9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعارف القرآن

Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

مدد کرچکا ہے اللہ تمہاری بہت میدانوں میں اور حنین کے دن، جب خوش ہوئے تم اپنی کثرت پر پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے پھر ہٹ گئے تم پیٹھ دے کر،

خلاصہ تفسیر تم کو خدا تعالیٰ نے (لڑائی کے) بہت موقعوں میں (کفار پر) غلبہ دیا (جیسے بدر وغیرہ) اور حنین کے دن بھی (جس کا قصہ عجیب و غریب ہے تم کو غلبہ دیا) جبکہ (یہ واقعہ ہوا تھا کہ) تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا، پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور (کفار کے تیر برسانے سے ایسی پریشانی ہوئی کہ) تم پر زمین باوجود اپنی (اس) فراخی کے تنگی کرنے لگی پھر (آخر) تم) بیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (کے قلب) پر اور دوسرے مومنین (کے قلوب) پر اپنی (طرف سے) تسلی نازل فرمائی، اور (مدد کے لئے) ایسے لشکر (آسمان سے) نازل فرمائے جن کو تم نے نہیں دیکھا (مراد فرشتے ہیں جس کے بعد تم پھر مستعد قتال ہوئے اور غالب آئے) اور (اللہ تعالیٰ نے) کافروں کو سزا دی (کہ ان پر ہزیمت اور قتل و قید واقع ہوئی) اور یہ کافروں کی (دنیا میں) سزا ہے، پھر اللہ تعالیٰ (ان کافروں میں سے) جسکو چاہیں توبہ نصیب کردیں (چنانچہ بہت سے مسلمان ہوگئے) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں، (کہ جو شخص ان میں مسلمان ہو اس کے سب پچھلے گناہ معاف کرکے مستحق جنت کا بنادیا)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ میں غزوہ حنین کے واقعات شکست و فتح کا اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل اور فوائد کا بیان ہے، جیسا کہ اس سے پہلی سورت میں فتح مکہ اور اس کے متعلقات کا ذکر تھا، شروع آیت میں حق تعالیٰ نے اپنے اس انعام و احسان کا ذکر فرمایا ہے، جو مسلمانوں پر ہر موقع اور ہر حالت میں مبذول رہا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی بہت سے مقامات میں“ اور اس تمہید کے بعد خصوصیت کے ساتھ فرمایا وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ”یعنی غزوہ حنین کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی مدد پہنچی“ غزوہ حنین کی خصوصیت اس وجہ سے فرمائی ہے کہ اس میں بہت سے واقعات اور حالات خلاف توقع عجیب انداز سے ظاہر ہوئے جن میں غور کرنے سے انسان کے ایمان میں قوت اور عمل میں ہمت پیدا ہوتی ہے، اس لئے آیات مذکورہ کی لفظی تفسیر سے پہلے اس غزوہ کے ضروری واقعات جو حدیث و تاریخ کی مستند کتابوں میں مذکورہ ہیں کسی قدر تفصیل سے بیان کردینا مناسب ہے تاکہ آیات مذکورہ کے سمجھنے میں آسانی ہو اور جن فوائد کے لئے یہ واقعات بیان فرمائے گئے ہیں وہ سامنے آجائیں، ان واقعات کا بیشتر حصہ تفسیر مظہری سے لیا گیا ہے، جس میں بحوالہ کتب حدیث و تاریخ واقعات کا ذکر ہے۔ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک مقام کا نام ہے، جو مکہ مکرمہ سے دس میل سے کچھ زیادہ فاصلہ پر واقع ہے، رمضان 8 ہجری میں جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور قریش مکہ نے رسول کریم ﷺ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے، تو عرب کا ایک بہت بڑا مشہور بہادر جنگجو اور مالدار قبیلہ ہوازن جس کی ایک شاخ طائف کے رہنے والے بنو ثقیف بھی تھے، ان میں ہلچل مچ گئی، انہوں نے جمع ہو کر یہ کہنا شروع کیا کہ مکہ فتح ہوجانے کے بعد مسلمانوں کو کافی قوت حاصل ہوگئی ہے، اس سے فارغ ہونے کے بعد لازمی ہے کہ ان کا رخ ہماری طرف ہوگا، اس لئے دانشمندی کی بات یہ ہے کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہم خود ان پر حملہ کردیں، اس کام کے لئے قبیلہ ہوازن نے اپنی سب شاخوں کو جو مکہ سے طائف تک پھیلی ہوئی تھیں جمع کرلیا، اس قبیلہ کے سب بڑے چھوٹے بجز معدودے چند افراد کے جن کی تعداسو (100) سے بھی کم تھی، سب ہی جمع ہوگئے۔ اس تحریک کے لیڈر مالک بن عوف تھے جو بعد میں مسلمان ہوگئے اور اسلام کے بڑے علمبردار ثابت نے ان کی رائے سے اتفاق کر کے جنگ کی تیاریاں شروع کردیں، اس قبیلہ کی چھوٹی چھوٹی دو شاخیں بنو کعب اور بنو کلاب اس رائے سے متفق نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ بصیرت دے دیتھی، انہوں نے کہا کہ اگر مشرق سے مغرب تک ساری دنیا بھی محمد ﷺ کے خلاف جمع ہوجائے گی تو وہ ان سب پر بھی غالب آئیں گے، ہم خدائی طاقت کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتے، باقی سب کے سب نے معاہدے کئے اور مالک بن عوف نے ان سب کو پوری قوت سے جنگ پر قائم رہنے کی ایک تدبیر یہ کی کہ ہر شخص کے تمام اہل و عیال بھی ساتھ چلیں اور اپنا اپنا پورا مال بھی ساتھ لے کر نکلیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ میدان سے بھاگنے لگیں تو بیوی بچوں اور مال کی محبت ان کے پاؤں کی زنجیر بن جائے، میدان سے گریز کا ان کے لئے کوئی موقع نہ رہے ان کی تعداد کے بارے میں اہل تاریخ کے مختلف اقوال ہیں۔ حافظ حدیث علامہ ابن حجر وغیرہ نے راجح اس کو قرار دیا ہے کہ چوبیس یا اٹھائیس ہزار کا مجمع تھا، اور بعض حضرات نے چار ہزار کی تعداد بیان کی ہے، یہ ممکن ہے کہ سب اہل و عیال عورتوں بچوں سمیت تعداد چوبیس یا اٹھائیس ہزار ہو اور لڑنے والے جوان ان میں چار ہزار ہوں۔ بہرحال رسول کریم ﷺ کو مکہ مکرمہ میں ان کے خطرناک عزائم کی اطلاع ملی تو آپ نے ان کے مقابلہ پر جانے کا عزم فرما لیا، مکہ مکرمہ پر حضرت عتاب بن اسید کو امیر بنایا، اور حضرت معاذ بن جبل کو ان کے ساتھ لوگوں کو اسلامی تعلیمات سکھانے کے لئے چھوڑا، اور قریش مکہ سے اسلحہ اور سامان جنگ عاریت کے طور پر مانگا، صفوان بن امیہ جو قریش کا سردار تھا بول اٹھا کہ کیا آپ یہ سامان جنگ ہم سے غصب کرکے لینا چاہتے ہیں، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ عاریت کے طور پر لیتے ہیں، جس کی واپسی ہمارے ذمہ ہوگی، یہ سن کر اس نے سو زرہیں مستعار دیں اور نوفل بن حارث نے تین ہزار نیزے اسی طرح پیش کردیئے۔ امام زہری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ چودہ ہزار صحابہ کا لشکر لے کر اس جہاد کی طرف متوجہ ہوئے جن میں بارہ ہزار انصار مد ینہ تھے، جو فتح مکہ کے لئے آپ کے ساتھ آئے تھے اور دو ہزار وہ مسلمان تھے جو مکہ اور اطراف مکہ کے لوگوں میں سے بوقت فتح مسلمان ہوگئے تھے جن کو طلقاء کہا جاتا ہے، شوال کی چھٹی تاریخ ہفتہ کے دن آپ اس غزوہ کے لئے نکلے اور فرمایا کہ کل انشاء اللہ ہمارا قیام خیف بنی کنانہ کے اس مقام پر ہوگا جہاں جمع ہو کر قریش مکہ نے مسلمانوں کے خلاف مقاطعہ کے لئے عہد نامہ لکھا تھا۔ یہ چودہ ہزار مجاہدین کا لشکر تو جہاد کے لئے نکلا ان کے ساتھ مکہ کے بیشمار لوگ مرد و عورت تماشائی بن کر نکلے، جن کے دلوں میں عموماً یہ تھا کہ اگر اس موقع پر مسلمانوں کو شکست ہو تو ہمیں بھی اپنا انتقام لینے کا موقع ملے گا، اور یہ کامیاب ہوں تو بھی ہمارا کوئی نقصان نہیں۔ اسی قسم کے لوگوں میں ایک شیبہ بن عثمان بھی تھے، جنہوں نے بعد میں مسلمان ہو کر خود اپنا واقعہ بیان کیا کہ غزوہ بدر میں میرا باپ حضرت حمزہ کے ہاتھ سے اور چچا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ سے مارا گیا تھا جس کا جوش انتقام اور انتہائی غیظ میرے دل میں تھا، میں اس موقع کو غنیمت جان کر مسلمانوں کے ساتھ ہولیا کہ جب کہیں موقع پاؤں رسول کریم ﷺ پر حملہ کردوں، میں ان کے ساتھ ہو کر ہر وقت موقع کی تلاش میں رہا، یہاں تک کہ اس جہاد کے ابتدائی وقت میں جب کچھ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑے اور وہ بھاگنے لگے تو میں موقع پاکر حضور کے قریب پہو نچا، مگر دیکھا کہ داہنی طرف حضرت عباس آپ کی حفاظت کر رہے ہیں اور بائیں طرف ابو سفیان ابن حارث، اس لئے میں پیچھے کی طرف پہنچ کر ارادہ ہی کررہا تھا کہ یکبارگی تلوار سے آپ پر حملہ کردوں کہ یکایک آپ کی نظر مجھ پر پڑی اور آپ نے مجھے آواز دی کہ شیبہ یہاں آؤ، اپنے قریب بلا کر دست مبارک میرے سینہ پر رکھ دیا، اور دعا کی یا اللہ اس سے شیطان کو دور کردے، اب جو میں نظر اٹھاتا ہوں تو آنحضرت ﷺ میرے دل میں اپنے آنکھ کان اور جان سے بھی زیادہ محبوب ہوجاتے ہیں، آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ کفار کا مقابلہ کرو، اب میرا یہ حال تھا کہ میں اپنی جان آپ پر قربان کر رہا تھا اور بڑی بےجگری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا جب آنحضرت ﷺ اس جہاد سے واپس آئے تو میں خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میرے دل کے تمام خیالات کی نشاندی کردی کہ تم مکہ سے اس نیت پر چلے تھے اور میرے گرد میرے قتل کے لئے گھوم رہے تھے، مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تم سے نیک کام لینے کا تھا جو ہو کر رہا۔ اسی طرح کا واقعہ نضر بن حارث کو پیش آیا کہ وہ بھی اسی نیت سے حنین گئے تھے، وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رسول کریم ﷺ کی معصومیت اور محبت ڈال دی اور ایک مرد مجاہد بن کر دشمنوں کی صفوں سے ٹکرا گئے۔ اس سفر میں ابو بردہ بن نیار کو یہ واقعہ پیش آیا کہ مقام اوطاس پر پہنچ کر دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کے نیچے تشریف رکھتے ہیں اور ایک اور شخص آپ کے پاس بیٹھا ہے آپ نے ذکر فرمایا کہ میں سوگیا تھا، یہ شخص آیا اور میری تلوار اپنے قبضہ میں لے کر میرے سر پر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! اب بتلاؤ تمہیں کون میرے ہاتھ سے بچا سکتا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ اللہ بچا سکتا ہے، یہ سن کر تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی، ابو بردہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اجازت دیجئے کہ میں اس دشمن خدا کی گردن مار دوں، یہ دشمن قوم کا جاسوس معلوم ہوتا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابو بردہ خاموش رہو اللہ تعالیٰ میری حفاظت کرنے والا ہے جب تک کہ میرا دین سارے دینوں پر غالب نہ آجائے، اور آپ نے اس شخص کو کوئی ملامت بھی نہ فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا۔ مقام حنین پر پہنچ کر مسلمانوں نے پڑاؤ ڈالا تو حضرت سہیل بن حنظلہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ خبر لے کر حاضر ہوئے کہ گھوڑے سوار آدمی ابھی دشمن کی طرف سے آیا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ قبیلہ ہوازن پورا کا پورا مع اپنے سب سامان کے مقابلہ پر آگیا ہے، آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر تبسم فرمایا اور کہا کہ پروا نہ کر یہ سارا سامان مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن کر ہاتھ آئے گا۔ اس جگہ ٹھہر کر آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حداد کو جاسوس بنا کر بھیجا کہ دشمن کے حالات کا پتہ چلائیں، وہ ان کی قوم میں جا کردو دن رہے، سب حالات دیکھتے سنتے رہے، ان کے لیڈر اور کمانڈر مالک بن عوف کو دیکھا کہ وہ اپنے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ محمد کو اب تک کسی بہادر تجربہ کار قوم سے سابقہ نہیں پڑا، مکہ کے بھولے بھالے قریشیوں کا مقابلہ کرکے انھیں اپنی طاقت کا زعم ہوگیا، اب ان کو پتہ لگے گا، تم سب لوگ صبح ہوتے ہی اس طرح صف بندی کرو کہ ہر ایک کے پیچھے اس کے بیوی بچے اور مال ہو اور اپنی تلواروں کی میانوں کو توڑ ڈالو اور سب مل کر یکبارگی ہلہ بولو، یہ لوگ جنگ کے بڑے تجربہ کار تھے، اپنی فوج کے چند دستوں کو مختلف گھاٹیوں میں چھپا دیا تھا۔ اس طرح کفار کے لشکر کی یہ تیاریاں تھیں، دوسری طرف مسلمانوں کا یہ پہلا جہاد تھا، جس میں چودہ ہزار سپاہی مقابلہ کے لئے نکلے تھے اور سامان جنگ بھی ہمیشہ سے زیادہ تھا اور یہ لوگ بدر و احد کے میدانوں میں یہ دیکھ چکے تھے کہ صرف تین سو تیرہ بےسامان لوگوں نے ایک ہزار کے لشکر جرار پر فتح پائی، تو آج اپنی کثرت اور تیاری پر نظر کرکے حاکم اور بزار کی روایت کے مطابق ان میں سے بعض کی زبان سے ایسے کلمات نکل گئے کہ آج تو یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی سے مغلوب ہوجائیں آج تو مقابلہ کی دیر ہے کہ دشمن فورًا بھاگے گا۔ مالک الملک و الملکوت کو یہی چیز ناپسند تھی کہ اپنی طاقت پر کوئی بھروسہ کیا جائے، چناچہ مسلمانوں کو اس کا سبق اس طرح ملا کہ جب قبیلہ ہوازن نے قرارداد کے مطابق یکبارگی ہلہ بولا اور گھاٹیوں میں چھپے ہوئے دستوں نے چار طرف سے گھیرا ڈال دیا، گرد و غبار نے دن کو رات بنادیا تو صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے اور بھاگنے لگے، صرف رسول کریم ﷺ اپنی سواری پر سوار پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھ رہے تھے، اور بہت تھوڑے سے صحابہ کرام جن کی تعداد تین سو اور بعض نے ایک سو یا اس سے بھی کم بتلائی ہے آنحضرت ﷺ کے ساتھ جمے رہے، وہ بھی یہ چاہتے تھے کہ آپ آگے نہ بڑھیں۔ یہ حالت دیکھ کر آپ نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ بلند آواز سے صحابہ کو پکارو کہ وہ لوگ کہاں ہیں جنہوں نے شجرہ کے نیچے جہاد کی بیعت کی تھی، اور سورة بقرہ والے حضرات کہاں ہیں، اور وہ انصار کہاں ہیں جنہوں نے جان کی بازی لگانے کا عہد کیا تھا، سب کو چاہئے کہ واپس آئیں، اور رسول اللہ ﷺ یہاں ہیں۔ حضرت عباس کی ایک آواز بجلی کی طرح دوڑ گئی، اور یکایک سب بھاگنے والوں کو پشیمانی ہوئی، اور بڑی دلیری کے ساتھ لوٹ کر دشمن کا پورا مقابلہ کیا، اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مدد بھیج دی، ان کا کمانڈر مالک بن عوف اپنے اہل و عیال اور سب مال کو چھوڑ کر بھاگا اور طائف کے قلعہ میں جا چھپا، اور پھر باقی پوری قوم بھاگ کھڑی ہوئی، ان کے ستر سردار مارے گئے، بعض مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ بچے زخمی ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرمایا، ان کا سب مال مسلمانوں کے قبضہ میں آیا، چھ ہزار جنگی قیدی چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں چار ہزار اوقیہ چاندی ہاتھ آئی۔ پہلی اور دوسری آیت میں اسی مضمون کا بیان ہے، ارشاد فرمایا کہ جب تم کو اپنے مجمع کی کثرت سے غرہ ہوگیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کارآمد نہ ہوئی اور زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی نازل فرمائی اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور ایسے لشکر فرشتوں کے نازل کردیئے، جن کو تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو تمہارے ہاتھ سے سزا دلوا دی۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اتاری اللہ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اتاریں فوجیں کہ جن کو تم نے نہیں دیکھا اور عذاب دیا کافروں کو

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور سب مسلمانوں پر اپنی تسلی نازل فرمادی“۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ غزوہ حنین کے ابتدائی ہلہ میں جن صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر اپنی تسلی نازل فرمادی، جس سے ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم گئے اور بھاگنے والے پھر لوٹ آئے، اور رسول کریم ﷺ پر اور ان صحابہ پر جو مضبوطی کے ساتھ محاذ پر جمے رہے تسلی نازل فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی فتح قریب نظر آنے لگی، اور چونکہ تسلی کی یہ دو قسمیں تھیں ایک بھاگنے والوں کے لئے دوسری رسول کریم ﷺ کے ساتھ جمے رہنے والوں کے لئے، اسی طرف اشارہ کرنے کے لئے عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ کو علیحدہ علیحدہ تکرار عَلٰي کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا (آیت) وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا یعنی ایسے لشکر نازل فرما دیئے جن کو تم نے نہیں دیکھا، اس سے مراد عام طور پر لوگوں کا نہ دیکھنا ہے، احاد و افراد سے جو بعض روایتوں میں اس لشکر کا دیکھنا منقول ہے وہ اس کے منافی نہیں۔ پھر فرمایا (آیت) وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۭوَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ، یعنی کافروں کو اللہ تعالیٰ نے سزا دیدی، اور کافروں کی یہی سزا ہے۔ اس سزا سے مراد ان کا مسلمانوں کے ہاتھوں مفتوح اور مغلوب ہونا ہے، جو واضح طور پر مشاہدہ میں آیا، مطلب یہ ہے کہ یہ دنیاوی سزا تھی، جو فوری طور پر مل گئی، آگے آخرت کے معاملہ کا ذکر بعد کی آیت میں اس طرح آیا ہے
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

اور یہی سزا ہے منکروں کی پھر توبہ نصیب کرے گا اللہ اس کے بعد جسکو چاہے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی پھر خدا تعالیٰ جس کو چاہیں توبہ نصیب کردیں، اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والے بڑی رحمت کرنیوالے ہیں“۔ اس میں اشارہ ہے کہ اس جہاد میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب اور مفتوح ہونے کی سزا مل چکی ہے، اور ابھی تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں، ان میں سے بھی کچھ لوگوں کو توفیق ایمان نصیب ہوگی، چناچہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس کی تفصیل یہ ہے حنین کی فتح اور ہوازن و ثقیف کے سرداروں کا مسلمان ہو کر حاضر ہونا قیدیوں کی واپسی حنین میں قبیلہ ہوازن و ثقیف کے کچھ سردار مارے گئے، کچھ بھاگ کھڑے ہوئے ان کے ساتھ جو ان کے اہل و عیال اور اموال تھے وہ مسلمانوں کے قیدی اور مال غینمت بن کر مسلمانوں کے ہاتھ آئے جس میں چھ ہزار قیدی، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زائد بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی، جس کے تقریباً چار من ہوتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سفیان بن حرب کو اموال غنیمت کا نگران مقرر فرمایا۔ پھر شکست خوردہ ہوازن اور ثقیف نے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف اجتماع کیا مگر ہر مقام پر ان کو شکست ہوتی گئی، وہ سخت مرعوب ہو کر طائف کے نہایت مستحکم قلعہ میں قلعہ بند ہوگئے، رسول کریم ﷺ نے پندرہ بیس روز اس قلعہ کا محاصرہ کیا، یہ قلعہ بند دشمن اندر ہی سے تیر برساتے رہے، سامنے آنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کے لئے بد دعا فرمائیے، مگر آپ نے ان کے لئے ہدایت کی دعا فرمائی اور با لآخر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرما کر واپسی کا قصد فرمایا، اور مقام جعرانہ پر پہنچ کر ارادہ فرمایا کہ پہلے مکہ معظمہ جا کر عمرہ ادا کریں پھر مدینہ طیبہ کو واپسی ہو، مکہ والوں کی بڑی تعداد جو تماشائی بن کر مسلمانوں کی فتح و شکست کا امتحان کرنے آئی تھی، اس جگہ پہنچ کر ان میں سے بہت لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اسی مقام پر پہنچ کر مال غنیمت کی تقسیم کا انتظام کیا گیا تھا، ابھی اموال غنیمت تقسیم ہو ہی رہے تھے کہ دفعۃً ہوازن کے چودہ سرداروں کا ایک وفد زہیر بن صرد کی قیادت میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جن میں آنحضرت ﷺ کے رضاعی چچا ابو یرقان بھی تھے، انہوں نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم مسلمان ہوچکے ہیں، اور یہ درخواست کی کہ ہمارے اہل و عیال اور اموال ہمیں واپس دیدئیے جائیں، اس درخواست میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہم بلسلہ رضاعت آپ کے خویش و عزیز ہیں، اور جو مصیبت ہم پر پڑی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں، آپ ہم پر احسان فرمائیں، رئیس وفد ایک شاعر آدمی تھا، اس نے کہا کہ یا رسول اللہ اگر ہم بادشاہ روم یا شاہ عراق سے اپنی ایسی مصیبت کے پیش نظر کوئی درخواست کرتے تو ہمارا خیال یہ ہے کہ وہ بھی ہماری درخواست کو رد نہ کرتے اور آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اخلاق فاضلہ میں سب سے زیادہ ممتاز فرمایا ہے آپ سے ہم بڑی امید لے کر آئے ہیں۔ رحمہ للعالمین ﷺ کے لئے یہ موقع دوہری مشکل کا تھا کہ ایک طرف ان لوگوں پر رحم و کرم کا تقاضا یہ کہ ان کے سب قیدی اور اموال ان کو واپس کردیئے جائیں، دوسری طرف یہ کہ اموال غنیمت میں تمام مجاہدین کا حق ہوتا ہے، ان سب کو ان کے حق سے محروم کردینا ازروئے انصاف درست نہیں، اس لئے صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ان کے جواب میں فرمایا میرے ساتھ کس قدر مسلمانوں کا لشکر ہے جو ان اموال کے حق دار ہیں، میں سچی اور صاف بات کو پسند کرتا ہوں، اس لئے آپ لوگوں کو اختیار دیتا ہوں کہ یا تو اپنے قیدی واپس لے لو یا اموال غنیمت ان دونوں میں جس کو تم انتخاب کرو وہ تمہیں دیدئیے جائیں گے، سب نے قیدیوں کی واپسی کو اختیار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کو جمع فرما کر ایک خطبہ دیا، جس میں حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آگئے ہیں، میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دیے جائیں تم میں سے جو لوگ خوش دلی کے ساتھ اپنا حصہ واپس دینے کے لئے تیار ہوں وہ احسان کریں اور جو اس کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم ان کو آئندہ اموال فئے میں سے اس کا بدلہ دیدیں گے۔ حقوق کے معاملہ میں رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے عوامی جلسوں کی آوازیں کافی نہیں، ہر ایک سے علیحدہ رائے معلوم کرنی چاہئے مختلف اطراف سے یہ آواز اٹھی کہ ہم خوش دلی کے ساتھ سب قیدی واپس کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر عدل و انصاف اور حقوق کے معاملہ میں احتیاط کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی مختلف آوازوں کو کافی نہ سمجھا، اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کون لوگ اپنا حق چھوڑنے کے لئے خوش دلی سے تیار ہوئے اور کون ایسے ہیں جو شرما شرمی خاموش رہے، معاملہ لوگوں کے حقوق کا ہے اس لئے ایسا کیا جائے کہ ہر جماعت اور خاندان کے سردار اپنی اپنی جماعت کے لوگوں سے الگ الگ صحیح بات معلوم کرکے مجھے بتائیں۔ اس کے مطابق سرداروں نے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ اجا زت حاصل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتلایا کہ سب لوگ خوش دلی سے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے یہ سب قیدی ان کو واپس کردیئے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کے تائب ہونے کی طرف مذکورہ تیسری آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے (آیت) ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ، غزوہ حنین میں پیش آنے والے واقعات کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس کا کچھ حصہ تو خود قرآن کریم میں مذکور ہے اور باقی مستند روایات حدیث سے لیا گیا ہے (مظہری و ابن کثیر) احکام و مسائل ان واقعات کے ضمن میں بہت سے احکام و ہدایات اور ضمنی فوائد آئے ہیں، وہی ان واقعات کے بیان کرنے کا اصل مقصد ہیں۔ آیات مذکورہ میں سب سے پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مسلمانوں کو کسی وقت بھی اپنی جمعیت اور طاقت پر غرہ نہ ہونا چاہئے، جس طرح کمزوری اور بےسامانی کے وقت ان کی نظر اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد پر رہتی ہے اسی طرح قوت و طاقت کے وقت بھی ان کا مکمل اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی امداد ہی پر ہونا چاہئے۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کی تعدادی کثرت اور سامان حرب کے کافی ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کی زبان پر جو بڑا بول آگیا تھا کہ آج تو کسی کی مجال نہیں جو ہم سے بازی لیجاسکے، اللہ تعالیٰ کو اپنی اس محبوب جماعت کی زبان سے ایسے کلمات پسند نہ آئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابتدائی ہلہ کے وقت مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے، اور بھاگنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ ہی کی غیبی امداد سے یہ میدان فتح ہوا۔ مفتوح و مغلوب کفار کے اموال میں عدل و انصاف اور احتیاط دوسری ہدایت اس واقعہ سے یہ حاصل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حنین کے لئے مکہ کے مفتوح غیر مسلموں سے جو سامان جنگ زرہیں اور نیزے لئے تھے یہ ایسا موقع تھا کہ ان سے زیر دستی بھی یہ چیزیں کی جاسکتی تھیں، مگر آنحضرت ﷺ نے عاریت کہہ کرلیا اور پھر سب کو ان کی مستعار چیزیں واپس کردیں۔ اس واقعہ نے مسلمانوں کے ساتھ بھی پورے عدل و انصاف اور رحم و کرم کے معاملہ کا سبق دیا۔ تیسری ہدایت اس ارشاد نبوی سے حاصل ہوئی جس میں حنین کی طرف جاتے ہوئے خیف بنی کنانہ میں قیام کے وقت فرمایا کہ کل ہم ایسے مقام پر قیام کریں گے جس میں بیٹھ کر ہمارے دشمن قریش مکہ نے مسلمانوں کے خلاف مقاطعہ کی قرارداد پر معاہدہ کیا تھا، اس میں اشارہ ہے کہ جب مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے فتح و قوت عطا فرمادی تو اپنے پچھلے مصیبت کے دور کو نہ بھلا دیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا ہوسکے، ہوازن کے شکست خوردہ لوگوں کے بار بار حملہ آور ہونے اور تیر برسانے کے جواب میں رحمۃ للعالمین کی زبان مبارک سے بددعا کے بجائے ان کے لئے ہدایت کی دعا مسلمانوں کو یہ سبق دے رہی ہے کہ مسلمانوں کی جنگ و جہاد کا مقصد صرف دشمن کو زیر کرنا نہیں، بلکہ ان کو ہدایت پر لانا ہے، اس لئے اس کی کوشش سے کسی وقت غفلت نہ ہونی چاہئے۔ تیسری آیت نے یہ ہدایت کردی کہ جو کفار مقابلہ میں مغلوب ہوجائیں ان سے بھی مایوس نہ ہوں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کو پھر اسلام و ایمان کی ہدایت دیدیں، جیسا کہ وفد ہوازن کے واقعہ اسلام سے ثابت ہوا۔ وفد ہوازن کی درخواست پر ان کے جنگی قیدیوں کی واپسی کے وقت جب صحابہ کرام کے مجمع سے آنحضرت ﷺ نے سوال کیا اور مجمع کی طرف سے یہ آوازیں آئیں کہ ہم سب انکی واپسی کے لئے خوشدلی سے رضا مند ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو کافی نہ سمجھا بلکہ جدا جدا ہر ایک کی اجازت معلوم کرنے کا اہتمام فرمایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ حقوق کے معاملہ میں جب تک خوش دلی کا اطمینان نہ ہوجائے کسی کا حق لینا جائز نہیں، مجمع کے رعب یا لوگوں کی شرم سے کسی کا خاموش رہنا رضا مندی کے لئے کافی نہیں، اسی سے حضرات فقہاء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص پر اپنی وجاہت کا رعب ڈال کر کسی دینی مقصد کے لئے چندہ کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ ایسے حالات میں بہت سے شریف آدمی محض شرما شرمی کچھ دیدیتے ہیں، پوری رضا مندی نہیں ہوتی، اس طرح کے مال میں برکت بھی نہیں ہوتی۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو مشرک جو ہیں سو پلید ہیں سو نزدیک نہ آنے پاویں مسجد الحرام کے اس برس کے بعد اور اگر تم ڈرتے ہو فقر سے تو آئندہ غنی کردے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر چاہے، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو مشرک لوگ (بوجہ عقائد خبیثہ کے) نرے ناپاک ہیں سو (اس ناپاکی پر جو احکام متفرع ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ) یہ لوگ اس سال کے بعد مسجد حرام (یعنی حرم) کے پاس (بھی) نہ آنے پائیں (یعنی حرم کے اندر داخل نہ ہوں) اور اگر تم کو (اس حکم کے جاری کرنے سے بدیں وجہ) مفلسی کا اندیشہ ہو (کہ لین دین انہی سے زیادہ متعلق ہے جب یہ نہ رہیں گے تو کام کیسے چلے گا) تو (تم خدا پر توکل رکھو) خدا تم کو اپنے فضل سے اگر چاہے گا (ان کا) متحاج نہ رکھے گا، بیشک اللہ تعالیٰ (احکام کی مصلحتوں کو) خوب جاننے والا ہے (اور ان مصلحتوں کی تکمیل کے باب میں) بڑا حکمت والا ہے (اس لئے یہ حکم مقرر کیا اور تمہارے افلاس کے انسداد کا سامان بھی کردے گا)۔ معارف و مسائل سورة توبہ کے شروع میں کفار و مشرکین سے اعلان براءت کیا گیا تھا، مذکورۃ الصدر آیت میں اس اعلان براءت سے متعلقہ احکام کا ذکر ہے، اعلان براءت کا حاصل یہ تھا کہ سال بھر کے عرصہ میں تمام کفار کے معاہدایت ختم یا پورے کردیئے جائیں، اور اعلان کے ایک سال بعد کوئی مشرک حدود حرم میں نہ رہنے پائے۔ اس آیت میں اسی کا بیان ایک خاص انداز میں کیا گیا جس میں اس حکم کی حکمت و مصلحت بھی بتلا دی اور اس کی تعمیل میں جو بعض مسلمانوں کو خطرات تھے ان کا بھی جواب دیدیا، اس میں لفظ نجس بفح جیم استعمال فرمایا ہے جو نجاست کے معنی میں ہے، اور نجاست کہا جاتا ہے ہر گندگی کو جس سے انسان کی طبیعت نفرت کرے، امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ اس میں وہ نجاست بھی داخل ہے جو آنکھ ناک یا ہاتھ وغیرہ سے محسوس ہو، اور وہ بھی جو علم و عقل کے ذریعہ معلوم ہو، اس لئے لفظ نجس اس غلاظت اور گندگی کو بھی شامل ہے جو ظاہری طور پر سب محسوس کرتے ہیں، اور اس معنوی نجاست کو بھی جس کی بنا پر شرعاً وضو یا غسل واجب ہوتا ہے، جیسے جنابت یا حیض و نفاس کے ختم ہونے کے بعد کی حالت، اور وہ باطنی نجاست بھی جس کا تعلق انسان کے قلب سے ہے جیسے عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ۔ آیت مذکورہ میں کلمہ اِنَّمَا لایا گیا ہے جو حصر کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ کے معنی یہ ہوگئے کہ مشرکین نری نجاست ہی ہیں، اور صحیح بات یہ ہے کہ عام طور پر مشرکین میں تینوں قسم کی نجاستیں ہوتی ہیں، کیونکہ بہت سی ظاہری ناپاک چیزوں کو وہ ناپاک نہیں سمجھتے اس لئے ان ظاہری نجاستوں سے بھی نہیں بچتے جیسے شراب اور اس سے بنی ہوئی چیزیں، اور معنوی نجاست سے غسل جنابت وغیرہ کے تو وہ معتقد ہی نہیں، اسی طرح عقائد فاسدہ اور اخلاق رذیلہ کو بھی وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ اسی لئے آیت مذکورہ میں مشرکین کو نری نجاست قرار دے کر یہ حکم دیا گیا (آیت) فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا یعنی ایسا کرنا چاہئے کہ اس سال کے بعد یہ مشرکین مسجد حرام کے پاس نہ جاسکیں“۔ مسجد حرام کا لفظ عام طور پر تو اس جگہ کے لئے بولا جاتا ہے جو بیت اللہ کے گرد چہار دیواری سے گھری ہوئی ہے، لیکن قرآن و حدیث میں بعض اوقات یہ لفظ پورے حرم مکہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے، جو کئی میل مربع کا رقبہ اور چاروں طرف حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کی قائم کردہ حدود سے گھرا ہوا ہے، جیسا کہ واقعہ معراج میں مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سے باتفاق یہی معنی مراد لئے گئے ہیں، کیونکہ واقعہ معراج معروف مسجد حرام کے اندر سے نہیں بلکہ حضرت ام ہانی کے مکان سے ہوا ہے، اسی طرح آیت کر یمہ (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، میں مسجد حرام سے پورا حرم ہی مراد ہے، کیونکہ جس واقعہ صلح کا اس میں ذکر ہے وہ مقام حدیبیہ پر ہوا ہے، جو حدود حرم سے باہر اس کے متصل واقع ہے (جصاص) اس لئے معنے آیت کے یہ ہوگئے کہ اس سال کے بعد مشرکین کا داخلہ حدود حرم میں ممنوع ہے، اس سال سے مراد کونسا سال ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ 10 ہجری مراد ہے، مگر جمہور مفسرین کے نزدیک 9 ہجری راجح ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اعلان براءت حضرت صدیق اکبر اور علی مرتضیٰ کے ذریعہ موسم حج میں اسی 9 ھ میں کرایا ہے، اس لئے 9 ھ سے 10 ھ تک مہلت کا سال ہے، 10 ہجری کے بعد یہ قانون نافذ ہوا۔ مشرکین کے مسجد حرام میں داخلے کی ممانعت کا مطلب اور یہ کہ مسجد حرام کی خصوصیت ہے یا سب مساجد کے لئے عام ہے آیت مذکورہ میں جو حکم دیا گیا ہے کہ 10 ھ میں بعد سے کوئی مشرک مسجد حرام کے پاس نہ جانے پائے اس کے متعلق تین باتیں غور طلب ہیں کہ یہ حکم مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے یا دنیا کی دوسری مسجدیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں، اور اگر مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے تو کسی مشرک کا داخلہ مسجد حرام میں مطلقا ممنوع ہے، یا صرف حج وعمرہ کیلئے داخلہ کی ممانعت ہے ویسے جاسکتا ہے، تیسرے یہ کہ آیت میں یہ حکم مشرکین کا بیان کیا گیا ہے کفار اہل کتاب بھی اس شامل ہیں یا نہیں۔ ان تفصیلات کے متعلق چونکہ الفاظ قرآن ساکت ہیں اس لئے اشارات قرآن اور روایات حدیث کو سامنے رکھ کر ائمہ مجہتدین نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق احکام بیان فرمائے، اس سلسلہ میں پہلی بحث اس میں ہے کہ قرآن کریم نے مشرکین کو نجس کس اعتبار سے قرار دیا ہے، اگر ظاہری نجاست یا معنوی جنابت والے شخص یا حیض و نفاس والی عورت کا داخلہ کسی مسجد میں جائز نہیں، اور اگر اس میں نجاست سے مراد کفر و شرک کی باطنی نجاست ہے تو ممکن ہے کہ اس کا حکم ظاہری نجاست سے مختلف ہو۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ فقہائے مدینہ امام مالک وغیرہ رحمہم اللہ نے فرمایا کہ مشرکین ہر معنی کے اعتبار سے نجس ہیں، ظاہری نجاست سے بھی عموماً اجتناب نہیں کرتے اور جنابت وغیرہ کے بعد غسل کا بھی اہتمام نہیں کرتے، اور کفر و شرک کی باطنی نجاست تو ان میں ہے ہی، اس لئے یہ حکم تمام مشرکین اور تمام مساجد کے لئے عام ہے، اور اس کی دلیل میں حضرت عمر بن عبد العزیز کا یہ فرمان پیش کیا جس میں انہوں نے امراء بلاد کو ہدایت کی تھی کہ کفار کو مساجد میں داخل نہ ہونے دیں، اس فرمان میں اسی آیت مذکورہ کو تحریر فرمایا تھا نیز یہ کہ حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے لا احل المسجد لحائض ولا جنب " یعنی مسجد میں داخل ہونا کسی حائضہ عورت یا جنبی شخص کیلئے میں حلال نہیں سمجھتا "۔ اور مشرکین و کفار عموماحالت جنابت میں غسل کا اہتمام نہیں کرتے، اس لئے ان کا داخلہ مساجد میں ممنوع ہے۔ امام شافعی نے فرمایا کہ یہ حکم مشرکین اور کفار اہل کتاب سب کے لئے عام ہے، مگر مسجد حرام کے لئے مخصوص ہے دوسری مساجد میں ان کا داخلہ ممنوع نہیں، (قرطبی) اور دلیل میں ثمامہ ابن اثال کا واقعہ پیش کرتے ہیں کہ مسلمان ہونے سے پہلے جب یہ گرفتار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا تھا۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک آیت میں مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ سال سے ان کو مشرکانہ طرز پر حج وعمرہ کرنے کی اجا زت نہ ہوگی، اور دلیل یہ ہے کہ جس وقت موسم حج میں حضرت علی مرتضیٰ کے ذریعہ اعلان براءت کردیا گیا تو اس میں اعلان اسی کا تھا کہ لا یحجن بعد العام مشرک، جس میں ظاہر کردیا گیا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا، اس لئے اس آیت میں (آیت) فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ کے معنی بھی اس اعلان کے مطابق یہی ہیں کہ ان کو حج وعمرہ کی ممانعت کردی گئی، اور کسی ضرورت سے باجازت امیر المومنین داخل ہو سکتے ہیں، وفد ثقیف کا واقعہ اس کا شاہد ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ان کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا حالانکہ یہ لوگ اس وقت کافر تھے، صحابہ کرام نے عرض بھی کیا یا رسول اللہ یہ نجس قوم ہے، تو آپ نے فرمایا کہ مسجد کی زمین پر ان لوگوں کی نجاست کا کوئی اثر نہیں پڑتا (جصاص) اس روایت نے یہ بات بھی واضح کردی کہ قرآن کریم میں مشرکین کو نجس کہنے سے انکی نجاست کفر و شرک مراد ہے، جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی مشرک مسجد کے پاس نہ جائے، بجز اس کے کہ وہ کسی مسلمان کا غلام یا کنیز ہو تو بضرورت اس کو داخل کرسکتے ہیں (قرطبی) یہ حدیث بھی اسی کی شاہد ہے کہ نجاست ظاہری کو سبب قرار دے کر مشرکین کو مسجد حرام سے نہیں روکا گیا ورنہ اس میں غلام اور جاریہ کی کوئی تخصیص نہ تھی، بلکہ بنیاد اصل کفر و شرک اور ان کے غلبہ کا خطرہ ہے، غلام و کنیز میں یہ خطرہ نہیں، ان کو اجازت دے دیگئی، اس کے علاوہ ظاہری نجاست کے اعتبار سے تو مسلمان بھی اس میں داخل ہیں کہ نجاست یا حدث اکبر کی حالت میں ان کے لئے بھی مسجد حرام داخلہ ممنوع ہے۔ نیز جمہور کی تفسیر کے مطابق مسجد حرام سے اس جگہ جب پورا حرم مراد ہے تو وہ بھی اسی کا مقتضی ہے کہ یہ ممانعت ظاہری نجاست کی بنیاد پر نہیں، بلکہ کفر و شرک کی نجاست کی بناء پر ہے اسی لئے صرف مسجد حرام میں ان کا داخلہ ممنوع نہیں کیا گیا بلکہ پورے حرم محترم میں ممنوع قرار دیا گیا، کیونکہ وہ اسلام کا حمی اور ایک قلعہ ہے، اس میں کسی غیر مسلم کو رکھنا گوارا نہیں کیا جاسکتا۔ امام اعظم ابوحنیفہ کی اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ نجاسات سے مساجد کی تطہیر بھی ایک مستقل مسئلہ ہے جو قرآن مجید اور احادیث سے ثابت ہے، لیکن اس آیت کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں بلکہ اسلام کے اس سیاسی حکم سے ہے جس کا اعلان سورة براءت کے شروع میں کیا گیا ہے کہ جتنے مشرکین مکہ میں موجود تھے ان سب سے حرم محترم کو خالی کرانا مقصود تھا، لیکن بتقاضائے عدل و انصاف و رحم و کرم مکہ فتح ہوتے ہی سب کو یک قلم خارج کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ جن لوگوں سے کسی خاص میعاد کا معاہدہ تھا اور وہ لوگ اس معاہدہ پر قائم رہے تو ان کی میعاد معاہدہ پوری کرکے اور باقیوں کو کچھ کچھ مہلت دے کر سال بھر کے اندر اس تجویز کی تکمیل پیش نظر تھی، اسی کا بیان اس آیت مذکورہ میں آیا کہ اس سال کے بعد مشرکین کا داخل حدود حرم میں ممنوع ہوجائے گا وہ مشرکانہ حج وعمرہ نہ کرنے پائیں گے۔ اور جس طرح سورة توبہ کی آیات میں واضح طور پر یہ بیان کردیا گیا ہے کہ 9 ہجری کے بعد کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہ ہوسکے گا، روایات حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس دائرہ کو اور وسیع فرما کر پورے جزیرۃ العرب کے لئے بھی حکم دے دیا تھا، مگر عہد رسالت میں اس کی تکمیل نہ ہونے پائی، پھر صدیق اکبر بھی دوسرے ہنگامی مسائل کی وجہ سے اس پر توجہ نہ دے سکے فاروق اعظم نے اپنے زمانہ میں اس حکم کو نافذ فرمایا۔ اب رہا کفار کی نجاست اور مساجد کی نجاسات سے تطہیر کا مسئلہ وہ اپنی جگہ ہے، جس کے مسائل کتب فقہ میں تفصیل سے مذکور ہیں، کوئی مسلمان بھی ظاہری نجاست یا حالت جنابت میں کسی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا، اور عام کفار و مشرکین ہوں یا اہل کتاب وہ بھی عموماً ان نجاسات سے پاک نہیں ہوتے، اس لئے بلا ضرورت شدیدہ ان کا داخلہ بھی کسی مسجد میں جائز نہیں۔ اس آیت کی رو سے جب کفار و مشرکین کا داخلہ حرم میں ممنوع دیا گیا تو مسلمانوں کے سامنے ایک معاشی مسئلہ یہ پیش آیا کہ مکہ میں کوئی پیداوار نہیں، باہر کے آنے والے ہی اپنے ساتھ ضروریات لاتے تھے، اور موسم حج میں اہل مکہ کے لئے سب ضروریات جمع ہوجاتی تھیں، اب ان کا داخل ممنوع ہوجانے کے بعد کام کیسے چلے گا، اس کا جواب قرآن میں یہ دیا گیا کہ (آیت) وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ ، یعنی اگر تمہیں معاشی مشکلات کا اندیشہ ہو تو سمجھ لو کہ نظام معاش تمام مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے، اگر وہ چاہیں گے تو تمہیں ان سب کفار سے مستغنی کردیں گے، اور یہاں " اگر چاہیں گے " کی قید لگانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں کوئی شک و تردد ہے بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ صرف مادی اسباب پر نظر رکھنے والوں کے لئے اگرچہ یہ بات بہت بعید اور مشکل نظر آتی ہے کہ ظاہری ذریعہ معاش یہی غیر مسلم تھے، ان کا داخلہ ممنوع کرنا اپنے لئے اسباب معاش منقطع کرنے کے مترادف ہے، مگر ان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ان مادی اسباب کا محتاج نہیں، جب ان کا ارادہ کسی کام سے متعلق ہوجائے تو سب اسباب مطابق ہوتے چلے جاتے ہیں بس چاہنے کی دیر ہے اور کچھ نہیں، اس لئے اِنْ شَاۗءَ فرما کر اس کی طرف اشارہ کردیا۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں اس کو جسکو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر،

خلاصہ تفسیر اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر (پورا ایمان رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول (محمد ﷺ نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں، اور یہود (میں سے بعض) نے کہا کہ (نعوذ باللہ) عزیر ؑ خدا کے بیٹے ہیں اور نصاری (میں سے اکثر) نے کہا کہ میسح ؑ خدا کے بیٹے ہیں، یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے کہنے کا (جس کا واقع میں کہیں نام و نشان نہیں) یہ بھی ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں (مراد مشرکین عرب جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، مطلب یہ کہ ان کو تو یہ بھی کافر سمجھتے ہیں، پھر انہی کی سی کفریات بکتے ہیں، اور پہلے ہونا اس معنی پر ہے کہ مشرکین کی گمراہی قدیم تھی) خدا ان کو غارت کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں (کہ خدا پر ایسے افتراء باندہتے ہیں یہ تو ان کے اقوال کفریہ تھے)۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ سے پہلی آیت میں مشرکین مکہ سے جہاد و قتال کا ذکر تھا، ان آیات میں اہل کتاب سے جہاد کا بیان ہے، یہ گویا غزوہ تبوک کی تمہید ہے جو اہل کتاب کے مقابلہ میں پیش آیا ہے، تفسیر درمنثور میں مفسر القرآن حضرت مجاہد سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ آیات غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، اور لفظ اہل کتاب اگرچہ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے ہر اس کافر جماعت پر حاوی ہے جو کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتی ہو، لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ لفظ صرف یہود و نصاری کے لئے استعمال ہوا ہے، کیونکہ عرب کے قرب و جوار میں یہی دو فرقے اہل کتاب کے معروف تھے، اسی لئے قرآن کریم نے مشرکین عرب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا(آیت) اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ۔ اور جہاد و قتال کا جو حکم اس آیت میں بمقابلہ اہل کتاب دیا گیا ہے وہ درحقیقت اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام طوائف کفار کا یہی حکم ہے، کیونکہ اس آیت میں حکم قتال کی جو وجوہ آگے بیان کی گئی ہیں وہ سب کفار میں مشترک ہیں، تو حکم بھی مشترک ہونا چاہئے، مگر ذکر میں اہل کتاب کی خصوصیت اس لئے کی گئی کہ یہ ممکن تھا کہ مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں جہاد و قتال کرنے سے اس بناء پر جھجک ہو کہ یہ لوگ کسی درجہ میں ایمان رکھتے ہیں، تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر ان کا ایمان ہے تو ممکن تھا کہ انبیاء سابقین اور ان کی کتابوں کے ساتھ ان کا منسوب ہونا مسلمانوں کے لئے جہاد سے رکاوٹ کا سبب بن جائے، اس لئے بالتخصیص ان کے ساتھ قتال کا ذکر کردیا گیا۔ دوسرے اس جگہ ذکر میں اہل کتاب کے ساتھ تخصیص کرنے سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ ایک حیثیت سے یہ لوگ زیادہ سزا کے مستحق ہیں، کیونکہ یہ اہل علم تھے، ان کے پاس توریت و انجیل کا علم تھا جن میں خاتم النبیین ﷺ کا ذکر مبارک اور حلیہ تک تفصیل سے مذکور ہے، اس علم کے باوجود ان کا کفر و انکار اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں تو ایک حیثیت سے ان کا جرم زیادہ شدید ہوگیا، اس لئے خصوصی طور پر ان سے جنگ کا ذکر کیا گیا۔ جنگ کے حکم کی چار وجوہ اس آیت میں بتلائی گئی ہیں، اول لَا يُؤ ْمِنُوْنَ باللّٰهِ ، یعنی وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، دوسرے وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ، یعنی آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، تیسرے لَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ یعنی ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ نے حرام بتلایا ہے، چوتھے لَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ یعنی سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب یہود و نصارٰی تو بظاہر خدا تعالیٰ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور آخرت و قیامت کے بھی قائل ہیں، پھر ان چیزوں پر ان کے ایمان کی نفی کیوں کی گئی وجہ یہ ہے کہ محض ایمان لانے کے الفاظ تو کافی نہیں، جس طرح کا ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مطلوب ہے، جب اس طرح کا ایمان نہ ہوا تو وہ نہ ہونے کے حکم میں ہے، یہود و نصارٰی نے اگرچہ علانیہ طور پر توحید کا انکار نہیں کیا، مگر جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے کہ یہود نے حضرت عزیر ؑ کو نصارٰی نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا کا بیٹا کہہ کر اس کی خدائی میں شریک ٹھہرا دیا، اس لئے ان کو اقرار توحید لغو اور ایمان کا دعوی غلط ہوگیا۔ اسی طرح آخرت پر جس طرح کا ایمان مطلوب ہے وہ بھی اکثر اہل کتاب میں نہیں رہا تھا، ان میں سے بہت سے لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ قیامت میں حشر اجساد یعنی مادی اجسام کی دوبارہ زندگی نہ ہوگی، بلکہ ایک قسم کی روحانی زندگی ہوگی، اور جنت و دوزخ بھی کوئی خاص مقامات نہیں روح کی خوشی کا نام جنت اور رنج کا نام جہنم ہے، جو ارشادات ربانی کے سراسر خلاف ہے، اس لئے یوم آخر پر بھی ان کا ایمان درحقیقت ایمان نہ ہوا۔ تیسری چیز جو یہ فرمائی کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے یہ ان کو حرام نہیں سمجھتے اس سے مراد یہ ہے کہ بہت سی چیزیں جن کو تورات یا انجیل نے حرام قرار دیا تھا یہ اس کی حرمت کے قائل نہیں، جیسے ربا (سود) اسی طرح اور بہت سی کھانے پینے کی چیزیں جو تورات و انجیل میں حرام قرار دی گئی تھیں انہوں نے ان کو حرام نہ سمجھا، اور ان میں مبتلا ہوگئے۔ اس سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس کو حلال سمجھنا صرف ایک گناہ ہی کا ارتکاب نہیں بلکہ کفر ہے، اسی طرح کسی حلال چیز کو حرام قرار دینا بھی کفر ہے ہاں اگر حرام کو حرام سمجھتے ہوئے عملی کوتاہی غلطی سے ہوجائے تو وہ کفر نہیں فسق اور گناہ ہے آیت مذکورہ میں ان لوگوں سے جہاد و قتال کرتے رہنے کی ایک حد اور انتھاء بھی بتلائی ہے (آیت) حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ ، یعنی یہ حکم قتال اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ ماتحت ہو کر اور رعیت بن کر جزیہ دینا منظور نہ کرلیں۔ جزیہ کے لفظی معنی بدلے اور جزاء کے ہیں، اصطلاح شرع میں اس سے مراد وہ رقم ہے جو کفار سے قتل کے بدلہ میں لی جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کفر و شرک اللہ اور رسول کی بغاوت ہے جس کی اصلی سزا قتل ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے ان کی سزا میں یہ تحفیف کردی کہ اگر وہ اسلامی حکو مت کی رعیت بن کر عام اسلامی قانون کے ماتحت رہنا منظور کریں تو ان سے ایک معمولی رقم جزیہ کی لے کر چھوڑ دیا جائے، اس اسلامی ملک کا باشندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی جان و مال، آبرو کی حفا ظت اسلامی حکومت کے ذمہ ہوگی، ان کی مذہبی رسوم میں کوئی مزاحمت نہ کی جائے، اسی رقم کو جزیہ کہا جاتا ہے۔ جزیہ کا تعین اگر باہمی مصالحت اور رضا مندی سے ہو تو شرعاً اس کی کوئی تحدید نہیں، جتنی مقدار اور جس چیز پر باہمی معاہدہ صلح کا ہوجائے وہی ان سے لیا جائے گا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمایا کہ ان کی پوری جماعت سے سالانہ دو ہزار حلے دینے پر معاہدہ ہوگیا، حُلہ دو کپڑوں کے جوڑے کو کہتے ہیں، ایک تہنبد ایک چادر، ہر حلہ کی قیمت کا اندازہ بھی یہ طے کردیا گیا کہ ایک اوقیہ چاندی کی قیمت کا ہوگا، اوقیہ چا لیس 40 درہم یعنی ہمارے وزن کے اعتبار سے تقریباً ساڑھے گیارہ تولہ چاندی ہوتی ہے۔ اسی طرح نصارٰی بنی تغلب سے حضرت فاروق اعظم کا اس پر معاہدہ ہوا کہ ان کا جزیہ اسلامی زکوٰة کے حساب سے وصول کیا جائے مگر زکوٰة سے دو گنا۔ اور اگر مسلمانوں نے کسی ملک کو جنگ کے ذریعہ فتح کیا، پھر وہاں کے باشندوں کی جائیدادوں کو انہی کی ملکیت پر برقرار رکھا، اور وہ رعیت بن کر رہنے پر رضا مند ہوگئے، تو ان کے جزیہ کی مقرر شرح یہ ہوگی جو حضرت فاروق اعظم نے اپنے عہد خلافت میں نافذ فرمائی کہ سرمایہ دار متمول سے چار درہم اور متوسط الحال سے اس کا نصف صرف دو درہم اور غریب سے جو تندرست اور محنت مزدوری یا صنعت و تجارت وغیرہ کے ذریعہ کماتا ہے اس سے اس کا بھی آدھا صرف ایک درہم ماہوار یعنی ساڑھے تین ماشہ چاندی یا اس کی قیمت لی جائے، اور ان کے تارک الدنیا مذہبی پیشواؤں سے کچھ نہ لیا جائے۔ اتنی قلیل مقدار کے لینے کے لئے بھی رسول اللہ ﷺ کی ہدایات یہ تھیں کہ کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بار نہ ڈالا جائے، اور جو شخص کسی غیر مسلم باشندہ پر ظلم کرے گا تو میں قیامت کے روز ظالم کے مقابلہ میں اس غیر مسلم کی حمایت کروں گا (مظہری) اسی طرح کی روایات سے بعض ائمہ فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ دراصل جزیہ کی کوئی خاص شرح شرعاً مقرر نہیں ہے بلکہ حاکم وقت کی صوابدید پر ہے کہ ان لوگوں کے حالات کا جائزہ لے کر اس کے مناسب تجویز کریں۔ اس بیان سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ جزیہ کفار سے سزائے قتل رفع کرنے کا معاوضہ ہے اسلام کا بدلہ نہیں، اس لئے یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ تھوڑے سے دام لے کر اسلام سے اعراض اور کفر پر قائم رہنے کی اجازت کیسے دے دیگئی، اور اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے اسلامی حکومت میں رہنے کی اجازت بہت سے ان لوگوں کو بھی ملتی ہے جن سے جزیہ نہیں لیا جاتا، مثلاً عورتیں، بچے، بوڑھے، مذہبی پیشوا، اپاہج معذور، اگر جزیہ اسلام کا بدلہ ہوتا تو ان سے بھی لیا جانا چا ہئے تھا۔ آیت مذکورہ میں عطاء جزیہ کے ساتھ جو عَنْ يَّدٍ فرمایا ہے اس میں حرف عَنْ بمعنی سبب اور يَّدٍ بمعنی قوت و غبلہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ یہ جزیہ کا دینا بطور اختیاری چندہ یا خیرات کے نہ ہو، بلکہ اسلامی غلبہ کو تسلیم کرنے اور اس کے ماتحت رہنے کی حیثیت سے ہو (کذا فی الروح) اور وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ کے معنی امام شافعی ؒ کی تفسیر کے مطابق یہ ہیں کہ وہ لوگ اسلام کے عام (جنرل) قانون کی اطاعت کو اپنے ذمہ لازم قرار دیں (روح المعانی و مظہری) اور اس آیت میں جو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ جب یہ لوگ جزیہ ادا کرنا منظور کرلیں تو جنگ بند کردی جائے، اس میں جمہور فقہاء کے نزدیک تمام کفار شامل ہیں، خواہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب البتہ مشرکین عرب اس سے مستثنیٰ ہیں کہ ان سے جزیہ قبول نہیں کیا گیا۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود نے کہا کہ عزیر ؑ اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری نے کہا کہ مسیح ؑ اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔

دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تفصیل ہے، جس کا ذکر پہلی آیت میں اجمالا آیا ہے کہ یہ اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، اس دوسری آیت میں فرمایا کہ یہود تو عزیر ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور نصارٰی حضرت عیسیٰ ؑ کو، اس لئے ان کا دعوٰی توحید اور ایمان کا غلط ہوا۔ پھر فرمایا (آیت) ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ، یعنی یہ ان کا قول ہے ان کے منہ سے، اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ صاف طور پر اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کرتے ہیں کوئی مخفی چیز نہیں، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ کلمہ کفر صرف ان کی زبانوں پر ہے نہ اس کی کوئی وجہ بتاسکتے ہیں نہ دلیل۔ پھر ارشاد فرمایا (آیت) يُضَاهِــــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤ ْفَكُوْنَ یعنی یہ ان لوگوں کی سی باتیں کرنے لگے جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں، خدا ان کو غارت کرے یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ انبیاء کو خدا کا بیٹا کہنے میں ایسے ہی ہوگئے جیسے پچھلے کفار و مشرکین تھے کہ فرشتوں کو اور لات و منات کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ٹھہرا لیا انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی اور ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے،

خلاصہ تفسیر (آگے افعال کفریہ کا بیان ہے کہ) انہوں نے (یعنی یہود و نصاری نے) خدا (کی توحید فی الطاعۃ) کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو (باعتبار اطاعت کے) رب بنا رکھا ہے (کہ ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل اطاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے پس اس حساب سے وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور مسیح بن مریم ؑ کو بھی (ایک اعتبار سے رب بنا رکھا ہے کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں کہ الوہیت اس کے لوازم سے ہے) حالانکہ ان کو (کتب الہیہ میں) صرف یہ حکم کیا گیا ہے کہ فقط ایک معبود (برحق) کی عبادت کریں جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ان کے شرک سے پاک ہے (اور یہ تو بیان تھا اتباع باطل کا آگے بیان ہے اس کا کہ وہ دین حق کو رد کرتے ہیں کہ یہ بھی کفر ہے یعنی) وہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے (پھونک مار مار کر) بجھا دیں (یعنی منہ سے رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو) حالانکہ اللہ تعالیٰ بدون اس کے کہ اپنے نور (مذکور) کو کمال تک پہنچا دے مانے گا نہیں، گو کافر لوگ (جن میں یہ بھی آگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے کہ (اسی اتمام نور کے لئے) اس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر (دنیا میں) بھیجا ہے تاکہ اس (دین) کو (کہ وہی نور مذکور ہے) تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کردے (کہ یہی اتمام ہے) گو مشرک (جن میں یہ بھی داخل ہوگئے) کیسے ہی ناخوش ہوں، اے ایمان والو ! اکثر احبارو رہبان (یعنی یہود و نصارٰی کے علماء و مشائخ عوام) لوگوں کے مال نامشروع طریقہ سے کھاتے۔ (اڑاتے) ہیں (یعنی احکام حقہ کو پوشیدہ رکھ کر موافق مرضی عوام کے فتوے دے کر ان سے نذرانے لیتے ہیں) اور (اس کی وجہ سے وہ) اللہ کی راہ (یعنی دین اسلام) سے (لوگوں کو) باز رکھتے ہیں (کیونکہ ان کے جھوٹے فتو وں کے دھوکہ میں آکر گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں اور حق کو قبول بلکہ طلب بھی نہیں کرتے) اور (غایت حرص سے مال بھی جمع کرتے ہیں جسکی نسبت یہ وعید ہے کہ) جو لوگ سونا چاندی جمع کر کر رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے (یعنی زکوٰة نہیں نکالتے) سو آپ ان کو ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنا دیجئے، جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں (اول) تپایا جائے گا، پھر ان سے لوگوں کی پیشانیوں اور ان کی کروٹوں اور ان کی پشتوں کو داغ دیا جائے گا، (اور یہ جتلایا جا ئیگا کہ) یہ وہ ہے جسکو تم نے اپنے واسطے جمع کر کر کے رکھا تھا، سو اب اپنے جمع کرنے کا مزہ چکھو“۔ معارف و مسائل ان چاروں آیتوں میں یہود و نصارٰی کے علماء اور عباد و زہاد کی گمراہی اور ان کے کفریات قولی و عملی کا ذکر ہے احبار حبر کی جمع ہے اور رہبان راہب کی جمع ہے، حبر یہود و نصارٰی کے عام کو اور راہب عابد و زاہد کو کہا جاتا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء اور عبادت گذاروں کو اللہ کے سوا اپنا رب اور معبود بنا رکھا ہے، اسی طرح عیسیٰ بن مریم ؑ کو اپنا رب بنا لیا ہے، حضرت عیسیٰ السلام کو رب و معبود بنانا تو اس لئے ظاہر ہے کہ وہ ان کو خدا تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں اور کہتے تھے، اور علماء و عباد کو معبود بنانے کا جو الزام ان پر عائد کیا گیا ہے اگرچہ وہ صراحتہ ان کو اپنا رب نہ کہتے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اطاعت مطلقہ جو خالص اللہ جل شانہ کا حق ہے اس حق کو ان کے حوالے کردیا تھا، کہ حال میں ان کے کہنے کی پیروی کرتے تھے، اگرچہ انکا قول اللہ اور رسول کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، تو یہ ظاہر ہے کہ کسی کی ایسی اطاعت کرنا کہ اللہ و رسول کے فرمان کے خلاف بھی کہے تو اس کی اطاعت نہ چھوڑے یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو اپنا رب اور معبود کہے، جو کھلا ہوا کفر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسائل دین سے ناواقف عوام کے لئے علماء کے فتوی کا اتباع درحقیقت خدا و رسول ہی کے احکام کا اتباع ہوتا ہے، اہل علم و نظر براہ راست اللہ و رسول کے کلام کو دیکھ کر اس پر عمل کرتے ہیں، اور ناواقف عوام اہل علم سے پوچھ کر انہی احکام پر عمل کرتے ہیں، اور اہل علم جو درجہ اجہتاد کا نہیں رکھتے وہ بھی اجتہادی مسائل میں ائمہ مجتہدین کا اتباع کرتے ہیں، یہ اتباع خود قرآن کریم کے حکم کے مطابق ہے اور حق تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے جیسا کہ ارشاد ہے(آیت) فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، یعنی اگر تم خود احکام خدا و رسول سے واقف نہیں تو اہل علم سے پوچھ کر عمل کیا کرو“۔ یہود و نصارٰی کے عوام نے کتاب اللہ اور احکام خدا و رسول کو بالکل نظر انداز کرکے خود غرض پیشہ ور علماء یا جاہل عبادت گذاروں کے قول و عمل ہی کو اپنا دین بنا لیا تھا، اس کی مذمت اس آیت میں فرمائی گئی ہے۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ بجھا دیں روشنی اللہ کی اپنے منہ سے اور اللہ نہ رہے گا بدون پورا کئے اپنی روشنی کے اور پڑے برا مانیں کافر،

اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں نے یہ گمراہی اختیار کرلی حالانکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جو ان تمام چیزوں کے شرک سے پاک ہے جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس آیت میں تو ان کے اتباع باطل اور غیر اللہ کی ناجائز اطاعت کا ذکر تھا، اس کے بعد کی آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر ہے کہ یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ خود گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، بلکہ ہدایت اور دین حق کے مٹانے اور رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی مضمون کو بطور مثال کے اس طرح فرمایا ہے کہ یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے بس کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ یہ طے کرچکے ہیں کہ وہ اپنے نور یعنی دین اسلام کو مکمل اور پورا ہی کریں گے خواہ کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں۔