Ayahs 15:51–71خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان (لوگوں) کو ابراہم ؑ کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم ؑ کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم ؑ ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے کہ ہم تو تم سے خائف ہیں انہوں نے کہا کہ آپ خائف نہ ہوں کیونکہ ہم (فرشتے ہیں منجانب اللہ ایک بشارت لے کر آئے ہیں اور) آپ کو ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جو بڑا عالم ہوگا (مطلب یہ کہ نبی ہوگا کیونکہ آدمیوں میں سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو ہوتا ہے مراد اس فرزند سے اسحاق ؑ ہیں اور دوسری آیتوں میں حضرت اسحاق ؑ کے ساتھ یعقوب ؑ کی بشارت بھی مذکور ہے) ابراہیم ؑ کہنے لگے کہ کیا تم مجھ کو اس حالت میں (فرزند کی) بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بوڑھاپا آ گیا سو (ایسی حالت میں مجھ کو) کس چیز کی بشارت دیتے ہو (مطلب یہ کہ یہ امر فی نفسہ عجیب ہے نہ یہ کہ قدرت سے بعید ہے) وہ (فرشتے) بولے کہ ہم آپ کو امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں (یعنی تولد فرزند یقینا ہونے والا ہے) سو آپ ناامید نہ ہوں (یعنی اپنے بڑھاپے پر نظر نہ کیجئے کہ ایسے اسباب عادیہ پر نظر کرنے سے وساوس ناامیدی کے غالب ہوتے ہیں) ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ بھلا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے بجز گمراہ لوگوں کے (یعنی میں نبی ہو کر گمراہوں کی صفت سے کب موصوف ہوسکتا ہوں محض مقصود اس امر کا عجیب ہونا ہے باقی اللہ کا وعدہ سچا اور مجھ کو امید سے بڑھ کر اس کا کامل یقین ہے بعد اس کے فراست نبوت سے آپ کو معلوم ہوا کہ ان ملائکہ کے آنے سے علاوہ بشارت کے اور بھی کوئی مہم عظیم مقصود ہے اس لئے) فرمانے لگے کہ (جب قرائن سے مجھ کو یہ معلوم ہوگیا کہ تمہارے آنے کا کچھ اور بھی مقصود ہے) تو (یہ بتلاؤ کہ) اب تم کو کیا مہم در پیش ہے اے فرشتو ! فرشتوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف (ان کو سزا دینے کے لئے) بھیجے گئے ہیں (مراد قوم لوط ہے) مگر لوط ؑ کا خاندان کہ ہم ان سب کو (عذاب سے) بچا لیں گے (یعنی ان کو بچنے کا طریقہ بتلا دیں گے کہ ان مجرموں سے علیحدہ ہوجائیں) بجر ان کی (یعنی لوط ؑ کی) بی بی کے کہ اس کی نسبت ہم نے تجویز کر رکھا ہے کہ وہ ضرور اسی قوم مجرم میں رہ جائے گی (اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی)
پھر جب وہ فرشتے خاندان لوط ؑ کے پاس آئے (تو چونکہ بشکل بشر تھے اس لئے) کہنے لگے تم تو اجنبی لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں) انہوں نے کہا نہیں (ہم آدمی نہیں) بلکہ ہم (فرشتے ہیں) آپ کے پاس وہ چیز (یعنی وہ عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے اور ہم آپ کے پاس یقینی ہونے والی چیز (یعنی عذاب) لے کر آئے ہیں اور ہم (اس خبر دینے میں) بالکل سچے ہیں سو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر (یہاں سے) چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجئے (تاکہ کوئی رہ نہ جائے یا لوٹ نہ جائے اور آپ کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے جس کی ممانعت کردی گئی ہو) اور تم میں سے کوئی پیچھا پھر کر بھی نہ دیکھے (یعنی سب جلدی چلے جائیں) اور جس جگہ (جانے کا) تم کو حکم ہوا ہے اس طرف سب کے سب چلے جاؤ (تفسیر در منثور میں بحوالہ سدی نقل کیا ہے کہ وہ جگہ ملک شام ہے جس کی طرف ہجرت کرنے کا ان حضرات کو حکم دیا گیا تھا) اور ہم نے (ان فرشتوں کے واسطے سے) لوط ؑ کے پاس یہ حکم بھیجا کہ صبح ہوتے ہی بالکل ان کی جڑ کٹ جائے گی (یعنی بالکل ہلاک و برباد ہوجائیں گے فرشتوں کی یہ گفتگو وقوع کے اعتبار سے اس قصہ بیان کرنے سے جو بات مقصود ہے یعنی نافرمانوں پر عذاب اور فرمانبرداروں کی نجات و کامیابی وہ پہلے ہی اہتمام کے ساتھ معلوم ہوجائے اگلا قصہ یہ ہے) اور شہر کے لوگ (یہ خبر سن کر کہ لوط ؑ کے یہاں حسین لڑکے آئے ہیں) خوب خوشیاں مناتے ہوئے (اپنی فاسد نیت اور برے ارادہ کے ساتھ لوط ؑ کے گھر پہونچے) لوط ؑ نے (جو اب تک ان کو آدمی اور اپنا مہمان ہی سمجھ رہے تھے ان کے فاسد ارادوں کا احساس کر کے) فرمایا کہ یہ لوگ میرے مہمان ہیں (ان کو پریشان کر کے) مجھ کو (عام لوگوں میں) رسوا نہ کرو (کیونکہ مہمان کی توہین میزبان کی توہین ہوتی ہے اگر تمہیں ان پردیسیوں پر رحم نہیں آتا تو کم از کم میرا خیال کرو کہ میں تمہاری بستی کا رہنے والا ہوں اس کے علاوہ جو ارادہ تم کر رہے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے قہر وغضب کا سبب ہے) تم اللہ سے ڈرو اور مجھ کو (ان مہمانوں کی نظر میں) رسوا مت کرو (کہ مہمان یہ سمجھیں گے کہ اپنی بستی کے لوگوں میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں) وہ کہنے لگے (کہ یہ رسوائی ہماری طرف سے نہیں آپ نے خود اپنے ہاتھوں خریدی ہے کہ ان کو مہمان بنایا) کیا ہم آپ کو دنیا بھر کے لوگوں (کو اپنا مہمان بنانے) سے (بارہا) منع نہیں کرچکے (نہ آپ ان کو مہمان بناتے نہ اس رسوائی کی نوبت آتی) لوط ؑ نے فرمایا کہ (یہ تو بتلاؤ کہ اس بیہودہ حرکت کی کیا ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہمیں کسی کو مہمان بنانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی قضاء شہوت کے طبعی تقاضے کے لئے) یہ میری (بہو) بیٹیاں (جو تمہارے گھروں میں ہیں) موجود ہیں اگر تم میرا کہنا مانو (تو شریفانہ طور پر اپنی عورتوں سے اپنا مطلب پورا کرو مگر وہ کس کی سنتے تھے) آپ کی جان کی قسم اپنی مستی میں مدہوش تھے پس سورج نکلتے نکلتے ان کو سخت آواز نے آ دبایا (یہ ترجمہ مشرقین کا ہے اس سے پہلے جو مصبحین کا لفظ آیا ہے جس کے معنی صبح ہوتے ہوتے کے ہیں ان دونوں کا اجتماع اس اعتبار سے ممکن ہے کہ صبح سے ابتدا ہوئی اور اشراق تک خاتمہ ہوا) پھر (اس سخت آواز کے بعد) ہم نے ان بستیوں (کی زمین کو الٹ کر ان) کا اوپر کا تختہ (تو) نیچے کردیا (اور نیچے کا تختہ اوپر کردیا) اور ان لوگوں پر کنکر کے پتھر برسانا شروع کئے اس واقعہ میں بہت سے نشانات ہیں اہل بصیرت کے لئے (مثلا ایک تو یہ کہ برے فعل کا نتیجہ آخر کار برا ہوتا ہے اگر کچھ دن کی مہلت اور ڈھیل مل جائے تو اس سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے دوسرے یہ کہ دائمی اور باقی رہنے والی راحت وعزت صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی اطاعت پر موقوف ہے تیسرے یہ کہ اللہ کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کر کے فریب میں مبتلا نہ ہوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے وہ ظاہری اسباب کے خلاف بھی جو چاہے کرسکتا ہے وغیر ذلک۔
Ayahs 15:72–74معارف و مسائل
رسول کریم ﷺ کا خصوصی اعزازو اکرام
قولہ لَعَمْرُكَ۔ روح المعانی میں جمہور مفسرین کا قول یہ نقل کیا ہے کہ لَعَمْرُكَ کے مخاطب رسول کریم ﷺ ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی حیات کی قسم کھائی ہے بہیقی نے دلائل النبوۃ میں اور ابو نعیم وابن مردویہ وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات و کائنات میں کسی کو محمد مصطفے ﷺ سے زیادہ عزت و مرتبہ عطا نہیں فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی پیغبر یا فرشتے کی حیات پر کبھی قسم نہیں کھائی اور اس آیت میں رسول کریم ﷺ کی عمر وحیات کی قسم کھائی ہے جو آنحضرت محمد ﷺ کا انتہائی اعزازو اکرام ہے۔
غیر اللہ کی قسم کھانا
کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھائے کیونکہ قسم اس کی کھائی جاتی ہے جس کو سب سے زیادہ بڑا سمجھا جائے اور ظاہر ہے سب سے زیادہ بڑا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی ماؤں اور باپوں کی اور بتوں کی قسم نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کی قسم بھی صرف اس وقت کھاؤ جب تم اپنے قول میں سچے ہو (رواہ ابو داؤد والنسائی عن ابی ہریرۃ)
اور صحیحین میں ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا کہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے ہیں تو رسول کریم ﷺ نے پکار کر فرمایا کہ خبردار رہو اللہ تعالیٰ باپوں کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے جس کو حلف کرنا ہو اللہ کے نام کا حلف کرے ورنہ خاموش رہے (قرطبی مائدہ)
لیکن یہ حکم مخلوقات کے لئے ہے اللہ جل شانہ خود اپنی مخلوقات میں سے مختلف چیزوں کی قسم کھاتے ہیں یہ ان کے لئے مخصوص ہے جس کا مقصد کسی خاص اعتبار سے روکنے کا جو سبب ہے وہ یہاں موجود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنی کسی مخلوق کو سب سے بڑا اور افضل سمجھیں کیونکہ علی الاطلاق بڑائی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مخصوص ہے۔
Ayahs 15:75–76جن بستیوں پر عذاب ہوا ان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے
(آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ۔ اس میں حق تعالیٰ نے ان بستیوں کا محل وقوع بیان فرمایا جو عرب سے شام تک جانے والے راستہ پر ہیں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ان میں اہل بصیرت کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی بڑی نشانیاں ہیں۔
ایک دوسری آیت میں ان کے متعلق یہ بھی ارشاد ہوا ہے (آیت) لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا یعنی یہ بستیاں عذاب الہی کے ذریعہ ویران ہونے کے بعد پھر دوبارہ آباد نہیں ہوئیں بجز چند بستیوں کے اس مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ان بستیوں اور ان کے مکانات کو آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کا سامان بنایا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ جب ان مقامات سے گذرے ہیں تو آپ پر ہیبت حق کا ایک خاص حال ہوتا تھا جس سے سر مبارک جھک جاتا تھا اور آپ اپنی سواری کو ان مقامات میں تیز کر کے جلد عبور کرنے کی سعی فرماتے رسول کریم ﷺ کے اس عمل نے یہ سنت قائم کردی کہ جن مقامات پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ہے ان کو تماشا گاہ بنانا بڑی قساوت ہے بلکہ ان سے عبرت حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا استحضار اور اس کے عذاب کا خوف طاری ہو۔
حضرت لوط ؑ کی بستیاں جن کا تختہ الٹا گیا ہے قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق عرب سے شام کو جانے والے راستہ پر اردن کے علاقہ میں آج بھی یہ مقام سطح سمندر سے کافی گہرائی میں ایک عظیم صحرا کی صورت میں موجود ہے اس کے ایک بہت بڑے رقبہ پر ایک خاص قسم کا پانی دریا کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے اس پانی میں کوئی مچھلی، مینڈک وغیرہ جانور زندہ نہیں رہ سکتا اس دریا کو میت اور بحر لوط کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ درحقیقت اس میں پانی کے اجزاء بہت کم اور تیل کی قسم کے اجزاء زیادہ ہیں اس لئے اس میں کوئی دریائی جانور زندہ نہیں رہ سکتا
Ayah 15:77آج کل آثار قدیمہ کے محکمہ نے کچھ رہائشی عمارتیں ہوٹل وغیرہ بھی بنا دئیے ہیں اور آخرت سے غافل مادہ پرست طبیعتوں نے آج کل اس کو ایک سیر گاہ بنایا ہوا ہے لوگ تماشے کے طور پر اسے دیکھنے جاتے ہیں قرآن کریم نے اسی غفلت شعاری پر تنبیہ کیلئے آخر میں فرمایا (آیت) اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی درحقیقت تو یہ واقعات و مقامات ہر چشم بصیرت رکھنے والے کیلئے عبرت آموز ہیں لیکن اس عبرت سے فائدہ اٹھانے والے مؤمنین ہی ہوتے ہیں دوسرے لوگ ان مقامات کو ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر روانہ ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 15:78–86خلاصہ تفسیر
قصہ اصحاب ایکہ اور اصحاب حجر
اور بن والے (یعنی شعیب ؑ کی امت بھی) بڑے ظالم تھے سو ہم نے ان سے (بھی) بدلہ لیا (اور ان کو عذاب سے ہلاک کیا) اور دونوں (قوم کی) بستیاں صاف سڑک پر (واقع) ہیں (اور شام کو جاتے ہوئے راہ میں نظر آتی ہیں) اور حجر (بکسرحاء) والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھوٹا بتلایا (کیونکہ جب صالح ؑ کو جھوٹا کہا اور سب پیغمبروں کا اصل دین ایک ہی ہے تو گویا سب کو جھوٹا بتلایا) اور ہم نے ان کو اپنی (طرف سے) نشانیاں دیں (جس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضرت صالح ؑ کی نبوت ثابت ہوتی تھی مثلا دلائل توحید اور ناقہ کہ معجزہ صالح ؑ کا تھا) سو وہ لوگ ان (نشانیوں) سے روگردانی (ہی) کرتے رہے اور وہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے تھے کہ (ان میں سب آفات سے) امن میں رہیں سو ان کو صبح کے وقت (خواہ اول ہی صبح میں یا دن چڑھے علی الاحتمالین) آواز سخت نے آپکڑا سو ان کے (دنیوی) ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے (ان ہی مستحکم گھروں میں عذاب سے کام تمام ہوگیا اس آفت سے ان کے گھروں نے نہ بچایا بلکہ اس آفت کا ان کو احتمال بھی نہ تھا اور اگر ہوتا بھی تو کیا کرتے)
معارف و مسائل
آیکہ بن یعنی گھنے جنگل کو کہتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ مدین کے پاس ایک بن تھا اس لئے آیکہ اصحاب مدین ہی کا لقب ہے بعض نے کہا ہے کہ اصحاب آیکہ اور اصحاب مدین دو علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں ایک قوم کی ہلاکت کے بعد شعیب ؑ دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے
تفسیر روح المعانی میں ابن عساکر کے حوالہ سے یہ مرفوع حدیث نقل کی گئی ہے کہ (ان مدین واصحاب الایکۃ امتان بعث اللہ تعالیٰ الہیما شعیبا واللہ اعلم۔)
اور حجر ایک وادی ہے جو حجاز وشام کے درمیان واقع ہے اس میں قوم ثمود آباد تھی۔
شروع سورت میں حضور ﷺ سے کفار مکہ کو جو شدید عناد و مخالفت تھی اس کا بیان تھا اس کے ساتھ اجمالا آپ کی تسلی کا مضمون بھی ذکر کیا تھا اب ختم سورت پر اسی عناد و مخالفت کے بارے میں آپ کی تسلی کے لئے تفصیلی مضمون بیان کیا جارہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے
بقیہ خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں کے عناد و خلاف سے غم نہ کیجئے کیونکہ اس کا ایک روز فیصلہ ہونے والا ہے اور وہ روز قیامت ہے جس کی آمد کے متعلق ہم آپ سے تذکرہ کرتے ہیں کہ) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیانی چیزوں کو بغیر مصلحت کے پیدا نہیں کیا (بلکہ اس مصلحت سے پیدا کیا کہ ان کو دیکھ کر صانع عالم کے وجود اور وحدت و عظمت پر استدلال کرکے اس کے احکام کی اطاعت کریں اور بعد اقامت اس حجت کے جو ایسا نہ کرے وہ معذب ہو) اور) دنیا میں پورا عذاب ہوتا نہیں تو اور کہیں ہونا چاہئے اس کے لئے قیامت مقرر ہے پس) ضرور قیامت آنے والی ہے (وہاں سب کو بھگتایا جائے گا) سو آپ (کچھ غم نہ کیجئے بلکہ) خوبی کے ساتھ (ان کی شرارتوں سے) درگذر کیجئے (درگذر کا مطلب یہ ہے کہ اس غم میں نہ پڑئیے اس کا خیال نہ کیجئے اور خوبی یہ کہ شکوہ و شکایت بھی نہ کیجئے کیونکہ) بلاشبہ آپ کا رب (چونکہ) بڑا خالق (ہے اس سے ثابت ہوا کہ) بڑا عالم (بھی) ہے (سب کا حال اس کو معلوم ہے آپ کے صبر کا بھی ان کی شرارت کا بھی اس لئے ان سے پورا پورا بدلہ لے لے گا)