بھائی کے (اسباب کے) تھیلے سے برآمد کیا ہم نے یوسف ؑ کی خاطر سے اس طرح (بنیامین کے رکھنے کی) تدبیر فرمائی (وجہ اس تدبیر کی یہ ہوئی کہ) یوسف اپنے بھائی کو اس بادشاہ (مصر) کے قانون کی رو سے نہیں لے سکتے تھے (کیونکہ اس کے قانوں میں کچھ تادیب وجرمانہ تھا (روی الطبرانی عن معمر والاول فی روح المعانی) مگر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کو منظور تھا (اس لئے یوسف ؑ کے دل میں یہ تدبیر آئی اور ان لوگوں کے منہ سے یہ فتویٰ نکلا اور اس مجموعہ سے تدبیر راست آگئی اور چونکہ یہ حقیقۃً غلام بنانا نہ تھا بلکہ بنیامین کی خوشی سے صورت غلامی کی اختیار کی تھی اس لئے استرقاق حر کا شبہ لازم نہیں آیا اور گو یوسف ؑ بڑے عالم و عاقل تھے مگر پھر بھی ہماری تدبیر سکھانے کے محتاج تھے بلکہ ہم جس کو چاہتے ہیں (علم میں) خاص درجوں تک بڑھا دیتے ہیں اور تمام علم والوں سے بڑھ کر ایک بڑا علم والا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ) جب مخلوق کا علم ناقص ٹھہرا اور علم خالق کامل تو لامحالہ ہر مخلوق اپنے علم میں اور تدبیر میں محتاج ہوگی خالق کی، اس لئے کد نَا اور الاَّ اَن یشآء اللہ کہا گیا حاصل یہ کہ جب ان کے اسباب سے وہ برتن برآمد ہوگیا اور بنیامین روک لئے گئے تو وہ سب بڑے شرمندہ ہوئے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں اس کا بیان ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک لینے کے لئے یہ حیلہ اور تدبیر اختیار کی کہ جب سب بھائیوں کو قاعدہ کے موافق غلہ دیا گیا تو ہر بھائی کا غلہ ایک مستقل اونٹ پر علیحٰدہ علیحٰدہ نام بنام بار کیا گیا، بنیامین کے لئے جو غلہ اونٹ پر لادا گیا اس میں ایک برتن چھپا دیا گیا اس برتن کو قرآن کریم نے ایک جگہ بلفظ سقایۃ اور دوسری جگہ صُوَاعَ الْمَلِكِ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے سقایہ کے معنی پانی پینے کا برتن اور صواع بھی اسی طرح کے برتن کو کہتے اس کو ملک کی طرف منسوب کرنے سے اتنی بات اور معلوم ہوئی کہ یہ برتن کوئی خاص قیمت اور حیثیت رکھتا تھا بعض روایات میں ہے کہ زبرجد کا بنا ہوا تھا بعض نے سونے کا بعض نے چاندی کا بتلایا ہے بہرحال یہ برتن جو بنیامین کے سامان میں چھپا دیا گیا تھا خاصہ قیمتی برتن ہونے کے علاوہ ملک مصر سے کوئی اختصاص بھی رکھتا تھا خواہ یہ کہ وہ خود اس کو استعمال کرتے تھے یا یہ کہ ملک نے بامر خود اس برتن کو غلہ ناپنے کا پیمانہ بنادیا تھا، (آیت) ثُمَّ اَذَّنَ مُؤ َذِّنٌ اَيَّــتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ یعنی کچھ دیر کے بعد ایک منادی کرنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو تم چور ہو، یہاں لفظ ثم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منادی فوراً ہی نہیں کی گئی بلکہ کچھ مہلت دیگئی یہاں تک کہ قافلہ روانہ ہوگیا اس کے بعد یہ منادی کی گئی تاکہ کسی کو جعلسازی کا شبہ نہ ہوجائے، بہرحال اس منادی کرنے والے نے برادران یوسف ؑ کے قافلہ کو چور قرار دیدیا
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

کہنے لگے منہ کر کے ان کی طرف تمہاری کیا چیز گم ہو گئی

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ یعنی برادران یوسف منادی کرنے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تم ہمیں چور بنا رہے ہو یہ تو کہو کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے اس کو ملے ایک بوجھ اونٹ کا اور میں ہوں اس کا ضامن

(آیت) قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ۔ منادی کرنے والوں نے کہا کہ بادشاہ کا صواع یعنی برتن گم ہوگیا ہے اور جو شخص اس کو کہیں سے برآمد کرے گا اس کو ایک اونٹ بھر غلہ انعام میں ملے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، یہاں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے بنیامین کو اپنے پاس روکنے کا یہ حیلہ بھی کیوں کیا جبکہ ان کو معلوم تھا کہ والد ماجد ان کی مفارقت کا صدمہ ناقابل برداشت تھا اب دوسرے بھائی کو روک کر ان کو دوسرا صدمہ دینا کیسے گوارا کیا ؟ دوسرا سوال اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بےگناہ بھائیوں پر چوری کا الزام لگانا اور اس کے لئے یہ جعلسازی کہ ان کے سامان میں خفیہ طور سے کوئی چیز رکھ دی اور پھر علانیہ ان کی رسوائی ظاہر ہو یہ سب کام ناجائز ہیں اللہ کے نبی یوسف ؑ نے ان کو کیسے گوارا کیا ؟ بعض مفسرین قرطبی وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ بیان کیا ہے کہ جب بنیامین نے یوسف ؑ کو پہچان لیا اور وہ مطمئن ہوگئے تو بھائی سے یہ درخواست کی کہ اب آپ مجھے ان بھائیوں کے ساتھ واپس نہ بھیجئے مجھے اپنے پاس رکھئے یوسف ؑ نے اول یہی عذر کیا کہ اگر تم یہاں رک گئے تو والد کو صدمہ شدید ہوگا دوسرے تمہیں اپنے پاس روکنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ میں تم پر چوری کا الزام لگاؤں اور اس الزام میں گرفتار کر کے اپنے پاس رکھ لوں بنیامین ان بھائیوں کی معاشرت سے کچھ ایسے دل تنگ تھے کہ ان سب باتوں کے لئے تیار ہوگئے، لیکن یہ واقعہ صحیح بھی ہو تو والد کی دل آزاری اور سب بھائیوں کی رسوائی اور ان کو چور کہنا صرف بنیامین کے راضی ہوجانے سے تو جائز نہیں ہوسکتا اور بعض حضرات کی یہ توجیہ کہ منادی کا ان کو چور کہنا یوسف ؑ کے علم و اجازت سے نہ ہوگا ایک بےدلیل دعوٰی اور صورت واقعہ کے لحاظ سے بےجوڑ بات ہے اسی طرح یہ تاویل کہ ان بھائیوں نے یوسف ؑ کو والد سے چرایا اور فروخت کیا تھا اس لئے ان کو چور کہا گیا یہ بھی ایک تاویل ہے اس لئے ان سب سوالوں کا صحیح جواب دہی ہے جو قرطبی اور مظہری وغیرہ نے دیا ہے کہ اس واقعہ میں جو کچھ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے وہ نہ بنیامین کی خواہش کا نتیجہ تھا نہ یوسف ؑ کی اپنی تجویز کا بلکہ یہ سب کام بامرالہی اسی کی حکمت بالغہ کے مظاہر تھے جن میں حضرت یعقوب ؑ کے ابتلاء و امتحان کی تکمیل ہو رہی تھی اس جواب کی طرف خود قرآن کی اس آیت میں اشارہ موجود ہے كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ یعنی ہم نے اسی طرح تدبیر کی یوسف ؑ کے لئے اپنے بھائی کو روکنے کی، اس آیت میں واضح طور پر اس حیلہ و تدبیر کو حق تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ سب کام جب کہ بامر خداوندی ہوئے تو ان کو ناجائز کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے ان کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے حضرت موسیٰ ٰاور خضر (علیہما السلام) کے واقعہ میں کشتی توڑنا، لڑکے کو قتل کرنا وغیرہ جو بظاہر گناہ تھے اسی لئے موسیٰ ؑ نے ان پر نکیر کیا مگر خضر ؑ یہ سب کام باذن خداوندی خاص مصالح کے تحت کر رہے تھے اس لئے ان کا کوئی گناہ تھا
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

بولے قسم اللہ کی تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے

(آیت) قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ۔ یعنی جب شاہی منادی نے برادران یوسف پر چوری کا الزام لگایا تو انہوں نے کہا کہ ارکان دولت بھی خود ہمارے حالات سے واقف ہیں کہ ہم کوئی فساد کرنے یہاں نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم نکلے جھوٹے

(آیت) قَالُوْا فَمَا جَزَاۗؤ ُ هٗٓ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ۔ یعنی شاہی ملازمین نے کہا کہ اگر تمہارا جھوٹ ثابت ہوجائے تو بتلاؤ کہ چور کی کیا سزا ہے
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

کہنے لگے اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سے ہاتھ آئے وہی اس کے بدلے میں جائے ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو

(آیت) قَالُوْا جَزَاۗؤ ُ هٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤ ُ هٗ ۭكَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ یعنی برادران یوسف نے کہا کہ جس شخص کے سامان میں مال مسروقہ برآمد ہو وہ شخص خود ہی اس کی جزا ہے ہم چوروں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ شریعت یعقوب ؑ میں چور کی سزا یہ ہے کہ جس شخص کا مال چرایا ہے وہ شخص اس چور کو اپنا غلام بنا کر رکھے، سرکاری ملازمین نے اس طرح خود برادران یوسف سے چور کی سزا شریعت یعقوبی کے مطابق معلوم کر کے ان کو اس کا پابند کردیا کہ بنیامین کے سامان میں مال مسروقہ برآمد ہو تو وہ اپنے ہی فیصلہ کے مطابق بنیامین کو یوسف ؑ کے سپرد کرنے پر مجبور ہوجائیں
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر شروع کی یوسف ؑ نے ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے یوں داؤ بتایا ہم نے یوسف ؑ کو وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا

فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۗءِ اَخِيْهِ یعنی سرکاری تفتیش کرنے والوں نے اصل سازش پر پردہ ڈالنے کے لئے پہلے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی لی پہلے ہی بنیامین کا سامان نہیں کھولا تاکہ ان کو شبہ نہ ہو جائے ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۗءِ اَخِيْهِ یعنی آخر میں بنیامین کا سامان کھولا گیا تو اس میں سے صواع الملک کو برآمد کرلیا اس وقت تو سب بھائیوں کی گردنیں شرم سے جھک گئیں اور بنیامین کو سخت سست کہنے لگے کہ تو نے ہمارا منہ کالا کردیا، كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ ۭ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ یعنی اس طرح ہم نے تدبیر کی یوسف کے لئے وہ اپنے بھائی کو شاہ مصر کے قانون کے ماتحت گرفتار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ مصر کا قانون چور کے متعلق یہ تھا کہ چور کو مارپیٹ کی سزا دی جائے اور مال مسروقہ سے دوگنی قیمت وصول کر کے چھوڑ دیا جائے مگر انہوں نے یہاں برادران یوسف ہی سے چور کا حکم شریعت یعقوبی کے مطابق دریافت کرلیا تھا اس کی رو سے بنیامین کو اپنے پاس روک لینا صحیح ہوگیا اس طرح اللہ تعالیٰ کی حکمت ومشیت سے یوسف ؑ کی یہ مراد بھی پوری ہوگئی نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ یعنی ہم جس کو چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں جیسا اس واقعہ میں یوسف ؑ کے درجات ان کے بھائیوں کے مقابلہ میں بلند کردیئے گئے اور ہر علم والے کے اوپر اس سے زیادہ علم والا موجود ہے، مطلب یہ ہے کہ مخلوق میں ہم نے علم کے اعتبار سے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے بڑے سے بڑے عالم کے مقابلہ میں کوئی اس سے زیادہ علم رکھنے والا ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ پوری مخلوقات میں کوئی اس سے زیادہ علم نہیں رکھتا تو پھر رب العزت جل شانہ ٗ کا علم تو سب سے بالاتر ہے ہی۔ احکام و مسائل آیات مذکورہ سے چند احکام و مسائل حاصل ہوئے اولآیت وَلِمَنْ جَاۗءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ سے ثابت ہوا کہ کسی معین کام کے کرنے پر کوئی اجرت یا انعام مقرر کر کے اعلان عام کردینا کہ جو شخص یہ کام کرے گا اس کو اس قدر انعام یا اجرت ملے گی جیسے اشتہاری مجرموں کے گرفتار کرنے پر یا گمشدہ چیزوں کی واپسی پر اس طرح کے انعامی اعلانات کا عام طور پر رواج ہے اگرچہ اس صورت معاملہ پر فقہی اجارہ کی تعریف صادق نہیں آتی، مگر اس آیت کی رو سے اس کا بھی جواز ثابت ہوگیا (قرطبی) دوسرے اَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی طرف سے حق مالی کا ضامن بن سکتا ہے اور اس صورت کا حکم جمہور فقہائے امت کے نزدیک یہ ہے کہ صاحب حق کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنا مال اصل مدیون سے یا ضامن سے جس سے بھی چاہے وصول کرسکتا ہے ہاں اگر ضامن سے وصول کیا گیا تو ضامن کو حق ہوگا کہ جس قدر مال اس سے لیا گیا ہے وہ اصل مدیون سے وصول کرے (قرطبی خلافاً لمالک) تیسرے كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ سے معلوم ہوا کہ کسی شرعی مصلحت کی بناء پر معاملہ کی صورت میں کوئی ایسی تبدیلی اختیار کرنا جس سے احکام بدل جائیں جس کو فقہاء کی اصطلاح میں حیلہ شرعیہ کہا جاتا ہے یہ شرعاً جائز ہے شرط یہ ہے کہ اس سے شرعی احکام کا ابطال لازم نہ آتاہو اور نہ ایسے حیلے باتفاق فقہاء حرام ہیں جیسے زکوٰۃ سے بچنے کے لئے کوئی حیلہ کرنا یا رمضان سے پہلے کوئی غیر ضروری سفر صرف اس لئے اختیار کرنا کہ روزہ نہ رکھنے کی گنجائش نکل آئے یہ باتفاق حرام ہے ایسے ہی حیلے کرنے پر بعض اقوام پر عذاب الہی آیا ہے اور رسول کریم ﷺ نے ایسے حیلوں سے منع فرمایا ہے اور باتفاق امت حرام ہیں ان پر عمل کرنے سے کوئی کام جائز نہیں ہوجاتا بلکہ دوہرا گناہ لازم آتا ہے ایک تو اصل ناجائز کام کا دوسرے یہ ناجائز حیلہ جو ایک حیثیت سے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ چالبازی کا مرادف ہے اسی طرح کے حیلوں کے ناجائز ہونے کو امام بخاری ؒ نے کتاب الحیل میں ثابت کیا ہے
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

کہنے لگے اگر اس نے چرایا تو چوری کی تھی اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے تب آہستہ سے کہا یوسف نے اپنے جی میں اور ان کو نہ جتایا کہا جی میں کہ تم بدتر ہو درجہ میں، اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو

خلاصہ تفسیر کہنے لگے کہ (صاحب) اگر اس نے چوری کی تو (تعجب نہیں کیونکہ) اس کا ایک بھائی (تھا وہ) بھی (اسی طرح) اس کے پہلے چوری کرچکا ہے (جس کا قصہ درمنثور میں اس طرح لکھا ہے کہ یوسف ؑ کی ان کی پھوپھی پرورش کرتی تھیں جب ہوشیار ہوئے تو یعقوب ؑ نے لینا چاہا وہ ان کو چاہتی بہت تھیں انہوں نے ان کو رکھنا چاہا اس لئے انہوں نے ان کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کردیا کہ پٹکاگم ہوگیا اور سب کی تلاشی لی تو ان کی کمر میں نکلا اور اس شریعت کے قانون کے موافق ان کو پھوپھی کے قبضہ میں رہنا پڑا یہاں تک کہ ان کی پھوپھی نے وفات پائی پھر یعقوب ؑ کے پاس آگئے اور ممکن ہے یہ صورت استرقاق کی بھی یوسف ؑ کی رضامندی سے ہوئی ہو اس لئے یہاں بھی آزاد کا غلام بنانا لازم نہیں آیا اور ہرچند کہ قرائن و اخلاق یوسفیہ میں ذرا تامل کرنے سے آپ کی برأت اس فعل سے یقیناً معلوم تھی مگر بنیامین پر جو بھائیوں کو غصہ تھا اس میں یہ بات بھی کہہ دی) پس یوسف ؑ نے اس بات کو (جو آگے آتی ہے) اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اس کو ان کے سامنے (زبان سے) ظاہر نہیں کیا یعنی (دل میں) یوں کہا کہ اس چوری کے) درجہ میں تم تو اور بھی زیادہ بری ہو (یعنی ہم دونوں بھائیوں سے تو حقیقت سرقہ صادر نہیں ہوا اور تم نے تو اتنا بڑا کام کیا کہ کوئی مال غائب کرتا ہے تم نے آدمی غائب کردیا کہ مجھ کو باپ سے بچھڑا دیا اور ظاہر ہے کہ آدمی کی چوری مال کی چوری سے زیادہ سخت ہے) اور تو کچھ تم (ہم دونوں بھائیوں کے متعلق) بیان کر رہے ہو (کہ ہم چور ہیں) اس (کی حقیقت) کا اللہ ہی کو خوب علم ہے (کہ ہم چور نہیں ہیں جب بھائیوں نے دیکھا کہ انہوں نے بنیامین کو ماخوذ کرلیا اور اس پر قابض ہوگئے توبراہ خوشامد) کہنے لگے اے عزیز اس (بنیامین) کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے (اور اس کو بہت چاہتا ہے اس کے غم میں خدا جانے کیا حال ہو، اور ہم سے اس قدر محبت نہیں) سو آپ ایسا کیجئے کہ) اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لیجئے (اور اپنا مملوک بنا لیجئے) ہم آپ کو نیک مزاج دیکھتے ہیں (امید ہے کہ اس درخواست کو منظور فرما لیں گے) یوسف ؑ نے کہا ایسی (بےانصافی کی) بات سے خدا بچائے کہ جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے شخص کو پکڑ کرلیں (اگر ہم ایسا کریں تو) اس حالت میں تو ہم بڑے بےانصاف سمجھے جائیں گے (کسی آزاد آدمی کو غلام بنا لینا اور غلاموں کا معاملہ کرنا اس کی رضامندی سے بھی حرام ہے) پھر جب ان کو یوسف ؑ سے تو (ان کے صاف جواب کے سبب) بالکل امید نہ رہی (کہ بنیامین کو دیں گے) تو (اس جگہ سے) علیحٰدہ ہو کر باہم مشورہ کرنے لگے (کہ کیا کرنا چاہئے، پھر زیادہ کی یہ رائے ہوئی کہ مجبوری ہے سب کو واپس چلنا چاہئے، مگر) ان سب میں جو بڑا تھا اس نے کہا کہ (تم جو سب کے سب واپس چلنے کی صلاح کر رہے ہو تو) کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ تم سے خدا کی قسم کھلاکر پکا قول لے چکے ہیں (کہ تم اس کو اپنے ہمراہ لانا لیکن اگر گھر جاؤ تو مجبوری ہے سو ہم سب کے سب تو گھر ہے نہیں کہ تدبیر کی گنجائش نہ رہتی اس لئے حتی الامکان کچھ تدبیر کرنا چاہئے) اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں کس قدر کوتاہی کرچکے ہو (کہ ان کے ساتھ جو کچھ برتاؤ ہوا اس سے باپ کے حقوق بالکل ضائع ہوئے سو وہ پرانی ہی شرمندگی کیا کم ہے جو ایک نئی شرمندگی لے کر جائیں) سو میں تو اس زمین سے ٹلتا نہیں تاوقتیکہ میرے باپ مجھ کو (حاضری کی) اجازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ اس مشکل کو سلجھا دے اور وہی خوب سلجھانے والا ہے (یعنی کسی تدبیر سے بنیامین چھوٹ جائے غرض میں یا اس کو لے کر جاؤں گا یا بلایا ہوا جاؤں گا سو مجھ کو تو یہاں چھوڑو اور) تم واپس اپنے باپ کے پاس جاؤ اور (جا کر ان سے) کہو کہ اے ابا آپ کے صاحبزادے (بنیامین) نے چوری کی (اس لئے گرفتار ہوئے) اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم کو (مشاہدہ سے) معلوم ہوا ہے اور ہم (قول وقرار دینے کے وقت) غیب کی باتوں کے تو حافظ تھے نہیں (کہ یہ چوری کرے گا ورنہ ہم کبھی قول نہ دیتے) اور (اگر ہمارے کہنے کا یقین نہ ہو تو) اس بستی (یعنی مصر) والوں سے (کسی اپنے معتمد کی معرفت) پوچھ لیجئے جہاں ہم (اس وقت) موجود تھے (جب چوری برآمد ہوئی ہے) اور اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجئے جن میں ہم شامل ہو کر (یہاں) آئے ہیں (معلوم ہوتا ہے اور بھی کنعان کے یا آس پاس کے لوگ غلہ لینے گئے ہوں گے) اور یقین جانئے ہم بالکل سچ کہتے ہیں (چنانچہ سب نے بڑے کو وہاں چھوڑا اور خود آ کر سارا ماجرا بیان کیا) معارف و مسائل ان سے پہلی آیات میں مذکور تھا کہ مصر میں یوسف ؑ کے حقیقی بھائی بنیامین کے سامان میں ایک شاہی برتن چھپا کر اور پھر ان کے سامان سے تدبیر کے ساتھ برآمد کر کے ان پر چوری کا جرم عائد کردیا گیا تھا، مذکورہ آیات میں پہلی آیت میں یہ ہے کہ جب برادران یوسف ؑ کے سامنے بنیامین کے سامان سے مال مسروقہ برآمد ہوگیا اور شرم سے ان کی آنکھیں جھک گئیں تو جھنجھلاکر کہنے لگے اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ یعنی اگر اس نے چوری کرلی تو کچھ زیادہ تعجب نہیں اس کا ایک بھائی تھا اس نے بھی اسی طرح اس سے پہلے چوری کی تھی، مطلب یہ تھا کہ یہ ہمارا حقیقی بھائی نہیں علاتی ہے اس کا ایک حقیقی بھائی تھا اس نے بھی چوری کی تھی، یوسف ؑ کے بھائیوں نے اس وقت خود یوسف ؑ پر بھی چوری کا الزام لگا دیا جس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو حضرت یوسف ؑ کے بچپن میں پیش آیا تھا جس میں ٹھیک اسی طرح جیسے یہاں بنیامین پر چوری کا الزام لگانے کی سازش کی گئی ہے اس وقت یوسف ؑ پر ان کی بیخبر ی میں ایسی ہی سازش کی گئی تھی اور یہ سب بھائیوں کو پوری طرح معلوم تھا کہ یوسف ؑ اس الزام سے بالکل بری ہیں مگر اس وقت بنیامین پر غصہ کی وجہ سے اس واقعہ کی بھی چوری کا قرار دے کر اس کا الزام ان کے بھائی یوسف ؑ پر لگا دیا ہے، وہ واقعہ کیا تھا اس میں روایات مختلف ہیں ابن کثیر ؒ نے بحوالہ محمد بن اسحاق مجاہد ؒ امام تفسیر سے نقل کیا ہے کہ یوسف ؑ کی ولادت کے تھوڑے ہی عرصہ بعد بنیامین پیدا ہوئے تو یہ ولادت ہی والدہ کی موت کا سبب بن گئی، یوسف ؑ اور بنیامین دونوں بھائی بغیر ماں کے رہ گئے تو ان کی تربیت وحضانت ان کی پھوپھی کی گود میں ہوئی اللہ تعالیٰ نے یوسف ؑ کو بچپن سے ہی کچھ ایسی شان عطاء فرمائی تھی کہ جو دیکھتا ان سے بےحد محبت کرنے لگتا تھا پھوپھی کا بھی یہی حال تھا کہ کسی وقت ان کو نظروں سے غائب کرنے پر قادر نہ تھیں دوسری طرف والد بزرگوار حضرت یعقوب ؑ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا مگر بہت چھوٹا ہونے کی بناء پر ضرورت اس کی تھی کہ کسی عورت کی نگرانی میں رکھا جائے اس لئے پھوپھی کے حوالے کردیا تھا اب جب کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے تو یعقوب ؑ کا ارادہ ہوا کہ یوسف ؑ کو اپنے ساتھ رکھیں پھوپھی سے کہا تو انہوں نے عذر کیا، پھر زیادہ اصرار پر مجبور ہو کر یوسف ؑ کو ان کے والد کے حوالے تو کردیا مگر ایک تدبیر ان کو واپس لینے کی یہ کردی کہ پھوپی کے پاس ایک پٹکا تھا جو حضرت اسحاق ؑ کی طرف سے ان کو پہنچا تھا اور اس کی بڑی قدر و قیمت سمجھی جاتی تھی یہ پٹکا پھوپھی نے یوسف ؑ کے کپڑوں کے نیچے کمر پر باندھ دیا یوسف ؑ کے جانے کے بعد یہ شہرت دی کہ میرا پٹکا چوری ہوگیا پھر تلاشی لی گئی تو وہ یوسف کے پاس نکلا، شریعت یعقوب ؑ کے حکم کے مطابق اب پھوپھی کو یہ حق ہوگیا کہ یوسف ؑ کو اپنا مملوک بنا کر رکھیں یعقوب ؑ نے جب یہ دیکھا کہ شرعی حکم کے اعتبار سے پھوپھی یوسف ؑ کی مالک بن گئی تو ان کے حوالے کردیا اور جب تک پھوپھی زندہ رہیں یوسف ؑ انہی کی تربیت میں رہے یہ واقعہ تھا جس میں چوری کا الزام حضرت یوسف ؑ پر لگا اور پھر ہر شخص پر حقیقت حال روشن ہوگئی کہ یوسف ؑ چوری کے ادنیٰ شبہ سے بھی بری ہیں پھوپھی کی محبت نے ان سے یہ سازش کا جال پھیلوایا تھا بھائیوں کو بھی یہ حقیقت معلوم تھی اس کی بناء پر کسی طرح زیبا نہ تھا کہ ان کی طرف چوری کو منسوب کرتے مگر ان کے حق میں بھائیوں کی جو زیادتی اور بےراہ روی اب تک ہوتی چلی آئی تھی یہ بھی اسی کا ایک آخری جز تھا، فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ یعنی یوسف ؑ نے بھائیوں کی یہ بات سن کر اپنے دل میں رکھی کہ یہ لوگ اب تک بھی میرے درپے ہیں کہ چوری کا الزام لگا رہے ہیں مگر اس کا اظہار بھائیوں پر نہیں ہونے دیا کہ یوسف ؑ نے ان کی یہ بات سنی ہے اور اس سے کچھ اثر لیا ہے، قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ یوسف ؑ نے (اپنے دل میں) کہا کہ تم لوگ ہی برے درجہ اور برے حال میں ہو کہ بھائی پر چوری کی تہمت جان بوجھ کر لگاتے ہو اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والے ہیں کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ صحیح ہے یا غلط پہلا جملہ تو دل میں کہا گیا ہے یہ دوسرا جملہ ممکن ہے کہ بھائیوں کے جواب میں اعلاناً کہہ دیا ہو
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز اس کا ایک باپ ہے بہت بوڑھا بڑی عمر کا سو رکھ لے ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، ہم دیکھتے ہیں تو ہے احسان کرنے والا

(آیت) قَالُوْا يٰٓاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗٓ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ برداران یوسف نے جب دیکھا کہ کوئی بات چلتی نہیں اور بنیامین کو یہاں چھوڑنے کے سوا چارہ نہیں تو عزیز مصر کی خوشامد شروع کی اور یہ درخواست کی کہ اس کے والد بہت بوڑھے ہیں اور ضعیف ہیں (اس کی مفارقت ان سے برداشت نہ ہوگی) اس لئے آپ اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو گرفتار کرلیں یہ درخواست آپ سے ہم اس امید پر کر رہے ہیں کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ بہت احساس کرنے والے ہیں یا یہ کہ آپ نے اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ احسان کا سلوک فرمایا ہے
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

بولا اللہ پناہ دے کہ ہم کسی کو پکڑیں مگر جس کے پاس پائی ہم نے اپنی چیز تو تو ہم ضرور بےانصاف ہوئے

(آیت) قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کی درخواست کا جواب ضابطہ کے مطابق یہ دیا کہ یہ بات تو ہمارے اختیار میں نہیں کہ جس کو چاہیں پکڑ لیں بلکہ جس کے پاس مال مسروقہ برآمد ہوا اگر اس کے سوا کسی دوسرے کو پکڑ لیں تو ہم تمہارے ہی فتوے اور فیصلے کے مطابق ظالم ہوجائیں گے کیونکہ تم نے ہی یہ کہا ہے کہ جس کے پاس مال مسروقہ برآمد ہو وہ ہی اس کی اجزاء ہے
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب ناامید ہوئے اس سے اکیلے ہو بیٹھے مشورہ کرنے کو، بولا ان میں کا بڑا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اللہ کا اور پہلے جو قصور کرچکے ہو یوسف کے حق میں سو میں تو ہرگز نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو میرا باپ یا قضیہ چکا دے اللہ میری طرف اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے والا

فَلَمَّا اسْتَيْـــَٔـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا یعنی جب برادران یوسف بنیامین کی رہائی سے مایوس ہوگئے تو باہم مشورہ کے لئے کسی علیحٰدہ جگہ میں جمع ہوگئے، قَالَ كَبِيْرُهُمْ الخ ان کے بڑے بھائی نے کہا کہ تمہیں یہ معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے بنیامین کے واپس لانے کا پختہ عہد لیا تھا اور یہ کہ تم اس سے پہلے بھی یوسف ؑ کے معاملہ میں ایک کوتاہی اور غلطی کرچکے ہو اس لئے میں تو اب مصر کی زمین کو اس وقت تک نہ چھوڑونگا جب تک میرے والد خود ہی مجھے یہاں سے واپس آنے کا حکم نہ دیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی مجھے یہاں سے نکلنے کا حکم ہو اور اللہ تعالیٰ ہی بہترین حکم کرنے والے ہیں، یہ بڑے بھائی جن کا کلام بیان ہوا ہے بعض نے فرمایا کہ یہودا ہیں اور یہ اگرچہ عمر میں سب سے بڑے نہیں مگر علم و فضل میں بڑے تھے اور بعض مفسرین نے کہا کہ روبیل ہیں جو عمر میں سب سے بڑے ہیں اور یوسف ؑ کے قتل نہ کرنے کا مشورہ انہوں نے دیا تھا اور بعض نے کہا کہ یہ بڑے بھائی شمعون ہیں جو جاہ ورتبہ کے اعتبار سے سب بھائیوں میں بڑے سمجھے جاتے تھے،
Ayahs 12:81–82

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

پھر جاؤ اپنے باپ کے پاس اور کہو اے باپ تیرے بیٹے نے تو چوری کی، اور ہم نے وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں، اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں

اِرْجِعُوْٓا اِلٰٓى اَبِيْكُمْ یعنی بڑے بھائی نے کہا کہ میں تو یہیں رہوں گا آپ سب لوگ اپنے والد کے پاس واپس جائیں اور ان کو بتلائیں کہ آپ کے صاحبزادہ نے چوری کی اور ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنے چشم دید حالات ہیں کہ مال مسروقہ ان کے سامان میں سے ہمارے سامنے برآمد ہوا، وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْن یعنی ہم نے جو آپ سے عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو ضرور واپس لائیں گے یہ عہد ظاہری حالات کے اعتبار سے تھا غیب کا حال تو ہم نہ جانتے تھے کہ یہ چوری کر کے گرفتار اور ہم مجبور ہوجائیں گے اور اس جملے کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے بھائی بنیامین کی پوری حفاظت کی کہ کوئی ایسا کام ان سے نہ ہوجائے جس کے باعث وہ تکلیف میں پڑیں مگر ہماری یہ کوشش ظاہری احوال ہی کی حد تک ہو سکتی تھی ہماری نظروں سے غائب لاعلمی میں ان سے یہ کام ہوجائے گا ہم کو اس کا کوئی علم نہ تھا، چونکہ برادران یوسف اس سے پہلے ایک فریب اپنے والد کو دے چکے تھے اور یہ جانتے تھے کہ ہمارے مذکور الصدر بیان سے والد کا ہرگز اطمینان نہ ہوگا اور وہ ہماری بات پر یقین نہ کرینگے اس لئے مزید تاکید کے لئے کہا کہ آپ کو ہمارا یقین نہ آئے تو آپ اس شہر کے لوگوں سے تحقیق کرلیں جس میں ہم تھے یعنی شہر مصر اور آپ اس قافلہ سے بھی تحقیق کرسکتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہی مصر سے کنعان آیا ہے اور ہم اس بات میں بالکل سچے ہیں۔ تفسیر مظہری میں اس جگہ اس سوال کا اعادہ کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے والد کے ساتھ اس قدر بےرحمی کا معاملہ کیسے گوارا کرلیا کہ خود اپنے حالات سے بھی اطلاع نہیں دی پھر چھوٹے بھائی کو بھی روک لیا جبکہ بار بار یہ بھائی مصر آتے رہے نہ ان کو اپنا راز بتایا نہ والد کے پاس اطلاع بھیجی ان سب باتوں کا جواب تفسیر مظہری نے یہی دیا ہے، انہ عمل ذالک بامر اللہ تعالیٰ لیزید فی بلآء یعقوب، یعنی یوسف ؑ نے یہ سارے کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کئے جن کا منشاء حضرت یعقوب ؑ کے امتحان اور ابتلاء کی تکمیل تھی ، احکام و مسائل وَمَا شَهِدْنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا سے ثابت ہوا کہ انسان جب کسی سے کوئی معاملہ اور معاہدہ کرتا ہے تو وہ ظاہری حالات ہی پر محمول ہوتا ہے ایسی چیزوں پر حاوی نہیں ہوتا جو کسی کے علم میں نہیں برادران یوسف نے والد سے جو بھائی کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا وہ اپنے اختیاری امور کے متعلق تھا اور یہ معاملہ کہ ان پر چوری کا الزام آ گیا اور اس میں پکڑے گئے اس سے معاہدہ پر کچھ اثر نہیں پڑتا، دوسرا مسئلہ تفسیر قرطبی میں اس آیت سے یہ نکالا گیا ہے کہ اس جملہ سے ثابت ہوا کہ شہادت کا مدار علم پر ہے علم خواہ کسی طریق سے حاصل ہو اس کے مطابق شہادت دی جاسکتی ہے اس لئے کسی واقعہ کی شہادت جس طرح اس کو بچشم خود دیکھ کردی جاسکتی ہے اس طرح کسی معتبر ثقہ سے سنکر بھی دی جاسکتی ہے شرط یہ ہے کہ اصل معاملہ کو چھپائے نہیں بیان کر دے کہ یہ واقعہ خود نہیں دیکھا فلاں ثقہ آدمی سے سنا ہے اسی اصول کی بناء پر فقہاء مالکیہ نے نابینا کی شہادت کو بھی جائز قرار دیا ہے، مسئلہآیات مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی شخص حق اور راستی پر ہے مگر موقع ایسا ہے کہ دیکھنے والوں کو ناحق یا گناہ کا شبہ ہوسکتا ہے تو اس کو چاہئے کہ اس اشتباہ کو دور کر دے تاکہ دیکھنے والے بدگمانی کے گناہ میں مبتلا نہ ہوں جیسے اس واقعہ بنیامین میں پچھلے واقعہ یوسف ؑ کی بناء پر موقع تہمت اور شبہ کا پیدا ہوگیا تھا اس لئے اس کی صفائی کے لئے اہل بستی کی گواہی اور قافلہ والوں کی گواہی پیش کی گئی رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے بھی اس کی تاکید فرمائی ہے جبکہ آپ ﷺ حضرت صفیہ ؓ ام المؤ منین کے ساتھ مسجد سے ایک کوچہ میں تشریف لے جا رہے تھے تو اس کوچہ کے سرے پر دو شخص نظر آئے آنحضرت ﷺ نے دور ہی سے فرما دیا کہ میرے ساتھ صفیہ بنت حیی ہیں ان دو حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کے بارے میں کسی کو کوئی بدگمانی ہو سکتی ہے ؟ تو فرمایا کہ ہاں شیطان انسان کی رگ رگ میں سرایت کرتا ہے ہوسکتا ہے کہ کسی کے دل میں شبہ ڈال دے (بخاری، مسلم) (قرطبی)
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

بولا کوئی نہیں بنا لی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہی بہتر ہے، شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو، وہی ہے خبر دار حکمتوں والا

خلاصہ تفسیر یعقوب (علیہ السلام یوسف ؑ کے معاملہ میں ان سب سے غیر مطمئن ہوچکے تھے تو سابق پر قیاس کر کے) فرمانے لگے (کہ بنیامین چوری میں ماخوذ نہیں ہوا) بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے سو (خیر مثل سابق) صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا (مجھ کو) اللہ سے امید ہے کہ ان سب کو (یعنی یوسف ؑ اور بنیامین اور جو بڑا بھائی اب مصر میں رہ گیا ہے ان تینوں کو) مجھ تک پہنچادے گا (کیونکہ) وہ (حقیقت حال سے) خوب واقف ہے (اس لئے اس کو سب کی خبر ہے کہ کہاں کہاں اور کس کس حال میں ہیں اور وہ) بڑی حکمت والا ہے (جب ملانا چاہے گا تو ہزاروں اسباب و تدابیر درست کر دے گا) اور (یہ جواب دے کر بوجہ اس کے ان سے رنج پہنچا تھا) ان سے دوسری طرف رخ کرلیا اور (بوجہ اس کے کہ اس نئے غم سے وہ پرانا غم اور تازہ ہوگیا، یوسف ؑ کو یاد کر کے) کہنے لگے ہائے یوسف افسوس ! اور غم سے (روتے روتے) ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں (کیونکہ زیادہ رونے سے سیاہی آنکھوں کی کم ہوجاتی ہے اور آنکھیں بےرونق یا بالکل بےنور ہوجاتی ہیں) اور وہ (غم سے جی ہی جی میں) گھٹا کرتے تھے (کیونکہ شدت غم کے ساتھ جب شدت ضبط ہوگا جیسا کہ صابرین کی شان ہے تو کظم کی کیفیت پیدا ہوگی) بیٹے کہنے لگے بخدا (معلوم ہوتا ہے) تو ہمیشہ ہمیشہ یوسف کی یادگاری میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل گھل کر جاں بہ لب ہوجاؤ گے یا یہ کہ بالکل مر ہی جاؤ گے (تو اتنے غم سے فائدہ کیا) یعقوب ؑ نے فرمایا کہ تم کو میرے رونے سے کیا بحث میں تو اپنے رنج وغم کی صرف اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتا ہوں (تم سے تو کچھ نہیں کہتا) اور اللہ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے (باتوں سے مراد یا تو لطف و کرم و رحمت اتم ہے اور بامراد الہام ہے ان سب سے ملنے کا جو بلا واسطہ ہو یا بواسطہ خواب یوسف ؑ کے جس کی تعبیر اب تک واقع نہیں ہوئی تھی اور واقع ہونا اس کا ضرور ہے) اے میرے بیٹو (اظہار غم تو صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں مسبب الاسباب وہی ہے لیکن ظاہری تدبیر تم بھی کرو کہ ایک بار پھر سفر میں) جاؤ اور یوسف ؑ اور ان کے بھائی کی تلاش کرو (یعنی اس فکر و تدبیر کی جستجو کرو جس سے یوسف ؑ کا نشان ملے اور بنیامین کو رہائی ہو) اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید مت ہو بیشک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں، معارف و مسائل یعقوب ؑ کے چھوٹے صاحبزادے بنیامین کی مصر میں گرفتاری کے بعد ان کے بھائی وطن واپس آئے اور یعقوب ؑ کو یہ ماجرا سنایا اور یقین دلانا چاہا کہ ہم اس واقعہ میں بالکل سچے ہیں آپ اس بات کی تصدیق مصر کے لوگوں سے بھی کرسکتے ہیں اور جو قافلہ ہمارے ساتھ مصر سے کنعان آیا ہے اس سے بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ بنیامین کی چوری پکڑی گئی اس لئے وہ گرفتار ہوگئے یعقوب ؑ کو چونکہ یوسف ؑ کے معاملہ میں ان صاحبزادوں کا جھوٹ ثابت ہوچکا تھا اس لئے اس مرتبہ بھی یقین نہیں آیا اگرچہ فی الواقع اس وقت انہوں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا تھا اس لئے اس موقع پر بھی وہی کلمات فرمائے جو یوسف ؑ کی گم شدگی کے وقت فرمائے تھے قال بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا ۭ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ یعنی یہ بات جو تم کہہ رہے ہو صحیح نہیں تم نے خود بات بنائی ہے مگر اب بھی صبر ہی کرتا ہوں وہی میرے لئے بہتر ہے، قرطبی نے اسی سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مجتہد جو بات اپنے اجتہاد سے کہتا ہے اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے یہاں تک کہ پیغمبر بھی جو بات اپنے اجتہاد سے کہیں اس میں ابتداء غلطی ہوجانا ممکن ہے جیسے اس معاملہ میں پیش آیا کہ بیٹوں کے سچ کو جھوٹ قرار دے دیا مگر انبیاء (علیہم السلام) کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کو منجانب اللہ غلطی پر متنبہ کر کے اس سے ہٹا دیا جاتا ہے اور انجام کار وہ حق کو پالیتے ہیں یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے ذہن میں بات بنانے سے مراد وہ بات بنانا ہو جو مصر میں بنائی گئی کہ ایک خاص غرض کے ماتحت جعلی چوری دکھلا کر بنیامین کو گرفتار کیا گیا جس کا انجام آئندہ بہترین صورت میں کھل جانے والا تھا اس آیت کے اگلے جملے سے اس طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے جس میں فرمایا عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا یعنی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو مجھ سے ملا دے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے اس مرتبہ جو صاحبزادوں کی بات کو تسلیم نہیں کیا اس کا حاصل یہ تھا کہ درحقیقت نہ کوئی چوری ہوئی ہے اور نہ بنیامین گرفتار ہوئے ہیں بات کچھ اور ہے یہ اپنی جگہ صحیح تھا مگر صاحبزادوں نے اپنی دانست کے مطابق جو کچھ کہا تھا وہ بھی غلط نہ تھا