Ayahs 9:15–16چوتھی چیز یہ ارشاد فرمائی (آیت) وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ، یعنی ان میں سے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا اس کی توبہ قبول فرمالیں گے“۔
جس سے معلوم ہوا کہ اس جہاد کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ دشمن کی جماعت میں سے بہت سے لوگوں کو اسلام کی توفیق ہوجائے گی، وہ مسلمان ہوجائیں گے، چناچہ فتح مکہ میں بہت سے سرکش ذلیل و خوار ہوئے اور بہت سے لوگ مشرف باسلام ہوگئے۔
ان آیات میں جن حالات و واقعات کی خبر بطور پشیگوئی دی گئی ہے تاریخ شاہد ہے کہ وہ سب ایک ایک کرکے اسی طرح مشاہدہ میں آئے جس طرح قرآن حکیم نے خبر دی تھی، اس لئے یہ آیات بہت سے معجزات پر مشتمل ہیں۔
Ayah 9:17خلاصہ تفسیر
مشرکین کی یہ لیاقت ہی نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو (جن میں مسجد حرام بھی آگئی) آباد کریں جس حالت میں وہ خود اپنے کفر (کی باتوں) کا اقرار کر رہے ہیں) (چنانچہ وہ خود اپنا مشرب بتلانے کے وقت ایسے عقائد کا اقرار کرتے تھے جو واقع میں کفر ہیں، مطلب یہ کہ عمارت مساجد گو عمل محمود ہے لیکن باوجود شرک کے کہ اس کے منافی ہے اس عمل کی اہلیت ہی مفقود ہے اور اس لئے وہ محض غیر معتدبہ ہے، پھر فخر کی کیا گنجائش ہے) ان لوگوں کے (جو مشرک ہیں) سب اعمال (نیک مثل عمارت مسجد وغیرہ) اکارت (اور ضائع) ہیں (بوجہ اس کے کہ ان کی قبولیت کی شرط نہیں پائی جاتی اور ضائع عمل پر فخر ہی کیا) اور دوزخ میں وہ لوگ ہمیشہ رہیں گے (کیونکہ وہ عمل جو کہ اسباب نجات سے ہے وہ تو ضائع ہی ہوگیا تھا) ہاں اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا ان لوگوں کا کام ہے (یعنی علی وجہ الکمال ان سے مقبول ہوتا ہے) جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر (دل سے) ایمان لائیں (اور جوارح سے اس کا اظہار بھی کریں مثلاً اس طرح کہ) نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور (اللہ پر ایسا توکل رکھتے ہوں کہ) بجز اللہ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کی نسبت توقع (یعنی وعدہ) ہے کہ اپنے مقصود (یعنی جنت و نجات) تک پہنچ جائیں گے (کیونکہ ان کے اعمال بوجہ ایمان کے مقبول ہوں گے، اس لئے آخرت میں نفع ہوگا اور مشرکین اس شرط سے محروم ہیں، اور عمل بےثمر پر فخر لاحاصل)۔
معارف و مسائل
پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کی کج روی، عہد شکنی اور اپنے دین باطل کے لئے ہر طرح کی کوشش کا اور اس کے مقابلہ پر مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب کا بیان آیا تھا، آیات مذکورہ میں مسلمانوں کو جہاد کی تاکید کے ساتھ یہ بتلایا گیا ہے کہ جنگ و جہاد ہی وہ چیز ہے جس میں مسلمان کا امتحان ہوتا ہے مخلص مسلمان اور منافق یا ضعیف الایمان کا امتیاز ہوتا ہے، اور یہ امتحان ضروری ہے۔
سولہویں آیت میں ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم صرف کلمہ اسلام زبان سے کہہ لینے اور اسلام کا دعوٰی کرلینے پر آزاد چھوڑ دیئے جاؤ گے، جب تک اللہ تعالیٰ ظاہری طور پر بھی ان سچے اور پکے مسلمانوں کو نہ دیکھ لیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں، اور جو اللہ و رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا رازدار دوست نہیں بناتے۔
اسی آیت میں ان عام لوگوں کو خطاب ہے جو مسلمان سمجھے جاتے تھے، اگرچہ ان میں سے بعض منافق بھی تھے اور بعض ضعیف الایمان اور مذبذب تھے، ایسے ہی لوگوں کا یہ حال تھا کہ اپنے غیر مسلم دوستوں کو مسلمانوں کے راز اور اسرار پر مطلع کردیا کرتے تھے، اس لئے اس آیت میں مخلص مسلمان کی دو علامتیں بتلادی گئیں۔
مخلص مسلمان کی دو 2 علامتیں
اول یہ کہ اللہ کے واسطے کفار سے جہاد کریں، دوسرے یہ کہ کسی غیر مسلم کو اپنا رازدار، دوست نہ بنائیں آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ یعنی تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہیں، ان کے آگے کسی کا حیلہ و تاویل نہیں چل سکتی۔
یہی مضمون قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے(آیت) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ ، یعنی کیا لوگوں نے یوں سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف زبانی اپنے آپ کو مومن کہنے پر آزاد چھوڑ دیئے جائیں گے، او ان کا کوئی امتحان نہ لیا جائے گا“۔
کسی غیر مسلم کو ہمراز دوست بنانا درست نہیں
آیت مذکورہ میں جو لفظ وَلِيْجَةً آیا ہے اس کے معنی دخیل اور بھیدی کے ہیں، اور ایک دوسری آیت میں اسی معنی کے لئے لفظ بطانہ استعمال کیا گیا ہے بطانہ کے اصل معنی اس کپڑے کے ہیں جو دوسرے کپڑوں کے نیچے بطن اور بدن کے ساتھ متصل ہو، مراد اس سے ایسا آدمی ہے جو اندر کے رازوں سے واقف ہو، اس آیت کے الفاظ یہ ہیں
(آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا، اے ایمان والو ! اپنے مسلمانوں کے سوا کسی کو ہمراز اور بھیدی دوست نہ بناؤ وہ تمہیں دھوکہ دے کر برباد کرنے میں کوئی کسر نہ رکھیں گے“
اس کے بعد سترہویں اور اٹھارہویں آیتوں میں مسجد حرام اور دوسری مساجد کو عبادات باطلہ سے پاک کرنے اور صحیح و مقبول طریقہ پر عبادت کرنے کی ہدایات ہیں اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول کریم ﷺ نے بیت اللہ اور مسجد حرام سے ان تمام بتوں کو نکال ڈالا جن کی مشرکین عبادت کیا کرتے تھے، اس طرح حسی طور پر تو مسجد حرام بتوں سے پاک ہوگئی، لیکن رسول کریم ﷺ نے اپنے قدیم دشمنوں پر غالب آنے کے بعد سب کو معافی اور امان دے دیا تھا، اور وہ مشرکین اب بھی بیت اللہ اور حرم محترم میں عبادت و طواف وغیرہ اپنے باطل طریقوں پر کیا کرتے تھے۔
اب ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح مسجد حرام کو بتوں سے پاک کردیا گیا اسی طرح بت پرستی اور اس کے تمام باطل طریقوں سے بھی اس مقدس زمین کو پاک کیا جائے، اور اس سے پاک کرنے کی ظاہری صورت یہی تھی کہ مشرکین کا داخل مسجد حرام میں ممنوع قرار دے دیا جائے لیکن یہ اس دیئے ہوئے امان کے خلاف ہوتا اور معاہدہ کی پابندی اسلام میں ان سب چیزوں سے مقدم اور اہم تھی، اس لئے فوری طور پر ایسے احکام نہیں دیئے گئے بلکہ فتح مکہ سے اگلے ہی سال میں رسول کریم ﷺ نے حضرت صدیق اکبر اور علی مرتضیٰ کے ذریعہ منٰی اور عرفات کے عام اجتماع میں یہ اعلان کردیا کہ آئندہ کوئی مشرکانہ طرز کی عبادت اور حج و طواف وغیرہ حرم میں نہ ہوسکے گی اور جاہلیت میں جو ننگے ہو کر طواف کرنے کی رسم بد چل پڑی تھی آئندہ اس حرکت کی اجازت نہ دی جائے گی، چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے منٰی کے اجتماع عام میں اس کا اعلان کردیا کہ۔
لا یحجن بعد العام مشرک ولا یطوفن بالبیت عریان ”یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور کوئی ننگا آدمی بیت اللہ کا طواف نہ کرسکے گا“
اور یہ سال بھر کی مہلت اس لئے دے دیگئی کہ ان میں بہت سے وہ لوگ بھی تھے جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ تھا اور وہ ابھی تک معاہدہ پر قائم تھے، میعاد معاہدہ پورا ہونے سے پہلے ان کو کسی نئے قانون کا پابند کرنا اسلامی رواداری کے خلاف تھا، اس لئے ایک سال پہلے سے یہ اعلان جاری کردیا گیا کہ حرم محترم کو مشرکانہ عبادات اور رسوم سے پاک کرنا طے کردیا گیا ہے کیونکہ اس قسم کی عبادت درحقیقت عبادت اور مسجد کی آبادی نہیں بلکہ ویرانی ہے۔
یہ مشرکین مکہ اپنی مشرکانہ رسوم کو عبادت اور مسجد حرام کی عمارت و آبا دی کا نام دیتے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ اور مسجد حرام کے متولی اور اس کی عمارت کے ذمہ دار ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت عباس جب اسلام لانے سے پہلے غزوہ بدر میں گرفتار ہوئے اور مسلمانوں نے ان کو کفر و شرک پر قائم رہنے سے عار دلائی تو انہوں نے جواب دیا کہ تم لوگ صرف ہماری برائیاں یاد رکھتے ہو اور بھلائیوں کا کوئی ذکر نہیں کرتے، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم بیت اللہ اور مسجد حرام کو آباد رکھنے اور اس کا انتظام کرنے اور حجاج کو پانی پلانے وغیرہ کی خدمات کے متولی بھی ہیں، اس پر قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں، (آیت) مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِیعنی مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کی تعمیر کریں، کیونکہ مسجد صرف وہی جگہ ہے جو ایک اللہ وحدہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہے شرک و کفر اس کی ضد ہے، وہ عمارت مسجد کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔
عمارت مسجد کا لفظ جو اس آیت میں آیا ہے کہ معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، ایک ظاہری در و دیوار کی تعمیر، دوسرے مسجد کی حفاظت اور صفائی اور ضروریات کا انتظام، تیسری عبادت کے لئے مسجد میں حاضر ہونا، عمرہ کو عمرہ اسی مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ اس میں بیت اللہ کی زیارت اور عبادت کے لئے حاضری ہوتی ہے۔
مشرکین مکہ تینوں معنی کے اعتبار سے اپنے آپ کو معمار بیت اللہ اور عمارت مسجد حرام کا ذمہ دار سمجھتے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ مشرکین کو اللہ کی مساجد کی عمارت کا کوئی حق نہیں جبکہ وہ خود اپنے کفر و شرک کے گواہ ہیں، ان لوگوں کے اعمال حبط اور ضائع ہوگئے اور وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔
خود اپنے کفر و شرک کی گواہی کا مطلب یا تو یہ ہے کہ اپنے مشرکانہ افعال و اعمال کے سبب گویا خود اپنے کفر و شرک کی گواہی دے رہے ہیں، اور یا یہ کہ عادة جب کسی نصرانی یا یہودی سے پوچھا جائے کہ تم کون ہو ؟ تو وہ اپنے آپ کو نصرانی یا یہودی کہتا ہے، اسی طرح مجوس اور بت پرست اپنے کافرانہ ناموں ہی سے اپنا تعارف کراتے ہیں، یہی ان کے کفر و شرک کا اعتراف اور شہادت ہے (ابن کثیر)
Ayah 9:18اس آیت میں عمارت مسجد کا منفی پہلو بیان کیا گیا تھا کہ مشرکین اس کے اہل نہیں ہیں۔
دوسری آیت میں عمارت مسجد کا مثبت پہلو اس طرح ارشاد فرمایا(آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ ، یعنی مسجدوں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاویں اور نماز کی پابندی کریں اور زکوٰة دیں اور بجز اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہ ڈریں سو ایسے لوگوں کے متعلق توقع ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے“۔
مطلب یہ ہے کہ مساجد کی اصلی عمارت صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے احکام الہٰی کے پابند ہوں، اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز زکوٰة کے پابند ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، اس جگہ صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا رسول پر ایمان کے ذکر کرنے کی اس لئے ضرورت نہ سمجھی گئی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی کوئی صورت بجز اس کے ہو ہی نہیں سکتی کہ رسول پر ایمان لائے، اور اس کے ذریعہ جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں ان کو دل سے قبول کرے، اس لئے ایمان بااللہ میں ایمان بالرسول فطری طور پر داخل ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دل سے اس کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، اس حدیث نے بتلایا کہ رسول پر ایمان لانا اللہ پر ایمان لانے میں داخل اور شامل ہے (مظہری بحوالہ صحیحین)۔
اور یہ جو ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے، اس کے معنی یہ ہیں کہ دین کے معاملہ میں کسی کے خوف سے اللہ کے حکم کو ترک نہ کر ے، ورنہ خوف کی چیزوں سے ڈرنا اور دہشت کھانا تو تقاضائے عقل و فطرت ہے، درندے اور زہریلے جا نوروں سے چور ڈاکو سے طبعی طور پر ڈرنا اس کے خلاف نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے جب جادوگروں نے رسیوں کے سانپ بنا کر دکھلائے تو وہ ڈر گئے، (آیت) فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى، اس لئے ایذاء اور نقصان پہونچانے والوں سے طبعی خوف نہ حکم قرآن کے خلاف ہے نہ رسالت اور ولایت کے، ہاں اس خوف سے مغلوب ہو کر کہ اللہ تعالیٰ کے احکام میں خلل ڈالنا یا ان کو ترک کردینا یہ مومن کی شان نہیں، یہی اس جگہ مراد ہے۔
بعض مسائل متعلقہ آیت
اور عمارت مسجد جس کے متعلق ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ مشرک کافر نہیں کرسکتے بلکہ وہ صرف نیک صالح مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے مراد مساجد کی تولیت اور انتظامی ذمہ داری ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی کافر کو کسی اسلامی وقف کا متولی اور منتظم بنانا جائز نہیں، باقی رہا ظاہری در و دیوار وغیرہ کی تعمیر، سو اس میں کسی غیر مسلم سے بھی کام لیا جائے تو مضائقہ نہیں (تفسیر مراغی) اس طرح اگر کوئی غیر مسلم ثواب سمجھ کر مسجد بنا دے یا مسجد بنانے کے لئے مسلمانوں کو چندہ دیدے تو اس کا قبول کرلینا بھی اس شرط سے جائز ہے کہ اس سے کسی دینی یا دنیوی نقصان یا الزام کا یا آئندہ اس پر قبضہ کرلینے کا یا احسان جتلانے کا خطرہ نہ ہو (در المختار، شامی، مراغی)
اور اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ مساجد کی عمارت اور آبادی صرف نیک مسلمان ہی کا کام ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو شخص مساجد کی حفاظت، صفائی اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتا ہے، اور جو عبادت اور ذکر اللہ کے لئے یا علم دین اور قرآن پڑھنے پڑھانے کے لئے مسجد میں آتا جاتا ہے اس کے یہ اعمال اس کے مومن کامل ہونے کی شہادت ہے۔
امام ترمذی اور ابن ماجہ نے بروایت ابو سعید خدری نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کی حاضری کا پابند ہے تو اس کے ایمان کی شہادت دو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ۔
اور صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صج شام مسجد میں حاضر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا ایک درجہ تیار فرما دیتے ہیں۔
اور حضرت سلمان فارسی نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں آیا وہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرنے والا مہمان ہے، اور میزبان پر حق ہے کہ مہمان کا اکرام کرے (مظہری) بحوالہ طبرانی ابن جریر، بیہقی وغیرہ)۔
مفسر القرآن حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے فرمایا کہ عمارت مسجد میں یہ بھی داخل ہے کہ مسجد کو ایسی چیزوں سے پاک کرے جن کے لئے مسجدیں نہیں بنائی گئیں مثلًا خریدو فروخت دنیا کی باتیں کسی گم شدہ چیز کی تلاش یا دنیا کی چیزوں کا لوگوں سے سوال یا فضول قسم کے اشعار جھگڑا، لڑائی اور شور و شغب وغیرہ (مظہری)
Ayah 9:19خلاصہ تفسیر
کیا تم لوگوں نے حجاج کے پانی پلانے کو اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص (کے عمل) کی برابر قرار دے لیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو، اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو (وہ عمل ایمان اور جہاد ہے، یعنی یہ عمل برابر نہیں اور جب اعمال برابر نہیں تو) یہ (عامل) لوگ (بھی باہم) برابر نہیں اللہ کے نزدیک (غرض عمل عمل باہم اور عامل عامل باہم برابر نہیں مقصود بقرینہ سیاق یہ ہے کہ ایمان اور جہاد میں سے ہر واحد افضل ہے، سقایہ اور عمارت کے ہر واحد سے یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے، اور اس سے جواب ہوگیا مشرکین کا کہ ان میں ایمان نہ تھا، اور جہاد بھی دونوں سے افضل ہے، اس سے جواب ہوگیا بعض مومنین کا جو کہ بعد ایمان کے سقایہ اور عمارت کو جہاد پر تفضیل دیتے تھے) اور (یہ امر مذکور بہت ہی ظاہر ہے لیکن) جو لوگ بےانصاف ہیں (مراد مشرک ہیں) اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ نہیں دیتا (اس لئے وہ نہیں مانتے بخلاف اہل ایمان کے کہ وہ اس تحقیق کو فوراً مان گئے، آگے اس مضمون کی تصریح ہے جو اوپر لایستون سے مقصود تھا یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور (اللہ کے واسطے) انہوں نے ترک وطن کیا اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کیا وہ درجہ میں اللہ کے نزدیک (بمقابلہ اہل سقایہ و اہل عمارت کے) بہت بڑے ہیں (کیونکہ اگر اہل سقایہ و اہل عمارت میں ایمان نہ ہو تب تو یہ بڑائی انہی مومنین مہاجرین مجاہدین میں منحصر ہے اور اگر ان میں ایمان ہو تو گو وہ بھی بڑے ہیں مگر یہ زیادہ بڑے ہیں) اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں (کیونکہ اگر ان کے مقابلین میں ایمان نہ ہو تب تو کامیابی کا حصر انہی میں ہے، اور اگر ایمان ہو تو کامیابی مشترک ہے لیکن ان کی کامیابی ان سے اعلی ہے، آگے اس درجہ اور فوز کا بیان ہے کہ) ان کا رب ان کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے بڑی رحمت اور بڑی رضامندی اور (جنت کے) ایسے باغوں کی ان کے لئے کہ ان (باغوں) میں دائمی نعمت ہوگی (اور) ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے بلاشبہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے، (اس میں سے ان کو دیا جائے گا) اے ایمان والو اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو (اپنا) رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے (ایسا) عزیز رکھیں (کہ ان کے ایمان لانے کی امید نہ رہے) اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں (مطلب یہ کہ بڑا مانع ہجرت سے ان لوگوں کا تعلق ہے اور خود وہی جائز نہیں پھر ہجرت میں کیا دشواری ہے)۔
معارف و مسائل
شروع کی چار آیتیں 19 سے 22 تک ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں وہ یہ کہ بہت سے مشرکین مکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم مسجد حرام کی آبادی اور حجاج کو پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر کسی کا کوئی عمل نہیں ہوسکتا، اسلام لانے سے پہلے جب حضرت عباس غزوہ بدر میں گرفتار ہو کر مسلمانوں کی قید میں آئے اور ان کے مسلم عزیزوں نے ان کو اس پر ملامت کی کہ آپ نعمت ایمان سے محروم ہیں تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا کہ آپ لوگ ایمان و ہجرت کو اپنا بڑا سرمایہ فضیلت سمجھتے ہیں مگر ہم بھی تو مسجد حرام کی عمارت اور حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمات کے متولی ہیں جن کی برابر کسی کا عمل نہیں ہو سکتا، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (ابن کثیر بروایت علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس)
اور مسند عبدالرزاق کی بعض روایات میں ہے کہ حضرت عباس کے مسلمان ہوجانے کے بعد طلحہ بن شیبہ اور حضرت عباس اور علی کرم اللہ وجہہ کے آپس میں گفتگو ہو رہی تھی، طلحہ نے کہا کہ مجھے وہ فضیلت حاصل ہے جو تم میں سے کسی کو حاصل نہیں کہ بیت اللہ کی چابی میرے ہاتھ میں ہے میں اگر چاہوں تو بیت اللہ کے اند جاکر رات گذار سکتا ہوں، حضرت عباس نے فرمایا کہ میں حجاج کو پانی پلانے کا متولی اور منتظم ہوں اور مسجد حرام میں میرے اختیارات ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ حضرات کس چیز پر فخر کر رہے ہیں، میرا حال تو یہ ہے کہ میں نے سب لوگوں سے چھ مہینہ پہلے بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک رہا ہوں، اور اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں واضح کردیا گیا کہ کوئی عمل کتنا ہی اعلیٰ و افضل ہو ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں اور نہ حالت شرک میں ایسے اعمال کا کرنے والا اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔
اور صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے یہ واقعہ منقول ہے کہ وہ ایک روز جمعہ کے دن مسجد نبوی میں چند حضرات صحابہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے منبر کے پاس جمع تھے، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ اسلام و ایمان کے بعد میرے نزدیک حجاج کو پانی پلانے سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں، اور مجھے اس کے مقابلہ میں کسی دوسرے عمل کی پروا نہیں، ایک دوسرے صاحب نے ان کے جواب میں کہا کہ نہیں اللہ کی راہ میں جہاد سب سے بڑا عمل ہے، ان دونوں میں بحث ہونے لگی تو حضرت فاروق اعظم نے دونوں کو ڈانٹ کر کہا کہ منبر نبوی کے پاس شور و شغب نہ کرو، مناسب بات یہ ہے کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد یہ بات خود رسول کریم ﷺ سے دریافت کرلو، اس تجویز کے مطابق آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں جہاد کو عمارت مسجد حرام اور سقایہ حجاج سے افضل عمل بتلایا گیا۔
اور اس میں کوئی بعد نہیں کہ اصل آیات کا نزول تو مشرکین کے فخر وتکبر کے جواب میں ہوا ہو، پھر اس کے بعد جو واقعات مسلمانوں کے باہم پیش آئے ان میں بھی انہی آیات کو استدلال کے لئے پیش کیا گیا ہو جس سے سننے والوں کو یہ محسوس ہوا کہ یہ آیات اس واقعہ میں نازل ہوئیں۔
بہرحال آیات مذکورہ میں دونوں قسم کے واقعات کا یہ جواب ہے کہ شرک کے ساتھ تو کوئی عمل کتنا ہی بڑا ہو مقبول اور قابل ذکر ہی نہیں، اس لئے کسی مشرک کو عمارت مسجد یا سقایہ حجاج کی وجہ سے کوئی فضیلت و بزرگی مسلمانوں کے مقابلہ میں حاصل نہیں ہوسکتی اور ایمان کے بعد بھی ایمان و جہاد کا درجہ بہ نسبت عمارت مسجد حرام اور سقایة الحجاج کے بہت زیادہ ہے جو مسلمان ایمان و جہاد میں مقدم رہے وہ ان مسلمانوں سے افضل ہیں جنہوں نے جہاد میں شرکت نہیں کی، صرف مسجد حرام کی تعمیر اور حجاج کے پانی پلانے کی خدمت انجام دیتے رہے۔
اس تمہید کے بعد آیات مذکورہ کے الفاظ اور ترجمہ پر پھر ایک نظر ڈالئے، ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے حجاج کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دیا جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یہ لوگ برابر نہیں اللہ کے نزدیک۔
بقرینہ سیاق مقصود یہ ہے کہ ایمان اور جہاد میں سے ہر ایک افضل ہے، سقایة الحجاج اور عمارت مسجد سے یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے اور جہاد بھی، ایمان کے افضل ہونے سے مشرکین کی بات کا جواب ہوگیا اور جہاد کے افضل ہونے سے ان مسلمانوں کی بات کا جواب ہوگیا جو عمارت مسجد اور سقایة حجاج کو جہاد سے افضل کہتے تھے۔
ذکر اللہ جہاد سے افضل ہے
تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ ؒ نے فرمایا کہ اس آیت میں جو عمارت مسجد پر جہاد کو فضیلت اور ترجیح دی گئی ہے یہ عمارت کے ظاہری معنی کی رو سے ہے یعنی مسجد کی تعمیر اور ضروری انتظامات کہ جہاد کا ان کے مقابلہ میں افضل ہونا مسلم ہے۔
لیکن عمارت مسجد کے ایک دوسرے معنی عبادت اور ذکر اللہ کے لئے مسجد میں حاضری کے بھی آتے ہیں اور درحقیقت مسجد کی اصلی عمارت وآبادی اسی سے ہے، اس معنی کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کے صریح ارشادات کی بناء پر عمارت مسجد جہاد سے افضل و اعلی ہے جیسا کہ مسند احمد اور ترمذی، ابن ماجہ میں حضرت ابوالدرداء کی روایت سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایسا عمل بتلاؤں جو تمہارے تمام اعمال سے بہتر اور تمہارے مالک کے نزدیک سب سے زیادہ افضل ہو اور تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا اور سونے چاندی کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی افضل ہو اور اس سے بھی افضل ہو کہ تم جہاد میں دشمن سے سخت مقابلہ کرو جس میں تم ان کو قتل کرو وہ تمہیں قتل کریں، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ عمل ضرور بتلایئے، آپ نے فرمایا کہ وہ عمل ذکر اللہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اللہ کی فضیلت جہاد سے بھی زیادہ ہے اور عمارت مسجد جب بمعنی ذکر اللہ لی جائے تو وہ بھی جہاد سے افضل ہے، مگر اس جگہ مشرکین کا فخر و غرور ظاہر ہے کہ ذکر اللہ اور عبادت کی بناء پر نہ تھا بلکہ ظاہری تعمیر اور انتظامات کی بناء پر تھا اس لئے جہاد کو اس سے افضل قرار دیا گیا۔
اور قرآن و سنت کے مجموعی ارشادات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عمل کا دوسرے عمل سے افضل و اعلی ہونا حالات و واقعات کے تابع ہوتا ہے، بعض حالات میں ایک عمل دوسرے سے افضل ہوتا ہے اور حالات بدلنے کے بعد معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے، جس وقت اسلام اور مسلمانوں سے دفاع کی ضرورت شدید ہو اس وقت یقیناً جہاد تمام عبادات سے افضل ہوگا جیسا کہ غزوہ خندق میں رسول کریم ﷺ کی چار نمازیں قضا ہوجانے کے واقعہ سے ظاہر ہے اور جس وقت ایسی شدید ضرورت نہ ہو تو ذکر اللہ اور عبادت بمقابلہ جہاد کے افضل ہوگا۔
آخر آیت میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، فرما کر یہ بتلا دیا کہ یہ کوئی دقیق اور باریک بات نہیں بلکہ بالکل واضح ہے کہ ایمان سارے اعمال کی بنیاد اور ان سب سے افضل ہے، اور یہ کہ جہاد بہ نسبت عمارت مسجد اور سقایة الحجاج کے افضل ہے، مگر اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو سمجھ نہیں دیتا، اس لئے وہ ایسی کھلی اور ظاہری باتوں میں بھی کج بحثی کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 9:20بیسویں آیت میں اس مضمون کی تفصیل ہے جو پہلی آیت میں لَا يَسْتَوٗنَ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے یعنی ایمان لانے والے مجاہد اور صرف عمارت مسجد اور سقایہ حجاج کرنے والے اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں، اس میں ارشاد فرمایا(آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ ، یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہ اللہ کے نزدیک درجہ میں بڑے ہیں، اور پورے کامیاب یہی لوگ ہیں“
کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو مشرک ہیں ان کو تو کامیابی کا کوئی درجہ ہی حاصل نہیں اور جو مسلمان ہیں اگرچہ نفس کامیابی میں وہ بھی شریک ہیں مگر ان کی کامیابی ان سے بڑھی ہوئی ہے اس لئے پورے کا میاب یہی لوگ ہیں۔
Ayahs 9:21–22اکیسویں اور بائیسویں آیتوں میں ان کامیاب لوگوں کے اجر عظیم اور درجات آخرت کا بیان ہے (آیت) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ 21 ۙخٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭاِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ، یعنی ان لوگوں کو ان کا پروردگار خوش خبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمشہ قائم رہنے والی نعمیتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے، ان کو یہاں سے کبھی نہ نکالا جائے، بیشک اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے“۔
Ayah 9:23آیات مذکورہ میں ہجرت اور جہاد کے فضائل کا بیان آیا ہے، جن میں وطن اور اعزاء و اقارب اور احباب و اصحاب اور اموال و املاک سب کو چھوڑنا پڑتا ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعت پر یہ کام سب سے زیادہ شاق اور دشوار ہیں، اس لئے اگلی آیت میں ان چیزوں کے ساتھ حد سے زیادہ تعلق اور محبت کی مذمت فرما کر مسلمانوں کے ذہنوں کو ہجرت و جہاد کے لئے آمادہ کیا گیا ہے، ارشاد فرمایا (آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ،“ یعنی اے ایمان والو تم اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو رفیق مت بناؤ اگر وہ لوگ کفر کو بمقابلہ ایمان کے عزیز رکھیں اور تم میں سے جو شخص ان کے ساتھ باوجود ان کے کفر کے رفاقت رکھے گا سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں“۔
ماں باپ بھائی بہن اور تمام رشتہ داروں سے تعلق کو مضبوط رکھنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایات سے سارا قرآن بھرا ہوا ہے، مگر اس آیت میں یہ بتلادیا کہ ہر تعلق کی ایک حد ہے، ان میں سے ہر تعلق خواہ ماں باپ اور اولاد کا ہو، یا حقیقی بھائی بہن کا، اللہ اور اس کے رسول کے تعلق کے مقابلہ میں نظر انداز کرنے کے قابل ہے، جس موقع پر یہ دونوں رشتے ٹکرا جائیں، تو پھر رشتہ وتعلق اللہ و رسول کا ہی قائم رکھنا ہے، اس کے مقابلہ میں سارے تعلقات سے قطع نظر کرنا ہے۔
آیات مذکورہ کے متعلق چند فوائد اور مسائل
مذکورہ پانچ آیتوں سے چند فوائد اور مسائل حاصل ہوئے
اول یہ کہ ایمان روح عمل ہے، اس کے بغیر کیسا ہی اچھا عمل ہو وہ صرف صورت بےجان اور ناقابل قبول ہے، نجات آخرت میں اس کی کوئی قیمت نہیں، ہاں اللہ تعالیٰ کے یہاں بےانصافی نہیں کافروں کے ایسے بےروح اعمال حسنہ بھی بالکل ضائع نہیں کئے جاتے، ان کا بدلہ ان کو دنیا ہی میں آرام و عیش اور دولت ور احت دے کر بیباق کردیا جاتا ہے، جس کا بیان قرآن کریم کی متعدد آیات میں آیا ہے۔
دوسرا فائدہ ان آیات سے یہ حاصل ہوا کہ معصیت و نافرمانی سے انسان کی عقل بھی خراب ہوجاتی ہے اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔ انیسویں آیت کے آخر میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے جیسا کہ اس کے بالمقابل ایک آیت میں (آیت) اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا فرما کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ اطاعت وتقوی سے انسان کی عقل کو جلا ہوتی ہے، سلامت فکر نصیب ہوتی ہے، وہ اچھے برے کی تمیز میں غلطی نہیں کرتا۔
تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ نیک اعمال میں بھی باہمی تفاضل ہے اور اسی کی مناسبت سے عمل کرنے والوں کے درجات میں تفاضل قائم ہوتا ہے، سب عمل کرنے والے ایک درجہ میں نہیں رکھے جاسکتے اور مدار کثرت عمل پر نہیں بلکہ حسن عمل پر ہے، سورة ملک میں آیا ہے(آیت) لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کریں گے کہ کون زیادہ اچھا عمل کرنیوالا ہے۔
چوتھا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ راحت و نعمت کے دائمی رہنے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نعمتیں کسی وقت ختم نہ ہوجائیں، دوسرے یہ کہ کسی وقت ان لوگوں کو ان نعمتوں سے جدا نہ کیا جائے، اس لئے اللہ کے مقبول بندوں کے لئے دونوں چیزوں کی ضمانت دے دیگئی نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ فرما کر نعمتوں کا دائمی ہونا بیان فرمایا اور خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا فرما کر ان لوگوں کو کبھی ان نعمتوں سے الگ نہ کرنے کا اطمینان دلا دیا۔
اصل رشتہ اسلام و ایمان کا رشتہ ہے نسبی و وطنی تعلقات سب اس پر قربان کرتے ہیں
پانچواں مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ رشتہ داری اور دوستی کے سارے تعلقات پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا تعلق مقدم ہے، جو تعلق اس سے ٹکرائے وہ توڑنے کے قابل ہے، صحابہ کرام کا وہ عمل جس کی وجہ سے وہ ساری امت سے افضل و اعلی قرار پائے یہی چیز تھی کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ پر اپنی جان و مال اور ہر رشتہ وتعلق کو قربان کرکے زبان حال سے کہا
تو نخل خوش ثمر کیستی کہ سرو و سمن ہمہ زخویش بریدند و با تو پیوستند
بلال حبشی، صہیب رومی، سلمان فارسی اور قریش مکہ انصار مدینہ تو سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور بدر و احد کے میدانوں میں باپ بیٹے، بھائی بھائی کی تلواریں آپس میں ٹکرا کر اس کی شہادت دی کہ ان کا مسلک یہ تھا کہ
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد
اللھم ارزقنا اتباعھم واجعل حبک احب الاشیاء الینا و خشیتک اخوف الاشیاء عندنا۔
Ayah 9:24خلاصہ تفسیر
(آگے اسی مضمون کی زیادہ تفصیل ہے کہ اے محمد ﷺ آپ (ان سے) کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہا ری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن میں (رہنے) کو تم پسند کرتے ہو (اگر یہ چیزیں) تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم (سزائے ترک ہجرت کا) بھیج دیں (جیسا دوسری آیت میں ہے (آیت) ان الذین تو فھم الملئکہ الی قولہ فاولئک ماوھم جھنم) اور اللہ تعالیٰ بےحکمی کرنے والے لوگوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا (یعنی ان کا مقصود تھا ان چیزوں سے تمتع وہ بہت جلد خلاف ان کی توقع کے موت سے منقطع ہوجاتا ہے)۔
معارف و مسائل
سورة توبہ کی یہ آیت دراصل ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ سے ہجرت فرض ہونے کے وقت ہجرت نہیں کی، ماں باپ، بھائی، بہن، اولاد اور بیوی اور مال و جائیداد کی محبت نے ان کو فریضہ ہجرت ادا کرنے سے روک دیا، ان کے بارے میں حق تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو یہ حکم دیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ
" اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیبیاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو تم منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں، اور اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتا "
اس آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منتظر رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیج دیں“۔
امام تفسیر مجاہد نے فرمایا کہ حکم سے مراد جہاد و قتال اور فتح مکہ کا حکم ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس وقت دنیاوی تعلقات پر اللہ و رسول کے تعلقات کے قربان کرنے والوں کا انجام بد عنقریب سامنے آنے والا ہے جبکہ مکہ فتح ہوگا اور نافرمانی کرنے والے ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کے یہ تعلقات اس وقت ان کے کام نہ آئیں گے۔
اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس جگہ حکم سے مراد حکم عذاب ہے کہ دنیوی تعلقات پر اخروی تعلقات کو قربان کرکے ہجرت نہ کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا حکم عذاب عنقریب آنے والا ہے یا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب آئے گا ورنہ آخرت کا عذاب تو یقینی ہے، آیت میں اس جگہ مقصود تو ترک ہجرت پر وعید ہے مگر ذکر بجائے ہجرت کے جہاد کیا گیا، جو ہجرت کے بعد کا اگلا قدم ہے، اس میں اشارہ کردیا گیا کہ ابھی تو صرف ہجرت اور ترک وطن ہی کا حکم ہوا ہے، اس میں کچھ لوگ ہمت ہار بیٹھے، آگے جہاد کا حکم آنے والا ہے، جس میں اللہ اور رسول کی محبت پر ساری محبتوں کو اور خود اپنی جان کو قربان کرنا پڑتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ ہجرت ہی کو جہاد سے تعبیر کردیا ہو کیونکہ وہ بھی حقیقت میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے۔
اور آخر آیت میں (آیت) وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ، فرما کر یہ بھی بتلا دیا کہ جو لوگ حکم ہجرت کے باوجود اپنے دنیوی تعلقات کو ترجیح دے کر اپنے خویش و عزیز اور مال و مکان سے چمٹے رہے، ان کا یہ عمل دنیا میں بھی ان کے لئے مفید نہیں ہوگا، اور ان کا یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا کہ ہمیشہ اپنے اہل و عیال اور مال و مکان میں امن و چین سے بیٹھیں رہیں، بلکہ حکم جہاد شروع ہوتے ہی یہ سب چیزیں ان کے لئے وبال جان بن جائیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نافرمانی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہونچاتے۔
مسائل متعلقہ ہجرت
اولجب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرض کردی گئی تو وہ صرف ایک فرض ہی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی علامت بھی تھی، جو باوجود قدرت کے ہجرت نہ کرے وہ مسلمان نہ سمجھا جاتا تھا، یہ حکم فتح مکہ کے بعد منسوخ ہوگیا، اور اصل حکم یہ باقی رہ گیا کہ جس زمین پر انسان کو اللہ کے احکام نماز روزہ وغیرہ کی تعمیل ممکن نہ ہو اس سے ہجرت کرنا ہمشیہ کے لئے فرض ہے، بشرطیکہ ہجرت پر قدرت ہو۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی ہر ایسی جگہ کو چھوڑ دے جہاں فسق و فجور کا غلبہ ہو یہ ہمیشہ کیلئے مستحب ہے (تفصیل فتح الباری میں ہے)
آیت مذکورہ میں براہ راست تو خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہجرت فرض ہونے کے وقت دنیوی تعلقات کی محبت سے مغلوب ہو کر ہجرت نہیں کی، لیکن الفاظ آیت کا عموم تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اس درجہ ہونا لازم و واجب ہے کہ دوسرا کوئی تعلق اور کوئی محبت اس پر غالب نہ آئے، اور جس نے اس درجے کی محبت پیدا نہ کی وہ مستحق عذاب ہوگیا، اس کو عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہئے۔
سچا ایمان اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ اللہ اور رسول کی محبت ساری دنیا اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ ہو
اسی لئے ایک صحیح حدیث میں جو صحیحین میں بروایت انس منقول ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اور اولاد اور دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
اور ابوداؤد ترمذی میں بروایت ابو امامہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی سے دوستی کی تو اللہ کے لئے کی اور دشمنی کی تو وہ بھی اللہ کے لئے کی اور مال کو خرچ کیا تو وہ بھی اللہ کے لئے، اور کسی جگہ خرچ کرنے سے رکا تو وہ بھی اللہ کے لئے، اس نے اپنا ایمان ممکل کرلیا۔
ان روایات حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس پر موقوف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت سب محبتوں پر غالب ہو، اور انسان کی دوستی دشمنی، دینا یا نہ دینا سب حکم خدا و رسول کے تابع ہو۔
امام تفسیر قاضی بیضاوی وغیرہ نے فرمایا کہ بہت کم لوگ ہیں جو اس آیت کی وعید سے مستثنیٰ ہوں، کیونکہ عام طور پر بڑے سے بڑے عابد و زاہد اور عالم و متقی بھی اہل و عیال اور مال و متاع کی محبت سے مغلوب نظر آتے ہیں، الا ماشاء اللہ، مگر ساتھ ہی قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ محبت سے مراد اس جگہ اختیاری محبت ہے، غیر اختیاری اور طبعی محبت مراد نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت و اختیار سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اس لئے اگر کسی شخص کا دل ان دنیوی تعلقات کی طبعی محبت سے لبریز ہو مگر ان سے اتنا مغلوب نہ ہو کہ اللہ و رسول کے احکام کی خلاف ورزی کی پروا نہ کرے، تو وہ بھی اس وعید سے خارج اور اللہ و رسول کی محبت کو غالب رکھنے والا ہے، جیسے کوئی بیمار دوا کی تلخی یا آپریشن کی تکلیف سے طبعاً گھبراتا ہے، مگر عقلا اس کو اپنی نجات و سلامتی کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کرتا ہے، تو وہ کسی کے نزدیک قابل ملامت نہیں، اور نہ کوئی عقل سلیم اس کو اس پر مجبور کرتی ہے کہ طبعی اور غیر اختیاری گھبراہٹ اور کراہت کو بھی دل سے نکال دے، اسی طرح اگر کسی کو مال و اولاد وغیرہ کی محبت کے سبب بعض احکام الہیہ کی تعمیل میں غیر اختیاری طور پر تکلیف محسوس ہو، مگر اس کے باوجود وہ اس تکلیف کو برداشت کرکے احکام الہیہ یجا لائے تو وہ بھی قابل ملامت نہیں، بلکہ قابل تحسین ہے اور اللہ و رسول کی محبت کو اس آیت کے مطابق غالب رکھنے والا کہلائے گا۔
ہاں اس میں شبہ نہیں کہ محبت کا اعلے مقام یہی ہے کہ محبت طبیعت پر بھی غالب آجائے اور محبوب کے حکم کی تعمیل کی لذت ہر تلخی و تکلیف کو بھی لذیذ بنادے، جیسا دنیا کی فانی لذت و راحت کے طبلگاروں کو رات دن دیکھا جاتا ہے کہ بڑی سے بڑی محبت و مشقت کو ہنس کھیل کر اختیار کرلیتے ہیں، کسی دفتر کی ملازمت میں مہینہ کے ختم پر ملنے والے چند سکوں کی محبت انسان کی نیند، آرام اور سارے تعلقات پر ایسی غالب آجاتی ہے کہ اس کے پیچھے ہزاروں مشقتوں کو بڑی کوششوں، سفارشوں، اور رشوتوں کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔
رنج و راحت شد چو مطلب شد بزرگ گرد گلہ تو تیائے چشم گرگ
اللہ والوں کو یہ مقام اللہ و رسول اور نعمائے آخرت کی محبت میں ایسا ہی حاصل ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی تکلیف تکلیف نظر نہیں آئی، صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جاویں تو اس کو ایمان کی حلاوت حاصل ہوجاتی ہے، وہ تین خصلتیں یہ ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ان کے ماسوائے ہر چیز سے زیادہ مجوب ہو، دوسرے یہ کہ وہ کسی اللہ کے بندے سے صرف اللہ ہی کے لئے محبت رکھے، تیسرے یہ کہ کفر و شرک اس کو آگ میں ڈالے جانے کے برابر محسوس ہو۔
اس حدیث میں حلاوت ایمان سے مراد محبت کا یہی مقام ہے جو انسان کے لئے ہر مشقت و محنت کو لذیذ بنا دیتا ہے
از محبت تلخہا شیریں شود، اسی مقام کے متعلق بعض علماء نے فرمایا ہے
واذا حلت الحلاوة قلبا نشطت فی العبادة الاعضاء
یعنی جب کسی دل میں حلاوت ایمان پیدا ہوجاتی ہے، تو عبادت و اطاعت میں اس کے اعضاء لذت پانے لگتے ہیں“۔
اسی کو بعض روایات میں بشاشت ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے، اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ محبت خدا و رسول کا یہ مقام ایک نعمت کبری ہے، مگر وہ صرف اللہ والوں کی صحبت و معیت ہی سے حاصل ہوتی ہے، اسی لئے صوفیائے کرام اس کو خدمت مشائخ سے حاصل کرنا ضروری قرار دیتے ہیں، صاحب روح البیان نے فرمایا کہ یہ مقام خلت اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خلیل اللہ کی طرف اپنے مال، اولاد اور جان کو اللہ کی محبت میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔
خلیل آسادر ملک یقین زن نوائے لا احب الآفلین زن
قاضی بیضاوی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت و شریعت کی حفاظت اور اس میں رخنے ڈالنے والوں کی مدافعت بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا ایک کھلا نشان ہے۔ رزقنا اللہ تعالیٰ و جمیع المسلمین حبہ وحب رسولہ کما یحب ویرضاہ۔