10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعارف القرآن

Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ اللہ کے فضل سے اور اس کی مہربانی سے سو اسی پر ان کو خوش ہونا چاہئے، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں

دوسری آیت میں فرمایا (آیت) قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ، یعنی لوگوں کو چاہئے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ہی کو اصلی خوشی کی چیز سمجھیں اور صرف اسی چیز پر خوش ہوں، دنیا کے چند روزہ مال و متاع اور راحت و عزت درحقیقت خوش ہونے کی چیز ہی نہیں، کیونکہ اول تو وہ کتنی ہی زیادہ کسی کو حاصل ہو، ادھوری ہی ہوتی ہے مکمل نہیں ہوتی، دوسرے ہر وقت اس کے زوال کا خطرہ لاحق ہے، اس لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ، یعنی اللہ کا فضل و رحمت ان تمام مال و دولت اور عزت و سلطنت سے بہتر ہے جن کو انسان اپنی زندگی بھر کا سرمایہ سمجھ کر جمع کرتا ہے۔ اس آیت میں دو چیزوں کو فرحت و مسرت کا سامان قرار دیا ہے ایک فضل دوسرے رحمت، ان دونوں سے مراد یہاں کیا ہے ؟ اس بارے میں ایک حدیث حضرت انس کی روایت سے یہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے فضل سے مراد قرآن ہے اور رحمت سے مراد یہ ہے کہ تم کو قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشی (روح المعانی از ابن مردویہ)۔ یہی مضمون حضرت براء بن عازب اور ابو سعید خدری سے بھی منقول ہے اور بہت سے حضرات مفسیرین نے فرمایا کہ فضل سے مراد قرآن اور رحمت سے مراد اسلام ہے، اور مطلب اس کا بھی وہی ہے جو حدیث سابق سے معلوم ہوا کہ رحمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن سکھایا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشی، کیونکہ اسلام اسی حقیقت کا ایک عنوان ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ فضل سے مراد قرآن اور رحمت سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں، قرآن کریم کی آیت وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے، اور حاصل اس کا بھی پہلی تفسیر سے کچھ مختلف نہیں، کیونکہ عمل بالقرآن یا اسلام رسول اللہ ﷺ ہی کی پیروی کے مختلف عنوانات ہیں۔ اس آیت میں مشہور قراءت کے مطابق فَلْيَفْرَحُوْا بصیغہ غائب آیا ہے، حالانکہ اس کے اصل مخاطب اس وقت کے موجودین، حاضرین تھے، جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ اس جگہ صیغہ خطاب کا استعمال کیا جاتا، جیسا کہ بعض قرأتوں میں آیا بھی ہے، مگر مشہور قراءت میں صیغہ غائب استعمال کرنے کی حکمت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ یا اسلام کی رحمت عامہ صرف اس وقت کے حاضرین و موجودین کے لئے مخصوص نہیں تھی بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والی نسلوں کو بھی شامل ہے۔ (روح المعانی)۔ فائدہ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرح و خوشی کا اس دنیا میں کوئی مقام ہی نہیں، ارشاد ہے (آیت) لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ یعنی خوشی میں مست نہ ہو، اللہ ایسے خوش ہونے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ اور آیت مذکورہ میں بصیغہ امر خوش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، اس ظاہری تعارض کا ایک جواب تو یہ ہے کہ جہاں خوش ہونے کو منع فرمایا ہے وہاں خوشی کا تعلق متاع دنیا سے ہے، اور جہاں خوش ہونے کا حکم دیا ہے وہاں خوشی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے۔ دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ ممانعت کی جگہ میں مطلق خوشی مراد نہیں بلکہ خوشی میں بد مست ہوجانا مراد ہے، اجازت کی جگہ میں مطلق خوشی مراد ہے۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اللہ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی پھر تم نے ٹھہرائی اس میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال، کہہ کیا اللہ نے حکم دیا تم کو یا اللہ پر افترا کرتے ہو،

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا خیال ہے جھوٹ باندھنے والوں کا اللہ پر قیامت کے دن، اللہ تو فضل کرتا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے،

تیسری آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو حلال و حرام کے معاملہ میں اپنی ذاتی رائے کو دخل دیتے ہیں، اور قرآن و سنت کی سند کے بغیر جس چیز کو چاہا حلال قرار دے دیا جس کو چاہا حرام کہہ دیا، اس پر قیامت کی شدید وعید ذکر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز یا کسی فعل کے حلال یا حرام ہونے کا اصل مدار انسانی رائے پر نہیں بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حق ہے ان کے احکام کے بغیر کسی چیز کو نہ حلال کہنا جائز ہے نہ حرام۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمہارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں، اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے ایک ذرہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں۔

چوتھی آیت میں اللہ جل شانہ کے علم محیط اور اس کی بےمثال وسعت کا ذکر رسول کریم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا گیا ہے کہ آپ جس کام اور جس حال میں ہمیشہ ہوتے ہیں یا قرآن پڑھتے ہیں اس کا کوئی جزء ہم سے مخفی نہیں اسی طرح تمام انسان جو کچھ عمل کرتے ہیں وہ ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور آسمان و زمین میں کوئی ایک ذرہ بھی ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے بلکہ ہر چیز کتب مبین یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوتی ہے۔ بطاہر اس جگہ علم الہٰی کی وسعت اور ہر چیز کو محیط ہونے کے بیان میں حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جائے کہ اگرچہ مخالف اور دشمن آپ کے بہت ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی حفاظت آپ کے ساتھ ہے آپ کو کوئی گزند نہ پہنچے گا۔
Ayahs 10:62–63

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے،

خلاصہ تفسیر (یہ تو علم الہٰی کا بیان ہوا آگے مخلصین و مطیعین کی محفوظیت کا بیان ہے کہ) یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ (ناک واقعہ پڑنے والا) ہے اور نہ وہ (کسی مطلب کے فوت ہونے پر) مغموم ہوتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ ان کو خوف ناک اور غم ناک حوادث سے بچاتا ہے اور) وہ (اللہ کے دوست) وہ ہیں جو ایمان لائے اور (معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں (یعنی ایمان اور تقوی سے اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور خوف و حزن سے ان کے محفوظ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ) ان کے لئے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی (من جانب اللہ خوف و حزن سے بچنے کی) خوش خبری ہے (اور) اللہ کی باتوں میں (یعنی وعدوں میں) کچھ فرق ہوا نہیں کرتا (پس جب بشارت میں ان سے وعدہ کیا گیا اور وعدہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے اس لئے عدم خوف و عدم حزن لازم ہے اور) یہ (بشارت جو مذکور ہوئی) بڑی کامیابی ہے۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں اولیاء اللہ کے مخصوص فضائل اور ان کی تعریف اور پہچان پھر دنیا و آخرت میں ان کے لئے بشارت کا ذکر ہے، فرمایا کہ اولیاء اللہ کو نہ کسی ناگوار چیز کے پیش آنے کا خطرہ ہوگا اور نہ کسی مقصد کے فوت ہوجانے کا غم، اور اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی و پرہیزگاری اختیار کی، ان کے لئے دنیا میں بھی خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اس میں چند باتیں قابل غور ہیںاول یہ کہ اولیاء اللہ پر خوف و غم نہ ہونے کے کیا معنی ہیں ؟ دوسرے یہ کہ اولیاء اللہ کی تعریف کیا ہے اور ان کی علامات کیا ہیں ؟ تیسرے یہ کہ دنیا و آخرت میں ان کی بشارت سے کیا مراد ہے ؟ پہلی بات کہ اولیاء اللہ پر خوف و غم نہیں ہوتا، اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ آخرت میں حساب کتاب کے بعد جب ان کو ان کے مقام جنت میں داخل کردیا جائے گا تو خوف و غم سے ان کو ہمیشہ کے لئے نجات ہوجائے گی، نہ کسی تکلیف و پریشانی کا خطرہ رہے گا نہ کسی محبوب و مطلوب چیز کے ہاتھ سے نکل جانے کا غم ہوگا، بلکہ جنت کی نعمتیں دائمی اور لازوال ہوں گی، اس معنی کے اعتبار سے تو مضمون آیت پر کوئی اشکال نہیں لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس میں اولیاء اللہ کی کوئی خصوصیت نہ رہی بلکہ تمام اہل جنت جن کو جہنم سے نجات مل گئی ہو اسی حال میں ہوں گے، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ انجام کار جنت میں پہنچ گئے وہ سب اولیاء اللہ ہی کہلائیں گے، دنیا میں ان کے اعمال کتنے ہی مختلف رہے ہوں مگر دخول جنت کے بعد سب کے سب اولیاء اللہ کی ہی فہرست میں شمار ہوں گے۔ لیکن بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ اولیاء اللہ پر خوف و غم نہ ہونا دنیا و آخرت دونوں کے لئے عام ہے اور اولیاء اللہ کی خصوصیت یہی ہے کہ دنیا میں بھی وہ خوف و غم سے محفوظ ہیں اور آخرت میں ان پر خوف و غم نہ ہونا تو سب ہی جانتے ہیں، اور اس میں سب اہل جنت داخل ہیں۔ مگر اس پر حالات و واقعات کے اعتبار سے یہ اشکال ہے کہ دنیا میں تو یہ بات مشاہدہ کے خلاف ہے کیونکہ اولیاء اللہ تو کیا انبیاء (علیہم السلام) بھی اس دنیا میں خوف و غم سے محفوظ نہیں بلکہ ان کا خوف و خشیت اوروں سے زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤ ُ ا، یعنی اللہ تعالیٰ سے پوری طرح علماء ہی ڈرتے ہیں، اور دوسری جگہ میں اولیاء اللہ ہی کا یہ حال بیان فرمایا ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ ، اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَاْمُوْنٍ ، یعنی یہ لوگ اللہ کے عذاب سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں جس سے کوئی بےفکر ہو کر بیٹھ سکے۔ صحابہ کرام میں سب سے افضل حضرت صدیق و فاروق ؓ اور تمام صحابہ وتابعین اور اولیاء اللہ کی گریہ وزاری اور خوف آخرت کے واقعات بیشمار ہیں۔ اس لئے روح المعانی میں علامہ آلوسی نے یہ فرمایا کہ حضرات اولیاء اللہ کا دنیا میں خوف و غم سے محفوظ ہونا اس اعتبار سے ہے کہ جن چیزوں کے خوف و غم میں عام طور سے اہل دنیا مبتلا رہتے ہیں کہ دنیوی مقاصد آرام و راحت عزت و دولت میں ذرا سی کمی ہوجانے پر مرنے لگتے ہیں اور ذرا ذرا سی تکلیف و پریشانی کے خوف سے ان سے بچنے کی تدبیروں میں رات دن کھوئے رہتے ہیں، اولیاء اللہ کا مقام ان سب سے بالا و بلند ہوتا ہے، ان کی نظر میں نہ دنیا کی فانی عزت و دولت، راحت و آرام کوئی چیز ہے جس کے حاصل کرنے میں سرگرداں ہوں، اور نہ یہاں کی محنت و کلفت اور رنج کچھ قابل التفات ہے جس کی مدافعت میں پریشان ہوں بلکہ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے بہ پیش ہمت ماہرچہ آمد بود مہمانے اللہ جل شانہ کی عظمت و محبت اور خوف و خشیت ان حضرات پر ایسی چھائی ہوتی ہے کہ اس کے مقابلہ میں دنیا کی رنج و راحت، سود و زیاں پرکاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتے بقول بعض یہ ننگ عاشقی ہیں سود و حاصل دیکھنے والے یہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے دوسری بات اولیاء اللہ کی تعریف اور ان کی علامات سے متعلق ہے، اولیاء ولی کی جمع ہے، لفظ ولی عربی زبان میں قریب کے معنی میں بھی آتا ہے اور دوست و محب کے معنی میں بھی، اللہ تعالیٰ کے قرب و محبت کا ایک عام درجہ تو ایسا ہے کہ اس سے دنیا کا کوئی انسان و حیوان بلکہ کوئی چیز بھی مستثنی نہیں، اگر یہ قرب نہ ہو تو سارے عالم میں کوئی چیز وجود ہی میں آسکتی، تمام عالم کے وجود کی اصلی علت وہی خاص رابطہ ہے جو اس کو حق تعالیٰ شانہ سے حاصل ہے گو اس رابطہ کی حقیقت کو نہ کسی نے سمجھا اور نہ سمجھ سکتا ہے مگر ایک بےکیف رابطہ کا ہونا یقینی ہے، مگر لفظ اولیاء اللہ میں یہ درجہ ولایت کا مراد نہیں بلکہ ولایت و محبت اور قرب کا ایک دوسرا درجہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں کے ساتھ خاص ہے یہ قرب محبت کہلاتا ہے جن لوگوں کو یہ قرب خاص حاصل ہو وہ اولیاء اللہ کہلاتے ہیں، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرا بندہ نفلی عبادات کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو پھر میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں وہ جو کچھ سنتا ہے میرے ذریعہ سنتا ہے، میں ہی اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، وہ جو کچھ دیکھتا ہے مجھ سے دیکھتا ہے میں ہی اس کے ہاتھ پاؤں بن جاتا ہوں وہ جو کچھ کرتا ہے مجھ سے کرتا ہے، مطلب اس کا یہ ہے کہ اس کی کوئی حرکت و سکون اور کوئی کام میری رضاء کے خلاف نہیں ہوتا۔ اور اس ولایت خاصہ کے درجات بیشمار اور غیر متناہی ہیں، اس کا اعلی درجہ انبیاء (علیہم السلام) کا حصہ ہے، کیونکہ ہر نبی کا ولی اللہ ہونا لازمی ہے، اور اس میں سب سے اونچا مقام سید الانبیاء نبی اکرم ﷺ کا ہے، اور ادنی درجہ اس ولایت کا وہ ہے جس کو صوفیائے کرام کی اصطلاح میں درجہ فنا کہا جاتا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا قلب اللہ تعالیٰ کی یاد میں ایسا مستغرق ہو کہ دنیا میں کسی کی محبت اس پر غالب نہ آئے وہ جس سے محبت کرتا ہے تو اللہ کے لئے کرتا ہے، جس سے نفرت کرتا ہے تو اللہ کے لئے کرتا ہے، اس کے حب و بغض اور محبت و عداوت میں اپنی ذات کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں مشغول رہتا ہے اور وہ ہر ایسی چیز سے پرہیز کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند ہو، اسی حالت کی علامت ہے کثرت ذکر اور دوام طاعت، یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنا اور ہمیشہ ہر حال میں اس کے احکام کی اطاعت کرنا، یہ دو وصف جس شخص میں موجود ہوں وہ ولی اللہ کہلاتا ہے جس میں ان دونوں میں سے کوئی ایک نہ ہو وہ اس فہرست میں داخل نہیں، پھر جس میں یہ دونوں موجود ہوں اس کے درجات ادنی و اعلی کی کوئی حد نہیں، انہیں درجات کے اعتبار سے اولیاء اللہ کے درجات متفاضل اور کم و بیش ہوتے ہیں۔ ایک حدیث میں بروایت حضرت ابوہریرہ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ سوال کیا گیا کہ اس آیت میں اولیاء اللہ سے کون لوگ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو خالص اللہ کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں، کوئی دنیاوی غرض درمیان میں نہیں ہوتی (مظہری از ابن مردویہ) اور ظاہر ہے کہ یہ حالت انہیں لوگوں کی ہو سکتی ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ یہاں ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس درجہ ولایت کے حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ امت کے افراد کو یہ درجہ ولایت رسول کریم ﷺ ہی کے فیض صحبت سے حاصل ہوسکتا ہے، اسی سے تعلق مع اللہ کا وہ رنگ جو آنحضرت ﷺ کو حاصل تھا اپنے حوصلہ کے مطابق اس کا کوئی حصہ امت کے اولیاء کو ملتا ہے، پھر یہ فیض صحبت صحابہ کرام کو بلا واسطہ حاصل تھا، اسی وجہ سے ان کا درجہ ولایت تمام امت کے اولیاء و اقطاب سے بالاتر تھا بعد کے لوگوں کو یہی فیض ایک واسطہ یا چند واسطوں سے حاصل ہوتا ہے جتنے وسائط بڑھتے جاتے ہیں اتنا ہی اس میں فرق پڑجاتا ہے، یہ واسطہ صرف وہی لوگ بن سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کے رنگ میں رنگے ہوئے آپ کی سنت کے پیرو ہیں ایسے لوگوں کی کثرت سے مجالست اور صحبت جبکہ اس کے ساتھ ان کے ارشادات کی پیروی اور اطاعت اور ذکر اللہ کی کثرت بھی ہو، یہی نسخہ ہے درجہ ولایت حاصل کرنے کا جو تین جزء سے مرکب ہے۔ کسی ولی اللہ کی صحبت، اس کی اطاعت اور ذکر اللہ کی کثرت، بشرطیکہ یہ کثرت ذکر مسنون طریقہ پر ہو، کیونکہ کثرت ذکر سے آئینہ قلب کو جلا ہوتی ہے تو وہ نور ولایت کے انعکاس کے قابل بن جاتا ہے، حدیث میں ہے کہ ہر چیز کے لئے صیقل اور صفائی کا کوئی طریقہ ہوتا ہے، قلب کی صیقل ذکر اللہ سے ہوتی ہے، اس کو بیہقی نے بروایت ابن عمر نقل فرمایا ہے۔ (مظہری)۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی بزرگ سے محبت کرتا ہے مگر عمل کے اعتبار سے ان کے درجہ تک نہیں پہنچتا ؟ آپ نے فرمایا المرء مع من احب یعنی ہر شخص اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کی محبت و صحبت انسان کے لئے حصول ولایت کا ذریعہ ہے، اور بہیقی نے شعب الایمان میں حضرت رزین کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت رزین سے فرمایا کہ میں تمہیں دین کا ایسا اصول بتلاتا ہوں جس سے تم دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی حاصل کرسکتے ہو، وہ یہ ہے کہ اہل ذکر کی مجلس و صحبت کو لازم پکڑو اور جب تنہائی میں جاؤ تو جتنا زیادہ ہوسکے اللہ کے ذکر سے اپنی زبان کو حرکت دو ، جس سے محبت کرو اللہ کے لئے کرو جس سے نفرت کرو اللہ کے لئے کرو۔ (مظہری)۔ مگر یہ صحبت و مجالست انہیں لوگوں کی مفید ہے جو خود ولی اللہ متبع سنت ہوں اور جو رسول کریم ﷺ کی سنت کے تابع نہیں وہ خود درجہ ولایت سے محروم ہیں، چاہے کشف و کرامات ان سے کتنے ہی صادر ہوں۔ اور جو شخص مذکورہ صفات کے اعتبار سے ولی ہو اگرچہ اس سے کبھی کوئی کشف و کرامت ظاہر نہ ہوئی ہو وہ اللہ کا ولی ہے۔ (مظہری) اولیاء اللہ کی علامت اور پہچان تفسیر مظہری میں ایک حدیث قدسی کے حوالہ سے یہ نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے اولیاء میرے بندوں میں سے وہ لوگ ہیں جو میری یاد کے ساتھ یاد آویں اور جن کی یاد کے ساتھ میں یاد آؤ ں، اور ابن ماجہ میں بروایت حضرت اسماء بنت یزید مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولیاء اللہ کی یہ پہچان بتلائی الذین اذا رء وا ذکر اللہ، یعنی جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔ خلا صہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر انسان کو اللہ کے ذکر کی توفیق اور دنیاوی فکروں کی کمی محسوس ہو، یہ علامت اس کے ولی اللہ ہونے کی ہے۔ تفسیر مظہری میں فرمایا کہ عوام نے جو اولیاء اللہ کی علامت کشف و کرامت یا غیب کی چیزیں معلوم ہونے کو سجھ رکھا ہے یہ غلط اور دھوکہ ہے، ہزاروں اولیاء اللہ ہیں جن سے اس طرح کی کوئی چیز ثابت نہیں اور اس کے خلاف ایسے لوگوں سے کشف اور غیب کی خبریں منقول ہیں جن کا ایمان بھی درست ہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے ہے خوش خبری دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں، بدلتی نہیں اللہ کی باتیں، یہی ہے بڑی کامیابی۔

آخر آیت میں جو یہ فرمایا گیا کہ اولیاء کے لئے دنیا میں بھی خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی، آخرت کی خوشخبری تو یہ ہے کہ موت کے وقت جب اس کی روح کو اللہ کے پاس لے جایا جائے گا اس وقت اس کو خوشخبری جنت کی ملے گی پھر قیامت کے روز قبر سے اٹھنے کے وقت جنت کی خوشخبری دی جائے گی جیسا کہ طبرانی نے بروایت ابن عمر نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل لا الہ الا اللہ کو نہ موت کے وقت کوئی وحشت ہوگی نہ قبر میں اور نہ قبر سے اٹھنے کے وقت، گویا میری آنکھیں اس وقت کا حال دیکھ رہی ہیں جب یہ لوگ اپنی قبروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ، یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارا غم دور کردیا۔ اور دنیا کی بشارت کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ سچی خوابیں جو انسان خود دیکھے یا اس کے لئے کوئی دوسرا دیکھے جن میں ان کے لئے خوشخبری ہو۔ (رواہ البخاری عن ابی ہریرہ) اور دنیا کی دوسری بشارت یہ ہے کہ عام مسلمان بغیر کسی غرض کے اس سے محبت کریں اور اچھا سمجھیں، اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تلک عاجل بشری المومن یعنی عام مسلمانوں کا اچھا سمجھنا اور تعریف کرنا مومن کے لئے نقد خوش خبری ہے (مسلم و بغوی)
Ayahs 10:65–66

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور رنج مت کر ان کی بات سے، اصل میں سب زور اللہ کے لئے ہے، وہی ہے سننے والا جاننے والا،

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سنتا ہے اللہ کا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں، اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے، سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر اور آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں (یعنی ان کے کفریات سے مغموم ہوں کیونکہ علم و حفاظت مذکورہ کے علاوہ) تمام تر غلبہ (اور قدرت بھی) خدا ہی کے لئے (ثابت) ہے (وہ اپنی قدرت سے حسب وعدہ آپ کی حفاظت کرے گا) وہ (ان کی باتیں) سنتا ہے (اور ان کی حالت) جانتا ہے (وہ آپ کا بدلہ ان سے خود لے لے گا) یاد رکھو کہ جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں (یعنی فرشتے اور جن و انس) یہ سب اللہ ہی کے (مملوک) ہیں (اس کی حفاظت یا مکافات کو کوئی روک نہیں سکتا پس باہمہ وجوہ تسلی رکھنا چاہئے) اور (اگر کسی کو شبہ ہو کہ شاید شرکاء مزاحمت کرسکیں تو اس کی حقیقت سن لو کہ) جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کر رہے ہیں (خدا جانے) کس چیز کا اتباع کر رہے ہیں (یعنی ان کے اس عقیدہ کی کیا دلیل ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ بھی دلیل نہیں) محض بےسند خیال کا اتباع کر رہے ہیں اور محض خیالی باتیں کر رہے ہیں (پس واقع میں ان میں صفات الوہیت کے مثل علم وقدرت وغیرہ نہیں ہیں پھر ان میں احتمال مزاحمت کی کب گنجائش ہے)۔
Ayahs 10:67–70

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ چین حاصل کرو اس میں اور دن دیا دکھلانے والا، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں،

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہتے ہیں ٹھہرا لیا اللہ نے بیٹا وہ پاک ہے، وہ بےنیاز ہے، اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، نہیں تمہارے پاس کوئی سند اس کی، کیوں جھوٹ کہتے ہو اللہ پر جس بات کی تم کو خبر نہیں،

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

تھوڑا سا نفع اٹھا لینا دنیا میں پھر ہماری طرف ان کو لوٹنا ہے پھر چکھائیں گے ہم ان کو سخت عذاب بدلہ ان کے کفر کا۔

خلاصہ تفسیر وہ (اللہ) ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور پر بنایا کہ (بوجہ روشن ہونے کے) دیکھنے بھالنے کا ذریعہ ہے اس (بنانے) میں دلائل (توحید) میں ان لوگوں کے لئے جو (تدبر کے ساتھ ان مضامین کو) سنتے ہیں (مشرکین ان دلائل میں غور نہیں کرتے اور شرک کی باتیں کرتے ہیں چنانچہ) وہ کہتے ہیں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے، سبحان اللہ (کیسی سخت بات کہی) وہ تو کسی کا محتاج نہیں (اور سب اس کے محتاج ہیں) اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (پس سب مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا پس ثابت ہوا کہ کمالات میں کوئی اس کا مشارک و مجانس نہیں، پس اگر اولاد کو اللہ کا مجانس یعنی ہم جنس کہا جائے تو مجانست باطل ہوچکی اور اگر غیر مجانس کہو تو ناجنس اولاد ہونا عیب ہے اور عیوب سے اللہ تعالیٰ پاک ہے، جیسا سُبْحٰنَهٗ میں اس طرف اشارہ بھی ہے، پس اولاد کا ہونا مطلقاً باطل ہوگیا ہم نے جو نفی اولاد کا دعوی کیا تھا اس پر تو ہم نے دلیل قائم کردی ہے، اب رہا تمہارا دعوی سو) تمہارے پاس (بجز بیہودہ دعوی کے) اس (دعوی) پر کوئی دلیل (بھی) نہیں (تو) کیا اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کو تم (کسی دلیل سے) علم نہیں رکھتے آپ (ان کا مفتری ہونا ثابت کرکے اس افتراء کی وعید سنانے کے لئے) کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں (جیسے مشرکین) وہ (کبھی) کامیاب نہ ہوں گے (اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ ہم تو ایسوں کو دنیا میں خوب کامیاب اور آرام و راحت میں پاتے ہیں، تو جواب یہ ہے کہ) یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے (جو بہت جلد ختم ہوجاتا ہے) پھر (مر کر) ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہے پھر (آخرت میں) ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سزائے سخت (کا مزا) چکھا دیں گے۔
Ayahs 10:71–73

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور سنا ان کو حال نوح ؑ کا، جب کہا اپنی قوم کو اے قوم اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور نصیحت کرنا اللہ کی آیتوں سے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام اور جمع کرو اپنے شریکوں کو پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ پھر کر گزرو میرے ساتھ اور مجھ کو مہلت نہ دو ،

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر منہ پھیرو گے تو میں نے نہیں چاہی تم سے مزدوری، میری مزدوری ہے اللہ پر، اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں فرماں بردار،

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلایا سو ہم نے بچالیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو قائم کردیا جگہ پر اور ڈبا دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا تھا۔

خلاصہ تفسیر اور آپ ان کو نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنایئے (جو کہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم اگر تم کو میرا رہنا (یعنی وعظ گوئی کی حالت میں رہنا) اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا بھاری (اور ناگوار) معلوم ہوتا ہے تو (ہوا کرے میں کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ) میرا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے سو تم (میرے ضرر پہنچانے کے متعلق) اپنی تدابیر (جو کچھ کرسکو) مع اپنے شرکاء (یعنی بتوں) کے پختہ کرلو (یعنی تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ضرر رسانی میں اپنا ارمان نکال لو) پھر تمہاری وہ تدبیر تمہاری گھٹن (اور دل تنگی) کا باعث نہ ہونا چاہئے (یعنی اکثر خفیہ تدبیر سے طبعیت گھٹا کرتی ہے، سو خفیہ تدبیر کی ضرورت نہیں، جو کچھ تدبیر کرو دل کھول کر علانیہ کرو، میرا نہ لحاظ پاس کرو اور نہ میرے چلے جانے نکل جانے کا اندیشہ کرو کیونکہ اتنے آدمیوں کے پہرہ میں سے ایک آدمی کا نکل جانا بھی مستبعد ہے پھر اخفا کی کیا ضرورت ہے) پھر میرے ساتھ (جو کچھ کرنا ہے) کر گزرو اور مجھ کو (ذرا) مہلت نہ دو (حاصل یہ کہ میں تمہاری ان باتوں سے نہ ڈرتا ہوں اور نہ تبلیغ سے رک سکتا ہوں یہاں تک تو نفی خوف کی فرمائی، آگے نفی طمع کی فرماتے ہیں یعنی) پھر بھی اگر تم اعراض ہی کئے جاؤ تو (یہ سمجھو کہ) میں نے تم سے (اس تبلیغ پر) کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا (اور میں تم سے کیوں مانگتا کیونکہ) میرا معاوضہ تو صرف (حسب وعدہ کرم) اللہ ہی کے ذمے ہے (غرض نہ تم سے ڈرتا ہوں نہ خواہش رکھتا ہوں) اور (چونکہ) مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں میں رہوں (اس لئے تبلیغ میں حکم کی تعمیل رکھتا ہوں اگر تم نہ مانو گے میرا کیا نقصان ہے) سو (باوجود اس موعظہ بلیغہ کے بھی) وہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے پس (اس پر عذاب طوفان کا مسلط ہوا اور) ہم نے (اس عذاب سے) ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو (زمین) پر آباد کیا اور (باقی لوگ رہ گئے تھے، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو (اس طوفان میں) غرق کردیا سو دیکھنا چاہئے کیسا (برا) انجام ہوا ان لوگوں کا جو (عذاب الہٰی سے) ڈرائے جاچکے تھے (یعنی بیخبر ی میں ہلاک نہیں کئے گئے، پہلے کہہ دیا، سمجھا دیا، نہ مانا سزا پائی)
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر بھیجے ہم نے نوح ؑ کے بعد کتنے پیغمبر ان کی قوم کی طرف پھر لائے ان کے پاس کھلی دلیلیں سو ان سے یہ نہ ہوا کہ ایمان لے آئیں اس بات پر جس کو جھٹلا چکے تھے پہلے سے، اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے نکل جانے والوں کے۔

خلاصہ تفسیر پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، سو وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے (مگر) پھر (بھی ان کی ضد اور ہٹ کی یہ کیفیت تھی کہ) جس چیز کو انہوں نے اول (وہلہ) میں (ایک بار) جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے (اور جیسے یہ لوگ دل کے سخت تھے) اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
Ayahs 10:75–82

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گنہگار،

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب پہنچی ان کو سچی بات ہمارے پاس سے کہنے لگے یہ تو جادو ہے کھلا

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے کیا تم یہ کہتے ہو حق بات کو جب وہ پہنچے تمہارے پاس، کیا یہ جادو ہے، اور نجات نہیں پاتے جادو کرنے والے،

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

بولے کیا تو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس رستہ سے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ داداؤں کو اور تم دونوں کو سرداری مل جائے اس ملک میں، اور ہم نہیں ہیں تم کو ماننے والے

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور بولا فرعون لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا ہوا،

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب آئے جادوگر کہا ان کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو،

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے، اب اللہ اس کو بگاڑتا ہے، بیشک اللہ نہیں سنوارتا شریروں کے کام،

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے اور پڑے برا مانیں گنہگار۔

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکور) پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنے معجزات (عصا اور ید بیضاء) دے کر بھیجا سو انہوں نے (دعوے کے ساتھ ہی ان کی تصدیق کرنے سے) تکبر کیا (اور طلب حق کے لئے غور بھی تو نہ کیا) اور وہ لوگ جرائم کے خوگر تھے (اس لئے اطاعت نہ کی) پھر جب (بعد دعوی کے) ان کو ہمارے پاس سے (نبوت موسویہ پر) صحیح دلیل پہنچی (مراد اس سے معجزہ ہے) تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقینا یہ صریح جادو ہے، مو سیٰ ؑ نے فرمایا کیا یہ جا دو ہے، حالانکہ جادوگر (جب کہ دعوی نبوت کا کریں تو اظہار معجزہ میں) کامیاب نہیں ہوا کرتے (اور میں کامیاب ہوا کہ اول دعوی کیا پھر معجزات ظاہر کردیئے) وہ لوگ (اس تقریر کا کچھ جواب نہ دے سکے، ویسے ہی براہ جہالت) کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے اور (اس لئے آئے ہو کہ) تم دونوں کو دنیا میں ریاست (اور سرداری) مل جاوے اور (تم خوب سمجھ لو کہ) ہم تو تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے، اور فرعون نے (اپنے سرداروں سے) کہا کہ میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو (جو ہمارے قلمرو میں ہیں) حاضر کرو (چناچہ جمع کئے گئے) سو جب وہ آئے (اور موسیٰ ؑ سے مقابلہ ہوا تو) موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم کو (میدان میں) ڈالنا ہے، سو جب انہوں نے (اپنا جادو کا سامان) ڈالا تو موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ جو کچھ تم (بنا کر) لائے ہو جادو یہ ہے (نہ وہ جس کو فرعون والے جادو کہتے ہیں) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (جادو) کو ابھی درہم برہم کئے دیتا ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا (جو معجزہ کے ساتھ مقابلہ سے پیش آویں) اور اللہ تعالیٰ (جس طرح اہل باطل کے باطل کو بمقابلہ معجزات حقہ کے باطل کردیتا ہے اسی طرح) دلیل صحیح (یعنی معجزہ) کو اپنے وعدوں کے موافق (کہ اثبات نبوت انبیاء کے متعلق ہیں) ثابت کردیتا ہے گو مجرم (اور کافر) لوگ کیسا ہی ناگوار سمجھیں۔
Ayahs 10:83–86

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر کوئی ایمان نہ لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اس کی قوم کے ڈرتے ہوئے فرعون سے اور ان کے سرداروں سے کہ کہیں ان کو بچلا نہ دے، اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں، اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے،

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے اے میری قوم اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر ہو تم فرماں بردار،

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تب وہ بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا اے رب ہمارے نہ آزما ہم پر زور اس ظالم قوم کا،

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور چھڑا دے ہم کو مہربانی فرما کر ان کافر لوگوں سے۔

خلاصہ تفسیر پس (جب عصا کا معجزہ ظاہر ہوا تو) موسیٰ ؑ پر (شروع شروع میں) ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (ظاہر ہونے پر) ان کو تکلیف (نہ) پہنچاوے اور واقع میں (ڈرنا ان کا بےجا نہ تھا کیونکہ) فرعون اس ملک میں زور (سلطنت) رکھتا تھا اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد (انصاف) سے باہر ہوجاتا تھا (ظلم کرنے لگتا تھا پھر جو شخص حکومت کے ساتھ ظلم کرتا ہو اس سے تو ڈر لگتا ہی ہے) اور موسیٰ ؑ نے (جب ان کو خائف دیکھا تو ان سے) فرمایا اے میری قوم اگر تم (سچے دل سے) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو (سوچ بچار مت کرو بلکہ) اسی پر توکل کرو اگر تم (اس کی) اطاعت کرنے والے ہو، انہوں نے (جواب میں) عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا (بعد اس کے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ) اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کا تختہ مشق نہ بنا اور ہم کو اپنی رحمت کے صدقے ان کافروں سے نجات دے۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو کہ مقرر کرو اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر اور بناؤ اپنے گھر قبلہ رو اور قائم کرو نماز اور خوش خبری دے ایمان والوں کو

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (اس دعا کے قبول کرنے کا سامان کیا کہ) موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی (ہارون ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے (بدستور) مصر میں گھر برقرار کرو (یعنی وہ ڈر کر گھر نہ چھوڑیں ہم ان کے محافظ ہیں) اور (نماز کے اوقات میں) تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو (مساجد کی حاضری خوف کی وجہ سے معاف ہے) اور (یہ ضروری ہے کہ) نماز کے پابند رہو (تاکہ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ جلدی اس مصیبت سے چھڑا دے) اور (اے موسی) آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں (کہ اب جلدی یہ مصیبت ختم ہوجاوے گی) اور موسیٰ ؑ نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے ہمارے رب (ہم کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ) آپ نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان تجمل اور طرح طرح کے مال دنیوی زندگی میں اے ہماے رب اسی واسطے دیئے ہیں کہ وہ آپ کی راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں (پس جب ہدایت ان کے مقدر میں ہے نہیں اور جو حکمت تھی وہ حاصل ہوچکی تو اب ان کے اموال اور نفوس کو کیوں باقی رکھا جاوے پس) اے ہمارے رب ان کے مالوں کو نیست نابود کر دیجئے اور (ان کے نفوس کی ہلاکت کا سامان کردیجئے اس طرح کہ) ان کے دلوں کو (زیادہ) سخت کردیجئے (جس سے ہلاکت کے مستحق ہوجاویں) سو یہ ایمان نہ لانے پاویں (بلکہ روز بروز ان کا کفر ہی بڑھتا رہے) یہاں تک کہ عذاب الیم (کے مستحق ہو کر اس) کو دیکھ لیں (سو اس وقت ایمان نافع نہیں ہوتا موسیٰ ؑ نے یہ دعا کی اور ہارون ؑ آمین کہتے رہے۔ کذا فی الدر المنثور) حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی (کیونکہ آمین کہنا بھی دعا میں شریک ہونا ہے یعنی ہم ان کے اموال و نفوس اب ہلاک کرنے والے ہیں) سو تم (اپنے منصبی کام یعنی تبلیغ پر) مستقیم رہو (یعنی گو ہدایت ان کی تقدیر میں نہ ہو مگر تبلیغ میں تمہارا فائدہ ہے) اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو (ہمارے وعدے کے سچے ہونے کا یا توقف میں حکمت ہونے کا یا تبلیغ کے ضروری ہونے کا) علم نہیں (یعنی ہمارے وعدہ کو سچا سمجھو اور اگر ہلاکت میں دیر ہوجاوے اس میں حکمت سمجھو اور اپنے منصبی کام میں لگے رہو) اور (جب ہم نے فرعون کو ہلاک کرنا چاہا تو موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے باہر نکال لے جائے چناچہ وہ سب کو لے کر چلے اور رستہ میں دریائے شور حائل ہوا، اور موسیٰ ؑ کی دعا سے اس میں راستہ ہوگیا اور) ہم نے بنی اسرائیل کو (اس) دریا سے پار کردیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون مع اپنے لشکر کے ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے (دریا میں) چلا (کہ دریا سے نکل کر ان سے قتل و قتال کرے لیکن وہ دریا سے پار نہ ہوسکا) یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا (اور ملائکہ عذاب کے نظر آنے لگے) تو (سراسیمہ ہوکر) کہنے لگا میں ایمان لاتا ہوں کہ بجز اس کے کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں داخل ہوتا ہوں (سو مجھ کو اس غرق سے اور عذاب آخرت سے نجات دی جاوے فرشتہ کے ذریعہ سے) جواب دیا گیا کہ اب ایمان لاتا ہے (جبکہ معائنہ آخرت کا شروع ہوگیا) اور (معائنہ آخرت کے) پہلے سے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا (اب نجات چاہتا ہے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور بنی اسرائیل و قوم فرعون کے کچھ حالات اور ان سے متعلقہ احکام مذکور ہیں پہلی آیت میں ایک خاص واقعہ سے متعلق حکم ہے وہ یہ کہ بنی اسرائیل جو دین موسوی پر عامل تھے یہ سب عام عادت کے مطابق نمازیں صرف اپنے صومعوں (عبادت گاہوں) میں ادا کرتے تھے، اور پچھلی امتوں کے لئے حکم بھی یہی تھا کہ ان کی نماز اپنے گھروں میں ادا نہیں ہوتی تھی، یہ خصوصی سہولت امت محمدیہ کو عطا ہوئی کہ ہر جگہ جہاں چاہیں نماز ادا کرلیں، صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول کریم ﷺ نے اپنی چھ (6) خصوصیات میں سے ایک یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنادیا گیا ہے کہ نماز ہر جگہ ادا ہوجاتی ہے، یہ دوسری بات ہے کہ فرض نمازوں کا مسجدوں میں ہی ادا کرنا جماعت کے ساتھ سنت مؤ کدہ قرار دیا گیا، اور نفلی نمازوں کا گھروں میں ادا کرنا افضل ہے، رسول کریم ﷺ کا عمل اسی پر تھا کہ مسجد میں صرف فرض نماز پڑھتے تھے، سنن اور نوافل گھر میں جا کر ادا فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل اپنے مذہب کے مطابق اس کے پابند تھے کہ نماز صرف اپنے عبادت خانوں میں ادا کریں، فرعون جو ان کو طرح طرح کی ایذائیں دیتا اور ان پر ظلم ڈھاتا تھا، اس نے یہ دیکھ کر ان کے تمام عبادت خانوں کو مسمار کردیا تاکہ یہ اپنے مذہب کے مطابق نماز نہ پڑھ سکیں، اس پر حق تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے دونوں پیغمبروں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو وہ حکم دیا جو اس آیت میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کیلئے مصر میں مکان نئے بنائے جائیں اور ان مکانات کا رخ قبلہ کی طرف ہو، تاکہ وہ انہیں سکونتی مکانات میں نماز ادا کرسکیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ پچھلی امتوں میں اگرچہ عام حکم یہی تھا کہ نمازیں صرف عبادت خانوں میں پڑھی جائیں، لیکن اس خاص حادثہ کی وجہ سے بنی اسرائیل کے لئے اس کی عارضی اجازت دے دی گئی کہ گھروں ہی میں نماز ادا کرلیا کریں اور اپنے گھروں کا رخ قبلہ کی طرف سیدھا رکھیں، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ضرورت کے وقت بھی ان کو مخصوص گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی جن کا رخ قبلہ کی طرف کیا گیا تھا، عام گھروں اور عام مقامات پر نماز کی اجازت اس وقت بھی نہیں تھی، جس طرح امت محمدیہ کو شہر اور جنگل کے ہر مقام پر نماز ادا کرنے کی سہولت حاصل ہے (روح)۔ یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کو جس قبلہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد کون سا قبلہ ہے، کعبہ یا بیت المقدس ؟ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کعبہ ہے اور کعبہ ہی حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے اصحاب کا قبلہ تھا۔ (قرطبی و روح) بلکہ بعض علماء نے فرمایا کہ تمام انبیاء سابقین کا قبلہ اصل میں کعبہ ہی تھا۔ اور جس حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ یہود اپنی نمازوں میں صخرہ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اس کو اس زمانہ پر محمول کیا جائے گا جب کہ حضرت موسیٰ ؑ مصر چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے، یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ قیام مصر کے زمانہ میں آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی ہو۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کے لئے استقبال قبلہ کی شرط انبیاء سابقین کے زمانہ میں بھی تھی، اسی طرح طہارت اور ستر عورت کا تمام انبیاء سابقین کی شریعتوں میں شرط نماز ہونا بھی معتبر روایات سے ثابت ہے۔ گھروں کو قبلہ رخ بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ ان میں نمازیں ادا کی جائیں اس لئے اس کے بعد اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ کا حکم دے کر یہ ہدایت کردی گئی کہ اگر فرعون عبادت گاہوں میں نماز ادا کرنے سے روکتا ہے تو اس سے نماز ساقط نہیں ہوتی اپنے گھروں میں ادا کرو۔ آخر آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کو خطاب کرکے حکم دیا گیا کہ مؤمنین کو آپ خوشخبری سنا دیں کہ ان کا مقصود پورا ہوگا، دشمن پر ان کو غلبہ نصیب ہوگا اور آخرت میں جنت ملے گی۔ (روح)۔ آیت کے شروع میں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو بصیغہ تثنیہ خطاب کیا گیا کیونکہ مکانات قبلہ رخ کرکے ان میں نماز پڑھنے کی اجازت انہیں کا کام تھا، اس کے بعد بصیغہ جمع سب بنی اسرائیل کو شامل کرکے اقامت نماز کا حکم دیا گیا کیونکہ اس حکم میں پیغمبر اور امت سب داخل ہیں، آخر میں بشارت دینے کا حکم خاص موسیٰ ؑ کو دیا گیا کیونکہ اصل صاحب شریعت نبی آپ ہی تھے، بشارت جنت دینے کا آپ ہی کو حق تھا۔
Ayah 10:88

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے اے رب ہمارے تو نے دی ہے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو رونق اور مال دنیا کی زندگی میں اے رب اس واسطے کہ بہکائیں تیری راہ سے، اے رب مٹا دے ان کے مال اور سخت کردے ان کے دل کہ نہ ایمان لائیں جب تک دیکھ لیں عذاب دردناک،

دوسری آیت میں قوم فرعون کی اصلاح سے مایوس ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کی بد دعا کا ذکر ہے جس کے شروع میں انہوں نے حق تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کیا ہے کہ آپ نے قوم فرعون کو زینت دنیا کے ساز و سامان اور مال و دولت بہت عطا فرما رکھا ہے، مصر سے لے کر ارض حبشہ تک سونے چاندی اور زبرجد و زمرد یاقوت وغیرہ جواہرات کی کانیں عطا فرما رکھی ہیں (قرطبی) جس کا اثر یہ ہے کہ وہ لوگوں کو تیرے راستہ سے گمراہ کرتے ہیں، کیونکہ عام لوگ ان کے ظاہری ساز و سامان اور عیش و راحت کو دیکھ کر اس شک میں پڑجاتے ہیں کہ اگر یہ گمراہی پر ہوتے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں کیوں ملتیں، کیونکہ عام لوگوں کی نظریں اس حقیقت تک نہیں پہنچتیں کہ دنیا کا فروغ بغیر نیک عمل کے کسی انسان کے حق پر ہونے کی علامت نہیں ہوسکتی، حضرت موسیٰ ؑ نے قوم فرعون کی اصلاح سے مایوس ہونے کے بعد ان کے مال و دولت سے دوسروں کی گمراہی کا خطرہ محسوس کرکے بد دعا کی (آیت) رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ یعنی اے میرے پروردگار ان کے اموال کی صورت بدل کر مسخ و بیکار کردے۔ حضرت قتادہ کا بیان کہ اس دعا کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ قوم فرعون کے تمام زر و جواہرات اور نقد سکے اور باغوں کھیتوں کی سب پیداوار پتھروں کی شکل میں تبدیل ہوگئے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ایک تھلیہ پایا گیا جس میں فرعون کے زمانہ کی چیزیں تھیں ان میں انڈے اور بادام بھی دیکھے گئے جو بالکل پتھر تھے۔ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام پھلوں، ترکاریوں اور غلہ کو پتھر بنادیا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی ان نو آیات (معجزات) میں سے ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے، (آیت) وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ۔ دوسری بد دعا حضرت موسیٰ ؑ نے ان کے لئے یہ کی، (آیت) وَاشْدُدْ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤ ْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ ، یعنی اے پروردگار ان کے دلوں کو ایسا سخت کردے کہ ان میں ایمان اور کسی خیر کی صلاحیت ہی نہ رہے تاکہ وہ عذاب الیم آنے سے پہلے ایمان نہ لاسکیں۔ یہ بد دعا بظاہر ایک رسول و پیغمبر کی زبان سے بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر کا وظیفہ زندگی ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایمان عمل صالح کی طرف دعوت دیں اور اس کے لئے تدبیریں کریں۔ مگر یہاں واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ ساری تدبیریں کرنے کے بعد ان کی اصلاح سے مایوس ہوچکے تھے اور اب چاہتے تھے کہ یہ اپنے اعمال کی سزا دیکھیں، اس میں یہ احتمال تھا کہ کہیں یہ لوگ عذاب آتا دیکھ کر ایمان کا اقرار نہ کرلیں اور اس طرح عذاب ٹل جائے، اس لئے کفر سے بغض و نفرت اس دعا کا سبب بنی، جیسے فرعون غرق ہونے کے وقت ایمان کا اقرار کرنے لگا تو جبریل امین نے اس کا منہ بند کردیا کہ کہیں رحمت الہٰی متوجہ ہو کر یہ عذاب سے نہ بچ جائے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بد دعا درحقیقت بد دعا نہ ہو بلکہ ایسی ہو جیسے شیطان پر لعنت کہ وہ تو بنص قرآن خود ہی ملعون ہے پھر اس پر لعنت کرنے کا منشا اس کے سوا نہیں کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت مسلط کردی ہم بھی اس پر لعنت کرتے ہیں اس صورت میں مطلب اس کا یہ ہوگا کہ ان کے دلوں کا سخت اور ناقابل ایمان و اصلاح ہونا من جانب اللہ مقرر ہوچکا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے بصورت بد دعا اس کا اظہار فرمایا۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا قبول ہوچکی دعا تمہاری سو تم دونوں ثابت رہو اور مت چلو راہ ان کی جو ناواقف ہیں،

تیسری آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کی اس دعا کی قبولیت کو بیان فرمایا ہے مگر عنوان میں حضرت ہارون ؑ کو بھی شریک دعا قرار دے کر یہ خطاب کیا گیا (آیت) قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَایعنی تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، وجہ یہ تھی کہ جب حضرت موسیٰ ؑ یہ دعا کر رہے تھے تو حضرت ہارون آمین کہتے جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ کسی دعا پر آمین کہنا بھی دعا ہی میں داخل ہے، اور چونکہ دعا کا مسنون طریقہ قرآن کریم میں آہستہ آواز سے کرنے کا بتلایا گیا ہے تو اس سے آمین کو بھی آہستہ کہنے کی ترجیح معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت میں قبولیت دعا کی اطلاع ان دونوں پیغمبروں کو دے دیگئی، مگر تھوڑا سا امتحان ان کا بھی لیا گیا کہ قبولیت دعا کا اثر بقول بغوی چالیس سال بعد ظاہر ہوا، اسی لئے اس آیت میں قبولیت دعا کے ذکر کے ساتھ ان دونوں حضرات کو یہ بھی ہدایت کردی گئی کی (آیت) فَاسْتَــقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعٰۗنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَايَعْلَمُوْنَ ، یعنی پنے کار منصبی دعوت و تبلیغ میں لگے رہیں، قبولیت دعا کا اثر دیر میں ظاہر ہو تو جاہلوں کی طرح جلد بازی نہ کریں۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور پار کردیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اور اس کے لشکر نے شرارت سے اور تعدی سے، یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا بولا یقین کرلیا میں نے کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرماں برداروں میں،

چوتھی آیت میں حضرت موسیٰ ؑ کے مشہور معجزہ عبور دریا کا اور فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے، (آیت) حَتّٰٓي اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ ۙقَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ ، یعنی جب اس کو غرقابی نے پکڑ لیا تو بول اٹھا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ جس خدا پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اطاعت کرنے والوں میں سے ہوں۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

اب یہ کہتا ہے اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور رہا گمراہوں میں۔

پانچویں آیت میں خود حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اس کا یہ جواب آیا ہے (آیت) اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ ، یعنی کیا اب تم مسلمان ہوتے ہو جب کہ ایمان و اسلام کا وقت گزر چکا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عین موت کے وقت کا ایمان لانا شرعاً معتبر نہیں، اس کی مزید تشریح اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتے رہتے ہیں جب تک غرغرہ موت کا وقت نہ آجائے (ترمذی)۔ غرغرہ موت سے مراد وہ وقت ہے جب نزع روح کے وقت فرشتے سامنے آجاتے ہیں اس وقت دارالعمل دنیا کی زندگی ختم ہو کر آخرت کے احکام شروع ہوجاتے ہیں، اس لئے اس وقت کا کوئی عمل قابل قبول نہیں، نہ ایمان نہ کفر، ایسے وقت جو ایمان لاتا ہے اس کو بھی مومن نہیں کہا جائے گا اور اس کے ساتھ کفن دفن میں مسلمانوں کا سا معاملہ نہ کیا جائے گا، جیسا کہ فرعون کے اس واقعہ سے ثابت ہے کہ بالاجماع فرعون کی موت کفر پر قرار دی گئی ہے نصوص قرآن سے بھی یہی واضح ہے اور جس کسی نے فرعون کے اس ایمان کو معتبر کہا ہے یا تو اس کی کوئی تاویل کی جائے ورنہ اسے غلط کہا جائے گا (روح)۔ اس طرح اگر خدانخواستہ ایسی ہی نزع روح کی حالت میں کسی شخص کی زبان سے کلمہ کفر نکل جائے تو اس کو کافر بھی نہ کہا جائے گا بلکہ اس کے جنازہ کی نماز پڑھ کر مسلمانوں کی طرح دفن کیا جائے گا اور اس کے کلمہ کفر کی تاویل کی جائے گی جیسا کہ بعض اولیاء اللہ کے حالات سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ جو کلمہ ان کی زبان سے نکل رہا تھا لوگ اس کو کلمہ کفر سمجھ کر پریشان تھے بعد میں کچھ ہوش آیا اور اپنا مطلب بتلایا تو سب کو اطمینان ہوگیا کہ وہ عین ایمان کا کلمہ تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت روح نکل رہی ہو اور نزع کا عالم ہو وہ وقت دنیا کی زندگی میں شمار نہیں، اس وقت کا کوئی عمل بھی شرعا معتبر نہیں، اس سے پہلے پہلے ہر عمل معتبر ہے، مگر دیکھنے والوں کو اس میں بڑی احتیاط لازم ہے کیونکہ اس کا صحیح اندازہ کرنے میں غلطی ہوسکتی کہ یہ وقت نزع روح کا اور غرغرہ موت کا ہے یا اس سے پہلے کا۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

سو آج بچائے دیتے ہیں ہم تیرے بدن کو تاکہ ہو وے تو اپنے پچھلو کے واسطے نشانی، اور بیشک بہت لوگ ہماری قدرتوں پر توجہ نہیں کرتے،

خلاصہ تفسیر سو (بجائے نجات مطلوبہ کے) آج ہم تیری لاش کو (پانی میں تہ نشین ہونے سے) نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لئے موجب عبرت ہو جو تیرے بعد (موجود) ہیں (کہ تیری بدحالی اور تباہی دیکھ کر مخالفت احکام الہٰیہ سے بچیں) اور حقیقت یہ ہے کہ (پھر بھی) بہت سے آدمی ہماری (ایسی ایسی) عبرتوں سے غافل ہیں (اور مخالفت احکام سے نہیں ڈرتے) اور ہم نے (غرق فرعون کے بعد) بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا (کہ اس وقت تو مصر کے مالک ہوگئے اور ان کی اول ہی نسل کو بیت المقدس اور ملک شام عمالقہ پر فتح دے کر عطا فرمایا) اور ہم نے ان کو نفیس چیزیں کھانے کو دیں (مصر میں بھی جنت و عیون تھے اور شام کی نسبت بٰرَکنَا فیھَا آیا ہے) سو (چاہئے تھا کہ ہماری اطاعت میں زیادہ سرگرم رہتے لیکن انہوں نے الٹا دین میں اختلاف کرنا شروع کیا اور غضب یہ کہ) انہوں نے (جہل کی وجہ آگے اس سے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس (احکام کا) علم پہنچ گیا (تھا اور پھر اختلاف کیا آگے اس اختلاف پر وعید ہے کہ) یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان (اختلاف کرنے والوں) کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ (عملی) کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، پھر (اثبات حقیقت دین محمدی کے واسطے ہم ایک ایسا کافی طریقہ بتلاتے ہیں کہ غیر صاحب وحی کے لئے تو کیسے کافی نہ ہوگا وہ ایسا ہے کہ آپ صاحب وحی ہیں مگر آپ سے بھی اگر اس کا خطاب بطور قضیہ شرطیہ کے کیا جاوے تو ممکن ہے اس طرح سے کہ) اگر (بالفرض) آپ اس (کتاب) کی طرف سے شک (و شبہ) میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو (اس شک کے دفع کا ایک سہل طریقہ یہ بھی ہے کہ) آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھتے جو آپ سے پہلے کی کتابوں کو پڑھتے ہیں (مراد توریت و انجیل ہیں وہ من حیث القراءة اس کی پیشین گوئیوں کی بناء پر اس قرآن کے صدق کو بتلا دیں گے) بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں اور نہ (شک کرنے والوں سے بڑھ کر) ان لوگوں میں ہوں جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، کہیں آپ (نعوذ باللہ) تباہ نہ ہوجاویں یقینا جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی (یہ ازلی) بات (کہ یہ ایمان نہ لاویں گے) ثابت ہوچکی ہے وہ (کبھی) ایمان نہ لاویں گے گو ان کے پاس تمام دلائل ثبوت حق کے) پہنچ جاویں، جب تک کہ عذاب دردناک کو نہ دیکھ لیں (مگر اس وقت ایمان نافع نہیں ہوتا) چناچہ (جن بستیوں پر عذاب آچکا ہے ان میں سے) کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا اس کو نافع ہوتا (کیونکہ ان کے ایمان کے ساتھ مشیت متعلق ہوئی تھی) ہاں مگر یونس ؑ کی قوم (کہ ان کے ایمان کے ساتھ مشیت متعلق ہوئی تھی، اس لئے وہ عذاب موعود کے آثار ابتدائیہ کو دیکھ کر ایمان لے آئے اور) جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت خاص (یعنی وقت موت) تک (خیر خوبی کے ساتھ) عیش دیا (پس اور قریوں کا ایمان نہ لانا اور قوم یونس ؑ کا ایمان لانا دونوں مشیت سے ہوئے۔ معارف و مسائل پہلی آیت میں فرعون کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ غرقابی کے بعد ہم تیرے بدن کو پانی سے نکال دیں گے، تاکہ تیرا یہ بدن پچھلے لوگوں کے لئے قدرت خداوندی کی نشانی اور عبرت بن جائے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ دریا سے عبور کرنے کے بعد جب حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہلاک ہونے کی خبر دی تو وہ لوگ فرعون سے کچھ اس قدر مرعوب و مغلوب تھے کہ اس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ فرعون ہلاک نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی اور دوسروں کی عبرت کے لئے دریا کی ایک موج کے ذریعہ فرعون کی مردہ لاش کو ساحل پر ڈال دیا جس کو سب نے دیکھا اور اس کے ہلاک ہونے کا یقین آیا، اور اس کی یہ لاش سب کے لئے نمونہ عبرت بن گئی، پھر معلوم نہیں کہ اس لاش کا کیا انجام ہوا، جس جگہ فرعون کی لاش پائی گئی تھی آج تک وہ جگہ جبل فرعون کے نام سے معروف ہے۔ کچھ عرصہ ہوا اخباروں میں یہ خبر چھپی تھی کہ فرعون کی لاش صحیح سالم برآمد ہوئی اور عام لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا، اور وہ آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے، مگر یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی فرعون ہے جس کا مقابلہ حضرت موسیٰ ؑ سے ہوا تھا یا کوئی دوسرا فرعون ہے کیونکہ لفظ فرعون کسی ایک شخص کا نام نہیں، اس زمانے میں مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا۔ مگر آیت میں ارشاد فرمایا کہ بہت سے لوگ ہماری آیتوں اور نشانیوں سے غافل ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ورنہ عالم کے ہر ذرہ ذرہ میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو اور اس کی قدرت کاملہ کو پہچانا جاسکتا ہے۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ جگہ اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں سو ان میں پھوٹ نہیں پڑی یہاں تک کہ پہنچی ان کو خبر، بیشک تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس بات میں کہ ان میں پھوٹ پڑی،

دوسری آیت میں فرعون کے انجام بد کے بالمقابل اس قوم کا مستقبل دکھلایا ہے جس کو فرعون نے حقیر و ذلیل بنا رکھا تھا، فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا کہ پورا ملک مصر بھی ان کو مل گیا اور اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ بھی ان کو مل گئی جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کے لئے میراث بنادیا تھا، اچھے ٹھکانے کو قرآن میں مُبَوَّاَ صِدْقٍ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، صِدْقٍ کے معنی اس جگہ صالح اور مناسب کے ہیں، مطلب یہ کہ ایسا ٹھکانا ان کو دیا جو ان کے لئے ہر اعتبار سے لائق اور مناسب تھا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کو حلال پاک چیزوں سے رزق دیا کہ دنیا کی تمام لذائذ اور راحتیں ان کو عطا فرما دیں۔ آخر آیت میں پھر ان کی کجروی اور غلط کاری کا ذکر ہے کہ ان میں بھی بہت سے لوگوں نے اقتدار پانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی اور اس کی اطاعت سے پھرگئے، تورات میں جو نشانیاں رسول کریم ﷺ کی یہ لوگ پڑھتے تھے اس کا تقاضہ یہ تھا کہ آپ کے تشریف لانے کے بعد سب سے پہلے یہی لوگ ایمان لاتے، مگر یہ عجیب اتفاق ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے تو یہ سب لوگ نبی آخر الزمان پر اعتقاد رکھتے اور ان کی نشانیوں اور ان کے ظہور کا وقت قریب ہونے کی خبریں لوگوں کو بتایا کرتے تھے اور اپنی دعاؤں میں نبی آخر الزمان کا وسیلہ دے کر دعا کیا کرتے تھے مگر جب نبی آخر الزمان اپنی پوری شہادتوں کے ساتھ اور تورات کی بتلائی ہوئی نشانیوں کے ساتھ تشریف لائے تو یہ لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگے، کچھ لوگ ایمان لائے باقیوں نے انکار کیا، اس آیت میں رسول کریم ﷺ کے تشریف لانے کو لفظ جَاۗءَھُمُ الْعِلْمُ سے تعبیر کیا ہے، یہاں علم سے مراد یقین بھی ہوسکتا ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ جب مشاہدہ کے ساتھ یقین کے اسباب جمع ہوگئے تو یہ لوگ اختلاف کرنے لگے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ علم سے مراد معلوم ہے یعنی جب وہ ہستی سامنے آگئی جو تورات کی پیشین گوئیوں کے ذریعہ پہلے سے معلوم تھی تو اب لگے اختلاف کرنے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے اختلاف کا فیصلہ فرماویں گے حق و باطل نکھر جائے گا، اہل حق جنت میں اور اہل باطل دوزخ میں بھیجے جائیں گے۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

سو اگر تو ہے شک میں اس چیز سے کہ اتاری ہم نے تیری طرف تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے بیشک آئی ہے تیرے پاس حق بات تیرے رب سے سو تو ہرگز مت ہو شک کرنے والا،

تیسری آیت میں بظاہر خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مگر یہ ظاہر ہے کہ آپ کو وحی میں شک ہونے کا احتمال نہیں، اس لئے اس خطاب کے ذریعہ مقصود امت کو سنانا ہے خود آپ مقصود نہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطاب عام انسان کو ہو، کہ اے انسان اگر تجھ کو اس وحی الہٰی میں کوئی شک ہے جو بواسطہ محمد مصطفیٰ ﷺ تیری طرف بھجی گئی تو تو ان لوگوں سے دریافت کر جو تجھ سے پہلے اللہ کی کتاب تورات و انجیل پڑھتے تھے وہ تجھے بتلائیں گے کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابیں محمد مصطفیٰ ﷺ کی خوشخبری دیتی آئی ہیں، جس سے تیرے وساوس دور ہوجائیں گے۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو دین کے معاملہ میں کوئی شبہ پیش آجائے تو اس پر لازم ہے کہ علماء حق سے سوال کرکے اپنے شبہات دور کرے ان کی پرورش نہ کرتا رہے۔