9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعارف القرآن

Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

گنوار بہت سخت ہیں کفر میں اور نفاق میں اور اسی لائق ہیں کہ نہ سیکھیں وہ قاعدے جو نازل کئے اللہ نے اپنے رسول پر اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے،

خلاصہ تفسیر (ان منافقین میں جو) دیہاتی (ہیں وہ) لوگ (بوجہ سخت مزاجی کے) کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں اور (بوجہ بعد علماء و عقلاء کے) ان کو ایسا ہونا ہی چاہئے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائے ہیں (کیونکہ جب جاننے والوں سے دور دور رہیں گے تو ان کا جاہل رہنا تو اس کا لازمی نتیجہ ہے، اور اسی وجہ سے مزاج میں سختی اور مجموعہ سے کفر و نفاق میں شدت ہوگی) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں، وہ ان سب امور پر مطلع ہیں اور حکمت سے مناسب سزا دیں گے) اور ان (مذکورہ منافقیں) دیہاتیوں میں سے بعض ایسا ہے کہ (کفر و نفاق و جہل کے علاوہ بخل و عداوت کے ساتھ بھی موصوف ہے، حتی کہ) جو کچھ (جہاد و زکوٰة وغیرہ کے مواقع میں مسلمانوں کی شرما شرمی) خرچ کرتا ہے اس کو (مثل) جرمانہ سمجہتا ہے (یہ تو بخل ہوا) اور (عداوت یہ ہے کہ) تم مسلمانوں کے واسطے (زمانہ کی) گردشوں کا منتظر رہتا ہے (کہ کہیں ان پر کوئی حادثہ پڑجائے تو ان کا خاتمہ ہو سو) برا وقت انہی (منافقین) پر پڑنے والا ہے (چناچہ فتوحات کی وسعت ہوئی، کفار ذلیل ہوئے ان کی ساری حسرتیں دل ہی میں رہ گئیں، اور تمام عمر رنج اور خوف میں کٹی) اور اللہ تعالیٰ (ان کے کفر و نفاق کی باتیں) سنتے ہیں (اور ان کے دلی خیالات اتخاذ مغرم و تربص دوائر کو) جانتے ہیں (پس ان سب کی سزا دیں گے) اور بعضے اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، اور جو کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول ﷺ کی دعا (لینے) کا ذریعہ بناتے ہیں (کیونکہ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ ایسے موقع پر خرچ کرنے والے کو دعا دیتے تھے جیسا کہ احادیث میں ہے) یاد رکھو ! کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان لوگوں کے لئے موجب قربت (عند اللہ) ہے (اور دعا کا ہونا تو یہ خود دیکھ سن لیتے ہیں، اس کی خبر دینے کی ضرورت نہ تھی اور وہ قرب یہ ہے کہ) ضرور ان کو اللہ تعالیٰ اپنی (خاص) رحمت میں داخل کرلیں گے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے رحمت والے ہیں (پس ان کی لغزشیں معاف کرکے اپنی رحمت میں لے لیں گے)۔ معارف و مسائل آیات سابقہ میں منافقین مدینہ کا ذکر تھا ان آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ کے مضافات و دیہات کے رہنے والے تھے۔ اعراب یہ لفظ عرب کی جمع نہیں، بلکہ اسم جمع ہے جو دیہات کے باشندوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس کا مفرد بنانا ہوتا ہے تو اعرابی کہتے ہیں، جیسے انصار کا مفرد انصاری آتا ہے۔ ان کا حال آیت مذکورہ میں یہ بتلایا کہ یہ کفر و نفاق میں شہر والوں سے بھی زیادہ ہیں، جس کی وجہ یہ بتلائی کہ یہ لوگ علم اور علماء سے دور رہنے کے سبب عموماً جہالت اور قساوت میں مبتلا ہوتے ہیں، سخت دل ہوتے ہیں (اَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ) یعنی ان لوگوں کا ماحول ہی ایسا ہے کہ وہ اللہ کی نازل کی ہوئی حدود سے بیخبر رہیں، کیونکہ نہ قرآن ان کے سامنے آتا ہے، نہ اس کے معانی و مطالب اور احکام سے ان کو واقفیت ہوتی ہے۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعضے گنوار ایسے ہیں کہ شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانہ کی گردشوں کا ان ہی پر آئے گردش بری، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے،

دوسری آیت میں بھی انہی اعراب کا ایک حال یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جو زکوٰة وغیرہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو ایک تاوان سمجھ کردیتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ دل میں ایمان تو ہے نہیں محض اپنے کفر کو چھپانے کے لئے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، اور زکوٰة فرض بھی دیدیتے ہیں، مگر دل میں گڑہتے ہیں کہ یہ مال فضول گیا، اسی لئے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں پر کوئی مصیبت پڑے اور ان کو شکست ہوجائے تو اس تاوان سے ہماری نجات ہو الدَّوَاۗىِٕرَ دائرہ کی جمع ہے، عر بی نعت کے اعتبار سے دائرہ اس بدلی ہوئی حالت کو کہتے ہیں جو پہلی اچھی حالت کے بعد بری ہوجائے، اسی لئے قرآن کریم نے ان کے جواب میں فرمایا (آیت) عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ، یعنی انہی پر بری حالت آنے والی ہے، اور یہ اپنے ان افعال و اقوال کی بناء پر اور زیادہ ذلیل ہوں گے۔
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعضے گنوار وہ ہیں کہ ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور شمار کرتے ہیں اپنے خرچ کرنے کو نزدیک ہونا اللہ سے اور دعا لینی رسول کی سنتا ہے وہ ان کے حق میں نزدیکی ہے، داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

دیہاتی منافقین کے حالات کا ذکر کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق تیسری آیت میں ان دیہاتیوں کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھا گیا جو سچے اور پکے مسلمان ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ دیہات کے باشندے بھی سب ایک سے نہیں ہوتے، ان میں مخلص مسلمان اور سمجھ دار لوگ بھی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہے کہ وہ جو زکوٰة و صدقات دیتے ہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اور رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کی امید پر دیتے ہیں۔ صدقات کا اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہونا تو ظاہر ہی ہے، رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کی امید اس بناء پر ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں سے اموال زکوٰة وصول کرنے کا حکم دیا ہے وہیں یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ زکوٰة ادا کرنے والوں کے لئے آپ دعا بھی کیا کریں جیسے آگے آنے والی آیت میں ارشاد ہے (آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو صدقات وصول کرنے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ ان کے لئے دعا کیا کریں، یہ حکم لفظ صلوۃ کے ساتھ آیا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، اسی لئے مذکورہ آیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کو لفظ صلوات سے تعبیر کیا ہے۔
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور تیار کر رکھے ہیں واسطے ان کے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہا کریں ان میں ہمیشہ، یہی ہے بڑی کامیابی۔

خلاصہ تفسیر اور جو مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب امت سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ (ایمان لانے میں) ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا (کہ ان کا ایمان قبول فرمایا جس پر ان کو جزا ملے گی) اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے (کہ اطاعت اختیار کی جس کی جزاء سے یہ رضا اور زیادہ ہوگی) اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیت میں دیہاتی مؤمنین مخلصین کا ذکر تھا، اس آیت میں تمام مؤمنین مخلصین کا ذکر ہے، جن میں ان کے درجات فضیلت کا بھی بیان ہے۔ (آیت) وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ ، اس جملہ میں اکثر حضرات مفسرین نے حرف من کو تبعیض کے لئے قرار دے کر مہاجرین و انصار، صحابہ کرام کے دو طبقے قائم کئے ہیں، ایک سابقین اولین کا دوسرا دوسرے درجے کے حضرات صحابہ کرام کا۔ پھر اس میں اقوال مختلفہ ہیں، بعض حضرات نے صحابہ کرام میں سے سابقین اولین ان کو قرار دیا ہے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، یعنی تحویل قبلہ سے پہلے جو مسلمان ہوچکے تھے وہ سابقین اولین ہیں، یہ قول سعید بن مسیب اور قتادہ کا ہے، حضرت عطاء بن ابی رباح نے فرمایا کہ سابقین اولین وہ صحابہ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اور شبعی نے فرمایا کہ جو صحابہ حدیبیہ کی بیعت رضوان میں شریک ہوئے وہ سابقین اولین ہیں، اور ہر قول کے مطابق باقی صحابہ کرام مہاجر ہوں یا انصار سابقین اولین کے بعد دوسرے درجے میں ہیں (مظہری۔ قرطبی)۔ اور تفسیر مظہری میں ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ حرف من کو اس آیت میں تبعیض کے لئے نہ لیا جائے بلکہ بیان کے معنی میں ہو تو مفہوم اس جملے کا یہ ہوگا کہ تمام صحابہ کرام بہ نسبت باقی امت کے سابقین اولین ہیں، اور مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ اس کا بیان ہے، بیان القرآن کا خلاصہ تفسیر جو اوپر نقل کیا گیا اس میں اسی تفسیر کو اختیار کیا گیا ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق صحابہ کرام میں دو طبقے ہوجاتے ہیں، ایک سابقین اولین کا، دوسرا وہ جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت رضوان کے بعد مسلمان ہوئے، اور آخری تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ صحابہ کرام سب کے سب سابقین اولین ہی ہیں کیونکہ ان کا ایمان باقی امت سے اول اور سابق ہے۔ (آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ، یعنی جن لوگوں نے اعمال و اخلاق میں سابقین اولین کا اتباع مکمل طریقہ پر کیا، پہلے جملے کی پہلی تفسیر کے مطابق ان لوگوں میں درجہ اول ان مہاجرین و انصار صحابہ کا ہے جو تحویل قبلہ یا غزوہ بدر یا بیعت حدیبیہ کے بعد مسلمان ہو کر صحابہ کرام میں داخل ہوئے، دوسرا درجہ ان کے بعد کے سب مسلمانوں کا ہے، جو قیامت تک ایمان اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ میں صحابہ کرام کے اسوہ پر چلے، اور ان کا مکمل اتباع کیا۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا میں صحابہ کرام کے بعد کے حضرات داخل ہیں جن کو اصطلاح میں تابعی کہا جاتا ہے، پھر ان اصطلاحی تابعین کے بعد قیامت تک آنے والے وہ سب مسلمان بھی اس میں شامل ہیں جو ایمان و عمل صالح میں صحابہ کرام کا مکمل اتباع کریں۔ صحابہ کرام سب کے سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضاء سے مشرف ہیں محمد بن کعب قرظی سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں، انھوں نے کہا کہ صحابہ کرام سب کے سب جنت میں ہیں اگرچہ وہ لوگ ہوں جن سے دنیا میں غلطیاں اور گناہ بھی ہوئے ہیں، اس شخص نے دریا فت کیا کہ یہ بات آپ نے کہاں سے کہی، (اس کی کیا دلیل ہے) انہوں نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت پڑھوالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اس میں تمام صحابہ کرام کے متعلق بلا کسی شرط کے رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ارشاد فرمایا ہے البتہ تابعین کے معاملہ میں اتباع باحسان کی شرط لگائی گئی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بلا کسی قید و شرط کے سب کے سب بلا استثناء رضوان الہٰی سے سرفراز ہیں۔ تفسیر مظہری میں یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ میرے نزدیک سب صحابہ کرام کے جنتی ہونے پر اس سے بھی زیادہ واضح استدلال اس آیت سے ہے(آیت) لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْ آ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، اس آیت میں پوری صراحت سے یہ بیان کردیا گیا ہے کہ صحابہ کرام اولین ہوں یا آخرین سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنی یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ اس مسلمان کو نہیں چھو سکتی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے (ترمذی عن جابر)۔ تنبیہجو لوگ صحابہ کرام کے باہمی مشاجرات اور ان میں پیش آنے والے واقعات کی بناء پر بعض صحابہ کرام کے متعلق ایسی تنقیدات کرتے ہیں جن کو پڑھنے والوں کے قلوب ان کی طرف سے بد گمانی میں مبتلا ہوسکیں، وہ اپنے آپ کو ایک خطرناک راستہ پر ڈال رہے ہیں، نعوذباللہ منہ۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور بعضے تمہارے گرد کے گنوار منافق ہیں، اور بعضے لوگ مدینہ والے اڑ رہے ہیں نفاق پر تو ان کو نہیں جانتا ہم کو وہ معلوم ہیں ان کو ہم عذاب دیں گے دو بار پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔

خلاصہ تفسیر اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر (ایسے) پہنچنے ہوئے ہیں (کہ) آپ (بھی) ان کو نہیں جانتے (کہ یہ منافق ہیں بس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو (دوسرے منافقین کی نسبت آخرت سے پہلے بھی) دوہری سزا دیں گے (ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی اور) پھر (آخرت میں بھی) وہ بڑے بھاری عذاب (یعنی جہنم مع خلو و دائمی) کی طرف بھیجے جاویں گے۔ معارف و مسائل سابقہ بہت سی آیات میں ان منافقین کا ذکر آیا ہے جن کا نفاق ان کے اقوال و افعال سے ظاہر ہوچکا تھا اور رسول اللہ ﷺ پہچانتے تھے کہ یہ منافق ہیں، اس آیت میں ایسے منافقین کا ذکر ہے جن کا نفاق انتہائی کمال پر ہونے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ پر اب تک مخفی رہا، اس آیت میں ایسے شدید منافقین پر آخرت سے پہلے ہی دو عذاب ہونے کا ذکر آیا ہے، ایک دنیا ہی میں کہ ہر وقت اپنے نفاق کو چھپانے کی فکر اور ظاہر ہونے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں، اور اسلام اور مسلمانوں سے انتہائی بغض و عداوت رکھنے کے باوجود ظاہر میں ان کی تعظیم و تکریم اور ان کے اتباع پر مجبور ہونا بھی کچھ کم عذاب نہیں، اور دوسرا عذاب قبر و برزخ کا عذاب ہے، جو قیامت و آخرت سے پہلے ہی ان کو پہنچنے گا۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور بعضے لوگ ہیں کہ اقرار کیا انہوں نے اپنے گناہوں کا، ملایا انہوں نے ایک کام نیک اور دوسرا بد قریب ہے کہ اللہ معاف کرے ان کو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

خلاصہ تفسیر اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے مقر ہوگئے جنہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے کچھ بھلے (جیسے اعتراف جس کا منشاء ندامت ہے اور یہی توبہ ہے، اور جیسے اور غزوات جو پہلے ہوچکے ہیں، غرض یہ کام تو اچھے کئے) اور کچھ برے (کئے جیسے تخلف بلا عذر سو) اللہ سے امید (یعنی انکا وعدہ) ہے کہ ان (کے حال) پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرماویں (یعنی توبہ قبول کرلیں) بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (جب اس آیت سے توبہ قبول ہوچکی اور وہ حضرات ستونوں سے کھل چکے تو اپنا مال آپ کی خدمت میں لے کر آئے اور درخواست کی کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کیا جائے تو ارشاد ہوا کہ) آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ (جس کو یہ لائے ہیں) لے لیجئے جس کے (لینے کے) ذریعہ سے آپ ان کو (گناہ کے آثار سے) پاک صاف کردیں گے اور (جب آپ لیں تو) ان کے لئے دعا کیجئے، بلا شبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب اطمینان (قلب) ہے اور اللہ تعالیٰ (ان کے اعتراف کو) خوب سنتے ہیں (اور ان کی ندامت کو) خوب جانتے ہیں (اس لئے ان کے اخلاص کو دیکھ کر آپ کو یہ احکام دیئے گئے، ان اعمال صالحہ کو مذکورہ یعنی توبہ و ندامت و انفاق فی الخیر کی تر غیب اور اعمال سیہ مثل تخلف وغیرہ سے آئندہ کے لئے ترہیب ہے، پس اول ترغیب ہے یعنی) کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور (کیا ان کو) یہ (خبر نہیں) کہ اللہ ہی (اس) توبہ قبول کرنے (کی صفت) میں اور رحمت کرنے (کی صفت) میں کامل ہے (اسی لئے ان کی توبہ قبول کی، اور اپنی رحمت سے مال قبول کرنے کا حکم اور ان کے لئے دعا کرنے کا حکم فرمایا، پس آئندہ بھی خطایا وذنوب کے صدور پر توبہ کرلیا کریں، اور اگر توفیق ہو تو خیر خیرات کیا کریں) اور (ترغیب کے بعد آگے ترہیب ہے (یعنی) آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (جو چاہو) عمل کئے جاؤ سو (اول تو دنیا ہی میں) ابھی دیکھے لیتا ہے تمہارے عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور اہل ایمان (پس برے عمل پر دنیا ہی میں ذلت اور خواری ہوجاتی ہے) اور (پھر آخرت میں) ضرور تم کو ایسے (اللہ) کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے والا ہے، سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلادے گا (پس برے عمل سے مثل تخلف وغیرہ کے آئندہ سے احتیاط رکھو، یہ قسم اول کا بیان تھا، آگے قسم دوم کا ذکر ہے) اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ (عدم اخلاص توبہ کی وجہ سے) ان کو سزا دے گا یا (اخلاص کی وجہ سے) ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ (خلوص و عدم خلوص کا حال) خوب جا ننے والا ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے (پس بمقتضائے حکمت خلوص کی توبہ کو قبول کرتا ہے، اور بغیر خلوص کے قبول نہیں کرتا اور اگر کبھی بلا توبہ معاف کرنے میں حکمت ہو تو ایسا بھی کردیتا ہے)۔ معارف و مسائل غزوہ تبوک کے لئے جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اعلان عام اور سب مسلمانوں کو چلنے کا حکم ہوا تو زمانہ سخت گرمی کا تھا، مسافت دور دراز کی تھی، اور ایک باقاعدہ بڑی حکومت کی تربیت یافتہ فوج سے مقابلہ تھا، جو اسلام کی تاریخ میں پہلا ہی واقعہ تھا، یہ اسباب تھے جن کی وجہ سے اس حکم کے متعلق لوگوں کے حالات مختلف ہوگئے، اور ان کی جماعتوں کی کئی قسمیں ہوگئیں۔ ایک قسم ان حضرات مخلصین کی تھی جو اول حکم سنتے ہی بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے، دوسری قسم وہ لوگ تھے جو ابتداء کچھ تردد میں رہے پھر ساتھ ہولئے، (آیت) الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ، میں انہی حضرات کا ذکر ہے۔ تیسری قسم ان حضرات کی ہے جو واقعی طور پر معذور تھے، اس لئے نہ جاسکے، ان کا ذکر (آیت) لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ میں آیا ہے، چوتھی قسم ان مؤمنین مخلصین کی ہے جو عذر نہ ہونے کے باوجود سستی کاہلی کے سبب جہاد میں شریک نہیں ہوئے، ان کا ذکر مذکور الصدر آیت وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا اور وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ میں آیا ہے، پانچویں قسم منافقین کی تھی جو نفاق کے سبب شریک جہاد نہیں ہوئے، ان کا ذکر گذشتہ بہت سی آیات میں آچکا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ آیات سابقہ میں بیشتر ذکر پانچویں قسم منافقین کا ہوا ہے، آیات مذکور الصدر میں چوتھی قسم کے حضرات کا ذکر ہے جو مومن ہونے کے باوجود سستی و کاہلی سے شریک جہاد نہیں ہوئے۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا، ان لوگوں کے اعمال ملے جلے ہیں، کچھ اچھے کچھ برے، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیں، حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ دس حضرات تھے جو بلا کسی صحیح عذر کے غزوہ تبوک میں نہ گئے تھے پھر ان کو اپنے فعل پر ندامت ہوئی، ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ لیا، اور یہ عہد کیا کہ جب تک ہماری توبہ قبول کرکے خود رسول اللہ ﷺ ہمیں نہ کھولیں گے ہم اسی طرح بندھے ہوئے قیدی رہیں گے، ان حضرات میں ابو لبابہ ؓ کے نام پر سب روایتیں متفق ہیں، دوسرے اسماء میں مختلف روایتیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان کو بندھا ہوا دیکھا اور معلوم ہوا کہ انہوں نے عہد یہ کیا ہے کہ جب تک رسول اللہ ﷺ خود ان کو نہ کھولیں گے اس وقت تک بندھے رہیں گے، تو آپ نے فرمایا کہ میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس وقت تک نہ کھولوں گا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے ان کے کھولنے کا حکم نہ دے گا، کیونکہ جرم بڑا ہے، اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے کھولنے کا حکم دیدیا، اور وہ کھول دیئے گئے (قرطبی)۔ سعید بن مسیب کی روایت میں ہے کہ جب ابولبابہ کو کھولنے کا ارادہ کیا گیا تو انہوں نے انکار کیا، اور کہا کہ جب تک خود حضور ﷺ راضی ہو کر مجھے اپنے ہاتھ سے نہ کھولیں گے میں بندھا رہوں گا، چناچہ صبح کی نماز میں جب آپ تشریف لائے تو دست مبارک سے انکو کھولا۔ نیک و بد ملے جلے عمل کیا تھے ؟ آیت میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے کچھ عمل نیک تھے، کچھ برے، ان کے نیک اعمال تو ان کا ایمان، نماز، روزی کی پابندی اور اس جہاد سے پہلے غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شرکت اور خود اس واقعہ تبوک میں اپنے جرم کا اعتراف کرلینا اور نادم ہو کر توبہ کرنا وغیرہ ہیں، اور برے عمل غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونا اور اپنے عمل سے منافقین کی مواقفت کرنا ہے۔ جن مسلمانوں کے اعمال اچھے برے ملے جلے ہوں قیامت تک وہ بھی اسی حکم میں داخل ہیں تفسیر قرطبی میں ہے کہ اگرچہ یہ آیت ایک خاص جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مگر حکم اس کا قیامت تک عام ہے، ان مسلمانوں کے لئے جن کے اعمال نیک و بد ملے جلے ہوں اگر وہ اپنے گناہوں سے تائب ہوجائیں تو ان کے لئے معافی اور مغفرت کی امید ہے۔ ابو عثمان نے فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس امت کے لئے بڑی امید لانے والی ہے اور صحیح بخاری میں بروایت سمرہ بن جندب معراج نبوی کی ایک تفصیلی حدیث میں ہے کہ ساتویں آسمان پر جب آنحضرت ﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ ہوئی تو ان کے پاس کچھ لوگ دیکھے جن کے چہرے سفید تھے، اور کچھ ایسے کہ ان کے چہروں میں کچھ داغ دھبے تھے یہ دوسری قسم کے لوگ ایک نہر میں داخل ہوئے اور غسل کر کے واپس آئے تو ان کے چہرے بھی بالکل صاف سفید ہوگئے تھے، جبرئیل ؑ نے آپ کو بتلایا کہ یہ سفید چہرے والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور پھر گناہوں سے پاک صاف رہے، (آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ، اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے اچھے برے سب طرح کے کام کئے پھر توبہ کرلی، اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور گناہ معاف ہوگئے (قرطبی)۔
Ayahs 9:103–105

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

لے ان کے مال میں سے زکوٰة کہ پاک کرے تو ان کو اور بابرکت کرے تو ان کو اس کی وجہ سے اور دعا دے ان کو بیشک تیری دعا ان کے لئے تسکین ہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ آپ قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں سے اور لیتا ہے زکوٰتیں اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے،

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور کہہ کہ عمل کئے جاؤ پھر آگے دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مسلمان، اور تم جلد لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں سے واقف ہے،

(آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، واقعہ اس آیت کا یہ ہے کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا کہ بلا عذر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر نادم ہو کر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا پھر آیت مذکورہ سابقہ میں ان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی اور قید سے کھولے گئے تو ان حضرات نے بطور شکرانہ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے لئے پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے قبول کرنے سے انکار فرمایا کہ مجھے مال لینے کا حکم نہیں ہے، اس پر یہ آیت مذکورہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ نازل ہوئی، اور آپ نے پورے مال کے بجائے ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قبول فرمالیا کیونکہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ پورا مال نہ لیا جائے بلکہ اس کا کوئی حصہ لیا جائے، حرف من اس پر شاہد ہے۔ مسلمانوں کے صدقات زکوٰة وغیرہ وصول کرنا اور ان کے مصرف پر خرچ کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے اس آیت میں اگرچہ شان نزول کے اعتبار سے ایک خاص جماعت سے صدقہ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن وہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے۔ تفسیر قرطبی، احکام القرآن، جصاص، مظہری وغیرہ میں اسی کو ترجیح دی گئی ہے، اور قرطبی اور جصاص نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر اس آیت میں شان نزول وہی خاص واقعہ قرار دیا جائے جس کا ذکر اوپر آیا ہے تو پھر بھی اصول قرآنی کی رو سے یہ حکم عام ہی رہے گا، اور قیامت تک کے مسلمانوں پر حاوی ہوگا، کیونکہ قرآن کریم کے بیشتر احکام خاص خاص واقعات میں نازل ہوئے، مگر ان کا دائرہ عمل کسی کے نزدیک اس خاص واقعہ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ جب تک کوئی دلیل تخصیص کی نہ ہو یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے عام اور شامل ہی قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پوری امت محمدیہ کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب خاص نبی کریم ﷺ کو ہے مگر یہ حکم نہ آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ آپ کے زمانہ تک محدود بلکہ ہر وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کے قائم مقام مسلمانوں کا امیر ہوگا وہ اس حکم کا مخاطب اور مامور ہوگا، اس کے فرائض میں داخل ہوگا کہ مسلمانوں کی زکوٰة صدقات کے وصول کرنے اور مصرف پر خرچ کرنے کا انتظام کرے۔ صدیق اکبر کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں جو مانعین زکوٰة پر جہاد کرنے کا واقعہ پیش آیا اس میں بھی زکوٰة نہ دینے والے کچھ تو وہ لوگ تھے جو کھلم کھلا اسلام سے باغی اور مرتد ہوگئے تھے، اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے مگر زکوٰة نہ دینے کا یہ بہانہ کرتے تھے کہ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو ہم سے زکوٰة و صدقات وصول کرنے کا حکم آپ کی حیات تک تھا، ہم نے اس کی تعمیل کی آپ کی وفات کے بعد ابوبکر کو کیا حق ہے کہ ہم سے زکوٰة و صدقات طلب کریں، اور شروع شروع میں حضرت عمر کو ان پر جہاد کرنے سے اسی لئے تردد پیش آیا کہ یہ مسلمان ہیں ایک آیت کی آڑ لے کر زکوٰة سے بچنا چاہتے ہیں، اس لئے ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو عام مرتدین کے ساتھ کیا جاتا ہے، مگر صدیق اکبر نے پورے عزم اور جزم کے ساتھ فرمایا کہ جو شخص نماز اور زکوٰة میں فرق کرے گا اس پر جہاد کریں گے۔ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ جو لوگ حکم زکوٰة کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص کرنے اور آپ کے بعد اس کے ساقط ہوجانے کے قائل ہوئے وہ کل کو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ نماز بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص تھی، کیونکہ قرآن کریم میں یہ آیت بھی آئی ہے(آیت) اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ ، جس میں اقامت صلوٰة کے مخاطب نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہونے کی غلط تاویل کرنے والوں کو کفر سے نہیں بچا سکتی، اسی طرح آیت خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ میں یہ تاویل انکو کفر و ارتداد سے نہیں بچائے گی، اس پر فاروق اعظم کو بھی اطمینان ہوگیا اور باجماع صحابہ ان لوگوں کے خلاف جہاد کیا گیا۔ زکوٰة حکومت کا ٹیکس نہیں بلکہ عبادت ہے قرآن کریم نے آیت مذکورہ میں خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ کے بعد جو ارشاد فرمایا صَدَقَـةً تُطَهِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا اس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ زکوٰة و صدقات کوئی حکومت کا ٹیکس نہیں، جو عام حکومتیں نظام حکومت چلانے کے لئے وصول کرتی ہیں، بلکہ اس کا مقصد خود اصحاب اموال کو گناہوں سے پاک صاف کرنا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ زکوٰۃ و صدقات کو وصول کرنے سے درحقیقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں، ایک فائدہ خود صاحب مال کا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ گناہوں سے اور مال کی حرص و محبت سے پیدا ہونے والی اخلاقی بیماریوں کے جراثیم سے پاک و صاف ہوجاتا ہے، دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ قوم کے اس ضعیف عنصر کی پرورش ہوتی ہے جو خود اپنی ضروریات مہیا کرنے سے مجبور یا قاصر ہے جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، اپاہج و معذور مرد و عورتیں اور عام فقراء و مساکین وغیرہ۔ لیکن قرآن حکیم نے اس جگہ صرف پہلا فائدہ بیان کرنے پر اقتصار کرکے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ زکوٰة و صدقات کا اصل مقصد پہلا ہی فائدہ ہے، دوسرا فائدہ اس سے ضمنی طور پر حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اگر بالفرض کسی جگہ یا کسی وقت کوئی یتیم، بیوہ، فقیر مسکین موجود نہ ہو جب بھی اصحاب اموال سے زکوٰة کا حکم ساقط ہوگا۔ اس مضمون کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ پچھلی امتوں میں جو مال اللہ کے لئے نکالا جاتا تھا اس کا استعمال کسی کے لئے جائز نہ تھا، بلکہ دستور یہ تھا کہ اس کو کسی علیحدہ جگہ پر رکھ دیا جاتا تھا اور آسمانی بجلی آکر اس کو جلا دیتی تھی، یہی علامت تھی اس بات کی کہ یہ صدقہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا، اور جہاں یہ آسمانی آگ نہ آتی تو صدقہ کے غیر مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی، پھر اس منحوس مال کو کوئی ہاتھ نہ لگاتا تھا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ زکوٰة و صدقات کی اصل مشروعیت کسی کی حاجت روائی کے لئے نہیں بلکہ وہ ایک مالی حق اور عبادت ہے، جیسے نماز روزہ جسمانی عبادات ہیں، یہ امت مرحومہ کی خصوصیات میں سے ہے کہ یہ مال جو فی سبیل اللہ نکالا گیا ہے اس امت کے فقراء و مساکین کے لئے اس کا استعمال جائز کردیا گیا، جیسا کہ مسلم کی حدیث صحیح میں رسول اللہ ﷺ سے اس کی تصریح منقول ہے۔ ایک سوال اور جو اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ واقعہ میں جب ان حضرات کی توبہ قبول کرلی گئی تو گناہ کی معافی اور تطہیر توبہ ہی کے ذریعہ ہوچکی، پھر مال لینے کو ذریعہ تطہیر قرار دینے کے معنی کیا ہوں گے ؟ جواب یہ ہے کہ اگرچہ توبہ سے گناہ معاف ہوگیا مگر گناہ معاف ہونے کے بعد اس کی کچھ ظلمت و کدورت باقی رہ سکتی ہے جو آئندہ ارتکاب گناہ کا سبب بن سکتی ہے، صدقہ کرنے سے وہ کدورت دور ہو کر تطہیر کامل ہوجائے گی۔ وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، اس میں لفظ صلوٰة سے مراد ان کے لئے دعائے رحمت کرنا ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے منقول یہی ہے کہ بعض لوگوں کے لئے آپ نے لفظ صلوٰة ہی سے دعا فرمائی جیسے اللھم صل علی ال ابی اوفی حدیث میں آیا ہے، لیکن بعد میں لفظ صلوٰة انبیاء (علیہم السلام) کی مخصوص علامت بن گئی اس لئے اکثر فقہاء رحمہم اللہ کا یہ قول ہے کہ اب کسی شخص کے لئے دعا بہ لفظ صلوٰة نہ کی جائے، بلکہ اس لفظ کو صرف انبیاء (علیہم السلام) کے لئے مخصوص رکھا جائے تاکہ تلبیس اور اشتباہ نہ ہو (بیان القرآن وغیرہ)۔ یہاں آپ کو صدقہ دینے والوں کے لئے دعا کرنے کا حکم ہے، اس وجہ سے بعض حضرات فقہاء نے فرمایا کہ امام و امیر کو صدقہ ادا کرنے والوں کے لئے دعا کرنا واجب ہے، اور بعض حضرات نے اس کو امر استحباب قرار دیا ہے (قرطبی)۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

پھر وہ جتا دے گا تم کو جو کچھ تم کرتے تھے، اور بعضے وہ لوگ ہیں کہ ان کا کام ڈھیل میں ہے حکم پر اللہ کے یا وہ ان کو عذاب دے اور یا ان کو معاف کرے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

(آیت) وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ دس حضرات مؤمنین جو بلا عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے سات نے تو اپنی ندامت و افسوس کا پورا اظہار اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ کر کردیا تھا ان کا حکم پہلی آیت میں آچکا، وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا اس آیت سے باقی وہ تین حضرات مراد ہیں جنہوں نے یہ عمل مسجد میں قید ہونے کا نہیں کیا تھا، اور اس طرح کھلے طور پر اعتراف نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دے دیا کہ مسلمان ان کا مقاطعہ کریں، ان سے سلام کلام بند کردیں، یہ معاملہ ہونے کے بعد ان کی حالت درست ہوگئی، اور اخلاص کے ساتھ اعتراف جرم کرکے تائب ہوگئے، تو ان کے لئے بھی معافی کے احکام دے دیے گئے (صحیح بخاری و مسلم)۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور جنہوں نے بنائی ایک مسجد ضد پر اور کفر پر اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور گھات لگانے کو اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ سے اور اس کے رسول سے پہلے سے اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں،

خلاصہ تفسیر اور بعضے ایسے ہیں جنہوں نے ان اغراض کے لئے مسجد بنائی ہے کہ (اسلام کو) ضرر پہنچاویں اور (اس میں بیٹھ بیٹھ کر) کفر (یعنی عداوت رسول) کی باتیں کریں اور (اس کی وجہ سے) ایمانداروں (کے مجمع) میں تفریق ڈالیں (کیونکہ جب دوسری مسجد بنائی جائے اور ظاہر کیا جائے کہ خوش نیتی سے بنی ہے تو ضرور ہے کہ پہلی مسجد کا مجمع کچھ نہ کچھ منتشر ہو ہی جاتا ہے) اور (یہ بھی غرض ہے کہ) اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس (مسجد بنانے) کے قبل سے خدا و رسول کا مخالف ہے (مراد ابو عامر راہب ہے) اور (پوچھو تو) قسمیں کھاویں گے (جیسا ایک دفعہ پہلے بھی پوچھنے پر کھاچکے ہیں) کہ بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں (بھلائی سے مراد آسائش اور گنجائش ہے) اور اللہ گواہ ہے کہ وہ (اس دعوے میں) بالکل جھوٹے ہیں (جب اس مسجد کی یہ حالت ہے کہ وہ واقع میں مسجد ہی نہیں بلکہ مضر اسلام ہے تو) آپ اس میں کبھی (نماز کے لئے) کھڑے نہ ہوں، البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے (یعنی روز تجویز سے) تقویٰ (اور اخلاص) پر رکھی گئی ہے (مراد مسجد قبا ہے) وہ (واقعی) اس لائق ہے کہ آپ اس میں (نماز کے لئے) کھڑے ہوں (چناچہ گاہ بگاہ آپ وہاں تشریف لے جاتے اور نماز پڑہتے) اس (مسجد قبا) میں ایسے (اچھے) آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے (جب دونوں مسجدوں کے بانیوں کا حال معلوم ہوگیا تو) پھر (سمجھ لو) آیا ایسا شخص (بہتر ہوگا) جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد کسی گھاٹی (یعنی غار) کے کنارہ پر جو کہ گرنے ہی کو (ہو) رکھی ہو (مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں ناپائیداری میں اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی) پھر وہ (عمارت) اس (بانی کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے (یعنی وہ عمارت تو گری بوجہ اس کے کہ کنارہ پر ہے، جب وہ کنارہ پانی سے کٹ کر گرے گا وہ عمارت بھی گرے گی، اور بانی گرا اس لئے کہ اس عمارت میں رہتا تھا اور چونکہ مراد اس سے اغراض کفریہ ہیں جو موصل الی النار ہیں اس لئے یہ فرمایا کہ وہ اس کو لے کر جہنم میں جا گری) اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو (دین کی) سمجھ ہی نہیں دیتا، (کہ بنائی تو مسجد کے نام سے جو کہ دین کے شعائر میں سے ہے، اور غرضیں اس میں کیسی کیسی فاسد کرلیں) ان کی یہ عمارت (یعنی مسجد) جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا سا) کھٹکتی رہے گی، (کیونکہ جس غرض سے بنائی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور قلعی کھل گئی سو الگ، اور پھر اوپر سے منہدم کردی گئی، غرض کوئی ارمان نہ نکلا، اس لئے ساری عمر اس کا افسوس اور ارمان باقی رہے گا) ہاں مگر ان کے (وہ) دل ہی (جن میں وہ ارمان ہے) فنا ہوجاویں تو خیر (وہ ارمان بھی اس وقت ختم ہوجاوے) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں (ان کی حالت کو جانتے ہیں اور اسی کے مناسب سزادیں گے)۔ معارف و مسائل منافقین کے حالات اور خلاف اسلام ان کی حرکتوں کا ذکر اوپر بہت سی آیات میں آچکا ہے، مذکور الصدر آیات میں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جس کا واقعہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک شخص ابو عامر نامی زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا، اور ابو عامر راہب کے نام سے مشہور تھا یہ وہی شخص ہے جن کے لڑکے حنظلہ ؓ مشہور صحابی ہیں جن کی لاش کو فرشتوں نے غسل دیا اس لئے غسیل ملا کہ کے نام سے معروف ہوئے، مگر باپ اپنی گمراہی اور نصرانیت پر قائم رہا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ابو عامر راہب حاضر خدمت ہوا اور اسلام پر اعتراضات کئے، رسول اللہ ﷺ کے جواب پر بھی اس بد نصیب کا اطمینان نہ ہوا، بلکہ یہ کہا کہ آپ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہو وہ مردود اور احباب و اقارب سے دور ہو کر مسافرت میں مرے، اور کہا کہ آپ کے مقابلہ میں جو بھی دشمن آئے گا میں اس کی مدد کروں گا چناچہ غزوہ حنین تک تمام غزوات میں مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ قتال میں شرکت کی، جب ہوازن کا بڑا اور قوی قبیلہ بھی شکست کھا گیا تو یہ مایوس ہو کر ملک شام بھاگ گیا، کیونکہ یہی ملک نصرانیوں کا مرکز تھا وہیں جا کر اپنے احباب و اقارب سے دور مرگیا، جو دعا کی تھی وہ اس کے سامنے آگئی، جب کسی شخص کی رسوائی مقدر ہوتی ہے تو وہ ایسے ہی کام کیا کرتا ہے، خود ہی اپنی دعا سے ذلیل و خوار ہوا۔ مگر جب تک زندہ رہا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں لگا رہا چناچہ قیصر ملک روم کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے لشکر سے مدینہ پر چڑھائی کردے، اور مسلمانوں کو یہاں سے نکال دے۔ اسی سازش کا ایک معاملہ یہ پیش آیا کہ اس نے منافقین مدینہ کو جن کے ساتھ اس کا ساز باز تھا خط لکھا کہ میں اس کی کوشش کر رہا ہوں کہ قیصر مدینہ پر چڑھائی کرے، مگر تم لوگوں کی کوئی اجتماعی طاقت ہونی چاہئے جو اس وقت قیصر کی مدد کرے، اس کی صورت یہ ہے کہ تم مدینہ ہی میں ایک مکان بناؤ اور یہ ظاہر کرو کہ ہم مسجد بنا رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو شبہ ہو پھر اس مکان میں تم اپنے لوگوں کو جمع کرو، اور جس قدر اسلحہ اور سامان جمع کرسکتے ہو وہ بھی کرو یہاں مسلمانوں کے خلاف آپس کے مشورہ سے معاملات طے کیا کرو۔ اس کے مشورہ پر بارہ منافقین نے مدینہ طیبہ کے محلہ قبا میں جہاں اول ہجرت میں رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا اور ایک مسجد بنائی تھی وہیں ایک دوسری مسجد کی بنیاد رکھی ان منافقین کے نام بھی ابن اسحاق وغیرہ نے نقل کئے ہیں، پھر مسلمانوں کو فریب دینے اور دھوکے میں رکھنے کے لئے یہ ارادہ کیا کہ خود رسول اللہ ﷺ سے ایک نماز اس جگہ پڑھوا دیں تاکہ سب مسلمان مطمئن ہوجائیں کہ یہ بھی ایک مسجد ہے جیسا کہ اس سے پہلے ایک مسجد یہاں بن چکی ہے۔ ان کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ قباء کی موجودہ مسجد بہت سے لوگوں سے دور ہے، ضعیف بیمار آدمیوں کو وہاں تک پہنچنا مشکل ہے اور خود مسجد قباء اتنی وسیع بھی نہیں کہ پوری بستی کے لوگ اس میں سما سکیں، اس لئے ہم نے ایک دوسری مسجد اس کام کے لئے بنائی ہے تاکہ ضعیف مسلمانوں کو فائدہ پہونچے، آپ اس مسجد میں ایک نماز پڑھ لیں تاکہ برکت ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت غزوہ تبوک کی تیاری میں مشغول تھے، آپ نے یہ وعدہ کرلیا کہ اس وقت تو ہمیں سفر درپیش ہے واپسی کے بعد ہم اس میں نماز پڑھ لیں گے۔ لیکن غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت جبکہ آپ مدینہ طیبہ کے قریب ایک مقام پر فروکش ہوئے تو آیات مذکورہ آپ پر نازل ہوئیں جن میں ان منافقین کی سازش کھول دی گئی تھی، آیات کے نازل ہونے پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے چند اصحاب جس میں عامر بن سکن اور روحشی قاتل حمزہ وغیرہ شریک تھے، ان کو حکم دیا کہ ابھی جا کر اس مسجد کو ڈھا دو اور اس میں آگ لگا دو ، یہ سب حضرات اسی وقت گئے اور حکم کی تعمیل کر کے اس کی عمارت کو ڈھا کر زمین برابر کردی، یہ تمام واقعہ تفسیر قرطبی اور مظہری کی بیان کی ہوئی روایات سے اخذ کیا گیا ہے۔ تفسیر مظہری میں محمد بن یوسف صالحی کے حوالہ سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ قباء سے مدینہ منورہ میں پہنچ گئے تو مسجد ضرار کی جگہ خالی پڑی تھی، آپ نے عاصم ابن عدی کو اس کی اجازت دی کہ وہ اس جگہ میں اپنا گھر بنالیں، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جس جگہ کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوچکی ہیں میں تو اس منحوس جگہ میں گھر بنانا پسند نہیں کرتا، البتہ ثابت بن اقرم ضرورت مند ہیں ان کے پاس کوئی گھر نہیں ان کو اجازت دیدیجئے کہ وہ یہاں مکان بنالیں، ان کے مشورہ کے مطابق آپ نے یہ جگہ ثابت بن اقرم کو دے دی مگر ہوا یہ کہ جب سے ثابت اس مکان میں مقیم ہوئے ان کے کوئی بچہ نہیں ہوا یا زندہ نہیں رہا۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ انسان تو کیا اس جگہ میں کوئی مرغی بھی انڈے بچے دینے کے قابل نہ رہی کوئی کبوتر اور جانور بھی اس میں پھلا پھولا نہیں، چناچہ اس کے بعد سے یہ جگہ آج تک مسجد قبا کے کچھ فاصلہ پر ویران پڑی ہے۔ واقعہ کی تفصیل سننے کے بعد آیات مذکورہ کے متن کو دیکھئے، پہلی آیت میں فرمایا (آیت) وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا، یعنی جس طرح اوپر دوسرے منافقین کے عذاب اور ذلت و رسوائی کا ذکر ہوا ہے یہ منافقین بھی ان میں شامل ہیں جنہوں نے مسجد کا نام رکھ کر ایک ایسی عمارت بنائی جس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ اس آیت میں مسجد مذکور کے بنانے کی تین غرضیں ذکر کی گئی ہیں، اول ضِرَارًا، یعنی مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کے لئے، لفظ ضرر اور ضرار دونوں عربی زبان میں نقصان پہنچانے کے معنی میں مستعمل ہوتے ہیں، بعض حضرات نے یہ فرق بیان کیا ہے کہ ضرر تو اس نقصان کو کہا جاتا ہے جس میں اس کے کرنے والے کا اپنا تو فائدہ ہو دوسروں کو نقصان پہونچے، اور ”ضرار“ دوسروں کو وہ نقصان پہونچانا ہے جس میں اس پہونچانے والے کا اپنا کوئی فائدہ بھی نہیں، چونکہ اس مسجد کا انجام یہی ہونے والا تھا کہ بنانے والوں کو اس سے کوئی فائدہ نہ پہونچے، اس لئے یہاں لفظ ضرار استعمال کیا گیا۔ دوسری غرض اس مسجد کی تَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ بتلائی گئی ہے، یعنی ان کا مقصد اس مسجد کے بنانے سے یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کی جماعت کے دو ٹکڑے ہوجاویں، ایک ٹکڑا اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کا الگ ہوجائے، اور یہ کہ قدیم مسجد قباء کے نمازی گھٹ جائیں اور کچھ لوگ یہاں نماز پڑھا کریں۔ تیسری غرض اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ بتلائی گئی، جس کا حاصل یہ ہے کہ اس مسجد سے یہ کام بھی لینا تھا کہ یہاں اللہ اور رسول کے دشمنوں کو پنا ملے اور وہ یہاں مسلمانوں کے خلاف سازش کیا کریں۔ اس مجوعہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ جس مسجد کو قرآن کریم نے مسجد ضرار قرار دیا اور رسول ﷺ کے حکم سے اس کو ڈھایا گیا اور آگ لگائی گئی، درحقیقت نہ وہ مسجد تھی نہ اس کا مقصد نماز پڑھنے کے لئے تھا بلکہ مقاصد وہ تین تھے جن کا ذکر اوپر آیا ہے، اس سے معلوم ہوگیا کہ آجکل اگر کسی مسجد کے مقابلہ میں اس کے قریب کوئی دوسری مسجد کچھ مسلمان بنالیں، تو اگرچہ ایسی مسجد بنانے والے کو ثواب تو نہ ملے گا بلکہ تفریق بین المؤ منین کی وجہ سے گناہگار ہوں، لیکن باایں ہمہ اس جگہ کو شرعی حیثیت سے مسجد ہی کہا جائے گا، اور تمام آداب اور احکام مساجد کے اس پر جاری ہوں گے، اس کا ڈھانا آگ لگانا جا ئز نہیں ہوگا، اور جو لوگ اس میں نماز پڑھیں گے ان کی نماز بھی ادا ہوجائے گی، اگرچہ ایسا کرنا فی نفسہ گناہ رہے گا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس طرح ریاء و نمود کے لئے یا ضد وعناد کی وجہ سے جو مسلمان کوئی مسجد بنالے اگرچہ بنانے والے کو مسجد کا ثواب نہ ملے گا بلکہ گناہ ہوگا، مگر اس کو اصطلاح قرآن والی مسجد ضرار نہیں کہا جائے گا، بعض لوگ جو اس طرح کی مسجد کو مسجد ضرار کہہ دیتے ہیں یہ درست نہیں، البتہ اس کو مسجد ضرار کے مشابہ کہہ سکتے ہیں، اس لئے اس کے بنانے کو روکا بھی جاسکتا ہے، جیسا کہ حضرت فاروق نے ایک فرمان جاری فرمایا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ ایک مسجد کے قریب دوسری مسجد نہ بنائی جائے جس سے پہلی مسجد کی جماعت اور رونق متاثر ہو (تفسیر کشاف)۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تو نہ کھڑا ہو اس میں کبھی البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد دھری گئی پرہیزگاری پر اول دن سے وہ لائق ہے کہ تو کھڑا ہو اس میں ایسے لوگ ہیں جو دوست رکھتے ہیں پاک رہنے کو، اور اللہ دوست رکھتا ہے پاک رہنے والوں کو،

اس مسجد ضرار کے متعلق دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے (آیت) لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا، اس میں قیام سے مراد نماز کے لئے قیام ہے، مطلب یہ ہے یہ کہ آپ اس نام کی مسجد میں ہرگز نماز نہ پڑھیں۔ مسئلہاس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی اگر کوئی نئی مسجد پہلی مسجد کے متصل بلا کسی ضرورت کے محض ریاء و نمود کے لئے یا ضد وعناد کی وجہ سے بنائی جائے تو اس میں نماز پڑھنا بہتر نہیں، اگرچہ نماز ہوجاتی ہے۔ اسی آیت میں آپ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ آپ کا نماز پڑھنا اسی مسجد میں درست ہے جس کی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، اور اس میں ایسے لوگ نماز پڑھتے ہیں جن کو پاکی اور طہارت میں پوری احتیاط محبوب ہے، اور اللہ بھی ایسے مطہرین کو پسند کرتا ہے۔ سیاق آیت سے ظاہر یہ ہے کہ مراد اس سے مسجد قباء ہے جس میں اس وقت رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے، اور بعض روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، (کما رواہ ابن مردویہ عن ابن عباس وعمرو بن شیبة عن سہل الانصاری وابن خزیمة فی صحیحہ عن عویمر بن ساعدہ، از مظہری)۔ اور بعض روایات میں جو یہ آیا ہے کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ مسجد نبوی جس کی بنیاد وحی کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد تقوٰی پر ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مطہر کون ہوسکتا ہے، اس لئے وہ بھی اس کی مصداق ضرور ہے، (کما رواہ الترمذی و صحیحہ عن ابی سعید الخدری مرفوعاً ، از قرطبی) (آیت) فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا، آیت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے لئے اس مسجد کو احق قرار دیا، جسکی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی جس کے مفہوم میں مسجد قباء اور مسجد نبوی دونوں داخل ہیں اس مسجد کی ایک فضیلت یہ بھی بتلائی گئی کہ اس مسجد کے نمازی ایسے لوگ ہیں جو طہارت کا بہت زیادہ خیال اور اہتمام کرتے ہیں، طہارت کے مفہوم میں اس جگہ عام نجاسات اور گندگیوں سے پاکی بھی داخل ہے، اور معاصی اور اخلاق رذیلہ سے پاکی بھی، مسجد قباء اور مسجد نبوی کے نمازی عموماً ان سب اوصاف کے ساتھ متصف تھے۔ فائدہاس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی مسجد کی فضیلت کا اصل مدار تو اس پر ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے بنائی گئی ہو، اس میں کسی ریاء اور نام و نمود کا یا کسی اور غرض فاسد کا کوئی دخل نہ ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازیوں کے نیک صالح، عالم، عابد ہونے سے بھی مسجد کی فضیلت بڑھ جاتی ہے، جس مسجد کے نمازی عام طور پر علماء، تقوٰی شعار ہوں اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت زیادہ ہے۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ سے ڈرنے پر اور اس کی رضا مندی پر وہ بہتر یا جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی کنارہ پر ایک کھائی کے جو گرنے کو ہے پھر اس کو لیکر ڈھے پڑا دوزخ کی آگ میں، اور اللہ راہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو

تیسری اور چوتھی آیت میں اس مسجد مقبول کے مقابلہ میں منافقین کی بنائی ہوئی مسجد ضرار کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دریا کے کنارے بعض اوقات پانی زمین کے حصہ کو اندر سے کھا لیتا ہے اور اوپر زمین کی سطح ہموار نظر آتی ہے، اس پر اگر کوئی تعمیر کرے تو ظاہر ہے کہ وہ فوراً گر جائے گی، اسی طرح اس مسجد ضرار کی بنیاد ناپائدار تھی، اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ گر پڑی، اور جہنم کی آگ میں گئی، جہنم کی آگ میں جانا مجازی معنی کے لئے بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بنانے والوں کے لئے اس نے جہنم کا راستہ ہموار کردیا، اور بعض حضرات نے اس کو حقیقت پر بھی محمول کیا ہے کہ حقیقۃً جب یہ مسجد گرائی گئی ہے تو جہنم میں گئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انہوں نے بنائی تھی شبہ ان کے دلوں میں مگر جب ٹکڑے ہوجائیں ان کے دل اور اللہ ہی سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

آگے فرمایا کہ ان کی یہ تعمیر ہمیشہ ان کے شک اور نفاق کو بڑھاتی ہی رہے گی، جب تک کہ انکے قلوب قطع نہ ہوجائیں یعنی جب تک انکی زندگی ختم نہ ہوجائے ان کا شک و نفاق اور حسد و غیظ بڑہتا ہی رہے گا۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں وعدہ ہوچکا اس کے ذمہ پر سچا توریت اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے قول کا پورا اللہ سے زیادہ سو خوشیاں کرو اس معاملہ پر جو تم نے کیا ہے اس سے اور یہی ہے بڑی کامیابی،

خلاصہ تفسیر بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی (اور خدا کے ہاتھ مال و جان بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ) وہ لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) لڑتے ہیں جس میں (کبھی) قتل کرتے ہیں اور (کبھی) قتل کئے جاتے ہیں (یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی) اس (قتال) پر (ان سے جنت کا) سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں (بھی) اور انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی) اور (یہ مسلم ہے کہ) اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے (اور اس نے اس بیع پر وعدہ جنت کا کیا ہے) تو (اس حالت میں) تم لوگ (جو کہ جہاد کر رہے ہو) اپنی اس بیع (مذکور) پر جس کا تم نے (اللہ تعالیٰ سے) معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکورہ جنت ملے گی) اور یہ (جنت ملنا) بڑی کامیابی ہے (تو ضرور تم کو یہ سودا کرنا چاہئے) وہ (مجاہدین ایسے ہیں جو علاوہ جہاد کے ان اوصاف کمال کیساتھ بھی موصوف ہیں کہ گناہوں سے) توبہ کرنے والے ہیں (اور اللہ کی) عبادت کرنے والے (ہیں اور اللہ کی) حمد کرنے والے (ہیں اور) روزہ رکھنے والے (ہیں اور) رکوع اور سجدہ کرنے والے (ہیں یعنی نماز پڑھتے ہیں اور) نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے (ہیں) اور بری باتوں سے باز رکھنے والے (ہیں) اور اللہ کی حدود کا (یعنی احکام کا) خیال رکھنے والے (ہیں) اور ایسے مؤمنین کو (جن میں جہاد اور یہ صفات ہوں) آپ خوش خبری سنا دیجئے (کہ ان سے جنت کا وعدہ مذکور ہے۔ معارف و مسائل ربط آیاتسابقہ آیات میں جہاد سے بلا عذر رکنے کی مذمت کا بیان تھا، ان آیات میں مجاہدین کی فضیلت کا بیان ہے۔ شان نزولحسب تصریح اکثر حضرات مفسرین یہ آیات بیعت عقبہ کے شرکاء کے متعلق نازل ہوئی ہیں جو ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں انصار مدینہ سے لی گئی تھی اسی لئے پوری سورت کے مدنی ہونے کے باوجود ان آیات کو مکی کہا گیا ہے۔ عقبہ پہاڑ کے حصہ کو کہا جاتا ہے اس جگہ وہ عقبہ مراد ہے جو منیٰ میں جمرہ عقبہ کے ساتھ پہاڑ کا حصہ ہے (آجکل حجاج کی کثرت کے سبب پہاڑ کا یہ حصہ صاف کرکے میدان بنادیا گیا ہے صرف جمرہ رہ گیا ہے اس عقبہ پر مدینہ طیبہ کے حضرات سے تین مرتبہ بیعت لی گئی ہے پہلی بیعت بعثت نبوی سے گیارہویں سال میں ہوئی، جس میں چھ حضرات مسلمان ہو کر بیعت کرکے مدینہ واپس ہوئے، تو مدینہ کے گھر گھر میں رسول اللہ ﷺ کا چرچا ہونے لگا، اگلے سال موسم حج میں بارہ حضرات اسی جگہ جمع ہوئے، جن میں پا نچ پہلے اور سات نئے تھے، سب نے بیعت کی، اب مدینہ میں مسلمانوں کی خاصی تعداد ہوگئی، جو چالیس نفر سے زائد تھی، انہوں نے درخواست کی کہ ہمیں قرآن پڑھانے کے لئے کسی کو بھیج دیا جائے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا، انہوں نے موجودہ مسلمانوں کو قرآن بھی پڑھایا اور اسلام کی تبلیغ بھی کی جس کے نتیجہ میں مدینہ کی بڑی جماعتیں اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئیں۔ اس کے بعد بعثت نبوی کے تیرہویں سال میں ستر مرد دو عورتیں اسی جگہ جمع ہوئے، یہ تیسری بیعت عقبہ ہے جو آخری ہے، اور عموماً بیعت عقبہ سے یہی بیعت مراد ہوتی ہے، یہ بیعت اسلام کے اصولی عقائد و اعمال کے ساتھ خصوصی طور پر کفار سے جہاد اور جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ پہونچیں تو آپ کی حفاظت و حمایت پر لی گئی، اس میں حضرت عبداللہ بن رواحہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس وقت معاہدہ ہو رہا ہے، آپ جو شرائط اپنے رب کے متعلق یا اپنے متعلق کرنا چاہیں وہ واضح کردی جائیں، آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے تو یہ شرط رکھتا ہوں کہ آپ سب اس کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے، اور اپنے لئے یہ شرط ہے کہ میری حفاظت اس طرح کریں گے جیسے اپنی جانوں اور اپنے اموال و اولاد کی حفاظت کرتے ہو، ان لوگوں نے دریافت کیا کہ اگر ہم یہ دونوں شرطیں پوری کردیں تو ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت ملے گی، ان سب حضرات نے خوش ہو کر کہا کہ ہم اس سودے پر راضی ہیں، اور ایسے راضی ہیں کہ اب اس کو نہ خود فسخ کرنے کی درخواست کریں گے، نہ اس کے فسخ کرنے کو پسند کریں گے۔ اس جگہ چونکہ اس بیعت میں ظاہراً صورت ایک لین دین کے معاملے کی بن گئی تو اس پر یہ آیت بہ لفظ بیع و شراء نازل ہوئی، (آیت) اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ، یہ آیت سن کر سب سے پہلے حضرت براء بن معرور اور ابو الہیثم اور اسعد ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ دیا کہ ہم اس معاملہ پر تیار ہیں، آپ کی حفاظت اپنی عورتوں بچوں کی طرح کریں گے، اور آپ کے مقابلہ پر اگر دنیا کے کالے اور گورے سب جمع ہوجائیں تو ہم سب کا مقابلہ کریں گے۔ جہاد کی سب سے پہلی یہی آیت ہے مکہ معظمہ میں جہاد و قتال کے احکام نہیں تھے، یہ سب سے پہلی آیت ہے جو مکہ مکرمہ ہی میں قتال کے متعلق نازل ہوئی، اور اس کا عمل ہجرت کے بعد شروع ہوا، اس کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی، (آیت) اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ جب یہ بیعت عقبہ کفار قریش مکہ سے خفیہ مکمل ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ کی ہجرت کا حکم دیدیا، اور تدریجا صحابہ کرام کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہوگیا، رسول اللہ ﷺ حق تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے کے منتظر رہے، صدیق اکبر نے ہجرت کا قصد کیا تو آپ نے ان کو اپنے ساتھ کے لئے روک لیا (یہ پورا واقعہ تفسیر مظہری میں حوالہ کے ساتھ مذکور ہے)۔ (آیت) يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (الی) فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد و قتال کا حکم تمام پچھلی امتوں کے لئے بھی سب کتابوں میں نازل کیا گیا، اور یہ جو مشہور ہے کہ انجیل میں جہاد کا حکم نہیں، ممکن ہے کہ بعد کے لوگوں نے جو تحریفات اس میں کی ہیں اس میں احکام جہاد کو خارج کردیا گیا ہو، واللہ اعلم۔ (آیت) فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ ، اس واقعہ بیعت عقبہ میں جو معاہدہ رسول اللہ ﷺ سے ہوا اس کی ظاہری صورت بیع و شراء کی بن گئی، اس لئے شروع آیت میں شراء کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا، اس جملہ میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ معاملہ یبع تمہارے لئے نفع کا سودا اور مبارک ہے، کیونکہ ایک فانی چیز جان و مال دے کر ہمیشہ باقی رہنے والی چیز بدلے میں مل گئی اور غور کیا جائے تو خرچ صرف مال ہوا، جان تو یعنی روح تو مرنے کے بعد بھی باقی رہے گی اور ہمیشہ رہے گی، اور مال پر غور کیا جائے تو وہ بھی تو حق تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے، انسان تو اپنی پیدائش کے وقت خالی ہاتھ آیا تھا، اسی نے سب سامان اور مال و دولت کا اس کو مالک بنایا ہے، اپنے ہی عطیہ کو آخرت کی نعمتوں اور جنت کا معاوضہ بنا کر جنت دیدی، اسی لئے حضرت فاروق اعظم نے فرمایا کہ یہ عجیب یبع ہے کہ مال اور قیمت دونوں تمہیں ہی دے دیے۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ سنو ! یہ کیسی نفع کی تجارت ہے جو اللہ نے ہر مومن کیلئے کھول دی ہے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں مال بخشا ہے تم اس میں سے تھوڑا خرچ کرکے جنت خرید لو (مظہری)۔