Ayah 9:112(آیت) اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الایة، یہ صفات انہی مؤمنین کی ہیں جن کے بارے میں اوپر یہ فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کی جان اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ نزول اس کا ایک خاص جماعت شرکاء بیعت عقبہ کے لئے ہوا، مگر مفہوم آیت تمام مجاہدین فی سبیل اللہ کو شامل ہے، اور جو اوصاف ان کے التَّاۗىِٕبُوْنَ الخ سے بیان کئے گئے، یہ شرط کے طور پر نہیں، کیونکہ جنت کا وعدہ مطلقًا جہاد فی سبیل اللہ پر آیا ہے، ان اوصاف کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ جو لوگ جنت کے اہل ہوئے ہیں ان کے ایسی اوصاف ہوا کرتے ہیں، خصوصاً بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے صحابہ کا یہی حال تھا۔
السَّاۗىِٕحُوْنَ کے معنی جمہور مفسرین کے نزدیک صَائِمُون یعنی روزہ داروں کے ہیں، اصل میں یہ لفظ سیاحت سے ماخوذ ہے، اسلام سے پہلے دین نصرانیت میں سیاحت ایک عبادت سمجھی جاتی تھی کہ انسان اپنے گھر بار کو چھوڑ کر عبادت کے لئے نکل کھڑا ہوا، اسلام میں اس کو رہبانیت قرار دیا گیا، اور اس سے منع کیا گیا اس کے قائم مقام روزہ کی عبادت مقرر کی گئی، کیونکہ سیاحت کا مقصد ترک دنیا تھا، روزہ ایسی چیز ہے کہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے ایک معین وقت میں دنیا کی تمام خواہشات کو ترک کردینا ہوتا ہے اور اسی بنا پر بعض روایات میں جہاد کو بھی سیاحت قرار دیا گیا ہے۔ ابن ماجہ، حاکم، بیہقی نے بسند صحیح روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سیاحۃ امتی الجھاد فی سبیل اللہ، یعنی اس امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں سائحین کا لفظ آیا ہے اس سے مراد صائمین ہیں، حضرت عکرمہ نے سائحین کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ طالب علم ہیں جو طلب علم کیلئے اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکلتے ہیں (مظہری)۔
اس جگہ مؤمنین مجاہدین کے اوصاف تائبون، عابدون، حامدون، سائحون، راکعون، ساجدون، آمرون بالمعروف، والناہوں عن المنکر، سات چیزیں بیان فرمانے کے بعد آٹھواں وصف الحفظون الحدود اللہ فرمایا، یہ درحقیقت تمام اوصاف مذکورہ سابقہ کا ایک جامع لفظ ہے، گویا سات اوصاف میں جو تفصیل بتلائی گئی اس کا اجمال یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ہر کام اور کلام میں حدود اللہ یعنی احکام شرعیہ کے پابند ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔
آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَبَشِّرِ الْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی جن مؤمنین کے یہ اوصاف ہوں جو اوپر بیان کئے گئے ان کو ایسی نعمتوں کی خوش خبری سنا دیجئے جن کو کسی کا وہم و خیال بھی نہیں پاسکتا، اور نہ کسی عبادت سے اس کو سمجھایا جاسکتا ہے، اور نہ کسی کے کانوں نے ان کا تذکرہ سنا ہے، مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔
Ayah 9:113خلاصہ تفسیر
پیغمبر ﷺ کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی (کیوں نہ) ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں (اس وجہ سے کہ کافر ہو کر مرے ہیں) اور (اگر حضرت ابراہیم ؑ کے قصہ سے شبہ ہو کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ) ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت مانگنا (وہ اس کے قبل تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر ہوجاوے اور) وہ (بھی) صرف وعدہ کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعدہ کرلیا تھا (اس قول میں سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، غرض جواز تو اس لئے تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہ ہوا تھا، اور وقوع کو اس سے ترجیح ہوگئی تھی کہ وعدہ کرلیا تھا، ورنہ باوجود جواز کے بھی وقوع نہ ہوتا) پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ خدا کا دشمن (یعنی کافر ہو کر مرا) ہے تو وہ اس سے محض بےتعلق ہوگئے (کہ استغفار بھی چھوڑ دیا، کیونکہ اس وقت دعائے مغفرت کرنا بےمعنی ہے، کیونکہ کافر میں احتمال مغفرت کا ہے ہی نہیں، بخلاف حالت حیات کے کہ دعاء مغفرت کے معنی اس وقت طلب توفیق ہدایت ہوسکتے ہیں کہ توفیق ہدایت کے لئے مغفرت لازم ہے، اور رہا یہ کہ وعدہ کیوں کرلیا تھا وجہ اس کی یہ ہے کہ واقعی ابراہیم ؑ بڑے رحیم المزاج حلیم الطبع تھے (کہ باوجودیکہ باپ نے ان کو کیسی کیسی سخت باتیں کہیں، مگر حلم سے کام لیا، اور مزید براں یہ کہ شفقت کے جوش سے وعدہ کرلیا اور احتمال نفع تک اس وعدہ کو پورا فرمایا، جب یاس ہوگیا ہار کر چھوڑ دیا، بخلاف تمہارے استغفار کے کہ مشرکین کے مرنے کے بعد ہو رہا ہے، جن کا حالت شرک پر مرنا ظاہر مشاہد سے معلوم ہے اور احکام شرعیہ میں ایسا ظاہر کافی ہے، پھر قیاس کب صحیح ہے، اور اس قیاس پر شبہ کب مبنی ہوسکتا ہے)۔
معارف و مسائل
سورة توبہ پوری کفار و مشرکین سے تبری اور علیحدگی کے احکام پر مشتمل ہے، سورة کا شروع ہی بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ ، سے ہوا ہے، اور اسی لئے اس سورة کا ایک نام سورة براءت بھی معروف ہے اوپر جس قدر احکام آئے وہ دنیوی زندگی میں کفار و مشرکین سے براءت اور قطع تعلق کے متعلق ہیں، اس آیت میں یہی حکم براءت اور قطع تعلق کا اخروی زندگی کے لئے آیا ہے کہ مرنے کے بعد کافر و مشرک کے لئے دعاء مغفرت کرنا بھی جائز نہیں، جیسا کہ اس سے پہلے ایک آیت میں منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے رسول اللہ ﷺ کو منع کیا گیا ہے۔
واقعہ نزول اس آیت کا صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب اگرچہ مسلمان نہ ہوئے تھے مگر عمر بھر رسول اللہ ﷺ کی حمایت و حفاظت کرتے رہے، اور اس معاملہ میں برادری کے کسی فرد کا کہنا نہیں مانا، رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کا بڑا اہتمام تھا کہ کسی طرح یہ کلمہ اسلام پڑھ لیں، اور ایمان لے آئیں تو شفاعت کا موقع مل جائے گا اور یہ جہنم کے عذاب سے بچ جائیں گے، مرض وفات میں جب ان کا آخری وقت ہوا تو آنحضرت ﷺ کو بڑی فکر تھی کہ اس وقت بھی کلمہ شریف پڑھ لیں تو کام ہوجائے، چناچہ اس حالت میں آپ ان کے پاس پہونچے، مگر ابوجہل، عبداللہ بن امیہ پہلے سے وہاں موجود تھے، آپ نے فرمایا کہ میرے چچا ! کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھ لیں تو میں آپ کی بخشش کے لئے کوشش کروں گا، مگر ابو جہل بول اٹھا کہ کیا آپ عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے، رسول اللہ ﷺ نے کئی مرتبہ پھر اپنا کلام دہرایا، مگر ہر مرتبہ ابو جہل یہی بات کہہ دیتا، یہاں تک کہ آخری کلام میں ابو طالب نے یہی کہا کہ میں عبد المطلب کے دین پر ہوں، اسی حالت میں وفات ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ میں آپ کے لئے برابر استغفار کرتا رہوں گا، جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے، اس پر یہ آیت ممانعت کی نازل ہوئی، جس میں رسول اللہ ﷺ اور سب مسلمانوں کو کفار و مشرکین کے لئے دعاء مغفرت کرنے سے منع فرما دیا، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔
Ayah 9:114اس پر بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے بھی تو اپنے کافر باپ کے لئے دعا کی تھی، اس کے جواب میں دوسری آیت نازل ہوئی (آیت) مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ الایة، جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے جو اپنے والد کے لئے دعا کی تھی اس کا معاملہ یہ ہے کہ شروع میں جب تک ابراہیم ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ آخر تک کفر ہی پر قائم رہے گا، اسی پر مرے گا، تو اس کا دوزخی ہونا یقینی نہیں تھا، اس وقت انہوں نے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعا مغفرت کروں گا، سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، پھر جب حضرت ابراہیم ؑ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے یعنی کفر ہی پر اس کا خاتمہ ہوا ہے تو اس سے بےتعلقی اختیار کرلی اور استغفار کرنا چھوڑ دیا۔
قرآن مجید کے مختلف مواقع میں جو حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے والد کے لئے دعا مغفرت کرنا منقول ہے وہ سب اسی پر محمول ہونا چاہئے، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق دے تاکہ ان کی مغفرت ہو سکے۔
غزوہ احد میں جب رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو کفار نے زخمی کردیا تو آپ چہرہ سے خون صاف کرتے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے " اللھم اغفر لقومی انھم لا یعلمون " یعنی یا اللہ میری قوم کی مغفرت فرما دے وہ نادان ہیں، کفار کے لئے اس دعا مغفرت کا حاصل بھی یہی ہے کہ ان کو ایمان و اسلام کی توفیق عطا فرمادے کہ یہ مغفرت کے قابل ہوجائیں۔
امام قرطبی نے فرمایا کہ اس سے ثابت ہوا کہ زندہ کافر کے لئے اس نیت سے دعا مغفرت کرنا جائز ہے کہ اس کو ایمان کی توفیق ہو اور یہ مستحق مغفرت ہوجائے۔
(آیت) اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ، لفظ اواہ بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے قرطبی نے اس میں پندرہ قول نقل کئے ہیں، مگر سب معانی متقاربہ ہیں، کوئی اختلاف حقیقی نہیں، ان میں سے چند معانی یہ ہیں، بکثرت آہ کرنے والا، یا بکثرت دعا کرنے والا، اللہ کے بندوں پر رحم کرنے والا، حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہی معنی منقول ہیں۔
Ayahs 9:115–116خلاصہ تفسیر
اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کئے پیچھے گمراہ کردے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وہ بچتے رہیں (پس جب ہم کو (مسلمانوں کو) ہدایت کی اور اس کے قبل استغفار للمشرکین کی ممانعت نہ بتلائی تھی تو اس کے کرنے سے تم کو یہ سزا نہیں دی جائے گی کہ تم میں گمراہی کا مادہ پیدا کردیا جاوے) بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں (سو وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بدون ہمارے بتلائے ہوئے ایسے احکام کو کوئی نہیں جان سکتا، اس لئے ان افعال سے مضرت بھی نہیں پہنچنے دیتے اور) بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں وہی جلاتا اور مارتا ہے (یعنی ہر طرح کی حکومت اور قدرت اسی کے لئے خاص ہے اس لئے جو چاہے حکم دے سکتا ہے، اور جس ضرر سے چاہے بچا سکتا ہے) اور تمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار ہے (بلکہ وہی یار و مددگار ہے، اس لئے قبل نہی کو ضرر سے بچاتا ہے، اور اگر تم نے بعد نہی اطاعت نہ کی تو اور کوئی بچانے والا نہیں)۔
Ayah 9:117خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کے حال پر توجہ فرمائی (کہ آپ کو نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں) اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی (توجہ فرمائی کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا) جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہو چلا تھا (اور جہاد میں جانے سے ہمت ہارنے کو تھے مگر) پھر اللہ نے ان (گروہ) کے حال پر توجہ فرمائی (کہ ان کو سنبھال لیا اور آخر ساتھ ہو ہی لئے پس) بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے (کہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کے حال پر کس کس طرح توجہ فرمائی) اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی (توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب (ان کی پریشانی کی یہ نوبت پہنچی کہ) زمین باوجود اپنی (اتنی بڑی) فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا (کی گرفت) سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے (اس وقت وہ خاص توجہ کے قابل ہوئے) پھر ان کے حال پر (بھی خاص) توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی (ایسے مواقع مصیبت و معصیت میں اللہ کی طرف) رجوع رہا کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے بڑے رحم کرنے والے ہیں، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور (عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو (یعنی جو نیت اور بات میں سچے ہیں ان کی راہ چلو کہ تم بھی صدق اختیار کرو)۔
معارف و مسائل
یہاں سے چند آیات پہلے آیت وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا کے بیان میں یہ لکھا گیا تھا کہ غزوہ تبوک کے لئے سب مسلمانوں کو نکلنے کا حکم عام ہونے کے وقت اہل مدینہ کے لوگوں کی پانچ قسمیں ہوگئی تھیں دو قسمیں متخلفین بغیر عذر کی تھیں جن کا بیان سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ آچکا ہے، مذکور الصدر آیات میں مؤمنین مخلصین کی تین قسموں کا ذکر ہے۔ اول وہ لوگ جو حکم جہاد پاتے ہی فوراً تیار ہوگئے، ان کا بیان آیت مذکورہ کے ابتدائی جملے میں (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، میں ہوا ہے دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد میں رہے مگر پھر سنبھل گئے اور جہاد کے لئے سب کے ساتھ ہوگئے انکا بیان اسی آیت کے اس جملے میں ہے مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ۔
تیسرے وہ مؤمنین تھے جو اگرچہ وقتی کاہلی و سستی کی وجہ سے جہاد میں نہ گئے، مگر بعد میں نادم اور تائب ہوئے، اور بالاخر ان سب کی توبہ قبول ہوگئی، مگر ان میں پھر دو قسم ہوگئی تھیں یہ کل دس آدمی تھے جن میں سے سات آدمیوں نے تو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کے بعد فوراً اپنی ندامت و توبہ کا اظہار اس شان سے کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ جب تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی بندھے رہیں گے ان کی آیت توبہ تو اسی وقت نازل ہوگئی جس کا بیان پہلے ہوچکا ہے، تین آدمی وہ تھے جنہوں نے یہ عمل نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو مقاطعہ کا حکم (دے دیا کہ کوئی ان کے ساتھ سلام کلام نہ کرے، جس سے یہ حضرات سخت پریشان ہوگئے، ان کا ذکر دوسری آیت (آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا میں ہوا ہے، جس میں بالاخر ان کی توبہ کے قبول ہونے کا بیان ہے، اور اس کے ساتھ ہی ان سے مقاطعہ کا حکم ختم کردیا گیا، (آیت) لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرلی، نبی کریم ﷺ اور ان مہاجرین و انصار کی جنہوں نے تنگی اور تکلیف کے وقت نبی کریم ﷺ کا اتباع کیا۔
جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو گناہ سے بچا دیا، اسی کو توبہ کے نام سے تعبیر کیا گیا یا یہ کہ ان سب حضرات کو حق تعالیٰ نے تَوّاب بنادیا، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ توبہ کی حاجت و ضر ورت سے کوئی شخص مستغنی نہیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مخصوص صحابہ بھی، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہےوَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا، یعنی توبہ کرو اللہ سے سب کے سب۔ وجہ یہ ہے کہ تقرب الی اللہ کے درجات غیر متناہی ہیں، جو شخص جس مقام پر پہنچا ہے اس سے آگے بھی اس سے بلند مقام ہے، جس کے مقابلہ میں موجود مقام پر رک جانا ایک نقص و کوتاہی ہے، مولانا رومی نے اسی مضمون کو ایک شعر میں اس طرح بیان فرمایا ہے
اے برادر بےنہایت در گہی ست ہرچہ بروے می رسی بروے مایست
اس لحاظ سے موجودہ مقام پر ہونے سے توبہ کی ضرورت ہے، تاکہ اگلا مقام حاصل ہو۔
سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ، اسی جہاد کے موقع کو قرآن کریم نے ساعَةِ الْعُسْرَةِ سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ مسلمان اس وقت افلاس اور تنگی میں تھے، حسن بصری فرما تے ہیں کہ دس آدمیوں کے لئے ایک سواری تھی جس پر باری باری سوار ہوتے تھے، توشہ سفر بھی بہت کم اور معمولی تھا، دوسری طرف گرمی سخت و شدید تھی، پانی بھی راستہ میں کہیں کہیں اور تھوڑا تھا۔
(آیت) مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، اس میں جو بعض لوگوں کے قلوب کا زیغ بیان کیا گیا ہے اس سے مراد دین سے انحراف نہیں، بلکہ سختی موسم اور قلت سامان کے سبب ہمت ہار دینا اور جہاد سے جان چرانا مراد ہے، روایات حدیث اس پر شاہد ہیں، اس قصور سے ان کی توبہ قبول کی گئی۔
Ayah 9:118(آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا، اس میں خلفوا کے لفظی معنی یہ ہیں کہ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے مراد یہ ہے کہ جن کی توبہ کا معاملہ مؤ خر کیا گیا، یہ تین حضرات، حضرت کعب بن مالک شاعر، اور مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں، تینوں انصاری بزرگ تھے، جو اس سے پہلے بیعت عقبہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دوسرے غزوات میں شریک رہ چکے تھے، مگر اس وقت اتفاقی طور سے اس لغزش میں مبتلا ہوگئے، اور منافقین جو اس جہاد میں اپنے نفاق کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے بھی ان کو ایسے ہی مشورے دیئے جس سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی، مگر جب رسول اللہ ﷺ اس جہاد سے واپس آئے تو ان سب منافقین نے حاضر ہو کر جھوٹے اعذار پیش کرکے اور جھوٹی قسمیں کھا کر رسول اللہ ﷺ کو راضی کرنا چاہا، آنحضرت ﷺ نے ان کی باطنی حالت کو اللہ کے سپرد کیا، اور ظاہری قسموں کو قبول کرلیا، یہ لوگ آرام سے رہنے لگے، کچھ لوگوں نے ان تینوں انصاری بزرگوں کو بھی یہی مشورہ دیا کہ تم بھی جھوٹے عذر کر کے اپنی صفائی پیش کردو، مگر ان کے دلوں نے ملامت کی کہ ایک گناہ تو جہاد سے تخلف کا کرچکے ہیں، اب دوسرا گناہ حضور ﷺ کے سامنے جھوٹ بولنے کا کریں، اس لئے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا، جس کی سزا میں ان سے مقاطعہ سلام و کلام جاری کیا گیا، انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان سب کی حقیقت کھول دی، جھوٹی قسمیں کھا کر عذر کرنے والوں کا پردہ فاش کردیا، جس کا ذکر اور ان کے انجام بد کا حال اس سے پہلی کئی آیات میں (آیت) يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ سے عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ تک بیان ہوا ہے، اور ان تین بزرگوں نے جو سچ بولا اور اعتراف کیا ان کی توبہ اس آیت میں نازل ہوئی، اور پچاس دن رسول اللہ ﷺ کے اعراض اور صحابہ کرام کے مقاطعہ سلام و کلام کی انتہائی سخت مصیبت جھیلنے کے بعد بڑی سرخروئی اور مبارکبادوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ اور سب مسلمانوں میں مقبول ہوئے۔
ان تینوں انصاری بزرگوں کے واقعہ کی تفصیل احایث صحیحہ سے
صحیحین بخاری و سلم اور اکثر کتب حدیث میں اس واقعہ کے متعلق حضرت کعب بن مالک کی ایک طویل حدیث لکھی گئی ہے، جو بہت سے فوائد اور مسائل اور حقائق پر مشتمل ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس کا پورا ترجمہ یہاں نقل کردیا جائے، ان تین بزرگوں میں سے ایک کعب بن مالک ؓ تھے انہوں نے اپنے واقعہ کی تفصیل اس طرح بتلائی ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے جتنے غزوات میں شرکت کی میں ان سب میں بجز غزوہ تبوک کے آپ کے ساتھ شریک رہا، البتہ غزوہ بدر کا واقعہ چونکہ اچانک پیش آیا اور رسول اللہ ﷺ نے سب کو اس میں شریک ہونے کا حکم بھی نہیں دیا تھا، اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں فرمایا تھا اس میں بھی شریک نہ ہوسکا تھا، اور میں لیلتہ العقبہ کی بیعت میں بھی حاضر تھا جس میں ہم نے اسلام کی حمایت و حفاظت کا معاہدہ کیا تھا، اور مجھے یہ بیعت عقبہ کی حاضری غزوہ بدر کی حاضری سے بھی زیادہ محبوب ہے، اگرچہ غزوہ بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے، اور میرا واقعہ غزوہ تبوک میں غیر حاضری کا یہ ہے کہ میں کسی وقت بھی اس وقت سے زیادہ خوش حال اور مالدار نہ تھا۔ بخدا میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ جو اس وقت موجود تھیں۔
اور رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ غزوات کے معاملہ میں یہ تھی کہ مدینہ سے نکلنے کے وقت اپنے ارادے کے اخفا کے لئے ایسا کرتے تھے کہ جس سمت میں جا کر جہاد کرنا ہو تو مدینہ سے اس کے خلاف سمت کو نکلنے تھے، تاکہ منافقین مخبری کرکے فریق مقابل کو آگاہ نہ کردیں، اور فرمایا کرتے تھے کہ جنگ میں (اس طرح کا) خداع (دھوکہ) جائز ہے۔
یہان تک کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آیا، (یہ جہاد کئی وجہ سے ممتاز تھا) آپ نے سخت گرمی اور تنگدستی کی حالت میں اس جہاد کا قصد فرمایا، اور سفر بھی بڑی دور کا تھا، مقابلہ پر دشمن کی قوت اور تعداد بہت زیادہ تھی، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس جہاد کا کھل کر اعلان کردیا تاکہ مسلمان اس جہاد کے لئے پوری تیاری کرسکیں۔
اس جہاد میں شریک ہونے والوں کی تعداد صحیح مسلم کی روایت کے مطابق دس ہزار سے زائد تھی، اور حاکم کی روایت حضرت معاذ سے یہ ہے کہ ہم اس جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہماری تعداد تیس ہزار سے زائد تھی۔
اور اس جہاد میں نکلنے والوں کی کوئی فہرست نہیں لکھی گئی تھی اس لئے جو لوگ جہاد میں جانا نہیں چاہتے تھے ان کو یہ موقع مل گیا کہ ہم نہ گئے تو کسی کو خبر بھی نہ ہوگی، جس وقت رسول اللہ ﷺ اس جہاد کے لئے نکلے تو وہ وقت تھا کہ کہجوریں پک رہی تھیں، باغات والے ان میں مشغول تھے، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمانوں نے سفر کی تیاری شروع کردی، اور جمعرات کے روز آپ نے اس سفر کا آغاز کیا، اور سفر کے لئے آنحضرت ﷺ کو جمعرات کا دن پسند تھا، خواہ سفر جہاد کا ہو یا کسی دوسرے مقصد کا۔
میرا حال یہ تھا کہ میں روز صبح کو ارادہ کرتا کہ جہاد کی تیاری کروں مگر بغیر کسی تیاری کے واپس آجاتا، میں دل میں کہتا تھا کہ میں جہاد پر قادر ہوں مجھے نکلنا چاہئے، مگر یوں ہی امروز و فردا میں میرا ارادہ ٹلتا رہا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمان جہاد کے لئے روانہ ہوگئے، پھر بھی میرے دل میں یہ آتا رہا کہ میں بھی روانہ ہوجاؤں اور کہیں راستہ میں مل جاؤں اور کاش ! کہ میں ایسا کرلیتا، مگر یہ کام (افسوس ہے کہ) نہ ہوسکا۔
رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں مدینہ میں کہیں جاتا تو یہ بات مجھے غمگین کرتی تھی کہ اس وقت پورے مدینہ میں یا تو وہ لوگ نظر پڑتے تھے جو نفاق میں ڈوبے ہوئے تھے، یا پھر ایسے بیمار معذور جو قطعاً سفر کے قابل نہ تھے دوسری طرف پورے راستہ میں رسول اللہ ﷺ کو میرا خیال کہیں نہیں آیا یہاں تک کہ تبوک پہنچ گئے اس وقت آپ نے ایک مجلس میں ذکر کیا کہ کعب بن مالک کو کیا ہوا وہ کہاں ہیں) ؟
بنو سلمہ کے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کو جہاد سے ان کے عمدہ لباس اور اس پر نظر کرتے رہنے نے روکا ہے، حضرت معاذ بن جبل نے عرض کیا کہ تم نے یہ بری بات کہی ہے، یا رسول اللہ بخدا میں نے ان میں خیر کے سوا کچھ نہیں پایا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔
حضرت کعب کا بیان ہے کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اور قریب تھا کہ میں اپنی غیر حاضری کا کوئی عذر گھبرا کر تیار کرلیتا اور ایسی باتیں پیش کردیتا جس کے ذریعہ میں رسول اللہ ﷺ کی ناراضی سے نکل جاتا اور اس کے لئے اپنے اہل اور دوستوں سے بھی مدد لے لیتا (میرے دل میں یہ خیالات و وساوس گھومتے رہے) یہاں تک کہ جب یہ خبر ملی کہ حضور تشریف لے آئے ہیں تو خیالات فاسدہ میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں آپ کی ناراضی سے کسی ایسی بنیاد پر نہیں نکل سکتا جس میں جھوٹ ہو اس لئے میں نے بالکل سچ بولنے کا عزم کرلیا مجھے صرف سچ ہی نجات دلا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے تو (حسب عادت) چاشت کے وقت یعنی صبح کو آفتاب کچھ بلند ہونے کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے اور عادت شریفہ یہی تھی کہ سفر سے واپسی کا عموماً یہی وقت ہوا کرتا تھا، اور عادت یہ تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے، دو رکعتیں پڑھتے، پھر حضرت فاطمہ کے پاس جاتے، اس کے بعد ازواج مطہرات سے ملتے تھے۔
اسی عادت کے مطابق آپ اول مسجد میں تشریف لے گئے دو رکعت ادا کی، پھر مسجد میں بیٹھ گئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو غزوہ تبوک میں نہ جانے والے منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ اوپر تھی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹے عذر پیش کرکے اس پر جھوٹی قسمیں کھانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہری قول قرار اور قسموں کو قبول کرلیا، اور ان کو بیعت کرلیا، ان کے لئے دعا مغفرت فرمائی اور ان کے باطنی حالات کو اللہ کے سپرد کیا۔
اسی حال میں میں بھی حاضر خدمت ہوگیا ‘ اور چلتے چلتے سامنے جا کر بیٹھ گیا ‘ جب میں نے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا تبسم فرمایا جیسے ناراض آدمی کبھی کیا کرتا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پنا رخ پھیرلیا ‘ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھ سے چہرہ مبارک کیوں پھیر تے ہیں ‘ خدا کی قسم ! میں نے نفاق نہیں کیا ‘ نہ دین کے معاملہ میں کسی شبہ وشک میں مبتلا ہوا ‘ نہ اس میں کوئی تبدیلی کی آپ نے فرمایا کہ پھر جہاد میں کیوں نہیں گئے ؟ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟
میں نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ اگر میں آپ کے سوا دنیا کے کسی دوسرے آدمی کے سامنے بیٹھتا تو مجھ یقین ہے کہ میں کوئی عذر گھڑ کر اس کی نارضی سے بچ جاتا ‘ کیونکہ مجھے جدال اور بات بنانے میں مہا رت حاصل ہے ‘ لیکن قسم ہے اللہ کی کہ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر میں نے آپ سے کوئی جھوٹی بات کہی جس سے آپ وقتی طور پر راضی ہوجائیں تو کچھ دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقت حال آپ پر کھول کر مجھ سے ناراض کردیں گے، اور اگر میں نے سچی بات بتلا دی جس سے بالفعل آپ مجھ پر ناراض ہوں تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دیں گے، صحیح بات یہ ہے کہ جہاد سے غائب رہنے میں میرا کوئی عذر نہیں تھا، میں کسی وقت بھی مالی اور جسمانی طور پر اتنا قوی اور پیسے والا نہیں ہوا تھا جتنا اس وقت تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے تو سچ بولا ہے، پھر فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ فرما دیں، میں یہاں سے اٹھ کر چلا تو بنی سلمہ کے چند آدمی میرے پیچھے لگے، اور کہنے لگے کہ اس سے پہلے تو ہمارے علم میں تم نے کوئی گناہ نہیں کیا یہ تم نے کیا بےوقوفی کی کہ اس وقت کوئی عذر پیش کردیتے جیسا دوسرے متخلفین نے پیش کیا، اور تمہارے گناہ کی معافی کے لئے رسول اللہ ﷺ کا استغفار کرنا کافی ہوجاتا، بخدا یہ لوگ مجھے بار بار ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آگیا کہ میں لوٹ جاؤں، اور پھر جا کر عرض کروں کہ میں نے جو بات پہلے کہی تھی وہ غلط تھی، میرا عذر صحیح موجود تھا۔
مگر پھر میں نے دل میں کہا کہ میں ایک گناہ کے دو گناہ نہ بناؤں ایک گناہ تو تخلف کا سرزد ہوچکا ہے دوسرا گناہ جھوٹ بولنے کا کر گذروں، پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ متخلفین میں کوئی اور بھی میرے ساتھ ہے جس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہو، ان لوگوں نے بتلایا کہ دو آدمی اور ہیں جنہوں نے تمہاری طرح اقرار جرم کرلیا، اور ان کو بھی وہی جواب دیا گیا جو تمہیں کہا گیا ہے، (کہ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو) میں نے پوچھا کہ وہ دو کون ہیں ؟ انہوں نے بتلایا کہ ایک مرارہ ابن ربیع العمری دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں۔
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ ان میں سے پہلے (یعنی مرارہ) کے تخلف کا تو سبب یہ ہوا کہ ان کا ایک باغ تھا جس کا پھل اس وقت پک رہا تھا، تو انہوں نے اپنے دل میں کہا کہ تم نے اس سے پہلے سے غزوات میں حصہ لیا ہے، اگر اس سال جہاد میں نہ جاؤ تو کیا جرم ہے، اس کے بعد جب انھیں اپنے گناہ پر تنبہ ہوا تو انہوں نے اللہ سے عہد کرلیا کر یہ باغ میں نے اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔
اور دوسرے بزرگ حضرت ہلال بن امیہ کا یہ واقعہ ہوا کہ ان کے اہل و عیال عرصہ سے متفرق تھے، اس موقع پر سب جمع ہوگئے تو یہ خیال کیا کہ اس سال میں جہاد میں نہ جاؤں اپنے اہل و عیال میں بسر کروں، ان کو بھی جب اپنے گناہ کا خیال آیا تو انہوں نے یہ عہد کیا کہ اب میں اپنے اہل و عیال سے علحدگی اختیار کرلوں گا۔
کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے ایسے دو بزرگوں کا ذکر کیا جو غزوہ بدر کے مجاہدین میں سے ہیں، تو میں نے کہا کہ بس میرے لئے انہی دونوں بزرگوں کا عمل قابل تقلید ہے، یہ کہہ کر میں اپنے گھر چلا گیا۔
ادھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو ہم تینوں کے ساتھ سلام کلام کرنے سے منع فرمایا، اس وقت ہم تو سب مسلمانوں سے بدستور محبت کرتے تھے مگر ان سب کا رخ ہم سے پھر گیا تھا۔
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اب ہمارا حال یہ ہوگیا کہ ہم لوگوں کے پاس جاتے تو کوئی ہم سے کلام نہ کرتا نہ سلام کرتا نہ سلام کا جواب دیتا۔
مسند عبد الرزاق میں ہے کہ اس وقت ہماری دنیا بالکل بدل گئی ایسا معلوم ہونے لگا کہ نہ وہ لوگ ہیں جو پہلے تھے نہ ہمارے باغ اور مکان ہیں جو ان سے پہلے تھے، سب اجنبی نظر آنے لگے، مجھے سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر میں اس حال میں مرگیا تو رسول اللہ ﷺ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑہیں گے، یا خدانخواستہ اس عرصہ میں حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں عمر بھر اسی طرح سب لوگوں میں ذلیل و خوار پھرتا رہوں گا، اس کی وجہ سے میرے لئے ساری زمین بیگانہ و ویرانہ نظر آنے لگی، اسی حال میں ہم پر پچاس راتیں گذر گئیں، اس زمانہ میں میرے دونوں ساتھی (مرارہ اور ہلال) تو شکستہ دل ہو کر گھر میں بیٹھ رہے اور رات دن روتے تھے، لیکن میں جوان آدمی تھا، باہر نکلتا اور چلتا پھرتا تھا اور نماز میں سب مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں پھرتا تھا مگر نہ کوئی مجھ سے کلام کرتا نہ میرے سلام کا جواب دیتا، رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں نماز کے بعد حاضر ہوتا اور سلام کرتا تو یہ دیکھا کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے لب مبارک کو جواب سلام کیلئے حرکت ہوئی یا نہیں، پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑہتا تو نظر چرا کر آپکی طرف دیکھتا تو معلوم ہوتا کہ جب میں نماز میں مشغول ہوجاتا ہوں تو آپ میری طرف دیکھتے ہیں اور جب میں آپکی طرف دیکھتا ہوں تو رخ پھیر لیتے ہیں۔
جب لوگوں کی یہ بیوفائی دراز ہوئی تو ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی قتادہ کے پاس گیا جو میرے سب سے زیادہ دوست تھے میں ان کے باغ میں دیوار پھاند کر داخل ہوا اور ان کو سلام کیا، خدا کی قسم ! انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہ دیا میں نے پو چھا کہ اے قتادہ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتا ہوں، اس پر بھی قتادہ نے سکوت کیا، کوئی جواب نہیں دیا، جب میں نے بار بار یہ سوال دہرایا تو تیسری یا چوتھی مرتبہ میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ جانتا ہے اور اس کا رسول، میں رو پڑا اور اسی طرح دیوار پھاند کر باغ سے باہر آگیا، اسی زمانہ میں ایک روز میں مدینہ کے بازار میں چل رہا تھا کہ اچانک ملک شام کا ایک نبطی شخص جو غلہ فروخت کرنے کیلئے شام سے مدینہ میں آیا تھا اس کو دیکھا کہ لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتاسکتا ہے ؟ لوگوں نے مجھے دیکھ کر میری طرف اشارہ کیا، وہ آدمی میرے پاس آگیا اور مجھے شاہ غسان کا ایک خط دیا جو ایک ریشمی رومال پر لکھا ہوا تھا جس کا مضمون یہ تھا
" اما بعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ کے نبی نے آپ سے بیوفائی کی اور آپ کو دور کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں ذلت اور ہلاکت کی جگہ میں نہیں رکھا ہے، تم اگر ہمارے یہاں آنا پسند کرو تو آجاؤ ہم تمہاری مدد کریں گے "۔
میں نے جب یہ خط پڑھا تو کہا کہ یہ اور ایک میرا امتحان اور آزمائش آئی کہ اہل کفر کو مجھ سے اس کی طمع اور توقع ہوگئی (کہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں) میں یہ خط لے کر آگے بڑھا ایک دکان پر تنور لگا ہوا تھا اس میں جھونک دیا۔
حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب پچاس میں سے چالیس راتیں گذر چکی تھیں تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک قاصد خزیمہ بن ثابت میرے پاس آرہے ہیں، آکر یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے بھی علحدگی اختیار کرلو میں نے پوچھا کہ کیا طلاق دیدوں یا کیا کروں ؟ انہوں نے بتلایا کہ نہیں عملا اس سے الگ رہو قریب نہ جاؤ اسی طرح کا حکم میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی پہنچا میں نے بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکہ میں چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرما دیں۔
ہلال بن امیہ کی اہلیہ خولہ بنت عاصم یہ حکم سن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہلال بن امیہ ایک بوڑھے ضعیف آدمی ہیں اور کوئی ان کا خادم نہیں، ابن ابی شیبہ کی روایت یہ بھی ہے کہ وہ ضعیف البصر بھی ہیں کیا آپ یہ پسند نہیں فرمائیں گے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں، فرمایا کہ خدمت کی ان میں کوئی حرکت ہی نہیں، اور واللہ ان پر تو مسلسل گریہ طاری ہے رات دن روتے رہتے ہیں۔
کعب بن مالک فرماتے ہیں مجھے بھی میرے بعض متعلقین نے مشورہ دیا کہ تم بھی آنحضرت ﷺ سے بیوی کو ساتھ رکھنے کی اجازت لے لو جیسا کہ آپ نے ہلال کو اجازت دے دی ہے میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، معلوم نہیں رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیں اس کے علاوہ میں جوان آدمی ہوں (بیوی کو ساتھ رکھنا احتیاط کے خلاف ہے، چناچہ اسی حال پر میں نے دس راتیں اور گذاریں یہاں تک کہ پچاس راتیں مکمل ہوگئیں، مسند عبد الرزاق کی روایت میں ہے کہ اس وقت ہماری توبہ رسول اللہ ﷺ پر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت نازل ہوئی، ام المؤ منین حضرت ام سلمہ جو اس وقت حاضر تھیں انہوں نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو کعب بن مالک کو اسی وقت اس کی خبر کردی جائے آپ نے فرمایا کہ ایسا ہوا تو ابھی لوگوں کا ہجوم ہوجائے گا رات کی نیند مشکل ہوجا ئیگی۔
کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ پچاسویں رات کے بعد صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا اور حالت وہ تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے کہ مجھ پر میری جان اور زمین باوجود وسعت کے تنگ ہوچکی تھی، اچانک میں نے سلع پہاڑ کے اوپر سے کسی چلانے والے آدمی کی آواز سنی جو بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک بشارت ہو۔
محمد بن عمرو کی روایت میں ہے کہ یہ بلند آواز سے کہنے والے ابوبکر تھے جنہوں نے جبل سلع پر چڑھ کر یہ آواز دی کہ اللہ نے کعب کی توبہ قبول فرمالی بشارت ہو، اور عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ یہ خوشخبری حضرت کعب کو سنانے کے لئے دو آدمی دوڑے ان میں سے ایک آگے بڑھ گیا تو جو پیچھے رہ گیا تھا اس نے یہ کیا کہ سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دے دی اور کہا جاتا ہے کہ یہ دوڑنے والے دو بزرگ حضرت صدیق اکبر اور فاروق اعظم ؓ تھے۔
کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ یہ آواز سن کر میں سجدے میں گرگیا اور انتہائی فرحت سے رونے لگا، اور مجھے معلوم ہوگیا کہ اب کشادگی آگئی رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرام کو ہماری توبہ قبول ہونے کی خبر دی تھی، اب سب طرف سے لوگ ہم تینوں کو مبارکباد دینے کیلئے دوڑ پڑے، بعض لوگ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے مگر پہاڑ سے آواز دینے والے کی آواز سب سے پہلے پہنچ گئی۔
کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے نکلا تو لوگ جوق در جوق مجھے مبارکباد دینے کیلئے آرہے تھے، کعب فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں، آپ کے گرد صحابہ کرام کا مجمع ہے مجھے دیکھ کر سب سے پہلے طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہو کر میری طرف لپکے اور مجھ سے مصافحہ کرکے قبول توبہ پر مبارک باد دی طلحہ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولتا جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی کی وجہ سے چمک رہا تھا، آپ نے فرمایا کہ اے کعب بشارت ہو تمہیں ایسے مبارک دن کی جو تمہاری عمر میں پیدائش سے لے کر آج تک سب سے زیادہ بہتر دن ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ حکم اللہ تعالیٰ کا ہے تم نے سچ بولا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری سچائی کو ظاہر فرما دیا۔
جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو عرض کیا یا رسول اللہ میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سب مال و متاع سے نکل جاؤں کہ سب کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردوں، آپ نے فرمایا نہیں کچھ مال اپنی ضرورت کیلئے رہنے دو یہ بہتر ہے، میں نے عرض کیا کہ اچھا آدھا مال صدقہ کردوں آپ نے اس سے بھی انکار فرمایا، میں نے پھر ایک تہائی مال کی اجازت مانگی تو آپ نے اس کو قبول فرما لیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے اس لئے میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کبھی سچ کے سوا کوئی کلمہ نہیں بولوں گا، پھر فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سچ بولنے کا عہد کیا تھا الحمد اللہ آج تک کوئی کلمہ جھوٹ کا میری زبان پر نہیں آیا، اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھیں گے، کعب فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اسلام کے بعد اس سے بڑی نعمت مجھے نہیں ملی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ بولا جھوٹ سے پرہیز کیا کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو اسی طرح ہلاکت میں پڑجاتا جس طرح دوسرے جھوٹی قسمیں کھانیوالے ہلاک ہوئے جن کے بارے میں قرآن میں یہ نازل ہوا(آیت) سَيَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ سے لے کر فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ تک بعض حضرات نے فرمایا کہ ان تینوں حضرات سے مقاطعہ کا پچاس دن تک جاری رہنا شاید اس حکمت پر مبنی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک میں پچاس دن ہی صرف ہوئے تھے (یہ پوری روایت اور تفصیل واقعہ تفسیر مظہری سے لیا گیا ہے)۔
فوائد متعلقہ حدیث مذکورہ کعب بن مالک
حضرت کعب بن مالک نے اپنے واقعہ کو جس شرح و بسط اور تفصیل سے بیان فرمایا ہے اس میں مسلمانوں کے لئے بہت سے فوائد اور ہدایات ہیں، اسی لئے اس جگہ اس حدیث کو پورا لکھا گیا ہے وہ فوائد یہ ہیں
ا۔ اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عادت عام غزوات میں یہ تھی کہ جس طرف جانا ہوتا اس کی مخالف سمت سے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوتے تاکہ مخالفین اسلام کو یہ معلوم نہ ہو کہ آپ کس قوم یا قبیلہ کے جہاد کے لئے جا رہے ہیں، اسی کو آپ نے فرمایا الحرب خدعۃ یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے، اس سے بعض لوگ اس مغالطہ میں پڑجاتے ہیں کہ جنگ و جہاد میں جھوٹ بول کر مخالف کو دھوکہ دینا جائز ہے یہ صحیح نہیں بلکہ مراد اس دھوکہ سے یہ ہے کہ اپنا عمل ایسا کرے جس سے مخالفین دھوکہ میں پڑجائیں، جیسے جہاد کیلئے مخالف سمت سے نکلنا، صریح جھوٹ بول کر دھوکہ دینا مراد نہیں وہ جنگ میں بھی جائز نہیں، اسی طرح یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ یہ عمل دھوکہ جس کو جائز قرار دیا ہے اس کا کوئی تعلق عہد و معاہدہ سے نہیں اور عہد شکنی صلح ہو یا جنگ کسی حال میں جائز نہیں۔
2۔ سفر کیلئے رسول اللہ ﷺ کو جمعرات کا دن پسند تھا خواہ سفر جہاد کا ہو یا کسی دوسری ضرورت کا۔
3۔ اپنے کسی بزرگ مرشد یا استاد یا باپ کو راضی کرنے کے لئے جھوٹ بولنا جائز بھی نہیں اور اس کا انجام بھی اچھا نہیں رسول اللہ ﷺ کو تو حقیقت حال کا علم بذریعہ وحی ہوجاتا تھا، اس لئے جھوٹ بولنے کا انجام برا تھا جیسا کہ کعب بن مالک اور دوسرے متخلفین کے واقعہ مذکورہ سے واضح ہوا، آپ کے بعد دوسرے بزرگوں کو وحی تو ہو نہیں سکتی الہام و کشف سے علم ہوجانا بھی ضروری نہیں، لیکن تجربہ شاہد ہے کہ جھوٹ بولنے کی ایک نحوست ہوتی ہے کہ قدرتی طور پر ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں کہ بالاخر یہ بزرگ اس سے ناراض ہو ہی جاتا ہے۔
4۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ کسی گناہ کی سزا میں مسلمانوں کے امیر کو یہ بھی حق ہے کہ کسی شخص سے سلام و کلام قطع کردینے کا حکم دے دے جیسے اس واقعہ میں ان تین بزرگوں کے متعلق پیش آیا۔
5۔ اس واقعہ سے صحابہ کرام کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انتہائی محبت معلوم ہوئی کہ اس ناراضی اور مقاطعہ سلام و کلام کے زمانہ میں بھی غایت محبت سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری بھی نہیں چھوڑی اور کن انکھیوں سے دیکھ کر آپ کی توجہ اور تعلق کا حال معلوم کرنے کی فکر رہی۔
6۔ کعب بن مالک کے گہرے دوست قتادہ کا معاملہ کہ ان کے سلام کا جواب نہ دیا اور کوئی کلام نہ کیا، یہ ظاہر ہے کہ یہ کسی دشمنی یا مخالفت یا بغض سے نہیں بلکہ حکم رسول اللہ ﷺ کے اتباع کی وجہ سے تھا، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا بنایا ہوا قانون صرف لوگوں کے ظاہر پر نافذ نہ ہوتا تھا بلکہ دلوں پر بھی اس کی حکومت ہوتی تھی اور حاضر و غائب کسی حال میں اس کے خلاف نہ کرتے تھے اگرچہ اس میں کسی بڑے سے بڑے دوست عزیز کے خلاف ہی ہو۔
7۔ حضرت کعب کے پاس بادشاہ غسان کا خط آنے اور اس کو تنور میں ڈالنے کے واقعہ سے صحابہ کرام کے ایمان کی انتہائی پختگی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ اور تمام مسلمانوں کے مقاطعہ سے سخت پریشان ہونے کے عالم میں بھی ایک بڑے بادشاہ کے لالچ دلانے سے ان کے دل میں کوئی میلان پیدا نہیں ہوا۔
8۔ قبول توبہ نازل ہونے کے بعد صدیق اکبر اور فاروق اعظم اور عام صحابہ کرام کا کعب بن مالک کو بشارت دینے کیلئے دوڑنا اور اس سے پہلے سب کا سلام و کلام تک سے سخت پرہیز کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقاطعہ کے زمانے میں بھی ان سب کے دلوں میں حضرت کعب سے محبت اور تعلق تھا، مگر حکم رسول کے سامنے سب کچھ چھوڑا ہوا تھا، جب آیت توبہ نازل ہوئی تو ان کے گہرے تعلق کا انداز ہوا۔
9۔ صحابہ کرام کا حضرت کعب کو خوشخبری دینے اور مبارکباد کیلئے جانے سے معلوم ہوا کہ کسی خوشی کے موقع پر اپنے دوست احباب کو مبارکباد دینا سنت سے ثابت ہے۔
10۔ کسی گناہ سے توبہ کے وقت مال کا صدقہ کرنا گناہ کے اثر کو زائل کرنے کے لئے بہتر ہے مگر تمام مال خیرات کردینا اچھا نہیں، ایک تہائی مال سے زائد صدقہ کرنا رسول اللہ ﷺ نے پسند نہیں فرمایا۔
Ayah 9:119(آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ، سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا پھر ان کی توبہ قبول ہوئی یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لئے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کیلئے ہدایت فرمائی گئی، اور كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی اس میں منافقین کی صحبت مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہئے اور صادقین کی صحبت اختیار کرنا چاہئے، اس جگہ قرآن حکیم نے علماء صلحاء کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرما کر عالم و صالح کی پہچان بھی بتلا دی ہے کہ صالح صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو، عمل کا بھی سچا ہو۔
Ayahs 9:120–121خلاصہ تفسیر
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش میں (رہتے) ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ (زیبا تھا) کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمج ہیں (کہ آپ تو تکلیفیں سہیں اور یہ آرام سے بیٹھے رہیں، بلکہ آپ کے ہمراہ جانا ضروری تھا اور) یہ (ساتھ جانے کا ضروری ہونا) اس سبب سے ہے کہ (علاوہ ادائے حق محبت رسول اللہ کے ان مجاہدین کو بات بات پر ثواب حاصل ہوا ہے اگر خلاص کے ساتھ جاتے ان کو بھی یہ ملتا چنانچہ) ان کو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی ان سب پر ان کے نام ایک ایک نیک کام لکھا گیا (باوجودیکہ بعض امور افعال اختیاریہ نہیں، مگر یہ مقتضائے مقبولیت و محبوبیت ہے کہ امور اضطراریہ بھی مثل اعمال اختیاریہ کے موجب ثواب قرار دیئے گئے، اور اس وعدہ میں احتمال تخلف کا نہیں کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتے (پس وعدہ کرلیا تو ضائع نہ ہوگا) اور (نیز) جو کچھ چھوٹا یا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے یہ سب بھی ان کے نام (نیکیوں میں) لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے (ان سب) کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے (کیونکہ جب ثواب لکھا گیا تو بدلہ ملے گا)۔
معارف و مسائل
ان دونوں آیتوں میں متخلفین کو تخلف پر ملامت اور فہمائش اور شرکاء جہاد کے فضائل اور بسلسلہ جہاد قدم قدم پر ہر قول و فعل اور ہر محنت و مشقت پر اجر عظیم کا ذکر ہے جس میں بوقت جہاد دشمن کو کوئی تکلیف پہنچا دینا اور ایسی چال چلنا جس سے ان کو غیظ ہو یہ سب اعمال صالحہ موجب ثواب ہیں۔