Ayahs 9:71–72خلاصہ تفسیر
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں، نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) جسکی تفصیل وَعَدَ اللّٰهُ میں عنقریب آتی ہے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ قادر (مطلق) ہے (جزائے تام دے سکتا ہے) حکمت والا ہے (جزائے مناسب دیتا ہے، اب اس رحمت کا بیان ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا (وعدہ کر رکھا ہے) جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے اور (ان سب نعمتوں کے ساتھ) اللہ تعالیٰ کی رضا مندی (جو اہل جنت سے ہمیشہ ہمیشہ رہے گی، ان) سب (نعمتوں) سے بڑی چیز ہے یہ (جزائے مذکورہ) بڑی کامیابی ہے اے نبی ﷺ کفار (سے بالسنان) اور منافقین سے (باللسان) جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے (دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور (آخرت میں) انکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں منافقین کے حالات، ان کی سازشوں اور ایذاؤں اور ان کے عذاب کا بیان تھا، قرآنی اسلوب کے مطابق مناسب تھا کہ اس جگہ مومنین مخلصین کے حالات اور ان کے ثواب اور درجات کا بھی بیان آجائے، آیات مذکورہ میں اسی کا بیان ہے۔
یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اس موقع پر منافقین اور مومنین مخلصین کے حالات کا تقابل ذکر کیا گیا مگر ایک جگہ منافقین کے بارے میں تو یہ فرمایا کہ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ، اور اس کے مقابل مومنین کا ذکر آیا تو اس میں فرمایا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، اس میں اشارہ ہے کہ منافقین کے باہمی تعلقات اور روابط تو محض خاندانی اشتراک یا اغراض پر مبنی ہوتے ہیں نہ ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور نہ ان پر وہ ثمرات مرتب ہوتے ہیں جو دلی دوستی اور قلبی ہمدردی کے تعلق پر مرتب ہوتے ہیں، بخلاف مومنین کے کہ وہ ایک دوسرے کے مخلص دوست اور سچی ہمدرد ہوتے ہیں۔ (قرطبی)
اور چونکہ دوستی اور ہمدردی خالص اللہ کے لئے ہوتی ہے وہ ظاہراً و باطناً اور حاضر و غائب یکساں ہوتی ہے، ہمیشہ پا ئیدار رہتی ہے، مومن مخلص کی یہی علامت ہے، ایمان اور عمل صالح کا خاصہ ہے یہ کہ باہم دوستی اور محبت پیدا کرتا ہے، قرآن کریم کا ارشاد اسی کے متعلق ہے (آیت) سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کے پابند ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے آپس میں قلبی اور گہری دوستی پیدا فرما دیتے ہیں، آجکل ہمارے ایمان و عمل صالح ہی کی کوتاہی ہے کہ مسلمانوں کے باہم تعلقات کبھی ایسے نظر نہیں آتے، بلکہ اغراض کے تابع ہیں۔
Ayah 9:73(آیت) جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ، اس آیت میں کفار اور منافقین دونوں سے جہاد اور ان کے معاملہ میں شدت اختیار کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے، ظاہری کفار سے جہاد کا معاملہ تو واضح ہے، لیکن منافقین سے جہاد کا مطلب خود رسول اللہ ﷺ کے تعامل سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد سے مراد بزانی جہاد ہے کہ ان کو اسلام کی حقانیت سمجہنے کی طرف دعوت دیں تاکہ وہ اپنے دعوی اسلام میں مخلص ہوجائیں (قرطبی و مظہری)
(آیت) وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ لفظ غلظ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ مخاطب جس طرز عمل کا مستحق ہے اس میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، یہ لفظ رافت کے مقابل استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی رحمت اور نرم دلی کے ہیں۔
امام قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ غلظت استعمال کرنے سے عملی غلظت مراد ہے کہ ان پر احکام شرعیہ جاری کرنے میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، زبان اور کلام میں غلظت اختیار کرنا مراد نہیں، کیونکہ وہ سنت انبیاء کے خلاف ہے، وہ کسی سے سخت کلامی اور سب و شتم نہیں کرتے ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے
" اذا زنت امة احدکم فلیجلدھا الحد ولا یثرب علیہا " اگر تمہاری کوئی کنیز زنا کی مرتکب ہو تو اس کی سزا حد شرعی اس پر جاری کردو مگر زبانی ملامت اور طعن وتشنیع نہ کرو“ (قرطبی)
اور رسول اللہ ﷺ کے حال میں خود حق تعالیٰ نے فرمایا (آیت) وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ، یعنی اگر آپ سخت کلام سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ جاتے اور آنحضرت ﷺ کے تعامل میں بھی کہیں یہ ثابت نہیں کہ کفار و منافقین سے گفتگو اور خطاب میں کبھی غلظت اختیار فرمائی ہو۔
تنبیہافسوس کہ خطاب اور کلام میں غلظت جسکو کفار کے مقابلہ میں بھی اسلام نے اختیار نہیں کیا آجکل کے مسلمان دوسرے مسلمانوں کے بارے میں بیدھڑک استعمال کرتے ہیں اور بہت سے لوگ تو اس کو دین کی خدمت سمجھ کر خوش ہوتے ہیں۔ انا اللہ۔
Ayah 9:74خلاصہ تفسیر
وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات (مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیں) نہیں کہی حالانکہ یقناً انہوں نے کفر کی بات کہی تھی، (کیونکہ آپ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے کا کفر ہونا ظاہر ہے) اور (وہ بات کہہ کر) اپنے اسلام (ظاہری) کے بعد (ظاہر میں بھی) کافر ہوگئے (گو اپنے ہی مجمع میں سہی جس کی خبر مسلمانوں کو بھی ہوگئی اور اس سے عام طور پر کفر کھل گیا) اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی (کہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنا مگر ناکام رہے اور یہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے رزق خداوندی سے مال دار کردیا (اس احسان کا بدلہ ان کے نزدیک یہی ہوگا کہ برائی کریں) سو اگر (اس کے بعد بھی) توبہ کریں تو ان کے لئے (دونوں جہان میں) بہتر (اور نافع) ہوگا (چناچہ جلاس کو توبہ کی توفیق ہوگئی) اور اگر (توبہ سے) روگردانی کی (اور کفر و نفاق ہی پر جمے رہے) تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ) میں دردناک سزا دے گا (چناچہ عمر بھر بدنام اور پریشان اور خائف رہنا اور مرتے وقت مصیبت کا مشاہدہ کرنا یہ دنیوی عذاب ہے اور آخرت میں دوزخ میں جانا ظاہر ہی ہے) اور ان کا دنیا میں نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار (کہ عذاب سے بچالے اور جب دنیا ہی میں کوئی یار مددگار نہیں جہاں اکثر مدد ہوجاتی ہے تو آخرت میں تو بدرجہ اولی منفی ہوگا اور ان (منافقین) میں بعضے آدمی ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں (کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے عہد کرنا اور خدا سے عہد کرنا برابر ہے، اور وہ عہد یہ تھا کہ) اگر اللہ تعالیٰ ہم کو اپنے فضل سے (بہت سا مال) عطا فرما دے تو ہم (اس میں سے) خوب خیرات کریں اور ہم (اس کے ذریعہ سے) خوب نیک نیک کام کیا کریں، سو جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے (بہت سا) دے دیاتو اس میں بخل کرنے لگے، (کہ زکوٰة نہ دی) اور (اطاعت سے) روگردانی کرنے لگے اور وہ تو روگردانی کے (پہلے ہی سے) عادی ہیں سو اللہ تعالیٰ نے ان (کے اس فعل) کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق (قائم) کردیا، جو خدا کے پاس جانے کے دن تک (یعنی دم مرگ تک) رہے گا اس سبب سے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں خلاف کیا اور اس سبب سے کہ وہ (اس وعدہ میں شروع ہی میں) جھوٹ بولتے تھے (یعنی نیت ایفاء کی اس وقت بھی نہ تھی پس نفاق تو اس وقت بھی دل میں تھا جس کی فرع یہ کذب و اخلاف ہے، پھر اس کذب و اخلاف کے وقوع سے اور زیادہ مستحق غضب ہوئے، اور اس زیادہ غضب کا اثر یہ ہوا کہ وہ نفاق سابق اب دائمی اور غیر زائل ہوگیا کہ توبہ بھی نصیب نہ ہوگی، اسی حالت پر مر کر ابدالاباد جہنم میں رہنا نصیب ہوگا، اور باوجود کفر مضمر کے جو اسلام اور اطاعت کا اظہار کرتے ہیں تو) کیا اس (منافقین کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا راز اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام غیب کی باتوں کو خوب جانتے ہیں (اور اس لئے وہ ظاہری اسلام اور اطاعت ان کے کام نہیں آسکتے بالخصوص آخرت میں، پس سزائے جہنم ضروری ہے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ میں پھر منافقین کا تذکرہ ہے کہ وہ اپنی مجلسوں میں کلمات کفر کہتے رہتے ہیں، پھر اگر مسلمانوں کو اطلاع ہوگئی تو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی براءت ثابت کرتے ہیں، اس آیت کے شان نزول میں بغوی نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر ایک خطبہ دیا، جس میں منافقین کی بدحالی اور انجام بد کا ذکر فرمایا، حاظرین میں ایک منافق جلاس بھی موجود تھا، اس نے اپنی مجلس میں جا کر کہا کہ محمد ﷺ جو کچھ کہتے ہیں اگر وہ سچ ہے تو ہم گدھوں سے بھی زیادہ بدتر ہیں، اس کا یہ کلمہ ایک صحابی عامر بن قیس نے سن لیا تو کہا بیشک رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ سچ ہے اور تم واقعی گدھو سے بھی زیادہ بدتر ہو۔
جب رسول اللہ ﷺ سفر تبوک سے واپس مدینہ طیبہ پہنچنے تو عامر بن قیس نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کو سنایا، اور جلاس اپنے کہے سے مکر گیا، اور کہنے لگا کہ عامر بن قیس نے مجھ پر تہمت باندھی ہے، رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو حکم دیا منبر نبوی کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھائیں، جلاس نے بیدھڑک جھوٹی قسم کھالی کہ میں نے ایسا نہیں کہا، عامر جھوٹ بول رہے میں، حضرت عامر کا نمبر آیا تو انھوں نے بھی قسم کھائی اور پھر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھائے کہ یا اللہ آپ اپنے رسول پر بذریعہ وحی اس معاملہ کی حقیقت روشن فرما دیں، ان کی دعاء پر رسول اللہ ﷺ اور سب مسلمانوں نے آمین کہی، ابھی یہ لوگ اس جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے کہ جبرئیل امین وحی لے کر حاضر ہوگئے، جس میں آیت مذکورہ تھی۔
جلاس نے جب آیت سنی تو فورًا کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اب میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ غلطی مجھ سے ہوئی تھی، اور عامر بن قیس نے جو کچھ کہا وہ سچ تھا، مگر اسی آیت میں حق تعالیٰ نے مجھے توبہ کا بھی حق دید یا ہے، میں اب اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور بعد میں یہ اپنی توبہ پر قائم رہے، ان کے حالات درست ہوگئے (مظہری)
بعض حضرات مفسرین نے اسی طرح کے دوسرے واقعات اس کے شان نزول میں بیان فرمائے ہیں، خصوصاً اس لئے کہ اس آیت کا ایک جملہ یہ بھی ہے وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا یعنی انہوں نے ارادہ کیا ایک ایسے کام کا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت کسی ایسے واقعہ سے متعلق ہے جس میں منافقین نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش کی تھی، جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے، جیسے اسی غزوہ تبوک سے واپسی کا واقعہ معروف ہے کہ بارہ آدمی منافقین میں سے پہاڑ کی ایک گھاٹی میں اس غرض سے چھپ کر بیٹھے تھے کہ جب آپ یہاں پہونچیں تو یکبارگی حملہ کرکے آپ کو قتل کردیں، جبرئیل امین نے آپ کو خبر دے دیتو آپ اس راستہ سے ہٹ گئے، اور ان کی سازش خاک میں مل گئی۔
اور بعض دوسرے واقعات بھی منافقین کی طرف سے ایسے پیش آئے ہیں، مگر اس میں تضاد یا بعد نہیں کہ وہ سب ہی واقعات اس آیت میں مراد ہوں۔
Ayahs 9:75–76دوسری آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ ، بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، جو ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص ثعلبہ ابن حاطب انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست کی کہ آپ دعاء کریں کہ میں مالدار ہوجاؤ ں، آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو میرا طریقہ پسند نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں چاہتا تو مدینہ کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ پھرا کرتے، مگر مجھے ایسی مال داری پسند نہیں، یہ شخص چلا گیا، مگر دوبارہ پھر آیا اور پھر یہی درخواست اس معاہدہ کے ساتھ پیش کی کہ اگر مجھے مال مل گیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق پہنچاؤں گا، رسول اللہ ﷺ نے دعاء کردی جس کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ اس کی بکریوں میں بےپناہ زیادتی شروع ہوئی، یہاں تک کہ مدینہ کی جگہ اس پر تنگ ہوگئی، تو باہر چلا گیا، اور ظہر عصر کی دو نمازیں مدینہ میں آکر آپ کے ساتھ پڑہتا تھا، باقی نماز میں بھی جنگل میں جہاں اس کا یہ مال تھا وہیں ادا کرتا تھا۔
پھر انہی بکریوں میں اور زیادتی اتنی ہوگئی کہ یہ جگہ بھی تنگ ہوگئی، اور شہر مدینہ سے دور جا کر کوئی جگہ لی، وہاں سے صرف جمعہ کی نماز کے لئے مدینہ میں آتا اور پنجگانہ نمازیں وہیں پڑھنے لگا، پھر اس مال کی فراوانی اور بڑھی تو یہ جگہ بھی چھوڑنا پڑی، اور مدینہ سے بہت دور چلا گیا، جہاں جمعہ اور جماعت سب سے محروم ہوگیا۔
کچھ عرصہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے اس کا حال دریافت کیا تو لوگوں نے بتلایا کہ اس کا مال اتنا زیادہ ہوگیا کہ شہر کے قریب میں اس کی گنجائش ہی نہیں، اس لئے کسی دور جگہ پر جا کر اس نے قیام کیا ہے، اور اب یہاں نظر نہیں پڑتا، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا ویح ثعلبۃ، یعنی ثعلبہ پر افسوس ہے ثعلبہ پر افسوس ہے، ثعلبہ پر افسوس ہے، اتفاق سے اسی زمانہ میں آیت صدقات نازل ہوگئی، جس میں رسول اللہ ﷺ کے صدقات کا مکمل قانون لکھوا کردو شحصوں کو عامل صدقہ کی حیثیت سے مسلمانوں کے مویشی کے صدقات وصول کرنے کے لئے بھیج دیا، اور ان کو حکم دیا کہ ثعلبہ بن حاطب کے پاس بھی پہونچیں، اور بنی سلیم کے ایک اور شخص کے پاس جانے کا بھی حکم دیا۔
یہ دونوں جب ثعلبہ کے پاس پہنچنے اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان دکھایا، تو ثعلبہ کہنے لگا کہ یہ تو جزیہ ہوگیا، جو غیر مسلموں سے لیا جاتا ہے، اور پھر کہا کہ اچھا اب تو آپ جائیں جب واپس ہوں تو یہاں آجائیں، یہ دونوں چلے گئے۔
اور دوسرے شخص سلیمی نے جب آنحضرت ﷺ کا فرمان سنا تو اپنے مویشی اونٹ اور بکریوں میں جو سب سے بہتر جانور تھے، نصاب صدقہ کے مطابق وہ جانور لے کر خود ان دونوں قاصدان رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تو حکم یہ ہے کہ جانوروں میں اعلیٰ چھانٹ کر نہ لیں، بلکہ متوسط وصول کریں، اس لئے ہم تو یہ نہیں لے سکتے، سلیمی نے اصرار کیا کہ میں اپنی خوشی سے یہی پیش کرنا چاہتا ہوں، یہی جانور قبول کرلیجئے۔
پھر یہ دونوں حضرات دوسرے مسلمانوں سے صدقات وصول کرتے ہوئے واپس آئے تو پھر ثعلبہ کے پاس پہونچے، تو اس نے کہا کہ لاؤ وہ قانون صدقات مجھے دکھلاؤ پھر اس کو دیکھ کر یہی کہنے لگا کہ یہ تو ایک قسم کا جزیہ ہوگیا، جو مسلمانوں سے نہیں لینا چاہئے، اچھا اب تو آپ جائیں میں غور کروں گا پھر کوئی فیصلہ کرونگا۔
جب یہ دونوں حضرات واپس مدینہ طیبہ پہنچنے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے حالات پوچھنے سے پہلے ہی پھر وہ کلمہ دہرایا جو پہلے فرمایا تھا یا ویح ثعلبہ یا ویح ثعلبہ یا ویح ثعلبہ، یعنی ثعلبہ پر سخت افسوس ہے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا، پھر سلیمی کے معاملہ پر خوش ہو کر اس کے لئے دعا فرمائی، اس واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی، وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ ، یعنی ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو مال عطا فرماویں گے تو وہ صدقہ خیرات کریں گے، اور صالحین امت کی طرح سب اہل حقوق، رشتہ داروں اور غریبوں کے حقوق ادا کریں گے، پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے مال دیا تو بخل کرنے لگے، اور اللہ اور رسول کی اطاعت سے پھرگئے۔
Ayahs 9:77–78(آیت) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بد عملی اور بد عہدی کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں نفاق کو اور پختہ کردیا، کہ اب ان کو توبہ کی توفیق ہی نہ ہوگی۔
فائدہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال بد کی نحوست ایسی ہوتی ہے کہ توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، نعوذ با للہ منہ
ابن جریر نے حضرت ابو امامہ کی تفصیلی روایت جو ابھی ذکر کی گئی ہے اس کے آخر میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ثعلبہ کے لئے یا ویح ثعلبہ تین مرتبہ فرمایا تو اس مجلس میں ثعلبہ کے کچھ عزیز و اقارب بھی موجود تھے، یہ سن کر ان میں سے ایک آدمی فورًا سفر کر کے ثعلبہ کے پاس پہونچا، اور اس کو ملامت کی اور بتلایا کہ تمہارے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوگئی ہے، یہ سن کر ثعلبہ گھبرایا، اور مدینہ حاضر ہو کر درخواست کی کہ میرے صدقہ قبول کرلیا جائے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حق تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے، یہ سن کر ثعلبہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا اپنا عمل ہے، میں نے تمہیں حکم دیا تم نے اطاعت نہ کی، اب تمہارا صدقہ قبول نہیں ہوسکتا، ثعلبہ ناکام واپس ہوگیا، اور اس کے کچھ دن بعد ہی رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، اور صدیق اکبر خلیفہ ہوئے تو ثعلبہ صدیق اکبر کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہا کہ میرا صدقہ قبول کرلیجئے، صدیق اکبر نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ نے قبول نہیں کیا تو میں کیسے قبول کرسکتا ہوں۔
پھر صدیق اکبر کی وفات کے بعد ثعلبہ فاروق اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہی درخواست کی اور وہی جواب ملا جو صدیق اکبر نے دیا تھا، پھر حضرت عثمان غنی کے زمانہ خلافت میں ان سے درخواست کی انہوں نے بھی انکار کردیا، اور خلافت عثمان کے زمانہ میں ثعلبہ مرگیا، (نعوذ باللہ من سیئات الاعمال) (مظہری)
مسئلہیہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ثعلبہ تائب ہو کر حاضر ہوگیا تو اس کی توبہ کیوں قبول نہ کی گئی، وجہ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ اب بھی اخلاص کے ساتھ توبہ نہیں کر رہا ہے، اس کے دل میں نفاق موجود ہے، محض وقتی مصلحت سے مسلمانوں کو دھوکہ دے کر راضی کرنا چاہتا ہے، اس لئے قبول نہیں، اور جب آنحضرت ﷺ نے اس کو منافق قرار دے دیاتو بعد کے خلفاء کو اس کا صدقہ قبول کرنے کا حق نہیں رہا، کیونکہ زکوٰة کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے، البتہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چونکہ کسی شخص کے دل کا نفاق قطعی طور پر کسی کو معلوم نہیں ہوسکتا، اس لئے آئندہ کا حکم یہی ہے کہ جو شخص توبہ کرلے اور اسلام و ایمان کا اعتراف کرلے اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے خواہ اس کے دل میں کچھ بھی ہو (بیان القرآن)۔
Ayahs 9:79–80خلاصہ تفسیر
یہ (منافقین) ایسے ہیں کہ نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں (تھوڑا ہونے پر) طعن کرتے ہیں اور (بالخصوص) ان لوگوں پر (اور زیادہ) جن کو بجز محنت مزدوری (کی آمدنی) کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا (اور وہ بیچارے اسی مزدوری میں سے ہمت کر کے کچھ صدقہ نکال دیتے ہیں) یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں (یعنی مطلق طعن تو سب ہی پر کرتے ہیں کہ کیا تھوڑی سی چیز صدقہ میں لائے، اور ان محنت کش غریبوں سے تمسخر بھی کرتے ہیں کہ لو یہ بھی صدقہ دینے کے قابل ہوگئے) اللہ تعالیٰ ان کو تمسخر کا (تو خاص) بدلہ دے گا اور (ویسے مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے گا کہ) ان کے لئے (آخرت میں) دردناک سزا ہوگی، آپ خواہ ان منافقین کے لئے استغفار کریں، یا ان کے لئے استغفار نہ کریں (دونوں حال برابر ہیں کہ ان کو اس سے کوئی نفع نہیں ہوگا، انکی مغفرت نہیں کی جائے گی) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ (یعنی بکثرت) بھی استغفار کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو نہ بخشے گا، یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں کو (جو کبھی ایمان اور حق کی طلب ہی نہ کریں) ہدایت نہیں کیا کرتا (اس وجہ سے یہ عمر پھر کفر ہی پر قائم رہے، اسی پر مر گئے)۔
معارف و مسائل
پہلی آیت میں نفلی صدقات دینے والے مسلمانوں پر منافقین کے طعن وتشنیع کا ذکر ہے، صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابو مسعود نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا، اور ہمارا حال یہ تھا کہ ہم محنت مزدوری کرتے تھے (کوئی مال ہمارے پاس نہ تھا، اسی مزدوری سے جو کچھ ہمیں ملتا تھا اسی میں سے صدقہ بھی نکالتے تھے) چناچہ ابو عقیل نے آدھا صاع (تقریباً پونے دو سیر) صدقہ پیش کیا، دوسرا آدمی آیا اس نے اس سے کچھ زیادہ صدقہ کیا، منافقین ان پر طعن وتشنیع کرنے لگے کہ کیا حقیر اور ذرا سی چیز صدقہ میں لائے، اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کی ضرورت نہیں، اور جس نے کچھ زیادہ صدقہ کیا اس پر یہ الزام لگایا کہ اس نے ریاءً لوگوں کو دکھلانے کے لئے صدقہ کیا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ میں جزاء تمسخر کو تمسخر سے تعبیر کیا گیا ہے۔
دوسری آیت میں جو منافقین کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا گیا کہ آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں برابر ہے، اور کتنا ہی استغفار کریں ان کی مغفرت نہیں ہوگی، اس کا پورا بیان آگے آنے والی آیت لَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ کے تحت آئے گا۔
Ayah 9:81خلاصہ تفسیر
یہ پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے رسول اللہ ﷺ کے (جانے کے) بعد اپنے بیٹھے رہنے پر اور ان کو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنا ناگوار ہوا (دو وجہ سے اول کفر دوسرے آرام طلبی) اور (دوسروں کو بھی) کہنے لگے کہ تم (ایسی تیز) گرمی میں (گھر سے) مت نکلو آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ (اس سے بھی) زیادہ (تیز اور) گرم ہے (سو تعجب ہے کہ اس گرمی سے تو بچتے ہو اور جہنم میں جانے کا خود سامان کر رہے ہو، کہ کفر و مخالفت کو نہیں چھوڑتے) کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجہتے، سو (ان امور مذکورہ کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں (تھوڑے دنوں ہنس (کھیل) لیں اور (پھر آخرت میں) بہت دنوں (یعنی ہمیشہ) روتے رہیں (یعنی ہنسنا تھوڑے دنوں کا ہے پھر رونا ہمیشہ ہمیشہ کا) ان کاموں کے بدلہ میں جو کچھ (کفر و نفاق و خلاف وغیرہ) کیا کرتے تھے (جب ان کا حال معلوم ہوگیا) تو اگر خدا تعالیٰ آپ کو (اس سفر سے مدینہ کو صحیح وسالم) ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے (گروہ اس لئے کہا کہ ممکن ہے کہ بعض اسوقت تک مر جائیں، یا کوئی کہیں چلا جائے اور) پھر یہ لوگ (براہ خوشامد و دفع الزام سابق کسی جہاد میں آپ کے ساتھ) چلنے کی اجازت مانگیں (اور دل میں اس وقت بھی یہی ہوگا کہ عین وقت پر کچھ بہانہ کرسکیں گے) تو آپ یوں کہہ دیجئے کہ (اگرچہ اس وقت دنیا سازی کے طور پر باتیں بنا رہے ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارا مافی الضمیر بتلا دیا ہے، اس لئے نہایت وثوق سے کہتا ہوں کہ) تم کبھی بھی میرے ساتھ (جہاد میں) نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ ہو کر کسی دشمن (دین) سے لڑو گے (جو کہ اصلی مقصود ہے چلنے سے کیونکہ) تم نے پہلے بھی بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا (اور اب بھی عزم وہی ہے) تو (خواہ مخواہ جھوٹی باتیں کیوں بناتے ہو، بلکہ مثل سابق اب بھی) ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو (جو واقعی) پیچھے رہ جانے کے لائق ہی ہیں (بوجہ عذر کے جیسے بوڑھے اور بچے اور عورتیں)۔
معارف و مسائل
اوپر سے سلسلہ منافقین کے حالات کا چل رہا ہے، جو غزوہ تبوک میں حکم عام کے باوجود شریک نہیں ہوئے، مذکور الصدر آیات میں بھی انہی کا ایک حال اور پھر اس کی سزائے آخرت کی وعید اور دنیا میں آئندہ کے لئے ان کا نام مجاہدین اسلام کی فہرست سے خارج کردینا اور آئندہ ان کو کسی جہاد میں شرکت کی اجا زت نہ ہونا مذکور ہے۔
مُخَلَّفُوْنَ ، مخلف کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں متروک، یعنی جس کو چھوڑ دیا گیا ہو، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ تو یہ سمجھ کر خوش ہو رہے ہیں کہ ہم نے اپنی جان کو مصیبت میں ڈالنے سے بچایا، اور جہاد میں شرکت نہیں کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قابل نہیں سمجھا کہ وہ اس فضیلت کو پاسکیں، اس لئے وہ تارک جہاد نہیں، بلکہ متروک ہیں کہ اللہ و رسول نے ہی ان کو چھوڑ دینے کے قابل سمجھا۔
خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ، لفظ خلاف کے معنی یہاں " پیچھے " اور " بعد " کے بھی ہوسکتے ہیں، ابو عبید نے یہی معنی لئے ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے جہاد پر چلے جانے کے بعد آپ کے پیچھے رہ جانے پر خوش ہو رہے ہیں، جو درحقیقت خوشی کی چیز نہیں، بِمَقْعَدِهِمْ ، یہ لفظ یہاں مصدری معنی میں بمعنے قعود ہے۔
دوسرے معنی خلاف کے اس جگہ مخالفت کے بھی ہوسکتے ہیں، کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے گھر میں بیٹھے رہے، اور صرف خود ہی نہیں بیٹھے بلکہ دوسروں کو بھی یہ تلقین کی کہ لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ ، یعنی گرمی کے زمانہ میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔
یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ غزوہ تبوک کا حکم اس وقت ہوا تھا جب کہ گرمی سخت پڑ رہی تھی حق تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب یہ دیا قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا، یعنی یہ بد نصیب اس وقت کی گرمی کو تو دیکھ رہے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں حکم خدا و رسول کی نافرمانی پر جو جہنم کی آگ سے سابقہ پڑنے والا ہے اس کی فکر نہیں کرتے، کیا یہ موسم کی گرمی جہنم کی گرمی سے زیادہ ہے، اس کے بعد فرمایا
Ayah 9:82(آیت) فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا، جس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ہنسو تھوڑا روؤ زیادہ، یہ لفظ اگرچہ بصیغہ امر لایا گیا مگر حضرات مفسرین نے اس کو خبر کے معنی میں قرار دیا ہے، اور بصیغہ امر ذکر کرنے کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ایسا ہونا حتمی اور یقینی ہے، یعنی یہ بات یقینی طور پر ہونے والی ہے کہ ان لوگوں کی یہ خوشی و ہنسی صرف چند روز کی ہے، اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ کے لئے رونا ہی رونا ہوگا، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے
الدنیا قلیل فلیضحکوا فیھا ماشاؤ ا فاذا انقطعت الدنیا وصاروا الی اللہ فلیستانفوا البکاء بکاء لا ینقطع ابدا دنیا چند روز ہے اس میں جتنا چاہو ہنس لو، پھر جب دنیا ختم ہوگی اور اللہ کے پاس حاضر ہوگے تو رونا شر وع ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا“۔
(مظہری)
Ayah 9:83دوسری آیت میں لّنْ تَخْرُجُوْا کا ارشاد ہے، اس کا مفہوم مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں تو یہ لیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر آئندہ کسی جہاد میں شرکت کا ارادہ بھی کریں تو چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں وہ ارادہ بھی اخلاص سے نہ ہوگا جب نکلنے کا وقت آئے گا اسوقت پہلے کی طرح حیلے بہانے کرکے ٹل جائیں گے، اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ جب وہ کسی جہاد میں شریک ہونے کو خود بھی کہیں تو آپ یہ حقیقت حال ان کو بتلا دیں کہ تمہارے کسی قول و فعل پر اعتماد نہیں، تم نہ جہاد کو نکلو گے نہ کسی دشمن اسلام سے میرے ساتھ قتال کرو گے۔
اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم ان کے لئے بطور دنیاوی سزا کے نافذ کیا گیا کہ اگر وہ سچ سچ کسی جہاد میں شرکت کو کہیں تو بھی انھیں شریک نہ کیا جائے۔
Ayah 9:84خلاصہ تفسیر
اور ان میں کوئی مرجاوے تو اس (کے جنازہ) پر کبھی نماز نہ پڑہئے اور نہ (دفن وغیرہ کے واسطے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجئے (کیونکہ) انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور وہ حا لت کفر ہی میں مرے ہیں۔
معارف و مسائل
احادیث صحیحہ سے باتفاق امت ثابت ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی منافق کی موت اور اس پر نماز جنازہ کے متعلق نازل ہوئی، اور صحیحین کی روایت سے ثابت ہے کہ اس کے جنازہ پر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی، پڑھنے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، اور اس کے بعد آپ نے کبھی کسی منافق کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے واقعہ نزول کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول مرگیا تو اس کے صاجزادے عبداللہ جو مخلص مسلمان اور صحابہ تھے وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور درخواست کی کہ آپ اپنا قمیص عطا فرمائیں تاکہ میں اپنے باپ کو اس کا کفن پہناؤ ں، رسول اللہ ﷺ نے اپنا قمیص مبارک عطا فرما دیا، پھر حضرت عبداللہ نے یہ بھی درخواست کی کہ آپ اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں، آپ نے قبول فرما لیا، اور نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوگئے تو حضرت عمر بن خطاب نے آپ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا کہ آپ اس منافق کی نماز جنازہ پڑہتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی نماز جنازہ سے منع فرمادیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے کہ میں دعا مغفرت کروں یا نہ کروں، اور آیت میں جو ستر 70 مرتبہ استغفار پر بھی مغفرت نہ ہونے کا ذکر ہے تو میں ستر 70 مرتبہ سے زیادہ استغفار کرسکتا ہوں، آیت سے مراد سورة توبہ کی وہی آیت ہے جو ابھی گذر چکی ہے، یعنی (آیت) اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، نماز کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی، (آیت) لَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ ، الخ (چناچہ اس کے بعد آپ نے کبھی کسی منافق کے جنازے کی نماز نہیں پڑھی)۔
واقعہ مذکور پر چند اشکالات اور ان کے جواب
یہاں ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابی ایک ایسا منافق تھا جس کا نفاق مخلتف اوقات میں ظاہر بھی ہوچکا تھا اور سب منافقوں کا سردار مانا جاتا تھا، اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ امتیازی سلوک کیسے ہوا کہ اس کے کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک عطا فرمایا ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے دو سببب ہوسکتے ہیں۔ اول اس کے صاجزادے جو مخلص صحابی تھے ان کی درخواست کہ محض ان کی دلجوئی کے لئے ایسا کیا گیا، دوسرا سبب ایک اور بھی ہوسکتا ہے جو بخاری کی حدیث میں بروایت حضرت جابر منقول ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر جب کچھ قریشی سردار گرفتار کئے گئے، تو ان میں آنحضرت ﷺ کے چچا عباس بھی تھے، آپ نے دیکھا کہ ان کے بدن پر کرتہ نہیں، تو صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ ان کو قمیص پہنا دیا جائے، حضرت عباس دراز قد تھے، عبداللہ بن ابی کے سوا کسی کا قمیص ان کے بدن پر درست نہ آیا، تو عبداللہ بن ابی کا قمیص لے کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا عباس کو پہنا دیا تھا، اس کے اسی احسان کا بدلہ ادا کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنا قمیص ان کو عطا فرمادیا (قرطبی)۔
دوسرا سوالیہاں یہ ہے کہ فاروق اعظم نے جو آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافق کے جنازہ کی نماز سے منع فرمایا ہے، یہ کس بناء پر کہا، کیونکہ اس سے پہلے کسی آیت میں صراحة آپ کو منافق کی نماز جنازہ سے منع نہیں فرمایا گیا، اس سے ظاہر یہی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ممانعت کا مضمون اسی سورة توبہ کی سابقہ آیت اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ الایة سے سمجھا ہوگا، تو اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ آیت ممانعت نماز جنازہ پر دلالت کرتی ہے تو آنحضرت ﷺ نے اس سے ممانعت کیوں نہ قرار دی، بلکہ یہ فرمایا کہ اس آیت میں مجھے اختیار دیا گیا ہے۔
جوابیہ ہے کہ درحقیقت الفاظ آیت کا ظاہری مفہوم اختیار ہی دینا ہے، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ستر مرتبہ کا ذکر بھی اس جگہ تحدید کیلئے نہیں بلکہ کثرت بیان کرنے کے لئے ہے، تو اس آیت کا حاصل اس کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے یہ ہوگیا کہ منافق کی مغفرت تو نہ ہوگی، خواہ آپ کتنی ہی مرتبہ استغفار کرلیں، لیکن اس میں صراحةً آپ کو استغفار کرنے سے روکا بھی نہیں گیا، اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سورة یٰس کی اس کی نظیر ہے، جس میں فرمایا گیا کہ (آیت) وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ ، جیسا اس آیت نے آپ کو انذار اور تبلیغ سے منع نہیں کیا بلکہ دوسری آیات سے تبلیغ و دعوت کا سلسلہ ان کے لئے بھی جاری رکھنا ثابت ہے، (آیت) بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ، اور اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ، وغیرہ حاصل یہ ہے کہ آیت ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ سے تو آپ کو اختیار ہی دینا ثابت ہوا تھا، پھر مستقل دلیل سے انذار کو جاری رکھنا ثابت ہوگیا، آنحضرت ﷺ نے آیت مذکورہ سے بھی یہ تو سمجھ لیا تھا کہ اس کی مغفرت نہیں ہوگی، مگر کسی دوسری آیت کے ذریعہ اب تک آپ کو استغفار کرنے سے روکا بھی نہیں گیا تھا۔
اور آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ میرے قمیص سے یا نماز پڑھانے سے اس کی تو مغفرت نہیں ہوگی، مگر اس سے دوسری مصالح اسلامیہ حاصل ہونے کی توقع تھی کہ اس کے خاندان کے لوگ اور دوسرے کفار جب آنحضرت ﷺ کا یہ معاملہ اس کے ساتھ دیکھیں گے تو وہ اسلام کے قریب آجائیں گے اور مسلمان ہوجائیں گے، اور ممانعت صریح نماز پڑھنے کی اس وقت تک موجود نہ تھی، اس لئے آپ نے نماز پڑھ لی۔
اس جواب کا شاہد ایک تو وہ جملہ ہے جو صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت سے منقول ہے کہ اگر مجھے یہ معلوم ہو تاکہ ستر مرتبہ سے زیادہ دعا مغفرت کرنے سے اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں یہ بھی کرتا۔ (قرطبی)۔
دوسرا شاہد وہ حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا کرتہ اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، مگر میں نے یہ کام اس لئے کیا کہ مجھے امید ہے کہ اس عمل سے اس کی قوم کے ہزار آدمی مسلمان ہوجائیں گے، چناچہ مغازی ابن اسحاق اور بعض کتب تفسیر میں ہے کہ اس واقعہ کو دیکھ کر خزرج قبیلہ کے ایک ہزار آدمی مسلمان ہوگئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آیت سابقہ سے خود رسول اللہ ﷺ کو بھی یہ تو یقین ہوگیا تھا کہ ہمارے کسی عمل سے اس منافق کی مغفرت نہیں ہوگی، مگر چونکہ ظاہر الفاظ آیت میں اختیار دیا گیا تھا، اور کسی دوسری آیت سے بھی اس کی ممانعت اب تک نہیں آئی تھی، دوسری طرف ایک کافر کے احسان سے دنیا میں نجات حاصل کرنے کا فائدہ بھی تھا، اور اس معاملہ میں دوسرے کافروں کے مسلمان ہونے کی توقع بھی، اس لئے آپ نے نماز پڑھنے کو ترجیح دی، اور فاروق اعظم نے یہ سمجھا کہ جب اس آیت سے یہ ثابت ہوگیا کہ مغفرت نہیں ہوگی تو اس کیلئے نماز جنازہ پڑھ کر دعا مغفرت کرنا ایک فعل عبث اور بےکار ہے، جو شان نبوت کے خلاف ہے اسی کو انہوں نے ممانعت سے تعبیر فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ اگرچہ اس فعل کو فی نفسہ مفید نہ سمجھتے تھے مگر دوسروں کے اسلام لانے کا فائدہ پیش نظر تھا، اس لئے فعل عبث نہ رہا، اس طرح نہ رسول اللہ ﷺ کے عمل پر کوئی اشکال رہتا ہے نہ فاروق اعظم کے قول پر (بیان القرآن)
البتہ جب صراحةً یہ آیت نازل ہوگئی لَا تُصَلِّ تو معلوم ہوا کہ اگرچہ نماز پڑھنے میں ایک دینی مصلحت آپ کے پیش نظر تھی، مگر اس میں ایک خرابی اور مفسدہ بھی تھا، جس کی طرف آنحضرت ﷺ کا دھیان نہیں ہوا، وہ یہ کہ خود مخلص مسلمانوں میں اس عمل سے ایک بےدلی پیدا ہونے کا خطرہ تھا کہ ان کے یہاں مخلص مسلمان اور منافق سب ایک پلے میں تولے جاتے ہیں، اس خطرہ کے پیش نظر قرآن میں یہ ممانعت نازل ہوگئی، اور پھر کبھی آپ نے کسی منافق کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
مسئلہاس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی کافر کے جنازہ کی نماز اور اس کے لئے دعا مغفرت جائز نہیں۔
مسئلہاسی آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی کافر کے اعزازو اکرام کے لئے اس کی قبر پر کھڑا ہونا یا اس کی زیارت کے لئے جانا حرام ہے، عبرت حاصل کرنے کے لئے ہو یا کسی مجبوری کے لئے تو وہ اس کے منافی نہیں، جیسا کہ ہدایہ میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کا کافر رشتہ دار مرجائے اور اس کا کوئی ولی وارث نہیں تو مسلمان رشتہ دار اس کو اسی طرح بغیر رعایت طریق مسنون کے گڑھے میں دبا سکتا ہے (بیان القرآن)۔
Ayah 9:85خلاصہ تفسیر
اور ان کے اموال اور اولاد آپ کو (اس) تعجب میں نہ ڈالیں (کہ ایسے مبغوضین پر یہ نعمتیں کیسے ہوئیں، سو یہ واقع میں ان کے لئے نعمتیں نہیں بلکہ آلات عذاب ہیں کیونکہ) اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان (مذکورہ) چیزوں کی وجہ سے دنیا میں (بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کا دم حالت کفر ہی میں نکل جائے (جس سے آخرت میں بھی مبتلائے عذاب رہیں) اور جب کبھی کوئی ٹکڑا قرآن کا اس مضمون میں نازل کیا جاتا ہے کہ تم (خلوص دل سے) اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ ہو کر جہاد کرو تو ان میں کے مقدور والے آپ سے رخصت مانگتے ہیں اور (رخصت کا یہ مضمون ہوتا ہے کہ) کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم بھی یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں (البتہ ایمان و اخلاص کے دعوے میں کچھ کرنا نہیں پڑتا اس کو کہہ دیا کہ ہم تو مخلص ہیں) وہ لوگ (غایت بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے، اور انکے دلوں پر مہر لگ گئی جس سے وہ (حمیت و بےحمیتی کو) سمجہتے ہی نہیں ہاں لیکن رسول ﷺ اور آپ کی ہمراہی میں جو مسلمان ہیں انہوں نے (البتہ اس حکم کو مانا اور) اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کیا اور انہی کے لئے ساری خوبیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں، (اور وہ خوبی اور کامیابی یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ کو رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ میں بھی انہی منافقین کا حال بیان کیا گیا جو غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے حیلے بہانے کرکے رک گئے تھے، ان منافقین میں بعض مال دار خوش حال لوگ بھی تھے، ان کے حال سے مسلمانوں کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب یہ لوگ اللہ کے نزدیک مردود و نامقبول ہیں تو ان کو دنیا میں ایسی نعمتیں کیوں ملیں۔
اس کے جواب میں پہلی آیت میں فرمایا کہ اگر غور کرو گے تو ان کے اموال و اولاد ان کے لئے رحمت و نعمت نہیں بلکہ دنیا میں بھی عذاب ہی ہیں، آخرت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، دنیا میں عذاب ہونا اس طرح ہے کہ مال کی محبت، اس کی حفاظت کی اور پھر اس کے بڑھانے کی فکریں ان کو ایسی لگی رہتی ہیں کہ کسی وقت کسی حال چین نہیں لینے دیتیں، ساز و سامان راحت کا ان کے پاس کتنا ہی ہو مگر راحت نہیں ہوتی، جو قلب کے سکون و اطمینان کا نام ہے، اس کے علاوہ یہ دنیا کا مال و متاع چونکہ ان کو آخرت سے غافل کرکے کفر و معاصی میں انہماک کا سبب بھی بن رہا ہے اس لئے سبب عذاب ہونے کی وجہ سے بھی اس کو عذاب کہا سکتا ہے، اسی لئے الفاظ قرآن میں لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان اموال ہی کے ذریعہ ان کو سزا دینا چاہتا ہے۔
Ayahs 9:86–89اُولُوا الطَّوْلِ کا لفظ تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس سے غیر اولی الطول یعنی غیر مستطیع لوگوں کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس تو ایک ظاہری عذر بھی تھا۔
Ayah 9:90خلاصہ تفسیر
اور کچھ بہانہ باز لوگ دیہاتیوں میں سے آئے تاکہ ان کو (گھر رہنے کی) اجازت مل جائے اور (ان دیہاتیوں میں سے) جنہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے (دعوائی ایمان میں) بالکل ہی جھوٹ بولا تھا وہ بالکل ہی بیٹھ رہے ، (جھوٹے عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں جو (آخر تک) کافر رہیں گے ان کو (آخرت میں) دردناک عذاب ہوگا (اور جو توبہ کرلیں تو عذاب سے بچ جائیں گے)۔
معارف و مسائل
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان دیہاتیوں میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک تو وہ جو حیلے بہانے پیش کرنے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کو جہاد میں چلنے سے رخصت دے دیجائے، اور کچھ ایسے سرکش بھی تھے جنہوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی کہ رخصت لے لیں وہ از خود ہی اپنے گھروں میں بیٹھ رہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے جد بن قیس کو جہاد میں نہ جانے کی اجازت دے دیتو چند منافقین بھی خدمت میں حاضر خدمت ہوئے، اور کچھ حیلے بہانے پیش کرکے ترک جہاد کی اجازت مانگی، آپ نے اجازت تو دیدی، مگر یہ سمجھ لیا کہ یہ جھوٹے عذر کر رہے ہیں، اس لئے ان سے اعراض فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس نے بتلا دیا کہ ان کا عذر قابل قبول نہیں، اس لئے ان کو عذاب الیم کی وعید سنائی گئی، البتہ اس کے ساتھ (آیت) الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ فرماکر اشارہ کردیا کہ ان میں سے بعض کا عذر کفر و نفاق کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ طبعی سستی کے سبب تھا وہ ان کفار کے عذاب میں شامل نہیں۔
Ayahs 9:91–92خلاصہ تفسیر
کم طاقت لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو (سامان جہاد کی تیاری میں) خرچ کرنے کو میسر نہیں جبکہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ (اور احکام میں) خلوص رکھیں (اور دل سے اطاعت کرتے رہیں تو) ان نکوکاروں پر کسی قسم کا الزام (عائد) نہیں (کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ اگر یہ لوگ اپنے علم میں معذور ہوں اور اپنی طرف سے خلوص و اطاعت میں کوشش کریں اور واقع میں کچھ کمی رہ جائے تو معاف کردیں گے) اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ اور الزام ہے) کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس واسطے آتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی سواری دیدیں اور آپ (ان سے) کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کردوں تو وہ (ناکام) اس حالت سے وا پس چلے جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اس غم میں کہ (افسوس) انکو (سامان جہاد کی تیاری میں) خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں (نہ خود ہی اور نہ دوسری جگہ سے ملا، غرض ان معذورین مذکورین پر کوئی مواخذہ نہیں) بس الزام (اور مواخذہ) تو صرف ان لوگوں پر ہے جو باوجود اہل سامان (قوت) ہونے کے (گھر یر رہنے کی) اجازت چاہتے ہیں وہ لوگ (غایت بےحمیتی سے) خانہ نشیں عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے، اور اللہ نے انکے دلوں پر مہر کردی جس سے وہ (گناہ وثواب کو) جانتے ہی نہیں۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں ایسے لوگوں کے حالات کا بیان تھا جو درحقیقت جہاد میں شرکت سے معذور نہ تھے مگر سستی کے سبب عذر کرکے بیٹھ رہے، یا ایسے منافق جنہوں نے اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے حیلے بہانے تراش کر رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لی تھی، اور کچھ وہ سرکش بھی تھے جنہوں نے عذر کرنے اور اجازت لینے کی بھی ضرورت نہ سمجھی، ویسے ہی بیٹھ رہے، ان کا غیر معذور ہونا اور ان میں جو کفر ونفاق کے مرتکب تھے ان کیلئے عذاب الیم کا ہونا سابقہ آیات میں بیان ہوا ہے۔
مذکور الصدر آیات میں ان مخلص مسلمانوں کا ذکر ہے جو حقیقتہ معذور ہونے کے سبب شرکت جہاد سے قاصر رہے، ان میں کچھ تو نابینا یا بیمار معذور تھے جن کا عذر کھلا ہوا تھا، اور کچھ وہ لوگ بھی تھے جو جہاد میں شرکت کے لئے تیار تھے، بلکہ جہاد میں جانے کے لئے بےقرار تھے، مگر ان کے پاس سفر کے لئے سواری کا جانور نہ تھا، سفر طویل اور موسم گرمی کا تھا، انہوں نے اپنے جذبہ جہاد اور سواری نہ ہونے کی مجبوری کا ذکر کرکے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے لئے سواری کا کوئی انتظام ہوجائے۔
کتب تفسیر و تاریخ میں اس قسم کے متعدد واقعات لکھے ہیں، بعض کا معاملہ تو یہ ہوا کہ شروع میں رسول اللہ ﷺ نے ان سے عذر کردیا کہ ہمارے پاس سواری کا کوئی انتظام کردیا کہ چھ اونٹ رسول اللہ ﷺ کے پاس اسی وقت آگئے، آپ نے یہ ان کو دے دیے (مظہری) اور ان میں سے تین آدمیوں کے لئے سواری کا انتظام حضرت عثمان غنی نے کردیا حالانکہ وہ اس سے پہلے بہت بڑی تعداد کا انتظام اپنے خرچ سے کرچکے تھے۔
Ayah 9:93بعض وہ بھی رہے کہ جن کو آخر تک سواری نہ ملی، اور مجبور ہو کر رہ گئے، آیات مذکورہ میں انہی سب حضرات کا ذکر آیا ہے، جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، آخر میں پھر اس پر تنبیہ فرما دی کہ وبال تو صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے قدرت کے باوجود جہاد سے غیر حاضر رہنا عورتوں کی طرح پسند کیا ‘ (آیت) اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِيَاۗءُ کا یہی مطلب ہے۔
Ayah 9:94خلاصہ تفسیر
یہ لوگ تمہارے (سب کے) سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے، (سو اے محمد ﷺ آپ (سب کی طرف سے صاف) کہہ دیجئے کہ (بس رہنے دو) یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری (واقعی حالت کی) خبر دے چکے ہیں (کہ تم کو کوئی عذر صحیح نہ تھا) اور (خیر) آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے (معلوم ہوجائے گا کہ حسب زعم خود کتنے مطیع اور مخلص ہو) پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے (جس سے تمہارا کوئی اعتقاد کوئی عمل مخفی نہیں) پھر وہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے (اور اس کا بدلہ دے گا) ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاویں گے (کہ ہم معذور تھے) جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو (اور ملامت وغیرہ کرو) سو تم (ان کا مطلب پورا کردو اور) ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو (اس غرض فانی کے حاصل ہونے سے ان کا کچھ بھلا نہ ہوگا، کیونکہ) وہ لوگ بالکل گندے ہیں اور (اخیر میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلہ میں جو کچھ وہ (نفاق و خلاف وغیرہ) کیا کرتے تھے (نیز اس کا بھی مقتضا ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے، کیونکہ تعرض سے مقصود اصلاح اور اس کی ان کے خبث سے امید نہیں اور نیز) یہ اس لئے قسمیں کھاویں گے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ سو (اول تو تم دشمنان خدا سے راضی ہی کیوں ہونے لگے لیکن بالفرض) اگر تم ان سے راضی بھی ہوجاؤ تو (انکو کیا نفع کیونکہ) اللہ تعالیٰ تو ایسے شریر لوگوں سے راضی نہیں ہوتا (اور بدون رضائے خالق کے رضائے خلق محض بےسود ہے)۔
معارف و مسائل
پہلی آیات میں ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوہ تبوک میں نکلنے سے پہلے جھوٹے حیلے بہانے کرکے جہاد میں جانے سے عذر کردیا تھا، مذکور الصدر آیات میں ان کا ذکر ہے، جنہوں نے جہاد سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جہاد سے غیر حاضری کے جھوٹے عذر پیش کئے، یہ آیات مدینہ طیبہ واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھی جن میں اس آئندہ پیش آنے والے واقعہ کی خبر تھی کہ جب آپ مدینہ واپس پہونچیں گے تو منافقین عذر کرنے کے لئے آپ کے پاس آئیں گے، چناچہ اسی طرح واقعہ پیش آیا۔
آیات مذکورہ میں ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو تین حکم دیئے گئے۔ اول یہ کہ جب یہ عذر کرنے کے لئے آئیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ فضول جھوٹے عذر نہ کرو، ہم تمہاری بات کی تصدیق نہ کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ہمیں تمہارے سب حالات اور خیالات اور تمہاری شرارت اور دلوں میں چھپے ہوئے خفیہ ارادے سب بتلا دیئے ہیں، جس سے تمہارا جھوٹا ہونا ہم پر واضح ہوگیا، اس لئے عذر بیان کرنا فضول ہے، اس کے بعد فرمایا (آیت) وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ ، اس میں ان کو مہلت دی گئی کہ اب بھی توبہ کریں نفاق چھوڑ کر سچے مسلمان ہوجائیں، کیونکہ اس میں یہ فرمایا کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہارا عمل دیکھیں گے کہ وہ کیا اور کیسا رہتا ہے اس کے مطابق عمل ہوگا، اگر تم توبہ کر کے سچے مسلمان ہوگئے، تو تمہارے گناہ معاف ہوجاویں گے ورنہ یہ جھوٹے حیلے بہانے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیں گے۔
Ayah 9:95دوسرا حکم دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ آپ کی واپسی کے بعد جھوٹی قسمیں کھا کر آپ کو مطمئن کرنا چاہیں گے، اور مقصد اس سے یہ ہوگا کہ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ کی اس غیر حاضری جہاد کو نظر انداز کردیں، اس پر ملامت نہ کریں، اس پر یہ ارشاد ہوا کہ ان کی یہ خواہش آپ پوری کردیں فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ ان سے اعراض کریں نہ تو ان پر ملامت و سرزنش کریں اور نہ شگفتہ تعلقات ان سے رکھیں، کیونکہ ملامت سے تو کوئی فائدہ نہیں، جب ان کے دل میں ایمان ہی نہیں اور اس کی طلب بھی نہیں تو ملامت کرنے سے کیا ہوگا، فضول اپنا وقت ضائع کیوں کیا جائے۔
Ayah 9:96تیسرا حکم تیسری آیت میں یہ ہے کہ یہ لوگ قسمیں کھا کر آپ کو اور مسلمانوں کو راضی کرنا چاہیں گے اس کے متعلق حق تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمادی کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کی جائے، آپ ان سے راضی نہ ہوں، اور یہ بھی فرمادیا کہ بالفرض اگر آپ راضی بھی ہوگئے تو ان کو کوئی فائدہ اس لئے نہیں پہنچے گا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہے اور اللہ کیسے راضی ہو جبکہ یہ اپنے کفر و منافقت پر قائم ہیں۔