9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعارف القرآن

Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دے کہ مال خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ہرگز قبول نہ ہوگا تم سے بیشک تم نافرمان لوگ ہو،

خلاصہ تفسیر آپ (ان منافقین سے) فرما دیجئے کہ تم (جہاد وغیرہ میں) خواہ خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے کسی طرح (خدا کے نزدیک) مقبول نہیں (کیونکہ) بلاشبہ تم نافرمانی کرنے والے لوگ ہو، (مراد اس سے کفر ہے جیسا کہ آگے آتا ہے) اور ان کی خیرات قبول ہونے سے اس کے سوا کوئی مانع نہیں کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا (اسی کو اوپر نافرمان کہا تھا اور کافر کا کوئی عمل مقبول نہیں) اور (اس کفر باطنی کی علامت ظاہر میں یہ ہے کہ) وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے مگر ہارے جی سے اور (نیک کام میں) خرچ نہیں کرتے مگر ناگواری کے ساتھ (کیونکہ دل میں ایمان تو ہے نہیں جس سے امید ثواب ہو اور اس امید سے رغبت ہو محض بدنامی سے بچنے کے ہی کرتے ہیں جو کچھ کرتے ہیں اور جب وہ ایسے مردود ہیں تو ان کے اموال اور اولاد آپ کو (اس) تعجب میں نہ ڈالیں (کہ ایسے غیر مقبول مردود لوگوں کو اتنے انعامات کس طرح عطا ہوئے، کیونکہ واقع میں ان کے لئے نعمت نہیں ایک قسم کا عذاب ہی ہے کیونکہ اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیوی زندگی میں (بھی) ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جان کفر ہی کی حالت میں نکل جاوے (جس سے آخرت میں بھی گرفتار عذاب ہوں تو جس مال و اولاد کا یہ انجام ہو اس کو انعام سمجہنا ہی غلطی ہے) اور یہ (منافق ہیں) وہ تم میں سے نہیں، لیکن (بات یہ ہے کہ) وہ ڈرپوک لوگ ہیں (ڈر کے مارے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے کفر کو چھپاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دوسرے کفار کا سا معاملہ مسلمانوں کی طرف سے نہ ہونے لگے، اور کسی دوسری جگہ ان کا ٹھکانا نہیں جہان آزادی سے جا رہیں ورنہ) ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ کی جگہ مل جاتی یا (کہیں پہاڑ وغیرہ میں) غار (مل جاتے) یا کوئی گھس بیٹھنے کی ذرا جگہ (مل جاتی) تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر ہی چل دیتے (مگر یہ صورت ہی نہیں اس لئے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں) اور ان میں بعض لوگ وہ ہیں جو صدقات (تقسیم کرنے) کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں (اس تقسیم میں نعوذ بااللہ انصاف نہیں کیا گیا) تو اگر صدقات میں سے ان کو (اپنی خواہش کے مطابق) نہیں ملتا تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں (جس سے معلوم ہوا کہ ان کے اعتراض کا منشاء دراصل کوئی اصول نہیں، بلکہ حرص دنیا اور خود غرضی ہے) اور ان کے لئے بہتر ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی رہتے جو کچھ اللہ نے ان کو (دلوایا تھا) اور اس کے رسول نے دیا تھا اور (اس کے متعلق) یوں کہتے کہ ہم کو اللہ (کا دیا) کافی ہے (ہم کو اتنا ہی قاعدہ سے مل سکتا تھا اسی میں خیر و برکت ہوگی، اور پھر اگر حاجت پیش آئے گی اور مصلحت ہوگی تو) آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہم کو اور دے گا، اور اس کے رسول ﷺ دیں گے ہم (دل سے) اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اسی سے سب امیدیں رکھتے ہیں)۔
Ayahs 9:54–59

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور موقوف نہیں ہوا قبول ہوا ان کے خرچ کا مگر اسی بات پر کہ وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور نہیں آتے نماز کو مگر ہارے جی سے اور خرچ نہیں کرتے مگر برے دل سے،

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

سو تو تعجب نہ کر ان کے مال اور اولاد سے، یہی چاہتا ہے اللہ کہ ان کو عذاب میں رکھے ان چیزوں کی وجہ سے دنیا کی زندگی میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بیشک تم میں ہیں اور وہ تم میں نہیں لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں تم سے،

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر وہ پاویں کوئی پناہ کی جگہ یا غار یا سر گھسانے کو جگہ تو الٹے بھاگیں اسی طرف رسیاں تڑاتے،

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ تجھ کو طعن دیتے ہیں خیرات بانٹنے میں سو اگر ان کو ملے اس میں سے تو راضی ہوں اور اگر نہ ملے تو جب ہی وہ ناخوش ہوجاویں،

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ راضی ہوجاتے اسی پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہم کو اللہ اور وہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول ہم کو تو اللہ ہی چاہئے۔

معارف و مسائل سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری پیش آگئی تو غمون کا پہاڑ آپڑا، اور اگر ساری چیزیں اتفاق سے طبیعت اور خواہش کے مطابق حاصل بھی ہوجائیں تو اس کے گھٹ جانے کا اندیشہ اور بڑھاتے چلے جانے کی فکر کسی وقت چین نہیں لینے دیتی۔ پھر جب آخرکار یہ چیزیں موت کے وقت یا پہلے ہی اس کے ہاتھ سے جاتی ہیں تو اس پر حسرت و یاس مسلط ہوجاتی ہے یہ سب عذاب ہی عذاب ہے جس کو بیوقوف انسان جس نے سامان راحت کا نام راحت رکھ لیا ہے، اور حقیقی راحت ہی کو راحت سمجھ کر اس پر مگن رہتا ہے، جو حقیقت میں اس کیلئے دنیا کے چین و آرام کا بھی دشمن ہے اور آخرت کے عذاب کا مقدمہ بھی۔ کیا صدقات کا مال کافر کو دیا جاسکتا ہے آخری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اموال صدقات میں سے منافقین کو بھی حصہ ملا کرتا تھا، مگر وہ خواہش کے مطابق نہ ملنے پر ناراض ہوجاتے اور طعن وتشنیع کرنے لگتے تھے، یہاں اگر صدقات سے مراد عام معنی لئے جائیں جس میں صدقات واجبہ اور نافلہ سب شامل ہیں، تو کوئی اشکال ہی نہیں کیونکہ نفلی صدقات میں سے غیر مسلموں کو دینا باتفاق امت جائز اور سنت سے ثابت ہے، اور اگر صدقات سے مراد اس جگہ صدقات فرض، زکوٰة عشر وغیرہ ہی ہوں، تو منافقین کو اس میں سے حصہ دینا اس بناء پر تھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، اور ظاہری کوئی حجت ان کے کفر پر قائم نہ ہوئی تھی، اور اللہ تعالیٰ نے بمصلحت حکم یہی دے رکھا تھا کہ منافقین کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے جو مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا تھا ‘ (بیان القرآن ملخصاً) (آیت) لَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى، اس آیت میں منافقین کی دو علامتیں بتلائی گئی میں، ایک یہ کہ نماز کو آویں تو سستی کاہلی اور ہارے جی سے آویں دوسرے اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو ناگواری کے ساتھ خرچ کریں۔ اس میں مسلمانوں کو بھی اس پر تنبیہ ہے کہ نماز میں سستی کاہلی اور زکوٰة صدقات سے دلی ناگواری پیدا ہونا علامت نفاق ہے، مسلمانوں کو کوشش کرکے ان علامات سے بچنا چاہئے۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

زکوٰة جو ہے سو وہ حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور زکوٰة کے کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پرچانا منظور ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو تاوان بھریں اور اللہ کے رستہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

خلاصہ تفسیر (فرض) صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات (کی تحصیل وصول کرنے) پر متعین ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا (منظور) ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں (صرف کیا جائے) اور قرض داروں کے قرضہ (ادا کرنے) میں اور جہاد والوں کے سامان) میں اور مسافروں کی (امداد) میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ معارف و مسائل مصارف الصدقات اس سے پہلی آیتوں میں صدقات کے بارے میں رسول کریم کا ذکر تھا، جس میں منافقین نے آنحضرت ﷺ پر یہ الزام لگایا تھا آپ (معاذ اللہ) صدقات کی تقسیم میں انصاف نہیں کرتے، جس کو چاہتے ہیں جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے مصارف صدقات کو متعین فرما کر ان کی اس غلط فہمی کو دور کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات خود متعین فرما دی ہے کہ صدقات کن لوگوں کو دینے چاہئیں، اور رسول کریم ﷺ تقسیم صدقات میں اسی ارشاد ربانی کی تعمیل فرماتے ہیں، اپنی رائے سے کچھ نہیں کرتے۔ اس کی تصدیق اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ابوداؤد اور دار قطنی نے حضرت زیاد بن حارث صدائی کی روایت سے نقل کی ہے، یہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو معلوم ہوا کہ آپ ان کی قوم کے مقابلہ کے لئے ایک لشکر مسلمانوں کا روانہ فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ لشکر نہ بھیجیں، میں اس کا ذمہ لیتا ہوں کہ وہ سب مطیع و فرمانبردار ہو کر آجائیں گے، پھر میں نے اپنی قوم کو خط لکھا تو سب کے سب مسلمان ہوگئے، اس پر آپ نے فرمایایا اخا صداء المطاع فی قومہ، جس میں گویا ان کو یہ خطاب دیا گیا کہ یہ اپنی قوم کے محبوب اور مقتدا ہیں میں نے عرض کیا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے ان کو ہدایت ہوگئی اور وہ مسلمان ہوگئے، یہ فرماتے ہیں کہ میں ابھی اس مجلس میں حاضر تھا کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کچھ سوال کرنے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس کو یہ جواب دیا کہ صدقات کی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا غیر نبی کے بھی حوالہ نہیں کیا، بلکہ خود ہی اس کے آٹھ مصرف متعین فرما دیئے، اگر تم ان آٹھ میں داخل ہو تو تمہیں دے سکتا ہوں، انتہٰی۔ (تفسیر قرطبی، ص 168 ج 8) آیت کا شان نزول معلوم کرنے کے بعد آیت کی مکمل تفسیر اور تشریح سننے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ جل شانہ نے تمام مخلوقات انسان و حیوان وغیرہ کو رزق دینے کا وعدہ فرمایا ہے، (آیت) وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا، اور ساتھ ہی اپنی حکمت بالغہ سے ایسا نہیں کیا کہ سب کو رزق میں برابر کردیتے، غنی و فقیر کا فرق نہ رہتا، اس میں انسان کی اخلاقی تربیت اور نظام عالم سے متعلق سینکڑوں حکمتیں ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں غریب فقیر کا حصہ لگا دیا، ارشاد فرمایا (آیت) وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ، جس میں بتلا دیا کہ مالداروں کے مال میں اللہ تعالیٰ نے ایک معین مقدار کا حصہ فقراء کے لئے رکھ دیا ہے، جو ان فقراء کا حق ہے۔ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ مال داروں کے مال میں سے جو صدقہ نکالنے کا حکم دیا گیا ہے یہ کوئی ان کا احسان نہیں، بلکہ فقراء کا ایک حق ہے، جس کی ادائیگی ان کے ذمہ ضروری ہے، دوسرے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک متعین ہے، یہ نہیں کہ جس کا جی چاہے جب چاہے اس میں کمی بیشی کردے، اللہ تعالیٰ نے اس معین حق کی مقدار بھی بتلانے کا کام رسول کریم ﷺ کے سپرد فرمایا، اور اسی لئے آپ نے اس کا اس قدر اہتمام فرمایا کہ صحابہ کرام کو صرف زبانی بتلا دینے پر کفایت نہیں فرمائی، بلکہ اس معاملہ کے متعلق مفصل فرمان لکھوا کر حضرت فاروق اعظم اور عمرو بن حزم کو سپرد فرمائے، جس سے واضح طور پر ثابت ہوگیا کہ زکوٰة کے نصاب اور ہر نصاب میں سے مقدار زکوٰة ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے واسطہ سے متعین کرکے بتلا دیئے ہیں، اس میں کسی زمانہ اور کسی ملک میں کسی کو کمی بیشی یا تغیر و تبدل کا کوئی حق نہیں۔ صدقہ، زکوٰة کی فرضیت صحیح یہ ہے کہ اوائل اسلام ہی میں مکہ مکرمہ کے اندر نازل ہوچکی تھی، جیسا کہ امام تفسیر ابن کثیر نے سورة مزمل کی (آیت) فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ، سے استدلال فرمایا ہے کیونکہ یہ سورة بالکل ابتداء وحی کے زمانہ کی سورتوں میں سے ہے، اس میں نماز کے ساتھ زکوٰة کا حکم بھی ہے، البتہ روایات حدیث سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء اسلام میں زکوٰة کے لئے کوئی خاص نصاب یا خاص مقدار مقرر نہ تھی، بلکہ جو کچھ ایک مسلمان کی اپنی ضرورتوں سے بچ رہے وہ سب اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا تھا، نصابوں کا تعین اور مقدار زکوٰۃ کا بیان بعد ہجرت مدینہ طیبہ میں ہوا ہے، اور پھر زکوٰة و صدقات کی وصول یابی کا نظام محکمانہ انداز کا تو فتح مکہ کے بعد عمل میں آیا ہے۔ اس آیت میں باجماع صحابہ وتابعین اسی صدقہ واجبہ کے مصارف کا بیان ہے جو نماز کی طرح مسلمانوں پر فرض ہے، کیونکہ جو مصارف اس آیت میں متعین کے گئے ہیں وہ صدقات فرض کے مصارف ہیں، نفلی صدقات میں روایات کی تصریحات کی بنا پر بہت وسعت ہے وہ ان آٹھ مصارف میں منحصر نہیں ہیں۔ اگرچہ اوپر کی آیات میں صدقات کا لفظ عام صدقات کے لئے استعمال ہوا ہے، جس میں واجب اور نفلی دونوں داخل ہیں، مگر اس آیت میں باجماع امت صدقات فرض ہی کے مصارف کا بیان مراد ہے، اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ قرآن میں جہاں کہیں لفظ صدقہ مطلقاً بولا گیا ہے اور کوئی قرینہ نفلی صدقہ کا نہیں ہے تو وہاں صدقہ فرض ہی مراد ہوتا ہے۔ اس آیت کو لفظ انما سے شروع کیا گیا ہے، یہ لفظ حصر و انحصار کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس شروع ہی کے کلمہ نے بتلا دیا کہ صدقات کے جو مصارف آگے بیان ہو رہے ہیں تمام صدقات واجبہ صرف انہیں میں خرچ ہونے چاہئیں ان کے علاوہ کسی دوسرے مصرف خیر میں صدقات واجبہ صرف نہیں ہو سکتے، جیسے جہاد کی تیاری یا بناء مسجد و مدارس یا دوسرے رفاہ عام کے ادارے، یہ سب چیزیں بھی اگرچہ ضروری ہیں، اور ان میں خرچ کرنے کا بہت بڑا ثواب ہے، مگر صدقات فرض جن کی مقداریں متعین کردی گئی ہیں، ان کو ان میں نہیں لگایا جاسکتا۔ آیت کا دوسرا لفظ صدقات، صدقہ کی جمع ہے، صدقہ لغت میں اس مال کے جزء کو کہا جاتا ہے جو اللہ کے لئے خرچ کیا جائے (قاموس) امام راغب نے مفردات القرآن میں فرمایا کہ صدقہ کو صدقہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا دینے والا گویا یہ دعوی کرتا ہے کہ میں اپنے قول و فعل میں صادق ہوں، اس کے خرچ کرنے کی کوئی غرض دنیوی نہیں، بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لئے خرچ کررہا ہوں، اسی لئے جس صدقہ میں کوئی نام و نمود یا دنیوی غرض شامل ہوجائے قرآن کریم نے اس کو کالعدم قرار دیا ہے۔ لفظ صدقہ اپنے اصلی معنی کی رو سے عام ہے، نفلی صدقہ کو بھی کہا جاتا ہے، فرض زکوٰة کو بھی، نفل کے لئے اس کا استعمال عام ہے ہی، فرض کے لئے بھی قرآن کریم میں بہت جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے، جیسے (آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، اور آیت زیر بحث اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ وغیرہ، بلکہ قرطبی کی تحقیق تو یہ ہے کہ قرآن میں جب مطلق لفظ صدقہ بولا جاتا ہے تو اس سے صدقہ فرض ہی مراد ہوتا ہے، اور روایات حدیث میں لفظ صدقہ ہر نیک کام کے لئے بھی استعمال ہوا ہے، جیسے حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان سے خوش ہو کر ملنا بھی صدقہ ہے، کسی بوجھ اٹھانے والے کا بوجھ اٹھوا دینا بھی صدقہ ہے ‘ کنویں سے پانی کا ڈول اپنے لئے نکالا اس میں سے کسی دوسرے کو دیدینا بھی صدقہ ہے، اس حدیث میں لفظ صدقہ مجازی طور پر عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تیسرا لفظ اس کے بعد لِلْفُقَرَاۗءِ سے شروع ہوا ہے، اس کے شروع میں حرف لام ہے جو تخصیص کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اس لئے معنی جملہ کے یہ ہوں گے کہ تمام صدقات صرف انہی لوگوں کو حق ہے جن کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے۔ اب ان آٹھ مصارف کی تفصیل سنئے جو اس کے بعد مذکور ہیں ان میں پہلا مصرف فقراء ہیں، دوسرا مساکین، فقیر اور مسکین کے اصلی معنی میں اگرچہ اختلاف ہے، ایک کے معنے ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو، دوسرے کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو، لیکن حکم زکوٰة میں دونوں یکساں ہیں اختلاف نہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اس کی ضروریات اصلیہ سے زائد بقدر نصاب مال نہ ہو اس کو زکوٰة دی جاسکتی ہے، اور اس کے لئے زکوٰة لینا بھی جائز ہے، ضروریات میں رہنے کا امکان استعمالی برتن اور کپڑے اور فرنیچر وغیرہ سب داخل ہیں، نصاب یعنی سونا ساڑھے سات تولہ یا چاندی ساڑھے باون تولہ یا اس کی قیمت جس کے پاس ہو اور وہ قرضدار بھی نہ ہو نہ اس کو زکوٰة لینا جائز ہے نہ دینا، اسی طرح وہ شخص جس کے پاس کچھ چاندی یا کچھ پیسے نقد ہیں اور تھوڑا سا سونا ہے تو سب کی قیمت لگا کر اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تو وہ بھی صاحب نصاب ہے، اس کو زکوٰة دینا اور لینا جائز نہیں، اور جو شخص صاحب نصاب نہیں مگر تندرست، قوی اور کمانے کے قابل ہے اور ایک دن کا گذارہ اس کے پاس موجود ہے اس کو اگرچہ زکوٰة دینا جائز ہے مگر یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، اس میں بہت سے لوگ غفلت برتتے ہیں، سوال کرنا ایسے لوگوں کے لئے حرام ہے، ایسا شخص جو کچھ سوال کرکے حاصل کرتا ہے اس کو رسول کریم ﷺ نے جہنم کا انگارہ فرمایا ہے (ابوداؤد بروایت علی ‘ قرطبی) حاصل یہ ہے کہ فقیر اور مسکین میں زکوٰة کے باب میں کوئی فرق نہیں، البتہ وصیت کے حکم میں فرق پڑتا ہے کہ مساکین کے لئے وصیت کی ہے تو کیسے لوگوں کو دیا جائے، اور فقراء کے لئے ہے تو کیسے لوگوں کو دیا جائے، جس کے بیان کی یہاں ضرورت نہیں، فقیر اور مسکین کے دونوں مصرفوں میں یہ بات قدر مشترک ہے کہ جس کو مال زکوٰة دیا جائے وہ مسلمان ہو اور حاجات اصلیہ سے زائد بقدر نصاب مال کا مالک نہ ہو۔ اگرچہ عام صدقات غیر مسلموں کو بھی دیئے جاسکتے ہیں، رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےتصدقوا علی اھل الادیان کلھایعنی ہر مذہب والے پر صدقہ کرو۔ لیکن صدقہ زکوٰة کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کے وقت یہ ہدایت فرمائی تھی کہ مال زکوٰة صرف مسلمانوں کے اغنیاء سے لیا جائے، اور انہی کے فقراء پر صرف کیا جائے، اس لئے مال زکوٰة کو صرف مسلم فقراء و مساکین ہی پر صرف کیا جاسکتا ہے زکوٰة کے علاوہ دوسرے صدقات یہاں تک کہ صدقة الفطر بھی غیر مسلم فقیر کو دینا جائز ہے (ہدایہ) اور دوسری شرط مالک نصاب نہ ہونے کی خود فقیر و مسکین کے معنی سے واضح ہوجاتی ہے، کیونکہ یا تو اس کے پاس کچھ نہ ہوگا، یا کم ازکم مال نصاب کی مقدار سے کم ہوگا، اس لئے ان دونوں مصرفوں کے بعد اور چھ مصارف کا بیان آیا ہے، ان میں پہلا مصرف عاملین صدقہ ہیں۔ تیسرا مصرف الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا، یہاں عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جو اسلامی حکومت کی طرف سے صدقات زکوٰة و عشر وغیرہ لوگوں سے وصول کرکے بیت المال میں جمع کرنے کی خدمت پر مامور ہوتے ہیں، یہ لوگ چونکہ اپنے تمام اوقات اس خدمت میں خرچ کرتے ہیں، اس لئے ان کی ضروریات کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر عائد ہے، قرآن کریم کی اس آیت نے مصارف زکوٰة میں ان کا حصہ رکھ کر یہ متعین کردیا کہ انکا حق الخدمت اسی مد زکوٰة سے دیا جائے گا۔ اس میں اصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مسلمانوں سے زکوٰة و صدقات وصول کرنے کا فریضہ براہ راست رسول کریم ﷺ کے سپرد فرمایا ہے، جس کا ذکر اسی سورت میں آگے آنے والی اس آیت میں ہے (آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، یعنی وصول کریں آپ مسلمانوں کے اموال میں سے صد قہ، اس آیت کا مفصل بیان تو آئندہ آئے گا، یہاں یہ بتلانا منظور ہے کہ اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے امیر پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ زکوٰة صدقات وصول کرے، اور یہ ظاہر ہے کہ امیر خود اس کام کو پورے ملک میں بغیر اعوان اور مددگاروں کے نہیں کرسکتا، انہی اعوان اور مددگاروں کا ذکر مذکور الصدر آیت میں والْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ انہی آیات کی تعمیل میں رسول کریم ﷺ نے بہت سے صحابہ کرام کو صدقات وصول کرنے کے لئے عامل بنا کر مختلف خطوں میں بھیجا ہے، اور آیت مذکورہ کی ہدایت کے موافق زکوٰة ہی کی حاصل شدہ رقم میں سے ان کو حق الخدمت دیا ہے، ان میں وہ حضرات صحابہ بھی شامل ہیں جو اغنیاء تھے، حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ کسی غنی یعنی مال دار کے لئے حلال نہیں، بجر پانچ شخصوں کے، ایک وہ شخص جو جہاد کے لئے نکلا ہے اور وہاں اس کے پاس بقدر ضرورت مال نہیں، اگرچہ وہ شخص کہ اگرچہ اس کے پاس مال ہے مگر وہ موجودہ مال سے زیادہ کا مقروض ہے، چوتھے وہ شخص جو صدقہ کا مال کسی غریب مسکین سے پیسے دے کر خرید لے، پانچویں وہ شخص جسکو کسی غریب فقیر نے صدقہ کا حاصل شدہ مال بطور ہدیہ تحفہ پیش کردیا ہو۔ رہا یہ مسئلہ کہ عاملین صدقہ کو اس میں سے کتنی رقم دی جائے سو اس کا حکم یہ ہے کہ ان کی محنت و عمل کی حیثیت کے مطابق دی جائے گی (احکام القرآن جصاص، قرطبی) البتہ یہ ضروری ہوگا کہ عاملین کی تنخواہیں نصف زکوٰة سے بڑہنے نہ پائیں، اگر زکوٰة کی اصول یابی اتنی کم ہو کہ عاملین کی تنخواہیں دے کر نصف بھی باقی نہیں رہتی تو پھر تنخواہوں میں کمی کی جائے گی، نصف سے زائد صرف نہیں کیا جائے گا (تفسیر مظہری ظہیریہ) بیان مذکور سے معلوم ہوا کہ عاملین صدقہ کو جو رقم مد زکوٰة سے دی جاتی ہے وہ بحثیت صدقہ نہیں بلکہ ان کی خدمت کا معاوضہ ہے، اسی لئے باوجود غنی اور مال دار ہونے کے بھی وہ اس رقم کے مستحق ہیں، اور زکوٰة سے ان کو دینا جائز ہے، اور مصارف زکوٰة کی آٹھ مدات میں سے صرف ایک یہی مد ایسی ہے جس میں رقم زکوٰة بطور معاوضہ خدمت دی جاتی ہے، اور نہ زکوٰة نام ہی اس عطیہ کا ہے جو غریبوں کو بغیر کسی معاوضہ خدمت کے دیا جائے، اور اگر کسی غریب فقیر کو کوئی خدمت لے کر مال زکوٰة دیا گیا تو زکوٰة ادا نہیں ہوئی۔ اسی لئے یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں، اول یہ کہ مال زکوٰة کو معاوضہ خدمت میں کیسے دیا گیا، دوسرے یہ کہ مال دار کے لئے اصلی حیثیت کو سمجھ لیا جائے، وہ یہ ہے کہ یہ حضرات فقراء کے وکیل کی حیثیت رکھتے ہیں، اور یہ سب جانتے ہیں کہ وکیل کا قبضہ اصل موکل کے قبضہ کے حکم میں ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اپنا قرض وصول کرنے کے لئے کسی کو وکیل مختار بنا دے، اور قرضدار یہ قرض وکیل کو سپرد کردے تو وکیل کا قبضہ ہوتے ہی قرضدار بری ہوجاتا ہے، تو جب رقم زکوٰة عاملین صدقہ نے فقراء وکیل ہونے کی حیثیت سے وصول کرلی تو ان کی زکوٰة ادا ہوگئی، اب یہ پوری رقم ان فقراء کی ملک ہے جن کی طرف سے بطور وکیل انہوں نے وصول کی ہے اب جو رقم بطور حق الخدمت کے ان کو دی جاتی ہے وہ مال داروں کی طرف سے نہیں بلکہ فقراء کی طرف سے ہوئی، اور فقراء کو اس میں ہر طرح کا تصرف کرنے کا اختیار ہے، ان کو یہ بھی حق ہے کہ جب اپنا کام ان لوگوں سے لیتے ہیں تو اپنی رقم میں سے ان کو معاوضہ خدمت دیدیں۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ فقراء نے تو ان کو وکیل مختار بنایا نہیں، یہ ان کے وکیل کیسے بن گئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا سربراہ جس کو امیر کہا جاتا ہے وہ قدرتی طور پر منجانب اللہ پورے ملک کے فقراء غرباء کا وکیل ہوتا ہے، کیونکہ ان سب کی ضروریات کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے، امیر مملکت جس جس کو صدقات وصول یابی پر عامل بنا دے وہ سب ان کے نائب کی حیثیت سے فقراء کے وکیل ہوجاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ عاملین صدقہ کو جو کچھ دیا گیا وہ در حقیقت زکوٰة نہیں دی گئی، بلکہ زکوٰة جن فقراء کا حق ہے ان کی طرف سے معاوضہ خدمت دیا گیا، جیسے کوئی غریب فقیر کسی کو اپنے مقدمہ کا وکیل بناوے اور اس کا حق الخدمت زکوٰة کے حاصل شدہ مال سے ادا کردے تو یہاں نہ تو دینے والا بطور زکوٰة کے دے رہا ہے اور نہ لینے والا زکوٰة کی حیثیت سے لے رہا ہے۔ فائدہ تفصیل مذکور سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ آجکل جو اسلامی مدارس اور انجمنوں کے مہتمم یا ان کی طرف سے بھیجے ہوئے سفیر صدقات زکوٰة وغیرہ مدارس اور انجمنوں کے لئے وصول کرتے ہیں، ان کا وہ حکم نہیں جو عاملین صدقہ کا اس آیت میں مذکور ہے کہ زکوٰة کی رقم میں سے ان کی تنخواہ دی جاسکے، بلکہ ان کو مدارس اور انجمن کی طرف سے جداگانہ تنخواہ دینا ضروری ہے زکوٰة کی رقم سے ان کی تنخواہ نہیں دی جاسکتی، وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ فقراء کے وکیل نہیں بلکہ اصحاب زکوٰة مال داروں کے وکیل ہیں، ان کی طرف سے مال زکوٰة کو مصرف پر لگانے کا ان کو اختیار دیا گیا ہے، اسی لئے ان کے قبضہ ہوجانے کے بعد بھی زکوٰة اس وقت تک ادا نہیں ہوتی جب تک یہ حضرات اس کو مصرف پر خرچ نہ کردیں۔ فقراء کا وکیل نہ ہونا اس لئے ظاہر ہے کہ حقیقی طور پر کسی فقیر نے ان کو اپنا وکیل بنایا نہیں، اور امیر المومنین کی ولایت عامہ کی بناء پر جو خود بخود وکالت فقراء حاصل ہوتی ہے وہ بھی ان کو حاصل نہیں، اس لئے بجز اس کے کوئی صورت نہیں کہ ان کو اصحاب زکوٰة کا وکیل قرار دیا جائے اور جب تک یہ اس مال کو مصرف پر خرچ نہ کردیں انکا قبضہ ایسا ہی ہے جیسا کہ زکوٰة کی رقم خود مال والے کے پاس رکھی ہو۔ اس معاملہ میں عام طور پر غفلت برتی جاتی ہے، بہت سے ادارے زکوٰة کا فنڈ وصول کر کے اس کو سالہا سال رکھے رہتے ہیں، اور اصحاب زکوٰة سمجھتے ہیں کہ ہماری زکوٰة ادا ہوگئی، حالانکہ ان کی زکوٰة اس وقت ادا ہوگی جب ان کی رقم مصارف زکوٰة میں صرف ہوجائے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ناواقفیت سے ان لوگوں کو عاملین صدقہ کے حکم میں داخل سمجھ کر زکوٰة ہی کی رقم سے ان کی تنخواہ دیتے ہیں، یہ نہ دینے والوں کے لئے جائز ہے نہ لینے والوں کے لئے۔ ایک اور سوال عبادت پر اجرت یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے اشارات اور احادیث رسول ﷺ کی بہت سی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ کسی عبادت پر اجرت و معاوضہ لینا حرام ہے، مسند احمد کی حدیث میں بروایت عبدالرحمن بن شبل منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایااقراوا القران ولا تاکلوا بہ ”یعنی قرآن پڑھو، مگر اس کو کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ اور بعض روایات میں اس معاوضہ کو قطعہ جہنم فرمایا ہے جو قرآن پر لیا جائے، اس کی بناء پر فقہاء امت کا اتفاق ہے کہ طاعات و عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صدقات وصول کرنے کا کام ایک دینی خدمت اور عبادت ہے رسول کریم ﷺ نے اس کو ایک قسم کا جہاد فرمایا ہے، اس کا مقتضیٰ یہ تھا کہ اس پر بھی کوئی اجرت و معاوضہ لینا حرام ہوتا، حالانکہ قرآن کریم کی اس آیت نے صراحةً اس کو جائز قرار دیا، اور زکوٰة کے آٹھ مصارف میں اس کو داخل فرمایا۔ امام قرطبی اپنی تفسیر میں اس کے متعلق فرمایا کہ جو عبادات فرض یا واجب عین ہیں ان پر اجرت لینا مطلقاً حرام ہے، لیکن جو فرض کفایہ میں ان پر کوئی معاوضہ لینا اسی آیت کی رو سے جائز ہے، فرض کفایہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک کام پوری امت یا پورے شہر کے ذمہ فرض کیا گیا ہے، مگر یہ لازم نہیں کہ سب ہی اس کو کریں، اگر بعض لوگ ادا کرلیں تو سب سبکدوش ہوجاتے ہیں، البتہ اگر کوئی بھی نہ کرے تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔ امام قرطبی نے فرمایا کہ اسی آیت سے ثابت ہوا کہ امامت و خطابت کا معاوضہ لینا بھی جائز ہے، کیونکہ وہ بھی واجب علی العین نہیں بلکہ واجب علی الکفایہ ہیں، انہتی۔ اسی طرح تعلیم قرآن و حدیث اور دوسرے دینی علوم کا بھی یہی حال ہے، کہ یہ سب کام پوری امت کے ذمہ فرض کفا یہ ہیں، اگر بعض لوگ کرلیں تو سب سبکدوش ہوجاتے ہیں، اس لئے اگر اس پر کوئی معاوضہ اور تنخواہ لی جائے تو وہ بھی جائز ہے۔ چوتھا مصرف مصارف زکوٰة میں سے مولّفة القلوب ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دل جوئی کے لئے ان کو صدقات دیئے جاتے تھے، عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں تین چار قسم کے لوگ شامل تھے، کچھ مسلمان کچھ غیر مسلم، پھر مسلمانوں میں بعض تو وہ لوگ تھے جو غریب حاجت مند بھی تھے، اور نو مسلم بھی، ان کی دل جوئی اس لئے کی جاتی تھی کہ اسلام پر پختہ ہوجائیں، اور بعض وہ تھے جو مال دار بھی تھے اور مسلمان ہوگئے تھے، مگر ابھی تک ایمان کا رنگ ان کے دلوں میں رچا نہیں تھا، اور بعض وہ لوگ تھے جو خود تو پکے مسلمان تھے مگر ان کی قوم کو ان کے ذریعہ شر سے بچنے کے لئے ان کی دل جوئی کی جاتی تھی، اور بعض وہ تھے جن کے بارے میں یہ تجربہ تھا کہ نہ تبلیغ وتعلیم سے اثر پذیر ہوتے ہیں، نہ جنگ و تشدد سے بلکہ احسان و حسن سلوک سے متاثر ہوتے ہیں، رحمتہ للعالمین ﷺ تو یہ چاہتے تھے کہ خلق خدا کو کفر کی ظلمت سے نکال کر نور ایمان میں لے آئیں، اس کے لئے ہر وہ جائز تدبیر کرتے تھے جس سے یہ لوگ متاثر ہوسکیں، یہ سب قسمیں عام طور پر مولفة القلوب میں داخل سمجہی جاتی ہیں، جن کو صدقات کا چوتھا مصرف اس آیت میں قرار دیا ہے۔ چوتھا مصرف مولفة القلوب میں، ان کے متعلق گذشتہ صفحات میں یہ بتلایا جا چکا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دل جوئی کے لئے ان کو صدقات سے حصہ دیا جاتا تھا، عام خیال کے مطابق ان میں مسلم وغیر مسلم دونوں طرح کے لوگ تھے، غیر مسلموں کی دل جوئی اسلام کی ترغیب کے لئے اور نو مسلموں کی دل جوئی اسلام پر پختہ کرنے کے لئے کی جاتی تھی، عام طور پر مشہور یہ ہے کہ ان کو رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک خاص علت اور مصلحت کے لئے جس کا ذکر ابھی آچکا ہے صدقات دیئے جاتے تھے، آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جبکہ اسلام کو مادی قوت بھی حاصل ہوگئی اور کفار کے شر سے بچنے یا نو مسلموں کو اسلام پر پختہ کرنے کے لئے اس طرح کی تدبیروں کی ضرورت نہ رہی تو وہ علت اور مصلحت ختم ہوگئی، اس لئے ان کا حصہ بھی ختم ہوگیا جس کو بعض فقہاء نے منسوخ ہوجانے سے تعبیر فرمایا، فاروق اعظم حسن بصری، ابو حنیفہ، مالک بن انس ؓ اجمعین کی طرف یہی قول منسوب ہے۔ اور بہت سے حضرات نے فرمایا کہ مولفة القلوب کا حصہ منسوخ نہیں، بلکہ صدیق اکبر اور فاروق اعظم کے زمانہ میں اس کو ساقط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت نہ رہنے کی وجہ سے ان کا حصہ ساقط کردیا گیا، آئندہ کسی زمانہ میں پھر ایسی ضرورت پیش آجائے تو پھر دیا جاسکتا ہے، امام زہری، قاضی عبدالوہاب ابن عربی، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے، لیکن تحقیق اور صحیح بات یہ ہے کہ غیر مسلموں کو صدقات وغیرہ سے کسی وقت کسی زمانہ میں حصہ نہیں دیا گیا، اور نہ وہ مولفة القلوب میں داخل ہیں، جن کا ذکر مصارف صدقات میں آیا ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ان سب لوگوں کے نام تفصیل کے ساتھ شمار کئے ہیں جن کی دل جوئی کے لئے رسول کریم ﷺ نے مد صدقات سے حصہ دیا ہے، اور یہ سب شمار کرنے کے بعد فرمایاوبالجملۃ فکلھم مومن ولم یکن فیھم کافر، یعنی خلاصہ یہ ہے کہ مولفة القلوب سب کے سب مسلمان ہی تھے، ان میں کوئی کافر شامل نہیں تھا۔ اسی طرح تفسیر مظہری میں ہےلم یثیت ان النبی ﷺ اعطی احدا من الکفار للایلاف شیئا من الزکوٰة، یعنی یہ بات کسی روایت سے ثابت نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کافر کو مال زکوٰة میں سے اس کی دلجوئی کیلئے حصہ دیا ہو، اس کی تائید تفسیر کشاف کی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مصارف صدقات کا بیان یہاں ان کفار منافقین کے جواب میں آیا ہے جو رسول اللہ ﷺ پر تقسیم صدقات کے بارے میں اعتراض کیا کرتے تھے کہ ہم کو صدقات نہیں دیتے، اس آیت میں مصارف صدقات کی تفصیل بیان فرمانے سے مقصد ہے کہ ان کو بتلا دیا جائے کہ کافر کا کوئی حق مال صدقات میں نہیں ہے، اگر مولفة القلوب میں کافر بھی داخل ہوں تو اس جواب کی ضرورت نہ تھی۔ تفسیر مظہری میں اس مغالطہ کو بھی اچھی طرح واضح کردیا ہے جو بعض روایات حدیث کے سبب لوگوں کو پیش آیا ہے، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض غیر مسلموں کو کچھ عطیات دیئے ہیں، چناچہ صحیح مسلم اور ترمذی کی روایت میں جو یہ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صفوان بن امیہ کو کافر ہونے کے زمانے میں کچھ عطیات دیئے، اس کے متعلق امام نووی کے حوالہ سے تحریر فرمایا کہ یہ عطیات زکوٰة کے مال سے نہ تھے، بلکہ غزوہ حنین کے مال غنیمت کا جو خمس بیت المال میں داخل ہوا اس میں سے دیئے گئے، اور یہ ظاہر ہے کہ بیت المال کی اس مد سے مسلم وغیرہ دونوں پر خرچ کرنا باتفاق فقہاء جائز ہے، پھر فرمایا کہ امام بیہقی، ابن سید الناس، امام ابن کثیر وغیرہم سب نے یہی قرار دیا ہے کہ یہ عطاء مال زکوٰة سے نہیں بلکہ خمس غنیمت سے تھی۔ ایک عظیم فائدہ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ خود رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں اموال صدقات اگرچہ بیت المال میں جمع کئے جاتے تھے مگر ان کا حساب بالکل جدا تھا، اور بیت المال کی دوسری مدات جیسے خمس غنیمت یا خمس معادن وغیرہ ان کا حساب جدا، اور ہر ایک کے مصارف جدا تھے، جیسا کہ حضرات فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ اسلامی حکومت کے بیت المال میں چار مد علیحدہ رہنی چاہئیں، اور اصل حکم یہ ہے کہ صرف حساب علیحدہ رکھنا نہیں بلکہ ہر ایک مد کا بیت المال الگ ہونا چاہئے تاکہ ہر ایک کو اس کے مصرف میں خرچ کرنے کی پوری احتیاط قائم رہے، البتہ اگر کسی وقت کسی خاص مد میں کمی ہو تو دوسری مد سے بطور قرض لے کر اس پر خرچ کیا جاسکتا ہے یہ مدات بیت المال یہ ہیں اول خمس غنائمیعنی جو مال کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہو اس کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرکے باقی پانچواں حصہبیت المال کا حق ہے، خمس معادن یعنی مختلف قسم کی کانوں سے نکلنے والی اشیاء میں سے پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے، خمس رکاذیعنی جو قدیم خزانہ کسی زمین سے برآمد ہو اس کا بھی پانچواں حصہ بیت المال کا حق ہے، یہ تینوں قسم کے خمس بیت المال کی ایک ہی مد میں داخل ہیں۔ دوسری مد صدقات ہیں، جس میں مسلمانوں کی زکوٰة، صدقہ الفطر، اور ان کی زمینوں کا عشر داخل ہے۔ تیسری مد خراج اور مال فئی ہے، جس میں غیر مسلموں کی زمینوں سے حاصل شدہ خراج اور ان کا جزیہ اور ان سے حاصل شدہ تجارتی ٹیکس اور وہ تمام اموال داخل ہیں جو غیر مسلموں سے ان کی رضامندی کے ساتھ مصالحانہ طور پر حاصل ہوں۔ چوتھی مد ضوائع کی ہے، جس میں لاوارث مال، لا وارث شخص کی میراث وغیرہ داخل ہیں، ان چار مدات کے مصارف اگرچہ الگ الگ ہیں، لیکن فقراء و مساکین کا حق ان چاروں مدات میں رکھا گیا ہے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی حکومت میں قوم کے اس ضعیف عنصر کو قوی کرنے کا کس قدر اہتمام کیا گیا ہے، جو در حقیقت اسلامی حکومت کا طغرٰی امتیاز ہے ورنہ دنیا کے عام نظاموں میں ایک مخصوص طبقہ ہی بڑہتا رہتا ہے، غریب کو بھرنے کا موقع نہیں ملتا، جس کے ردعمل نے اشتراکیت اور کمیونزم کو جنم دیا، مگر وہ باکل ایک غیر فطری اصول اور بارش سے بھاگ کر پرنالہ کے نیچے کھڑے ہوجانے کے مرادف اور انسانی اخلاق کے لئے سم قاتل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں چار بیت المال چار مدات کے لئے الگ الگ مقرر ہیں اور فقراء و مساکین کا حق چاروں میں رکھا گیا ہے، ان میں سے پہلی تین مدوں کے مصارف خود قرآن کریم نے تفصیل کے ساتھ متعین فرما کر واضح طور پر بیان کردیئے ہیں، پہلی مد یعنی خمس غنائم کے مصارف کا بیان سورة انفال دسویں پارہ کے شروع میں مذکور ہے، اور دوسری مد یعنی صدقات کے مصارف کا بیان سورة توبہ کی مذکور الصدر ساٹھویں آیات میں آیا ہے، جس کی تفصیل اس وقت زیر بحث ہے، اور تیسری مد جس کو اصطلاح میں مال فئی سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کا بیان سورة حشر میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے، اسلامی حکومت کی اکثر مدات فوجی اخراجات اور عمال حکومت کی تنخواہیں وغیرہ اسی مد سے خرچ کی جاتی ہیں، چوتھی مد یعنی لاوارث مال رسول کریم ﷺ کی ہدایات اور خلفائے راشدین کے تعامل سے اپاہج محتاجوں اور لاوارث بچوں کے لئے مخصوص ہے۔ (شامی، کتاب الزکوٰة) خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرات فقہاء نے بیت المال کی چاروں مدات بالکل الگ الگ رکھنے اور اپنے اپنے معینہ مصارف میں خرچ کرنے کی جو ہدایات دی ہیں، یہ سب قرآنی ارشادات اور رسول کریم ﷺ پھر خلفائے راشدین کے تعامل سے واضح طور پر ثابت ہیں۔ محققین، محد ثین و فقہاء کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مولفة القلوب کا حصہ کسی کافر کو کسی وقت بھی نہیں دیا گیا، نہ رسول کریم ﷺ کے عہد مبارک میں اور نہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں، اور جن غیر مسلموں کو دینا ثابت ہے وہ مد صدقات و زکوٰة سے نہیں بلکہ خمس غنیمت میں سے دیا گیا ہے، جس میں سے ہر حاجت مند مسلم و غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے، تو مولفة القلوب صرف مسلم رہ گئے، اور ان میں جو فقراء ہیں ان کا حصہ بدستور باقی ہونے پر پوری امت کا اتفاق ہے، اختلاف صرف اس صورت میں رہ گیا کہ یہ لوگ غنی صاحب نصاب ہوں تو امام شافعی امام احمد کے نزدیک چونکہ تمام مصارف زکوٰة میں فقر و حاجت مندی شرط نہیں، اس لئے وہ مولفة القلوب میں ایسے لوگوں کو بھی داخل کرتے ہیں جو غنی اور صاحب نصاب ہیں، امام اعظم ابوحنیفہ اور مام مالک کے نزدیک عاملین صدقہ کے علاوہ باقی تمام مصارف میں فقر و حاجت مندی شرط ہے، اس لئے مولفة القلوب کا حصہ بھی ان کو اسی شرط کے ساتھ دیا جائے گا کہ وہ فقیر و حاجتمند ہوں جیسے غارمین اور رقاب، ابن سبیل وغیرہ سب میں اسی شرط کے ساتھ ان کو زکوٰة دی جاتی ہے کہ وہ اس جگہ حاجتمند ہوں، گو وہ اپنے مقام میں مال دار ہوں۔ اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولفة القلوب کا حصہ ائمہ اربعہ کے نزدیک منسوخ نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ بعض حضرات نے فقراء و مساکین کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں فقر و حاجت مندی کے ساتھ مشروط نہیں کیا، اور بعض نے یہ شرط کی ہے، جن حضرات نے یہ شرط رکھی ہے وہ مولفة القلوب میں بھی صرف انہی لوگوں کو دیتے ہیں جو حاجتمند اور غریب ہوں، بہرحال یہ حصہ قائم اور باقی ہے (تفسیر مظہری) یہاں تک صدقات کے آٹھ مصارف میں سے چار کا بیان آیا ہے، ان چاروں کا حق حرف لام کے تحت بیان ہوا، لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ ، آگے جن چار مصارف کا ذکر ہے ان میں عنوان بدل کر لام کی جگہ حرف فی استعمال فرمایاوَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ ، زمخشری نے کشاف میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ یہ آخری چار مصرف بہ نسبت پہلے چار کے زیادہ مستحق ہیں، کیونکہ حرف فِی ظرفیت کے لئے بولا جاتا ہے، جس کی وجہ سے معنی یہ پیدا ہوتے ہیں کہ صدقات کو ان لوگوں کے اندر رکھ دینا چاہئے، اور ان کے زیادہ مستحق ہونے کی وجہ ان کا زیادہ ضرورت مند ہونا ہے، کیونکہ جو شخص کسی کا مملوک غلام ہے وہ بہ نسبت عام فقراء کے زیادہ تکلیف میں ہے، اسی طرح جو کسی کا قرضدار ہے اور قرضخواہوں کا اس پر تقاضا ہے وہ عام غرباء فقراء سے زیادہ تنگی میں ہے کہ اپنے اخراجات کے فکر سے بھی زیادہ قرضداروں کے قرض کی فکر اس کے ذمہ ہے۔ ان باقی ماندہ چار مصارف میں سب سے پہلے وَفِي الرِّقَابِ کا ذکر فرمایا ہے، رقاب رقبہ کی جمع ہے، اصل میں گردن کو رقبہ کہتے ہیں، عرف میں اس شخص کو رقبہ کہہ دیا جاتا ہے جس کی گردن کسی دوسرے کی غلامی میں مقید ہو۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ رقاب سے مراد اس آیت میں کیا ہے ؟ جمہور فقہاء و محدثین اس پر ہیں کہ اس سے مراد وہ غلام ہیں جن کے آقاؤں نے کوئی مقدار مال کی متعین کرکے کہہ دیا ہے کہ اتنا مال کما کر ہمیں دے دو تو تم آزاد ہو جس کو قرآن و سنت کی اصطلاح میں مکاتب کہا جاتا ہے ایسے شخص کو آقا اس کی اجازت دیدیتا ہے کہ وہ تجارت یا مزدوری کے ذریعہ مال کمائے، اور آقا کو لا کر دے، آیت مذکورہ میں رقاب سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کو رقم زکوٰة میں سے حصہ دے کر اس کی گلو خلاصی میں امداد کی جائے۔ یہ قسم غلاموں کی باتفاق مفسرین و فقہاء لفظ وَفِي الرِّقَابِ کی مراد ہے کہ رقم زکوٰة ان کو دے کر ان کی گلو خلاصی میں امداد کی جائے، ان کے علاوہ دوسرے غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا یا ان کے آقاؤں کو رقم زکوٰة دے کر یہ معاہدہ کرلینا کہ وہ ان کو آزاد کردیں گے، اس میں ائمہ فقہاء کا اختلاف ہے، جمہور ائمہ ابوحنیفہ، شافعی، احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ اس کو جائز نہیں سمجہتے، اور حضرت امام مالک بھی ایک روایت میں جمہور کے ساتھ متفق ہیں کہ وَفِي الرِّقَابِ کو صرف مکاتب غلاموں کے ساتھ مخصوص فرماتے ہیں، اور ایک روایت میں امام مالک سے یہ بھی منقول ہے وَفِي الرِّقَاب میں عام غلاموں کو داخل کرکے اس کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ رقم زکوٰة سے غلام خرید کر آزاد کئے جائیں (احکام القرآن ابن عربی مالکی) اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ معارف القرآن جلد سے پڑہیں
Ayahs 9:61–63

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور بعضے ان میں بدگوئی کرتے ہیں نبی ﷺ کی اور کہتے ہیں یہ شخص تو کان ہے تو کہہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مسلمانوں کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ان کے لئے عذاب ہے دردناک،

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمہارے آگے تاکہ تم کو راضی کریں، اور اللہ کو اور اس کے رسول کو بہت ضرور ہے راضی کرنا اگر وہ ایمان رکھتے ہیں،

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے تو اس کے واسطے ہی دوزخ کی آگ سدا رہے اس میں، یہی ہے بڑی رسوائی

خلاصہ تفسیر اور ان (منافقین) میں بعضے ایسے ہیں کہ نبی ﷺ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں (یعنی آپ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ سن کر آپ کو ایذاء ہو) اور (جب کوئی روکتا ہے تو) کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں (آپ کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیدینا آسان ہے، اس لئے کچھ فکر نہیں) آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم کو خود دھوکہ ہوا رسول اللہ ﷺ کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے، ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں، دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود یہ جان لینے کے کہ یہ بات محض غلط ہے شرافت نفس اور حسن خلق کی بناء پر اس کو ٹال دیں، اور کہنے والے پر داروگیر یا اس کی صریح تکذیب نہ کریں سو) وہ نبی کان دے کر تو وہی بات سنتے ہیں جو تمہارے حق میں خیر (ہی خیر) ہے، (جس کا حاصل اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ اللہ (کی باتیں وحی سے معلوم کرکے ان) پر ایمان لاتے ہیں (جن کی تصدیق کا خیر ہونا تمام عالم کے لئے ظاہر ہے، کیونکہ تعلیم اور عدل اسی تصدیق پر موقوف ہے) اور مومنین (مخلصین کی باتوں) کا (جو بحیثیت ایمان و اخلاص ہوں) یقین کرتے ہیں (اس کا خیر ہونا بھی ظاہر ہے کہ عدل عام موقوف ہے احوال کی صحیح اطلاع پر اور اس کا ذریعہ یہی مومنین مخلصین ہیں، غرض کان دے کر اور سچا سمجھ کر تو صرف سچے اور مخلصین کی باتیں سنتے ہیں) اور (باقی تمہاری شرارت آمیز باتیں جو سن لیتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) آپ ان لوگوں کے حال پر مہربانی فرماتے ہیں جو تم میں ایمان کا اظہار کرتے ہیں (گو دل میں ایمان نہ ہو، پس اس مہربانی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے تمہاری باتیں سن لیتے ہیں اور باوجو اس کی حقیقت سمجھ جانے کے درگذر اور خاموشی برتتے ہیں، پس ان باتوں کا سننا دوسرے طور کا ہے، تم نے اپنی حماقت سے اس کو بھی اول طور محمول کرلیا، خلاصہ یہ کہ تم یہ سمجہتے ہو کہ حقیقت کو حضرت نہیں سمجہتے اور واقع میں حقیقت کو تم ہی نہیں سمجہتے) اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں (خواہ ان باتوں سے جن کے کہنے کے بعد اُذُن کہا تھا یا خود اسی هُوَ اُذُنٌ کے کہنے سے کیونکہ ان کا آپ کو اُذُنُ کہنا آپ کی تنقیص کے لئے تھا کہ معاذ اللہ آپ کو سمجھ نہیں جو کچھ سن لیتے ہیں اس کو مان لیتے ہیں) ان لوگوں کے لئے دردناک سزا ہوگی، یہ لوگ تمہارے (مسلمانوں کے) سامنے (جھوٹی) قسمیں کھاتے ہیں (کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی، یا ہم غزوہ میں فلاں عذر سے نہ جاسکے) تاکہ تم کو راضی کرلیں (جس سے ان کا جان و مال محفوظ رہے) حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو راضی کریں (جو کہ موقوف ہے اخلاص اور ایمان پر) کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا (جیسا یہ لوگ کر رہے ہیں) تو یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہوگی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، (اور) یہ بڑی رسوائی (کی بات) ہے منافق لوگ (طبعاً) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر (بذریعہ وحی پیغمبر ﷺ کوئی ایسی سورت (مثلا یا آیت) نازل نہ ہوجاوے جو ان کو ان منافقین کے ما فی الضمیر پر اطلاع دیدے (یعنی انہوں نے جو استہزا کی باتیں خفیہ کی ہیں کہ مسلمانوں کے اعتبار سے وہ مثل ان اسرار کے ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہیں ان کی خبر نہ ہوجاوے) آپ فرما دیجئے کہ اچھا تم استہزاء کرتے رہو (اس میں ان کے استہزاء پر مطلع ہوجانے کو جتلا دیا، چناچہ آگے خود ارشاد ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرکے رہے گا جس کے (اظہار) سے تم اندیشہ کرتے تھے (چناچہ اسْتَهْزِءُوْا میں ظاہر کردیا کہ تم استہزاء کررہے تھے) اور (ظاہر ہوجانے کے بعد) اگر آپ ان سے (اس استہزاء کی وجہ) پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض ہنسی اور خوش طبعی کر رہے تھے (اس کلام کے حقیقی معنی مقصود نہ تھے، محض جی خوش کرنے کو جس سے سفر آسانی سے قطع ہو ایسی باتیں زبانی کررہے تھے) آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کرتے تھے (یعنی خواہ غرض کچھ بھی ہو مگر یہ تو دیکھو کہ تم استہزاء کس کا کر رہے ہو جن کے ساتھ استہزاء کسی غرض سے بھی درست نہیں) تم اب (یہ بیہودہ) عذر مت کرو (مطلب یہ ہے کہ عذر مقبول نہیں، اور اس عذر سے استہزاء جائز نہیں ہوجاتا) تم تو اپنے کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے (کیونکہ دین کے ساتھ استہزاء مطلقاً کفر ہے، گو دل میں تو پہلے بھی ایمان نہ تھا، البتہ اگر کوئی دل سے توبہ کرلے اور مومن مخلص بن جائے تو البتہ کفر اور عذاب کفر سے چھوٹ جاوے، لیکن اس کی بھی سب کو توفیق نہ ہوگی، ہاں بعض البتہ مسلمان ہوجاویں گے، اور وہ معاف کردیئے جائیں گے، پس حاصل یہ ٹھہرا کہ) اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں (اس لئے کہ وہ مسلمان ہوگئے) تو ہم بعض کو (ضرور ہی) سزا دیں گے سببب اس کے کہ وہ (علم ازلی میں) مجرم تھے (یعنی وہ مسلمان نہیں ہوئے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں بھی سابقہ آیات کی طرح منافقین کے بیہودہ اعتراضات اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء رسانی اور پھر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے کے واقعات اور ان پر تنبیہ ہے۔ پہلی آیت میں مذکورہ ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے متعلق بطور استہزاء یہ کہتے ہیں کہ وہ تو بس کان ہیں، یعنی جو کچھ کسی سے سن لیتے ہیں اسی پر یقین کرلیتے ہیں، اس لئے ہمیں کچھ فکر نہیں، اگر ہماری سازش کھل بھی گئی تو ہم پھر قسم کھا کر آپ کو اپنی براءت کا یقین دلا دینگے، جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کی حماقت کو واضح فرمادیا کہ وہ جو منافقین اور مخالفین کی غلط باتوں کو سن کر اپنے مکارم اخلاق کی بناء پر خاموش ہو رہتے ہیں اس سے یہ نہ سمجھو کہ آپ کو حقیقت حال کی سمجھ نہیں، صرف تمہارے کہنے پر یقین کرتے ہیں، بلکہ وہ سب کی پوری پوری حقیقت سے باخبر ہیں، تمہاری غلط باتیں سن کر وہ تمہاری سچائی کے قائل نہیں ہوجاتے، البتہ اپنی شرافت نفس اور کرم کی بناء پر تمہارے منہ پر تمہاری تردید نہیں کرتے۔
Ayahs 9:64–66

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

ڈر کرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل ہو مسلمانوں پر ایسی سورت کہ جتاوے ان کو جو ان کے دل میں ہے، تو کہہ دے ٹھٹھے کرتے رہو اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس کا تم کو ڈر ہے،

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی، تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے تم ٹھٹھے کرتے تھے،

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہوگئے اظہار ایمان کے پیچھے، اگر ہم معاف کردیں گے تم میں سے بعضوں کو تو البتہ عذاب بھی دیں گے بعضوں کو اس سبب سے کہ وہ گنہگار تھے۔

(آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ، اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حق تعالیٰ منافقین کی خفیہ سازشوں اور شرارتوں کو ظاہر فرما دیں گے، جس کا ایک واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ کچھ منافقین نے آپ کے قتل کی شازش کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ کو اس پر بذریعہ جبرئیل مطلع کرکے اس راستہ سے ہٹا دیا جہاں یہ منافقین اس کام کے لئے جمع ہوئے تھے۔ (مظہری عن البغوی) اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ ﷺ کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا (مظہری)
Ayahs 9:67–68

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں سب کی ایک چال ہے سکھائیں بات بری، اور چھڑائیں بات بھلی اور بند رکھیں اپنی مٹھی، بھول گئے اللہ کو، سو وہ بھول گیا ان کو تحقیق منافق وہی ہیں نافرمان،

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو دوزخ کی آگ کا پڑے رہیں گے اس میں وہی بس ہے ان کو اور اللہ تعالیٰ نے ان کو پھٹکار دیا، اور ان کے لئے عذاب ہے برقرار رہنے والا،

خلاصہ تفسیر منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک طرح کے ہیں کہ بری بات کی (یعنی کفر و مخالفت اسلام کی) تعلیم دیتے ہیں اور اچھی بات سے (یعنی ایمان اور اتباع نبوی سے) منع کرتے ہیں اور (خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے) اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انھوں نے خدا کا خیال نہ کیا، (یعنی اطاعت نہ کی) پس خدا نے ان کا خیال نہ کیا (یعنی ان پر رحمت خاصہ نہ کی) بلا شبہ یہ منافق بڑے ہی سرکش ہیں، اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں عورتوں اور (علانیہ) کفر کرنے والوں سے دوزخ کی آگ کا عہد کر رکھا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے وہ ان کے لئے (سزائے) کافی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے دور کر دے گا اور ان کو (حسب وعدہ مذکور) عذاب دائمی ہوگا (اے منا فقو !) تمہاری حالت (کفر اور استحقاق جزائے کفر میں) ان لوگوں کی سی ہے جو تم سے پہلے (زمانہ میں) ہوچکے ہیں جو شدت قوت میں اور کثرت اولاد و اموال میں تم سے بھی زیادہ تھے تو انہوں نے اپنے (دنیوی) حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا سو تم نے بھی اپنی (دنیوی) حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا تم سے پہلے لوگوں نے اپنے (دنیوی) حصہ سے فائدہ حاصل کیا تھا، اور تم بھی (بری باتوں میں ایسے ہی گھسے جیسے وہ لوگ (بری باتوں میں) گھسے تھے، ان لوگوں کے اعمال (حسنہ) دنیا اور آخرت (سب) میں ضائع ہوگئے (کہ دنیا میں ان اعمال پر بشارت ثواب نہیں، اور آخرت میں ثواب نہیں) اور (اسی حبط فی الدنیا والاخرة کی وجہ سے) وہ لوگ بڑے نقصان میں ہیں (کہ دارین میں مسرت اور راحت سے محروم ہیں، پس اسی طرح تم بھی ان کی طرح کفر کرتے ہو تو انہی کی طرح خائب و خاسر ہوگے، اور جیسا ان کے اموال و اولاد ان کے کام نہ آئے تم تو ان چیزوں میں ان سے کمہو، تمہارے بدرجہ اولی کام نہ آویں گے، یہ تو ضرر آخرت کی وعید ہوئی، آگے احتمال ضرر دنیا کے ذکر سے متنبہ فرماتے ہیں کہ) کیا ان لوگوں کو ان (کے عذاب و ہلاک) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے ہوئے ہیں، جیسے قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور الٹی ہوئی بستیاں (یعنی قرٰی قوم لوط) کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر صاف نشانیاں (حق کی) لے کر آئے (لیکن نہ ماننے سے برباد ہوئے) سو (اس بربادی میں) اللہ تعالیٰ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (اسی طرح ان منافقین کو بھی ڈرنا چاہئے)۔ معارف و مسائل مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں منافقین کا ایک حال یہ بتلایا کہ وہ اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں، (آیت) يَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ ، تفسیر قرطبی میں ہے کہ ہاتھ بند رکھنے سے مراد ترک جہاد اور حقوق واجبہ کا ادا نہ کرنا ہے، (آیت) نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ ، اس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا دیا، اللہ تعالیٰ تو نسیان اور بھول سے پاک ہیں، مراد اس جگہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے احکام کو اس طرح چھوڑ دیا جیسے بھول گئے ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے بھی ثواب آخرت کے معاملہ میں ان کو ایسا ہی کر چھوڑا کہ نیکی اور ثواب میں کہیں ان کا نام نہ رہا۔
Ayahs 9:69–70

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

جس طرح تم سے اگلے لوگ زیادہ تھے تم سے زور میں اور زیادہ رکھتے تھے مال اور اولاد پھر فائدہ اٹھا گئے اپنے حصہ سے پھر فائدہ اٹھایا تم نے اپنے حصہ سے جیسے فائدہ اٹھا گئے تم سے اگلے اپنے حصہ سے اور تم بھی چلتے ہو انہی کی سی چال، وہ لوگ مٹ گئے ان کے عمل دنیا میں اور آخرت میں اور وہی لوگ پڑے نقصان میں

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا پہنچی نہیں ان کو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے قوم نوح کی اور عاد کی اور ثمود کی اور قوم ابراہیم کی اور مدین والوں کی اور ان بستیوں کی خبر جو الٹ دی گئیں تھیں، پہنچے انکے پاس انکے رسول صاف حکم لے کر، سو اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے۔

آیت (69) كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ میں ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ خطاب منافقین کو ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں آچکا، اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ خطاب مسلمانوں کو ہے یعنی (اَنتُم كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ) مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح ہو جس طرح وہ لوگ دنیا کی لذائذ میں منہمک ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے اور طرح طرح کے معاصی اور بد اخلاقیوں میں مبتلا ہوگئے تم بھی ایسے ہی لوگ ہوں گے۔ اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی وہی طریقے اختیار کرو گے جو تم سے پہلی امتیں کرچکی ہیں، ہاتھ در ہاتھ اور بالشت در بالشت یعنی ہوبہو ان کی نقل اتارو گے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ کے بل میں گھسا ہے تو تم بھی گھسو گے، حضرت ابوہریرہ نے یہ روایت نقل کرکے فرمایا کہ اس حدیث کی تصدیق کے لئے تمہارا جی چاہے تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو کالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ سن کر فرمایاما اشبہ اللیلۃ بالبارحة، یعنی آج کی رات گذشتہ شب سے کیسی ملتی جلتی اور مشابہ ہے یہ بنی اسرائیل ہیں ہمیں ان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے (قرطبی)۔ حدیث کا مقصد واضح ہے کہ آخر زمانے میں مسلمان بھی یہود و نصارٰی کے طریقوں پر چلنے لگیں گے اور منافقین کا عذاب بیان کرنے کے بعد اس کا بیان کرنا اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہود و نصارٰی کے طریقوں کا اتباع کرنے والے مسلمان وہی ہوں گے جن کے دلوں میں مکمل ایمان نہیں، نفاق کے جراثیم ان میں پائے جاتے ہیں، صلحاء امت کو اس سے بچنے اور بچانے کی ہدایت اس آیت میں دی گئی ہے۔