11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayah 11:15

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی چاہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا میں اور ان کو اس میں کچھ نقصان نہیں،

خلاصہ تفسیر جو شخص (اپنے اعمال خیر سے) محض حیات دنیوی (کی منفعت) اور اس کی رونق (حاصل کرنا) چاہتا ہے (جیسے شہرت و نیک نامی و جاہ اور ثواب آخرت حاصل کرنے کی اس کی نیت نہ ہو) تو ہم ان لوگوں کے (ان) اعمال (کی جزا) ان کو دنیا ہی میں پورے طور سے بھگتا دیتے ہیں اور ان کے لئے دنیا میں کچھ کمی نہیں ہوتی (یعنی دنیا ہی میں ان کے اعمال کے عوض ان کو نیک نامی اور صحت و فراغ عیش و کثرت اموال و اولاد عنایت کردیا جاتا ہے جب کہ ان کے اعمال کا اثر ان کے اضداد پر غالب ہو اور اگر اضداد غالب ہوں تو پھر یہ اثر نہیں مرتب ہوتا، یہ تو دنیا میں ہوا رہا آخرت میں، سو) یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ (ثواب وغیرہ) نہیں اور انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ آخرت میں سب (کا سب) ناکارہ (ثابت) ہوگا اور (واقع میں تو) جو کچھ کر رہے ہیں وہ (اب بھی) بےاثر ہے (بوجہ فساد نیت کے مگر صورت ظاہری کے اعتبار سے ثابت سمجھا جاتا ہے آخرت میں یہ ثبوت بھی زائل ہوجاوے گا) کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن پر قائم ہو جو کہ اس کے رب کی طرف سے آیا ہے اور اس (قرآن) کے ساتھ ایک گواہ تو اسی میں موجود ہے (یعنی اس کا معجزہ ہونا جو کہ دلیل عقلی ہے) اور (ایک) اس سے پہلے (یعنی) موسیٰ ؑ کی کتاب (یعنی توریت اس کے ساتھ شہادت کے لئے موجود) ہے جو کہ (احکام بتلانے کے اعتبار سے) امام ہے اور (احکام پر جو ثمرہ وثواب ملے گا اس کے اعتبار سے وہ کتاب سبب) رحمت ہے (اور یہ دلیل نقلی ہے، غرض قرآن کے صدق و صحت کے لئے عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں پس ان ہی دلائل کے سبب سے) ایسے لوگ (جن کا ذکر ہوا کہ وہ صاحب بیّنہ ہیں) اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور (کافر کا یہ حال ہے کہ) جو شخص دوسرے فرقوں میں سے اس قرآن کا انکار کرے گا تو دوزخ اس کے وعدہ کی جگہ ہے (پھر منکر قرآن مصدق قرآن کے برابر کب ہوا) سو (اے مخاطب) تم قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑنا بلا شک و شبہ وہ سچی کتاب ہے تمہارے رب کے پاس سے (آئی ہے) لیکن (باوجود ان دلائل کے غضب ہے کہ) بہت سے آدمی ایمان نہیں لاتے۔ معارف و مسائل مخالفین اسلام کو جب عذاب کی وعیدیں سنائی جاتیں تو وہ اپنی خیرات و صدقات اور خدمت خلق و رفا عام کے کاموں کو سند میں پیش کرتے تھے کہ ہم ایسے نیک کام کرتے ہیں پھر ہم کو عذاب کیسا ؟ اور آج تو بہت ناواقف مسلمان بھی اس شبہ میں گرفتار نظر آتے ہیں کہ جو کافر ظاہری اعمال و اخلاق درست رکھتے ہیں، خلق خدا کی خدمت اور خیرات و صدقات کرتے ہیں، سڑکیں پل شفا خانے، پانی کی سبیلیں بناتے اور چلاتے ہیں ان کو مسلمانوں سے اچھا جانتے ہیں، مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ خلاصہ جواب کا یہ ہے کہ ہر عمل کے مقبول اور باعث نجات آخرت ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل اللہ کے لئے کیا گیا ہو، اور اللہ کے لئے کرنا وہی معتبر ہے جو اس کے رسول کے بتلائے ہوئے طریقہ پر کیا گیا ہو، جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہی نہیں رکھتا اس کے تمام اعمال و اخلاق ایک بےروح ڈھانچہ ہے جس کی شکل و صورت تو اچھی بھی ہے مگر روح نہ ہونے کی وجہ سے دار آخرت میں اس کا کوئی وزن اور اثر نہیں، البتہ دنیا میں چونکہ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور ظاہری صورت کے اعتبار سے وہ نیک عمل ہے اس لئے اللہ جل شانہ نے اپنے کمال عدل و انصاف کی بناء پر اس عمل کو بھی بالکل ضائع نہیں قرار دیا بلکہ اس کے کرنے والے کے پیش نظر جو مقصد تھا کہ دنیا میں اس کی عزت ہو لوگ اس کو سخی کریم، بڑا آدمی سمجھیں، دنیا کی دولت، تندرستی اور راحت نصیب ہو، اللہ تعالیٰ اس کو یہ سب کچھ دنیا میں دیدیتے ہیں، آخرت کا تصور اور وہاں کی نجات اس کے پیش نظر ہی نہ تھی اور نہ اس کا بےروح عمل وہاں کی نعمتوں کی قیمت بن سکتا تھا اس لئے ان اعمال کا وہاں کچھ عوض نہ ملے گا اور کفر و معصیت کی وجہ سے جہنم میں رہے گا، یہ خلاصہ مضمون ہے پہلی آیت کا، اب اس کے الفاظ کو دیکھئے۔ ارشاد ہے کہ جو شخص صرف دنیا کی زندگی اور اس کی رونق ہی کا ارادہ کرتا رہا تو ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں پورا دیدیتے ہیں، ان کے لئے دنیا میں کچھ کمی نہیں ہوتی، یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں بجز دوزخ کے اور کچھ نہیں۔ یہاں یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ قرآن میں اس جگہ مَن اَرَادَ کا مختصر لفظ چھوڑ کر مَنْ كَانَ يُرِيْدُ کا لفظ اختیار فرمایا ہے جو دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے جس کا ترجمہ ارادہ کرتا رہا، کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ حال صرف ایسے لوگوں کا ہے جو شخص آخرت کی فکر اور وہاں کی نجات کے لئے عمل کرتا ہے پھر اس کے ساتھ کچھ دنیا کا بھی ارادہ کرلے تو وہ اس میں داخل نہیں۔ ائمہ تفسیر کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کفار کے حق میں آئی ہے یا مسلمانوں کے یا مسلم و کافر دونوں سے متعلق ہے ؟ آیت کے آخری جملہ میں جو الفاظ آئے ہیں کہ آخرت میں ان کے لئے بجز دوزخ کے کچھ نہیں، اس سے ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار ہی کے متعلق ہے کیونکہ مسلمان کتنا ہی گناہگار ہو، گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد آخر کار جنت میں جائے گا، اسی لئے ضحاک وغیرہ مفسرین نے اس کو کفار ہی کے متعلق قرار دیا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو اپنے نیک اعمال سے صرف دنیا کی بھلائی، راحت، دولت، عزت کے طلبگار ہیں، نیک عمل اسی نیت سے کرتے ہیں کہ دنیا میں عزت و راحت ملے، اور مذکورہ جملہ کا مطلب یہ ہے جب تک اپنے اعمال بد کی سزا نہ بھگت لیں گے اس وقت تک ان کو بجز دوزخ کے کچھ نہ ملے گا۔ اور زیادہ راجح اور واضح بات یہ ہے کہ یہ آیت ان لوگوں سے متعلق ہے جو اپنے اعمال صالح کو صرف دنیا کے فوائد دولت، عزت، صحت وغیرہ کی نیت سے کرتے ہیں خواہ ایسا کرنے والے کافر ہوں جو آخرت کے قائل ہی نہیں، یا مسلمان ہوں جو زبان سے آخرت کے قائل ہیں مگر عمل میں اس کی فکر نہیں رکھتے، بلکہ ساری فکر دنیا ہی کے فوائد سے وابستہ رکھتے ہیں، حضرات مفسرین میں سے مجاہد، میمون بن مہران، معاویہ ؓ نے اسی کو اختیار فرمایا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی مشہور حدیث انما الاعمال بالنیات سے بھی اسی معنی کی تائید ہوتی ہے کہ جو شخص اپنے عمل میں جس چیز کی نیت کرتا ہے، اس کو وہی ملتی ہے، جو دنیا کی نیت کرتا ہے اس کو دنیا ملتی ہے، جو آخرت کی نیت کرتا ہے آخرت ملتی ہے، جو دونوں کی نیت کرتا ہے اس کو دونوں ملتی ہیں، تمام اعمال کا مدار نیت پر ہونا ایک ایسا اصول ہے جو ہر ملت و مذہب میں تسلیم کیا گیا ہے۔ (قرطبی)۔ اسی لئے ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز ان لوگوں کو لایا جائے گا جو دنیا میں عبادت اس لئے کرتے تھے کہ لوگوں کی نظر میں ان کی عزت ہو، ان سے کہا جائے گا کہ تم نے نماز پڑھی، صدقہ خیرات کیا، جہاد کیا، قرآن کی تلاوت کی مگر یہ سب اس نیت سے کیا کہ تم نمازی اور سخی اور غازی اور قاری کہلاؤ تو جو تم چاہتے تھے وہ تمہیں مل گیا، دنیا میں تمہیں یہ خطابات مل چکے اب یہاں تمہارے ان اعمال کا کوئی بدلہ نہیں اور سب سے پہلے جہنم میں ان لوگوں کو ڈالا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ یہ حدیث نقل کرکے رو پڑے اور فرمایا کہ قرآن کریم کی آیت مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا سے اس حدیث کی تصدیق ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں بروایت انس منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتے، مومن جو نیک کام کرتا ہے اس کو دنیا میں بھی کچھ بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ثواب ملتا ہے، اور کافر (چونکہ آخرت کی فکر ہی نہیں رکھتا اس لئے اس) کا حساب دنیا ہی میں بھگتا دیا جاتا ہے، اس کے نیک اعمال کے بدلہ میں دنیا کی دولت، عزت، صحت، راحت اس کو دے دیجاتی ہے یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا جس کا معاوضہ وہاں پائے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ مومن اگرچہ دنیا کی فلاح کا بھی خواہش مند ہوتا ہے مگر آخرت کا ارادہ غالب رہتا ہے اس لئے اس کو دنیا میں بقدر ضرورت ہی ملتا ہے اور بڑا معاوضہ آخرت میں پاتا ہے۔ حضرت فاروق اعظم ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کے مکان پر حاضر ہوئے تو سارے گھر میں چند گنی چنی چیزوں کے سوا کچھ نہ دیکھا تو آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ دعا فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو بھی دنیا کی وسعت عطا فرماویں، کیونکہ ہم فارس و روم کو دیکھتے ہیں وہ دنیا میں بڑی وسعت اور فراخی میں ہیں حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے، آنحضرت ﷺ تکیہ سے کمر لگائے ہوئے تھے، حضرت عمر کے یہ الفاظ سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایااے عمر ! تم اب تک اسی خیال میں پڑے ہو، یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیوں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیا گیا ہے۔ (مظہری)۔ جامع ترمذی اور مسند احمد میں بروایت انس منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی نیت اپنے اعمال میں طلب آخرت کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کے دل کو غنی کردیتے ہیں اور اس کی ضروریات کو پورا فرما دیتے ہیں اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ محتاجی اس کے سامنے کردیتے ہیں کہ اس کی حاجت کبھی پوری ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہوس دنیا اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی ایک حاجت پوری ہونے سے پہلے دوسری حاجت سامنے آجاتی ہے اور بیشمار فکریں اس کو لگ جاتی ہیں اور ملتا صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے۔ آیت مذکورہ میں جو یہ ارشاد ہوا ہے کہ دنیا کا ارادہ کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دنیا ہی میں پورا دے دیا جاتا ہے، اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ باوجود دنیا کا ارادہ کرنے اور کوشش کرنے کے دنیا میں بھی ان کا مطلب پورا نہیں ہوتا اور بعض دفعہ کچھ بھی نہیں ملتا، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت میں اس جگہ اجمال ہے اس کی پوری تفصیل سورة اسراء کی اس آیت میں ہے، جس میں فرمایا (آیت) مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ، یعنی جو شخص دنیا ہی کا ارادہ کر رہتا ہے ہم اس کو دنیا ہی میں نقد دیدیتے ہیں مگر یہ دنیا دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے، اول یہ کہ جس قدر دنیا چاہیں اتنا ہی دیتے ہیں ان کی مانگ اور طلب کے برابر دنیا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ صرف اسی شخص کو دیتے ہیں جس کو دنیا بتقاضائے حکمت مناسب سمجھتے ہیں ہر ایک کو دینا ضروری نہیں۔
Ayah 11:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی ہیں جن کے واسطے کچھ نہیں آخرت میں آگ کے سوا، اور برباد ہوا جو کچھ کیا تھا یہاں اور خراب گیا جو کمایا تھا،

دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ اور مؤمنین مخلصین کا حال ان لوگوں کے مقابلہ میں پیش کیا گیا جن کا مبلغ علم اور منتہائے مقصود صرف دنیا ہے تاکہ دنیا دیکھ لے کہ یہ دو گروہ برابر نہیں ہوسکتے، پھر ان کا یہ حال بیان کرکے رسول کریم ﷺ کی نبوت و رسالت کا تمام عالم انسان کے لئے قیامت تک عام ہونا، اور جو شخص آپ پر ایمان نہ لائے خواہ اعمال کچھ بھی کرے اس کا گمراہ اور جہنمی ہونا بیان فرمایا ہے۔ پہلے جملہ میں فرمایا کہ کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن پر قائم ہو جو کہ اس کے رب کی طرف سے آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک گواہ تو اسی میں موجود ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب گواہ ہے جو قابل اقتداء اور لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھجی گئی تھی۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو ہے صاف رستہ پر اپنے رب کے اور اس کے ساتھ ساتھ ہے ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے گواہ تھی موسیٰ کی کتاب رستہ بتاتی اور بخشواتی (اوروں کی برابر ہے ؟) یہی لوگ مانتے ہیں قرآن کو، اور جو کوئی منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے سو دوزخ ہے ٹھکانہ اس کا، سو تو مت رہ شبہ میں اس سے، بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور پر بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے۔

اس آیت میں بیّنہ سے مراد قرآن ہے اور شاھد کے معنی میں ائمہ تفسیر کے مختلف اقوال ہیں، بیان القرآن میں حضرت تھانوی قدس سرہ نے اس کو اختیار کیا ہے کہ شاہد سے مراد وہ اعجار قرآنی ہے جو خود قرآن میں موجود ہے، تو معنی یہ ہوگئے کہ وہ لوگ جو قرآن پر قائم ہیں اور ان کے پاس قرآن کی حقانیت کا ایک گواہ تو خود قرآن میں موجود ہے یعنی اس کا اعجاز اور دوسرا گواہ اس سے پہلے بصورت تورات آچکا ہے جو موسیٰ ؑ لوگوں کے لئے قابل اقتداء اور رحمت حق کی حیثیت سے لائے تھے کیونکہ تو ارت میں قرآن کریم کا حق ہونا واضح طور پر بیان کیا گیا۔ دوسرے جملہ میں آنحضرت ﷺ پر ایمان کو قیامت تک مدار نجات قرار دینے کا بیان اس طرح فرمایا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب اور ملتوں میں سے جو شخص بھی آپ کا انکار کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جو یہودی یا نصرانی میری دعوت کو سنے اور اس کے باوجود میری لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان نہ لائے تو وہ اہل جہنم میں سے ہوگا۔ اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجانی چاہئے جو بہت سے یہود و نصاری یا دوسرے مذہب کے پیروؤں کے بعض ظاہری اعمال کی بناء پر ان کو حق پر کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان کے بغیر صرف ظاہری اعمال کو نجات کے لئے کافی سمجھتے ہیں، یہ قرآن مجید کی آیت مذکورہ اور حدیث کی اس صحیح روایت سے کھلا تصادم ہے۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 11:18–24

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ وہ لوگ روبرو آئیں گے اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی دینے والے یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر سن لو پھٹکار ہے اللہ کی ناانصاف لوگوں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے ہیں اس میں کجی، اور وہی ہیں آخرت سے منکر

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں بھاگ کر اور نہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی دونا ہے ان کے لئے عذاب نہ طاقت رکھتے تھے سننے کی اور نہ دیکھتے تھے،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

وہی ہیں جو کھو بیٹھے اپنی جان اور گم ہوگیا ان سے جو جھوٹ باندھا تھا،

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں یہی ہیں سب سے زیادہ نقصان میں،

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے نیک اور عاجزی کی اپنے رب کے سامنے وہ ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں رہا کریں گے،

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

مثال ان دونوں فرقوں کی جیسے ایک تو اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا، کیا برابر ہے دونوں کا حال، پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔

خلاصہ تفسیر اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے بھی منکر تھے (یہ فرشتوں کے اعلان کا مضمون تھا، آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ) یہ لوگ (تمام) زمین (کے تختہ) پر (بھی) خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے تھے (کہ کہیں جا چھپتے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ نہ آتے) اور نہ ان کا خدا کے سوا کوئی مددگار ہوا (کہ بعد گرفتاری کے چھڑا لیتا) ایسوں کو (اوروں سے) دونی سزا ہوگی (ایک کافر ہونے اور ایک دوسروں کو کافر بنانے کی کوشش کرنے کی) یہ لوگ (مارے نفرت کے احکام الہٰی کو) سن نہ سکتے تھے اور نہ (غایت عناد سے راہ حق کو) دیکھتے تھے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو برباد کر بیٹھے اور جو معبود انہوں نے تراش رکھے تھے (آج) ان سے سب غائب (اور گم) ہوگئے (کوئی بھی تو کام نہ آیا پس) لازمی بات ہے کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ میں یہی لوگ ہوں گے (یہ تو انجام ہوگا کافروں کا آگے مسلمانوں کا انجام مذکور ہے کہ) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اچھے کام کئے اور (دل سے) اپنے رب کی طرف جھکے (یعنی انقیاد اور خشوع دل میں پیدا کیا) ایسے لوگ اہل جنت ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے (یہ دونوں کے انجام کا تفاوت بیان ہوگیا، آگے تفاوت حال کی مثال ہے جس پر انجام کا تفاوت مرتب ہوتا ہے پس ارشاد ہے کہ) دونوں فریق (مذکورین یعنی مومن و کافر) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص ہو اندھا بھی ہو اور بہرا بھی (جو نہ عبارت کو سنے نہ اشارہ کو دیکھے تو اس کے سمجھنے کی عادۃً کوئی صورت ہی نہیں) اور ایک شخص ہو جو دیکھتا بھی ہو اور سنتا بھی ہو (اس کو سمجھنا بہت آسان ہو) کیا یہ دونوں شخص حالت میں برابر ہیں (ہرگز نہیں، یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ وہ ہدایت سے بہت دور ہے اور یہ ہدایت سے موصوف ہے) کیا تم (اس فرق کو) سمجھتے نہیں (ان دونوں میں فرق بدیہی ہے اس میں شبہ کی گنجائش نہیں)۔
Ayahs 11:25–26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف کہ میں تم کو ڈر کی بات سناتا ہوں کھول کر

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ نہ پرستش کرو اللہ کے سوا میں ڈرتا ہوں تم پر درد ناک دن کے عذاب سے،

خلاصہ تفسیر اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس رسول بنا کر (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت مت کرو (اور جو بت تم نے قرار دے رکھے ہیں، وَدّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑ دو ، چناچہ حضرت نوح ؑ نے جا کر ان سے فرمایا کہ) میں تم کو (درصورت عبادت غیر اللہ کے) صاف صاف ڈراتا ہوں (اور اس ڈرانے کی تفصیل یہ ہے کہ) میں تمہارے حق میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں سو ان کی قوم میں جو کافر سردار تھے وہ (جواب میں) کہنے لگے کہ (تم جو نبوت کا دعوی کرتے ہو جیسا نذیر مبین سے معلوم ہوتا ہے تو ہمارے جی کو یہ بات نہیں لگتی کیونکہ) ہم تو تم کو اپنے ہی جیسا آدمی دیکھتے ہیں (اور بشر کا نبی ہونا دور از کار ہے) اور اگر (بعض لوگوں کے اتباع کرنے سے استدلال کیا جاوے تو وہ قابل استدلال نہیں کیونکہ) ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا اتباع انہیں لوگوں نے کیا ہے جو ہم میں بالکل رذیل ہیں (جن کی عقل اکثر خفیف ہوتی ہے پھر) وہ (اتباع) بھی محض سرسری رائے سے (ہوا ہے یعنی اول تو ان کی عقل ہی صائب نہیں غور کے بعد بھی غلطی کرتے دوسرے پھر غور بھی نہیں کیا، اس لئے ایسے لوگوں کا تم کو نبی سمجھ لینا یہ کوئی حجت نہیں بلکہ بالعکس ہمارے اتباع سے مانع ہے کیوں کہ شرفاء کو رذیلوں کی موافقت سے عار آتی ہے نیز اکثر ایسے کم حوصلہ لوگوں کے اغراض بھی حصول مال یا ترفع ہوا کرتا ہے، سو یہ لوگ بھی دل سے ایمان نہیں لائے) اور (اگر یہ کہا جاوے کہ باوجود رذیل ہونے کے ان لوگوں کو کسی خاص امر کے اعتبار سے ہم پر فضیلت ہے جس کے اعتبار سے ان کی رائے اس بات میں سائب ہے سو) ہم تم لوگوں میں (یعنی تم میں اور مسلمانوں میں) کوئی بات اپنے سے زیادہ نہیں پاتے (اس لئے تم مسلمانوں کی رائے کو صحیح نہیں سمجھتے) بلکہ ہم تم کو (بالکل) جھوٹا سمجھتے ہیں، نوح ؑ نے فرمایا کہ اے میری قوم (تم جو کہتے ہو کہ تمہاری نبوت جی کو نہیں لگتی تو) بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں (جس سے میری نبوت ثابت ہوتی ہو) اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت (یعنی نبوت) عطا فرمائی ہو پھر وہ (نبوت یا اس کی حجت) تم کو نہ سوجھتی ہو تو (میں کیا کروں محبوب ہوں) کیا ہم اس (دعوٰی یا دلیل) کو تمہارے سر منڈھ دیں اور تم اس سے نفرت کئے چلے جاؤ مطلب یہ ہے کہ تمہارا یہ کہنا کہ جی کو نہیں لگتی یہ محض اس وجہ سے ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں، اور میرے پاس اس کے واقع اور صحیح ہونے کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع، اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں لیکن کسی دلیل کا فائدہ موقوف ہے غور و فکر پر وہ تم کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے) اور (اتنی بات اور زائد فرمائی کہ) اے میری قوم (یہ تو سوچو کہ اگر میں نبوت کا غلط دعوٰی کرتا تو آخر اس میں میرا کچھ مطلب تو ہوتا مثلا یہی ہوتا کہ اس کے ذریعہ سے خوب مال کماؤں گا تو تم کو معلوم ہے کہ) میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ مال نہیں مانگتا، میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے (اسی سے آخرت میں اس کا طالب ہوں اسی طرح اور اغراض بھی اگر غور کرو تو منتفی پاؤ گے پھر جب کوئی غرض نہیں پھر مجھ کو جھوٹ بولنے سے کیا فائدہ تھا خلاصہ یہ ہے کہ کذب دعوی کو کوئی امر مقتضی نہیں اور صدق دعوی پر دلیل قائم ہے پھر نبوت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے) اور (تم جو اتباع اراذل کو اپنے اتباع سے مانع بتلاتے ہو اور صراحةً یا دلالةً یہ چاہتے ہو کہ میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں سو) میں تو ان ایمان والوں کو نکالتا نہیں (کیونکہ) یہ لوگ اپنے رب کے پاس (عزت و مقبولیت کے ساتھ) جانے والے ہیں (اور بھلا کوئی شخص مقربان شاہی کو نکالا کرتا ہے اور اس سے اس کا بھی جواب ہوگیا کہ یہ لوگ دل سے ایمان نہیں لائے) لیکن واقعی میں تم لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ (خواہ مخواہ کی) جہالت کر رہے ہو (اور بےڈھنگی باتیں کر رہے ہو) اور (بالفرض والتقدیر) اگر میں ان کو نکال بھی دوں تو (یہ بتلاؤ کہ) مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچائے گا (کیا تم میں اتنی ہمت ہے جو ایسے بیہودہ مشورے دے رہے ہو) کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے اور (اس تقریر میں ان کے تمام شبہات کا جواب ہوگیا لیکن آگے ان سب جوابوں کا پھر تتمہ ہے یعنی جب میری نبوت دلیل سے ثابت ہے تو اول تو دلیل کے سامنے استبعاد کوئی چیز نہیں پھر یہ کہ وہ مستبعد بھی انہیں البتہ کسی امر عجیب و غریب کا اگر دعوی کرتا تو انکار واستبعاد چندان منکر و مستبعد نہ تھا گو دلیل کے بعد پھر وہ بھی مسموع نہیں البتہ اگر دلیل بھی مقتضی استبعاد کو ہو تو پھر واجب ہے لیکن میں تو کسی ایسے امر عجیب کا دعوی نہیں کرتا چنانچہ) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) تمام غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور (یہ تو اپنی نبوت کے متعلق ارشاد فرمایا، آگے اپنے تابعین کے متعلق ارشاد ہے یعنی) جو لوگ تمہاری نگاہوں میں حقیر ہیں میں ان کی نسبت (تمہاری طرح) یہ نہیں کہہ سکتا کہ (یہ لوگ دل سے ایمان نہیں لائے اس لئے) اللہ تعالیٰ ہرگز ان کو ثواب نہ دے گا ان کے دل میں جو کچھ ہو اس کو اللہ ہی خوب جانتا ہے (تو ممکن ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص ہو تو پھر میں ایسی بات کیونکر کہہ دوں) میں تو (اگر ایسی بات کہہ دوں تو) اس صورت میں ستم ہی کروں (کیونکہ بےدلیل دعوٰی کرنا گناہ ہے، جب نوح ؑ نے سب باتوں کا پورا پورا جواب دے دیا جس کا جواب پھر ان سے کچھ بن نہ پڑا تو عاجز ہوکر) وہ لوگ کہنے لگے کہ اے نوح تم ہم سے بحث کرچکے پھر اس بحث کو بڑھا بھی چکے سو (اب بحث چھوڑو اور) جس چیز سے تم ہم کو دھمکایا کرتے ہو (کہ عذاب آجاوے گا) وہ ہمارے سامنے لے آؤ انہوں نے فرمایا کہ (اس کو لانے والا میں کون ہوں مجھ کو پہنچا دینے سنا دینے کا حکم تھا سو میں بجا لاچکا) اس کو تو اللہ تعالیٰ بشرطیکہ اس کو منظور ہو تمہارے سامنے لاوے گا اور (اس وقت پھر) تم اس کو عاجز نہ کرسکو گے (کہ وہ عذاب واقع کرنا چاہے اور تم نہ ہونے دو) اور (جو میرا کام تھا پہنچا دینا اور سنا دینا اس میں میں نے تمہاری پوری خیر خواہی اور دلسوزی کی لیکن) میری خیر خواہی تمہارے کام نہیں آسکتی گو میں تمہاری کیسی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو (جس کی وجہ تمہارا عناد و استکبار ہے مطلب یہ کہ جب تم ہی اپنی بد قسمتی سے اپنے لئے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے) وہی تمہارا مالک ہے (اور تم مملوک تو تم پر اس کے تمام حقوق واجب ہیں اور تم ان کو براہ عناد ضائع کرکے مجرم ہو رہے ہو) اور اسی کے پاس تم کو جانا ہے (وہ تمہارے اس سارے عناد و کفر کی کسر نکال دے گا) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود تراش لیا ہے آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ اگر (بالفرض) میں نے تراشا ہوگا تو میرا یہ جرم مجھ پر (عائد) ہوگا (اور تم میرے جرم سے بری الذمہ ہوگے) اور (اگر تم نے یہ دعوی تراشا ہوگا یعنی مجھ پر بہتان لگایا ہوگا تو تمہارا یہ جرم تم پر عائد ہوگا اور) میں تمہارے اس جرم سے بری الذمہ رہوں گا۔ معارف و مسائل حضرت نوح ؑ نے جب اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی تو قوم نے ان کی نبوت و رسالت پر چند شبہات و اعتراضات پیش کئے، حضرت نوح ؑ نے باذن اللہ ان کے جوابات دیئے جن کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل دیانت اور معاشرت کے بھی آگئے ہں، آیات مذکورہ میں یہی مکالمہ فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 11:27–28

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

پھر بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم کے ہم کو تو تو نظر نہیں آتا مگر ایک آدمی ہم جیسا اور دیکھتے نہیں کوئی تابع ہوا ہو تیرا مگر جو ہم میں نیچ قوم ہے بلا تامل اور ہم نہیں دیکھتے تم کو اوپر اپنے کچھ بڑائی بلکہ ہم کو تو خیال ہے کہ تم سب جھوٹے ہو

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

بولا اے قوم دیکھو تو اگر میں ہوں صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس نے بھیجی مجھ پر رحمت اپنے پاس سے پھر اس کو تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا، تو کیا ہم تم کو مجبور کرسکتے ہیں اس پر اور تم اس سے بیزار ہو،

تیسری آیت میں مشرکین کی گفتگو ہے جس میں چند شبہات و اعتراضات کئے گئے ہیں، اس آیت کے حل طلب الفاظ کی تشریح یہ ہے۔ لفظ مَلَاُ عام طور پر جماعت کے لئے بولا جاتا ہے، بعض ائمہ لغت کا کہنا ہے کہ قوم کے سرداروں اور ذمہ داروں کی جماعت کو مَلَاُ کہتے ہیں، بشر کا ترجمہ ہے انسان یا آدمی اَرَاذِلُ ارذل کی جمع ہے حقیر و ذلیل کو کہا جاتا ہے جس کی قوم میں کوئی حیثیت اور عزت نہ ہو، بَادِيَ الرَّاْيِ کے معنی ہیں ابتدائی اور سطحی رائے۔ ان لوگوں کا پہلا اعتراض حضرت نوح ؑ کی نبوت و رسالت پر یہ تھا کہ (آیت) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی آپ تو ہمیں جیسے انسان اور آدمی ہو، ہماری ہی طرح کھاتے پیتے چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے ہو پھر ہم آپ کا یہ فوق العادت امتیاز کیسے تسلیم کرلیں کہ آپ خدا کے رسول اور پیغمبر ہیں۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انسانوں کی طرح جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا جائے وہ جنس بشر سے نہ ہونا چاہئے بلکہ کوئی فرشتہ ہو جس کا امتیاز سارے انسانوں کو چار و ناچار تسلیم کرنا پڑے۔ اس کا جواب چوتھی آیت میں یہ دیا گیا، (آیت) يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۔ اس میں بتلایا گیا کہ رسول کا بشر یا آدمی ہونا تو نبوت و رسالت کے منافی نہیں بلکہ غور کرو تو یہی ضروری ہے کہ آدمیوں کا رسول آدمی ہونا چاہئے تاکہ آدمیوں کو اس سے دین سیکھنا آسان ہو انسان اور فرشتہ کے مزاج میں زمین آسمان کا تفاوت ہے، اگر فرشتہ کو رسول بنا کر بھیج دیا جاتا تو انسانوں کو اس سے دین سیکھنا سخت مشکل ہوجاتا، کیونکہ فرشتہ کو تو نہ بھوک لگتی ہے نہ پیاس نہ نیند آتی ہے نہ تکان ہوتا ہے، نہ اس کو انسانی ضروریات و حوائج پیش آتی ہیں وہ انسانوں کی اس کمزوری کا احساس کیسے کرتا، اور بغیر اس احساس کے انسان عمل میں اس کا اتباع کیسے کرسکتے، یہ مضمون قرآن کی دوسری آیتوں میں صراحةً اور اشارۃً کئی جگہ آچکا ہے یہاں اس کا ذکر کرنے کے بجائے یہ بتلایا کہ اگر عقل سے کام لو تو رسول و پیغمبر کے لئے یہ تو ضروری نہیں کہ وہ آدمی نہ ہو، ہاں یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بینہ اور حجت اس کے ساتھ ہو جس کو دیکھ کر لوگوں کو یہ تسلیم کرنا آسان ہوجائے کہ یہ خدا ہی کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہے، وہ بینہ اور حجت عام لوگوں کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ہوتے ہیں، اسی لئے نوح ؑ نے فرمایا کہ میں اپنے ساتھ اللہ کی طرف سے بینہ اور حجت اور رحمت لے کر آیا ہوں تم اس کو دیکھتے اور غور کرتے تو انکار نہ کرتے، مگر تمہارے انکار وعناد نے تمہاری نگاہوں کو اس سے اندھا کردیا اور تم انکار کر بیٹھے اور اپنی ضد پر جم گئے۔ مگر خدا تعالیٰ کی یہ رحمت جو پیغمبر کے ذریعہ آتی ہے ایسی چیز نہیں کہ زبردستی لوگوں کے سر ڈال دی جائے، جب تک وہ خود اس کی طرف رغبت نہ کریں، اس میں اشارہ پایا گیا کہ دولت ایمان جو میں لے کر آیا ہوں اگر میرا بس چلتا تو تمہارے انکار اور ضد کے باوجود تمہیں دے ہی دیتا مگر یہ قانون قدرت کے خلاف ہے، یہ نعمت زبردستی کسی کے سر نہیں ڈالی جاسکتی، اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ زبردستی کسی کو مومن یا مسلمان بنانا کسی دور نبوت میں جائز نہیں رکھا گیا، بزور شمشیر اسلام پھیلانے کا سفید جھوٹ گھڑنے والے خود بھی اس حقیقت سے بیخبر نہیں مگر ایک بات ہے جو واقفوں کے دلوں میں تردد پیدا کرنے کے لئے چلتی کی جاتی ہے۔ اس کے ضمن میں اس کی وجہ بھی سمجھی گئی کہ فرشتہ کو رسول کیوں نہیں بنایا گیا، وجہ یہ ہے کہ فرشتہ جو مافوق العادت قوت و طاقت رکھتا ہے اور اپنے وجود کی ہر حیثیت میں انسان سے ممتاز ہے اس کو دیکھ کر ایمان لانا ایک جبری عمل ہوجاتا کس کی مجال تھی کہ فرشتہ کے سامنے وہ ہٹ دھرمی کرتا جو انبیاء کے سامنے کی جاتی ہے اور شرعاً وہ ایمان مقبول نہیں جو کسی قوت قاہرہ سے مجبور ہو کر اختیار کیا جائے، بلکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ کا پورا مشاہدہ کئے بغیر ایمان اختیار کیا جائے۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا (آیت) وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ ، یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ پر ایمان لانے والے سب سرسری نظر میں حقیر و ذلیل کمینے لوگ ہیں، کوئی شریف بڑا آدمی نہیں اس اعتراض کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ تمہاری بات اگر حق اور صحیح ہوتی تو قوم کے بڑے لوگ اس کو قبول کرتے، ان چھوٹے اور رذیل لوگوں کا قبول کرنا اس کی علامت ہے کہ آپ کی دعوت ہی قبول کرنے کے قابل نہیں، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے لئے آپ کی دعوت ایمان قبول کرنے سے رکاوٹ یہ ہے کہ ہم ایمان لے آئیں تو بحیثیت مسلمان ہم بھی ان کے برابر سمجھے جائیں گے، نمازوں کی صفوف اور دوسری مجالس میں ہمیں ان کے ساتھ ان کے برابر بیٹھنا پڑے گا یہ ہم سے نہیں ہوسکتا۔ حقیقت سے دور ان ناواقفوں نے غرباء فقراء کو جن کے پاس مال کی بہتات نہیں اور دنیوی جاہ و مال نہیں ان کو اراذل قرار دے رکھا تھا، حالانکہ یہ خود ایک جاہلانہ خیال ہے، عزت و ذلت اور عقل و فہم مال و دولت کے تابع نہیں بلکہ تجربہ شاہد ہے کہ جاہ و مال کا ایک نشہ ہوتا ہے جو انسان کو بہت سی معقول اور صحیح باتوں کے سمجھنے اور قبول کرنے سے روک دیتا ہے، کمزور غریب آدمی کی نظر کے سامنے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں وہ حق اور صحیح بات کو قبول کرنے میں مسابقت کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زمان قدیم سے عادۃ اللہ یہی رہی ہے کہ پیغمبروں پر اول ایمان لانے والے غرباء فقراء ہی ہوتے ہیں، اور پچھلی آسمانی کتابوں میں اس کی تصریحات بھی موجود ہیں، اسی وجہ سے جب ہرقل شاہ روم کے پاس آنحضرت ﷺ کا نامہ مبارک دعوت ایمان کے لئے پہنچا اور اس کو یہ فکر ہوئی کہ معاملہ کی تحقیق کرے چونکہ اس نے تورات و انجیل میں انبیاء (علیہم السلام) کی علامات پڑھی ہوئی تھیں اس لئے اس وقت عرب کے جو لوگ ملک شام میں آئے ہوئے تھے ان کو جمع کرکے ان علامات کے متعلق چند سوالات کئے۔ ان سوالات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کا اتباع کرنے والے قوم کے کمزور اور غریب لوگ ہیں یا وہ جو قوم کے بڑے کہلاتے ہیں ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ کمزور اور غریب لوگ ہیں ! اس پر ہرقل نے اقرار کیا کہ یہ علامت تو سچے نبی ہونے کی ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا اول اول اتباع کرنے والے یہی کمزور غریب لوگ ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ غرباء و فقراء کو رذیل سمجھنا ان کی جہالت تھی، حقیقت میں رذیل تو وہ ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے مالک کو نہ پہچانے، اس کے احکام سے روگردانی کرے اسی لئے سفیان ثوری ؒ سے کسی نے پوچھا کہ کمینہ اور رذیل کون ہے ؟ تو فرمایا وہ لوگ جو بادشاہوں اور افسروں کی خوشامد میں لگے رہیں، اور ابن الاعرابی نے فرمایا وہ شخص جو اپنا دین برباد کرکے کسی دوسرے کی دنیا سنوارے، امام مالک ؒ نے فرمایا کہ کمینہ وہ شخص ہے جو صحابہ کرام کو برا کہے کیونکہ وہ پوری امت کے سب سے بڑے محسن ہیں جن کے ذریعہ دولت ایمان و شریعت ان کو پہنچی ہے۔ بہرحال ان کے جاہلانہ خیال کی تردید تیسری آیت میں اول تو اس طرح کی گئی ہے کہ پیغمبر کی نظر کسی کے مال پر نہیں ہوتی وہ کسی سے اپنی خدمت و ہمدردی کا معاوضہ نہیں لیتا اس کا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہوتا ہے اس لئے اس کی نطر میں امیر و غریب برابر ہوتے ہیں، تم اس سے نہ ڈرو کہ ہم مالدار ہیں، مسلمان ہوجائیں گے تو ہم سے مال کا مطالبہ کیا جائے گا۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ مال، میری مزدوری نہیں مگر اللہ پر اور میں نہیں ہانکنے والا ایمان والوں کو ان کو ملنا ہے اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ جاہل ہو

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم کون چھڑائے مجھ کو اللہ سے اگر ان کو ہانک دوں کیا تم دھیان نہیں کرتے

دوسرے یہ بتلایا گیا کہ تم جو ایمان قبول کرنے کے لئے یہ شرط پیش کرتے ہو کہ میں غریب لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو سمجھ لو کہ یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ غریب ہیں مگر بارگاہ رب العزت میں ان کی رسائی اور اعزاز ہے ایسے لوگوں کو نکالنا کوئی عقل کا کام نہیں، اور مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر بالفرض میں ان کو نکال دوں تو قیامت کے روز یہ لوگ جب اپنے رب کے سامنے جائیں گے اور فریاد کریں گے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا، چوتھی آیت کا یہی مضمون ہے کہ اگر میں ان کو نکال دوں تو مجھے خدا کے عذاب سے کون بچائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب تمہاری جہالت ہے کہ تم آدمیت کو نبوت کے منافی سمجھتے ہو یا غریب لوگوں کو نکال دینے کی فرمائش کرتے ہو۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں نہیں کہتا تم کو کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں خبر رکھوں غیب کی اور نہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری آنکھ میں حقیر ہیں نہ دے گا ان کو اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے جی میں ہے یہ کہوں تو میں بےانصاف ہوں،

پانچویں آیت میں حضرت نوح ؑ کی وہ تقریر نقل کی گئی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سب اعتراضات سننے کے بعد ان کو کچھ اصول ہدایات دینے کے لئے ارشاد فرمائی، جس میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت و رسالت کیلئے وہ چیزیں ضروری نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہیں۔ مثلاً پہلے فرمایا (آیت) وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ ، یعنی میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں، اس میں ان لوگوں کے اس خیال کی تردید ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں تو ان کے ہاتھ میں خزانے ہونے چاہئیں جن سے لوگوں کو داد و دہش کرتے رہیں، نوح ؑ نے بتلایا کہ انبیاء کی بعثت کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو متاع دنیا میں الجھائیں، اس لئے خزانوں سے ان کا کیا کام۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں ان لوگوں کے اس خیال کی تردید ہو جو بعض لوگ سمجھا کرتے ہیں کہ اللہ نے انبیاء کو بلکہ اولیاء کو بھی مکمل اختیارات دے دیئے ہیں، اللہ کی قدرت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں جس کو چاہیں دیں جس کو چاہیں نہ دیں تو نوح ؑ کے اس ارشاد سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے خزانوں کا مکمل اختیار کسی نبی کو بھی سپرد نہیں کیا، اولیاء کا تو کیا ذکر ہے، البتہ اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں اور خواہشیں اپنی قدرت سے پوری فرماتے ہیں۔ دوسرے فرمایا (آیت) وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ ، ان جاہلوں کا یہ بھی خیال تھا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا رسول ہو وہ عالم الغیب بھی ہونا چاہئے، اس جملہ میں واضح کردیا کہ نبوت و رسالت علم غیب کی مقتضی نہیں اور کیسے ہوتی جبکہ علم غیب حق تعالیٰ کی خصوصی صفت ہے جس میں کوئی نبی یا فرشتہ شریک نہیں ہوسکتا، ہاں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں غیب کے اسرار پر مطلع کردیتے ہیں مگر اس کی وجہ سے ان کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ہوتا کیونکہ ان کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ جس غیب کو چاہیں معلوم کرلیں۔ تیسری بات یہ فرمائی (آیت) وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ، یعنی میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں، اس میں ان کے اس خیال کی تردید ہوگئی کہ رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے۔
Ayahs 11:32–35

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

بولے اے نوح تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑ چکا اب لے آ جو تو وعدہ کرتا ہے ہم سے اگر تو سچا ہے،

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

کہا کہ لائے گا تو اس کو اللہ ہی اگر چاہے گا اور تم نہ تھکا سکو گے بھاگ کر،

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور نہ کارگر ہوگی تم کو میری نصیحت جو چاہوں کہ تم کو نصیحت کروں اگر اللہ چاہتا ہوگا کہ تم کو گمراہ کرے وہی ہے رب تمہارا اور اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے،

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا قرآن کو کہہ دے اگر میں بنا لایا ہوں تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میرا ذمہ نہیں جو تم گناہ کرتے ہو۔

چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہاری نظریں جن غریب بےسرمایہ لوگوں کو حقیر و ذلیل دکھتی ہیں میں تمہاری طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کوئی خیر اور بھلائی نہ دے گا کیونکہ خیر اور بھلائی کا تعلق مال و دولت سے نہیں بلکہ انسان کے قلب سے ہے اور دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کسی کا قلب خیر و صلاح کے قابل ہے کس کا نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر میں بھی تمہاری طرح ان کو حقیر و ذلیل کہنے لگوں تو میں بھی ظالم ہوجاؤں گا۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور حکم ہوا طرف نوح کی کہ اب ایمان نہ لائے گا تیری قوم میں مگر جو ایمان لاچکا تو غمگین نہ رہ ان کاموں پر جو کر رہے ہیں،

خلاصہ تفسیر اور (جب نصیحت کرتے ہوئے ایک زمانہ دراز گزر گیا اور کچھ اثر نہ ہوا تو) نوح ؑ کے پاس وحی بھیجی گئی کہ سوا ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لاچکے ہیں اور کوئی (نیا) شخص تمہاری قوم میں سے ایمان نہ لاوے گا سو جو کچھ یہ لوگ (کفر و ایذاء و استہزاء) کر رہے ہیں اس پر کچھ غم نہ کرو (کیونکہ غم تو خلاف توقع سے ہوتا ہے جب ان سے مخالفت کے سوا کوئی اور توقع ہی نہیں پھر کیوں غم کیا جاوے) اور (چونکہ ہمارا ارادہ اب ان کو غرق کرنے کا اور اس لئے طوفان آنے کو ہے پس) تم (اس طوفان سے بچنے کے لئے) ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی تیار کرلو (کہ اس کے ذریعہ سے طوفان سے تم اور مؤمنین محفوظ رہو گے) اور (مجھ سے کافروں (کی نجات) کے بارے میں کچھ گفتگو مت کرنا (کیونکہ) وہ سب غرق کئے جاویں گے (ان کے لئے یہ قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے تو ان کی سفارش بےکار ہوگی غرض نوح ؑ نے سامان کشتی کا جمع کیا) اور وہ کشتی تیار کرنے لگے (خواہ خود یا دوسرے کاریگروں کے ذریعہ سے) اور (اثنائے تیاری میں) جب کبھی ان کی قوم میں کسی رئیس گروہ کا ان پر گزر ہوتا تو (ان کو کشتی بناتا دیکھ کر اور یہ سن کر کہ طوفان آنے والا ہے) ان سے ہنسی کرتے (کہ دیکھو پانی کا کہیں نام و نشان نہیں مفت مصیبت جھیل رہے ہیں) آپ فرماتے کہ اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم تم پر ہنستے ہیں جیسا تم ہم پر ہنستے ہو (کہ عذاب ایسا نزدیک آپہنچا ہے اور تم کو ہنسی سوجھ رہی ہے ہم اس پر ہنستے ہیں) سو ابھی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ وہ کون شخص ہے جس پر (دنیا میں) ایسا عذاب آیا جاتا ہے جو اس کو رسوا کر دے گا اور (بعد مرگ) اس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے (غرض اسی طرح کے مکالمات اور معاملات ہوا کرتے) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (عذاب کا قریب) آپہنچا اور زمین سے پانی ابلنا شروع ہوا (اور یہ علامت تھی طوفان شروع ہوجانے کی اور اوپر سے پانی برسنا شروع ہوا اس وقت) ہم نے (نوح ؑ سے) فرمایا کہ ہر قسم (کے جانوروں) میں سے (جو کہ انسان کے لئے کارآمد ہیں اور پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے) ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ یعنی دو عدد اس (کشتی) میں چڑھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (چڑھا لو) باستثناء اس کے جس پر (غرق ہونے کا) حکم نافذ ہوچکا ہے (یعنی ان میں جو کافر ہو جن کی نسبت اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ کہہ دیا گیا ہے، اس کو سوار مت کرنا اور گھر والوں کے علاوہ) دوسرے ایمان والوں کو بھی (سوار کرلو) اور بجز قلیل آدمیوں کے ان کے ساتھ کوئی ایمان نہ لایا تھا (بس ان ہی کے سوار کرنے کا حکم ہوگیا)۔ معارف و مسائل حضرت نوح ؑ کو حق تعالیٰ نے تقر یبا ایک ہزار سال کی عمر دراز عطا فرمائی، اس کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دینے اور قوم کی اصلاح کرنے کی فکر اور پیغمبرانہ جدوجہد کا بھی یہ درجہ عطا فرمایا کہ اس طویل مدت عمر میں ہمیشہ اپنی قوم کو دین حق اور کلمہ توحید کی دعوت دیتے رہے، قوم کی طرف سے سخت سخت ایذاؤں کا سامنا کرنا پڑا ان کی قوم ان پر پتھراؤ کرتی یہاں تک کہ بےہوش ہوجاتے پھر جب ہوش آتا دعا کرتے کہ یا اللہ میری قوم کو معاف کردے یہ بیوقوف جاہل جانتے نہیں، قوم کی ایک نسل کے بعد دوسری کو دوسری کے بعد تیسری کو اس امید پر دعوت دیتے کہ شاید یہ حق کو قبول کرلیں۔ جب اس عمل پر صدیاں گزر گئیں تو رب العزت کے سامنے ان کی حالت زار کی شکایت کی جو سورة نوح میں مذکور ہے (آیت) رَبِّ اِنِّىْ دَعَوْتُ قَوْمِيْ لَيْلًا وَّنَهَارًا، فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاۗءِيْٓ اِلَّا فِرَارًا، اور اتنے طویل مصائب کے بعد اس مرد خدا کی زبان پر یہ دعا آئی (آیت) رَبِّ انْــصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ ، یعنی اے میرے پروردگار ان کی تکذیب کے بالمقابل آپ میری مدد کیجئے۔ قوم نوح کا ظلم و جور سے گزر جانے کے بعد حق تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو ان آیات سے خطاب فرمایا جو اوپر مذکور ہیں (بغوی، مظہری)۔ ان میں اول تو حضرت نوح ؑ کو یہ بتلایا گیا کہ آپ کی قوم میں جن کو ایمان لانا تھا، لے آئے اب کوئی اور شخص ایمان قبول نہ کرے گا ان کے دلوں پر ان کی ہٹ دھرمی اور سرکشی کی بناء پر مہر لگ چکی ہے اس لئے اب آپ اس قوم کا غم نہ کھائیں اور ان کے ایمان قبول نہ کرنے سے پریشان نہ ہوں۔ دوسری بات یہ بتلائی گئی کہ اب ہم اس قوم پر عذاب پانی کے طوفان کا بھیجنے والے ہیں اس لئے آپ ایک کشتی تیار کریں جس میں آپ کے اہل و عیال اور جتنے مسلمان ہیں مع اپنی ضروریات کے سما سکیں تاکہ طوفان کے وقت یہ سب اس میں سوار ہو کر نجات پاسکیں، حضرت نوح ؑ نے حکم کے مطابق کشتی بنائی، پھر جب طوفان کی ابتداء کی علامات سامنے آگئیں کہ زمین سے پانی ابلنے لگا تو نوح ؑ کو حکم دیا گیا کہ خود مع اپنے اہل و عیال کے اور ان لوگوں کے جو آپ پر ایمان لائے ہیں اس کشتی میں سوار ہوجائیں، اور انسانوں کی ضروریات جن جانوروں سے متعلق ہیں جیسے گائے، بیل، بکری، گھوڑا، گدھا وغیرہ ان کا بھی ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلیں، حضرت نوح ؑ نے حکم کے مطابق سب کو سوار کرلیا۔ آخر میں فرمایا کہ نوح ؑ پر ایمان لانے والے اور کشتی میں سوار ہونے والے مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی۔ یہ خلاصہ مضمون ہے آیات متذکرہ کا، اب ہر ایک آیت کے مفہوم کی تشریح اور ان سے متعلقہ مضامین و مسائل دیکھئے۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ نوح ؑ پر یہ وحی بھجی گئی کہ ان کی قوم میں سے جو ایمان لانے والے تھے لاچکے ہیں آئندہ اور کوئی ایمان نہ لائے گا اس لئے یہ لوگ جو کچھ معاملہ آپ کے ساتھ کرتے ہیں اس سے آپ غمگین و پریشان نہ ہوں، کیونکہ غم و پریشانی عموماً جب ہوتی ہے جب کسی سے صلاح و فلاح کی امید وابستہ ہو، مایوسی بھی ایک قسم کی راحت ہوتی ہے آپ ان سے مایوس ہوجائیے، اور جو تکلیف و صدمہ حضرت نوح ؑ کو ان کی ایذاؤں سے پہنچ رہا تھا اس کے انتظام کی طرف دوسری آیت میں اشارہ کیا گیا کہ ان کو پانی کے طوفان میں غرق کردیا جائے گا، انہیں حالات میں حضرت نوح ؑ کی زبان پر اپنی قوم کے لئے وہ بددعا آئی تھی جس کا ذکر سورة نوح میں کیا گیا ہے (آیت) رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا، اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا، یعنی اے میرے پروردگار ! اب ان کافروں میں سے کوئی زمین بر بسنے والا نہ چھوڑئیے، کیونکہ اگر یہ رہے تو ان کی آئندہ نسل بھی ایسی ہی سرکشی اور فاجر و کافر ہوگی۔ یہی دعا قبول ہو کر پوری قوم نوح طوفان میں غرق کی گئی۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور بنا کشتی روبرو ہمارے اور ہمارے حکم سے اور نہ بات کر مجھ سے ظالموں کے حق میں یہ بیشک غرق ہوں گے،

نوح ؑ کو کشتی سازی کی تعلیم حضرت نوح ؑ کو جب کشتی بنانے کا حکم ملا اس وقت وہ نہ کشتی کو جانتے تھے نہ اس کے بنانے کو، اس لئے دوسری آیت میں ان کی سفینہ سازی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا (آیت) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا، یعنی آپ کشتی بنائیں ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ روایات حدیث میں ہے کہ جبرئیل امین نے بذریعہ وحی الہٰی حضرت نوح ؑ کو سفینہ سازی کی تمام ضروریات اور اس کا طریقہ بتلایا، انہوں نے سال کی لکڑی سے یہ کشتی تیار کی۔ بعض تاریخی روایات میں اس کی پیمائش یہ بتلائی گئی ہے کہ یہ تین سو گز لابنا، پچاس گز چوڑا، تیس گز اونچا، سہ منزلہ جہاز تھا اور روشن دان مروجہ طریق کے مطابق دائیں بائیں کھلتے تھے اس طرح یہ جہاز سازی کی صنعت وحی خداوندی کے ذریعہ سب سے پہلے حضرت نوح ؑ کے ہاتھوں شروع ہوئی، پھر اس میں ترقیات ہوتی رہیں۔ تمام ضروری صنعتوں کی ابتداء وحی کے ذریعہ ہوئی حافظ شمس الدین ذہبی کی الطب النبوی میں بعض سلف سے نقل کیا گیا ہے انسان کے لئے جتنی صنعتوں کی ضرورت ہے ان سب کی ابتدا بذریعہ وحی الہٰی کسی پیغمبر کے ذریعہ عمل میں آئی ہے پھر حسب ضرورت اس میں اضافے اور سہولتیں مختلف زمانوں میں ہوتی رہیں، سب سے پہلے پیغمبر حضرت آدم ؑ کی طرف جو وحی آئی ہے اس کا پیشتر حصہ زمین کی آباد کاری اور مختلف صنعتوں سے متعلق ہے، بوجھ اٹھانے کے لئے پہیوں کے ذریعہ چلنے والی گاڑی کی ایجاد بھی اسی سلسلہ کی ایجادات میں سے ہے۔ سرسید صاحب بانی علی گڑھ کالج نے خوب فرمایا ہے کہ زمانے نے طرح طرح کی گاڑیاں ایجاد کرلیں لیکن مدار کار ہر قسم کی گاڑیوں کا دھری اور پہیے پر ہی رہا، وہ بیل گاڑی اور گدھا گاڑی سے لے کر ریلوں اور بہترین قسم کی موٹر گاڑیوں تک سب میں مشترک ہے اس لئے سب سے بڑا موجد گاڑیوں کا وہ شخص ہے جس نے پہیہ ایجاد کیا کہ دنیا بھر کی ساری مشینری کی روح پہیہ ہی ہے اور معلوم ہوچکا کہ یہ ایجاد پیغمبر اول حضرت آدم ؑ کے ہاتھوں بذریعہ وحی الہٰی عمل میں آئی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اشیاء ضرروت کی صنعت کاری اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ بطور وحی انبیاء (علیہم السلام) کو سکھائی گئی ہے۔ حضرت نوح ؑ کو سفینہ سازی کی ہدایت دینے کے ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ آپ کی قوم پر طوفان آئے گا، وہ غرق ہوں گے، اس وقت آپ اپنی شفقت کی بناء پر ان کے بارے میں کوئی سفارش نہ کریں۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بناتا تھا اور جب گزرتے اس پر سردار اس کی قوم کے ہنسی کرتے اس سے بولا اگر تم ہنستے ہو ہم سے تو ہم ہنستے ہیں تم سے جیسے تم ہنستے ہو،

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اب جلد جان لو گے کہ کس پر آتا ہے عذاب کہ رسوا کرے اس کو اور اترتا ہے اس پر عذاب دائمی

تیسری آیت میں سفینہ سازی کے زمانہ میں قوم نوح ؑ کی غفلت اور انجام بد سے بےفکری کا حال ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت نوح ؑ بحکم خداوندی کشتی بنانے میں مشغول تھے ان کی قوم کے سردار جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو ؟ تو یہ فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے اس لئے کشتی تیار کر رہا ہوں ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاء کرتی تھی کہ یہاں پینے کے لئے تو پانی کا قحط ہے، یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں، حضرت نوح ؑ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اگر آج تم ہم سے استہزاء کرتے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں ہم تم سے استہزاء کریں گے، مراد یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئیں گے جو خود تمہارے استہزاء نہیں بلکہ حرام ہے، قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ ، یعنی کوئی کسی کے ساتھ استہزاء نہ کرے، ہوسکتا ہے کہ وہ اس استہزاء کرنے والے سے بہتر ہو، اس لیے یہاں استہزاء سے مراد ان کے استہزاء کا عملی جواب ہے کہ جب تم عذاب میں گرفتار ہوگے تو ہم تمہیں بتلائیں گے کہ یہ ہے تمہارے استہزاء کا انجام، جیسا کہ اس کے بعد چوتھی آیت میں فرمایا ہے کہ ”عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ایسا عذاب آیا چاہتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا، اور کس پر دائمی عذاب ہوتا ہے۔“ پہلے عذاب سے دنیا کا اور عذاب مقیم سے آخرت کا دائمی عذاب مراد ہے۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا حکم ہمارا اور جوش مارا تنور نے کہا ہم نے چڑھا لے کشتی میں ہر قسم سے جوڑا دو عدد اور اپنے گھر کے لوگ مگر جس پر پہلے ہوچکا ہے حکم اور سب ایمان والوں کو، اور ایمان نہ لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے۔

پا نچویں آیت میں طوفان کی ابتداء اور اس سے متعلقہ ہدایات اور واقعات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس میں ارشاد فرمایا (آیت) حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ ، یعنی جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگیا۔ لفظ تنور کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے، سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں، روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہا جاتا ہے، زمین کے بلند حصہ کے لئے بھی لفظ تنور بولا جاتا ہے اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا کہ اس جگہ تنور سے مراد سطح زمین ہے کہ اس سے پانی ابلنے لگا، بعض نے فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کا تنور مقام " عین وردہ " ملک شام میں تھا وہ مراد ہے، اس سے پانی نکلنے لگا، بعض نے فرمایا حضرت نوح ؑ کا اپنا تنور کوفہ میں تھا، وہ مراد ہے۔ اکثر مفسرین حضرت حسن، مجاہد، شعبی، حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہم نے اسی کو اختیار فرمایا ہے۔ اور شعبی تو قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ تنور شہر کوفہ کے ایک گوشہ میں تھا اور یہ کہ حضرت نوح ؑ نے اپنی کشتی مسجد کوفہ کے اندر بنائی تھی، اسی مسجد کے دروازہ پر یہ تنور تھا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ سے فرمایا تھا کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے گھر کے تنور سے پانی ابلنے لگا تو سمجھ لیں کہ طوفان آگیا، (قرطبی و مظہری) مفسر قرطبی نے فرمایا کہ اگرچہ تنور کے معنی میں مفسرین کے اقوال مختلف نظر آتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی اختلاف نہیں، جب طوفان کا پانی ابلنا شروع ہوا تو روٹی پکانے کے تنور سے بھی نکلا، سطح زمین سے بھی ابلا، ملک شام عین الوردہ کے تنور سے بھی نکلا، جیسا کہ قرآن کریم نے خود تصریح فرمائی ہے (آیت) فَفَتَحْنَآ اَبْوَاب السَّمَاۗءِ بِمَاۗءٍ مُّنْهَمِرٍ ، وَّفَجَّــرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا، یعنی ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے لئے کھول دیئے اور زمین سے چشمے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔ شعبی نے اپنے بیان میں یہ بھی فرمایا کہ یہ کوفہ کی جامع مسجد، مسجد حرام اور مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے بعد چوتھی مسجد ہے جو ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ آیت میں آگے یہ بیان فرمایا کہ جب طوفان شروع ہوگیا تو حضرت نوح ؑ کو حکم دیا گیا، (آیت) احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ یعنی سوار کرلیجئے اس کشتی میں ہر جوڑے والے جانوروں کا ایک ایک جوڑا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کشتی نوح میں ساری دنیا بھر کے جانور جمع نہیں کئے گئے تھے بلکہ صرف وہ جانور جو نر و مادہ کے جوڑے سے پیدا ہوتے ہیں اور پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے، اس لئے تمام دریائی جانور اس سے نکل گئے اور خشکی کے جانوروں میں بھی بغیر نر و مادہ کے پیدا ہونے والے حشرات الارض سب نکل گئے صرف پالتو جانور گائے، بیل بھینس، بکری وغیرہ رہ گئے۔ اس سے وہ شبہ دور ہوگیا جو سطحی نظر میں پیدا ہوسکتا ہے کہ کشتی میں اتنی وسعت کیسے ہوگئی کہ دنیا بھر کے جانور سما گئے۔ اور پھر نوح ؑ کو ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے اہل و عیال کو بجز ان کے جو کفر پر ہیں کشتی میں سورا کرلیں اور ان سب لوگوں کو بھی جو آپ پر ایمان لائے ہیں، مگر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔ کشتی والوں کی صحیح تعداد قرآن و حدیث میں متعین نہیں کی گئی، حضرت عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ تعداد کل اسی آدمیوں کی تھی جن میں حضرت نوح ؑ کے تین بیٹے سام، حام، یافث اور ان کی تین بیبیاں تھیں، چوتھا بیٹا کفار کے ساتھ رہ کر طوفان میں غرق ہوا۔