10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو اور نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس، تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں، وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جس کو شریک کرتے ہیں،

خلاصہ تفسیر اور یہ لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو (عبادت نہ کرنے کی صورت میں) نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ (عبادت کرنے کی صورت میں) ان کو نفع پہنچا سکیں اور (اپنی طرف سے بلا دلیل ایک نفع تراش کر) کہتے ہیں کہ یہ (معبود) اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں (اس لئے ہم ان کی عبادت کرتے ہیں) آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم خدا تعالیٰ کو ایسی چیز بتلاتے ہو جو خدا تعالیٰ کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں (یعنی جو چیز اللہ کے علم میں نہ ہو، اس کا وجود اور وقوع محال ہے تو تم ایک محال چیز کے پیچھے لگے ہو) اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے اور (پہلے) تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے تھے (یعنی سب موحد تھے، کیونکہ آدم ؑ عقیدہ توحید لے کر آئے، ان کی اولاد بھی ایک زمانے تک انہیں کے عقیدہ اور طریقے پر رہی) پھر (اپنی کجرائی سے) انہوں نے (یعنی بعض نے) اختلاف پیدا کرلیا (یعنی توحید سے پھرگئے، مشرک ہوگئے اور یہ مشرک لوگ ایسے مستحق عذاب ہیں کہ) اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے (کہ پورا عذاب ان کو ابھی نہیں بلکہ آخرت میں دیا جائے گا) تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ (دنیا ہی میں) ہوچکا ہوتا اور یہ لوگ (براہ عناد سینکڑوں معجزات ظاہر ہوجانے کے باوجود خصوصاً معجزہ قرآن دیکھنے اور اس کی مثال سے عاجز ہونے کے باوجود) یوں کہتے ہیں کہ ان پر (یعنی محمد ﷺ پر ہمارے فرمائشی معجزات میں سے) کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل ہوا ؟ تو آپ فرما دیجئے کہ (معجزہ کا اصل مقصد رسول کے صدق و حقانیت کو ثابت کرنا ہے، وہ تو بہت سے معجزات کے ذریعہ ہوچکا ہے، اب فرمائشی معجزات کی ضرورت تو ہے نہیں، ہاں امکان ہے کہ ظاہر ہوں یا نہ ہوں اس کا تعلق علم غیب سے ہے اور) غیب کا علم صرف خدا کو ہے (مجھ کو نہیں) اس لئے تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں (کہ تمہاری ہر فرمائش پوری ہوتی ہے یا نہیں، اور فرمائشی معجزات کے ظاہر نہ کرنے کی حکمت قرآن کریم میں کئی جگہ بتلا دی گئی ہے کہ ان کے ظہور کے بعد عادۃ اللہ یہ ہے کہ اگر پھر بھی ایمان نہ لائیں تو ساری قوم ہلاک کردی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کو اس امت کے لئے ایسا عذاب عام منظور نہیں بلکہ اس کو تا قیامت باقی رکھنا مقدر ہوچکا ہے)۔
Ayahs 10:19–20

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی امت ہیں پیچھے جدا جدا ہوگئے، اور اگر نہ ایک بات پہلے ہوچکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہوجاتا ان میں جس بات میں کہ اختلاف کر رہے ہیں،

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہ اتری اس پر ایک نشانی اس کے رب سے سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانے، سو منتظر رہو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

معارف و مسائل کافر و مسلم دو قومیں الگ الگ ہیں نسلی اور وطنی قومیت لغو ہے (آیت) كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ، یعنی تمام اولاد آدم شروع میں ایک ہی امت ایک ہی قوم موحدین کی تھی، شرک و کفر کا نام نہیں تھا، پھر توحید میں اختلاف پیدا کرکے مختلف قومیں مختلف گروہ بن گئے۔ یہ زمانہ امت واحدہ اور سب کے مسلمان ہونے کا کتنا تھا اور کب تک رہا ؟ روایات حدیث و سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے زمانے تک یہی صورت تھی، نوح ؑ کے زمانے میں شرک و کفر ظاہر ہوا، حضرت نوح ؑ کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا (تفسیر مظہری)۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت آدم ؑ سے نوح ؑ تک ایک طویل زمانہ ہے دنیا میں انسانوں کی نسلیں اور آبادی کافی پھیل چکی تھی، ان تمام انسانوں میں رنگ و روپ اور طرز معاشرت کا اختلاف ہونا بھی ایک طبعی امر ہے اور مختلف خطوں میں پھیل جانے کے بعد وطن کا اختلاف بھی یقینی ہے اور ممکن ہے کہ بول چال میں زبانیں بھی کچھ مختلف ہوگئی ہوں، مگر قرآن کریم نے اس نسبی قبائلی، لونی، وطنی اختلاف کو جو امور فطریہ ہیں، وحدت امت میں خلل انداز قرار نہیں دیا، اور ان اختلافات کی وجہ سے اولاد آدم کو مختلف قومیں مختلف امتیں نہیں بلکہ امت واحدہ قرار دیا۔ ہاں جب ایمان کے خلاف کفر و شرک پھیلا تو کافر و مشرک کو الگ قوم الگ ملت قرار دے کر فاخْتَلَفُوْا ارشاد فرمایا، قرآن کریم کی آیت هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ، نے اس مضمون کو اور بھی زیادہ واضح کردیا کہ اللہ کی مخلوق اولاد آدم کو مختلف قوموں میں بانٹنے والی چیز صرف ایمان و اسلام سے انحراف ہے، نسبی وطنی رشتوں سے قومیں الگ الگ نہیں ہوتیں، زبان اور وطن یا رنگ و نسل کی بناء پر انسانوں کو مختلف گروہ قرار دینے کی جہالت یہ نئی حماقت ہے جو نئی روشنی نے پیدا کی ہے اور آج کے بہت سے لکھے پڑھے اس نیشنلزم کے پیچھے لگ گئے جو ہزاروں فتنے اور فساد اپنے دامن میں رکھتا ہے اعاذ اللہ المسلمین منہ۔
Ayahs 10:21–22

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا بعد ایک تکلیف کے جو ان کو پہنچی تھی اسی وقت بنانے لگیں حیلے ہماری قدرتوں میں، کہہ دے کہ اللہ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلے، تحقیق ہمارے فرشتے لکھتے ہیں حیلہ بازی تمہاری

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی ہے تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں، یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے، آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نے کہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کر اس کی بندگی میں، اگر تو نے بچالیا ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں گے شکر گزار،

خلاصہ تفسیر حل لغت عَاصِفٌ سخت تیز ہوا، حَصِيْدًا کٹی ہوئی کھیتی، كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ یہ غنی بالمکان سے مشتق ہے جس کے معنٰی کسی جگہ قیام کرنے کے ہیں۔ اور جب ہم لوگوں کو بعد اس کے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑچکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں (یعنی ان سے اعراض کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تکذیب و استہزا سے پیش آتے ہیں اور براہ اعتراض وعناد دوسرے معجزات کی فرمائشیں کرتے ہیں اور مصیبت گزشتہ سے عبرت نہیں پکڑتے پس معلوم ہوا کہ ان کے اعتراض کا اصل سبب اللہ کی نازل کردہ آیات و معجزات سے اعراض ہے اور یہ اعراض دنیا کی نعمتوں میں مست ہوجانے سے پیدا ہوا ہے، آگے وعید ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس شرارت کی سزا بہت جلد دے گا، بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب شرارتوں کو لکھ رہے ہیں (پس علاوہ علم الہٰی میں محفوظ ہونے کے دفتر میں بھی محفوظ ہیں) وہ (اللہ) ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں لئے لئے پھرتا ہے (یعنی جن آلات و اسباب سے تم چلتے پھرتے ہو وہ سب اللہ ہی کے دیئے ہیں) یہاں تک کہ (بعض اوقات) جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان (کی رفتار) سے خوش ہوتے ہیں (اسی حالت میں دفعةً) ان پر ایک جھونکا (مخالف) ہوا کا آیا ہے اور ہر طرف سے ان (لوگوں) پر موجیں اٹھی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (بری طرح) گھر گئے، (اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں (کہ اے اللہ) اگر آپ ہم کو اس (مصیبت) سے بچا لیں تو ہم ضرور حق شناس (یعنی موحد) بن جاویں (یعنی اس وقت جیسا اعتقاد توحید کا ہوگیا ہے اس پر قائم رہیں) پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو (اس مہلکہ سے) بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین (کے مختلف خطوں) میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں (یعنی وہی شرک و معصیت) اے لوگو (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے (بس) دنیوی زندگی میں (چندے اس سے) فائدہ اٹھا رہے ہو پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو جتلا دیں گے (اور اس کی سزا دیں گے) بس دنیوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس (پانی) سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں خوب گنجان ہو کر نکلے یہاں تک کہ جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب آزمائش ہوگئی (یعنی سبزہ سے خوشنما معلوم ہونے لگی) اور اس (زمین) کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس (کے نباتات پھلوں) پر بالکل قابض ہوچکے تو (ایسی حالت میں) دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حادثہ آپڑا (جیسے پالا یا خشکی یا اور کچھ) سو ہم نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا کل (یہاں) وہ موجود ہی نہ تھی (پس اسی نباتات کے مثل دنیوی زندگی ہے) ہم اس طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے جو سوچتے ہیں۔ معارف و مسائل (آیت) قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا، عربی لغت کے اعتبار سے لفظ مکر خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں جو اچھی بھی ہو سکتی ہے بری بھی، اور زبان کے محاورہ سے دھوکہ نہ کھائیں کہ لفظ مکر اردو میں دھوکہ فریب کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے حق تعالیٰ بری ہے۔
Ayahs 10:23–24

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب بچا دیا ان کو اللہ نے لگے شرارت کرنے اسی وقت زمین میں ناحق کی، سنو لوگو تمہاری شرارت ہے تمہی پر، نفع اٹھالو دنیا کی زندگانی کا پھر ہمارے پاس ہے تم کو لوٹ کر آنا پھر ہم بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے،

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگانی کی وہی مثال ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور، یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اور مزین ہوگئی اور خیال کیا زمین والوں نے کہ یہ ہمارے ہاتھ لگے گی ناگاہ پہنچا اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو پھر کر ڈالا اس کو کاٹ کر ڈھیر گویا کل یہاں نہ تھی آبادی، اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں نشانیوں کو ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں۔

(آیت) اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ، یعنی تمہارے ظلم کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑ رہا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ظلم کا وبال یقینی ہے اور آخرت سے پہلے دنیا میں بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صلہ رحمی اور لوگوں پر احسان کرنے کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ آخرت سے پہلے دنیا میں اس کی برکات نظر آنے لگتی ہیں اور ظلم اور قطع رحمی کا بدلہ بھی جلد دیتا ہے (کہ دنیا میں بھگتنا پڑتا ہے) (رواہ الترمذی و ابن ماجہ بسند حسن) اور ایک حدیث میں بروایت حضرت عائشہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین گناہ ایسے ہیں کہ ان کا وبال اپنے کرنے والے ہی پر پڑتا ہے ظلم، بد عہدی اور دھوکہ فریب (رواہ ابو الشیخ و ابن مردویہ فی التفسیر) (مظہری)۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف، اور دکھاتا ہے جس کو چاہے راستہ سیدھا،

خلاصہ تفسیر اور اللہ تعالیٰ دارالبقاء کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دے دیتا ہے (جس سے دارالبقاء تک رسائی ہو سکتی ہے، آگے جزا و سزا کا بیان ہے کہ) جن لوگوں نے نیکی کی ہے (یعنی ایمان لائے ہیں) ان کے واسطے خوبی (یعنی جنت) ہے اور مزید براں (خدا کا دیدار) بھی اور ان کے چہروں پر نہ کدورت (غم کی) چھاوے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور جن لوگوں نے بد کام کئے (یعنی کفر و شرک کیا) ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی (بدی سے زیادہ نہ ہوگی) اور ان کو ذلت چھا لے گی، ان کو اللہ (کے عذاب) سے کوئی نہ بچا سکے گا (ان کی کدورت چہرہ کی ایسی حالت ہوگی کہ) گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت (یعنی ٹکڑے) لپیٹ دیئے گئے ہیں، یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب (خلائق) کو (میدان قیامت میں) جمع کریں گے پھر (منجملہ ان تمام خلائق کے) مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شریک (جن کو تم عبادت میں خدا کا شریک ٹھہراتے تھے ذرا) اپنی جگہ ٹھہرو (تاکہ تم کو حقیقت تمہارے عقیدہ کی معلوم کرائی جاوے) پھر ہم ان (عابدین و معبودین) کے آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے وہ شرکاء (ان سے خطاب کرکے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے (کیونکہ عبادت سے مقصود ہوتا ہے معبود کا راضی کرنا) سو ہمارے تمہارے درمیان خدا کافی گواہ ہے کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی (اور راضی ہونا تو درکنار البتہ شیاطین کی تعلیم تھی اور وہی راضی تھے، پس اس اعتبار سے ان کی پرستش کرتے تھے) اس مقام پر ہر شخص اپنے کئے ہوئے کا امتحان کرلے گا (کہ آیا واقع میں یہ اعمال نافع تھے یا غیر نافع، چناچہ ان مشرکین کو بھی حقیقت کھل جاوے گی کہ جن کی شفاعت کے بھروسے ہم ان کو پوجتے تھے انہوں نے اور ہمارے خلاف شہادت دی، نفع کی تو کیا امید کی جاوے) اور یہ لوگ اللہ (کے عذاب) کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جاویں گے، اور جو کچھ معبود تراش رکھے تھے سب ان سے غائب (اور گم) ہوجاویں گے (کوئی بھی تو کام نہ آوے گا) آپ (ان مشرکین سے) کہئے کہ (بتلاؤ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے (یعنی آسمان سے بارش کرتا ہے اور زمین سے نباتات پیدا کرتا ہے جس سے تمہارا رزق تیار ہوتا ہے) یا (یہ بتلاؤ کہ) وہ کون ہے جو (تمہارے) کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے (کہ پیدا بھی اسی نے کیا، حفاظت بھی وہی کرتا ہے اور اگر چاہتا ہے تو ان کو معاف کردیتا ہے) اور وہ کون ہے جو جاندار (چیز) کو بےجان (چیز) سے نکالتا ہے اور بےجان (چیز) کو جاندار (چیز) سے نکالتا ہے (جیسے نطفہ اور بیضہ کہ وہ جاندار سے نکلتا ہے اور اس سے جاندار پیدا ہوتا ہے) اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے (ان سے سوالات کیجئے) سو ضرور وہ (جواب میں) یہی کہیں گے کہ (ان سب افعال کا فاعل) اللہ (ہے) تو ان سے کہئے کہ پھر (شرک سے) کیوں نہیں پرہیز کرتے سو (جس کے یہ افعال و اوصاف مذکور ہوئے) یہ ہے اللہ جو تمہارا رب حقیقی ہے (اور جب امر حق ثابت ہوگیا) پھر (امر) حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے (یعنی جو امر حق کی ضد ہوگی وہ گمراہی ہے اور توحید کا حق ہونا ثابت ہوگیا، پس شرک یقینا گمراہی ہے) پھر (حق کو چھوڑ کر) کہاں (باطل کی طرف) پھرے جاتے ہو۔ معارف و مسائل پچھلی آیت میں دنیاوی زندگی اور اس کی ناپائیداری کی مثال اس کھیتی سے دی گئی تھی جو آسمانی پانی سے سیراب ہو کر لہلہانے لگی اور ہر طرح کے پھل پھول نکل آئے اور کھیتی والے خوش ہونے لگے کہ اب ہماری ساری ضرورتیں اس سے پوری ہوں گی، مگر ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے رات یا دن میں ہمارے عذاب کا کوئی حادثہ آپڑا جس نے اس کو ایسا صاف کردیا کہ گویا یہاں کوئی چیز موجود ہی نہ تھی، یہ تو دنیا کی زندگی کا حال تھا، اس کے بعد آیت مذکورہ میں اس کے بالمقابل دار آخرت کا حال بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا(آیت) وَاللّٰهُ يَدْعُوْٓا اِلٰى دَار السَّلٰمِ ، یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو دارالسلام کی طرف دعوت دیتا ہے یعنی ایسے گھر کی طرف جس میں ہر طرح کی سلامتی ہی سلامتی ہے نہ اس میں کسی طرح کی کوئی تکلیف ہے نہ رنج و غم، نہ بیماری کا خطرہ، نہ فنا ہونے یا حالت بدل جانے کی فکر۔ دارالسلام سے مراد جنت ہے، اس کو دارالسلام کہنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس میں ہر طرح کی سلامتی اور امن و سکون ہر شخص کو حاصل ہوگا، دوسری وجہ بعض روایات میں ہے کہ جنت کا نام دارالسلام اس لئے بھی رکھا گیا ہے کہ اس میں بسنے والوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیز فرشتوں کی طرف سے سلام پہنچتا رہے گا، بلکہ لفظ سلام ہی اہل جنت کی اصطلاح ہوگی، جس کے ذریعہ وہ اپنی خواہشات کا اظہار کریں گے اور فرشتے ان کو مہیا کریں گے، جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ حضرت یحییٰ بن معاذ نے اس آیت کی تفسیر میں بطور نصیحت عوام کو خطاب کرکے فرمایا کہ اے آدم کے بیٹے ! تجھ کو اللہ تعالیٰ نے دارالسلام کی طرف بلایا، تو اس دعوت الہٰیہ کی طرف کب اور کہاں سے قدم اٹھائے گا، خوب سمجھ لے کہ اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے اگر تو نے دنیا ہی سے کوشش شروع کردی تو وہ کامیاب ہوگی اور تو دارالسلام میں پہنچ جائے گا اور اگر تو نے اس دنیا کی عمر کو ضائع کرنے کے بعد یہ چاہا کہ قبر میں پہنچ کر اس دعوت کی طرف چلوں گا تو تیرا راستہ روک دیا جائے گا، تو وہاں ایک قدم آگے نہ بڑھ سکے گا، کیونکہ وہ دارالعمل نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ دارالسلام جنت کے سات ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (تفسیر قرطبی)۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی گھر کا نام دارالسلام رکھنا مناسب نہیں، جیسے جنت یا فردوس وغیرہ نام رکھنا بھی درست نہیں۔ اس کے بعد آیت مذکورہ میں ارشاد فرمایا (آیت) وَيَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ ، یعنی پہنچا دیتا ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے سیدھے راستہ پر۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جنہوں نے کی بھلائی ان کے لئے ہے بھلائی اور زیادتی، اور نہ چڑھے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی، وہ ہیں جنت والے، وہ اسی میں رہا کریں گے،

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دارالسلام کی دعوت تو سارے انسانوں کے لئے عام ہے اور اسی معنی کے اعتبار سے سب کے لئے ہدایت بھی عام ہے لیکن ہدایت کی خاص قسم کہ سیدھے راستہ پر کھڑا کردیا جائے اور چلنے کی توفیق دی جائے یہ خاص خاص ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ مذکورہ دو آیتوں میں دار دنیا اور دار آخرت کا تقابل اور اہل دنیا اور اہل آخرت کے احوال کا ذکر تھا۔ اگلی چار آیتوں میں دونوں فریق کی جزاء و سزا کا بیان ہے، پہلے اہل جنت کا ذکر اس طرح فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے نیکی اختیار کی یعنی سب سے بڑی نیکی ایمان اور پھر عمل صالح پر قائم رہے ان کو ان کے عمل کا عمدہ اور بہتر بدلہ ملے گا، اور صرف بدلہ ہی نہیں بلکہ بدلہ سے کچھ زیادہ بھی۔ اس آیت کی تفسیر جو رسول کریم ﷺ نے خود فرمائی وہ یہ ہے کہ اس جگہ اچھے بدلہ سے مراد جنت ہے، اور زیادہ سے مراد حق تعالیٰ سبحانہ کی زیارت ہے جو اہل جنت کو حاصل ہوگی، (تفسیر قرطبی بروایت انس)۔ جنت کی اتنی حقیقت سے تو ہر مسلمان واقف ہے کہ وہ ایسی راحتوں اور نعمتوں کا مرکز ہے جن کو انسان اس وقت تصور میں نہیں لا سکتا، اور حق تعالیٰ کی زیارت ان سب نعمتوں پر فائق ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت صہیب کی روایت سے منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہوچکیں گے تو حق تعالیٰ ان سے خطاب فرمائیں گے کہ کیا تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت ہے ؟ اگر ہو تو بتلاؤ ہم اس کو پورا کریں گے، اہل جنت جواب دیں گے کہ آپ نے ہمارے چہرے روشن کئے، ہمیں جنت میں داخل فرمایا، جہنم سے نجات دی، اس سے زیادہ اور کیا چیز طلب کریں، اس وقت درمیان سے حجاب اٹھا دیا جائے گا اور سب اہل جنت حق تعالیٰ کی زیارت کریں گے تو معلوم ہوگا کہ جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر یہ نعمت تھی جس کی طرف ان کا دھیان بھی نہ گیا تھا، جو رب العالمین نے محض اپنے کرم سے بےمانگے عطا فرمائی، بقول مولانا رومی مانبو دیم وتقاضہ مانبود لطف تو ناگفتہ مامی شنود اور پھر انہیں اہل جنت کا یہ حال بیان فرمایا کہ نہ ان کے چہروں پر کبھی کدورت یا تکلیف و غم کا اثر چھائے گا اور نہ ذلت کا اثر ہوگا جو دنیا میں ہر شخص کو کبھی نہ کبھی پیش آیا کرتا ہے اور آخرت میں اہل جہنم کو پیش آئے گا۔
Ayahs 10:27–29

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے کمائیں برائیاں بدلہ ملے برائی کا اس کے برابر اور ڈھانک لے گی ان کو رسوائی کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا، گویا کہ ڈھانک دیئے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے، وہ ہیں دوزخ والے، وہ اسی میں رہا کریں گے

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن جمع کریں گے ہم ان سب کو پھر کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک، پھر تڑادیں گے ہم آپس میں ان کو اور کہیں گے ان کے شریک تم ہماری تو بندگی نہ کرتے تھے،

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو اللہ کافی ہے شاید ہمارے اور تمہارے بیچ میں، ہم کو تمہاری بندگی کی خبر نہ تھی،

اس کے بعد کی دو آیتوں میں ایک مکالمہ مذکور ہے جو اہل جہنم میں اور ان کو گمراہ کرنے والے بتوں یا شیطانوں کے درمیان محشر میں ہوگا، ارشاد فرمایا کہ اس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے تجویز کئے ہوئے معبود ذرا اپنی جگہ ٹھہرو تاکہ تمہیں اپنے عقیدہ کی حقیقت معلوم ہوجائے، اس کے بعد ان لوگوں میں اور ان کے معبودوں میں جو رشتہ اتحاد دنیا میں پایا جاتا تھا اس کو قطع کردیا جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے بت خود بول اٹھیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے، اور خدا کو گواہ بنا کر کہیں گے کہ ہم کو تمہاری مشرکانہ عبادت کی کچھ خبر بھی نہ تھی، کیونکہ نہ ہم میں حس و حرکت ہے اور نہ ان مسائل کو سمجھنے کے قابل عقل و شعور ہے۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا تھا اور رجوع کریں گے اللہ کی طرف جو سچا مالک ہے ان کا اور جاتا رہے گا ان کے پاس سے جو جھوٹ باندھا کرتے تھے

چھٹی آیت میں دونوں فریق اہل جنت اور اہل جہنم کا ایک مشترک حال بیان فرمایا ہے کہ اس مقام یعنی محشر میں ہر شخص اپنے اپنے کئے ہوئے اعمال کو آزما لے گا کہ وہ نفع بخش تھے یا نقصان رسان، اور سب کے سب اپنے معبود حق کے پاس پہنچا دیئے جائیں گے، اور سارے بھروسے اور سہارے جو دنیا میں انسان ڈھونڈتا ہے ختم کردیئے جائیں گے، اور مشرکین جن بتوں کو اپنا مددگار اور سفارشی سمجھا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی سو بول اٹھیں گے کہ اللہ تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو

ساتویں اور آٹھویں آیت میں قرآن حکیم نے اپنے حکیمانہ اور مربیانہ طریق پر مشرکین کی آنکھیں کھولنے کے لئے ان سے کچھ سوالات قائم کئے ہیں، آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ان لوگوں سے کہئے کہ آسمان اور زمین میں سے تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ یا کان اور آنکھوں کا کون مالک ہے کہ جب چاہے ان میں شنوائی اور بینائی پیدا کردے اور جب چاہے سلب کرلے، اور کون ہے جو مردہ چیز میں سے زندہ کو پیدا کردیتا ہے جیسے مٹی سے گھاس اور درخت، یا نطفہ سے انسان اور جانور یا بیضہ سے زندہ، اور زندہ میں سے مردہ کو پیدا کردیتا ہے، جیسے انسان اور جانور سے نطفہ بےجان اور کون ہے جو تمام کائنات کے کاموں کی تدبیر کرتا ہے ؟ پھر فرمایا کہ جب آپ ان لوگوں سے یہ سوال کریں گے تو سب کے سب یہی کہیں گے کہ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا ایک اللہ ہے ! تو آپ ان سے فرماویں کہ پھر تم کیوں خدا سے نہیں ڈرتے ؟ جب ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اور باقی رکھنے والا اور ان سب کے کام میں لگانے کا انتظام کرنے والا صرف ایک اللہ ہی ہے تو پھر عبادت و اطاعت کا حق دار اس کے سوا کسی کو کیوں بناتے ہو۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

سو یہ اللہ ہے رب تمہارا سچا پھر کیا رہ گیا سچ کے پیچھے مگر بھٹکنا سو کہاں سے لوٹے جاتے ہیں۔

آخری آیت میں فرمایا (آیت) فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ، یعنی یہی ہے وہ ذات جس کی صفات کمال کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے، یعنی جب اللہ تعالیٰ کا معبود برحق ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس حق کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف رخ پھیرنا کس قدر نامعقول بات ہے۔ اس آیت کے مسائل و فوائد میں سے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیت میں (آیت) مَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حق اور ضلال کے درمیان کوئی واسطہ نہیں جو حق نہیں ہوگا وہ ضلال و گمراہی میں داخل ہوگا، ایسا کوئی کام نہیں ہوسکتا جو نہ حق ہو نہ گمراہی اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ دو متضاد چیزیں حق ہوں، تمام اصول عقائد میں یہ قاعدہ جمہور امت کے نزدیک مسلم ہے، البتہ جزئی مسائل اور جزئیات فقہیہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک اجتہادی مسائل میں دونوں جانبوں کو حق کہا جائے گا اور جمہور اس پر متفق ہیں کہ اجہتادی مسائل میں جانب خلاف کو ضلال و گمراہی نہیں کہہ سکتے۔
Ayahs 10:33–36

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح ٹھیک آئی بات تیرے رب کی ان نافرمانوں پر کہ یہ ایمان نہ لائیں گے،

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے خلق کو پھر دوبارہ زندہ کرے، تو کہہ اللہ پہلے پیدا کرتا ہے پھر اس کو دہرائے گا

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

سو کہاں سے پلٹے جاتے ہو، پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو راہ بتلائے صحیح تو کہہ اللہ راہ بتلاتا ہے صحیح، تو اب جو کوئی راہ بتائے صحیح اس کی بات ماننی چاہئے یا اس کی جو آپ نہ پائے راہ مگر جب کوئی اور اس کو راہ بتلائے، سو کیا ہوگیا تم کو، کیسا انصاف کرتے ہو،

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور وہ اکثر چلتے ہیں محض اٹکل پر، سو اٹکل کام نہیں دیتی حق بات میں کچھ بھی اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر حل لغت لَّا يَهِدِّيْٓ، یہ لفظ دراصل لا یھتدی تھا تعلیل کرکے لَّا يَهِدِّيْٓ بن گیا، معنی لا یھتدی کے ظاہر ہیں، یعنی وہ شخص جو ہدایت نہیں پاتا۔ (آگے تسلی ہے رسول اللہ ﷺ کی کہ ان لوگوں کی باطل پرستی پر مغموم ہوا کرتے تھے ارشاد ہے کہ جس طرح یہ لوگ ایمان نہیں لاتے) اسی طرح آپ کے رب کی یہ (ازلی) بات کہ یہ ایمان نہ لاویں گے تمام متمرد (سرکش) لوگوں کے حق میں ثابت ہوچکی ہے (پھر آپ کیوں مغموم ہوں اور) آپ (ان سے) یوں (بھی) کہئے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں (عام اس سے کہ ذوی العقول ہوں جیسے شیاطین یا غیر ذوی العقول جیسے بت) کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر (قیامت میں) دوبارہ بھی پیدا کرے (اگر وہ اس وجہ سے کہ اس میں توھین ہے شرکاء کی، جواب میں تامل کریں تو) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا سو (اس کی تحقیق کے بعد بھی) پھر تم کہاں (حق سے) پھرے جاتے ہو (اور) آپ (ان سے یوں بھی) کہئے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے ذوی العقول) شرکاء میں (جیسے شیاطین) کوئی ایسا ہے کہ امر حق کا راستہ بتلاتا ہو ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی امر حق کا راستہ (بھی) بتلاتا ہے (چناچہ اس نے عقل دی، انبیاء بھیجے بخلاف شیاطین کے کہ اولا وہ ان افعال پر قادر نہیں اور محض تعلیم جس کی قدرت ان کو دی گئی ہے وہ اس کو اضلال و اغواء میں صرف کرتے ہیں) تو پھر (ان سے کہئے کہ یہ بتلاؤ کہ) آیا جو شخص امر حق کا رستہ بتلاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو بےبتلائے خود ہی راستہ نہ سوجھے (اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سمجھانے پر بھی اس پر نہ چلے جیسے شیاطین، پھر جب یہ اتباع کے قابل نہ ہوں تو عبادت کے لائق تو کب ہوسکتے ہیں) تو (اے مشرکین) تم کو کیا ہوگیا تم کیسی تجویزیں کرتے ہو (کہ توحید کو چھوڑ کر شرک کو اختیار کرتے ہو) اور (تماشہ یہ ہے کہ اپنی اس تجویز اور عقیدہ پر یہ لوگ کوئی دلیل نہیں رکھتے بلکہ) ان میں سے اکثر لوگ صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں (اور) یقینا اللہ کو سب خبر ہے (وقت پر سزا دے گا)۔
Ayahs 10:37–38

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور وہ نہیں یہ قرآن کہ کوئی بنالے اللہ کے سوا اور لیکن تصدیق کرتا ہے اگلے کلام کی اور بیان کرتا ہے ان چیزوں کو جو تم پر لکھی گئیں جس میں کوئی شبہ نہیں، پروردگار عالم کی طرف سے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنا لایا ہے، تو کہہ دے تم لے آؤ ایک ہی سورت ایسی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو،

خلاصہ تفسیر اور یہ قرآن افتراء کیا ہوا نہیں ہے کہ غیر اللہ سے صادر ہوا ہو بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس کے قبل (نازل) ہوچکی ہیں اور احکام ضروریہ (الہٰیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے (اور) اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں (اور وہ) رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے کیا (باوجود اس کے افتراء نہ ہونے کے) یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ نے اس کو افتراء کرلیا ہے، آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اچھا) تو پھر تم (بھی تو عربی ہو اور اعلی درجہ کے فصیح بلیغ بھی ہو) اس کی مثل ایک ہی سورت (بنا) لاؤ اور (اکیلے نہیں) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو ان کو (مدد کے لئے) بلا لو اگر تم سچے ہو (کہ نعوذ باللہ میں نے تصنیف کرلیا ہے تو تم بھی تصنیف کر لاؤ مگر مشکل تو یہ ہے کہ اس قسم کے دلائل سے فائدہ اسی کو ہوتا ہے جو سمجھنا بھی چاہے سو انہوں نے تو کبھی سمجھنا ہی نہ چاہا) بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس (کے صحیح غلط ہونے) کو اپنے احاطہ علم میں نہیں لائے (اور اس کی حالت سمجھنے کا ارادہ نہیں کیا تو ایسوں سے کیا سمجھنے کی امید ہو سکتی ہے) اور (ان کی اس بےفکری اور بےپرواہی کی وجہ یہ ہے کہ) ہنوز ان کو اس (قرآن کی تکذیب) کا خیر نتیجہ نہیں ملا (یعنی عذاب نہیں آیا ورنہ سارا نشہ ہرن ہوجاتا اور آنکھیں کھل جاتیں اور حق و باطل متمیز ہوجاتا لیکن آخر کبھی تو وہ نتیجہ پیش آنے والا ہے ہی، گو اس وقت ایمان نافع نہ ہو، چنانچہ) جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح (جیسے بےتحقیق یہ جھٹلا رہے ہیں) انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا، سو دیکھ لیجئے ان ظالموں کا انجام کیسا (برا) ہوا، (اسی طرح ان کا ہوگا) اور (ہم جو ان کا انجام بد بتلا رہے ہیں سو سب مراد نہیں کیونکہ) ان میں سے بعضے ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آویں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ لاویں گے اور آپ کا رب (ان) مفسدوں کو خوب جانتا ہے (جو ایمان نہ لاویں گے پس خاص ان کو وقت موعود پر سزا دے گا)۔
Ayahs 10:39–40

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت، اسی طرح جھٹلاتے رہے ان سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کا،

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کریں گے، اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت والوں کو۔

معارف و مسائل (آیت) وَلَمَّا يَاْتِهِمْ تَاْوِيْلُهٗ ، تاویل سے مراد اس جگہ مال اور انجام ہے، مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی غفلت اور بےفکری سے قرآن میں غور نہیں کیا اور اس کی تکذیب کے انجام بد کو نہیں پہچانا، اس لئے تکذیب میں لگے ہوئے ہیں مگر موت کے بعد ہی سب حقائق کھل جاویں گے اور اپنے کئے کا مآل بد ہمیشہ کے لئے گلے کا ہار ہوجائے گا۔
Ayahs 10:41–44

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ میرے لئے میرا کام اور تمہارے لئے تمہارا کام تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو،

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کان رکھتے ہیں تیری طرف، کیا تو سنائے گا بہروں کو اگرچہ ان کو سمجھ نہ ہو،

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعضے ان میں نگاہ کرتے ہیں تیری طرف، کیا تو راہ دکھائے گا اندھوں کو اگرچہ وہ سوجھ نہ رکھتے ہوں،

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

اللہ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر اور اگر (ان دلائل کے بعد بھی) آپ کو جھٹلاتے رہیں تو (بس اخیر بات) یہ کہہ دیجئے کہ (اچھا صاحب) میرا کیا ہوا مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا تم کو ملے گا تم میرے عمل کے جواب دہ نہیں ہو، اور میں تمہارے عمل کا جوابدہ نہیں ہوں (جس طریقہ پر چاہو رہو آپ معلوم ہوجاوے گا) اور (آپ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیجیئے کیونکہ) ان میں (گو) بعض ایسے (بھی) ہیں جو (ظاہر میں) آپ کی طرف کان لگا لگا کر بیٹھتے ہیں (لیکن دل میں ارادہ ایمان اور حق طلبی کا ہیں ہے پس اس اعتبار سے ان کا سننا نہ سننا برابر ہے پس ان کی حالت بہروں کی سی ہوئی تو) پھر کیا آپ بہروں کو سنا (کر ان سے ماننے کا انتظار کر) تے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو (ہاں اگر سمجھ ہوتی تو بہرے پن میں بھی کچھ کام چل سکتا) اور (اسی طرح) ان میں بعض ایسے ہیں کہ (ظاہراً) آپ کو (مع معجزات و کمالات) دیکھ رہے ہیں (لیکن طلب حق نہ ہونے سے ان کی حالت مثل اندھوں کے ہے تو) پھر کیا آپ اندھوں کو رستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہ ہو (ہاں اگر بصیرت ہوتی تو اندھے پن میں بھی کچھ کام چل سکتا اور ان کی عقلیں جو اس طرح تباہ ہوگئیں تو) یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا (کہ ان کو قابلیت ہدایت کی نہ دے اور پھر مؤ اخذہ فرماوے) لیکن لوگ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں (کہ قابلیت موہوبہ کو ضائع کردیتے ہیں اور اس سے کام نہیں لیتے)۔
Ayahs 10:45–50

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن ان کو جمع کرے گا گویا وہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی دن، ایک دوسرے کو پہنچانیں گے، بیشک خسارے میں پڑے جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو اور نہ آئے وہ راہ پر،

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم دکھائیں گے تجھ کو کوئی چیز ان وعدوں میں سے جو کئے ہیں ہم نے ان سے یا وفات دیں تجھ کو سو ہماری ہی طرف ہے ان کو لوٹنا، پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو وہ کرتے ہیں

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر فرقہ کا ایک رسول ہے پھر جب پہنچا ان کے پاس رسول ان کا فیصلہ ہوا ان میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں ہوتا،

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو،

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تو کہہ میں مالک نہیں اپنے واسطے برے کا نہ بھلے کا مگر جو چاہے اللہ، ہر فرقہ کا ایک وعدہ ہے، جو آپہنچے گا ان کا وعدہ پھر نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے،

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر آپہنچے تم پر عذاب اس کا راتوں رات یا دن کو تو کیا کرلیں گے اس سے پہلے گنہگار،

خلاصہ تفسیر اور ان کو وہ دن یاد دلایئے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ (وہ سمجھیں گے کہ) یا وہ (دنیا یا برزخ میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے (چونکہ وہ دن مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ہوگا، اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزر گیا) اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے (بھی لیکن ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے، اس اور رنج و صدمہ ہوگا، کیونکہ شناسا لوگوں سے توقع نفع کی ہوا کرتی ہے) واقعی (اس وقت سخت) خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ (دنیا میں بھی) ہدایت پانے والے نہ تھے (اس لئے آج خسارہ میں پڑے، پس ان کے عذاب کا اصلی وقت تو یہ دن ہے کہ) جس (عذاب) کا ان سے ہم وعدہ کر رہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا (عذاب) اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (یعنی آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجاوے) یا (اس کے نزول کے قبل ہی) ہم آپ کو وفات دے دیں (پھر خواہ بعد میں نزول ہو یا نہ ہو) سو (احتمال ہیں کوئی شق ضروری نہیں لیکن ہر حال اور ہر احتمال پر) ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہی ہے (پس ان پر سزا دے گا، عرض یہ کہ دنیا میں خواہ سزا ہو یا نہ ہو مگر اصلی موقعہ پر ضرور ہوگی) اور (یہ سزا جو ان کے لئے تجویز ہوئی ہے، تو اتمام حجت و ازالہ عذر کے بعد ہوئی ہے، اور ان کی کیا تخصیص ہے بلکہ ہمیشہ سے ہماری عادت رہی ہے کہ جن امتوں کو ہم نے مکلف بنانا چاہا ہے ان میں سے) ہر ہر امت کے لئے ایک حکم پہنچانے والا (ہوا) ہے سو جب ان کا وہ رسول (ان کے پاس) آچکتا ہے (اور احکام پہنچا دیتا ہے اس کے بعد) ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے (وہ فیصلہ یہی ہے کہ نہ ماننے والوں کو عذاب ابدی میں مبتلا کیا جاتا ہے) اور ان پر (ذرا) ظلم نہیں کیا جاتا (کیونکہ اتمام حجت کے بعد سزا دینا خلاف انصاف نہیں ہے) اور یہ لوگ (عذاب کی وعیدیں سن کر بقصد تکذیب یوں) کہتے ہیں کہ (اے نبی اور اے مسلمانوں) یہ وعدہ (عذاب کا) کب (واقع) ہوگا، اگر تم سچے ہو (تو واقع کیوں نہیں کرا دیتے) آپ سب کی طرف سے جواب میں) فرما دیجئے کہ میں (خود) اپنی ذات خاص کے لئے تو کسی نفع (کے حاصل کرنے) کا اور کسی ضرر (کے دفع کرنے) کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا (اختیار) خدا کو منظور ہو (اتنا اختیار البتہ حاصل ہے، پس جب خاص اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں تو دوسرے کو نفع و نقصان کا تو کیونکر مالک ہوں گا، پس عذاب واقع کرنا میرے اختیار میں نہیں، رہا یہ کہ کب واقع ہوگا، سو بات یہ ہے کہ) ہر امت کے (عذاب کے) لئے (اللہ کے نزدیک) ایک معین وقت ہے (خواہ دنیا میں یا آخرت میں سو) جب ان کا وہ معین وقت آپہنچتا ہے تو (اس وقت) ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں (بلکہ فوراً عذاب واقع ہوجاتا ہے اسی طرح تمہارے عذاب کا بھی وقت معین ہے، اس وقت اس کا وقوع ہوجاوے گا اور وہ جو فرمائش کرتے ہیں کہ جو کچھ ہونا ہے جلدی ہوجاوے جیسا کہ آیت (آیت) مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اور رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا، میں ان کی اس جلد بازی کا ذکر ہے، تو) آپ (اس کے متعلق ان سے) فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ اگر تم پر خدا کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو (آپڑے) تو (یہ تو بتلاؤ کہ) عذاب میں کون چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی ما نگ رہے ہیں (یعنی عذاب تو سخت چیز اور پناہ مانگنے کی چیز ہے نہ جلدی مانگنے کی چیز ہے نہ جلدی مانگنے کی اور چونکہ جلد بازی سے مقصود ان کا تکذیب ہے اس لئے فرماتے ہیں کہ) کیا (اب تو تکذیب کر رہے ہو جو کہ وقت ہے تصدیق کے نافع ہونے کا) پھر جب وہ (اصلی موعود) آہی پڑے گا (اس وقت) اس کی تصدیق کرو گے (جس وقت کہ تصدیق نافع نہ ہوگی اور اس وقت کہا جائے گا کہ) ہاں اب مانا حالانکہ پہلے سے) تو (ہمیشہ کا عذاب چکھو، تم کو تمہارے ہی کئے کا بدلہ ملا ہے اور وہ (غایت تعجب و انکار سے) آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب واقعی امر ہے ؟ آپ فرما دیجئے (کہ ہاں قسم میرے رب کی کہ وہ واقعی امر ہے، اور تم کسی طرح خدا کو عاجز نہیں کرسکتے (کہ وہ عذاب دینا چاہے اور تم بچ جاؤ اور (اس عذاب کی یہ شدت ہوگی کہ) اگر ہر ہر مشرک شخص کے پاس اتنا (مال) ہو کہ ساری زمین میں بھر جاوے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچانا چاہیں گے (اگرچہ نہ خزانہ ہوگا اور نہ لیا جاوے گا لیکن شدت اس درجہ کی ہوگی کہ مال ہونے کی تقدیر پر (اگرچہ نہ خزانہ ہوگا اور نہ لیا جاوے گا لیکن شدت اس درجہ کی ہوگی کہ مال ہونے کی تقدیر پر سب دینے پر راضی ہوجاویں گے) اور جب عذاب دیکھیں گے تو (مزید فضیحت کے خوف سے پشیمانی کو (اپنے دل ہی دل میں) پوشیدہ رکھیں گے (یعنی اس کے آثار قولیہ و فعلیہ کو ظاہر نہ ہونے دیں گے، تاکہ دیکھنے والے زیادہ نہ ہنسیں لیکن آخر میں یہ ضبط و تحمل بھی اس کی شدت کے سامنے نہ چلے گا) اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا اور ان پر (ذرا) ظلم نہ ہوگا، یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں (ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور ان میں یہ مجرم بھی داخل ہیں ان کا فیصلہ بھی بطریق مذکور کرسکتا ہے) یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے (پس قیامت ضرور آوے گی) لیکن بہت سے آدمی یقین ہی نہیں کرتے، وہی جانا ڈالتا ہے، وہی جان نکالتا ہے، پس دوبارہ پیدا کرنا اس کو کیا مشکل ہے) اور تم سب اسی کے پاس لائے جاؤ گے (اور حساب و کتاب اور پھر اس پر ثواب و عذاب ہوگا)۔ معارف و مسائل (آیت) يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْیعنی جب قیامت میں مردے قبروں سے اٹھائے جاویں گے تو ایک دوسرے کو پہچانیں گے جیسے کوئی طویل مدت ملے ہوئے نہ گزری ہو۔ امام بغوی نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ پہچان شروع میں ہوگی بعد میں قیامت کے ہولناک واقعات سامنے آجائیں گے تو یہ پہچان منقطع ہوجائے گی اور بعض روایات میں ہے کہ پہچان تو پھر رہے گی مگر ہیبت کے مارے بات نہ کرسکیں گے (مظہری)
Ayahs 10:51–56

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا پھر جب عذاب واقع ہوچکے گا تب اس پر یقین کرو گے اب قائل ہوئے اور تم اسی کا تقاضہ کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر کہیں گے گناہ گار کو چکھتے رہو عذاب ہمیشگی کا وہی بدلہ ملتا ہے جو کچھ کماتے تھے

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تجھ سے خبر پوچھتے ہیں کیا سچ ہے یہ بات، تو کہہ البتہ قسم میرے رب کی یہ سچ ہے، اور تم تھکا نہ سکو گے

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہو ہر شخص گنہگار کے پاس جتنا کچھ ہے زمین میں البتہ دے ڈالے اپنے بدلے میں، اور چھپے چھپے پچھتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب،

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

اور ان میں فیصلہ ہوگا انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہوگا، سن رکھو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں، سن رکھو وعدہ اللہ کا سچ ہے، پر بہت لوگ نہیں جانتے،

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے۔

(آیت) اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ۭ اٰۗلْــٰٔنَیعنی کیا تم ایمان اس وقت لاؤ گے جب تم پر عذاب واقع ہوجائے گا خواہ موت کے وقت یا اس سے پہلے ہی، مگر اس وقت تمہارے ایمان کے جواب میں یہ کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ کیا اب ایمان لائے ہو، جب کہ ایمان کا وقت گزر چکا، جیسے غرق ہونے کے وقت فرعون نے جب کہا (آیت) اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، جواب میں کہا جائے گا اٰۗلْــٰٔنَ ، اور اس کا یہ ایمان قبول نہیں کیا گیا، کیونکہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہی رہتا ہے جب تک کہ وہ غرغرہ موت میں گرفتار نہ ہوجائے یعنی غرغرہ موت کے وقت کا ایمان اور توبہ اللہ کے نزدیک معتبر نہیں، اسی طرح دنیا میں وقوع عذاب سے پہلے پہلے توبہ قبول ہوسکتی ہے، جب عذاب آپڑے پھر توبہ قبول نہیں ہوتی، آخر سورت میں قوم یونس ؑ کا جو واقعہ آرہا ہے کہ ان کی توبہ قبول کرلی گئی، وہ اسی ضابطے کے ما تحت ہے کہ انہوں نے عذاب کو دور سے آتا ہوا دیکھ کر سچے دل سے الحاح وزاری کے ساتھ توبہ کرلی اس لئے عذاب ہٹا لیا گیا، اگر عذاب ان پر واقع ہوجاتا پھر توبہ قبول نہ ہوتی۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! تمہارے پاس آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے اور شفاء دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے واسطے

خلاصہ تفسیر اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی جو (برے کاموں سے روکنے کے لئے) نصیحت ہے اور (اگر اس پر عمل کرکے برے کاموں سے بچیں تو) دلوں میں جو (برے کاموں سے) روگ (ہوجاتے) ہیں ان کے لئے شفاء ہے اور (نیک کاموں کے کرنے کے لئے) رہنمائی کرنے والی ہے اور (اگر اس پر عمل کرکے نیک کاموں کو اختیار کریں تو) رحمت (اور ذریعہ ثواب) ہے (اور یہ سب برکات) ایمان والوں کے لئے (ہیں کیونکہ عمل وہی کرتے ہیں پس قرآن کے یہ برکات سنا کر) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ (جب قرآن ایسی چیز ہے، تو لوگوں کو خدا کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے (اور اس کو دولت عظیمہ سمجھ کرلینا چاہئے) وہ اس (دنیا) سے بدرجہا بہتر ہے جس کو جمع کر رہے ہیں (کیونکہ دنیا کا نفع قلیل اور فانی ہے اور قرآن کا نفع کثیر اور باقی) آپ (ان سے) کہئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے (انتفاع کے) لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے (اپنی گھڑت سے) اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا (حالانکہ اس کی تحریم کی کوئی دلیل نہیں تو) آپ (ان سے) پوچھئے کہ کیا تم کو خدا نے حکم دیا ہے یا (محض) اللہ پر (اپنی طرف سے) افتراء ہی کرتے ہو اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے (جو بالکل ڈرتے نہیں کیا یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت نہیں آوے گی یا آوے گی مگر ہم سے باز پرس نہ ہوگی) واقعی لوگوں پر لیکن اکثر آدمی بےقدر ہیں (ورنہ توبہ کرلیتے) اور آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور (منجلہ ان احوال کے) آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اس طرح اور لوگ بھی جتنے ہوں) تم جو کام بھی کرتے ہو ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور آپ کے رب (کے علم) سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی (مقدار مذکور) سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز اس سے) بڑی مگر یہ سب (بوجہ احاطہ علم الہٰی کے) کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہے۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کی بدحالی اور آخرت میں ان پر طرح طرح کے عذابوں کا بیان تھا۔ مذکورہ آیات سے پہلی دو آیتوں میں ان کو اس بدحالی اور گمراہی سے نکلنے کا طریقہ اور عذاب آخرت سے نجات کا ذریعہ بتلایا گیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب قرآن اور اس کے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ اور انسان اور انسانیت کے لئے یہ دونوں ایسی عظیم نعمتیں ہیں کہ آسمان و زمین کی ساری نعمتوں سے اعلی و افضل ہیں، احکام قرآن اور سنت رسول کی پیروی انسان کو صحیح معنی میں انسان بناتی ہے اور جب انسان صحیح معنی میں انسان کامل بن جائے تو سارا جہان درست ہوجائے اور یہ دنیا بھی جنت بن جائے۔ پہلی آیت میں قرآن کریم کی چار خصوصیات کا ذکر ہے اول مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، موعظہ اور وعظ کے اصلی معنی ایسی چیزوں کا بیان کرنا ہے جن کو سن کر انسان کا دل نرم ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے، دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو آخرت کی فکر آجائے، قرآن کریم اول سے آخر تک اسی موعظہ حسنہ کا نہایت بلیغ مبلغ ہے، اس میں ہر جگہ وعدہ کے ساتھ وعید، ثواب کے ساتھ عذاب، دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کے ساتھ ناکامی اور گمراہی وغیرہ کا ایسا ملا جلا تذکرہ ہے جس کو سن کر پتھر بھی پانی ہوجائے پھر اس پر قرآن کریم کا اعجاز بیان جو دلوں کی کایا پلٹنے میں بےنظیر ہے۔ موعظہ کے ساتھ مِّنْ رَّبِّكُمْ کی قید نے قرآنی وعظ کی حیثیت کو اور بھی زیادہ بلند کردیا کہ اس سے معلوم ہوا کہ یہ وعظ کسی اپنے جیسے عاجز انسان کی طرف سے نہیں جس کے ہاتھ میں کسی کا نفع و نقصان یا عذاب وثواب کچھ نہیں، بلکہ رب کریم کی طرف سے ہے جس کے قول میں غلطی کا امکان نہیں، اور جس کے وعدے اور عید میں کسی عجز و کمزوری یا عذر کا کوئی خطرہ نہیں۔ قرآن کریم کی دوسری صفت شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ، ارشاد فرمائی، شفاء کے معنے بیماری دور ہونے کے ہیں، اور صدور، صدر کی جمع ہے جس کے معنی سینہ کے ہیں، مراد اس سے قلب ہے۔ معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم دلوں کی بیماریوں کا کامیاب علاج اور صحت و شفاء کا نسخہ اکسیر ہے، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ قرآن کی اس صفت سے معلوم ہوا کہ وہ خاص دلوں کی بیماری کے لئے شفاء ہے، جسمانی بیماریوں کا علاج نہیں (روح المعانی) مگر دوسرے حضرات نے فرمایا کہ درحقیقت قرآن ہر بیماری کی شفاء ہے خواہ قلبی و روحانی ہو یا بدنی اور جسمانی، مگر روحانی بیماریوں کی تباہی انسان کے لئے جسمانی بیماریوں سے زیادہ شدید ہے اور اس کا علاج بھی ہر شخص کے بس کا نہیں، اس لئے اس جگہ ذکر صرف قلبی اور روحانی بیماریوں کا کیا گیا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جسمانی بیماریوں کے لئے شفاء نہیں ہے۔ روایات حدیث اور علمائے امت کے بشیمار تجربات اس پر شاہد ہیں کہ قرآن کریم جیسے قلبی امراض کے لئے اکسیر اعظم ہے اسی طرح وہ جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے سینے میں تکلیف ہے، آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھا کرو کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ، یعنی قرآن شفاء ہے ان تمام بیماریوں کی جو سینوں میں ہوتی ہیں (روح المعانی از ابن مردویہ)۔ اسی طرح حضرت واثلہ بن اسقع کی روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیان کیا کہ میرے حلق میں تکلیف ہے، آپ نے اس کو بھی یہی فرمایا کہ قرآن پڑھا کرو۔ علماء امت نے کچھ روایات و آثار سے اور کچھ اپنے تجربوں سے آیات قرآنی کے خواص و فوائد مستقل کتابوں میں جمع بھی کردیئے ہیں، امام غزالی کی کتاب خواص قرآنی اس کے بیان میں مشہور و معروف ہے جس کی تلخیص حضرت حیکم الامت مولانا تھانوی نے اعمال قرآنی کے نام سے فرمائی ہے، اور مشاہدات و تجربات اتنے ہیں کہ ان کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کریم کی مختلف آیتیں مختلف امراض جسمانی کے لئے بھی شفاء کلی ثابت ہوتی ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ نزول قرآن کا اصلی مقصد قلب و روح کی بیماریوں کو ہی دور کرنا ہے اور ضمنی طور پر جسمانی بیماریوں کا بھی بہترین علاج ہے۔ اس سے ان لوگوں کی بےوقوفی اور کجروی بھی ظاہر ہوگئی جو قرآن کریم کو صرف جسمانی بیماریوں کے علاج یا دنیوی حاجات ہی کے لئے پڑھتے پڑھاتے ہیں، نہ روحانی امراض کی اصلاح کی طرف دھیان دیتے ہیں نہ قرآن کی ہدایات پر عمل کرنے کی طرف توجہ کرتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لئے علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا ہے ترا حاصل ز یٰسٓ اش جزین نیست کہ از ہم خواندنش آسان بمیری یعنی تم نے قرآن کی سورة یٰس سے صرف اتنا ہی فائدہ حاصل کیا کہ اس کے پڑھنے سے موت آسان ہوجائے، حالانکہ اس سورت کے معانی اور حقائق و معارف میں غور کرتے تو اس سے کہیں زیادہ فوائد و برکات حاصل کرسکتے تھے۔ بعض اہل تحقیق مفسرین نے فرمایا کہ قرآن کی پہلی صفت یعنی موعظہ کا تعلق انسان کے ظاہری اعمال کے ساتھ ہے جن کو شریعت کہا جاتا ہے، قرآن کریم ان اعمال کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے، اور شِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ کا تعلق انسان کے اعمال باطنہ کے ساتھ ہے، جس کو طریقت اور تصوف کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اور آیت میں تیسری صفت قرآن کریم کی هُدًى اور چو تھی رَحْمَةٌ بیان کی گئی ہے ھُدًی کے معنی ہدایت یعنی رہنمائی کے ہیں، قرآن کریم انسان کو طریق حق و یقین کی طرف دعوت دیتا ہے، اور انسان کو بتلاتا ہے کہ آفاق عالم اور خود ان کے نفوس میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنی عظیم نشانیاں رکھی ہیں ان میں غور و فکر کرو تاکہ تم ان سب چیزوں کے خالق اور مالک کو پہچانو۔