10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی،

خلاصہ تفسیر (الر کا مطلب تو اللہ کو معلوم ہے) یہ (جو آگے آتی ہیں) پر حکمت کتاب (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں (جو بوجہ حق ہونے کے قابل جاننے کے اور ماننے کے ہیں اور چونکہ جن پر اس کا نزول ہوا ہے ان کی نبوت کا کفار انکار کرتے تھے اس لئے جواب فرماتے ہیں کہ (کیا ان مکہ کے) لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس (جو کہ مثل ان کے بشر ہے) وحی بھیج دی (جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ (عام طور پر) سب آدمیوں کو (احکام خداوندی کے خلاف کرنے پر) ڈرایئے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنایئے کہ ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) ان کو پورا مرتبہ ملے گا (یعنی اگر ایسا مضمون کسی بشر پر وحی کے ذریعہ سے نازل ہوجاوے تو کوئی تعجب کی وجہ نہیں مگر) کافر (اس قدر متعجب ہوئے کہ آپ کی نسبت کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے (نبی نہیں ہے کیونکہ نبوت بشر کے لئے نہیں ہوسکتی) بلاشبہ تمہارا رب (حقیقی) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز (کی مقدار) میں پیدا کردیا (پس اعلی درجہ کا قادر ہے) پھر عرش پر (جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (کہ جو اس کی شان کے لائق ہے تاکہ عرش سے زمین و آسمان میں احکام جاری فرمائے، جیسا آگے ارشاد ہے کہ) وہ ہر کام کی (مناسب) تدبیر کرتا ہے، (پس حکیم بھی ہے، اس کے سامنے) کوئی سفارش کرنے والا (سفارش) نہیں (کرسکتا ہے) بدون اس کی اجازت کے (پس عظیم بھی ہوا، پس) ایسا اللہ تمہارا رب (حقیقی) ہے سو تم اس کی عبادت کرو (اور شرک مت کرو) کیا تم (ان دلائل کے سننے کے بعد) پھر بھی نہیں سمجھتے، تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اللہ نے (اس کا) سچا وعدہ کر رکھا ہے، بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی (قیامت کو) پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ (پوری پوری) جزا دے (اور اس میں ذرا کمی نہ کرے بلکہ بہت کچھ زیادہ دے دے) اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے (آخرت میں) کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا، اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔ معارف و مسائل سورة یونس مکی سورتوں میں سے ہے، بعض حضرات نے اس کی صرف تین آیتوں کو مدنی کہا ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس سورت میں بھی قرآن اور اسلام کے بنیادی مقاصد توحید، رسالت، آخرت وغیرہ کو کائنات عالم اور اس میں ہونے والے تغیرات و مشاہدات سے استدلال کرکے ذہن نشین کیا گیا ہے، اس کے ساتھ کچھ عبرت خیز تاریخی واقعات و قصص کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان کھلی نشانیوں پر نظر نہیں کرتے اور اس کے ضمن میں شرک کا ابطال اور اس سے متعلق بعض شبہات کا جواب ارشاد ہوا ہے، یہ خلاصہ ہے مضامین سورت کا، یعنی توبہ اور اس سورت میں باہمی کیا ربط ہے، سورة توبہ میں انہی مقاصد کے لئے منکرین و کفار کے ساتھ جہاد اور کفر و شرک کی طاقت کو مادی اسباب کے ذریعہ توڑنے کا بیان تھا، اور یہ سورت چونکہ احکام جہاد کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی اس میں مذکورہ مقاصد کو مکی دور کے قانون کے مطابق صرف دلائل و براھین کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے۔ الر، یہ حروف مقطعہ کہلاتے ہیں جو قرآن مجید کی بہت سی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، الم، حم، عسق، وغیرہ ان کے معانی کی تحیقق میں مفسرین کی بحثیں طویل ہیں، صحابہ وتابعین اور جمہور سلف کی تحقیق اس قسم کے تمام حروف مقطعہ کے متعلق یہ ہے کہ یہ خاص رموز ہیں ان کے معنی غالباً رسول کریم ﷺ کو بتلائے گئے ہیں مگر آپ نے عام امت کو صرف ان علوم و معارف سے آگاہ فرمایا جن کو ان کے ذہن برداشت کرسکیں اور جن کے معلوم نہ ہونے سے امت کے کاموں میں کوئی حرج واقع ہوتا ہے، حروف مقطعہ کے رموز ایسے نہیں جن پر امت کا کوئی کام موقوف ہو یا ان کے نہ جاننے سے ان کا کوئی حرج ہو، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کے معانی کو امت کے لئے غیر ضروری سمجھ کر بیان نہیں فرمایا اس لئے ہمیں بھی اس کی تفتیش میں نہ پڑنا چاہئے، کیونکہ یہ امر یقینی ہے کہ اگر ان کے معانی جاننے میں ہماری مصلحت ہوتی تو رحمت عالم ﷺ اس کے بیان کرنے میں کوتاہی نہ فرماتے۔ (آیت) تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ ، میں لفظ تلک سے اشارہ اس سورت کی آیات کی طرف ہے جن کا ذکر آگے آتا ہے اور کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی صفت اس جگہ حکیم کے لفظ سے بیان فرمائی ہے جس کے معنی اس جگہ حکمت والی کتاب کے ہیں۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ وحی بھیجی ہم نے ایک مرد پر ان میں سے یہ کہ ڈر سنا دے لوگوں کو اور خوشخبری سنا دے ایمان لانے والوں کو کہ ان کے لئے پایہ سچا ہے اپنے رب کے یہاں، کہنے لگے منکر بیشک یہ تو جادوگر ہے صریح،

دوسری آیت میں مشرکین کے ایک شبہ اور اعتراض کا جواب ہے، شبہ کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی جہالت سے یہ قرار دے رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رسول یا پیغمبر آئے وہ بشر یعنی انسان نہیں ہونا چاہئے بلکہ کوئی فرشتہ ہونا چاہئے، قرآن کریم نے ان کے اس لغو خیال کا جواب کئی جگہ مختلف عنوانات سے دیا ہے، ایک آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا، یعنی اگر زمین پر بسنے والے فرشتے ہوتے تو ہم ان کے لئے رسول بھی کسی فرشتہ ہی کو بناتے، جس کا حاصل یہ ہے کہ رسالت کا مقصد بغیر اس کے پورا نہیں ہوسکتا کہ جن لوگوں کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے ان لوگوں میں اور اس رسول میں باہمی مناسبت ہو، فرشتوں کی مناسبت فرشتوں سے اور انسان کی انسان سے ہوتی ہے، جب انسانوں کے لئے رسول بھیجنا مقصد ہے تو کسی بشر ہی کو رسول بنانا چاہئے۔ اس آیت میں ایک دوسرے انداز سے اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ان لوگوں کا اس بات پر تعجب کرنا کہ بشر کو کیوں رسول بنایا گیا اور اس کو نافرمان انسانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور فرمانبرداروں کو اس کے ثواب کی خوشخبری سنانے کا کام کیوں سپرد کیا گیا، یہ تعجب خود قابل تعجب ہے کیونکہ جنس بشر کی طرف بشر کو رسول بنا کر بھیجنا عین مقتضائے عقل ہے۔ اس آیت میں ایمان والوں کو خوشخبری ان الفاظ میں دی گئی (آیت) اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ، اس لفظ قدم کے اصلی معنی تو وہی ہیں جو اردو میں سمجھے جاتے ہیں یعنی پاؤ ں، چونکہ انسان کی سعی و عمل اور اس کے سبب ترقی کا ذریعہ قدم ہوتا ہے، اس لئے مجازا بلند مرتبہ کو قدم کہہ دیا جاتا ہے، اور لفظ قدم کی اضافت صدق کی طرف کرکے یہ بتلا دیا کہ یہ بلند مرتبہ جو ان کو ملنے والا ہے وہ حق اور یقینی بھی ہے اور قائم و باقی رہنے والا لازوال بھی، دنیا کے منصوبوں اور عہدوں کی طرح نہیں کہ کسی عمل کے نتیجہ میں اول تو ان کا حاصل ہونا ہی یقینی نہیں ہوتا اور حاصل بھی ہوجائے تو ان کا باقی رہنا یقینی نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا فانی اور زائل ہونا یقینی ہے، کبھی تو زندگی ہی میں زائل ہوجاتا ہے اور موت کے وقت تو دنیا کے ہر منصب و عہدہ اور دولت و نعمت سے انسان خالی ہاتھ ہوجاتا ہے، غرض لفظ صدق کے مفہوم میں اس کا یقینی ہونا بھی شامل ہے اور کامل مکمل لازوال ہونا بھی، اس لئے معنی جملہ کے یہ ہوئے کہ ایمان والوں کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑا درجہ ہے جو یقینی ملے گا اور لازوال دولت ہوگی۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ لفظ صدق لانے میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جنت کے یہ درجات عالیہ صرف صدق و سچائی اور اخلاص ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتے ہیں نرا زبانی جمع خرچ اور صرف زبان سے کلمہ ایمان پڑھ لینا کافی نہیں جب تک دل اور زبان دونوں سے سچائی کے ساتھ ایمان اختیار نہ کرلیا جائے جس کا لازمی نتیجہ اعمال صالحہ کی پابندی اور برے اعمال سے پرہیز ہے۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر تدبیر کرتا ہے کام کی کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت کے بعد، وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے،

تیسری آیت میں توحید کو اس ناقابل انکار حقیقت کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے میں اور پھر پورے عالم کے کاموں کی تدبیر کرنے اور چلانے میں جب اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں تو پھر عبادت و اطاعت میں کوئی دوسرا کیسے شریک ہوسکتا ہے، بلکہ کسی دوسرے کو اس میں شریک کرنا بڑی بےانصافی اور ظلم عظیم ہے۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا ہے، لیکن ہمارے عرف میں دن اس وقت کو کہا جاتا ہے جو آفتاب کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک ہوتا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور ستاروں کے پیدا ہونے سے پہلے آفتاب ہی کا وجود نہیں تو طلوع، غروب کا حساب کیسے ہو اس لئے مراد یہاں وہ مقدار وقت ہے جو آفتاب کے طلوع و غروب کے درمیان اس جہان میں ہونے والی تھی۔ چھ دن کے تھوڑے سے وقت میں اتنے بڑے جہان کو جو آسمانوں اور زمین اور سیارات اور تمام کائنات عالم پر مشتمل ہے، بنا کر تیار کردینا اسی ذات قدوس کا مقام ہے جو قادر مطلق ہے اس کی تخلیق کے لئے نہ پہلے سے خام اجناس کا موجود ہونا ضروری ہے اور نہ بنانے کے لئے کسی عملہ اور خدام کی ضرورت ہے بلکہ اس کی قدرت کاملہ کا یہ مقام ہے کہ جب وہ کسی چیز کو پیدا فرمانا چاہیں تو بغیر کسی سامان اور کسی کی امداد کے ایک آن میں پیدا فرما دیں، یہ چھ دن کی مہلت بھی خاص حکمت و مصلحت کی بناء پر اختیار کی گئی ہے ورنہ ان کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ تمام آسمان و زمین اور اس کی کائنات کو ایک آن میں پیدا فرما دیتے۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ، یعنی پھر قائم ہوا عرش پر۔ اتنی بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ عرش رحمن کوئی ایسی مخلوق ہے جو تمام آسمانوں اور زمین اور تمام کائنات عالم پر محیط ہے سارا جہاں اس کے اندر سمایا ہوا ہے، اس سے زائد اس کی حقیقت کا معلوم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں، جو انسان اپنی سائنس کی انتہائی ترقی کے زمانہ میں بھی صرف نیچے کے سیاروں تک پہنچنے کی تیاری میں ہے اور وہ بھی ابھی نصیب نہیں اور اس کا یہ اقرار ہے کہ اوپر کے سیارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ آلات رصدیہ کے ذریعہ بھی ان کی معلومات تخمینہ اور اندازہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور بہت سے ستارے ایسے بھی ہیں جن کی شعاعیں ابھی تک زمین پر نہیں پہنچیں، حالانکہ شعاع نوری کی حرکت ایک منٹ میں لاکھوں میل بتائی جاتی ہے، جب سیاروں اور ستاروں تک انسان کی رسائی کا یہ حال ہے تو آسمان جو ان سب ستاروں اور سیاروں سے اوپر ہے اس کا یہ مسکین انسان کیا حال معلوم کرسکتا ہے، اور پھر جو ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر اور سب پر حاوی اور محیط عرش رحمن ہے اس کی حقیقت تک انسان کی رسائی معلوم ! آیت مذکورہ سے اتنا معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین اور تمام کائنات بنائی اور اس کے بعد عرش پر قیام فرمایا۔ یہ یقینی اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور اس کی تمام صفات و خصوصیات سے بالا و برتر ہے نہ اس کا وجود کسی خاص سمت اور جہت سے تعلق رکھتا ہے نہ اس کا کسی مکان میں قیام اس طرح کا ہے جس طرح دنیا کی چیزوں کا قیام اپنی اپنی جگہ میں ہوتا ہے، پھر عرش پر قیام فرمانا کس طرح اور کس کیفیت کے ساتھ ہے، یہ ان متشابہات میں سے ہے جن کو انسان کی عقل و فہم نہیں پاسکتی اسی لئے قرآن حکیم کا ارشاد ان کے بارے میں یہ ہے کہ (آیت) وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ، یعنی ان کے سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اور مضبوط اور صحیح علم والے اس پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں مگر اس کی حقیقت جاننے کی فکر میں نہیں پڑتے، اس لئے اس قسم کے تمام معاملات میں جن میں حق تعالیٰ کی نسبت کسی مکان یا جہت کی طرف کی گئی ہے یا جن میں حق تعالیٰ کے لئے اعضاء ید، وجہ ساق وغیرہ کے الفاظ قرآن میں وارد ہوئے، عقیدہ جمہور علمائے امت کا یہ ہے کہ اس بات پر ایمان لایا جائے کہ یہ کلمات اپنی جگہ پر حق جاننے کی فکر کو اپنی عقل سے بالاتر ہونے کی بناء پر چھوڑ دیا جائے۔ نہ ہر جائے مرکب تو ان تاختن کہ جاہا سپر باید انداختن اور جن متاخرین علماء نے ان چیزوں کے کوئی معنی بیان فرمائے ہیں ان کے نزدیک بھی وہ محض ایک احتمال کے درجہ میں ہیں کہ شاید یہ معنی ہوں، اس معنی کو یقینی وہ نہیں فرماتے اور نرے احتمالات ظاہر ہے کہ کسی حقیقت کا انکشاف نہیں کرسکتے، اس لئے صاف اور سیدھا مسلک سلف صالحین اور صحابہ وتابعین ہی کا ہے جنہوں نے ان چیزوں کی حقیقت کو علم الہٰی کے سپرد کرنے پر قناعت فرمائی، اس کے بعد فرمایا يُدَبِّرُ الْاَمْرَ یعنی عرش پر مستوی ہو کر وہ تمام عالموں کا انتظام خود دست قدرت سے انجام دیتا ہے۔ (آیت) مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ، یعنی کسی نبی و رسول کو بھی اس کی بارگاہ میں سفارش کرنے کی بذات خود کوئی مجال نہیں، جب تک حق تعالیٰ ہی ان کو سفارش کرنے کی اجازت عطا نہ فرماویں وہ بھی کسی کی سفارش نہیں کرسکتے۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو، وعدہ ہے اللہ کا سچا، وہی پیدا کرتا ہے اول بار پھر دوبارہ کرے گا اس کو تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے تھے اور کئے تھے کام نیک انصاف کے ساتھ، اور جو کافر ہوئے ان کو پینا ہے کھولتا پانی اور عذاب ہے دردناک اس لئے کہ کفر کرتے تھے۔

چوتھی آیت میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے (آیت) اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا، یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا، یہ وعدہ ہے اللہ کا حق اور صحیح، (آیت) اِنَّهٗ يَبْدَؤ ُ ا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ، یعنی وہ اول پیدا کرتا ہے تمام مخلوق کو اور وہی اس کو قیامت میں دوبارہ زندہ فرمائے گا، اس جملہ میں بتلا دیا کہ اس پر کوئی تعجب کرنے کی جگہ نہیں کہ یہ ساری کائنات فنا ہوجانے کے بعد پھر کیسے زندہ ہوگی کیونکہ جس ذات اقدس کے قبضہ میں یہ ہے کہ اول کسی چیز کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ شکل و صورت کے پیدا کردے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ پیدا شدہ مخلوق کو فنا کرنے کے بعد پھر دوبارہ پیدا کردے۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمک اور چاند کو چاندنا اور مقرر کیں اس کے لئے منزلیں تاکہ پہنچانو گنتی برسوں کی اور حساب، یوں ہی نہیں بنایا اللہ نے یہ سب کچھ مگر تدبیر سے، ظاہر کرتا ہے نشانیاں ان لوگوں کے لئے جن کو سمجھ ہے،

خلاصہ تفسیر وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو (بھی) نورانی بنایا اور اس (کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) تاکہ (ان اجرام کے ذریعہ سے) تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہں، بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے (توحید کے) دلائل ہیں جو (خدا کا) ڈر مانتے ہیں۔ معارف و مسائل ان آیتوں میں کائنات عالم کی بہت سی نشانیاں مذکور ہیں جو اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر شاہد اور اس کے دلائل ہیں کہ رب العزت اس پر پوری طرح قادر ہے کہ اس عالم کو فنا کرنے اور ذرہ ذرہ کردینے کے بعد پھر ان ذرات کو جمع کردے اور از سرنو ان سب کو زندہ کردے اور حساب و کتاب کے بعد جزاء و سزاء کا قانون نافذ کردے اور یہ کہ یہی عقل و حکمت کا مقتضی ہے اس طرح یہ آیتیں اس اجمال کی تفصیل ہیں جو گذشتہ تیسری آیت میں آسمان و زمین کی چھ دن میں پیدائش اور پھر اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ کے بعد يُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے الفاظ میں بیان کیا تھا کہ اس نے عالم کو صرف پیدا کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہر وقت ہر آن میں ہر چیز کا نظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی نظام و انتظام کا ایک جزء یہ ہے (آیت) ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا، ضیاء اور نور دونوں کے معنی چمک اور روشنی کے ہیں اسی لئے بہت سے ائمہ لغت نے ان دونوں لفظوں کو مرادف کہا ہے، علامہ زمخشری اور طیبی وغیرہ نے فرمایا کہ اگرچہ روشنی کے معنی ان دونوں لفظوں میں مشترک ہیں مگر لفظ نور عام ہے، ہر قوی و ضعیف ہلکی اور تیز روشنی کو نور کہا جاتا ہے اور ضوء و ضیاء قوی اور تیز روشنی کو کہتے ہیں، انسان کو دونوں قسم کی روشنیوں کی ضرورت پڑتی ہے، عام کاروبار کے لئے دن کو بھی صرف چاند کی پھیکی روشنی رہے تو کاروبار میں خلل آئے اور رات کو بھی آفتاب چمکتا رہے تو نیند اور رات کے مناسب کاموں میں خلل آئے، اس لئے قدرت نے دونوں طرح کی روشنی کا انتظام اس طرح فرمایا کہ آفتاب کی روشنی کو ضوء و ضیاء کا درجہ دیا اور کاروبار کے وقت اس کا ظہور فرمایا اور چاند کی روشنی کو ہلکی اور پھیکی روشنی بنایا اور رات کو اس کا محل ظہور بنایا۔ قرآن کریم نے شمس و قمر کی روشنیوں میں فرق و امتیاز کو متعدد جگہ مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے، سورة نوح میں ہے (آیت) وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا، سورة فرقان میں فرمایا (آیت) وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، سراج کے معنی چراغ کے ہیں اور چونکہ چراغ کا نور ذاتی ہوتا ہے کسی دوسری چیز سے حاصل کردہ نہیں ہوتا اس لئے بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ضیاء کسی چیز کی ذاتی روشنی کو کہتے ہیں اور نور اس کو جو دوسرے سے مستفاد اور حاصل کردہ ہو، مگر یہ بظاہر یونانی فلسفہ سے متاثر ہو کر کہا گیا ہے ورنہ لغت میں اس کی کوئی اصل نہیں، اور قرآن کریم نے بھی اس کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا۔ زجاج نے لفظ ضیاء کو ضوء کی جمع قرار دیا ہے، اس کی رو سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ روشنی کے ساتھ مشہور رنگ اور قسمیں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں آفتاب ان تمام اقسام کا جامع ہے جو بارش کے بعد قوس قزح میں ظاہر ہوتے ہیں۔ (منار)۔ نظام شمس و قمر میں آیات قدرت کا ایک دوسرا مظاہرہ یہ ہے (آیت) وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، قدر لفظ تقدیر سے بنا ہے، تقدیر کے معنٰی کسی چیز کو زمانہ یا مکان یا صفات کے اعتبار سے ایک مخصوص مقدار اور پیمانہ پر رکھنے کے ہیں، رات اور دن کے اوقات کو ایک خاص پیمانہ پر رکھنے کے لئے قرآن کریم نے فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ، مکانی فاصلے اور مسافت کو ایک خاص پیمانہ پر رکھنے کے لئے دوسری جگہ ملک شام اور سباء کی درمیانی بستیوں کے متعلق فرمایا (آیت) وَّقَدَّرْنَا فِيْهَا السَّيْرَ ، اور عام مقادیر کے متعلق فرمایا (آیت) وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۔ لفظ منازل منزل کی جمع ہے جس کے اصلی معنی جائے نزول کے ہیں، اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر دونوں کی رفتار کے لئے خاص حدود مقرر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک کو منزل کہا جاتا ہے، چاند چونکہ اپنا دورہ ہر مہینہ میں پورا کرلیتا ہے اس لئے اس کی منزلیں تیس (30) یا انتیس (29) ہوتی ہیں مگر چونکہ ہر مہینہ میں چاند کم ازکم ایک دن غائب رہتا ہے اس لئے عموما چاند کی منزلیں اٹھائیس کہی جاتی ہیں، اور آفتاب کا دورہ سال بھر میں پورا ہوتا ہے اس کی منزلیں تین سو ساٹھ یا پینسٹھ ہوتی ہیں، قدیم جاہلیت عرب میں بھی اور اہل ہیئت و ریاضی کے نزدیک بھی ان منزلوں کے خاص خاص نام ان ستاروں کی مناسبت سے رکھ دیئے گئے ہیں جو ان منازل کی محاذات میں پائے جاتے ہیں، قرآن کریم ان اصطلاحی ناموں سے بالاتر ہے، اس کی مراد صرف وہ فاصلے ہیں جن کو شمس و قمر خاص خاص دنوں میں طے کرتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ بضمیر مفرد استعمال کیا ہے، حالانکہ منزلیں شمس و قمر دونوں کی ہیں، اس لئے بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اگرچہ ذکر مفرد کا ہے مگر مراد ہر ہر واحد کے اعتبار سے دونوں ہیں جس کی نظائر قرآن اور عربی محاورات میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اگرچہ منزلیں اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر دونوں ہی کے لئے قائم فرما دی ہیں مگر اس جگہ بیان صرف چاند کی منازل کا مقصود ہے اس لئے قَدَّرَهٗ کی ضمیر قمر کی طرف راجع ہے، وجہ تخصیص کی یہ ہے کہ آفتاب کی منزلیں تو آلات رصدیہ اور حسابات کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتیں اس کا طلوع و غروب ایک ہی ہیئت میں سال کے تمام ایام میں ہوتا رہتا ہے، مشاہدہ سے کسی کو یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ آج آفتاب کون سی منزل میں ہے، بخلاف چاند کے کہ اس کے حالات ہر روز مختلف ہوتے ہیں آخر ماہ میں با لکل نظر نہیں آتا، اس طرح کے تغیرات کے مشاہدہ سے بےعلم لوگ بھی تاریخوں کا پتہ چلا سکتے ہیں، مثلاً آج مارچ کی آٹھ تاریخ ہے کوئی شخص آفتاب کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ آٹھ ہے یا اکیس بخلاف چاند کے کہ اس کو دیکھ کر بھی تاریخ کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ آیت مذکورہ میں چونکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان عظیم الشان نشانیوں سے انسان کا یہ فائدہ بھی وابستہ ہے کہ ان کے ذریعہ وہ سال اور مہینہ اور اس کی تاریخوں کا حساب معلوم کرے اور یہ حساب بھی اگرچہ شمس و قمر دونوں ہی سے معلوم ہوسکتا ہے اور دنیا میں دونوں طرح کے سال اور مہینے شمسی اور قمری قدیم زمانہ سے معروف بھی ہیں، اور قرآن کریم نے بھی سورة اسراء کی آیت 12 میں فرمایا (آیت) وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، اس میں اٰيَةَ الَّيْلِ سے مراد چاند اور اٰيَةَ النَّهَارِ سے مراد آفتاب ہے، اور دونوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان سے تم سالوں کا عدد اور مہینوں کی تاریخوں کا حساب معلوم کرسکتے ہیں، اور سورة رحمن میں فرمایا (آیت) اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ، جس میں بتلایا گیا ہے کہ شمس و قمر دونوں کے ذریعہ تاریخ مہینہ اور سال کا حساب معلوم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن قمر کے ذریعہ مہینہ اور تاریخ کا حساب مشاہدہ اور تجربہ سے معلوم ہے بخلاف شمس کے کہ اس کے حسابات سوائے ریاضی والوں کے کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا، اس لئے اس آیت میں شمس و قمر دونوں کا ذکر کرنے کے بعد جب ان کی منازل مقرر کرنے کا ذکر فرمایا تو بضمیر مفرد قدرہ ارشاد فرما کر منازل صرف قمر کی بیان فرمائی گئیں۔ اور چونکہ احکام اسلام میں ہر جگہ ہر موقع پر اس کی رعایت رکھی گئی ہے کہ ان کی ادائیگی شخص کے لئے آسان ہو خواہ وہ کوئی لکھا پڑھا آدمی ہو یا ان پڑھ شہری ہو یا دیہاتی، اسی لئے عموماً احکام اسلامیہ میں قمری سن اور مہینہ اور تاریخوں کا اعتبار کیا گیا ہے، نماز، روزہ، حج، زکوٰة، اور عدت وغیرہ اسلامی فرائض و احکام میں قمری حساب ہی رکھا گیا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا ناجائز ہے بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے مگر اپنے کاروبار، تجارت وغیرہ میں شمسی استعمال کرے، شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری وغیرہ کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں، فقہاء رحمہم اللہ نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ سنت انبیاء اور سنت رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین میں قمری ہی حساب استعمال کیا گیا ہے اس کا اتباع موجب برکت وثواب ہے۔ غرض آیت مذکورہ میں اللہ جل شانہ کی قدرت اور حکمت کاملہ کا بیان ہے کہ اس نے روشنی کے دو عظیم الشان خزانے مناسب حال پیدا فرمائے اور پھر ہر ایک کی رفتار کے لئے ایسے پیمانے مقرر فرما دیئے جن سے سال مہینہ تاریخ اور اوقات کے ایک ایک منٹ کا حساب معلوم کیا جاسکتا ہے، نہ کبھی ان کی رفتار میں فرق آتا ہے نہ کبھی آگے پیچھے ہوتے ہیں، نہ ان خدا ساز مشینوں میں کبھی مرمت کا وقفہ ہوتا ہے نہ ان کو گریسنگ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ وہ کبھی گھستی ٹوٹتی ہیں، جس شان سے ازل میں چلا دیا تھا چل رہی ہیں۔ اس کے بعد آخر آیت میں اسی پر مزید تنبیہ کے لئے فرمایا (آیت) مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، یعنی ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان میں بڑی بڑی حکمتیں اور انسان کے لئے بیشمار فوائد مضمر ہیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو عقل و دانش رکھتے ہیں۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

البتہ بدلنے میں رات اور دن کے اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو ڈرتے ہیں۔

اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے (توحید و آخرت کے) دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ کا ڈر مانتے ہیں۔ توحید کے دلائل تو قدرت و صنعت کی یکتائی اور بغیر کسی امداد کے ان تمام چیزوں کو پیدا کرنا اور ایسے نظام کے ساتھ چلانا ہے جو نہ کبھی ٹوٹتا ہے نہ بدلتا ہے۔ اور آخرت کے دلائل اس لئے ہیں کہ جس ذات حکیم نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کے فائدہ کے لئے بنایا اور ایک محکم نظام کا پابند کیا، اس سے یہ ممکن نہیں کہ اس مخدوم کائنات کو اس نے بےفائدہ محض کھانے پینے کے لئے پیدا کیا ہو، اس کے ذمہ کچھ فرائض نہ لگائے ہوں، اور جب یہ لازم ہوا کہ اس مخدوم کائنات پر بھی کچھ پابندیاں ہونا ضروری ہے تو یہ بھی لازم ہوا کہ ان پابندیوں کو پورا کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کا کبھی کہیں حساب ہو، کرنے والوں کو اچھا بدلہ ملے اور نہ کرنے والوں کو سزا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس دنیا میں تو جزا و سزا کا یہ دستور نہیں، یہاں تو مجرم بسا اوقات متقی پارسا سے زیادہ اچھی زندگی گزارتا ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ حساب اور جزاء و سزا کا کوئی دن مقرر ہو، اسی کا نام قیامت اور آخرت ہے۔
Ayahs 10:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

البتہ جو لوگ امید نہیں رکھتے ہمارے ملنے کی اور خوش ہوئے دنیا کی زندگی پر اور اسی پر مطمئن ہوگئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں،

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسوں کا ٹھکانہ ہے آگ بدلہ اس کا جو کماتے تھے،

خلاصہ تفسیر جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں (آخرت کی طلب اصلاً نہیں کرتے) اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں (آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے (جو کہ بعثت پر دلالت کرتی ہیں) بالکل غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے (ان) اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے (اور) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کے مقصد (یعنی جنت تک پہنچا دے گا، ان کے (مسکن کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی جن کے باغوں میں (اور جس وقت وہ جنت میں جاویں گے اور عجائبات کا دفعةً معائنہ کریں گے تو اس وقت) ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی کہ سبحان اللہ اور (پھر جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو) ان کا باہمی سلام یہ ہوگا اسلام علیکم اور (جب اطمینان سے وہاں جا بیٹھیں گے اور اپنے پرانے مصائب اور متاعب اور اس وقت کے غیر مکدر دائمی عیش کا موازنہ کریں گے تو) ان کی (اس وقت کی باتوں میں) اخیر بات یہ ہوگی الحمد اللہ رب العلمین (جیسا دوسری آیت میں ہے الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ)۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت کے خاص خاص مظاہر آسمان اور زمین شمس و قمر وغیرہ کی تخلیق کا ذکر کرکے عقیدہ توحید و آخرت کو ایک بلیغ انداز میں ثابت کیا گیا تھا، مذکور الصدر آیات میں سے پہلی تین آیتوں میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کائنات عالم کی ایسی کھلی کھلی نشانیوں اور شہادتوں کے باوجود، انسانوں کے دو طبقے ہوگئے، ایک وہ جس نے ان آیات قدرت کی طرف ذرا دھیان نہ دیا، نہ اپنے پیدا کرنے والے مالک کو پہچانا اور نہ اس پر غور کیا کہ ہم دنیا کے عام جانوروں کی طرح ایک جانور نہیں، رب العزت نے ہمیں ادراک و شعوری عقل و ہوش تمام جانوروں سے زیادہ دیا ہے اور ساری مخلوقات کو ہمارا خادم بنادیا ہے تو ہمارے ذمہ بھی کوئی کام لگایا ہوگا اور اس کا ہمیں بھی حساب دینا ہوگا جس کے لئے ضرورت ہے کہ کوئی روز حساب اور روز جزاء مقرر ہو جس کو قرآن کی اصطلاح میں قیامت اور حشر و نشر سے تعبیر کیا جاتا ہے، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کو عام جانوروں کی سطح پر رکھا، پہلی دو آیتوں میں ان لوگوں کی خاص علامات بتلا کر ان کی سزائے آخرت کا ذکر کیا گیا ہے، فرمایا کہ جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی اور اس کی راحت و تکلیف کو بھلا کر صرف دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے۔ دوسرے یہ کہ اس دنیا میں ایسے مطمئن ہو کر بیٹھے ہیں کہ گویا یہاں سے کہیں جانا ہی نہیں ہمیشہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے، ان کو کبھی یہ دھیان نہیں آتا کہ اس دنیا سے ہر شخص کو رخصت ہونا تو ایسا بدیہی مسئلہ ہے جس میں کبھی کسی کو شبہ ہی نہیں ہوسکتا ہے، اور جب یہاں سے جانا یقینی ہے تو جہاں جانا ہے وہاں کی کچھ تیاری ہونا چاہئے“۔ تیسرے یہ کہ یہ لوگ ہماری آیتوں اور نشانیوں سے مسلسل غفلت ہی غفلت میں ہیں، اگر وہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی عام مخلوقات میں اور خود اپنے نفس میں ذرا بھی غور کرتے تو حقیقت حال کا سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوتا اور وہ اس احمقانہ غفلت سے نکل سکتے تھے۔ ایسے لوگ جن کی یہ علامات بتلائی گئیں ان کی سزا آخرت میں یہ ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے اور یہ سزا خود ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔ افسوس ہے کہ قرآن کریم نے جو علامات کفار و منکرین کی بتلائی ہیں آج ہم مسلمانوں کا حال ان سے کچھ ممتاز نہیں، ہماری زندگی اور ہمارے شب و روز کے اشغال و افکار کو دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ہمیں اس دنیا کے سوا اور بھی کوئی فکر لگی ہوئی ہے اور اس کے باوجود ہم اپنے آپ کو پکا اور سچا مسلمان باور کئے ہوئے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ سچے اور پکے مسلمان جیسے کہ ہمارے اسلاف تھے ان کے چہرے دیکھ کر خدا یاد آتا اور یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ کسی ہستی کا خوف اور کسی حساب کی فکر دل میں رکھتے ہیں، اور تو اور رسول کریم ﷺ کا بھی باوجود گناہوں سے معصوم ہونے کے یہی حال تھا، شمائل ترمذی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اکثر اوقات غمگین اور متفکر نظر آتے تھے۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے اچھے ہدایت کرے گا ان کو رب ان کا ان کے ایمان سے، بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں باغوں میں آرام کے،

تیسری آیت میں ان خوش نصیب انسانوں کا ذکر ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کی آیات قدرت میں غور کیا اور اس کو پہچانا، اس پر ایمان لائے اور ایمان کے مقتضی پر عمل کرکے اعمال صالحہ کے پابند ہوگئے۔ قرآن کریم نے ان حضرات کے لئے دنیا و آخرت میں جو اچھا صلہ اور جزاء مقرر فرمائی ہے اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے(آیت) اُولٰۗىِٕكَ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ ، یعنی ان کا رب ان کو ایمان کی وجہ سے منزل مقصود یعنی جنت دکھلائے گا، جس میں چین و آرام کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔ اس میں لفظ ہدایت آیا ہے جس کے مشہور معنٰی راستہ بتلانے اور دکھلانے کے ہیں، اور کبھی منزل مقصود تک پہنچا دینے کے معنٰی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس مقام پر یہی معنٰی مراد ہیں اور منزل مقصود سے مراد جنت ہے جس کی وضاحت بعد کے الفاظ میں ہوگئی ہے، جس طرح پہلے طبقہ کی سزا ان کے اپنے کرتوت کا نتیجہ تھی اسی طرح اس دوسرے مومن طبقہ کی جزاء کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہترین جزاء ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے ملی ہے اور چونکہ اوپر ایمان کے ساتھ عمل صالحہ بھی ہوں، ایمان اور عمل صالح کا بدلہ بےنظیر راحتوں اور نعمتوں کا مقام جنت ہے۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کی دعا اس جگہ یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اللہ اور ملاقات ان کی سلام، اور خاتمہ ان کی دعا کا اس پر کہ سب خوبی اللہ کو جو پروردگار ہے سارے جہاں کا۔

چوتھی آیت میں جنت میں پہنچنے کے بعد اہل جنت کے چند مخصوص حالات بتلائے ہیں، اول یہ کہ (آیت) دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ ، اس میں لفظ دعوی اپنے مشہور معنی میں نہیں جو کوئی مدعی اپنے حریف کے مقابلہ میں کیا کرتا ہے، بلکہ اس جگہ لفظ دعوٰی دعا کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اہل جنت کی دعا جنت میں پہنچنے کے بعد یہ ہوگی کہ وہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہتے رہیں گے یعنی اللہ جل شانہ کی تسبیح کیا کریں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا تو عرف عام میں کسی چیز کی درخواست اور کسی مقصد کے طلب کرنے کو کہا جاتا ہے، سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ میں نہ کوئی درخواست ہے نہ طلب، اس کو دعا کس حیثیت سے کہا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ اس کلمہ سے بتلانا یہ مقصود ہے کہ اہل جنت کو جنت میں ہر راحت ہر مطلب من مانے انداز سے خود بخود حاصل ہوگی، کسی چیز کو مانگنے اور درخواست کرنے کے ضرورت اللہ کی تسبیح ہوگی اور وہ بھی دنیا کی طرح کوئی فریضہ عبادت ادا کرنے کے لئے نہیں بلکہ وہ اس کلمہ تسبیح سے لذت محسوس کریں گے اور اپنی خوشی سے سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہا کریں گے، اس کے علاوہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو بندہ میری حمد و ثنا میں ہر وقت لگا رہے یہاں تک کہ اس کو اپنے مطلب کی دعا مانگنے کی بھی فرصت نہ رہے تو میں اس کو تمام مانگنے والوں سے بہتر چیز دوں گا یعنی بےمانگے اس کے سب کام پورے کردوں گا۔ اس حیثیت سے بھی لفظ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کو دعا کہہ سکتے ہیں۔ اسی معنی کے اعتبار سے صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی تکلیف و بےچینی پیش آتی تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم، لا الہ الا اللہ رب السموت و رب الارض و رب العرش الکریم۔ اور امام طبری نے فرمایا کہ سلف صالحین اس کو دعا کرب کہا کرتے تھے، اور مصیبت و پریشانی کے وقت یہ کلمات پڑھ کر دعا مانگا کرتے تھے۔ (تفسیر قرطبی) اور امام ابن جریر، ابن منذر وغیرہ نے ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ اہل جنت کو جب کسی چیز کی ضرورت اور خواہش ہوگی تو وہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہیں گے، یہ سنتے ہیں فرشتے ان کے مطلب کی چیز حاضر کردیں گے، گویا کلمہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ اہل جنت کی ایک خاص اصطلاح ہوگی جس کے ذریعہ وہ اپنی خواہش کا اظہار کریں گے اور ملائکہ ہر مرتبہ اس کو پورا کردیں گے (روح المعانی و قرطبی) اس لحاظ سے بھی کلمہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کو دعا کہا جاسکتا ہے۔ اہل جنت کا دوسرا حال یہ بتلایا کہ (آیت) تَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ، تحیہ عرف میں اس کلمہ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی آنے والے یا ملنے والے شخص کا استقبال کیا جاتا ہے جیسے سلام یا خوش آمدید یا اہل و سہلا وغیرہ، اس آیت نے بتلایا کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے اہل جنت کا تحیہ لفظ سلام سے ہوگا، یعنی یہ خوشخبری کہ تم ہر تکلیف اور ناگوار چیز سے سلامت رہو گے، یہ سلام خود حق تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ ، سلم علیکم یعنی فرشتے اہل جنت کے پاس ہر دروازہ سے سلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوں گے، اور ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ کسی وقت براہ راست اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے اور کسی وقت فرشتوں کی طرف سے، اور سلام کا لفظ اگرچہ دنیا میں دعا ہے لیکن جنت میں پہنچ کر تو ہر مطلب حاصل ہوگا اس لئے وہاں یہ لفظ دعا بجائے خوشخبری کا کلمہ ہوگا (روح) تیسرا حال اہل جنت کا یہ بتلایا کہ (آیت) اٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، یعنی اہل جنت کی آخری دعا الحمد اللہ رب العلمین ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی نصیب ہوگی جیسا کہ حضرت شہاب الدین سہروردی ؒ نے اپنے ایک رسالہ میں فرمایا کہ جنت میں پہنچ کر عام اہل جنت کو علم و معرفت کا وہ مقام حاصل ہوجائے گا جو دنیا میں علما کا ہے، اور علما کو وہ مقام حاصل ہوجائے گا جو یہاں انبیاء کا ہے، اور انبیاء کو وہ مقام حاصل ہوجائے گا جو دنیا میں سید الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کو حاصل ہے، اور آنحضرت ﷺ کو وہاں قرب خداوندی کا انتہائی مقام حاصل ہوگا، اور ممکن ہے کہ اسی مقام کا نام مقام محمود ہو جس کے لئے اذان کی دعا میں آپ نے دعا کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اہل جنت کی ابتدائی دعا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ اور آخری دعا الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ہوگی، اس میں اللہ جل شانہ کی صفات کی دو قسموں کی طرف اشارہ ہے، ایک صفات جلا ل، جن میں اللہ جل شانہ کے ہر عیب اور ہر برائی سے پاک ہونے کا ذکر ہے دوسری صفات اکرام، جن میں اس کی بزرگی و برتری اور اعلی کمال کا ذکر ہے، قرآن کریم کی آیت تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، میں ان دونوں قسموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ سبحانیت اللہ تعالیٰ کی صفات جلال میں سے ہے اور مستحق حمد و ثنا ہونا صفات اکرام میں سے ہے اور ترتیب طبعی کے مطابق صفات جلال صفات اکرام سے مقدم ہیں، اس لئے اہل جنت شروع میں صفات جلا کو بلفظ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ بیان کریں گے اور آخر میں صفات اکرام کو بلفظ الحمد اللہ رب العلمین ذکر کریں گے یہی ان کا رات دن کا مشغلہ ہے۔ اور ان تینوں احوال کی ترتیب طبعی یہ ہے کہ اہل جنت جن کو سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہیں گے تو اس کے جواب میں ان کو حق تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچے گا۔ اس کے نتیجہ میں وہ الحمد اللہ رب العلمین کہیں گے۔ (روح المعانی) احکام و مسائل قرطبی نے احکام القرآن میں فرمایا کہ کھانے پینے اور تمام کاموں میں سنت اہل جنت کے اس عمل کے مطابق یہ ہے کہ بسم اللہ سے شروع کرے اور الحمد اللہ پر ختم کرے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند ہے کہ بندہ جب کوئی چیز کھائے پئے تو بسم اللہ سے شروع کرے اور فارغ ہو کر الحمد اللہ کہے۔ مستحب ہے کہ دعا کرنے والا آخر میں یہ کہا کرے و اخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین اور قرطبی نے فرمایا کہ اس کے ساتھ بہتر یہ ہے کہ سورة صفت کی آخرت آیتیں بھی پڑھے یعنی (آیت) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر جلدی پہنچا دے اللہ لوگوں کو برائی جیسے کہ جلدی مانگتے ہیں وہ بھلائی تو ختم کردی جائے ان کی عمر، سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان کو جن کو امید نہیں ہماری ملاقات کی ان کی شرارت میں سرگرداں،

خلاصہ تفسیر اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر (ان کی جلدی مچانے کے موافق) جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وہ فائدہ کے لئے جلدی مچاتے ہیں (اور اس کے موافق وہ فائدہ جلد واقع کردیتا ہے اسی طرح اگر نقصان بھی واقع کردیا کرتا) تو ان کا وعدہ (عذاب) کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا (لیکن ہماری حکمت جس کا بیان ابھی آتا ہے چونکہ اس کو مقتضی نہیں ہے) سو (اس لئے) ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ان کے حال پر (بلا عذاب چند روز) چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں (اور مستحق عذاب کے ہوجاویں اور وہ حکمت یہی ہے) اور جب انسان کو (یعنی ان میں سے بعض کو) کوئی تکلیف پہنچی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی (اور اس وقت کوئی بت وغیرہ یاد نہیں رہتا ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) پھر جب (اس کی دعا والتجاء کے بعد) ہم اس کی وہ تکلیف ہٹا دیتے ہیں تو پھر اپنی حالت پر آجاتا ہے (اور ہم سے ایسا بےتعلق ہوجاتا ہے) کہ گویا جو تکلیف اس کو پہنچی تھی اس کے ہٹانے کے لئے کبھی ہم کو پکارا ہی نہ تھا (اور پھر وہی شرک کی باتیں کرنے لگتا ہے، نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا) ان حد سے نکلنے والوں کے اعمال (بد) ان کو اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں (جس طرح ہم نے ابھی بیان کیا ہے) اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو (انواع عذاب سے) ہلاک کردیا ہے جب کہ انہوں نے ظلم (یعنی کفر و شرک) کیا حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دلائل لے کر آئے اور وہ (بوجہ غایت عناد کے) ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں (جیسا ہم نے ابھی بیان کیا ہے) پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو آباد کیا تاکہ (ظاہری طور پر بھی) ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو (آیا ویسا ہی شرک و کفر کرتے ہو یا ایمان لاتے ہو) اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے (آپ سے) یوں کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی (پورا) دوسرا قرآن (ہی) لائے (جس میں ہمارے مسلک کے خلاف مضامین نہ ہوں) یا (کم از کم) اسی (قرآن) میں کچھ ترمیم کردیجئے (کہ ہمارے مسلک کے خلاف مضامین اس سے حذف کردیجئے اور اس منطوق سے یہ بھی مفہوم ہوا کہ وہ لوگ قرآن کو کلام محمدی سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ اسی بنا پر جواب تعلیم فرماتے ہیں کہ) آپ یوں کہہ دیجئے کہ (قطع نظر اس سے کہ ایسے مضامین کا حذف کرنا فی نفسہ کیسا ہے خود) مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں (اور جب بعض کا حذف بھی ممکن نہیں تو کل کا حذف تو بدرجہ اولی ناممکن ہے کیونکہ وہ میرا کلام تو ہے ہی نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے جو وحی کے ذریعہ سے آیا ہے، جب یہ ہے تو) بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچا ہے (اور بالفرض خدانخواستہ) اگر میں (وحی کا اتباع نہ کروں بلکہ) اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے بھاری دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں (جو اہل عصیان کے لئے مخصوص ہے اور بوجہ عصیان کے تمہارے نصیب میں ہے سو میں تو اس عذاب یا اس کے سبب یعنی عصیان کی جرأت نہیں رکھتا اور اگر ان کو اس کے وحی ہونے میں کلام ہے اور یہ آپ ہی کا کلام سمجھے جاتے ہیں تو) آپ یوں کہہ دیجئے کہ (یہ تو ظاہر ہے کہ یہ کلام معجز ہے کوئی بشر اس پر قادر نہیں ہوسکتا خواہ میں ہوں یا تم ہو سو) اگر خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا (کہ میں یہ کلام معجز تم کو نہ سنا سکوں اور اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے تم کو اس کی اطلاع نہ دے) تو (مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا پس) نہ تو میں تم کو یہ (کلام) پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تم کو اس کی اطلاع دیتا (پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعہ سے تم کو اطلاع ہو رہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اس کلام معجز کا سنوانا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وہ وحی منزل اور کلام الہٰی ہے) کیونکہ (آخر) اس (کلام کے ظاہر کرنے) سے پہلے بھی تو ایک بڑے حصہ عمر تک تم میں رہ چکا ہوں (پھر اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرز کا نہ نکلا اور یا دفعۃ اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عقل کے خلاف ہے) پھر کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے ہو (جب اس کا کلام الہٰی اور حق ہونا ثابت ہوگیا اور پھر بھی مجھ سے درخواست ترمیم کی کرتے ہو اور اس کو نہیں مانتے تو سمجھ لو کہ) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (جیسا میرے لئے تجویز کرتے ہو) یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلاوے (جیسا اپنے لئے تجویز کر رکھا ہے) یقینا ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہوگی (بلکہ معذب ابدی ہوں گے)۔ معارف و مسائل مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو آخرت کے منکر ہیں، اسی وجہ سے جب ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ بطور استہزا کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ عذاب ابھی بلا لو یا یہ کہ پھر یہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا جیسے نضر بن حارث نے کہا تھا " یا اللہ اگر یہ بات سچی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا اور کوئی سخت عذاب بھیج دیجئے "۔ پہلی آیت میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہیں، یہ عذاب موعود فوراً اس وقت بھی نازل فرما سکتے ہیں مگر وہ اپنی حکمت بالغہ اور لطف و کرم سے ایسا نہیں کرتے یہ نادان جو اپنے حق میں بد دعا کرتے اور مصیبت طلب کرتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ ان کی بد دعا کو بھی اسی طرح جلد قبول فرما لیا کرتے جس طرح ان کی اچھی دعا کو اکثر کرلیتے ہیں تو یہ سب ہلاک ہوجاتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعائے خیر اور اچھی دعا کے متعلق تو حق تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ اکثر جلد قبول کرلیتے ہیں اور کبھی کسی حکمت و مصلحت سے قبول نہ ہونا اس کے منافی نہیں، مگر جو انسان کبھی اپنی نادانی سے اور کبھی کسی غصہ اور رنج سے اپنے لئے یا اپنے اہل و عیال کے لئے بد دعا کر بیٹھتا ہے یا انکار آخرت کی بنا پر عذاب کو کھیل سمجھ کر اپنے لئے دعوت دیتا ہے اس کو فوراً قبول نہیں کرتے بلکہ مہلت دیتے ہیں تاکہ منکر کو غور و فکر کر کے اپنے انکار سے باز آنے کا موقع ملے اور اگر کسی وقتی رنج و غصہ یا دل تنگی کے سبب بد دعا کر بیٹھا ہے تو اس کو اس کی مہلت مل جائے کہ اپنے بھلے برے کو دیکھے اور انجام پر نظر ڈال کر اس سے باز آجائے۔ امام ابن جریر طبری نے بروایت قتادہ اور بخاری و مسلم نے بروایت مجاہد نقل کیا ہے کہ اس جگہ بد دعا سے مراد یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی انسان غصہ کی حالت میں اپنی اولاد یا مال و دولت کے تباہ ہونے کی بد دعا کر بیٹھتا یا ان چیزوں پر لعنت کے الفاظ کہہ ڈالتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ایسی دعا قبول کرنے میں جلدی نہیں فرماتے۔ امام قرطبی نے اس جگہ ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ جل شانہ سے دعا کی ہے کہ وہ کسی دوست عزیز کی بد دعا اس کے دوست عزیز کے متعلق قبول نہیں فرماویں، اور شہر بن حوشب ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے بعض کتابوں میں پڑھا ہے کہ جو فرشتے انسانوں کی حاجت روائی پر مقرر ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو یہ ہدایت کر رکھی ہے کہ میرا بندہ جو رنج و غصہ میں کچھ بات کہے اس کو نہ لکھو۔ (قرطبی)۔ اس کے باوجود بعض اوقات کوئی قبولیت کی گھڑی آتی ہے جس میں انسان کی زبان سے جو بات نکلے وہ فوراً قبول ہوجاتی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اولاد اور مال کے لئے کبھی بد دعا نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ وہ وقت قبولیت دعا کا ہو اور یہ بد دعا فوراً قبول ہوجائے (اور تمہیں بعد میں پچھتانا پڑے) صحیح مسلم میں یہ حدیث حضرت جابر کی روایت سے غزوہ بواط کے واقعہ کے تحت نقل کی گئی ہے۔ ان سب روایات کا حاصل یہ ہے کہ آیت مذکورہ کا اصل خطاب اگرچہ منکرین آخرت اور ان کے فوری مطالبہ عذاب سے متعلق ہے لیکن اس کے عموم میں وہ مسلمان بھی داخل ہیں جو کسی رنج و غصہ کی وجہ سے اپنے یا اپنے مال و اولاد کے لئے بد دعا کر بیٹھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عادت اس کے فضل و کرم کی وجہ سے دونوں کے ساتھ یہی ہے کہ ایسی بد دعاؤں کو فوراً نافذ نہیں فرماتے، تاکہ انسان کو سوچنے اور غور کرنے کا موقعہ مل جائے۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب پہنچے انسان کو تکلیف، پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا، پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر، اسی طرح پسند آیا بےباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں،

دوسری آیت میں منکرین توحید و آخرت کو ایک دوسرے بلیغ انداز سے قائل کیا گیا ہے وہ یہ کہ لوگ عام حالات راحت و اطمینان میں خدا و آخرت کے خلاف حجت بازی کرتے اور غیروں کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے اور ان سے حاجت روائی کی امیدیں باندھے رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی بڑی مصیبت آپڑتی ہے اس وقت یہ لوگ خود بھی اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی ساری امید گاہوں سے مایوس ہو کر صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں، اور لیٹے، بیٹھے، کھڑے غرض ہر حال میں اسی کو پکارنے پر مجبور ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ احسان فراموشی کا یہ عالم ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کردیتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے ایسے آزاد و بےفکر ہوجاتے ہیں کہ گویا کبھی اس کو پکارا ہی نہ تھا اور اس سے کوئی حاجت مانگی ہی نہ تھی، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حاجت روائی میں کسی دو سرے کو شریک کرنے والے خود بھی اپنے اس عقیدہ کا بطلان مشاہدہ کرلیتے ہیں، مگر پھر عناد و ضد کی وجہ سے اسی باطل عقیدہ پر جمے رہتے ہیں۔
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور البتہ ہم ہلاک کرچکے ہیں جماعتوں کو تم سے پہلے جب ظالم ہوگئے حالانکہ لائے تھے ان کے پاس رسول ان کے کھلی نشانیاں، اور ہرگز نہ تھے ایمان لانے والے، یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گنہگاروں کو،

تیسری آیت میں اسی دوسری آیت کے مضمون کی مزید توضیح اور تاکید اس طرح کی گئی ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے ڈھیل دینے سے یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں عذاب آہی نہیں سکتا، پچھلی قوموں کی تاریخ اور ان کی سرکشی و نافرمانی کی سزا میں مختلف قسم کے عذاب اسی دنیا میں آچکے ہیں، اس امت میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء ﷺ کے اکرام کی وجہ سے یہ وعدہ فرما لیا ہے کہ عذاب عام نہ آئے گا، اور اللہ تعالیٰ کے اسی لطف و کرم نے ان لوگوں کو ایسا بےباک کردیا ہے کہ وہ بڑی جرأت سے عذاب الہٰی کو دعوت دینے اور اس کا مطالبہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ عذاب الہٰی سے بےفکری ان کے لئے بھی کسی حال میں روا نہیں، کیونکہ پوری امت اور پوری دنیا پر عذاب عام نہ بھیجنے کا وعدہ ضرور ہے مگر خاص خاص افراد اور قوموں پر عذاب آجانا اب بھی ممکن ہے۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کو کیا کرتے ہو،

چوتھی آیت میں فرمایا (آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی پھر پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے تمہیں ان کا قائم مقام بنایا اور زمین کی خلافت تمہارے حوالہ کردی مگر یہ نہ سمجھو کہ یہ زمین کی خلافت تمہارے عیش و آرام کے لئے تمہیں سپرد کی گئی ہے بلکہ اس اعزازو اکرام کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمہارا امتحان لیا جائے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو، پچھلی تاریخ امم سے متاثر ہو کر اپنے حالات کی اصلاح کرتے ہو یا حکومت و و دولت کے نشہ میں سرشار ہوجاتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی حکومت و اقتدار کوئی فخر و ناز کی چیز نہیں بلکہ ایک بھاری بوجھ ہے جس کی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے آیتیں ہماری واضح، کہتے ہیں وہ لوگ جن کو امید نہیں ہم سے ملاقات کی لے آ کوئی قرآن اس کے سوا یا اس کو بدل ڈال، تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اس کو بدل ڈالوں اپنی طرف سے، میں تابع داری کرتا ہوں اسی کی جو حکم آئے میری طرف، میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی، بڑے دن کے عذاب سے،

پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں چار آیتوں میں منکرین آخرت کے ایک غلط خیال اور بےجا فرمائش کی تردید ہے، ان لوگوں کو نہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل تھی اور نہ وحی و رسالت کے سلسلہ سے واقف تھے، انبیاء علہیم السلام کو بھی عام انسانوں کی طرح جانتے تھے قرآن کریم جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ دنیا کو پہنچا اس کے متعلق بھی ان کا یہ خیال تھا کہ یہ خود آپ کا کلام اور آپ کی تصنیف ہے، اسی خیال کی بناء پر آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن تو ہمارے اعتقادات و نظریات کے خلاف ہے جن بتوں کی ہمارے باپ دادا ہمیشہ تعظیم کرتے آئے اور ان کو حاجت روا مانتے آئے ہیں قرآن ان سب کو باطل اور لغو قرار دیتا ہے، بہت سی چیزیں اور معاملات جو ہم برابر استعمال کرتے آئے ہیں قرآن ان سب کو حرام قرار دیتا ہے، اور پھر قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب دینا ہوگا، یہ سب چیزیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ہم ان کو ماننے کے لئے تیار نہیں، اس لئے آپ یا تو ایسا کریں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی دوسرا قرآن بنادیں جس میں یہ چیزیں نہ ہوں یا کم ازکم اسی میں ترمیم کرکے ان چیزوں کو نکال دیں۔ قرآن کریم نے اول ان کے غلط اعتقاد کو رد کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ یہ نہ میرا کلام ہے، نہ اپنی طرف سے اس کو بدل سکتا ہوں میں تو صرف وحی الہٰی کا تابع ہوں، اگر میں ذرا بھی اس میں اپنے اختیار سے کوئی تبدیلی کروں تو سخت گناہ کا مرتکب ہوں گا اور نافرمانی کرنے والوں پر جو عذاب مقرر ہے میں اس سے ڈرتا ہوں اس لئے ایسا نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا کہ میں جو کچھ کرتا ہوں فرمان خداوندی کے تابع کرتا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوتی کہ تمہیں یہ کلام نہ سنایا جائے تو نہ میں تمہیں سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے باخبر کرتے اور جب اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ تمہیں یہی کلام سنوایا جائے تو کس کی مجال ہے جو اس میں کوئی کمی بیشی کرسکے۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اس کو تمہارے سامنے اور نہ وہ تم کو خبر کرتا اس کی کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے، کیا پھر تم نہیں سوچتے،

اس کے بعد قرآن کے من جانب اللہ اور کلام الہٰی ہونے کو ایک واضح دلیل سے سمجھایا، (آیت) فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ، یعنی تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ نزول قرآن سے پہلے میں نے تمہارے سامنے چالیس سال کی طویل مدت گزاری ہے، اس مدت میں تم نے کبھی مجھے شعر و سخن یا کوئی مقالہ لکھتے ہوئے نہیں سنا، اگر میں اپنی طرف سے ایسا کلام کہہ سکتا تو کچھ نہ کچھ اس چالیس سال کے عرصہ میں بھی کہا ہوتا، اس کے علاوہ اس چالیس سالہ طویل زندگی میں تم میرے چال چلن میں صدق و دیانت کا تجربہ کرچکے ہو کہ عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا تو آج چالیس سال کے بعد آخر جھوٹ بولنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، اس سے بدیہی طور پر ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ صادق امین ہیں، قرآن میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اسی کی طرف سے آیا ہوا ہے۔ اہم فائدہ قرآن کریم کی اس دلیل نے صرف قرآن کے کلام حق ہونے پر ہی مکمل ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ عام معاملات میں کھرے کھو ٹے اور حق و باطل کی پہچان کا ایک اصول بھی بتادیا کہ کسی شخص کو کوئی عہدہ یا منصب سپرد کرنا ہو تو اس کی قابلیت اور صلاحیت کو جانچنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ اس کی پچھلی زندگی کا جائزہ لیا جائے، اگر اس میں صدق و امانت داری موجود ہے تو آئندہ بھی اس کی توقع کی جاسکتی ہے، اور اگر پچھلی زندگی میں اس کی دیانت و امانت اور صدق و سچائی کی شہادت موجود نہیں تو آئندہ کے لئے محض اس کے کہنے اور دعوے کی وجہ سے اس پر اعتماد کرنا کوئی دانشمندی نہیں، آج عہدوں کی تقسیم اور ذمہ داریوں کی سپردگی میں جس قدر غلطیاں اور ان کی وجہ سے عظیم مفاسد پیدا ہو رہے ہیں ان سب کی اصلی وجہ اسی اصول فطرت کو چھوڑ کر رسمی چیزوں کے پیچھے پڑجانا ہے۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس سے بڑا ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو بیشک بھلا نہیں ہوتا گنہگاروں کا۔

آٹھویں آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید وارد ہوئی ہے جس میں کسی کلام کو غلط طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا عذاب شدید مذکور ہے۔