9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعارف القرآن

Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اس نے بھیجا اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا مانیں مشرک،

اس کے بعد تسیری آیت کے مضمون کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت کا سامان یعنی قرآن اور دین حق یعنی اسلام دے کر اسی لئے بھیجا ہے تاکہ اس کو دنیا کے تمام بقیہ دینوں پر غالب کردے، تقریباً انہی لفظوں کے ساتھ قرآن کریم میں متعدد آیات آئی ہیں جن میں یہ وعدہ ہے کہ دین اسلام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کیا جائے گا۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ دین اسلام کو تمام دوسرے دینوں پر غالب کرنے کی خوشخبری اکثر زمانوں اور اکثر حالات کے اعتبار سے ہے جیسا کہ حضرت مقداد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا مکان باقی نہ رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہوجائے، عزت داروں کی عزت کے ساتھ اور ذلیل لوگوں کی ذلت کے ساتھ جن کو اللہ تعالیٰ عزت دیں گے وہ مسلمان ہوجائیں گے اور جن کو ذلیل کرنا ہوگا وہ اسلام کو قبول تو نہ کریں گے مگر اسلامی حکومت کے تابع ہوجائیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا، ایک ہزار سال کے قریب اسلام کی شان و شوکت پوری دنیا پر چھائی رہی۔ رسول کریم ﷺ اور سلف صالحین کے عہد مبارک میں تو اس نور کی تکمیل و اتمام کا مشاہدہ ساری دنیا کر ہی چکی ہے، اور آئندہ بھی دلائل اور حقائق کے اعتبار سے ہر زمانہ میں دین اسلام ایسا مکمل دین ہے کہ کسی معقول پسند انسان کو اس پر حرف گیری کا موقع نہیں مل سکتا، اس لئے کفار کی مخالفتوں کے باوجود یہ دین حق اپنی حجت و دلیل کے اعتبار سے ہمیشہ غالب ہے، اور جب مسلمان اس دین کی پوری پیروی کریں تو ان کا ظاہری غلبہ اور حکومت و سلطنت بھی اس کے لوازم میں سے ہے، جیسا کہ تاریخ اسلام کا تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآن و سنت پر پوری طرح عمل کیا تو کوئی کوہ و دریا ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکا، اور یہ پوری دنیا پر غالب آکر رہے، اور جب کبھی جہاں کہیں ان کو مغلوب یا مقہور ہونے کی نوبت آئی ہے، تو وہ قرآن و سنت کے احکام سے غفلت اور خلاف ورزی کا نتیجہ بد تھا، جو ان کے سامنے آیا، دین حق پھر بھی اپنی جگہ مظفر و منصور ہی رہا۔
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو بہت سے عالم اور درویش اہل کتاب کے کھاتے ہیں مال لوگوں کے ناحق اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور جو لوگ گاڑھ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو ان کو خوش خبری سنا دے عذاب دردناک کی،

چو تھی آیت میں مسلمانوں کو مخاطب بنا کر یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے ایسے حالات کا ذکر ہے جن کی وجہ سے عوام میں گمراہی پھیلی، مسلمانوں کو مخاطب کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ حالات یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کے بیان ہو رہے ہیں لیکن ان کو بھی اس سے متنبہ رہنا چاہئے کہ ان کے ایسے حالات نہ ہوجائیں۔ اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہود و نصارٰی کے بہت سے علماء و مشائخ کا یہ حال ہے کہ باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور اللہ کے سیدھے راستہ سے ان کو روکتے ہیں۔ یہود و نصارٰی کے اکثر علماء و مشائخ کا یہی حال تھا اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں، لیکن قرآن کریم نے اس جگہ لفظ كَثِيْرًا کا اضافہ کرکے مسلمانوں کو دشمنوں کے معاملہ میں بھی احتیاط کلام کی تلقین فرمادی کہ یہ حال سب لوگوں کی طرف منسوب نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ ان میں بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں، ان کی گمراہی یہ بتلائی گئی کہ وہ لوگوں کے اموال باطل طریقہ سے کھاتے ہیں، باطل طریقہ سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات ان لوگوں سے پیسے لے کر حکم تورات کے خلاف فتوٰی دیدیتے تھے، اور بعض اوقات احکام الہی میں اخفاء اور تلبیس سے کام لیتے تھے، اس پر مزید ان کی یہ گمراہی بتلائی گئی کہ یہ کم بخت صرف خود ہی گمراہ نہیں بلکہ دوسرے طالبان رشد و ہدایت کو اللہ کے راستہ سے روکنے کا سبب بھی ہیں، کیوں کہ جب لوگ اپنے مقتداؤں کو ایسے کام کرتے دیکھیں تو ان میں بھی جذبہ حق پرستی مرجاتا ہے، اس کے علاوہ ان کے غلط فتو وں کی بنیاد پر وہ گمراہی اور غلطی ہی کو صواب و صحیح سمجھنے لگتے ہیں۔ یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ کی یہ بیماری کہ پیسوں کے لالچ میں غلط فتوی دیدیں چونکہ حب مال اور حرص دنیا کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، اس لئے آیت مذکورہ میں حب مال کے اندر غلو کے نتائج بد اور عذاب الیم کا بیان اور اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے، ارشاد ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ، یعنی جو لوگ سونے چاندی کو جمع کرتے رہتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو عذاب دردناک کی خوش خبری سنا دیجئے“۔ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا کے لفظوں سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ جو لوگ بقدر ضروری اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو باقی ماندہ جمع کیا ہوا مال ان کے حق میں مضر نہیں۔ حدیث میں خود رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس مال کی زکوٰة ادا کردی جائے وہ كَنَزْتُمْ میں داخل نہیں۔ (ابوداود، احمد وغیرہ) جس سے معلوم ہوا کہ زکوٰة نکالنے کے بعد جو مال باقی رہے اس کا جمع رکھنا کوئی گناہ نہیں۔ جمہور فقہاء و ائمہ کا یہی مسلک ہے وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا کی ضمیر فضۃ کی طرف راجع ہے، جس کے معنی چاندی کے ہیں، اوپر سونے اور چاندی دو چیزوں کا ذکر تھا مگر ضمیر صرف چاندی کی طرف راجع کی گئی، تفسیر مظہری میں اس کو اشارہ اس بات کا قرار دیا ہے کہ جب کسی شخص کے پاس سونا اور چاندی تھوڑا تھوڑا موجود ہو تو اعتبار چاندی کا کیا جائے گا، سونے کی قیمت بھی چاندی کے حساب میں لگا کر زکوٰة ادا کی جائے گی۔
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن کہ آگ دہکائیں گے اس مال پر دوزخ کی، پھر داغیں گے اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں (کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے گاڑھ کر رکھا تھا اپنے واسطے اب مزہ چکھو اپنے گاڑہنے کا۔

پانچویں آیت میں اس عذاب الیم کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے(آیت) يَّوْمَ يُحْمٰي عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰي بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ۭهٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ ، یعنی زکوٰة نہ ادا کرنے والوں کو یہ عذاب الیم اس دن ہوگا جب کہ ان کے جمع کئے ہوئے سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں پر داغ دیئے جائیں گے، اور ان سے زبانی سزا کے طور پر کہا جائے گا کہ یہ وہ چیز ہے جس کو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، سو اپنے جمع کئے ہوئے سرمایہ کو چکھو، اس سے معلوم ہوا کہ جزاء عمل عین عمل ہے جو سرمایہ ناجائز طور پر جمع کیا تھا یا اصل سرمایہ تو جائز تھا مگر اس کی زکوٰة ادا نہیں کی تو خود وہ سرمایہ ہی ان لوگوں کا عذاب بن گیا۔ اس آیت میں داغ لگانے کے لئے پیشا نیوں، پہلوؤ ں، پشتوں کا ذکر کیا گیا ہے، یا تو اس سے مراد پورا بدن ہے، اور یا پھر ان تین چیزوں کی تخصیص اس بناء پر ہے کہ بخیل آدمی جو اپنا سرمایہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا نہیں چاہتا، جب کوئی سائل یا زکوٰة کا طلبگار اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو دیکھ کر سب سے پہلے اس کی پیشانی پر بل آتے ہیں، پھر اس سے نظر بچانے کے لئے یہ داہنے بائیں مڑنا چاہتا ہے اور اس سے بھی سائل نہ چھوڑے تو اس کی طرف پشت کرلیتا ہے اس لئے پیشانی، پہلو، پشت اس عذاب کے لئے مخصوص کئے گئے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کے حکم میں جس دن اس نے پیدا کئے تھے آسمان اور زمین ان میں چار مہینے ہیں ادب کے، یہی ہے سیدھا دین سو ان میں ظلم مت کرو اپنے اوپر اور لڑو سب مشرکوں سے ہر حال میں جیسے وہ لڑتے ہیں تم سب سے ہر حال میں اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے ڈرنے والوں کے،

خلاصہ تفسیر یقینا شمار مہینوں کا (جو کہ) کتاب الٰہی (یعنی احکام شرعیہ) میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں (اور کچھ آج سے نہیں بلکہ) جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا کئے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار خاص مہینے ادب کے ہیں (ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب) یہی (امر مذکورہ) دین مستقیم ہے (یعنی ان مہینوں کا بارہ ہونا اور چار کا بالتخصیص اشہر حرم ہونا اور بخلاف عادت جاہلیت کے کبھی سال کے مہینوں کا عدد بڑھا دیتے، اور کبھی اشہر حرم کی تخصیص چھوڑ دیتے کہ یہ بد دینی ہے) سو تم ان سب مہینوں کے بارے میں (دین کے خلاف کرکے جو کہ موجب گناہ ہے) اپنا نقصان مت کرنا (یعنی اس عادت جاہلیت کے موافق مت کرنا) اور ان مشرکین سے (جبکہ یہ اپنی کفریات کو جن میں یہ خاص عادت بھی آگئی نہ چھوڑیں) سب سے لڑنا جیسا کہ وہ تم سب (مسلمانوں) سے لڑ (نے کو ہر وقت تیار رہا کر) تے ہیں، اور (اگر ان کے جمعیت اور سامان سے اندیشہ ہو تو) یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ساتھی ہے (پس ایمان و تقوٰی کو اپنا شعار رکھو اور کسی سے مت ڈرو، آگے ان کی عادت جاہلیت کا بیان ہے کہ) یہ (مہینوں کا یا ان کی حرمت کا آگے کو) ہٹا دینا کفر ہیں اور ترقی ہے جس سے (اور عام) کفار گمراہ کئے جاتے ہیں، (اس طور پر) کہ وہ اس حرام مہینہ کو کسی سال (نفسانی غرض سے) حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال (جب کوئی غرض نہ ہو) حرام سمجھتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو مہینے حرام کئے ہیں (صرف) ان کی گنتی (بلا لحاظ تخصیص و تعیین) پوری کرلیں پھر (جب تخصیص و تعیین نہ رہی تو) اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینہ کو حلال کرلیتے ہیں، ان کی بد اعمالیاں ان کو مستحسن معلوم ہوتی ہیں، اور (ان کے اصرار علی الکفر پر غم کرنا بےسود ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کو ہدایت (کی توفیق) نہیں دیتا (کیونکہ یہ خود راہ پر آنا نہیں چاہتے)۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کے کفر و شرک، گمراہی اور بد اعمالیوں کا ذکر تھا، ان دو آیتوں میں بھی اسی سلسلہ کا ایک مضمون اور عرب جاہلیت کی ایک جاہلانہ رسم بد کا بیان اور مسلمانوں کو اس سے اجتناب کی ہدایت ہے وہ رسم بد ایک واقعہ سے متعلق ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ عہد قدیم سے تمام انبیاء سابقین کی شریعتوں میں سال کے بارہ مہینے مانے جاتے تھے اور ان میں سے چار مہینے بڑے متبرک اور ادب و احترام کے مہینے سمجھے جاتے تھے تین مہینے مسلسل ذیقعدہ، ذی الحجہ محرم اور ایک رجب کا۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتیں اس پر متفق ہیں کہ ان چار مہینوں میں ہر عبادت کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، اور ان میں کوئی گناہ کرے تو اس کا وبال اور عذاب بھی زیادہ ہے، سابق شریعتوں میں ان مہینوں کے اندر قتل و قتال بھی ممنوع تھا۔ مکہ مکرمہ کے عرب چونکہ اسماعیل ؑ کے واسطہ سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ لصلوٰة والسلام کی اولاد ہیں، اس لئے یہ سب لوگ حضرت ابراہیم ؑ کی نبوت و رسالت کے قائل اور ان کی شریعت کو ماننے کا دعوٰی کرتے تھے، اور چونکہ ملت ابراہیم میں بھی ان چار مہینوں (یعنی اشہر حرم) میں قتل و قتال اور شکار ممنوع تھا، عرب جاہلیت پر اس حکم کی تعمیل اس لئے سخت دشوار تھی کہ دور جاہلیت میں قتل و قتال ہی ان کا پیشہ بن کر رہ گیا تھا، اس لئے اس میں آسانی پیدا کرنے کے لئے انہوں نے اپنی نفسانی اغراض کے لئے طرح طرح کے حیلے نکالے کبھی اشہر حرم کے کسی مہینہ میں جنگ کی ضرورت پیش آئی یا لڑتے لڑتے شہر حرام آجاتا تو کہہ دیتے کہ اب کے سال یہ مہینہ حرام نہیں ہوا اگلا مہینہ حرام ہوگا، مثلاً محرم آگیا تو کہتے کہ اس سال محرم کا مہینہ حرام نہیں بلکہ صفر کا مہینہ حرام ہوگا، اور مزید ضرورت پڑتی تو کہتے کہ ربیع الاول حرام ہوگا، یا یہ کہتے کہ اس سال صفر کا مہینہ پہلے آگیا، محرم بعد میں آئے گا اس طرح محرم کو صفر بنادیا، غرض سال بھر میں چار مہینے تو پورے کرلیتے تھے لیکن اللہ کی متعین کردہ ترتیب اور تعیین کا لحاظ نہ کرتے تھے، جس مہینہ کو چاہیں ذی الحجہ کہہ دیں اور جس کو چاہیں رمضان کہہ دیں جس کو چاہیں مقدم کردیں جس کو چاہیں موخر کردیں، اور کبھی زیادہ ضرورت پڑتی مثلاً لڑتے لڑتے دس مہینے گذر گئے اور سال کے صرف دو ہی مہینے باقی رہ گئے تو ایسے موقع پر سال کے مہینوں کی تعداد بڑھا دیتے، اور کہتے کہ اب کے برس سال چودہ مہینوں کا ہوگا، اسی طرح باقی ماندہ چار مہینوں کو اشہر حرم بنا لیتے تھے۔ غرض دین ابراہیمی کا اتنا تو احترام کرتے تھے کہ سال میں چار مہینوں کا احترام کرتے اور ان میں قتل و قتال سے باز رہتے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے جو ترتیب مہینوں کی متعین فرمائی اور اسی ترتیب سے چار مہینوں کو اشہر حرم قرار دیا، اس میں طرح طرح کی تاویلیں کرکے اپنی اغراض نفسانی کو پورا کرتے تھے اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں اس کا امتیاز ہی دشوار ہوگیا تھا کہ کونسا مہینہ رمضان یا شوال کا ہے اور کونسا ذی القعدہ ذی الحجہ یا رجب کا ہے، ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور نویں سال میں آنحضرت ﷺ نے صدیق اکبر کو موسم حج میں تمام کفار و مشرکین سے براءت کا اعلان کرنے کے لئے بھیجا تو یہ مہینہ حقیقی حساب سے اگرچہ ذی الحجہ کا مہینہ تھا، مگر جاہلیت کے اسی پرانے دستور کے مطابق یہ مہینہ ذی القعدہ کا قرار پایا تھا، اور اس سال ان کے نزدیک حج کا مہینہ بجائے ذی الحجہ کے ذی القعدہ مقرر تھا، پھر 10 ھ میں جب رسول کریم ﷺ نے اپنے منیٰ کے خطبہ میں ارشاد فرمایاان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق اللہ السموت والارض، یعنی زمانہ پھر پھرا کر پھر اپنی اسی ہیئت پر آگیا جس پر اس کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت رکھا تھا، یعنی جو مہینہ اصلی ذی الحجہ کا تھا جاہلیت والوں کے نزدیک بھی اس سال وہی مہینہ ذی الحجہ کا مہینہ قرار پایا۔ یہ تھی وہ رسم جاہلیت جو مہینوں کی تعداد اور ترتیب اور تعیین میں کمی بیشی اور رد و بدل کرکے کی جاتی تھی، جس کے نتیجہ میں ان تمام احکام شرعیہ میں خلل آتا تھا جو کسی خاص مہینہ یا اس کی کسی خاص تاریخ سے متعلق ہیں، یا جو سال کے شروع یا ختم سے متعلق ہیں، مثلاً عشرہ ذی الحجہ میں احکام حج اور عشرہ محرم کے روزے اور ختم سال پر زکوٰة وغیرہ کے احکام۔ بات تو مختصر سی تھی کہ مہینہ کا نام بدل کر مقدم و موخر کردیا کہ محرم کو صفر اور صفر کو محرم بنادیا لیکن اس کے نتیجہ میں سینکڑوں احکام شرعیہ کی تحریف ہو کر عمل برباد ہوا، قرآن مجید کی ان دو آیتوں میں اس رسم جاہلیت کی خرابی اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی ہدایت ہے۔ پہلی آیت میں ارشاد ہے(آیت) اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، اس میں لفظ عدة تعداد کے معنی میں ہے اور شہور شہر کی جمع ہے، شہر کے معنی مہینہ ہے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ متعین ہے اس میں کسی کو کمی بیشی کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کے بعد فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ کا لفظ بڑھا کر بتلا دیا کہ یہ بات ازل سے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی تھی، پھر يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فرما کر اشارہ کردیا کہ قضاء خداوندی اس معاملہ میں اگرچہ ازل میں جاری ہوچکی تھی، لیکن یہ مہینوں کی ترتیب اور تعیین اس وقت عمل میں آئی جب آسمان زمین پیدا کئے گئے۔ پھر ارشاد فرمایا (آیت) مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، یعنی ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا، ایک تو اس لئے کہ ان میں قتل و قتال حرام ہے، دوسرے اس لئے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام ہیں، ان میں عبادات کا ثواب زیادہ ملتا ہے، ان میں سے پہلا حکم تو شریعت اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام و ادب اور ان میں عبادت گذاری کا اہتمام اسلام میں بھی باقی ہے۔ حجة الوداع کے خطبہ یوم النحر میں رسول کریم ﷺ نے ان مہینوں کی تشریح یہ فرمائی کہ تین مہینے مسلسل ہیں، ذی القعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ایک مہینہ رجب کا ہے، مگر ماہ رجب کے معاملہ میں عرب کے دو قول مشہور تھے، بعض قبائل اس مہینہ کو رجب کہتے تھے جس کو ہم رمضان کہتے ہیں، اس قبیلہ مضر کے نزدیک رجب وہ مہینہ تھا جو جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کو رجب مضر فرما کر یہ وضاحت بھی فرمادی کہ جو جمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے وہ ماہ رجب مراد ہے۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ، یہ ہے دین مستقیم یعنی مہینوں کی تعیین اور ترتیب اور ان میں ہر مہینہ خصوصاً اشہر حرم کے متعلق جو احکام ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم ازلی کے مطابق رکھنا ہی دین مستقیم ہے، اس میں اپنی طرف سے کمی بیشی اور تغیر و تبدل کرنا کج فہمی اور کج طبعی کی علامت ہے (آیت) فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ ، یعنی ان مقدس مہینوں میں تم اپنا نقصان نہ کر بیٹھنا اور ان کے معینہ احکام و احترام کی خلاف ورزی کرو یا ان میں عبادت گذاری میں کوتاہی کرو۔ امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان متبرک مہینوں کا خاصہ یہ ہے کہ ان میں جو شخص کوئی عبادت کرتا ہے اس کو بقیہ مہینوں میں بھی عبادت کی توفیق اور ہمت ہوتی ہے، اسی طرح جو شخص کوشش کرکے ان مہینوں میں اپنے آپ کو گناہوں اور برے کاموں سے بچا لے تو باقی سال کے مہینوں میں اس کو ان برائیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے، اس لئے ان مہینوں سے فائدہ نہ اٹھانا ایک عظیم نقصان ہے۔ یہاں تک مشرکین مکہ کی ایک خاص رسم جاہلیت کا بیان اور اس کا ابطال تھا، آخر آیت میں پھر اس حکم کا اعادہ ہے جو شروع سورة میں دیا گیا تھا کہ میعاد معاہدہ ختم ہونے کے بعد تمام مشرکین و کفار سے جہاد واجب ہے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

یہ جو مہینہ ہٹا دینا ہے سو بڑھائی ہوئی بات ہے کفر کے عہد میں گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کرلیتے ہیں اس مہینہ کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں دوسرے برس تاکہ پوری کرلیں گنتی ان مہینوں کی جو اللہ نے ادب کیلئے رکھے ہیں، پھر حلال کرلیتے ہیں جو مہینہ کہ اللہ نے حرام کیا بھلے کردیئے گئے ان کی نظر میں ان کے برے کام اور اللہ راستہ نہیں دیتا کافر لوگوں کو۔

دوسری آیت میں بھی اسی رسم جاہلیت کا ذکر اس طرح فرمایا (آیت) اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ، لفظ نسی مصدر ہے جس کے معنی پیچھے ہٹا دینے اور موخر کردینے کے ہیں، اور بمعنی موخر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مشرکین عرب نے ان مہینوں کے آگے پیچھے کرنے کو یہ سمجھا تھا کہ اس طرح ہماری اغراض نفسانی بھی فوت نہ ہوں گی، اور حکم خداوندی کی تعمیل بھی ہوجائے گی، حق تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تمہارا مہینوں کو موخر کرنا اور اپنی جگہ سے ہٹا دینا کفر میں اور زیادتی ہے، جس سے ان کفار کی گمراہی اور بڑہتی ہے، کہ وہ شہر حرام کو کسی سال تو حرام قرار دیں اور کسی سال حلال کرلیں۔ (آیت) لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ، یعنی تاکہ وہ پوری کرلیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ محض گنتی پوری کرلینے سے تعمیل حکم نہیں ہوتی بلکہ جو حکم جس مہینہ کے لئے دیا گیا ہے اسی مہینہ میں اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ احکام و مسائل مذکورہ آیتوں سے ثابت ہوا کہ مہینوں کی جو ترتیب اور ان مہینوں کے جو نام اسلام میں معروف ہیں وہ انسانوں کی بنائی ہوئی اصطلاح نہیں، بلکہ رب العالمین نے جس دن آسمان و زمین پیدا کئے اسی دن یہ ترتیب اور یہ نام اور ان کے ساتھ خاص خاص مہینوں کے خاص خاص احکام متعین فرما دیئے تھے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک احکام شرعیہ میں قمری مہینوں کا اعتبار ہے، اسی قمری حساب پر تمام احکام شرعیہ روزہ، حج، زکوٰة وغیرہ دائر ہیں، لیکن قرآن حکیم نے تاریخ و سال معلوم کرنے کے لئے جیسے قمر کو علامت قرار دیا ہے اسی طرح آفتاب کو بھی اس کی علامت فرمایا ہے، (آیت) لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، اس لئے تاریخ و سال کا حساب چاند اور سورج دونوں سے جائز ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کے لئے چاند کے حساب کو پسند فرمایا، اور احکام شرعیہ اس پر دائر فرمائے اس لئے قمری حساب کا محفوظ رکھنا فرض کفایہ ہے، اگر ساری امت قمری حساب ترک کرکے اس کو بھلا دے تو سب گہنگار ہوں گے، اور اگر وہ محفوظ ہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی جائز ہے لیکن سنت اللہ اور سنت سلف کے خلاف ضرور ہے اس لئے بلا ضرورت اس کو اختیار کرنا اچھا نہیں۔ حساب کو پورا کرنے کے لئے جو لوند کا مہینہ بڑھایا جاتا ہے، بعض لوگوں نے اس کو بھی اس آیت کے تحت ناجائز سمجھا ہے، مگر وہ صحیح نہیں کیونکہ جس حساب میں لوند کا مہینہ بڑھاتے ہیں اس سے احکام شرعیہ کا تعلق نہیں، اہل جاہلیت قمری اور شرعی مہینوں میں زیادتی کرکے شرعی احکام کو بدلتے تھے، اس لئے منع کیا گیا لوند کا کوئی اثر شرعی احکام پر نہیں پڑتا اس لئے وہ اس ممانعت میں داخل نہیں۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو تم کو کیا ہوا جب تم سے کہا جاتا ہے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو گرے جاتے ہو زمین پر کیا خوش ہوگئے دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر سو کچھ نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں مگر بہت تھوڑا،

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو تم لوگوں کو کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد کے لئے) نکلو تو تم زمین کو لگے جاتے ہو (یعنی اٹھتے اور چلتے نہیں) کیا تم نے آخرت کے عوض دنیاوی زندگی پر قناعت کرلی سو دنیوی زندگی کی تمتع تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل ہے اگر تم (اس جہاد کے لئے) نہ نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو سخت سزا دے گا، (یعنی تم کو ہلاک کردے گا) اور تمہارے بدلے دوسری قوم پیدا کردے گا، (اور ان سے اپنا کام لے گا) اور تم اللہ (کے دین) کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے، اور اللہ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے اگر تم لوگ رسول (اللہ ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو (اللہ آپ کی مدد کرے گا، جیسا کہ) اللہ تعالیٰ آپ کی مدد اس وقت کرچکا ہے جبکہ (اس سے زیادہ مصیبت و پریشانی کا وقت تھا جبکہ) آپ کو کافروں نے (تنگ کر کر کے مکہ سے) جلا وطن کردیا تھا جبکہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے (اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق آپ کے ہمراہ تھے) جس وقت کہ دونوں (صاحب) غار (ثور) میں (موجود) تھے جبکہ آپ اپنے ہمراہی سے فرما رہے تھے کہ تم (کچھ) غم نہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ (کی مدد) ہمارے ہمراہ ہے سو (وہ مدد یہ ہوئی کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ (کے قلب) پر اپنی (طرف سے) تسلی نازل فرمائی اور آپ کو (ملائکہ کے) ایسے لشکروں سے قوت دی جن کو تم لوگوں نے نہیں دیکھا، اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کی بات (اور تدبیر) سچی کردی (کہ وہ ناکام رہے) اور اللہ ہی کا بول بالا رہا (کہ ان کی تدبیر اور حفاظت غالب رہی) اور اللہ زبردست حکمت والا ہے (اسی لئے اس کی بات اور حکمت غالب رہی جہاد کیلئے) نکل پڑو (خواہ) تھوڑے سے سامان سے (ہو) اور (خواہ) زیادہ سامان سے (ہو) اور اللہ ہی کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم یقین رکھتے ہو، (تو دیر مت کرو) اگر کچھ لگتے ہاتھ ملنے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ (منافق) لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو تو مسافت ہی دور دراز معلوم ہونے لگی (اس لئے یہاں ہی رہ گئے) اور ابھی (جب تم لوگ واپس آؤ گے تو) خدا کی قسمیں کھا جائیں گے کہ اگر ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے، یہ لوگ (جھوٹ بول بول کر) اپنے آپ کو تباہ (یعنی مستحق عذاب) کررہے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقینا جھوٹے ہیں (بلا شبہ انکو استطاعت تھی اور پھر یہ نہیں گئے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں رسول کریم ﷺ کے غزوات میں سے ایک اہم غزوہ کا بیان اور اس کے ضمن میں بہت سے احکام اور ہدایات ہیں، یہ غزوہ غزوہ تبوک کے نام سے موسوم ہے اور رسول کریم ﷺ کا تقریبا آخری غزوہ ہے۔ تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے، شام اس وقت رومی مسیحیوں کی حکومت کا ایک صوبہ تھا، رسول کریم ﷺ 8 ہجری میں جب فتح مکہ اور غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت جزیرة العرب کے اہم حصے اسلامی حکومت کے زیر نگیں آچکے تھے اور مشرکین مکہ کی ہشت سالہ مسلسل جنگوں کے بعد اب مسلمانوں کو ذرا سکون کا وقت ملا تھا۔ مگر جس ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی (آیت) لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ، نازل فرما کر پورے عالم کی فتوحات اور اس میں اپنے دین حق کو غالب کرنے کی بشارت دے دیتھی اس کو اور اس کے رفقاء کار کو فرصت کہاں، مدینہ پہونچتے ہی ملک شام سے آنے والے تجارت پیشہ لوگ جو شام سے زیتون کا تیل لا کر مدینہ وغیرہ میں فروخت کیا کرتے تھے، ان لوگوں نے یہ خبر پہنچائی کہ شاہ روم ہرقل نے اپنی فوجیں مقام تبوک میں سرحد شام پر جمع کردی ہیں اور فوجیوں کو پورے ایک سال کی تنخواہیں پیشگی دے کر مطمئن اور خوش کردیا ہے، اور عرب کے بعض قبائل سے بھی ان کی سازباز ہے ان کا تہیہ یہ ہے کہ مدینہ پر یکبارگی حملہ کریں۔ جب رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے یہ ارادہ فرمالیا کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے پیش قدمی کر کے وہیں مقابلہ کیا جائے جہاں ان کی فوجیں جمع ہیں (تفسیر مظہری بحوالہ محمد بن یوسف صالحی)۔ یہ زمانہ اتفاق سے سخت گرمی کا زمانہ تھا، اور مدینہ کے حضرات عموماً زراعت پیشہ لوگ تھے، ان کی کھیتیاں اور باغات کے پھل پک رہے تھے جس پر ان کی ساری معیشت اور پورے سال کے گذارہ کا مدار تھا اور یہ بھی معلوم ہے کہ جس طرح ملازمت پیشہ لوگوں کی جیبیں مہینہ کے آخر میں دنوں میں خالی ہوجاتی ہیں اسی طرح زراعت پیشہ لوگ فصل کے ختم پر خالی ہاتھ ہوتے ہیں، ایک طرف افلاس دوسری طرف قریب آمدنی کی امید، اس پر مزید موسم گرما کی شدت اس قوم کے لئے جس کو ابھی ابھی ایک حریف کے ساتھ آٹھ سال مسلسل جنگوں کے بعد ذرا دم لینے کا موقع ملا تھا، ایک انتہائی صبر آزما امتحان تھا۔ مگر وقت کا تقاضا تھا اور یہ جہاد اپنی نوعیت میں پہلی سب جنگوں سے اس لئے بھی ممتاز تھا کہ پہلے تو اپنی ہی طرح کے عوام سے جنگ تھی، اور یہاں ہرقل شاہ روم کی تربیت یافتہ فوج کا مقابلہ تھا، اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ نے مدینہ طیبہ کے پورے مسلمانوں کو اس جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیدیا، اور کچھ آس پاس کے دوسرے قبائل کو بھی شرکت جہاد کے لئے دعوت دی تھی۔ یہ اعلان عام اسلام کے فدا کاروں کا ایک سخت امتحان تھا، اور منافق دعویداروں کا امتیاز بھی، اس کے علاوہ لازمی نتیجہ کے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کے مختلف حالات ہوگئے، قرآن کریم نے ان میں سے ہر حالت کے متعلق جدا جدا ارشادات فرمائے ہیں۔ ایک حالت ان کامل مکمل حضرات کی تھی جو بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے، دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد کے بعد ساتھ ہوگئے، ان دونوں طبقوں کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، یعنی وہ لوگ قابل مدح ہیں جنہوں نے سخت تنگی کے وقت رسول کریم کا اتباع کیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک فریق کے قلوب لغزش کرنے لگے تھے۔ تسیری حالت ان لوگوں کی تھی جو کسی صحیح عذر کی بنا پر اس جہاد میں نہ جاسکے، اس کے متعلق قرآن کریم نے آیت (آیت) لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى، میں ان کے عذر کی قبولیت کا اظہار فرمادیا۔ چوتھی قسم ان لوگوں کی تھی جو باوجود کوئی عذر نہ ہونے کے کاہلی کے سبب جہاد میں شریک نہیں ہوئے ان کے متعلق کئی آیتیں نازل ہوئیں (آیت) وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ اور وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اور وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا، تینوں آیتیں ایسے ہی حضرات کے بارے میں نازل ہوئیں، جن میں ان کی کاہلی پر زجر و تنبیہ بھی ہے اور بالاخر ان کی توبہ کے قبول ہونے کی بشارت بھی۔ پانچواں طبقہ منافقین کا تھا جو اپنے نفاق کی وجہ سے اس سخت امتحان میں اپنے نفاق کو چھپا نہ سکا اور شرکت جہاد سے الگ رہا، اس طبقہ کا ذکر بہت سی آیات میں آیا ہے۔ چھٹا طبقہ ان منافقین کا تھا جو جاسوسی اور شرارت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہو لیا تھا ان کی حالت کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں ہےوَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ۔ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ۔ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا۔ لیکن اس ساری سختی اور تکلیف کے باوجود شرکت جہاد سے باز رہنے والوں کی مجموعی تعداد پھر بھی برائے نام تھی، بھاری اکثریت انہی مسلمانوں کی تھی جو اپنے سارے منافع اور راحت کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی مشقت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے، اسی لئے اس جہاد میں نکلنے والے اسلامی شکر کی تعداد تیس ہزار تھی، جو اس سے پہلے کسی جہاد میں نظر نہیں آئی۔ نتیجہ اس جہاد کا یہ ہوا کہ جب ہرقل شاہ روم کو مسلمانوں کی اتنی بڑی جمعیت کے مقابلہ پر آنے کی خبر پہنچی تو اس پر رعب طاری ہوگیا، مقابلہ پر نہیں آیا، رسول کریم ﷺ اپنے فرشتہ خصلت صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ چند روز محاذجنگ پر قیام کرکے جب مخالف کے مقابلہ پر آنے سے مایوس ہوگئے تو واپس تشریف لے آئے۔ جو آیتیں اوپر لکھی گئی ہیں بظاہر ان کا تعلق اس چوتھی جماعت سے ہے جو بغیر کسی صحیح عذر کے اپنی سستی اور کاہلی کی بنا پر شریک جہاد نہیں ہوئے، پہلی آیت میں ان کو اس کاہلی اور غفلت پر تنبیہ کی گئی اور اس کے ساتھ ان کے اس مرض غفلت و کاہلی کا سبب اور پھر اس کا علاج بھی ارشاد فرمایا گیا، جس کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوگیا کہ دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت تمام جرائم کی بنیاد ہےکیونکہ مرض کا جو سبب اور علاج اس جگہ بیان فرمایا گیا ہے اگرچہ اس جگہ اس کا تعلق ایک خاص واقعہ سے تھا، لیکن اگر غور کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ دین کے معاملہ میں ہر کوتاہی سستی اور غفلت اور تمام جرائم اور گناہوں کا اصلی سبب یہی دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت ہے اسی لئے حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہےحب الدنیا راس کل خطیئۃ، یعنی دنیا کی محبت ہر خطاء و گناہ کی بنیاد ہے اسی لئے آیت مذکورہ میں فرمایا گیا کہ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تمہیں اللہ کے راستہ میں نکلنے کے لئے کہا جاتا ہے تو تم زمین کو لگے جاتے ہو (حرکت کرنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت کے بدلے صرف دنیا کی زندگی پر مگن ہوگئے۔ تشخیص مرض کے بعد اس کا علاج اگلے جملہ میں اس طرح ارشاد ہوا کہ دنیوی زندگی سے نفع اٹھانا تو کچھ بھی نہیں بہت قلیل و حقیر ہے“ جس کا حاصل یہ ہے کہ بڑی فکر آخرت کی دائمی زندگی کی چاہئے، اور یہ فکر آخرت ہی درحقیقت سارے امراض کا واحد اور مکمل علاج ہے اور انسداد جرائم کے لئے بےنظر نسخہ اکسیر ہے۔ عقائد اسلام کے بنیادی اصول تین ہیں، توحید، رسالت اور آخرت، ان میں عقیدہ آخرت درحقیقت اصلاح عمل کی روح اور جرائم اور گناہوں کے آگے ایک آہنی دیوار ہے، اگر غور کیا جائے تو بدیہی طور پر معلوم ہوگا کہ دنیا میں امن و سکون اس عقیدہ کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا آج کی دنیا میں مادی ترقیات اپنے شباب کو پہنچی ہوئی ہیں، جرائم کے انسداد کے لئے بھی کسی ملک و قوم میں مادی تدبیروں کی کوئی کمی نہیں، قانون کی جکڑ بندی اور اس کے لئے انتظامی مشینری روز بروز ترقی پر ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی آنکھوں دیکھا حال ہے کہ جرائم ہر جگہ اور ہر قوم میں روز بروز ترقی ہی پر ہیں، ہماری نظر میں اس کی وجہ اس کے سوا نہیں کہ مرض کی تشخیص اور علاج کا رخ صحیح نہیں، مرض کا سرچشمہ مادہ پرستی اور مادیات میں انہماک اور آخرت سے غفلت و اعراض ہے، اور اس کا واحد علاج ذکر اللہ اور آخرت کی فکر ہے، جس وقت اور جس جگہ بھی دنیا میں اس اکسیری نسخہ کو استعمال کیا گیا پوری قوم اور اس کا معاشرہ صحیح انسانیت کی تصویر بن کر فرشتوں کے لئے قابل رشک ہوگیا، عہد رسالت اور عہد صحابہ کرام کا مشاھدہ اس کے لئے کافی دلیل ہے۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو دے گا تم کو عذاب دردناک اور بدلہ میں لاوے گا اور لوگ تمہارے سوا اور کچھ نہ بگاڑ سکو گے تم اس کا، اور اللہ سب چیز پر قادر ہے،

دوسری آیت میں سستی اور کاہلی برتنے والوں کو ان کے مرض اور علاج پر متنبہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ یہ بھی سنا دیا کہ اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردیں گے اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو کھڑا کردیں گے، اور دین پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم مدد نہ کرو گے رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں نے کہ وہ دوسرا تھا دو میں کا جب وہ دونوں تھے غار میں جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں، اور نیچے ڈالی بات کافروں کی، اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے، اور اللہ زبردست ہے حکمت والا،

تیسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کا واقعہ پیش کرکے یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول کسی انسان کی نصرت و امداد کا محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو براہ راست غیب سے امداد پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ ہجرت کے وقت پیش آیا، جب آپ کو آپ کی برادری اور اہل وطن نے وطن سے نکلنے پر مجبور کردیا، سفر میں آپ کا رفیق بھی ایک صدیق کے سوا کوئی نہ تھا دشمنوں کے پیادے اور سوار تعاقب کر رہے تھے، آپ کی جائے پناہ بھی کوئی مستحکم قلعہ نہ تھا بلکہ ایک غار تھا، جس کے کنارے تک تلاش کرنے والے دشمن پہنچ چکے تھے، اور رفیق غار ابوبکر کو اپنی جان کا تو غم نہ تھا مگر اس لئے سہم رہے تھے کہ یہ دشمن سردار دو عالم ﷺ پر حملہ آور ہوجائیں گے، مگر رسول اللہ ﷺ کوہ ثبات بنے ہوئے نہ صرف خود مطمئن تھے بلکہ اپنے رفیق صدیق کو فرما رہے تھے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا، تم غمگین نہ ہو کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ بات کہنے کو تو دو لفظ ہیں جن کا بولنا کچھ مشکل نہیں، مگر سننے والے حالات کا پورا نقشہ سامنے رکھ کر دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں کہ محض مادیات پر نظر رکھنے والے سے یہ اطمینان ممکن ہی نہیں، اس کا سبب اس کے سوا نہ تھا جس کو قرآن نے اگلے جملے میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب مبارک پر تسلی نازل فرمادی، اور ایسے لشکروں سے آپ کی امداد فرمائی جن کو تم لوگون نے نہیں دیکھا“۔ یہ لشکر فرشتوں کے لشکر بھی ہوسکتے ہیں اور پورے عالم کی قوتیں خود بھی خدائی لشکر ہیں وہ بھی ہو سکتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالاخر کفر کا کلمہ پست ہو کر رہا اور اللہ ہی کا بول بالا ہوا۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

نکلو ہلکے اور بوجھل اور لڑو اپنے مال سے اور جان سے اللہ کی راہ میں، یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم کو سمجھ ہے،

چوتھی آیت میں پھر تاکید کے طور پر اس حکم کا اعادہ فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے تم لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے دیاتو تم پر نکلنا ہر حال میں فرض ہوگیا، اور اس حکم کی تعمیل ہی میں تمہاری ہر بھلائی کا انحصار ہے۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال ہوتا نزدیک اور سفر ہلکا تو وہ لوگ ضرور تیرے ساتھ ہولیتے لیکن لمبی نظر آئی ان کو مسافت اور اب قسمیں کھا دینگے اللہ کی کہ اگر ہم سے ہوسکتا تو ہم ضرور چلتے تمہارے ساتھ، وبال میں ڈالتے ہیں اپنی جانوں کو، اور اللہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

پانچویں آیت میں جہاد میں بوجہ غفلت و سستی شریک نہ ہونے والوں کے ایک عذر کا بیان کرکے اس کی تردید کی گئی ہے کہ یہ عذر قابل قبول نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو اختیار اور قدرت عطا فرمائی تھی انہوں نے اس کو اللہ کی راہ میں مقدور بھر استعمال نہیں کیا، اس لئے عدم استطاعت کا عذر صحیح نہیں۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ بخشے تجھ کو کیوں رخصت دیدی تو نے ان کو یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے تجھ پر سچ کہنے والے اور جان لیتا تو جھوٹوں کو،

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف (تو) کردیا (لیکن) آپ نے ان کو (ایسی جلدی) اجازت کیوں دے دیتھی جب تک کہ آپ کے سامنے سچے لوگ ظاہر نہ ہوجاتے، اور (جب تک کہ) جھوٹوں کو معلوم نہ کرلیتے (تاکہ وہ خوش تو نہ ہونے پا تے، کہ ہم نے آپ کو دھوکہ دے دیا (اور) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں (اس میں شریک نہ ہونے کی کبھی) آپ سے رخصت نہ مانگیں گے (بلکہ وہ حکم کے ساتھ دوڑ پڑیں گے) اور اللہ تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے (ان کو اجر وثواب دے گا) البتہ وہ لوگ (جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے رخصت مانگتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل (اسلام سے) شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شکوک میں پڑے ہوئے، حیران ہیں (کبھی موافقت کا خیال ہوتا ہے کبھی مخالفت کا) اور اگر وہ لوگ (غزوہ میں) چلنے کا ارادہ کرتے (جیسا کہ وہ اپنے عذر کے وقت ظاہر کرتے ہیں کہ چلنے کا تو ارادہ تھا، لیکن کیا کیا جائے فلاں ضرورت پیش آگئی سو اگر ایسا ہوتا) تو اس (چلنے) کا کچھ سامان تو درست کرتے (جیسا کہ سفر کے لوازم عادیہ سے ہے) لیکن (انہوں نے تو شروع سے ارادہ ہی نہیں کیا اور اس میں خیر ہوئی جیسا آگے آنا ہے لَوْ خَرَجُوْا فِيْكُمْ اور اس کے خیر ہونے کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے ان کے جانے کو پسند نہیں کیا اس لئے ان کو توفیق نہیں دی اور (بحکم تکوینی) یوں کہہ دیا گیا کہ اپاہج لوگوں کے ساتھ تم بھی یہاں ہی دھرے رہو (اور ان کے جانے میں خیر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ) اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ شامل ہوجاتے تو سوا اس کے کہ اور دونا فساد کرتے اور کیا ہوتا (وہ فساد یہ ہوتا کہ) تمہارے درمیان فتنہ پردازی کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے (یعنی لگائی بجھائی کرکے آپس میں تفریق ڈلواتے، اور جھوٹی خبریں اڑا کر پریشان کرتے، دشمن کا رعب تمہارے قلوب میں ڈالنے کی کوشش کرتے، اس لئے ان کا نہ جانا ہی اچھا ہوا) اور (اب بھی) تم میں ان کے کچھ جاسوس موجود ہیں (جن کو اس سے زیادہ فساد کی تدبیر میں مہارت نہیں) اور اس ظالموں کو اللہ خوب سمجھے گا (اور ان لوگوں کی مفسدہ سازی و فتنہ پردازی کچھ آج نئی نہیں) انہوں نے تو پہلے (جنگ احد وغیرہ میں) بھی فتنہ پردازی کی فکر کی تھی (کہ ساتھ ہو کر ہٹ گئے کہ مسلمان دل شکستہ ہوجائیں) اور (اس کے علاوہ بھی) آپ کی (ضرر رسانی کے) لئے کارروائیوں کی الٹ پھیر کرتے ہی رہے، یہاں تک کہ سچا وعدہ آگیا اور (اس کا آنا یہ ہے کہ) اللہ کا حکم غالب رہا اور ان کو ناگوار ہی گذرتا رہا (اسی طرح آئندہ بھی بالکل تسلی رکھئے کچھ فکر نہ کیجئے) اور ان (منافقین متخلفین) میں بعض شخص وہ ہے جو (آپ سے) کہتا ہے کہ مجھ کو (غزوہ میں نہ جانے کی اور گھر رہنے کی) اجازت دیدیجئے، اور مجھ کو خرابی میں نہ ڈالئے، خوب سمجھ لو کہ یہ لوگ خرابی میں تو پڑ ہی چکے ہیں (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور کفر سے بڑھ کر اور کونسی خرابی ہوگی) اور یقینا دوزخ (آخرت میں) ان کافروں کو گھیرے گی اگر آپ کو کوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو وہ ان کے لئے موجب غم ہوتی ہے، اور اگر آپ پر کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو (خوش ہوکر) کہتے ہیں کہ ہم نے تو (اسی واسطے) پہلے سے اپنا احتیاط کا پہلو اختیار کرلیا تھا، (کہ ان کے ساتھ لڑائی وغیرہ میں نہیں گئے تھے) اور (یہ کہہ کر) وہ خوش ہوتے ہوئے چلے جاتے ہیں آپ (جواب میں ان سے دو باتیں) فرما دیجئے (ایک تو یہ کہ) ہم پر کوئی حادثہ نہیں پڑ سکتا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر فرمایا ہے وہ ہمارا مالک ہے (پس مالک حقیقی جو تجویز کرے مملوک کو اس پر راضی رہنا واجب ہے) اور (کیا تخصیص ہے) اللہ کے تو سب مسلمانوں کو اپنے سب کام سپرد رکھنے چاہئیں (دوسری بات یہ) فرما دیجئے کہ (ہمارے لئے جیسی اچھی حالت بہتر ہے ویسے ہی حوادث بھی باعتبار انجام کے کہ اس میں رفع درجات و قطع سیئات ہونا بہتر ہے، پس) تم تو ہمارے حق میں دو بہتریوں میں سے ایک بہتری کے منتظر رہتے ہو (یعنی تم جو ہماری حالت کے منتظر رہتے ہو کہ دیکھئے کیا ہو تو خواہ وہ حسنہ ہو یا مصیبت ہمارے لئے دونوں ہی میں بہتری ہے) اور ہم تمہارے حق میں اس کے منتظر رہا کرتے ہیں، کہ خدا تعالیٰ تم پر کوئی عذاب واقع کرے گا (خواہ) اپنی طرف سے (دنیا میں یا آخرت میں) یا ہمارے ہاتھوں سے (جب کہ تم اپنے کفر کو ظاہر کردو، تو مثل دوسرے کفار کے قتل کئے جاؤ سو تم (اپنے طور پر) انتظار کرو (اور) ہم تمہارے ساتھ (اپنے طور پر) انتظار میں ہیں۔ معارف و مسائل اس پورے رکوع کی سترہ آیتوں میں بیشتر ان منافقین کا ذکر ہے، جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کر کے غزہ تبوک میں نہ جانے کی اجازت رسول کریم ﷺ سے حاصل کرلی تھی، اس کے ضمن میں بہت سے احکام و مسائل اور ہدایات ہیں۔ پہلی آیت میں ایک لطیف انداز سے رسالت مآب ﷺ سے اس بات کی شکایت ہے کہ ان منافقین نے جھوٹ بول کر اپنے آپ کو معذور ظاہر کیا اور آپ نے قبل اس کے کہ ان کے حال کی تحقیق کرکے جھوٹ سچ کا پتہ لگاتے ان کو رخصت دیدی، جس کی بنا پر یہ لوگ خوشیاں مناتے اور یہ کہتے پھرتے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو خوب دھوکہ دیا، اگرچہ اگلی آیتوں میں حق تعالیٰ نے اس کا بھی اظہار فرمایا کہ یہ لوگ محض حیلہ جوئی کے لئے عذر پیش کر رہے تھے، ورنہ اگر ان کو اجازت نہ دی جاتی جب بھی یہ لوگ جانے والے نہ تھے اور ایک آیت میں اس کا بھی اظہار فرمایا کہ اگر بالفرض یہ لوگ اس جہاد میں جاتے بھی تو ان سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچتا، بلکہ ان کی سازش اور فتنہ پردازی سے اور خطرہ ہوتا۔ لیکن منشاء یہ ہے کہ ان کو اگر اجازت نہ دی جاتی تو پھر بھی یہ جانے والے تو نہ تھے، مگر ان کا نفاق کھل جاتا، اور ان کو مسلمانوں پر یہ طعنے کسنے کا موقع نہ ملتا کہ ہم نے ان کو خوب بیوقوف بنایا، اور مقصد درحقیقت عتاب نہیں بلکہ یہ بات ہے کہ آئندہ ان لوگوں کی چالوں سے باخبر رہیں، اور صورة جو ایک قسم کا عتاب بھی ہے تو کس لطف عنایت کے ساتھ کہ عتاب کی بات جو لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ سے شروع ہوئی ہے، یعنی آپ نے ان لوگوں کو کیوں اجازت دے دیاس کے ذکر کرنے سے پہلے ہی عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ذکر فرما دیا، جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف فرمادیا۔ اور رسول کریم ﷺ کے منصب و مقام اور آپ کے تعلق مع اللہ پر نظر رکھنے والے حضرات نے فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جو غایت تعلق حضرت حق جل شانہ کے ساتھ تھا اس کے پیش نظر آپ کا قلب مبارک اس کا تحمل ہی نہ کرسکتا تھا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے کسی معاملہ میں آپ سے جواب طلب کیا جائے، اگر شروع میں لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ کے الفاظ ذکر فرما دیئے جاتے جن میں صورة جواب طلبی کا عنوان ہے تو آنحضرت ﷺ کا قلب مبارک اس کا تحمل نہ کرسکتا، اس لئے اس سے پہلے عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ فرما کر ایک طرف تو اس پر مطلع کردیا کہ کوئی ایسا کام ہوگیا ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہ تھا، دوسری طرف اس کی معافی کی اطلاع پہلے دے دیتا کہ اگلا کلام قلب مبارک پر زیادہ شاق نہ ہو۔ اور لفظ معافی سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ معافی تو جرم و گناہ کی ہوا کرتی ہے، اور رسول اللہ ﷺ گناہ سے معصوم ہیں تو پھر معافی کے یہاں کیا معنی ہوسکتے ہیں وجہ یہ ہے کہ معافی جیسے گناہ کی ہوتی ہے ایسی ہی خلاف اولی اور ناپسندیدہ چیز کے لئے بھی معافی کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اور وہ عصمت کے منافی نہیں۔
Ayahs 9:44–45

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

نہیں رخصت مانگتے تجھ سے وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس سے کہ لڑیں اپنے مال اور جان سے اور اللہ خوب جانتا ہے ڈر والوں کو،

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

رخصت وہی مانگتے ہیں تجھ سے جو نہیں ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور شک میں پڑے ہیں دل ان کے سو وہ اپنے شک ہی میں بھٹک رہے ہیں،

دوسری اور تیسری آیت میں مومنین اور منافقین کا یہ فرق بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح ایمان رکھنے والے ایسے موقع پر کبھی اپنی جان و مال کی محبت میں جہاد سے جان چرانے کے لئے آپ سے رخصت نہیں مانگا کرتے، بلکہ یہ کام صرف انہی لوگوں کا ہے جن کا اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان صحیح نہیں، اور اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو خوب جانتے ہیں۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ چاہتے نکلنا تو ضرور تیار کرتے کچھ سامان اس کا لیکن پسند نہ کیا اللہ نے ان کا اٹھنا سو روک دیا ان کو اور حکم ہوا کہ بیٹھے رہو ساتھ بیٹھنے والوں کے،

چوتھی آیت میں ان کا عذر غلط ہونے کا ایک قرینہ یہ بتلایا گیا ہے کہ (آیت) وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً یعنی اگر واقعی یہ لوگ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لئے ضروری تھا کہ کچھ تیاری بھی تو کرتے، لیکن انہوں نے کوئی تیاری نہیں کی، جس سے معلوم ہوا کہ عذر کا بہانہ غلط تھا، درحقیقت ان کا ارادہ ہی جہاد کے لئے نکلنے کا نہیں تھا۔ عذر معقول اور نامعقول میں امتیاز اس آیت سے ایک اہم اصول مستفاد ہوا، جس سے معقول اور نامعقول عذر میں امتیاز کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ عذر انہی لوگوں کا قابل قبول ہوسکتا ہے جو تعمیل حکم کے لئے تیار ہوں، پھر کسی اتفاقی حادثہ کے سبب معذور ہوگئے، معذوروں کے تمام معاملات کا یہی حکم ہے جس نے تعمیل حکم کے لئے کوئی تیاری ہی نہیں کی اور ارادہ ہی نہیں کیا، پھر کوئی عذر بھی پیش آگیا تو یہ عذر گناہ بدتر از گناہ کی ایک مثال ہوگی، صحیح عذر نہ سمجھا جائے گا، جو شخص نماز جمعہ کی حاضری کے لئے تیاری مکمل کرچکا ہے اور جانے کا ارادہ کر رہا ہے کہ دفعة کوئی ایسا عذر پیش آگیا جس کی وجہ سے نہ جاسکا تو اس کا عذر معقول ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اس کی عبادت کا پورا اجر عطا فرماتے ہیں، اور جس نے کوئی تیاری کی ہی نہیں، پھر اتفاقاً کوئی عذر بھی سامنے آگیا تو وہ محض ایک بہانہ ہے۔ صبح کو سویرے نماز کے لئے اٹھنے کی تیاری پوری پوری کی، گھڑی میں الارم لگایا، یا کسی کو مقرر کیا جو وقت پر جگائے، پھر اتفاق سے یہ تدبیریں غلط ہوگئیں جس کی وجہ سے نماز قضا ہوگئی، جیسے رسول اللہ ﷺ کو لیلة التعریس میں پیش آیا، کہ وقت پر جاگنے کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ حضرت بلال کو بٹھا دیا کہ وہ صبح ہوتے ہی سب کو جگادیں، مگر اتفاق سے ان پر بھی نیند غالب آگئی، اور آفتاب نکل آنے کے بعد سب کی آنکھ کھلی، تو یہ عذر صحیح اور معقول ہے، جس کی بناء پر آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایالا تفریط فی النوم انما التفریط فی الیقظۃ، یعنی نیند میں آدمی معذور ہے، کوتاہی وہ ہے جو جاگتے ہوئے کوتاہی کرے“ وجہ یہ تھی کہ اپنی طرف سے وقت پر جاگنے کا انتظام مکمل کرلیا گیا تھا۔ خلا صہ یہ ہے کہ تعمیل حکم کے لئے تیاری کرنے یا نہ کرنے ہی سے کسی عذر کے معقول یا نامعقول ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر نکلتے تم میں تو کچھ نہ بڑھاتے تمہارے لئے مگر خرابی اور گھوڑے دوڑاتے تمہارے اندر بگاڑ کروانے کی تلاش میں اور تم میں بعضے جاسوس ہیں ان کے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو،

پانچویں آیت میں دھوکہ سے اجازت لینے والے منافقین کا یہ حال بھی بتلا دیا گیا کہ ان کا جہاد میں نہ جانا ہی بہتر تھا، اگر یہ جاتے تو سازشوں اور جھوٹی خبروں سے فساد ہی پھیلاتے (آیت) وَفِيْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ یعنی تم میں کچھ بھولے بھالے مسلمان ایسے بھی ہیں جو ان کی جھوٹی افواہوں سے متاثر ہو سکتے تھے“
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

وہ تلاش کرتے رہے ہیں بگاڑ کی پہلے سے اور الٹتے رہے ہیں تیرے کام یہاں تک کہ آپہنچا سچا وعدہ اور غالب ہوا حکم اللہ کا اور وہ ناخوش ہی رہے

(آیت) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ یعنی یہ لوگ اس سے پہلے بھی ایسا فتنہ و فساد پھیلا چکے ہیں جیسے غزوہ احد میں پیش آیا تھا، وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ ، یعنی غالب آیا حکم اللہ کا حالانکہ منافقین اس سے بہت پیچ و تاب میں تھے، اس سے اشارہ فرما دیا کہ غلبہ اور فتح حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جیسا پہلے واقعات میں آپ کو فتح دی گئی، اس جہاد میں بھی ایسا ہی ہوگا اور منافقین کی سب چالیں ناکام ہوجائیں گی۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کہتے ہیں مجھ کو رخصت دے اور گمراہی میں نہ ڈال، سنتا ہے وہ تو گمراہی میں پڑچکے ہیں اور بیشک دوزخ گھیر رہی ہے کافروں کو،

چھٹی آیت میں ایک خاص منافق جد بن قیس کا ایک خا ص بہانہ ذکر کر کے اس کی گمراہی بیان فرمائی، اس نے جہاد میں جانے سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ میں نوجوان آدمی ہوں، رومیوں کے مقابلہ پر جاؤں گا تو ان کی حسین عورتوں کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے، قرآن کریم نے اس کے جواب میں فرمایا اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا، کہ یہ بیوقوف ایک موہوم فتنہ کا بہانہ کرکے ایک یقینی فتنہ یعنی امر رسول کی خلاف ورزی اور ترک جہاد کے گناہ میں فی الحال مبتلا ہوگئے۔ (آیت) ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ ، یعنی جہنم ان سب کافروں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے جس سے نکل نہیں سکتے، اس کی مراد یا تو یہ ہے کہ آخرت میں جہنم ان کو گھیرے میں لے لی گی اور یا یہ کہ جہنم میں پہنچنے کے اسباب جو اس وقت ان کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہیں، انہی کو جہنم سے تعبیر فرما دیا، اس معنی کے اعتبار سے گویا فی الحال بھی یہ لوگ جہنم ہی کے دائرہ میں ہیں۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تجھ کو پہنچے کوئی خوبی تو وہ بڑی لگتی ہے انکو اور اگر پہنچے کوئی سختی تو کہتے ہیں ہم نے تو سنبھال لیا تھا اپنا کام پہلے ہی اور پھر کر جائیں خوشیاں کرتے،

ساتویں آیت میں ان کی ایک اور کم ظرفی کا بیان ہے، کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ ملے رہتے ہیں، لیکن حال یہ ہے کہ (آیت) اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤ ْهُمْ ، یعنی اگر آپ کو کوئی فتح اور کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو سخت ناگوار ہوتا ہے، (آیت) وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، یعنی اگر آپ کو کوئی مصیبت پہونچتی ہے تو یہ لوگ کہنے لگتے ہیں کہ ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال رہے ہیں، اسی لئے ہم نے اپنی مصلحت کو اختیار کیا، ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور یہ کہہ کر وہ خوشی خوشی واپس ہوجاتے ہیں۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

تو کہہ دے ہم کو ہرگز نہ پہنچے گا مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لئے وہی ہے کار ساز ہمارا، اور اللہ ہی پر چاہئے کہ بھروسہ کریں مسلمان،

آٹھویں آیت میں حق تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو منافقین کے مذکورہ اقوال سے متاثر نہ ہونے اور اصل حقیقت کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ہدایت ان الفاظ میں دی(آیت) قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَآ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَعَلَي اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی آپ ان مادی اسباب کی پرستش کرنے والوں کو بتلا دیجیئے کہ تم دھوکہ میں ہو یہ مادی اسباب محض ایک پردہ ہیں، ان کے اندر کام کرنے والی قوت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، ہمیں جو حال پیش آتا ہے وہ سب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے، اور وہی ہمارا مولیٰ اور مددگار ہے، اور مسلمانوں کو چاہئے کہ اسی پر اصل بھروسہ رکھیں، مادی اسباب کو صرف اسباب و علامات ہی کی حیثیت سے دیکھیں، ان پر کسی بھلائی یا برائی کا مدار نہ جانیں۔ اعتقاد تقدیر استعمال تدبیر کے ساتھ ہونا چاہئے بےتدبیری کا نام توکل رکھنا غلط ہے اس آیت نے مسئلہ توکل کی اصل حقیقت بھی واضح کردی، کہ تقدیر و توکل پر یقین رکھنے کا یہ حاصل نہ ہونا چاہئے، کہ آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، اور یہ کہے کہ جو کچھ قسمت میں ہوگا وہ ہوجائے گا بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ اسباب اختیاریہ کے لئے اپنی پوری توانائی اور ہمت صرف کی جائے اور سجد قدرت اسباب جمع کرنے کے بعد معاملہ کو تقدیر و توکل کے حوالہ کریں، نظر صرف اللہ تعالیٰ پر رکھیں کہ نتائج ہر کام کے اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ مسئلہ تقدیر و توکل میں عام دنیا کے لوگ بڑی افراتفری میں پائے جاتے ہیں، کچھ بےدین لوگ تو وہ ہیں جو سرے سے تقدیر و توکل کے قائل ہی نہیں انہوں نے مادی اسباب ہی کو خدا بنایا ہوا ہے، اور کچھ ناواقف ایسے بھی ہیں جنہوں نے تقدیر و توکل کو اپنی کم ہمتی اور بیکاری کا بہانہ بنا لیا ہے، رسول کریم ﷺ کی جہاد کے لئے پوری پوری تیاری اور اس کے بعد اس آیت کے نزول نے اس افراط وتفریط کو ختم کرکے صحیح راہ دکھلا دی " بر توکل زانوئے اشتر بہ بند "۔ یعنی اسباب اختیاریہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی دی ہوئی نعمت ہیں، ان سے فائدہ نہ اٹھانا ناشکری اور بیوقوفی ہے، البتہ اسباب کو اساب کے درجہ سے آگے نہ بڑھاؤ اور عقیدہ یہ رکھو کہ نتائج وثمرات ان اسباب کے تابع نہیں، بلکہ فرمان حق جل شانہ کے تابع ہیں۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تو کہہ دے تم کیا امید کرو گے ہمارے حق میں مگر دو خوبیوں میں سے ایک کی اور ہم امیدوار ہیں تمہارے حق میں کہ ڈالے تم پر اللہ کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں، سو منتظر رہو ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔

نویں آیت نے مرد مومن کی ایک البیلی شان کا ذکر کرکے ان کی مصیبت پر خوش ہو نیوالے منافقین کو یہ جواب دے دیا کہ تم جس چیز کو ہمارے لئے مصیبت سمجھ کر خوش ہوتے ہو ہمارے نزدیک وہ مصیبت بھی مصیبت نہیں، بلکہ راحت و کامیابی ہی کی ایک دوسری صورت ہے، کیونکہ مرد مومن اپنے عزم میں ناکام ہو کر بھی کامیاب رہتا ہے، اور بگڑنے میں بھی بنتا ہے۔ نہ شوخی چل سکی باد صبا کی بگڑنے میں بھی زلف اس کی نبا کی مذکورہ آیت میں (آیت) هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ، کا یہی مطلب ہے اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ کفار کا حال اس کے بالکل بر عکس ہے کہ ان کو کسی حال عذاب و مصیبت سے چھٹکارا نہیں، یا تو دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان پر خدا کا عذاب آجائیگا، اور اس طرح دنیا و آخرت دونوں میں وہ عذاب چھکیں گے، اور اگر دنیا میں کسی طرح اس سے بچ گئے تو آخرت کے عذاب سے خلاصی کا کوئی امکان نہیں۔