15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 15:31–41

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے نہ مانا کہ ساتھ ہو سجدہ کرنے والوں کے

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

فرمایا، اے ابلیس کیا ہوا تجھ کو کہ ساتھ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں کے

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

، بولا میں وہ نہیں کہ سجدہ کروں ایک بشر کو جس کو تو نے بنایا کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

فرمایا تو تو نکل یہاں سے تجھ پر مار ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر پھٹکار ہے اس دن تک کہ انصاف ہو،

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

بولا اے رب تو مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک کہ مردے زندہ ہوں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا تو تجھ کو ڈھیل دی ،

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

اسی مقرر وقت کے دن تک

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

بولا اے رب جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھودیا میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں اور راہ سے کھودوں گا ان سب کو

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا یہ راہ ہے مجھ تک سیدھی

حکم سجدہ فرشتوں کو ہوا تھا ابلیس اس میں تبعا شامل قرار دیا گیا سورة اعراف میں ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی دیا گیا تھا اسی لئے اس سورت کی جو آیات ابھی آپ نے پڑھی ہیں جن سے بظاہر اس حکم کا فرشتوں کے لئے مخصوص ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اصالۃً یہ حکم فرشتوں کو دیا گیا مگر ابلیس بھی چونکہ فرشتوں کے اندر موجود تھا اس لئے تبعا وہ بھی اس حکم میں شامل تھا کیونکہ آدم ؑ کی تعظیم و تکریم کے لئے جب اللہ تعالیٰ کی بزرگ ترین مخلوق فرشتوں کو حکم دیا گیا تو دوسری مخلوق کا تبعا اس حکم میں داخل ہونا بالکل ظاہر تھا اسی لئے ابلیس نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ مجھے سجدہ کا حکم دیا ہی نہیں گیا تو عدم تعمیل کا جرم مجھ پر عائد نہیں ہوتا اور شاید قرآن کریم کے الفاظ (آیت) اَبٰٓى اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ میں اس کی طرف اشارہ ہو کہ اَبٰٓى اَنْ یسجُدَ کے بجائے اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ ذکر فرمایا جس سے اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اصل ساجدین تو فرشتے ہی تھے مگر عقلا لازم تھا کہ ابلیس بھی جب ان میں موجود تھا تو وہ بھی ملائکہ ساجدین کے ساتھ شامل ہوجاتا اس کے عدم شمول پر عتاب فرمایا گیا۔
Ayahs 15:42–43

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے بندے ہیں تیرا ان پر کچھ زور نہیں مگر جو تیری راہ چلا بہکے ہوؤں میں،

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور دوزخ پر وعدہ ہے ان سب کا

اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کے معنی (آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور منتخب بندوں پر شیطانی فریب کا اثر نہیں ہوتا مگر اسی واقعہ آدم میں یہ بھی مذکور ہے کہ آدم وحوا پر اس کا فریب چل گیا اسی طرح صحابہ کرام ؓ اجمعین کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا (آل عمران) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ پر بھی شیطان کا کید اس موقع میں چل گیا۔ اس لئے آیت مذکورہ میں اللہ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب وعقول پر شیطان کا ایسا تسلط نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطی پر کسی وقت متنبہ ہی نہ ہوں جس کی وجہ سے ان کو توبہ نصیب نہ ہو یا کوئی ایسا گناہ کر بیٹھیں جس کی مغفرت نہ ہو سکے۔ اور مذکورہ واقعات اس کے منافی نہیں کیونکہ آدم وحوا (علیہما السلام) نے توبہ کی اور یہ توبہ قبول ہوئی اسی طرح حضرات صحابہ نے بھی توبہ کرلی تھی اور شیطان کے مکر سے جس گناہ میں ابتلاء ہوا وہ معاف کردیا گیا۔
Ayah 15:44

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازہ کے واسطے ان میں سے ایک فرقہ ہے بانٹا ہوا

جہنم کے سات دروازے (آیت) لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ۔ امام احمد ابن جریر طبری اور بیہقی نے بروایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ لکھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے اوپر نیچے سات طبقات کے اعتبار سے ہیں اور بعض حضرات نے ان کو عام دروازوں کی طرح قرار دیا ہے ہر دروازہ خاص قسم کے مجرمین کے لئے مخصوص ہوگا (قرطبی)
Ayahs 15:45–47

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

پرہیزگار ہیں باغوں میں اور چشموں میں

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

کہیں گے ان کو جاؤ ان میں سلامتی سے جمع خاطر سے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور نکال ڈالی ہم نے جو ان کے جیوں میں تھی خفگی، بھائی ہوگئے تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے

خلاصہ تفسیر بے شک خدا سے ڈرنے والے (یعنی اہل ایمان) باغوں اور چشموں میں (بستے) ہوں گے (خواہ اول ہی سے اگر معصیت نہ ہو یا معاف ہوگئی ہو اور خواہ سزائے معصیت بھگتنے کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ) تم ان (جنات و عیون) میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو (یعنی اس وقت بھی ہر ناپسند چیز سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شر کا اندیشہ نہیں) اور (دنیا میں طبعی تقاضے سے) ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب (ان کے دلوں سے جنت میں داخل ہونے کے قبل ہی) دور کردیں گے کہ سب بھائی بھائی کی طرح (الفت و محبت سے) رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے وہاں ان کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے (اے محمد ﷺ آپ میرے بندوں کو اطلاع دیدیجئے کی میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں اور (نیز) یہ کہ میری سزا (بھی) درد ناک سزا ہے (تاکہ اس سے مطلع ہو کر ایمان اور تقوی کی رغبت اور کفر و معصیت سے خوف پیدا ہو) معارف و مسائل حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے ان کے سامنے پانی کے دو چشمے پیش کئے جائیں گے پہلے چشمہ سے وہ پانی پئیں گے تو ان سب کے دلوں سے باہمی رنجش جو کبھی دنیا میں پیش آئی تھی اور طبعی طور پر اس کا اثر آخر تک موجود رہا وہ سب دھل جائے گی اور سب کے دلوں میں باہمی الفت و محبت پیدا ہوجائے گی کیونکہ باہمی رنجش بھی ایک تکلیف و عذاب ہے اور جنت ہر تکلیف سے پاک ہے۔ اور حدیث صحیح میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی کینہ کسی مسلمان سے ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا اس سے مراد وہ کینہ اور بغض ہے جو دنیوی غرض سے اور اپنے قصد واختیار سے ہو اور اس کی وجہ سے یہ شخص اس کے درپے رہے کہ جب موقع پائے اپنے دشمن کو تکلیف اور نقصان پہونچائے طبعی انقباض جو خاصہ بشری اور غیر اختیاری ہے وہ اس میں داخل نہیں اسی طرح جو کسی شرعی بنیاد پر مبنی ہو ایسے ہی بغض و انقباض کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اہل جنت کے دلوں سے ہر طرح کا انقباض اور رنجش دور کردی جائے گی۔ اسی کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں اور طلحہ اور زبیر انہی لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دلوں کا غبار جنت میں داخلہ کے وقت دور کردیا جائے گا۔ اشارہ ان اختلافات ومشاجرات کی طرف ہے جو ان حضرات اور حضرت علی کی درمیان پیش آئے تھے۔
Ayahs 15:48–50

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

نہ پہنچے گی ان کو وہاں کچھ تکلیف اور نہ ان کو وہاں سے کوئی نکالے

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

خبر سنا دے میرے بندوں کو کہ میں ہوں اصل بخشنے والا مہربان

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ میرا عذاب وہی عذاب درد ناک ہے

(آیت) لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ۔ اس آیت سے جنت کی دو خصوصیات معلوم ہوئیں اول یہ کہ کسی کو کبھی تکان اور ضعف محسوس نہ ہوگا بخلاف دنیا کے کہ یہاں محنت ومشقت کے کاموں سے تو ضعف وتکان ہوتا ہی ہے خاص آرام اور تفریح سے بھی کسی نہ کسی وقت آدمی تھک جاتا ہے اور ضعف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کتنا ہی لذیذ کام اور مشغلہ ہو دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو آرام و راحت اور نعمتیں وہاں کسی کو مل جائیں گی پھر وہ دائمی ہوں گی نہ وہ نعمتیں کبھی کم ہوں گی اور نہ ان میں سے اس شخص کو نکالا جائے گا سورة ص میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یعنی یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور اس آیت میں فرمایا (آیت) وَمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ یعنی ان کو کبھی ان نعمتوں راحتوں سے نکالا نہیں جائے گا بخلاف معاملات دنیا کے کہ یہاں اگر کوئی کسی کو بڑے سے بڑا انعام و راحت دے بھی دے تو یہ خطرہ ہر وقت لگا رہتا ہے کہ جس نے یہ انعامات دئیے ہیں وہ کسی وقت ناراض ہو کر یہاں سے نکال دے گا۔ ایک تیسرا احتمال جو یہ تھا کہ نہ جنت کی نعمتیں ختم ہوں اور نہ اس کو وہاں سے نکالا جائے مگر وہ خود ہی وہاں رہتے رہتے اکتا جائے اور باہر جانا چاہے قرآن عزیز نے اس احتمال کو بھی ایک جملہ میں ان الفاظ سے ختم کردیا ہے کہ (آیت) لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا۔ یعنی یہ لوگ بھی وہاں سے پلٹ کر آنے کی کبھی خواہش نہ کریں گے۔