13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمعارف القرآن

Ayah 13:20

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو اور نہیں توڑتے اس عہد کو

تیسری آیت سے ان دونوں فریق کے خاص اعمال اور علامات کا بیان شروع ہوا ہے پہلے احکام الہیہ کے ماننے والوں کی صفات یہ ذکر فرمائی ہیں (آیت) الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں مراد اس سے وہ تمام عہد و پیمان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لئے ہیں جن میں سب سے پہلا ربوبیت ہے جو ازل میں تمام ارواح کو حاضر کرکے لیا گیا تھا اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں جس کے جواب میں سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا بلی یعنی کیوں نہیں آپ ضرور ہمارے رب ہیں اسی طرح تمام احکام الہی کی اطاعت تمام فرائض کی ادائیگی اور ناجائز چیزوں سے اجتناب کی منجانب اللہ وصیت اور بندوں کی طرف سے اس کا اقرار مختلف آیات قرآن میں مذکور ہے دوسری صفت وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ ہے یعنی وہ کسی عہد ومیثاق کی خلاف ورزی نہیں کرتے اس میں وہ عہد و پیمان بھی داخل ہیں جو بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں جن کا ذکر ابھی پہلے جملے میں عَهْدِ اللّٰهِ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور وہ عہد بھی جو امت کے لوگ اپنے نبی و رسول سے کرتے ہیں اور وہ معاہدے بھی جو ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے، ابوداؤد نے بروایت عوف ابن مالک یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے اس پر عہد اور بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور پانچ وقت نماز کو پابندی سے ادا کریں گے اور اپنے امراء کی اطاعت کریں گے اور کسی انسان سے کسی چیز کا سوال نہ کریں گے۔ جو لوگ اس بیعت میں شریک تھے ان کا حال پابندی عہد میں یہ تھا کہ اگر گھوڑے پر سواری کے وقت ان کے ہاتھ سے کوڑا گر جاتا تو کسی انسان سے نہ کہتے کہ یہ کوڑا اٹھا دو بلکہ خود سواری سے اتر کر اٹھاتے تھے، یہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کے دلوں میں آنحضرت محمد ﷺ کی محبت و عظمت اور جذبہ اطاعت کا اثر تھا ورنہ یہ ظاہر تھا کہ اس طرح کے سوال سے منع فرمانا مقصود نہ تھا جیسے حضرت عبداللہ ابن مسعود ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے دیکھا کہ آنحضرت محمد ﷺ خطبہ دے رہے ہیں اور اتفاق سے ان کے دخول مسجد کے وقت آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمہ نکلا کہ بیٹھ جاؤ عبداللہ بن مسعود جانتے تھے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سڑک پر یا بےموقع کسی جگہ کوئی ہے تو وہیں بیٹھ جائے مگر جذبہ اطاعت نے ان کو آگے قدم بڑھانے نہ دیا دروازہ سے باہر ہی جہاں یہ آواز کان میں پڑی اسی جگہ بیٹھ گئے احکام و ہدایات مذکورہ آیات میں انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق خاص خاص احکام و ہدایات آئی ہیں بعض صراحۃ اور بعض اشارۃ مثلا۔ 1 الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ سے ثابت ہوا کہ جو معاہدہ کسی سے کرلیا جائے اس کی پابندی فرض اور اس کی خلاف ورزی حرام ہے خواہ وہ معاہدہ اللہ اور رسول سے ہو جیسے ایمانی یا مخلوقات میں کسی سے ہو خواہ مسلمان سے یا کافر سے عہد شکنی بہرحال حرام ہے،
Ayah 13:21

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کو اللہ نے فرمایا ملانا اور ڈرتے ہیں اپنے رب سے، اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا

تیسری صفت اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی یہ بتلائی گئی وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کے قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اس کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ رشتہ داری کے تعلقات قائم رکھنے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے یہ لوگ ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل صالح کو یا آنحضرت محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان کے ساتھ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابوں پر ایمان کو ملا دیتے ہیں چوتھی صفت یہ بیان فرمائی وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ یعنی یہ لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں یہاں لفظ خوف کے بجائے خشیہ کا لفظ استعمال کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کا خوف اس طرح کا نہیں جیسے درندہ جانور یا موذی انسان سے طبعا خوف ہوا کرتا ہے بلکہ ایسا خوف ہے جیسے اولاد کو ماں باپ کا شاگرد کو استاد کا خوف عادۃ ہوتا ہے کہ اس کا منشا کسی ایذاء رسانی کا خوف نہیں ہوتا بلکہ عظمت و محبت کی وجہ سے خوف اس کا ہوتا ہے کہ کہیں ہمارا کوئی قول وفعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند اور مکروہ نہ ہوجائے اسی لئے مقام مدح میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کے خوف کا ذکر ہے عموما وہاں یہی لفظ خشیت کا استعمال ہوا ہے کیونکہ خشیت اسی خوف کو کہا جاتا ہے جو عظمت و محبت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی لئے اگلے جملہ میں جہاں حساب کی سختی کا خوف بیان کیا گیا ہے وہاں خشیت کا لفظ نہیں بلکہ خوف ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ارشاد فرمایا۔ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَاب یعنی یہ لوگ برے حساب سے ڈرتے ہیں برے حساب سے مراد حساب میں سختی اور جز رسی ہے حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ انسان کی نجات تو رحمت الہی سے ہو سکتی ہے کہ حساب اعمال کے وقت اجمال اور عفو و درگذر سے کام لیا جائے ورنہ جس شخص سے بھی پورا پورا ذرہ ذرہ کا حساب لیے لیا جائے اس کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں کیونکہ ایسا کون ہے جس سے کوئی گناہ وخطاء کبھی سرزد نہ ہوا ہو یہ حساب کی سختی کا خوف نیک و فرمانبردار لوگوں کی پانچوں صفت ہے، 2 وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم راہبانہ انداز سے ترک تعلقات کی نہیں بلکہ ضروری تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ماں باپ کے حقوق، اولاد، بیوی، اور بہن بھائیوں کے حقوق، دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر لازم کئے ہیں ان کو نظرانداز کرکے نفلی عبادت میں یا کسی دینی خدمت میں لگ جانا بھی جائز نہیں دوسرے کاموں میں لگ کر ان کو بھلا دینا تو کیسے جائز ہوتا۔ صلہ رحمی اور رشتہ داری کے تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کی خبر گیری اور ادائے حقوق کی تاکید قرآن کریم کی بیشمار آیات میں مذکور ہے۔ اور بخاری ومسلم کی حدیث میں روایت انس ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی رزق میں وسعت اور کاموں میں برکت عطا فرماویں تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کے معنی یہی ہیں کہ جن سے رشتہ داری کے خصوصی تعلقات ہیں ان کی خبر گیری اور بقدر گنجائش امداد واعانت کرے۔ اور حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک گاؤں والا اعرابی آنحضرت محمد ﷺ کے مکان پر حاضر ہوا اور سوال کیا کہ مجھے یہ بتلا دیجئے کہ وہ عمل کون سا ہے جو جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو (بغوی) اور صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ مذکور ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ صلہ رحمی اتنی بات کا نام نہیں کہ تم دوسرے عزیز کے احسان کا بدلہ ادا کردو اور اس نے تمہارے ساتھ کوئی احسان کیا ہے تو تم اس پر احسان کردو بلکہ اصل صلہ رحمی یہ ہے کہ تمہارے رشتہ دار عزیز تمہارے حقوق میں کوتاہی کرے تم سے تعلق نہ رکھے تم پھر بھی محض اللہ کے لئے اس سے تعلق کو قائم رکھو اور اس پر احسان کرو۔ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے تعلقات کو نبھانے ہی کے خیال سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے نسب ناموں کو محفوظ رکھو جن کے ذریعہ تمہارے اپنے رشتہ دار محفوظ رہ سکیں اور تم ان کے حقوق ادا کرسکو پھر ارشاد فرمایا کہ صلہ رحمی کے فوائد یہ ہیں کہ اس سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے اور مال میں برکت اور زیادتی ہوتی ہے اور عمر میں برکت ہوتی ہے (یہ حدیث ترمذی نے روایت کی ہے) اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بڑی صلہ رحمی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں سے وہی تعلقات قائم رکھے جو باپ کے سامنے تھے۔
Ayah 13:22

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا خوشی کو اپنے رب کی اور قائم رکھی نماز اور خرچ کیا ہمارے دیئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر اور کرتے ہیں برائی کے مقابلہ میں بھلائی ان لوگوں کے لئے ہے آخرت کا گھر

چھٹی صفت یہ بیان فرمائی (آیت) وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ۔ یعنی وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضائی جوئی کے لئے صبر کرتے ہیں صبر کے معنی عربی زبان میں اس مفہوم سے بہت عام ہیں جو اردو زبان میں سمجھا جاتا ہے کہ کسی مصیبت اور تکلیف پر صبر کریں کیونکہ اس کے اصلی معنی خلاف طبع چیزوں سے پریشان نہ ہونا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام پر لگے رہنا ہے اسی لئے اس کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں ایک صبر اعلی الطاعۃ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ثابت قدم رہنا دوسرے صبر میں عن المعصیۃ یعنی گناہوں سے بچنے پر ثابت قدم رہنا صبر کے ساتھ اِبْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ کی قید میں یہ بتلایا کہ متعلقہ صبر کوئی فضیلت کی چیز نہیں کیونکہ کبھی نہ کبھی تو بےصبرے انسان کو بھی انجام کار ایک مدت کے بعد صبر آ ہی جاتا ہے جو صبر غیر اختیاری ہو اس کی کوئی خاص فضیلت نہیں نہ ایسی غیر اختیاری کفیت کا اللہ تعالیٰ کسی کو حکم دیتے ہیں اسی لئے حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا یعنی اصلی اور معتبر صبر تو وہی ہے جو ابتدائے صدمہ کے وقت اختیار کرلیا جائے ورنہ بعد میں تو کبھی نہ کبھی جبری طور پر انسان کو صبر آ ہی جاتا ہے بلکہ قابل مدح وثناء وہ صبر ہے کہ اپنے اختیار سے خلاف طبع امر کو برداشت کرے خواہ وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی ہو یا محرمات و مکروہات سے بچنا ہو اسی لئے اگر کوئی شخص چوری کی نیت سے کسی مکان میں داخل ہوگیا مگر وہاں چوری کا موقع نہ ملا صبر کر کے واپس آ گیا تو یہ غیر اختیاری صبر کوئی مدح وثواب کی چیز نہیں ثواب جب ہے کہ گناہ سے بچنا خدا کے خوف اور اس کی رضائی جوئی کے سبب سے ہو۔ ساتویں صفتوَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ۔ اقامت صلوۃ کے معنی نماز کو اس کے پورے آداب و شرائط اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا ہے محض نماز پڑھنا نہیں اسی لئے قرآن کریم میں عموما نماز کا حکم اقامت صلوۃ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔ آٹھویں صفت(آیت) وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً یعنی وہ لوگ جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ اللہ کے نام پر بھی خرچ کرتے ہیں اس میں اشارہ کیا گیا کہ تم سے جس مال زکوٰۃ وغیرہ کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ کچھ تم سے نہیں مانگتا بلکہ اپنے ہی دیئے ہوئے رزق کا کچھ حصہ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد قلیل و حقیر مقدار میں آپ سے مانگا جاتا ہے جس کے دینے میں آپ کو طبعا کوئی پس و پیش نہ ہونی چاہئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً کی قید سے معلوم ہوا کہ صدقہ و خیرات میں ہر جگہ اخفاء ہی مسنون نہیں بلکہ بعض اوقات اس کا اظہار درست و صحیح ہوتا ہے اسی لئے علماء نے فرمایا زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اعلان و اظہار ہی افضل و بہتر ہے اس کا اخفاء مناسب نہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی تلقین اور ترغیب ہو البتہ نفلی صدقات کا خفیہ دینا افضل و بہتر ہے جن احادیث میں خفیہ دینے کی فضیلت آئی ہے وہ نفلی صدقات ہی کے متعلق ہے نویں صفت ہے يَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ یعنی یہ لوگ برائی کو بھلائی سے دشمنی سے ظلم کو عفو و درگذر سے دفع کرتے ہیں، برائی کے جواب میں برائی سے پیش نہیں آتے، اور بعض حضرات نے اس کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ گناہ کو نیکی سے دفع کرتے ہیں یعنی اگر کسی وقت کوئی خطاء و گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اطاعت و عبادت کی کثرت اور اہتمام اتنا کرتے ہیں کہ اس سے پچھلا گناہ محو ہوجاتا ہے حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو وصیت فرمائی کہ بدی کے بعد نیکی کرلو تو وہ بدی کو مٹا دے گی مراد یہ ہے کہ جب اس بدی اور گناہ پر نادم ہو کر توبہ کرلی اور اس کے پیچھے نیک عمل پیچھلے گناہ کو مٹا دے گا بغیر ندامت اور توبہ کے گناہ کے بعد کوئی نیک عمل کرلینا گناہ کی معافی کے لئے کافی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کی یہ نو صفتیں بیان کرنے کے بعد ان کی جزا یہ بیان فرمائی اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّار دار سے دار آخرت ہے یعنی انہی لوگوں کے لئے دار آخرت کی فلاح اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس جگہ دار سے مراد دار دنیا ہے اور مراد یہ ہے کہ نیک لوگوں کو اگرچہ اس دنیا میں تکلیفیں بھی پیش آتی ہیں مگر انجام کار دنیا میں بھی فلاح و کامیابی انھی کا حصہ ہوتا ہے آگے اسی عُقْبَى الدَّار یعنی دار آخرت کی فلاح کا بیان ہے 3 وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ سے معلوم ہوا کہ صبر کے جو فضائل قرآن و حدیث میں آئے ہیں کہ صبر کرنے والے کو اللہ جل شانہ کی معیت اور نصرت و امداد حاصل ہوتی ہے اور بےحساب اجر وثواب ملتا ہے وہ سب اسی وقت ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے صبر اختیار کیا ہو ورنہ یوں تو ہر شخص کو کبھی نہ کبھی صبر آہی جاتا ہے صبر کے اصلی معنی اپنے نفس کو قابو میں رکھنے اور ثابت قدم رہنے کے ہیں جس کی مختلف صورتیں ہیں ایک مصیبت اور تکلیف پر صبر کہ گھبرائے نہیں اور مایوس نہ ہو اللہ تعالیٰ پر نظر رکھے اور امیدوار رہے دوسرے اطاعت پر صبر کہ احکام الہیہ کی پابندی اگرچہ نفس کو دشوار معلوم ہو اس پر قائم رہے تیسرے معصیت اور برائیوں سے صبر کہ اگرچہ نفس کا تقاضا برائی کی طرف چلنے کا ہو لیکن خدا تعالیٰ کے خوف سے اس طرف نہ چلے۔ 4 وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے درست ہے البتہ افضل یہ ہے کہ صدقات واجبہ زکوٰۃ صدقہ الفطر وغیرہ کو علانیہ ادا کرے تاکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ادائیگی کی ترغیب ہو اور صدقات نافلہ جو واجب نہیں ان کو خفیہ ادا کرے تاکہ ریا کاری اور نام ونمود کے شبہ سے نجات ہو۔ 5 يَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ سے معلوم ہوا کہ ہر برائی کو دفع کرنا جو عقلی اور طبعی تقاضا ہے اسلام میں اس کا طریقہ یہ نہیں کہ برائی کا جواب برائی سے دے کر دفع کیا جائے بلکہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دفع کرو جس نے تم پر ظلم کیا ہے تم اس کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو جس نے تمہارے تعلق کا حق ادا نہیں کیا تم اس کا حق ادا کرو جس نے تم پر غصہ کیا تم اس کا جواب حلم و بردباری سے دو جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن بھی دوست ہوجائے گا اور شریر بھی آپ کے سامنے نیک بن جائے گا۔ اور اس جملہ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ گناہ کا بدلہ اطاعت سے ادا کرو کہ اگر کبھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فورا توبہ کرو اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ تو اس سے تمہارا پچھلا گناہ بھی معاف ہوجائے گا۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم سے کوئی برائی یا گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد تم نیک عمل کرلو اس سے وہ گناہ مٹ جائے گا (رواہ احمد بسند صحیح، مظہری) اس نیک عمل کی شرط یہ ہے کہ پچھلے گناہ سے توبہ کر کے نیک عمل اختیار کرے۔
Ayah 13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

باغ ہیں رہنے کے داخل ہوں گے ان میں اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں میں اور جوروں میں اور اولاد میں اور فرشتے آئیں گے ان کے پاس ہر دروازے سے

کہ وہ ہوں گی جنت میں داخل ہوں گے عدن کے معنی قیام وقرار کے ہیں مراد یہ ہے کہ ان جنتوں سے کسی وقت ان کو نکالا نہ جائے گا بلکہ ان میں ان کا اقرار و قیام دائمی ہوگا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ عدن وسط جنت کا نام ہے جو جنت کے مقامات میں بھی اعلیٰ مقام ہے، اس کے بعد ان حضرات کے لئے ایک اور انعام یہ ذکر فرمایا گیا کہ یہ انعام ربانی صرف ان لوگوں کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں اور اولاد کو بھی اس میں حصہ ملے گا شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ مسلمان ہوں اور مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں کا اپنا عمل اگرچہ اس مقام پر پہنچنے کے قابل نہ تھا مگر اللہ کے مقبول بندوں کی رعایت اور برکت سے ان کو بھی اسی مقام بلند پر پہنچا دیا جائے گا۔ اس کے بعد دار آخرت میں ان کی فلاح و کامیابی کا مزید بیان یہ ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اور یہ کیسا اچھا انجام ہے دار آخرت کا۔ (آیت) جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے مقبول اور نیک بندوں کو خود بھی جنت میں مقام ملے گا اور ان کی رعایت سے ان کے ماں باپ بیوی اور اولاد کو بھی شرط یہ ہے کہ یہ لوگ صالح یعنی مومن اور مسلمان ہوں کافر نہ ہوں اگرچہ اعمال صالحہ میں اپنے بزرگ کے برابر نہ ہوں مگر اللہ تعالیٰ اس بزرگ کی برکت سے ان لوگوں کو بھی اسی مقام جنت میں پہنچا دیں گے جو اس بزرگ کا مقام ہے جیسے دوسری آیت میں مذکور ہے اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ یعنی اپنے نیک بندوں کی ذریت اور اولاد کو بھی انہی کے ساتھ کردیں گے اس سے معلوم ہو کہ بزرگوں کے ساتھ تعلق خواہ نسب اور قرابت کا ہو یا دوستی کا وہ آخرت میں بھی بشرط ایمان نفع دے گا۔
Ayah 13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

کہیں گے سلامتی تم پر بدلے اس کے کہ تم نے صبر کیا سو خوب ملا عاقبت کا گھر۔

6 سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ سے معلوم ہوا کہ آخرت کی نجات اور درجات عالیہ سب اس کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ انسان دنیا میں صبر سے کام لے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کو ادا کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے پر اپنے نفس کو مجبور کرتا رہے
Ayahs 13:25–30

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ توڑتے ہیں عہد اللہ کا مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو فرمایا اللہ نے جوڑنا اور فساد اٹھاتے ہیں ملک میں ایسے لوگ ان کے واسطے ہے لعنت اور ان کے لئے ہے برا گھر

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کرتا ہے، اور فریفتہ ہیں دنیا کی زندگی پر اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں آخرت کے آگے مگر متاع حقیر

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے کہہ دے اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے، اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع ہوا

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور چین پاتے ہیں ان کے دل اللہ کی یاد سے، سنتا ہے اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں دل

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور کام کئے اچھے، خوشحالی ہے ان کے واسطے اور اچھا ٹھکانا

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح تجھ کو بھیجا ہم نے ایک امت میں کہ گزر چکی ہیں اس سے پہلے بہت امتیں تاکہ سنا دے تو ان کو جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ منکر ہوتے ہیں رحمن سے، تو کہہ وہی رب میرا ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف آتا ہوں رجوع کر کے۔

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی (اور اس کی عیش و عشرت) آخرت کے مقابلہ میں بجز ایک متاع قلیل کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ کافر لوگ (آپ کی نبوت میں طعن و اعتراض کرنے کے لئے یوں) کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر کوئی معجزہ (ہمارے فرمائشی معجزوں میں سے) ان کے رب کی طرف سے کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ واقعی (تمھاری ان بیہودہ فرمائشوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گمراہ کردیتے ہیں (وجہ معلوم ہونے کی ظاہر ہے کہ باوجود معجزات کافیہ کے جن میں سب سے اعظم قرآن ہے پھر فضول باتیں کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسمت ہی میں گمراہی لکھی ہے) اور (جس طرح معاندین کو قرآن جو اعظم معجزات ہے ہدایت کے لئے کافی نہ ہوا اور گمراہی ان کو نصیب ہوئی اسی طرح) جو شخص ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے (اور طریق حق کا طالب ہوتا ہے جس کا مصداق آگے آتا ہے (آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ الخ) اس کو اپنی طرف (رسائی دینے کے لئے) ہدایت کردیتے ہیں (اور گمراہی سے بچا لیتے ہیں) مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے (جس کی بڑی فرد قرآن ہے) ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے (جس کی بڑی فرد ایمان ہے یعنی وہ قرآن اعجاز کو دلالت علی النبوۃ کے لئے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمائش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور اطاعت میں ان کی ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی اور) خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر (کی ایسی ہی خاصیت ہے کہ اس) سے دل کو اطمینان ہوجاتا ہے (یعنی جس مرتبے کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان چناچہ قرآن سے ایمان اور اعمال صالحہ سے اطاعت کا شدت تعلق اور توجہ الی اللہ میسر ہوتا ہے غرض) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے (جن کا ذکر اوپر ہوا) ان کے لئے (دنیا میں) خوش حالی اور (آخرت میں) نیک انجامی ہے (جس کو دوسری (آیت) میں فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ الخ سے تعبیر فرمایا ہے اسی طرح) ہم نے آپ ﷺ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس (امت) سے پہلے اور بہت سی امتیں گذر چکی ہیں (اور آپ ﷺ کو ان کی طرف اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنا دیں جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجی ہے اور (ان کو چاہئے تھا کہ اس نعمت عظمی کی قدر کرتے اور اس کتاب پر کہ وہ معجزہ بھی ہے ایمان لے آتے مگر) وہ لوگ ایسے بڑے رحمت والے کی ناسپاہی کرتے ہیں (اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے) آپ فرما دیجئے کہ (تمہارے ایمان نہ لانے سے میرا کوئی ضرر نہیں کیونکہ تم زیادہ سے زیادہ میرے ساتھ مخالفت کرو گے سو اس سے مجھ کو اس لئے اندیشہ نہیں کہ) وہ میرا مربی (اور نگہبانی ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (پس لامحالہ وہ کامل الصفات ہوگا اور حفاظت کے لئے کافی ہوگا اس لئے) میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا اور اسی کے پاس مجھ کو جانا ہے (خلاصہ یہ کہ میری حفاظت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کافی ہے تم مخالفت کر کے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے البتہ تمہارا ہی ضرر ہے) معارف و مسائل شروع رکوع میں کل انسانوں کی دو قسم کرکے بتلایا گیا تھا کہ ان میں کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں کچھ نافرمان، پھر فرمانبردار بندوں کی چند صفات و علامات بیان کی گئیں اور آخرت میں ان کے لئے بہترین جزا کا ذکر کیا گیا۔ اب دوسری قسم کے لوگوں کی علامات وصفات اور ان کی سزا کا بیان ان آیات میں ہے اس میں ان سرکش اور نافرمان بندوں کی ایک خصلت تو یہ بتلائی گئی، الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جو ازل میں حق تعالیٰ کی ربوبیت اور وحدانیت کے متعلق تمام پیدا ہونے والی روحوں سے لیا گیا تھا جس کو کفار و مشرکین نے دنیا میں آ کر توڑ ڈالا اور اللہ کے ساتھ سینکڑوں ہزاروں رب اور معبود بنا بیٹھے اور وہ تمام عہد بھی اس میں داخل ہیں جن کی پابندی عہد لا الہ الا اللہ کے ضمن میں انسان پر لازم ہوجاتی ہے کیونکہ کلمہ طبیہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ دراصل ایک عظٰیم معاہدہ کا عنوان ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم ﷺ کے بتلائے ہوئے تمام احکام کی پابندی اور جن چیزوں سے روکا گیا ہے ان سے پرہیز کا عہد بھی آجاتا ہے اس لئے جب کوئی انسان کسی حکم خداوندی یا حکم رسول سے انحراف کرتا ہے تو اس عہد ایمانی کی عہد شکنی کرتا ہے، دوسری خصلت ان نافرمان بندوں کی یہ بتلائی گئی وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ یعنی یہ لوگ ان تعلقات کو قطع کردیتی ہیں جن کو قائم رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ان میں انسان کا وہ تعلق بھی شامل ہے جو اس کو اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم ﷺ سے ہے اس کا قطع کرنا یہی ہے کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے اور رشتہ داری کے وہ تعلقات بھی اس میں شامل ہیں جن کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کی قرآن کریم میں جا بجا ہدایت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے ان حقوق و تعلقات کو بھی توڑ ڈالتے ہیں مثلا ماں باپ، بھائی بہن، پڑوسی، اور دوسرے متعلقین کے جو حقوق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے انسان پر عائد کئے ہیں یہ لوگ ان کو ادا نہیں کرتے۔ تیسری خصلت یہ بتلائی ہے۔ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ یعنی یہ لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں اور یہ تیسری خصلت درحقیقت پہلی ہی دو خصلتوں کا نتیجہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے عہد کی پرواہ نہیں کرتے اور کسی کے حقوق و تعلقات کی رعایت نہیں کرتے ظاہر ہے کہ ان کے اعمال و افعال دوسرے لوگوں کے لئے مضرت اور ایذاء کا سبب بنیں گے لڑائی جھگڑے، قتل و قتال کے بازار گرم ہوں گے یہی زمین کا سب سے بڑا فساد ہے، سرکش اور نافرمان بندوں کی یہ تین خصلتیں بتلانے کے بعد ان کی سزا یہ بتلائی گئی ہے، اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ یعنی ان کے لئے لعنت ہے اور برا ٹھکانا ہے لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دور اور محروم ہونے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کی رحمت سے دور ہونا سب عذابوں سے بڑا عذاب اور ساری مصیتوں سے بڑی مصیبت ہے۔ (آیت) اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ جس طرح پہلی آیات میں فرشتے ان کو سلام کریں گے اور بتلائیں گے کہ یہ جنت کی دائمی نعمتیں سب تمہارے صبر وثبات اور فرمانبرداری کا نتیجہ ہیں اسی طرح اس آیت میں نافرمان سرکش لوگوں کا انجام بد یہ بتلایا ہے کی ان پر اللہ کی لعنت ہے یعنی وہ رحمت سے دور ہیں اور ان کے لئے جہنم کا ٹھکانا مقرر ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ عہد شکنی اور رشتہ داروں و عزیزوں سے قطع رحمی لعنت اور جہنم کا سبب ہے نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ہوا ہوتا کہ چلیں اس سے پہاڑ یا ٹکڑے ہو وے اس سے زمین، یا بولیں اس سے مردے تو کیا ہوتا، بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، سو کیا خاطر جمع نہیں ایمان والوں کو اس پر کہ اگر چاہے اللہ تو راہ پر لائے سب لوگوں کو اور برابر پہنچتا رہے گا منکروں کو ان کے کرتوت پر صدمہ یا اترے گا ان کے گھر سے نزدیک جب تک کہ پہنچے وعدہ اللہ کا، بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ

خلاصہ تفسیر اور (اے پیغمبر اور مسلمانو ! ان کافروں کی عناد کی یہ کیفیت ہے کہ قرآن کی جو موجودہ حالت ہے کہ اس کا معجزہ ہونا غور وفکر پر موقوف ہے بجائے اس کے) اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیئے جاتے یا اس کے ذریعے سے زمین جلدی جلدی طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردوں کے ساتھ کسی کو باتیں کرا دی جائیں (یعنی مردہ زندہ ہوجاتا اور کوئی اس سے باتیں کرلیتا اور یہ وہ معجزے ہیں جن کی فرمائش اکثر کفار کیا کرتے تھے بعضے مطلقا بعضے اس طرح سے کہ قرآن کو بحالت موجودہ تو ہم معجزہ مانتے نہیں البتہ اگر قرآن سے ان خوارق کا ظہور ہو تو ہم اس کو معجزہ مان لیں مطلب یہ کہ قرآن سے ایسے ایسے معجزات کا بھی ظہور ہوتا جس سے دونوں طرح کے لوگوں کی فرمائش پوری ہوجاتی یعنی جو نفس خوارق مذکورہ کے مسدعی تھے اور جو ان کا ظہور قرآن سے چاہتے تھے) تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے (کیونکہ یہ اسباب مؤ ثر حقیقی نہیں) بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے (وہ جس کو توفیق عطا فرماتے ہیں وہی ایمان لاتا ہے اور انکی عادت ہے کہ طالب کو توفیق دیتے ہیں اور معاند کو محروم رکھتے ہیں اور چونکہ بعضے مسلمانوں کا جی چاہتا تھا کہ ان معجزات کا ظہور ہوجاوے تو شاید ایمان لے آویں اس لئے آگے ان کا جواب ہے کہ) کیا (یہ سن کر کہ یہ معاند ہیں ایمان نہ لاویں گے اور یہ کہ سب اختیار خدا ہی کو ہے اور یہ کہ اسباب مؤ ثر حقیقی نہیں ہیں کیا یہ سن کر) پھر بھی ایمان والوں کو اس بات میں دل جمعی نہیں ہوئی کہ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو تمام (دنیا بھر کے) آدمیوں کو ہدایت کردیتا (مگر بعض حکمتوں سے مشیت نہیں ہوئی تو سب ایمان نہ لاویں گے جس کی بڑی وجہ عناد ہے پھر ان معاندین کے ایمان لانے کی فکر میں کیوں لگے ہیں) اور (جب محقق ہوگیا کہ یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے تو اس امر کا خیال آسکتا ہے کہ پھر ان کو سزا کیوں نہیں دی جاتی اس کے متعلق ارشاد ہے کہ) یہ (مکہ کے) کافر تو ہمیشہ (آئے دن) اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے (بد) کرداروں کے سبب ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑتا رہتا ہے (کہیں قتل کہیں قید کہیں ہزیمت و شکست) یا (بعض حادثہ اگر ان پر نہیں بھی پڑتا مگر) ان کی بستی کے قریب نازل ہوتا رہتا ہے (مثلا کسی قوم پر آفت آئی اور ان کو خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں ہم پر بھی بلا نہ آوے) یہاں تک کہ (اسی حالت میں) اللہ تعالیٰ کا وعدہ آ جاوے گا (یعنی آخرت کے عذاب کا سامنا ہوجاوے گا جو کہ مرنے کے بعد شروع ہوجاوے گا اور) یقینا اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتے (پس عذاب کا وقوع ان پر یقینی ہے گو بعض اوقات کچھ دیر سے سہی) اور (ان لوگوں کا یہ معاملہ تکذیب و استہزاء کچھ آپ کے ساتھ خاص نہیں اور اسی طرح ان کے عذاب میں توفیق ہونا کچھ ان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پہلے رسل اور ان کی امتوں کے ساتھ بھی ایسا ہوچکا ہے چنانچہ) بہت سے پیغمبروں کے ساتھ جو کہ آپ سے قبل ہوچکے ہیں (کفار کی طرف سے) استہزاء ہوچکا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے ان پر داروگیر کی سو (سمجھنے کی بات ہے کہ) میری سزا کس طرح کی تھی (یعنی نہایت سخت تھی جب اللہ تعالیٰ کی شان معلوم ہوگئی وہی مختار کل ہیں تو اس سے معلوم اور ثابت ہونے کے بعد) پھر (بھی) کیا جو (خدا) ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہوا اور ان لوگوں کے شرکاء برابر ہو سکتے ہیں اور (باوجود اس کے) ان لوگوں نے خدا کے لئے شرکاء تجویز کئے ہیں آپ ﷺ کہئے کہ (ذرا) ان (شرکاء) کے نام تو لو (میں بھی سنو کون ہیں اور کیسے ہیں) کیا (تم حقیقتا ان کو شرکاء سمجھ کر دعوی کرتے ہو تو تم پر یہ لازم آتا ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا (بھر) میں اس (کے وجود) کی خبر اللہ تعالیٰ کو نہ ہو (کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی کو موجود جانتے ہیں جو واقع میں موجود ہو اور معدوم کو موجود نہیں جانتے کیونکہ اس سے علم کا غلط لازم آتا ہے گو انکشاف میں دونوں یکساں ہیں غرض ان کو حقیقی شریک کہنے سے یہ محال لازم آتا ہے پس ان کا شریک ہونا بھی محال ہے) یا (یہ کہ ان کو حقیقۃ شریک نہیں بلکہ) محض ظاہری لفظ کے اعتبار ان کو شریک کہتے ہو (اور مصداق واقعی اس کا کہیں نہیں ہے اگر یہ شق ثانی ہے تو ان کے شریک نہ ہونے کو از خود تسلیم کرتے ہو پس مطلوب کہ بطلان اشراک ہے دونوں شقوں پر ثابت ہوگیا اول شق میں دلیل سے دوسری شق میں تمہاری تسلیم سے اور یہ تقریر باوجودیکہ اعلیٰ درجہ میں کافی ہے مگر یہ لوگ نہ مانیں گے) بلکہ ان کافروں کو اپنے مغالطہ کی باتیں (جس سے تمسک کر کے مبتلائے شرک ہیں) مرغوب معلوم ہوتی ہیں اور (اسی وجہ سے) یہ لوگ راہ (حق) سے محروم رہ گئے ہیں اور (اصل وہی بات ہے جو اوپر (بل للہ الامر) سے مفہوم ہوچکی ہے یعنی) جس کو خدا تعالیٰ گمراہی میں رکھے اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں (البتہ وہ اسی کو گمراہ رکھتا ہے جو باوجود وضوح حق کے عناد کرتا ہے) معارف و مسائل مشرکین مکہ کے سامنے اسلام کی حقانیت کے واضح دلائل اور رسول کریم ﷺ کے سچے رسول ہونے کی کھلی ہوئی نشانیاں آپ کی زندگی کے ہر شعبہ سے پھر حیرت انگیز معجزات سے پوری طرح روشن ہوچکی تھیں اور ان کا سردار ابوجہل یہ کہہ چکا تھا کہ بنو ہاشم سے ہمارا خاندانی مقابلہ ہے ہم ان کی اس برتری کو کیسے قبول کرلیں کہ خدا کا رسول کریم ﷺ ان میں سے آیا اس لئے وہ کچھ بھی کہیں اور کیسی ہی نشانیاں دکھلائیں ہم ان پر کسی حال ایمان نہیں لائیں گے اسی لئے وہ ہر موقع پر اس ضد کا مظاہرہ لغو قسم کے سوالات اور فرمائشوں کے ذریعہ کیا کرتے تھے آیات مذکورہ بھی ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے ایک سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہیں تفسیر بغوی میں ہے کہ مشرکین مکہ جن میں ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ ابن امیہ کو رسول کریم ﷺ کے پاس بھیجا اس نے کہا کہ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی قوم اور ہم سب آپ کو رسول تسلیم کرلیں اور آپ کی پیروی کریں تو ہمارے چند مطالبات ہیں اپنے قرآن کے ذریعہ ان کو پورا کر دیجئے تو ہم سب اسلام قبول کرلیں گے، مطالبات میں ایک تو یہ تھا کہ شہر مکہ کی زمین بڑی تنگ ہے سب طرف پہاڑوں سے گھری ایک طولانی زمین ہے جس میں نہ کاشت اور زراعت کی گنجائش ہے نہ باغات اور دوسری ضروریات کی آپ معجزہ کے ذریعہ ان پہاڑوں کو دور ہٹا دیجئے تاکہ مکہ کی زمین فراخ ہوجائے آخر آپ ہی کے کہنے کے مطابق داؤد ؑ کے لئے پہاڑ مسخر کردیئے گئے تھے جب وہ تسبیح پڑھتے تو پہاڑ بھی ساتھ ساتھ تسبیح کرتے تھے آپ اپنے قول کے مطابق اللہ کے نزدیک داؤد ؑ سے کمتر تو نہیں ہیں دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ جس طرح سیلمان ؑ کے لئے آپ کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہوا کو مسخر کر کے زمین کے بڑے بڑے فاصلوں کو مختصر کردیا تھا آپ بھی ہمارے لئے ایسا ہی کردیں کہ ہمیں شام و یمن وغیرہ کے سفر آسان ہوجائیں تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ جس طرح عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کردیتے تھے آپ ان سے کچھ کم تو نہیں آپ بھی ہمارے لئے ہمارے دادا قصی کو زندہ کر دیجئے تاکہ ہم ان سے یہ دریافت کرسکیں کہ آپ کا دین سچا ہے یا نہیں (مظہری بحوالہ بغوی وابن ابی حاتم وابن مردویہ) مذکور الصدر آیات میں ان معاندانہ مطالبوں کا یہ جواب دیا گیا (آیت) وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا اس میں تسییر جبال سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا اور قطعت بہ الارض سے مراد مختصر وقت میں بڑی مسافت قطع کرنا اور کلم بہ الموتیٰ سے مردوں کو زندہ کر کے کلام کرنا مراد ہے اور لوحرف شرط کا جواب بقرینہ مقام محذوف ہے یعنی لما آمنوا جیسا کہ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ ایسا ہی مضمون اور اس کا یہی جواب مذکور ہے (آیت) وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤ ْمِنُوْٓا۔ اور معنی یہ ہیں کہ اگر قرآن کے ذریعہ بطور معجزہ کے ان کے یہ مطالبات پورے کردیئے جائیں تب بھی وہ ایمان لانے والے نہیں کیونکہ وہ ان مطالبات سے پہلے ایسے معجزات کا مشاہدہ کرچکے ہیں جو ان کے مطلوبہ معجزات سے بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں رسول کریم ﷺ کے اشارہ سے چاند کے دو ٹکڑے ہوجانا پہاڑوں کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے سے اور تسخیر ہو اسے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے اسی طرح بےجان کنکریوں کا آپ کے دست مبارک میں بولنا اور تسبیح کرنا کسی مردہ انسان کے دوبارہ زندہ ہو کر بولنے سے کہیں زیادہ عظیم معجزہ ہے لیلۃ المعراج میں مسجد اقصٰی اور پھر وہاں سے آسمانوں کا سفر اور بہت مختصر وقت میں واپسی تسخیر ہوا اور تخت سلیمانی کے اعجاز سے کتنا زیادہ عظیم ہے مگر یہ ظالم یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی جب ایمان نہ لائے تو اب ان مطالبات سے بھی ان کی نیت معلوم ہے کہ محض دفع الوقتی ہے کچھ ماننا اور کرنا نہیں ہے مشرکین کے ان مطالبات کا مقصد چونکہ یہی تھا کہ ہمارے مطالبات پورے نہ کئے جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو ان کاموں پر قدرت نہیں یا پھر رسول کریم ﷺ کی بات اللہ تعالیٰ کے یہاں مسموع اور مقبول نہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں اس لئے اس کے بعد ارشاد فرمایا بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا یعنی اللہ ہی کے لئے اختیار سب کا سب مطلب یہ ہے کہ مذکورہ مطالبات کا پورا نہ کرنا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مصالح عالم کو وہی جاننے والے ہیں انہوں نے اپنی حکمت سے ان مطالبات کو پورا کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ مطالبہ کرنے والوں کی ہٹ دھرمی اور بدنیتی ان کو معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ سب مطالبے پورے کردیئے جائیں گے جب بھی یہ ایمان نہ لائیں گے۔ اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا امام بغوی نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے جب مشرکین مکہ کے یہ مطالبات سنے تو یہ تمنا کرنے لگے کہ بطور معجزہ کے یہ مطالبات پورے کردیئے جائیں تو بہتر ہے سارے مکہ والے مسلمان ہوجائیں گے اور اسلام کو بڑی قوت حاصل ہوجائے گی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کے معنی یہ ہیں کہ کیا اہل ایمان ان مشرکین کی حیلہ جوئی اور معاندانہ بحثوں کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود اب تک ان کے ایمان لانے سے مایوس نہیں ہوئے کہ ایسی تمنائیں کرنے لگے جب کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا جو سب ہی انسانوں کو ایسی ہدایت دیدیتا کہ وہ مسلمان بنے بغیر نہ رہ سکتے مگر حکمت کا تقاضا یہ نہ تھا کہ سب کو اسلام و ایمان پر مجبور کردیا جائے بلکہ حکمت یہی تھی کہ ہر شخص کا اپنا اختیار باقی رہے اپنے اختیار سے اسلام کو قبول کرے یا کفر کو۔ (آیت) وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِم حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قارعہ کے معنی مصیبت اور آفت کے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان مشرکین کے مطالبات تو اس لئے منظور نہیں کئے گئے کہ ان کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی معلوم تھی کہ پورے کرنے پر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں یہ تو اللہ کے نزدیک اسی کے مستحق ہیں کہ ان پر دنیا میں بھی آفتیں اور مصیبتیں آئیں جیسا کہ اہل مکہ پر کبھی قحط کی مصیبت آئی کبھی اسلامی غزوات بدر واحد وغیرہ میں ان پر قتل اور قید ہونے کی آفت نازل ہوئی کسی پر بجلی گر گئی کوئی اور کسی بلاء میں مبتلا ہوا اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ یعنی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ مصیبت براہ راست ان پر نہیں آئے گی بلکہ ان کے قریب والی بستیوں پر آئے گی جس سے ان کو عبرت حاصل ہو اور ان کو اپنا انجام بد بھی نظر آنے لگے۔ (آیت) حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَاد یعنی ان مصائب وآفات کا یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا نہ ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی ٹل نہیں سکتا مراد اس وعدہ سے فتح مکہ کا وعدہ ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر مختلف قسم کی آفتیں آتی رہیں گی یہاں تک کہ آخر میں مکہ مکرمہ فتح ہوگا اور یہ سب لوگ مغلوب و مقہور ہوجائیں گے آیت مذکورہ میں اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ سے معلوم ہوا کہ جس قوم اور بستی کے قرب و جوار پر کوئی عذاب یا آفت و مصیبت آتی ہے تو اس میں حق تعالیٰ شانہ کی یہ حکمت بھی مستور ہوتی ہے کہ آس پاس کی بستیوں کو بھی تنبیہ ہوجائے اور وہ دوسروں سے عبرت حاصل کر کے اپنے اعمال درست کرلیں تو یہ دوسروں کا عذاب ان کے لئے رحمت بن جائے ورنہ پھر ایک دن ان کا بھی وہی انجام ہونا ہے جو دوسروں کا مشاہدہ میں آیا ہے۔ آج ہمارے ملک میں قرب و جوار میں روز روز کسی جماعت کسی بستی پر مختلف قسم کی آفتیں آتی رہتی ہیں کہیں سیلاب کی تباہ کاری کہیں ہوا کے طوفان کہیں زلزلہ کا عذاب کہیں کوئی اور آفت قرآن کریم کے اس ارشاد کے مطابق یہ صرف ان بستیوں اور قوموں ہی کی سزا نہیں ہوتی بلکہ قرب و جوار کے لوگوں کو بھی تنبیہ ہوتی ہے پچھلے زمانہ میں اگرچہ علم وفن کی اتنی ٹیپ ٹاپ نہ تھی مگر لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف تھا کسی جگہ اس طرح کا کوئی حادثہ پیش آجاتا تو خود وہ لوگ بھی اور اس کے قرب و جوار والے بھی سہم جاتے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے اپنے گناہوں سے تائب ہوتے اور استغفار، صدقہ و خیرات کو ذریعہ نجات سمجھتے تھے اور آنکھوں سے مشاہدہ ہوتا تھا کہ ان کی مصیبتیں بڑی آسانی سے ٹل جاتی تھیں آج ہماری غفلت کا یہ عالم ہے کہ مصیبت کے وقت بھی خدا ہی یاد نہیں آتا اور سب کچھ یاد آتا ہے دنیا کے عام غیر مسلموں کی طرح ہماری نظریں بھی صرف مادی اسباب پر جم کر رہ جاتی ہیں مسبب الاسباب کی طرف توجہ کی اس وقت بھی توفیق کم لوگوں کو ہوتی ہے اسی کا نتیجہ اس طرح کے مسلسل حوادث ہیں جن سے دنیا ہمیشہ دو چار رہتی ہے۔ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَاد یعنی ان کفار و مشرکین پر دنیا میں بھی مختلف عذابوں اور آفتوں کا یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آ پہنچنے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے کبھی خلاف نہیں کرتے۔ وعدہ سے مراد اس جگہ فتح مکہ ہے جس کا وعدہ حق تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے کیا ہوا تھا اور مطلب آیت کا یہ ہوا کہ آخر میں تو مکہ فتح ہو کر ان سب مشرکین کو زیر و زبر اور مغلوب و مقہور ہونا ہی ہے اس سے پہلے بھی ان کے ان کے جرائم کی کچھ کچھ سزا ان کو ملتی رہے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وَعْدُ اللّٰهِ سے مراد اس جگہ روز قیامت ہو جس کا وعدہ سب پیغمبروں سے کیا ہوا ہے اور ہمیشہ سے کیا ہوا ہے اس روز تو ہر کافر مجرم اپنے کئے کی پوری پوری سزا بھگتے گا مذکور الصدر واقعہ میں مشرکین کے معاندانہ سوالات اور ان کی ہٹ دھرمی سے رسول کریم ﷺ کو رنج و تکلیف پہنچنے کا اندیشہ تھا اس لئے اگلی آیت میں آپ کی تسلی کے لئے فرمایا گیا۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور ٹھٹھا کرچکے ہیں کتنے رسولوں سے تجھ سے پہلے سو ڈھیل دی میں نے منکروں کو پھر ان کو پکڑ لیا، سو کیسا تھا میرا بدلہ

(آیت) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۔ یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا ہے کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فورا نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الہی نے پکڑ لیا اور کیسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا جو لئے کھڑا ہے ہر کسی کے سر پر جو کچھ اس نے کیا ہے اور مقرر کرتے ہیں اللہ کے لئے شریک کہہ ان کا نام لو یا اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں یہ نہیں بلکہ بھلے سمجھا دیئے ہیں منکروں کو ان کے فریب اور وہ روک دیئے گئے ہیں راہ سے اور جس کو گمراہ کرے اللہ کے سوا کوئی نہیں اس کو راہ بتانے والا۔

(آیت) اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍ۔ۢ اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور بےعقلی کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں کہ بےجان وبے شعور بتوں کو اس ذات پاک کے برابر ٹھراتے ہیں جو ہر نفس پر نگراں اور اس کے اعمال و افعال کا محاسبہ کرنے والی ہے پھر فرمایا کہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ شیطان نے ان کی اس جہالت ہی کو ان کی نظر میں مزین کر رکھا ہے وہ اسی کو بڑا کمال اور کامیابی سمجھتے ہیں۔
Ayahs 13:34–37

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو مار پڑتی ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کی مار تو بہت ہی سخت ہے، اور کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

حال جنت کا جس کا وعدہ ہے پرہیزگاروں سے بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں، میوہ اس کا ہمیشہ ہے اور سایہ بھی، یہ بدلہ ہے ان کا جو ڈرتے رہے، اور بدلہ منکروں کا آگ ہے

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کو ہم نے دی ہے کتاب خوش ہوتے ہیں اس سے جو نازل ہوا تجھ پر اور بعضے فرقے نہیں مانتے اس کی بعض بات، کہہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ بندگی کروں اللہ کی اور شریک نہ کروں اس کا، اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف ہے میرا ٹھکانا

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہم نے یہ کلام حکم عربی زبان میں، اور اگر تو چلے ان کی خواہش کے موافق بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچ چکا، کوئی نہیں تیرا اللہ سے حمایتی اور نہ بچانے والا۔

خلاصہ تفسیر ان کافروں کے لئے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (وہ قتل و قید وذلت یا امراض و مصائب ہے) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے (کیونکہ شدید بھی ہے اور دائم بھی ہے) اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا (اور) جس جنت کا متقیوں سے (یعنی شرک و کفر سے بچنے والوں سے) وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ کہ اس (کی عمارات اور اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا اور جن لوگوں کو ہم نے (آسمانی) کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے (اور وہ اس کو پورے طور سے مانتے تھے) وہ اس (کتاب) سے خوش ہوئے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی ہے (کیونکہ اس کی خبر اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور خوش ہو کر مان لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں جیسے یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور نصاری میں نجاشی اور ان کے فرستادے جن کا ذکر اور آیات میں بھی ہے) اور انہی کے گروہ میں بعضے ایسے ہیں کہ اس (کتاب) کے بعض حصہ کا (جس میں ان کی کتاب کے خلاف احکام ہیں) انکار کرتے ہیں (اور کفر کرتے ہیں) آپ (ان سے) فرمائیے کہ (احکام دو قسم کے ہیں اصول اور فروع اگر تم اصول میں مخالف ہو سو وہ سب شرائع میں مشترک ہیں چنانچہ) مجھ کو (توحید کے متعلق) صرف یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھراؤں (اور نبوت کے متعلق یہ بات ہے کہ) میں (لوگوں کو) اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں (یعنی نبوت کا حاصل یہ ہے کہ میں داعی الی اللہ ہوں) اور (میعاد کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہے کہ) اسی کی طرف مجھ کو (دنیا سے لوٹ کر) جانا ہے (یعنی اصول یہ تین ہیں سو ان میں سے ایک بھی قابل انکار نہیں چناچہ توحید سب کے نزدیک مسلم ہے جیسا کہ یہی مضمون دوسری آیت میں ہے (قل تعالوا کلمۃ سواء بننا الخ) اور نبوت میں اپنے لئے مال وجاہ نہیں چاہتا جس پر انکار کی گنجائش ہو محض دعوت الی اللہ کرتا ہوں سو ایسے لوگ پہلے بھی ہوئے ہیں جس کو تم بھی مانتے ہو جیسا یہی مضمون دوسری جگہ بھی ہے (آیت) مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤ ْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ الخ اسی طرح میعاد کا عقیدہ مشترک اور مسلم اور غیر قابل انکار ہے اور اگر فروع میں مخالف ہو تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ یوں دیتے ہیں کہ ہم نے جس طرح اور رسولوں کو خاص خاص زبانوں میں خاص احکام دیئے) اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو اس طور پر نازل کیا کہ وہ خاص حکم ہے عربی زبان میں (عربی کی تصریح سے اشارہ ہوگیا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی دوسری زبانوں کی طرف اور زبانوں کے اختلاف سے اشارہ ہوگیا اختلاف امم کی طرف تو حاصل جواب کا یہ ہوا کہ فروع میں اختلاف بسبب اختلاف امم کے ہوا کیونکہ مصالح امم کے ہر زمانہ میں جداگانہ ہیں پس یہ اختلاف شرائع کا مقتضی مخالفت نہیں چناچہ خود شرائع مسلمہ میں بھی ایسا اختلاف فروع کا ہوا ہے پھر تمہاری مخالفت و انکار کی کیا گنجائش ہے) اور (اے محمد ﷺ اگر آپ (بفرض محال) ان کے نفسانی خیالات کا (یعنی احکام منسوخہ یا احکام محرفہ کا) اتباع کرنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس (احکام مقصودہ کا) علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا (اور جب نبی کو ایسا خطاب کیا جا رہا ہے تو اور لوگ انکار کر کے کہاں رہیں گے سو اس میں تعریض ہے اہل کتاب کے ساتھ پس دونوں شقوں پر منکرین و مخالفین کا جواب ہوگیا)