11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعارف القرآن

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور بولا سوار ہوجاؤ اس میں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا بیشک میرا رب ہے بخشنے والا مہربان

خلاصہ تفسیر اور نوح ؑ نے (سب جانوروں کو سوار کرکے اپنے متبعین سے) فرمایا کہ (آؤ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اور غرق سے کچھ اندیشہ مت کرنا کیونکہ) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (سب) اللہ ہی کے نام سے ہے (اور وہی اس کے محافظ ہیں پھر اندیشہ کیوں کیا جاوے اور گو بندوں کے گناہ مقتضی غرق کو ہیں مگر) بالیقین میرا رب غفور ہے رحیم ہے (وہ اپنی رحمت سے گناہ بخش دیتا ہے اور حفاظت بھی کرتا ہے، غرض سب کشتی پر سوار ہوگئے اور اس اثناء میں پانی بڑھ گیا) اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح ؑ نے اپنے (ایک سگے یا سوتیلے) بیٹے کو (جس کا نام کنعان تھا اور وہ باوجود فہمائش کے ایمان نہ لایا تھا اور بوجہ ایمان نہ لانے کے کشتی میں سوار نہ کیا گیا تھا اور اس وقت کشتی سے) علیحدہ مقام پر تھا کہ اے میرے پیارے بیٹے (کشتی میں سوار ہونے کی شرط کہ ایمان ہے بجا لا کر جلدی) ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور (عقیدہ میں) کافروں کے ساتھ مت ہو (یعنی کفر کو چھوڑ دے کہ غرق سے بچ جاوے) وہ کہنے لگا کہ میں بھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو پانی (میں غرق ہونے) سے بچالے گا (کیونکہ وہ وقت ابتداء طوفان کا تھا پہاڑوں کے اوپر پانی نہ پہنچا تھا) نوح ؑ نے فرمایا کہ آج اللہ کے قہر سے کوئی بچانے ولا نہیں (نہ پہاڑ اور نہ اور کوئی چیز) لیکن جس پر وہی رحم کرے (تو اس کو خود ہی بچا لے، غرق کنعان اس وقت بھی ایمان نہ لایا اور پانی زور شور کے ساتھ اس طرف سے بڑھ گیا) اور دونوں (باپ بیٹوں) کے بیچ میں ایک موج حائل ہوگئی پس وہ (بھی مثل دوسرے کافروں کے) غرض ہوگیا اور (جب کفار سب غرق ہوچکے تو) حکم ہوگیا کہ اے زمین اپنا پانی (جو کہ تیری سطح پر موجود ہے) نگل جا، اور اے آسمان (برسنے سے) تھم جا (چناچہ دونوں امر واقع ہوگئے) اور پانی گھٹ گیا اور قصہ ختم ہوا اور کشتی (کوہ) جودی پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور۔ معارف و مسائل کشتیوں اور دوسری سواریوں پر سوار ہونے کے آداب آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں کشتی اور سواری پر سوار ہونے کے آداب کی تعلیم ہے کہ بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا کہہ کر سوار ہوں، مجرے کے معنی جاری ہونا اور چلنا اور مرسی کے معنی رکنا اور ٹھہرنا ہیں معنی یہ ہیں کہ اس کشتی اور سواری کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اس کے نام سے ہے اور رکنا اور ٹھہرنا بھی اسی کی قدرت کے تابع ہے۔ ہر سواری کا چلنا اور ٹھہرنا صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے انسان اگر ذرا بھی غور سے کام لے تو اسے معلوم ہوگا کہ کشتی ہو یا خشکی پر چلنے والی کوئی سواری، نہ اس کا پیدا کرنا بنانا اس کی قدرت میں ہے نہ چلانا اور ٹھہرانا اس کے بس کا ہے، انسان اپنی سطحی اور سرسری نظر کی بنا پر سمجھتا ہے کہ میں نے اس کو بنایا اور چلایا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ اس نے وہ لوہا، لکڑی، پیتل، المونیم وغیرہ پیدا کئے جو ان تمام سواریوں کا خام مادہ ہے اور نہ اس کے بس میں ہے کہ ایک تولہ لوہا یا ایک فٹ لکڑی پیدا کرسکے، پھر ان خام اجناس (مٹیریل) سے طرح طرح کے کل پرزے بنانے کی عقل و فہم کس نے دی ؟ کیا یہ عقل و فہم انسان نے خود دپیدا کرلی ہے ؟ اگر خود پیدا کرلینا انسان کے بس میں ہوتا تو دنیا میں کوئی بیوقوف کم عقل نہ رہتا ہے، ہر شخص افلاطون و ارسطو ہی بن کر رہتا، کہیں کی لکڑی، کہیں کا لوہا، کہیں کے آلات و اوذار استعمال کر کے سواری کا ڈھانچہ بھی بن گیا، اب اس منوں اور ٹنوں کے بھاری بوجھ کو لے کر زمین پر دوڑنے یا ہوا پر اڑنے کے لئے جس طاقت (پاور) کی ضرورت ہے وہ خواہ پیٹرول سے حاصل کی جائے یا ہوا اور پانی کے ٹکراؤ سے برقی صورت میں حاصل کی جائے، بہرحال سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے انسان نے کس چیز کو پیدا کیا ہے، پیٹرول اس نے پیدا کیا یا ہوا، پانی اس نے بنایا، ان میں آکسیجن، ہائیڈروجن کی طاقتیں اس نے پیدا کیں ؟ اگر انسان ذرا بھی عقل سے کام لے تو اس کو سائنس کی اعجوبہ کاری اور عروج کے اس زمانہ میں بھی اپنی بےبسی اور عاجزی ہی کا مشاہدہ ہوگا، اور اس اقرار کے بغیر نہ رہ سکے گا کہ ہر سواری کا چلنا اور رکنا سب خالق کائنات حق تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔ غافل انسان اپنے ظاہری جوڑ توڑ کے تصرفات جن کا دوسرا نام سائنسی ایجادات ہے ان پر فخر و غرور کے نشہ میں ایسا مست ہوجاتا ہے کہ اصل حقیقت نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس غفلت کا پردہ چاک کرتے ہیں اور بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا کی اصل حقیقت سامنے کردیتے ہیں، دیکھنے میں تو یہ ایک دو لفظی فقرہ ہے مگر غور کیجئے تو یہ کلید اور کنجی ہے ایک ایسے دروازہ کی جہاں سے انسان اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانی عالم کا باشندہ بن جاتا ہے، اور کائنات کے ذرہ ذرہ میں جمال حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔ یہیں سے مومن کی دنیا اور کافر کی دنیا میں فرق نمایاں ہوجاتا ہے، سواری پر دونوں سوار ہوتے ہیں لیکن مومن کا قدم جو سواری پر آتا ہے وہ اس کو صرف زمین کی مسافت قطع نہیں کراتا بلکہ عالم بالا سے بھی روشناس کردیتا ہے۔
Ayahs 11:42–43

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ لیے جارہی تھی ان کو لہروں میں جیسے پہاڑ اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے اے بیٹے سوار ہوجا ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ کافروں کے

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

بولا جا لگوں گا کسی پہاڑ کو جو بچالے گا مجھ کو پانی سے کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے مگر جس پر وہی رحم کرے اور حائل ہوگئی دونوں میں موج پھر گیا ڈوبنے والوں میں

دوسری اور تیسری آیت میں بتلایا کہ جب حضرت نوح ؑ کے سب اہل و عیال کشتی میں سوار ہوگئے مگر ایک لڑکا جس کا نام کنعان بتلایا جاتا ہے سوار ہونے سے رہ گیا تو پدرانہ شفقت سے حضرت نوح ؑ نے اس کو پکارا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ، کافروں کے ساتھ نہ رہو کہ غرق ہوجاؤ گے، یہ لڑکا کافروں دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا اور حقیقت میں کافر تھا مگر غالبا حضرت نوح ؑ کو اس کے کافر ہونے کا یقینی طور پر علم نہ تھا اور اگر علم تھا تو کفر سے توبہ کرکے ایمان لانے کی دعوت کے طور پر اس کو کشتی میں سوار ہونے اور کافروں کا ساتھ چھوڑنے کی نصیحت فرمائی، مگر اس بد بخت نے اس وقت بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا کہ آپ فکر نہ کریں، میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان سے بچ جاؤں گا، حضرت نوح ؑ نے پھر متنبہ کیا کہ ظالم کس خیال میں ہے آج کوئی اونچی عمارت یا پہاڑ کسی کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہیں اور بچنے کی کوئی صورت بجز اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اس پر رحم فرماویں، باپ بیٹے کی یہ گفتگو دور سے چل ہی رہی تھی کہ ایک موج اس طوفان کی آئی اور بیٹے کو بہالے گئی، تاریخی روایات کے لحاظ سے چالیس گز اونچائی پر تھا۔ چوتھی آیت میں طوفان کے ختم ہونے اور حالات کے ہموار ہونے کا یبان اس طرح کیا گیا ہے کہ حق تعالیٰ نے زمین کو خطاب کرکے حکم دیا (آیت) يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ ، اے زمین تو اپنا پانی نگل لے، مراد یہ تھی کہ جس قدر پانی زمین سے ابلا تھا اس کے لئے یہ حکم دے دیا کہ اس کو پھر زمین اپنے اندر اتار لے، آسمان کو حکم دیا گیا کہ اب پانی برسنا بند کردے، اس طرح زمین سے نکلا ہوا پانی پھر زمین میں چلا گیا اور آسمان سے آئندہ پانی برسنا بند ہوگیا، آسمان سے برسا ہوا جتنا پانی زمین پر موجود تھا اس کو قدرت نے دریاؤں اور نہروں کی شکل دے دیجس سے انسان فائدہ اٹھائے (تفسیر قرطبی و مظہری) اس آیت میں حق تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو خطاب کرکے احکام دیئے ہیں، حالانکہ ظاہر نظر میں وہ کوئی ذی شعور چیزیں نہیں ہیں، اسی لئے بعض حضرات نے اس کو مجاز و استعارہ پر محمول کیا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ہماری نظر اور ہمارے اعتبار سے دنیا کی جتنی چیزیں بےشعور، بےحس، بےجان ہیں، حقیقت میں وہ سب ذی روح ذی شعور چیزیں ہیں البتہ ان کا شعور و ادراک اس درجہ کا نہیں جس درجہ کا انسان وغیرہ کو حاصل ہے اسی لئے ان کو غیر ذی شعور قرار دے کر احکام شرعیہ کا مکلف نہیں بنایا گیا، قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اس پر شاہد ہیں جیسے (آیت) وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ ، یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح نہ پڑھتی ہو، اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اس کی معرفت پر موقوف ہے اور معرفت عقل و شعور پر، اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز میں عقل و شعور اپنے اپنے حوصلہ کے مطابق موجود ہے اسی عقل و شعور سے وہ اپنے خالق کو پہچانتی ہے اور جس کام پر اس کو اس کے پیدا کرنے والے نے لگا دیا ہے اس کام کو ہر چیز خوب سمجھتی ہے اور اس کی ادائیگی میں بڑی مضبوطی سے لگی ہوئی ہے، آیت قرآن (آیت) اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی، کا یہی مطلب ہے، اس لئے اس آیت میں اگر آسمان و زمین کے خطاب کو حقیقی معنی خطاب قرار دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ بقول رومی خاک و باد و آب و آتش زندہ اند بامن و تو مردہ با حق زندہ اند
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم آیا اے زمین نگل جا اپنا پانی اور اے آسمان تھم جا اور سو کھا دیا گیا پانی اور ہوچکا کام اور کشتی ٹھہری جو دی پہاڑ پر اور حکم ہوا کہ دور ہو قوم ظالم۔

چوتھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ زمین و آسمان نے احکام کی تعمیل کی تو طوفان کا قصہ ختم ہوگیا، اور سفینہ نوح ؑ جودی پہاڑ پر ٹھہر گیا، اور ظالموں کو ہمیشہ کے لئے " رحمت سے دور " کہہ دیا گیا۔ جودی پہاڑی آج بھی اس نام سے قائم ہے اس کا محل وقوع حضرت نوح ؑ کے وطن اصلی عراق، موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیہ کی سرحد پر ہے، یہ ایک کوہستانی سلسلہ ہے جس کے ایک حصہ کا نام جودی ہے، اسی کے ایک حصہ کو اراراط کہا جاتا ہے، موجودہ تورات میں کشتی ٹھہرنے کا مقام کوہ اراراط کو بتلایا ہے، ان دونوں روایتوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں، مگر مشہور قدیم تاریخوں میں بھی یہی ہے کہ نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر آکر ٹھہری تھی۔ قدیم تاریخوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ عراق کے بہت سے مقامات میں اس کشتی کے ٹکڑے اب تک موجود ہیں جن کو تبرک کے طور پر رکھا اور استعمال کیا جاتا ہے۔ تفسیر طبری اور بغوی میں ہے کہ نوح ؑ دس (10) ماہ رجب کو کشتی میں سوار ہوئے تھے، چھ مہینہ تک یہ کشتی طوفان کے اوپر چلتی رہی، جب بیت اللہ شریف کے مقام پر پہنچی تو سات مرتبہ طواف کیا، اللہ تعالیٰ نے اپنے بیت کو بلند کرکے غرق سے بچا لیا تھا، پھر دس (10) محرم یوم عاشورا میں طوفان ختم ہو کر کشتی جبل جودی پر ٹھہری، حضرت نوح ؑ نے اس روز شکرانہ کے طور پر روزہ رکھا اور کشتی میں جتنے آدمی ساتھ تھے سب کو روزہ رکھنے کا حکم دیا، (مظہری و قرطبی) روز عاشورا یعنی محرم کی دسویں تاریخ کی اہمیت تمام شرائع انبیاء میں قدیم چلی آتی ہے ابتداء اسلام میں رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشوراء کا روزہ فرض تھا، رمضان کی فرضیت نازل ہونے کے بعد فرض نہیں، مگر سنت اور ثواب عظیم ہمیشہ کے لئے ہے۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور پکارا نوح نے اپنے رب کو کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے

خلاصہ تفسیر اور (جب) نوح ؑ نے کنعان کو ایمان لانے کے لئے فرمایا اور اس نے نہ مانا تو اس کے غرق ہونے کے قبل انہوں) نے (اس امید پر کہ شاید حق تعالیٰ اپنی قدرت سے اس کے دل میں ایمان القاء فرما دے اور ایمان لے آوے) اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب میرا یہ بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور آپ کا (یہ) وعدہ بالکل سچا ہے (کہ گھر والوں میں جو ایمان والے ہیں ان کو بچا لوں گا) اور (گویہ سر دست ایمان والا اور مستحق نجات نہیں ہے لیکن) آپ احکم الحاکمین (اور بڑی قدرت والے) ہیں (اگر آپ چاہیں تو اس کو مومن بنادیں تاکہ یہ بھی اس وعدہ حقہ کا محل بن جائے، خلاصہ معروض کا دعا تھی اس کے مومن ہوجانے کے لئے) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نوح یہ شخص (ہمارے علم ازلی میں) تمہارے (ان) گھر والوں میں نہیں (جو ایمان لا کر نجات پاویں گے یعنی اس کی قسمت میں ایمان نہیں بلکہ) یہ (خاتمہ تک) تباہ کر (یعنی کافر رہنے والا) ہے سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں (یعنی ایسے امر محتمل کی دعا مت کرو) میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ، نوح نے عرض کیا کہ میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ (آئندہ) آپ سے ایسے امر کی درخواست کروں جس کی مجھ کو خبر نہ ہو اور (گذشتہ معاف کردیجئے کیونکہ) اگر آپ میری مغفرت نہ فرماویں گے اور مجھ پر رحم نہ فرماویں گے تو میں تو بالکل تباہ ہی ہوجاوں گا (جب جودی پر کشتی ٹھہرنے کے چند روز بعد پانی بالکل اتر گیا اس وقت نوح ؑ سے) کہا گیا (یعنی اللہ تعالیٰ نے خود یا کسی فرشتہ کے ذریعہ سے ارشاد فرمایا) کہ اے نوح (اب جودی پر سے زمین پر) اترو ہماری طرف سے سلام اور برکتیں لے کر جو تم پر نازل ہوں گی اور ان جماعتوں پر کہ تمہارے ساتھ ہیں (کیونکہ ساتھ والے سب مسلمان تھے اور اس علت کے اشتراک سے قیامت تک کے مسلمانوں پر بھی سلام و برکات کا نزول معلوم ہوگیا) اور (چونکہ یہ کلام بعد والے مسلمانوں پر بھی برکات کے نازل ہونے پر دلالت کرتا ہے، اور بعد والوں میں بعضے کافر بھی ہوں گے اس لئے ان کا حال بھی بیان فرماتے ہیں کہ) بہت سی ایسی ہماری طرف سے سزا سخت واقع ہوگی، یہ قصہ (آپ کے اعتبار سے) منجلمہ اخبار غیب کے ہے جس کو ہم وحی کے ذریعہ سے آپ کو پہنچاتے ہیں اس (قصہ) کو اس (ہمارے بتلانے) کے قبل نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم (جانتی تھی، اس اعتبار سے غیب تھا اور بجز وحی کے دوسرے سب اسباب علم کے یقینا مفقود ہیں پس ثابت ہوگیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے اور یہی نبوت ہے لیکن یہ لوگ بعد ثبوت نبوت کے بھی آپ کی مخالفت کرتے ہیں) سو صبر کیجئے (جیسا اس قصہ میں نوح ؑ کا صبر آپ کو معلوم ہوا ہے) یقینا نیک انجامی متقیوں ہی کے لئے ہے (جیسا نوح ؑ کے قصہ میں معلوم ہوا کہ کفار کا انجام برا اور مسلمانوں کا انجام اچھا ہوا اسی طرح ان کفار کا چند روزہ زور شور ہے پھر اخیر میں غلبہ حق ہی کو ہوگا) معارف و مسائل سورة ہود کی مذکورہ پانچ آیتوں میں طوفان نوح ؑ کا باقی قصہ اور اس سے متعلق ہدایات مذکور ہیں۔ حضرت نوح ؑ کا بیٹا کنعان جب والد بزرگوار کی نصیحت اور دعوت کے بادجود کشتی میں سوار نہ ہوا تو اس کو موج طوفان میں مبتلا دیکھ کر شفقت پدری نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کیا کہ آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے گھر والوں کو طوفان سے بچائیں گے اور بلاشبہ آپ کا وعدہ حق و صحیح ہے، مگر صورت حال یہ ہے کہ میرا بیٹا جو میرے گھر والوں میں داخل ہے وہ طوفان کی نذر ہو رہا ہے اور آپ تو احکم الحاکمین ہیں ہر چیز آپ کی قدرت میں ہے، اب بھی اس کو طوفان سے بچا سکتے ہیں۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اے نوح وہ نہیں تیرے گھر والوں میں اس کے کام ہیں خراب سو مت پوچھ مجھ سے جو تجھ کو معلوم نہیں، میں نصیحت کرتا ہوں تجھ کو کہ نہ ہوجائے تو جاہلوں میں

دوسری آیت میں حق تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں حضرت نوح ؑ کو تنبیہ کی گئی کہ یہ لڑکا آپ کو نہیں چاہئے کہ اس حقیقت حال سے بیخبر رہ کر مجھ سے کوئی سوال کریں ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ۔ حق تعالیٰ کے اس ارشاد سے دو باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ حضرت نوح ؑ کو اس بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لئے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد قرار دے کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے، کیونکہ ان کو صریح طور پر پہلے ہی یہ ہدایت دے دی گئی تھی کہ جب طوفان آجائے تو پھر آپ ان سرکشوں میں سے کسی کے متعلق کوئی سفارش کی گفتگو نہ فرمائیں، جیسا کہ پچھلی آیات میں گزر چکا ہے، (آیت) وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ ، اس صاف وصریح حکم کے بعد ناممکن تھا کہ پیغمبر خدا اس کی خلاف ورزی کی جرأت کرتے، بجز اس احتمال کے جس کو اوپر خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ اس دعا کا حاصل اس بیٹے کے مومن ہوجانے کی دعا ہے یہ نہیں کہ اس کے موجودہ حال میں اس کو طوفان سے بچایا جائے لیکن حضرت نوح ؑ کی اس کے کفر سے لا علمی اور اس کی بناء پر دعا نجات کو بھی حق تعالیٰ نے عذر صحیح قرار نہیں دیا اور اسی لئے تنبیہ کی گئی کہ بغیر علم کے ایسی دعا کیوں کی، اور یہ پیغمبرانہ شان کی ایک ایسی لغزش ہے جس کو حضرت نوح ؑ اس وقت بھی اپنے عذر میں پیش کریں گے جب محشر میں پوری مخلوق خدا آپ سے شفاعت کرنے کی درخواست کرے گی تو وہ فرمائیں گے کہ مجھ سے ایسی لغزش ہوچکی ہے اس لئے میں شفاعت کی جرأت نہیں کرسکتا۔ کافر اور ظالم کے لئے دعا جائز نہیں اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرلے کہ جس کام کی دعا کر رہا ہے وہ جائز و حلال ہے یا نہیں، مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، تفسیر روح المعانی میں بحوالہ قاضی بیضاوی نقل کیا ہے کہ جب اس آیت سے مشتبہ الحال کے لئے دعا کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی تو جس معاملہ کا ناجائز و حرام ہونا معلوم ہو اس کے لئے دعا کا ناجائز ہونا بدرجہ اولی ثابت ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آجکل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لئے آیا اس کے واسطے ہاتھ اٹھا دیئے اور دعا کردی حالانکہ اکثر ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمہ کے لئے یہ دعا کرا رہا ہے اس میں یہ خود ناحق پر ہے یا ظالم ہے، یا کسی ایسے مقصد کے لئے دعا کرا رہا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں، کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا یا کسی کی حق تلفی کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے گا۔ ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام و ناجائز ہیں ہی اگر حالت اشتباہ کی حالت بھی ہو تو حقیقت حال اور معاملہ کے جائز ہونے کا علم حاصل کئے بغیر دعا کیلئے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں۔ مؤ من و کافر میں رشتہ اخوت نہیں ہوسکتا وطنی یا نسبی بنیاد پر قومیت کی تعمیر اصول اسلام سے بغاوت ہے دوسرا مسئلہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ مومن اور کافر کے درمیان اگرچہ رشتہ قرابت کا ہو، مگر دینی اور اجتماعی معاملات میں اس رشتہ داری کا کوئی اثر نہیں ہوگا، کوئی شخص کتنا ہی عالی نسب ہو، کتنے ہی بڑے بزرگ کی اولاد ہو یہاں تک کہ سید الانبیاء ﷺ کی اولاد میں داخل ہونے کا شرف رکھتا ہو، اگر وہ مومن نہیں ہے تو دینی معاملات میں اس کے اس نسب عالی اور قرابت نبوی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا جائے گا، تمام دینی معاملات میں تو مدار کار ایمان اور صلاح وتقوی پر ہے، جو صالح و متقی ہے وہ اپنا ہے جو ایسا نہیں وہ بیگانہ ہے، ہزار خویشی کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد اگر دینی معاملات میں بھی ان رشتہ داریوں کی رعایت ہوتی تو بدر و احد کے میدانوں میں بھائی کی تلوار بھائی پر نہ چلتی، بدر و احد اور احزاب کے معرکے تو سب کے سب ایک ہی خاندانوں کے افراد کے درمیان پیش آئے ہیں، جس نے واضح کردیا کہ اسلامی قومیت اور برادری نسبی تعلقات یا وطنی اور لسانی وحدتوں پر دائر نہیں ہوتی بلکہ ایمان و عمل پر دائر ہے، ایمان والے خواہ کسی ملک کے باشندے اور کسی خاندان کے افراد اور کوئی زبان بولنے والے ہوں سب ایک قوم اور ایک برادری ہیں (آیت) انما المومنون اخوۃ کا یہی مطلب ہے، اور جو ایمان و عمل صالح سے محروم ہیں وہ اسلامی برادری کے فرد نہیں، قرآن کریم نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی زبانی اس حقیقت کو بہت واضح الفاظ میں بیان کردیا ہے (آیت) اِنَّا بُرَءٰۗؤ ُ ا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ، یعنی ہم تم سے بھی بری ہیں اور تمہارے معبودوں سے بھی۔ اس مسئلہ میں احقر نے دینی معاملات کی قید اس لئے لگائی ہے کہ دنیوی معاملات میں حسن معاشرت، حسن اخلاق اور احسان و کرم کا سلوک کرنا الگ چیز ہے وہ غیر صالح سے بھی جائز بلکہ مستحسن اور ثواب ہے، رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا تعامل اور غیر مسلموں کے ساتھ احسان و سلوک کے بیشمار واقعات اس پر شاہد ہیں۔ آج کل جو وطنی اور لسانی یا لونی بنیادوں پر قومیت کی تعمیر کی جاتی ہے، عرب برادری ایک قوم، ہندی، سندھی دوسری قوم قرار دی جاتی ہے، یہ قرآن و سنت کے خلاف اور رسول کریم اللہ ﷺ کے اصول سیاست سے بغاوت کے مرادف ہے۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

بولا اے رب میں پناہ لیتا ہوں تیری اس سے کہ پوچھوں تجھ سے جو معلوم نہ ہو مجھ کو اور اگر تو نہ بخشے مجھ کو اور رحم نہ کرے تو میں ہوں نقصان والوں میں،

تیسری آیت میں حضرت نوح ؑ کی طرف سے جو معذرت پیش ہوئی اس کا ذکر ہے، جس کا خلاصہ اللہ جل شانہ کی طرف رجوع والتجاء اور غلط کاموں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ لینے کی دعا اور پھر گزشتہ لغزش کی معافی اور مغفرت و رحمت کی درخواست ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجائے تو آئندہ اس سے بچنے کیلئے تنہا اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور یہ دعا مانگے کہ یا اللہ آپ ہی مجھے خطاؤں اور گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا اے نوح اتر سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کے ساتھ تجھ پر اور ان فرقوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور دوسرے فرقے ہیں کہ ہم فائدہ دیں گے ان کو پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب دردناک

چوتھی آیت میں قصہ طوفان کا خاتمہ اس طرح بیان فرمایا کہ جب طوفان ختم ہوچکا اور حضرت نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی، اور زمین کا پانی زمین نے نگل لیا، اور آسمان کا باقی ماندہ پانی نہروں، دریاؤں کی شکل میں محفوظ ہوگیا، جس کے نتیجہ میں زمین انسانی رہائش کے قابل ہوگئی تو حضرت نوح ؑ سے کہا گیا کہ اب آپ پہاڑ سے زمین پر اتریئے، اور کوئی فکر نہ کیجئے کیونکہ آپ کے ساتھ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں گی، یعنی آفات اور مصائب سے سلامتی اور مال و اولاد میں وسعت و برکت ہوگی۔ اس ارشاد کے مطابق طوفان کے بعد دنیا میں ساری انسانی آبادی حضرت نوح ؑ کی اولاد ہے، قرآن کریم نے دوسری جگہ فرمایا (آیت) وجعلنا ذریتہ ھم الباقین، یعنی اس واقعہ کے بعد دنیا میں باقی رہنے والی سب قومیں صرف نوح ؑ ہی کی ذریت و اولاد ہوں گی، اسی لئے حضرت نوح ؑ کو اہل تاریخ آدم ثانی کا نام دیتے ہیں۔ پھر یہ سلامت و برکت کا وعدہ جو حضرت نوح ؑ سے کیا گیا ہے صرف ان کی ذات تک محدود نہیں بلکہ فرمایا گیا (آیت) وَعَلٰٓي اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ ، یعنی جو امتیں اور جماعتیں آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور برکت نازل ہوگی، حضرت نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو آیت میں امم کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جو امہ کی جمع ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کشتی میں سوار ہونے والے مختلف قوموں اور امتوں پر مشتمل تھے حالانکہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کشتی میں سوار ہونے والے زیادہ تر حضرت نوح ؑ کے خاندان کے لوگ تھے اور معدودے چند دوسرے مومن بھی تھے، تو ان لوگوں کو مختلف امتیں اور قومیں اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ ان کی آنے والی نسلوں میں مختلف امتیں اور قومیں ہوں گی، اس سے معلوم ہوا کہ اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ ، کے الفاظ میں وہ تمام نسل انسانی داخل ہے جو قیامت تک پیدا ہوگی۔ اسی لئے اس کی ضرورت پڑی کہ سلامت و برکت کے مضمون میں تفصیل کی جائے کیونکہ قیامت تک آنے والی نسل انسانی میں تو مومن بھی ہوں گے کافر بھی، مومن کے لئے تو سلامت و برکت اپنے عام مفہوم کے اعتبار سے درست ہے کہ دنیا میں بھی ان کو سلامت و برکت نصیب ہوگی آخرت میں بھی، لیکن اسی نسل میں جو کفار ہوں گے وہ تو جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان کو سلامت و برکت کا محل قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا اس لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ، یعنی دنیا کی سلامت و برکت تو اللہ تعالیٰ کا خوان یغما ہے جس سے دوست دشمن سبھی کھاتے پیتے ہیں اس میں وہ لوگ بھی شریک ہوں گے جو نوح ؑ کی اولاد میں کفر اختیار کریں گے لیکن آخرت کی نجات و فلاح یہ صرف مؤمنین کے لئے مخصوص ہوگی، کافر کا اس کے نیک اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دلا کر فارغ کردیا جائے گا، آخرت میں اس کے لئے بجز عذاب کے کچھ نہ ہوگا۔ طوفان نوح کی یہ تفصیلی خبریں آنحضرت ﷺ نے بذریعہ وحی معلوم کرکے اپنی قوم کو سنائیں تو یہ واقعہ خود آنحضرت ﷺ کے نبی برحق ہونے کی ایک شہادت بن گیا، اس پر متنبہ کرنے کے لئے پانچویں آیت میں ارشاد فرمایا کہ نوح ؑ اور ان کے طوفان کے واقعات یہ غیب کی خبریں ہیں جن کو نہ آپ پہلے سے جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم، عرب ہی اس سے واقف تھے آپ نے ان کو بتلایا تو اس کا راستہ بجز اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے بذریعہ وحی آپ کو بتلایا ہے، کیونکہ اگر آپ کی قوم کے لوگ لکھے پڑھے اور تاریخ عالم سے واقفیت رکھنے والے ہوتے تو یہ خیال بھی ہوسکتا تھا کہ آپ نے ان لوگوں سے سن کر یہ واقعات بیان کردیئے ہیں، لیکن جبکہ پوری قوم بھی ان واقعات سے بیخبر تھی، اور آنحضرت ﷺ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کبھی کسی دوسرے ملک میں تشریف نہیں لے گئے تو اس خبر کا راستہ صرف وحی متعین ہوگیا جو نبی کے پیغمبر برحق ہونے کی واضح دلیل ہے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف نہ تجھ کو ان کی خبر تھی اور نہ تیری قوم کو اس سے پہلے سو تو صبر کر البتہ انجام بھلا ہے ڈرنے والوں کا۔

آخر آیت میں رسول کریم کی تسلی دینے کے لئے فرمایا کہ آپ کی نبوت و رسالت پر آفتاب سے زیادہ روشن دلائل کے ہوتے ہوئے بھی اگر کچھ بد بخت نہیں مانتے اور آپ سے جھگڑا کرتے ہیں تو آپ کو اپنے پہلے پیغمبر نوح ؑ کا اسوہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے ایک ہزار سال کی طویل عمر ساری انہیں اذیتوں میں گزار دی، تو جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی ایسا ہی صبر سے کام لیں، کیونکہ یہ متعین ہے کہ انجام کار کامیابی متقی لوگوں کو ہی ملے گی۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے بھیجا ان کے بھائی ہود کو بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی تمہارا حاکم نہیں سوائے اس کے تم سب جھوٹ کہتے ہو،

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا، انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں تم (اس بت پرستی کے اعتقاد میں) محض مفتری ہو (کیونکہ اس کا باطل ہونا دلیل سے ثابت ہے) اے میری قوم (میری نبوت جو دلائل سے ثابت ہے اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ) میں تم سے (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس (اللہ) کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو (عدم محض سے) پیدا کیا پھر کیا تم (اس کو) نہیں سمجھتے (کہ دلیل نبوت موجود ہے اور اس کے خلاف کوئی وجہ شبہ کی نہیں پھر نیوت میں شبہ کی کیا وجہ) اور اے میری قوم تم اپنے گناہ (کفر و شرک وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر (ایمان لاکر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ ہو (یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم پر خوب بارش برسا دے گا (درمنثور میں ہے کہ قوم عاد پر تین سال متواتر قحط پڑا تھا اور ویسے بارش خود بھی مطلوب ہے) اور (ایمان و عمل کی برکت سے) تم کو قوت دے کر تمہاری قوت (موجودہ) میں ترقی کردے گا (پس ایمان لے آؤ اور مجرم رہ کر) (ایمان سے) اعراض مت کرو، ان لوگوں نے جواب دیا کہ اے ہود آپ نے ہمارے سامنے (اپنے رسول من اللہ ہونے کی) کوئی دلیل تو پیش نہیں کی (یہ قول ان کا عناد تھا) اور ہم آپ کے (صرف) کہنے سے تو اپنے معبودوں) (کی عبادت) کو چھوڑنے والے ہیں نہیں اور ہم کسی طرح آپ کا یقین کرنے والے نہیں (اور) ہمارا قول تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے آپ کو کسی خرابی میں (مثل جنون وغیرہ کے) مبتلا کردیا ہے (چونکہ آپ نے ان کی شان میں گستاخی کی انہوں نے باولا کردیا اس لئے ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو کہ خدا ایک ہے میں نبی ہوں) ہود ؑ نے فرمایا کہ (تم جو کہتے ہو کہ کسی بت نے مجھ کو باولا کردیا ہے تو) میں (علی الاعلان) اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی (سن لو اور) گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے (بالکل) بیزار ہوں جن کو تم خدا کے سوا شریک (عبادت) قرار دیتے ہو، سو (میری عداوت اول تو پہلے سے ظاہر ہے اور اب اس اعلان براءت سے اور زیادہ مؤ کد ہوگئی تو اگر ان بتوں میں کچھ قوت ہے تو تم (اور وہ) سب مل کر میرے ساتھ (ہر طرح کا) داؤ گھات کرلو (اور) پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو (اور کوئی کسر نہ چھوڑو) دیکھوں تو سہی میرا کیا کرلیں گے اور جب وہ مع تمہارے کچھ نہیں کرسکتے تو اکیلے تو کیا خاک کرسکتے ہیں اور میں یہ دعوی اس لئے دل کھول کر کر رہا ہوں کہ بت تو محض عاجز ہیں ان سے تو اس لئے نہیں ڈرتا، رہ گئے تم، سو گو تم کو کچھ قدرت طاقت حاصل ہے لیکن میں تم سے اس لئے نہیں ڈرتا کہ) میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے (یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں، بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلا سکتا اس لئے میں تم سے بھی نہیں ڈرتا اور اس تقریر سے ایک نیا معجزہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ایک شخص تن تنہا ایسے بڑے بڑے زور آور لوگوں سے ایسی مخالفانہ باتیں کرے اور وہ اس کا کچھ نہ کرسکیں پس وہ جو کہتے تھے (آیت) مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ ، اس سے اس کا بھی ایک جواب ہوگیا کہ اگر معجزہ سابقہ سے قطع نظر کی جاوے تو لو یہ دوسرا معجزہ ہے پس نبوت پر دلیل قائم ہوگئی اور اس میں جو منشا اشتباہ تھا (آیت) اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ، اس کا بھی جواب ہوگیا، پس نبوت ثابت ہوگئی، اس سے توحید کا وجوب بھی ثابت ہوگیا جس کی طرف میں دعوی کرتا ہوں اور تمہارا کہنا (آیت) مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا الخ باطل ہوگیا اور صراط مستقیم یہی ہے اور) یقینا میرا رب صراط مستقیم پر (چلنے سے ملتا) ہے (پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول و مقرب ہوجاؤ پھر اگر (اس بیان بلیغ کے بعد بھی) تم (راہ حق سے) پھرے رہو گے تو میں تو (معذور سمجھا جاؤں گا کیونکہ) جو پیغام دے کر مجھ کو بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں (لیکن تمہاری کمبختی آوے گی کہ تم کو اللہ تعالیٰ ہلاک کردے گا) اور تمہاری جگہ میرا رب دوسرے لوگوں کو اس زمین میں آباد کردے گا (سو تم اس اعراض و کفر میں اپنا ہی نقصان کر رہے ہو) اور اس کا تم کچھ نقصان نہیں کر رہے (اور اگر اس ہلاک میں کسی کو یہ شبہ ہو کہ خدا کو کیا خبر کہ کون کیا کر رہا ہے تو خوب سمجھ لو کہ) بالیقین میرا رب ہر شے کی نگہداشت کرتا ہے (اس کو سب خبر رہتی ہے، غرض ان تمام حجتوں پر بھی ان لوگوں نے نہ مانا) اور (سامان عذاب شروع ہوا سو) جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) پہنچا (اور ہوا کے طوفان کا عذاب نازل ہوا تو) ہم نے ہود ؑ کو اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے (اس عذاب سے بچا لیا) اور ان کو ہم نے ایک بہت ہی سخت عذاب سے بچا لیا (آگے اوروں کو عبرت دلانے کے لئے فرماتے ہیں) اور یہ (جن کا ذکر ہوا) قوم عاد تھی جنہوں نے اپنے رب کی آیات (یعنی دلائل اور احکام) کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کا کہنا نہ مانا اور تمام تر ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم (اور) ضدی تھے اور (ان افعال کا یہ نتیجہ ہوا کہ) اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ ساتھ رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے ساتھ ساتھ رہے گی چناچہ دنیا میں اس کا اثر عذاب طوفان سے ہلاک ہونا تھا اور آخرت میں دائمی عذاب ہوگا) خوب سن لو، قوم عاد نے رب کے ساتھ کفر کیا، خوب سن لو (اس کفر کا یہ خمیازہ ہوا کہ) رحمت سے دوری ہوئی (دونوں جہاں میں) عاد کو جو کہ ہود ؑ کی قوم تھی، اور ہم نے (قوم) ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اس کا تم پر یہ انعام ہے کہ) اس نے تم کو زمین (کے مادہ سے) پیدا کیا اور تم کو اس (زمین) میں آباد کیا (یعنی ایجاد و ابقاء دونوں نعمتیں عطا فرمائیں جس میں سب نعمتیں آگئیں، جب وہ ایسا منعم ہے) تو تم اپنے گناہ (شرک کفر وغیرہ) اس سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر (ایمان لا کر) اس کی طرف (عبادت سے) متوجہ رہو (یعنی عمل صالح کرو) بیشک میرا رب (اس شخص سے) قریب ہے (جو اس کی طرف متوجہ ہو اور اس شخص کی عرض) قبول کرنے والا ہے (جو اس سے گناہ معاف کراتا ہے) وہ لوگ کہنے لگے اے صالح تم تو اس کے قبل ہم میں ہونہار (معلوم ہوتے) تھے (یعنی ہم کو تم سے امید تھی کہ اپنی لیاقت و وجاہت سے فخر قوم اور ہمارے لئے مایہ ناز اور ہماے لئے سرپرست بنو گے، افسوس اس وقت جو باتیں کر رہے ہو (اس سے تو ساری امیدیں خاک میں ملتی نظر آتی ہیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں (یعنی تم ان سے منع مت کرو) اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو (یعنی توحید) واقعی ہم تو اس کی طرف سے (بھاری) شبہ میں ہیں جس نے ہم کو تردد میں ڈال رکھا ہے (کہ مسئلہ توحید ہمارے خیال ہی میں نہیں آتا) آپ نے (جواب میں) فرمایا کہ میری قوم (تم جو کہتے ہو کہ تم توحید کی دعوت اور بت پرستی سے ممانعت مت کرو تو) بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر (قائم) ہوں (جس سے اس توحید کی دعوت کا میں مامور ہوں) سو (اس حالت میں) اگر میں خدا کا کہنا نہ مانوں (اور دعوت توحید کو ترک کردوں جیسا تم کہتے ہو) تو (یہ بتلاؤ کہ) پھر مجھ کو خدا (کے عذاب) سے کون بچا لے گا تو تم تو (ایسا برا مشورہ دے کر) سراسر میرا نقصان ہی کر رہے ہو (یعنی اگر خدانخواستہ قبول کرلوں تو بجز نقصان کے اور کیا ہاتھ آوے گا اور چونکہ انہوں نے معجزہ کی بھی ثبوت رسالت کے لئے درخواست کی تھی اس لئے آپ نے فرمایا) اور اے میری قوم (تم جو معجزہ چاہتے ہو سو) یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل (بنا کر ظاہر کی گئی) ہے (اور اسی لئے اللہ کی اونٹنی کہلائی کہ اللہ کی دلیل ہے) سو (علاوہ اس کے یہ بوجہ معجزہ ہونے کے میری رسالت پر دلیل ہے خود اس کے بھی کچھ حقوق ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں (گھاس چارہ) کھاتی پھرا کرے (اسی طرح اپنی باری کے دن پانی پیتی رہے جیسا دوسری آیت میں ہے) اور اس کو برائی (اور تکلیف دہی) کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کبھی تم کو فوری عذاب آپکڑے (یعنی دیر نہ لگے) سو انہوں نے (باوجود اس اتمام حجت کے) اس (اونٹنی) کو مار ڈالا تو صالح ؑ نے فرمایا (خیر) تم اپنے گھروں میں تین دن اور صبر کرلو (تین دن کے بعد عذاب آتا ہے (اور) یہ ایسا وعدہ ہے جس میں ذرا جھوٹ نہیں (کیونکہ من جانب اللہ ہے) سو (تین دن گزرنے کے بعد) جب ہمارا حکم (عذاب کے لئے) آپہنچا ہم نے صالح ؑ کو اور جو ان کے ہمراہ اہل ایمان تھے ان کو اپنی عنایت سے (اس عذاب سے) بچا لیا اور (ان کو کیسی چیز سے بچا لیا) اس دن کی بڑی رسوائی سے بچا لیا (کیونکہ قہر الہٰی میں مبتلا ہونے سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوگی) بیشک آپ کا رب ہی قوت والا غلبہ والا ہے (جس کو چاہے سزا دیدے جس کو چاہے بچا لے) اور ان ظالموں کو ایک لغرہ نے آ دبایا (کہ وہ آواز تھی جبریل ؑ کی) جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (اور ان کی یہ حالت ہوگئی) جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، خوب سن لو (قوم) ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا، خوب سن لو (اس کفر کا یہ خمیازہ ہوا کہ) رحمت سے ثمود کو دوری ہوئی۔ معارف و مسائل سورة ہود کی مذکورہ پہلی گیارہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت ہود ؑ کا ذکر ہے جن کے نام سے یہ سورت موسوم ہے، اس صورت میں نوح ؑ سے لے کر حضرت موسیٰ ؑ تک قرآن کریم کے خاص طرز میں سات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے واقعات مذکور ہیں، جن میں عبرت و موعظت کے ایسے مظاہر موجود ہیں کہ جس دل میں ذرا بھی حیات اور شعور باقی ہو وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، عبرت کے علاوہ ایمان اور عمل صالح کے بہت سے اصول و فروع اور انسان کے لئے بہترین ہدایات موجود ہیں۔ قصص و واقعات تو اس میں سات پیغمبروں کے درج ہیں مگر سورت کا نام حضرت ہود ؑ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ہود ؑ کے قصہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ہود ؑ کو حق تعالیٰ نے قوم عاد میں مبعوث فرمایا، یہ قوم اپنے ڈیل ڈول اور قوت و شجاعت کے اعتبار سے پورے عالم میں ممتاز سمجھی جاتی تھی، حضرت ہود ؑ بھی اسی قوم کے فرد تھے لفظ اَخَاهُمْ هُوْدًا میں اسی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، مگر یہ اتنی قوی اور بہادر قوم افسوس کہ اپنے عقل و فکر کو کھو بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں سے تراشی ہوئی پتھروں کی مورتیوں کو اپنا خدا اور معبود بنا رکھا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے جو دعوت دین اپنی قوم کے سامنے پیش کی اس کی تین اصولی باتیں ابتدائی تین آیتوں میں مذکور ہیںاول دعوت توحید اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو لائق عبادت سمجھنا جھوٹ اور افتراء ہے، دوسرے یہ کہ میں جو یہ دعوت توحید لے کر آیا ہوں اور اس کیلئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے تم یہ سوچو سمجھو کہ میں نے یہ مشقت و محنت کیوں اختیار کر رکھی ہے، نہ میں تم سے اس خدمت کا کوئی معاوضہ مانگتا ہوں نہ مجھے تمہاری طرف سے کوئی مادی فائدہ پہنچتا ہے اگر میں اس کو اللہ تعالیٰ کا فرمان اور حق نہ سمجھتا تو آخر ضرورت کیا تھی کہ تمہیں دعوت دینے اور تمہاری اصلاح کرنے میں اتنی محنت برداشت کرتا۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے قوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیا تم نہیں سمجھتے،

وعظ و نصیحت اور دعوت دین پر اجرت قرآن کریم نے یہ بات تقریبا سب ہی انبیاء کی زبان سے نقل کی ہے کہ ہم تم سے اپنی دعوت و محنت کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا اگر معاوضہ لیا جائے تو دعوت مؤ ثر نہیں رہتی، جس پر تجربہ شاہد ہے کہ وعظ و نصیحت پر اجرت لینے والوں کی بات سامعین پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ اپنی پچھلی زندگی میں جو کفر و گناہ کرچکے ہو، اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت مانگو اور اگلی زندگی میں ان سب گناہوں سے توبہ یعنی اس کا پختہ ارادہ اور معاہدہ کرو کہ اب ان کے پاس نہ جائیں گے، اگر تم نے یہ استغفار و توبہ کا عمل کرلیا تو اس کے نتیجہ میں آخرت کی دائمی فلاح تو ملے ہی گی، دنیا میں بھی اس کے بڑے فوائد کا مشاہدہ کرو گے، ایک یہ کہ توبہ و استغفار کرنے سے تمہاری قحط سالی دور ہوجائے گی، وقت پر خوب بارش ہوگی جس سے تمہارے رزق میں وسعت پیدا ہوگی، دوسرے یہ کہ تمہاری طاقت و قوت بڑھ جائے گی۔ یہاں طاقت و قوت کا لفظ عام ہے جس میں بدنی صحت وقت بھی داخل ہے اور وہ طاقت بھی جو مال اور اولاد کی بہتات سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہوں سے توبہ و استغفار کا خاصہ یہ ہے کہ دنیا میں بھی رزق میں وسعت اور مال و اولاد میں برکت ہوتی ہے۔ حضرت ہود ؑ کی قوم نے ان کی دعوت کا جواب وہی اپنی جاہلانہ روش سے یہ دیا کہ آپ نے ہمیں کوئی معجزہ تو دکھلایا نہیں صرف زبانی بات ہے اس لئے ہم آپ کے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہ چھوڑیں گے اور آپ پر ایمان نہ لائیں گے، بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ہمارے معبود بتوں کو برا کہنے کی وجہ سے آپ کسی دماغی خرابی میں مبتلا ہوگئے اس لئے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں ہود ؑ نے پیغمبرانہ جرأت کے ساتھ فرمایا کہ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو سن لو کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اللہ کے سوا تمہارے سب معبودوں سے بیزار ہوں اب تم اور تمہارے بت سب ملکر میرے خلاف جو کچھ داؤ گھات کرسکتے ہو کرلو اور اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو اور مجھے ذرا مہلت بھی نہ دو۔ اور فرمایا کہ اتنی بڑی بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اللہ پر توکل اور بھروسہ کرلیا ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی چوٹی اس نے پکڑ رکھی ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کے اذن و مشیت کے بغیر کسی کو ذرہ برابر نقصان یا تکلیف پہنچا سکے، یقینا میرا رب صراط مستقیم پر ہے، یعنی جو صراط مستقیم پر چلتا ہے، رب اس کو ملتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے۔ پوری قوم کے مقابلہ میں ایسا بلند بانگ دعوی اور ان کو غیرت دلانا اور پھر پوری بہادر قوم میں سے کسی کی مجال نہ ہونا کہ ان کے مقاملہ میں کوئی حرکت کرے، یہ سب ایک مستقل معجزہ تھا ہود ؑ کا، جس سے ان کی اس بات کا بھی جواب ہوگیا کہ آپ نے ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھلایا، اور اس کا بھی جواب ہوگیا کہ ہمارے بتوں نے آپ کو دماغی خرابی میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ اگر بتوں میں یہ طاقت ہوتی تو اس وقت ان کو زندہ نہ چھوڑتے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر تم اسی طرح سے برگشتہ رہو گے تو سمجھ لو کہ جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے میں تمہارے سامنے پہنچا چکا ہوں تو اب اس کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہے کہ تم پر خدا کا قہر و غضب آجائے اور تم سب نیست و نابود ہوجاؤ اور میرا رب تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اس زمین پر آباد کردے، اور اس معاملہ میں جو کچھ کر رہے ہو اپنا ہی نقصان کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر رہے، یقینا میرا رب ہر چیز کی نگہداشت کرتا ہے وہ تمہارے ہر کام اور خیال سے باخبر ہے۔ ان لوگوں نے ان باتوں میں سے کسی چیز پر کان نہ دھرا اور اپنی سرکشی پر قائم رہے تو خدا تعالیٰ کا عذاب ہوا کے طوفان کی صورت میں ان پر نازل ہوا جس نے مکانات اور درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، آدمی اور جانور ہوا میں اڑ کر آسمانی فضا تک جاتے اور وہاں سے اوندھے گرتے تھے آسمان کی طرف سے انسانوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی تھی، یہاں تک کہ یہ بیمثال قوت اور ڈیل ڈول رکھنے والی قوم پوری کی پوری ہلاک و برباد ہوگئی۔ جب اس قوم پر عذاب الہٰی کا حکم نافذ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سنت الہٰیہ کے مطابق اپنے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو اس سخت عذاب سے بچا لیا کہ عذاب آنے سے پہلے ان کو اس جگہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ قوم عاد کے واقعہ اور عذاب کا ذکر کرنے کے بعد دوسروں کو عبرت حاصل کرنے کی تلقین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ یہ ہے وہ قوم عاد جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی اور ایسے لوگوں کے کہنے پر چلتے رہے جو ظالم اور ضدی تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں بھی لعنت یعنی رحمت سے دوری ان کے ساتھ ساتھ لگی رہی اور قیامت میں بھی اسی طرح ساتھ لگی رہے گی۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ قوم عاد پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا تھا، مگر سورة مؤ منون میں یہ مذکور ہے کہ ان کو ایک سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کیا گیا، ہوسکتا ہے کہ قوم ہود ؑ پر دونوں قسم کے عذاب نازل ہوئے ہوں۔ قوم عاد اور ہود ؑ کا واقعہ تمام ہوا۔
Ayahs 11:52–61

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسی کی طرف چھوڑ دے گا تم پر آسمان سے دھاریں اور زیادہ دے گا تم کو زور پر زور اور روگردانی نہ کرو گنہگار ہو کر

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

بولے اے ہود تو ہمارے پاس کوئی سند لیکر نہیں آیا اور ہم نہیں چھوڑنے والے اپنے ٹھاکروں (معبودوں) کو تیرے کہنے سے اور ہم نہیں تجھ کو ماننے والے،

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہ ہی کہتے ہیں کہ تجھ کو آسیب پہنچایا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) نے بری طرح، بولا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور تم گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا سو برائی کرو میرے حق میں تم سب ملکر پھر مجھ کو مہلت نہ دو ،

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا، کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اس کی، بیشک میرا رب ہے، سیدھی راہ پر،

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو میں پہنچکا چکا تم کو جو میرے ہاتھ بھیجا تھا تمہاری طرف، اور قائم مقام کرے گا میرا رب کوئی اور لوگ، اور نہ بگاڑ سکو گے اللہ کا کچھ تحقیق میرا رب ہے ہر چیز پر نگہبان

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بچا دیا ان کو ایک بھاری عذاب سے،

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھے عاد کہ منکر ہوئے اپنے رب کی باتوں سے اور نہ مانا اس کے رسولوں کو اور مانا حکم ان کا جو سرکش تھے مخالف،

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور پیچھے سے آئی ان کو اس دنیا میں پھٹکار اور قیامت کے دن بھی سن لو عاد منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے عاد کو جو قوم تھی ہود کی

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح، بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سوا، اسی نے بنایا تم کو زمین سے اور بسایا تم کو اس میں سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اس کی طرف تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا

اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔ صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ سے ظاہر فرما دیا، پہاڑ کی چٹان شق ہو کر ان کے بتائے ہوئے اوصاف کی اونٹنی برآمد ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس اونٹنی کو کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ورنہ تم پر عذاب آجائے گا مگر وہ اس پر بھی قائم نہ رہے، اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا، بالآخر خدا تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا، حضرت صالح ؑ اور ان کے مومن ساتھی عذاب سے بچا لئے گئے باقی پوری قوم ایک سخت ہیبت ناک آواز کے ذریعہ ہلاک کردی گئی۔
Ayahs 11:62–64

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

بولے اے صالح تجھ سے تو ہم کو امید تھی اس سے پہلے کیا تو ہم کو منع کرتا ہے کہ پرستش کریں جن کی پرستش کرتے رہے ہمارے باپ دادے، اور ہم کو تو شبہ ہے اس میں جس کی طرف تو بلاتا ہے ایسا کہ دل نہیں مانتا،

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

بولا اے قوم بھلا دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ مل گئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھ کو دی رحمت اپنی طرف سے پھر کون بچائے مجھ کو اس سے اگر اس کی نافرمانی کروں سو تم کچھ نہیں بڑھاتے میرا سوائے نقصان کے

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمہارے لئے نشانی سو چھوڑ دو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور مت ہاتھ لگاؤ بری طرح پھر آپکڑے گا تم کو عذاب بہت جلد

اس واقعہ میں حضرت صالح ؑ کی قوم نے ان سے کہا (آیت) قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ، یعنی آپ کے دعوائے نبوت اور بت پرستی کو منع کرنے سے پہلے ہم کو آپ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ آپ ہماری قوم کے لئے بڑے مصلح اور رہنما ثابت ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے انبیاء کی پرورش بچپن ہی سے نہایت پاکیزہ اخلاق و عادات میں کرتے ہیں جس کو دیکھ کر سبھی ان سے محبت کرتے اور عظمت سے پیش آتے ہیں جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو بھی اعلان نبوت سے پہلے سارا عرب امین کا خطاب دیتا اور سچا اور صالح اعتقاد رکھتا تھا، نبوت کے دعوی اور بت پرستی سے ممانعت کرنے پر یہ سب مخالف ہوگئے۔
Ayahs 11:65–66

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر اس کے پاؤں کاٹے تب کہا فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن، یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب پہنچا حکم ہمارا بچا دیا ہم نے صالح کو اور جو ایمان لائے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے، بیشک تیرا رب وہی ہے زور والا زبردست،

(آیت) تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ، یعنی جب لوگوں نے حکم خداوندی کی خلاف ورزی کر کے اس معجزہ والی اونٹنی کو مار ڈالا تق جیسا پہلے ان کو متنبہ کردیا گیا تھا کہ ایسا کرو گے تو اللہ کا عذاب تم پر آئے گا، اب وہ عذاب اس طرح آیا کہ ان کو تین روز کی مہلت دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ چوتھے روز تم سب ہلاک کئے جاؤ گے۔
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور پکڑ لیا ان ظالموں کو ہولناک آواز نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے کبھی رہے ہی نہ تھے وہاں، سن لو ثمود منکر ہوئے اپنے رب سے، سن لو پھٹکار ہے ثمود کی۔

تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ تین روز جمعرات، جمعہ اور ہفتہ تھے، اتوار کے روز ان پر عذاب نازل ہوا (آیت) وَاَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ ، یعنی ان ظالموں کو پکڑ لیا ایک سخت آواز نے، یہ سخت آواز حضرت جبریل ؑ کی تھی جس میں ساری دنیا کی بجلیوں کی کڑک سے زیادہ ہیبت ناک آواز تھی جس کو انسانی قلب و دماغ برداشت نہیں کرسکا، ہیبت سے سب کے دل پھٹ گئے اور سب کے سب ہلاک ہوئے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قوم صالح سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کی گئی ہے لیکن سورة اعراف میں ان کے متعلق یہ آیا ہے (آیت) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ ، یعنی پکڑ لیا ان کو زلزلہ نے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر عذاب زلزلہ کا آیا تھا، قرطبی نے فرمایا کہ اس میں کوئی تضاد نہیں، ہوسکتا ہے کہ پہلے زلزلہ آیا ہو پھر سخت آواز سے سب ہلاک کردیئے گئے ہوں۔ واللہ اعلم۔