Ayahs 11:102–111خلاصہ تفسیر
اور آپ کے رب کی دار و گیر ایسی ہی (سخت) ہے جب وہ کسی بستی والوں پر دار وگیر کرتا ہے جبکہ وہ ظلم (و کفر) کیا کرتے ہوں، بلا شبہ اس کی دار و گیر بڑی الم رساں (اور) سخت ہے (کہ اس سے سخت تکلیف پہنچتی ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا) ان واقعات میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو (وجہ عبرت ظاہر ہے کہ جب دنیا کا عذاب ایسا سخت ہے حالانکہ یہ دار الجزاء نہیں تو آخرت کا جو کہ دار الجزاء ہے کیسا سخت عذاب ہوگا) وہ (یعنی آخرت کا دن) ایسا دن ہوگا کہ اس میں تمام آدمی جمع کئے جاویں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے اور (وہ دن گو اب تک آیا نہیں لیکن اس سے کوئی اس کے آنے میں شک نہ کرے آوے گا ضرور) ہم اس کو صرف تھوڑی مدت کے لئے (بعض مصلحتوں سے) ملتوی کئے ہوئے ہیں (پھر) جس وقت وہ دن آوے گا (مارے ہیبت کے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ) کوئی شخص بدون خدا کی اجازت کے بات تک (بھی) نہ کرسکے گا (ہاں جب حساب کتاب کیلئے حاضری ہوگی اور ان کے اعمال پر جواب طلب کیا جاوے گا اس وقت البتہ منہ سے بات نکلے گی خواہ وہ بات مقبول ہو یا مقبول نہ ہو سو اس حالت میں تو سب اہل موقف شریک ہوں گے) پھر (آگے) ان میں (یہ فرق ہوگا کہ) بعض تو شقی (یعنی کافر) ہوں گے اور بعضے سعید (یعنی مومن) ہوں گے سو جو لوگ شقی ہیں وہ تو دوزخ میں ایسے حال سے ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑی رہے گی (اور) ہمیش ہمیش کو اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں (یہ محاورہ ہے ابدیت کیلئے) اور کوئی نکلنے کی سبیل نہ ہوگی ہاں اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے (کیونکہ) آپ کا رب جو کچھ چاہے اس کو پورے طور سے کرسکتا ہے (مگر باوجود قدرت کے یہ یقینی ہے کہ خدا یہ بات نہ چاہے گا اس لئے نکلنا نصیب نہ ہوگا) اور رہ گئے وہ لوگ جو سعید ہیں سو وہ جنت میں ہوں گے (اور) وہ اس میں (داخل ہونے کے بعد) ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں (گو جانے کے قبل کچھ سزا بھگتی ہو) ہاں اگر خدا ہی کو (نکالنا) منظور ہو تو دوسری بات ہے (مگر یہ یقینی ہے کہ خدا یہ بات کبھی نہ چاہے گا پس نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا بلکہ) وہ غیر منقطع عطیہ ہوگا (اور جب کفر کا وبال اوپر کی آیتوں سے معلوم ہوچکا) سو (اے مخاطب) جس چیز کی یہ پرستش کرتے ہیں اس کے بارے میں ذرا شبہ نہ کرنا (بلکہ یقین رکھنا کہ ان کا یہ عمل موجب سزا ہے بوجہ باطل ہونے کے، اور باطل ہونے کی دلیل یہ ہے کہ) یہ لوگ بھی اسی طرح (بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل) عبادت (غیر اللہ کی) کر رہے ہیں جس طرح ان کے قبل ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے (امر خلاف دلیل باطل اور موجب سزا ہوتا ہے) اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (یعنی توریت) دی تھی سو اس میں (بھی مثل قرآن کے) خلاف کیا گیا (کہ کسی نے مانا کسی نے نہ مانا، یہ کوئی آپ کے لئے نئی بات نہیں ہوئی پس آپ مغموم نہ ہوں اور (یہ منکرین ایسے مستحق عذاب ہیں کہ) اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے (کہ پورا عذاب ان کو آخرت میں دوں گا) تو (جس چیز میں یہ اختلاف کر رہے ہیں) ان کا (قطعی) فیصلہ (دنیا ہی میں) ہوچکا ہوتا (یعنی وہ عذاب موعود واقع ہوجاتا) اور یہ لوگ (باوجود قیام براہین کے ابھی تک) اس (فیصلہ یعنی عذاب موعود) کی طرف سے ایسے شک میں (پڑے) ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے (کہ ان کو عذاب کا یقین ہی نہیں آتا، شک کا مطلب یہی ہے) اور (کسی کے شک و انکار سے یہ عذاب ٹلے گا نہیں بلکہ) بالیقین سب کے ایسے ہی ہیں کہ آپ کا رب ان کو ان کے اعمال (کی جزا) کا پورا پورا حصہ دے گا، بالیقین وہ ان کے سب اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے (جب ان کی سزا کا معاملہ آپ سے کچھ سروکار نہیں رکھتا تو آپ اور مسلمان اپنے کام میں لگے رہیں، وہ کام یہ ہیں جو اگلی آیات میں مذکور ہیں)۔
Ayah 11:112خلاصہ تفسیر
جس طرح کہ آپ کو حکم ہوا ہے (راہ دین پر) مستقیم رہیے اور وہ لوگ بھی (مستقیم رہیں) جو کفر سے توبہ کر کے آپ کے ساتھ ہیں اور دائرہ (دین) سے ذرا مت نکلو یقینًا وہ تم سب کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے اور (اے مسلمانو ! ان) ظالموں کی طرف (یا جو ان کی مثل ہوں ان کی طرف دلی دوستی سے یا اعمال و احوال میں مشارکت و مشابہت سے) مت جھکو، کبھی تم کو دوزخ کی آگ لگ جاوے اور (اس وقت) خدا کے سوا تمہارا کوئی رفاقت کرنے والا نہ ہو پھر تمہاری حمایت کسی طرف سے بھی نہ ہو (کیونکہ رفاقت تو حمایت سے سہل ہے جب رفاقت کرنے والا بھی کوئی نہیں تو حمایت کرنے والا کون ہوتا)۔
معارف و مسائل
سورة ہود میں انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے واقعات نوح ؑ سے شروع کر کے حضرت موسیٰ ؑ تک خاصی ترتیب و تفصیل سے ذکر کئے گئے ہیں جن میں سینکڑوں مواعظ و حکم اور احکام و ہدایات ہیں، ان واقعات کے ختم پر رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرکے امت محمدیہ کو ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی، فرمایا (آیت) ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ، یعنی یہ ہیں پہلے شہروں اور بستیوں کے واقعات جو ہم نے آپ کو سنائے ہیں، یہ بستیاں جن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب آئے ان میں سے بعض کے تو ابھی کچھ عمارات یا کھنڈرات موجود ہیں اور بعض بستیاں ایسی کردی گئی ہیں جیسے کھیتی کاٹنے کے بعد زمین ہموار کردی جائے پچھلی کھیتی کا نشان تک نہیں رہتا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے کو چھوڑ کر بتوں اور دوسری چیزوں کو اپنا خدا بنا بیٹھے، جس کا انجام یہ ہوا کہ جب خدا تعالیٰ کا عذاب آیا تو ان خود ساختہ خداؤں نے ان کی کوئی مدد نہ کی، اور اللہ تعالیٰ جب بستیوں کو عذاب میں پکڑتے ہیں تو ان کی گرفت ایسی ہی سخت اور درد ناک ہوا کرتی ہے۔
اس کے بعد ان کو آخرت کی فکر میں مشغول کرنے کے لئے فرمایا کہ ان واقعات میں ان لوگوں کیلئے بڑی عبرت اور نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں، جس دن تمام اولاد آدم ایک جگہ جمع اور موجود ہوگی، اس دن کا حال یہ ہوگا کہ کسی شخص کی مجال نہ ہوگی کہ بغیر اجازت خداوندی ایک حرف بھی زبان سے بول سکے۔
اس کے بعد رسول کریم ﷺ کو مکرر خطاب کرکے ارشاد فرمایا (آیت) فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۭ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ، یعنی آپ دین کے راستہ پر اسی طرح مستقیم رہے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی مستقیم رہیں جو کفر سے توبہ کرکے آپ کے ساتھ ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود سے نہ نکلو کیونکہ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔
استقامت کا مفہوم اور اہم فوائد و مسائل
استقامت کے معنی سیدھا کھڑا رہنے کے ہیں، جس میں کسی طرف ذرا سا جھکاؤ نہ ہو، ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں، کسی لوہے پتھر وغیرہ کے عمود کو ماہر انجینئر ایک مرتبہ اس طرح کھڑا کرسکتے ہیں کہ اس کے ہر طرف زاویہ قائمہ ہی رہے کسی طرف ادنی میلان نہ ہو لیکن کسی متحرک چیز کا ہر وقت ہر حال میں اس حالت پر قائم رہنا کس قدر مشکل ہے وہ اہل بصیرت سے مخفی نہیں۔
رسول کریم ﷺ اور تمام مسلمانوں کو اس آیت میں اپنے ہر کام میں ہر حال میں استقامت پر رہنے کا حکم فرمایا گیا ہے، استقامت لفظ تو چھوٹا سا ہے مگر مفہوم اس کا ایک عظیم الشان وسعت رکھتا ہے کیونکہ معنی اس کے یہ ہیں کہ انسان اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، کسب معاش اور اس کی آمد و صرف کے تمام ابواب میں اللہ جل شانہ کی قائم کردہ حدود کے اندر اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر سیدھا چلتا رہے، ان میں سے کسی باب کے کسی عمل اور کسی حال میں کسی ایک طرف جھکاؤ یا کمی، زیادتی ہوجائے تو استقامت باقی نہیں رہتی۔
دنیا میں جتنی گمراہیاں اور عملی خرابیاں آتی ہیں وہ سب اسی استقامت سے ہٹ جانے کا نتیجہ ہوتی ہیں، عقائد میں استقامت نہ رہے تو بدعات سے شروع ہو کر کفر و شرک تک نوبت پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کے متعلق جو معتدل اور صحیح اصول رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائے اس میں افراط وتفریط یا کمی بیشی کرنے والے خواہ نیک نیتی ہی سے اس میں مبتلا ہوں گمراہ کہلائے گی، انبیاء (علیہم السلام) کی عظمت و محبت کی جو حدود مقرر کردی گئی ہیں ان میں کمی کرنے والوں کا گمراہ و گستاخ ہونا تو سب ہی جانتے ہیں، ان میں زیادتی اور غلو کرکے رسول کو خدائی صفات و اختیارات کا مالک بنادینا بھی اسی طرح کی گمراہی ہے، یہود و نصاری اسی گمراہی میں کھوئے گئے، عبادات اور تقرب الی اللہ کے لئے جو طریقے قرآن عظیم اور رسول کریم ﷺ نے متعین فرما دیئے ہیں، ان میں ذرا سی کمی کوتاہی جس طرح انسان کو استقامت سے گرا دیتی ہے اسی طرح ان میں اپنی طرف سے کوئی زیادتی بھی استقامت کو برباد کرکے انسان کو بدعات میں مبتلا کردیتی ہے، وہ بڑی نیک نیتی سے یہ سمجھتا رہتا ہے کہ میں اپنے رب کو راضی کر رہا ہوں اور وہ عین ناراضگی کا سبب ہوتا ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے امت کو بدعات و محدثات سے بڑی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے اور اس کو شدید گمراہی قرار دیا ہے، اس لئے انسان پر لازم ہے کہ جب وہ کوئی کام عبادت اور اللہ و رسول ﷺ کی رضا جوئی کے لئے کرے تو کرنے سے پہلے اس کی پوری تحقیق کرلے یہ کام رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے اس کیفیت و صورت کے ساتھ ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت نہیں تو اس میں اپنا وقت اور توانائی ضائع نہ کرے۔
اسی طرح معاملات اور اخلاق و معاشرت کے تمام ابواب میں قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول پر رسول اللہ ﷺ نے اپنی عملی تعلیم کے ذریعہ ایک معتدل اور صحیح راستہ قائم کردیا ہے جس میں دوستی، دشمنی، نرمی، گرمی، غصہ اور بردباری، کنجوسی اور سخاوت، کسب معاش اور ترک دنیا، اللہ پر توکل اور امکانی تدبیر، اسباب ضروریہ کی فراہمی اور مسبب الاسباب پر نظر، ان سب چیزوں میں ایک ایسا معتدل صراط مستقیم مسلمانوں کو دیا ہے کہ اس کی نظیر عالم میں نہیں مل سکتی، ان کو اختیار کرنے سے ہی انسان کامل بنتا ہے اس میں استقامت سے ذرا گرنے ہی کے نتیجہ میں معاشرہ کے اندر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ استقامت ایک ایسا جامع لفظ ہے کہ دین کے تمام اجزاء و ارکان اور ان پر صحیح عمل اس کی تفسیر ہے۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے معاملہ میں کوئی ایسی جامع بات بتلا دیجئے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے، آپ نے فرمایا قل امنت باللہ ثم استقم، یعنی اللہ پر ایمان لاؤ اور پھر اس پر مستقیم رہو، (رواہ مسلم۔ از قرطبی)
اور عثمان بن حاضر ازدی فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ عباس کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے، آپ نے فرمایا علیک بتقوی اللہ والاستقامۃ اتبع ولا تبتدع (رواہ الدارمی فی مسندہ۔ از قرطبی) یعنی تم تقوی اور خوف خدا کو لازم پکڑو اور استقامت کو بھی، جس کا طریقہ یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں شریعت کا اتباع کرو، اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد نہ کرو۔
اس دنیا میں سب سے زیادہ دشوار کام استقامت ہی ہے اسی لئے محققین صوفیاء نے فرمایا ہے کہ استقامت کا مقام کرامت سے بالاتر ہے، یعنی جو شخص دین کے کاموں میں استقامت اختیار کئے ہوئے ہے، اگرچہ عمر بھر اس سے کوئی کرامت صادر نہ ہو، وہ اعلی درجہ کا ولی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ پورے قرآن میں رسول کریم ﷺ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور شاق کوئی آیت نازل نہیں ہوئی، اور فرمایا کہ جب صحابہ کرام نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی لحیہ مبارک میں کچھ سفید بال دیکھ کر بطور حسرت و افسوس کے عرض کیا کہ اب تیزی سے بڑھاپا آپ کی طرف آرہا ہے تو فرمایا کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا، سورة ہود میں جو پچھلی قوموں پر سخت و شدید عذاب کے واقعات مذکور ہیں وہ بھی اس کا سبب ہوسکتے ہیں مگر ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت ہی اس کا سبب ہے۔
تفسیر قرطبی میں ابو علی سری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے خو اب میں رسول کریم ﷺ کی زیارت کی تو عرض کیا کہ کیا آپ نے ایسا فرمایا ہے کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پھر دریافت کیا کہ اس سورت میں جو انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اور ان کی قوموں کے عذاب کا ذکر ہے اس نے آپ کو بوڑھا کیا ؟ تو فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس رشاد نے (آیت) فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ !
یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ تو انسان کامل کی مثالی صورت بن کر اس دنیا میں تشریف لائے تھے اور فطری طور پر استقامت آپ کی عادت تھی مگر پھر اس قدر بار یا تو اس لئے محسوس فرمایا کہ آیت میں مطلق استقامت کا حکم نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ امر الہٰی کے مطابق استقامت ہونا چاہئے، انبیاء (علیہم السلام) پر جس قدر خوف و خشیت الہٰی کا غلبہ ہوتا ہے وہ سب کو معلوم ہے، اس خشیت ہی کا یہ اثر تھا کہ باوجود کامل استقامت کے یہ فکر لگ گئی کہ اللہ جل شا نہ کو جیسی استقامت مطلوب ہے وہ پوری ہوئی یا نہیں۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو اپنی استقامت کی تو زیادہ فکر نہ تھی کیونکہ وہ بحمداللہ حاصل تھی مگر اس آیت میں پوری امت کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے، امت کا استقامت پر قائم رہنا دشوار دیکھ کر یہ فکر و غم طاری ہوا۔
حکم استقامت کے بعد فرمایا وَلَا تَطْغَوْا، یہ لفظ مصدر طغیان سے بنا ہے، اس کے معنی حد سے نکل جانے کے ہیں جو ضد ہے استقامت کی، آیت میں استقامت کا حکم مثبت انداز میں صادر فرمانے پر کفایت نہیں فرمائی بلکہ اس کے منفی پہلو کی ممانعت بھی صراحۃ ذکر کردی کہ عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق وغیرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلو کہ یہ ہر فساد اور دینی و دنیوی خرابی کا راستہ ہے۔
Ayah 11:113دوسری آیت میں انسان کو خرابی اور بربادی سے بچانے کے لئے ایک اور اہم ہدایت نامہ دیا گیا ہے (آیت) وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ، یعنی ظالموں کی طرف ادنیٰ میلان بھی نہ رکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے ساتھ تمہیں بھی جہنم کی آگ لگ جائے۔ لَا تَرْكَنُوْٓا مصدر کون سے بنا ہے جس کے معنی کسی طرف خفیف سے میلان اور جھکاؤ اور اس پر اعتماد و رضا کے ہیں، اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ ظلم و جور میں خود مبتلا ہونے کو تو دین و دنیا کی تباہی سبھی جانتے ہیں مگر ظالموں کی طرف ادنیٰ سا جھکاؤ اور میلان، ان سے راضی ہونا، ان پر اعتماد کرنا بھی انسان کو اسی بربادی کے کنارے لگا دیتا ہے۔
اس جھکاؤ اور میلان سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق صحابہ وتابعین کے چند اقوال منقول ہیں جن میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں، سب اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں
حضرت قتادہ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ ظالموں سے دوستی نہ کرو اور ان کا کہنا نہ مانو، ابن جریج نے فرمایا کہ ظالموں کی طرف کسی طرح کا بھی میلان نہ رکھو، ابو العالیہ نے فرمایا کہ ان کے اعمال و افعال کو پسند نہ کرو (قرطبی) سدی نے فرمایا کہ ظالموں سے مداہنت نہ کرو یعنی ان کے برے اعمال پر سکوت یا رضا کا اظہار نہ کرو، عکرمہ نے فرمایا کہ ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو، قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ شکل و صورت اور فیشن اور رہن سہن کے طریقوں میں ان کا اتباع کرنا یہ سب اسی ممانعت میں داخل ہے۔
قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ ظلم و جور کی ممانعت اور حرمت کے لئے اس آیت میں وہ انتہائی شدت ہے جو زیادہ تصور میں لائی جاسکتی ہے کیونکہ ظالموں کے ساتھ دوستی اور گہرے تعلق ہی کو نہیں بلکہ ان کی طرف ادنی درجہ کے میلان اور جھکاؤ اور ان کے پاس بیٹھنے کو بھی اس میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
امام اوزاعی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی شخص اس عالم سے زیادہ مبغوض نہیں جو اپنی دنیوی مفاد کی خاطر کسی ظالم سے ملنے کے لئے جائے (مظہری)۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہل کفر اور اہل معصیت اور اہل بدعت کی صحبت سے اجتناب اور پرہیز واجب ہے، بجز اس کے کہ کسی مجبوری سے ان سے ملنا پڑے، اور حقیقت یہی ہے کہ انسان کی صلاح و فساد میں سب سے بڑا دخل صحبت اور ماحول کا ہوتا ہے، اسی لئے حضرت حسن بصری نے ان دونوں آیتوں کے دو لفظوں کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پورے دین کو دو حرف لاَ کے اندر جمع کردیا ہے، ایک پہلی آیت میں لَا تَطْغَوْا اور دوسرا دوسری آیت میں لَا تَرْكَنُوْٓا، پہلے لفظ میں حدود شرعیہ سے نکلنے کی اور دوسرے لفظ میں برے لوگوں کی صحبت کی ممانعت ہے اور یہی سارے دین کا خلاصہ ہے۔
Ayah 11:114خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ نماز کی پابندی رکھئے دن کے دونوں سروں پر (یعنی اول اور آخر میں) اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیک کام (نامہ اعمال سے) مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو یہ بات (کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں) ایک (جامع) نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کیلئے (کیونکہ ہر نیکی اس قاعدہ کلیہ میں داخل ہے، پس اس سے ہر نیکی کی رغبت ہونا چاہئے) اور (ان منکرین کی طرف سے جو معاملات پیش آتے ہیں ان پر) صبر کیا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے (صبر بھی اعلی درجہ کی نیکوکاری ہے اس کا پورا اجر ملے گا اور اوپر جو سابقہ کی ہلاکت کے واقعات مذکور ہوئے) تو (وجہ اس کی یہ ہوئی کہ) جو امتیں تم سے پہلے گزری ہیں ان میں ایسے سمجھ دار لوگ نہ ہوئے جو کہ (دوسروں کو) ملک میں فساد (یعنی کفر و شرک) پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے کہ جن کو ان میں سے ہم نے (عذاب سے) بچا لیا تھا (کہ وہ تو البتہ جیسے خود کفر و شرک سے تائب ہوگئے تھے اوروں کو بھی منع کرتے رہتے تھے اور ان ہی دونوں عمل کی برکت سے وہ عذاب سے بچ گئے تھے باقی اور لوگ چونکہ خود ہی کفر میں مبتلا تھے انہوں نے اوروں کو بھی منع نہ کیا) اور جو لوگ نافرمان تھے وہ جس ناز و نعمت میں تھے اسی کے پیچھے پڑے رہے اور جرائم کے خوگر ہوگئے (کہ اس سے باز ہی نہ آئے، خلاصہ یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لئے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا اور فساد کا خاص، اب بوجہ منع نہ کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیئے گئے اس لئے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا) اور (اس سے ثابت ہوگیا کہ) آپ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو کفر کے سبب ہلاک کردے اور ان کے رہنے والے (اپنی اور دوسروں کی) اصلاح میں لگے ہوں (بلکہ جب بجائے اصلاح کے فساد کریں اور فساد کرنے والوں کو منع نہ کریں اس وقت عذاب خاص کے مستحق ہوجاتے ہیں) اور اگر اللہ کو منظور ہوتا سب آدمیوں کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا (یعنی سب کو مومن کردیتا لیکن بعض حکمتوں سے ایسا منظور نہ ہوا، اس لئے دین کے خلاف مختلف طریقوں پر ہوگئے) اور (آئندہ بھی) ہمیشہ اختلاف (ہی) کرتے رہیں گے مگر جس پر آپ کے رب کی رحمت ہو (وہ دین کے خلاف طریقہ اختیار نہ کرے گا) اور (ان میں اختلاف رہے) اور (اختلاف کیلئے پیدا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ) آپ کے رب کی یہ بات پوری ہوگی کہ میں جہنم کو جنات سے اور انسانوں سے دونوں سے بھر دوں گا (اور خود اس کی حکمت یہ ہے کہ جس طرح مرحومین میں صفت رحمت کا ظہور ہو مغضوبین میں صفت غضب کی ظاہر ہو پھر اس ظہور کی حکمت یا اس حکمت کی حکمت اللہ ہی کو معلوم، غرض اس ظہور کی حکمت سے جہنم میں جانا بعضوں کا ضرور اور جہنم میں جانے کیلئے وجود کفار کا تکوینًا ضروری اور وجود کفار کے لئے اختلاف لازم، یہ وجہ ہے سب کے مسلمان نہ ہونے کی) اور پیغمبروں کے قصوں میں سے ہم یہ سارے (مذکورہ) قصے آپ سے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں (ایک فائدہ بیان قصص کا تو یہ ہوا جس کا حاصل آپ کو تسلی دینا ہے) اور ان قصوں میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہنچا ہے جو خود بھی راست (اور قطعی) ہے اور مسلمانوں کیلئے (برے کاموں سے روکنے کیلئے) نصیحت ہے اور (اچھے کام کرنے کیلئے) یاد دھانی ہے (یہ دوسرا فائدہ بیان قصص کا ہوا، ایک فائدہ نبی کیلئے، دوسرا امت کیلئے) اور جو لوگ باوجود ان حجج قاطعہ کے بھی) ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجئے کہ (میں تم سے الجھتا نہیں) تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو ہم بھی (اپنے طور پر) عمل کر رہے ہیں اور (ان اعمال کے نتیجہ کے) تم (بھی) منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں (سو عنقریب باطل کھل جاوے گا) اور آسمانوں اور زمین میں جتنی غیب کی باتیں ہیں ان کا علم خدا ہی کو ہے (تو بندوں کے اعمال تو غیب بھی نہیں ان کا علم تو بدرجہ اولی حق تعالیٰ کو ہے) اور سب امور اسی کی طرف رجوع ہوں گے (یعنی علم و اختیار دونوں اللہ ہی کے ہیں پھر اس کو کیا مشکل ہے اگر اعمال کی جزا و سزا دیدے اور جب وہ ایسا علم و اختیار رکھتا ہے) تو (اے محمد ﷺ آپ اسی کی عبادت کیجئے (جس میں تبلیغ بھی داخل ہے) اور اسی پر بھروسہ رکھئے (اگر تبلیغ میں کسی اذیت کا احتمال ہو، یہ بیچ میں بطور جملہ معترضہ کے آپ سے خطاب فرما دیا، آگے پھر وہی مضمون ہے یعنی) اور آپ کا رب ان باتوں سے بیخبر نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو (جیسا کہ اوپر علم غیب سے اعمال کا علم بدرجہ اولی ثابت ہوگیا)۔
معارف و مسائل
اسلوب قرآنی میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت شان کی طرف اشارہ
سورة ہود میں انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے عبرتناک حالات و واقعات ذکر کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ اور امت محمدیہ کو چند ہدایات دی گئی ہیں جن کا سلسلہ پچھلی آیت (آیت) فَاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ سے شروع ہوا ہے، ان ہدایات میں قرآن کریم کا یہ حسن بیان کس قدر دلکش اور ادب آموز ہے کہ جس کام کا حکم مثبت انداز میں دیا گیا اس میں تو رسول کریم ﷺ کو مخاطب بنایا گیا ہے اور امت محمدیہ کو تبعاً اس میں شامل کیا گیا ہے، جیسے فاسْتَقِمْ كَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ اور مذکورہ صدر آیت میں (آیت) اَقِمِ الصَّلٰوةَ اور اس کے بعد واصْبِرْ۔ اور جس کام سے روکا گیا اور اس سے بچنے کی ہدایت کی گئی تو اس میں براہ راست امت کو مخاطب کیا گیا، جیسے پچھلی آیتوں میں (آیت) لَا تَطْغَوْا اور لَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا۔
اور غور کیا جائے تو پورے قرآن میں عام طور پر یہی طرز استعمال ہوا ہے کہ امر کا مخاطب نبی کریم ﷺ کو بنایا گیا ہے اور نہی و ممانعت کا مخاطب امت کو، جس میں رسول کریم ﷺ کی عظمت شان کا اظہار ہے کہ جو کام قابل ترک ہیں رسول اللہ ﷺ خود ہی ان سے پرہیز کرتے ہیں، آپ کی فطرت سلیمہ اور طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی تھی کہ کسی بری خواہش اور بری چیز کی طرف میلان ہی نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ ایسی چیزیں جو ابتداء اسلام میں جائز و حلال تھیں مگر انجام کار ان کا حرام ہونا اللہ تعالیٰ کے علم میں طے شدہ تھا رسول کریم ﷺ ان کے حلال ہونے کے زمانہ میں کبھی ان کے پاس نہیں گئے، جیسے شراب یا سود اور جوا وغیرہ۔
اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرکے آپ کو اور آپ کی پوری امت کو اقامت صلوة کا حکم دیا گیا ہے، علماء تفسیر صحابہ وتابعین کا اس پر اتفاق ہے کہ صلوة سے مراد اس جگہ فرض نمازیں ہیں (بحر محیط، قرطبی) اور صلوة کی اقامت سے مراد اس کی پوری پابندی اور مداومت ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نماز کو اس کے تمام آداب کے ساتھ ادا کرنا مراد ہے بعض نے فرمایا کہ نماز کو اس کے افضل وقت میں ادا کرنا مراد ہے یہی تیں قول آیت اَقِمِ الصَّلٰوةَ کی تفسیر میں منقول ہیں اور درحقیقت یہ کوئی اختلاف نہیں یہ سبھی چیزیں ”اقامت صلوة“ کے مفہوم میں شامل ہیں۔
اقامت صلوة کا حکم دینے کے بعد نماز کے اوقات کا اجمالی بیان یہ ہے کہدن کے دونوں سروں یعنی شروع اور آخر میں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو۔ کیونکہ زلفا، زلفة کی جمع ہے جس کے معنی ایک حصہ اور قطعہ کے ہیں، دن کے دونوں سروں کی نماز کے متعلق اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ پہلے سرے کی نماز نماز فجر ہے، آخری سرے کی نماز بعض حضرات نے مغرب کو قرار دیا ہے کہ دن کے بالکل ختم پر ہے اور بعض حضرات نے عصر کی نماز کو دن کے آخری سرے کی نماز قرار دیا ہے کیونکہ دن کی آخری نماز وہی ہے، وقت مغرب دن کا جزء نہیں بلکہ دن گزرنے کے بعد آتا ہے، اور زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ، یعنی رات کے حصوں کی نماز سے مراد جمہور مفسرین حسن بصری، مجاہد، محمد بن کعب، قتادہ، ضحاک وغیرہم نے مغرب و عشاء کی نماز کو قرار دیا ہے، اور ایک حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے ’‘ جس میں ارشاد فرمایا ہے کہ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ، مغرب و عشاء ہیں (تفسیر ابن کثیر)۔
جبکہ طَرَفَيِ النَّهَارِ سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہوئی اور زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ سے مغرب و عشاء کی تو اس آیت میں چار نمازوں کے اوقات کا بیان آگیا صرف ظہر کی نماز کا بیان رہ گیا جو دوسری آیت (آیت) اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ میں آیا ہے۔
اس آیت میں اوقات مذکورہ میں اقامت صلوة کے حکم کے بعد ان کا ایک عظیم فائدہ بھی بتلایا گیا ہے کہ (آیت) اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ یعنی نیک کام مٹا دیتے ہیں برے کاموں کو، حضرات مفسرین نے فرمایا کہ نیک کام سے تمام نیک کام مراد ہیں، جن میں نماز، روزہ، زکوٰة، صدقات، حسن خلق، حسن معاملہ وغیرہ سب داخل ہیں مگر نماز کو ان سب میں اولیت حاصل ہے، اسی طرح السَّـيِّاٰتِ کا لفظ تمام برے کاموں کو حاوی اور شامل ہے خواہ وہ کبیرہ گناہ ہوں یا صغیرہ، لیکن قرآن مجید کی ایک دوسری آیت نیز رسول کریم ﷺ کے متعدد ارشادات نے اس کو صغیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے، معنی یہ ہیں کہ نیک کام جن میں نماز سب سے افضل ہے، صغیرہ گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں اور ان کے گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کا خود کفارہ کردیں گے۔
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ان تمام گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں جو ان کے درمیان صادر ہوں، جبکہ یہ شخص کبائر یعنی بڑے گناہوں سے بچا رہا ہو، مطلب یہ ہے کہ بڑے گناہ تو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے مگر چھوٹے گناہ دوسرے نیک کام نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ کرنے سے خود بھی معاف ہوجاتے ہیں، مگر تفسیر بحر محیط میں محقیقن علماء اصول کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صغیرہ گناہ بھی نیک کام کرنے سے جبھی معاف ہوتے ہیں جبکہ آدمی ان کے کرنے پر نادم ہو اور آئندہ کیلئے نہ کرنے کا ارادہ کرے، ان پر اصرار نہ کرنے، روایات حدیث میں جتنے واقعات کفارہ ہوجانے کے منقول ہیں ان سب میں یہ تصریح بھی ہے کہ ان کا کرنے والا جب اپنے فعل پر نادم ہو اور آئندہ کیلئے توبہ کرے اس پر آنحضرت ﷺ نے اس کو گناہ معاف ہوجانے کی بشارت سنائی۔ واللہ اعلم۔
مشہور و معروف روایات حدیث میں کبائر یعنی بڑے گناہ ان چیزوں کو بتلا یا ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک یا برابر قرار دینا، (2) قصدًا کسی فرض نماز کا چھوڑنا، (3) کسی کو ناحق قتل کرنا، (4) حرام کاری، (5) چوری (6) شراب نوشی، (7) ماں باپ کی نافرمانی، (8) جھوٹی قسم، (9) جھوٹی گواہی، (10) جادو کرنا، (11) سود کھانا، (12) یتیم کا مال ناجائز طور پر لے لینا، (13) میدان جہاد سے بھاگنا، (14) پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا، (15) کسی کا مال ناجائز طور پر غصب کرنا، (16) عہد شکنی کرنا، (17) امانت میں خیانت کرنا، (18) کسی کو گالی دینا، (19) کسی شخص کو ناحق مجرم قرار دیدینا وغیرہ۔ کبیرہ اور صغیرہ یعنی بڑے اور چھوٹے گناہوں کی تفصیل مستقل رسالوں میں علماء نے لکھ دی ہیں، میرے رسالہ گناہ بےلذت میں بھی مذکور ہے وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔
بہرحال آیت مذکورہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نیک کام کرنے سے بھی گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ برے کام کے بعد نیک کام کرلو تو وہ اس کی برائی کو مٹا دے گا، اور فرمایا کہ لوگوں سے خوش خلقی کے ساتھ معاملہ کرو (ابن کثیر بحوالہ مسند احمد)۔
حضرت ابوذر غفاری نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمایئے آپ نے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیک کام کرو تاکہ وہ اس کو مٹا دے۔
درحقیقت ان حادیث میں گناہ سے توبہ کرنے کا مسنون و محمود طریقہ بتلایا گیا ہے جیسا کہ مسند احمد میں بروایت صدیق اکبر منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ وضو کرکے دو رکعت نماز نفل ادا کرلے تو اس گناہ کی معافی ہوجائے گی (الروایات کلہا من ابن کثیر) اس نماز کو نماز توبہ ہی کہا جاتا ہے۔
(آیت) ذٰلِكَ ذِكْرٰي للذّٰكِرِيْنَ ، یعنی یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے، اس میں ذلک کا اشارہ قرآن کریم کی طرف بھی ہوسکتا ہے اور احکام امر و نہی کی طرف بھی، جن کا ذکر اس سے پہلے آیا ہے، مراد یہ ہے کہ یہ قرآن یا اس کے مذکورہ احکام ان لوگوں کیلئے ہدایت و نصیحت ہیں جو نصیحت سننے اور ماننے کے عادی ہیں اس میں اشارہ یہ ہے کہ ہٹ دھرم، ضدی آدمی جو کسی چیز پر غور ہی نہ کرے وہ ہر ہدایت سے محروم رہتا۔
Ayah 11:115(آیت) وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ ، یعنی آپ صبر و ثابت قدمی کے ساتھ رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔
صبر کے لفظی معنی باندھنے کے ہیں اسی لئے اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کیلئے بھی صبر بولا جاتا ہے جس کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ نیک کاموں کے کرنے پر اپنے نفس کو ثابت قدم رکھے اور یہ بھی کہ برے کاموں میں مبتلا ہونے سے اس کو روکے، اس جگہ رسول کریم ﷺ کو صبر کا حکم دینے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ جو احکام آیات مذکورہ میں آپ کو دیئے گئے ہیں مثلاً استقامت، اقامت صلوة وغیرہ ان پر آپ مضبوطی سے قائم رہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مخالفین کی مخالفت اور ایذاؤں پر صبر کی تلقین مقصود ہو، اور اس کے بعد جو یہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ محسنین یعنی نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے، اس میں بظاہر محسنین سے مراد وہ لوگ ہیں جو آیات مذکورہ کے احکام امر و نہی کے پابند ہوں، یعنی دین میں استقامت کا مقام ان کو حاصل ہو، حدود شرعیہ کی پوری رعایت کرتے ہوں، ظالموں کے ساتھ دوستی اور بےضرورت تعلق نہ رکھتے ہوں، نماز کو آداب کے ساتھ افضل وقت میں ادا کرنے کے پابند ہوں، تمام احکام دین پر ثابت قدم ہوں۔
اور خلاصہ ان سب کا وہی ہے جو احسان کی تعریف میں خود رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو یا کم ازکم یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہے ہیں، جب انسان کو حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے یقین کا یہ درجہ حاصل ہوجائے تو اس کے تمام اقوال و افعال خود بخود درست ہوجاتے ہیں، علماء سلف میں تین کلمے ایسے معروف تھے جو باہم ایک دوسرے کو لکھا کرتے تھے، وہ یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ اول یہ کہ جو شخص آخرت کیلئے کام میں مشغول ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے کاموں کو خود بخود درست فرما دیتے ہیں اور ان کی ذمہ داری خود لے لیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص اپنی باطنی حالت کو درست کرلے کہ قلب کا رخ سب سے ہٹا کر اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی ظاہری حالت کو خود بخود درست فرما دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے معاملہ کو صحیح و درست کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور تمام لوگوں کے درمیان کے معاملات کو خود درست فرما دیتے ہیں، اصل عبارت ان تین کلمات کی یہ ہےوکان اھل الخبر یکتب بعضھم الی بعض بثلاث کلمت، من عمل لاخرتہ کفاہ اللہ امر دنیاہ، ومن اصلح سریرتہ اصلح اللہ علانیتہ ومن اصلح فیما بینہ وبین اللہ اصلح اللہ ما بینہ و بین الناس۔ (تفسیر روح البیان 131 ج 2)۔
Ayah 11:116تیسری اور چوتھی آیتوں میں پچھلی اقوام پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی وجہ اور لوگوں کو اس سے بچنے کی ہدایت اس طرح دی گئی ہے کہ فرمایا
ان پچھلی قوموں میں افسوس ہے کہ ایسا نہ ہوا کہ ان میں کچھ بھی سمجھ دار نیک لوگ ہوتے جو اپنی قوم کو فساد کرنے سے بازر کھتے، بجز تھوڑے سے لوگوں کے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کا اتباع کیا، اور وہی عذاب سے محفوظ رہے، اور باقی پوری قوم دنیا کی لذتوں میں پھنس کر جرائم پیشہ بن گئی۔
اس آیت میں اہل الرائے اور سمجھ دار لوگوں کو لفظ اولُوْا بَقِيَّةٍ سے تعبیر کیا ہے، بقیہ کا لفظ باقی ماندہ چیز کیلئے بولا جاتا ہے، اور انسان کی عادت یہ ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ عزیز و محبوب ہوتی ہے اس کو ہر حال میں اپنے لئے محفوظ اور باقی رکھنے کا اہتمام کرتا ہے، ضرورت پڑنے پر دوسری ساری چیزیں قربان کردیتا ہے مگر اس کو نہیں دیتا، اسی لئے عقل و بصیرت کو بقیہ کہا جاتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ عزیز ہے۔
Ayah 11:117چوتھی آیت میں فرمایا کہ آپ کا رب شہروں اور بستیوں کو ظلم سے ہلاک نہیں کرتا جبکہ ان کے بسنے والے نیکوکار یعنی مسلمان ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے یہاں ظلم و جور کا کوئی امکان نہیں، جن کو ہلاک کیا جاتا ہے وہ اسی کے مستحق ہوتے ہیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے اور مصلحون سے مراد وہ لوگ ہیں جو باوجود مشرک کافر ہونے کے معاملات اور اخلاق اچھے رکھتے ہیں، کسی کو نقصان و ایذاء نہیں پہنچاتے، جھوٹ نہیں بولتے، دھوکہ نہیں دیتے، اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ دنیا کا عذاب کسی قوم پر محض ان کے مشرک کافر ہونے کی وجہ سے نہیں آتا جب تک کہ وہ اعمال و اخلاق میں بھی ایسے کام نہ کرنے لگیں جن سے زمین میں فساد پھیلتا ہے، پچھلی جتنی قوموں پر عذاب آئے ان کے خاص خاص اعمال بد اس کا سبب بنے، نوح ؑ کی قوم نے حضرت نوح ؑ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں، قوم شعیب ؑ نے ناپ تول میں کمی کرکے فساد پھیلایا، قوم لوط ؑ نے بد ترین قسم کی بدکاری کو شیوہ بنایا، قوم موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) نے اپنے پیغمبروں پر ظلم ڈھائے، قرآن کریم نے دنیا میں ان پر عذاب آنے کا سبب انہی اعمال و افعال کو بتلایا ہے، نرے کفر و شرک کی وجہ سے دنیا میں عذاب نہیں آتا اس کی سزا تو جہنم کی دائمی آگ ہے، اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ ملک و سلطنت کفر و شرک کے ساتھ چل سکتے ہیں مگر ظلم و جور کے ساتھ نہیں چل سکتے۔
Ayahs 11:118–123اختلاف مذموم اور محمود
پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز ان لوگوں کے جن پر اللہ تعالیٰ نے رحمت فرمائی، یعنی انبیاء (علیہم السلام) کا اتباع کرنے والے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف سے مراد اس جگہ دین حق اور تعلیم انبیاء کی مخالفت ہے، اجتہادی اختلاف جو ائمہ دین اور فقہاء اسلام میں ہونا ناگزیر ہے اور عہد صحابہ سے ہوتا چلا آیا ہے، وہ اس میں داخل نہیں، نہ وہ رحمت الہٰی کے خلاف ہے بلکہ مقتضائے حکمت و رحمت ہے، جن حضرات نے ائمہ مجتہدین کے اختلاف کو اس آیت کی رو سے غلط، خلاف رحمت قرار دیا ہے، یہ خود سیاق آیت کے بھی خلاف ہے اور صحابہ وتابعین کے تعامل کے بھی۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔