8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعارف القرآن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں حکم غنیمت کا، تو کہہ دے کہ مال غنیمت اللہ کا ہے اور رسول کا، سو ڈرو اللہ سے اور صلح کرو آپس میں، اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اگر ایمان رکھتے ہو۔

مضامین سورت سورة انفال جو اس وقت شروع ہو رہی ہے مدنی سورت ہے۔ اس سے پہلی سورت یعنی سورة اعراف میں مشرکین اور اہل کتاب کے جہل وعناد اور کفر و فساد کا تذکرہ اور اس کے متعلقہ مباحث کا بیان تھا۔ اس سورت میں زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے موقع پر انھیں لوگوں کے انجام بد، ناکامی اور شکست، اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی اور فتوحات سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے لئے احسان و انعام اور کفار کے لئے عذاب و انتقام تھا۔ اور چونکہ اس انعام کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا خلوص اور للّٰہیت اور ان کا باہمی اتفاق ہے اور یہ اخلاص و اتفاق نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کا اس لئے شروع سورت میں تقوی اور اطاعت حق اور ذکر اللہ اور توکل وغیرہ کی تعلیم دی گئی۔ خلاصہ تفسیر یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں (یعنی وہ اللہ کی ملک ہیں اس کو ہی حق ہے کہ ان کے متعلق جو چاہیں حکم دے) اور رسول کی ہیں (بایں معنی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر اس کو نافذ کریں گے حاصل یہ ہے کہ اموال غنیمت کے بارے میں تمہاری رائے اور تجویز کا کوئی دخل نہیں بلکہ اس کا فیصلہ حکم شرعی پر ہوگا) تو تم (دنیا کی حرص مت کرو آخرت کے طالب رہو اس طرح پر کہ) اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو (کہ آپس میں حسد اور بغض نہ رہے) اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔ معارف و مسائل یہ آیت غزوہ بدر میں پیش آنے والے ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ آیت کی مفصل تفسیر سے پہلے وہ واقعہ سامنے رکھا جائے تو تفسیر سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر جو کفر و اسلام کا سب سے پہلا معرکہ تھا اس میں جب مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کچھ مال غنیمت ہاتھ آیا تو صحابہ کرام کے درمیان اس کی تقسیم کے متعلق ایک ایسا واقعہ پیش آگیا جو اخلاص و اتفاق کے اس مقام کے شایان نہ تھا جس پر صحابہ کرام کی پوری زندگی ڈھلی ہوئی تھی اس لئے سب سے پہلی ہی آیت میں اس کا فیصلہ فرما دیا گیا تاکہ اس مقدس گروہ کے قلوب میں صدق و اخلاص اور اتفاق و ایثار کے سوا کچھ نہ رہے۔ اس واقعہ کی تفصیل غزوہ بدر کے شریک حضرت عبادہ ؓ کی زبانی مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک، حاکم وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت سے کسی نے آیت مذکورہ میں لفظ انقال کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت تو ہمارے یعنی اصحاب بدر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کا واقعہ یہ تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں ہمارے درمیان کچھ اختلاف پیدا ہوگیا تھا جس نے ہمارے اخلاق پر برا اثر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ اموال غنیمت کو ہمارے ہاتھوں سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے سپرد کردیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے سب حاضرین بدر میں اس کو مساوی طور پر تقسیم فرمادیا۔ صورت یہ پیش آئی تھی کہ ہم سب غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور دونوں فریق میں گھمسان کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو اب ہمارے لشکر کے تین حصے ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے دشمن کا تعاقب کیا تاکہ وہ پھر واپس نہ آسکے۔ کچھ لوگ کفار کے چھوڑے ہوئے اموال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے اور کچھ لوگ رسول کریم ﷺ کے گرد اس لئے جمع رہے کہ کسی طرف سے چھپا ہوا دشمن آنحضرت ﷺ پر حملہ نہ کردے۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور رات کو ہر شخص اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ مال تو ہم نے جمع کیا ہے اس لئے اس میں ہمارے سوا کسی کا حصہ نہیں۔ اور جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو۔ کیونکہ ہم نے ہی دشمن کو پسپا کیا اور تمہارے لئے یہ موقع فراہم کیا کہ تم بےفکر ہو کر مال غنیمت جمع کرلو۔ اور جو لوگ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے آپ کے گرد جمع رہے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی مال غنیمت جمع کرنے میں تمہارے ساتھ شریک ہوتے لیکن آنحضرت ﷺ کی حفاظت جو جہاد کا سب سے اہم کام تھا ہم اس میں مشغول رہے اس لئے ہم بھی اس کے مستحق ہیں۔ صحابہ کرام کی یہ گفتگو رسول اللہ ﷺ تک پہنچی اس پر یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی جس نے واضح کردیا کہ یہ مال اللہ کا ہے اس کا کوئی مالک و حقدار نہیں بجز اس کے جس کو رسول اللہ ﷺ عطا فرمایئں، آنحضرت ﷺ نے ارشادات ربانی کے ماتحت اس مال کو سب شرکاء جہاد میں مساوی طور پر تقسیم فرما دیا (ابن کثیر) اور سب کے سب اللہ و رسول کے اس فیصلہ پر راضی ہوگئے۔ اور ان کے خلاف شان جو صورت حال باہمی مسابقت کی پیش آگئی تھی اس پر نادم ہوئے۔ اور مسند احمد ہی میں اس آیت کے شان نزول کا ایک دوسرا واقعہ حضرت سعد بن ابی وقاص کا بھی منقول ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں میرے بھائی عمیر شہید ہوگئے۔ میں نے ان کے بالمقابل مشرکین میں سے سعید بن العاص کو قتل کردیا اور اس کی تلوار لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا۔ میں چاہتا تھا کہ یہ تلوار مجھے مل جائے مگر آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو مال غنیمت میں جمع کردو۔ میں حکم ماننے پر مجبور تھا مگر میرا دل اس کا سخت صدمہ محسوس کر رہا تھا کہ میرا بھائی شہید ہوا اور میں نے اس کے بالمقابل ایک دشمن کو مار کر اس کی تلوار حاصل کی وہ بھی مجھ سے لے لی گئی مگر بایں ہمہ تعمیل ارشاد کے لئے مال غنیمت میں جمع کرنے کے لئے آگے بڑھا تو ابھی دور نہیں گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ پر سورة انفال کی یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے مجھے بلوا کر یہ تلوار مجھے عنایت فرما دی۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد نے رسول اللہ ﷺ سے عرض بھی کیا تھا کہ یہ تلوار مجھے دے دی جائے مگر آپ نے فرمایا کہ نہ یہ میری چیز ہے جو کسی کو دے دوں اور نہ آپ کی ملک ہے اس کو پورے مال غنیمت میں جمع کردو اس کا فیصلہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اس کے مطابق ہوگا۔ (ابن کثیر مظہری) اس میں کوئی بعد نہیں کہ یہ دونوں واقعے پیش آئے ہوں اور دونوں ہی کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہو۔ آیت کی پوری تفسیر یہ ہے اس میں لفظ انفال نفل کی جمع ہے جس کے معنی ہیں فضل و انعام نفلی نماز، روزہ صدقہ کو بھی نفل اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی کے ذمہ واجب نہیں، کرنے والے اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔ اصطلاح قرآن و سنت میں لفظ نفل اور انفال مال غنیمت کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کفار سے بوقت جہاد حاصل ہوتا ہے مگر قرآن کریم میں اس معنی کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں انفال، غنیمہ، فیئے۔ لفظ انفال تو اسی آیت میں مذکور ہے اور لفظ غنیمة اور اس کی تفصیل اسی سورت کی اکتالیسویں آیت میں آنے والی ہے اور لفظ فیئے اور اس کے متعلق تفصیل سورة حشر میں بیان ہوئی ہے (آیت) وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي، اور ان تینوں کے معانی تھوڑے تھوڑے فرق کے ساتھ مختلف ہیں، فرق معمولی اور قلیل ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ایک لفظ دوسرے کی جگہ مطلقا مال غنیمت کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ غنیمة عموما اس مال کو کہتے ہیں جو جنگ و جہاد کے ذریعہ مخالف فریق سے حاصل ہو۔ اور فیئے اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ و قتال کے کفار سے ملے خواہ وہ چھوڑ کر بھاگ جایئں۔ یا رضامندی سے دے دینا قبول کریں۔ اور نفل اور انفال کا لفظ اکثر اس انعام کے لئے بولا جاتا ہے جو امیر جہاد کسی خاص مجاہد کو اس کی کار گزاری کے صلہ میں علاوہ حصہ غنیمت کے بطور انعام عطا کرے۔ یہ معنی تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کئے ہیں (ابن کثیر) اور کبھی مطلقا مال غنیمت کو بھی نفل اور انفال کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس آیت میں اکثر مفسرین نے یہی عام معنی نقل کئے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس سے یہی عام معنی نقل کئے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ عام اور خاص دونوں معنی کے لئے بولا جاتا ہے اس لئے کوئی اختلاف نہیں۔ اور اس کی بہترین تشریح و تحقیق وہ ہے جو امام ابو عبید نے اپنی کتاب الاموال میں ذکر کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اصل لغت میں نفل کہتے ہیں فضل و انعام کو اور اس امت مرحومہ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی انعام ہے کہ جہاد و قتال کے ذریعہ جو اموال کفار سے حاصل ہوں ان کو مسلمانوں کے لئے حلال کردیا گیا۔ ورنہ پچھلی امتوں میں یہ دستور نہ تھا بلکہ مال غنیمت کے لئے قانون یہ تھا کہ وہ کسی کے لئے حلال نہیں تھے تمام اموال غنیمت کو ایک جگہ جمع کردیا جاتا تھا۔ اور آسمان سے قدرتی طور پر ایک آگ (بجلی) آتی تھی اس کو جلا کر خاک کردیتی تھی یہی اس جہاد کے مقبول عند اللہ ہونے کی علامت ہوتی تھی۔ اور اگر کوئی مال غنیمت جمع کیا گیا اور آسمانی بجلی نے آکر اس کو نہ جلایا تو یہ علامت اس کی ہوتی تھی کہ یہ جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں اس لئے اس مال غنیمت کو بھی مردود اور منحوس سمجھا جاتا تھا اور اسے کوئی استعمال نہ کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ سے بروایت حضرت جابر ؓ بخاری ومسلم میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا ہوئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر اور ان کی امت کو نہیں ملیں انھیں پانچ میں سے ایک یہ ہے کہ احلت لی الغنائم ولم تحل لاحد قبلی، یعنی میرے لئے اموال غنیمت حلال کردیئے گئے حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھے۔ آیت مذکورہ میں انفال کا حکم یہ بتلایا گیا کہ وہ اللہ کے ہیں اور رسول کے۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ اصل ملکیت تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور متصرف ان میں اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جو حکم خداوندی کے مطابق اپنی صوابدید پر ان کو تقسیم کرتے ہیں۔ اسی لئے ائمہ تفسیر کی ایک جماعت نے جن میں حضرت عبداللہ بن عباس، مجاہد، عکرمہ، سدی، وغیرہ ؓ اجمعین داخل ہیں یہ فرمایا کہ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا جب تک تقسیم غنائم کا وہ قانون نازل نہ ہوا تھا جو اسی سورت کے پانچویں رکوع میں آرہا ہے کیونکہ اس میں پورے مال غنیمت کو رسول اللہ ﷺ کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے کہ جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں اور آگے جو تفصیلی احکام آئے ہیں ان میں یہ ہے کہ کل مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں عام مسلمانوں کی ضرویات کے لئے محفوظ کردیا جائے اور چار حصے شرکاء جہاد میں ایک خاص قانون کے تحت تقسیم کردیئے جائیں جن کی تفصیل احایث صحیحہ میں مذکور ہے۔ اس تفصیلی بیان نے سورة انفال کی پہلی آیت کو منسوخ کردیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں کوئی ناسخ منسوخ نہیں بلکہ اجمال و تفصیل کا فرق ہے سورة انفال کی پہلی آیت میں اجمال ہے اور اکتالیسویں آیت میں اسی کی تفصیل ہے۔ البتہ مال فیئے جس کے احکام سورة حشر میں بیان ہوئے ہیں وہ پورا کا پورا رسول کریم ﷺ کے زیر تصرف ہے آپ اپنی صوابدید سے جس طرح چاہیں عمل فرمائیں۔ اسی لئے اس جگہ احکام بیان فرمانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے۔ (آیت) وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا۔ یعنی جو کچھ تم کو ہمارا رسول دے دے اس کو لے لو اور جس کو روک دے اس سے باز رہو۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت وہ ہے جو جنگ و جہاد کے ذریعہ ہاتھ آئے اور مال فیئے وہ جو بغیر قتال و جہاد کے ہاتھ آجائے۔ اور لفظ انفال دونوں کے لئے عام بھی بولا جاتا ہے اور خاص اس انعام کو بھی کہتے ہیں جو کسی غازی کو امیر جہاد عطا کرے۔ اس سلسلہ میں غازیوں کو انعام دینے کی چار صورتیں آنحضرت ﷺ کے عہد سے رائج ہیں ایک یہ کہ یہ اعلان فرمادیں کہ جو شخص کسی مخالف کو قتل کرے تو جو سامان مقتول سپاہی سے حاصل ہو وہ اسی کا ہے جس نے قتل کیا۔ یہ سامان مال غنیمت میں جمع ہی نہ کیا جائے گا۔ دوسرے یہ کہ بڑے لشکر میں سے کوئی جماعت الگ کرکے کسی خاص جانب جہاد کیلئے بھیجی جائے اور یہ حکم دے دیا جائے کہ اس جانب سے جو مال غنیمت حاصل ہو وہ اسی خاص جماعت کا ہوگا جو وہاں گئی ہے صرف اتنا کرنا ہوگا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ عام مسلمانوں کی ضروریات کے لئے بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔ تیسرے یہ کہ پانچواں حصہ جو بیت المال میں جمع کیا جاتا ہے اس میں سے کسی خاص غازی کو اس کی ممتاز کارگزاری کے صلہ میں امیر کی صوابدید کے مطابق دیا جائے۔ چوتھے یہ کہ پورے مال غنیمت میں سے کچھ حصہ الگ کرکے خدمت پیشہ لوگوں کو بطور انعام دیا جائے جو مجاہدین کے گھوڑوں وغیرہ کی نگہداشت کرتے ہیں اور ان کے کاموں میں مدد کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) خلاصہ مضمون آیت کا یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ لوگ آپ سے انفال کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ ان سے کہہ دیجیئے کے انفال سب اللہ کے ہیں اور اس کے رسول کے یعنی خود کوئی ان کا حقدار یا مالک نہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے رسول جو کچھ فیصلہ فرمائیں وہ ہی نافذ ہوگا۔ لوگوں کے باہمی اتفاق و اتحاد کی بنیاد تقوی اور خوف خدا ہے اس آیت کے آخری جملہ میں ارشاد فرمایا (آیت) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ ، جس میں صحابہ کرام کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس کے تعلقات کو درست رکھو اس میں اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں اموال غنیمت کی تقسیم کی بابت صحابہ کرام کے آپس میں پیش آگیا تھا جس میں باہمی کشیدگی اور ناراضی کا خطرہ تھا۔ حق تعالیٰ نے تقسیم غنیمت کا قضیہ تو خود اس آیت کے ذریعہ طے فرما دیا۔ اب ان کے دلوں کی اصلاح اور باہمی تعلقات کی خوشگواری کی تدبیر بتلائی گئی ہے جس کا مرکزی نقطہ تقوی اور خوف خدا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جب تقوی اور خوف خدا و آخرت غالب ہوتا ہے تو بڑے بڑے جھگڑے منٹوں میں ختم ہوجاتے ہیں۔ باہمی منافرت کے پہاڑ گرد بن کر اڑ جاتے ہیں، اہل تقوی کا حال بقول مولانا رومی یہ ہوجاتا ہے خود چہ جائے جنگ و جدل نیک و بد کیں الم از صلحہا ہم میر مد یعنی ان لوگوں کو کسی جنگ و جدل اور جھگڑے سے تو کیا دلچسپی ہوتی۔ ان کو تو خلائق کی صلح اور دوستی کے لئے بھی فرصت نہیں ملتی۔ کیونکہ جس کا قلب اللہ تعالیٰ کی محبت و خوف اور یاد میں مشغول ہو اس کو دوسروں سے تعلقات بڑھانے کی کہاں فرصت بسوادی جاناں زجاں مشتغل بذکر حبیب از جہاں مشتغل اسی لئے اس آیت میں تقوی کی تدبیر بتلا کر فرمایا اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ، یعنی بذریعہ تقوی آپس کے تعلقات کی اصلاح کرو، اس کی مزید تشریح اس طرح فرمائی (آیت) وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ ، یعنی اللہ اور رسول کی مکمل اطاعت ہو اگر تم مومن ہو، یعنی ایمان کا تقاضا ہے اطاعت اور اطاعت نتیجہ ہے تقوی کا اور جب یہ چیزیں لوگوں کو حاصل ہوجائیں تو ان کے آپس کے جھگڑے خود بخود ختم ہوجائیں گے اور دشمنی کی جگہ دلوں میں الفت و محبت پیدا ہوجائے گی۔
Ayah 8:2

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

ایمان والے وہی ہیں کہ جب نام آئے اللہ کا ڈر جائیں ان کے دل اور جب پڑھا جائے ان پر اس کا کلام تو زیادہ ہوجاتا ہے ان کا ایمان اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔

خلاصہ تفسیر (بس) ایمان والے تو وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر آتا ہے تو (اس کی عظمت کے استحضار سے) ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (اور) جو کہ نماز کی اقامت کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں (بس) سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لئے بڑے بڑے درجے ان کے رب کے پاس اور (ان کے لئے) مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔ معارف و مسائل مؤ من کی مخصوص صفات آیات مذکورہ میں ان مخصوص صفات کا بیان ہے جو ہر مومن میں ہونا چاہئے۔ اس میں اشارہ ہے کہ ہر مومن اپنی ظاہر اور باطنی کیفیات اور صفات کا جائزہ لیتا رہے اگر یہ صفات اس میں موجود ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرے کہ اس نے اس کو مؤمنین کی صفات عطا فرمادی۔ اور اگر ان میں سے کوئی صفت موجود نہیں یا ہے مگر ضعیف و کمزور ہے تو اس کے حاصل کرنے یا قوی کرنے کی فکر میں لگ جائے۔ پہلی صفت خوف خدا پہلی صفت یہ بیان فرمائی (آیت) الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، یعنی جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل سہم جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں رچی اور بھری ہوئی ہے جس کا ایک تقاضا ہیبت و خوف ہے قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس کا ذکر کرکے اہل محبت کو بشارت دی گئی ہے (آیت) وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ ، الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، یعنی خوشخبری دے دیجئے ان متواضع نرم خو لوگوں کو جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد کے ایک خاص تقاضا کا ذکر ہے، یعنی ہیبت اور خوف اور دوسری آیت میں ذکر اللہ کی یہ خاصیت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ اس سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں (آیت) اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۔ یعنی اللہ ہی کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جس خوف وہیبت کا ذکر ہے وہ دل کے سکون و اطمینان کے خلاف نہیں جیسے کسی درندے یا دشمن کا خوف قلب کے سکون کو برباد کردیتا ہے ذکر اللہ کے ساتھ دل میں پیدا ہونے والا خوف اس سے بالکل مختلف ہے اور اسی لئے یہاں لفظ خوف استعمال نہیں فرمایا وَجِلَ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس کا ترجمہ مطلق خوف نہیں بلکہ وہ ہیبت ہے جو بڑوں کی جلالت شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس جگہ اللہ کے ذکر اور یاد سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کا ارادہ کر رہا تھا اسی حال میں اس کو اللہ تعالیٰ کی یاد آگئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا۔ اور گناہ سے باز آگیا۔ اس صررت میں خوف سے مراد خوف عذاب ہی ہوگا۔ (بحر محیط) دوسری صفت ایمان میں ترقی مؤ من کی دوسری صفت یہ بتلائی کہ جب اس کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ ایمان بڑھنے کے ایسے معنی جن پر سب علماء مفسرین و محدثین کا اتفاق ہے یہ ہیں کہ ایمان کی قوت و کیفیت اور نور ایمان میں ترقی ہوجاتی ہے۔ اور تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اعمال صالحہ سے ایمان میں قوت اور ایسا شرح صدر پیدا ہوجاتا ہے کہ اعمال صالحہ اس کی عادت طبعی بن جاتے ہیں جس کے چھوڑنے سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اور گناہ سے اس کو طبعی نفرت پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس نہیں جاتا۔ ایمان کے اسی مقام کو حدیث میں حلاوت ایمان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کو کسی نے اس طرح نظم کیا ہے واذاحلت الحلاوة قلبا نشطت فی العبادة الاعضاء یعنی جب کسی دل میں حلاوت ایمان جگہ پکڑ لیتی ہے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت و لذت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے خلاصہ آیت کے مضمون کا یہ ہوا کہ مومن کامل کی یہ صفت ہونی چاہئے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جائیں تو اس کے ایمان میں جلاء و ترقی ہو اور اعمال صالحہ کی طرف رغبت بڑھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس طرح عام مسلمان قرآن پڑھتے ہیں اور سنتے ہیں کہ نہ قرآن کے ادب و احترام کا کوئی اہتمام ہے نہ اللہ جل شانہ کی عظمت پر نظر ہے ایسی تلاوت مقصود اور اعلی نتائج پیدا کرنے والی نہیں گو ثواب سے وہ بھی خالی نہ ہو۔ تیسری صفت اللہ پر توکل تیسری صفت مومن کی یہ بیان فرمائی کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے۔ توکل کے معنی اعتماد اور بھروسہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام اعمال و احوال میں اس کا مکمل اعتماد اور بھروسہ صرف ذات واحد حق تعالیٰ پر ہو۔ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی ضروریات کے لئے مادی اسباب اور تدابیر کو ترک کرکے بیٹھ جائے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ مادی اسباب و آلات کو اصل کامیابی کے لئے کافی نہ سمجھے بلکہ بقدر قدرت و ہمت مادی اسباب اور تدبیر کو فراہم کرنے اور استعمال کرنے کے بعد معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرے اور سمجھے کہ اسباب بھی اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان اسباب کے ثمرات بھی وہی پیدا کرتے ہیں۔ ہوگا وہی جو وہ چاہیں گے۔ ایک حدیث میں فرمایا اجملوا فی الطلب وتوکلوا علیہ۔ یعنی رزق اور اپنی حاجات کے حاصل کرنے کے لئے متوسط درجہ کی طلب اور مادی اسباب کے ذریعہ کوشش کرلو پھر معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرو۔ اپنے دل دماغ کو صرف مادی تدبیروں اور اسباب ہی میں نہ الجھا رکھو۔
Ayah 8:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز کو اور ہم نے جو ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

چوتھی صفت اقامت صلوة چوتھی صفت مومن کی اقامت صلوة بتلائی۔ اس میں یہ بات قابل یاد رکھنے کے ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کا نہیں بلکہ نماز کی اقامت کا ذکر ہے۔ اقامت کے لفظی معنی کسی چیز کو سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ مراد اقامت صلوة سے یہ ہے کہ نماز کے پورے آداب و شرائط اس طرح بجا لائے جس طرح رسول کریم ﷺ نے قول و عمل سے بتلائے ہیں۔ آداب و شرائط میں کوتاہی ہوئی تو اس کو نماز پڑھنا تو کہہ سکتے ہیں مگر اقامت صلوة نہیں کہہ سکتے۔ قرآن مجید میں نماز کے جو فوائد اور آثار اور برکات ذکر کی گئی ہیں اور فرمایا گیا ہے (آیت) ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ، یعنی نماز روکتی ہے بےحیائی اور ہر گناہ سے۔ یہ بھی اقامت صلوة ہی پر موقوف ہے جب نماز کے آداب میں کوتاہی ہوئی تو گو فتوٰی کی رو سے اس کی نماز کو جائز ہی کہا جائے مگر نماز کی برکات میں کوتاہی کی مقدار پر فرق پڑجائے گا۔ اور بعض صورتوں میں ان برکات سے کلی طور پر محرومی ہوجائے گی۔ پانچویں صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا پانچویں صفت مرد مومن کی یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کو رزق دیا ہے وہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عام ہے تمام صدقات و خیرات اور وقف و صلہ کو جس میں زکوٰۃ، صدقۃ الفطر وغیرہ واجبات شرعی بھی داخل ہیں اور نفلی صدقات و تبرعات بھی، مہمانوں، دوستوں، بزرگوں کی مالی خدمت بھی۔
Ayah 8:4

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

وہی ہیں سچے ایمان والے، ان کے لئے درجے ہیں اپنے رب کے پاس اور معافی اور روزی عزت کی۔

مرد مومن کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا، یعنی ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں جن کا ظاہر و باطن یکساں اور زبان اور دل متفق ہیں ورنہ جن میں یہ صفات نہیں وہ زبان سے تو اشھد ان لآ الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ کہتے ہیں مگر ان کے دلوں میں نہ توحید کا رنگ نہ اطاعت رسول کا۔ ان کے اعمال ان کے اقوال کی تردید کرتے ہیں۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے جب وہ حاصل نہ ہو حق حاصل نہیں ہوتا۔ ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے پوچھا کہ اے ابو سعید کیا آپ مومن ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بھائی ایمان دو قسم کے ہیں۔ تمہارے سوال کا مطلب اگر یہ ہے کہ میں اللہ تعالے اور اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر اور جنت دوزخ اور قیامت اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہوں تو جواب یہ ہے کہ بیشک میں مومن ہوں۔ اور اگر تمہارے سوال کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ مومن کامل ہوں جس کا ذکر سورة انفال کی آیات میں ہے تو مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میں ان میں داخل ہوں یا نہیں۔ سورة انفال کی آیات سے وہی آیات مراد ہیں جو ابھی آپ نے سنی ہیں۔ آیات مذکورہ میں سچے مومن کی صفات و علامات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ اس میں سچے مومنین کے لئے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا۔ ایک درجات عالیہ دوسرے مغفرت، تیسرے رزق عمدہ۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے پہلی آیات میں سچے مومنین کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ تین قسم کی ہیں، ایک وہ جن کا تعلق قلب اور باطن کے ساتھ ہے جیسے ایمان۔ خوف خدا۔ توکل علی اللہ، دوسرے وہ جن کا تعلق جسمانی اعمال سے ہے جیسے نماز وغیرہ۔ تیسرے وہ جن کا تعلق انسان کے مال سے ہے جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ ان تینوں قسموں کے بالمقابل تین انعاموں کا ذکر آیا ہے۔ درجات عالیہ قلبی اور باطنی صفات کے مقابلہ میں اور مغفرت ان اعمال کے مقابلہ میں جو انسان کے ظاہر بدن سے متعلق ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نماز گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور رزق کریم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بالمقابل آیا ہے کہ جو کچھ خرچ کیا اس سے بہت بہتر اور بہت زیادہ اس کو آخرت میں ملے گا۔
Ayah 8:5

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

جیسے نکالا تجھ کو تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے، اور ایک جماعت اہل ایمان کی راضی نہ تھی۔

خلاصہ تفسیر (مال غنیمت کا لوگوں کی مرضی کے موافق تقسیم نہ ہونا بلکہ منجانب اللہ اس کی تقسیم ہونا اگرچہ بعض لوگوں کو طبعا گراں گزرا ہو مگر مصالح کثیرہ کی وجہ سے یہی خیر اور بہتر ہے۔ اور یہ معاملہ خلاف طبع مگر مصلح کثیرہ کو متضمن ہونے میں ایسا ہی ہے) جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر (اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ آپ کو (بدر کی طرف) روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت (اپنی تعداد اور سامان جنگ کی قلت کی وجہ سے طبعا) اس کو گراں سمجھتی تھی وہ اس مصلحت (کے کام) میں (یعنی جہاد اور مقابلہ لشکر کے معاملے میں) بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوچکا تھا (اپنے بچاؤ کے لئے بطور مشورہ کے) آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ (موت کو گویا) دیکھ رہے ہیں (مگر آخر کار انجام اس کا بھی اچھا ہوا کہ اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا)۔ معارف و مسائل شروع سورت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ سورة انفال کے بیشتر مضامین کفار و مشرکین پر عذاب و انتقام اور مسلمانوں پر احسان و انعام کے متعلق ہیں اور اس کے ضمن میں دونوں فریق کے لئے عبرت و نصیحت کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ اور ان معاملات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم واقعہ غزوہ بدر کا تھا جس میں بڑے ساز و سامان اور تعداد و قوت کے باوجود مشرکین کو جانی اور مالی نقصانات کے ساتھ شکست اور مسلمانوں کو باوجود ہر طرح کی قلت اور بےسامانی کے فتح عظیم نصیب ہوئی۔ اس سورت میں واقعہ بدر کا تفصیلی بیان ہے۔ جو آیات مذکورہ سے شروع ہو رہا ہے۔ پہلی آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ بعض مسلمانوں کو بدر کے موقع پر جہاد کے لئے اقدام ناپسند تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فرمان کے ذریعہ اپنے رسول ﷺ کو جہاد کا حکم دیا تو ناپسند کرنے والے بھی ساتھ ہوگئے۔ اس بات کے بیان کرنے کے لئے قرآن کریم نے جو الفاظ اختیار فرمائے ہیں وہ کئی طرح سے قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ آیت کا شروع (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ سے ہوتا ہے۔ اس میں لفظ كَمَآ ایک ایسا لفظ ہے جو تشبیہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو غور طلب یہ ہے کہ یہاں تشبیہ کس چیز کی کس چیز سے ہے، حضرات مفسرین نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں۔ امام تفسیر ابوحیان نے اس طرح کے پندرہ اقوال نقل کئے ان میں زیادہ قرب تین احتمال ہیں۔ اول یہ کہ اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ جس طرح غزوہ بدر کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت صحابہ کرام کے آپس میں کچھ اختلاف رائے ہوگیا تھا۔ پھر حکم خداوندی کے تحت سب نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور اس کی برکات اور اچھے نتائج کا ظہور سامنے آگیا۔ اسی طرح اس جہاد کے شروع میں کچھ لوگوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار ہوا پھر حکم ربانی کے ماتحت سب نے اطاعت کی اور اس کے مفید نتائج اور اعلی ثمرات کا مشاہدہ ہوگیا۔ یہ توجیہ فراء اور مبرد کی طرف منسوب ہے (بحر محیط) اسی کو بیان القرآن میں ترجیح دی ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ گذشتہ آیات میں سچے مومنین کے لئے آخرت میں درجات عالیہ اور مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان آیات میں اس وعدہ کے یقینی ہونے کا ذکر اس طرح کیا گیا کہ آخرت کا وعدہ اگرچہ ابھی آنکھوں کے سامنے نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ نصرت و فتح غزوہ بدر میں آنکھوں کے سامنے آچکا ہے اس سے عبرت پکڑو اور یقین کرو کہ جس طرح یہ وعدہ دنیا ہی میں پورا ہوچکا ہے اسی طرح آخرت کا وعدہ بھی ضرور پورا ہوگا۔ (تفسیر قرطبی بحوالہ نحاس) تیسرا احتمال وہ ہے جس کو ابوحیان نے مفسرین کے پندرہ اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مجھے ان میں سے کسی قول پر اطمینان نہیں تھا۔ ایک روز میں اسی آیت پر غور و فکر کرتے ہوئے سو گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کسی جگہ جارہا ہوں اور ایک شخص میرے ساتھ ہے میں اسی آیت کے متعلق اس سے بحث کررہا ہوں اور یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے کبھی ایسی مشکل پیش نہیں آئی جیسی اس آیت کے الفاظ میں پیش آئی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی لفظ محذوف ہے۔ پھر یکایک خواب ہی میں میرے دل میں پڑا کہ یہاں لفظ نصرک محذوف ہے اس کو خود میں نے بھی پسند کیا اور جس شخص سے بحث کررہا تھا اس نے بھی پسند کیا۔ بیدار ہونے کے بعد اس پر غور کیا تو میرا اشکال ختم ہوگیا کیونکہ اس صورت میں لفظ کما تشبیہ کے لئے نہیں بلکہ بیان سبب کے لئے استعمال ہوا ہے اور معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ غزوہ بدر میں اللہ جل شانہ کی طرف سے جو خاص نصرت و امداد آپ کی ہوئی اس کا سبب یہ تھا کہ اس جہاد میں آپ نے جو کچھ کیا کسی اپنی خواہش اور رائے سے نہیں بلکہ خالص امر ربی اور حکم خداوندی کے تابع کیا۔ اسی کے حکم پر آپ اپنے گھر سے نکلے۔ اور اطاعت حق کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے اور یہی ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی امداد و نصرت اس کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ بہرحال آیت کے اس جملہ میں یہ تینوں معنی محتمل اور صحیح ہیں۔ اس کے بعد اس پر نظر ڈالئے کہ قرآن کریم نے اس جہاد کے لئے رسول کریم ﷺ کا خود نکلنا ذکر نہیں کیا بلکہ یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا فعل درحقیقت حق تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو آپ کے اعضاء وجوارح سے صادر ہوتا ہے۔ جیسا ایک حدیث قدسی میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بندہ جب اطاعت و عبدیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ جو کچھ دیکھتا ہے میرے ذریعہ دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ جو کچھ سنتا ہے میرے ذریعہ سنتا ہے۔ میں اس کے ہاتھ پاؤں بن جاتا ہوں وہ جس کو پکڑتا ہے میرے ذریعہ پکڑتا ہے جس کی طرف چلتا ہے میرے ذریعہ چلتا ہے۔ خلاصہ اس کا یہی ہے کہ حق تعالے کی خاص نصرت و امداد اس کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ جن افعال کا صدور بظاہر اس کے آنکھ کان یا ہاتھ پاؤں سے ہوتا ہے، درحقیقت اس میں قدرت حق تعالیٰ شانہ کی کارفرما ہوتی ہے رشتہ در گردنم افگندہ دوست میبرد ہر جا کہ خاطر خواہ اوست خلاصہ یہ ہے کہ لفظ اَخْرَجَكَ میں اس طرف اشارہ کردیا کہ آنحضرت ﷺ کا جہاد کے لئے نکلنا درحقیقت حق تعالیٰ کا نکالنا تھا جو آپ کی ذات سے ظاہر ہوا۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ فرمایا جس میں اللہ جل شانہ کا ذکر صفت رب کے ساتھ کرکے اس طرف اشارہ کردیا کہ اس جہاد کیلئے آپ کو نکالنا شان ربوبیت سے اور تربیت کے تقاضا سے تھا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ مظلوم و مقہور مسلمانوں کے لئے فتح یاب اور مغرور و ظالم کفار کے لئے پہلے عذاب کا مظاہرہ کرنا تھا۔ مِنْۢ بَيْتِكَ کے معنی ہیں آپ کے گھر سے، مطلب یہ ہوا کہ نکالا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک اس گھر سے مراد مدینہ طیبہ کا گھر یا خود مدینہ طیبہ ہے جس میں ہجرت کے بعد آپ مقیم ہوئے۔ کیونکہ واقعہ بدر ہجرت کے دوسرے سال میں پیش آیا ہے۔ اس کے ساتھ لفظ بالْحَقِّ کا اضافہ کرکے بتلا دیا کہ یہ ساری کارروائی احقاق حق اور ابطال باطل کے لئے عمل میں آئی ہے۔ دوسری حکومتوں کی طرح ملک گیری کی ہوس یا بادشاہوں کا غصہ اس کا سبب نہیں۔ آخر آیت میں فرمایا (آیت) وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ، یعنی ایک جماعت مسلمانوں کی اس جہاد کو گراں سمجھتی اور ناپسند کرتی تھی۔ صحابہ کرام کو یہ گرانی کس طرح اور کیوں پیش آئی اس کے سمجھنے کے لئے نیز آئندہ آنے والی دوسری آیات کو پوری طرح سمجھنے کے لئے غزوہ بدر کے ابتدائی حالات اور اسباب کا پہلے معلوم کرلینا مناسب ہے۔ اس لئے پہلے غزوہ بدر کا پورا واقعہ ملاحظہ فرمایئے۔ ابن عقبہ و ابن عامر کے بیان کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مدینہ طیبہ میں یہ خبر ملی کہ ابو سفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ ملک شام سے مال تجارت لے کر مکہ معظمہ کی طرف جا رہے ہیں۔ اور اس تجارت میں مکہ کے تمام قریشی شریک ہیں۔ ابن عقبہ کے بیان کے مطابق مکہ کا کوئی قریشی مرد یا عورت باقی نہ تھا جس کا اس میں حصہ نہ ہو۔ اگر کسی کے پاس صرف ایک مثقال (یعنی ساڑھے چار ماشہ) سونا بھی تھا تو اس نے اس میں اپنا حصہ ڈال دیا تھا۔ اس قافلہ کے پورے سرمایہ کے متعلق ابن عقبہ کی روایت یہ ہے کہ پچاس ہزار دینار تھے۔ دینار سونے کا سکہ ہے جو ساڑھے چار ماشہ کا ہوتا ہے سونے کے موجودہ بھاؤ کے حساب سے اس کی قیمت باون روپیہ اور پورے سرمایہ کی قیمت چھبیس (26) کروڑ سے بھی زیادہ کی حیثیت رکھتے تھے، اس تجارتی قافلہ کی حفاظت اور کاروبار کے لئے قریش کے ستر جوان اور سردار ساتھ تھے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ تجارتی قافلہ درحقیقت قریش مکہ کی ایک تجارتی کمپنی تھی۔ بغوی نے بروایت ابن عباس وغیرہ نقل کیا ہے کہ اس قافلہ میں قریش کے چالیس سوار قریش کے سرداروں میں سے تھے جن میں عمرو بن العاص، محزمہ بن نوفل خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ قریش کی سب سے بڑی طاقت ان کی یہی تجارت اور تجارتی سرمایہ تھا جس کے بل پر انہوں نے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تنگ کرکے مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ اس وقت جب رسول کریم ﷺ کو سفر شام سے اس قافلہ کی واپسی کی اطلاع ملی تو آپ کی رائے ہوئی کہ اس وقت اس قافلہ کا مقابلہ کرکے قریش کی طاقت توڑ دینے کا موقع ہے۔ صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو زمانہ رمضان کا تھا پہلے سے کسی جنگ کی تیاری نہ تھی۔ بعض حضرات نے تو چستی اور ہمت کا اظہار کیا مگر بعض نے کچھ پس و پیش کی۔ آپ نے بھی سب پر اس جہاد کی شرکت کو لازم نہ قرار دیا بلکہ یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے پاس سواریاں موجود ہیں وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ اس وقت بہت سے آدمی جہاد میں جانے سے رک گئے اور جو لوگ جانا چاہتے تھے اور ان کی سواریاں دیہات میں تھیں انہوں نے اجازت چاہی کہ ہم اپنی سواریاں لے آویں تو ساتھ چلیں۔ مگر وقت اتنے انتظار کا نہ تھا۔ اس لئے حکم یہ ہوا کہ جن لوگوں کی سواریاں پاس موجود ہیں اور جہاد میں جانا چاہیں صرف وہی لوگ چلیں۔ باہر سے سواریاں منگانے کا وقت نہیں اس لئے ساتھ جانے کا ارادہ رکھنے والوں میں سے بھی تھوڑے ہی آدمی تیار ہوسکے۔ اور جن حضرات نے اس جہاد میں ساتھ جانے کا ارادہ ہی نہیں کیا اس کا سبب بھی یہ تھا کہ آپ نے سب کے ذمہ اس جہاد کی شرکت کو واجب نہ قرار دیا تھا۔ اور ان لوگوں کو یہ بھی اطمینان تھا کہ یہ تجارتی قافلہ ہے کوئی جنگی لشکر نہیں جس کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو زیادہ لشکر اور مجاہدین کی ضرورت پڑے۔ اس لئے صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد اس جہاد میں شریک نہ ہوئی۔ آنحضرت ﷺ نے جب بیر سقیا پر پہنچ کر قیس بن صعصعہ کو حکم دیا کہ لشکر کو شمار کریں تو انہوں نے شمار کرکے اطلاع دی کہ تین سو تیرہ حضرات ہیں۔ آنحضرت ﷺ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ تعداد اصحاب طالوت کی ہے اس لئے فال نیک، فتح اور کامیابی کی ہے۔ صحابہ کرام کے ساتھ کل ستر اونٹ تھے ہر تین آدمی کے لئے ایک اونٹ تھا جس پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے خود رسول کریم ﷺ کے ساتھ بھی دو حضرات ایک اونٹ کے شریک تھے ابو لبابہ اور حضرت علی، جب آپ کی باری پیدل چلنے کی آتی تو یہ حضرات عرض کرتے کہ آپ سوار رہیں ہم آپ کے بدلے پیدل چلیں گے۔ رحمتہ اللعالمین کی طرف سے یہ جواب ملتا کہ نہ تو تم مجھ سے زیادہ قوی ہو اور نہ میں آخرت کے ثواب سے مستغنی ہوں کہ اپنے ثواب کا موقع تمہیں دے دوں، اس لئے اپنی باری میں آنحضرت ﷺ بھی پیدل ہی چلتے تھے۔ دوسری طرف کسی شخص نے ملک شام کے مشہور مقام عین زرقا پر پہنچ کر رئیس قافلہ ابو سفیان کو اس کی خبر پہنچا دی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے قافلہ کے انتظار میں ہیں ان کا تعاقب کریں گے۔ ابو سفیان نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ جب یہ قافلہ حدود حجاز میں داخل ہوا تو ایک ہوشیار مستعد آدمی ضمضم بن عمر کو بیس مثقال سونا یعنی تقریبا دو ہزار روپیہ اجرت دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ تیز رفتار سانڈنی پر سوار ہو کر جلد سے جلد مکہ مکرمہ میں یہ خبر پہنچا دے کہ ان کے قافلہ کو صحابہ کرام سے خطرہ لاحق ہے۔ ضمضم بن عمر نے اس زمانہ کی خاص رسم کے مطابق خطرہ کا اعلان کرنے کے لئے اپنی اونٹنی کے ناک کان کاٹ دیئے اور اپنے کپڑے آگے پیچھے سے پھاڑ ڈالے۔ اور کجاوہ کو الٹا کرکے اونٹنی کی پشت پر رکھا۔ یہ علامات اس زمانہ میں خطرہ کی گھنٹی سمجھی جاتی تھی۔ جب وہ اس شان سے مکہ میں داخل ہوا تو پورے مکہ میں ہلچل مچ گئی اور تمام قریش مدافعت کے لئے تیار ہوگئے جو لوگ اس جنگ کے لئے نکل سکتے تھے خود نکلے اور جو کسی وجہ سے معزور تھے انہوں نے کسی کو اپنا قائم مقام بنا کر جنگ کے لئے تیار کیا۔ اور صرف تین روز میں یہ لشکر پورے سامان کے ساتھ تیار ہوگیا۔ ان میں جو لوگ اس جنگ میں شرکت سے ہچکچاتے اس کو یہ لوگ مشتبہ نظروں سے دیکھتے اور مسلمانوں کا ہم خیال سمجھتے اس لئے ایسے لوگوں کو خصوصیت سے جنگ کے واسطے نکلنے پر مجبور کیا۔ جو لوگ علانیہ طور پر مسلمان تھے اور ابھی تک بوجہ اپنے اعذار کے ہجرت نہیں کرسکے تھے بلکہ مکہ میں بس رہے تھے ان کو اور بنو ہاشم کے خاندان میں جس پر بھی یہ گمان تھا کہ یہ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا ہے ان کو بھی اس جنگ کے لئے نکلنے پر مجبور کیا۔ انھیں مجبور لوگوں میں آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس اور ابو طالب کے دو بیٹے طالب اور عقیل بھی تھے۔ اس طرح اس لشکر میں ایک ہزار جوان دو سو گھوڑے اور چھ سو زرہیں اور ترانے گانے والی لونڈیاں اور ان کے طبلے وغیرہ لے کر بدر کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ہر منزل پر دس اونٹ ان لوگوں کے کھانے کے لئے ذبح ہوتے تھے۔ دوسری طرف رسول کریم ﷺ صرف ایک تجارتی قافلہ کے انداز سے مقابلہ کی تیاری کر کے بارہ رمضان کو شنبہ کے دن مدینہ طیبہ سے نکلے اور کئی منزل طے کرنے کے بعد بدر کے قریب پہنچ کر آپ نے دو شخصوں کو آگے بھیجا کہ وہ ابو سفیان کے قافلہ کی خبر لائیں (مظہری) مخبروں نے یہ خبر پہنچائی کہ ابو سفیان کا قافلہ آنحضرت ﷺ کے تعاقب کی خبر پاکر ساحل دریا کے کنارے کنارے گزر گیا اور اس کی حفاظت اور مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے مکہ مکرمہ سے ایک ہزار جوانوں کا لشکر جنگ کے لئے آرہا ہے۔ (ابن کثیر) ظاہر ہے کہ اس خبر نے حالات کا نقشہ پلٹ دیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے رفیق صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کہ اس آنے والے لشکر سے جنگ کرنا ہے یا نہیں۔ حضرت ابو ایوب انصاری اور بعض دوسرے حضرات نے عرض کیا کہ ہم میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں اور نہ ہم اس قصد سے آئے ہیں۔ اس پر حضرت صدیق اکبر کھڑے ہوئے اور تعمیل حکم کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا پھر فاروق اعظم کھڑے ہوئے اور اسی طرح تعمیل حکم اور جہاد کے لئے تیار ہونے کا اظہار کیا پھر حضرت مقداد ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ جو کچھ آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ملا ہے آپ اس کو جاری کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بخدا ہم آپ کو وہ جواب نہ دیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ ؑ کو دیا تھا۔ (آیت) فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ، یعنی جایئے آپ اور آپ کا رب لڑ بھڑ لیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں ملک حبشہ کے مقام برک الغماد تک بھی لے جائیں گے تو ہم آپ کے ساتھ جنگ کے لئے چلیں گے۔ آنحضرت ﷺ خوش ہوئے اور ان کو دعائیں دیں۔ مگر ابھی تک حضرات انصار کی طرف سے موافقت میں کوئی آواز نہ اٹھی تھی اور یہ احمتال تھا کہ حضرات انصار نے جو معاہدہ نصرت و امداد کا آنحضرت ﷺ کے ساتھ کیا تھا وہ اندرون مدینہ کا تھا۔ مدینہ سے باہر امداد کرنے کے وہ پابند نہیں اس لئے آپ نے پھر مجمع کو خطاب کرکے فرمایا کہ لوگو مجھے مشورہ دو کہ اس جہاد پر اقدام کریں یا نہیں۔ اس خطاب کا روئے سخن انصار کی طرف تھا۔ حضرت سعد بن معاذ انصاری سمجھ گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ ہم سے پو چھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں، سعد بن معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم آپ پر ایمان لائے اور اس کی شہادت دی کہ جو کچھ آپ فرماتے ہیں سب حق ہے اور ہم نے آپ سے عہد و پیمان کئے ہیں کہ ہر حال میں آپ کی اطاعت کریں گے۔ اس لئے آپ کو جو کچھ اللہ تعالیٰ کا حکم ملا ہو اس کو جاری فرمائیے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو دین حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہم کو سمندر میں لے جائیں تو ہم آپ کے ساتھ دریا میں گھس جائیں گے ہم میں سے ایک آدمی بھی آپ سے پیچھے نہ رہے گا۔ ہمیں اس میں کوئی گرانی نہیں کہ آپ کل ہی ہمیں دشمن سے بھڑا دیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے کام سے ایسے حالات کا مشاہدہ کرائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ ہمیں اللہ کے نام پر جہاں چاہیں لے چلئے۔ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر بہت مسرور ہوئے اور قافلہ کو حکم دے دیا کہ اللہ کے نام پر چلو۔ اور یہ خوش خبری سنائی کہ مجھ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت پر ہمارا غلبہ ہوگا۔ دونوں جماعتوں سے مراد۔ ایک ابو سفیان کا تجارتی قافلہ اور دوسرا یہ مکہ سے آنے والا لشکر ہے۔ پھر فرمایا کہ خدا کی قسم میں گویا اپنی آنکھوں سے مشرکین کی قتل گاہ کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ پورا واقعہ تفسیر ابن کثیر اور مظہری سے لیا گیا ہے۔ واقعہ کی تفصیل سننے کے بعد ان آیات مذکور الصدر کو دیکھئے۔ پہلی آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ، یعنی ایک جماعت مسلمانوں کی اس جہاد کو بھاری سمجھ رہی تھی۔ اس سے اشارہ اس حال کی طرف ہے جو صحابہ کرام سے مشورہ لینے کے وقت بعض صحابہ کرام کی طرف سے ظاہر ہوا کہ انہوں نے جہاد سے پست ہمتی کا اظہار کیا۔
Ayah 8:6

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ تجھ سے جھگڑتے تھے حق بات میں اس کے ظاہر ہوچکنے کے بعد گویا وہ ہانکے جاتے ہیں موت کی طرف آنکھوں دیکھتے۔

اور اسی واقعی کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپ سے حق کے معاملہ میں مجادلہ اور اختلاف کرتے ہیں گو یا ان کو موت کی طرف کھینچا جارہا ہے جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اگرچہ کوئی عدول حکمی نہ کی تھی بلکہ مشورہ کے جواب میں اپنے ضعف اور پست ہمتی کا اظہار کیا تھا۔ مگر رسول کے ساتھیوں سے ایسی رائے کا اظہار بھی ان کے مقام بلند کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند تھا اس لئے ناراضی کے الفاظ سے اس کو بیان فرمایا گیا۔
Ayah 8:7

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جس وقت تم سے وعدہ کرتا تھا اللہ دو جماعتوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کردے سچ کو اپنے کلاموں سے اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی۔

خلاصہ تفسیر اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں (یعنی تجارتی قافلہ یا لشکر) میں سے ایک (جماعت) کا وعدہ کر رہے تھے کہ وہ (جماعت) تمہارے ہاتھ آجائے گی (یعنی مغلوب ہوجائے گی۔ یہ وعدہ مسلمانوں سے بواسط رسول اللہ ﷺ بذریعہ وحی ہوا تھا) اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مصلح جماعت (یعنی تجارتی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا (اس کو عملا غلبہ دے کر) ثابت کردے اور (یہ منظور تھا کہ) ان کافروں کی بنیاد کو قطع کردے تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا (عملا) ثابت کردے اگرچہ یہ مجرم لوگ (یعنی مغلوب ہونے والے کفار اس کو کتنا ہی) ناپسند کریں۔ اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے (اپنی تعداد اور سامان جنگ کی قلت اور دشمن کی کثرت دیکھ کر) فریاد کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی (اور وعدہ فرمایا) کہ تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو سلسلہ وارچلے آویں گے اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد صرف اس (حکمت) کے لئے کی کہ (تم کو غلبہ پانے کی) بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار آجائے (یعنی انسان کی تسلی طبعی طور پر اسباب سامان سے ہوتی ہے اس لئے وہ بھی جمع کردیا گیا) اور (واقع میں تو) نصرت (اور غلبہ) صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست حکمت والے ہیں۔
Ayah 8:8

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچا کرے سچ کو اور جھوٹا کردے جھوٹ کو اور اگرچہ ناراض ہوں گنہگار۔

معارف و مسائل آیات مذکورہ میں غزوہ بدر کا واقعہ اور اس میں جو حق تعالیٰ کی طرف سے نصرت و امداد کے مخصوص انعامات مسلمانوں پر مبذول ہوئے ان کا بیان ہے۔ پہلی اور دوسری آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ قریشیوں کا ایک عظیم لشکر اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے مکہ سے نکل چکا ہے تو اب مسلمانوں کے سامنے دو جماعتیں تھیں ایک تجارتی قافلہ جس کو روایات میں عیر سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری یہ مصلح فوج جو مکہ سے چلی تھی جس کو نفیر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور بواسطہ آپ کے سب مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر تمہارا مکمل قبضہ ہوجائے گا، کہ اس کے متعلق جو تم چاہو گے کرسکو گے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ تجارتی قافلہ پر قبضہ آسان اور بےخطر تھا اور مصلح فوج پر مشکل اور خطرات سے پُر۔ اس لئے اس مبہم وعدہ کو سن کر بہت سے صحابہ کرام کی تمنا اور خواہش یہ ہوئی کہ وہ جماعت جس پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے وہ غیر مصلح تجارتی قافلہ ہوجائے لیکن رسول کریم ﷺ اور بہت سے اکابر صحابہ کا باشارات ربانی یہ ارادہ ہوا کہ مصلح فوج پر قبضہ ہو تو بہتر ہوگا۔ اس آیت میں غیر مصلح جماعت پر قبضہ چاہنے والے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہیں تو اپنی سہولت پسندی اور خطرات سے یکسوئی کے پیش نظر یہی پسند تھا کہ غیر مصلح تجارتی قافلہ پر تمہارا قبضہ ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام کا اصل مقصد حاصل ہو یعنی حق کا حق ہونا واضح ہوجائے اور کافروں کی جڑ کٹ جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام اسی وقت ہوسکتا تھا جب کہ مصلح فوج سے مقابلہ اور اس پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ اور غلبہ ہو۔ خلاصہ اس کا مسلمانوں کو اس پر تنبیہ ہے کہ تم نے جو صورت پسند کی وہ نہایت پست ہمتی اور آرام طلبی اور وقتی اور ہنگامی فائدہ کی چیز تھی اور اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا وہ عالی ہمتی اور بلند مقاصد اور مکمل اور دائمی فوائد پر مشتمل تھا۔ پھر دوسری آیت میں اس کو مزید واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے تو کوئی چیز باہر نہ تھی اگر وہ چاہتے تو تجارتی قافلہ پر مسلمانوں کا غلبہ اور قبضہ ہوجاتا مگر اس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی شان کے شایان اس کو سمجھا کہ مصلح فوج سے مقابلہ ہو کر اس پر قبضہ ہو تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجائے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ حق تعالیٰ تو علیم خبیر اور ہر کام کے آغاز و انجام سے باخبر ہیں ان کی طرف سے اس مبہم وعدہ میں کیا مصلحت تھی کہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر مسلمانوں کا غلبہ اور قبضہ ہوگا۔ وہ ان میں سے کسی ایک کو متعین کرکے بھی فرما سکتے تھے فلاں کہ جماعت پر قبضہ ہوجائے گا۔ اس ابہام کی وجہ واللہ اعلم یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں صحابہ کرام کا امتحان کرنا تھا کہ آسان کام کو پسند کرتے ہیں یا مشکل کو۔ اور ان کی اخلاقی تربیت بھی تھی جس کے ذریعہ ان عالی ہمتی اور اعلی مقاصد کی جد و جہد اور خطرات سے نہ گھبرانا سکھایا گیا۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم لگے فریاد کرنے اپنے رب سے تو وہ پہنچا تمہاری فریاد کو کہ میں مدد کو بھیجوں گا تمہاری ہزار فرشتے لگاتار آنے والے۔

تیسری اور چوتھی آیتوں میں اس واقعہ کا بیان ہے جو مصلح فوج سے مقابلہ ٹھن جانے کے بعد پیش آیا کہ رسول کریم ﷺ نے جب یہ دیکھا کہ آپ کے رفقاء صرف تین سو تیرہ اور وہ بھی اکثر غیر مصلح ہیں اور مقابلہ پر تقریبا ایک ہزار جوانوں کا مصلح لشکر ہے تو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں نصرت و امداد کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ آپ دعا مانگتے تھے اور صحابہ کرام آپ کے ساتھ آمین کہتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے آنحضرت ﷺ کی دعا کے یہ کلمات نقل فرمائے ہیں یا اللہ مجھ سے جو وعدہ آپ نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرمادے۔ یا اللہ اگر یہ تھوڑی سی جماعت مسلمین فنا ہوگئی تو پھر زمین میں کوئی تیری عبادت کرنے والا باقی نہ رہے گا (کیونکہ ساری زمین کفر و شرک سے بھری ہوئی ہے یہی چند مسلمان ہیں جو صحیح عبادت بجالا تے ہیں)۔ آنحضرت ﷺ برابر اسی طرح الحاح وزاری کے ساتھ دعا میں مشغول رہے یہاں تک کہ آپ کے شانوں سے چادر بھی سرک گئی، حضرت ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر چادر اوڑھائی اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ زیادہ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے اور اپنا وعدہ پورا فرمائیں گے۔ آیت میں اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ کے الفاظ سے یہی واقعہ مراد ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب تم اپنے رب سے استغاثہ کر رہے تھے اور مدد طلب کر رہے تھے یہ استغاثہ اگرچہ دراصل رسول کریم ﷺ کی طرف سے ہوا تھا مگر تمام صحابہ آمین کہہ رہے تھے اس لئے پوری جماعت کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس کے بعد اس دعا کی قبولیت کا بیان اس طرح فرمایا (آیت) فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور فرمایا کہ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کروں گا جو یکے بعد دیگرے قطار کی صورت میں آنے والے ہوں گے۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے جو بےنظیر قوت و طاقت عطا فرمائی ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتا ہے جو قوم لوط ؑ کی زمین کا تختہ الٹنے کے وقت پیش آیا کہ جبریل امین نے ایک پر کے ذریعہ یہ تختہ الٹ دیا۔ اسی بےمثال طاقت والے فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد مقابلہ میں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی ایک بھی کافی تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی فطرت سے واقف ہیں کہ وہ تعداد سے بھی متاثر ہوتے ہیں اس لئے مقابل فریق کی تعداد کے مطابق فرشتوں کی تعداد بھیجنے کا وعدہ فرمایا تاکہ ان کے قلوب پوری طرح مطمئن ہوجائیں۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ تو دی اللہ نے فقط خوش خبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمہارے دل اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے، بیشک اللہ زور آور ہے حکمت والا۔

چوتھی آیت میں بھی یہی مضمون ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ صرف اس لئے کیا کہ تمہیں بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں۔ غزوہ بدر میں جو اللہ تعالیٰ کے فرشتے امداد کے لئے بیھجے گئے ان کی تعداد اس جگہ ایک ہزار مذکور ہے اور سورة آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار ذکر کی گئی ہے۔ اس کا سبب دراصل تین مخلتف وعدے ہیں جو مختلف حالات میں کئے گئے ہیں۔ پہلا وعدہ ایک ہزار فرشتوں کا ہوا جس کا سبب رسول کریم ﷺ کی دعا اور عام مسلمانوں کی فریاد تھی۔ دوسرا وعدہ جو تین ہزار فرشتوں کا سورة آل عمران میں پہلے مذکور ہے وہ اس وقت کیا گیا جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ قریشی لشکر کے لئے اور کمک آرہی ہے۔ روح المعانی میں ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر وغیرہ سے بروایت شعبی منقول ہے کہ مسمانوں کو بدر کے دن یہ خبر پہنچی کہ کرز بن جابر محاربی مشرکین کی امداد کے لئے کمک لے کر آرہا ہے۔ اس خبر سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس پر آل عمران کی (آیت) اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَ ، نازل ہوئی جس میں تین ہزار فرشتے امداد کے لئے آسمان سے نازل کرنے کا وعدہ ذکر کیا گیا۔ اور تیسرا وعدہ پانچ ہزار کا اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ اگر فریق مخالف نے یکبارگی حملہ کردیا تو پانچ ہزار فرشتوں کی مدد بھیج دی جائے گی وہ آل عمران کی آیت مذکورہ کے بعد کی آیت میں اس طرح مذکور ہے (آیت) بَلٰٓى ۙاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ ، یعنی اگر تم ثابت قدم رہے اور تقوی پر قائم رہے اور مقابل لشکر یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑا تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزرا فرشتوں سے کرے گا جو خاص نشان یعنی خاص وردی میں ہوگے۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس وعدہ میں تین شرطیں تھیں ایک ثابت قدمی دوسرے تقوی تیسرے مخالف فریق کا یکبارگی حملہ۔ پہلی دو شرطیں تو صحابہ کرام میں موجود تھیں اور اس میدان میں اول سے آخر تک ان میں کہیں فرق نہیں آیا مگر تیسری شرط یکبارگی ہلہ کی واقع نہیں ہوئی اس لئے پانچ ہزار ملائکہ کے لشکر کی نوبت نہیں آئی۔ اس لئے معاملہ ایک ہزار اور تین ہزار میں دائر رہا۔ جس میں یہ بھی احتمال ہے کہ تین ہزار سے مراد یہ ہو کہ ایک ہزار جو پہلے بھیجے گئے ان کے ساتھ مزید دو ہزار شامل کرکے تین ہزار کردیئے گئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ تین ہزار اس پہلے ہزار کے علاوہ ہوں۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ ان تین آیتوں میں ملائکہ کی تین جماعتوں کے بھیجنے کا وعدہ ہے اور ہر جماعت کے ساتھ ایک خاص صفت کا ذکر ہے۔ سورة انفال کی آیت جس میں ایک ہزار کا وعدہ ہے اس میں تو ان ملائکہ کی صفت میں مُرْدِفِيْنَ فرمایا ہے جس کے معنی ہیں پیچھے لگانے والے اس میں شاید اس طرف پہلے ہی اشارہ کردیا گیا کہ ان فرشتوں کے پیچھے دوسرے بھی آنے والے ہیں۔ اور سورة آل عمران کی پہلی آیت میں ملائکہ کی صفت مُنْزَلِيْنَ ارشاد فرمائی۔ یعنی یہ فرشتے آسمان سے اتارے جائیں گے اس میں اشارہ خاص اہمیت کی طرف ہے کہ زمین میں جو فرشتے پہلے سے موجود ہیں ان سے کام لینے کے بجائے خاص اہتمام کے ساتھ یہ فرشتے آسمان سے اسی کام کے لئے بھیجے جائیں گے اور آل عمران کی دوسری آیت جس میں پانچ ہزار کا ذکر ہے اس میں ملائکہ کی صفت مُسَوِّمِيْنَ ارشاد فرمائی ہے کہ وہ ایک خاص لباس اور علامت کے ساتھ ہوں گے۔ جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ بدر میں نازل ہونے والے فرشتوں کے عمامے سفید اور غزوہ حنین میں مدد کے لئے آنے والے فرشتوں کے عمامے سرخ تھے۔ آخرت آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا النَّصْرُ اِلَّامِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ، اس میں مسلمانوں کو تنبیہ فرمادی کہ جو مدد بھی کہیں سے ملتی ہے خواہ ظاہری صورت سے ہو یا مخفی انداز سے سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے اسی کے قبضہ میں ہے فرشتوں کی مدد بھی اسی کے تابع فرمان ہے اس لئے تمہاری نظر صرف اسی ذات وحدہ لا شریک لہ کی طرف رہنی چاہئے کیونکہ وہ قدرت والا حکمت والا ہے۔