9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعارف القرآن

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

صاف جواب ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے رسولوں کی، ان مشرکوں کو جن سے تمہارا عہد ہوا تھا۔

خلاصہ تفسیر اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین (کے عہد) سے دست برداری ہے جن سے تم نے (بلا تعیین مدت) عہد کر رکھا تھا (یہ جماعت سوم کا حکم ہے ان جماعتون کی تفصیل معارف و مسائل میں آرہی ہی) اور جماعت چہارم یعنی جن سے کچھ بھی عہد نہ تھا ان کا بھی حکم اس سے بدرجہ اولی مفہوم ہوگیا کہ جب معاہدین سے رفع امان کردیا تو غیر معاہدین میں تو کوئی احتمال امن کا پہلے سے بھی نہیں ہے) سو (ان دونوں جماعتوں کو اطلاع کردو کہ) تم لوگ اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو (اجازت ہے تاکہ اپنا موقع اور پناہ ڈھونڈھ لو) اور (اس کے ساتھ) یہ (بھی) جان رکھو کہ (اس مہلت کی بدولت صرف مسلمانوں کی دست برد سے بچ سکتے ہو لیکن) تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے (کہ اس کے قبضہ سے نکل سکو) اور یہ (بھی جان رکھو) کہ بیشک اللہ تعالیٰ (آخرت میں) کافروں کو رسوا کریں گے (یعنی عذاب دیں گے تمہاری سیاحت اس سے نہیں بچا سکتی اور احتمال قتل دنیا میں الگ رہا۔ اس میں ترغیب ہے توبہ کی) اور (پہلی دوسری جماعت کا حکم یہ ہے کہ) اللہ اور رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں (بدون مقرر کرنے کسی میعاد کے ابھی) دست بردار ہوتے ہیں ان مشرکین (کو امن دینے) سے (جنہوں نے خود نقض عہد کیا۔ مراد جماعت اول ہے مگر) پھر (بھی ان سے کہا جاتا ہے کہ) اگر تم (کفر سے) توبہ کرلو تو تمہارے لئے (دونوں جہان میں) بہتر ہے (دنیا میں تو اس لئے کہ تمھا ری عہد شکنی معاف ہوجائے گی اور قتل سے بچ جاؤ گے اور آخرت میں ظاہر ہے کہ نجات ہوگی) اور اگر تم نے (اسلام سے) اعراض کیا تو یہ سمجھ رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے (کہ کہیں نکل کر بھاگ جاؤ اور (آگے خدا کو عاجز نہ کرسکنے کی تفسیر ہے کہ) ان کافروں کو ایک دردناک سزا کی خبر سنا دیجئے (جو آخرت میں واقع ہوگی یہ تو یقینی اور احتمال سزائے دینا کا الگ، مطلب یہ ہوا کہ اگر اعراض کرو گے تو سزا بھگتو گے) ہاں مگر وہ مشرکین (اس رفع امان و دست برداری سے) مستثنی ہیں جن سے تم نے عہد لیا پھر انہوں نے (عہد پورا کرنے میں) تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ (تمھارے) کسی (دشمن) کی مدد کی (مراد اس سے جماعت دوم ہے) سو ان کے معاہدہ کو ان کی مدت (مقررہ) تک پورا کردو (اور بد عہدی نہ کرو کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ (بد عہدی سے) احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں (پس تم احتیاط رکھو گے تو تم بھی پسندیدہ حق ہوجاؤ گے۔ آگے جماعت اول کے حکم کا تتمہ ہے کہ جب ان کو کوئی مہلت نہیں تو گو ان سے ابھی قتال کی گنجائش ہو سکتی تھی لیکن ابھی محرم کے ختم تک اشہر حرم مانع قتال ہیں) سو (ان کے گزرنے کا انتظار کرلو اور) جب اشہر حرم گزر جائیں تو (اس وقت) ان مشرکین (جماعت اول) کو جہاں پاؤ مارو پکڑو باندھو اور داؤ گھات کے موقعوں میں ان کی تاک میں بیٹھو (یعنی لڑائی میں جو جو ہوتا ہے سب کی اجازت ہے) پھر اگر (کفر سے) توبہ کرلیں اور (اسلام کے کام کرنے لگیں یعنی مثلا نماز پڑھنے لگیں، زکوة دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو (یعنی قتل و قید مت کرو کیونکہ) واقعی اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنے والے ہیں (اس واسطے ایسے شخص کا کفر بخش دیا اور اس کی جان بچا لی اور یہی حکم بقیہ جماعت کا ہوگا ان کی میعادیں گزرنے کے بعد)۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے اور جان لو کہ تم نہ تھکا سکو گے اللہ کو اور یہ کہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو۔

معارف و مسائل سورة براءت شروع ہو رہی ہے جس کو سورة توبہ بھی کہا جاتا ہے۔ براءت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے براءت کا ذکر ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے (مظہری) اس سورت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مصاحف قرآن میں اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی اس کے سوا تمام قرآنی سورتوں کے شروع میں بسم اللہ لکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ معلوم کرنے سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ قرآن مجید تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک ہی سورت کی آیتیں مختلف اوقات میں نازل ہوئیں، جبریل امین جب وحی لے کر آتے تو ساتھ ہی بحکم الہی یہ بھی بتلاتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد رکھی جائے۔ اسی کے مطابق رسول کریم ﷺ کاتبین وحی کو ہدایت فرما کر لکھوا دیتے تھے۔ اور جب ایک سورت ختم ہو کر دوسری سورت شروع ہوتی تھی تو سورت شروع ہونے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوتی تھی جس سے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ پہلی سورت ختم ہوگئی اب دوسری سورت شروع ہو رہی ہے۔ قرآن مجید کی تمام سورتوں میں ایسا ہی ہوا۔ سورة توبہ نزول کے اعتبار سے بالکل آخری سورتوں میں سے ہے۔ اس کے شروع میں عام دستور کے مطابق نہ بسم اللہ نازل ہوئی اور نہ رسول کریم ﷺ نے کاتب وحی کو اس کی ہدایت فرمائی۔ اسی حال میں رسول کریم ﷺ کی وفات ہوگئی۔ جامع قرآن حضرت عثمان غنی ؓ نے اپنی خلافت کے عہد میں جب قرآن مجید کو کتابی صورت میں ترتیب دیا تو سب سورتوں کے خلاف سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ تھی اس لئے یہ شبہ ہوگیا کہ شاید یہ کوئی مستقل سورت نہ ہو بلکہ کسی دوسری سورت کا جز ہو۔ اب اس کی فکر ہوئی کہ اگر یہ کسی دوسری سورت کا جزء ہوتا وہ کونسی سورت ہوسکتی ہے۔ مضامین کے اعتبار سے سورة انفال اس کے مناسب معلوم ہوئی۔ اور حضرت عثمان سے ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ کے زمانہ میں ان دونوں سورتوں کو قرینتین یعنی ملی ہوئی کہا جاتا تھا۔ (مظہری) اس لئے سورة انفال کے بعد اس کو رکھ دیا گیا یہ احتیاط تو اس لئے کی گئی کہ دوسری سورت کا جز ہو تو اس کے ساتھ رہنا چاہئے مگر احتمال یہ بھی تھا کہ علیحدہ مستقل سورت ہو اس لئے لکھنے میں یہ سورت اختیار کی گئی کہ سورة انفال کے ختم پر سورة توبہ کے شروع سے پہلے کچھ جگہ خالی چھوڑ دی گئی جیسے عام سورتوں میں بسم اللہ کی جگہ ہوتی ہے۔ سورة براءت یا توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھے جانے کی یہ تحقیق خود جامع قرآن حضرت عثمان سے ابوداؤد، نسائی، مسند امام احمد، ترمذی میں مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن عباس کے ایک سوال کے جواب میں منقول ہے۔ اس سوال میں حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان غنی سے یہ بھی استفسار کیا تھا کہ قرآن کی سورتوں کی جو ترتیب قائم کی گئی ہے کہ سب سے پہلے بڑی سورتیں رکھی گئیں جن میں سو آیتوں سے زیادہ ہوں جن کو اصطلاح میں مِئین کہا جاتا ہے اس کے بعد وہ بڑی سورتیں رکھی گئی ہیں جن میں سو سے کم آیات ہیں جن کو مثانی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چھوٹی سورتیں رکھی گئی ہیں جن کو مفصلات کہا جاتا ہے۔ اس ترتیب کا بھی تقاضا یہ ہے کہ سورة توبہ کو سورة انفال سے پہلے رکھا جائے کیونکہ سورة توبہ کی آیتیں سو سے زائد اور انفال کی سو سے کم ہیں۔ شروع کی سات طویل سورتیں جن کو سبع طوال کہا جاتا ہے اس میں بھی بجائے انفال کے سورة توبہ ہی زیادہ مناسب ہے۔ اس کے خلاف کرنے میں کیا مصلحت ہے۔ حضرت عثمان غنی نے فرمایا کہ یہ سب باتیں صحیح ہیں لیکن قرآن کے معاملہ میں احتیاط کا مقتضی وہی ہے جو اختیار کیا گیا۔ کیونکہ اگر سورة توبہ مستقل سورت نہ ہو بلکہ سورة انفال کا جز ہو تو یہ ظاہر ہے کہ سورة انفال کی آیات پہلے نازل ہوئی ہیں اور توبہ کی اس کے بعد۔ اس لئے ان کو انفال کی آیات پر مقدم کرنا بغیر وحی کے جائز نہیں اور وحی میں ہمیں کوئی ایسی ہدایت نہیں ملی اس لئے انفال کو مقدم اور توبہ کو موخر کیا گیا۔ اس تحیقیق سے یہ معلوم ہوگیا کہ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا احتمال ہے کہ سورة توبہ علیحدہ سورت نہ ہو بلکہ انفال کا جز ہو اس احتمال پر یہاں بسم اللہ لکھنا ایسا نادرست ہوگا جیسے کوئی شخص کس سورت کے درمیان بسم اللہ لکھ دے۔ اسی بنا پر حضرات فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص اوپر سے سورة انفال کی تلاوت کرتا آیا ہو اور سورة توبہ شروع کر رہا ہو وہ بسم اللہ نہ پڑھے۔ لیکن جو شخص اسی سورت کے شروع یا درمیان سے اپنی تلاوت شروع کر رہا ہے اس کو چاہئے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر شروع کرے بعض ناواقف یہ سمجھتے ہیں کہ سورة توبہ کی تلاوت میں کسی حال بسم اللہ پڑھنا جا ئز نہیں یہ غط ہے اور اس پر دوسری غلطی یہ ہے کہ بجائے بسم اللہ کے یہ لوگ اس کے شروع میں اعوذ باللہ من النار پڑھتے ہیں جس کا کوئی ثبوت آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے نہیں ہے۔ اور حضرت علی کرم اللہ وجہ سے جو بروایت ابن عباس یہ منقول ہے کہ سورة براءت کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امان ہے اور سورة براءت میں کفار کے امان اور عہد و پیمان کو ختم کیا گیا ہے۔ سو یہ ایک نکتہ اور لطیفہ ہے جو اصلی سبب کے منافی نہیں۔ یعنی اصلی سبب تو یہی ہے کہ سورة انفال اور توبہ کے ایک ہونے کے احتمال کی بنا پر بسم اللہ نہیں لکھی گئی پھر اس نہ لکھے جانے کا ایک لطیفہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سورت میں کفار سے براءت اور رفع امان مذکور ہے جو بسم اللہ کے مناسب نہیں اس لئے تکوینی طور پر یہاں ایسے اسباب پیدا کردیئے گئے کہ بسم اللہ یہاں نہ لکھی جائے۔ سورة توبہ کی آیات مذکورہ کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے چند واقعات کا جاننا ضروری ہے جن کے سبب سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں اس لئے پہلے ان واقعات کی مختصر تفصیل لکھی جاتی ہے۔ (1) پوری سورة توبہ میں چند غزوات اور ان سے متعلقہ واقعات کا اور ان کے ضمن میں بہت سے احکام و مسائل کا بیان ہوا ہے۔ مثلا تمام قبائل عرب سے معاہدات کا ختم کردینا فتح مکہ غزوہ حنین۔ غزوہ تبوک۔ ان واقعات میں فتح مکہ سب سے پہلے 8 ہجری میں پھر غزوہ حنین اسی سال میں پھر غزوہ تبوک رجب 9 ہجری میں پھر تمام قبائل عرب سے معاہدات ختم کرنے کا اعلان ذی الحجہ 9 ہجری میں ہوا۔ (2) نبذ عہد یعنی معاہدات ختم کردینے کے متعلق جو مضامین ان آیات میں مذکور ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ 6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور قریش مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا اور مقام حدیبیہ میں ان سے صلح ہوئی۔ اس صلح کی میعاد روح المعانی کی نقل کے مطابق دس سال کی تھی۔ مکہ میں علاوہ قریش کے دوسرے قبائل بھی تھے معاہدہ صلح کی ایک دفعہ یہ بھی رکھی گئی کہ قریش کے علاوہ دوسرے قبائل میں جس کا جی چاہے وہ قریش کا حلیف اور ساتھی بن جائے اور جس کا جی چاہے وہ رسول اللہ ﷺ کا حلیف ہو کر آپ کے ساتھ ہوجائے۔ چناچہ قبیلہ خزاعہ نے آنحضرت ﷺ کا حلیف بننا پسند کیا اور آپ کے ساتھ ہوگئے اور قبیلہ بنی بکر نے قریش کے ساتھ ہونا اختیار کرلیا۔ اس معاہدہ کی رو سے یہ لازمی تھا کہ دس سال کے اندر نہ باہمی جنگ ہوگی نہ کسی جنگ کرنے والے کو کسی جانب سے کوئی مدد دی جائے گی اور جو قبیلہ کسی فریق کا حلیف ہے وہ بھی اسی کے حکم میں سمجھا جائے گا کہ اس پر حملہ کرنا یا حملہ آور کو مدد دینا معاہدہ کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ یہ معاہدہ 6 ہجری میں ہوا 7 ہجری میں معاہدہ کے مطابق رسول اللہ کریم ﷺ مع صحابہ کرام کے فوت شدہ عمرہ کی قضاء کرنے کے لئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور تین روز قیام کرکے حسب معاہدہ واپس تشریف لے آئے۔ اس وقت تک کسی فریق کی طرف سے معاہدہ صلح کی کوئی خلاف ورزی نہ تھی۔ اسے کے بعد پانچ چھ ماہ گزرے تھے کہ قبیلہ بنی بکر نے قبیلہ خزاعہ پر رات کے وقت چھاپہ مارا اور قریش نے بھی یہ سمجھ کر کہ رسول کریم ﷺ بہت دور ہیں اور رات کا وقت ہے آپ تک واقعہ کی تفصیلات پہنچنا مشکل ہے اس حملہ میں بنی بکر کو ہتھیاروں اور اپنے جوانوں سے امداد دی۔ ان واقعات اور حالات کے مطابق جن کو بالآخر قریش نے بھی تسلیم کرلیا وہ معاہدہ صلح ٹوٹ گیا جو حدیبیہ میں دس سال کے التواء جنگ کا ہوا تھا۔ قبیلہ خزاعہ جو رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے انہوں نے اس واقعہ کی اطلاع آپ کو دے دی۔ آنحضرت ﷺ نے قریش کی عہد شکنی کی خبر پاکر قریش کے خلاف جنگ کی خفیہ تیاری شروع کردی۔ قریش کو بدر و اُحُد اور احزاب کے معرکوں میں مسلمانوں کی غیبی اور ربانی طاقت کا اندازہ ہو کر اپنی قوت و طاقت کا نشہ اتر چکا تھا اس وقت عہد شکنی کرنے کے بعد مسلمانوں کی طرف سے جنگ کا خطرہ تو پیدا ہو ہی چکا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو اطلاع پہنچنے کے بعد مکمل خاموشی سے یہ خطرہ اور زیادہ قوی ہوگیا۔ مجبور ہو کر ابو سفیان کو مدینہ بھیجا کہ وہ خودجا کر حالات کا اندازہ لگائیں اور اگر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جنگ کی تحریک کا اندازہ ہو تو پچھلے واقعہ پر عذر و معذرت کرکے آئندہ کے لئے تجدید معاہدہ کرلیں۔ ابو سفیان کو مدینہ پہنچ کر رسول کریم ﷺ کی جنگی تیاریوں کا کچھ علم ہوا تو پریشان ہو کر اکابر صحابہ میں سے ایک ایک کے پاس گئے کہ وہ سفارش کرکے معاہدہ کی تجدید کرادیں مگر سب نے ان کے سابقہ اور لاحقہ تلخ معاملات کے سبب انکار کردیا۔ اور ابو سفیان ناکام واپس آئے۔ قریش مکہ پر خوف و ہراس طاری ہوگیا۔ ادھر آنحضرت ﷺ نے حسب روایت بدایتہ و ابن کثیر 10 رمضان 8 ہجری کو مدینہ طیبہ سے صحابہ کرام کی بڑی جمعیت کے ساتھ مکہ پر حملہ کرنے کے قصد سے کوچ فرمایا۔ اور بالآخر مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ فتح مکہ کے وقت مغلوب دشمنوں کے ساتھ بےنظیر کریمانہ سلوک فتح کے وقت بہت سے رؤ ساء قریش جو پہلے سے اسلام کی حقانیت کا یقین رکھتے تھے مگر برادری کے خوف سے اظہار نہ کرسکتے تھے اب ان کو موقع مل گیا وہ مشرف باسلام ہوگئے۔ اور جو اس وقت بھی اپنے قدیم مذہب کفر پر جمے رہے ان کو بھی بجز معدودے چند افراد کے رسول کریم ﷺ نے سب کو جان و مال کا امان دے کر پیغمبرانہ اور معجزانہ اخلاق کا وہ ثبوت دیا جس کا دوسرے لوگوں سے تصور بھی نہیں ہوسکتا ان کی تمام گذشتہ عداوتوں اور مظالم اور بےرحمی کے واقعات کو یکسر نظر انداز فرما کر ارشاد فرمایا کہ میں آج تم سے وہی بات کہتا ہوں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے اس وقت کہی تھی جب کہ وہ والدین کے ساتھ یوسف ؑ کے پاس مصر پہنچے تھے۔ (آیت) لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔ یعنی تمہارے ظلم و جور کا انتقام لینا یا کوئی سزا دینا تو کیا ہم تم کو ملامت کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ فتح مکہ کے وقت مشرکین کی چار قسمیں اور ان کے احکام بہرحال اس وقت مکہ پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ ہوگیا مکہ اور اطراف مکہ میں رہنے والے غیر مسلموں کو جان و مال کا امان دے دیا گیا۔ لیکن اس وقت ان غیر مسلموں کے مختلف حالات تھے۔ ایک قسم تو وہ لوگ تھے جن سے حدیبیہ میں صلح کا معاہدہ ہوا اور انہوں نے خود اس کو توڑ دیا اور وہی فتح مکہ کا سبب ہوا۔ دوسرے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن سے صلح کا معاہدہ کسی خاص میعاد کے لئے کیا گیا اور وہ اس معاہدہ پر قائم رہے جیسے بنی کنانہ کے دو قبیلے بنی ضمرہ اور بنی مدلج جن سے ایک مدت کے لئے صلح ہوئی تھی اور سورة براءت نازل ہونے کے وقت بقول خازن ان کی میعاد صلح کے نو مہینے باقی تھے۔ تیسرے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن سے معاہدہ صلح بغیر تعیین مدت کے ہوا تھا۔ چوتھے وہ لوگ تھے جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہ تھا۔ فتح مکہ سے پہلے جتنے مشرکین یا اہل کتاب سے رسول کریم ﷺ نے معاہدات کئے ان سب کا یہ تلخ تجربہ مسلسل ہوتا رہا کہ انھوں نے خفیہ اور علانیہ عہد شکنی کی اور دشمنوں سے سازش کرکے رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی مقدور بھر پوری کوششیں کیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے مسلسل تجربہ اور اشارات الٰہیہ کے ماتحت یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ آئندہ ان میں سے کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ صلح نہ کیا جائے گا۔ اور جزیرة العرب کو ایک اسلامی قلعہ کی حیثیت سے صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص کردیا جائے گا جس کا مقتضی یہ تھا کہ مکہ اور جزیرة العرب پر اقتدار حاصل ہوتے ہی اعلان کردیا جاتا کہ غیر مسلم یہاں سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں۔ لیکن اسلام کے اصول عدل و انصاف اور رحیمانہ سلوک اور رحمۃ للعالمین کی رحمت عامہ کے ماتحت بلا مہلت کے ایسا کرنا مناسب نہ تھا۔ اس لئے سورة براءت کے شروع میں ان چاروں قسم کی غیر مسلم جماعتوں کے جدا جدا احکام نازل ہوئے۔ پہلی جماعت جو قریش مکہ کی تھی جنہوں نے میثاق حدیبیہ کو خود توڑ دیا تھا اب یہ کسی مزید مہلت کے مستحق نہ تھے مگر چونکہ یہ زمانہ اشہر حرم کا زمانہ تھا جن میں جنگ و قتال منجانب اللہ ممنوع تھا اس لئے ان کے متعلق تو وہ حکم آیا جو سورة توبہ کی پانچویں آیت میں مذکور ہے (آیت) فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ ، جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں نے عہد شکنی کرکے اپنا کوئی حق باقی نہیں چھوڑا مگر اشھر حرم کا احترام بہرحال ضروری ہے اس لئے اشھر حرم ختم ہوتے ہی یا وہ جزیرة العرب سے نکل جائیں یا مسلمان ہوجائیں ورنہ ان سے جنگ کی جائے۔ اور دوسری جماعت جن سے کسی خاص میعاد کے لئے معاہدہ صلح کیا گیا اور وہ اس پر قائم رہے ان کا حکم سورة توبہ کی چوتھی آیت میں یہ آیا۔ (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔ یعنی وہ مشرک لوگ جن سے تم نے معاہدہ صلح کرلیا پھر انہوں نے معاہدہ پر قائم رہنے میں کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں تھمارے کسی دشمن کی مدد کی تو تم ان کے معاہدہ کو اس کی مدت تک پورا کردو کیونکہ اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ حکم بنو ضمرہ اور بنو مدلج کا تھا جس کی رو سے ان کو نو مہینے کی مہلت مل گئی۔ اور تیسری اور چوتھی دونوں جماعتوں کا ایک ہی حکم آیا جو سورة توبہ کی پہلی اور دوسری آیت میں مذکور ہے۔ (آیت) بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ۝ۭفَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ۔ یعنی اعلان دست برداری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ہے ان مشرکین کے لئے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا سو تم لوگ اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو۔ اور یہ جان رکھو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ کہ بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو رسوا کریں گے۔ غرض پہلی دوسری آیتوں کی رو سے ان سب لوگوں کو جن سے بلا تعیین مدت کوئی معاہدہ تھا یا جن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ تھا چار مہینے کی مہلت مل گئی۔ اور چوتھی آیت کی رو سے ان لوگوں کو تا اختتام معاہدہ مہلت مل گئی جن کے ساتھ کسی خاص میعاد کا معاہدہ تھا اور پانچویں آیت سے مشرکین مکہ کو اشھر حرم ختم ہونے تک مہلت مل گئی۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور سنا دینا ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی، لوگوں کو دن بڑے حج کے کہ اللہ الگ ہے مشرکوں سے، اور اس کا رسول، سو اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے، اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم ہرگز نہ تھکا سکو گے اللہ کو، اور خوش خبری سنا دے کافروں کو عذاب دردناک کی۔

کفار سے معاہدات ختم ہوجانے پر بھی ان کو مہلت دینے کا کریمانہ سلوک ان احکام کا نفاذ اور مہلت کا شروع اس وقت سے تجویز ہوا جبکہ ان احکام کا اعلان تمام عرب میں ہوجائے۔ اس اعلان عام کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ 9 ہجری کے ایام حج میں منیٰ و عرفات کے عام اجتماعات میں اس کا اعلان کیا جائے جس کا ذکر سورة توبہ کی تیسری آیت میں اس طرح آیا (آیت) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ۔ یعنی اعلان عام ہے عام لوگوں کے سامنے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں اس بات کا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں دست بردار ہوتے ہیں ان مشرکین سے پھر اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر تم نے اعراض کیا تو یہ سمجھ رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے اور ان کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئے۔ کفار سے معاہدہ ختم کیا جائے تو اعلان عام اور سب کو ہشیار خبردار کئے بغیر ان کے خلاف کوئی عمل درست نہیں چنانچہ اس حکم ربانی کی تعمیل کے لئے رسول کریم ﷺ نے 9 ہجری کے حج میں حضرت صدیق اکبر اور علی مرتضی ؓ کو مکہ مکرمہ بھیج کر میدان عرفات اور منٰی میں جہاں تمام قبائل عرب کا اجتماع تھا یہ اعلان کرادیا اور یہ بھی ظاہر تھا کہ اس عظیم الشان مجمع کی معرفت پورے عرب میں میں اس حکم کا مشتہر ہوجانا لازمی تھا۔ پھر احتیاطًا حضرت علی کی معرفت یمن میں بالتخصیص اس کا اعلان کرادیا۔ اس اعلان عام کے بعد صورت حال یہ ہوگئی کہ پہلی جماعت یعنی مشرکین مکہ کو اشھر حرم کے خاتمہ یعنی محرم 10 ہجری کے ختم تک اور دوسری جماعت کو رمضان 10 ہجری تک اور تیسری چوتھی جماعتوں کو 10 ربیع الثانی 10 ہجری تک حدود سے خارج ہوجانا چاہئے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے وہ مستحق قتال ہے۔ اس طرح اگلے سال کے زمانہ حج تک کوئی کافر داخل حدود نہ رہنے پائے گا جس کا ذکر سورة توبہ کی اٹھائیسویں آیت میں آئے گا جس میں ارشاد ہے (آیت) فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ یعنی یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ جاسکیں گے۔ اور حدیث میں رسول کریم ﷺ کے ا رشاد لا یحجن بعد العام مشرک کا یہی مطلب ہے سورة توبہ کی ابتدائی پانچ آیتوں کی تفسیر واقعات کی روشنی میں سامنے آچکی۔ مذکورہ پانچ آیات سے متعلق چند مسائل اور فوائد اول یہ کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم ﷺ نے قریش مکہ اور دوسرے دشمن قبائل کے ساتھ جو معاملہ عفو و درگزر اور رحم و کرم کا فرمایا اس نے عملی طور پر مسلمانوں کو یہ اخلاقی درس دیا کہ جب تمہارا کوئی دشمن تمہارے قابو میں آجائے اور تمھاے سامنے عاجز ہوجائے تو اس سے گذشتہ عداوتوں اور ایذاؤں کا انتقام نہ لو بلکہ عفو و کرم سے کام لے کر اسلامی اخلاق کا ثبوت دو۔ اگرچہ ایسا کرنا اپنے طبعی جذبات کو کچلنا ہے لیکن اس میں چند عظیم فائدے ہیں۔ اول خود اپنے لئے کہ انتقام لے کر اپنا غصہ اتار لینے سے وقتی طور پر اگرچہ نفس کو کچھ راحت محسوس ہو لیکن یہ راحت فنا ہونے والی ہے اور اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے درجات عالیہ جو اس کو ملنے والے ہیں وہ اس سے ہر حیثیت میں زیادہ بھی ہیں اور دائمی بھی اور عقل کا تقاضا یہی ہے کہ دائمی کو فانی پر ترجیح دے، دوسرے یہ کہ دشمن پر قابو پانے کے بعد اپنے غصہ کے جذبات کو دبا دینا اس کا ثبوت ہے کہ ان کی لڑائی اپنے نفس کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے لئے تھی اور یہی وہ اعلی مقصد ہے جو اسلامی جہاد اور عام بادشاہوں کی جنگ میں امتیاز اور جہاد و فساد میں فرق کرنے والا ہے کہ جو لڑائی اللہ کے لئے اور اس کے احکام جاری کرنے کے لئے ہو وہ جہاد ہے ورنہ فساد۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ دشمن جب مقہور و مغلوب ہونے کے بعد ان اخلاق فاضلہ کا مشاہدہ کرے گا تو شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو اسلام اور مسلمانوں سے محبت پیدا ہوگی جو اس کے لئے کلید کامیابی ہے اور یہی جہاد کا اصل مقصد ہے۔ کفار سے عفو و درگزر کے یہ معنی نہیں کہ ان کے ضرر سے بچنے کا اہتمام بھی نہ کیا جائے (2) دوسرا مسئلہ جو آیات مذکورہ سے سمجھا گیا یہ ہے کہ عفو و کرم کے یہ معنی نہیں کہ دشمنوں کے شر سے اپنی حفاظت نہ کرے اور ان کو ایسا آزاد چھوڑ دے کہ وہ پھر ان کو نقصان اور ایذاء پہنچاتے رہیں۔ بلکہ عفو و کرم کے ساتھ تقاضائے عقل یہ ہے کہ پچھلے تجربوں سے آئندہ زندگی کے لئے سبق حاصل کرے اور ان تمام رخنوں کو بند کرے جہاد سے یہ خود دشمنوں کی زد میں آسکے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ کا حکیمانہ ارشاد ہے لا یلدغ المرء من حجر واحد مرتین۔ یعنی عقلمند آدمی ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔ جس سوراخ سے ایک مرتبہ کسی زہریلے جانور نے اس کو کاٹا ہے اس میں دوبارہ ہاتھ نہیں دیتا۔ 9 ہجری کے قرآنی اعلان براءت اور مشرکین کو مہلت و اطمینان کے ساتھ حدود حرم خالی کردینے کی ہدایات اسی حکمت عملی کا ثبوت ہیں۔ (3) تیسرا فائدہ سورة توبہ کی ابتدائی آیات سے یہ معلوم ہوا کہ کمزور قوموں کو بلا مہلت کسی جگہ سے نکل جانے کا حکم یا ان پر یکبارگی حملہ بزدلی اور غیر شریفانہ فعل ہے۔ جب ایسا کرنا ہو تو پہلے سے اعلان عام کردیا جائے اور ان کو اس کی پوری مہلت دی جائے کہ وہ اگر ہمارے قانون کو تسلیم نہیں کرتے تو آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں بسہولت جاسکیں۔ جیسا کہ مذکورہ آیتوں میں 9 ہجری کے اعلان عام اور اس کے بعد تمام جماعتوں کو مہلت دینے کے احکام سے واضح ہوا۔ (4) چوتھا مسئلہ آیات مذکورہ سے یہ معلوم ہوا کہ کسی قوم کے ساتھ معاہدہ صلح کرلینے کے بعد اگر میعاد سے پہلے اس معاہدہ کو ختم کردینے کی ضروری پیش آجائے تو اگرچہ چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت ہے مگر بہتر یہی ہے کہ معاہدہ کو اس کی میعاد تک پورا کردیا جائے جیسا کہ سورة توبہ کی چوتھی آیت میں بنو ضمرہ اور بنو مدلج کا معاہدہ نو مہینہ تک پورا کرنے کا حکم آیا ہے۔ (5) پانچواں مسئلہ ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دشمنوں کے ساتھ ہر معاملہ میں اس کا خیال رہنا چاہئے کہ مسلمانوں کی دشمنی ان کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے کافرانہ عقائد و خیالات کے ساتھ ہے جو انھیں کے لئے دنیا و آخرت کی بربادی کے اسباب ہیں۔ اور مسلمانوں کی ان سے مخالفت بھی درحقیقت ان کی ہمدردی اور خیر خواہی پر مبنی ہے۔ اسی لئے جنگ و صلح کے ہر مقام پر ان نصیحت و خیر خواہانہ فہمائش کسی وقت نہ چھوڑنا چاہئے۔ جیسا کہ ان آیتوں میں جابجا اس کا ذکر ہے کہ اگر تم اپنے خیالات سے تائب ہوگئے تو یہ تمہارے لئے فلاح دنیا و آخرت ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ اگر تائب نہ ہوئے تو صرف یہی نہیں کہ تم دنیا میں قتل و غارت کئے جاؤ گے جس کو بہت سے کافر اپنا قومی کارنامہ سمجھ کر اختیار کرلیتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ رکھو کہ مرنے کے بعد بھی عذاب سے نجات نہ پاؤ گے۔ مذکورہ آیتوں میں اعلان براءت کے ساتھ ہمدردانہ فہمائش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے کچھ قصور نہ کیا تمہارے ساتھ اور مدد نہ کی تمہارے مقابلہ میں کسی کی سو ان سے پورا کردو ان کا عہد ان کے وعدہ تک، بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے۔

(6) چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ چوتھی آیت میں جہاں مسلمانوں کو میعاد صلح کے ختم ہونے تک عہد کو پورا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ آیت کو اس جملہ پر ختم کیا گیا ہے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ پورا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں۔ عام قوموں کی طرح اس میں حیلے اور تاویلیں نکال کر خلاف ورزی کی راہ نہ ڈھونڈیں۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب گزر جائیں مہینے پناہ کے تو مارو مشرکوں کو جہاں پاؤ اور پکڑو اور گھیرو اور بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں، پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰة تو چھوڑ دو ان کا رستہ، بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔

(7) ساتواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ جب صحیح مقصد کے لئے کسی قوم سے جنگ چھڑ جائے تو پھر ان کے مقابلہ کے لئے ہر طرح کی قوت پورے طور پر استعمال کرنا چاہئے اس وقت رحم دلی یا نرمی درحقیقت رحم دلی نہیں بلکہ بزدلی ہوتی ہے۔ (8) آٹھواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کسی غیر مسلم کے مسلمان ہوجانے پر اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے۔ ایک توبہ دوسرے اقامت صلوٰة تیسرے ادائے زکوٰة جب تک اس پر عمل نہ ہو محض کلمہ پڑھ لینے سے ان کے ساتھ جنگ بند نہ کی جائے گی۔ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جن لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا ان کے مقابلہ پر صدیق اکبر نے جہاد کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال فرما کر تمام صحابہ کو مطمئن کردیا تھا۔ (9) نواں مسئلہ ان آیات میں یہ ہے کہ (آیت) يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ سے کیا مراد ہے۔ اس میں حضرات مفسرین کے مختلف اقوال ہیں حضرت عبداللہ بن عباس، فاروق اعظم، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر ؓ اجمعین وغیرہ نے فرمایا کہ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ سے مراد یوم عرفہ ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے الحج عرفۃ (ابوداؤد۔ ترمذی)۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد یوم النحر یعنی ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے۔ حضرت سفیان ثوری اور بعض دوسرے ائمہ نے ان سب اقوال کو جمع کرنے کے لئے فرمایا کہ حج کے پا نچوں دن يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ کا مصداق ہیں جن میں عرفہ اور یوم النحر دونوں داخل ہیں اور لفظ یوم مفرد لانا اس محاورہ کے مطابق ہے جیسے غزوہ بدر کے چند ایام کو قرآن کریم میں یوم الفرقان کے مفرد نام سے تعبیر کیا ہے۔ اور عرب کی عام جنگوں کو لفظ یوم ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے اگرچہ ان میں کتنے ہی ایام صرف ہوئے ہوں جیسے یوم بعاث، یوم احد وغیرہ اور چونکہ عمرہ کو حج اصغر یعنی چھوٹا حج کہا جاتا ہے اس سے ممتاز کرنے کے لئے حج کو حج اکبر کہا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآنی اصطلاح میں ہر سال کا حج حج اکبر ہی ہے۔ عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جس سال عرفہ بروز حمبعہ واقع ہو صرف وہ ہی حج اکبر ہے اس کی اصلیت اس کے سوا نہیں ہے کہ اتفاقی طور پر جس سال رسول کریم ﷺ کا حجة الوداع ہوا ہے اس میں عرفہ بروز جمعہ ہوا تھا۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے مگر آیت مذکورہ کے مفہوم سے اس کا تعلق نہیں۔ امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ایام حج کو حج اکبر فرمانے سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ ایام حج میں عمرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ان ایام کو قرآن کریم نے حج اکبر کے لئے مخصوص فرما دیا ہے۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ سن لے کلام اللہ کا پھر پہنچا دے اس کو اس کی امن کی جگہ، یہ اس واسطے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔

خلاصہ تفسیر اور اگر کوئی شخص مشرکین میں سے (زمانہ اباحت قتل میں بعد ختم میعاد امن کے توبہ و اسلام کے فوائد و برکات سن کر اس طرف راغب ہو اور حقیقت و حقّیت اسلام کی تلاش کی غرض سے آپ کے پاس آکر) آپ سے پناہ کا طالب ہو (تاکہ اطمینان سے سن سکے اور سمجھ سکے) تو (ایسی حالت میں) آپ اس کو پناہ دیجئے تاکہ وہ کلام الہٰی (مراد مطلق دلائل دین حق کے ہیں) سن لے پھر (اس کے بعد) اس کو اس کی امن کی جگہ میں پہنچا دیجئے (یعنی پہنچنے دیجئے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرلے) یہ حکم (اتنی پناہ دینے کا) اس سبب سے (دیا جاتا) ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ پوری خبر نہیں رکھتے (اس لئے قدرے مہلت دینا ضروری ہے۔ جماعت اول نے جو نقض عہد کیا تھا ان کے نقض عہد سے پہلے بطور پیشین گوئی کے فرماتے ہیں کہ) ان مشرکین (قریش) کا عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے (قابل رعایت) رہے گا (کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسرا شخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی۔ مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑ دیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی) مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (یعنی حرم) کے نزدیک عہد لیا ہے (مراد دوسری جماعت ہے جن کا استثناء اوپر بھی (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ الخ میں آچکا ہے یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد کو قائم رکھیں گے) سو جب تک یہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں (یعنی عہد نہ توڑیں) تم بھی ان سے سیدھی طرح رہو (اور مدت عہد کی ان سے پوری کردو چناچہ زمانہ نزول براءت میں اس مدت میں نو ماہ باقی رہے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی) بلا شبہ اللہ تعالیٰ (بدعہدی سے) احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں (پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاؤ گے یہ استثناء کرکے پھر عود ہے مضمون متعلق جماعت اول کی طرف کہ) کیسے (ان کا عہد قابل رعایت رہے گا یعنی وہ لوگ عہد پر کب قائم رہیں گے) حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا (کیونکہ ان کی یہ صلح مجبوری اور خوف جہاد سے ہے دل سے نہیں پس) یہ لوگ تم کو (صرف) اپنی زبانی باتوں سے راضی کررہے ہیں اور ان کے دل (ان باتوں کو) نہیں مانتے (پس جب دل سے اس عہد کے پورا کرنے کا عزم نہیں ہے تو کیا پورا ہوگا) اور ان میں زیادہ آدمی شریر ہیں (کہ عہد پورا کرنا نہیں چاہتے اور اگر ایک آدھ پورا کرنا بھی چاہتا ہو تو زیادہ کے سامنے ایک دو کی کب چلتی ہے اور وجہ ان کے شریر ہونے کی یہ ہے کہ) انہوں نے احکام الہٰیہ کے عوض (دنیا کی) متاع ناپائیدار کو اختیار کر رکھا ہے (جیسا کہ کفار کی حالت ہوتی ہے کہ دین کو چھوڑ کر دنیا کو اس پر ترجیح دیتے ہیں جب دنیا زیادہ محبوب ہوگی تو جب عہد شکنی میں دنیوی غرض حاصل ہوتی نظر آئے گی اس میں کچھ باک نہ ہوگا بخلاف اس شخص کے جو دین کو ترجیح دیتا ہے وہ احکام الہٰیہ اور وفائے عہد وغیرہ کا پابند ہوگا) سو (اس ترجیح دنیا علی الدین کی وجہ سے) یہ لوگ اللہ کے (سیدھے) راستہ سے (جس میں وفائے عہد بھی داخل ہے) ہٹے ہوئے ہیں (اور) یقینا یہ ان کا عمل بہت ہی برا ہے (اور ہم نے جو اوپر کہا ہے لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ الخ سو اس میں تمہاری کچھ تخصیص نہیں ان کی تو یہ حالت ہے کہ) یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں (بھی) نہ قرابت کا پاس کریں اور نہ قول وقرار کا اور یہ لوگ (خصوص اس باب میں) بہت ہی زیادتی کر رہے ہیں سو (جب ان کے عہد پر اعتماد و اطمینان نہیں بلکہ احتمال عہد شکنی کا بھی ہے جیسا کہ اس کی جانب مخالف کا بھی احتمال ہے اس لئے ہم ان کے بارے میں مفصل حکم سناتے ہیں کہ) اگر یہ لوگ (کفر سے) تو بہ کرلیں (یعنی مسلمان ہوجائیں) اور (اس اسلام کو ظاہر بھی کردیں مثلا) نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰة دینے لگیں تو (پھر ان کی عہد شکنی وغیرہ پر اصلا نظر نہ ہوگی خواہ انہوں نے کچھ ہی کیا ہو اسلام لانے سے) وہ تمہارے دینی بھائی ہوجائیں گے (اور پچھلا کیا ہوا سب معاف ہوجائے گا) اور ہم سمجھدار لوگوں (کو بتلانے) کے لئے احکام کو خوب تفصیل سے بیان کرتے ہیں (چناچہ اس مقام پر بھی ایسا ہی کیا گیا)۔ معارف و مسائل سورة توبہ کی ابتدائی پانچ آیتوں میں اس کا ذکر تھا کہ فتح مکہ کے بعد مکہ اور اس کے اطراف کے تمام مشرکین و کفار کو جان و مال کا عام امان دے دیا گیا مگر ان کی سابقہ غداری اور عہد شکنی کے تجربہ کی بنا پر آئندہ کے لئے ان سے کوئی معاہدہ نہ کیا جانا طے ہوگیا۔ اس قرارداد کے باوجود جن لوگوں سے کوئی معاہدہ اس سے پہلے ہوچکا تھا اور انہوں نے عہد شکنی نہیں کی تو ان کا معاہدہ ختم میعاد تک پورا کرنے کے احکام ان آیات میں نازل ہوئے۔ اور جن سے کوئی معاہدہ نہیں تھا یا کسی معین میعاد کا معاہدہ نہیں تھا ان کے ساتھ بھی یہ رعایت کی گئی کہ ان کو فوری طور پر مکہ چھوڑ دینے کے حکم کے بجائے چار مہینہ کی وسیع مہلت دے دی گئی کہ اس عرصہ میں وہ مکہ چھوڑ کر جہاں مناسب سمجھیں سہولت و اطمینان کے ساتھ چلے جائیں۔ یا اگر اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہوچکی ہے تو مسلمان ہوجائیں۔ ان احکام کا نتیجہ یہ تھا کہ سال آئندہ تک مکہ مکرمہ سہولت کے ساتھ ان سب غدار مشرکین سے خالی ہوجائے اور چونکہ یہ خالی کرنا بھی کسی انتقامی جذبہ سے نہیں بلکہ مسلسل تجربوں کے بعد اپنی حفاظت کے پیش نظر عمل میں لایا گیا تھا اس لئے ان کی اصلاح و خیر خواہی کا دروازہ اب بھی کھلا رکھا گیا۔ جس کا ذکر چھٹی آیت میں ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تو آپ کو پناہ دینی چاہئے تاکہ وہ آپ کے قریب آکر اللہ کا کلام سن سکے اور اسلام کی حقانیت کو سمجھ سکے اور صرف یہی نہیں کہ وقتی طور پر اس کو پناہ دے دی جائے بلکہ جب وہ اپنے اس کام سے فارغ ہوجائے تو اپنی حفاظت اور نگرانی میں اس کو اس مقام تک پہنچانا بھی مسلمانوں کے ذمہ ہے جہاں یہ اپنے آپ کو محفوظ و مطمئن سمجھتا ہے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ لوگ پوری خبر نہیں رکھتے قریب آکر باخبر ہو سکتے ہیں۔ اس آیت سے بھی چند مسائل اور فوائد حاصل ہوئے جن کو امام ابوبکر جصاص نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ حقانیت اسلام کو دلائل کے ساتھ سمجھانا علماء دین کا فرض ہے اول یہ کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی کافر مسلمانوں سے اس کا مطالبہ کرے کہ مجھے اسلام کی حقانیت دلیل سے سمجھاؤ تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کا مطالبہ پورا کریں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص اسلام کی تحقیق اور معلومات حاصل کرنے کے لئے ہمارے پاس آئے تو ہم پر واجب ہے کہ اس کو اجازت دیں اور اس کی حفاظت کریں۔ اس کو کسی قسم کی تکلیف یا نقصان پہنچانا جائز نہیں۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ اس کے آنے کا مقصد اللہ کا کلام سننا اور اسلام کی تحقیق کرنا ہو اور اگر کوئی دوسری غرض تجارت وغیرہ ہو تو وہ مسلمانوں کے مصالح اور حاکم مسلمین کی صوابدید پر موقوف ہے مناسب سمجھے تو اجازت دے ورنہ اختیار ہے۔ غیر مسلم جو دارالاسلام کے باشندے نہ ہوں ان کو ضرورت سے زائد دارالاسلام میں ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے تیسرے یہ کہ غیر مسلم حربی جس کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہ ہو اس کو ضرورت سے زیادہ ٹھہرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ آیت مذکورہ میں پناہ دینے اور ٹھہرانے کی یہ حد مقرر کردی گئی ہے (آیت) حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ۔ یعنی اس کو اپنے یہاں اتنا ٹھہراؤ کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ چوتھے یہ کہ مسلمان حاکم و امیر کے فرائض میں سے ہے کہ جب کوئی حربی غیر مسلم کسی ضرورت کی بنا پر ہم سے اجازت (ویزا) لے کر ہمارے ملک میں داخل ہو تو اس کے حالات پر نظر رکھے اور جب وہ اپنا کام پورا کرچکے اس کو حفاظت کے ساتھ واپس کردے۔ ساتویں آٹھویں نویں دسویں چار آیتوں میں اس اعلان برأت کی حکمت کا بیان ہے جو سورة توبہ کی ابتدائی آیات میں ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں عہد شکنی کرنے والے مشرکین کی طبعی خسّت اور مسلمانوں سے بغض وعناد کی شرت کا ذکر کرکے یہ بتلایا گیا ہے کہ ان سے وفاء عہد کی امید رکھنا ہی غلط ہے۔ ارشاد فرمایا کہ بجز چند لوگوں کے جن سے مسجد حرام کے پاس تمہارا معاہدہ ہوا تھا ان مشرکین کا کوئی عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک قابل رعایت کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ان کا یہ حال ہے کہ اگر ان کو کسی وقت بھی ذرا موقع مل جائے تو وہ تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت داری کی رعایت کریں نہ عہد و پمیان کی اور وجہ اس کی یہ ہے کہ لوگ معاہدہ کرنے کے وقت بھی دل میں اس کے پورا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ صرف الفاظ سے تمہیں خوش کرنا چاہتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ فاسق یعنی عہد شکن غدار ہیں۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

کیونکر ہو وے مشرکوں کے لئے عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس، سو جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو، بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے۔

کفار کے مقابلہ میں بھی سچائی پر قائم رہنے اور ان کے متعلق مبالغہ آمیزی سے پرہیز کرنے کی تعلیمقرآن کریم کے اس بیان نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ اپنے دشمن مخالفین کے معاملہ میں بھی جب کوئی گفتگو آئے تو سچائی اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں مبالغہ آمیزی سے کام نہ لیں جیسا کہ ان آیات میں مشرکین مکہ کے بارے میں اس کی پوری رعایت کی گئی ہے کہ اگرچہ معدودے چند لوگوں کے سوا سبھی نے عذر و عہد شکنی کی تھی اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں مگر قرآن کریم نے (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام فرما کر ان لوگوں کا استثناء کردیا جنہوں نے عہد شکنی نہیں کی اور یہ حکم دیا کہ جب تک وہ استقامت اور وفاء عہد پر قائم رہیں تم بھی عہد پر قائم رہو دوسرے لوگوں کی خیانت سے متاثر ہو کر ان کے عہد کو نہ توڑو۔
Ayahs 9:8–9

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیونکر رہے صلح اور اگر وہ تم پر قابو پائیں تو نہ لحاظ کریں تمہارے قرابت کا اور نہ عہد کا، تم کو راضی کردیتے ہیں اپنے منہ کی بات سے اور ان کے دل نہیں مانتے، اور اکثر ان میں بدعہد ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

بیچ ڈالے انہوں نے اللہ کے حکم تھوڑی قیمت پر پھر روکا اس کے رستہ سے، برے کام ہیں جو وہ لوگ کر رہے ہیں۔

اس کے بعد عہد شکنی کرنے والوں کا جہاں یہ حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں میں شروع ہی سے خیانت تھی وفائے عہد کا ارادہ ہی نہ تھا یہاں بھی اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ فرما کر اشارہ کردیا کہ ان میں بھی سب کا یہ حال نہیں بعض شریف لوگ ایسے بھی ہیں جو عہد پر قائم رہنا چاہتے تھے مگر دوسروں کے سامنے ان کی بات نہ چلی۔ یہ وہی مضمون ہے جس کی ہدایت قرآن کریم نے دوسری جگہ صاف لفظوں میں اس طرح دی ہے (آیت) لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ یعنی کسی قوم کی عداوت تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کو چھوڑ بیٹھو۔ اس کے بعد نویں آیت میں ان غدار مشرکین کی غداری کی علت اور ان کے مرض کا سبب بیان فرما کر ان کو بھی ایک ہدایت نامہ دے دیا کہ اگر یہ غور کریں تو اپنی اصلاح کرلیں اور عام مسلمانوں کو بھی متنبہ کردیا کہ جس سبب سے یہ لوگ غدر و خیانت میں مبتلا ہوئے اس سبب سے پورے طور پر پرہیز کو اپنا شعار بنالیں۔ اور وہ سبب ہے حب دنیا کہ دنیا کے مال و متاع کی محبت نے ان کو اندھا کردیا ہے تھوڑے سے پیسوں کے بدلہ میں اللہ کی آیات اور اپنے ایمان کو بیچ ڈالتے ہیں۔ اور ان کا یہ کردار نہایت برا ہے۔ دسویں آیت میں انھیں لوگوں کی انتہائی کجروی کا یہ بیان ہے (آیت) لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤ ْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے عہد کرنے والے مسلمانوں سے غداری کی اور ان کی قرابت اور عہد و پیمان کو پیچھے ڈال دیا بلکہ ان کا حال یہ ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں نہ یہ قرابت کی رعایت کرنے والے ہیں نہ کسی عہد و پیمان کی۔ مشرکین کے مذکورہ حالات کا طبعی تقاضا یہ ہوسکتا تھا کہ مسلمان ان سے ہمیشہ کے لئے بیزار ہوجائیں۔ اور کسی حالت میں بھی ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اسی لئے قرآنی عدل و انصاف نے گیا رھویں آیت میں یہ ہدایت دے دی۔
Ayah 9:10

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

نہیں لحاظ کرتے کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا اور نہ عہد کا، اور وہی ہیں زیادتی پر،

(آیت) فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۔ یعنی اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو اب یہ بھی تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اس میں بتلا دیا کہ کوئی کیسا ہی دشمن ہو اور کتنی ہی ایذاء اس نے پہنچائی ہو جب وہ مسلمان ہوگیا تو جس طرح اللہ تعالیٰ اس کے سب پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں، مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ پچھلے سب معاملات کو دل سے بھلا دیں اور آج سے ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ تعلق کے حقوق ادا کریں۔ اسلام برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں اس آیت نے واضح کردیا کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں اول کفر و شرک سے توبہ دوسرے نماز تیسرے زکوٰة۔ کیونکہ ایمان و توبہ تو ایک امر مخفی ہے جس کی حقیقت کا عام مسلمانوں کو علم نہیں ہوسکتا اس لئے اس کی دو ظاہری علامتوں کو بیان کردیا گیا یعنی نماز اور زکوٰة۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت نے اہل قبلہ مسلمانوں کے خون کو حرام کردیا، یعنی جو لوگ نماز، زکوٰة کے پابند ہوں اور اسلام کے خلاف کوئی قول و فعل ان کا ثابت نہ ہو وہ تمام احکام میں مسلمان سمجھے جائیں گے، اگرچہ ان کے دل میں صحیح ایمان نہ ہو، یا نفاق ہو۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے آنحضرت ﷺ کے بعد زکوٰة سے انکار کرنیوالوں پر جہاد کرنے کے لئے اسی آیت سے استدلال فرما کر صحابہ کرام کو مطمئن کیا تھا (ابن کثیر)
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

سو اگر توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیتے رہیں زکوٰة تو تمہارے بھائی ہیں حکم شریعت میں، اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں حکموں کو جاننے والے لوگوں کے واسطے۔

آخر آیت میں معاہدین اور تائبین سے متعلقہ احکام مذکورہ کی پابندی کی تاکید کرنے کیلئے ارشاد فرمایا (آیت) وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ ، یعنی ہم سمجہدار لوگوں کے لئے احکام کو خوب تفصیل سے بیان کرتے ہیں“۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگاویں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آویں۔

خلاصہ تفسیر اور اگر وہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں (عہدوں) کو توڑ ڈالیں (جیسا کہ انکی حالت سے غالب ہے اور (عہد توڑ کر ایمان بھی نہ لائیں بلکہ اپنے کفر پر قائم رہیں جسکا ایک اثر یہ ہے کہ) تمہارے دین (اسلام) پر طعن (و اعتراض) کریں تو (اس حالت میں) تم لوگ اس قصد سے کہ یہ (اپنے کفر سے) باز آجائیں، ان پیشوایان کفر سے (خوب) لڑو (کیونکہ اس صوت میں) انکی قسمیں (باقی) نہیں رہیں (یہاں تک قبل نقض پیشینگوئی ہوچکی، آگے بعد وقوع نقض کے قتال کی ترغیب ہے کہ) تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا (اور بنی بکر کی بمقابلہ خزاعہ کے مدد کی) اور رسول ﷺ کے جلا وطن کردینے کی تجویز کی، اور انہوں نے تم سے خود پہلے چھیڑ نکالی (کہ تمہاری طرف سے وفائے عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی انہوں نے بیٹھے بٹھائے خود ایک شوشہ چھوڑا، پس ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو) کیا ان سے (لڑنے میں) ڈرتے ہو (کہ ان کے پاس جمعیت زیادہ ہے سو (اگر یہ بات ہے تو ہرگز ان سے مت ڈرو کیونکہ) اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ تم ان سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو (اور ان سے ڈرنے کا یہ مقتضا ہے کہ ان کے حکم کے خلاف مت کرو اور وہ حکم دیتے ہیں قتال کا پس) ان سے لڑو اللہ تعالیٰ (کا وعدہ ہے کہ) ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور ان کو ذلیل (و خوار) کرے گا اور تم کو ان پر غالب کرے گا اور (ان کی اس تعذیب اور تمہاری نصرت سے) بہت سے (ایسے) مسلمانوں کے قلوب کو شفاء دے گا اور ان کے قلوب کے غیظ (و غضب) دور کردے گا (جو خود تاب مقابلہ کی نہیں رکھتے اور ان کی حرکات کو دیکھ کر دل ہی دل میں گھٹتے ہیں) اور (ان ہی کفار میں سے) جس پر (توجہ و فضل کرنا) منظور ہوگا اللہ تعالیٰ توجہ (بھی) فرمائے گا (یعنی مسلمان ہونے کی توفیق دے گا، چناچہ فتح مکہ میں بعضے لڑے اور ذلیل و مقتول ہوئے اور بعضے مسلمان ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں (کہ علم سے ہر ایک کا انجام کہ اسلام ہے یا کفر جانتے ہیں، اور اسی لئے اپنی حکمت سے احکام مناسبہ مقرر فرماتے ہیں اور تم جو لڑنے سے جی چراتے ہو گو بعضے ہی سہی تو) کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تم یوں ہی (اسی حالت پر) چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے (ایسے موقع پر) جہاد کیا ہو اور اللہ و رسول اور مؤمنین کے سوا کسی کو خصوصیت کا دوست نہ بنایا ہو (جس کے ظاہر ہونے کا اچھا ذریعہ ایسے موقع کا جہاد ہے جہاں مقابلہ اعزہ و اقاب سے ہو کہ پورا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کو چاہتا ہے اور کون برادری کو) اور اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے تمہارے سب کاموں کی (پس اگر جہاد میں چستی کرو گے یا سستی کرو گے اسی کے موافق تم کو جزا دے گا۔ معارف و مسائل قریش مکہ جن سے 6 ہجری میں بمقام حدیبیہ ایک معاہدہ التواء جنگ کا ہوا تھا ان کے متعلق سورة توبہ کی ابتدائی آیتوں میں بطور پیشگوئی کے یہ اطلاع دے دیگئی تھی کہ یہ لوگ اپنے معاہدہ پر قائم نہ رہیں گے جس کا ذکر سورة توبہ کی ساتویں آیت میں (آیت) كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ کے الفاظ میں گزر چکا ہے، اور پھر آٹھویں نویں دسویں آیتوں میں ان کی عہد شکنی کے اسباب کا بیان ہوا، گیارہویں آیت میں اس کا بیان آیا کہ عہد شکنی کے اس جرم عظیم کے بعد بھی اگر یہ لوگو مسلمان ہوجائیں اور اپنے اسلام کا اظہار نماز و روزہ کے ذریعہ کرنے لگیں تو پھر مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کے پچھلے جرائم کا کوئی اثر اپنے معاملات میں با قی نہ رکھیں، بلکہ ان کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور برادرانہ معاملات کریں، مذکورہ بارہویں آیت میں اس کا بیان ہے کہ پیشنگوئی کے مطابق جب یہ لوگ عہد شکنی کر ہی ڈالیں تو پھر ان کے ساتھ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ اس میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ، یعنی اگر یہ لوگ اپنے معاہدہ اور قسموں کو توڑ ڈالیں اور مسلمان بھی نہ ہوں بلکہ بدستور تمہارے دین اسلام پر طعن وتشنیع کرتے رہیں تو ان کفر کے پیشواؤں کے ساتھ جنگ کرو“۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ تقاضائے مقام اس جگہ بظاہر یہ تھا کہ فقاتلوھم فرمایا جاتا یعنی ان لوگوں سے قتال کرو، قرآن کریم نے اس جگہ مختصر ضمیر استعمال کرنے کے بجائے فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ فرمایا، ائمہ امام کی جمع ہے، معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اپنی عہد شکنی کی وجہ سے کفر کے امام اور قائد ہو کر اس کے مستحق ہوگئے کہ ان سے جنگ کی جائے، اس میں حکم قتال کی علت اور وجہ کا بھی بیان ہوگیا، اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ یہاں ائمة الکفر سے مراد قریش مکہ کے وہ سردار ہیں جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے اور جنگی تیاریوں میں لگے رہتے تھے، ان سے جنگ کرنے کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر فرمایا کہ اہل مکہ کی اصل طاقت کا سر چشمہ یہی لوگ تھے، اس کے علاوہ مسلمانوں کی قریبی رشتہ داری بھی انہی لوگوں سے تھی، جس کی وجہ سے اس کا خطرہ ہوسکتا تھا کہ ان کے معاملہ میں کوئی رعایت برتی جائے (مظہری) دارالاسلام میں غیر مسلم ذمیوں کو اسلام پر علمی تنقید کی تو اجازت ہے مگر طعن و تشینع کی نہیں (آیت) طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ کے لفظ سے بعض حضرات نے اس پر استدلال کیا ہے کہ مسلمانوں کے دین پر طعن وتشنیع کرنا عہد شکنی کرنے میں داخل ہے جو شخص اسلام اور شریعت اسلام پر طعنہ زنی کرے وہ مسلمانوں کا معاہدہ نہیں رہ سکتا، مگر باتفاق فقہاء اس سے مراد وہ طعن وتشنیع ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی اہانت اور تحقیر کے طور پر اعلانًا کی جائے، احکام و مسائل کی تحقیق میں کوئی علمی تنقید کرنا اس سے مستثنیٰ ہے اور لغت میں اس کو طعن وتشنیع کہتے بھی نہیں۔ اس لئے دارالاسلام کے غیر مسلم باشندوں کو علمی تنقید کی تو اجازت دی جاسکتی ہے، مگر اسلام پر طعنہ زنی اور تحقیر و توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی آیت میں فرمایا (آیت) اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ ، یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی قسم کوئی قابل اعتبار قسم نہیں، کیونکہ یہ لوگ قسم توڑنے اور عہد شکنی کرنے کے عادی ہیں، اور اس جمع کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی قسم توڑ دی تو اب مسلمانوں پر بھی ان کی قسم اور عہد کی کوئی ذمہ داری نہیں رہی۔ آخر آیت میں ہے (آیت) لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ ، تاکہ وہ باز آجائیں، اس آخری جملہ میں بتلا دیا کہ مسلمانوں کی جنگ و جہاد کا مقصد عام دنیا کے لوگوں کی طرح دشمن کو ستانا اور جوش انتقام کو فرو کرنا یا عام بادشاہوں کی طرح ملک گیری نہ ہونا چاہئے، بلکہ ان کی جنگ کا مقصد دشمنوں کی خیر خواہی اور ہمدردی اور یہ جذبہ ہونا چاہئے کہ وہ لوگ اپنی غلط روش سے باز آجائیں۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا نہیں لڑتے ایسے لوگوں سے جو توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول کو نکال دیں اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے، کیا ان سے ڈرتے ہو سو اللہ کا ڈر چاہئے تم کو زیادہ اگر تم ایمان رکھتے ہو،

اس کے بعد تیرہویں آیت میں مسلمانوں کو جہاد و قتال کی ترغیب کے لئے فرمایا کہ تم ایسی قوم کے ساتھ جنگ کے لئے کیوں تیار نہ ہوگے جس نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے نکالنے کا منصوبہ بنایا تھا، اور کہا تھا (آیت) لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ ، یعنی ایسا ضرور ہوگا کہ عزت و قوت والا کمزور ذلیل کو مدینہ سے نکال دے گا۔ ان کے نزدیک عزت والے وہ لوگ تھے اور مسلمانوں کو کمزور و ذلیل سمجھتے تھے، جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کے ہی قول کو اس طرح پورا کر دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے ان کو مدینہ سے نکال کر یہ ثابت کردیا کہ عزت والے مسلمان ہی ہیں اور کمزور ذلیل یہود تھے۔ دوسری وجہ ان سے جنگ کرنے کی یہ ارشاد فرمائی(آیت) وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، یعنی جنگ و قتال کی پہل انہی لوگوں کی طرف سے ہوئی، اب تو صرف مدافعانہ کارروائی ہے جو ہر فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔ پھر مسلمانوں کے دلوں سے ان لوگوں کا رعب دور کرنے کے لئے فرمایا (آیت) اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ ، یعنی کیا تم لوگ ان سے خوف کھاتے ہو، حالانکہ خوف اور ڈرنا صرف اللہ تعالیٰ سے چاہئے۔ جس کے عذاب کو کوئی طاقت ٹلا نہیں سکتی، آخر میں (آیت) اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ فرما کر بتلا دیا کہ غیر اللہ سے ایسا خوف کھانا جو احکام شرعیہ کی ادائیگی میں حائل ہوسکے کسی مومن مسلمان کا کام نہیں۔
Ayah 9:14

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

لڑو ان سے تا عذاب دے اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں اور رسوا کرے اور تم کو ان پر غالب کرے اور ٹھنڈے کرے دل مسلمان لوگوں کے،

چودھویں اور پندرہویں آیت میں بھی مسلمانوں کو جنگ و جہاد کی ترغیب ایک دوسرے عنوان سے دی گئی ہے، جس میں چند چیزیں بتلائی گئیں۔ اول یہ کہ اگر تم ان سے جنگ کے لئے تیار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی مدد تھمارے شامل حال ہوگی، اور یہ قوم اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق تو ہو ہی چکی ہے، مگر ان پر اللہ کا عذاب پچھلی قوموں کی طرح آسمان یا زمین سے نہیں آئے گا، بلکہ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے عذاب دیں گے۔ دوسری یہ کہ اس جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دلوں کو اس رنج و غم سے شفا عطا فرمائیں گے جو کفار کی طرف سے ان کو مسلسل پہونچتا رہا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان کی غداری اور عہد شکنی کے سبب جو غیظ و غضب مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا، انہی کے ہاتھوں ان کو عذاب دے کر ان کے غیظ کو دور فرمادیں گے۔ پچھلی آیت میں لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ فرما کر مسلمانوں کو اس کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کسی قوم سے اپنا غصہ اتارنے کے لئے نہ لڑیں، بلکہ ان کی اصلاح و ہدایت کو مقصد بنائیں، اس آیت میں یہ بتلا دیا کہ جب وہ اپنی نیت کو اللہ کے لئے صاف کرلیں اور محض اللہ کے لئے لڑیں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسی صورتیں بھی پیدا فرما دیں گے کہ ان کے غم و غصہ کا انتقام بھی خود بخود ہوجائے۔