Ayah 13:38خلاصہ تفسیر
اور (اہل کتاب میں سے بعضوں کا جو نبوت پر یہ طعن ہے کہ ان کے پاس متعدد بیبیاں ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دیئے (یہ کونسا امر منافی رسالت ہے ایسا ہی مضمون دوسری آیت میں ہے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ الخ) اور (چونکہ اختلاف شرائع کا شبہ دیگر شبہات سے زیادہ مشہور اور اوپر محض اجمال کے ساتھ مذکور تھا اس لئے اس کو آگے مکرر و مفصل ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی پر اختلاف شرائع کا شبہ کرتا ہے وہ در پردہ نبی کو مالک احکام سمجھتا ہے حالانکہ) کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ امر نہیں کہ ایک آیت (یعنی ایک حکم) بدون خدا کے حکم کے (اپنی طرف سے) لا سکے (بلکہ احکام کو مقرر ہونا اذن واختیار خداوندی پر موقوف ہے اور خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے اعتبار سے یہ معمول مقرر ہے کہ) ہر زمانے کے مناسب خاص خاص احکام ہوتے ہیں (پھر دوسرے زمانے میں بعض امور میں دوسرے احکام آتے ہیں اور پہلے احکام موقوف ہوجاتے ہیں اور بعض بحالہ باقی رہتے ہیں پس) خدا تعالیٰ (ہی) جس حکم کو چاہیں موقوف کردیتے ہیں اور جس حکم کو چاہیں قائم رکھتے ہیں اور اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) انہی کے پاس (رہتی) ہے (اور یہ سب احکام ناسخ و منسوخ و مستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغائر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہو سکتی)
اور (یہ لوگ جو اس بنا پر انکار نبوت کرتے ہیں کہ اگر آپ نبی ہیں تو انکار نبوت پر جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ عذاب کیوں نہیں نازل ہوتا اس کے متعلق سن لیجئے کہ) جس بات کا (یعنی عذاب کا) ہم ان سے (انکار نبوت پر) وعدہ کر رہے ہیں اس میں کا بعض واقعہ اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (یعنی آپ کی حیات میں کوئی عذاب ان پر نازل ہوجاوے) خواہ (قبل نزول اس عذاب کے) ہم آپ کو وفات دیدیں (پھر بعد میں وہ عذاب واقع ہو خواہ دنیا میں یا آخرت میں دنوں حالتوں میں آپ فکر و اہتمام نہ کریں کیونکہ) بس آپ کے ذمہ تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور دارو گیر کرنا تو ہمارا کام ہے (آپ اس فکر میں کیوں پڑیں کہ اگر واقع ہوجائے تو بہتر ہے شاید ایمان لے آویں اور ان لوگوں پر بھی تعجب ہے کہ وقوع عذاب علی الکفر کا کیسے یک لخت انکار کر رہے ہیں) کیا (مقدمات عذاب میں سے) اس امر کو نہیں دیکھ رہے کہ ہم (فتح اسلام کے ذریعہ سے انکی) زمین کو ہر چہار طرف سے برابر کم کرتے چلے آتے ہیں (یعنی ان کی عملداری بسبب کثرت فتوحات اسلامیہ کے روز بروز گھٹتی جا رہی ہے سو یہ بھی تو ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (آیت) وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ) اور اللہ (جو چاہتا ہے) حکم کرتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں (پس عذاب ادنیٰ خواہ عذاب اکبر جو بھی ہو اس کو کوئی ان کے شرکاء یا غیر شرکاء میں سے رد نہیں کرسکتا) اور (اگر ان کو چندے مہلت بھی ہوگئی تو کیا ہے) وہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے (وقت کی دیر ہے پھر فورا ہی سزائے موعود شروع ہوجاوے گا) اور (یہ لوگ جو ایذاء رسول یا تنقیص اسلام میں طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں تو ان سے کچھ نہیں ہوتا چنانچہ) ان سے پہلے جو (کافر) لوگ ہوچکے ہیں انہوں نے (بھی ان ہی اغراض کے لئے بڑی بڑی) تدبیریں کیں سو (کچھ بھی نہ ہوا کیونکہ) اصل تدبیر تو خدا ہی کی ہے (اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی سو اللہ نے ان کو وہ تدبیریں نہ چلنے دیں اور) اس کو سب خبر رہتی ہے جو شخص جو کچھ بھی کرتا ہے (پھر اس کو وقت پر سزا دیتا ہے) اور (اسی طرح) ان کفار (کے اعمال کی بھی سب اس کو خبر ہے سو ان) کو (بھی) ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم میں نیک انجامی کس کے حصہ میں ہے (آیا ان کے یا مسلمانوں کے یعنی عنقریب ان کو اپنی بدانجامی اور سزائے اعمال معلوم ہوجائے گی) اور یہ کافر لوگ (ان سزاؤں کو بھولے ہوئے) یوں کہہ رہے ہیں کہ (نعوذ باللہ) آپ پیغمبر نہیں آپ فرما دیجئے کہ (تمہارے انکار بےمعنی سے کیا ہوتا ہے) میرے اور تمہارے درمیان (میری نبوت پر) اللہ تعالیٰ اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے (جس میں میری نبوت کی تصدیق ہے) کافی گواہ ہیں (مراد اس سے علماء اہل کتاب جو منصف تھے اور نبوت کی پیشینگوئی دیکھ کر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہوا کہ میری نبوت کی دو دلیلیں ہیں عقلی اور نقلی، عقلی تو یہ کہ حق تعالیٰ نے مجھ کو معجزات عطا فرمائے جو دلیل نبوت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گواہ ہونے کے یہی معنی ہیں اور نقلی یہ ہے کہ کتب سماویہ سابقہ میں اس کی خبر موجود ہے اگر یقین نہ آئے تو منصف علماء سے پوچھ لو وہ ظاہر کردیں گے پس دلائل نقلیہ وعقلیہ کے ہوتے ہوئے نبوت کا انکار کرنا بجز شقاوت کے اور کیا ہے کسی عاقل کو اس سے شبہ نہ ہونا چاہئے)
معارف و مسائل
کفار و مشرکین کا رسول و نبی کے متعلق ایک عام تخیل یہ تھا کہ وہ جنس بشر اور انسان کے علاوہ کوئی مخلوق مثل فرشتوں کے ہونی چاہئے جس کی وجہ سے عام انسانوں سے ان کی برتری واضح ہوجائے قرآن کریم نے ان کے اس خیال فاسد کا جواب متعدد آیات میں دیا ہے کہ تم نے نبوت و رسالت کی حقیقت اور حکمت کو ہی نہیں پہچانا اس لئے ایسے تخیلات کے درپے ہوئے کیونکہ رسول کو حق تعالیٰ ایک نمونہ بنا کر بھیجتے ہیں کہ امت کے سارے انسان ان کی پیروی کریں انہی جیسے اعمال و اخلاق سیکھیں اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی انسان اپنے ہم جنس انسان ہی کی پیروی کریں اور اتباع کرسکتا ہے جو اس کی جنس کا نہ ہو اس کی پیروی انسان سے ناممکن ہے مثلا فرشتہ کو نہ بھوک لگے نہ پیاس نہ نفسانی خواہشات سے اس کو کوئی واسطہ نہ اس کو نیند آوے نہ تھکان ہو اب اگر انسانوں کو ان کے اتباع اور پیروی کا حکم دیا جاتا تو ان کے لئے ان کی قدرت سے زائد تکلیف ہوجاتی اس جگہ بھی مشرکین کا یہی اعتراض پیش ہوا خصوصا رسول کریم ﷺ کے تعدد ازدواج سے ان کا یہ شبہ اور بڑھا اس کا جواب پہلی آیت کے ابتدائی جملوں میں یہ دیا گیا کہ ایک یا ایک سے زیادہ نکاح کرنے اور بیوی بچوں والا ہونے کو تم نے کس دلیل سے نبوت و رسالت کے خلاف سمجھ لیا، اللہ تعالیٰ کی تو آفرینش سے یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے پیغمبروں کو صاحب اہل و عیال بناتے ہیں جتنے انبیاء (علیہم السلام) پہلے گذرے ہیں اور ان میں سے بعض کی نبوت کے تم بھی قائل ہو وہ سب متعدد بیویاں رکھتے تھے اور صاحب اولاد تھے اس کو نبوت و رسالت یا بزرگی اور ولایت کے خلاف سمجھنا نادانی ہے۔
صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں (یعنی ایسا نہیں کہ ہمیشہ روزے ہی رکھا کروں) اور فرمایا کہ میں رات میں سوتا بھی ہوں اور نماز کے لئے کھڑا بھی ہوتا ہوں (یعنی ایسا نہیں کہ ساری رات عبادت ہی کروں) اور گوشت بھی کھاتا ہوں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں جو شخص میری اس سنت کو قابل اعتراض سمجھے وہ مسلمان نہیں وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ یعنی کسی رسول کو اختیار نہیں کہ وہ ایک آیت بھی بغیر حکم خدا تعالیٰ کے خود لا سکے۔
کفار و مشرکین جو معاندانہ سوالات ہمیشہ انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے پیش کرتے آئے ہیں اور آنحضرت محمد ﷺ کے سامنے بھی اس زمانہ کے مشرکین نے پیش کئے ان میں دو سوال بہت عام ہیں ایک یہ کہ اللہ کی کتاب میں ہماری خواہش کے مطابق احکام نازل ہوا کریں جیسے سورة یونس میں ان کی یہ درخواست مذکور ہے کہ ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْه یعنی یا تو آپ اس موجودہ قرآن کے بجائے بالکل ہی کوئی دوسرا قرآن لائیے جس میں ہمارے بتوں کی عبادت کو منع نہ کیا گیا ہو یا پھر آپ خود ہی اس کے لائے ہوئے احکام کو بدل دیجئے عذاب کی جگہ رحمت اور حرام کی جگہ حلال کر دیجئے۔
دوسرا سوالانبیاء (علیہم السلام) کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرنا کہ فلاں قسم کا معجزہ دکھلائیے تو ہم مسلمان ہوں قرآن کریم کے اس جملہ میں لفظ آیۃ سے دونوں چیزیں مراد ہو سکتی ہیں کیونکہ اصطلاح قرآن میں قرآنی آیات کو بھی آیت کہا جاتا ہے اور معجزہ کو بھی اسی لئے اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین میں سے بعض نے آیت قرآنی مراد لے کر یہ مطلب بیان کیا کہ کسی پیغمبر کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اپنی طرف سے اپنی کتاب میں کوئی آیت بنا لے اور بعض نے اس آیت سے مراد معجزہ لے کر یہ معنی قرار دیئے کہ کسی رسول و نبی کو اللہ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ جس وقت چاہے اور جس طرح کا چاہے معجزہ ظاہر کردے تفسیر روح المعانی میں فرمایا کہ عموم مجاز کے قاعدہ پر اس جگہ یہ دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں اور دونوں تفسیریں صحیح ہو سکتی ہیں
اس لحاظ سے خلاصہ مضمون اس آیت کا یہ ہوا کہ ہمارے رسول کریم ﷺ سے قرآنی آیات کے بدلنے کا مطالبہ بےجا اور غلط ہے ہم نے ایسا اختیار کسی رسول کو نہیں دیا اسی طرح یہ مطالبہ کہ فلاں خاص قسم کا معجزہ دکھلائیے یہ بھی حقیقت نبوت سے ناواقفیت کی دلیل ہے کیونکہ کسی نبی و رسول کے اختیار میں یہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی خواہش کے مطابق جو وہ چاہیں معجزہ ظاہر کردیں۔
لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ اجل کے معنی مدت معینہ اور میعاد کے آتے ہیں اور کتاب اس جگہ بمعنی مصدر ہے یعنی تحریر معنی یہ ہیں کہ ہر چیز کی میعاد اور مقدار اللہ تعالیٰ کے پاس لکھی ہوئی ہے اس نے ازل میں لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت پیدا ہوگا اور اتنے دن زندہ رہے گا کہاں کہاں جائے گا کیا کیا کام کرے گا کس وقت اور کہاں مرے گا۔
اسی طرح یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں زمانے میں فلاں پیغمبر پر کیا وحی اور احکام نازل ہوں گے کیونکہ احکام کا ہر زمانے اور ہر قوم کے مناسب حال آتے رہنا ہی مقتضائے عقل و انصاف ہے اور یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ فلاں پیغمبر سے فلاں وقت کس کس معجزہ کا ظہور ہوگا۔
اس لئے رسول کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کہ فلاں قسم کے احکام قرآن میں تاویل کرائیں یا یہ مطالبہ کہ فلاں خاص معجزہ دکھلائیں ایک معاندانہ اور غلط مطالبہ ہے جو رسالت و نبوت کی حقیقت سے بیخبر ہونے پر مبنی ہے۔
Ayah 13:39(آیت) يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ۔ ام الکتب کے لفظی معنی اصل کتاب کے ہیں مراد اس سے وہ لوح محفوظ ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا
معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت اور باقی رکھتا ہے اور اس محو و اثبات کے بعد جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جس پر نہ کسی کی دسترس ہے نہ اس میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
ائمہ تفسیر میں سے حضرت سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ ؓ وغیرہ نے اس آیت کو بھی احکام و شرائع کے محو و اثبات یعنی مسئلہ نسخ کے متعلق قرار دیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہر زمانے اور ہر قوم کے لئے مختلف رسولوں کے ذریعہ اپنی کتابیں بھیجتے ہیں جن میں احکام شریعت اور فرائض کا بیان ہوتا ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سب احکام دائمی ہوں اور ہمیشہ باقی رہیں بلکہ قوموں کے حالات اور زمانے کے تغیرات کے مناسب اپنی حکمت کے ذریعہ جس حکم کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں ثابت اور باقی رکھتے ہیں اور اصل کتاب بہرحال ان کے پاس محفوظ ہے جس میں پہلے ہی سے یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں حکم جو فلاں قوم کے لئے نازل کیا گیا ہے یہ ایک میعاد کے لئے یا خاص حالات کی بنا پر ہے جب وہ میعاد گذر جائیگی یا وہ حالات بدل جائیں گے تو یہ حکم بھی بدل جائے گا اس ام الکتب میں اس کی میعاد اور وقت مقرر بھی پوری تعیین کے ساتھ درج ہے اور یہ بھی کہ اس حکم کو بدل کو کونسا حکم لایا جائے گا اس سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ احکام خداوندی کبھی منسوخ نہ ہونے چاہئیں کیونکہ کوئی حکم جاری کرنے کے بعد منسوخ کرنا علامت اس کی ہے کہ حکم جاری کرنے والے کو حالات کا اندازہ نہ تھا اس لئے حالات دیکھنے کے بعد اس کو منسوخ کرنا پڑا اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی شان اس سے بلند وبالا ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہو کیونکہ تقریر مذکور سے معلوم ہوگیا کہ جس حکم کو منسوخ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف اتنی مدت کے لئے جاری کیا گیا ہے اس کے بعد بدلا جائے گا اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسی مریض کا حال دیکھ کر کوئی حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا اس وقت کے مناسب حال تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس دوا کا یہ اثر ہوگا اس کے بعد اس دوا کو بدل کر فلاں دوسری دوا دی جائے گی خلاصہ یہ ہے کہ اس تفسیر کے مطابق آیت میں محو و اثبات سے مراد احکام کا منسوخ ہونا اور باقی رہنا ہے۔
اور ائمہ تفسیر کی ایک جماعت سفیان ثوری وکیع وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی دوسری تفسیر نقل کی جس میں مضمون آیت کو نوشتہ تقدیر کے متعلق قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مخلوقات کی تقدیریں اور ہر شخص کی عمر اور زندگی بھر میں ملنے والا رزق اور پیش آنے والی راحت یا مصیبت اور ان سب چیزوں کی مقداریں اللہ تعالیٰ نے ازل میں مخلوقات کی پیدائش سے بھی پہلے لکھی ہوئی ہیں پھر بچہ کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھی لکھوا دیا جاتا ہے اور ہر سال شب قدر میں اس سال کے اندر پیش آنے والے معاملات کا چٹھا فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہر فرد مخلوق کی عمر رزق حرکات و سکنات سب متعین ہیں اور لکھے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس نوشتہ تقدیر میں سے جس کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ یعنی اصل کتاب جس کے مطابق محو و اثبات کے بعد انجام کار عمل ہونا ہے وہ اللہ کے پاس ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔
تشریح اس کی یہ ہے کہ بہت سی احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق بڑھ جاتے ہیں بعض سے گھٹ جاتے ہیں صحیح بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ بعض اوقات آدمی کوئی ایسا گناہ کرتا ہے کہ اس کے سبب رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ماں باپ کی خدمت و اطاعت سے عمر بڑھ جاتی ہے اور تقدیر الہی کو کوئی چیز بجز دعاء کے ٹال نہیں سکتی
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عمر یا رزق وغیر کسی کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہ بعض اعمال کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں اور دعا کی وجہ سے بھی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اس آیت میں اسی مضمون کا بیان اس طرح کیا گیا کہ کتاب تقدیر میں لکھی ہوئی عمر یا رزق یا مصیبت یا راحت وغیرہ میں جو تغیر و تبدل کسی عمل یا دعا کی وجہ سے ہوتا ہے اس سے مراد وہ کتاب ہے تقدیر ہے جو فرشتوں کے ہاتھ یا ان کے علم میں ہے اس میں بعض اوقات کوئی حکم کسی خاص شرط پر معلق ہوتا ہے جب وہ شرط نہ پائی جائے تو یہ حکم بھی نہیں رہتا اور پھر یہ شرط بعض اوقات تو تحریر میں لکھی ہوئی فرشتوں کے علم میں ہوتی ہے بعض اوقات لکھی نہیں ہوتی صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہے جب وہ حکم بدلا جاتا ہے تو سب حیرت میں رہ جاتے ہیں اس طرح کی تقدیر معلق کہلاتی ہے جس میں اس آیت کی تصریح کے مطابق محو و اثبات ہوتا رہتا ہے لیکن آیت کے آخری جملہ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ نے بتلادیا کہ اس تقدیر معلق کے اوپر ایک تقدیر مبرم ہے جو ام اللکتاب میں لکھی ہوئی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ صرف علم الہی کے لئے مخصوص ہے اس میں وہ احکام لکھے جاتے ہیں جو شرائط اعمال یا دعاء کے بعد آخری نتیجہ کے طور پر ہوتے ہیں اسی لئے وہ محو و اثبات اور کمی بیشی سے بالکل بری ہے (ابن کثیر)
Ayahs 13:40–43(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے اور مسلمانوں کے لئے کشایش ہوتی جاتی ہے اس طرح ایک دن اس فتح کی تکمیل بھی ہوجائے گی حکم اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور بہت جلد حساب لینے والا ہے
سورة رعد تمام شد