Ayah 11:1خلاصہ تفسیر
الۗر (کے معنی تو اللہ کو معلوم) یہ (قرآن) ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں (دلائل سے) محکم کی گئی ہیں پھر (اس کے ساتھ) صاف صاف (بھی) بیان کی گئی ہیں (اور وہ کتاب ایسی ہے کہ) ایک حکیم باخبر (یعنی اللہ تعالیٰ) کی طرف سے (آئی ہے جس کا بڑا مقصد) یہ (ہے) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے (ایمان نہ لانے پر عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان لانے پر ثواب کی) بشارت دینے والا ہوں اور (اس کتاب کے مقاصد میں سے) یہ (بھی ہے) کہ تم لوگ اپنے گناہ (شرک و کفر وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ رہو (یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم کو وقت مقررہ (یعنی وقت موت) تک (دنیا میں) خوش عیشی دے گا اور (آخرت میں) ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا (یہ کہنا بھی بمنزلہ بشیر کے کہنے کے ہے) اور اگر (ایمان لانے سے) تم لوگ اعراض (ہی) کرتے رہے تو مجھ کو (اس صورت میں) تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے (یہ کہنا بمنزلہ نذیر کے کہنے کے ہے، اور عذاب کو مستبعد مت سمجھو کیونکہ) تم (سب) کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے (پھر استبعاد کی کوئی وجہ نہیں البتہ اگر وہاں تمہاری حاضری نہ ہوتی یا نعوذ باللہ اس کو قدرت نہ ہوتی تو عذاب واقع نہ ہوتا پس ایسی ایسی حالت میں ایمان اور توحید سے اعراض نہ کرنا چاہئے، آگے علم الہٰی کا اثبات ہے، اور ایسا علم وقدرت دونوں دلیل توحید ہیں) یاد رکھو وہ لوگ دوہرا کئے دیتے ہیں اپنے سینوں کو (اور اوپر سے کپڑا لپیٹ لیتے ہیں) تاکہ اپنی باتیں خدا سے چھپا سکیں (یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میں جو باتیں کرتے ہیں تو اس ہیئت سے کرتے ہیں تاکہ کسی کو خبر نہ ہوجاوے اور جس کو اعقاد ہوگا کہ خدا کو ضرور خبر ہوتی ہے اور آپ کا صاحب وحی ہونا دلائل سے ثابت ہے، پس وہ اخفاء کی ایسی تدبیر کبھی نہ کرے گا کیونکہ ایسی تدبیر کرنا گویا بدلالت حال اللہ سے پوشیدہ رہنے کی کوشش کرنا ہے سو) یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت (دوہرے ہوکر) اپنے کپڑے (اپنے اوپر) لپیٹتے ہیں وہ اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چپکے باتیں کرتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر باتیں کرتے ہیں (کیونکہ) بالیقین وہ (تو) دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے (تو زبان سے کہی ہوئی تو کیوں نہ جانے گا)۔
معارف و مسائل
سورة ہود ان سورتوں میں سے ہے جن میں پچھلی قوموں پر نازل ہونے والے قہر الہٰی اور مختلف قسم کے عذابوں کا اور پھر قیامت کے ہولناک واقعات اور جزاء و سزا کا ذکر خاص انداز میں آیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی ریش مبارک میں کچھ بال سفید ہوگئے تو حضرت صدیق اکبر نے بطور اظہار رنج کے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے، تو آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے سورة ھود نے بوڑھا کردیا، اور بعض روایات میں سورة ہود کے ساتھ سورة واقعہ اور مرسلات اور عم یتساءلون اور سورة تکویر کا بھی ذکر ہے۔ (رواہ الحاکم والترمذی) مطلب یہ تھا کہ ان واقعات کے خوف و دہشت کی وجہ سے بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے) اس کی پہلی آیت کو الر سے شروع کیا گیا ہے، یہ ان حروف میں سے ہیں جن کی مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان راز ہے دوسروں کو اس پر مطلع نہیں کیا گیا، ان کو اس کی فکر میں پڑنے سے بھی روکا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن مجید کے متعلق فرمایا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم بنایا گیا ہے، لفظ محکم احکام سے بنا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کلام کو ایسا درست کیا جائے جس میں کسی لفظی اور معنوی غلطی یا فساد کا احتمال نہ رہے، اس بناء پر آیات کے محکم بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ حق تعالیٰ نے ان آیات کو ایسا بنایا ہے کہ ان میں میں کسی لفظی غلطی یا معنوی فساد اور خلل یا باطل کا کوئی امکان و احتمال نہیں۔ (قرطبی)
اور حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ محکم اس جگہ منسوخ کے مقابلہ میں ہے اور مراد یہ ہے کہ اس کتاب یعنی قرآن کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے مجموعی حیثیت سے محکم غیر منسوخ بنایا ہے یعنی جس طرح پچھلی کتابیں تورات و انجیل وغیرہ نزول قرآن کے بعد منسوخ ہوگئیں، اس کتاب کے نازل ہونے کے بعد چونکہ سلسلہ نبوت و وحی ہی ختم ہوگیا اس لئے یہ کتاب تا قیامت منسوخ نہ ہوگی۔ (قرطبی) اور قرآن کی بعض آیات کا خود قرآن ہی کے ذریعہ منسوخ ہوجانا اس کے منافی نہیں۔
اسی آیت میں قرآن کی دوسری شان یہ بتلائی گئی ثُمَّ فُصِّلَتْ یعنی پھر ان آیات کی تفصیل کی گئی، تفصیل کے اصلی معنی یہ ہیں کہ دو چیزوں کے درمیان فصل و امتیاز کیا جائے، اسی لئے عام کتابوں میں مختلف مضامین کو فصل فصل کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، اس جگہ تفصیل آیات سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاق وغیرہ مضامین کی آیات کو جدا جدا کر کے واضح بیان فرمایا گیا ہے۔
اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں ہیں کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو بیک وقت پورا لوح محفوظ میں ثبت کردیا گیا تھا مگر پھر مختلف قوموں اور ملکوں کے حالات و ضروریات کے تحت بہت سی قسطوں میں تھوڑا نازل فرمایا گیا تاکہ اس کا حفظ بھی آسان ہو اور ان پر تدریجی عمل بھی سہل ہوجائے۔
اس کے بعد فرمایا (آیت) مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ، یعنی یہ سب آیات ایک ایسی ہستی کی طرف سے آئی ہیں جو حکیم بھی ہے اور باخبر ہے، ان کے سب حالات موجودہ و آئندہ کو جانتا ہے ان سب پر نظر کرکے احکام نازل فرماتا ہے، انسانوں کی طرح نہیں کہ وہ کتنے ہی عقلمند، ہوشیار، تجربہ کار ہوں مگر ان کی عقل و دانش ایک محددو دائرہ میں گھری ہوئی اور ان کا تجربہ صرف اپنے گرد و پیش کی پیداوار ہوتا ہے جو بسا اوقات آئندہ زمانہ اور آئندہ حالات میں ناکام و غلط ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 11:2دوسری آیت میں متذکرہ آیات کا بیان ایک سب سے اہم اور مقدم چیز سے شروع ہوتا ہے یعنی حق تعالیٰ کی توحید، ارشاد ہوتا ہے (آیت) اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ یعنی ان آیات میں جو مضامین بیان کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کی جائے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ، یعنی ان آیات میں رسول کریم ﷺ کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ سارے جہاں کے لوگوں سے کہہ دیں کہ میں اللہ کی طرف سے تم کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں، مراد یہ ہے کہ نافرمانی اور اپنی ناجائز خواہشات کا اتباع کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور اطاعت شعار نیک لوگوں کو آخرت کی نعمتوں اور دونوں عالم کی راحتوں کی خوشخبری دیتا ہوں۔
نذیر کا ترجمہ ڈرانے والے کا کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ ڈرانے والے دشمن یا درندے یا دوسرے نقصان پہنچانے والوں کے لئے نہیں بولا جاتا، بلکہ نذیر اس شخص کے لئے جو اس کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی اپنے عزیز کو شفقت و محبت کی بناء پر ایسی چیزوں سے ڈرائے اور بچائے جو اس کے لئے دنیا یا آخرت یا دونوں میں مضرت پہنچانے والی ہیں۔
Ayah 11:3تیسری آیت میں آیات قرآنی کی ہدایات میں سے ایک دوسری ہدایت کا بیان اس طرح فرمایا ہے (آیت) وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ، یعنی ان آیات محکمات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب سے مغفرت اور معافی مانگا کریں اور توبہ کیا کریں، مغفرت کا تعلق پچھلے گناہوں سے ہے اور توبہ کا تعلق آئندہ ان کے پاس نہ جانے کے عہد سے ہے، اور درحقیقت صحیح توبہ یہی ہے کہ پچھلے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے ان کی معافی طلب کرے اور آئندہ ان کے نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرے، اسی لئے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آئندہ کو گناہ سے بچنے کا پختہ عزم اور اہتمام کئے بغیر محض زبان سے استغفار کرنا کذابین یعنی جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے، (قرطبی) اور ایسے ہی استغفار کے متعلق بھی بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ
معصیت را خندہ می آیدز استغفار ما
یا یہ کہ ایسی توبہ خود قابل توبہ ہے۔
اس کے بعد صحیح طور پر استغفار و توبہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی فلاح اور عیش و راحت کی خوشخبری اس طرح دی گئی ہے، (آیت) يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، یعنی جن لوگوں نے صحیح طور پر اپنے پچھلے گناہوں سے استغفار کیا اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم اور پورا اہمتام کیا تو صرف یہی نہیں کہ ان کی خطا بخش دی جائے گی بلکہ ان کو اچھی زندگی عطا کی جائے گی، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ زندگی عام ہے دنیا کی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی دونوں کو شامل ہے، جیسے ایک دوسری آیت میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے (آیت) لَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً یعنی ہم ضرور ان کو پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اس آیت کے متعلق بھی جمہور مفسرین کی تحقیق یہی ہے کہ دنیا و آخرت کی دونوں زندگیاں اس میں شامل ہیں، سورة نوح میں اس کی تصریح بھی اس طرح آگئی ہے کہ استغفار کرنے والوں کے متعلق یہ فرمایا ہے (آیت) يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا، وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا، یعنی اگر تم نے صحیح طور سے اللہ سے مغفرت مانگی تو اللہ تعالیٰ تم پر باران رحمت نازل فرمائے گا اور تم کو مال و اولاد سے بامراد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں عطا فرمائے گا، ظاہر ہے کہ باران رحمت اور مال و اولاد کا تعلق اسی حیات دنیا سے ہے۔
اسی لئے آیت مذکور میں متاع حسن کی تفسیر بھی اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ استغفار و توبہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تم کو رزق کی وسعت اور عیش کی سہولتیں عطا فرمائے گا اور آفتوں اور عذابوں سے تمہاری حفاظت کرے گا، اور چونکہ حیات دنیا کا ایک روز ختم ہوجانا لازمی ہے اور اس کی عیش و راحت قانون قدرت کے تحت دائمی نہیں ہوسکتی، اس لئے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فرما کر ہدایت کردی کہ دنیا میں پاکیزہ زندگی اور عیش کی سہولتیں ایک خاص میعاد یعنی موت تک حاصل رہیں گی، آخرکار موت ان سب چیزوں کا خاتمہ کردے گی۔
مگر اس موت کے فوراً بعد ہی دوسرے عالم کی زندگی شروع ہوجائے گی اور اس میں بھی توبہ و استغفار کرنے والوں کے لئے دائمی راحتیں میسر ہوں گی۔
اور حضرت سہل بن عبداللہ نے فرمایا کہ متاع حسن سے مراد یہ ہے کہ انسان کی توجہ مخلوق سے ہٹ کر خالق پر جم جائے، اور بعض بزرگوں نے فرمایا کہ متاع حسن یہ ہے کہ انسان موجود پر قناعت کرے، مفقود کے غم میں نہ پڑے یعنی دنیا جس قدر میسر ہو اس پر مطمئن ہوجائے جو حاصل نہیں اس کے غم میں نہ پڑے۔
دوسری خوشخبری توبہ و استغفار کرنے والوں کو یہ دی گئی کہ (آیت) وَّيُؤ ْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ، اس میں پہلے فضل سے مراد انسان کا عمل صالح اور دوسری فضل سے فضل خداوندی یعنی جنت ہے، مطلب یہ ہے کہ ہر نیک عمل والے کو اللہ تعالیٰ اپنا فضل یعنی جنت عطا فرماویں گے۔
پہلے جملہ میں دنیا و آخرت دونوں میں متاع حسن یعنی اچھی زندگی کا وعدہ فرمایا ہے اور دوسرے جملہ میں جنت کی لازوال نعمتوں کا، آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ ، یعنی اگر اس نصیحت و خیر خواہی سے منہ موڑا اور پچھلے گناہوں سے استغفار اور آئندہ ان سے بچنے کا اہتمام نہ کیا تو یہ اندیشہ قوی ہے کہ تم ایک بڑے دن کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے، بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کیونکہ وہ اپنی وسعت کے اعتبار سے بھی ایک ہزار سال کا دن ہوگا اور اس میں پیش آنے والے حالات و واقعات کے اعتبار سے بھی وہ سب سے بڑا دن ہوگا۔
Ayah 11:4پانچویں آیت میں اسی مضمون کی مزید تا کید فرمائی گئی ہے کہ دنیا میں تم کچھ بھی کرو اور کسی طرح بھی بسر کرو مگر انجام کار مرنے کے بعد تمہیں خدا تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد تمہارے سب ذرات کو جمع کر کے تم کو ازسرنو انسان بنا کر کھڑا کردے۔
Ayah 11:5چھٹی آیت میں منافقین کے ایک گمان بد اور خیال فاسد کی تردید ہے کہ یہ لوگ اپنی عداوت اور رسول کریم ﷺ کی مخالفت کو اپنے نزدیک خوب چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے سینوں میں جو حسد و بغض کی آگ بھری ہوئی ہے اس پر ہر طرح کے پردے ڈالتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح ہمارا اصل حال کسی کو معلوم نہ ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کپڑوں کی تہ میں پردوں کے پیچھے جو کچھ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر سب کچھ روشن ہے اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ، کیونکہ وہ تو دلوں کے پوشیدہ اسرار کو بھی خوب جانتے ہیں۔
Ayah 11:6خلاصہ تفسیر
اور کوئی (رزق کھانے والا) جاندار روئے زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو (اور رزق رسانی کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے سو) وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے کی جگہ کو اور چند روز رہنے کی جگہ کو جانتا ہے (اور ہر ایک کو وہاں ہی رزق پہنچاتا ہے، اور گو سب چیزیں علم الہٰی میں تو ہیں ہی مگر اس کے ساتھ ہی) سب چیزیں کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (بھی منضبط و مندرج) میں (عرض واقعات ہر طرح محفوظ ہیں، آگے تخلیق کا مع اس کی بعض حکمتوں کے بیان ہے جس سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی بھی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ابتدائی تخلیق دلیل ہے اس پر کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے) اور وہ (اللہ) ایسا ہے کہ سب آسمان اور زمین کو چھ دن (کی مقدار) میں پیدا کیا اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا (کہ یہ دونوں چیزیں پہلے سے پیدا ہوچکی تھیں اور یہ پیدا کرنا اس لئے ہے) تاکہ تم کو آزماوے کہ (دیکھیں) تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے (مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا، تمہارے حوائج و منافع اس میں پیدا کئے تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور ان سے منتفع ہو کر منعم کا شکر اور خدمت کہ عبادت ہے عمل صالح سے، بجا لاؤ سو بعض نے ایسا کیا، بعض نے نہ کیا) اور اگر آپ (لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یقینا تم لوگ مرنے کے بعد (قیامت کے روز دوبارہ) زندہ کئے جاؤ گے تو (ان میں) جو لوگ کافر ہیں وہ (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ یہ تو نرا صاف جادو ہے (جادو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ باطل ہوتا ہے مگر مؤ ثر، اسی طرح قرآن کو نعوذ باللہ باطل سمجھتے تھے لیکن اس کے مضامین کا مؤ ثر ہونا بھی مشاہدہ کرتے تھے، اس مجموعہ پر یہ حکم کیا، نعوذ باللہ منہ۔ مقصود اس سے آخرت کا انکار تھا، آگے ان کے منشاء انکار کا جواب ارشاد ہے) اور اگر تھوڑے دنوں تک (مراد دنیوی زندگی ہے) ہم ان سے عذاب (موعود) کو ملتوی رکھتے ہیں (کہ اس میں حکمتیں ہیں) تو (بطور انکار و استہزاء کے) کہنے لگتے ہیں کہ (جب ہم تمہارے نزدیک مستحق عذاب ہیں تو) اس عذاب کو کون چیز روک رہی ہے (یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہوچکتا جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں، حق تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) یاد رکھو جس دن (وقت موعود پر) وہ (عذاب) ان پر آپڑے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس (عذاب) کے ساتھ یہ استہزاء کر رہے تھے وہ ان کو آگھیرے گا (مطلب یہ کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لئے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جاوے گی)۔
معارف و مسائل
پچھلی آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور دلوں کے چھپے ہوئے راز بھی مخفی نہیں، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس مناسبت سے انسان پر ایک عظیم الشان احسان کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ کہ اس کے رزق کی کفالت حق تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے لی اور نہ صرف انسان کی بلکہ زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی، وہ جہاں کہیں رہتا ہے یا چلا جاتا ہے اس کی روزی اس کے پاس پہنچتی ہے، تو کفار کے یہ ارادے کہ اپنے کسی کام کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیں جہالت اور بےوقوفی کے سوا کچھ نہیں، پھر اس کے عموم میں جنگل کے تمام درندے، پرندے اور حشرات الارض، دریا اور خشکی کے تمام جانور داخل ہیں اس عموم کی تاکید کے لئے لفظ من کا اضافہ کرکے وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فرمایا ہے دابہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے، پرندے جانور بھی اس میں داخل ہیں کیونکہ ان کا آشیانہ بھی کہیں زمین ہی پر ہوتا ہے، دریائی جانوروں کا بھی تعلق زمین سے ہونا کچھ مخفی نہیں، ان سب جانداروں کے رزق کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے کر ایسے الفاظ سے اس کو بیان کیا ہے جیسے کوئی فریضہ کسی کے ذمہ ہو، ارشاد فرمایا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا یعنی اللہ کے ذمہ ہے اس کا رزق، یہ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری حق تعالیٰ پر ڈالنے والی کوئی اور طاقت نہیں بجز اس کے کہ اسی نے اپنے فضل سے یہ وعدہ فرما لیا، مگر وعدہ ایک صادق کریم کا ہے جس میں خلاف ورزی کا کوئی امکان نہیں، اسی یقین کو ظاہر کرنے کے لئے اس جگہ لفظ علی لایا گیا ہے جو فرائض کے بیان کے لئے استعمال ہوتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نہ کسی حکم کا پا بند ہے نہ اس کے ذمہ کوئی چیز فرض یا واجب ہے، رزق لغت میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے جاندار اپنی غذا حاصل کرے اور جس کے ذریعہ اس کی روح کی بقاء اور جسم میں نما یعنی فربہی اور بڑھوتری ہوتی ہے۔
رزق کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس کا رزق ہے وہ اس کا مالک بھی ہو، کیونکہ تمام جانوروں کو رزق دیا جاتا ہے مگر وہ اس کے مالک نہیں ہوتے ان میں مالکیت کی صلاحیت ہی نہیں، اسی طرح چھوٹے بچے اپنے رزق کے مالک نہیں ہوتے مگر رزق ان کو ملتا ہے۔
رزق کے اس عام معنی کے اعتبار سے علماء نے فرمایا کہ رزق حلال بھی ہوسکتا ہے حرام بھی کیونکہ جو شخص کسی دوسرے کا مال ناجائز طور پر لے کر کھالے تو یہ مال غذا تو اس شخص کی بن گیا مگر حرام طور پر بنا، اگر یہ اپنی حرص میں اندھا ہو کر ناجائز طریقے استعمال نہ کرتا تو جو رزق اس کے لئے مقرر تھا وہ جائز طور پر اس کو ملتا۔
رزق کی خدائی ذمہ داری پر ایک سوال اور جواب
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے تو پھر ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں کہ بہت سے جانور اور انسان غذا نہ ملنے کے سبب بھوکے پیاسے مرجاتے ہیں، اس کے جواب علماء نے متعدد لکھے ہیں۔
ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رزق کی ذمہ داری اسی وقت تک ہے جب تک اس کی اجل مقدر یعنی عمر پوری نہیں ہوجاتی، جب یہ عمر پوری ہوگئی تو اس کو بہرحال مرنا ہے اور اس جہان سے گزرنا ہے جس کا عام سبب امراض ہوتے ہیں کبھی جلنا یا غرق ہونا یا چوٹ اور زخم بھی سبب ہوتا ہے، اسی طرح ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا رزق بند کردیا گیا، اس سے موت واقع ہوئی۔
امام قرطبی نے اس آیت کے تحت ابو موسیٰ اور ابو مالک وغیرہ قبیلہ اشعریین کا ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچے تو جو کچھ توشہ اور کھانے پینے کا سامان ان کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا، انہوں نے اپنا ایک آدمی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس غرض کے لئے بھیجا کہ ان کے کھانے وغیرہ کا کچھ انتظام فرما دیں، یہ شخص جب رسول کریم ﷺ کے دروازہ پر پہنچا تو اندر سے آواز آئی کہ رسول کریم ﷺ یہ آیت پڑھ رہے ہیں وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا اس شخص کو یہ آیت سن کر خیال آیا کہ جب اللہ نے سب جانداروں کا رزق اپنے ذمہ لے لیا ہے تو پھر ہم اشعری بھی اللہ کے نزدیک دوسرے جانوروں سے گئے گزرے نہیں وہ ضرور ہمیں بھی رزق دیں گے، یہ خیال کرکے وہیں سے واپس ہوگیا، آنحضرت ﷺ کو اپنا کچھ حال نہیں بتلایا، واپس جاکر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خوش ہوجاؤ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد آرہی ہے، اس کے اشعری ساتھیوں نے اس کا یہ مطلب سمجھا کہ ان کے قاصد نے حسب قرارداد رسول کریم ﷺ سے اپنی حاجت کا ذکر کیا ہے اور آپ نے انتظام کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے وہ یہ سمجھ کر مطمئن بیٹھ گئے، اور ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دیکھا کہ دو آدمی ایک (قصعہ) گوشت اور روٹیوں سے بھرا ہوا اٹھائے لا رہے ہیں، قصعہ ایک بڑا برتن ہوتا ہے جیسے تشلہ یا سینی، لانے والوں نے یہ کھانا اشعریین کو دے دیا، انہوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی بچ رہا تو ان لوگوں نے یہ مناسب سمجھا کہ باقی کھانا آنحضرت ﷺ کے پاس بھیج دیں تاکہ اس کو آپ اپنی ضرورت میں صرف فرمادیں، اپنے دو آدمیوں کو یہ کھانا دے کر آنحضرت ﷺ کے پاس بھیج دیا۔
اس کے بعد یہ سب حضرات آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تو کوئی کھانا نہیں بھیجا۔
تب انہوں نے پورا واقعہ عرض کیا کہ ہم نے اپنے فلاں آدمی کو آپ کے پاس بھیجا تھا، اس نے یہ جواب دیا، جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ نے کھانا بھیجا ہے، یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ میں نے نہیں بلکہ اس ذات قدوس نے بھیجا ہے جس نے ہر جاندار کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے۔
بعض روایات میں ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ ؑ آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچے اور وہاں آگ کے بجائے تجلیات الہٰی سامنے آئیں اور ان کو نبوت و رسالت عطا ہو کر فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لئے مصر جانے کا حکم ملا تو خیال آیا کہ میں اپنی زوجہ کو جنگل میں تنہا چھوڑ کر آیا ہوں اس کا کون متکفل ہوگا، اس خیال کی اصلاح کے لئے حق تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ سامنے پڑی ہوئی پتھر کی چٹان پر لکڑی ماریں، انہوں نے تعمیل حکم کی تو یہ چٹان پھٹ کر اس کے اندر سے ایک دوسرا پتھر برآمد ہوا، حکم ہوا اس پر بھی لکڑی ماریں، ایسا کیا تو وہ پتھر پھٹا اور اندر سے تیسرا پتھر برآمد ہوا، اس پر بھی لکڑی مارنے کا حکم ہوا تو یہ شق ہوا اور اندر سے ایک جانور برآمد ہوا جس کے منہ میں ہرا پتہ تھا۔
حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا یقین تو موسیٰ ؑ کو پہلے بھی تھا مگر مشاہدہ کا اثر کچھ اور ہی ہوتا ہے، یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ وہیں سے سیدھے مصر کو روانہ ہوگئے، زوجہ محترمہ کو یہ بتلانے بھی نہ گئے کہ مجھے مصر جانے کا حکم ہوا ہے، وہاں جارہا ہوں۔
ساری مخلوق کو رزق رسانی کا عجیب و غریب نظام قدرت
اس آیت میں حق تعالیٰ نے صرف اس پر اکتفا نہیں فرمایا کہ ہر جاندار کا رزق اپنے ذمہ لے لیا بلکہ انسان کے مزید اطمینان کے لئے فرمایا (آیت) وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا، اس آیت میں مُسْتَــقَرَّ اور مُسْـتَوْدَعَ کی مختلف تفسیریں منقول ہیں مگر لغت کے اعتبار سے وہ اقرب ہے جس کو کشاف نے اختیار کیا ہے کہ مستقر اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی شخص مستقل طور پر جائے قیام یا وطن بنالے اور مستودع اس جگہ کو جہاں عارضی طور پر کسی ضرورت کے لئے ٹھہرے۔
مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری کو دنیا کے لوگوں اور حکومتوں کی ذمہ داری پر قیاس نہ کرو، دنیا میں اگر کوئی شخص یا کوئی ادارہ آپ کے رزق کی ذمہ داری لے لے تو اتنا کام بہرحال آپ کو کرنا پڑے گا کہ اگر اپنی مقررہ جگہ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانا ہو تو اس فرد یا ادارہ کو اطلاع دیں کہ میں فلاں تاریخ سے فلاں تک فلاں شہر یا گاؤں میں رہوں گا، رزق کے وہاں پہنچنے پہنچانے کا انتظام کیا جائے، مگر حق تعالیٰ کی ذمہ داری میں آپ پر اس کا بھی کوئی بار نہیں کیونکہ وہ آپ کی ہر نقل و حرکت سے باخبر ہے، آپ کے مستقل جائے قیام کو بھی جانتا ہے اور عارضی اقامت کی جگہ سے بھی واقف، بغیر کسی درخواست اور نشان دہی کے آپ کا راشن وہاں منتقل کردیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت مطلقہ کے پیش نظر صرف اس کا ارادہ فرما لینا تمام کاموں کے سرانجام ہونے کے لئے کافی تھا کسی کتاب یا رجسٹر میں لکھنے لکھانے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر مسکین انسان جس نظام کا خوگر ہوتا ہے اس کو اس نظام پر قیاس کرکے بھول چوک کا کھٹکا ہوسکتا ہے اس لئے اس کے مزید اطمینان کے لئے فرمایا (آیت) كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ ، یعنی یہ سب کچھ ایک واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے، اس واضح کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں تمام کائنات کی روزی، عمر، عمل وغیرہ کی پوری تفصیلات لکھی ہوئی ہیں جو حسب موقع و ضرورت متعلقہ فرشتوں کے سپرد کردی جاتی ہیں۔
صحیح مسلم میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان اور زمین کی پیدائش سے بھی پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں۔
اور بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک طویل حدیث میں فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے انسان اپنی پیدائش سے پہلے مختلف دور سے گزرتا ہے، جب اس کے اعضاء کی تکمیل ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو حکم کرتے ہیں جو اس کے متعلق چار چیزیں لکھ لیتا ہے اول اس کا عمل جو کچھ وہ کرے گا، دوسرے اس کی عمر کے سال، مہینہ، دن اور منٹ اور سانس تک لکھ لئے جاتے ہیں، تیسرے اس کو کہاں مرنا اور کہاں دفن ہونا ہے، چوتھے اس کا رزق کتنا اور کس کس طریقے سے پہنچنا ہے، (اور لوح محفوظ میں آسمان زمین کی پیدائش سے بھی پہلے لکھا ہونا اس کے منافی نہیں)۔
Ayah 11:7دوسری آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت قاہرہ کا ایک اور مظہر ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ان چیزوں کے پیدا کرنے سے پہلے عرش رحمن پانی پر تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پیدا کیا گیا ہے اور آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے کی تفصیل سورة حم سجدہ کی آیت (11، 10) میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی دو دن میں زمین کے پہاڑ، دریا، درخت اور جانداروں کی غذا وبقاء کا سامان بنایا گیا، دو دن میں سات آسمان بنائے گئے۔
تفسیر مظہری میں ہے کہ آسمان سے مراد وہ تمام علویات ہیں جو اوپر کی سمت میں ہیں اور زمین سے مراد تمام سفلیات ہیں جو نیچے کی جہت میں ہیں، اور دن سے مراد وہ مقدار وقت ہے جو آسمان زمین کی پیدائش کے بعد آفتاب کے طلوع سے غروب تک ہوتا ہے اگرچہ آسمان زمین کی پیدائش کے وقت نہ آفتاب تھا نہ اس کا طلوع و غروب۔
حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ میں یہ بھی تھا کہ ان تمام چیزوں کو ایک آن میں پیدا فرما دیں مگر اس نے اپنی حکمت سے اس عالم کے نظام کو تدریجی بنایا ہے جو انسان کے مزاج کے مناسب ہے۔
آخر آیت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے کا مقصد یہ بتلایا ہے (آیت) لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، یعنی یہ سب چیزیں اس لئے پیدا کی گئیں کہ ہم تمہارا امتحان لیں کہ کون تم میں سے اچھا عمل کرنے والا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنا خود کوئی مقصد نہ تھا بلکہ ان کو عمل کرنے والے انسانوں کے لئے بنایا گیا ہے تاکہ وہ ان چیزوں سے اپنے معاش کا فائدہ بھی حاصل کریں اور ان میں غور کرکے اپنے مالک اور رب کو بھی پہچانیں۔
حاصل یہ ہوا کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اصل مقصود انسان ہے بلکہ انسان میں بھی اہل ایمان ہیں اور ان میں بھی وہ انسان جو سب سے اچھا عمل کرنے والا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ سارے بنی آدم میں سب سے اچھا عمل کرنے والے ہمارے رسول اللہ ﷺ ہیں، اس لئے یہ کہنا صحیح ہوا کہ تمام کائنات کے پیدا کرنے کا اصل مقصد رسول کریم ﷺ کا وجود باجود ہے۔ (مظہری)۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حق تعالیٰ نے اس جگہ اَحْسَنُ عَمَلًا فرمایا ہے، یعنی کون اچھا عمل کرنے والا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرنے والا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اعمال صالح نماز، روزہ، تلاوت و ذکر کی عملی کثرت اور بہت بڑی مقدار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نظر حسن عمل پر ہے، اسی حسن عمل کو ایک حدیث میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہو اور کوئی دنیوی غرض اس میں نہ ہو اور اس عمل کی صورت بھی وہ اختیار کی جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے، جس کو رسول کریم ﷺ نے اپنے عمل سے بتلایا اور امت کے لئے اتباع سنت کو لازم قرار دیا، خلاصہ یہ ہے کہ تھوڑا عمل جو پورے اخلاص کے ساتھ سنت کے مطابق ہو وہ اس زیادہ عمل سے بہتر جس میں یہ چیزیں نہ ہوں یا کم ہوں۔
Ayah 11:8ساتویں آیت میں منکرین قیامت و آخرت کا حال بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ جو بات ان کی سمجھ میں نہ آئے اس کو جادو کہہ کر ٹال دینا چاہتے ہیں۔
آٹھویں آیت میں ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو عذاب کی وعیدوں پر انبیاء (علیہم السلام) کا اعتبار نہ کرکے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کی وعید تھی وہ کیوں نہیں آجاتا۔
Ayahs 11:9–10خلاصہ تفسیر
اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزا چکھا کر اس سے چھین لیتے، ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہو کسی نعمت کا مزا چکھاویں تو (ایسا اتراتا ہے کہ) کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا (اب کبھی نہ ہوگا پس) وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر جو لوگ مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں (مراد اس سے مؤمنین ہیں کہ ان میں کم وبیش یہ خصائل ہوتے ہیں سو) وہ ایسے نہیں ہوتے (بلکہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطاء نعمت کے وقت شکر و اطاعت بجا لاتے ہیں پس) ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے (خلاصہ یہ ہے کہ بجز مؤمنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی دیر میں نڈر ہوجاویں ذرا سی دیر میں ناامید ہوجاویں اس لئے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے، یہ لوگ جو انکار و استہزاء سے پیش آتے ہیں) سو شاید آپ (تنگ ہوکر) ان احکام میں سے جو کہ آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں بعض کو (یعنی تبلیغ کو) چھوڑ دینا چاہتے ہیں (یعنی کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ تبلیغ ترک کردیں سو ظاہر ہے کہ ایسا ارادہ تو آپ کر نہیں سکتے پھر تنگ ہونے سے کیا فائدہ) اور آپ کا دل اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ (اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر کوئی خرانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا ان کے ہمراہ کوئی فرشتہ (جو ہم سے بھی بولتا چالتا) کیوں نہیں آیا (یعنی ایسے معجزات کیوں نہیں دیئے گئے سو ایسی باتوں سے آپ تنگ نہ ہوجئے کیونکہ) آپ تو (ان کفار کے اعتبار سے) صرف ڈرانے والے ہیں (یعنی پیغمبر ہیں جس کے لئے دراصل کسی بھی معجزے کی ضرورت نہیں) اور پورا اختیار رکھنے والا ہر شئے پر (تو) صرف اللہ ہی ہے (آپ نہیں ہیں، جب یہ بات ہے تو ان معجزات کا ظاہر کرنا آپ کے اختیار سے باہر ہے پھر اس کی فکر اور اس فکر سے تنگی کیوں ہو اور چونکہ پیغمبر کے لئے مطلق معجزہ کی ضرورت ہے اور آپ کا بڑا معجزہ قرآن ہے تو اس کو نہ ماننے کی کیا وجہ) کیا (اس کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ نے اس کو (اپنی طرف سے) خود بنا لیا ہے، آپ جواب میں فرما دیجئے کہ (اگر یہ میرا بنایا ہوا ہے) تو (اچھا) تم بھی اس جیسی دس سورتیں (جو تمہاری) بنائی ہوئی (ہوں) لے آؤ اور (اپنی مدد کے لئے) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو پھر یہ کفار اگر تم لوگوں کا (یعنی پیغمبر ﷺ اور مؤمنین کا یہ) کہنا (کہ اس کی مثل بنا لاؤ نہ کرسکیں تو تم (ان سے کہہ دو کہ اب تو) یقین کرلو کہ یہ قرآن اللہ ہی کے علم (اور قدرت) سے اترا ہے (اس میں اور کسی کے نہ علم کا دخل ہے اور نہ قدرت کا) اور یہ (بھی یقین کرلو) کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں (کیونکہ معبود خدائی کی صفات میں کامل ہوتا ہے پھر اگر اور کوئی ہوتا تو اس کو قدرت بھی پوری ہوتی اور اس قدرت سے وہ تم لوگوں کی مدد کرتا کہ تم اس کی مثل لے آتے کیونکہ موقع تحقیق دین کا اس کو مقتضی تھا پس اس کے مثل بنانے سے ان کے عاجز ہونے سے رسالت اور توحید دونوں ثابت ہوگئے جب دونوں ثابت ہوگئے) تو اب بھی مسلمان ہوتے ہو (یا نہیں)۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی تصدیق اور اس میں شبہات نکالنے والوں کا جواب مذکور ہے، اور اس کے شروع یعنی پہلی تین آیتوں میں انسان کی ایک طبعی عادت قبیحہ کا ذکر اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی ہدایت ہے۔
پہلی دو آیتوں میں فطری طور پر انسان کا غیر مستقل مزاج، جلدی پسند ہونا اور موجودہ حالت میں کھپ کر ماضی و مستقبل کو بھلا دینا بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے کہ اگر ہم انسان کو کوئی نعمت چکھاتے ہیں اور پھر اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ بڑا ہمت ہار، ناامید اور ناشکرا بن جاتا ہے، اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پیش آئی ہو کسی نعمت کا مزا چکھا دیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا اور وہ اترانے اور شیخی بگھارنے لگتا ہے۔
مطلب یہ کہ انسان فطرتا عاجل پسند اور موجودہ حالت کو سب کچھ سمجھنے کا عادی ہوتا ہے اگلے پچھلے حالات و واقعات میں غور و فکر اور ان کو یاد رکھنے کا خوگر نہیں ہوتا اسی لئے نعمت کے بعد تکلیف آجائے تو رحمت سے ناامید ہو کر ناشکری کرنے لگتا ہے، یہ خیال نہیں کرتا کہ جس ذات حق نے پہلے نعمت دی تھی وہ پھر بھی دے سکتا ہے، اسی طرح اگر اس کو تکلیف و مصیبت کے بعد کوئی راحت و نعمت مل جائے تو بجائے اس کے کہ پچھلی حالت میں غور کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا اس کا شکر کرتا، اور زیادہ اکڑنے اترانے لگتا ہے، اور پچھلی حالت کو بھول کر یوں سمجھنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو میرا حق ہے مجھے ملنا ہی چاہئے اور میں ہمیشہ اسی طرح رہوں گا، غافل یہ خیال نہیں کرتا کہ جس طرح پہلی حالت باقی نہیں رہی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ نعمت و راحت کی حالت بھی باقی نہ رہے۔
چنان نماند چنین نیزہم نخواہد ماند
انسان کی موجود پرستی اور ماضی و مستقبل کو بھول جانے کا یہ عالم ہے کہ ایک صاحب اقتدار کے خاک و خون پر دوسرا شخص اپنے اقتدار کی بنیاد استوار کرتا ہے اور کبھی نیچے کی طرف نظر نہیں کرتا کہ اس سے پہلا صاحب اقتدار بھی اسی طرح رہا کرتا تھا، اس کے انجام سے بیخبر ہو کر نشہ اقتدار کے مزے لیتا ہے۔
اسی موجود پرستی اور حال مستی کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور رسول آتے ہیں جو انسان کو ماضی کے عبرتناک واقعات یاد دلا کر مستقبل کی فکر سامنے کرد یتے ہیں اور یہ سبق سکھاتے ہیں کہ کائنات کے بدلتے ہوئے حالات و تغیرات میں غور کرو کہ کونسی طاقت ان کے پردے میں کام کر رہی ہے، بقول حضرت شیخ الہند
انقلابات جہاں واعظ رب ہیں دیکھو ہر تغیر سے صدا آتی ہے فافہم، فافہم
مؤ من کامل بلکہ انسان کامل وہی ہے جو ہر تغیر و انقلاب اور ہر رنج و راحت میں دست قدرت کی مستور طاقت کا مشاہدہ کرے، آنی فانی راحت و رنج اور اس کے صرف مادی اسباب پر دل نہ لگائے عقلمند کا کام یہ ہے کہ اسباب سے زیادہ مسبب الاسباب کی طرف نظر کرے، اسی سے اپنا رشتہ مضبوط باندھے۔
Ayah 11:11تیسری آیت میں ایسے ہی کامل انسانوں کی عام انسانی فطرت سے مستثنی اور ممتاز کرنے کے لئے فرمایا ہے (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ، یعنی اس عام انسانی کمزوری سے وہ لوگ مستثنی ہیں جن میں دو صفتیں پائی جائیں، ایک صبر، دوسرے علم صالح۔
لفظ صبر عربی زبان میں اردو محاورہ سے بہت عام معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اصلی معنی لفظ صبر کے باندھنے اور روکنے کے ہیں، قرآن و سنت کی اصطلاح میں نفس کو اس کی ناجائز خواہشات سے روکنے کا نام صبر ہے، اس لئے مفہوم صبر میں تمام گناہوں اور خلاف شرع کاموں سے پرہیز آگیا، اور عمل صالح میں تمام فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات آگئے، معنی یہ ہوگئے کہ اس عام انسانی کمزوری سے وہ لوگ بچے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور حساب قیامت کے خوف کی وجہ سے ہر ایسی چیز سے پرہیز کرتے رہیں گے جو اللہ و رسول کو ناپسند ہے اور ہر ایسے عمل کی طرف دوڑیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ خوش ہوں۔
اسی آیت کے آخر میں ان کامل انسانوں کا صلہ اور جزاء بھی یہ بتلائی گئی ہے کہ (آیت) اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ، یعنی ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کی خطائیں بخشی جائیں گی اور ان کے نیک عمل کا بہت بڑا بدلہ ان کو ملے گا۔
اس جگہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دنیا کی نعمت اور کلفت دونوں کے بارے میں قرآن کریم نے اَذَقْنَا یعنی چکھانے کا لفظ استعمال کرکے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ اصل نعمت اور کلفت آخرت کی ہے، دنیا میں نہ راحت مکمل ہے نہ کلفت بلکہ چکھنے اور نمونہ کے درجہ میں ہے تاکہ انسان کو آخرت کی نعمتوں اور تکلیفوں کا کچھ اندازہ ہوسکے، اس لئے بھی دنیا کی نہ راحت کچھ زیادہ خوش ہونے کی چیز ہے نہ مصیبت کچھ زیادہ غم کرنے کی، اگر غور کرو تو آج کل کی اصطلاح میں یہ ساری دنیا آخرت کا شو روم ہے جس میں راحت و کلفت کے صرف نمونے رکھے ہیں۔
Ayah 11:12چوتھی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، واقعہ یہ تھا کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کے سامنے مختلف قسم کی فرمائشیں پیش کیں ایک یہ کہ اس قرآن میں ہمارے بتوں کو برا کہا گیا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان نہیں لاسکتے، اس لئے یا تو آپ کوئی دوسرا قرآن لائیں یا اسی میں بدل کر ترمیم کردیں، ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْهُ (بغوی، مظہری)
دوسرے یہ کہ ہم آپ کے رسول ہونے پر جب یقین کریں کہ یا تو دنیا کے بادشاہوں کی طرح آپ پر کوئی خزانہ نازل ہوجائے جس سے سب کو بخشش کریں، یا پھر کوئی فرشتہ آسمان سے آجائے وہ آپ کے ساتھ یہ تصدیق کرتا پھرے کہ بیشک یہ اللہ کے رسول ہیں۔
رسول کریم ﷺ ان کی لغو و بیہودہ فرمائشوں سے دل تنگ ہوئے، کیونکہ رحمۃ للعالمین سے یہ بھی ممکن نہ تھا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، ان کے ایمان لانے کی فکر کو دل سے نکال دیں، اور نہ یہ ممکن تھا کہ ان کی بےہودہ فرمائشوں کو پورا کریں، کیونکہ اول تو یہ فرمائشیں نری بےعقلی پر مبنی ہیں، بت اور بت پرستی اور دوسری بری چیزوں کو برا نہ کہا جائے تو ہدایت کیسے ہو اور خزانہ کا نبوت کے ساتھ کیا جوڑ، ان لوگوں نے نبوت کو بادشاہت پر قیاس کرلیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ دستور نہیں کہ ایسی حالت پیدا کردیں کہ لوگ ایمان لانے پر مادی طور سے مجبور ہوجائیں، ورنہ سارا جہاں اس کے قبضہ قدرت میں ہے کسی کی کیا مجال تھی کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی عقیدہ یا عمل رکھ سکتا، مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ سے اس دنیا کو دار الامتحان بنایا ہے، یہاں کسی نیکی پر عمل یا بدی سے پرہیز پر مادی اسباب کے ذریعہ کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا البتہ آسمانی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ نیک و بد اور اچھے برے کا امتیاز اور ان کے نتائج بتلا کر نیکی پر عمل اور بدی سے پرہیز پر آمادہ کیا جاتا ہے، اگر رسول کے ساتھ معجزانہ طور پر کوئی فرشتہ اس کے قول کی تصدیق کے لئے مامور ہوتا اور جب کوئی نہ مانتا تو اسی وقت اس کو نقد عذاب کا سامنا ہوتا تو یہ ایمان پر مجبور کرنے کی ایک صورت ہوتی نہ اس میں ایمان بالغیب رہتا جو ایمان کی اصل روح ہے اور نہ انسان کا اپنا کوئی اختیار رہتا جو اس کے عمل کی روح ہے اور علاوہ اس کے کہ ان کی فرمائشیں لغو اور بےہودہ تھیں، آنحضرت ﷺ سے اس طرح کی فرمائشیں کرنا خود اس کی دلیل تھی کہ یہ لوگ رسول و نبی کی حقیقت کو نہیں پہچانتے، رسول اور خدا میں کوئی فرق نہیں کرتے، رسول کو خدا تعالیٰ کی طرح قادر مطلق سمجھتے ہیں اسی لئے اس سے ایسے کاموں کی فرمائش کرتے ہیں جو اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔
غرض رسول کریم ﷺ ان کی ایسی فرمائشوں سے سخت دلگیر اور دل تنگ ہوگئے تو آپ کی تسلی اور ان کے خیالات کی اصلاح کے لئے یہ آیت نازل ہوئی، جس میں پہلے آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا گیا کہ کیا آپ ان کے کہنے سے مجبور ہو کر اللہ کے بھیجے ہوئے قرآن کا کوئی حصہ چھوڑ دیں گے جس سے یہ لوگ ناخوش ہوتے ہیں، مثلا جس میں بتوں کی مجبوری و بےکسی اور کسی چیز پر قادر نہ ہونے کا بیان ہے، اور کیا آپ ان کی ایسی فرمائشوں سے دل تنگ ہوجائیں گے، یہاں لفظ لَعَلَّكَ سے اس مضمون کو تعبیر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع آپ کے بارے میں ایسا گمان ہوسکتا تھا، بلکہ مقصود آپ کا ان چیزوں سے بری ہونا بیان کرنا ہے کہ آپ نہ قرآن کا کوئی حصہ ان کی رعایت سے چھوڑ سکتے ہیں اور نہ آپ کو ان کی فرمائشوں سے دل تنگی ہونی چاہئے، کیونکہ آپ تو اللہ کی طرف سے نذیر یعنی ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں اور سب کاموں کو سرانجام دینا تو اللہ ہی کی قدرت میں ہے، ڈرانے والے کی تخصیص مخاطب کی خصوصیت کی وجہ سے کی گئی کیونکہ یہ کافر تو ڈرانے ہی کے مستحق ہیں ورنہ رسول کریم ﷺ جیسے نذیر یعنی ڈرانے والے ہیں ایسے ہی بشیر یعنی نیک لوگوں کو خوشخبری سنانے والے بھی ہیں، اس کے علاوہ نذیر درحقیقت اس ڈرانے والے کو کہتے ہیں جو شفقت و محبت کی بنا پر خراب اور مضر چیزوں سے ڈرائے، اس لئے نذیر کے مفہوم میں بشیر کا مفہوم بھی ایک حیثیت سے شامل ہے۔
Ayah 11:13آیات مذکورہ میں مشرکین کی طرف سے خاص قسم کے معجزات کا مطالبہ تھا، اگلی آیتوں میں ان کو اس بات سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ قرآن ایک ایسا معجزہ تمہارے سامنے آچکا ہے جس کے معجزہ ہونے کا تم بھی انکار نہیں کرسکتے، تو اگر یہ معجزات کا مطالبہ نیک نیتی سے رسول کی سچی حقانیت معلوم کرنے کے لئے ہے تو وہ پورا ہوچکا اور اگر محض عناد کے لئے ہے تو اگر تمہارے مطلوبہ معجزات بھی دکھلا دیئے جائیں تو اہل عناد سے کیا توقع ہے کہ ان کو دیکھ کر بھی وہ اسلام قبول کریں گے، بہرحال قرآن کریم کا واضح معجزہ ہونا ناقابل انکار ہے۔
اس پر مشرکین و کفار کی طرف سے جو غلط شبہات پیدا کئے گئے ان کی تردید اگلی دو آیتوں میں اس طرح کی گئی ہے کہ یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ قرآن کو خود آنحضرت ﷺ نے بنا لیا ہے اللہ کا کلام نہیں۔
اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تمہارا ایسا ہی خیال ہے کہ محمد ﷺ ایسا قرآن خود بنا سکتے ہیں تو تم بھی اس جیسی صرف دس سورتیں ہی بنا کر دکھلا دو ، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ دس سورتیں کوئی ایک ہی آدمی بنائے بلکہ دنیا جہان کے لوگ سب مل کر بھی بنا لائیں، اور جب وہ دس سورتیں بنانے سے بھی عاجز ہوں تو آپ فرما دیجئے کہ اب تو حقیقت واضح ہوگئی کیونکہ اگر یہ قرآن کسی انسان کا کلام ہوتا تو دوسرے انسان بھی اس جیسا کلام بنا سکتے، اور سب کا عاجز ہونا اس کی قوی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے جس میں کسی ادنی کمی بیشی کی گنجائش نہیں اور انسانی طاقت سے برتر ہے۔
قرآن کریم نے اس جگہ دس سورتیں مقابلہ میں بنا کر لانے کا ارشاد فرمایا ہے اور دوسری ایک آیت میں یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ ایک ہی سورت اس جیسی بنا لاؤ ؟
Ayah 11:14وجہ یہ ہے کہ پہلے دس سورتیں بنانے کا حکم دیا گیا، جب وہ اس سے عاجز ہوگئے تو پھر ان کے عاجز ہونے کو اور زیادہ واضح کرنے کے لئے سورة بقرہ کی آیت میں فرمایا کہ اگر تم قرآن کو کسی انسان کلام سمجھتے ہو تو تم بھی زیادہ نہیں صرف ایک ہی سورت اس جیسی بنا لاؤ مگر وہ قرآن کریم کی اس تحدی اور ان کے لئے انتہائی آسانی کردینے کے باوجود کچھ نہ کرسکے تو قرآن کریم کا معجزہ ہونا اور بلا شبہ اللہ کا کلام ہونا ثابت ہوگیا، اسی لئے آخر میں فرمایا (آیت) فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یعنی کیا تم اب بھی مسلمان اور اطاعت گزار بنو گے، یا اسی خواب غفلت میں رہو گے۔