18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 18:1–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے اتارا اپنے بندہ خاص پر اس (عظیم الشان) کتاب کو، اور اس میں اس نے کسی طرح کی کوئی کجی (اور ٹیڑھ) نہیں رکھی،3

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی تاکہ وہ خبردار کرے (لوگوں کو) اپنی طرف سے ہونے والے ایک بڑے ہی سخت عذاب سے، اور تاکہ خوشخبری دے ان ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں کہ ان کے لئے ایک بہت بڑا اجر ہے،1

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا

1۔ نعمت قرآن اور اس کی عظمت شان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس نے اپنے بندے پر اس کتاب کو نازل فرمایا۔ یعنی قرآن حکیم کو جو کہ ایسی کامل اور بےمثال کتاب ہے جس کے مقابلے میں کوئی بھی کتاب درحقیقت کتاب کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتی اور یہ ایسی عظیم الشان اور بےمثال نعمت ہے جس کے مقابلے میں اور کوئی نعمت نعمت ہی نہیں کہ یہ انسان کو طرح طرح کی گمراہیوں کے اتھاہ اندھیروں سے نکال کر ایمان و ہدایت کی روشنی اور عظیم دولت سے نوازتی اور سرفراز کرتی ہے اور اس کو دارین کی سعادتوں اور حقیقی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ پس ہر طرح کی تعریف اور حمد وثناء اسی ذات وحدہ لاشریک کیلئے ہے جس نے اپنے بندوں کیلئے اس عظیم الشان کتاب ہدایت اور بےمثال نعمت کو اپنے فضل وکرم سے اتارا تاکہ وہ دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہوسکتیں۔ سو اس نعمت عظمی اور منت کبری کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ بندے دل وجان سے اس کو اپنائیں اور صدق دل سے اس کے حضور جھک جائیں اور زندگی بھر اور اس کے ہر موڑ پر اس کے حضور جھکے ہی رہیں کہ اسی میں ان کا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ 2۔ قرآن حکیم میں کسی طرح کی کجی نہیں :۔ سو اس کے اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ نہ اس کے الفاظ و کلمات میں اور نہ ان کے معانی ومدلولات اور اس کے مفاہیم ومطالب میں بلکہ۔ بلکہ یہ کتاب حکیم اپنے ظاہر وباطن ہر اعتبار سے محکم اور اپنے معانی ومطالب کے لحاظ سے ظاہر وبین ہے۔ سو جو اس میں کسی طرح کی کجی اور ٹیڑھ تلاش کریں گے یہ خود ان کے اپنے زیغ وضلال اور عوج و انحراف کا ثبوت ہوگا اور اس طرح اس نعمت بےمثال کی بےقدری اور ناشکری کا ارتکاب کرکے ایسے لوگ خود اپنی محرومی کا سامان کریں گے اور دارین کے خسارہ میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کی زبان عربی مبین ہے اور اس کی راہنمائی اس صراط مستقیم کی طرف ہے جو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے اور جس کے دلائل اس کائنات میں چہار سو پھیلے بکھرے ہیں۔ اور جو انسان کی سعادت دارین سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور تاکہ (خاص طور پر) وہ خبردار کرے ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ اللہ کی کوئی اولاد ہے،

5۔ مشرکوں کیلئے بطور خاص انذار :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور خاص کر اس میں انذار ہے ان لوگوں کیلئے جنہوں نے کیا خدا کی اولاد ہے۔ خواہ وہ یہود و نصاری ہوں۔ جنہوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خداوند تعالیٰ کی اولاد قرار دیا یا مشرکین عرب وغیرہ جنہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا۔ یا وہ کلمہ گو مشرک جنہوں نے اپنے خود ساختہ فلسفوں، من گھڑت مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بناء پر اللہ کے کچھ بندوں کو خدائی حقوق واختیار میں شریک قرار دیا اور ان کو خدا کے لاڈلے اور محبوب کہہ کر اور ان کو حاجت روا ومشکل کشامان کر پوجنا پکارنا شروع کردیا۔ جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغۃ (ج 1۔ 44) میں اس کی تشریح و تفصیل بیان فرمائی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ تخصیص بعد التعمیم کے قبیل سے ہے کہ پہلے عام لوگوں کے بارے میں انذار کا ذکر فرمایا گیا اور اس کے بعد یہ خاص انذار ان لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ماننے کے جرم کا ارتکاب کیا کہ یہ جرم بطور خاص زیادہ سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے اور اتنا سنگین اور اس قدر ہولناک کہ اس سے آسمان پھٹ پڑے۔ زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرپڑیں۔ جیسا کہ سورة مریم میں آیت نمبر 88 سے آیت نمبر 92 تک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ ویا ارحم الراحمین۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

(حالانکہ) ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں، اور نہ ہی ان کے باپ دادا کے پاس تھا، بڑی ہی بھاری بات ہے یہ جو ان لوگوں کے مونہوں سے نکلتی ہے، یہ لوگ بالکل ہی نرا جھوٹ بک رہے ہیں،2

6۔ نور علم و ہدایت سے محرومی ہلاکتوں کی ہلاکت۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسی بڑی بات کہتے ہیں حالانکہ ان کے پاس اس بارے نہ کوئی علم ہے نہ دلیل۔ اور اللہ پاک کا جب کوئی شریک یا اس کی کسی طرح کی کوئی اولاد ہے ہی نہیں تو پھر اس کیلئے کوئی علم یا کوئی دلیل وبرہان ہو ہی کیسے سکتی ہے ؟ ومن یدع مع اللہ الہا آخر لا برھان لہ، بہ فانما حسابہ عند ربہ الایۃ (المومنون : 117) سو اللہ تعالیٰ کیلئے کوئی اولاد تجویز کرنا یا اس کے کوئی شریک ماننا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر یہ لوگ ہیں کہ اپنی جہالت کی بناء پر اتنی بڑی حماقت اور اس قدر ہولناک جسارت کا ارتکاب کرتے ہیں سو نور علم و ہدایت سے محروم محرومیوں کی محرومی اور باعث ہلاکت و تباہی ہے کہ اس کے بعد انسان طرح طرح کے ہولناک اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 7۔ اللہ کیلئے اولاد تجویز کرنا بڑا ہولناک جرم ،۔ والعیاذ باللہ : سو اس بارے مارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی بھاری بات ہے جو ایسے لوگوں کے مونہوں سے نکلتی ہے۔ اتنی بڑی اور اس قدر بھاری کہ آسمان اس سے پھٹ جائیں، زمین شق ہوجائیں اور پہاڑ گرپڑیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ لقد جئتم شیئا ادا (89) تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخرالجبال ھدا (90) ان دعوا للرحمن ولدا (91) وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا (92) ان کل من فی السموات والارض الا اتی الرحمن عبدا (93) (مریم 88۔ 93) سو اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ ایسے تمام علائق اور تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی اولاد، اس کی شان ہے، لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد، (الاخلاص : 3۔ 4) یعنی نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس کیلئے اولاد تجویز کرنا بڑا ہی سنگین جرم اور ہولناک جسارت و گستاخی ہے اور جب اس کی کوئی بیوی ہی ممکن نہیں تو پھر اس کی کوئی اولاد کس طرح ممکن ہوسکتی ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ انی یکون لہ ولدا ولم تکن لہ صاحبہ (الانعام : 102) لہذا اسے ویسا مانا جائے جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا جیسا کہ اس کے بارے میں اس کے رسول بتائیں جن کے پاس وحی آتی ہے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

تو کیا آپ (اے پیغمبر ! ) ان لوگوں کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ہلاک کردیں گے ؟ اگر یہ لوگ اس کلام (معجز نظام) پر ایمان نہیں لائے ؟

8۔ پیغمبر کی بےمثال شفقت و رحمت کا ایک نمونہ ومظہر :۔ سو آپ ﷺ کی بےمثال رحمت وشفقت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی تسکین کیلئے اللہ آپ کو فرماتے ہیں تو کیا آپ (اے پیغمبر ! ) ان لوگوں کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ہلاک کردیں گے ؟ کہ یہ لوگ اس کلام حق پر ایمان نہیں لائے ؟۔ اپنی اس بےپایاں رحمت وشفقت کی بناء پر جو کہ خلق خدا کے بارے میں آُپ ﷺ کے قلب منور میں موجود وموجزن ہے، جس کی بناء پر آپ یہ تڑپ رکھتے ہیں کہ کسی طرح یہ لوگ راہ حق و ہدایت کو اپنا کر دوزخ کی آگ سے بچ جائیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ لعلک باخع نفسک الا یکونوا مؤمنین۔ (الشعراء : 3) نیز ارشاد فرمایا گیا فلاتذھب نفسک علیہم حسرات ان اللہ علیم بما کانوا یصنعون (الفاطر : 8) نیز فرمایا گیا ولا تحزن علیہم ولا تکن فی ضیق مما یمکرون (لنحل : 127) نیز سورة النمل کی آیت نمبر 70 میں فرمایا گیا ولا تحزن علیہم ولا تکن فی ضیق مما یمکرون (70) سو اس طرح کی ان تمام آیات کریمہ میں حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے بارے میں اس قدر فکر و افسوس میں مبتلا نہ ہوں کہ راہ ہدایت پر لے آنا نہ آپ ﷺ کے بس میں ہے، ار نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے، جیسا کہ فرمایا گیا لیس علیک ھداھم ولکن اللہ یھدی من یشآء الآیۃ (البقرۃ : 272) بہرکیف ان آیات کریمہ سے ایک طرف تو اس رحمت وشفقت کا پتہ چلتا ہے جو حضرت امام الانبیاء (علیہم السلام) کو اپنی امت سے تھی، اور دوسری طرف اس حقیقت کا بھی کہ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، وہ جس کو چاہے، جب چاہے نوازے، کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے، اور کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے، اور یہ کہ کس کے اندر طلب صادق پائی جاتی ہے، سو اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ ہی مختار کل، جس طرح کہ دور حاضر کے کچھ اہل زیغ وضلال کا کہنا اور ماننا ہے،۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وانحراف، بہرکیف ان ارشادات عالیہ سے آنحضرت ﷺ کو یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ ان کے پیچھے اپنے آپ کو اس طرح تکلیف میں نہ ڈالیں کہ آپ کا کام حق کو منور لینا نہیں بلکہ آپ کام صرف تبلیغ و انذار ہے اور بس، اور وہ آپ کرچکے، ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب اس کے بعد جو مانیں گے وہ اپنا ہی بھلا کریں گے اور جو اعراض وانکار اور کفر و تکذیب سے کام لیں گے وہ اپنی ہی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا سامان کریں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس سب کچھ کو جو کہ اس زمین پر موجود ہے اس کے لئے اس کی زینت کا سامان بنایا ہے، تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے،

9۔ متاع دنیا ذریعہ آزمائش وابتلاء۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پر موجود سب سامان ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ تاکہ یہ دیکھا جاس کے کہ کون اس دنیا کی اس چکا چوند اور اس کی چمک دمک میں کھو کر اپنے خالق ومالک کو، اپنی زندگی کے مقصد، اور اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ، اور کون اس کارخانہ ہست وبود کے پیچھے فرما اصل حقیقت کو پاکر صحیح راہ حق و ہدایت پر آجاتا ہے، اور وہ وحی کی تعلیمات حقہ کی روشنی میں اپنی خالق ومالک حقیقی کو پہچان لیتا ہے اور اس کے احکام و فرامین کے مطابق زندگی کی راہیں سنوارتا اور اپنی دنیا وآخرت بناتا ہے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ سو یہ دنیا اور اس کی یہ ساری چمک دمک اور زیب وزینت ابتلاء و آزمائش کا سامان ہے اور ظاہر ہے کہ امتحان میں شریک ہونے والے سب ہی لوگ کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ لہذا آپ ﷺ اے پیغمبر ان پر اس طرح غم نہ کھائیں، بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے جس میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنی عقل وتمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون خواہشات کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے اور اسی امتحان کے تقاضے کے بنا پر دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا گیا ہے۔ اس کے مال واولاد اس کے کھیتوں کھلیانوں اس کے باغوں چمنوں اس کی کاروں کوٹھیوں اس کے محلوں ایوانوں اور اس کی صدارتوں وزارتوں میں بڑی کشش اور دلفریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور فوری ہیں اور اس کی تلخیاں اور ضرررسانیاں پس پردہ اور آجل ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں آخرت کی کامرانیاں ادھار اور پس پردہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بیشمار اور طرح طرح کی مشکلات اور مصیبتیں اسی دنیا میں اور نقدانقد جھیلنی پڑتی ہیں۔ سو یہ امتحان بڑا سخت اور نہایت کڑا امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر کسی کا کام نہیں۔ اس کے لئے پختہ ایمان و یقین بڑے حوصلے اور صبر واستقامت عزم واستقلال اور اس سے بڑھ کر حق تعالیٰ کی خاص توفیق و عنایت کی ضرورت ہے واللہ المستعان۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے وہ سب کچھ جو کہ اس (زمین) پر ہے (ایک دن بالکل مٹا کر) اسے ایک چٹیل میدان بنادینا ہے،3

10۔ دنیا کا انجام فنا وزوال :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور یقینا ہم نے اس کو پھر ایک چٹیل میدان بنادینا ہے۔ تب اس کی یہ سب زیب وزینت اور چہل پہل ختم ہوجائے گی کہ یہ سب کچھ بہرحال فانی ہے۔ کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام تو پھر ایسی فانی اور عارضی چمک دمک پر لٹو ہو کر اپنی حقیقت اور اپنے انجام سے غافل ہوجانا کسی بھی عقلمند کو کیسے زیب دے سکتا ہے ؟ سو اس دنیا فانی کی اس چمک دمک پر لٹو اور فریفتہ ہو کر آخرت کو فراموش کردینا حماقت بھی ہے اور بڑے ہی خسارے کا سودا بھی کہ یہ بہرحال فانی ہے۔ اور اس نے بہرحال آخرکار مٹ کر رہنا ہے۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم نے (اے مخاطب) یہ سمجھ رکھا ہے کہ غار اور رقیم والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے کچھ زیادہ تعجب کی چیز تھے ؟

11۔ رقیم کا معنی ومطلب ؟:۔ رقیم کے بارے میں علماء کرام کے کئی اقوال ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس سے مراد وہ تختی ہے جس میں اصحاب کہف کے نام کندہ تھے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، زاد المسیر وغیرہ) سو رقیم اصل میں رقم سے ماخوذ ہے جس کے معنی لکھنے کے ہوتے ہیں اور ان لوگوں نے چونکہ ان کے نام ایک تختی میں کندا کر اس کو اس غار کے دروازے پر آویزاں کردیا تھا، اس لئے ان کو اصحاب رقیم یعنی تختی والے بھی کہا گیا ہے اور اصحاب کہف بھی ، (المعارف، المراغی وغیرہ) اور بعض حضرات اہل علم کے نزدیک رقیم اسی بستی کا نام ہے جس سے نکل کر اصحاب کہف نے اس غار میں پناہ لی تھی۔ یہ قول عکرمہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے۔
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب کہ ان چند نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی، اور انہوں نے دعاء کی کہ اے ہمارے رب، ہمیں نواز دے اپنی خاص رحمت سے، اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں درستی کا سامان مہیا فرما دے،

12۔ یہ کائنات عجائب سے بھری پڑی ہے :۔ اس میں صرف اصحاب کہف کا قصہ ہی کوئی عجیب قصہ نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ ہماری یہ وسیع و عریض کائنات ایسے عجائب سے بھری پڑی ہے۔ جو اصحاب کے اس قصے سے بھی کہیں بڑھ کر عجیب و غریب ہیں، کیا یہ کرہ ارضی جس پر یہ انسان رہتا بستا ہے اور جو ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے محو گردش ہے، اور یہ سورج اور چاند کے عظیم الشان کرے جو اسی طرح نہایت پابندی کے ساتھ رواں دوان ہیں، کیا یہ ہماری قدرت کی کوئی کم تعجب چیز نشانیاں ہیں ؟ خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ (المراغی وغیرہ) 13۔ اصحاب کہف کے قصے کا خلاصہ واجمال :۔ سو ارشاد فرمایا گیا جبکہ ان چند نوجوانوں نے جاکر غار میں پناہ لی اپنے دین و ایمان کو بچانے کیلئے، اپنے وقت کے جابر وظالم حکمران سے بھاگ کر اور اس طرح انہوں نے اپنے عمل و کردار سے دنیا کو یہ درس دیا کہ اپنے دین و ایمان کی دولت کو بچانا سب سے اہم اور جملہ تقاضوں پر مقدم ہے، اس لئے اس کی خاطر اگر اپنے گھربار، اور قوم قبیلہ کو بھی چھوڑنا پڑے تو اس سے گریز نہ کرو خواہ اس کیلئے آبادی کو چھوڑ کر کسی غار ہی میں پناہ لینی پڑے، اور پھر انہوں نے غار میں پناہ لینے ہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی جو کہ مومن کا اصل ہتھیار ہے۔ سو اس سے انہوں نے واضح کردیا کہ ان کے اندر صرف جوانی کا جوش ہی نہیں تھا بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی حکمت و فراست کان ور بھی تھا جس کی بناء پر انہوں نے اپنے مقدور کی حدتک اسباب بھی اختیار کئے اور دعا کا سہارا بھی لیا۔ اور یہی شان ہے مومن صادق کی اور یہی طریقہ ہے اسباب اور توکل کے درمیان توازن کا۔ بہرکیف اس سے اس قصے کا اجمال و خلاصہ پیش فرمایا دیا گیا۔ آگے اس کی پوری تفصیل آرہی ہے۔ اور اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ اوقع فی النفس ہے۔
Ayahs 18:11–12

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

سو ہم نے ان کے کانوں پر تھپکی دے کر ان کو اسی غار میں سلا دیا برسہا برس کے لئے،

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انھیں اٹھایا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان کے دونوں گروہوں میں سے کون اس مدت کو زیادہ ٹھیک بتاتا ہے جو انہوں نے وہاں گزاری تھی،1

14۔ اصحاب کہف کیلئے قدرت کی غیبی امداد کا ایک نمونہ ومنظر :۔ سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اصحاب کہف کی حفاظت کیلئے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرما دیا گیا چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے کانوں پر تھپکی دے کر ان کو برسہابرس تک اسی غار میں سلا دیا، تاکہ زمانہ دراز کی ان کی اس نیند میں کوئی آواز وغیرہ خلل انداز نہ ہوسکے، اور وہ سکون اور آرام سے وہاں رہ سکیں، سو اس سے دنیا کو یہ عظیم درس دیا گیا کہ جو کوئی صدق دل سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے اس کی راہ میں نکلتا ہے۔ اور اس کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی خاطر تکلیف اٹھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی نصرت و امداد کیلئے اسی طرح غیب سے اسباب پیدا کرتا اور وسائل مہیا فرماتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ بشرطیکہ اس سے تعلق صحیح اور اس پر توکل و اعتماد پختہ اور مضبوط ہو، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

(اس اجمال تذکرے کے بعد اب) ہم آپ کو ان کا قصہ ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، اور ہم نے ان کو ہدایت میں اور ترقی بخش دی تھی،2

15۔ اہل ایمان کیلئے ہدایت میں اضافے کا ذکر وبیان :۔ چنانچہ ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی ہدایت میں اور ترقی دے دی تھی تاکہ وہ راہ حق میں صبر واستقامت سے کام لے سکیں۔ سو ان کی قوت ایمانی میں اضافہ کیا گیا۔ انکے اخلاص واستقامت اور صفاء باطن کی بناء پر، جس کے نتیجے میں ان کو راہ حق و ہدایت میں ثابت قدمی نصیب ہوئی۔ صحیح فیصلہ کرنے اور عمل صالح، اور صحیح راہ کو اپنانے کی توفیق ملی اور زہد فی الدنیا سے مشرف ہوئے اور سب سے کٹ کر ایک اللہ کے بن جانے کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کو اپنی عنایات سے اسی طرح نوازتا ہے، کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے اور مسلسل و لگاتار اور ہمیشہ نوازنا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اصحاب کہف کو ان کے صدق و اخلاص کے نتیجے میں ایمان و یقین اور ہدایت و بصیرت میں اضافے اور افزونی سے نوازا گیا اور فتیۃ کے لفظ سے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ راہ حق کے سلسلے میں نوجوانوں کو انکے سرگزشت سے سبق لینا چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 18:14–15

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے اس وقت ان کے دل مضبوط کر دئیے جب کہ انہوں نے (آپس میں یا بادشاہ وقت کے سامنے) کھڑے ہو کر اعلان کردیا، کہ ہمارا رب تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا اور کسی بھی معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے، ورنہ ہم یقیناً ایک بڑی ہی بےجا بات کا ارتکاب کریں گے،

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ جو ہماری قوم ہے انہوں نے اس (وحدہ، لا شریک) کے سوا طرح طرح کے معبود بنا رکھے ہیں، یہ لوگ کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی واضح دلیل، سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

16۔ اصحاب کہف کیلئے قدرت کی طرف سے دلوں کی مضبوطی کا انتظام :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ہم نے مضبوط کردیا ان کے دلوں کو تاکہ وہ حق پر پکے اور ثابت قدم رہیں، اور اس طرح ان کے دل نور ایمان و یقین سے منور ہوگئے اور ان کے قلوب وبواطن اس سے مطمئن ہوگئے کہ حق و ہدایت کی جس راہ کو انہوں نے اپنایا ہے وہی حق وصواب ہے اور اس کیلئے انہوں نے جو بھی قربانی دی وہ عظیم الشان سعادت ہے، سو جب وہ اللہ کی راہ میں اور اس کی توحید کی خاطر اور اس کی رضا کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت و دستور کے مطابق انکے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور ان کو مضبوط کردیا۔ جس سے وہ راہ حق پر ثابت قدم رہے۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال۔ 17۔ اصحاب کہف کے اعلان توحید کا ذکر وبیان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب انہوں نے کھڑے ہو کر توحید کا اعلان کردیا بغیر کسی خوف اور ڈر کے، اپنی ایمانی قوت کی بناء پر حالانکہ کفر و شرک اور ظلم وجبر کے اس دور میں جبکہ ہر چہار سو اندھیرے ہی اندھیرے تھے، توحید خداوندی کا اس طرح برملا اظہار و اعلان کردینا کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ یہ جان جوکھوں میں ڈالنے اور موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن جب ایمان و یقین راسخ ہوجاتا ہے اور نور ایمان سے دلوں کی دنیا منور ہوجاتی ہے تو پھر انسان کو نہ کسی کا کوئی خوف وڈر ہوتا ہے اور نہ کسی کی کوئی پرواہ، سبحان اللہ کیسی عظیم الشان و انقلاب آفریں قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت، جو انسان کو اس طرح بدل دیتی ہے اور اس کا کچھ کا کچھ بنادیتی ہے۔ اور کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ سو انہوں نے کہا ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کا رب ہے۔ اس کے سوا ہم اور کسی بھی معبود کو کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر نہیں پکاریں گے۔ اور اگر خدانخواستہ ہم نے کبھی ایسے کرلیا تو یقینا ہم بڑی بےجا اور حق سے ہٹی ہوئی بات کا ارتکاب کریں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 18۔ معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے :۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ ہم معبود برحق (اللہ وحدہ لاشریک) کے سوا کسی کو بھی نہیں پکاریں گے، اپنی عبادت بندگی میں، اور اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کیلئے، کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا نہ کوئی معبود ہے، اور نہ حاجت روا ومشکل کشا، سبحانہ وتعالیٰ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق واسی کا اختصاص ہے، اور جو اس کے سوا اوروں کو پوجتے پکارتے اور ان کو حاجت روا ومشکل کشان جانتے مانتے ہیں وہ شرک اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ اس لئے عقیدہ توحید سے سرشار ان مخلصوں اصحاب کہف نے کہا کہ ہم اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کو بھی کسی بھی قیمت پر نہیں پکاریں گے۔ کہ معبود برحق بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور اب جب کہ تم الگ ہوگئے ہو ان سے بھی، اور ان کے ان (باطل) معبودوں سے بھی، جن کو یہ لوگ پوجتے (اور پکارتے) ہیں اللہ کے سوا، تو اب تم (سیدھے) چل کر پناہ لے لو فلاں غار میں، تمہارا رب پھیلا دے گا تم پر اپنی رحمت (کی چادر) اور مہیا فرما دے گا تمہارے معاملے میں آسانی (اور کامیابی) کا سامان،3

20۔ اہل کفر و شرک سے علیحدگی کا اعلان :۔ سو انہوں نے آپس میں کہا کہ اب جبکہ تم ان لوگوں سے الگ ہوگئے ہو ذہنی اور فکری طور پر۔ اپنے عقیدہ و ایمان کی بناء پر اور دین و ایمان کا برملا اظہار و اعلان کرکے، اور تمہارا ان لوگوں سے کوئی رشتہ اور تعلق باقی نہیں رہ گیا۔ کہ تم ایمان و یقین اور توحید والے اور یہ کفرو شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں، تو اب تم ظاہری اور جسمانی طور پر اور جگہ اور مکان کے اعتبار سے بھی ان سے الگ ہوجاؤ کہ اب ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا اور ان سے خلط ملط رکھنا جائز نہیں جس سے ہمارے دین و ایمان کی دولت کو خطرہ ہو کیونکہ دین و ایمان کی حفاظت سب سے اہم اور سب پر مقدم ہے۔ 21۔ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی فکر و کوشش کا درس :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے آپ میں ایک دوسرے سے کہا کہ اب تم سیدھے چل کر فلاں غار میں پناہ لے لو، جس کو انہوں نے اس غرض کیلئے طے کرلیا تھا، تاکہ جس طرح تم ان سے اپنے دین و ایمان کے اعتبار سے الگ ہوگئے ہو، اسی طرح اپنے ابدان واجسام کے لحاظ سے، اور اپنی بودوباش کے اعتبار سے بھی ان سے الگ اور کنارہ کش ہوجاؤ اور کفر و شرک کے مارے ان لوگوں سے تمہارا کوئی تعلق اور واسطہ باقی نہ رہے، اور اس گندے ماحول اور اس کے اثرات سے تم الگ ہوجاؤ، سوا اپنے اس عمل وقرار سے ان بندگان صدق وصفانے دنیا کو یہ درس دیا کہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی فکر و کوشش لازم اور سب سے اہم اور مقدم ہے۔ اور اس غرض کیلئے اگر اپنے گھر بار قوم قبیلہ اور اعزہ واقارب کو چھوڑنا پڑے تو بھی چھوڑدو اور اپنے بسے بسائے آرام دہ گھروں اور وہاں کے آرام وراحت کو قربان کرکے پہاڑوں اور غاروں میں رہنا پڑے تو بھی ایسا کرو کہ اصل چیز تو بہرحال دین و ایمان ہی ہے جو کہ سب سے بڑی دولت ہے۔ 22۔ اللہ ہی پر بھروسہ و اعتماد کا درس :۔ سو اس سے انہوں نے اپنے رب پر بھروسہ و اعتماد اور اسی کی رحمت کی امید رکھنے کا درس دیتے ہوئے کہا کہ اور تمہارا رب تمہارے لئے رحمت اور آسانی کا سامان مہیا فرمادے گا۔ کہ وہ بڑا ہی کرم والا اور انتہائی مہربان بھی ہے، اور قادر مطلق بھی، پس تم اسی کے بھروسہ و اعتماد پر اس مشرک معاشرے اور ان مشرک لوگوں سے الگ ہوکرفلاں غار میں پناہ لے لو، سو اس طرح ان بندگان صدق وصفا نے اپنے عمل و کردار سے دنیا کو یہ درس عظیم بھی دے دیا کہ بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھا جائے کہ حاجت روا ومشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں، مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ وہ ایسے مشکل وقتوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت پر بھروسہ و اعتماد کرنے اور اس کی مشکل کشائی اور حاجت روائی پر یقین اور توکل کرنے کی بجائے کسی ایری غیری مخلوق اور کسی فرضی وہمی سرکار پر بھروسہ کرنے کا درس دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 18:17–18

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور تم (اگر انھیں غار میں دیکھتے تو) سورج کو دیکھتے کہ جب وہ نکلتا ہے تو کنی کترا جاتا ہے ان کے غار سے داہنی طرف کو اور جب ڈوبتا ہے تو ان کے بائیں جانب سے کنی کتراتا ہوا گزر جاتا ہے، جب کہ وہ اس غار کے اندر ایک کھلی جگہ میں پڑے تھے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہے ہدایت پانے والا، اور جسے وہ گمراہ کر دے، تو تم اس کے لئے نہیں پا سکو گے کوئی حمایتی راہ دکھانے والا،1

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم (اگر دیکھتے تو) ان کو جاگتا ہوا خیال کرتے، حالانکہ وہ سوئے پڑے تھے، ہم انھیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے، اور ان کا کتا غار کے دھانے پر اپنے بازو پھیلائے بیٹھا تھا اگر تم کہیں جھانک کر انھیں دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے، اور تم پر ان کی ایک دہشت چھا جاتی،

23۔ اللہ پر بھروسہ غیبی امداد سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :۔ سو اس سے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسے اور اسی پر اعتماد کا درس دیا گیا ہے سو اس بھروسے اور اعتماد کا نتیجہ یہ ہوا کہ غار میں انکے لئے قدرت کی طرف سے خاص انتظام فرمایا گیا کہ سورج اپنے طلوع و غروب میں ان سے کنی کتراتا ہوا گزر جاتا ہے اور اس طرح یہ نوجوان سورج کی تمازت و گرمی اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ ومصون رہتے تھے، جو کہ قدرت کی عنایت کا ایک کھلا اور عظیم الشان مظہر تھا، سو اس سے یہ ظاہر اور واضح ہوجات ہے کہ جو لوگ صدق دل سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انکو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے اسی طرح نوازتا اور ان کی غائبانہ مدد فرماتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 24۔ غار میں ان کی حفاظت کا خاص قدرتی انتظام :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس غار میں کھلے حصے میں پڑے تھے۔ سو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس غار کا دھانہ اس طرح واقع تھا کہ سورج جب طلوع ہوتا تو اس غار کے دائیں کو بچتا ہوا طلوع ہوتا اور جب ڈوبتا تو اس غار سے بائیں طرف کو کتراتا ہوا ڈوبتا جبکہ وہ اس غار کے ایک کھلے حصے میں محو آرام وراحت تھے، سو اس سے ان کو ہوا روشنی اور حرارت وغیرہ جو زندگی کی اہم ضروریات میں سے ہیں برابر پہنچتی رہیں۔ اور سورج کی حدت و تمازت کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں۔ والحمد للہ جل وعلا۔ تاکہ اس طرح ان کو صاف اور تازہ ہوا، اور حسب ضرورت اس کی خنکی اور برودت پہنچتی رہے، سو اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں اور اپنے پیاروں کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے اسی طرح نوازتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ بندے کا تعلق ظاہر وباطن ہر اعتبار سے اپنے خالق ومالک کے ساتھ صحیح رہے۔ وباللہ التوفیق۔ 25۔ ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پاسکتا ہے۔ اس کے صفاء باطن، طلب اور صدق نیت کی بناء پر، سو اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور عنایت کی بناء پر ایسے لوگ معجزات اور کرامات کو مانتے اور ان کو ان کے صحیح مقام پر رکھتے ہیں، اور وہ عدل وانصاف اور حق و صداقت پر مبنی صحیح راہ کو اپناتے اور معجزہ اور کرامت سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہوتا ہے، اور وہ اپنی مشئیت اور مرضی کے مطابق جسکو چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے اور جیسے چاہتا ہے نور حق و ہدایت سے نوازتا ہے، معجزہ پیغمبر کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس کی صداقت و حقانیت کا ثبوت اور اس کی دلیل ہوتا ہے، جبکہ کرامت بزرگ اور ولی کے ہاتھ پہ ظاہر ہوتی ہے اور یہ اس کے اکرام کی نشانی ہوتی ہے ، (معارف وغیرہ) اللہ ہمیشہ راہ حق پر قائم رکھے۔ آمین۔ 26۔ اللہ تعالیٰ کے کسی کو گمراہ کرنے کا مطلب ؟:۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا قانون اور اس کی سنت و دستور یہ ہے کہ جب کوئی حق و ہدایت کی طلب وتلاش سچے دل سے رکھتا ہے تو اس کو وہ دولت حق و ہدایت سے نوازتا ہے اور جو اس سے منہ موڑتا اور اعراض کرتا ہے اس کو وہ محروم کردیتا ہے۔ سو اسی کو فرمایا اور جس کو اللہ گمراہ کردے اس کو کور باطنی، کج فہمی، سوء اختیار اور بدنیتی کی وجہ سے۔ والعیاذ باللہ تو پھر ایسوں کو حق اور ہدایت کی دولت سے سرفرازی نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ اور نور حق و ہدایت سے اسی محرومی کی بناء پر ایسے لوگ معجزہ اور کرامت کے بارے میں افراط وتفریط کی پگڈنڈیوں میں پڑ کر رہ حق وصواب سے محروم ہوجاتے ہیں، والعیاذ باللہ سو اس کے نتیجے میں کچھ تو معجزات اور کرامات کا سرے سے ہی انکار کردیتے ہیں اور کچھ اس کے برعکس انہی معجزات و کرامات کی بناء پر اللہ کے ایسے نیک اور پاکیزہ بندوں کو خدا بنادیتے ہیں۔۔ والعیاذ باللہ جل وعلامن کل زیغ وضلال، 27۔ محروموں کے لئے ہدایت ممکن نہیں :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کیلئے تم کوئی راہ دکھانے والا حمایتی نہ پاس کو گے جو اسے ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ ور کرسکے، پس اگر یہ کفار و مشرکین ایمان نہیں لاتے، تو آپ (اے پیغمبر ! ) اس پر غمگین نہ ہوں، کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا ایمان منظور ہی نہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اپنے باطن کو بگاڑ لیا ہے اور اپنی فطری استعداد کو ضائع کردیا ہے، اور ایسا اور اس حد تک کہ اب یہ لوگ نورحق و ہدایت سے سرفرازی کے قابل ہی نہیں رہے۔ والعیاذ باللہ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان میں کوئی کمی نہیں۔ یہ پوری کائنات ان سے بھری پڑی ہے ایک سے ایک بڑھ کر نشانی موجود ہے۔ لیکن نشانیوں سے صحیح طور پر فائدہ وہی اٹھاسکتے ہیں جن کے باطن کا معاملہ درست ہوتا ہے اور وہ اللہ پاکی توفیق سے سرشار ہوتے ہیں اور جو اس سے محروم ہوتے ہیں ان کیلئے پھر دوسرا کوئی ولی اور کار ساز نہیں ہوسکتا۔
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور (جس عجیب طریقے سے ہم نے انھیں سلا دیا تھا) اسی طرح ہم نے انھیں اٹھا بٹھایا، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کریں، (چنانچہ) ان میں سے ایک نے پوچھا کہ تم کتنی دیر اس حال میں رہے ہو ؟ تو دوسروں نے جواب دیا دن بھر، یا اس سے بھی کچھ کم ہی رہے ہوں گے، پھر انہوں نے کہا (اس بحث سے کیا فائدہ ؟ ) تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ تم کتنا عرصہ رہے ہو۔ پس اب تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو تاکہ وہ (وہاں جا کر سب سے پہلے تو یہ) دیکھے کہ سب سے پاکیزہ (اور ستھرا) کھانا کہاں ملتا ہے، پھر وہ وہاں سے تمہارے کھانے کو کچھ لے آئے، اور وہ بڑی خوش اسلوبی سے کام لے کہ تمہارے بارے میں کسی کو خبر تک نہ ہونے پائے،

32۔ اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا :۔ اور اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے، جس سے بالآخر وہ خداوند قدوس کی قدرت کاملہ اور رحمت بےپایاں کے اس عظیم مظہر سے آگاہ ہوسکیں، اور اس سے ان کے ایمان میں مزید قوت آئے، یقین میں اور پختگی اور اضافہ نصیب ہو، اور وہ مزید از مزید اس کے اطاعت گزار اور شکر گزار بن کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں، بہرکیف ان کو ہم نے ان کی اس طویل اور معجزانہ نیند کے بعد زندہ کرکے اٹھایا اور اس طور پر کہ نہ ان کے جسموں پر اس کا کوئی اثر اور نشان تھا، اور نہ ان کے کپڑے بوسیدہ ہوئے نہ ان کے بال بڑھے نہ ناخن، تاکہ اس طرح وہ ہماری قدرت کاملہ اور بعث بعد الموت کے نشان بن جائیں، بہرکیف اتنی طویل نیند کے بعد ہم نے ان کو اس طرح اٹھایا تاکہ وہ اس میں اس بارہ باہم سوال کریں اور پوچھیں تاکہ یہ عظیم الشان حقائق ان کے سامنے منکشف ہوجائیں اور اس طرح ان کا یہ سونا اور جاگنا دنیا کیلئے درسہائے عبرت و بصیرت کا ذریعہ بن جائے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ 33۔ اللہ کے ولی غیب داں نہیں ہوتے :۔ سو اس کے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے ولی نیند میں بھی نہیں جان سکتے کہ ان کے سونے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا ہے، تو پھر موت کے بعد کیسے جان سکتے ہیں ؟ پس اس سے اہل بدعت کی شرکیہ خرافات سے چنی ہوئی پوری عمارت دھرام سے گرجاتی ہے اللہ تعالیٰ ہر کسی کو شرک کے ہر طرح کے جراثیم سے بچائے آمین ثم آمین۔ سو یہاں پر دیکھئے کہ وہ حضرات صدیوں کی اس طویل اور عمیق نیند سے بیدار ہو کر جب آپس میں ایک دوسرے سے اس بارہ پوچھتے ہیں کہ تم اس حال میں کتنا عرصہ رہے ہو ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ، حالانکہ نصص قرآنی کے مطابق تین سو سال سے بھی زیادہ عرصہ اس طرح رہے تھے اور جب ان کو اپنی نیند کے حال کا بھی پتہ نہیں، تو پھر موت کے بعد اس بارہ کیسے کچھ معلوم ہوسکتا ہے ؟ سو اس سے اہل بدعت کی بہت سی شرکیات کی جڑ کٹ جاتی ہے والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحول وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 34۔ پاکیزہ کھانے کی طلب وتلاش :۔ جو حلال وطیب ہو اور غیر اللہ کی نذر ونیاز وغیرہ اس میں شامل نہ ہو۔ کیونکہ وہاں ایسے عموما ہوتا تھا۔ جیسا کہ روایت میں وارد ہے، اس لئے ان حضرات نے اس سے بچنے اور پرہیز کرنے کی اس طرح تاکید کی کہ اکل حلال کو تقوی و پرہیز گاری میں بنیادی اہمیت و حیثیت حاصل ہے، مگر افسوس کہ آج بزرگی کا دعوی کرنے والوں کے یہاں بھی اس کا کوئی پاس و احساس نہیں ہے۔ الا ماشاء اللہ تعالیٰ ۔ غیر اللہ کی نذرونیاز کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ مال جمع لرنا ہی ایسے لوگوں کا اصل مقصد بن گیا ہے جس طرح بھی ہو حلال وحرام کی پرواہ تک نہیں۔ پھر جمع کردہ مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کا کسی کو خیال تک نہیں، الا ماشاء اللہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل اخبارات میں یہ خبر چھپی تھیں کہ سندھ کی ایک درگاہ کے مجاوروں کے درمیان ان کی یہاں جمع شدہ اٹھائیس کلو سونے کی ملکیت اور اس کی تقسیم پر جھگڑا ہوا، دونوں گروپوں کے درمیان فائرنگ تک نوبت پہنچ گئی جس سے کچھ لوگ مرگئے اور کچھ زخمی ہوگئے، حالانکہ قرآن حکیم کی صحیح نصص کے مطابق جو لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے کل قیامت کے دن ان کے اس سونے چاندی کو پگھلاکر اس سے ان کی پیشانیوں ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں پر داغ لگائے جائیں گے ،۔ والعیاذ باللہ (سورۃ توبہ آیت نمبر 34 اور 35) 35۔ ولی غیب داں نہیں ہوتے :۔ یعنی تم میں سے کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے اہل شہر کو ہمارا پتہ لگ جائے اور پھر حکومت ہمیں گرفتار کرلے، اور اس طرح ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوجائیں۔ کیونکہ وہ ابھی تک اپنے اسی پرانے خیال میں تھے کہ وہ مشرک حکومت جس کے خوف سے بھاگ کر وہ غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے کہیں ان کو گرفتار نہ کرلے، حالانکہ تین سو سال کی اس طویل مدت میں وہاں کتنی ہی حکومتیں ختم ہوگئی تھیں اور کتنی تبدیلیاں رونما ہوچکی تھیں، اور حالات بدل کر کہیں سے کہیں جاپہنچے تھے، مگر ان حضرات کو اس کا کوئی احساس تک نہیں تھا، سو اس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ اللہ کے ولی غیب دان نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا۔۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 18:20

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

کیونکہ اگر کہیں ان لوگوں نے تم پر قابو پا لیاوہ تمہیں سنگسار کردیں گے، یا پھر وہ تم کو اپنے دین میں لوٹا لیں گے، اور اس صورت میں تم کبھی بھی فلاح نہیں پا سکو گے،2

36۔ دین حق سے انحراف باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ :۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ اگر تم اپنے دین سے پھر کر ان کے مذہب میں داخل گئے تو تم کبھی فلاح نہیں پاس کو گے کیونکہ شرک والے مذہب میں جانے کے بعد کوئی فلاح نہیں پاسکتا مگر ان کو کیا پتہ کہ ان کی اس نیند کے دوران ایک زمانہ دراز گزر چکا ہے اور اب اس شہر اور ملک کی اس عرصے میں تو کایا ہی پلٹ چکی ہے، اب وہاں مشرک بادشاہ کی بجائے ایک مؤحد حکمران کا راج اور اقتدار ہے، سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ولی نہ عالم غیب ہوتے ہیں، نہ حاضر وناظر اور نہ مختار کل، پس جھوٹ ہے وہ سب کچھ جو کہ اہل بدعت کہتے ہیں، اور اللہ کے ایسے عاجز بندوں کو وہ حاجت روا ومشکل کشا قرار دیتے ہیں، اور شاید اسی بناء پر اصحاب کہف کے نام سے اہل بدعت کے یہاں خاص ختم بھی پڑھے جاتے ہیں، جس میں سات آدمیوں اور ایک کتے کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور کہیں ان کے نام کی سات روٹیاں تقسیم کی جاتی ہیں، اور اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس موقع پر اپنے تفسیری (بلکہ تحریفی) حواشی میں ان حضرات کے ناموں کے خاص فوائد بھی لکھے ہیں کہ ان سے آفتیں ٹلتی، مصیبتیں دور ہوتی، اور یہ فائدے اور منافع حاصل ہوتے ہیں وغیرہ مگر یہ سب کچھ خود ساختہ اور من گھڑت ہے، جس کی پشت پر کسی سند اور ثبوت کا کوئی سہارا نہیں، نہ قرآن پاک سے، نہ احادیث رسول سے، نہ خیر القرون کے عہد وبرکت سے، اور نہ فقہ کی کسی بھی معتبر کتاب سے ماانزل اللہ بھا من سلطان، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسی چیزوں کے بارے میں کوئی سند اور دلیل نہیں اتاری۔ یہ سب ایسے لوگوں کی اپنی اختراعات ہیں دین متین کی تعلیمات مقدسہ میں، ان کا کوئی ثبوت نہیں ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس، ولقد جآء ہم من ربھہم الھدی یعنی یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن و گمان اور خواہشات نفس کی، حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور (جس عجیب طریقے سے ہم نے انھیں سلایا، جگایا) اسی طرح ہم نے ان لوگوں کو ان کے حال پر مطلع کردیا، تاکہ وہ یقین جان لیں کہ اللہ کا وعدہ واقعی سچا ہے، اور یہ کہ قیامت کا آنا اس قدر یقینی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں،1 (اور وہ بھی ان کو سناؤ کہ) جب وہ لوگ آپس میں جھگڑ رہے تھے ان کے معاملے میں، سو انہوں نے کہا کہ ان (کے غار) پر کوئی عمارت بنوا دو ، ان کا رب ان (کے معاملے) کو خوب جانتا ہے، (بالآخر) ان لوگوں نے جو ان کے معاملے پر غالب تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان پر ایک مسجد بنائیں گے،2

37۔ اصحاب کہف کی بیداری کے متعلق خاص اہتمام کا ذکر وبیان :۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ جس طرح ہم نے اصحاب کہف کو خاص طور پر اور عجیب و غریب طریقے سے سلایا جگایا اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال پر مطلع کیا یعنی ان لوگوں کو جو کہ حشرونشر اور بعث بعد الموت کے بارے میں اختلاف میں پڑے ہوئے تھے، سو ان لوگوں کو ان حضرات کے حال پر مطلع کردیا تاکہ ان کی آنکھیں کھل جائیں اور یہ یقین کرلیں کہ جس قادر مطلق نے ان لوگوں کو اس قدر طویل مدت نیند میں گزارنے کے باوجود اس طرح صحیح وسالم اٹھا دیا کہ نہ ان کے جسموں میں کچھ فرق آیا نہ ان کی جوانیوں میں، اور نہ ان کے کپڑوں میں وہ قادر مطلق مرنے کے بعد بھی لوگوں کو ان کی اصل حالت پر دوبارہ اٹھا سکتا ہے، سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہ تو محض ایک معمولی سا نمونہ دکھایا گیا۔ ورنہ اس قادر مطلق کی قدرت بےپایاں اور اس کی حکمت بےنہایت کا معاملہ ہی الگ ہے کہ وہ کن فیکون کی شان کا مالک و مختار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ، اللہم فکن لنا ولا تکن علینا وخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک والرضا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاہ۔ 38۔ اللہ کے وعدے کی قطعیت کا ثبوت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے ان کے سلانے کی اپنی وہ شان دکھلائی تھی اسی طرح ان کے جگا اٹھانے کی یہ شان بھی لوگوں کو دکھائی تاکہ یہ لوگ یقین جان لیں کہ اللہ کا وعدہ قطعی طور پر حق ہے یعنی اس کا یہ وعدہ کہ سب نے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ہے، اور اپنے کئے کا بدلہ پانا ہے، تاکہ عدل وانصاف کے تقاضے کامل طور پر پورے ہوں، اور اس کائنات کی تخلیق کا مقصد پورا ہوسکے۔ سو وقوع اور قیام قیامت کا وعدہ الہی قطعی طور پر سچا اور برحق ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ اس لئے اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ 39۔ وقوع قیامت لاریب :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ لوگ اس حقیقت کو جان لیں کہ قیامت کے آنے کے بارے میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس کی خبر اللہ پاک نے دی ہے، اپنے انبیاء ورسل کے واسطے سے، جو کہ اصدق القائلین اور سچا اور سچوں کا خالق ومالک ہے، سبحانہ وتعالیٰ ، اس سے بڑھ کر سچی بات اور سک کی ہوسکتی ہے ؟ ومن اصدق من اللہ حدیثا اور ان کے اس استبعاد کو دور کرنے کیلئے یہ واقعہ کافی ووافی ہے، کہ یہ لوگ صدیوں کی اس طویل اور گہری نیند کے بعد اس طرح صحیح وسالم دوبارہ اٹھ گئے اور لوگوں نے ان کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا، پس وقوع قیامت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ شدنی ہے جس کے ظہور میں کسی شک وشب ہے کی کوئی گنجائش نہیں اس نے اپنے وقت مقرر پر بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ 40۔ انقلاب احوال کے ایک نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان :۔ سو اس سے اس انقلاب احوال کے نمونے اور مظہر کو واضح فرمایا گیا جو ان بندگان صدق وصفا (اصحاب کہف) کی وفات کے بعد رونما ہوا کہ ایک وقت تو وہ تھا کہ جب ان اللہ والوں کی حق گوئی کی پاداش میں سنگسار کئے جانے کی دھمکی دی گئی تھی جس سے یہ لوگ جاکر غار میں روپوش ہوگئے تھے جہاں قدرت کیطرف سے ان پر ایک طویل نیند طاری کردی گئی اور انہوں نے صدیاں اسی حال میں اور اس غار کے اندر گزاریں، اور اب ایک وقت وہ آگیا تھا جبکہ لوگ ان کے ساتھ اپنے تعلق اور انتساب پر فخر کررہے تھے اور ان پر یادگار قائم کرنے کیلئے باہم جھگڑ رہے تھے، سو ارشاد فرمایا گیا کہ غالب رائے رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ ہم ان پر ایک مسجد بنائینگے جس میں اللہ وحدہ لاشریک کی توحید کی تعلیم و تبلیغ کا اہتمام ہو، اور اس کی عبادت کی جائے، اہل بدعت ان کے اس قول وعمل کو اپنی شرکیہ قبہ سازی کیلئے دلیل قرار دیتے ہیں، جیسا کہ ان کے بڑوں نے اپنی معروف مشرکانہ اور تحریفی ذہنیت کے مطابق اس موقع پر اپنی حسب منشا اس طرح کی حاشیہ آرائی کی ہے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ عمل عیسائیوں کا تھا، اور یہی بڑی حد تک ان کے شرک کا ذریعہ بناء جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے اپنی زبان فیض ترجمان سے اس کی تصریح فرمائی ہے جیسا کہ شیخین اور نسائی وغیرہ کی روایت میں ہے، کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کے یہاں جب کوئی نیک شخص مرجاتا تو یہ اس کی قبر پر مسجد بنادیتے اور اس میں ان حضرات کی تصویریں رکھ دیتے، یہ لوگ قیامت کے روز بدترین مخلوق (شرارالخلق) ہوں گے، اور احمد و طبرانی کی روایت میں ہے کہ بدترین لوگ وہ ہیں جو قیام قیامت کے وقت زندہ ہوں گے اور وہ جو قبروں کو مسجدیں بنائیں گے، اور صحیحین ہی میں حضرت عائشہ ؓ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ یہود و نصاری پر خدا کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنادیا (بخاری کتاب الصلوۃ) اور نبی کریم ﷺ نے شرک کے دروازوں کو بند کرنے کیلئے اپنی امت کو خود اپنے برے میں اس طرح کے غلو سے پوری شدت اور سختی کے ساتھ اور پوری صراحت و وضاحت سے روکا ہے، چناچہ صحیح بخاری وغیرہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اپنی امت کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ خبردار میرے بارے میں اس طرح غلو سے کام نہ لینا جس طرح کہ نصاری نے عسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا، سوائے اس کے نہیں کہ میں اللہ کا ایک بندہ اور اس کا رسول ہوں پس تم مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہنا، فقولوا عبداللہ و رسولہ (بخاری کتاب الحدود) اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں (زائرات القبور) اور ان پر مسجدیں بنانے اور دئے جلانے والے مردوں المتخذین علیہا المساجد والسرج، کو لعنت فرمائی ہے (ابو داؤد، ترمذی، وغیرہ) اسی لئے اسلام کے صدر اول میں ایسے ہر نشان کو مٹا دیا جاتا تھا جس سے شرک کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہو، چناچہ حضرت عمر ؓ کو جب عراق میں حضرت دانیال (علیہ السلام) کی قبر کا پتہ چلا، تو اس کو فورا زمین کے برابر کرادیا، اور اس کے ساتھ جو ایک خاص تبرک ان لوگوں نے رکھا ہوا تھا، جس میں جنگوں وغیرہ کے کچھ حالات تھے، تو اس کو آپ نے دفن کردینے کا حکم دیا (ابن کثیر، المراغی، محاسن التاویل، وغیرہ) سبحان اللہ ! کہاں دینی تعلیمات وارشادات میں قبروں پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کی ممانعت اس شدت سے وارد ہے، اور حضرت عمر ؓ حضرت دانیال ؓ پیغمبر کی قبر کو بھی مٹا دینے کا حکم صادر فرماتے ہیں، اور کہاں آج کے جاہل مسلمان کا حال ہے کہ وہ لسوڑے شاہ، گھوڑے شاہ، کھٹے شاہ، اور مٹھے شاہ، وغیرہ جیسے مہمل اور فرضی ناموں سے قبریں اور جبے قبے بنابنا اور سجا سجا کر شرک کا کاروبار چلائے جارہا ہے، اور اس طرح وہ اپنے لئے اور دوسروں کیلئے دوزخ کا سامان کئے جارہا ہے، اور کتنے ہی اصحاب جبہ و دستار کاروبار چلائے جارہا ہے، اور اس طرح وہ اپنے لئے اور دوسروں کیلئے دوزخ کا سامان ن کئے جارہا ہے، اور کتنے ہی اصحاب جبہ و دستار ہیں جو ایسے جاہلوں کی پیٹھ ٹھونکے جارہے ہیں، اور ان کیلئے دلائل کے نام سے طرح طرح کے ڈھلوسلے جمع کرتے اور نصوص قرآن وسنت تک میں طرح طرح کی تاویلات بلکہ تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی والعیاذ باللہ جل وعلا، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اگر کسی جبہ قبہ اور شرکیہ نشان کو مٹا کر اس کی جگہ پر اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کیلئے کوئی مسجد بنادی جائے تو اس کا معاملہ الگ ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں، کہ وہاں تو کسی قبر یا کسی طرح کے شرک یابت پرستی کا کوئی شائبہ نہیں، بلکہ وہاں تو نشان شرک کو مٹا کر اس کی جگہ معبود برحق کی عبادت و بندگی کا اہتمام و انتظام کیا گیا ہے، جو کہ ایک مطلوب اور محمود امر ہے اور اس کی تاریخ میں مختلف مثالیں موجود ہیں، بہرکیف ان لوگوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کی اس غار پر ایک مسجد بنائیں گے جس میں لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کریں گے اور یہی لوگ دوسروں پر غالب رہے ، (المراغی، المعارف وغیرہ)
Ayahs 18:22–23

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے، چوتھا ان کا کتا تھا، اور کچھ دوسرے کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا، یہ سب بن دیکھے تیر پھینک رہے ہیں، اور کچھ کہیں گے کہ وہ سات تھے آٹھواں ان کا کتا تھا، (ان سے) کہو کہ میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے، (لوگوں میں سے) ان کا صحیح حال کوئی نہیں جانتا مگر بہت تھوڑے، پس تم ان کے بارے میں ان (اہل کتاب وغیرہ) میں سے کسی سے بھی کوئی بحث مت کرو مگر سرسری طور پر، اور ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے بھی کچھ مت پوچھو،

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی بھی چیز کے بارے میں یوں مت کہو کہ میں اسے کل کردوں گا

42۔ اصحاب کہف کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں :۔ چنانچہ حضرت امام الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میرا رب خوب جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے یعنی ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ اور جب اس نے ان حضرات کی تعداد نہیں بتائی، تو ہمیں خواہ مخواہ اس کے درپے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر اس تعداد کو جاننا ہمارے لئے ضروری ہوتا، تو وہ ہمیں اس سے ضرور مطلع فرما دیتا، سو ایسے میں اس طرح کے ہر موقع پر سب سے اچھا اور عمدہ طریقہ یہ ہے کہ معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے اور بغیر کسی دلیل اور سند کے خواہ مخواہ بحثیں نہیں کرنی چاہئیں ، (المراغی وغیرہ) سو اس سے یہ اہم اور بنیادی درس ملتا ہے کہ بےمقصد اور لایعنی سوالات میں نہیں الجھنا چاہئے کہ یہ تضییع وقت اور دوسری کئی طرح کی خرابیوں کا سبب اور باعث بنتا ہے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے بےمقصد اور لایعنی باتوں سے بچنے کو ایمان کا تقاضا قرار دیا، چناچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا من کان یؤمن باللہ والیوم الاخرفلیقل خیرا اولیصمت، یعنی جس کا اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے، سبحان اللہ ! دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا کہنا کیا ہے اور آج کے جاہل مسلمان کا حال کیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 43۔ غیرضروری سوالات سے ممانعت :۔ سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے بارے میں ان لوگوں میں سے کسی سے بھی کچھ مت پوچھو کیونکہ اس بارہ کوئی صحیح علم ان میں سے کسی کے پاس نہیں، سوائے ظن تخمین کے اور ظن وتخمین سے اٹکل کے تیر چلانے کا کوئی فائدہ نہیں، اس قصہ سے متعلق جو ضروری باتیں تھیں وہ آپ کو بتادی گئیں، اور جو ضروری نہیں تھیں اور جن پر دین و دنیا کا کوئی خاص فائدہ موقوف نہیں تھا وہ نہیں بتائیں، اس لئے اس بارہ کسی سے بحث کرنے اور ایسے لوگوں سے اس بارے میں پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں جن کے پاس اس سے متعلق کوئی علم نہ ہو سو اس سے یہ اصولی اور بنیادی درس ملتا ہے کہ غیر ضروری اور بےمقصد سوالات سے احتراز اور اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ طریقہ تضیع وقت کا سبب اور باعث ہے۔ والعیاذ باللہ اسی لئے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ یعنی انسان کے اسلام اور اس کے دین و ایمان کی خوبی میں سے یہ بات ہے کہ وہ لایعنی اور بےمقصد باتوں کو ترک کردے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 18:24

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے، اور جب بھول جاؤ تو (یاد آنے پر) اپنے رب کا ذکر کرلیا کرو، اور یوں کہو کہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ رشد کے قریب تر بات کی راہنمائی سے نوازے گا،

44۔ انشاء اللہ کہنے کی تعلیم و تلقین :۔ کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے پس ہر معاملہ اسی کی مشیت کے حوالے کیا کرو، اور اس کیلئے انشاء اللہ کہہ دیا کرو، روایات میں ہے کہ جب قریش نے آپ ﷺ سے اصحاب کہف وغیرہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا جواب میں تم کو کل دوں گا، مگر آپ ﷺ اس موقع پر انشاء اللہ کہنا بھول گئے، جس پر وحی کا آنا بند ہوگیا اور پندرہ دن تک وحی رکی رہی، جس سے کفار قریش کو آپ ﷺ کی تکذیب واستہزاء کا ایک موقع ہاتھ آگیا، اور آپ ﷺ کو اس بہت تکلیف اٹھانا پڑی، تب یہ آیتیں نازل ہوئیں، اور ان میں آپ ﷺ کو یہ تعلیم و تلقین فرمایا گیا کہ آئندہ کے بارے میں جس بھی کام کے کرنے کا وعدہ فرمایا کریں تو اس کیلئے انشاء اللہ ضرور کہا کریں، یعنی اگر اللہ پاک کو منظور ہوا تو میں ایسا کروں گا، کیونکہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے حوالے اور اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ تو عالم غیب ہوتے ہیں، نہ ہی مختار کل، اور نہ ہی ہر جگہ حاضر وناضر، جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے، ورنہ نہ تو اللہ کے نبی کو معاملہ کل پر ٹالنے کی ضرورت ہوتی، نہ وحی کا انتظار کرنا پڑتا، نہ وحی کی بندش کی نوبت آتی اور نہ ہی آپ ﷺ کو اس کیلئے اتنی پریشانی اٹھانا پڑتی سو اس ارشاد ربانی سے ان لوگوں کے ایسے تمام شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے، اور یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ سب کچھ اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے کہ جو اس کو منظور ہوگا وہی ہوگا اور جیسے وہ چاہے گا ویسے ہی ہوگا کہ اس کائنات میں مشیت اسی وحدہ لاشریک کی کارفرما ہے، اس میں نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کی مشیت میں مزاحم ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 45۔ بھول جانے سے متعلق ہدایت وارشاد :۔ یعنی جب تم انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو (یاد آنے پر) اپنے رب کو یاد کرلیا کرو تاکہ اس کے ذکر پاک اور اس کی یاد دلشاد سے، نسیان اور ترک ذکر کا تدارک اور اس کی تلافی ہوسکے، کیونکہ غفلت ونسیان کا سبب ومنشاء شیطان مردود ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا وما انسانیہ الا الشیطان اس لئے حضرت حق جل مجدہ کے ذکر سے وہ مردود مطرود ہو کر بھاگ جائے گا (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) نیز رب کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے اللہ کی معیت کا شرف بھی حاصل ہوگا اور اس کی نصرت و امداد سے بہرہ مندی و سرفرازی بھی، جیسا کہ حدیث قدسی میں فرمایا گیا، یعنی میرا بندہ جب میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 46۔ اس سے ہمیشہ بہتری کی امید کی تعلیم و تلقین :۔ سو اس کے ذریعے رب سے اس سے بہترراہ کی امید رکھنے کی تعلیم و تلقین یعنی اسی منسی اور بھولی ہوئی بات سے بھی بہتر راہ دکھا دے اور مزید روشنی اور ہدایت سے نواز دے، یا اصحاب کہف سے بھی بڑھ کر آیات بینات سے نواز دے، یعنی بھروسہ ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہونا چاہئے، اور اس سے توقع ہمیشہ بہتر سے بہتر ہی رکھنی چاہئے کہ اس واہب مطلق کی تو شان ہی نوازنا، کرم فرمانا، اور بخشش فرمانا ہے، اور اس کی عطا وبخشش کے خزانے غیرفانی اور لامحدود ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ، پس نہ تو کبھی اس سے مایوس ہوؤاور نہ کبھی اس کی یاد سے غافل ، (روح کبیر، ابن کثیر، مدارک، خازن اور مراغی وغیرہ وغیرہ) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔