Ayah 11:69خلاصہ تفسیر
اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے (بشکل بشر) ابراہیم ؑ کے پاس (ان کے فرزند اسحاق ؑ کی) بشارت لے کر آئے (گو مقصود اعظم ان کے آنے کا قوم لوط پر عذاب واقع کرنا تھا، لقولہ تعالیٰ فما خطبکم الج) اور (آنے کے وقت) انہوں نے سلام کیا، ابراہیم ؑ نے بھی سلام کیا (پہچانا نہیں کہ یہ فرشتے معمولی مہمان سمجھے) پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک تلا ہوا (فربہ لقولہ تعالیٰ سمین) بچھڑا لائے (اور ان کے سامنے رکھ دیا، یہ تو فرشتے تھے کیوں کھانے لگے تھے) سو جب ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کھانے تک نہیں بڑھتے تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں خوف زدہ ہوئے (کہ یہ مہمان تو نہیں کوئی مخالف نہ ہوں کہ بارادہ فاسد آئے ہوں اور میں گھر میں ہوں احباب و اصحاب پاس نہیں یہاں تک کہ بےتکلفی سے اس کو زبان سے بھی ظاہر کردیا لقولہ تعالیٰ (آیت) قال انا منکم وجلون) وہ فرشتے کہنے لگے ڈرو مت (ہم آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں آپ کے پاس بشارت لے کر آئے ہیں کہ آپ کے ایک فرزند پیدا ہوگا اسحاق اور اس کے پیچھے ایک فرزند ہوگا یعقوب، اور بشارت اس لئے کہا کہ اول تو اولاد خوشی کی چیز ہے، پھر ابراہیم ؑ بوڑھے ہوگئے تھے بی بی بھی بہت بوڑھی تھیں امید اولاد کی نہ رہی تھی، آپ نے نور نبوت سے توجہ کرکے پہچان لیا کہ واقعی فرشتے ہیں، لیکن فراست نبوت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا اور بھی کسی بڑے کام کے لئے آئے ہیں اس لئے اس کی تعیین کے ساتھ سوال کیا (آیت) فما خطبکم یعنی کس کام کے لئے آئے ہیں ؟ اس وقت انہوں نے کہا کہ) ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ ان کو سزا کفر میں ہلاک کریں، ان میں تو یہ گفتگو ہو رہی تھی) اور ابراہیم ؑ کی بی بی (حضرت سارہ کہیں) کھڑی (سن رہی) تھیں پس (اولاد کی خبر سن کر جس کی ان کو بعد اس کے کہ اسماعیل ؑ بطن ہاجرہ سے تولد ہوئے تمنا بھی تھی، خوشی سے) ہنسیں (اور بولتی پکارتی آئیں اور تعجب سے ماتھے پر ہاتھ مارا، لقولہ تعالیٰ (آیت) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا) سو ہم نے (یعنی ہمارے فرشتوں نے) ان کو (مکرر) بشارت دی اسحاق (کے پیدا ہونے) کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی (جو کہ اسحاق کے فرزند ہوں گے جس سے معلوم ہوگیا کہ تمہارے ہاں فرزند ہوگا اور زندہ رہے گا یہاں تک کہ وہ بھی صاحب اولاد ہوگا، اس وقت) کہنے لگیں کہ ہائے خاک پڑے اب میں بچہ جنوں گی بڑھیا ہو کر اور یہ میرے میاں (بیٹھے) ہیں باکل بوڑھے، واقعی یہ بھی عجیب بات ہے، فرشتوں نے کہا کہ کیا (خاندان نبوت میں رہ کر اور ہمیشہ معجزات و معاملات عجیبہ کی (خاص) تم خدا کے کاموں میں تعجب کرتی ہو (اور خصوصاً) اس خاندان کے لوگوں پر تو اللہ تعالیٰ کی (خاص) رحمت اور اس کی (انواع و اقسام کی برکتیں (نازل ہوتی رہتی) ہیں بیشک وہ (اللہ تعالیٰ) تعریف کے لائق (اور بڑی شان والا ہے (وہ بڑے سے بڑا کام کرسکتا ہے، پس بجائے تعجب کے اس کی تعریف اور شکر میں مشغول ہو)۔
معارف و مسائل
ان پانچ آتیوں میں حضرت خلیل اللہ ابراہیم (علیہم السلام) کا ایک واقعہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں کو ان کے پاس اولاد کی بشارت دینے کے لئے بھیجا کیونکہ ابراہیم ؑ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ سے کوئی اولاد نہ تھی اور ان کو اولاد کی تمنا تھی مگر دونوں کا بڑھاپا تھا بظاہر کوئی امید نہ تھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ خوشخبری بھیجی اور وہ بھی اس شان کی کہ نرینہ اولاد ہوگی اور ان کا نام بھی اسحاق تجویز فرما دیا اور پھر یہ بھی بتلا دیا کہ وہ زندہ رہیں گے اور وہ بھی صاحب اولاد ہوں گے ان کے لڑکے کا نام یعقوب ہوگا اور دونوں اللہ تعالیٰ کے رسول و پیغمبر ہوں گے، یہ فرشتے چونکہ بشکل انسانی آئے تھے اس لئے ابراہیم ؑ نے ان کو عام مہمان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی، بھونا ہوا گوشت لا کر سامنے رکھا، مگر وہ تو حقیقتہ فرشتے تھے کھانے پینے سے پاک، اس لئے کھانا سامنے ہونے کے باوجود اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، ابراہیم ؑ کو یہ دیکھ کر اندیشہ لاحق ہوا کہ یہ مہمان نہیں معلوم ہوتے ممکن ہے کسی فساد کی نیت سے آئے ہوں، فرشتوں نے ان کا یہ اندیشہ معلوم کر کے بات کھول دی اور بتلا دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں آپ گھبرائیں نہیں، ہم آپ کو اولاد کی بشارت دینے کے علاوہ ایک اور کام کے لئے بھی بھیجے گئے ہیں کہ قوم لوط پر عذاب نازل کریں، حضرت ابراہیم ؑ کی زوجہ، محترمہ حضرت سارہ پس پردہ یہ گفتگو سن رہی تھیں، جب معلوم ہوگیا کہ یہ انسان نہیں فرشتے ہیں تو پردہ کی ضرورت نہ رہی، بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری سن کر ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ کیا میں بڑھیا ہو کر اولاد جنوں گی، اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں، فرشتوں نے جواب دیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کرتی ہو جس کی قدرت میں سب کچھ ہے، خصوصاً تم خاندان نبوت میں رہ کر اس کا مشاہدہ بھی کرتی رہتی ہو کہ اس خاندان پر اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی رحمت و برکت نازل ہوتی رہتی ہے جو اکثر سلسلہ اسباب ظاہری سے بالاتر ہوتی ہے پھر تعجب کی کیا بات ہے۔ یہ اس واقعہ کا خلاصہ ہے آگے آیات مذکورہ کی پوری تفصیل دیکھئے، پہلی آیت میں بتلایا ہے کہ یہ فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس کوئی خوشخبری لے کر آئے تھے اس خوشخبری کا ذکر آگے تیسری آیت میں ہے فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ یہ تین فرشتے، جبریل، میکائیل اور اسرافیل تھے (قرطبی) انہوں نے بشکل انسان آکر ابراہیم ؑ کو سلام کیا، حضرت ابراہیم ؑ نے سلام کا جواب دیا اور ان کو انسان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی۔
حضرت ابراہیم ؑ پہلے وہ انسان ہیں جنہوں نے دنیا میں مہان نوازی کی رسم جاری فرمائی (قرطبی) ان کا معمول یہ تھا کہ کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے بلکہ ہر کھانے کے وقت تلاش کرتے تھے کہ کوئی مہمان آجائے تو اس کے ساتھ کھائیں۔
قرطبی نے بعض اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم ؑ نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے ؟ ابراہیم ؑ نے اس کو دسترخوان سے اٹھا دیا، جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو اس کو کفر کے باوجود ساری عمر اس کو رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا، یہ سنتے ہی ابراہیم ؑ اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا، اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاؤں گا۔
حضرت ابراہیم ؑ نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ گیا اور مومن ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی عادت مہمان نوازی کے مطابق بشکل انسان آنے والے فرشتوں کو انسان اور مہمان سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی اور فوراً ہی ایک تلا ہوا بچھڑا سامنے لا کر رکھ دیا۔
دوسری آیت میں بتلایا گیا کہ آنے والے فرشتے اگرچہ بشکل انسانی آئے تھے اور یہ بھی ممکن تھا کہ اس وقت ان کو بشری خواص کھانے پینے کے بھی عطا کردیئے جاتے مگر حکمت اسی میں تھی کہ یہ کھانا نہ کھائیں تاکہ ان کے فرشتے ہونے کا راز کھلے اس لئے شکل انسانی میں بھی ان کے ملکی خواص کو باقی رکھا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے کھانے پر ہاتھ نہ بڑھایا۔
بعض روایات میں ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے ان کی نوک اس تلے ہوئے گوشت میں لگانے لگے ان کے اس عمل سے حضرت ابراہیم ؑ کو اپنے عرف کے مطابق یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ شاید یہ کوئی دشمن ہوں کیونکہ ان کے عرف میں کسی مہمان کا کھانے سے انکار کرنا ایسے ہی شر و فساد کی علامت ہوتا تھا۔ (قرطبی) فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں اس لئے نہیں کھاتے، آپ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔
احکام و مسائل
آیات مذکورہ میں معاشرت سے متعلق بہت سے احکام اور اہم ہدایات آئی ہیں جن کو امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں تفصیل سے لکھا ہے۔
سنت سلام
(آیت) قَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ، اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے سنت ہے کہ جب آپس میں ملیں تو سلام کریں، آنے والے مہمان کو اس میں پیش قدمی کرنا چاہئے اور دوسروں کو جواب دینا چاہئے۔
یہ تو ہر قوم و ملت میں پائی جاتی ہے کہ ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو خوش کرنے کیلئے کچھ کلمات بولتے ہیں مگر اسلام کی تعلیم اس معاملہ میں بھی بےنظیر اور بہترین ہے کیونکہ سلام کا مسنون لفظ السلام علیکم اللہ کے نام پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ذکر اللہ بھی ہے اور مخاطب کے لئے اللہ تعالیٰ سے سلامتی کی دعا بھی اور اپنی طرف سے اس کی جان و مال و آبرو کیلئے سلامتی کی ضمانت بھی۔
قرآن کریم میں اس جگہ فرشتوں کی طرف سے صرف سَلٰمًا اور حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے جواب میں سَلٰمٌ ذکر کیا گیا ہے بظاہر یہاں پورے الفاظ سلام کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ سمجھی، جیسے عرف و محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ فلاں نے فلاں کو سلام کیا، مراد یہ ہوتی ہے کہ پورا کلمہ السلام علیکم کہا، اسی طرح یہاں لفظ سلام سے پورا کلمہ مسنونہ سلام کا مراد ہے جو رسول کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے لوگوں کو بتلایا ہے، یعنی ابتداء سلام میں السلام علیکم اور جواب سلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔
مہمانی اور مہمان داری کے چند اصول
(آیت) فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ ، یعنی نہیں ٹھہرے ابراہیم ؑ مگر صرف اس قدر کہ لے آئے تلا ہوا بچھڑا۔
اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ مہمان نوازی کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے آتے ہی جو کچھ کھانے پینے کی چیز میسر ہو اور جلدی سے مہیا ہوسکے وہ لا رکھے، پھر اگر صاحب وسعت ہے تو مزید مہمانی کا انتظام بعد میں کرے (قرطبی)
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مہمان کے لئے بہت زیادہ تکلفات کی فکر میں نہ پڑے، آسانی سے جو اچھی چیز میسر ہوجائے وہ مہمان کی خدمت میں پیش کردے، حضرت ابراہیم کے یہاں گائے بیل رہتے تھے، اس لئے بچھڑا ذبح کرکے فوری طور پر اس کا گوشت تل کر سامنے لا رکھا (قرطبی)۔
تیسرے یہ کہ آنے والوں کی مہمانی کرنا آداب اسلام اور مکارم اخلاق میں سے ہے، انبیاء و صلحاء کی عادت ہے، اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ مہمانی کرنا واجب ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء اس پر ہیں کہ واجب نہیں، سنت اور مستحسن ہے۔ بعض نے فرمایا کہ گاؤں والوں پر واجب ہے کہ جو شخص ان کے گاؤں میں ٹھہرے اس کی مہمانی کریں کیونکہ وہاں کھانے کا کوئی دوسرا انتظام نہیں ہوسکتا اور شہر میں ہوٹل وغیرہ سے اس کا انتظام ہوسکتا ہے، اس لئے شہر والوں پر واجب نہیں (قرطبی) نے اپنی تفسیر میں یہ مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔
Ayahs 11:70–73(آیت) فَلَمَّا رَآٰ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ ، یعنی جب دیکھا ابراہیم ؑ نے کہ ان کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچتے تو متوحش ہوگئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کے آداب میں سے یہ ہے کہ مہمان کے سامنے جو چیز پیش کی جائے اس کو قبول کرے، (کھانے کو دل نہ چاہے یا مضر سمجھیں تو معمولی سی شرکت دلجوئی کے لئے کرلیں)۔
اسی جملہ سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ میزبان کو چاہئے کہ صرف کھانا سامنے رکھ کر فارغ نہ ہوجائے بلکہ اس پر نظر رکھے کہ مہمان کھا رہا ہے یا نہیں، جیسا ابراہیم ؑ نے کیا کہ فرشتوں کے کھانا نہ کھانے کو محسوس کیا۔
مگر یہ نظر رکھنا اس طرح ہو کہ مہمان کے کھانے کو تکتا نہ رہے، سرسری نظر سے دیکھ لے کیونکہ مہمان کے لقموں کو دیکھنا آداب ضیافت کے خلاف اور مدعو کے لئے باعث شرمندگی ہوتا ہے جیسا ہشام بن عبدالملک کے دسترخوان پر ایک روز ایک اعرابی کو یہ واقعہ پیش آیا کہ اعرابی کے لقمہ میں بال تھا، امیر المومنین ہشام نے دیکھا تو بتلایا، اعرابی فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ ہم ایسے شخص کے پاس کھانا نہیں کھاتے جو ہمارے لقموں کو دیکھتا ہے۔
امام طبری نے اس جگہ نقل کیا ہے اول جب فرشتوں نے کھانے سے انکار کیا تو یہ کہا تھا کہ ہم مفت کا کھانا نہیں کھاتے اگر آپ قیمت لے لیں تو کھائیں گے، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب میں فرمایا کہ ہاں اس کھانے کی ایک قیمت ہے وہ ادا کردو، وہ قیمت یہ ہے کہ شروع میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اس کی حمد کرو، جبریل امین نے یہ سن کر اپنے ساتھیوں کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو خلیل بنایا ہے یہ اسی کے مستحق ہیں۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ کھانے کے شروع میں بسم اللہ اور آخر میں الحمد للہ کہنا سنت ہے۔
Ayahs 11:74–77خلاصہ تفسیر
پھر جب ابراہیم ؑ کا وہ خوف زائل ہوگیا (جب فرشتوں نے لَا تَخَفْ کہا اور ان کا فرشتہ ہونا معلوم ہوگیا) اور ان کو خوشی کی خبر ملی (کہ اولاد پیدا ہوگی) تو (ادھر سے بےفکر ہو کر دوسری طرف متوجہ ہوئے کہ قوم لوط ہلاک کی جاوے گی اور) ہم سے لوط ؑ کی قوم کے بارے میں (سفارش جو باعتبار مبالغہ و اصرار کے صورۃً) جدال (تھا) کرنا شروع کیا (جس کی تفصیل دوسری آیت میں ہے کہ وہاں تو لوط ؑ بھی موجود ہیں اس لئے عذاب نہ بھیجا جاوے کہ ان کو گزند پہنچے گا، مطلب یہ ہوگا کہ اس بہانہ سے قوم بچ جاوے جیسا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ سے ظا ہرا معلوم ہوتا ہے اور شاید ابراہیم ؑ کو ان کے مومن ہونے کی امید ہو) واقعی ابراہیم بڑے حلیم الطبع رحیم المزاج رقیق القلب تھے (اس لئے سفارش میں مبالغہ کیا، ارشاد ہوا کہ) اے ابراہیم (گو بہانہ لوط ؑ کا ہے مگر اصلی مطلب معلوم ہوگیا کہ قوم کی سفارش ہے سو) اس بات کو جانے دو (یہ ایمان نہ لاویں گے اسی لئے) تمہارے رب کا حکم (اس کے متعلق) آچکا ہے اور (اس کے سبب سے) ان پر ضرور ایسا عذاب آنے والا ہے جو کسی طرح ہٹنے والا نہیں (اس لئے اس باب میں کچھ کہنا سننا بیکار ہے، رہا لوط ؑ کا وہاں ہونا سو ان کو اور سب ایمان والوں کو وہاں سے علیحدہ کردیا جاوے گا اس کے بعد عذاب آوے گا تاکہ ان کو گزند نہ پہنچے چناچہ اس پر بات ختم ہوگئی) اور (ابراہیم ؑ کے پاس سے فارغ ہوکر) جب ہمارے وہ فرشتے لوط ؑ کے پاس آئے تو لوط ؑ ان کے (آنے کی) وجہ سے (اس لئے) مغموم ہوئے (کہ وہ بہت حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور لوط ؑ نے ان کو آدمی سمجھا اور اپنی قوم کی نامعقول حرکت کا خیال آیا) اور (اس وجہ سے) ان کے (آنے کے) سبب بہت تنگدل ہوئے (اور غایت تنگدلی سے) کہنے لگے کہ آج کا دن بہت بھاری ہے (کہ ان کی تو ایسی صورتیں اور قوم کی یہ حرکتیں (اور میں تن تنہا، دیکھئے کیا ہوتا ہے ؟) اور ان کی قوم (نے جو یہ خبر سنی تو) ان کے (یعنی لوط ؑ کے) پاس دوڑے ہوئے آئے اور پہلے سے نامعقول حرکتیں کیا ہی کرتے تھے (اسی خیال سے اب بھی آئے) لوط ؑ بڑے گھبرائے اور براہ تملق) فرمانے لگے کہ اے میری قوم یہ میری (بہو) بیٹیاں (جو تمہارے گھروں میں ہیں) موجود ہیں وہ تمہارے (نفس کی کامرانی کے) لئے (اچھی) خاصی ہیں سو (اَمردوں پر نگاہ کرنے کے باب میں) اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھ کو فضیحت مت کرو (یعنی ان مہمانوں کو کچھ کہنا مجھ کو شرمندہ اور رسوا کرنا ہے اگر ان کی رعایت نہیں کرتے کہ مسافر ہیں تو میرا خیال کرو کہ تم میں رہتا سہتا ہوں، افسوس اور تعجب ہے) کیا تم میں کوئی بھی (معقول آدمی اور) بھلا مانس نہیں (کہ اس بات کو سمجھے اور اوروں کو سمجھائے) وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم کو آپ کی ان (بہو) بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں (کیونکہ عورتوں سے ہم کو رغبت ہی نہیں) اور آپ کو تو معلوم ہے (یہاں آنے سے) جو ہمارا مطلب ہے، لوط ؑ نہایت عاجز اور زچ ہو کر) فرمانے لگے کیا خوب ہوتا اگر میرا تم پر کچھ زور چلتا (کہ خود تمہارے شر کو دفع کرتا) یا کسی مضبوط پایہ کی پناہ پکڑتا (مراد یہ کہ میرا کوئی کنبہ قبلیہ ہوتا کہ میری مدد کرتا، لوط ؑ کا جو اس قدر اضطراب دیکھا تو) فرشتے کہنے لگے اے لوط (ہم آدمی نہیں جو آپ اس قدر گھبراتے ہیں) ہم تو آپ کے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں (تو ہمارا تو کیا کرسکتے ہیں اور آپ اپنے لئے بھی اندیشہ نہ کریں) آپ تک (بھی) ہرگز ان کی رسائی نہیں ہوگی (کہ آپ کو کچھ تکلیف پہنچا سکیں اور ہم ان پر عذاب نازل کرنے آئے ہیں) سو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر (یہاں سے باہر) چلے جائیے اور تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھے (یعنی سب جلدی چلے جائیں) ہاں مگر آپ کی بیوی (بوجہ مسلمان نہ ہونے کے نہ جاوے گی اس پر بھی وہی آفت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آوے گی (اور ہم رات کے وقت نکل جانے کو اس لئے کہتے ہیں کہ) ان کے (عذاب کے) وعدہ کا وقت صبح کا وقت ہے (لوط ؑ بہت دق ہوگئے تھے فرمانے لگے کہ جو کچھ ہو ابھی ہوجاوے کذا فی الدر المنثور، فرشتوں نے کہا) کیا صبح کا وقت قریب نہیں (غرض لوط ؑ شبا شب دور نکل گئے اور صبح ہوئی اور عذاب کا سامان شروع ہوا) سو جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) آپہنچا تو ہم نے اس زمین (کو الٹ کر اس) کا اوپر کا تختہ تو نیچے کردیا (اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا) اور اس سر زمین پر کھنگر کے پتھر (مراد جھانوہ جو پک کر مثل پتھر کے ہوجاتا ہے) برسانا شروع کئے جو لگاتار گر رہے تھے جن پر آپ کے رب کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشان بھی تھا (جس سے اور پتھروں سے وہ پتھر ممتاز تھے) اور (اہل مکہ کو چاہئے کہ اس قصہ سے عبرت پکڑیں کیونکہ) یہ بستیاں (قوم لوط کی) ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں (ہمیشہ شام کو آتے جاتے ان کی بربادی کے آثار دیکھتے ہیں پس ان کو اللہ اور رسول کی مخالفت سے ڈرنا چاہئے)۔
معارف و مسائل
سورة ہود میں اکثر انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کے حالات اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کی بناء پر مختلف قسم کے آسمانی عذابوں کا بیان آیا ہے، آیات مذکورہ میں حضرت لوط ؑ اور ان کی قوم کا حال اور قوم لوط پر عذاب شدید کا بیان ہے۔
حضرت لوط ؑ کی قوم کافر ہونے کے علاوہ ایک ایسی خبیث بدکاری اور بیحیائی میں مبتلا تھی جو دنیا میں کبھی پہلے نہ پائی گئی تھی جس سے جنگل کے جانور بھی نفرت کرتے ہیں کہ مرد مرد کے ساتھ منہ کالا کرے جس کا وبال و عذاب عام بدکاری سے بدرجہا زیادہ ہے، اسی لئے اس قوم پر ایسا شدید عذاب آیا جو عام بےحیائی اور بدکاری کرنے والوں پر کبھی نہیں آیا۔
حضرت لوط ؑ کا واقعہ جو ان آیات میں مذکور ہے اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چند فرشتے جن میں جبریل امین بھی شامل تھے اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے، جو پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے یہاں فلسطین پہنچے جس کا واقعہ پچھلی آیات میں بیان ہوچکا ہے، اس کے بعد حضرت لوط ؑ کے پاس آئے جن کا مقام وہاں سے دس بارہ میل کے فاصلہ پر تھا اللہ تعالیٰ شانہ جس قوم کو عذاب میں پکڑتے ہیں اس پر ان کے عمل کے مناسب ہی عذاب مسلط فرماتے ہیں، اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ کے یہ فرشتے حسین لڑکوں کی شکل میں بھیجے گئے جب وہ حضرت لوط ؑ کے گھر پہنچے تو ان کو بشکل انسانی دیکھ کر انہوں نے بھی مہمان سمجھا اور اس وقت وہ سخت فکر و غم میں مبتلا ہوگئے کہ مہمانوں کی مہمانی نہ کی جائے تو یہ شان پیغمبری کے خلاف ہے اور اگر ان کو مہمان بنایا جاتا ہے تو اپنی قوم کی خباثت معلوم ہے، اس کا خطرہ ہے کہ وہ مکان پر چڑھ آئیں اور ان مہمانوں کو اذیت پہنچائیں اور وہ ان کی مدافعت نہ کرسکیں، اور دل میں کہنے لگے کہ آج بڑی سخت مصیبت کا دن ہے۔
اللہ جل شانہ نے اس عالم کو عجیب عبرت کی جگہ بنایا ہے جس میں اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے بیشمار مظاہر ہوتے ہیں، آزر بت پرست کے گھر میں اپنا خلیل حضرت ابراہیم ؑ پیدا کردیا، حضرت لوط ؑ جیسے مقبول و برگزیدہ پیغمبر کے گھر میں ان کی بیوی کافروں سے ملتی اور حضرت لوط ؑ کی مخالفت کرتی تھی، جب یہ محترم مہمان حسین لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط ؑ کے گھر میں مقیم ہوگئے تو ان کی بیوی نے ان کی قوم کے اوباش لوگوں کو خبر کردی کہ آج ہمارے گھر میں اس طرح کے مہمان آئے ہیں (قرطبی و مظہری)
Ayahs 11:78–79حضرت لوط ؑ کا سابقہ اندیشہ سامنے آگیا، جس کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) وَجَاۗءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ ، یعنی آگئی ان کے پاس ان کی قوم دوڑی ہوئی، اور وہ پہلے سے نامعقول حرکتیں کیا ہی کرتے تھے۔
اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ اپنے خبیث عمل کی نحوست سے اس قدر بےحیاء ہوچکے تھے کہ علانیہ حضرت لوط ؑ کے مکان پر چڑھ دوڑے۔
حضرت لوط ؑ نے جب دیکھا کہ ان کی مدافعت مشکل ہے تو ان کو شر سے باز رکھنے کے لئے فرمایا کہ تم اس شر و فساد سے باز آجاؤ تو میں اپنی لڑکیاں تمہارے سرداروں کے نکاح میں دیدوں گا، اس زمانہ میں مسلمان لڑکی کا نکاح کافر سے جائز تھا، اور حضور ﷺ کے ابتدائی زمانہ تک یہی حکم جاری تھا اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کا نکاح عتبة بن ابی لہب اور ابو العاص بن بیع سے کردیا تھا حالانکہ یہ دونوں کفر پر تھے، بعد میں وہ آیات نازل ہوئی جن میں مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد سے حرام قرار پایا (قرطبی)۔
اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ اپنی لڑکیوں سے مراد اپنی پوری قوم کی لڑکیاں ہیں کیونکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کیلئے مثل باپ کے ہوتا ہے اور پوری امت اس کی روحانی اولاد ہوتی ہے جیسا کہ آیت کریمہ (آیت) اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤ ْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ ، کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قراءت میں وھو اب لھم کے الفاظ بھی آئے ہیں، جس میں رسول کریم ﷺ کو اپنی تمام امت کا باپ قرار دیا ہے، اس تفسیر کے مطابق حضرت لوط ؑ کے اس قول کا مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنی خبیث عادت سے باز آؤ شرافت کے ساتھ قوم کی لڑکیوں سے نکاح کرو، ان کو بیبیاں بناؤ۔
پھر لوط ؑ نے ان کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے فرمایا فاتَّقُوا اللّٰهَ اور پھر عاجزانہ درخواست کی (آیت) وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ یعنی مجھ کو میرے مہمانوں کے متعلق رسوا نہ کرو، جو میری فریاد سنے۔
مگر وہاں شرافت و انسانیت کا کوئی اثر کسی میں باقی نہ تھا، سب نے جواب میں کہا (آیت) لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ ، یعنی آپ جانتے ہیں کہ ہمیں آپ کی لڑکیوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ آپ کو معلوم ہے۔
Ayah 11:80اس وقت ہر طرح سے عاجز ہو کر لوط ؑ کی زبان پر یہ کلمہ آیا (آیت) لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ ، یعنی کاش مجھ میں اتنی قوت ہوتی کہ میں میں اس پوری قوم کا خود مقابلہ کرسکتا یا پھر کوئی جتھہ اور جماعت ہوتی جو مجھے ان ظالموں کے ہاتھ سے نجات دلاتی۔
فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کا یہ اضطراب دیکھ کر بات کھول دی اور کہا کہ گھبرائیے نہیں آپ کی جماعت بڑی قوی اور مضبوط ہے، ہم اللہ کے فر شتے ہیں ان کے قابو میں آنے والے نہیں ان پر عذاب واقع کرنے کے لئے آئے ہیں۔
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط پر رحم فرماویں وہ کسی مضبوط جماعت کی پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، اور ترمذی میں اس کے ساتھ یہ جملہ بھی ہے کہ حضرت لوط ؑ کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کا کنبہ قبیلہ اس کا حمایتی نہ ہو (قرطبی) خود رسول کریم ﷺ کے متعلق کفار قریش نے ہزار طرح کی تدبیریں کیں لیکن آپ کے پورے خاندان نے آپ کی حمایت کی، اگرچہ مذہب میں وہ سب آپ کے موافق نہ تھے، اسی وجہ سے پورے بنی ہاشم اس مقاطعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک رہے جس میں کفار قریش نے ان پر دانا پانی بند کردیا تھا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ اس واقعہ میں جب قوم لوط ان کے گھر پر چڑھ آئی تو لوط ؑ نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا تھا اور یہ گفتگو اس شریر قوم سے پس پردہ ہو رہی تھی فرشتے بھی مکان کے اندر تھے ان لوگوں نے دیوار پھاند کر اندر گھسنے کا اور دروازہ توڑنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت لوط ؑ کی زبان پر یہ کلمات آئے، جب فرشتوں نے حضرت لوط ؑ کا یہ اضطراب دیکھا تو حقیقت کھول دی اور کہہ دیا کہ آپ دروازہ کھول دیں، اب ہم ان کو عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں، دروازہ کھولا تو جبرئیل امین نے اپنے پَر کا اشارہ ان کی آنکھوں کی طرف کیا جس سے سب اندھے ہوگئے اور بھاگنے لگے۔
Ayahs 11:81–82اس وقت فرشتوں نے بحکم ربانی حضرت لوط ؑ کو کہا (آیت) فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ ، یعنی آپ رات کے آخری حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لے کر یہاں سے نکل جائے۔ اور یہ ہدایت کردیجئے کہ ان میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، بجز آپ کی بیوی کے کیونکہ اس پر تو وہی عذاب پڑنے والا ہے جو قوم پر پڑے گا۔
اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ آپ کے اہل میں داخل ہو کر ساتھ چلے گی مگر وہ آپ کے اس حکم پر عمل نہ کرے گی جو آپ اپنے اہل عیال کو دیں گے کہ کوئی مڑ کر نہ دیکھے، بعض روایات میں ہے کہ یونہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی مگر جب قوم پر عذاب آنے کا دھماکہ سنا تو پیچھے مڑ کر دیکھا اور قوم کی تباہی پر اظہا افسوس کرنے لگی، اسی وقت ایک پتھر آیا جس نے اس کا بھی خاتمہ کردیا۔ (قرطبی و مظہری)۔
فرشتوں نے یہ بھی بتلا دیا کہ (آیت) اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ، یعنی ان پر صبح ہوتے ہی عذاب آجائے گا حضرت لوط ؑ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اور بھی جلد عذاب آجائے، اس پر فرشتوں نے کہا (آیت) اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ ، یعنی صبح تو کچھ دور نہیں ہوا چاہتی ہے۔
پھر اس عذاب کا واقعہ قرآن نے اس طرح بیان فرمایا کہ جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے ان بستیوں کے اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور ان پر ایسے پتھر برسائے جن پر ہر ایک کے نام کی علامت لگی ہوئی تھی۔
روایات میں ہے کہ یہ چار بڑے بڑے شہر تھے جن میں یہ لوگ بستے تھے، انہیں بستیوں کو قرآن کریم میں دوسری جگہ، مؤ تفکات کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تو جبرئل امین نے اپنا پَر ان سب شہروں کی زمین کے نیچے پہنچا کر سب کو اس طرح اوپر اٹھا لیا کہ ہر چیز اپنی جگہ رہی، پانی کے برتن سے پانی بھی نہیں گرا، آسمان کی طرف سے کتوں اور جانوروں اور انسانوں کی آوازیں آرہی تھیں ان سب بستیوں کو آسمان کی طرف سیدھا اٹھانے کے بعد اوندھا کرکے پلٹ دیا، جو ان کے عمل خبیث کے مناسب حال تھا۔
Ayah 11:83آخر آیت میں قوم لوط کا عذاب ذکر کرنے کے بعد موجودہ اقوام دنیا کو متنبہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ ، یعنی پتھراؤ کا عذاب آج بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں، جو لوگ اس قوم کی طرح ظلم و بےحیائی پر جمے رہیں وہ اپنے آپ کو اس عذاب سے دور نہ سمجھیں آج بھی یہ عذاب آسکتا ہے، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں بھی کچھ لوگ وہ عمل کریں گے جو قوم لوط کرتی تھی، جب ایسا ہونے لگے تو انتظار کرو کہ ان پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم لوط پر آیا ہے۔
Ayah 11:84خلاصہ تفسیر
اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ اے میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں (یہ حکم تو دیانات و عقائد کے متعلق ان کے مناسب حال تھا) اور (دوسرا حکم معاملات کے متعلق ان کے مناسب یہ فرمایا کہ) تم ناپ تول میں کمی مت کیا کرو (کیونکہ) میں تم کو فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں (پھر تم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے اور حقیقۃً تو کسی کو بھی ضروت نہیں ہوتی) اور (علاوہ اس کے کہ ناپ تول میں کمی نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تقاضا ہے خود خوف ضرر بھی اس کو مقتضی ہے کیونکہ اس میں) مجھ کو تم پر اندیشہ ہے ایسے دن کے عذاب کا جو انواع عذاب کا جامع ہوگا اور (ہرچند کہ کمی نہ کرنا مستلزم ہے پورا کرنے کو مگر تاکید کے لئے اس کی ممانعت کے بعد اس امر کی تصریح بھی فرمائی کہ) اے میری قوم تم ناپ اور تول پوری پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کا ان چیزوں میں نقصان مت کیا کرو (جیسا تمہاری عادت ہے) اور (شرک اور لوگوں کے حقوق میں کمی کر کے) زمین میں فساد کرتے ہوئے حد (توحید و عدل) سے مت نکلو (لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے بعد) اللہ کا دیا ہوا جو کچھ (حلال مال) بچ جاوے وہ تمہارے لئے (اس حرام کمائی سے) بدرجہا بہتر ہے (کیونکہ حرام میں گو وہ کثیر ہو برکت نہیں اور انجام اس کا جہنم ہے اور حلال میں گو وہ قلیل ہو برکت ہوتی ہے اور انجام اس کا رضائے حق ہے) اگر تم کو یقین آوے (تو مان لو) اور (اگر یقین نہ آوے تو تم جانو) میں تمہارا پہرہ دینے والا تو ہوں نہیں (کہ تم سے جبرًا یہ افعال چھڑا دوں جیسا کہ کرو گے بھگتو گے) وہ لوگ (یہ تمام مواعظ و نصائح سن کر) کہنے لگے اے شعیب ! کیا تمہارا (مصنوعی اور وہمی) تقدس تم کو (ایسی ایسی باتوں کی) تعلیم کر رہا ہے کہ (تم ہم سے کہتے ہو کہ) ہم ان چیزوں (کی پرستش) کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں اور اس بات کو چھوڑ دیں کہ ہم اپنے مال میں جو چاہیں تصرف کریں واقعی آپ بڑے عقلمند دین پر چلنے والے ہیں (یعنی جن باتوں سے ہم کو منع کرتے ہو دونوں میں سے کوئی برا نہیں کیونکہ ایک کی دلیل تو نقلی ہے کہ ہمارے بڑوں سے بت پرستی ہوتی آئی ہے، دوسرے کی دلیل عقلی ہے کہ اپنا مال ہے اس میں ہر طرح کا اختیار ہے پس ہم کو منع نہ کرنا چاہئے، اور حلیم رشید تمسخر سے کہا، جیسا بد دینوں کی عادت ہوتی ہے دین داروں کے ساتھ تمسخر کرنے کی اور ان کی نقلی و عقلی دونوں دلیلوں کا فساد بدیہی ہے) شعیب ؑ نے فرمایا اے میری قوم (تم جو مجھ سے چاہتے ہو کہ میں توحید و عدل کی نصیحت نہ کروں تو) بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں (جس سے توحید و عدل ثابت ہے) اور اس نے مجھ کو اپنی طرف سے ایک عمدہ دولت (یعنی نبوت) دی ہو (جس سے مجھ پر تبلیغ ان احکام کی واجب ہو، یعنی توحید و عدل کا حق ہونا بھی ثابت اور ان کی تبلیغ بھی واجب) تو پھر کیسے تبلیغ نہ کروں اور میں (جس طرح ان باتوں کی تم کو تعلیم کرتا ہوں خود بھی تو اس پر عمل کرتا ہوں) یہ نہیں چاہتا ہوں کہ تمہارے برخلاف خود اور راہ پر چلوں، مطلب یہ ہے کہ میری نصیحت محض خیر خواہی دلسوزی سے ہے جس کا قرینہ ہے کہ میں وہی باتیں بتلاتا ہوں جو اپنے نفس کے لئے بھی پسند کرتا ہوں غرض) میں تو اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے امکان میں ہے اور مجھ کو جو کچھ (عمل و اصلاح کی) توفیق ہوجاتی ہے صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے (ورنہ کیا میں اور کیا میرا ارادہ) اسی پر میں بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف (تمام امور میں) رجوع کرتا ہوں (خلاصہ یہ کہ توحید و عدل کے وجوب پر دلائل بھی قائم، اور بامر خداوندی اس کی تبلیغ، اور ناصح ایسا دلسوز اور مصلح، پھر بھی نہیں مانتے بلکہ الٹی مجھ سے امید رکھتے ہو کہ میں کہنا چھوڑ دوں چونکہ اس تقریر میں دلسوزی اور اصلاح کی اپنی طرف نسبت کی ہے، اس لئے مَا تَوْفِيْقِيْٓ فرما دیا، یہاں تک تو ان کے قول کا جواب ہوگیا، آگے ترہیب و ترغیب فرماتے ہیں) اور اے میری قوم میری ضد (اور عداوت) تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہوجاوے کہ تم پر بھی اسی طرح کی مصیبتیں آپڑیں جیسے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑی تھیں اور (اگر ان قوموں کا قصہ پرانا ہوچکا ہے اور اس لئے اس سے متاثر نہیں ہوتے تو) قوم لوط تو (ابھی) تم سے (بہت) دور (زمانہ میں) نہیں ہوئی (یعنی ان قوموں کی نسبت ان کا زمانہ نزدیک ہے، یہ تو ترہیب کا مضمون ہوگیا، آگے ترغیب ہے) اور تم اپنے رب سے اپنے گناہ (یعنی شرک و ظلم) معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ کیونکہ ایمان سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، گو حقوق ادا کرنے پڑیں) پھر (اطاعت عبادت کے ساتھ) اس کی طرف متوجہ ہو بلا شک میرا رب بڑا مہربان بڑی محبت والا ہے (وہ گناہ کو معاف کردیتا ہے اور اطاعت کو قبول کرتا ہے) وہ لوگ (یہ لاجواب دل آویز تقریر سن کر جواب معقول سے عاجز ہو کر براہ جہالت) کہنے لگے کہ شعیب ! بہت سی باتیں تمہاری کہی ہوئی ہماری سمجھ میں نہیں آئیں (یہ بات یا تو اس وجہ سے کہی ہو کہ اچھی طرح توجہ سے آپ کی باتیں نہ سنی ہوں یا تحقیراً کہا ہو کہ نعوذ باللہ یہ ہذیان ہے سمجھنے کے قابل نہیں، چناچہ بد دینوں سے یہ سب امور واقع ہوتے ہیں) اور ہم تم کو اپنے (مجمع) میں کمزور دیکھ رہے ہیں اور اگر تمہارے خاندان کا (کہ ہمارے ہم مذہب ہیں ہم کو) پاس نہ ہوتا تو ہم تم کو (کبھی کا) سنگسار کرچکے ہوتے اور ہماری نظر میں تمہاری کچھ توقیر ہی نہیں (لیکن جس کا لحاظ ہوتا ہے اس کے سبب اس کے رشتہ دار کی بھی رعایت ہوتی ہے، مطلب ان کا یہ تھا کہ تم ہم کو یہ مضامین مت سناؤ ورنہ تمہاری جان کا خطرہ ہے، پہلے تمسخر کے طور پر تبلیغ سے روکا تھا، اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ الخ اور اب دھمکی دے کر روکا) شعیب ؑ نے (جواب میں) فرمایا اے میری قوم (افسوس اور تعجب ہے کہ میری جو نسبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے کہ میں اس کا نبی ہوں وہ تو میرے ہلاک سے مانع نہ ہوئی اور جو میری نسبت خاندان کے ساتھ ہے کہ ان کا رشتہ دار ہوں وہ اس سے میرا خاندان تمہارے نزدیک (نعوذ باللہ) اللہ سے بھی زیادہ باتوقیر ہے (کہ خاندان کا تو پاس کیا) اور اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) تم نے پس پشت ڈال دیا (یعنی اس کا پاس نہ کیا، سو اس کا خمیازہ عنقریب بھگتو گے کیونکہ) یقینا میرا رب تمہارے سب اعمال کو (اپنے علم میں) احاطہ کئے ہوئے ہے اور اے میری قوم (اگر تم کو عذاب کا بھی یقین نہیں آتا تو اخیر بات یہ ہے کہ تم جانو بہتر ہے) ہم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں (سو) اب جلدی تم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور وہ کون شخص ہے جو جھوٹا تھا (یعنی تم مجھ کو دعوی نبوت میں جھوٹا کہتے ہو اور حقیر سمجھتے ہو تو اب معلوم ہوجاوے گا کہ جرم کذب کا مرتکب اور سزائے ذلت کا مستوجب کون تھا تم یا میں) اور تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں (کہ دیکھیں عذاب کا وقوع ہوتا ہے جیسا میں کہتا ہوں یا عدم وقوع جیسا تمہارا گمان ہے، غرض ایک زمانہ کے بعد عذاب کا سامان شروع ہوا) اور جب ہمارا حکم (عذاب کیلئے) آپہنچا (تو) ہم نے (اس عذاب سے) شعیب ؑ کو اور جو ان کی ہمراہی میں اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت (خا ص) سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک سخت آواز نے (کہ نعرہ جبریل تھا) آپکڑا سو اپنے گھروں کے اندر اوندھے گرے رہ گئے (اور مرگئے) جیسے کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے، خوب سن لو (اور عبرت پکڑو) مدین کو رحمت سے دوری ہوئی جیسا ثمود رحمت سے دور ہوئے تھے۔
معارف و مسائل
مذکور الصدر آیات میں حضرت شعیب ؑ اور ان کی قوم کا واقعہ مذکور ہے ان کی قوم کفر و شرک کے علاوہ ناپ تول میں کمی بھی کرتی تھی، حضرت شعیب ؑ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع کیا اور اس کے خلاف کرنے پر عذاب الہٰی سے ڈرایا مگر یہ اپنے انکار اور سرکشی پر قائم رہے تو پوری قوم ایک سخت عذاب کے ذریعہ ہلاک کردی گئی۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔
(آیت) وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا، یعنی ہم نے بھیجا مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو۔
مدین اصل میں ایک شہر کا نام تھا جس کو مدین بن ابراہیم نے بسایا تھا اس کا محل وقوع ملک شام کے موجودہ مقام " معان " کو بتلایا جاتا ہے، اس شہر کے با شندوں کو بھی بجائے اہل مدین کے مدین کہہ دیا جاتا ہے، شعیب ؑ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں جو اسی قوم مدین میں سے ہیں اسی لئے ان کو مدین کا بھائی فرما کر اس نعمت کی طرف اشارہ کردیا کہ اس قوم کے رسول کو اللہ تعالیٰ نے اسی قوم سے بنایا تاکہ ان سے مانوس ہو کر ان کی ہدایات کو بآسانی قبول کرسکیں۔
(آیت) قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ۔ اس میں حضرت شعیب ؑ نے پہلے تو اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی کیونکہ یہ لوگ مشرک تھے، درختوں کی پوجا پاٹ کیا کرتے تھے، جس کو قرآن میں لفظ ایکہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی کی نسبت سے اہل مدین کو اصحب الایکہ کا بھی لقب دیا گیا ہے، اس کفر و شرک کے ساتھ ان میں ایک اور عیب و گناہ نہایت سخت یہ تھا کہ بیو پار اور لین دین کے وقت ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں کا حق مار لیتے تھے، حضرت شعیب ؑ نے ان کو اس سے منع فرمایا۔
فائدہ
یہاں یہ بات خاص طور سے قابل غور ہے کہ کفر و شرک سب گناہوں کی جڑ ہے جو قوم اس میں مبتلا ہے اس کو پہلے ایمان ہی کی دعوت دی جاتی ہے، ایمان سے پہلے دوسرے معاملات اور اعمال پر توجہ نہیں دی جاتی، دنیا میں ان کی نجات یا عذاب بھی اسی ایمان و کفر کی بنیاد پر ہوتا ہے، تمام انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے واقعات جو قرآن میں مذکور ہیں اسی طرز عمل کے شاہد ہیں، صرف دو قومیں ایسی ہیں جن پر عذاب نازل ہونے میں کفر کے ساتھ ان کے اعمال خبیثہ کو بھی دخل رہا ہے، ایک لوط ؑ کی قوم، جس کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے کہ ان پر جو عذاب پوری بستی الٹ دینے کا واقع ہوا اس کا سبب ان کے عمل خبیث کو بتلایا گیا ہے، دوسری قوم شعیب ؑ کی ہے جن کے عذاب کا سبب کفر و شرک کے علاوہ ناپ تول میں کمی کرنے کو بھی قرار دیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب گناہوں سے زیادہ مبغوض اور شدید ہیں، بظاہر وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں کام ایسے ہیں کہ پوری نسل انسانی کو اس سے شدید نقصان پہنچا ہے اور پورے عالم میں اس سے فساد عظیم پھیل جاتا ہے۔
حضرت شعیب ؑ نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے کے خبیث عمل سے روکنے کیلئے پیغمبر کے ساتھ اول تو یہ فرمایا
(آیت) اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ ، یعنی میں تمہیں اس وقت خوشحالی میں دیکھتا ہوں، کوئی فقر و فاقہ اور مالی تنگی نہیں جس کی وجہ سے اس بلاء میں مبتلا ہو، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر اس کو مقتضی ہے کہ تم اس کی مخلوق پر ظلم نہ کرو، اور پھر یہ بھی بتلا دیا کہ اگر تم نے میری بات نہ سنی اور اس عمل خبیث سے باز نہ آئے تو مجھے خطرہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب تمہیں گھیر لے، اس عذاب سے آخرت کا عذاب بھی مراد ہوسکتا ہے اور دنیا کا بھی، پھر دنیا کے عذاب بھی مختلف قسم کے آسکتے ہیں، ادنی عذاب یہ ہے کہ تمہاری یہ خوشحالی ختم ہوجائے اور تم قحط اور گرانی اشیاء میں مبتلا ہوجاؤ، جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قحط اور گرانی اشیاء کے عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں۔
Ayah 11:85اور اگرچہ ناپ تول کی کمی کو منع کرنے سے پورا ناپنا تولنا خود ہی ضروری ہوجاتا ہے لیکن مزید تاکید کے لئے شعیب ؑ نے فرمایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَان بالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ ، یعنی اے میری قوم تم ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کی چیزوں کو کم نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو، پھر ان کو شفقت کے ساتھ سمجھایا۔
Ayah 11:86(آیت) بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ ڬ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ ، یعنی لوگوں کے حقوق ناپ تول پورا کرکے ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے تمہارے لئے وہی بہتر ہے اگر تم میری بات مانو، اور اگر میری بات نہ مانو گے تو یاد رکھو میں اس کا ذمہ دار نہیں کہ تم پر کوئی عذاب آجائے۔
حضرت شعیب ؑ کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ خطیب الانبیاء ہیں، آپ نے اپنے حسن بیان سے اپنی قوم کو سمجھانے اور ہدایت پر لانے کی پوری کوشش میں انتہا کردی، مگر یہ سب کچھ سننے کے بعد قوم نے وہی جواب دیا جو جاہل قومیں اپنے مصلحین کو دیا کرتی ہیں ان پر پھبتیاں کسیں استہزاء کیا، کہنے لگے
Ayah 11:87(آیت) اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَآ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا ۭ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيْمُ الرَّشِيْدُ ، یعنی کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتلاتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے آبا و اجداد کرتے چلے آئے ہیں، اور یہ کہ ہم اپنے مملوک اموال میں خود مختار نہ رہیں کہ جس طرح ہمارا جی چاہے معاملہ کریں بلکہ اپنے معاملات بھی آپ سے پوچھ پوچھ کر کیا کریں کہ کیا حلال ہے کہ حرام ؟
حضرت شعیب ؑ کی نماز پوری قوم میں معروف تھی کہ بکثرت نوافل و عبادت میں لگے رہتے تھے اس لئے ان کے ارشادات کو بطور استہزاء کے نماز کی طرف منسوب کیا کہ تمہاری یہ نماز ہی تمہیں (معاذ اللہ) ایسی غلط باتیں بتاتی ہے، ان کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی یوں سمجھتے تھے کہ دین و شریعت کا کام صرف عبادات تک محدود ہے معاملات میں اس کا کیا دخل ہے، ہر شخص اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے، اس پر کوئی پابندی لگانا دین کا کام نہیں جیسے اس زمانہ میں بھی بہت سے بےسمجھ لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں۔
قوم نے خالص ہمدردی، دلسوزی اور نصیحت کا جواب اس قدر تلخ دیا مگر حضرت شعیب ؑ شان پیغمبری رکھتے ہیں، یہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اسی ہمدردی کے ساتھ مخاطب ہو کر مزید فہمائش کے لئے فرمانے لگے۔
Ayah 11:88(آیت) يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًا، یعنی اے میری قوم مجھے بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے اپنی بات کے حق ہونے پر دلیل اور کافی شہادت رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے بہترین رزق بھی عطا فرمایا ہو، کہ ظاہری رزق جس پر معاش کا مدار ہے وہ بھی عطا فرمایا اور باطنی رزق فہم و عقل اور اس پر وحی و نبوت کا انعام گرانمایہ بھی عطا فرمایا تو پھر کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ان سب چیزوں کے ہوتے ہوئے میں بھی تمہاری طرح گمراہی اور ظلم کو اختیار کرلوں اور حق بات تمہیں نہ پہنچاؤ ں، اس کے بعد فرمایا
(آیت) وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ ، یعنی یہ بھی تو سمجھو کہ میں جس چیز سے تمہیں روکتا ہوں خود بھی تو اس کے پاس نہیں جاتا، اگر میں تمہیں منع کرتا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تمہارے لئے کہنے کی گنجائش تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ داعی اور واعظ و مبلغ کے عمل کو اس کی وعظ و نصیحت میں بڑا دخل ہوتا ہے جس چیز پر واعظ خود عامل نہ ہو اس کی بات کا دوسروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا، پھر فرمایا
(آیت) اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ، یعنی میرا مقصد اس ساری جدوجہد اور تمہیں بار بار کی فہمائش سے بجز اس کے کچھ نہیں کہ مقدور بھر اصلاح کی کوشش کروں، اور پھر فرمایا کہ یہ کوشش بھی درحقیقت میرے اپنے اختیار سے نہیں بلکہ (آیت) وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ ۭ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ اُنِيْبُ ، یعنی میں جو کچھ کرتا ہوں وہ سب اللہ کی دی ہوئی توفیق سے کرتا ہوں، ورنہ میرے بس میں کچھ نہ تھا، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف ہر کام میں میں رجوع کرتا ہوں۔
Ayahs 11:89–95اس پند و نصیحت کے بعد پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا، (آیت) وَيٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِيْٓ اَنْ يُّصِيْبَكُمْ مِّثْلُ مَآ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ۭ وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِيْدٍ ، یعنی تم سوچو سمجھو، ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح (علیہم السلام) پر آچکا ہے، او لوط ؑ کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دور بھی نہیں، یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے بہت قریب زمانہ میں ان پر عذاب آیا ہے اس سے عبرت حاصل کرو اور اپنی ضد سے باز آجاؤ۔
ان کی قوم اس کو سن کر اور بھی زیادہ اشتعال میں آگئی اور کہنے لگی کہ اگر آپ کے خاندان کی حمایت آپ کو حاصل نہ ہوتی تو ہم آپ کو سنگسار کردیتے، حضرت شعیب ؑ نے اس پر بھی ان کو نصیحت فرمائی کہ تم کو میرے خاندان کا تو خود ہوا مگر خدا تعالیٰ کا کچھ خوف نہ آیا جس کے قبضہ میں سب کچھ ہے۔
بالاخر جب قوم نے کوئی بات نہ مانی تو شعیب ؑ نے فرمایا کہ اچھا تم اب عذاب کا انتظار کرو، اس کے بعد حق تعالیٰ نے شعیب ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو حسب دستور اس بستی سے نکال لیا اور باقی سب کے سب جبریل ؑ کی ایک سخت آواز سے یکدم ہلاک ہوگئے۔
احکام و مسائل
ناپ تول کی کمی کا مسئلہ
مذکورہ آیات میں قوم شعیب ؑ پر عذاب آنے کا ایک سبب ان کا ناپ تول میں کمی کرنا تھا جس کو تطفیف کہا جاتا ہے، اور قرآن کریم نے وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ میں ان کے عذاب شدید کا بیان فرمایا ہے اور باجماع امت ایسا کرنا سخت حرام ہے، حضرت فاروق اعظم کے ایک ارشاد کے ما تحت حضرت امام مالک نے موطا میں فرمایا کہ ناپ تول کی کمی سے اصل مراد یہ ہے کہ کسی کا جو حق کسی کے ذمہ ہو اس کو پورا ادا نہ کرے بلکہ اس میں کمی کرے خواہ وہ ناپنے تولنے کی چیز ہو یا دوسری طرح کی، اگر کوئی ملازم اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، کسی دفتر کا ملازم یا کوئی مزدور اپنے کام کے وقوت مقرر میں کمی کرتا ہے یا مقررہ کام کرنے میں کوتاہی کرتا ہے وہ بھی اسی فہرست میں داخل ہے، کوئی شخص نماز کے آداب و سنن پورے بجا نہیں لاتا وہ بھی اسی تطفیف کا مجرم ہے، نعوذباللہ منہ۔
مسئلہ
تفسیر قرطبی میں ہے کہ قوم شعیب کی ایک عادت یہ تھی کہ ملک کے رائج سکوں درہم و دینار میں سے کنارے کاٹ کر سونا چاندی بچا لیتے اور یہ کٹے ہوئے سکے پوری قیمت سے چلتے کردیتے تھے، حضرت شعیب ؑ نے ان کو اس سے منع فرمایا۔
حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے بھی اسلامی سلطنت کے سکوں کا توڑنا حرام قرار دیا ہے، اور آیت (آیت) تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ ، کی تفسیر میں امام تفسیر حضرت زید بن اسلم نے یہی فرمایا ہے کہ یہ لوگ درہم و دینار کو توڑ کر اپنا فائدہ حاصل کرلیا کرتے تھے جس کو قرآن نے فساد عظیم قرار دیا ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا کہ وہ درہم کو کاٹ رہا تھا، موصوف نے اس کو کوڑوں کی سزا دی اور سر مونڈھوا کر شہر میں گشت کرایا۔ (تفسیر قرطبی)۔
Ayahs 11:96–101خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو (بھی) اپنے معجزات اور دلیل روشن دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا سو (نہ فرعون نے مانا اور نہ ان کے سرداروں نے مانا بلکہ فرعون بھی اپنے کفر پر رہا اور) وہ لوگ (بھی) فرعون (ہی) کی رائے پر چلتے رہے اور فرعون کی رائے کچھ صحیح نہ تھی وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم سے آگے آگے ہوگا پھر ان (سب) کو دوزخ میں جا اتارے گا، اور وہ (دوزخ) بہت ہی بری جگہ ہے اترنے کی جس میں یہ لوگ اتارے جاویں گے اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ رہے گی، چناچہ یہاں قہر سے غرق ہوئے اور وہاں دوزخ نصیب ہوگا) برا انعام ہے جو ان کو دیا گیا، یہ (جو کچھ اوپر قصص میں مذکور ہوا) ان (غارت شدہ) بستیوں کے بعض حالات تھے جن کو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں (سو) بعضی بستیاں تو ان میں (اب بھی) قائم ہیں (مثلاً مصر کہ آل فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد بھی آباد رہا) اور بعض کا بالکل خاتمہ ہوگیا اور (ہم نے جو ان مذکورہ بستی والوں کو سزائیں دیں سو) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا (کہ بلا قصور سزا دی ہو جو کہ صورةً ظلم ہے) لیکن انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا (کہ ایسی حرکتیں کیں جن سے مستوجب سزا ہوئے) سو ان کے وہ معبود جن کو وہ خدا کو چھوڑ کر پوجتے تھے ان کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے جب آپ کے رب کا حکم (عذاب کے لئے) آپہنچا (کہ ان کو عذاب سے بچا لیتے) اور (فائدہ تو کیا پہنچا اور) الٹا ان کو نقصان پہنچایا (یعنی سبب نقصان کے ہوئے کہ ان کی پرستش کی بدولت سزا یاب ہوئے)۔